jump to navigation

Professor Shahida Hassan – Nostalgia

 

Blue bar 28ایک مغربی مفکر نے کہا تھا کہ جب کوئی اپنا وطن چھوڑتا ہے تو وہ اپنے ساتھ صرف اپنا جسم لے جاتا ہے اور اپنی روح گویا اسی

دھرتی پر چھوڑ جاتا ہے،حقیقتاَ  دیکھا جائے تو ایسے تمام افراد جو ترکِ وطن کے جبر سے گزرتے ہیں، کسی نہ کسی طور ساری عمر اپنی سرزمین سے وابستگی کی تمنا میں اپنی زبان، اپنی ثقافت اور اپنے لوگوں سے ہمیشہ جڑے رہنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہتے ہیں، اگر یہ تجربہ کسی حساس عورت کے حصے میں آجائے تو اس کی اہمیت اس لئے بھی دوچند ہوجاتی ہے کہ عورت اپنے محسوسات کی نوعیت اپنی جبلتوں اور اپنے نفسیاتی ردِ عمل کی بنا پر مرد سے مختلف لیتی ہے اگر وہ اپنے ذاتی احساسات کے بیان کسی پیرایۂ اظہارکو اختیار کرنے پر قادر ہوجائے تو ہمیں اس کے شخصی تجربے، مزاج، معنی کی مختلف جہتوں کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ اس طرح بہت سی اصلی صداقتوں کو سامنے لانے میں مدد ملتی ہے ۔

فرزانہ خان نیناؔ ں نہ صرف دیارِ غیر میں آباد ہیں بلکہ اپنی کاوشوں اور عملی کاموں کے ذریعے اردو زبان و ادب کی ترویج میں بھی بھرپور حصہ لیتی ہیں، مجموعے میں شامل ان کے کوائف بغور پڑھیں تو اندازہ ہوگا کہ کراچی سے تعلیمی ا سناد حاصل کرنے کے بعد فرزانہ جب انگلستان پہنچیں تو زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی تعلیمی استعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ انھوں نے براڈ کاسٹر، کمپیئر، سوشل ورکر، شاعرہ ، کہانی نویس اور بزمِ علم و فن کی جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے بھی اپنی متنوع صلاحیتوں اظہار کیا۔
ان کا نام انگلستان کے ادبی حلقوں میں ایک معروف نام ہے اورادبی حلقوں میں ان کا تعارف یقیناََ دیرپا اور خوشگوار تاثر کا حامل ہے ، عبدالرحمٰن چغتائی نے مصوری کے فن کے حوالے سے لکھا:
’ ’کہ کسی آرٹسٹ کی پہلی تصویر متعارف ہوتی ہے تو وہی دن فن کی دنیا میں اس کی پیدائش کا دن ہوتا ہے‘‘

فرزانہ نیناؔ ں نے فن کی دنیا میں اپنی جس شاعری کے ساتھ اپنے وجود کی آمد کا اعلان کیا اس میں ایک مسرت اور خوشی موجزن ہے، کسی کے فن پارے کی اولین اظہار کی تشکیل اس اعتبار سے بھی اہم ہوتی ہے کہ اس میں فنکار کے اظہار کے ابتدائی خدوخال طے پارہے ہوتے ہیں ، انہی خد وخال میں وہ آنے والے زمانوں میں اپنے گوناگوں احساسات ،خیالات، نت نئے افکار اور زندگی کی سچائیوں کے انکشاف سے حاصل ہونے والے ادراک کے انوکھے اور دیرپا رنگ بھرتا چلا جاتا ہے، اگر نقشِ اول فطری اور بے ساختہ ہو اور فنکار کی ا نفرادیت اور تجربے کی سچائی پر دلالت رکھتا ہو تو اس کی کوششیں قابلِ قدر اور قابلِ توجہ قرار پاتی ہیں۔
’’درد کی نیلی رگیں ‘‘کا مطالعہ کرتے ہوئے کوئی بھی یہ محسوس کر سکتا ہے کہ ان اشعار میں جذبوں اور محسوسات کے نئے پن سے پیدا ہونے والی تازگی بدرجۂ اتم موجود ہے ، ان کی ساری شاعری میں ایک گہرے درد کی کیفیت لہریں لیتی ہے جسے وہ بار بار درد کی نیلی رگوں کی ترکیب کے تعلق سے اجاگر کرتی ہیں، پھر وہی نیلا رنگ دردو غم کے اظہار کی مختلف کیفیات کے بیان کے لئے مختلف تراکیب کے حوالے سے مسلسل نمودار ہوتا رہتا ہے، محسوس ہوتا ہے کہ اس رنگ کو نیناں کے محسوسات کی دنیا سے ایک خاص نسبت ہے اور ہمیں یہ رنگ جو دور تک پھیلے اس آسمان کا رنگ بھی ہے اور ٹھاٹھیں مارتے سمندر کا رنگ بھی ہے، کسی کی حسین آنکھوں کا رنگ بھی ہے اور جسم پر کسی چوٹ کی شدت کو اجاگر کرنے والا رنگ بھی ،اس طرح یہ رنگ اپنے متضاد اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور زندگی کی وسعت، نرمی، گداز اور شدت کی مختلف کیفیات کی عکاسی کرتا ہے۔
نیناں کی شاعری گمشدہ لمحوں کی متلاشی اور ان سے منسلک یادوں سے پیوستہ زندگی کی آئینہ نما ہے، مگر ان یادوں میں ایک خوشگواری ہے ،وہ لبوں سے آہ بن کر نہیں نکلتی بلکہ کسی تشنہ وجود پر بارش کے شبنمی قطروں کی طرح آہستہ آہستہ ٹپکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، یہ یادیں گذری ہوئی شاموں اور کھوئے ہوئے دنوں کی یادیں ہیں اور خواب ہوجانے والے دلپسند انسانوں اور محبت کرنے والی گمشدہ ہستیوں کی یادیں ہیں، جن کو وقت نے اپنی سیاہ چادر میں لپیٹ کر اوجھل کردیا ہے، اپنے وطن اپنے گھر اپنی مٹی اپنی گلیوں اور اپنے آنگن کی سمت لے جانے والے خوابناک اور بے انت رستے پر بڑھتی چلی جاتی ہیں اور یادوں کی کرچیاں چنتی رہتی ہیں، یوں اپنے دل کو زخم زخم کیئے جاتی ہیں:

ترے خیال سے آنکھیں ملانے والی ہوں

 نئے سروپ کا جادو جگانے والی ہوں
میں سینت سینت کے رکھے ہوئے لحافوں سے

تمہارے لمس کی گرمی چرانے والی ہوں
*
زرد پتوں میں کسی یاد کے جامن کے تلے

کھیلتے رہتے ہیں بچپن کے چہکتے موسم
*
روز پرچھائیاں یادوں کی پرندے بن کر

گھر کے پچھواڑے کے پیپل پہ اتر آتی ہیں
*
میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز

اب مرے واسطے بیکار ہے چاندی سونا
*
اوڑھ کے پھرتی تھی جو نیناں ساری رات

اس ریشم کی شال پہ یاد کے بوٹے تھے
*

 

بدن نے اوڑھ لی ہے شال اس کی

ملائم نرم مخمل ہوگئی ہوں

کسی کے عکس میں کھوئی ہوں اتنی

خود آئینے سے اوجھل ہوگئی ہوں
*
چل دیا ساتھ ہی میرے تری یادوں کا ہجوم

راہ سے زیست کی تنہا جو گزرنا چاہا
*
فرزانہ کی تمثالوں اور امیجز کی ابھرتی دنیا ، خیالوں، خوابوں، اتھاہ محبتوں اور انمٹ یادوں کی دنیا ہے، ان میں زندگی کی تلخیاں شامل نہیں ہیں ، انھوں نے گرچہ زندگی کے مختلف روپ دیکھے ہیں مگر گزرتے ہوئے روز و شب میں کچھ کھونے اور کچھ پانے کی آرزو کرتے ہوئے اپنے سفر اور قیام کی منزلوں میں انھوں نے اپنے باطنی وجود کی آسودگی کے لئے کچھ ایسے اہتمام کر رکھے ہیں کہ ان کے یہاں محرومی، اداسی، حزن و ملال کی کیفیات کے بجائے سرشاری اور شادمانی کا احساس نمایاں رہتا ہے ۔

خواہشیں ہوش کھوئے جاتی ہیں

درد کے بیج بوئے جاتی ہیں

انگلیوں سے لہو ٹپکتا ہے

پھر بھی کلیاں پروئے جاتی ہیں

کیسا نشہ ہے سرخ پھولوں میں

تتلیاں گل پہ سوئے جاتی ہیں

کتنی پیاری ہیں چاندنی راتیں

تم کو دل میں سموئے جاتی ہیں
*
نیناں اڑی جو نیند تو اک جاں فزا
خیال

خوشبو   لگا    بہار   لگا   روشنی   لگا
*
اس شاعری میں ایک مسلسل نوسٹالوجی ہے، یہی وہ کیفیت ہے جسے انھوں نے اپنی خوبصورت نثری تحریر میں ’میری شاعری‘ کے عنوان کے ساتھ کتاب میں شامل کیا ہے، سچ پوچھئے تومجھے یہ ساری تحریر نیناں کی غزلوں اور نظموں کی خوبصورت تشریح کے مترادف محسوس ہوئی ہے،یہاں ہم دو دنیاؤں میں بٹے ہوئے ناآسودہ وجود سے ملتے ہیں جو ہمیں اپنی یادوں کے طلسم میں جکڑ لیتا ہے۔
نیناؔ ں اپنی شاعری کے بارے میں کہتی ہیں کہ یہ میری ایک اپنی دنیا ہے جہاں میں سب کی نظروں سے اچانک اوجھل ہوکر شہرِ سبا کی سیڑھیاں چڑھتی ہوں، میری شاعری سماجی اور انقلابی مسائل کے بجائے میری اپنی راہِ فرار کی جانب جاتی ہے، اس شاعری میں اس پیپل کے درخت کا بھی ذکر ہے جس کے پتوں کی پیپی بنا کر وہ شہنائی کی آواز سنا کرتی تھیں اور بھوبھل میں دبی آم کی گٹھلیوں کا ذکربھی ہے اور تتلیوں کے پروں پر لکھے چہروں،گڑیوں کے کھونے والے چہروں، گوندھے جانے والے پراندوں، تکئے کے تلے رہنے والے خطوں،اور سپاری کاٹنے والے سروتوں کا ذکر بھی ہے، یہ سب کسی ایک ہی خواب کی مختلف سمتیں اور کسی ایک ہی خیال کے مختلف راستے ہیں جو ایک دوسرے میں گم ہو ہو کر بار بار نکل آتے ہیں، نیناں نے اسی رستے کو اپنے لئے منتخب کیا ہے اور اسی سے وابستگی نبھاتے ہوئے وہ زندگی کا سفر کررہی ہیں، کہتی ہیں  

زندگی کے ہزار رستے ہیں

میرے قدموں کا ایک رستہ ہے
*
ایک اور جگہ کہتی ہیں


ان بادلوں میں روشن چہرہ ٹہر گیا ہے

 آنکھوں میں میری کوئی جلوہ ٹہر گیا ہے


آنکھوں کی سیپیاں تو خالی پڑی ہوئی ہیں

پلکوں پہ میری کیسے قطرہ ٹہر گیا ہے


کیسا عجب سفر ہے دل کی مسافتوں کا

میں چل رہی ہوں لیکن رستہ ٹہر گیا ہے

نیناں کی شاعری اپنے لفظی پیکر تراشتی رہتی ہے، لفظ لفظ سے گلے ملتے رہتے ہیں، تراکیب وضع ہوتی رہتی ہیں، شعری زبان اپنے خدوخال ترتیب دیئے جاتی ہے، اس تمام اظہار میں یادوں اور خیالوں کی دھنک بھی ہے اور سچ کی خوشبو بھی ۔

یہ سب شاعر کے اندر کی دنیا ہے، فرزانہ وطن سے دور ایک ایسے دیار میں رہتی ہیں، جہاں زندگی اور اس کے مختلف مظاہر ہماری اس روایتی دنیا سے بہت آگے کے ہیں، وہ یقیناََ ایک جدید معاشرے کے بہت سے پسندیدہ اور نا پسندیدہ مناظر سے گزرتی ہوں گی، سماجی مسائل کی نوعیت بھی مختلف ہوگی، زندگی کے بہت سے پہلو اپنی جانب متوجہ کرتے ہوں گے، نیناں کی خوبصورت سوچوں کے لا متناہی سلسلوں نے ان کے لہجے کو بہت سی تلخیوں سے بچا رکھا ہے، مگر پھر بھی ان کے یہاں شکوے کے انداز میں بہت نرمی کے ساتھ کچھ اس طرح کی کیفیات کا اظہار گونجتا ہے:

ابر بھی جھیل پر برستا ہے

کھیت اک بوند کو ترستا ہے

احتیاطاَ  ذرا سا دور رہیں

 اب تو ہر ایک شخص ڈستا ہے

نیناؔں کا ذہن اس اعتبار سے بہت زرخیز ہے کہ ان کے پاس بات کو اپنے انداز میں کہنے کی خواہش جھلکتی ہے اور خیالات و مضامین میں ایک نئے پن کی جستجو نمایاں ہے


اداسیوں کے عذابوں سے پیار رکھتی ہوں

 نفس نفس میں شبِ انتظار رکھتی ہوں

کہاں سے آئے گا نیلے سمندروں کا نشہ

میں اپنی آنکھ میں غم کا خمار رکھتی ہوں

مثالِ برق چمکتی ہوں بے قراری میں

میں روشنی کی لپک برقرار رکھتی ہوں

جلی ہوئی سہی دشتِ فراق میں لیکن

 کسی کی یاد سے دل پر بہار رکھتی ہوں

فرزانہ نیناں کی نظموں میں بھی غزلوں کا مخصوص آہنگ، مصرعوں اور لائنوں کی در و دست شامل ہے اور ان کی فضا بھی نیناں کی غزلوں کی فضا کے قریب تر ہے، مجھے امید ہے نیناؔ ں اپنی نظموں اور غزلوں کے اس ا سلوب اور لب و لہجے کو مزید نکھارنے میں ہمیشہ کامیاب رہیں گی اور جس عہد میں وہ زندہ ہیں اور جس تہذیب کے درمیان رہ رہی اور بس رہی ہیں وہاں کی زندگی کے تازہ تر مشاہدات اور تجربات کے بارے میں آئندہ بھی لکھتی رہیں گی۔

پروفیسر شاہدہ حسن
کراچیlittleblueroselittleblueroselittlebluerose

 

Comments»

No comments yet — be the first.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: