jump to navigation

Ankahi – ان کہی April 12, 2017

Posted by Farzana Naina in British Pakistani Poetess, Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Naina, Nazm, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
2 comments

‘‘ اَن کہی ’’

اَن کہی کے حسن میں کچھ دیر تو ڈوبے رہو

 زندگی خود  میں  اترنے  کی  جو  دے  مہلت ذرا

خواب نگری کے ہر اک کونے کے آئینے تکو

دھوپ چھاؤں آنکھ سے آنکھوں کی ڈبیوں میں رکھو

رات کے پُل پر ہوا کے راگ میں گم صم رہو

چاندنی کی تتلیوں کو رقص میں شامل کرو

روح میں بہتے ہوئے احساس کی لہریں گنو

عمر کے بکھرے ہوئے سیپوں سے کچھ موتی چُنو

چاند سے لپٹی ہوئی بدلی کی چھاؤں میں چلو

بربطوں کی تال پر اک ماورا منظر بُنو

پتھروں کی نیلی محرابوں کے جنگلے کاٹ دو

کہر میں کھوئے ہوئے رستوں پہ  سرگرداں رہو

سبز پریوں کا یہ میلہ روز تو لگتا نہیں

عشق پنچھی اپنے پر دوبارہ پھیلاتا نہیں

پھر کہاں وارفتگی سے ہوگا کوئی منتشر

آرزوؤں کے نگر میں یوں تمہارا منتظر

کہہ دیا سب کچھ تو یہ سارا فسوں مٹ جائے گا

ہر ستارہ کہکشاں کی بھیڑ میں کھو جائے گا

ان کہی کے حسن میں کچھ دیر تو ڈوبے رہو

 !!!ڈوبے رہو کچھ دیر  اور۔۔۔۔ ۔ 

فرزانہ نیناں

Ankahi ke husn mein kuch deir tau doobe raho

Zindagi khud mein uterne ki jo de mohlut zara

Khwab’nagri ke har ik kone ka aaeene tako

Dhoop chaa’on aankh se aankhon ki dibiyon mein rakho

Raat ke pull par hawa ke raag mein gum sum raho

Chandni ki titliyon ko raqs mein shamil karo

Rooh mein behte huey ehsaas ki lehrein gin’no

Umr ke behte huey seepon se kuch moti chuno

Chand se lipti hui badli cha’aon mein chalo

Barbat’ton ki taal par ik maa’wra manazar buno

Pat’tharon ki neeli mehraabon ke jungle kaat do

Kohur mein khoye huey raston pe sardar’daan raho

Sabz pariyon ka ye mela roz tau lagta nahein

Ishq panchi apne par dobara pheilata nahin

Phir kahan waa’raftgi se hoga koi muntashir

Aarzo’on ke nagar mein raah par yun mantazir

Keh diya sab kuch…..tau ye sara fusoon mitt jaey ga

Har sitara keh’kashan ki bhee’rr mein kho jaey ga

An’kahi ke husn mein kuch deir tau doobe raho

Doobe raho, kuch deir aur……………. !!!

~ Farzana Naina.

Golden bar 1

Khush Manzari – خوش منظری April 9, 2017

Posted by Farzana Naina in Farzana, Farzana Naina, Feelings, Flowers, Ghazal, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Naina, Nazm, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Thoughts, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
2 comments

3 Pink Flower bar

خوش منظری

.چیری کے پیڑوں پہ پھولوں سے لدی یہ ڈالیاں !
میری آنکھوں میں کسی جنگل کی جیسے ہرنیاں
کس محبّت سے ترے نغمے سناتی ہیں مجھے
میٹھی آوازوں کی پائل سے جگاتی ہیں مجھے
تیز رفتاری سے کتنی دور تک جاتا ہے دل
کان میں چپکے سے کہتا ہے کوئی : آ مجھ سے مِل
اب بھی اونٹوں کے گلے میں بج رہی ہیں گھنٹیاں
اب بھی صحرا میں سنہری شام کی ہیں سرخیاں
کیا کہوں میں خواب جیسے اِس فسانے کے لئے
پھول تو ہوتے ہیں دریا میں بہانے کے لئے
دائروں میں جھوم کر آتا پہاڑی سے دھواؑں
اُڑتے اُڑتے مجھ پہ رکھ جاتا ہے اک کوہِ گراں

( فــرزانـہ نیــناںؔ )

Ahmed Mirza Jamil changed the way of Urdu March 20, 2014

Posted by Farzana Naina in Literature, Pakistan, Pakistani, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
add a comment

Ahmed Mirza Jamil changed the way all Urdu newspapers and books would be published anywhere in the world; and he did it back in 1981 with his Noori Nastaliq script that gave the Midas touch to desktop publishing.

Ahmed Mirza Jamil-640x480

The present-day Urdu publishing owes its elegant contours to the calligraphic skills of this great wizard of calligraphy.

Before being used in the composing software, InPage, the Noori Nastaliq was created as a digital typeface (font) in 1981 when master-calligrapher Ahmed Mirza Jamil and Monotype Imaging (then called Monotype Corp) collaborated on a joint venture.

Earlier, Urdu newspapers, books and magazines needed manual calligraphers, who were replaced by computer machines in Pakistan, India, UK and other countries.

The government of Pakistan recognised Ahmad Mirza Jamil’s singular achievement in 1982 by designating Noori Nastaliq as an ‘Invention of National Importance’ and awarded him with the medal of distinction, Tamgha-e-Imtiaz.

In recognition of his achievement, the University of Karachi also awarded him the degree of Doctor of Letters, Honoris Causa.

Narrating the history of his achievement in his book, ‘Revolution in Urdu Composing’, he wrote: “In future, Urdu authors will be able to compose their books like the authors of the languages of Roman script. Now, the day a manuscript is ready is the day the publication is ready for printing. There is no waiting for calligraphers to give their time grudgingly, no apprehension of mistakes creeping in, nor any complaints about the calligraphers or operators not being familiar with the language.

“Soon our future generations will be asking incredulously whether it was really true that there was a time when newspapers were painstakingly manually calligraphed all through the night to be printed on high speed machines in the morning. Were we really so primitive that our national language had to limp along holding on to the crutches of the calligraphers that made the completion of books an exercise ranging from months to years depending upon their volume.”

Noted Urdu litterateur Ahmed Nadeem Qasmi paid tribute to Ahmed Mirza Jamil during his lifetime.

He said, “The revolution brought about by Noori Nastaliq in the field of Urdu publishing sends out many positive signals. It has at last settled the long-standing dispute about Urdu typewriter’s keys that had raged from the time Pakistan was born. The future generations will surely be indebted to him for this revolution.

Dr Ahmed Mirza Jamil passed away unsung on February 17, 2014. May his soul be blessed.

Published in The Express Tribune, March 15th, 2014.

Mehdi Hassan June 1, 2012

Posted by Farzana Naina in Film and Music, Ghazal, Ghazal, Music, Old Pakistani Music, Poetry, Radio, Shairy, Urdu Poetry, Video.
Tags: , , , , , ,
1 comment so far

بشکریہ بی بی سی اردو

شہنشاہِ غزل استاد مہدی حسن 1927 میں راجستھان کے ایک گاؤں لُونا میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد اور چچا دُھرپد گائیکی کے ماہر تھے اور مہدی حسن کی ابتدائی تربیت گھر ہی میں ہوئی۔ خود اُن کے بقول وہ کلاونت گھرانے کی سولھویں پیڑھی سے تعلق رکھتے تھے۔

1947 میں بیس سالہ مہدی حسن اہلِ خانہ کے ساتھ نقلِ وطن کر کے پاکستان آ گئے اور محنت مزدوری کے طور پر سائیکلیں مرمت کرنے کا کام شروع کیا۔

کسبِ کمالِ کُن کہ عزیزِ جہاں شوی

اسی روایت پر عمل کرتے ہوئے انھوں نے مکینک کے کام میں مہارت حاصل کی اور پہلے موٹر مکینک اور اسکے بعد ٹریکٹر کے مکینک بن گئے، لیکن رہینِ ستم ہائے روزگار رہنے کے باوجود وہ موسیقی کے خیال سے غافل نہیں رہے اور ہر حال میں اپنا ریاض جاری رکھا۔

سن پچاس کی دہائی اُن کے لیے مبارک ثابت ہوئی جب اُن کا تعارف ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر سلیم گیلانی سے ہوا۔ جوہر شناس نے موتی کی صحیح پہچان کی تھی چنانچہ دھرپد، خیال، ٹھُمری اور دادرے کی تنگنائے سے نکل کر یہ جوہرِ قابل غزل کی پُرفضا وادی میں آنکلا جہاں اسکی صلاحیتوں کو جِلا ملی اور سن ساٹھ کی دہائی میں اسکی گائی ہوئی فیص احمد فیض کی غزل ’گلوں میں رنگ بھرے‘ ہر گلی کوچے میں گونجنے لگی۔

فلمی موسیقار جو ان کے فن کو ریڈیو کی گائیکی کہہ کر دامن چھڑاتے رہے تھے، اب جمگھٹا بنا کر اسکے گرد جمع ہوگئے چنانچہ سن ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں مہدی حسن پاکستان کے معروف ترین فلمی گائیک بن گئے اور سنتوش کمار، درپن، وحید مراد اور محمد علی سے لیکر ندیم اور شاہد تک ہر ہیرو نے مہدی حسن کے گائے ہوئے گیتوں پر لب ہلائے۔

سنجیدہ حلقوں میں اُن کی حیثیت ایک غزل گائیک کے طور پر مستحکم رہی۔ اسی حیثیت میں انھوں نے برِصغیر کے ملکوں کا کئی بار دورہ کیا۔ بھارت میں اُن کے احترام کا جو عالم تھا وہ لتا منگیشکر کے اس خراجِ تحسین سے ظاہر ہوا کہ مہدی حسن کے گلے میں تو بھگوان بولتے ہیں۔ نیپال کے شاہ بریندرا اُن کے احترام میں اُٹھ کے کھڑے ہوجاتے تھے اور فخر سے بتاتے تھے کہ انھیں مہدی حسن کی کئی غزلیں زبانی یاد ہیں۔

پاکستان کے صدر ایوب، صدر ضیاءالحق اور صدر پرویز مشرف بھی اُن کے مداح تھے اور انھیں اعلیٰ ترین سِول اعزازات سے نواز چُکے تھے، لیکن مہدی حسن کے لیے سب سے بڑا اعزاز وہ بےپناہ مقبولیت اور محبت تھی جو انھیں عوام کے دربار سے ملی۔ پاک و ہند سے باہر بھی جہاں جہاں اُردو بولنے اور سمجھنے والے لوگ آباد ہیں، مہدی حسن کی پذیرائی ہوتی رہی اور سن اسّی کی دہائی میں انھوں نے اپنا بیشتر وقت یورپ اور امریکہ کے دوروں میں گزارا۔

مہدی حسن کثیرالاولاد آدمی تھے۔ اُن کے چودہ بچّے ہیں، نو بیٹے اور پانچ بیٹیاں۔ اپنے بیٹوں آصف اور کامران کے علاوہ انھوں نے پوتوں کو بھی موسیقی کی تعلیم دی اور آخری عمر میں انھوں نے پردادا بننے کا اعزاز بھی حاصل کرلیا اور اپنے پڑپوتوں کے سر پہ بھی دستِ شفقت رکھا۔

اُن کے شاگردوں میں سب سے پہلے پرویز مہدی نے نام پیدا کیا اور تمام عمر اپنے اُستاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے رہے۔ بعد میں غلام عباس، سلامت علی، آصف جاوید اور طلعت عزیز جیسے ہونہار شاگردوں نے اُن کی طرز گائیکی کو زندہ رکھا۔

ملکہ ترنم نور جہاں کا کہنا تھا کہ ایسی آواز صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتی ہے، حالانکہ یہ بات خود مادام کی شخصیت پر بھی اتنی ہی صادق آتی ہے۔ آج مداّح اور ممدوح دونوں ہی اس دنیا میں نہیں لیکن موت نے صرف اُن کا جسدِ خاکی ہم سے چھینا ہے۔ اُن کی لازوال آواز ہمیشہ زندہ رہے گی۔

Jagjit Singh – جگجیت سنگھ October 10, 2011

Posted by Farzana Naina in Art, Film and Music, Ghazal, Ghazal, Kavita, Mushaira, Music, Nazm, Poetry, Radio, Shairy, Sher, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags:
2 comments

پير 10 اکتوبر2011

بھارت میں غزلوں کے معروف گلوکار اور غزل گائیک جگجیت سنگھ کا ممبئی کے لیلا وتی ہسپتال میں انتقال ہوگیا ہے۔ ان کی عمر ستّر برس تھی۔

گزشتہ ہفتہ برین ہیمبرج کے سبب انہیں ہسپتال میں داخل کیا گيا تھا۔ سوگواروں میں وہ اپنی اہلیہ چترا داس کو چھوڑ گئے ہیں۔

جس روز انہیں ہسپتال میں داخل کیا گیا اس روز وہ ممبئی میں پاکستان کے مشہور زمانہ گلوکار غلام علی کے ساتھ مشترکہ پروگرام پیش کرنے والے تھے۔

جگجیت سنگھ کے ایک ہی بیٹا تھا۔ جو جوانی میں ہی ایک روڈ حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

آزادی کے بعد بھارت میں غزل گائیکی کے فن کے حالات اچھے نہیں رہے تھے لیکن جگجیت نے اس فن کو دوبارہ زندہ کیا اور غزل کو درباروں یا ادب کی محفلوں سے نکال کر عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جگجیت سنگھ غزل گلوکاری کے لیے بھارت میں تو مشہور ہیں ہی لیکن ان کے مداح دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔

جگجیت سنگھ ریاست راجستھان کے شری گنگا نگر میں آٹھ فروری انیس سو اکتالیس میں پیدا ہوئے تھے۔ پیدائش کے وقت ان کا نام جگموہن رکھا گيا تھا لیکن ایک خاندانی ستارہ شناش کی صلاح پر ان کا نام جگجیت سنگھ کر دیا گیا۔

جگجیت سنگھ نے فلموں میں بھی نغمے گائے لیکن بھارت میں انہیں غزل گائیکی کا معمار مانا جاتا ہے جنہوں نے اس فن کو عوام میں مقبول کیا۔

نقاد ان کے فن کو معیاری یا اعلٰی پائے کا نہیں سمجھتے ہیں لیکن نکتہ چینی بھی اس بات کے قائل ہیں کہ انہوں نے غزلوں کو فلمی گیتوں کی طرح عوام تک پہنچایا۔

جگجیت سنگھ پہلے اپنی اہلیہ چترا کے ساتھ مل کر غزلیں گاتے تھے اور ان کے کئی البم کافی مقبول ہوئے۔ لیکن بیٹے کی موت کے بعد چترانے اس پیشہ کو یکسر چھوڑ دیا اور کبھی دوبارہ نہیں گایا۔

گجیت نے لتا منگیشکر کے ساتھ مل کر سجدہ کے نام سے ایک البم بنایا تھا جو بہت مقبول ہوا تھا۔ انہوں نے اوشا منگیشکر کے ساتھ بھی کافی کام کیا۔

انہوں نے بالی وڈ کے معروف نغمہ نگار اور شاعر گلزار کے سات بھی کافی کام کیا اور ان کے ٹی وی سیریل مرزا غالب میں انہوں نے کئی غزلیں پیش کیں جو بہت مقبول ہوئیں۔ غالب کی چند غزلوں کو جگجیت سنگھ نے عوام میں دوام بخشا۔ اس سیریل کی بیشتر غزلیں اب بھی لوگوں کی پسندیدہ ہیں۔

انہوں نے جاوید اختر کے ساتھ بھی کام کیا اور سوز کے نام سے ایک البم تیار کیا جو کافی سنا گیا۔

جگجیت سنگھ کو گھوڑوں سے بہت لگاؤ تھا اور گھوڑوں کی ریس کے شوقین تھے۔ ان کے پاس گھوڑے تھے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے انہوں نے بہت سے لوگوں کی مدد بھی لی تھی۔

بشکریہ بی بی سی اردو

ہفتہ 24 ستمبر 2011

بھارت کے مشہور غزل گو جگجیت سنگھ کی دماغ کی شریان پھٹنے کے بعد ممبئی کے ایک ہسپتال میں ان کا آپریشن کیا گیا ہے۔

ممبئی کے علاقے باندرہ میں واقع ليلاوتی ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ جمعہ کی صبح ہسپتال لائے جانے کے بعد ستّر سالہ جگجیت سنگھ کی سرجری کی گئی تاہم ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے ان کے ایک قربت دار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

انہیں جمعہ کی شام پاکستان کے مشہور غزل گو غلام علی کے ساتھ ایک پروگرام میں شامل ہونا تھا۔

اس سے پہلے جگجیت سنگھ کو سنہ انیس سو اٹھانوے میں دل کا دورہ پڑا تھا اور جسم میں خون کی گردش میں مسائل کی وجہ سے انہیں اکتوبر سنہ دو ہزار سات میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ شاید ان ہی وجوہات کی بناء پر انہیں برین ہیمرج ہوا ہوگا۔

جگجیت سنگھ کے خاندان کے ایک قریبی دوست نے ليلاوتي ہسپتال میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کے دماغ کے ایک حصہ میں خون جم گیا تھا جسے نکالنے کے لئے آپریشن کیا گیا۔

ان کے مطابق، انہیں اگلے اڑتالیس گھنٹے تک انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا جائے گا۔

BBC UK

 

Qaid Rota Hoga ! April 12, 2011

Posted by Farzana Naina in Culture, Famous Urdu Poets, Film and Music, Literature, Pakistan, Pakistani Music, Poetry, Urdu, Urdu Poetry.
add a comment

شدت پسندی سے متاثر ہونے والی ثقافتی سرگرمیوں کا سب سے زیادہ نقصان نوجوان اٹھا رہے ہیں جن کے ناپختہ ذہنوں کی بے چینی ثقافتی وسائل میں بتدریج کمی کی وجہ سے اور بڑھتی جا رہی ہے

غزل دلکش ترنم میں پڑھی جا رہی تھی۔ سننے والے اپنی نشستوں پر جمے، مختلف طور طریقوں سے نوجوان شاعر کو داد پیش کر کے کسی سوچ میں محو دکھائی دے رہے تھے۔ شاید اس لیے کہ غزل لب و رخسار کی بجائے پاکستان کے موجودہ حالات پر مبنی تھی۔ جدید تشبیہہ و استعاروں سے لیس اشعار سوچ کی نئی راہوں کے متلاشی تھے۔

یہ مناظر حال ہی میں فیض گھر لاہور کے ایک کشادہ ہال میں منعقد کیے گئے ایک مشاعرے سے ہیں۔

ادبی نشست کے نام سے یہ ماہانا سلسلہ فیض گھر کے بے شمار ادبی اور ثقافتی پراگراموں میں سے ایک ہے جس کا مقصد نوجوان نسل کے آرٹسٹوں کو اظہار فن کا موقع دینا ہے۔

معروف مصورہ اور فیض گھر کی بورڈ ممبر سلیمہ ہاشمی کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ثقافتی کام سیاسی و سماجی جمود یا انتہا پسندی کے عالم میں سیاسی نوعیت اختیار کر لیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں جب آزادانہ سوچ کو انتہا پسندی اور مذہبی نوعیت کی سختیوں کا پابند کیا جاتا ہے تو اس کے خلاف بےخوفی سے اپنی سوچ کا برملا اظہار کرنا ہر تخلیقی شخص کی ذمہ داری بن جاتی ہے کیونکہ یہی اصل چیلنج ہے۔

’ہماری تاریخ اور ساری روایات ہم سے چھن گئی ہیں۔ ہم رہ نہیں سکتے۔ ہم سانس نہیں لے سکتے۔‘

پاکستان کے باقی شہروں کی طرح ثقافتی مرکز لاہور بھی پچھلے چند سالوں سے خود کش حملوں اور بم دھماکوں کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ دو ہزار آٹھ میں ورلڈ پرفارمنگ آرٹس فیسٹول کے دوران کلچرل کامپلیکس الحمرا کے باہر ہونے والے تین بم دھماکوں کے باعث یہ سالانہ فیسٹیول جس میں دنیا بھر سے فنکار شرکت کرتے تھے بند کر دیا گیا تھا اور اب تک بند ہے۔

شدت پسندی سے متاثر ہونے والی ثقافتی سرگرمیوں کا سب سے زیادہ نقصان نوجوان اٹھا رہے ہیں جن کے ناپختہ ذہنوں کی بے چینی ثقافتی وسائل میں بتدریج کمی کی وجہ سے اور بڑھتی جا رہی ہے۔

سوچ نامی میوزک بینڈ کے عدنان کا کہنا ہے کہ وہ معاشرے میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور اگر ان کے میوزک کے ذریعے ایسا ہو سکے تو وہ خود کو دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان سمجھیں گے

یہی وجہ ہے کہ چوبیس سالہ گلوکار عدنان دھول نے تین سال پہلے ملک کے پیچیدہ حالات سے متاثر ہو کر میوزک کا باقاعدہ آغاز کیا اور آواز و ساز کے ذریعے اپنا پیغام نوجوانوں تک پہنچانا ضروری سمجھا۔

سوچ نامی میوزک بینڈ کے عدنان کا کہنا ہے کہ وہ معاشرے میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور اگر ان کے میوزک کے ذریعے ایسا ہو سکے تو وہ خود کو دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان سمجھیں گے۔

عدنان آج کل بی اے کے امتحان کی تیاری کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گانوں کے بول خود لکھتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ شاعری کے اصولوں سے ناآشنا ہیں اور اردگرد کے ماحول سے متاثر ہو کر جو جی میں آتا ہے اسے لکھ کر دھن بنا لیتے ہیں۔

ان کے ’اٹھ جوانا‘ کے نام سے مشہور ہونے والے پنجابی گانے کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس کا خیال انہیں اس روز آیا جب لاہور میں ایک دن میں پانچ خود کش بم دھماکے ہوئے۔

بقول ان کے وہ خوفزدہ نہیں ہیں اور اپنا کام جاری رکھیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے اگلے گانے کا موضوع قائد اعظم کا بھولا ہوا نظریہ ہے اور اس کا نام ’قائد روتا ہوگا‘ ہے۔

بشکریہ بی بی سی

Eidul Azha – عید الاضحی November 17, 2010

Posted by Farzana Naina in Eid Mubarak, Festivals, Greetings, Islam, Poetry, Shairy, Sher, Urdu, Urdu Poetry.
Tags: , , , ,
1 comment so far

کیسے مٹاؤں زخمی ہتھیلی سے مہندی کے گل بوٹے

اب تو عیدی دینے والے ہاتھ  کا  لمس بھی  یاد  نہیں

 

Rose

♥ معزز دوستو تسلیمات♥

عید کا پر مسرت موقعہ قریب ہے، عید کارڈوں کے کبوتر اپنے پیاروں کے پیغام لے جانے کے لئیے اڑانیں بھر رہے ہیں، ان پیغامات میں ’عید کے اشعار‘ خوشی و غمی، قربت و دوری ہر طرح کے جذبات کی ترسیل کرتے ہیں۔
آپ بھی اپنے پسندیدہ ’عید پر اشعار‘ یہاں پوسٹ کیجیئے تاکہ دیگر ممبران اپنے اپنے کارڈز کو آپ کے انتخاب سے مرصع کر سکیں۔

نوازش، کرم، شکریہ، مہربانی
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
Dear Friends

Please post your choice of EID POEMS or COUPLETS here to provide our readers some poetry for EID CARDS.

♥ Good luck.♥

کس شان سے آئی ہے جہاں میں سحر عید
خورشید پر انوار ہے خود نغمہ گر عید
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
کون سی چیز تجھے دیس کا تحفہ بھیجوں
پیار بھیجوں کہ دعاؤں ذخیرہ بھیجوں
بربط قلب کی پو سوز صدائیں بھیجوں
دل مجروح کی پاکیزہ دعائیں بھیجوں
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
عید لائی ہے خوشیوں کا دلکش سماں
ہے زمیں پر ہمیں آسماں کا گماں
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
عید ہے دوستوں کی یکجائی
ورنہ پھر عید ہی کہاں آئی
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
کچھ بڑھ گیا ہے عید کے دن ناز دوستی
اے جان دوست عید مبارک ہو آپ کو
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
غصے کی تھی یا پیار کی ہمدم نگاہ تھی
دیکھا جو اس نے آج یہاں عید ہوگئی
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
کب ترے ملنے کی تقریب بنا عید کا چاند
تیری یاد آئی تو دیکھا نہ گیا عید کا چاند
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
کبھی تو خواب سا آؤ کہ عید کا دن ہے
رخ جمیل دکھاؤ کہ عید کا دن ہے
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
کتنے ترسے ہوئے ہیں خوشیوں کو
وہ جو عیدوں کی بات کرتے ہیں
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
ہم نے چاہا کہ انہیں عید پہ کچھ پیش کریں
جس میں تابندہ ستاروں کی چمک شامل ہو
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
عید کی سچی خوشی تو دوستوں کی دید ہے
سامنے جب وہ نہیں تو خاک اپنی عید ہے
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
عید کی بے بہا مسرت سے
رنگ نکھریں گے پھر فضاؤں میں
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
عید کی شام کو آفاق کی سرخی لے کر
اس کو ڈھونڈیں گے جہاں تک یہ نظر جائے گی
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
عید کے چاند غریبوں کو پریشاں مت کر
تجھ کو معلوم نہیں زیست گراں ہے کتنی
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
عید کے دن بھی کسی لمحے سکوں حاصل نہیں
عید کے دن بھی تری یادوں سے دل غافل نہیں
عید کے دن بھی نشاط زندگی حاصل نہیں
عید کے دن بھی مقدر میں تری محفل نہیں
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
عید کے دن اداس سے گھر میں
ایک بیوہ غریب روتی ہے
اس کا بچہ یہ پوچھ بیٹھا ہے
عید بنگلوں ہی میں کیوں آتی ہے
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
عید کے دن بھی قدم گھر سے نہ باہر نکلے
جشن غربت بھی مناتے تو مناتے کیسے
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
عید کے دن تو سحاب اپنے سنوارو گیسو
ایسے لگتے ہو کہ جیسے کوئی سودائی ہو
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
مہکے گا محبت کا چمن عید کے دن
شاد ہوں گے ارباب وطن عید کے دن
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عید مبارک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥۔♥ ♥ ♥
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عید مبارک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥۔♥ ♥ ♥
۔۔۔۔۔۔۔عید مبارک۔۔۔۔۔۔۔۔

♥ ♥ ♥

۔۔۔♥ ♥ ♥

Jafri Neelofar
Muskurati ,gungunati ,jhoomti aaye gi EID…
bher ke daman mey bharoN ki mahak laye gi EID…
hum pe kab mouquf thi rounaq tumhare bazm ki
hum na honge tab bhi aaye gi zaroor aaye gi EID
Jo hum KO Choor gyee haiN andheri raton mey
unn hi ko dhoond ke laao ke eid aayi hai………..

***

Asif Shafi
کوئی دیس دی گل دسو
اساں عید تے گھر کرئیے
اس مسلے دا حل دسو

***

Sweetjani Sami
eid eid na kar
eid kozar jayega
zayada feshan na kar
nazar lag jayega

***

Safdar Hashmi
عید کے چاند غریبوں کو پریشاں مت کر
تجھ کو معلوم نہیں زیست گراں ہے کتنی

***

Sarmad Ali
Aye Merey Dost Merey Humdam Tujhay Eid Mubarak
Eid K Is Chaand Ki Sab Khushian Mubarak
Laai Yeh Chaand Terey Liey Shadmaani Ka Paygam
Is Chaand Kay Shabab Ki Har Deed Mubarak
Daman Main Phool Hontoon Pay Tabassum Ho Tumharay
Is Eid Kay Haseen Lamhaat Ki Naveed Mubarak
Khushion Ki Aisi Eidain Manai Tu Hazaroon
Har Raat Chaand Raat Ho Din Eid Mubarak
Agar Tumhari Samajh Main Aye Tu Yeh Ghazal Bhi Parhna
Jo Faqat Yohn Likhi Kay Tumhain Eid Mubarak

***

Ujaar Gai Hain Kaiey Ghar
Hum Eid Ki Khushian Manai Kaisey
Apnay Is Dukh Ko Chupain Kaisey
Har Chehra Udaas Hai
Har Aankh Hai Num
Unhain Apnoon Say Bechar Janay Ka Ghum Hai
Meri Qoum Ko Yeh Kis Ki Nazar Kha Gai
Yeh Azaab-E-Ilaahi Hai Kia
Ya Humaray Gunahon Ki Hai Yeh Saza
Hum APnay Aap Say Poochain
Hum Eid Manain Kaisey

***

Syed Salman Ali Shah
Dastoor Hai Dunya Ka Magar Yea Tu Batado.
Hum Kis Say Miley Kis Say Kahen Eid Mubarak.

***

Mubashir Saeed
veyse tu boht keef meiN ghuzree hee ,magar yar!
ek eid hy pardeys meiN ayeee nhiN , acchi
sare halat to pardeys meiN acche heeN magar
jab yahaN eid mnata hooN tu roo deyta hooN

***

Muhammad Zubair Zubair
EID ghum nahi doston khushiyun ka pagaham lati hai
EID k 3 din achchi peda hojati hai
EID ka din hai sowainyan pak kar tayar hain
papa ko dhond rahain hain papa ghar se farar hain

***

Ali Raza
log kehte hai k eid card rasm hai us zamane ki
ye un kay zehnu pa dastak hai jinhay aadat hai bhool jane ki

***

Chand Ghumman
التجا ہے عید کے چاند سے
ذرا نکل آنا سر شام سے
کہیں یہ نہ ہو۔۔
کہ بچے سو جائیں جب آرام سے
ہم بیٹھے ہوں روزے کے اہتمام سے
اک مولانا اچانک ٹی ۔ وی پر
تمھیں پکڑ لائیں کہیں مردان سے۔
ذرا نکل آنا سر شام سے۔
التجا ہے عید کے چاند سے

***

Imran Rashid Yawar
EID AAI HAI TUM NAHI AAY ….KYN MANAAON MAIN EID KI KHUSHYAN

***

Mohsin Ehsaan – محسن احسان September 24, 2010

Posted by Farzana Naina in Mohsin Ehsaan, Poetry, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
Tags:
add a comment

ممتاز شاعر و ادیب محسن احسان انتقال فرماگئے


السلام و علیکم

اردو کے تمام اہل ادب کو نہایت افسوس کے ساتھ مطلع کر رہی ہوں کہ بزرگ شاعر، ادیب و دانشور محترم محسن احسان رضائے الہی سے انتقال فرما گئے ہیں۔

”انا للہ و انا الیہ راجعون”

مرحوم کافی عرصے سے اپنی علالت کے سبب برطانیہ میں علاج کے لیۓ مقیم تھے، محسن احسان صاحب کی ادبی خدمات دنیا بھر کے اردودان ادبی حلقوں میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

فیس بک پر موجود تمام اہل ادب کی جانب سے اظہار تعزیت ہے اس دعا کے ہمراہ کہ پروردگار مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین

***

محسن احسان کی غزل دامنِ دل کھینچتی ہے اور جملہ مثبت روایات کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے تقاضوں کی عکاسی کرتی ہے،

یہ غزل تغزل سے بھی آشنا ہے اور گرد و ہیش کی زندگی کے حساس پہلوؤں سے بھی اکتسابِ جمال کرتی ہے،

اس کا رشتہ اپنی روایت، اپنی تاریخ، اپنی زمین سے بھی استوار ہے اور ان لمحاتی تجربوں سے بھی جنہیں انسانوں نے عہد بہ عہد اپنی زندگیوں میں محسوس کیا ۔

تابش دہلوی

***

جہاں جہاں یہ زمیں خشک قحطِ آب سے ہے

مرے لہو کی یہ بوندیں وہاں وہاں لے جا

*

چراغ اپنے رویوں کو بدل دیں

ہوا اس وقت طوفانی بہت ہے

*

اتنی کوتاہی تو ہوتی نہیں نادان سے بھی

مجھ کو خوف آتا ہے محسن ترے احسان سے بھی

*

ہم دعاگویۓ چمن ہم ہیں ثنا خوانِ بہار

شاد و آباد رہیں سارے عزیزانِ بہار

*

کندہ تھے جتنے حرف وہ کتبوں سے مٹ گیۓ

قبروں سے پوچھتا ہوں مرے یار کیا ہویۓ

محسن احسان کی کتابیں

ناتمام

ناگریز

ناشنیدہ

نارسیدہ

جمل اکمل

مٹی کی مہکار

پھول پھول چہرے

رباعیاتِ خوشحال خان خٹک

رحمان با با

سخن سخن مہتاب

*

برونِ لفظ کہاں ہے تجلیٔ معنی

ہے حرف حرف ستارہ سخن سخن مہتاب

فرزانہ خان نیناں ۔ نوٹنگھم

پاکستان کے ممتاز شاعر، ادیب اور ماہر تعلیم علالت کے بعد لندن میں انتقال کرگئے، اُن کی عمر ستتر برس تھی۔

انھیں لندن میں ہی تین ہفتے قبل کینسر تشخیص ہوا تھا۔

محسن احسان پشاور کے اسلامیہ کالج میں شعبہ انگریزی کے استاد اور سربراہ رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ لندن میں مقیم اپنے بچوں سے اکثر ملنے آتے رہتے تھے۔

ان کی میت تدفین کے لیے پاکستان لے جائی جارہی ہے، جہاں پشاور میں انھیں سپرد خاک کیا جائےگا۔

محسن احسان کا تعلق پاکستان کے صوبے خیبر پختون خواہ کے اُس قبیل سے تھا جنھوں نے صوبہ سرحد میں اردو ادب کی آبیاری میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ اس کارواں میں فارغ بخاری، رضا ہمدانی، خاطر غزنوی، شوکت واسطی اور احمد فراز جیسی قد آور شخصیات شامل ہیں۔ محسن احسان کا ایک مصرح ہے،

ایک ایک کر کے ستاروں کی طرح ڈوب گئے

ہائے کیا لوگ میرے حلقۂ احباب میں تھے

کندہ تھے جتنے حرف وہ کتبوں سےمٹ گئے

قبروں سے پوچھتا ہوں میرے یار کیا ہوئے

ان کی شاعری کے تین مجموعے ’ناشنید‘ ، ’ناتمام‘ اور ’ناگزیر‘ عوامی سطح پر بہت مقبول ہیں۔ اُن کی غزل میں بنیادی حوالہ تو محبت ہی تھا مگر غم دوراں، سماجی ناہمواریاں اور ملک کے سیاسی حالات کی جھلک بھی اُن کی شاعری میں نظر آتی تھی۔

امیر شہر نے کاغذ کی کشتیاں دیکر

سمندروں کے سفر پر کیا روانہ ہمیں

***

گلزار کے رکھوالوں نے خشبوئیں چرا لیں

باقی جو بچا ہے وہ خس و خاک بچالیں

بشکریہ بی بی سی


Dr.Wazir Agha – وزیر آغا September 23, 2010

Posted by Farzana Naina in Poetry, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
Tags:
1 comment so far
نقاد،انشائیہ نگار اور شاعر وزیر آغا، خود ان کے فن پر کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں

نقاد،انشائیہ نگار اور شاعر وزیر آغا، خود ان کے فن پر کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں

کباب کا ایک لذیذ ٹکڑا زبان پر رکھتے ہی یا صرف بالغوں کے لئے شائع ہونے والے کسی رسالے میں نیم برہنہ تصویر دیکھتے ہی جو لذت محسوس ہوتی ہے وہ اُس مسرت سے کسطرح مختلف ہے جو مثلاً ایک معصوم بچے کا مسکراتا ہوا چہرہ دیکھ کر یا دریا کنارے ایک درخت کے پتوں سے بادِ صبا کی اٹھکیلیاں دیکھ کر محسوس ہوتی ہے۔

لذت اور مسرت کے موازنے کی یہ بحث سن پچاس کے عشرے میں اُردو خواں طبقے کے لئے ایک بالکل انوکھی بات تھی۔ اور اس بحث کو شروع کرنے والا شخص کوئی بوڑھا فلسفی نہیں بلکہ سرگودھے کا ایک نوجوان وزیر آغا تھا جو اکنامکس میں ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے کے بعد اب فارغ اوقات میں اُردو شاعری کا گہرا مطالعہ کر رہا تھا۔

وزیر آغا کا سات ستمبر کی شب لاہور میں اٹھاسی برس کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ انھیں اگلے دن ضلع سرگودھا میں انکے آبائی گاؤں وزیر کوٹ میں سپرد خاک کردیا گیا ہے۔

’’چلی کب ہوا، کب مٹا نقش پا

کب گری ریت کی وہ ردا

جس میں چھپتے ہوئے تونے مجھ سے کہا

: آگے بڑھ ، آگے بڑھتا ہی جا مڑ کے تکنے کا اب فائدہ؟

کوئی چہرہ ، کوئی چاپ ، ماضی کی کوئی صدا،

کچھ نہیں اب اے گلّے کے تنہا محافظ

ترا اب محافظ خدا

ڈاکٹر وزیر آغا کی ایک نظم

اُردو کے بزرگ قلم کار مولانا صلاح الدین احمد جو اپنے ادبی پرچے کے ذریعے ہندوستان بھر کے نوجوان ادیبوں کی تربیت کر رہے تھے اور کرشن چند، راجندر سنگھ بیدی، کنہیا لال کپور جیسے نثر نگاروں کے ساتھ ساتھ ن م راشد، فیض احمد فیض اور احمد ندیم قاسمی جیسے شعرا کو بھی منظرِ عام پر لا چکے تھے، اُن کی نگاہِ جوہر شناس جب وزیر آغا پر پڑی تو فوراً انھیں اپنے سایہء عاطفت میں لے لیا۔ اقتصادیات، نفسیات اور فلسفے کے جو مضامین کبھی اُردو میں زیرِ بحث نہیں آئے تھے، انکے لئے اپنے پرچے کے صفحات کھول دیئے۔

وزیر آغا نے مسرت کی نوعیت، مسرت کی اقسام اور حصولِ مسرت کے ذرائع پر جو کچھ لکھا مولانا نے اپنے تعارفی نوٹ کے ساتھ اسے ایک کتابی شکل میں شائع بھی کرایا اور یوں نوجوان وزیر آغا کی کتاب” مسرت کی تلاشٰ” منظرِ عام پر آئی۔

بھارت میں ان کے فن پر بہار یونیورسٹی مظفر پور سے پروفیسر عبد الواسع کے زیر نگرانی تحقیقی مقالے ”وزیر آغا کا فن“ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری مل چکی ہے۔

لیکن جلد ہی معلوم ہوگیا کہ یہ تو نوجوان قلم کار کی جولانیء طبع کا صرف ایک پہلو تھا۔ اُن کا اصل جوہر اُردو شاعری کے اُن تجزیاتی مضامین میں کھلا جو ”ایک مثالٰ ” کے عنوان سے ماہنامہ ادبی دنیا میں سلسلہ وار شائع ہوئے۔

1960 میں مولانا صلاح الدین احمد نے انھیں اپنے جریدے کی مجلسِ ادارت میں شامل کر لیا اور وہ تین برس تک ایک ساتھی مدیر کے طور پر کام کرتے رہے۔

سن پچاس کے عشرے میں انھوں نے مسرت کے موضوع پر تحقیق کرتے ہوئے دنیا بھر کے مزاحیہ ادب کا مطالعہ بھی کیا اور انھی دنوں اُن کا تحقیقی کارنامہ اردو ادب میں طنز و مزاح سامنے آیا جسے 1956 میں پنجاب یونیورسٹی نے ایک اوریجنل تحقیقی کام قرار دیتے ہوئے وزیر آغا کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری پیش کی۔

اُردو کے بزرگ قلم کار مولانا صلاح الدین احمد جو اپنے ادبی پرچے کے ذریعے ہندوستان بھر کے نوجوان ادیبوں کی تربیت کر رہے تھے اور کرشن چند، راجندر سنگھ بیدی، کنہیا لال کپور جیسے نثر نگاروں کے ساتھ ساتھ ن م راشد، فیض احمد فیض اور احمد ندیم قاسمی جیسے شعرا کو بھی منظرِ عام پر لا چکے تھے، اُن کی نگاہِ جوہر شناس جب وزیر آغا پر پڑی تو فوراً انھیں اپنے سایہء عاطفت میں لے لیا

اُردو ادب کی تاریخ میں ڈاکٹر وزیر آغا کا نام دو حیثیتوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ایک تو انھوں نے اردو ادب میں انشائیے کی صِنف کو فروغ دینے کےلئے ایک تحریک کی سطح پر کام کیا اور دوسرے انھوں نے اُردو تنقید کو جدید نفسیاتی مباحث سے روشناس کرایا۔

انشائیے کی ترویج میں اُن کے ادبی رسالے اوراق نے انتہائی اہم خدمات سر انجام دیں۔ وزیر آغا نہ صرف خود انشائیہ لکھتے تھے بلکہ نوجوان ادیبوں کو اسکی ترغیب بھی دیتے تھے اور اُن کے معیاری انشائیے اپنے رسالے میں باقاعدگی سے شائع کرتے تھے۔ بہت سے ادیبوں کو یہ شکوہ رہا کہ وزیر آغا نے انکی تحریر کو بطور انشائیہ قبول نہیں کیا بلکہ مزاحیہ مضمون کا عنوان دیکر شائع کیا۔

اس سلسلے میں وزیر آغا کا موقف انتہائی واضح تھا۔ وہ ہر ہلکی پھلکی یا مزاحیہ تحریر کو انشائیہ قرار دینے پر تیار نہ تھے کیونکہ اُن کے بقول انشائیے میں ایک خاص طرح کی  ذہانت کی چمک ہونا ضروری تھا۔

اردو تنقید میں ژُونگ کے اجتماعی لاشعور اور دیو مالا کی نئی تشریح و توضیح کا چلن وزیر آغا کی ہی بدولت ممکن ہوا۔ اُن کی تصنیفات کی تعداد پچاس سے زیادہ ہے جن میں سے پندرہ کتابیں ایسی ہیں جن کا تعلق محض شعر و شاعری سے ہے۔ اُن کی کچھ کتابوں میں

نظمِ جدید کی کروٹیں  1963

اردو شاعری کا مزاج  1965

تخلیقی عمل 1970

انشائیے کے خدوخال  1990

اور غالب کا ذوقِ تماشہ  1997

انتہائی اہم ہیں۔

اپنے مداحوں کے لئے وزیر آغا نے اپنے حالاتِ زندگی بھی ایک کتاب کی صورت میں محفوظ کر دیئے ہیں سوانح عمری کا نام ہے” شام کی منڈیر سے”۔

جسطرح مولانا صلاح الدین احمد نے اپنے وقت کے بہت سے نوجوان ادیبوں اور شاعروں کی سرپرستی کی اور انھیں قعرِ گمنامی سے نکال کر شہرتِ عام اور بقائے دوام کے دربار میں لا کھڑا کیا، اسی طرح اُن کے شاگردِ رشید وزیر آغا نے بھی اپنے رسالے اوراق کے ذریعے بہت سے نوجوانوں کے ذؤق تحریر کی آبیاری کی۔ وہ کافی عرصے تک گورنمٹ کالج سرگودھا میں اعزازی مدرّس کے طور پر بھی کام کرتے رہے ہیں۔

بھارت میں ان کے فن پر بہار یونیورسٹی مظفر پور سے پروفیسر عبد الواسع کے زیر نگرانی تحقیقی مقالے ”وزیر آغا کا فن“ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری مل چکی ہے۔

دوسرا مقالہ بھاگلپور یونیورسٹی میں پروفیسر مناظر عاشق ہر گانوی کے زیر نگرانی وزیر آغا کی انشائیہ نگاری پر لکھا گیا اور تیسرا رانچی یونیورسٹی میں وہاب اشرفی کے زیر نگرانی وزیر آغا کی تنقید کے موضوع پر لکھا گیا جن پر پی ایچ ڈی ایوارڈ ہو چکی ہے۔

اس کے علاوہ جے پور یونیورسٹی میں وزیر آغا کی تنقید نگاری پر ایم فل اور پاکستان کی پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے کا تحقیقی مقالہ لکھا گیا ہے۔

پاکستان میں بھی وزیر آغا کے فن پر 14کتابیں شائع ہوئی ہیں۔

کہنے کو چند گام تھا یہ عرصۂحیات

لیکن تمام عمر ہی چلنا پڑا ہمیں

اب تو آرام کریں سوچتی انکھیں میری

رات کا آخری تارا ہے بھی جانے والا

بشکریہ عارف وقار ، بی بی سی

Br’rooh Larkiyon Ka – بے روح لڑکیوں کا ٹھکانہ November 18, 2009

Posted by Farzana Naina in British Pakistani Poetess, Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Ghazal, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Naina, Nazm, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
2 comments

Berooh larkiyon ka thikana bana hua-wordpress

Be’rooh Larkiyon Ka Thikana Bana Hua

Kamrah Hai Mera Aeena’khana Bana Hua

 

Meine Tau Koi Baat Kisi Se Nahi Kahi

Socha Hai Jo Wohi Hai Fasana Bana Hua

 

Nadiya Mein Kis Ne Rakh Diye Jalte Huey Charaagh

Mausam Hai Chasm E Tar Ka Suhana Bana Hua

 

Aurak Ka Zehn Mard Ki Is Kainaat Mein

Abtak Hai Uljhanon Ka Nishana Bana Hua

 

Mumkin Hai Maar De Mujhe Uski Koi Khaber

Dushman Hai Jiska Mera Gharana Bana Hua

 

Baarish Ki Aag Hai Mere Ander Lagi Hui

Baadal Hai Aaso’on Ka Nishana Bana Hua

 

Naina Kai Baras Se Hawa Ki Hon Humnafas

Hai Ye Badan Usi Ka Khazana Bana Hua

Thank you 10Flower magenta 4

Name pink 2 nName pink 2 aName pink 2 iName pink 2 nName pink 2 a