jump to navigation

وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی

Full name: Jagmohan Singh
Born: 8 February 1941, Sri Ganganagar, India
Died: 10 October 2011, Lilavati Hospital and Research Centre, Mumbai, India
Spouse: Chitra Singh (m. 1969–2011)
Children: Vivek Singh, Monica Chowdhry

مجھ سے اگر غزل کے سب سے بہترین گلوکاروں کے ناموں میں سے ایک نام پوچھا جائے تو سرفہرست جگجیت سنگھ جی کا نام ہوگا۔

 گو کہ مہدی حسن خان صاحب سینیئر اور بلاشبہ ایک بہترین غزل گو گلوکار کہلائے جاتے ہیں) ۔)

انیس سو اکسٹھ سے جگجیت سنگھ جی نے گلوکاری اپنائی اور موسیقی کی دھنیں بھی ترتیب دینے لگے، لیکن جگجیت سنگھ کو تقریباََ ستر اور اسی کی دہائی سے غزل گائیکی کا معمار مانا جاتا ہے۔

 انہوں نے فلمی گیت بھی گائے لیکن انہیں غزل گائیکی کی بنا پر شہرت کی بلندی نے چھوا، ان کی کامیابی کا سفر چترا سے شادی کے بعد اپنی منزلیں سر کرنے لگا تھا، میری ان سے ملاقات برطانیہ کے شہر نوٹنگھم کے کنسرٹ ہال میں ہوئی تھی جہاں وہ اپنی کتاب لانچ کرنے کے لیئے آئے تھے، وہ شام میری زندگی کی یادگار شاموں میں سے ایک ہے جب میرے چاروں جانب اس آواز کی گمبھیرتا طلسم پھیلا رہی تھی، میں اپنے پسندیدہ گلوکار کو اپنے سامنے فن کا جادو جگاتے دیکھ رہی تھی، مجھے یوں لگ رہا تھا کہ میں ہواؤں میں اڑ رہی ہوں اور پورے ہال میں جگجیت سنگھ جی کے علاوہ اور کوئی نہیں !۔

ان کی آواز ایک ماورائی آواز کی طرح اپنے حصار میں لیئے ہوئے تھی، میں نے اپنی زندگی میں کئی فنکاروں کو دیکھا، سنا، ان سے ملاقاتیں کیں لیکن جو تاثر میں نے جگجیت سنگھ جی کی آواز میں پایا تھا وہ کسی میں نہ تھا، ریکارڈنگز سننا علیحدہ بات تھی لیکن اپنے سامنے ان کو گاتے ہوئے دیکھنا ایک ایسا احساس تھا جس کے لیئے الفاظ  ناکافی ہیں۔

دنیا بھی ملی ہے غمِ دنیا بھی ملا ہے

وہ کیوں نہیں ملتا جسے مانگا تھا خدا سے

اور اس پر مزید خوش قسمتی کی بات یہ تھی کہ چترا جی میرے ساتھ والی سیٹ پر براجمان تھیں، اس وقت تک وہ اپنے بیٹے کی جواں سال موت کی وجہ سے گانا چھوڑ چکی تھیں، انہوں نے مجھے بتایا کہ اب وہ صرف جگجیت جی کو کمپنی دینے لے لیئے کبھی کبھار کنسرٹ میں چلی جاتی ہیں۔

رات بھی نیند بھی کہانی بھی

ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی

اصل گفتگو کا آغاز یوں ہوا کہ انہوں نے میرے ساتھ بیٹھے بیٹھے اچانک میرے نیلے رنگ کے پروں والی ہینڈ بیگ کو چھو کر دیکھا اور بولیں یہ بہت خوبصورت ہے، ورنہ مجھ میں حوصلہ کب تھا کہ ان جیسی بارعب دیوی سے گفتگو کا آغاز کرتی۔

کبھی یوں بھی تو ہو

دریا کا ساحل ہو

پورے چاند کی رات ہو

اور تم آؤ۔۔۔۔۔۔۔!۔

اس کے بعد جگجیت جی نے اپنے ہاتھ سے دستخط کر کے مجھے اپنی کتاب ’’بی اونڈ ٹائم ‘‘ کی کاپی بھی عطا کی ، جب میں نے جگجیت جی کو بتایا کہ میں ایک شاعرہ  ہوں تو انہوں نے فورا مجھے اپنا فیکس نمبر لکھ کر دے دیا کہ اپنا کلام فیکس کرنا۔۔۔۔!۔

میں آج تک اپنی اس کوتاہی پر تاسف میں مبتلا ہوں اوریہ کہ میں نے جگجیت جی کو اپنا کلام کیوں نہیں فیکس کیا تھا؟

یہ ایک بہت بڑی غلطی تھی، جس کی تلافی اب ناممکن ہے!۔

کیا خبر غزل کے بادشاہ میری کسی نظم یا غزل کو اپنی آواز کا روپ بخش دیتے!۔

تیرے خوشبو میں بسے خط میں جلاؤں کیسے ! ۔ 

نئے پرندوں کو اڑنے میں وقت تو لگتا ہے ۔۔۔!!!۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب جلندھر کا ڈی اے وی کالج  ٹاؤن شپ کے باہر ہوا کرتا تھا اور اس کا نیا ہاسٹل کالج کے سامنے کی سڑک کے اس پار تھا۔

جگجیت سنگھ اسی ہاسٹل میں رہتے تھے۔ لڑکے ان کے آس پاس کے کمروں میں رہنا پسند نہیں کرتے تھے کیونکہ جگجیت سنگھ صبح پانچ بجے اٹھ کر دو گھنٹے ریاض کرتے تھے۔

وہ نہ خود سوتے تھے نہ بغل میں رہنے والے لڑکوں کو سونے دیتے تھے۔ بہت کم لوگوں کو پتہ ہے کہ ان ہی دنوں آل انڈیا ریڈیو کے جلندھر سٹیشن نے انھیں نیم کلاسیکی گلوکاری میں فیل کر دیا تھا۔

البتہ کلاسیکی گلوکاری میں انھیں بی گریڈ کے گلوکار کا درجہ دیا گیا۔

ایک بار مشہور فلم ہدایت کار سبھاش گھائی اور جگجیت سنگھ اپنی اپنی یونیورسٹیوں کی طرف سے ایک انٹر سٹیٹ یونیورسٹی یوتھ فیسٹول میں حصہ لینے کے لیے بینگلور گئے تھے۔

جگجیت سنگھ پر کتاب لکھنے والی ستیا سرن کہتی ہیں، ’سبھاش گھائی نے مجھے بتایا کہ رات کے 11 بج گئے تھے جب جگجیت کا نمبر آیا۔ جب سٹیج پر اعلان ہوا کہ اب پنجاب یونیورسٹی کے ایک طالب علم کلاسیکی گانا گائیں گے، تو وہاں موجود لوگ زور سے ہنس پڑے۔ ان کی نظر میں پنجاب تو بھنگڑے کے لیے مشہور تھا۔

ستیا سرن کو سبھاش گھائی نے بتایا، ’جیسے ہی وہ سٹیج پر آئے تو لوگ سیٹی بجانے لگے۔ میں سوچ رہا تھا کہ وہ بری طرح سے فلاپ ہونے والے ہیں۔ انھوں نے شدید شور کے درمیان آنکھ بند کر کے آلاپ شروع کیا۔ 30 سیکنڈ کے بعد وہ گانے لگے۔ آہستہ آہستہ جیسے جادو چھا گیا۔ وہاں موجود لوگ کلاسیکی موسیقی سمجھتے تھے۔ جلد ہی تالیوں کی آواز آنے لگی، پہلے تھم تھم کر اور پھر پورے جوش سے۔

’جب انھوں نے گانا ختم کیا تو اتنی زور سے تالیاں بجیں کہ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔‘ وہاں جگجیت سنگھ کو پہلا انعام ملا۔‘

1965 میں جگجیت سنگھ ممبئی پہنچے، جہاں ان کی ملاقات اس وقت کی ابھرتی گلوکارہ چترا سنگھ سے ہوئی۔

چترا سنگھ کہتی ہیں ’جب میں نے پہلی بار جگجیت کو اپنی بالکونی سے دیکھا تھا تو وہ اتنی ٹائٹ پینٹ پہنے ہوئے تھے کہ ان سے چلا بھی نہیں جا رہا تھا۔ وہ میرے پڑوس میں گانے کے لیے آئے تھے۔ میری پڑوسن نے مجھ سے کہا کہ موسیقی سنو گی؟ کیا گاتا ہے! کیا آواز پائی ہے۔

وہ کہتی ہیں ’لیکن جب میں نے پہلی بار انھیں سنا تو وہ مجھے قطعی اچھے نہیں لگے۔ میں نے ایک منٹ بعد ہی ٹیپ بند کر دینے کو کہا۔‘

دو سال بعد جگجیت اور چترا اتفاقاً ایک ہی سٹوڈیو میں گانا ریکارڈ کرا رہے تھے۔

چترا بتاتی ہیں ’ریکارڈنگ کے بعد میں نے انھیں اپنی کار میں لفٹ دینے کی پیشکش کی، صرف تکلف میں کہا کہ میرا ڈرائیور مجھے ڈراپ کرنے کے بعد آپ کو گھر چھوڑ دے گا۔‘

’جب میرا گھر آ گیا تو میں نے پھر تکلف میں انھیں چائے پینے کے لیے کہا۔ میں کچن میں چائے بنانے چلی گئی۔ تبھی میں نے ڈرائنگ روم میں ہارمونیئم کی آواز سنی۔ دھواں سا اٹھ رہا تھا! اس دن سے میں ان کی موسیقی کی قائل ہو گئی۔

آہستہ آہستہ چترا سنگھ کے ساتھ ان کی دوستی بڑھی اور دونوں نے ایک ساتھ گانا شروع کیا۔ جگجیت سنگھ نے ہی چترا کو سُر سادھنا، تلفظ اور اتار چڑھاؤ کا فن سکھایا۔

جس ریکارڈ نے جگجیت سنگھ کی پہچان پورے ملک میں بنائی وہ تھا، ’دی ان فوگیٹیبل‘۔

جگجیت سنگھ کے چھوٹے بھائی کرتار سنگھ کہتے ہیں کہ اس کامیابی کی وجہ موسیقی اور نظموں کا انتخاب تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ جگجیت سنگھ مغربی آلات کے ساتھ سٹیریو فونک ریکارڈنگ کے ذریعے غزل کو نئے دور میں لائے۔

1979 میں ان کا ریکارڈ ’کم الائیو‘ آیا۔ اس میں کئی نئی چیزیں تھیں۔ جیسے کنسرٹ کی لائیو ریکارڈنگ، غزل سناتے سناتے جگجیت سنگھ کا سننے والوں سے بات چیت کرنا، اور کبھی کبھی لطیفے سنانا۔

کرتار سنگھ کہتے ہیں کہ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے مداحوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنا چاہتے تھے اور انھیں ساتھ لے کر چلنا چاہتے تھے۔

چترا سنگھ کہتی ہیں کہ وہ لطیفے اس لیے سنایا کرتے تھے تاکہ سازندوں کو تھوڑا آرام مل جائے۔

شاعر اور فلم ساز گلزار کے ٹی وی سیریل ’مرزا غالب‘ سے بھی جگجیت سنگھ کا بہت نام ہوا۔

طلعت محمود، بیگم اختر، مہدی حسن، لتا منگیشکر اور ثریا جیسے گلوکار سب غالب کا کلام گا چکے تھے، ایسے میں جگجیت سنگھ کو ان سب سے الگ ہونا تھا۔ اس ایلبم کے ساتھ جگجیت سنگھ نے تاریخ بنا دی۔

ستیا سرن کہتی ہیں ’گلزار اور جگجیت دونوں قابل، تخلیقی اور جینیئس۔۔ لیکن دونوں میں تھوڑا مقابلہ بھی رہتا تھا لیکن ساتھ ہی ایک ہم آہنگی بھی تھی۔ گلزار چاہتے تھے کہ کوئی ایسا ساز استعمال نہ ہو جو غالب کے دور میں نہیں تھا۔ جگجیت اس سے خوش نہیں تھے۔ لیکن گلزار اپنی بات پر قائم رہے اور آخر میں ان ہی کی چلی۔‘

1999 میں جب جگجیت سنگھ پاکستان گئے تو وہ اس وقت پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے گھر بھی گئے۔ وہاں دونوں نے ساتھ ساتھ پنجابی گانے گائے اور مشرف نے ان کے ساتھ طبلہ بھی بجایا۔

کرتار سنگھ کہتے ہیں، ’ایک بار جب جگجیت اسلام آباد سے دلی آ رہے تھے تو ہوائی جہاز کے عملے نے ڈھائی گھنٹے تک جہاز کو ہوا میں رکھا تاکہ انھیں جگجیت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کا موقع مل سکے۔‘

جگجیت سنگھ ہر دو سال بعد ایک ایلبم ریلیز کرنا پسند کرتے تھے کیونکہ ان کے خیال میں سننے والوں کو تھوڑا انتظار کروانا چاہیے۔

جگجیت سنگھ کے ریکارڈِسٹ دمن سود کہتے ہیں ’ان کی سگریٹ پینے کی عادت کی وجہ سے ان سے میری اکثر بحث ہوتی تھی۔ وہ گلزار اور طلعت محمود کی مثال دے کر مجھے یہ سمجھانے کی کوشش کرتے تھے کہ سگریٹ پینے کی وجہ سے ان کی آواز میں ایک خاص طرح کی گہرائی پیدا ہو جائے گی۔

جب انھیں پہلی بار دل کا دورہ پڑا تو انھیں مجبوراً سگریٹ چھوڑنی پڑی۔ ساتھ ہی اپنے گلے کو گرم کرنے کے لیے سٹیل کی گلاس میں تھوڑی سی رم پینے کی عادت بھی چھوڑنی پڑی۔

جاوید اختر نے جگجیت سنگھ کے بارے میں کہا تھا کہ ’وہ غزل گلوکاری میں برصغیر کے آخری ستون تھے۔ ان کی آواز میں ایک قرار تھا۔‘

پہلی بار جاوید اختر نے جگجیت سنگھ کو امیتابھ بچن کے گھر پر سنا تھا۔ اس ریکارڈ کی پہلی ہی نظم تھی، ’بات نکلے گی تو دور تلک جائے گی۔۔‘

بات نکلی، اور واقعی دور تک گئی۔

جگجیت سنگھ اور چترا سنگھ

جگجیت سنگھ اور چترا سنگھ

جگجیت سنگھ

پاکستان پہنچنے پر جگجیت سنگھ اور چترا سنگھ کا پرجوش استقبال ہوا

جگجیت سنگھ اپنے بچوں کے ساتھ

مہدی حسن کے ساتھ جگجیت سنگھ اور چترا سنگھ

جگجیت اور چترا سنگھ

جگجیت سنگھ کی کالج کے دنوں کی تصویر پیچھے دائیں پگڑی میں.

جگجیت سنگھ نے کلاسیکی موسیقی کی تعلیم حاصل کی تھی

شاعر اور فلم ساز گلزار کے ٹی وی سیرئیل ‘مرزا غالب’ سے بھی جگجیت سنگھ کا بہت نام ہوا

بشکریہ: بی بی سی

Bantu Dhawan, Deepti Naval, Satish Shah, Raman Kumar, Jagjit singh, Chitra Singh, Kuldip Singh

Amar Haldipur, Kuldip singh, Jagjit singh, Chitra singh, Daman sood, Raman Kumar, Javed Akhtar & Ramesh Talwar

Comments»

No comments yet — be the first.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: