jump to navigation

پاکستان کی دستکاری June 2, 2019

Posted by Farzana Naina in Culture, Cultures, Handy Crafts, Pakistan, Pakistani, Pakistani Folk, Sindh, Sindhi.
add a comment

BBC_ماہین خان کا برانڈ گلابو 1

ماہرین کا دعویٰ ہے کہ جنوبی ایشیا کے 80 فیصد ہنر پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ یہ ایک حیرت انگیز انکشاف ہے اور اس بات کا ثبوت بھی کہ یہ ملک فن و ثقافت معاملے میں انتہائی خوشحال ہے۔

پاکستان میں جہاں ہم سال میں چھ موسموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہیں ہمیں اس بات پر بھی فخر ہونا چاہیے کہ اس خطے میں بہت سے فنون نے جنم لیا، پروان چڑھے اور آج بھی زندہ ہیں۔

پاکستان کی ثقافتی اور روایتی ہنرمندی اور دستکاری کو ایک کوزے میں بند کرنا ناممکن ہے۔

BBC_chitai2

تیار شدہ ملبوسات کی برانڈ جنریشن نے حال ہی میں پاکستان کی مختلف دستکاریوں پر مشتمل نقشہ جاری کیا ہے جو علاقوں کے حساب سے مخصوص کڑھائیوں سے متعلق ایک بہترین حوالہ ہے

پاکستان کی فیشن کی صنعت میں بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے کے لیے مغربی رحجانات اور انداز اپنائے جاتے رہے ہیں جبکہ پاکستان کے ثْقافتی انداز اور ہنر دیگر دنیا کے لیے کشش کا باعث ہیں۔

ہنر میں بہت کچھ اہمیت کا حامل ہے جس میں شروعات یہاں پر بننے والے کپڑے کی مختلف اقسام سے ہوتی ہے۔

پاکستان بلاشبہ دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں چار اقسام کا مقبول عام ریشم تیار کیا جاتا ہے جس میں شہتوت (ملبیری)، ریشم کے کیڑے (تسور)، ایری، اور موگا سے بنائے بانے والا ریشم شامل ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ دنیا کا مشہور ترین کپڑا ڈینم (جس سے جینز کی پتلون تیار کی جاتی ہے) بھی وادی مہران کی تہذیب کے زمانے میں تیار ہونا شروع ہوا اور آج تک پاکستان میں بنایا جاتا ہے۔

جہاں کپڑے کی بات آتی ہے وہاں اس کے بننے یا بنانے کا عمل بھی ضرور ہوتا ہے جس کے لیے کراچی کے مشہور زمانہ اورنگی ٹاؤن میں ہاتھ سے کپڑا بننے کے بڑے بڑے کارخانے موجود ہیں جہاں بروکیڈ، جامہ وار، کمخواب، بنارسی اور تانچوئی جیسے قیمتی اور زرق برق کپڑے بنے جاتے ہیں۔ یہ تمام کپڑے پاکستان میں عروسی ملبوسات کی تیاری میں استعمال کیے جاتے ہیں جو کہ پاکستان میں ایک بڑا کاروبار ہے۔

تیار شدہ ملبوسات کی برانڈ جنریشن نے حال ہی میں پاکستان کی مختلف دستکاریوں پر مشتمل نقشہ جاری کیا ہے جو علاقوں کے حساب سے مخصوص کڑھائیوں سے متعلق ایک بہترین حوالہ ہے

یہ کپڑے سلائی کے وقت انتہائی مہارت کے ساتھ کارچوبی کڑھائیوں اور بیلوں سے مزین کیے جاتے ہیں۔ یہاں کے رنگریزی کے فن کا ذکر بھی ضروری ہے جن میں چنری اور بندھنی کی رنگائی جس کا رواج صحرائے تھر سے لے کر جنوبی پنجاب تک ہے اور سندھ میں چھاپے کے کام (بلاک پرنٹ) کی اجرک بہت مشہور ہیں۔

کپڑوں پر کڑھائی کے ہنر کی ابتدا ممکنہ طور پر پاکستان کے شمالی علاقوں چترال اور ہنزہ کی کڑھائی دار اونی شالوں سے ہوتی ہے۔ خطے کے سرد اور سخت موسم میں اوڑھنے کے لیے تیار کی جانے والی یہ شالیں اپنے موٹے اونی دھاگے اور گہرے اور گرم رنگوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔

ان ہی دیدہ زیب شالوں کو دیکھتے ہوئے ایک آسٹریلوی خاتون کیتھی بریڈ نے چترال میں ‘پولی اینڈ می’ کے نام سے ایک منصوبے کا آغاز کیا جو نہ صرف اس علاقے کے ہنر کو محفوظ رکھے ہوئے ہے بلکہ اس کے ذریعے خطے کی خواتین کو معاشی خود مختاری بھی حاصل ہوئی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان میں علاقائی ہنرکو محفوظ یا دوبارہ زندہ کرنے کے بہت سے منصوبوں کے پیچھے سماجی ومعاشی خودمختاری کا خیال ہی کار فرما تھا۔ چترال ہی کا ایک اور منصوبہ شوبیناک بھی شمالی علاقہ جات کے ہنر اور دستکاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

پاکستان کی شمالی پٹی کا ایک اور ہنر سوات کا شوخ رنگوں سے کاڑھا جانے والا پھلکاری ٹانکا ہے جس کا استعمال شالوں، کمبل، اور دیگر کپڑوں پر بکثرت کیا جاتا ہے۔ عموما گیروے، پیلے، نارنجی اور آتشی گلابی رنگوں کے دھاگوں سے مزین یہ ٹانکا اس علاقے کی پہچان بن چکا ہے۔

پاکستان کے صوبے پنجاب میں آئیں تو یہاں کی ثقافت مختلف وضع کی خوش رنگ دستکاریوں سے بھری پڑی ہے جن میں شیشے کا کام، سوئی دھاگے کا کام، شیڈو یا الٹی بھرائی کا کام، گوٹے اور جھلمل ستاروں کا کام بہت مشہور ہیں۔’

پنجاب، خاص طور پر ملتان ہاتھ سے بنے ہوئے برتنوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ یہ مشہور زمانہ مٹی کے برتن اس خطے میں صدیوں سے بنائے جارہے ہیں اور ملتان کی پہچان بن چکے ہیں۔

حالانکہ آج کل جدید طریقوں سے برتن بنانے والوں نے اس ہنر کو بھی کراکری اورگھریلو استعمال کی دیگر اشیا میں متعارف کرایا ہے ہے لیکن یہ فن ابتدا میں بڑے پیمانے پر عمارتوں، مسجدوں، مزاروں اور مقبروں کی سجاوٹ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا کیونکہ اس فن میں شامل رنگ اور اشکال فن اسلامی کی ترجمانی کرتے تھے۔

کپڑوں کی طرف واپس آتے ہیں تو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں مختلف اقسام کی نایاب دستکاریوں کا خزانہ موجود ہے۔ یہاں رنگ برنگ، آڑھے ترچھے ٹانکوں کی پیچیدہ کڑھائی کو صوبے میں موجود ان گنت بلوچی قبائل میں مختلف طریقوں کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔

ان میں بلوچی خانہ بدوشوں کے بکری کی کھال سے بنے شامیانے ‘گودان’ کے گرد کی جانے والی کڑھائی ‘دل وبیتاب’ بہت مشہور ہے۔ بلوچستان کے علاقے کچھ کی کڑھائی اپنے تیز رنگوں کی وجہ سے الگ ہی کمال رکھتی ہے اور فرش پر بچھائے جانے دریوں پر چارسوتی ٹانکا پہاڑوں سے گھرے اس صوبے میں بہت ہی مقبول ہے۔

سندھ میں صدیوں سے جاری منفرد رلی کا کام صوبے کی پہچان بن چکا ہے۔

رلی کی تیاری میں کافی وقت لگتا ہے اور سندھ کے اندرونی علاقوں میں جانا بھی جان جوکھوں کا کام کیونکہ وہاں جانے والے راستوں پر ہمیشہ سکیورٹی خدشات ہوتے ہیں۔

یہ ہنر وہ چھوٹی چھوٹی نشانیاں ہیں جو دنیا کے ثقافتی نقشے میں ہمیں ممتاز کرتی ہیں اور امید ہے کہ ہم اس ورثے کو زندہ رکھنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

بتشکر: آمنہ حیدر عیسانی

Sea Silk known As Byssus June 2, 2019

Posted by Farzana Naina in Culture, Handy Crafts, Italy, Pinna Nobilis.
Tags: , , , , , ,
add a comment

سمندری ریشم جسے بُننے میں چھ سال لگتے ہیں

آپ نے ریشم کی کئی قسمیں دیکھی ہوں گی لیکن سمندری ریشم کے بارے میں شاید ہی سنا ہو گا۔ اسے بائیسس (byssus)کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ریشم کی یہ قسم انتہائی مخصوص ہے اور اس کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔

star-silver-2

اس کے متعلق دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک ایک ہی خاندان کی خواتین تقریباً ایک ہزار سال اسے تیار کرنے کے کام میں مشغول ہیں۔ یہ خاندان اٹلی کے سارڈینیا جزیرے پر رہتا تھا اور اب اس خاندان کی ایک ہی خاتون چیارا ویگو بچی ہیں۔ ویگو 62 سال کی ہیں اور آج بھی وہ سمندر سے یہ ریشم نکالنے کا کام کرتی ہیں۔

یہ خیال ظاہر کیا جاتاہے کہ چیارا ویگو دنیا کی اب واحد خاتون ہیں جنھیں سمندری ریشم کو سمندر کی تہہ سے نکالنے سے لے کر اسے تیار کرنے، رنگنے اور کشیدہ کاری کرنے کا ہنر آتا ہے۔ کہتے ہیں کہ سورج کی روشنی پڑنے پر سمندری ریشم سونے کی طرح چمکتا ہے۔

سمندری ریشم کی تاریخ بہت پرانی ہے

ویگو بائسس سے دھاگہ بناتے ہوئے دیکھی جا سکتی ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ پانچ ہزار سال قبل میسوپوٹیمیا میں خواتین اپنے بادشاہ کے لیے جو نفیس کپڑے تیارکرتی تھیں ان میں سمندری ریشم کے تاروں کا استعمال ہوتا تھا۔ روایات کے مطابق حضرت سلیمان کا چغہ اس کپڑے سے تیار کیا گیا تھا۔ جبکہ مصر کے بادشاہ بھی اس کے لباس کو پسند کرتے تھے۔ تورات میں اس کا 45 بار ذکر آيا ہے۔ کہتے ہیں کہ مسیحی رہنما پوپ اور دوسری اہم شخصیات بھی اس کے بنے کپڑے پہننا پسند کرتی تھیں۔

بہت سی روایات میں یہ مذکور ہے کہ خدا نے اپنے پیغمبر موسیٰ کو سمندری ریشم سے معبد کو سجانے کا حکم دیا تھا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہزاروں سال پہلے ویگو کے خاندان نے بائسس یعنی سمندری ریشم کو بننے کے کام کی بنا ڈالی تھی۔ اس سلسلے میں زیادہ معلومات نہیں کہ انھوں نے یہ کام کیوں شروع کیا لیکن گذشتہ ایک ہزار سالوں سے ویگو کے خاندان کی خواتین میں نسل در نسل بائیسس نکالنے، اسے بننے، اس کا پیٹرن بنانے اور رنگنے کا ہنر چلا آ رہا ہے۔ اس کے ساتھ وہ اپنی نئی نسل کو اس فن کو بچا کر آگے بڑھانے کی ہدایت بھی کرتی آئی ہیں۔

star-silver-2

ویگو نے یہ ہنر اپنی نانی سے حاصل کیا۔ انہوں نے دستی کھڈی پر انھیں اسے بنانے کا ہنر سکھایا۔

تین سال کی عمر سے کام شروع کیا تھا

بحری ریشم سے بنائی انتہائی مشکل اور پیچیدہ کام ہے اور ایک رومال بنانے میں چھ سال کا وقت لگ جاتا ہے

سمندری ریشم کو نکالنے کے لیے بھی مخصوص صلاحیت درکار ہے۔ سمندر میں ایک خاص قسم کے جاندار کے جسم پر دھاگہ نما تار اگتے ہیں جہاں سے انھیں کاٹ کر نکالا جاتا ہے۔ سائنس کی زبان میں اسے پنا نوبلس (pinna nobilis) یا شریف قلم کہتے ہیں۔

اس کے ریشے کو نکالنے کے لیے سمندر کی گہرائيوں میں اترنا پڑتا ہے۔ ویگو کہتی ہیں کہ جب وہ صرف تین سال کی تھیں اس وقت سے ہی ان کی نانی انھیں سینٹ اینٹییوکو کے قریب سمندر میں لے جاتی تھیں اور 12 سال کی عمر تک ویگو نے سمندری ریشم بننے کا ہنر سیکھ لیا تھا۔

آج وگو 62 سال کی ہیں اور آج بھی وہ اٹلی کے کوسٹ گارڈز کی نگرانی میں سارڈینیا کے قریب بحیرہ روم کی گہرائیوں سے چاند کی روشنی میں ریشم کے تار نکالتی ہیں۔ اس کے لیے انھیں سمندر میں 15 میٹر کی گہرائی تک اترنا پڑتا ہے۔ ویگوبتاتی ہیں کہ 24 نسلوں سے ان کے یہاں یہ کام ہو رہا ہے۔ 30 گرام ریشے جمع کرنے کے لیے انھیں 100 دفعہ پانی میں غوطہ لگانے ہوتے ہیں۔

ویگو کو لوگ ‘سو میستو’ یعنی استانی کے نام سے پکارتے ہیں اور ایک وقت میں صرف ایک استانی ہو سکتی ہے۔ یہ مقام حاصل کرنے کے لیے ساری زندگی کو اس کام کے لیے وقف کرنا ہوتا ہے اور موجودہ استانی سے اس کے تمام ہنر سیکھنے ہوتے ہیں۔

star-silver-2

یہ کام پیسے کے لیے نہیں ہے

یہ دو سو سال پرانا ہاتھ سے بننے والی مشین ہے جس پر ویگو بحری ریشم سے نمائش کے لیے اشیا بناتی ہیں

سمندری ریشم تیار کرنے کا کام پیسے کمانے کے لیے نہیں کیا جاتا۔ اسے سیکھنے سے پہلے سمندر کی قسم کھانی پڑتی ہے کہ اس ریشم کا استعمال دولت کمانے کے لیے نہیں کیا جائے گا۔ یہ کبھی بھی خریدا یا بیچا نہیں جائے گا۔ ویگو نے بھی اس سے کوئی کمائی نہیں کی۔

جو کچھ بھی سمندری ریشم سے تیار کیا جاتا ہے وہ صرف لوگوں کی نمائش کے لیے ہوتا ہے۔ ویگو نے بائسس کی بہت سے چیزیں بنائی ہیں اور یہ تمام چیزیں برطانیہ میوزیم اور ویٹیکن سٹی میں نمائش کے لیے ہیں۔

ویگو اپنے شوہر کے ساتھ ایک اپارٹمنٹ میں رہتی ہیں اور انھوں نے گھر کے قریب ایک سٹوڈیو بنایا ہے، جسے لوگ دور دور سے دیکھنے آتے ہیں۔ یہاں 200 سال پرانی کھڈی ہے جس پر ویگو کام کرتی ہیں۔

یہاں چھوٹے چھوٹے مرتبان بھی ہیں اور اس میں رکھے قدرتی رنگ سے سمندری ریشم کو رنگا جاتا ہے۔ سٹوڈیو کی دیواروں پر ویگو کو دی جانے والی سند آویزاں ہیں۔

ویگو بحری ریشم کو رنگنے کے لیے مختلف قسم کے قدرتی رنگوں کا استعمال کرتی ہیں

اس سٹوڈیو کا دورہ کرنے والے زائرین ویگو کو کچھ عطیہ دیتے ہیں اور اسی سے ان کا خرچ چلتا ہے۔

سمندری ریشم سے بنا سامان صرف تحفے میں دیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے پوپ بینڈکٹ اور ڈنمارک کی ملکہ کے لیے سمندری ریشم کے پارچے بن کر دیے تھے۔.

جو خواتین ماں بننے کی امید لے کر وہاں آتی ہیں ویگو انھیں بھی برکت کے طور پر کوئی ٹکڑا دے دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بائسس کسی ایک کے لیے نہیں بلکہ سب کے لیے ہے۔ اسے فروخت کرنا سورج اور سمندر سے منافع کمانے کی طرح ہے اور ایسا کرنا گناہ ہے۔

star-silver-2

بحری ریشم کی تیاری آسان نہیں

ویگو 30 گرام بائسس حاصل کرنے کے لیے سمندر میں تقریبا 100 بار غوطے لگاتی ہیں

سمندری ریشم کشید کرنے کا طریقہ بہت پیچیدہ ہے۔ سمندر سے خام بائسس نکالنے کے بعد اسے 25 دنوں تک صاف پانی میں بھگو کر رکھا جاتا ہے تاکہ اس کا نمک ختم ہوجائے۔ ہر تین گھنٹے پر پانی کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔ پھر اسے خشک کیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس کے ریشے الگ ہوتے ہیں۔

ویگو بتاتی ہیں کہ اصلی سمندری ریشم انسانی بالوں کے مقابلے میں تین گنا باریک ہوتا ہے۔ بعد میں ان ریشوں کو زرد رنگ کے محلول میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ویگو کو 124 قسم کے قدرتی رنگوں میں اس ریشم کو رنگنے کی مہارت حاصل ہے۔ یہ رنگ پھل، پھول اور سمندر صدف سے بنائے جاتے ہیں۔

ریشوں سے دھاگہ بنانے میں 15 دن لگتے ہیں اور ایک سینٹی میٹر کپڑے کا وزن محض دو گرام ہوتا ہے۔ اسے بنانے میں تقریباً چھ سال صرف ہوتے ہیں۔ اگر کپڑے پر کوئی تصویر ابھارنی ہو تو مزید وقت لگ جاتا ہے۔

ویگو کو اپنی کھڈی پر کام کرتے دیکھا جا سکتا ہے

ویگو کہتی ہیں کہ اب تک ان کے خاندان نے 140 نمونوں پر کام کیا ہے۔ ان میں سے آٹھ نمونے ایسے ہیں جن کے بارے میں لکھا نہیں گیا بلکہ وہ نسل در نسل زبانی چلے آ رہے ہیں۔اس روایت کو برقرار رکھنے کے لیے ويگو یہ ہنر اب اپنی چھوٹی بیٹی سکھا رہی ہیں۔ ویگو کا کہنا ہے کہ سمندر سے ریشم بنانے کا کام ایک ایسا راز ہے جو ہر کسی کو نہیں بتایا جا سکتا۔ اپنے خاندان میں بھی صرف اسی کو بتایا جاتا ہے جو سمندر کی قسم کھاتا ہے اور اس کا احترام کرتا ہے۔

ویگو کہتی ہیں کہ شاید یہ راز ان کے ساتھ ہی چلا جائے لیکن بائسس ہمیشہ رہے گا۔

star-silver-2Blue Flower Girl in Shell

بتشکر: ایلیٹ سٹین

بی بی سی

ہم اپنے ہی ملک میں پناہ گزینوں کی طرح رہتے ہیں June 2, 2019

Posted by Farzana Naina in Chatai Making, Culture, Cultures, Handy Crafts, Pakistan, Pakistani, Pakistani Folk, Sindh, Sindhi.
add a comment

حیدر آباد کی مشہور ٹھنڈی سڑک کے کنارے بیٹھے زندگی کی تپتی دھوپ سے جھلسے ہوئے ہنرمند جوگی اپنی منفرد دست کاری کا مول نہ ملنے کے باعث مایوس نظر آتے ہیں۔

حیدر آباد پریس کلب کے نزدیک سڑک کنارے لٹکی چٹائیاں ان ماہر دست کاروں کی خاص سوغات ہیں جو وہ آباؤ اجداد کے دور سے بناتے آ رہے ہیں۔

’ہمارے بزرگ سندھ کی سرزمین پر بسے ہیں اس لیے ہمیں اس زمین سے بہت محبت ہے۔ ہم اپنا کام محنت سے کرتے ہیں اور اپنی محرومیوں کی شکایت کسی سے نہیں کرتے لیکن اپنے ہنر کی معقول اجرت نہ ملنے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ہمارا گزارا مشکل ہو گیا ہے۔‘

صبح سے لے کر شام ڈھلے تک جوگیوں کے درجنوں خاندان ٹھنڈی سڑک کے فٹ پاتھ پر ہر آنے جانے والی گاڑی کو حسرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ شاید کوئی ان کے ہنر کو سراہنے والا رک کر ان سے چٹائی سے بنی چیزیں خرید لے۔

’ہمارے بچوں سے لے کر بوڑھے تک یہ کام جانتے ہیں, بچے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے چٹائی بننے کا کام کرتے ہیں۔ اگر ہمیں ہمارے ہنر کی مناسب قیمت ملے تو ہم بھی بچوں کو سکول بھیج سکیں۔‘

گوکل دیو نامی دستکار کا کہنا تھا کہ آس پاس کچھ دکاندار ایسے ہیں جو ہمارے عقیدے کی وجہ سے ہمیں پانی دینا بھی پسند نہیں کرتے۔ انھوں نے بتایا کہ گرمی میں ہمارے بچے کبھی کبھی بھوکے پیاسے چٹائی اور موڑھے بُنتے ہیں۔‘

چٹائی بنانے کا عمل

بانس کی سنہری لکڑیاں یہ جوگی پٹھانوں سے خرید کر لاتے ہیں جس کے بعد ان کی چھٹائی کا کام کیا جاتا ہے۔ کالے اور پھر سفید ڈوروں کی مدد سے بنائی کا کام کیا جاتا ہے۔ ایک چٹائی کی مکمل بنائی میں ایک گھنٹہ لگتا ہے جس کی بعد اس پر کپڑا چڑھا کر اسے خوبصورت ڈیزائنوں سے آراستہ کیا جاتا ہے۔

محنت کش مزدور اور ان کی بنیادی ضروریات

ٹھنڈی سڑک سے کچھ فاصلہ پر ان خاندانوں کی جھگیاں موجود ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ صدیوں سے ان کے آباؤ اجداد سندھ میں مقیم ہونے کہ باوجود اپنی ہی سرزمین پر زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔

’حکومت نے ہمیں جس جگہ کوٹھریاں بنانے کی اجازت دی ہے وہاں نہ تو گٹر لائن ہے اور نہ ہی پانی آتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ ان کے بچوں کو سکول بھیجنے کی ذمہ داری لینا چاہتے ہیں لیکن وہ گورنمنٹ سکول میں بچوں کو کیسے داخل کروائیں جہاں نہ پانی ہے نہ صابن وہ گندے سکول میں بچوں کو نہیں بھیجنا چاہتے۔

ان کا کہنا ہے کہ بڑے سرمایہ دار اکثر ان سے 50 روپے دیہاڑی پر کام کرواتے ہیں اور شہر میں ان کے ہنر کو مہنگے داموں بیچتے ہیں۔

’لوگ 50 روپے دے کر جاتے ہیں اور ہمارے کام کے عوض اپنی جیبوں میں عوض ہزاروں بھر لیتے ہیں‘

بانس سے بنے خوبصورت اور دیدہ زیب ڈیزائن میں موڑھے اور چٹائیاں ہر آنے جانے والے کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرتی ہیں۔ شدید گرمی میں بھی ان ہنرمندوں کی خواتین اور بچے چٹائی کی بنائی اور تیاری میں مشغول نظر آتے ہیں جبکہ مرد گاہکوں سے ڈیل کرتے ہیں۔

رام دیو نامی ہنرمند کا کہنا ہے ’کسی سے کوئی شکایت نہیں، اللہ جتنا دے اتنا کافی ہے لیکن ہم اپنے ہی ملک میں پناہ گزینوں کی طرح رہتے ہیں۔‘

پاکستان کے آئین کے مطابق مزدور طبقے کے حقوق کے تحفظ کے لیے تقریباً 70 قوانین موجود ہیں لیکن ان کا اطلاق صرف فیکٹری ورکروں اور نوکری پیشہ افراد پر ہوتا ہے جبکہ چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے مزدوروں، دست کاروں، ہوٹلوں اور مکینکوں، دیہاڑی داروں، ریڑھی بانوں سمیت دیگر معمولی اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں پر یہ قوانین لاگو نہیں ہوتے جس کے باعث انھیں استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حال ہی میں ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان کے وفد سے بات کرتے ہوئے سندھ کے وزیرِ لیبر غلام مرتضیٰ بلوچ کا کہنا تھا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں پہلی لیبر پالیسی نافذ کی گئی ہے جس کے مطابق مڈل مین کے کردار کو کم سے کم کیا گیا ہے تاکہ چھوٹی نوعیت کے تاجر اور دیہاڑی پر کام کرنے والے مزدوروں کو ان کے کام کا زیادہ سے زیادہ معاوضہ مل سکے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کی ڈومیسٹک لیبر کے حوالے سے حکومت نے 15 نئے قوانین اسمبلی میں پیش کیے ہیں جن کی منظوری کے بعد فوری عمل درآمد کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان قوانین کے مطابق محنت کشوں کو محفوظ ورکر کا درجہ دیا جائے گا۔ 15 نئے قوانین کے مطابق ان افراد کے لیے فلیٹوں کی تعمیر، ان کے بچوں کے لیے سکول اور کالجز کا قیام، یونیفارم اور کتابوں کی فراہمی شامل ہیں۔

بتشکر: سیدہ ثنا بتول