jump to navigation

سید مصطفیٰ حسین زیدی October 15, 2017

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Ghazal, Kavita, Nazm, Poetry, Shairy, Sher, Urdu Poetry.
Tags: , , ,
add a comment

سید مصطفیٰ حسین زیدی کی پیدائش 10 اکتوبر 1930ء کو ایک متمول خاندان میں ہوئی تھی ان کے والد سید لخت حسین زیدی سی آئی ڈی کے ایک اعلیٰ افسر تھے۔ مصطفیٰ زیدی بے حد ذہین طالب علم تھے۔ الہ آباد یونیو رسٹی سے انہوں نے گریجویشن کیا تھا اور صرف 19 سال کی عمر میں ان کا شعری مجموعہ ”موج مری صدف صدف“ کے عنوان سے شائع ہوا تھا جس کا دیباچہ فراق گورکھپوری نے لکھا تھا اور فراق صاحب نے ان کی شکل میں ایک بڑے شاعر کی پیش گوئی کی تھی۔ کسی حد تک تو یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی لیکن بے وقت موت نے ان کا شعری سفر اچانک ختم کر دیا۔ چالیس سال کی زندگی میں ان کے چھہ مجموعے شائع ہوئے۔ ان کے مرنے کے بعد ان کی کلیات شائع ہوئی۔ شروع میں وہ تیغ اللہ آبادی تخلص کرتے رہے۔

مصطفیٰ زیدی 1951ء میں کراچی چلے گئے تھے۔ کچھہ دن وہ اسلامیہ کالج پشاور میں بطور استاد تعینات رہے۔ وہاں سے نکالے گئے ۔ پھر انہوں نے سی ایس پی کا امتحان دیا جس میں کامیابی حاصل کی اور اہم عہدوں پر کام کیا۔ آزادیِ فکر کا گلا گھونٹے جانے کی باز گشت ان کے اشعار میں سنی جا سکتی ہے۔

جس دن سے اپنا طرزِ فقیرانہ چھٹ گیا

شاہی تو مل گئی دلِ شاہانہ چھٹ گیا

جنرل یحییٰ خاں کے عتاب کے بھی شکار ہوئے اور یحییٰ خاں نے جو 303 افسران کی ہٹ لسٹ تیار کر رکھی تھی اس میں مصطفیٰ زیدی کا نام بھی تھا مگر فوجی آمر سے قبل وہ کسی بڑی سازش کا شکا ر ہو گئے اور اس کا سبب بنی گوجرانوالہ کی ایک شادی شدہ خاتون ایک خاتون شہناز گل، جس کے باعث مصطفیٰ زیدی کو اپنی زندگی سے ہاتھہ دھونا پڑے۔

ان کی لاش 12 اکتوبر 1970ء کو کراچی میں ان کے دوست کے بنگلے سے ملی ۔ جس پر بعد میں تحقیقاتی کمیشن بھی بنا تھا اور مقدمہ عدالت میں بھی گیا۔ یہ مقدمہ اخبارات نے اس قدر اچھالا کہ مہینوں تک اس پر دھواں دھار بحث ہوتی رہی۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ یہ قتل نہیں بلکہ خودکشی تھی اور شہناز گل کو بری کر دیا۔

میں کس کے ہاتھہ پہ اپنا لہو تلاش کروں

تمام شہر نے پہنے ہوۓ ہیں دستانے

شہناز گل کے لیے مصطفیٰ زیدی نے کئی غزلیں اور نظمیں کہی تھیں جن میں یہ شعر بہت مشہور ہے:

فنکار خود نہ تھی مرے فن کی شریک تھی

وہ روح کے سفر میں بدن کی شریک تھی

مصطفیٰ زیدی کو جس درد و کرب سے گزرنا پڑا اس کی باز گشت ان کی غزلوں کے اشعار میں سنائی دیتی ہے۔ خاص طور پر ان کی مشہور غزل میں تو یہ کرب بار بار اتر آتا ہے:

کسی اور غم میں اتنی خلشِ نہاں نہیں ہے

غمِ دل مرے رفیقو غمِ رائیگاں نہیں ہے

کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی ہم زباں نہیں ہے

فقط ایک دل تھا اب تک سو مہرباں نہیں ہے

مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو

مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے

کسی آنکھہ کو صدا دو کسی زلف کو پکارو

بڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سائباں نہیں ہے

انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آسکو تو آؤ

مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

مصطفیٰ زیدی ، جوش ملیح آبادی سے متاثر تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی شاعری میں جوش جیسی گھن گرج نہیں ہے۔ لیکن زیدی نے بھی کربلا کے استعارے کو بہت خوبصورتی سے استعمال کیا ہے:

ایسی سونی تو کبھی شامِ غریباں بھی نہ تھی

دل بجھے جاتے ہیں اے تیرگیِ صبح وطن

میں اسی کوہ صفت خون کی ایک بوند ہوں جو

ریگ زارِ نجف و خاکِ خراساں سے ملا

جدید غز ل کی تشکیل میں مصطفیٰ زیدی کا بہت اہم حصہ ہے اور ان کے شعری مجموعے موج مری صدف صدف، شہرِ آرزو،زنجیریں، کوہِ ندا اور قبائے ساز اردو کے شعری ادب میں اضافہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

کچھہ اور شعر:

غمِ دوراں نے بھی سیکھے غم جاناں کے چلن

وہی سوچی ہوئی چالیں وہی بے ساختہ پن

وہی اقرار میں انکار کے لاکھوں پہلو

وہی ہونٹوں پہ تبسم وہی ابرو پہ شکن

حدیث ہے کہ اصولاَ گناہ گار نہ ہوں

گناہ گار پہ پتھرسنبھالنے والے

خود اپنی آنکھہ کے شہتیر کی خبر رکھیں

ہماری آنکھہ سے کانٹے نکالنے والے

اب تو چبھتی ہے ہوا برف کے میدانوں کو

ان دنوں جسم کے احساس سے جلتا ہے بدن

مجھہ کو اس شہر سے کچھہ دور ٹھہر جانے دو

میرے ہم راہ میری بے سرو سامانی ہے

اس طرح ہوش گنوانا بھی کوئی بات نہیں

اور یوں ہو ش میں رہنے میں بھی نادانی ہے

طالب دستِ ہوس اور کئی دامن تھے

ہم سے ملتا جو نہ یوسف کے گریباں سے ملا

لوگوں کی ملامت بھی ہےِ خود درد سری بھی

کس کام کی اپنی یہ وسیع النظری بھی

کیا جانیئے کیوں سست تھی کل ذہن کی رفتار

ممکن ہوئی تاروں سے مری ہم سفری بھی

میں کس کےہاتھہ پہ اپنا لہو تلاش کروں

تمام شہرنے پہنے ہوۓ ہیں دستانے

Mustafa Zaidi and Sheeren Gul 1Mustafa Zaidi and Sheeren Gul 2

Advertisements

Mehdi Hassan June 1, 2012

Posted by Farzana Naina in Film and Music, Ghazal, Ghazal, Music, Old Pakistani Music, Poetry, Radio, Shairy, Urdu Poetry, Video.
Tags: , , , , , ,
1 comment so far

بشکریہ بی بی سی اردو

شہنشاہِ غزل استاد مہدی حسن 1927 میں راجستھان کے ایک گاؤں لُونا میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد اور چچا دُھرپد گائیکی کے ماہر تھے اور مہدی حسن کی ابتدائی تربیت گھر ہی میں ہوئی۔ خود اُن کے بقول وہ کلاونت گھرانے کی سولھویں پیڑھی سے تعلق رکھتے تھے۔

1947 میں بیس سالہ مہدی حسن اہلِ خانہ کے ساتھ نقلِ وطن کر کے پاکستان آ گئے اور محنت مزدوری کے طور پر سائیکلیں مرمت کرنے کا کام شروع کیا۔

کسبِ کمالِ کُن کہ عزیزِ جہاں شوی

اسی روایت پر عمل کرتے ہوئے انھوں نے مکینک کے کام میں مہارت حاصل کی اور پہلے موٹر مکینک اور اسکے بعد ٹریکٹر کے مکینک بن گئے، لیکن رہینِ ستم ہائے روزگار رہنے کے باوجود وہ موسیقی کے خیال سے غافل نہیں رہے اور ہر حال میں اپنا ریاض جاری رکھا۔

سن پچاس کی دہائی اُن کے لیے مبارک ثابت ہوئی جب اُن کا تعارف ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر سلیم گیلانی سے ہوا۔ جوہر شناس نے موتی کی صحیح پہچان کی تھی چنانچہ دھرپد، خیال، ٹھُمری اور دادرے کی تنگنائے سے نکل کر یہ جوہرِ قابل غزل کی پُرفضا وادی میں آنکلا جہاں اسکی صلاحیتوں کو جِلا ملی اور سن ساٹھ کی دہائی میں اسکی گائی ہوئی فیص احمد فیض کی غزل ’گلوں میں رنگ بھرے‘ ہر گلی کوچے میں گونجنے لگی۔

فلمی موسیقار جو ان کے فن کو ریڈیو کی گائیکی کہہ کر دامن چھڑاتے رہے تھے، اب جمگھٹا بنا کر اسکے گرد جمع ہوگئے چنانچہ سن ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں مہدی حسن پاکستان کے معروف ترین فلمی گائیک بن گئے اور سنتوش کمار، درپن، وحید مراد اور محمد علی سے لیکر ندیم اور شاہد تک ہر ہیرو نے مہدی حسن کے گائے ہوئے گیتوں پر لب ہلائے۔

سنجیدہ حلقوں میں اُن کی حیثیت ایک غزل گائیک کے طور پر مستحکم رہی۔ اسی حیثیت میں انھوں نے برِصغیر کے ملکوں کا کئی بار دورہ کیا۔ بھارت میں اُن کے احترام کا جو عالم تھا وہ لتا منگیشکر کے اس خراجِ تحسین سے ظاہر ہوا کہ مہدی حسن کے گلے میں تو بھگوان بولتے ہیں۔ نیپال کے شاہ بریندرا اُن کے احترام میں اُٹھ کے کھڑے ہوجاتے تھے اور فخر سے بتاتے تھے کہ انھیں مہدی حسن کی کئی غزلیں زبانی یاد ہیں۔

پاکستان کے صدر ایوب، صدر ضیاءالحق اور صدر پرویز مشرف بھی اُن کے مداح تھے اور انھیں اعلیٰ ترین سِول اعزازات سے نواز چُکے تھے، لیکن مہدی حسن کے لیے سب سے بڑا اعزاز وہ بےپناہ مقبولیت اور محبت تھی جو انھیں عوام کے دربار سے ملی۔ پاک و ہند سے باہر بھی جہاں جہاں اُردو بولنے اور سمجھنے والے لوگ آباد ہیں، مہدی حسن کی پذیرائی ہوتی رہی اور سن اسّی کی دہائی میں انھوں نے اپنا بیشتر وقت یورپ اور امریکہ کے دوروں میں گزارا۔

مہدی حسن کثیرالاولاد آدمی تھے۔ اُن کے چودہ بچّے ہیں، نو بیٹے اور پانچ بیٹیاں۔ اپنے بیٹوں آصف اور کامران کے علاوہ انھوں نے پوتوں کو بھی موسیقی کی تعلیم دی اور آخری عمر میں انھوں نے پردادا بننے کا اعزاز بھی حاصل کرلیا اور اپنے پڑپوتوں کے سر پہ بھی دستِ شفقت رکھا۔

اُن کے شاگردوں میں سب سے پہلے پرویز مہدی نے نام پیدا کیا اور تمام عمر اپنے اُستاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے رہے۔ بعد میں غلام عباس، سلامت علی، آصف جاوید اور طلعت عزیز جیسے ہونہار شاگردوں نے اُن کی طرز گائیکی کو زندہ رکھا۔

ملکہ ترنم نور جہاں کا کہنا تھا کہ ایسی آواز صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتی ہے، حالانکہ یہ بات خود مادام کی شخصیت پر بھی اتنی ہی صادق آتی ہے۔ آج مداّح اور ممدوح دونوں ہی اس دنیا میں نہیں لیکن موت نے صرف اُن کا جسدِ خاکی ہم سے چھینا ہے۔ اُن کی لازوال آواز ہمیشہ زندہ رہے گی۔

Sindhi Poet Taj Mohammed December 13, 2008

Posted by Farzana Naina in Poetry, Sindhi.
Tags: ,
add a comment

Renowned Sindhi Poet Taj Mohammed
Renowned Sindhi Poet Taj Mohammed

بشکریہ ۔ بی بی سی

سندھی زبان کے شاعر تاج محمد عرف تاجل بیوس کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔ان کی عمر ستر برس تھی۔
گزشتہ دنوں تاجل بیوس کی دماغ کی نس پھٹ گئی تھی جس کے بعد وہ مقامی ہسپتال میں مسلسل کوما میں رہے، جہاں سنیچر کی صبح ان کا انتقال ہوگیا۔

 

شیخ ایاز کے بعد وہ سندھی زبان کے دوسرے بڑے شاعر تھے، انہوں نے نظم کے ساتھ نثر میں بھی طبع آزمائی کی ، وہ چونتیس کتابوں کے مصنف تھے جبکہ ان کی دس کتابیں زیر اشاعت ہیں۔

تاجل بیوس نے بائیس ستمبر انیس سو اڑتیس کو ضلع خیرپور کے شہر صوبھو دیرو میں جنم لیا۔انہوں نے اقتصادیات میں ایم اے کیا تھا، جس کے بعد انیس سو ساٹھ میں درس و تدریس سے منسلک رہے بعد میں وزارت کارپوریٹ میں تعینات ہوئے، جہاں سے بطور رجسٹرار کمپنیز ریٹائرڈ ہوئے۔
تاج بیوس ان چند سندھی ادیبوں میں سے تھے جن کا شمار متحدہ قومی موومنٹ کے ہمدردوں میں ہوتا تھا، سخت تنقید کا نشانہ بننے کے بعد انہوں نے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔
ان کی آخری کتاب بینظیر بھٹو پر کیڈارو کے نام سے شائع ہوئی تھی، جس میں انہوں نے بینظیر بھٹو کی جدوجہد اور فکر کا احاطہ کیا ہے۔ کیڈارو واقعے کربلا کے پس منظر میں لکھا جاتا ہے۔

  تاج محمد کی شاعری میں دھرتی سے محبت کی جھلک نظر آتی ہے، وہ لکھتے ہیں ’سندھ میری ماں، کوئی تمہیں کاری سمجھتا ہے، تمہارے سینے کو بموں سے اڑاتا ہے ، کوئی انسانی لہو سے تمہارے دامن کو سرخ کردیتا ہے مگر پھر بھی تم ہر دور میں مومل اور قلو پطرہ کا روپ لیکر جنم لیتی رہی ہو‘۔

شیخ ایاز نے اپنی زندگی میں ہی انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے بعد تاجل بیت اور وائی کی صنف کے اس دور کے بڑے شاعر ہیں۔

تاجل بیوس بھارت میں بھی سندھی ادبی حلقوں میں شہرت رکھتے تھے۔ ایک بھارتی ادیب لچھمن کومل انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ تاجل کی شاعری پڑھنے کے بعد دل چاہتا ہے کہ انہیں بھی بخش علی لاکھو کی طرح قید میں رکھا جائے، دن کو تاجل بیوس کی شاعری اور رات کو ایک جام دیں باقی زندگی عیش میں گزر جائے گی۔
تاجل بیوس نے رائٹر گلڈ اور سہیوگ فاؤنڈیشن بمبئی کی جانب سے نارائن شیام ایوراڈ سمیت کئی ایوارڈ حاصل کیے۔
ان کی اکثر شاعری میں دھرتی سے محبت کی جھلک نظر آتی ہے، وہ لکھتے ہیں

’سندھ میری ماں، کوئی تمہیں کاری سمجھتا ہے، تمہارے سینے کو بموں سے اڑاتا ہے ، کوئی انسانی لہو سے تمہارے دامن کو سرخ کردیتا ہے مگر پھر بھی تم ہر دور میں مومل اور قلو پطرہ کا روپ لیکر جنم لیتی رہی ہو٬٬ ‘

تاجل بیوس کی تدفین ان کی وصیت کے مطابق کراچی میں واقع تاریخی قبرستان چوکھنڈی کے قریب کی جائے گی۔  

Nariyal Ka Perr – ناریل کا پیڑ August 22, 2008

Posted by Farzana Naina in Kavita, Poetry, Shairy, Urdu.
Tags: , , , , , ,
5 comments
i-dream-of.gif
ساحل کے پاس تنہا

اک پیڑ ناریل کا

اک خواب ڈھونڈھتا ہے

یادوں میں بھیگا بھیگا

آنچل سے نیلے تن میں

آکاش جیسے پیاسے

سیپوں کے ٹوٹے پھوٹے

خالی پڑے ہیں کاسے
وہ ریت بھی نہیں ہے

جس پر لکھا تھا تم نے

ساگر سکوت میں ہے

لہریں بھی سو رہی ہیں

اک قاش بے دلی سے

بس چاند کی پڑی ہے

کومل سی یاد کوئی
تنہا جہاں کھڑی ہے

اُس ناریل کے نیچے  ۔
 
Sparkle Flower tree

Mother – ماں May 11, 2008

Posted by Farzana Naina in Kavita, Poetry, Shairy, Urdu.
Tags: , , , , , , , , ,
2 comments

بیٹھی ہے مصلے پہ شب تار مری ماں

اس رات کا ہے مطلع انوار مری ماں

جسموں کو جلاتے ہوئے سورج سے یہ کہدو

اس دشت میں ہ

ے سایٔہ دیوار مری ماں

دنیا سے الجھ کر میں چلا آتا ہوں گھر میں

دنیا سے بچالیتی ہے ہر بار مری ماں

بچے کی طرح نیند سے اٹھا تو کھلا یہ

ہے میرے لئے دولت بیدار مری ماں

میں چا

ند کا کہہ دوں تو دلاتی ہے مجھے چاند

کرتی ہی نہیں ہے کبھی انکار مری ماں

اس ذات کو مجھ سے کوئی لالچ ہی نہیں ہے

ایثار ہے ایثار ہے ایثار مری ماں

اس عمر میں میں نے تو عذیر اتنا ہی جانا

اس ظلم ک

ی دنیا میں فقط پیار مری ماں

جو ابر پھیل رہا ہے وہ س

ب پر برسے گا

کہ ماں کسی کی ہو ہر حال میں دعا دے گی

Heaven gave us a special gift to
make life worthwhile–
someone who wo

uld always be there
to lift our spirit and make us smile;
some

one with a loving heart
filled with tenderness,
to share every tear,
and each success.

Yes, God, in his
special way,
blessed us with a wonderful mother,
the one we always love
more than any other.

ماں ایک خوشبو ہے جس سے سارا جہاں مہک اٹھتا ہے

ماں ایک چھاؤں ہے جس کے پاس سستانے سے ساری تھکن اتر جاتی ہے

ماں ایک دعا ہے جو سر پہ سدا سایہ فگن ہوتی ہے

ماں ایک مشعل ہ

ے جو ہمیشہ راہ دکھاتی ہے

ماں ایک ایسی آہ بھی ہے جو سیدھی عرش پر جاتی ہے

ماں جو اپنے پہلوٹھی کے بچے کو لیئے پھول سی کھل جاتی ہے

کہ کیسے اسے سلائے، کھلائے، پلائے،  دیکھ دیکھ مسکرائے

اپنی گود میں ایک نازک کھلونے کی طرح لیئے حفاظت کرتی ہے

بدلتے مو

سموں کی سختیوں میں بچاتی ہے

صحت و تندرستی کے ساتھ پالتی ہے

دکھ درد تکلیف میں بھی اوس کے قطروں کی طرح مسکراتی ہے

ماں، جس کی محبت پاش نظروں کا حصار چاند کے ہالے سے زیادہ خوبصورت  ہے

جو بیٹیوں

کو دعائیں دیتے نہیں تھکتی

جو بیٹوں  کی بلائیں اتارتے نہں تھکتی

اسی لیئے ٬ماں٬ کسی کی بھی ہو لیکن عظیم ہوتی ہے

اس کے قدموں تلے جنت ہوتی ہے۔

 

Gold Wrapping Paper

The story goes that some time

ago a mother punished her five year old daughter for wasting a roll of expensive gold wrapping paper.

Money was tight and she became even more upset when the child used the gold paper to decorate a box to put under the Christmas tree.

Nevertheless, the little girl brought the gift box to her mother the next morning and then said, “This is for you, Momma.”

The mother was embarrassed by her earlier over reaction, but her anger flared again when she opened the box and found it was empty. She spoke to her daughter in a harsh manner.

“Don’t you know, young lady, when you give someone a present there’s supposed to be something inside the package?”

She had tears in her eyes and said, “Oh, Momma, it’s not empty! I blew kisses into it until it was full.”

The mother was crushed. She fell on her knees and put her arms around her little girl, and she begged her forgiveness for her thoughtless anger.

An accident took the life of the child only a short time later, and it is told that the mother kept that gold box by her bed for all the years of her life.

Whenever she was discouraged or faced difficult problems she would open the box and take out an imaginary kiss and remember the love of the child who had put it there.

In a very real sense, each of us, as human beings, have been given a Golden box filled with unconditional love and kisses from our children, family, friends and GOD.

There is no more precious possession anyone could hold.

اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے

ماں جب غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے

 

729492p0pak4hng6.gif

کفر کے سب کام April 20, 2008

Posted by Farzana Naina in Kavita, Nazm, Poetry, Shairy, Sher, Urdu.
Tags: , , , , ,
1 comment so far

شمشاد صاحب کی گذارش پر ایک کلام پیش خدمت ہے، حالات کے تحت یہی لکھا جاسکا ہے، آپ سب کی رائے کی منتظر رہوں گی۔

نام اسلام کا لو کفر کے سب کام کرو

وہ جو ہے رحمت عالم اسے بدنام کرو

دینی بھائی تمہیں کہتے ہوئے شرم آتی ہے

سوچتے سوچتے چھاتی یہ پھٹی جاتی ہے

قتل معصوموں کا جس نے بھی سکھایا ہے تمہیں

کاش تم سمجھو کہ شیطان بنایا ہے تمہیں

حیف صد حیف کہ تم خود کو مسلمان کہو

خود کشی کو بھی شہادت کہو ایمان کہو

جس نے خوں ریزی کو ایمان بنایا ہوگا

اس نے اپنا کوئی قرآن بنایا ہوگا

میرا قرآن سکھاتا ہے محبت کرنا

کوئی دشمن بھی جو نادم ہو تو شفقت کرنا

لوگ کہتے ہیں کہ تم لوگ مسلمان نہیں

میں یہ کہتی ہوں کہ دراصل تم انسان نہیں

***

بہت اچھے اشعار ہیں فرزانہ نیناں صاحبہ، بہت داد قبول کیجیئے

جس نے خوں ریزی کو ایمان بنایا ہوگا

اس نے اپنا کوئی قرآن بنایا ہوگا

واہ واہ واہ، سبحان اللہ۔

الف عین,  حسن علوی , دوست , سارہ خان , سیدہ شگفتہ ,

شاکرالقادری , شمشاد , فاتح , قیصرانی , محب علوی , محمد

وارث , ڈاکٹر عباس

فرزانہ ، لاجواب کلام کیا ہے ۔ مجھے الفاظ نہیں مل رہے کہ کچھ لکھ سکوں ۔ اللہ کرے کہ آپ کے الفاظ ، آپ کی سوچ ایسے سفاک اور قاتل لوگوں کی ہدایت کا سبب بن جائے ۔ آمین ۔سیدہ شگفتہ

بہت زبردست لکھا ہے سسٹر ۔سارہ خان

بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔ ضبط

بروقت اور برمحل کلام ہے اور اس طرح کی شاعری کی ضرورت بھی ہے۔

شمشاد کی فرمائش اور فرزانہ کے فرمائش پوری کرنے کا شکریہ۔محب علوی

بہت خوب آپا میں نے آج ہی آپ کا یہ خوبصورت کلام پڑا۔ بہت اچھا لگا۔ حسن علوی

بہت شکریہ نیناں جی۔
موجودہ حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بہت ہی اچھے اشعار ہیں۔ شمشاد

آپ تمام کی حوصلہ افزائی پر ممنون ہوں، یہ تو فقط جذبات ہیں
اللہ تعالی ان لفظوں میں تاثیر بھی ڈال سکتے ہیں جس کا ہر محب وطن پاکستانی منتظر ہے،
میں کیا میری بساط کیا، ہم وطن سے دور ہیں لیکن دل اسی کے نام پر دھڑکتا ہے،
خمیر تو اسی مٹی کا ہوں، اس کی مہک اپنی جانب کھینچتی ہے،
خدا ہماری ارض پاک کو تباہی و بربادی سے نکالے اور عوام کو عقل سلیم عطا فرمائے۔ آمین
بس یہی میرے دل کی خواہش و دعا ہے۔

اہل محفل بہت شکریہ ۔ فرزانہ نیناں

green.gif green image by elsyta2001

Sitara Eik April 3, 2008

Posted by Farzana Naina in Ghazal, Urdu.
Tags: , , , , ,
1 comment so far

hearts2.gifhearts2.gifhearts2.gifhearts2.gifhearts2.gifhearts2.gifhearts2.gif

Manzil March 27, 2008

Posted by Farzana Naina in Poetry.
Tags: , ,
5 comments

butt35.gifglitter textglitter textglitter textglitter textglitter textbutt35.gifbutt35.gifmanzil-ko-rehguzar-mein-rose-framed.jpgbutterfly-211.gifbutt35.gif

Mere qareeb hiمرے قریب ہی۔ March 25, 2008

Posted by Farzana Naina in Farzana, Ghazal, Kavita, Naina, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shairy, Sher, Urdu.
Tags: , , , ,
4 comments

angel-roseMere Qareeb hi yellowbutt83.gifflower_glitter_graphics_6a.gifbutt83.gif

International Women Day March 8, 2008

Posted by Farzana Naina in Ghazal, Kavita, Poetry, Shairy, Sher, Urdu.
Tags: , , , , , ,
3 comments

bahisht-se2.jpg3-girls.gifmilegi-meri-nishani-7.jpg575188lex4stl4ty1.gif575188lex4stl4ty1.gifmilegi-meri-nishani-8.jpg575188lex4stl4ty1.gif