jump to navigation

Jazib Qureshi – روشنی کی تازہ لپک

روشنی کی تازہ لپک

عرب امارات ،برطانیہ، امریکا، کینیڈا کےدرمیان جو پاکستانی اپنے اپنے دائروں میں رہ کر تہذیبی و ثقافتی روایات کےساتھ ساتھ اردو زبان کی نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں ان میں نوٹنگھم میں آباد فرزانہ خان نیناں بھی شامل ہیں، نوٹنگھم میں فرزانہ نےایک ادبی اور ثقافتی تنظیم’بزمِ علم و فن‘ کے تحت اردو کا چراغ جلایا ہوا ہےجس کے زیرِ اہتمام مشاعرے، جلسے اور مختلف ادبی و سماجی تقریبات ہوتی رہتی ہیں اور پاکستان سے جانے والے استفادہ کرتے رہتے ہیں ۔

فرزانہ نے اپنی شاعری اور اپنی ذات کے حوالے سے جو کچھ خود لکھا ہے وہ اپنی نوعیت میں نیا بھی ہے اور ان کی شاعری کے پس منظر کو سمجھنے میں مدد بھی دیتا ہے، وہ لکھتی ہیں کہ

’میری شاعری میرے بچپن اور جوانی کی کائنات کے رنگوں میں ڈھلی ہے اور نیلگوں وسیع و عریض آسمان میری شاعری کا کینوس ہے، میری شاعری ایک ایسی دنیا ہے جہاں میں کچھ پل کے لئے سب کی نظروں سے اوجھل ہو کر شہرِ سبا کی سیڑھیاں چڑھتی ہوں۔۔۔۔‘

فرزانہ نے شاعری کے لئے جس دنیا کا انتخاب کیا ہے وہ نئی تو ہے موسم اور ان موسموں کے رنگ تازہ اور خوبصورت ضرور ہیں لیکن اس دنیا کی اور شکل بھی ہے، فرزانہ محبتوں کی شاعرہ ہیں، ان میں جدید انفرادیت کی علامت بننے کا سارا ہنر موجود ہے، فرزانہ کا مشاہداتی تخیل ایسی روشنیوں کے ساتھ سفر کرتا ہے جو زمانوں کی گردشوں میں ہے اور انہیں پہچاننے کا ہنر بھی جانتا ہے، فرزانہ پرانے اور نئے وقت کے چہروں میں تازہ مماثلتیں اور جدید شباہتیں تلاش کر لیتی ہیں، اس طرح ان  کے لئے انسانی تاریخ اور اعلیٰ قدریں تسلسل کے ساتھ ایک ہی زندگی کی داستان بن گئی ہیں، اپنےجسم و جاں کی محبتوں کو جس انداز میں فرزانہ نے لکھا ہے وہ انداز دیارِ غیر میں آباد پاکستانی شاعرات میں کم ہی نظر آئےگا، فرزانہ نے محبوب سے اپنے وجود کو اور اپنے وجود سے محبوب کی یادوں کو جس طرح وابستہ کر رکھا ہے اس کی چند مثالیں دیکھئے:

آسماں کے رنگوں میں رنگ ہے شہابی سا

دھیان میں ہے وہ چہرہ ایک ماہتابی سا

حرف پیار کےسارے آگئے تھے آنکھوں میں

جب لیا تھا ہاتھوں میں چہرہ وہ کتابی سا

پارس نے دفعتاََ مجھے سونا بنا دیا

قسمت سے آج ہوگئی سرمایہ دار میں

فرزانہ کے جسم و جاں پر محبتوں کے اثرات کو مختلف کیفیت میں دیکھا جا سکتا ہے

:

بدن نے اوڑھ لی ہے شال اس کی

ملائم، نرم، مخمل ہوگئی ہوں

کسی کے عکس میں کھوئی ہوں اتنی

خود آئینےسے اوجھل ہوگئی ہوں

اشکوں کے پانیوں میں اترا کسی کا چہرہ

بہتا ہوا اچانک دریا ٹہر گیا ہے

کیسا عجب سفر ہے دل کی مسافتوں کا

میں چل رہی ہوں لیکن رستہ ٹہر گیا ہے

بسی ہےیاد کوئی آکےمیرےکاجل میں

لپٹ گیا ہے ادھورا خیال آنچل میں

اُسی چراغ کی لوَ سے یہ دل دھڑکتا ہے

جلائے رکھتی ہوں جس کو شبِ مسلسل میں

درختوں کے سبز پتوں کے درمیان، محبتوں کی بچھڑی آوازیں سنائی دیتی ہیں اور یادوں کا چراغ تنہائیوں میں جلتا رہتا ہے، پھر اس چراغ  کے اجالے میں محبوب سے ملنے اور گفتگو کرنے کا موسم بھی اتر آتا ہے، ایسا مکالمہ شاعری میں ڈرامائی عناصر کی تخلیق کرتا ہے اور زندگی کے روز و شب میں پیش آنے والے معاملات و تجربات فنی و تخلیقی اظہار بن جاتے ہیں، اس حوالے سے فرزانہ کی باتیں سنی جاسکتی ہیں:

پھرتی ہے میرے گھر میں اماوس کی سرد رات

دالان میں کھڑی ہوں بہت بے قرار میں

جی چاہتا ہے رات کے بھرپور جسم سے

وحشت سمیٹ لوں تری دیوانہ وار میں

شام ڈھلنےسےمجھےدیکھ سحر ہونےتک

کیسے امید کو ارمان بناتی ہوں میں

روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا

روز سوچا ہےکہ تم میرے ہو میرے ہو نا

یہ دیکھ کتنی منور ہے میری تنہائی

چراغ بامِ مژہ پر ہزار رکھتی ہوں

مثالِ برق چمکتی ہوں بے قراری میں

میں روشنی کی لپک برقرار رکھتی ہوں

تتلیاں ہی تتلیاں ہیں تم جو میرے ساتھ ہو

دلنشیں موسم ہےجیسے دھوپ میں برسات ہو

یادوں اور ملاقاتوں کے بعد محبتوں کے درمیان آباد رہنے کا ایک تیسرا امکان بھی ہے جسے شاعری کی زبان میں خود کلامی بھی کہا جاتا ہے، خود کلامی ایک ایسی داخلی گفتگو ہے جس میں کوئی تخلیق کار یا کوئی عام شخص اپنےآپ سے باتیں کرتا ہے ان باتوں میں بچھڑے ہوئے لمحوں کی بازیافت کو لفظوں میں پکارا جاتا ہے یا امکانی زمین و آسمان کا تذکرہ ہوتا ہے:

میرے چہرے میں جھلکتا ہے کسی اور کا

عکس آئنہ دیکھ رہا ہے مجھے حیرانی سے

ممکن ہے اس کو بھی کبھی لے آئے چاند رات

کچھ پھول سونے گھر میں کبھی رکھ دیا کرو

مری خا مشی میں بھی اعجاز آئے

کسی سمت سے کوئی آواز آئی

چاند رکھا ہے کہیں دھوپ کہیں رکھی ہے

رہ گیا  ہے مرے گھر میں ترا ساماں نیناں

تلاش بستی میں کرتا ہے جس کو شہزادہ

وہ مورنی کسی جنگل نے پال رکھی ہے

عورت کی اہمیت اور اس کی بے توقیری کے درمیان بہت سی پرچھائیاں، بہت سی دیواریں کھڑی ہیں، ترقی یافتہ قومیں عورت کے لئے وہ سب کچھ کر چکی ہیں جس نے وہاں کی نسائی دنیا کو انفرادی اور اجتماعی طور پر مادر پدر آزادی کا حق دار بنادیا ہے، ترقی پذیر قوموں میں یا تیسری دنیا کے درمیان عورت کے پورے پن کو ماننے کی آوازیں تیز تر ہوتی جارہی ہیں، عورت کی آزادیوں اور اس کی بنیادی ضرورتوں کےلئے انسانی تاریخ نےجس چیز کو اور جس نا انصافی کو لکھا ہے اس کے سامنے عدل کی ترازو تو رکھنی پڑے گے، فرزانہ نے کوئی نعرہ تو نہیں لگایا اور عورت کی طرف سے فرزانہ کے ہاتھوں میں انقلاب یا بغاوت کا کوئی جھنڈا بھی نہیں ہے مگر انہوں نےعورت کے اجتماعی اور انفرادی دکھوں تک اپنے قلم کے سفر کو بڑھایا ضرور ہے، اجتماعی عورت کے بارے میں چند مثالیں دیکھئے:

عورت کا ذہن مرد کی اس کائنات میں

اب تک ہے الجھنوں کا نشانہ بنا ہوا

قبیلے کے خنجر بھی لٹکے ہوئے ہیں

کھڑی ہیں جہاں لڑکیاں دل کو ہاری

انگلیوں سے لہو ٹپکتا ہے

پھر بھی کلیاں پروئے جاتی ہیں

سب اختیار اس کا ہے کم اختیار میں

شاید اسی لئے ہوئی بے اعتبار میں

تھل سے کسی کا اونٹ سلامت گزر گیا

راہِ  وفا میں رہ گئی مثلِ غبار میں

بدن کی چٹانوں پہ کائی جمی ہے

میں صدیوں سے ساحل پہ تنہا کھڑی ہوں

خلا سے مجھے آرہی ہیں صدائیں

مگر میں تو پچھلی صدی میں جڑی ہوں

فرزانہ کا خیال ہے کہ عورت کی روح کیسے مضبوط ہو سکتی ہے جبکہ اس کا جسم ہی کمزور بنایا گیا ہے، مگر عورت کربِ ذات کو نئی زندگی کی ایک سچی خوشی سمجھتی ہے، فرزانہ جب اپنے ذاتی تجربوں کو اظہار میں لاتی ہیں تو وہ بہت سی دوسری عورتوں کا بیانیہ بھی بن جاتی ہیں:

سزا  بے گناہی کی بس کاٹتی ہوں

کہاں مجھ کو جینے کے انداز آئے

وہ جن کی آنکھ میں ہوتا ہے زندگی کا ملا ل

اسی  قبیلے سے خود کو ملانا چاہتی ہوں

میری تقدیر سے وہ بابِ اثر بند ملا

جب دعاؤں کے پرندوں نے اترنا چاہا

دھوپ گر نہ صحرا کے راز کہہ گئی ہوتی

میں تو بہتے دریا کےساتھ  بہہ گئی ہوتی

بام و در ہیں ترے اشکوں سے فروزاں نیناں

گھر میں اچھا نہیں اس درجہ چراغاں نیناں

لگتا ہے مجھ کو میں کسی مردہ بدن میں تھی

جینے کا حوصلہ جو ملا اجنبی لگا

فرزانہ کہتی ہیں کہ عورت نے گھر کے آنگن کو زندگی کی نرم اور گرم دھوپ سے بھر دیا ہے لیکن آنکھوں کے آبشار بارشوں کی تمثیل بنے ہوئے ہیں، عورت کی محبتوں کا آنچل فرزانہ نے آرزوؤں کے ستاروں سے بھرا ہوا ہے، وہ ابھی اپنے آنچل پر کچھ تازہ ستارے ٹانکنا چاہتی ہیں، فرزانہ نے عورت کے انفرادی اور اجتماعی حوصلےکو بڑھانا چاہا ہے، انھوں نے لکھا ہے کہ:

خیال رکھنا ہے پیڑوں کا خشک سالی میں

نکالنی ہے مجھے جوئے شیر جنگل میں

قدم  روکتا کب سیہ پوش جنگل

امیدوں کے جگنو اُڑائے تو ہوتے

سمندر کو صحراؤں میں لے کے آتی

کچھ انداز اپنےسکھائے تو ہوتے

پہنچتی اتر کر حسیں وادیوں میں

پہاڑوں پہ رستے بنائے تو ہوتے

’’ درد کی نیلی رگیں ‘‘ پڑھتے ہوئے ایک ایسا تجربہ سامنے آیا ہے جو ہمارے عہد کی شاعری میں کم موجود ہے، ہر دور کی علامت سازی میں زیادہ یا کم روزمرہ زبان کو اور موجود زندگی کی اشیاء کو شامل کیا جاتا رہا ہے، فرزانہ کی شاعری میں بھی بہت سی ایسی چیزوں کا تذکرہ آیا ہےجو شہر اور گاؤں کی بھی نمائندگی کرتے ہیں اور رہن سہن کی پہچان ہیں، شہر کےحوالے سے چند اشیاء کو شاعرانہ انداز میں دیکھئے:

تمہیں گلاب کے کھلنے کی کیا صدا آتی

تمہارے گرد تو ہر وقت صرف پیسا ہے

نجانے کیسے گزاروں گی ہجر کی ساعت

گھڑی کو توڑ کے سب بھول جانا چاہتی ہوں

اوڑح  کے پھرتی تھی جو نیناں ساری رات

اس ریشم کی شال پہ یاد کے بوٹے تھے

سیب اور چیری تو روز لے کے آتی ہوں

اپنے سندھڑی آموں کو بھول بھول جاتی ہوں

شوخ نظر کی چٹکی نے نقصان کیا

ہاتھوں سے جب چائے کے برتن چھوٹے تھے

فرزانہ کی شاعری میں گاؤں کی زندگی، وہاں کے موسم اور وہاں کی ضروری اشیاءکا جو اظہار ملتا ہے ایک طرف تو پرانی اقدار اور پرانی ثقافت کو سامنے لاتا ہے اور دوسری طرف وہ انسان بھی نظر آجاتے ہیں جو صدیوں سے اپنے محدود وسائل کے ساتھ ایک ہی کروٹ جیئےجا رہےہیں۔

اُسے جو دھوپ لئے دل کے گاؤں میں اترا

رہٹ سے چاہ کا پانی پلانے والی ہوں

میں سینت سینت کے رکھے ہوئے لحافوں سے

تمہارے لمس کی گرمی چرانے والی ہوں

میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز

اب مرے واسطے بیکار ہے چاندی سونا

روز آجاتی ہوں کمرے میں ہوا کی صورت

کنڈی کھڑکائے بغیر اس سے چراتی ہوں اسے

کوئی بھی نہ دیوار پر سے پکارے

مگر ذہن یادوں کے اُپلے اتارے

ملےگی میری بھی کوئی نشانی چیزوں میں

پڑی ہوئی ہوں کہیں میں پرانی چیزوں

مرے وجود سے قائم ہیں بام و در میرے

سمٹ رہی ہےمری لا مکانی چیزوں میں

بہشت ہی سے میں آئی زمین پر لیکن

شمار میرا نہیں آسمانی چیزوں میں

یہ جانتے ہوئے کوئی وفا شناس نہیں

بسر ہوئی ہے مری زندگانی چیزوں میں

میں نے فرزانہ کی نظمیں بھی پڑھی ہیں، ان نظموں میں’دریائے نیل، پگلی، پتھر کی لڑکی، سوندھی خوشبو، آخری خواہش، پہلی خوشی، ناریل کا پیڑ، اور ماں جیسی نظمیں خوبصورتی کےساتھ لکھی گئی ہیں اور احساس و خیال کو زندگی کی سچائیوں سےجوڑ دیتی ہیں۔

فرزانہ کی شاعری پڑھتے ہوئے ان کے کچھ ایسے اشعار بھی سامنے آئے جو بہت حد تک نئی امیجری کےساتھ لکھے گئے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ انھیں پڑھا یا سنا جائے تاکہ شاعری کے پڑھنے والے یکسانیت سے نکل کر ذرا مختلف موسموں کے درمیان بھی آسکیں!

شوخ بوندوں کی طرح جا کے اٹک جاتےہیں

جسم کی کوری صراحی میں چمکتے موسم

رات کے خالی کٹورے کو لبالب بھر کے

کس قدر خوشبو چھڑکتے ہیں مہکتے موسم

صبح کے روپ میں جب دیکھنے جاتی ہوں اسے

ایک شیشےکی کرن بن کے جگاتی ہوں اسے

بخش دیتی ہوں مناظر کو رو پہلا ریشم

جسم کو چاندنی کا تھان بناتی ہوں میں

نیلگوں جھیل میں ہے چاند کا سایہ لرزاں

موجِ ساکت بھی کوئی آئے سنبھالے اس کو

کیسا نشہ ہے سرخ پھولوں میں

تتلیاں گل پہ سوئے جاتی ہیں

زلف کو صندلی جھونکا جو کبھی کھولے گا

جسم ٹوٹے ہوئے پتے کی طرح ڈولے گا

فرزانہ کی شاعری میں تصویروں کے عکس دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم شاعری نہیں پڑھ رہے بلکہ کسی نئے مصور کی آرٹ گیلری سے گزر رہے ہیں، انھوں نے خود لکھا ہےکہ

’ ’’ شاعری کے رموز و اوقاف اور اوزان و بحور وغیرہ پر مہارت کا مجھے کوئی دعویٰ نہیں، میری تشبیہات و استعارات کسی سے مستعار نہیں لئے گئے کہ مجھےاپنی مرضی کےالفاظ کا تانا بانا بننا اچھا لگتا ہے‘‘ ۔

ایک شاعرہ کی حیثیت سے فرزانہ نے اپنی بنیادی سچائی کو ظاہر کر دیا ہے، انھوں نے دوسری بےشمار لکھنے والیوں کی طرح بننا پسند نہیں کیا بلکہ آزاد پرندےکی طرح کھلے آسمانوں میں اپنی اُڑان کو اہم سمجھا ہے، فرزانہ کی شاعری پڑھتے ہوئے کچھ نامانوسیت کا جو احساس ہوتا ہے وہ اس جیسی تمام شاعری کی تازگی کا جواز بھی ہے، ان کی شعری زبان تخلیقی ہے اور مادری زبان سندھی ہے، ان کے تصوراتی پس منظر میں سندھ کا گاؤں بولتا ہے اس حوالے سےکہا جا سکتا ہے کہ فرزانہ خان نے اردو مادری زبان والی کئی دوسری شاعرات سے زیادہ نئی اور زیادہ تازہ زبان لکھی ہے۔

فرزانہ کی شعری جمالیات، لفظیات اور امیجز خوبصورتی و اثر پذیری کے ساتھ اظہار میں آئی ہیں، پاکستان کی تہذیبی و ثقافتی اور ادبی و معاشرتی

رویوں کے ساتھ فرزانہ خان جڑی ہوئی ہیں، وہ آباد تو دیارِ غیر میں ہیں مگر ان کی یادوں میں اپنے وطن کے موسموں کے رنگ اور اپنی مٹی کی خوشبوئیں بسی ہوئی ہیں، وہ سوتی تو نوٹنگھم میں ہیں مگر خواب پاکستان کے دیکھتی ہیں اس بات سےحد درجہ وطن کی محبت کا اظہار ہوتا ہے لیکن ایک اہم تخلیق کار ہونےکی حیثیت میں برطانیہ میں گزرنے والی زندگی، وہاں درپیش سماجی رویوں اور انسانی قدروں کا اظہار بھی فرزانہ کی شاعری میں ہونا چاہیئے تاکہ ان کو پڑھنے والےایک مختلف کلچر سے اور اس کے ایسے معاملات و واقعات سے بھی روشناس ہوسکیں۔

فرزانہ خان کی شاعری میں رقت آمیز، خود رحمی یا قنوطیت جیسے غیر متحرک اور غیر فعالی رویئے نہیں ہیں بلکہ شکستہ خواب و خواہش کی سچائیاں اور عورت کے اجتماعی و انفرادی دکھوں کا اجلا پن ان کے ہر اظہار میں موجود ہے، وہ جسم و جاں کے تجربوں کو سالمیت و سلامتی کے ساتھ لکھ کر سامنے لائی ہیں انہوں نے اشیاء کے ذریعے اپنی تازہ امیجری کے تعلق سے جو نسائی آئیڈیل بنایا ہے وہ اس میں کامیاب نظر آتی ہیں، فرزانہ نے لکھا ہے کہ

’میری شاعری بچپن سےجوانی تک کی شاعری ہے‘

میں فرزانہ کی اس شاعری پر انہیں مبارکباد دیتا ہوں اور یقین کر سکتا ہوں کہ فرزانہ کی شاعری کا اگلا قدم زندگی کے زیادہ سنجیدہ، زیادہ اہم اور زیادہ گہرے تجربوں کی سمت بڑھے گا جو ان کو جلترنگ سے ہو ترنگ کی طرف لے جائے گا، فرزانہ میں جدید انفرادیت کی علامت بننے کا سارا سامان موجود ہے۔

از: جاذب قریشی ۔ کراچی

i-dream-of.gif

 

Comments»

No comments yet — be the first.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: