jump to navigation

موہٹہ پیلس :کلفٹن میں واقع کراچی کا تاج محل January 17, 2020

Posted by Farzana Naina in Poetry.
Tags: ,
add a comment

تاج محل کی کہانی کس نے نہیں سُنی!۔

سب جانتے ہیں کہ قریب پونے چار سو سال پہلے ایک شہنشاہ نے اپنی ملکہ سے محبت کی یادگار تاج محل بنوائی۔ شاید شاہ جہاں کے نزدیک تو یہ عمارت صرف ممتاز محل کا مقبرہ ہی ہوگی لیکن آج یہ دنیا بھر میں پیار کی سب سے بڑی علامت کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔

جب ایک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر غریبوں کی محبت کا مذاق اُڑایا تو دوسرے پیسے والے کہاں پیچھے رہتے۔ ساحر لدھیانوی کے شکوے کی پروا کیے بغیر کراچی کے ماڑواری تاجر رائے بہادر شیورتن موہٹہ نے بھی اپنی بیوی کے لیے کراچی میں ایک شاندار محل کھڑا کر دیا۔

ہاں یہ ضرور تھا کہ ممتاز محل کے برعکس شیورتن کی اہلیہ زندہ تھیں لیکن ایک مہلک بیماری میں مبتلا ہو گئی تھیں۔ ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ اگر اُنھیں ساحلِ سمندر کے قریب رکھا جائے تو سمندری ہوا سے اُن کی صحت بہتر ہو سکتی ہے۔ بس پھر کیا تھا، سیٹھ شیورتن نے ٹھان لی کہ بحیرہ عرب کے کنارے ایک ایسا خوبصورت محل بنائیں گے جس کی نظیر پورے کراچی میں نہیں ملے گی۔

رائے بہادر شیورتن موہٹہ کے کراچی میں کئی گھر تھے لیکن 1933 میں تعمیر ہونے والا موہٹہ پیلس ہمیشہ اُن کا پسندیدہ رہا

شیورتن موہٹہ کون تھے؟

رائے بہادر شیورتن موہٹہ کا شمار کراچی کے سب سے مالدار افراد میں ہوتا تھا اور وہ شہر کی ایک معروف سماجی شخصیت بھی تھے۔ اُن کا خاندان کلکتہ سے آکر کراچی میں آباد ہوا اور انھوں نے صنعتی شعبے میں نام کمایا۔

شیورتن کا جہاز رانی اور جہاز سازی کا کاروبار تھا۔ اِس کے علاوہ شوگر اور سٹیل ملیں بھی تھیں۔ اُن کے کراچی میں کئی گھر تھے لیکن 1933 میں تعمیر ہونے والا موہٹہ پیلس ہمیشہ اُن کا پسندیدہ رہا۔

سیٹھ شیورتن موہٹہ نے کلفٹن کے ساحل پر بنگلہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا تو اُن کے ذہن میں راجھستان کے نوابوں کے محل تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اُن کی نظرِ انتخاب آرکیٹیکٹ آغا احمد حسین پر پڑی جو اُس وقت کراچی میونسپلٹی میں خدمات انجام دے رہے تھے، لیکن اُن کا زیادہ وقت راجھستان میں گزرا تھا۔

آغا احمد حسین کو برِصغیر کے اولین مسلمان ماہرینِ تعمیرات میں شمار کیا جاتا ہے جو موہٹہ پیلس سے قبل کراچی کی دو اور مشہور عمارتوں ہندو جیم خانہ اور کراچی چیمبر آف کامرس کے نقشے تیار کر چکے تھے۔ اُن کا خاندان آج بھی کراچی میں رہتا ہے اور اپنے خاندانی ورثے پر ناز کرتا ہے۔

نوابی عمارت

موہٹہ پیلس کو پہلی بار دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ آپ واقعی راجھستان کے کسی محل میں کھڑے ہیں۔ ابھی کوئی دروازہ کھلے گا اور کوئی راجہ مہاراجہ اپنے مصاحبوں کو ساتھ لیے محل کے باغ میں ٹہلنے لگے گا۔

پوری عمارت جے پور فنِ تعمیر کے زیراثر ڈیزائن کی گئی ہے جس میں مغل طرزِ تعمیر کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ محل کی تعمیر میں استعمال ہونے والا گلابی پتھر جودھ پور جبکہ پیلا پتھر گزری کے علاقے سے لایا گیا تھا۔

عمارت کی خاص پہچان گنبد، محرابیں اور مینار ہیں جو موہٹہ پیلس کو اُس دور کے کراچی کی دیگر عمارتوں سے ممتاز کرتے ہیں۔ دو منزلہ محل میں سولہ کشادہ کمرے ہیں۔

بیرونی دیواروں پر گُل بوٹوں اور پرندوں کی اشکال پتھر پر تراشی گئی ہیں۔ آغا احمد حسین مقامی تاریخ سے بخوبی واقف تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے موہٹہ پیلس میں مکلی کے مزارات پر کندہ نقش استعمال کیے۔ برماٹیک لکڑی کے دروازے کھڑکیوں پر سٹین گلاس کا کام کیا گیا ہے۔

محل کے اندر پوجا کے لیے شیو کا مندر بھی بنایا گیا تھا جس کا اب کوئی نشان موجود نہیں۔ عمارت کے اطراف خوب صورت اور وسیع باغیچہ تھا جس میں لگے فوارے آج بھی کام کرتے ہیں۔

صحت یابی کا جشن

اِتنی چاہت سے بنائے گئے گھر میں تریاق کی تاثیر کیوں نہ ہوتی۔ شیورتن موہٹہ کی اہلیہ پر کراچی کی سمندری ہوا نے اثر کیا یا یہ رائے بہادر کی بے بہا محبت تھی، وجہ جو بھی ہو، وہ صحت یاب ہو گئیں۔

اِس موقع پر جو جشنِ صحت یابی منایا گیا وہ سیٹھ شیورتن کی سماجی شخصیت اور اُن کے محل دونوں کے شایاں نشان تھا۔ جشن کی تقریبات میں شہر کی سرکردہ شخصیات کو دعوت دی گئی۔ کراچی کے پہلے منتخب میئر جمشید نسروانجی مہتہ بھی مہمانوں میں شامل تھے۔

جس ٹھنڈی سمندری ہوا نے شیورتن موہٹہ کی بیوی کو صحت بخشی وہ اب بھی چلتی ہے لیکن آلودہ فضا کی وجہ سے اپنی تاثیر کھو بیٹھی ہے۔ موہٹہ پیلس کی چھت سے آج بھی سمندر کا نظارہ کیا جا سکتا ہے لیکن یہ منظر اُتنا دلفریب نہیں رہا جتنا قریب ایک صدی پہلے تھا۔ اب اردگرد کنکریٹ کا جنگل اُگ آیا ہے جو دیکھنے میں بدنما لگتا ہے۔

چار دن کی چاندنی

یہاں تک تو شیورتن اور اُن کی پتنی کسی دیومالائی کہانی کے کردار لگتے ہیں جو ظالم جادوگر کے چُنگل سے نکل کر اپنی بقیہ زندگی ہنسی خوشی گزارنے لگتے ہیں۔ لیکن اِس سٹوری کا ایک ٹوئسٹ ابھی باقی ہے۔ میاں بیوی کی یہ خوشی چند ہی برس چلی اور پھر انیس سو سینتالیس کا سال آ گیا۔

پاکستان کا قیام ہوا تو دارالحکومت کا قرعہِ فال کراچی کے نام نکلا۔ سرکاری دفاتر کے لیے عمارتوں کی کمی محسوس ہوئی تو فیصلہ ہوا کہ جن کے پاس ایک سے زائد گھر ہیں، اُن کا ایک مکان حکومت اپنی تحویل میں لے لے گی۔ گھروں کی تلاش شروع ہوئی تو سرکاری افسر دوڑائے گئے۔ کسی ظالم کی نظر شیورتن کے موہٹہ پیلس پر پڑ گئی اور یوں یہ محل حکومت کے ہاتھ آ گیا۔

سیٹھ شیورتن تلملائے تو بہت لیکن کچھ نہ کر سکے اور دلبرداشتہ ہو کر ملک چھوڑ گئے۔ سالہا سال تک موہٹہ پیلس وزارتِ خارجہ کے ٹائپ رائٹروں کے شور سے گونجتا رہا۔

‘قصرِ فاطمہ’

ڈیڑھ دہائی یوں گزری اور پھر دارالحکومت کراچی سے پہلے راولپنڈی اور پھر نئے تعمیر ہونے والے شہر اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔ جاتے جاتے سرکاری کارندے محل کی چابیاں بانیِ پاکستان محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح کو تھما گئے جنھیں یہ عمارت جناح کی بمبئی کی رہائش گاہ کے بدلے دی گئی تھی۔ فاطمہ جناح کی نسبت سے یہ عمارت ‘قصرِ فاطمہ’ کہلائی جو آج بھی حکومتی کاغذوں میں اِس عمارت کا سرکاری نام ہے۔

شیورتن کی طرح فاطمہ جناح نے بھی موہٹہ پیلس کو سینے سے لگا کر رکھا۔ وہ اِتنے بڑے گھر میں تنہا رہا کرتی تھیں لیکن یہ اُنھیں پسند تھا۔ وہ اپنی اکثر شامیں محل کی چھت پر گزارتیں جہاں سمندر کا دلفریب نظارہ انھیں خوب بھاتا تھا۔ قریب ہی صوفی بزرگ عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر ہر جمعرات ہونے والی محفلِ سماع وہ یہاں بیٹھ کر سُنا کرتی تھیں۔

موہٹہ پیلس میں ہی وہ ہر سال گیارہ ستمبر کو اپنے پیارے بھائی محمد علی کی برسی منایا کرتی تھیں۔ محل سے متصل باغیچے میں شامیانے لگائے جاتے اور شہر کی ایک مخصوص دکان سے بریانی کی دیگیں منگوا کر لوگوں کو کھانا کھلایا جاتا۔

اِسی عمارت سے فاطمہ جناح نے اُس وقت کے فوجی آمر جنرل ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخاب کی مہم میں حصہ لیا اور شکست کھائی۔ فاطمہ جناح کی وفات کے بعد اُن کی بہن شیریں جناح نے انیس سو اسّی میں اپنے انتقال تک یہاں قیام کیا جس کے بعد ورثا کی باہمی چپقلش کے باعث عمارت کو مقفل کر دیا گیا۔

ثقافتی مرکز

کئی سال تک موہٹہ پیلس کے درودیوار پر گَرد جمتی رہی۔ لیکن پھر صوبہِ سندھ کی حکومت کو خیال آ ہی گیا اور نوے کی دہائی میں ستر لاکھ روپے کی رقم سے عمارت کو خرید کر اُس کی تزئین و آرائش کی گئی۔

موہٹہ پیلس کو ثقافتی ورثہ قرار دے کر اُسے عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا جہاں سارا سال فنونِ لطیفہ سے متعلق نمائشوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اِس طرح یہ تاریخی عمارت اب کراچی کی ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بن چکی ہے۔

موہٹہ پیلس کی دیکھ بھال ایک خودمختار بورڈ آف ٹرسٹینر کرتا ہے جس میں شہر کی سرکردہ سماجی شخصیات شامل ہیں۔

کہیں کی اینٹ، کہیں کا روڑا

موہٹہ پیلس آنے والوں کے لیے جو چیز خوشگوار حیرت کا باعث بنتی ہے وہ یہاں رکھے گئے دھات اور پتھر کے مجسے ہیں جو کسی زمانے میں شہر کے معروف عوامی مقامات پر نصب تھے۔ لیکن پھر قوم کے جذبہِ ایمانی نے جوش مارا اور اِن بُتوں کو سڑکوں چوراہوں سے اُٹھا کر گوداموں اور سرکاری دفتروں میں پھینک دیا گیا۔

موہٹہ پیلس والوں نے جگہ جگہ جا کر یہ مجسمے اکھٹے کیے اور مرّمت کر کے اپنے احاطے میں نمائش پر رکھ دیے۔

اِن میں سب سے مشہور کراچی کے فریئر میں نصب ملکہ وکٹوریا کا مجسمہ ہے جو انیس سو ساٹھ کے عشرے کے دوران شہر میں ہونے والے فسادات کے بعد وہاں سے ہٹا دیا گیا تھا۔

رائے بہادر شیورتن موہٹہ کا اپنی بیوی سے محبت کا مظہر موہٹہ پیلس آج بھی کراچی کی حاتم علوی روڈ پر جوں کا توں موجود ہے۔ لیکن اب نہ شیورتن ہیں اور نہ ہی اُن کی محبوب بیوی۔

آج اِس محل کے دروازے عام عوام کے لیے کُھلے ہیں جو اُن درودیوار کو دل بھر کے دیکھ سکتے ہیں جہاں کبھی شیورتن اور اُن کی بیوی رہا کرتے تھے۔ عمارت کے گرد بنے باغ میں ننگے پاؤں ٹہل سکتے ہیں جہاں کبھی رات گئے تک چلنے والی محفلیں منعقد ہوتی تھیں اور اُن فواروں سے چھلکتے پانی سے ہاتھ بھگو سکتے ہیں جہاں کبھی فاطمہ جناح شام کی چائے پیا کرتی تھیں۔

اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا۔

بی بی سی : بتشکر کریم الاسلام

صوبہ سندھ کا صحرائے تھر January 16, 2020

Posted by Farzana Naina in Cultures, Pakistan, Pakistani, Pakistani Folk, Sindh, Sindhi, Thar Desert.
add a comment

نہ چوری کا ڈر اور نہ ہی ڈکیتی کا خوف، نہ ماحول کی آلودگی کی پریشانی اور نہ ہی اجنبیت کا احساس۔ یہ ہے پاکستان کے صوبہ سندھ کا صحرائے تھر، جہاں ثقافت، روایت اور اقدار آج بھی اپنی اصلی شکل میں موجود ہیں۔

تھر کا شمار دنیا کے بڑے صحراؤں میں ہوتا ہے، اس کو دوست صحرا بھی کہا جاتا ہے کیونکہ دیگر صحرائی علاقوں کے مقابلے میں یہاں رسائی آسان ہے

peacock 60

کراچی سے مٹھی تھر کا ضلعی ہیڈ کوارٹر مٹھی ہے، یہ شہر ایک خاتون کے نام پر آباد ہے۔ بعض روایات کے مطابق یہاں مائی مٹھاں نامی خاتون کا کنواں تھا جس میں سے مسافر پانی پیا کرتے تھے۔

سندھ کا صحرائے تھر

مٹھی پہنچنے کے لیے عمرکوٹ، میرپورخاص اور بدین سے راستے آتے ہیں۔ آج کل یہاں جاری کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبوں کی وجہ سے کراچی سے مٹھی تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔

آپ قومی شاہراہ پر سفر کرتے ہوئے مکلی سے سجاول، اور وہاں سے بدین اور پھر وہاں سے تھر کی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں۔ تھر کو ملانے والی سڑک اچھی ہے اور تمام چھوٹے بڑے شہروں کو بائی پاس دیے گئے ہیں اس لیے کراچی سے مٹھی پانچ سے چھ گھنٹے میں پہنچا جا سکتا ہے۔

ہندو مسلم بھائی چارہ

تھر میں ہندو مسلم صدیوں سے ساتھ رہتے آئے ہیں کبھی یہاں مسلمانوں تو کبھی ہندوؤں کی حکومتیں رہی ہیں۔ عید ہو یا ہولی کا تہوار، دسہرا ہو یا محرم دونوں مذاہب سے تعلق رکھنے والے اس میں شریک ہوتے ہیں۔

شہر میں موجود درجن سے زائد مسلم درگاہوں کے منتظمین ہندو برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس شہر میں گائے کی قربانی یا گوشت فروحت نہیں کیا جاتا۔

گڈی بھٹ

مٹھی شہر ٹیلوں کے درمیان میں واقع ہے، جس کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سب سے بڑے ٹیلے کو گڈی بھٹ کہا جاتا ہے جہاں پر ایک چبوترہ بھی قائم ہے۔

یہاں پر تالپور حکمرانوں کے دور کی ایک چیک پوسٹ بھی واقع تھی جو وقت کے ساتھ مسمار ہو گئی۔ کسی زمانے میں گجرات اور راجستھان سے بیرونی حملہ آوروں اور ڈاکوؤں پر نظر رکھنے کے لیے یہ چیک پوسٹ بنائی گئی تھی۔

جیسے ہی اس ٹیلے کے عقب میں سورج غروب ہوتا ہے، شہر کی بتیاں جگمگاتی ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے پوجا یا مہندی کی تھالی میں موم بتیاں سجا دی ہوں۔ جبکہ آسمان پر تارے اس منظر کو اور بھی دلکش بنا دیتے ہیں۔

ثقافت اور سنگیت کے رنگ

تھر کی دست کاری کراچی، اسلام آباد سمیت ملک کے کئی بڑے شہروں میں دستیاب ہے، جس میں روایتی کپڑے، گرم شالیں، لیٹر بکس، وال پیس وغیرہ شامل ہیں۔

بعض لباس آج بھی بلاک پرنٹنگ سے بنائے جاتے ہیں۔ان میں سے کچھ چادریں آج بھی کھڈی پر بنائی جاتی ہیں جو مشین کی بنی ہوئی چادروں سے زیادہ پائیدار ہوتی ہیں۔

مارواڑی گیت ’کھڑی نیم کے نیچے ہوں تو ہیکلی‘ سے مقبولیت حاصل کرنے والی مائی بھاگی کا تعلق بھی صحرائے تھر سے تھا۔ ان کے علاوہ عارب فقیر، صادق فقیر اور موجودہ کریم فقیر گائیکی کی روایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہاں کے منگنہار قبیلے کے یہ گلوکار مقامی زبان ڈھاٹکی، سندھی اور اردو میں گا سکتے ہیں۔ گیت سنگیت کا شوق رکھنے والے سیاح انھیں نجی محفلوں اور گیسٹ ہاؤسز پر بلا کر سنتے ہیں۔

سنت نیٹو رام آشرام

مٹھی سے تقریباً 40 کلومیٹر دور اسلام کوٹ واقع ہے، تھر کوئلے سے بجلی کی پیداوار کرنے کی وجہ سے اہم شہر ہے جس کے قریب ایئرپورٹ بھی واقع ہے۔ کسی زمانے میں اس شہر کو نیموں کا شہر کہا جاتا تھا یہاں بڑی تعداد میں نیم کے درخت ہوا کرتے تھے۔

شہر کے اندر ایک بزرگ سنت نیٹو رام کا آشرم ہے، روایت ہے کہ تھر میں جب قحط آتا تھا اور یہاں سے مسافر گزرتے تھے تو یہ بزرگ تمام لوگوں سے چندہ جمع کر کے چاول بناتے تھے اور جنھیں وہ خود آواز لگا کر مسافروں کو کھلاتے تھے۔

سیوا کے اس پنتھ کو ابھی تک برقرار رکھا گیا ہے، ان کے آشرم میں انسانوں کے علاوہ جانوروں اور پرندوں کے دانے دنکے اور پانی کا بھی انتظام ہے اور یہاں آنے والے مسافروں سے مذہب نہیں پوچھا جاتا۔

چونئرے اور لانڈھیاں

تھر میں لوگوں کی اکثریت اگلو نما کچے کمروں میں رہتے ہیں، ان کی چھتیں گھاس سے بنی ہوئی ہوتی ہیں

تھر میں لوگوں کی اکثریت اگلو نما کچے کمروں میں رہتے ہیں، ان کی چھتیں گھاس سے بنی ہوئی ہوتی ہیں جو گرمی میں ٹھنڈے رہتے ہیں۔ ہر سال یا دو سال کے بعد ان پر تازہ گھاس لگائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سیمنٹ اور مٹی سے بنے ہوئے کمرے بھی ہوتے ہیں جن کو لانڈھی کہا جاتا ہے۔

یہاں پانی عام طور پر کنویں سے حاصل ہوتا ہے جس کے لیے گدھے، اونٹ یا بیل کا استعمال ہوتا ہے۔ کنوؤں سے پانی نکالنے کی ذمہ داری مردوں کی ہے جبکہ گھروں تک پانی خواتین پہنچاتی ہیں۔

بدلتے وقت کے ساتھ کئی دیہاتوں میں اب ٹیوب ویل آ گئے ہیں اس لیے سروں پر پانی کے دو سے تین مٹکے رکھ کر چلنے والی خواتین بہت کم نظر آتی ہیں۔

تھر کی مہمان نوازی

تھر میں قحط ہو یا بارشوں کے بعد کی خوشحالی یہاں کے لوگ مہمان نواز ہیں۔ اگر آپ کہیں گاؤں کے قریب رک گئے ہیں تو مسافروں کی مدد کرنا اور ان کی مہمان نوازی مقامی لوگوں کی روایت میں شامل ہیں۔

مرد قمیض شلوار یا لنگی جبکہ مسلم خواتین قمیض شلوار اور ہندو خواتین گھاگھرا یا بعض ساڑھی کا استعمال کرتی ہیں۔ خواتین کے کپڑے زیادہ تر شوخ رنگوں کے ہوتے ہیں، جن میں سے بعض پر کڑھائی بھی ہوتی ہے۔

تھر کا موسم

پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل کے لیے صحرائے تھر پر اصغر ندیم سید کے لکھے ڈرامہ ’آخری گیت‘ کے ایک ڈائیلاگ میں عابد علی روحی بانو کو مخطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں ’تھر کی ہوا بابا، آدمی کو عاشق بنا دیتی ہے۔‘

دراصل جیسے ہی غروب آفتاب ہوتا ہے تو رن آف کچھ سے آنے والی ہوائیں موسم کو خوشگوار کر دیتی ہے اور آسمان پر ٹمٹماتے تارے منظر کی دلکشی میں مزید اضافے کی وجہ بنتے ہیں۔

مور اور ہرن

تھر کے اکثر گاؤں میں مور پرندے گھومتے پھرتے نظر آئیں گے جو صبح کو گھروں میں دانہ چگنے آتے ہیں اور پھر جنگلوں میں چلے جاتے ہیں اور شام کو پھر لوٹتے ہیں۔ جہاں ہندو آبادی ہے وہاں ان موروں کی تعداد زیادہ ہے کیونکہ اسے شری کرشنا اور سرسوتی دیوی سے منسوب کیا جاتا ہے۔

بعض دیہاتوں کی پنچائتوں نے مور پکڑنے یا فروخت کرنے پر جرمانہ بھی عائد کر رکھا ہے۔

تھر میں ہرن اور نیل گائے بھی پائی جاتی ہے جو انڈیا کے سرحدی علاقوں، رن آف کچھ کے قریب دیکھی جاسکتی ہے۔ ان کے شکار پر پابندی ہے اور سرحدی فورس رینجرز اس کی نگرانی کرتی ہے۔

ننگرپارکر اور جین مندر

مٹھی سے تقریباً 130 کلومیٹر دور قدیمی شہر ننگر پارکر واقع ہے، کارونجھر پہاڑی نے اس شہر کو جیسے گود میں لے رکھا ہے۔ سرخ گرینائیٹ پتھر کے اس پہاڑ کا رنگ سورج کی روشنی کے ساتھ تبدیل ہوتے ہوئے نظر آتا ہے۔

یہاں ہندو مذہب کے کئی آستھان یعنی مقدس مقامات بھی موجود ہیں جن میں ایک کو سادہڑو گام کہا جاتا ہے جہاں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد فوت ہونے والوں کی باقیات جلاتے ہیں۔

بعض روایات کے مطابق مہا بھارت میں جب کوروں نے پانڈوں کو 13 سال کے لیے جلاوطن کیا تھا تو پانچ پانڈے اس پہاڑ پر آ کر بس گئے تھے ان کے نام سے پانی کے تالاب موجود ہیں۔

ننگرپارکر پہاڑ سے شہد اور جڑی بوٹیوں سمیت لکڑیاں حاصل کی جاتیں ہیں ایک کہاوت ہے کہ کارونجھر روزانہ سوا سیر سونا پیدا کرتا ہے۔

ننگرپارکر شہر اور اس کے آس پاس میں جین دھرم کے مندر بھی واقع ہیں جو بارہویں صدی میں قائم کیے گئے تھے۔ شہر میں موجود مندر کی دوبارہ سے مرمت کی جا رہی ہے جبکہ شہر سے باہر دو مندر زبوں حالی کا شکار ہیں۔

ان کے ساتھ ایک قدیم مسجد بھی واقع ہے، مختلف روایات کے مطابق یہ مسجد گجرات میں مسلم حکمران نے تعمیر کی، بعض مورخین اس کو دہلی کے حکمرانوں کے ساتھ جوڑتے ہیں۔

نامور آرکیالوجسٹ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کا کہنا ہے کہ یہ خطہ جین دھرم والوں کا گڑھ رہا ہے۔

وہ بتاتے ہیں ’تیرھویں صدی تک جین برادری نے تجارت میں عروج حاصل کیا اور جب یہ برادری خوشحال ہوئی تو انھوں نے یہ مندر تعمیر کروائے۔ موجودہ مندر بارہویں اور تیرہویں صدی کے بنے ہوئے ہیں۔‘

peacock 3

بتشکر: ریاض سہیل

بی بی سی اردو