jump to navigation

فلم پدماوتی – Padmawati November 27, 2017

Posted by Farzana Naina in Film and Music.
Tags: , , , , ,
add a comment

 ‘اصل ناانصافی تو ’علاوالدین خلجی‘ کے ساتھ ہوئی ہے

padmawati

ہندوستانی سینما میں سنجے لیلا بھنسالی ہمہ جہت صلاحیتیں رکھنے والے فلم ساز ہیں۔ کمرشل اور آرٹ سینما میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، بالخصوص آرٹ سینما کے لیے فلمیں تخلیق کرتے وقت اِس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ کمرشل فلموں کی طرح پسند کی جائیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی فلموں کے اسکرپٹ اور اداکاروں کے انتخاب میں بے حد حساس واقع ہوئے ہیں، خاص طور پر برِصغیر کی تاریخ اُن کا پسندیدہ موضوع ہے۔

اِس تناظر میں اب تک وہ ’باجی راؤ مستانی‘ جیسی شاندار فلم بھی بنا چکے ہیں، جبکہ ’خاموشی‘، ’گزارش‘، ’بلیک‘، ’ہم دل دے چکے صنم‘، ’دیو داس‘ اور ’رام لیلا‘ جیسی عمدہ فلمیں بھی اِن کے کھاتے میں سنہری حروف میں درج ہیں۔

فلم ’پدماوتی‘ کے تنازعہ کی ابتداء اور بگڑتی صورتحال

گزشتہ برس سے سنجے لیلا بھنسالی اپنی نئی فلم پدماوتی پر کام کررہے ہیں۔ بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے اِس بار موضوع کے انتخاب میں اُن سے کوئی تکنیکی غلطی ہوئی ہے کیونکہ اِس فلم کے حصے میں اب تک صرف تنازعات ہی آئے ہیں۔ پچھلے سال مغربی ہندوستان کی ریاست راجستھان کے شہر جے پور کے معروف تاریخی مقام ’جے گڑھ فورٹ‘ میں سنجے لیلا بھنسالی اور اُن کے ساتھیوں پر انتہاپسندوں کی طرف سے حملہ ہوا، کچھ عرصے بعد ایک اور ریاست مہاراشٹرا کے شہر کولہا پور میں اُن کی فلم کا سیٹ نذرِ آتش کردیا گیا۔ مختلف لسانی و مذہبی تنظمیوں کی طرف سے دھمکیوں کا تاحال سلسلہ جاری ہے، جن میں انتہا پسند ہندو راجپوتوں کی تنظیم ’کرنی سینا‘ پیش پیش ہے۔

انتہا پسندوں نے پدماوتی کا کردار نبھانے والی اداکارہ دپیکا پڈوکون کی ناک اور اداکار رنویر سنگھ کی ٹانگیں کاٹنے کی دھمکی دی ہے، جبکہ دوسری طرف حکمراں جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما سورج پال امو نے سنجے لیلا بھنسالی اور دپیکا پڈوکون کا سر قلم کرنے پر 10 کروڑ روپے کا انعام بھی مقرر کیا ہے۔ ایک اور انتہاپسند تنظیم کی طرف سے اِن دونوں کے سر کی قیمت 5 کروڑ لگائی جاچکی ہے۔ حال ہی میں بھارتی شہر جے پور کے مشہور ’نہر گڑھ ‘ قلعہ پر ایک شخص کی پھندہ لگی لاش بھی جھولتی ہوئی پائی گئی ہے، جبکہ اُس کے قریب ایک دھمکی آمیز تحریر بھی ملی، جس پر کئی مزید دھمکیوں کے ساتھ ساتھ ’پدماوتی‘ درج تھا

مخالفت اور حمایت میں بلند ہونے والی آوازیں

اِس فلم کی مخالف آوازوں میں ایک طرف تو ہندوستان کی حکمران پارٹی بی جے پی، حزبِ اختلاف کانگریس، راجستھان کا سابق شاہی خاندان، انتہا پسند تنظیم بجرنگ دل، مدھیا پردیش کے وزیر اعلیٰ سمیت کئی بھارتی فنکار بھی شامل ہیں، لیکن مخالف رائے رکھنے والے فنکاروں کی اکثریت تاحال خاموش ہے۔ دوسری طرف چند ایک فنکاروں نے اِس فلم کی حمایت میں بھی اپنی آواز بلند کی، جن میں سلمان خان، شبانہ اعظمی، کرن جوہر، فرحان اختر، ہریتک روشن، انوراگ کیشپ، رام گوپال ورما، عالیہ بھٹ وغیرہ شامل ہیں۔ اِن کے علاوہ بولی ووڈ کی چھوٹی بڑی تنظیموں سمیت ’انڈین فلمز اینڈ ٹی وی ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن‘ نے بھی اپنا احتجاج بلند کیا ہے، جس میں انہوں نے خود سنجے لیلابھنسالی کے ساتھ کھڑے ہونے کا عندیہ دیا ہے۔

فلم کی نمائش منسوخی اور نئی تاریخ

ابتدائی طور پر اِس فلم کی ریلیز کا دن یکم دسمبر 2017ء تھا، پہلے سینسر بورڈ کی طرف سے اِس کو روکا گیا، لیکن عدالتی حکم کے بعد نمائش کرنے کی اجازت دے دی گئی، مگر حالات بگڑتے دیکھ کر سنجے لیلا بھنسالی نے فلم کی نمائش رضاکارانہ طور پر معطل کردی۔ اب اِس فلم کو نئی تاریخ کے مطابق 12 جنوری 2018ء یعنی مہینے کے دوسرے ہفتے میں ریلیز کیا جائے گا، البتہ برطانیہ میں یہ فلم دھمکیاں موصول ہونے کے باوجود، یکم دسمبر کو ہی ریلیز ہو رہی ہے۔ ابتدائی دنوں میں پاکستان میں سینما گھروں کی طرف سے بھی اِس فلم کی نمائش کے لیے تشہیر کی گئی تھی، مگر اب انتہائی خاموشی سے اِس کی ریلیز اور تشہیر دونوں کا سلسلہ منقطع کردیا گیا ہے۔

‘پدماوتی‘ تاریخ کی نگاہ سے

چونکہ اِس فلم کی وجہ سے کئی بڑے تنازعات نے جنم لیا اور اب نوبت موجودہ حالات تک آن پہنچی ہے، اِس لیے اِسی تناظر میں مزید کچھ باتیں جاننے کی ضرورت ہے۔

اِس فلم کا مرکزی خیال 1540ء میں لکھی گئی طویل نظم ’پدماوتی‘ سے لیا گیا ہے، جس کے خالق صوفی شاعر ملک محمد جائسی ہیں۔ اِس نظم کے مطابق، کہانی میں راوی ایک توتا ہے، جو چتوڑ کی رانی پدماوتی کے لیے شوہر تلاش کرتا ہے، اور کئی مواقعوں پر اپنی جان بچاکر اِس کہانی کو آگے بڑھاتا ہے۔

0009bcg

نظم کے مطابق سلطان علاؤالدین خلجی مہارانی پدماوتی کے حُسن کے بارے میں جان کر اُس پر فریفتہ ہوجاتا ہے اور اُس کو حاصل کرنے کی خاطر چتوڑ پر چڑھ دوڑتا ہے۔ چتوڑ کا راجا رتن سین قلعہ بند ہوجاتا ہے، سلطان کئی مہینے انتظار کرنے کے بعد شکست خوردہ ہوتا ہے، اور ایک موقع پر راجا رتن سین سلطان کو محل میں کھانے کی دعوت دیتا ہے، جہاں وہ آئینے میں مہارانی پدماوتی کا دیدار بھی کرلیتا ہے۔ سلطان مہارانی کو حاصل کرنے کے لیے راجا رتن سین کو دھوکے سے قید کرکے دہلی لے آتا ہے، جہاں سے مہارانی پدماوتی اُسے آزاد کروا لیتی ہے۔ جس کے بعد سلطان اور راجا کے مابین کھلی جنگ ہوتی ہے، جس میں راجا جان سے جاتا ہے اور مہارانی اپنے شوہر کے ساتھ ستی ہوجاتی ہے۔

اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر سنجے لیلا بھنسالی کی فلم کا مرکزی خیال صوفی شاعر محمد ملک جائسی کی نظم سے ہی لیا گیا ہے، تو پھر ہندوستانی راجپوتوں کے اعتراضات کی گنجائش نہیں بنتی، کیونکہ اِس نظم کی بابت ہندوستان میں ہر کوئی واقف ہے کہ یہ راجستھان سمیت کئی ریاستوں کے نصاب میں بھی شامل ہے۔ سنجے لیلا بھنسالی نے واضح طور پر کہا ہے کہ ’اِس فلم کا مرکزی خیال اُسی نظم سے لیا گیا جبکہ سلطان علاؤالدین خلجی اور رانی پدماوتی کا کوئی رومانوی منظر فلم کاحصہ نہیں ہے۔‘

کہانی کی تاریخی حیثیت فلم بننے سے پہلے بھی متنازعہ ہے، لیکن اِس کے باوجود اِسے راجپوتوں کے ہاں خاص تاریخی و نسلی تقدس حاصل ہے، پھر اِسی کہانی پر فلم بن جانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں، جس پر اتنا واویلا کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین یک طرفہ راگ آلاپے جا رہے ہیں اور اُن کا خیال ہے کہ فلم میں سلطان اور رانی کے مابین رومانوی منظر کشی کی گئی ہے۔

تاریخی مغالطے

معروف تاریخ دان محمد احتشام الدین دہلوی کا خیال ہے کہ ’اِس کہانی میں بیان کردہ واقعات کو سچ مان بھی لیا جائے تو تاریخی وجوہات کی بناء پر اِس واقعہ کو سلطان غیاث الدین خلجی سے جوڑا جاسکتا ہے، جو علاؤالدین خلجی کے دو سو برس بعد ’مالوہ‘ کا حکمران گزرا ہے۔ جس کی سرحدیں ریاست چتوڑ سے ملتی تھیں اور اُن کے مابین جھڑپیں وغیرہ بھی ہوا کرتی تھیں۔‘

دیگر تاریخی حقائق کی چھان بین کی جائے تو کئی طرح کے تضادات سامنے آتے ہیں۔ مثال کے طور پر ملک محمد جائسی کی نظم کے مطابق، علاؤالدین خلجی اور راجا رتن سین کے مابین 8 سال تک مسلسل جنگ ہوتی رہی، جبکہ تاریخ بتاتی ہے کہ علاؤالدین خلجی نے ایک ہی بار میں چتوڑ کو فتح کرلیا تھا۔ اِسی طرح سلطان علاؤالدین خلجی کے زمانے میں چتوڑ کے راجا رتن سین نہیں بلکہ لکھم سین تھے۔

تاریخ دانوں کے مطابق غیاث الدین خلجی کے زمانے میں چتوڑ کے راجا رتن سین تھے اور عورتوں کے حُسن کا پرستار علاؤالدین خلجی نہیں بلکہ غیاث الدین خلجی تھا، اور یہی وجہ ہے کہ اُس کے بارے میں تو یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ وہ اِس طرح کی حرکت میں ملوث ہوسکتا ہے، مگر سلطان علاؤالدین خلجی کا اِس قصے میں دور دور تک کوئی وجود نہیں ہے۔

پدماوتی اور امیرخسرو

اب اِس صورتحال میں تاریخی پہلوؤں کے تناظر میں جو تشویشناک پہلو ہے وہ یہ کہ اب تک اِس طرف زیادہ توجہ نہیں دی گئی کہ صوفی شاعر ملک محمد جائسی کی نظم کا متن تاریخی حقائق پر مبنی ہے بھی یا نہیں؟ اِس طویل نظم کے دو حصے ہیں، جن میں تخیلاتی طور پر سلطان اور مہارانی کا قصہ بنایا گیا ہے اور حقیقت سے اِس کا کوئی تعلق نہیں تھا، کیونکہ سب کچھ تاریخ کے کاغذات میں درج اور موجود ہے۔

ہندوستان میں، ترک نژاد علاؤالدین خلجی 1296ء میں دہلی کے سلطان بنے تھے۔ اُن کے 721 سال بعد یہ فلم ’پدماوتی‘ بن رہی ہے، جبکہ ملک محمد جائسی کی نظم 1540ء میں لکھی گئی، جب ہندوستان کا حکمران شیر شاہ سوری تھا۔ علاؤالدین خلجی نے جب چتوڑ فتح کیا تو اُن کے ہمراہ معروف موسیقار اور عالم امیر خسرو بھی تھے۔ اُس وقت کے مورخین میں، امیر خسرو سمیت کسی کی لکھی ہوئی تاریخ میں اِس قصے کا کوئی تذکرہ تو دور کی بات جھلک تک نہیں ملتی۔

اِس کے طویل عرصے بعد تاریخ فیروز شاہی لکھی گئی، جس میں سلطان علاؤالدین خلجی کی کمزوریوں اور خرابیوں کو بھی بیان کیا گیا، مگر اُس تاریخ میں بھی پدماوتی کے ساتھ کسی تعلق کا تذکرہ نہیں ملتا، لہٰذا اِس تناظر میں سب سے زیادہ ناانصافی کسی کے ساتھ ہوئی ہے تو وہ ہندوستانی راجپوت یا سنجے لیلا بھنسالی نہیں، نہ ہی مہارانی پدماوتی اور دپیکا پڈوکون ہے، بلکہ وہ تاریخ کا معروف حکمران علاؤالدین خلجی ہے، جس کے کردار کو پہلے ایک نظم میں مسخ کیا گیا، اور اُسی مسخ شدہ تصور کی توسیع زیرِ نظر فلم پدماوتی میں کی گئی۔

سلطان علاؤالدین خلجی کے ساتھ ناانصافی

پدماوتی جیسے خیالی کردار کے لیے تو ہندوستان میں ایک طوفان برپا ہے، مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک حقیقی اور انصاف پر مبنی کردار کو جس بُری طرح مسخ کیا گیا، اُس پر کوئی بات نہیں ہو رہی۔ اِس تاریخی خیانت کے مرتکب تمام متعلقہ لوگ تاریخ کو جوابدہ ہوں گے۔ اِن تمام حوالوں کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد تو ایک خیال یہ بھی آتا ہے کہ اِس فلم کے ذریعے جس طرح سلطان علاؤالدین خلجی کے کردار کو مسخ کیا گیا ہے، اُس پر مسلمان کوئی آواز نہ اُٹھا سکیں، اُسی کے سدِباب کے طور پر یہ سب ناٹک رچایا گیا، وگرنہ ایسا بھی کیا کہ، جس بات کا سارے فسانے میں ذکر ہی نہیں، وہ بات اُن کو اتنی ناگوار کیوں گزر رہی ہے؟ اب ایسا لگتا ہے کہ اِس فلم ’پدماوتی‘ کو کامیاب بنانے کے لیے کہیں پہلے یہ ڈراما تو نہیں پلانٹ کیا گیا، کیونکہ تاریخی حقائق اور عہدِ حاضر کے مورخین کچھ اور کہہ رہے ہیں، ملاحظہ کیجیے۔

گھر کی گواہی

بی بی سی ہندی سروس، دہلی نے، انڈیا کی معروف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کے سربراہ اور ہندوستان کی عہدِ وسطیٰ کی تاریخ کے ماہر پروفیسر سید علی ندیم رضوی سے گفتگو کی۔ اُن کے مطابق فلم پدماوتی میں افسانوی کردار مہارانی پدماوتی کو کس طرح سے دکھایا گیا ہے، اِس پر تو سب مخالفت کر رہے ہیں، لیکن فلمساز (بھنسالی) نے اصل ناانصافی تو علاؤالدین خلجی کے ساتھ کی ہے۔ اِس فلم میں علاؤالدین خلجی کو کچھ اِس طرح پیش کیا گیا ہے، جیسے وہ کوئی وحشی، سفاک، جنگلی اور ظالم حکمران ہو، نوچ نوچ کر کھاتا ہو، عجیب و غریب کپڑے پہنتا ہو۔ لیکن درحقیقت وہ اپنے دور کے بہت مہذب شخص تھے۔ جنہوں نے کئی ایسے اقدامات کیے، جن کے اثرات آج تک نظر آتے ہیں۔ اُن کا شمار ہندوستان کے سب سے روشن خیال حکمرانوں میں ہوتا ہے۔ جس گنگا جمنا تہذیب کے لیے ہندوستان مشہور ہے اور جسے بعد میں اکبر نے آگے بڑھایا، اُس کی ابتداء علاؤالدین خلجی نے ہی کی تھی۔

پروفیسر سید علی ندیم رضوی کی گفتگو اور دیگر مورخین کی لکھی ہوئی تاریخ، جہاں جہاں بھی علاؤالدین خلجی کا تذکرہ موجود ہے، وہاں ایسا ماحول، معاشرت، طرزِ زندگی، آدابِ مجلس اور جذباتی مدو جزر نہیں محسوس ہوتے، جن کی عکس بندی فلم میں کی گئی ہے۔ اِس فلم کے ذریعے مہارانی پدماوتی کا تو کچھ نہیں بگڑے گا، جس طرح سنجے لیلا بھنسالی بیان بھی کرچکے، مگر سلطان خلجی کی شخصیت اور اُن کے دور کو جس طرح مسخ کردیا گیا ہے اُس کی اتنے سنجیدہ اور باصلاحیت فلم ساز سے توقع نہیں تھی، یہ سب حقائق افسوسناک ہیں۔ پھر اِس سے زیادہ تکلیف دہ پہلو پاکستان میں طاری خاموشی بھی ہے، کوئی فنکار، فلم ساز، کسی ثقافتی ادارے کا نمائندہ، کوئی دانشور، کسی نے بھی برِصغیر کی تاریخ کی ایک اہم شخصیت کے کردار کو مسخ کرنے پر کوئی آواز نہیں اٹھائی۔

تاریخ کے منچ پر فلم اور ڈرامے کے کردار

ایسا لگ رہا ہے کہ ہندوستان میں یہ سارا ناٹک سوچی سمجھی سازش ہے اور کچھ عرصے میں تمام چیزیں نارمل ہونے کے بعد فلم بھی ریلیز ہوجائے گی۔ تنازعات کی وجہ سے اب توجہ بھی خوب ملے گی، جس کا اثر باکس آفس پر بھی پڑے گا اور اِن ہنگاموں کے بعد، ہندوستان میں کسی مسلمان کو اِس فلم پر انگلی اُٹھانے کی جرات بھی نہیں ہوگی۔

سنجے لیلا بھنسالی سے گزارش ہے کہ وہ تاریخ کے موضوع پر فلمیں ضرور بنائیں مگر بہتر یہ ہو کہ وہ اپنی فلموں میں فکشن کا لاحقہ لگائیں تاکہ فلم بین کو یہ اندازہ ہوسکے کہ یہ تخیل پر مبنی فلم ہے، جس طرح ماضی میں ’امراؤ جان ادا‘ یا پھر ’مغل اعظم‘ بنائی گئی ہیں۔ فرضی کہانیوں کو، حقیقی اور اصل کہانیاں کہہ کر بیان کریں گے تو وہ متنازعہ بھی ہوں گی اور بدنامی کا باعث بھی بنیں گی۔

تاریخ سے چھیڑ چھاڑ کوئی سلطان کرے یا فلم ساز، یہ بات طے ہے کہ تاریخ اُس کو کبھی معاف نہیں کرتی۔

خرم سہیل اپ ڈیٹ 27 نومبر 2017

بلاگر صحافی، محقق، فری لانس کالم نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

دلی کے سلطان علاؤالدین خلجی نے 1303 عیسوی میں چتوڑ پر حملہ کیا۔ بہت سے راجپوت مانتے ہیں کہ علاؤ الدین خلجی نے راجہ رتن سنگھ کی اہلیہ پدماوتی کے حسن کے قصے سن کر چتوڑ کے لیے کوچ کیا تھا۔

لیکن مورخین کے مطابق اس دور کی دستاویزات میں کہیں رانی پدماوتی کا ذکر نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پدماوتی کا کردار شاعر ملک محمد جائسی نے سولہویں صدی میں تخلیق دیا تھا اور ان کی کہانی پدماوت صرف ایک کہانی ہے، تاریخ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

لیکن راجپوت تنظیمیں اپنے موقف پر قائم ہیں۔ وہ یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ پدماوتی کا کرداد افسانوی ہے اور یہ کہانی چتوڑ پر علاؤ الدین خلجی کے حملے کے تقریباً ڈھائی سو سال بعد لکھی گئی تھی۔

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ فلم میں کوئی ایسا سین نہیں ہونا چاہیے جس سے یہ تاثر بھی ملے کے الاوالدین خلجی اور پدماوتی میں کوئی ۔قربت یا محبت تھی، چاہے یہ سین ڈریم سیکوئنس کے طور پر ہی کیوں نہ فلمایا گیا ہو

BBC.

Advertisements

جیمز بانڈ‘ انتقال کر گئے’ May 23, 2017

Posted by Farzana Naina in Film and Music.
Tags: , , ,
add a comment

 Sir Roger

راجر مور کو میں ان کے نام ’’ سائمن ٹیمپلر‘‘ سے جانتی تھی، ان کی ایک ٹیلیویژن  سیریز آیا کرتی تھی جس کا نام تھا ’’ دی سینٹ‘‘ میرے بھائیجان  بڑی باقاعدگی سے وہ سیریل دیکھتے تھے لہذا ہم بھی بچپن میں ایسے ہی پروگرامز کے دلدادہ ہوتے گئے، راجر مور کی مردانہ وجاہت مقناطیسی کیفیت میں خواتین کو کھینچتی رہی اور انہوں نے جیمز بانڈ کا جب رول کیا تو یہ مقبولیت اور عروج کو پہنچی، اب انہیں جیمز بانڈ کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔

آج ان کی وفات کی خبر پڑھ کر صدمہ ہوا، کیسی کیسی ہستیاں اور کیسے مسکراتے چہرے صفحۂ ہستی سے مٹ جاتے ہیں، افسوس صد افسوس !۔

Moore’s Bond movies

Live and Let Die (1973)

The Man with the Golden Gun (1974)

The Spy Who Loved Me (1977)

Moonraker (1979)

For Your Eyes Only (1981)

Octopussy (1983)

A View to a Kill (1985)

Born: 14 October 1927, Stockwell, London
Died: 23 May 2017, Switzerland

 

برطانوی اداکار ’’ سر راجر مور‘‘ جنھوں نے جیمز بانڈ کا کردار ادا کر کے عالمی شہرت حاصل کی نواسی برس کی عمر میں  انتقال کر گئے ہیں، ان کی وفات کی اطلاع ان کے خاندان والوں نے دی۔

سر راجر مور نے جیمز بانڈ سلسلے کی سات فلموں میں برطانوی جاسوس کا مرکزی کردار ادا کیا۔ ان فلموں میں ‘لیو اینڈ لیٹ ڈائی’ کے علاوہ ‘سپائی ہو لوڈ می’ شامل تھیں جنھیں دنیا بھر کے فلم بینوں میں بڑی پذیرائی حاصل ہوئی۔

ٹویٹر پر سر راجر مور کے خاندان والوں نے اطلاع دی کہ وہ سرطان کے مرض میں مبتلا تھے۔ اس ٹویٹ میں مزید کہا گیا کہ تھوڑی مدت کے لیے لیکن بڑی جوانمردی سے انھوں نے اس مرض کا سامنا کیا۔

خاندان کی طرف سے اس تعزیتی بیان میں بچوں کی طرف سے کہا گیا ’پاپا آپ کا شکریہ اور بہت سے لوگوں کے لیے اتنا اہم اور خاص ہونے پر۔’

سر راجر مور کی وفات سوئٹزرلینڈ میں ہوئی اور ان کی خواہش کے مطابق ان کی آخری رسومات نجی طریقے سے مناکو میں ادا کی جائیں گی، ان کے بچوں ڈبورا، جوفری اور کرسچن کی طرف سے مزید کہا گیا ‘ان کے آخری دنوں میں ان پر جنتی محبت اور پیار نچھاور کیا گیا اس کو الفاظ میں بیان کیا جانا ممکن نہیں ہے۔’ 

 Courtesy of BBC 

Sir Roger is survived by his three children and wife Kristina Tholstrup۔

Sir Roger is survived by his three children and wife Kristina Tholstrup

Roger Moore, The Saint - 4 October 1962 - 9 February 1969

Simon Templar is the Saint. He robs from the criminally rich and gives to the poor and deserving — while keeping a nice percentage for himself. His strict moral code makes him target those who got their wealth through nefarious means – corrupt politicians, warmongers and the like. His criminal activities put him at odds with the law, but his wit, charm and intelligence tends to keeps him one step ahead of the police.
 
First episode date: 4 October 1962
Final episode date: 9 February 1969

The Persuaders are two equally matched men from different backgrounds who reluctantly team together to solve cases that the police and the courts cannot.

Danny Wilde (Tony Curtis) is a rough diamond, educated and moulded in the slums of New York City, who escaped by enlisting in the US Navy. He later became a millionaire in the oil business. Curtis himself suffered a tough childhood in the Bronx, and served in the US Navy. He was 46 when he made The Persuaders, but he performed all his own stunts and fight sequences.

Lord (Brett) Sinclair (Roger Moore) is a polished British nobleman, educated at Harrow and Oxford, a former British Army officer and an ex-racing car driver, who addresses his colleague as “Daniel”.

As a pair of globe-trotting playboys, the men meet on holiday in the French Riviera, instantly disliking each other and destroying a hotel bar during a fist-fight. They are arrested and delivered to retired Judge Fulton (Laurence Naismith), who offers them the choice of spending 90 days in jail or helping him to right errors of impunity. Grudgingly, Wilde and Sinclair agree to help Fulton to solve a case. He then releases them from any threat of jail.

 
First episode date: 17 September 1971
Final episode date: 25 February 1972
Network: ITV
Awards: Logie Award for Best British Show

James Bond

Seven actors in total have portrayed Bond on film. Following Connery’s portrayal, David Niven, George Lazenby, Roger Moore, Timothy Dalton, Pierce Brosnan and Daniel Craig have assumed the role.

ہم تمہیں چاہتے ہیں ایسے April 27, 2017

Posted by Farzana Naina in Film and Music.
Tags: , , , , ,
add a comment

بالی وڈ کے معروف اداکار ونود کھنہ 70 برس کی عمر میں ممبئی کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ کافی عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔

جمعرات کو ان کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد بالی وڈ کی کئی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

ونود کھنہ نے دو شادیاں کی تھیں اور ان کے چار بچے ہیں۔

1946 میں پشاور میں پیدا ہونے والے ونود کھنہ نے 140 سے زائد فلموں میں کام کیا۔

انھوں نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز بطور وِلن کیا تھا لیکن ان کی دلکش شخصیت کے باعث وہ جلد ہی ہیرو کے کردار کرنے لگے اور انھوں نے اپنی اداکاری کے جوہر سے فلمی دنیا میں ایک نئی شناخت قائم کر لی۔

ستر سے 80 کی دہائی کے دوران ونود کھنہ کا شمار بالی وڈ کے بہترین اداکاروں میں ہوتا تھا۔ ان کی پہلی فلم ‘من کا میت’ تھی جس میں انھوں نے سنیل دت کے مد مقابل بطور وِلن کام کیا تھا۔

‘پورب اور پچھم‘،’میرا گاؤں میرا دیش’ میں بھی انھوں نے وِلن کا کردار کیا تھا لیکن بعد میں وہ بطور ہیرو آنے لگے۔

ونود کھنہّ بی جے پی کے ٹکٹ پر چار بار پنجاب کے گروداس پور سے پارلیمان کا الیکشن جیتا تھا اور مرکزی وزیر بھی رہے

‘امر اکبر اینتھونی، پرورش، ہیرا پھیری اور مقدر کا سکندر، جیسی سپر ہٹ فلموں میں ونود کھنہ نے اداکاری کے اپنی بہترین جوہر دکھائے۔

جب ان کا فلمی کریئرعروج پر تھا تبھی وہ فلمی دنیا کو ترک کرکے امریکہ میں واقع مشہور یوگی اوشو کے شیلٹر ہوم میں چلے گئے جہاں انھوں نے پانچ برس گزارے۔

سنہ 1987 میں وہ دوبارہ فلمی دنیا میں واپس آئے اور ’انصاف‘ اور ’چاندنی‘ جیسی فلموں سے واپسی کی۔

انھوں نے حال ہی میں سلمان خان کے ساتھ ان کی فلموں دبنگ اور بنگ ٹو میں کام کیا تھا۔

ونود کھنہ نے بی جے پی کے ٹکٹ پر چار بار پنجاب کے گروداس پور سے پارلیمانی انتخاب جیتا اور مرکزی وزیر بھی رہے

ونود کھنّہ بالی وڈ ان کے ایک ایسے ہیرو تھے جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اگر اسّی کی دہائی میں اپنے کریئر کے عروج پر انہوں نے فلمی دنیا نہ چھوڑی ہوتی تو وہ سپرسٹار ہوتے۔

1946 میں پشاور میں پیدا ہونے والے ونود کھنہ نے 1968 میں سنیل دت کی فلم ‘من کا میت’ میں ولن کے کردار سے اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا اور 140 سے بھی زیادہ فلموں میں اداکاری کی۔

ان کی بہترین فلموں میں ‘میرے اپنے’، ‘انصاف’، ‘پرورش’، ‘قربانی’، ’دیاوان‘، ‘میرا گاؤں میرا دیش’، ‘مقدر کا سکندر’، ‘امر اکبر انتھونی’، ‘چاندنی` اور ‘دی برننگ ٹرین ‘ جیسی فلمیں شامل ہیں۔

کیریئر کے ابتدائی دنوں میں انھیں بطور معاون اداکار اور وِلن کے کرداروں میں کاسٹ کیا گیا اور وہ بالی وڈ کے ان چند ہیروز میں سے ہیں جنھوں نے اپنے کریئر کا آغاز بطور ولن کیا لیکن ہیرو بن کر انڈسٹری پر چھا گئے۔

وہ بالی وڈ میں اینگری ینگ مین کی امیج امیتابھ بچن سے پہلے ہی بنا چکے تھے۔

اپنے کریئر کے عروج پر ہی ونود کھنہ اچانک فلمی دنیا کو خیرباد کہہ کر روحانی گرو رجنیش کے شاگرد بن گئے تھے اور ان کے آشرم میں جا کر رہنے لگے تھے۔

ونود کھنہ کا یہ قدم ان کی بیوی گیتانجلی اور ان کے درمیان طلاق کی وجہ بھی بنا۔ گیتانجلی سے ان کے دو بیٹے راہل اور اکشے کھنہ ہیں۔ بعد میں 1990 میں ونود کھنہ نے کویتا سے دوسری شادی کی۔

1987 میں ونود بالی وڈ میں واپس آئے اور فلم انصاف میں ڈمپل کپاڈیہ کے ساتھ نظر آئے اور اس طرح ان کے فلمی سفر کی دوسری اننگز کا آغاز ہوا۔

1988 میں فلم دیا وان میں 46 سال کے ونود کھنّہ 21 سالہ مادھوری دکشت کے ساتھ ایک رومانوی کردار میں دکھائی دیے اور فلمی شائقین نے عمر کے فرق کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے کردار کو خوب سراہا۔

1997 میں ونود کھنہ نے سیاست کے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا اور بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ اپنے سیاسی سفر کے دوران وہ پنجاب کے ضلع گرداس پور سے چار مرتبہ لوک سبھا کے رکن بنے۔

اٹل بہاری واجپئی کی حکومت میں انہوں نے سیاحت اور ثقافت کے وزیر کے طور پر کام کیا اور بعد میں انہیں وزیر مملکت برائے خارجہ کی ذمہ داری بھی دی گئی تھی۔

2010 میں ونود کھنہ ایک بار پھر فلمی پردے پر نظر آئے اور انھوں نے پہلے فلم دبنگ اور پھر اس کے سیکوئل دبنگ ٹو میں سلمان خان کے والد کا کردار ادا کیا۔

اس کے بعد وہ 2015 میں شاہ رخ خان کی فلم دل والے میں بھی نظر آئے۔

انڈین فلم انڈسٹری میں ان کے کئی دوست تھے جن میں سے ایک خاص دوست فیروز خان بھی تھے۔ یہ اتفاق ہی ہے کہ فیروز خان کا انتقال بھی 2009 میں آج ہی کے دن یعنی ستائیس اپریل کو ہوا تھا۔

Courtesy of BBC.

Mehdi Hassan June 1, 2012

Posted by Farzana Naina in Film and Music, Ghazal, Ghazal, Music, Old Pakistani Music, Poetry, Radio, Shairy, Urdu Poetry, Video.
Tags: , , , , , ,
1 comment so far

بشکریہ بی بی سی اردو

شہنشاہِ غزل استاد مہدی حسن 1927 میں راجستھان کے ایک گاؤں لُونا میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد اور چچا دُھرپد گائیکی کے ماہر تھے اور مہدی حسن کی ابتدائی تربیت گھر ہی میں ہوئی۔ خود اُن کے بقول وہ کلاونت گھرانے کی سولھویں پیڑھی سے تعلق رکھتے تھے۔

1947 میں بیس سالہ مہدی حسن اہلِ خانہ کے ساتھ نقلِ وطن کر کے پاکستان آ گئے اور محنت مزدوری کے طور پر سائیکلیں مرمت کرنے کا کام شروع کیا۔

کسبِ کمالِ کُن کہ عزیزِ جہاں شوی

اسی روایت پر عمل کرتے ہوئے انھوں نے مکینک کے کام میں مہارت حاصل کی اور پہلے موٹر مکینک اور اسکے بعد ٹریکٹر کے مکینک بن گئے، لیکن رہینِ ستم ہائے روزگار رہنے کے باوجود وہ موسیقی کے خیال سے غافل نہیں رہے اور ہر حال میں اپنا ریاض جاری رکھا۔

سن پچاس کی دہائی اُن کے لیے مبارک ثابت ہوئی جب اُن کا تعارف ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر سلیم گیلانی سے ہوا۔ جوہر شناس نے موتی کی صحیح پہچان کی تھی چنانچہ دھرپد، خیال، ٹھُمری اور دادرے کی تنگنائے سے نکل کر یہ جوہرِ قابل غزل کی پُرفضا وادی میں آنکلا جہاں اسکی صلاحیتوں کو جِلا ملی اور سن ساٹھ کی دہائی میں اسکی گائی ہوئی فیص احمد فیض کی غزل ’گلوں میں رنگ بھرے‘ ہر گلی کوچے میں گونجنے لگی۔

فلمی موسیقار جو ان کے فن کو ریڈیو کی گائیکی کہہ کر دامن چھڑاتے رہے تھے، اب جمگھٹا بنا کر اسکے گرد جمع ہوگئے چنانچہ سن ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں مہدی حسن پاکستان کے معروف ترین فلمی گائیک بن گئے اور سنتوش کمار، درپن، وحید مراد اور محمد علی سے لیکر ندیم اور شاہد تک ہر ہیرو نے مہدی حسن کے گائے ہوئے گیتوں پر لب ہلائے۔

سنجیدہ حلقوں میں اُن کی حیثیت ایک غزل گائیک کے طور پر مستحکم رہی۔ اسی حیثیت میں انھوں نے برِصغیر کے ملکوں کا کئی بار دورہ کیا۔ بھارت میں اُن کے احترام کا جو عالم تھا وہ لتا منگیشکر کے اس خراجِ تحسین سے ظاہر ہوا کہ مہدی حسن کے گلے میں تو بھگوان بولتے ہیں۔ نیپال کے شاہ بریندرا اُن کے احترام میں اُٹھ کے کھڑے ہوجاتے تھے اور فخر سے بتاتے تھے کہ انھیں مہدی حسن کی کئی غزلیں زبانی یاد ہیں۔

پاکستان کے صدر ایوب، صدر ضیاءالحق اور صدر پرویز مشرف بھی اُن کے مداح تھے اور انھیں اعلیٰ ترین سِول اعزازات سے نواز چُکے تھے، لیکن مہدی حسن کے لیے سب سے بڑا اعزاز وہ بےپناہ مقبولیت اور محبت تھی جو انھیں عوام کے دربار سے ملی۔ پاک و ہند سے باہر بھی جہاں جہاں اُردو بولنے اور سمجھنے والے لوگ آباد ہیں، مہدی حسن کی پذیرائی ہوتی رہی اور سن اسّی کی دہائی میں انھوں نے اپنا بیشتر وقت یورپ اور امریکہ کے دوروں میں گزارا۔

مہدی حسن کثیرالاولاد آدمی تھے۔ اُن کے چودہ بچّے ہیں، نو بیٹے اور پانچ بیٹیاں۔ اپنے بیٹوں آصف اور کامران کے علاوہ انھوں نے پوتوں کو بھی موسیقی کی تعلیم دی اور آخری عمر میں انھوں نے پردادا بننے کا اعزاز بھی حاصل کرلیا اور اپنے پڑپوتوں کے سر پہ بھی دستِ شفقت رکھا۔

اُن کے شاگردوں میں سب سے پہلے پرویز مہدی نے نام پیدا کیا اور تمام عمر اپنے اُستاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے رہے۔ بعد میں غلام عباس، سلامت علی، آصف جاوید اور طلعت عزیز جیسے ہونہار شاگردوں نے اُن کی طرز گائیکی کو زندہ رکھا۔

ملکہ ترنم نور جہاں کا کہنا تھا کہ ایسی آواز صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتی ہے، حالانکہ یہ بات خود مادام کی شخصیت پر بھی اتنی ہی صادق آتی ہے۔ آج مداّح اور ممدوح دونوں ہی اس دنیا میں نہیں لیکن موت نے صرف اُن کا جسدِ خاکی ہم سے چھینا ہے۔ اُن کی لازوال آواز ہمیشہ زندہ رہے گی۔

Jagjit Singh – جگجیت سنگھ October 10, 2011

Posted by Farzana Naina in Art, Film and Music, Ghazal, Ghazal, Kavita, Mushaira, Music, Nazm, Poetry, Radio, Shairy, Sher, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags:
2 comments

پير 10 اکتوبر2011

بھارت میں غزلوں کے معروف گلوکار اور غزل گائیک جگجیت سنگھ کا ممبئی کے لیلا وتی ہسپتال میں انتقال ہوگیا ہے۔ ان کی عمر ستّر برس تھی۔

گزشتہ ہفتہ برین ہیمبرج کے سبب انہیں ہسپتال میں داخل کیا گيا تھا۔ سوگواروں میں وہ اپنی اہلیہ چترا داس کو چھوڑ گئے ہیں۔

جس روز انہیں ہسپتال میں داخل کیا گیا اس روز وہ ممبئی میں پاکستان کے مشہور زمانہ گلوکار غلام علی کے ساتھ مشترکہ پروگرام پیش کرنے والے تھے۔

جگجیت سنگھ کے ایک ہی بیٹا تھا۔ جو جوانی میں ہی ایک روڈ حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

آزادی کے بعد بھارت میں غزل گائیکی کے فن کے حالات اچھے نہیں رہے تھے لیکن جگجیت نے اس فن کو دوبارہ زندہ کیا اور غزل کو درباروں یا ادب کی محفلوں سے نکال کر عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جگجیت سنگھ غزل گلوکاری کے لیے بھارت میں تو مشہور ہیں ہی لیکن ان کے مداح دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔

جگجیت سنگھ ریاست راجستھان کے شری گنگا نگر میں آٹھ فروری انیس سو اکتالیس میں پیدا ہوئے تھے۔ پیدائش کے وقت ان کا نام جگموہن رکھا گيا تھا لیکن ایک خاندانی ستارہ شناش کی صلاح پر ان کا نام جگجیت سنگھ کر دیا گیا۔

جگجیت سنگھ نے فلموں میں بھی نغمے گائے لیکن بھارت میں انہیں غزل گائیکی کا معمار مانا جاتا ہے جنہوں نے اس فن کو عوام میں مقبول کیا۔

نقاد ان کے فن کو معیاری یا اعلٰی پائے کا نہیں سمجھتے ہیں لیکن نکتہ چینی بھی اس بات کے قائل ہیں کہ انہوں نے غزلوں کو فلمی گیتوں کی طرح عوام تک پہنچایا۔

جگجیت سنگھ پہلے اپنی اہلیہ چترا کے ساتھ مل کر غزلیں گاتے تھے اور ان کے کئی البم کافی مقبول ہوئے۔ لیکن بیٹے کی موت کے بعد چترانے اس پیشہ کو یکسر چھوڑ دیا اور کبھی دوبارہ نہیں گایا۔

گجیت نے لتا منگیشکر کے ساتھ مل کر سجدہ کے نام سے ایک البم بنایا تھا جو بہت مقبول ہوا تھا۔ انہوں نے اوشا منگیشکر کے ساتھ بھی کافی کام کیا۔

انہوں نے بالی وڈ کے معروف نغمہ نگار اور شاعر گلزار کے سات بھی کافی کام کیا اور ان کے ٹی وی سیریل مرزا غالب میں انہوں نے کئی غزلیں پیش کیں جو بہت مقبول ہوئیں۔ غالب کی چند غزلوں کو جگجیت سنگھ نے عوام میں دوام بخشا۔ اس سیریل کی بیشتر غزلیں اب بھی لوگوں کی پسندیدہ ہیں۔

انہوں نے جاوید اختر کے ساتھ بھی کام کیا اور سوز کے نام سے ایک البم تیار کیا جو کافی سنا گیا۔

جگجیت سنگھ کو گھوڑوں سے بہت لگاؤ تھا اور گھوڑوں کی ریس کے شوقین تھے۔ ان کے پاس گھوڑے تھے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے انہوں نے بہت سے لوگوں کی مدد بھی لی تھی۔

بشکریہ بی بی سی اردو

ہفتہ 24 ستمبر 2011

بھارت کے مشہور غزل گو جگجیت سنگھ کی دماغ کی شریان پھٹنے کے بعد ممبئی کے ایک ہسپتال میں ان کا آپریشن کیا گیا ہے۔

ممبئی کے علاقے باندرہ میں واقع ليلاوتی ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ جمعہ کی صبح ہسپتال لائے جانے کے بعد ستّر سالہ جگجیت سنگھ کی سرجری کی گئی تاہم ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے ان کے ایک قربت دار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

انہیں جمعہ کی شام پاکستان کے مشہور غزل گو غلام علی کے ساتھ ایک پروگرام میں شامل ہونا تھا۔

اس سے پہلے جگجیت سنگھ کو سنہ انیس سو اٹھانوے میں دل کا دورہ پڑا تھا اور جسم میں خون کی گردش میں مسائل کی وجہ سے انہیں اکتوبر سنہ دو ہزار سات میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ شاید ان ہی وجوہات کی بناء پر انہیں برین ہیمرج ہوا ہوگا۔

جگجیت سنگھ کے خاندان کے ایک قریبی دوست نے ليلاوتي ہسپتال میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کے دماغ کے ایک حصہ میں خون جم گیا تھا جسے نکالنے کے لئے آپریشن کیا گیا۔

ان کے مطابق، انہیں اگلے اڑتالیس گھنٹے تک انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا جائے گا۔

BBC UK

 

Qaid Rota Hoga ! April 12, 2011

Posted by Farzana Naina in Culture, Famous Urdu Poets, Film and Music, Literature, Pakistan, Pakistani Music, Poetry, Urdu, Urdu Poetry.
add a comment

شدت پسندی سے متاثر ہونے والی ثقافتی سرگرمیوں کا سب سے زیادہ نقصان نوجوان اٹھا رہے ہیں جن کے ناپختہ ذہنوں کی بے چینی ثقافتی وسائل میں بتدریج کمی کی وجہ سے اور بڑھتی جا رہی ہے

غزل دلکش ترنم میں پڑھی جا رہی تھی۔ سننے والے اپنی نشستوں پر جمے، مختلف طور طریقوں سے نوجوان شاعر کو داد پیش کر کے کسی سوچ میں محو دکھائی دے رہے تھے۔ شاید اس لیے کہ غزل لب و رخسار کی بجائے پاکستان کے موجودہ حالات پر مبنی تھی۔ جدید تشبیہہ و استعاروں سے لیس اشعار سوچ کی نئی راہوں کے متلاشی تھے۔

یہ مناظر حال ہی میں فیض گھر لاہور کے ایک کشادہ ہال میں منعقد کیے گئے ایک مشاعرے سے ہیں۔

ادبی نشست کے نام سے یہ ماہانا سلسلہ فیض گھر کے بے شمار ادبی اور ثقافتی پراگراموں میں سے ایک ہے جس کا مقصد نوجوان نسل کے آرٹسٹوں کو اظہار فن کا موقع دینا ہے۔

معروف مصورہ اور فیض گھر کی بورڈ ممبر سلیمہ ہاشمی کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ثقافتی کام سیاسی و سماجی جمود یا انتہا پسندی کے عالم میں سیاسی نوعیت اختیار کر لیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں جب آزادانہ سوچ کو انتہا پسندی اور مذہبی نوعیت کی سختیوں کا پابند کیا جاتا ہے تو اس کے خلاف بےخوفی سے اپنی سوچ کا برملا اظہار کرنا ہر تخلیقی شخص کی ذمہ داری بن جاتی ہے کیونکہ یہی اصل چیلنج ہے۔

’ہماری تاریخ اور ساری روایات ہم سے چھن گئی ہیں۔ ہم رہ نہیں سکتے۔ ہم سانس نہیں لے سکتے۔‘

پاکستان کے باقی شہروں کی طرح ثقافتی مرکز لاہور بھی پچھلے چند سالوں سے خود کش حملوں اور بم دھماکوں کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ دو ہزار آٹھ میں ورلڈ پرفارمنگ آرٹس فیسٹول کے دوران کلچرل کامپلیکس الحمرا کے باہر ہونے والے تین بم دھماکوں کے باعث یہ سالانہ فیسٹیول جس میں دنیا بھر سے فنکار شرکت کرتے تھے بند کر دیا گیا تھا اور اب تک بند ہے۔

شدت پسندی سے متاثر ہونے والی ثقافتی سرگرمیوں کا سب سے زیادہ نقصان نوجوان اٹھا رہے ہیں جن کے ناپختہ ذہنوں کی بے چینی ثقافتی وسائل میں بتدریج کمی کی وجہ سے اور بڑھتی جا رہی ہے۔

سوچ نامی میوزک بینڈ کے عدنان کا کہنا ہے کہ وہ معاشرے میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور اگر ان کے میوزک کے ذریعے ایسا ہو سکے تو وہ خود کو دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان سمجھیں گے

یہی وجہ ہے کہ چوبیس سالہ گلوکار عدنان دھول نے تین سال پہلے ملک کے پیچیدہ حالات سے متاثر ہو کر میوزک کا باقاعدہ آغاز کیا اور آواز و ساز کے ذریعے اپنا پیغام نوجوانوں تک پہنچانا ضروری سمجھا۔

سوچ نامی میوزک بینڈ کے عدنان کا کہنا ہے کہ وہ معاشرے میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور اگر ان کے میوزک کے ذریعے ایسا ہو سکے تو وہ خود کو دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان سمجھیں گے۔

عدنان آج کل بی اے کے امتحان کی تیاری کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گانوں کے بول خود لکھتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ شاعری کے اصولوں سے ناآشنا ہیں اور اردگرد کے ماحول سے متاثر ہو کر جو جی میں آتا ہے اسے لکھ کر دھن بنا لیتے ہیں۔

ان کے ’اٹھ جوانا‘ کے نام سے مشہور ہونے والے پنجابی گانے کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس کا خیال انہیں اس روز آیا جب لاہور میں ایک دن میں پانچ خود کش بم دھماکے ہوئے۔

بقول ان کے وہ خوفزدہ نہیں ہیں اور اپنا کام جاری رکھیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے اگلے گانے کا موضوع قائد اعظم کا بھولا ہوا نظریہ ہے اور اس کا نام ’قائد روتا ہوگا‘ ہے۔

بشکریہ بی بی سی

Sufi Singers of Sindh-Sohrab Faqeer October 29, 2009

Posted by Farzana Naina in Cultures, Film and Music, Music, Pakistan, Sindhi.
Tags: , , ,
2 comments

سندھ کے معروف صوفی گلوکار سہراب فقیر کا پچھتر برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد کراچی کے ایک ہسپتال میں جمعہ کے روز انتقال ہو گیا۔ فالج کی وجہ سے ان کی وہ آواز ختم ہو چکی تھی جسے سننے کے لیے لوگ دور دراز علاقوں سے درازہ (درازہ اس گاؤں کا نام ہے جہاں سائیں سچل مدفو ن ہیں) آتے تھے۔

سہراب فقیر

سہراب فقیر کے انتقال کے ساتھ ہی صوفیوں کا کلام گانے والا ایک اور نامور فنکار کم ہو گیا۔ ان کی کمی پوری کرنے کے لیے مستقبل قریب میں کوئی نظر نہیں آتا ہے۔ اسی طرح جیسے علن فقیر کا مقام حاصل کرنے کے لیے ابھی تک کوئی سامنے نہیں آسکا ہے۔

سہراب کو، جن کا پورا نام فقیر سہراب خاصخیلی تھا، سائیں سچل سرمست کا کلام خصوصاً سنگ گانے کا ملکہ حاصل تھا۔

سہراب کو، جن کا پورا نام فقیر سہراب خاصخیلی تھا، سائیں سچل سرمست کا کلام خصوصاً سنگ گانے کا ملکہ حاصل تھا

انہوں نے آٹھ برس کی عمر سے صوفیوں کا کلام گانا شروع کیا تھا اور سار ی زندگی یہی کام کیا جو ان کا ذریعہ معاش تو تھا ہی لیکن محبوب مشغلہ بھی تھا۔

یہ فن انہیں ورثہ میں ملا تھا۔ ان کے والد ہمل فقیر خود اپنے وقت کے بڑے گائک تھے اورتھری میر واہ میں مدفون بزرگ شاعر خوش خیر محمد ہسبانی کے مرید تھے۔ کچھ بیٹے کو انہوں نے تربیت دی تو کچھ بیٹے کا شوق جس نے سہراب خاصخیلی کو سہراب فقیر بنا دیا۔

یہ سہراب کی اپنے فن پر گرفت اور مقبولیت ہی تھی جو حکومت کو مجبور کرتی تھی کہ انہیں طائفہ کے ساتھ بیرونی ممالک میں بھیجا جائے۔ برطانیہ ، بھارت، ناروے، سعودی عرب اور دیگر کئی ممالک میں جا کر انہوں نے سامعین سے داد وصول کی تھی۔

سائیں سچل ہفت زبان شاعر تھے اور سہراب سندھی، سرائکی، پنجابی اور اردو زبانوں میں گاتے تھے کہ جس زبان میں گایا ایسا لگا کہ یہ ان کی ہی زبان ہے۔

وہ سائیں سچل کے علاوہ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی، حضرت سلطان باہو، سا ئیں بھلے شاہ اور دیگر شعراء کا کلام بھی گایا کرتے تھے۔

بشکریہ بی بی سی …………آؤ رانھڑا رہو رات

Aao Ranhra Raho Raat