jump to navigation

Welcome November 4, 2006

Posted by Farzana Naina in Blogroll, Famous Urdu Poets, Farzana Naina, Ghazal, Karachi, Kavita, Naina, Nazm, Nottingham, Pakistan, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Shairy, Sher, Sufi Poets, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
3 comments

قلمی نام : نیناں

برطانیہ میں منظرِ عام پر آنے والی چند شاعرات میں فرزانہ نیناںؔ کا نام بڑا معتبر ہے،۔

متنوع صلاحیتوں کی مالک فرزانہ خان نیناؔں کا تعلق سندھ کے ایک سربر آوردہ خانوادے سے ہے۔

مجلسی اور معاشرتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں اور اپنی ادبی تنظیم نوٹنگھم آرٹس اینڈ لٹریری سوسائٹی کے تحت کئی برس سے مشاعرے و دیگر تقریبات بخوبی منعقد کرواتی رہتی ہیں جو کہ ان کی خوش سلیقگی و خوب ادائیگی کی بھرپور آئینہ دار ہیں،

اس شگفتہ وشستہ ہونہار شاعرہ کے انکل محمد سارنگ لطیفی سندھی زبان کے مشہور شاعر، صحافی اور ڈرامہ نویس تھے اور اس رحجان کا سلسلہ انہی سے جا ملتا ہے،

کراچی سے رشتہء ازدواج میں منسلک ہوکر برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں آباد ہوئیں، شعبہ ٔ ٹیلی کمیونیکیشن میں بطور انسپکٹر ملازمت کی،پھر ٹیچرز ٹریننگ اور بیوٹی کنسلٹنٹ کی تعلیم حاصل کی اور مقامی کالج میں ٹیچنگ کے شعبے سے وابستہ ہوگئیں ساتھ ہی میڈیا اور جرنلزم کے کورسز میں ڈپلوما بھی کیئے یوں مقامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے بھی وابستگی ہوئی،

ان کے پیش کردہ پروگرام خصوصی خوبیوں کی بنا پر دلچسپ اور معلوماتی ہوتے ہیں اور اپنے انداز کی وجہ سے یورپ بھر میں بیحد مقبول ہیں،

ابتدا میں نثری کہانیاں لکھیں اور نظم سے سخن طرازی کا آغاز کیا،جبکہ نثری رنگ میں گہرائیوں کی بدولت کتابوں پر تبصرہ جات اور کالم بھی ایسے دلچسپ لکھتی ہیں کہ پڑھنے والے مزید کا تقاضہ کرتے رہتے ہیں،

فرزانہ نیناںؔ کے خاص نسائی لہجے و منفرد انداز شعرگوئی نے یک لخت اہلِ ذوق کو اپنی جانب متوجہ کر کے برطانیہ کی مسلمہ شاعرات کے طبقے میں اپنا معتبر مقام بنا یا ہوا ہے ،ان کا شعری مجموعہ بعنوان ۔۔’’درد کی نیلی رگیں‘‘ منظرعام پر جب سے آیا ہے تخلیقی چشمے میں ارتعاش پیدا کر رہا ہے،

منفرد نام کی طرح مجموعے کی کتابی شکل و صورت میں بھی انفرادیت ہے، ایک ہی رنگ کا استعمال شاعری میں جس انداز سے پیش کیا گیا ہے وہ اب سے پہلے کسی نے نہیں کیا ،پوری شاعری میں محسوسات کو تمثیلوں کے ذریعے تصاویر کی طرح اجاگر کیا گیا ہے، اشعار میں جذبوں سے پیدا ہونے والی تازگی بدرجہ اتم جھلکتی ہے، ہر مصرعے اور ہر شعر پر ان کے رنگ کی خاص نسائی چھاپ موجود ہے،

آغاز سے ہی یہ دو اشعار ان کا حوالہ بن چکے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

شوخ نظر کی چٹکی نے نقصان کیا
ہاتھوں سے  چائے کے برتن چھوٹے تھے

Blue Flower 41

میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز
اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا

شعری مجموعہ” درد کي نيلي رگيںٰ ”  اپنے نام، کلام ميں نيلے رنگوں کي تماثيل، سائز، ہٗيت، اور تحرير کی چھپائی کے منفرد ہونے کي وجہ سے بہت سراہا گیا ہے، اگر آپ اردوشاعری کے دلدادہ ہيں، جديد شاعری کی باريکيوں سے لطف اندوز ہوتے ہيں تو يہ کتاب اپنی لابريری کی زينت ضرور بنائيں۔
اي ميل کا پتہ :

farzananaina@gmail.com
farzananaina@yahoo.co.uk

welcome blue 106

ISLAMABAD:

Mushaira held in honour of expat poet

(Reporter of Dawn news paper)

• ISLAMABAD, Jan 10: A Mushaira was organized in honour of British-Pakistani Urdu poetess, Farzana Khan ‘Naina’ at the Pakistan Academy of Letters (PAL) on Friday. The event was presided over by the PAL chairman, Iftikhar Arif.

• Mr Arif said Farzana Khan was typical of expatriate poets who had an advantage over native poets in expressing original ideas and imagery. He said this was also a fact that expatriate writers were not well at transmuting feelings with the same intensity. In his view, Farzana Khan was certainly a new distinctive voice in Urdu poetry. She used tender expressions and a strange and novel scheme in meters that reverberated with strong musical beats.

• In fact Iftikhar Arif’s verses, which he read at the end of the Mushaira, sounded like a well deserved tribute to the poetess; Mere Chirag Hunar Ka Mamla Hai Kuch Aur Ek Baar Jala Hai Phir Bujhe Ga Naheen (The Muse this time is bright, and once lighted it will not be extinguished).

• A number of senior poets read their poetical pieces at the Mushaira that was conducted by a literary organization, Danish (Wisdom).

Here, Farzana Khan surprised everyone with the range and depth in the couplet that she read “Meine Kaanon Main Pehan Lee Hai Tumhari Aawaz/Ab Meray Vastey Bekaar Hain Chandi Sona”.

She seeks inspiration for her poetry from the glades of Nottinghamshire, England, the county of Lord Byron and Robin Hood, where she had been living for over many years.

Farzana Khan is a Chair person of Nottingham Arts and Literature Society, She works as a broadcaster for Radio Faza and MATV Sky Digital, besides being a beauty therapist and a consultant for immigrants’ education.

Her book of Urdu poetry titled Dard Ki Neeli Ragen (Blue veins of pain) is a collection of 64 Ghazals and 24 Nazms.

The collection has received favourable reviews from a number of eminent Urdu poets, including Dr.Tahir Tauswi, Rafiuddin Raaz, Prof.Shahida Hassan, Prof.Seher Ansari, Ja zib Qureshi, Haider Sherazi, Sarshar Siddiqui, Naqash Kazmi, Nazir Faruqi, Aqeel Danish, Adil Faruqi, Asi Kashmiri,Prof.Shaukat Wasti, Mohsin Ehsan, who had stated that her work was marked with ‘Multicolour’ words. Everyone was impressed with her boldness as well as her delicate feelings, he added.

In addition there is an extraordinary rhythm. About technical aspects of Farzana’s work, a literary critic, Shaukat Wasti, says it deserve serious study.

Name Naina multi pastle 1

میری شاعری میرے بچپن اور جوانی کی کائنات کےرنگوں میں ڈھلی ہے، یادیں طلسمَاتی منظروں کو لیئےچلی آتی ہیں

وہ منظرجو دیو مالائی کہانیوں کی طرح، الف لیلوی داستانوں کی طرح، مجھےشہرزاد بننے پر مجبور کردیتے ہیں،عمر و عیار کی زنبیل سےہر بار کچھ نہ کچھ نکل آتا ہے، شہر بغداد کی گلیاں اجڑ چکی ہیں،نیل کے پانیوں میں جلتے چراغ، دھواں بن کر اوپر ہی اوپر کسی انجانے دیس میں جا چکے ہیں ، دجلہ کے دھاروں سا جلترنگ کہیں سنائی نہیں دیتا۔۔۔

گلی کےآخری کنارے پر بہنے والا پرنالہ  بنجر ہوچکا ہے جہاں اسکول سے واپس آتے ہوئےمیں،بر کھا رت میں اپنی کاپیاں پھاڑ کر کاغذ کی کشتیوں میں تبدیل کر دیا کر تی تھی۔۔۔

گھر کے پچھواڑے والا سوہانجنےکا درخت اپنے پھولوں اور پھلیوں سمیت وقت کا لقمہ بن چکا ہے، جس کی مٹی سےمجھےکبھی کبھی کبھار چونی اٹھنی مل جاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

پیپل کے درخت کے وہ پتے جن کی پیپی بنا کر میں شہنائی کی آواز سنا کرتی تھی،اس کی لٹکتی ہوئی جڑیں جو مجھےسادھو بن کر ڈراتی تھیں، مہاتما بدھ کے نروان کو تلاش کرتے کرتے پچھلی صدی کی گپھا میں ہی رہ گئے ہیں۔۔۔

میری شاعری نیلگوں وسیع و عریض، شفاف آسمان کا کینوس ہے،جہاں میں اپنی مرضی کی تصویریں پینٹ کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابن ہڈ کےاس شہر کی سرنگیں، نجانے کس طرح میڈ میرین کو لے کر مغلیہ دور کے قلعوں میں جا نکلتی ہیں۔۔۔

لارڈ بائرن اور ڈی ایچ لارنس کا یہ شہر،دھیرے دھیرے مجھے جکڑ تا رہا، ولیم ورڈز ورتھ کے ڈیفوڈل اپنی زرد زرد پلکوں سےسرسوں کےکھیت یاددلاتےرہے۔۔۔

نوٹنگھم شہر کی چوک کے وسط میں لہراتا یونین جیک، نجانے کس طرح سبز پاکستانی پرچم کے چاند تارے میں بدل جاتا ہے۔۔۔

پرانی کیسٹوں میں ریکارڈ کئےہوئےگیت اور دوہے، کسی نہ کسی طرح پائلوں میں رمبھا، سمبھا اور لیٹن کی تھرک پیدا کردیتےہیں۔۔۔

شیلےاور کیٹس کا رومانوی انداز،غالب اور چغتائی کےآرٹ کا مرقع بننےلگتا ہے۔۔۔

مجھے جوگن بنا کر ہندی بھجن سسنے پر بھی مجبور کرتی ہیں ۔۔۔ Hymnsشیلنگ کی

سائنسی حقیقتیں،میرےدرد کو نیلی رگوں میں بدلنےکی وجوہات تلاش کرتی ہیں۔۔۔

کریم کافی،مٹی کی سوندھی سوندھی پیالیوں میں جمی چاندی کے ورق جیسی کھیر بن کر مسجدوں سے آنے والی اذان کی طرح رونگھٹے کھڑے کر دیتی ہے۔۔۔۔

سونےکےنقش و نگار سے مزین کتھیڈرل، اونچےاونچے بلند و بالا گرجا  گھر،مشرق کے سورج چاچا اور چندا ماما کا چہرہ چومتےہیں۔۔۔

وینس کی گلیوں میں گھومتے ہوئے،پانی میں کھڑی عمارتوں کی دیواروں پر کائی کا سبز رنگ ،مجھےسپارہ پڑھانے والی استانی جی کےآنگن میں لگی ترئی کی بیلوں کی طرح لپٹا۔۔۔

جولیٹ کےگھر کی بالکنی میں کھڑے ہو کر،مجھے اپنے گلی محلوں کے لڑ کوں کی سیٹیاں سنائی دیں۔۔۔

شاہ عبدالطیف بھٹائی کےمزار اور سہون شریف سےلائی ہوئی کچےکانچ  کی چوڑیاں، مٹی کےرنگین گگھو گھوڑے جب میں تحفتا اپنےانگریز دوستوں کے لئے لائی تو میری سانس کی مالا فقیروں کے گلوں میں پڑے منکوں کی مانند بکھر کر کاغذپر قلم کی آنکھ سےٹپک گئی۔۔.

شاعری مجھےاپنی ہواؤں میں،پروین شاکر کی خوشبو کی طرح اڑانےلگتی ہے، موتئےکی وہ کلیاں یاد دلاتی ہےجنھیں میں قبل از وقت کھلاکر گجرا بنانے کیلئے، کچا کچا توڑ کر بھیگے بھیگے سفید ململ میں لپیٹ دیا کر تی تھی،اور وہ رات کی رانی جو میری خوابگاہ کی کھڑکی کے پاس تھی ،آج بھی یادوں کی بین پر لہراتی رہتی ہے۔۔۔۔
شاعری ایک نیلا نیلا گہرا سمندر بن کر ان لہروں کے چھینٹے اڑانے پر مجبور کردیتی ہے،جہاں میں اتوار کو گھر والوں کےساتھ جاکر اونٹوں کےگلے میں بجتی گھنٹیوں کےسحر میں مبتلا ،سیپیاں چنتےچنتے، ریت میں سسی کےآنچل کا کنارہ،ڈھونڈنے لگتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنہری دھوپ کےساتھ بچپن کےاس گاؤں کی طرف لےجاتی ہےجہاں ہم گرمیوں کی چھٹیاں گزارنےجاتےتھے،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معصوم سہیلیوں کے پراندوں میں الجھا دیتی ہےجن میں وہ موتی پرو کر نشانی کےطور پر مجھےدیتی تھیں،تاکہ میں انھیں شہر جاکر بھول نہ جاؤں۔۔۔

شاعری وہ نیل کنٹھ ہےجو صرف گاؤں میں نظر آتا تھا،

جس کے بارے میں اپنی کلاس فیلوز کو بتاتےہوئے میں ان کی آنکھوں کی حیرت سےلطف اندوز ہوتی اورصوفی شعرا کےکلام جیسا سرور محسوس کرتی۔۔۔

شاعری ان گلابی گلابوں کےساتھ بہتی ہےجنھیں میں اپنےابو کے گلقند بنانے والےباغوں سےتوڑ کر اپنی جھولی میں بھرکر،ندیا میں ڈالتی اوراس پل پرجو اس وقت بھی مجھےچینی اور جاپانی دیو مالائی کہانیوں کےدیس میں لےجاتا تھا گھنٹوں کھڑی اپنی سہیلیوں کےساتھ اس بات پر جھگڑتی کہ میرےگلاب زیادہ دور گئےہیں۔۔۔۔

صفورے کےاس درخت کی گھنی چھاؤں میں بٹھادیتی ہےجو ہمارے باغیچےمیں تھا اور جس کےنیلےاودے پھول جھڑ کر زمین پر اک غالیچہ بنتی،جس پر سفر کرتے ہوئےمجھے کسی کنکورڈ کی چنگھاڑ نہیں سنائی دیتی تھی۔۔۔

شاعری بڑے بھائی کی محبتوں کی وسعتوں کا وہ نیلا آسمانی حصار ہے،جو کبھی کسی محرومی کےاحساس سےنہیں ٹوٹا۔۔۔۔

کڑوے نیم تلے جھلنے والا وہ پنکھا ہے جس کے جھونکے بڑی باجی کی بانہوں کی طرح میرے گرد لپٹ جاتےہیں۔۔۔

شاعری سڑکوں پر چھوٹے بھائی کی موٹر سائیکل کی طرح فراٹےبھرتی ہےجس پر میں اس کےساتھ سند باد جیسی انگریزی فلمیں دیکھنے جاتی اور واپسی پر جادوگر کے سونگھائے ہوئے نیلے گلاب کےاثر میں واپس آتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اان تتلیوں اور مورنیوں کے پاس لےجاتی ہےجو چھوٹی بہنوں کی صورت، آپی آپی کہہ کر میرے گرد منڈلاتی رہتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔

ان چڑیوں کی چوں چوں سنواتی ہےجن کو میں دادی کی آنکھ بچا کر باسمتی چاول، مٹھیاں بھر بھر کے چپکے سے چھت پر کھلاتی اور ان کی پیار بھری ڈانٹ سنا کرتی تھی۔۔۔

شاعری میرے طوطے کی گردن کے گرد پڑا ہوا سرخ کنٹھا بن جاتی ہے، جس سےٹپکنے والے سرخ لہو کےقطرے یادوں کے دریا میں گرتے ہی لعل و یاقوت بن کر راجکماری کےمحل کو جانےوالی سمت بہتے ہیں، انار کی نارنجی کچی کلیاں ہیں جو نگہت اور شاہین،اپنی امی سےچھپ کر میرے ساتھ توڑلیتیں، جس کے بعد بقیہ انار پکنے تک گھر سے نکلنا بند ہوجا یا کرتا تھا۔۔۔۔

یہ شاعری مجھےمولسری کی ان شاخوں میں چھپادیتی ہے جن پر میں اور شہنازتپتی دوپہروں میں مولسریاں کھا کر ان کی گٹھلیاں راہگیروں کو مارتےاور اپنے آپ کو ماورائی شخصیت سمجھتے۔۔۔

یہ میری سہیلی شیریں کےگھر میں لگے ہوئےشہتوت کےکالےکالے رسیلے گچھوں جیسی ہے جن کا ارغوانی رنگ سفید یو نیفارم سے چھٹائے نہیں چھٹتا ۔۔۔۔

شاعری مجھےان اونچی اونچی محرابوں میں لےجاتی ہے جہاں میں اپنی حسین پھپھیوں کو کہانیوں کی شہَزادیاں سمجھا کرتی ،جن کے پائیں باغ میں لگا جامن کا درخت آج بھی یادوں پر نمک مرچ چھڑک کر کوئلوں اور پپیہوں کی طرح کوکتا ہے، شاعری بلقیس خالہ کا وہ پاندان یاد دلاتی ہے جس میں سپاری کےطرح ان لمحوں کےکٹے ہوئےٹکڑے رکھے ہیں جن میں ،میں ابن صفی صاحب سے حمیدی ،فریدی اور عمران کےآنے والے نئے ناول کی چھان بین کرتی ، خالہ کےہاتھ سے لگے ہوئے پان کا سفید چونا،صفی صاحب کی سفید  کار کی طرح اندر سےکاٹ کر تیز رفتاری سےاب بھی گزرتا ہے۔۔۔

یہ کبھی کبھی مجھےموہنجو دڑو جیسے قبرستان میں کھڑا کر دیتی ہے ، جہاں میں اپنے ماں ،باپ کےلئے فاتحہ پڑھتے ہوئے کورے کانچ کی وقت گھڑی میں ریت کی مانند بکھرنے لگتی ہوں،مصری ممیوں کی طرح حنوط چہروں کو جگانے کی کوشش کرتی ہوں،نیلگوں اداسیاں مجھےگھیر لیتی ہیں، درد کی نیلی رگیں میرے تن بدن پر ابھرنےلگتی ہیں،شب کےنیلگوں اندھیرےمیں سر سراتی دھنیں، سایوں کی مانند ارد گرد ناچنےلگتی ہیں،ان کی نیلاہٹ ،پر اسرار طمانیت کے ساتھ چھن چھن کر دریچوں کا پٹ کھولتی ہے، چکوری کی مانند ،چاند ستاروں کے بتاشے سمیٹنے کی خواہشیں کاغذ کے لبوں پر آجاتی ہیں ،سقراط کے زہریلے پیالےمیں چاشنی ملانےکی کوشش تیز ہو جاتی ہے، ہری ہری گھاس کی باریک پتیوں پہ شبنم کی بوندیں جمتی ہی نہیں،والدین جنت الفردوس کو سدھارے، پردیس نے بہن بھائی اور ہمجولیاں چھین لیں، درد بھرے گیت روح چھیلنے لگے،حساسیت بڑھ گئی  ڈائری کے صفحے کالے ہوتے گئے، دل میں کسک کی کرچیاں چبھتی رہیں، کتابیں اور موسیقی ساتھی بن گئیں، بے تحاشہ مطالعہ کیا، جس لائیبریری سےجو بھی مل جاتا پیاسی ندی کی مانند پی جاتی،رات گئے تک مطالعہ کرتی، دنیا کےمختلف ممالک کےادب سے بھی شناسائی ہوئی، یوں رفتہ رفتہ اس نیلےساگر میں پوری طرح ڈوب گئی۔ ۔ ۔

شاعری ایک اپنی دنیا ہےجہاں کچھ پل کےلئےاچانک سب کی نظر سےاوجھل ہو کر میں شہرِ سبا کی سیڑھیاں چڑھتی ہوں، اسی لیئےمیری شاعری سماجی اور انقلابی مسائل کےبجائے میری اپنی راہ فرار کی جانب جاتی ہے، ورنہ اس دنیا میں کون ہےجس کو ان سےمفر ہے!۔

  شاعری مجھے نیلے نیلےآسمان کی وسعتوں سے بادلوں کے چھوٹے چھوٹے سپید ٹکروں کی مانند، خواب وخیال کی دنیا سے نکال  کر، سرخ سرخ اینٹوں سے بنے ہوئے گھروں کی اس سرزمین پراتار دیتی ہے جہاں میں زندگی کے کٹھن رستوں پر اپنے شوہر کے ساءبان تلے چل رہی ہوں، جہاں میرے پھول سے بچوں کی محبت بھری مہک مجھے تروتازہ و سرشار رکھتی ہے۔Name Naina Iceblue heart

 

Sade Adu April 1, 2020

Posted by Farzana Naina in Film and Music, Music, Radio, Video.
Tags:
add a comment

Still in love with youstar-1

Born    Helen Folasade Adu

16 January 1959 (age 61) AT PRESENT

Ibadan, Colony and Protectorate of Nigeria

Other names   Sade Adu

Alma mater     Saint Martin’s School of Art

Occupation

Singer, song writer, actress

Year’s active   1982–present

Home town     Colchester, Essex, UK

Net worth       £50 million (2015)

Spouse(s)       Carlos Pliego (m. 1989–1995)

Partner(s)       Ian Watts (2007–present)

Children         1

 

Musical career

Genres

Soul, Smooth Jazz, Sophisti-pop, Quiet Storm

Instruments    Vocals, Guitar

Labels

Portrait Epic RCA Sony

Associated acts

Sade

Website         www.sade.com

Studio Albums

Diamond Life (1984)

Promise (1985)

Stronger Than Pride (1988)

Love Deluxe (1992)

Lovers Rock (2000)

Soldier of Love (2010)

music notes

There is a woman in Somalia

Scraping for pearls on the roadside

There’s a force stronger than nature

Keeps her will alive

This is how she’s dying

She’s dying to survive

Don’t know what she’s made of

I would like to be that brave

She cries to the heaven above

There is a stone in my heart

She lives a life she didn’t choose

And it hurts like brand-new shoes

Hurts like brand-new shoes

There is a woman in Somalia

The sun gives her no mercy

The same sky we lay under

Burns her to the bone

Long as afternoon shadows

It’s gonna take her to get home

Each grain carefully wrapped up

Pearls for her little girl

She cries to the heaven above

There is a stone in my heart

She lives in a world she didn’t choose

And it hurts like brand-new shoes

کورونا وائرس: کووڈ-19 سے متعلق سوالات اور جوابات March 27, 2020

Posted by Farzana Naina in Covid 19.
Tags: , ,
1 comment so far

کورونا وائرس: کووڈ-19 سے متعلق چند بنیادی سوالات اور ان کے جواب

26 مار چ 2020

دنیا میں جیسے جیسے کووِڈ-19 نامی کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے عام آدمی کے ذہن میں اس بیماری کے بارے میں نت نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔

مارچ کی 26 تاریخ تک دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اب تک چار لاکھ 72 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ اس سے اب تک 21 ہزار 300 سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

جیسا کہ یہ وائرس کھانسی کے ذریعہ انسان سے انسان میں منتقل ہوتا ہے لہذا یہ ضروری ہے کہ الکوحل سے بنے ہینڈ سینیٹائزر یا گرم پانی اور صابن سے بار بار ہاتھ دھوئیں اور چہرے کو بار بار چھونے سے اجتناب کریں۔

اس کے علاوہ، آپ کو کسی بھی ایسے شخص سے رابطے سے گریز کرنا چاہیے جسے کھانسی، زکام یا بخار کے شکایت ہو۔ جو بھی شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے متاثر ہے اسے فوراً اپنے معالج سے رابطہ کرنا چاہیے۔

 

ایک ہفتہ قبل میری سونگھنے اور ذائقے کی حس ختم ہوگئی، کیا یہ کورونا وائرس کی علامت ہے؟

برطانیہ میں ناک، کان اور گلے کے سپیشلسٹ ڈاکٹروں کے نوٹس میں آیا ہے کہ سونگھنے کی حس کے ختم ہونے یعنی اینوسمیا کی شکایات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں لوگ سوشل میڈیا پر سونگھنے اور ذائقے کی حس سے محرومی کی شکایت کی رہے ہیں اور کچھ کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ مگر اب تک اس حوالے سے ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہیں اور عمومی نزلہ زکام کی وجہ سے بھی سونگھنے یا ذائقے کی حس یا دونوں عارضی طور پر ختم ہوجاتی ہیں۔

میں خطرے کی زد میں موجود شخص ہوں اور میری نگہداشت کے لیے نرس کو آنے کی ضرورت ہے، کیا وہ میرے گھر آ سکتے ہیں؟

اگر آپ کو انتہائی ضروری نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے تو یہ ایسی صورتحال میں جاری رہ سکتی ہے جب اس شخص میں کورونا وائرس کی علامات نہ ہوں۔

آپ کے گھر آنے والے کسی بھی شخص کو آپ کے گھر میں داخل ہونے اور آپ کے گھر سے جانے سے پہلے اور اس دوران بار بار 20 سیکنڈ تک اپنے ہاتھ صابن اور پانی سے دھونے چاہییں۔ اس کے علاوہ انھیں آپ سے دو میٹر یعنی 6 فٹ کا فاصلہ برقرار رکھنا چاہیے۔

یہ بھی اہم ہے کہ ایسے متبادل افراد موجود ہوں جو آپ کے نرس کے بیمار پڑنے پر آپ کی نگہداشت کر سکیں۔

اگر کسی میں کووِڈ-19 کی علامات پیدا ہوجائیں تو گھر میں موجود کسی حاملہ خاتون کو خود ساختہ تنہائی سے متعلق کیا اقدام کرنا چاہیے؟

اگر آپ کے گھر میں کسی کے اندر کورونا وائرس کی علامات پیدا ہوجائیں تو برطانوی حکومت کی ہدایت ہے کہ خطرے کی زد میں موجود لوگ یعنی حاملہ خواتین یا 70 سال سے زائد عمر کے افراد ہوسکے تو 14 دن کے لیے خود کو تنہا کر لیں۔

اگر یہ ممکن نہ ہو تو علامات کے حامل شخص سے جتنا دور ہو سکے اتنا دور رہیں۔ ابھی تک اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ہیں کہ کیا کورونا وائرس کی وجہ سے حاملہ خواتین اور ان کے بچے زیادہ خطرے کے شکار ہیں، لیکن حکام نے زور دیا ہے کہ انھیں اس حوالے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

کیا کورونا وائرس پالتو کتوں اور بلیوں کے بالوں پر زندہ رہ سکتا ہے اور وہاں سے دوسرے لوگوں کو لگ سکتا ہے؟

کورونا وائرس کا خطرہ نہ بھی ہو تب بھی آپ کو پالتو جانوروں پر ہاتھ پھیرنے یا انھیں سنبھالنے کے بعد اپنے ہاتھ اچھی طرح دھونے چاہییں۔ اور جہاں یہ مانا جا رہا ہے کہ کووِڈ 19 ابتدائی طور پر انسانوں میں جانوروں کے ذریعے آیا تھا، یہ اب بھی واضح نہیں ہے کہ ایسا کیسے ہوا، اور اب تک ایسی کوئی مثال نہیں جس میں انسانوں کو یہ اپنے پالتو جانوروں کے ذریعے لگا ہو۔

جانوروں کی صحت کی عالمی تنظیم (او آئی ای) کا کہنا ہے کہ بظاہر پالتو جانور وائرس پھیلانے کا سبب نہیں ہیں، مگر اس حوالے سے مزید ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں کہ کیا جانوروں پر یہ اثرانداز ہوتا ہے یا نہیں، اور اگر ہوتا ہے تو کس طرح۔

او آئی ای کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ لوگ جو کووِڈ-19 کے شکار ہیں یا اس بیماری کی وجہ سے زیرِ علاج ہیں، انھیں پالتو جانوروں کے قریب جانے سے گریز کرنا چاہیے اور کسی دوسرے شخص سے کہنا چاہیے کہ وہ انھیں سنبھال لے۔ اور اگر انھیں یہ خود ہی کرنا ہو تو صفائی کا خیال رکھنا چاہیے اور چہرے پر ماسک پہننا چاہیے۔

کورونا وائرس کی نگہداشت کا دورانیہ کتنا ہے؟

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے میں عموماً پانچ دن لگ جاتے ہیں لیکن کچھ لوگوں میں یہ علامات بہت دیر میں بھی ظاہر ہوئیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وائرس کی نگہداشت کا دورانیہ 14 دن تک کا ہے لیکن بعض محققین کا کہنا ہے کہ یہ 24 دن تک بھی ہوسکتا ہے۔۔

نگہداشت کے دورانیے کے بارے میں علم ہونا اور اسے سمجھنا بہت اہم ہے۔ اس کی مدد سے ڈاکٹرز اور صحت کے حکام کو اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے طریقے تلاش کرنے میں مدد ملی ہے۔

کیا کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے کا مطلب ہے کہ اس سے بچ گئے؟

یہ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ اس وائرس سے انسانوں کا واسطہ ابھی گذشتہ دسمبر سے پڑا ہے لیکن ماضی میں دوسرے وائرسز اور کورونا وائرس کی اقسام کے ساتھ ہونے والے تجربات کی بنیاد پر دیکھا جائے تو آپ کے اندر آپ ایسی اینٹی باڈیز ہونی چاہیئں جو آپ کو اس وائرس سے پچا سکیں۔

سارس اور دوسرے کورونا وائرس میں دوبارے انفیکشن دیکھنے میں نہیں آیا۔ چین سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق ہسپتال سے خارج کیے جانے والے افراد میں دوبارہ مثبت ٹیسٹ آئے ہیں لیکن ہم ان ٹیسٹس کے بارے مںی بھی پر یقین نہیں۔

تاہم اہم بات یہ ہے کہ یہ لوگ اب انفیکشن پھیلنے کا سبب نہیں رہے۔

کورونا اور فلو میں کیا فرق ہے؟

کورونا اور فلو کی کئی علامات ایک جیسی ہیں جس کی وجہ سے بغیر ٹیسٹ کے اس کی تشخیص مشکل ہے۔ کورونا وائرس کی بڑی علامات میں بخار اور خشک کھانسی شامل ہیں۔

فلو میں بھی اکثر بخار اور کھانسی ہوتی ہے جبکہ لوگوں کو سانس لینے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔

سیلف آئسولیشن کا کیا مطلب ہے؟

سیلف آئسولیشن کا مطلب 14 دن کے لیے گھر پر رہنا ہے اس دوران نہ تو یہ شخص سکول یا کام پر جاتا ہے نہ ہی کسی عوام مقام پر اور اس دوران وہ عوامی ٹرانسپورٹ کے استعمال سے بھی گریز کرتا ہے۔

سیلف آئسولیشن کے دوران ایسا کرنے والا شخص اپنے گھر میں بھی دوسرے افراد سے دور رہتا ہے۔

اگر آپ سیلف آئسولیشن میں ہیں اور اگر آپ کو سودا خریدنے کی ضرورت ہے تو آن لائن سروس استعمال کریں۔

اس دوران آپ کو اپنے پالتو جانوروں سے بھی دور رہنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو ان کے پاس جانے سے پہلے اور بعد ہاتھ ضرور دھوئیں۔

مجھے کیا کرنا چاہیے اگر میرے ساتھ رہنے والا سیلف آئسولیشن اختیار کر لے؟

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروسز کا کہنا ہے ایسے افراد جو خود ساختہ طور پر اپنے آپ کو الگ تھلگ رکھ رہے ہیں ایسے میں صرف ان لوگوں کو ان ساتھ رہنے کی اجازت دی جانی چاہیے جو پہلے سے ان کے ساتھ رہتے ہیں۔

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس شخص کو شک ہے کہ اسے کورونا وائرس ہے اسے گھر میں موجود دوسروں سے کم سے کم رابطہ رکھنا چاہئے۔ اگر ممکن ہو تو ، انھیں ایک ہی کمرے میں نہیں رہنا چاہئے۔

کسی بھی مشترکہ کراکری اور کھانے کے برتنوں کو استعمال کے بعد اچھی طرح صاف کرنا چاہئے، اور باتھ روم اور مشترکہ استعمال کی سطحوں کو بھی اچھی طرح صاف کرنا چاہیے۔

کیا کسی پبلک سوئمنگ پول میں تیرنا محفوظ ہے؟

بیشتر پبلک سوئمنگ پولز کے پانی میں کلورین ہوتا ہے، ایک ایسا کیمیکل جو وائرس کو مار سکتا ہے۔ لہذا جب تک اس میں مناسب طریقے اور مقدار کی کلورین شامل ہے سوئمنگ پول کو استعمال کرنا محفوظ ہونا چاہئے۔

البتہ آپ پھر بھی کسی متاثرہ شخص سے وائرس پکڑ سکتے ہیں اگر وہ سطحوں کو آلودہ کرتے ہیں ، جیسے کپڑے تبدیل کرنے کی جگہ یا عمارت کے دروازوں کے ہینڈلز وغیرہ۔ اور اگر کوئی وائرس سے متاثرہ شخص وہاں موجود ہوں تو وہ قریبی رابطے میں آنے کے صورت میں کھانسی اور چھینک کے ذریعہ بھی وائرس دوسروں میں منتقل کر سکتا ہے۔

کورونا وائرس سے بچنے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بہت سارے دیگر طریقے موجود ہیں۔

کیا صحت مند معذور افراد میں کورونا وائرس سے مرنے کا خطرہ زیادہ ہے؟

کورونا وائرس سے زیادہ متاثر ہونے کا خطرہ بزرگ افراد یا پہلے سے بیمار افراد میں زیادہ ہوتا ہے۔ ان بیماریوں میں دل کے امراض، ذیابیطس اور پھیھڑوں کی بیماریاں شامل ہیں۔

اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ معذور افراد جو دوسری صورت میں صحت مند ہیں اور جو مثال کے طور پر سانس کی تکلیف میں مبتلا نہیں ہے ان میں کورونا وائرس سے ہلاکت کا خطرہ زیادہ ہے۔

کورونا وائرس سے بچوں کو کتنا خطرہ ہے؟

چین کے اعداد و شمار کے مطابق عام طور پر بچوں کو کورونا وائرس نے نسبتاً بہت کم متاثر کیا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ انفیکشن کا خاتمہ کرنے کے قابل ہیں یا ان میں کوئی علامات نہیں ہیں یا صرف بہت ہی ہلکی سی علامات ظاہر ہوئی ہے جیسا کہ زکام۔

تاہم ، دمہ جیسی بنیادی پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا بچوں کو زیادہ محتاط رہنا پڑتا ہے کیونکہ وائرس ان پر حملہ آور ہوسکتا ہے۔

اگرچہ زیادہ تر بچوں کے لیے یہ کسی سانس کے دیگر انفیکشن کی طرح ہوگا اور خطرے کی کوئی وجہ بات نہیں ہو گی۔

دمہ کے مریضوں کے لیے یہ وائرس کتنا خطرناک ہے؟

سانس کی بیماری کا شکار کرنے والے کورونا وائرس جیسے وائرس سے دمہ کی علامات بڑھ سکتی ہیں۔

دمہ کی بیماری کے حوالے سے برطانوی ادارے ’ایزتھما یو کے‘ ایسے افراد کو جو اس وائرس سے تشویش میں مبتلا ہیں اپنے دمے کی بیماری پر قابو پانے کے لیے چند ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ ان ہدایات میں ڈاکٹر کا تجویز کردہ انہیلر کا روزانہ استعمال شامل ہے۔

اس سے کورونا وائرس سمیت کسی بھی سانس کے وائرس سے دمہ کے حملے کے خطرے کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

اگر آپ کے دمے کی علامات کسی بھی وقت بگڑ جائیں تو فوراً اپنے معالج سے رابطہ کریں۔

اگر آپ کے کسی دفتری ساتھی کو کورونا وائرس کی وجہ سے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے تو کیا آپ کو بھی قرنطینہ میں رہنا چاہیے؟

اس ضمن میں متعدد اداروں نے کورونا وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے عملے کو گھر سے کام کرنے کو کہا ہے۔ یہ فیصلہ ان کمپینوں کے چند ملازمین کی متاثرہ ممالک سے واپسی کے بعد ان میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔

لیکن برطانوی ادارے پبلک ہیلتھ انگلینڈ (پی ایچ ای) کا کہنا ہے کہ عملے کو کام سے گھر بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ زیادہ تر مشتبہ کیسز کے نتائج منفی نکلتے ہیں۔ برطانوی ادارہ برائے صحت دفتروں کو بند کرنے کی سفارش نہیں کرتا ہے یہاں تک کہ اگر کورونا وائرس کا کوئی تصدیق شدہ کیس بھی ہو۔

برطانوی حکام صرف ان افراد کو خود ساختہ قرنطینہ کا مشورہ دیتے ہیں:

جو کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں

جن کا تصدیق شدہ متاثرہ افراد کے ساتھ قریبی رابطہ رہا ہو

جنھوں نے حال ہی میں متاثرہ ممالک کا دورہ کیا ہو

کیا ایسے افراد جن کو پہلے ہی نمونیا ہو چکا ہے وہ کورونا وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں؟

یہ نیا کورونا وائرس بہت کم تعداد میں افراد کو نمونیا میں مبتلا کر سکتا ہے۔ صرف ان افراد میں اس کا خطرہ موجود ہے جن کے پھیپھڑے پہلے ہی سے کمزور یا خراب ہوں۔ مگر کیونکہ یہ کورونا وائرس کی ایک نئی قسم ہے اور کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں ہے اس لیے یہ نیا وائرس کسی بھی طرح کی پھیپھڑوں کی بیماری یا نمونیا کا سبب بن سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف ویکسین دستیاب ہونے میں ابھی 18 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔

حاملہ خواتین اگر کورونا وائرس سے متاثر ہو جائیں تو ان کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟

سائنسدانوں کے پاس ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ حاملہ خواتین کو اس وائرس سے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ ہے۔

اپنے آپ کو وائرس سے بچانے کے لیے حفظان صحت کے آسان مشوروں پر عمل کرنا ضروری ہے۔ ان میں اکثر اپنے ہاتھوں کو صابن اور پانی سے اچھی طرح دھونا، اپنے چہرے، آنکھوں یا منہ کو گندے ہاتھوں سے نہ چھونا اور بیمار لوگوں سے دور رہنا شامل ہے۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کورونا وائرس سے متاثر ہو گئے ہیں، یا کسی ایسے شخص کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں جسے اس وائرس نے متاثر کیا یا کسی ایسے متاثرہ ملک کا سفر کیا ہو تو آپ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ اپنے گھر میں رہیں اور ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

کیا کورونا وائرس فلو سے زیادہ نقصان دہ ہے؟

ابھی ان دونوں بیماری کا براہ راست موازنہ کرنا قبل از وقت ہے لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ دونوں وائرس انتہائی خطرناک ہیں۔

اوسطاً کورونا وائرس سے متاثرہ شخص دو سے تین دیگر افراد کو انفیکشن منتقل کرتے ہیں جبکہ فلو سے متاثرہ افراد اسے قریباً ایک دوسرے شخص تک پہنچاتے ہیں۔

تاہم، فلو سے متاثرہ افراد دوسروں کے لیے زیادہ تیزی سے متعدی ہو جاتے ہیں لہذا دونوں وائرس آسانی سے پھیل سکتے ہیں۔

اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے مہلک کورونا وائرس جانوروں سے انسانوں میں کیسے منتقل ہوا اور یہ تقریباً یقینی ہے کہ چین میں کورونا وائرس کی ابتدائی وباء کسی جانور کے ذریعہ ہی شروع ہوئی تھی۔ اس نئے انفیکشن کے ابتدائی واقعات کا سراغ جنوبی چین کی سی فوڈ ہول سیل مارکیٹ سے ملتا ہے، جہاں زندہ جنگلی جانور بھی فروخت ہوئے جن میں مرغی، چمگادڑ اور سانپ شامل ہیں۔

البتہ کوئی جانور اس وائرس کو انسانی میں منتقل کرنے کا ذریعہ نہیں ہو سکتا ہے۔

چین سے باہر رہنے والے افراد کے لیے کسی جانور سے وائرس سے متاثر ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ ہم اس وقت اس وبا کے مختلف مرحلوں پر ہیں جہاں یہ انسان سے انسان میں پھیل رہا ہے اور یہ ہی اصل خطرہ ہے۔

کیا کورونا وائرس کھڑکی اور دروازے کے ہینڈل کو ہاتھ لگانے سے بھی پھیل سکتا ہے ؟

اگر کوئی متاثرہ شخص کھانسی کرتے ہوئے اپنے ہاتھ منھ پر رکھتا ہے اور پھر کسی چیز کو ہاتھ لگاتا ہے تو وہ سطح پر متاثر ہو جاتی ہے۔ دروازے کے ہینڈل اس کی اچھی مثال ہیں جہاں اس وائرس کے ہونے کا امکان ہو سکتے ہیں۔

تاہم اس بات کا ابھی تک علم نہیں ہے کہ یہ نیا کورونا وائرس اس طرح کی سطحوں پر کتنی دیر تک زندہ رہ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی عمر دنوں کی بجائے گھنٹوں میں ہے لیکن یہ بہتر ہے کہ آپ باقاعدگی سے ہاتھ دھوئیں تاکہ وائرس سے متاثر ہونے اور پھیلنے کا امکان کم ہو۔

کیا موسم اور درجہ حرارت کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر اثر ڈالتا ہے؟

ہمیں ابھی اس وائرس کے متعلق بہت کچھ جاننا باقی ہے۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ موسمی یا درجہ حرارت میں تبدیلی اس کے پھیلاؤ پر کوئی اثرات مرتب کریں گے یا نہیں۔

چند دیگر وائرس جیسا کے فلو موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ اپنے اثرات مرتب کرتا ہے جیسا کہ موسم سرما میں یہ بڑھ جاتا ہے۔

مارس اور اس طرح کے دیگر وائرس کے متعلق چند تحقیق یہ ظاہر کرتی ہیں کہ یہ آب و ہوا کے حالات سے متاثر ہوتے ہیں جو گرم مہینوں میں قدرے زیادہ تیزی سے پھیلتے ہیں۔

کیا آپ متاثرہ شخص کے تیارکردہ کھانے سے اس وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں؟

اگر کوئی کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کھانا تیار کردہ ہے اور اس دوران حفظان صحت اور صفائی کا خیال نہیں رکھتا تو ممکنہ طور پر اس سے کوئی اور شخص متاثر ہو سکتا ہے۔ کورونا وائرس کھانسی کے دوران منھ پر ہاتھ رکھنے سے پھیل سکتا ہے اور اگر ایسے میں متاثرہ شخص نے ہاتھ اچھی طرح دھو کر کھانا تیار نہیں کیا تو اس کے امکان بڑھ جاتے ہیں۔ لہذا کھانےکو چھونے اور کھانے سے قبل اچھی طرح ہاتھ دھوئیں تاکہ اس کے جراثیم کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

اگر آپ ایک مرتبہ کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں تو کیا اس وائرس کے خلاف آپ کی مدافعت بڑھ جاتی ہیں؟

جب لوگ کسی انفیکشن یا بیماری سے صحت یاب ہوجاتے ہیں تو ان کے جسم میں اس بیماری سے دوبارہ لڑنے کی کچھ یادداشت رہ جاتی ہے۔ تاہم یہ مدافعاتی عمل ہمیشہ دیرپا یا مکمل طور پر موثر نہیں ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں کمی بھی آسکتی ہے۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ انفیکشن کے بعد یہ مدافعت کب تک چل سکتی ہے۔

کیا چہرے کا ماسک وائرس کے خلاف کارآمد ہے اور اسے کتنی مدت بعد تبدیل کرناچاہیے؟

اس بارے میں بہت کم شواہد موجود ہیں کہ چہرے کے ماسک پہننے سے فرق پڑتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اپنے منھ کے قریب ہاتھ لے جانے سے قبل یہ زیادہ موثر ہے اچھی حفظان صحت کے تحت آپ باقاعدگی سے اپنے ہاتھ دھوئیں۔

کیا کورونا وائرس جنسی طور پر منتقل ہو سکتا ہے؟

یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا یہ بھی وائرس منتقلی کا ایک ذریعہ ہے یا نہیں جس کے بارے میں ہمیں فکر مند ہونا چاہئے۔ فی الحال، اس وائرس کے پھیلنے کا سب سے بڑا ذریعہ کھانسی اور چھینکوں کو سمجھا جاتا ہے۔

کیا کورونا وائرس سے متاثرہ شخص مکمل صحت یاب ہوا ہے؟

جی ہاں. بہت سے ایسے افراد جو کوروناوائرس سے متاثر ہوئے اور ان میں بیماری کے معمولی علامات ظاہر ہوئی ان میں سے زیادہ تر افراد کی مکمل صحت یابی کی توقع کی جاتی ہے۔

تاہم، بزرگ افراد جنھیں پہلے سے ذیابیطس، کینسر یا کمزور مدافعتی نظام جیسی بیماریاں لاحق ہیں ان کے لیے یہ ایک خاص خطرہ بن سکتا ہے۔

چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے ایک ماہر کا کہنا ہے کورونا وائرس کے معمولی علامات سے ٹھیک ہونے میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔

کیا کورونا وائرس ووہان سے خریدی گئی اور دیگر ممالک میں بذریعہ ڈاک بھیجی گئیں اشیا کے ذریعہ منتقل ہو سکتا ہے؟

اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اس کا کوئی خطرہ ہے۔ کورونا وائرس سمیت کچھ بیماریاں ان سطحوں سے پھیل سکتی ہیں جہاں ان کے متاثرہ افراد کے کھانسی یا چھینکنے کے بعد چھوا ہو، لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وائرس زیادہ دن زندہ نہیں رہتا ہے۔ کچھ بھی جو بذریعہ ڈاک بھیجا گیا ہے اس کے منزل مقصود تک پہنچنے تک اس سے آلودہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔

کیا سانس کی اس بیماری سے بچنے کے لیے ویکسینیشن کروانا ممکن ہے؟

اس وقت اس وائرس سے بچاؤ کی کوئی ویکسین موجود نہیں ہے جو لوگوں کو اس قسم کے کورونا وائرس سے بچا سکے لیکن محققین اس کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ ایک نئی بیماری ہے جو انسانوں میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔ جس کا مطلب ہے کہ ڈاکٹروں کے پاس اس کے بارے میں جاننے کے لیے ابھی بھی بہت کچھ ہے۔

کورونا وائرس: چہرے کو ہاتھ نہ لگانا اتنا مشکل کیوں؟

ہم روزانہ ہی اپنی آنکھوں، ناک اور منہ کو غیرارادی طور پر چھونے کے عادی ہیں

کسی وبا کے پھوٹنے کی صورت میں ہمیں اپنی ان تمام عادتوں میں سے جو ہمیں دوسرے جانداروں سے ممتاز کرتی ہیں، کے بارے میں متفکر ہونا چاہیے۔

جانداروں کی دوسری تمام انواع میں صرف انسانوں کے بارے میں یہ معلوم ہے کہ وہ غیرارادی طور پر اپنے جسم کو چھوتے ہیں۔

اور انسان کی یہی عادت کورونا وائرس (کووِڈ 19) کی وبا کے پھیلنے کا سبب بن رہی ہے۔

ہم ایسا کیوں کرتے ہیں، اور اس غیرارادی فعل کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟

آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ ہم سب اپنے چہروں کو بہت زیادہ چھوتے ہیں۔

سنہ 2015 میں آسٹریلیا میں میڈیکل کے طلبا پر کی گئی تحقیق میں انھیں بھی اس عادت میں مبتلا پایا گیا۔   

طب کے طالب علم کی حیثیت سے تو شاید انھیں اس کے مضر اثرات کے بارے میں زیادہ آگہی ہونی چاہیے تھی۔ مگر دیکھا گیا کہ انھوں نے بھی ایک گھنٹے کے دوران اپنے چہرے کو چھوا، جس میں منھ، ناک اور آنکھوں کو ہاتھ لگانا شامل تھا۔

ماہرینِ صحت اور عالمی ادارۂ صحت سمیت عوامی صحت کے دوسرے اداروں کا کہنا ہے کہ متواتر چھونے کی عادت خطرناک ہے۔

ہمارا منہ، ناک اور آنکھیں ہی ہمارے جسم میں جراثیم کے داخل ہونے کا راستہ ہیں

کووِڈ 19 سے بچاؤ سے متعلق ہدایات میں ہاتھوں کو غیرمتحرک رکھنے پر اتنا ہی زور دیا گیا ہے جتنا کہ انھیں دھونے پر۔

لگتا ہے کہ یہ انسان اور بندر کی نسل کے بس ہی میں نہیں کہ وہ ایسا نہ کرے، یہ ان کے ارتقا کا حصہ ہے۔

زیادہ تر انواع سنورنے اور سنوارنے یا پھر حشرات کو بھگانے کی غرض سے اپنے چہرے کو چھوتی ہیں، مگر انسان اور بندر کے ایسا کرنے کی اور کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

امریکہ میں یو سی برکلے سے وابستہ ماہرِ نفسیات ڈیکر کلکنر کا کہنا ہے کہ بعض اوقات یہ فعل سکون بخش ہوتا ہے۔ جبکہ بعض اوقات ناز اٹھانے یا اٹھوانے یا پھر مختلف جذبات کے اظہار کے دوران وقفہ پیدا کرنے کے لیے چہرے کو چھوا جاتا ہے، ’بالکل ویسے ہی جیسے سٹیج پر ایک منظر کے خاتمے پر پردہ گرتا اور نئے منظر سے پہلے اٹھتا ہے۔`

عادات پر ریسرچ کرنے والے دوسرے ماہرین کا خیال ہے کہ خود کو چھونے کا عمل ایک طرح سے اپنے جذبات اور توجہ کے دورانیے پر قابو رکھنا ہے۔

جرمن ماہرِ نفسیات اور لِپزگ یونیورسٹی کے پروفیسر مارٹِن گرنوالڈ سمجھتے ہیں کہ یہ ’ہماری انواع کی بنیادی خصلت ہے۔‘

انسان اور بندر کی نسل کے دوسرے جانور اپنے جسم کو بغیر کسی وجہ کے بھی چھوتے ہیں

پروفیسر گرنوالڈ نے بی سی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’خود کو چھونے والی حرکات خود ہی سرزد ہوتی ہیں۔ یہ کسی پیغام رسانی کا کام نہیں کرتی اس لیے اکثر ہمیں ان کا احساس بھی نہیں ہو پاتا۔‘

ان کہنا تھا کہ ’یہ ہمارے سوچنے، سمجھنے اور کئی جذباتی افعال میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اور ایسا تمام انسانوں کے ساتھ ہوتا ہے۔‘

خود کو چھونے میں مشکل یہ ہے کہ آنکھوں، ناک اور منھ کو چھونے سے ہر طرح کے جراثیم ہمارے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔

کووِڈ 19 ہی کی مثال لیجیے، یہ ایک انسان سے دوسرے انسان کو اس وقت لگتا ہے جب کسی متاثرہ شخص کی ناک یا منھ سے چھینٹے اُڑ کر دوسروں پر گرتے ہیں۔

ایسی چیزوں اور جگہوں کو چھونے سے بھی انفیکشن ہو سکتا ہے جہاں پہلے سے جراثیم موجود ہوں

لیکن یہ وبا اس وقت بھی لگ جاتی ہے جب ہم کسی ایسی چیز یا سطح کو چھوتے ہیں جس پر یہ وائرس پہلے سے موجود ہو۔

اگرچہ ماہرین فی الحال وائرس کی اس نئی قسم پر تحقیق میں مصروف ہیں، تاہم کورونا وائرس کی دوسری اقسام کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ یہ بہت سخت جان ہوتی ہیں اور تحقیق کے دوران وہ مختلف مقامات پر نو روز تک زندہ پائی گئی ہیں۔

بقا کی صلاحیت

ان کے باقی رہنے کی یہ صلاحیت ہمارے چہرے کو چھونے کی عادت کے ساتھ مل کر وائرس کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔

سنہ 2012 میں امریکی اور برازیلی محققین نے عام لوگوں میں سے بغیر کسی امتیاز کے منتخب ایک گروہ کا مشاہدہ کرتے ہوئے پایا کہ ان لوگوں نے ایک گھنٹے کے اندر تین سے زیادہ بار عوامی مقامات پر مختلف جگہوں کو چھوا تھا۔

چہرے پر ماسک یا نقاب ہمیں خود کو چھونے کی عادت سے باز رکھ سکتا ہے

ان لوگوں نے ایک گھنٹے کے اندر تین سے زیادہ مرتبہ اپنے منھ اور ناک کو بھی ہاتھ لگایا تھا۔ یہ تعداد آسٹریلیا میں طب کے طلبہ کی تعداد سے کہیں کم ہے جنھوں نے ایک گھنٹے کے اندر اپنے چہرے کو 23 بار چھوا تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ یہ طلبہ ایک کمرے میں بیٹھے ہوئے لیکچر سن رہے تھا جہاں باہر کے مقابلے میں دھیان بٹنے کے امکانات کم تھے۔

بعض ماہرین کے نزدیک خود کو چھونے کا یہ رجحان چہرے پر ماسک چڑھانے کو لازمی بنا دیتا ہے تاکہ ایسے وائرس سے بچا جا سکے۔

برطانیہ میں لیڈز یونیورسٹی کے پروفیسر سٹیون گریِفِن کا کہنا ہے کہ ’ماسک یا نقاب پہننے سے لوگوں میں چہرے کو چھونے کی عادت کو بھی کم کیا جا سکتا ہے، جو انفیکشن پھیلنے کا بڑا سبب ہے۔‘

ہم کیا کر سکتے ہیں؟

کولمبیا یونیورسٹی میں عادات و اطوار کے پروفیسر مائیکل ہالزورتھ کہتے ہیں کہ اس معاملے میں مشورہ دینا آسان مگر اس پر کاربند رہنا مشکل ہے۔

 ’لوگوں کو کسی ایسی چیز سے روکنا جو غیرارادی طور پر وقوع پذیر ہوتی ہے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔‘

ان کے بقول ’چہرے کو کم بار چھونے کے مقابلے میں بار بار ہاتھ دھونا زیادہ آسان ہے‘

آپ کسی ایسی عادت کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں جس کے بارے میں آپ کو پتا ہی نہ ہو

پروفیسر ہالزورتھ کا کہنا ہے کہ چند تراکیب ہیں جن کے ذریعے ہم چہرہ چھونے کی عادت کو کم کر سکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ ہم یہ عہد کر لیں کہ چہرے کو ہاتھ نہیں لگانا۔

وہ مشورہ دیتے ہیں کہ ’اگر خارش ہو تو متاثرہ مقام کو کھجانے کے لیے متبادل طریقے کے طور پر ہتھیلی کی پشت استعمال کی جا سکتے ہے۔ اگرچہ یہ ایک مثالی حل تو نہیں ہے، مگر اس طرح سے ہم مرض پھیلنے کا خطرہ ضرور کم کر سکتے ہیں۔‘

چھونے کے محرکات کی پہچان

ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ان عوامل کی بھی نشاندہی کرنے کی کوشش کرنے چاہیے جو ہمیں خود کو چھونے پر مجبور کرتے ہیں۔

پروفیسر ہالزورتھ کہتے ہیں کہ ’اگر ہمیں خود کو چھونے پر مجبور کر دینے والے عوامل کا پتا چل جائے تو ہم کچھ نہ کچھ کر سکتے ہیں۔

’جن لوگوں کو آنکھیں چھونے کی عادت ہو وہ دھوپ کی عینک پہن سکتے ہیں۔‘

’یا جب آنکھیں ملنے کو دل کرے تو ہاتھوں کو اپنے تلے دبا لیں۔‘

ہاتھ دھونے کو جتنی بھی اہیمت دی جائے کم ہے

یا پھر ہم ہاتھوں کو کسی اور طرح سے مصروف رکھ سکتے ہیں تاکہ وہ خود بخود اٹھ کر چہرے کی طرف نہ جائیں۔

لیکن ہاتھوں کو جراثیم سے پاک رکھنا ہر حال میں ضروری ہے۔

پروفیسر ہالزورتھ کا کہنا ہے کہ ’جو لوگ چہرے کو چھونے کی اپنی عادت سے مجبور ہیں وہ کسی دوست یا رشتہ دار سے کہہ سکتے ہیں کہ جب وہ ایسا کرنے لگیں تو انھیں ٹوک دیا جائے۔‘

دستانے پہننا کیسا رہے گا؟

اس وقت تک مناسب نہیں ہے جب تک انھیں بھی ہاتھوں کی طرح دھویا نہ جائے یا پھر متواتر بدلا نہ جائے۔

توجہ اور باقاعدگی سے ہاتھ دھونے کا کوئی متبادل نہیں ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس گھیبرییسس نے 28 فروری کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا ’ہمیں ویکسین اور دوا کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم خود کو اور دوسروں کو محفوظ رکھنے کے لیے انفرادی سطح پر کئی چیزیں کر سکتے ہیں۔‘

مقصود تک پہنچنے تک اس سے آلودہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔

کیا سانس کی اس بیماری سے بچنے کے لیے ویکسینیشن کروانا ممکن ہے؟

اس وقت اس وائرس سے بچاؤ کی کوئی ویکسین موجود نہیں ہے جو لوگوں کو اس قسم کے کورونا وائرس سے بچا سکے لیکن محققین اس کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ ایک نئی بیماری ہے جو انسانوں میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔ جس کا مطلب ہے کہ ڈاکٹروں کے پاس اس کے بارے میں جاننے کے لیے ابھی بھی بہت کچھ ہے۔

کورونا وائرس: چہرے کو ہاتھ نہ لگانا اتنا مشکل کیوں؟

ہم روزانہ ہی اپنی آنکھوں، ناک اور منہ کو غیرارادی طور پر چھونے کے عادی ہیں

کسی وبا کے پھوٹنے کی صورت میں ہمیں اپنی ان تمام عادتوں میں سے جو ہمیں دوسرے جانداروں سے ممتاز کرتی ہیں، کے بارے میں متفکر ہونا چاہیے۔

جانداروں کی دوسری تمام انواع میں صرف انسانوں کے بارے میں یہ معلوم ہے کہ وہ غیرارادی طور پر اپنے جسم کو چھوتے ہیں۔

اور انسان کی یہی عادت کورونا وائرس (کووِڈ 19) کی وبا کے پھیلنے کا سبب بن رہی ہے۔

ہم ایسا کیوں کرتے ہیں، اور اس غیرارادی فعل کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟

آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ ہم سب اپنے چہروں کو بہت زیادہ چھوتے ہیں۔

سنہ2015 میں آسٹریلیا میں میڈیکل کے طلبا پر کی گئی تحقیق میں انھیں بھی اس عادت میں مبتلا پایا گیا۔  

طب کے طالب علم کی حیثیت سے تو شاید انھیں اس کے مضر اثرات کے بارے میں زیادہ آگہی ہونی چاہیے تھی۔ مگر دیکھا گیا کہ انھوں نے بھی ایک گھنٹے کے دوران اپنے چہرے کو چھوا، جس میں منھ، ناک اور آنکھوں کو ہاتھ لگانا شامل تھا۔

ماہرینِ صحت اور عالمی ادارۂ صحت سمیت عوامی صحت کے دوسرے اداروں کا کہنا ہے کہ متواتر چھونے کی عادت خطرناک ہے۔

ہمارا منہ، ناک اور آنکھیں ہی ہمارے جسم میں جراثیم کے داخل ہونے کا راستہ ہیں

کووِڈ 19 سے بچاؤ سے متعلق ہدایات میں ہاتھوں کو غیرمتحرک رکھنے پر اتنا ہی زور دیا گیا ہے جتنا کہ انھیں دھونے پر۔

لگتا ہے کہ یہ انسان اور بندر کی نسل کے بس ہی میں نہیں کہ وہ ایسا نہ کرے، یہ ان کے ارتقا کا حصہ ہے۔

زیادہ تر انواع سنورنے اور سنوارنے یا پھر حشرات کو بھگانے کی غرض سے اپنے چہرے کو چھوتی ہیں، مگر انسان اور بندر کے ایسا کرنے کی اور کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

امریکہ میں یو سی برکلے سے وابستہ ماہرِ نفسیات ڈیکر کلکنر کا کہنا ہے کہ بعض اوقات یہ فعل سکون بخش ہوتا ہے۔ جبکہ بعض اوقات ناز اٹھانے یا اٹھوانے یا پھر مختلف جذبات کے اظہار کے دوران وقفہ پیدا کرنے کے لیے چہرے کو چھوا جاتا ہے، ’بالکل ویسے ہی جیسے سٹیج پر ایک منظر کے خاتمے پر پردہ گرتا اور نئے منظر سے پہلے اٹھتا ہے۔`

عادات پر ریسرچ کرنے والے دوسرے ماہرین کا خیال ہے کہ خود کو چھونے کا عمل ایک طرح سے اپنے جذبات اور توجہ کے دورانیے پر قابو رکھنا ہے۔

جرمن ماہرِ نفسیات اور لِپزگ یونیورسٹی کے پروفیسر مارٹِن گرنوالڈ سمجھتے ہیں کہ یہ ’ہماری انواع کی بنیادی خصلت ہے۔‘

انسان اور بندر کی نسل کے دوسرے جانور اپنے جسم کو بغیر کسی وجہ کے بھی چھوتے ہیں

پروفیسر گرنوالڈ نے بی سی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’خود کو چھونے والی حرکات خود ہی سرزد ہوتی ہیں۔ یہ کسی پیغام رسانی کا کام نہیں کرتی اس لیے اکثر ہمیں ان کا احساس بھی نہیں ہو پاتا۔‘

ان کہنا تھا کہ ’یہ ہمارے سوچنے، سمجھنے اور کئی جذباتی افعال میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اور ایسا تمام انسانوں کے ساتھ ہوتا ہے۔‘

خود کو چھونے میں مشکل یہ ہے کہ آنکھوں، ناک اور منھ کو چھونے سے ہر طرح کے جراثیم ہمارے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔

کووِڈ 19 ہی کی مثال لیجیے، یہ ایک انسان سے دوسرے انسان کو اس وقت لگتا ہے جب کسی متاثرہ شخص کی ناک یا منھ سے چھینٹے اُڑ کر دوسروں پر گرتے ہیں۔

ایسی چیزوں اور جگہوں کو چھونے سے بھی انفیکشن ہو سکتا ہے جہاں پہلے سے جراثیم موجود ہوں

لیکن یہ وبا اس وقت بھی لگ جاتی ہے جب ہم کسی ایسی چیز یا سطح کو چھوتے ہیں جس پر یہ وائرس پہلے سے موجود ہو۔

اگرچہ ماہرین فی الحال وائرس کی اس نئی قسم پر تحقیق میں مصروف ہیں، تاہم کورونا وائرس کی دوسری اقسام کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ یہ بہت سخت جان ہوتی ہیں اور تحقیق کے دوران وہ مختلف مقامات پر نو روز تک زندہ پائی گئی ہیں۔

بقا کی صلاحیت

ان کے باقی رہنے کی یہ صلاحیت ہمارے چہرے کو چھونے کی عادت کے ساتھ مل کر وائرس کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔

سنہ 2012 میں امریکی اور برازیلی محققین نے عام لوگوں میں سے بغیر کسی امتیاز کے منتخب ایک گروہ کا مشاہدہ کرتے ہوئے پایا کہ ان لوگوں نے ایک گھنٹے کے اندر تین سے زیادہ بار عوامی مقامات پر مختلف جگہوں کو چھوا تھا۔

چہرے پر ماسک یا نقاب ہمیں خود کو چھونے کی عادت سے باز رکھ سکتا ہے

ان لوگوں نے ایک گھنٹے کے اندر تین سے زیادہ مرتبہ اپنے منھ اور ناک کو بھی ہاتھ لگایا تھا۔ یہ تعداد آسٹریلیا میں طب کے طلبہ کی تعداد سے کہیں کم ہے جنھوں نے ایک گھنٹے کے اندر اپنے چہرے کو 23 بار چھوا تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ یہ طلبہ ایک کمرے میں بیٹھے ہوئے لیکچر سن رہے تھا جہاں باہر کے مقابلے میں دھیان بٹنے کے امکانات کم تھے۔

بعض ماہرین کے نزدیک خود کو چھونے کا یہ رجحان چہرے پر ماسک چڑھانے کو لازمی بنا دیتا ہے تاکہ ایسے وائرس سے بچا جا سکے۔

برطانیہ میں لیڈز یونیورسٹی کے پروفیسر سٹیون گریِفِن کا کہنا ہے کہ ’ماسک یا نقاب پہننے سے لوگوں میں چہرے کو چھونے کی عادت کو بھی کم کیا جا سکتا ہے، جو انفیکشن پھیلنے کا بڑا سبب ہے۔‘

ہم کیا کر سکتے ہیں؟

کولمبیا یونیورسٹی میں عادات و اطوار کے پروفیسر مائیکل ہالزورتھ کہتے ہیں کہ اس معاملے میں مشورہ دینا آسان مگر اس پر کاربند رہنا مشکل ہے۔

 ’لوگوں کو کسی ایسی چیز سے روکنا جو غیرارادی طور پر وقوع پذیر ہوتی ہے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔‘

ان کے بقول ’چہرے کو کم بار چھونے کے مقابلے میں بار بار ہاتھ دھونا زیادہ آسان ہے‘

آپ کسی ایسی عادت کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں جس کے بارے میں آپ کو پتا ہی نہ ہو

پروفیسر ہالزورتھ کا کہنا ہے کہ چند تراکیب ہیں جن کے ذریعے ہم چہرہ چھونے کی عادت کو کم کر سکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ ہم یہ عہد کر لیں کہ چہرے کو ہاتھ نہیں لگانا۔

وہ مشورہ دیتے ہیں کہ ’اگر خارش ہو تو متاثرہ مقام کو کھجانے کے لیے متبادل طریقے کے طور پر ہتھیلی کی پشت استعمال کی جا سکتے ہے۔ اگرچہ یہ ایک مثالی حل تو نہیں ہے، مگر اس طرح سے ہم مرض پھیلنے کا خطرہ ضرور کم کر سکتے ہیں۔‘

چھونے کے محرکات کی پہچان

ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ان عوامل کی بھی نشاندہی کرنے کی کوشش کرنے چاہیے جو ہمیں خود کو چھونے پر مجبور کرتے ہیں۔

پروفیسر ہالزورتھ کہتے ہیں کہ ’اگر ہمیں خود کو چھونے پر مجبور کر دینے والے عوامل کا پتا چل جائے تو ہم کچھ نہ کچھ کر سکتے ہیں۔

’جن لوگوں کو آنکھیں چھونے کی عادت ہو وہ دھوپ کی عینک پہن سکتے ہیں۔‘

’یا جب آنکھیں ملنے کو دل کرے تو ہاتھوں کو اپنے تلے دبا لیں۔‘

ہاتھ دھونے کو جتنی بھی اہیمت دی جائے کم ہے

یا پھر ہم ہاتھوں کو کسی اور طرح سے مصروف رکھ سکتے ہیں تاکہ وہ خود بخود اٹھ کر چہرے کی طرف نہ جائیں۔

لیکن ہاتھوں کو جراثیم سے پاک رکھنا ہر حال میں ضروری ہے۔

پروفیسر ہالزورتھ کا کہنا ہے کہ ’جو لوگ چہرے کو چھونے کی اپنی عادت سے مجبور ہیں وہ کسی دوست یا رشتہ دار سے کہہ سکتے ہیں کہ جب وہ ایسا کرنے لگیں تو انھیں ٹوک دیا جائے۔‘

دستانے پہننا کیسا رہے گا؟

اس وقت تک مناسب نہیں ہے جب تک انھیں بھی ہاتھوں کی طرح دھویا نہ جائے یا پھر متواتر بدلا نہ جائے۔

توجہ اور باقاعدگی سے ہاتھ دھونے کا کوئی متبادل نہیں ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس گھیبرییسس نے 28 فروری کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا ’ہمیں ویکسین اور دوا کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم خود کو اور دوسروں کو محفوظ رکھنے کے لیے انفرادی سطح پر کئی چیزیں کر سکتے ہیں۔‘

بتشکر: بی بی سی اردو

موہٹہ پیلس :کلفٹن میں واقع کراچی کا تاج محل January 17, 2020

Posted by Farzana Naina in Poetry.
Tags: ,
add a comment

تاج محل کی کہانی کس نے نہیں سُنی!۔

سب جانتے ہیں کہ قریب پونے چار سو سال پہلے ایک شہنشاہ نے اپنی ملکہ سے محبت کی یادگار تاج محل بنوائی۔ شاید شاہ جہاں کے نزدیک تو یہ عمارت صرف ممتاز محل کا مقبرہ ہی ہوگی لیکن آج یہ دنیا بھر میں پیار کی سب سے بڑی علامت کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔

جب ایک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر غریبوں کی محبت کا مذاق اُڑایا تو دوسرے پیسے والے کہاں پیچھے رہتے۔ ساحر لدھیانوی کے شکوے کی پروا کیے بغیر کراچی کے ماڑواری تاجر رائے بہادر شیورتن موہٹہ نے بھی اپنی بیوی کے لیے کراچی میں ایک شاندار محل کھڑا کر دیا۔

ہاں یہ ضرور تھا کہ ممتاز محل کے برعکس شیورتن کی اہلیہ زندہ تھیں لیکن ایک مہلک بیماری میں مبتلا ہو گئی تھیں۔ ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ اگر اُنھیں ساحلِ سمندر کے قریب رکھا جائے تو سمندری ہوا سے اُن کی صحت بہتر ہو سکتی ہے۔ بس پھر کیا تھا، سیٹھ شیورتن نے ٹھان لی کہ بحیرہ عرب کے کنارے ایک ایسا خوبصورت محل بنائیں گے جس کی نظیر پورے کراچی میں نہیں ملے گی۔

رائے بہادر شیورتن موہٹہ کے کراچی میں کئی گھر تھے لیکن 1933 میں تعمیر ہونے والا موہٹہ پیلس ہمیشہ اُن کا پسندیدہ رہا

شیورتن موہٹہ کون تھے؟

رائے بہادر شیورتن موہٹہ کا شمار کراچی کے سب سے مالدار افراد میں ہوتا تھا اور وہ شہر کی ایک معروف سماجی شخصیت بھی تھے۔ اُن کا خاندان کلکتہ سے آکر کراچی میں آباد ہوا اور انھوں نے صنعتی شعبے میں نام کمایا۔

شیورتن کا جہاز رانی اور جہاز سازی کا کاروبار تھا۔ اِس کے علاوہ شوگر اور سٹیل ملیں بھی تھیں۔ اُن کے کراچی میں کئی گھر تھے لیکن 1933 میں تعمیر ہونے والا موہٹہ پیلس ہمیشہ اُن کا پسندیدہ رہا۔

سیٹھ شیورتن موہٹہ نے کلفٹن کے ساحل پر بنگلہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا تو اُن کے ذہن میں راجھستان کے نوابوں کے محل تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اُن کی نظرِ انتخاب آرکیٹیکٹ آغا احمد حسین پر پڑی جو اُس وقت کراچی میونسپلٹی میں خدمات انجام دے رہے تھے، لیکن اُن کا زیادہ وقت راجھستان میں گزرا تھا۔

آغا احمد حسین کو برِصغیر کے اولین مسلمان ماہرینِ تعمیرات میں شمار کیا جاتا ہے جو موہٹہ پیلس سے قبل کراچی کی دو اور مشہور عمارتوں ہندو جیم خانہ اور کراچی چیمبر آف کامرس کے نقشے تیار کر چکے تھے۔ اُن کا خاندان آج بھی کراچی میں رہتا ہے اور اپنے خاندانی ورثے پر ناز کرتا ہے۔

نوابی عمارت

موہٹہ پیلس کو پہلی بار دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ آپ واقعی راجھستان کے کسی محل میں کھڑے ہیں۔ ابھی کوئی دروازہ کھلے گا اور کوئی راجہ مہاراجہ اپنے مصاحبوں کو ساتھ لیے محل کے باغ میں ٹہلنے لگے گا۔

پوری عمارت جے پور فنِ تعمیر کے زیراثر ڈیزائن کی گئی ہے جس میں مغل طرزِ تعمیر کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ محل کی تعمیر میں استعمال ہونے والا گلابی پتھر جودھ پور جبکہ پیلا پتھر گزری کے علاقے سے لایا گیا تھا۔

عمارت کی خاص پہچان گنبد، محرابیں اور مینار ہیں جو موہٹہ پیلس کو اُس دور کے کراچی کی دیگر عمارتوں سے ممتاز کرتے ہیں۔ دو منزلہ محل میں سولہ کشادہ کمرے ہیں۔

بیرونی دیواروں پر گُل بوٹوں اور پرندوں کی اشکال پتھر پر تراشی گئی ہیں۔ آغا احمد حسین مقامی تاریخ سے بخوبی واقف تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے موہٹہ پیلس میں مکلی کے مزارات پر کندہ نقش استعمال کیے۔ برماٹیک لکڑی کے دروازے کھڑکیوں پر سٹین گلاس کا کام کیا گیا ہے۔

محل کے اندر پوجا کے لیے شیو کا مندر بھی بنایا گیا تھا جس کا اب کوئی نشان موجود نہیں۔ عمارت کے اطراف خوب صورت اور وسیع باغیچہ تھا جس میں لگے فوارے آج بھی کام کرتے ہیں۔

صحت یابی کا جشن

اِتنی چاہت سے بنائے گئے گھر میں تریاق کی تاثیر کیوں نہ ہوتی۔ شیورتن موہٹہ کی اہلیہ پر کراچی کی سمندری ہوا نے اثر کیا یا یہ رائے بہادر کی بے بہا محبت تھی، وجہ جو بھی ہو، وہ صحت یاب ہو گئیں۔

اِس موقع پر جو جشنِ صحت یابی منایا گیا وہ سیٹھ شیورتن کی سماجی شخصیت اور اُن کے محل دونوں کے شایاں نشان تھا۔ جشن کی تقریبات میں شہر کی سرکردہ شخصیات کو دعوت دی گئی۔ کراچی کے پہلے منتخب میئر جمشید نسروانجی مہتہ بھی مہمانوں میں شامل تھے۔

جس ٹھنڈی سمندری ہوا نے شیورتن موہٹہ کی بیوی کو صحت بخشی وہ اب بھی چلتی ہے لیکن آلودہ فضا کی وجہ سے اپنی تاثیر کھو بیٹھی ہے۔ موہٹہ پیلس کی چھت سے آج بھی سمندر کا نظارہ کیا جا سکتا ہے لیکن یہ منظر اُتنا دلفریب نہیں رہا جتنا قریب ایک صدی پہلے تھا۔ اب اردگرد کنکریٹ کا جنگل اُگ آیا ہے جو دیکھنے میں بدنما لگتا ہے۔

چار دن کی چاندنی

یہاں تک تو شیورتن اور اُن کی پتنی کسی دیومالائی کہانی کے کردار لگتے ہیں جو ظالم جادوگر کے چُنگل سے نکل کر اپنی بقیہ زندگی ہنسی خوشی گزارنے لگتے ہیں۔ لیکن اِس سٹوری کا ایک ٹوئسٹ ابھی باقی ہے۔ میاں بیوی کی یہ خوشی چند ہی برس چلی اور پھر انیس سو سینتالیس کا سال آ گیا۔

پاکستان کا قیام ہوا تو دارالحکومت کا قرعہِ فال کراچی کے نام نکلا۔ سرکاری دفاتر کے لیے عمارتوں کی کمی محسوس ہوئی تو فیصلہ ہوا کہ جن کے پاس ایک سے زائد گھر ہیں، اُن کا ایک مکان حکومت اپنی تحویل میں لے لے گی۔ گھروں کی تلاش شروع ہوئی تو سرکاری افسر دوڑائے گئے۔ کسی ظالم کی نظر شیورتن کے موہٹہ پیلس پر پڑ گئی اور یوں یہ محل حکومت کے ہاتھ آ گیا۔

سیٹھ شیورتن تلملائے تو بہت لیکن کچھ نہ کر سکے اور دلبرداشتہ ہو کر ملک چھوڑ گئے۔ سالہا سال تک موہٹہ پیلس وزارتِ خارجہ کے ٹائپ رائٹروں کے شور سے گونجتا رہا۔

‘قصرِ فاطمہ’

ڈیڑھ دہائی یوں گزری اور پھر دارالحکومت کراچی سے پہلے راولپنڈی اور پھر نئے تعمیر ہونے والے شہر اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔ جاتے جاتے سرکاری کارندے محل کی چابیاں بانیِ پاکستان محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح کو تھما گئے جنھیں یہ عمارت جناح کی بمبئی کی رہائش گاہ کے بدلے دی گئی تھی۔ فاطمہ جناح کی نسبت سے یہ عمارت ‘قصرِ فاطمہ’ کہلائی جو آج بھی حکومتی کاغذوں میں اِس عمارت کا سرکاری نام ہے۔

شیورتن کی طرح فاطمہ جناح نے بھی موہٹہ پیلس کو سینے سے لگا کر رکھا۔ وہ اِتنے بڑے گھر میں تنہا رہا کرتی تھیں لیکن یہ اُنھیں پسند تھا۔ وہ اپنی اکثر شامیں محل کی چھت پر گزارتیں جہاں سمندر کا دلفریب نظارہ انھیں خوب بھاتا تھا۔ قریب ہی صوفی بزرگ عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر ہر جمعرات ہونے والی محفلِ سماع وہ یہاں بیٹھ کر سُنا کرتی تھیں۔

موہٹہ پیلس میں ہی وہ ہر سال گیارہ ستمبر کو اپنے پیارے بھائی محمد علی کی برسی منایا کرتی تھیں۔ محل سے متصل باغیچے میں شامیانے لگائے جاتے اور شہر کی ایک مخصوص دکان سے بریانی کی دیگیں منگوا کر لوگوں کو کھانا کھلایا جاتا۔

اِسی عمارت سے فاطمہ جناح نے اُس وقت کے فوجی آمر جنرل ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخاب کی مہم میں حصہ لیا اور شکست کھائی۔ فاطمہ جناح کی وفات کے بعد اُن کی بہن شیریں جناح نے انیس سو اسّی میں اپنے انتقال تک یہاں قیام کیا جس کے بعد ورثا کی باہمی چپقلش کے باعث عمارت کو مقفل کر دیا گیا۔

ثقافتی مرکز

کئی سال تک موہٹہ پیلس کے درودیوار پر گَرد جمتی رہی۔ لیکن پھر صوبہِ سندھ کی حکومت کو خیال آ ہی گیا اور نوے کی دہائی میں ستر لاکھ روپے کی رقم سے عمارت کو خرید کر اُس کی تزئین و آرائش کی گئی۔

موہٹہ پیلس کو ثقافتی ورثہ قرار دے کر اُسے عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا جہاں سارا سال فنونِ لطیفہ سے متعلق نمائشوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اِس طرح یہ تاریخی عمارت اب کراچی کی ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بن چکی ہے۔

موہٹہ پیلس کی دیکھ بھال ایک خودمختار بورڈ آف ٹرسٹینر کرتا ہے جس میں شہر کی سرکردہ سماجی شخصیات شامل ہیں۔

کہیں کی اینٹ، کہیں کا روڑا

موہٹہ پیلس آنے والوں کے لیے جو چیز خوشگوار حیرت کا باعث بنتی ہے وہ یہاں رکھے گئے دھات اور پتھر کے مجسے ہیں جو کسی زمانے میں شہر کے معروف عوامی مقامات پر نصب تھے۔ لیکن پھر قوم کے جذبہِ ایمانی نے جوش مارا اور اِن بُتوں کو سڑکوں چوراہوں سے اُٹھا کر گوداموں اور سرکاری دفتروں میں پھینک دیا گیا۔

موہٹہ پیلس والوں نے جگہ جگہ جا کر یہ مجسمے اکھٹے کیے اور مرّمت کر کے اپنے احاطے میں نمائش پر رکھ دیے۔

اِن میں سب سے مشہور کراچی کے فریئر میں نصب ملکہ وکٹوریا کا مجسمہ ہے جو انیس سو ساٹھ کے عشرے کے دوران شہر میں ہونے والے فسادات کے بعد وہاں سے ہٹا دیا گیا تھا۔

رائے بہادر شیورتن موہٹہ کا اپنی بیوی سے محبت کا مظہر موہٹہ پیلس آج بھی کراچی کی حاتم علوی روڈ پر جوں کا توں موجود ہے۔ لیکن اب نہ شیورتن ہیں اور نہ ہی اُن کی محبوب بیوی۔

آج اِس محل کے دروازے عام عوام کے لیے کُھلے ہیں جو اُن درودیوار کو دل بھر کے دیکھ سکتے ہیں جہاں کبھی شیورتن اور اُن کی بیوی رہا کرتے تھے۔ عمارت کے گرد بنے باغ میں ننگے پاؤں ٹہل سکتے ہیں جہاں کبھی رات گئے تک چلنے والی محفلیں منعقد ہوتی تھیں اور اُن فواروں سے چھلکتے پانی سے ہاتھ بھگو سکتے ہیں جہاں کبھی فاطمہ جناح شام کی چائے پیا کرتی تھیں۔

اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا۔

بی بی سی : بتشکر کریم الاسلام

صوبہ سندھ کا صحرائے تھر January 16, 2020

Posted by Farzana Naina in Cultures, Pakistan, Pakistani, Pakistani Folk, Sindh, Sindhi, Thar Desert.
add a comment

نہ چوری کا ڈر اور نہ ہی ڈکیتی کا خوف، نہ ماحول کی آلودگی کی پریشانی اور نہ ہی اجنبیت کا احساس۔ یہ ہے پاکستان کے صوبہ سندھ کا صحرائے تھر، جہاں ثقافت، روایت اور اقدار آج بھی اپنی اصلی شکل میں موجود ہیں۔

تھر کا شمار دنیا کے بڑے صحراؤں میں ہوتا ہے، اس کو دوست صحرا بھی کہا جاتا ہے کیونکہ دیگر صحرائی علاقوں کے مقابلے میں یہاں رسائی آسان ہے

peacock 60

کراچی سے مٹھی تھر کا ضلعی ہیڈ کوارٹر مٹھی ہے، یہ شہر ایک خاتون کے نام پر آباد ہے۔ بعض روایات کے مطابق یہاں مائی مٹھاں نامی خاتون کا کنواں تھا جس میں سے مسافر پانی پیا کرتے تھے۔

سندھ کا صحرائے تھر

مٹھی پہنچنے کے لیے عمرکوٹ، میرپورخاص اور بدین سے راستے آتے ہیں۔ آج کل یہاں جاری کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبوں کی وجہ سے کراچی سے مٹھی تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔

آپ قومی شاہراہ پر سفر کرتے ہوئے مکلی سے سجاول، اور وہاں سے بدین اور پھر وہاں سے تھر کی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں۔ تھر کو ملانے والی سڑک اچھی ہے اور تمام چھوٹے بڑے شہروں کو بائی پاس دیے گئے ہیں اس لیے کراچی سے مٹھی پانچ سے چھ گھنٹے میں پہنچا جا سکتا ہے۔

ہندو مسلم بھائی چارہ

تھر میں ہندو مسلم صدیوں سے ساتھ رہتے آئے ہیں کبھی یہاں مسلمانوں تو کبھی ہندوؤں کی حکومتیں رہی ہیں۔ عید ہو یا ہولی کا تہوار، دسہرا ہو یا محرم دونوں مذاہب سے تعلق رکھنے والے اس میں شریک ہوتے ہیں۔

شہر میں موجود درجن سے زائد مسلم درگاہوں کے منتظمین ہندو برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس شہر میں گائے کی قربانی یا گوشت فروحت نہیں کیا جاتا۔

گڈی بھٹ

مٹھی شہر ٹیلوں کے درمیان میں واقع ہے، جس کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سب سے بڑے ٹیلے کو گڈی بھٹ کہا جاتا ہے جہاں پر ایک چبوترہ بھی قائم ہے۔

یہاں پر تالپور حکمرانوں کے دور کی ایک چیک پوسٹ بھی واقع تھی جو وقت کے ساتھ مسمار ہو گئی۔ کسی زمانے میں گجرات اور راجستھان سے بیرونی حملہ آوروں اور ڈاکوؤں پر نظر رکھنے کے لیے یہ چیک پوسٹ بنائی گئی تھی۔

جیسے ہی اس ٹیلے کے عقب میں سورج غروب ہوتا ہے، شہر کی بتیاں جگمگاتی ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے پوجا یا مہندی کی تھالی میں موم بتیاں سجا دی ہوں۔ جبکہ آسمان پر تارے اس منظر کو اور بھی دلکش بنا دیتے ہیں۔

ثقافت اور سنگیت کے رنگ

تھر کی دست کاری کراچی، اسلام آباد سمیت ملک کے کئی بڑے شہروں میں دستیاب ہے، جس میں روایتی کپڑے، گرم شالیں، لیٹر بکس، وال پیس وغیرہ شامل ہیں۔

بعض لباس آج بھی بلاک پرنٹنگ سے بنائے جاتے ہیں۔ان میں سے کچھ چادریں آج بھی کھڈی پر بنائی جاتی ہیں جو مشین کی بنی ہوئی چادروں سے زیادہ پائیدار ہوتی ہیں۔

مارواڑی گیت ’کھڑی نیم کے نیچے ہوں تو ہیکلی‘ سے مقبولیت حاصل کرنے والی مائی بھاگی کا تعلق بھی صحرائے تھر سے تھا۔ ان کے علاوہ عارب فقیر، صادق فقیر اور موجودہ کریم فقیر گائیکی کی روایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہاں کے منگنہار قبیلے کے یہ گلوکار مقامی زبان ڈھاٹکی، سندھی اور اردو میں گا سکتے ہیں۔ گیت سنگیت کا شوق رکھنے والے سیاح انھیں نجی محفلوں اور گیسٹ ہاؤسز پر بلا کر سنتے ہیں۔

سنت نیٹو رام آشرام

مٹھی سے تقریباً 40 کلومیٹر دور اسلام کوٹ واقع ہے، تھر کوئلے سے بجلی کی پیداوار کرنے کی وجہ سے اہم شہر ہے جس کے قریب ایئرپورٹ بھی واقع ہے۔ کسی زمانے میں اس شہر کو نیموں کا شہر کہا جاتا تھا یہاں بڑی تعداد میں نیم کے درخت ہوا کرتے تھے۔

شہر کے اندر ایک بزرگ سنت نیٹو رام کا آشرم ہے، روایت ہے کہ تھر میں جب قحط آتا تھا اور یہاں سے مسافر گزرتے تھے تو یہ بزرگ تمام لوگوں سے چندہ جمع کر کے چاول بناتے تھے اور جنھیں وہ خود آواز لگا کر مسافروں کو کھلاتے تھے۔

سیوا کے اس پنتھ کو ابھی تک برقرار رکھا گیا ہے، ان کے آشرم میں انسانوں کے علاوہ جانوروں اور پرندوں کے دانے دنکے اور پانی کا بھی انتظام ہے اور یہاں آنے والے مسافروں سے مذہب نہیں پوچھا جاتا۔

چونئرے اور لانڈھیاں

تھر میں لوگوں کی اکثریت اگلو نما کچے کمروں میں رہتے ہیں، ان کی چھتیں گھاس سے بنی ہوئی ہوتی ہیں

تھر میں لوگوں کی اکثریت اگلو نما کچے کمروں میں رہتے ہیں، ان کی چھتیں گھاس سے بنی ہوئی ہوتی ہیں جو گرمی میں ٹھنڈے رہتے ہیں۔ ہر سال یا دو سال کے بعد ان پر تازہ گھاس لگائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سیمنٹ اور مٹی سے بنے ہوئے کمرے بھی ہوتے ہیں جن کو لانڈھی کہا جاتا ہے۔

یہاں پانی عام طور پر کنویں سے حاصل ہوتا ہے جس کے لیے گدھے، اونٹ یا بیل کا استعمال ہوتا ہے۔ کنوؤں سے پانی نکالنے کی ذمہ داری مردوں کی ہے جبکہ گھروں تک پانی خواتین پہنچاتی ہیں۔

بدلتے وقت کے ساتھ کئی دیہاتوں میں اب ٹیوب ویل آ گئے ہیں اس لیے سروں پر پانی کے دو سے تین مٹکے رکھ کر چلنے والی خواتین بہت کم نظر آتی ہیں۔

تھر کی مہمان نوازی

تھر میں قحط ہو یا بارشوں کے بعد کی خوشحالی یہاں کے لوگ مہمان نواز ہیں۔ اگر آپ کہیں گاؤں کے قریب رک گئے ہیں تو مسافروں کی مدد کرنا اور ان کی مہمان نوازی مقامی لوگوں کی روایت میں شامل ہیں۔

مرد قمیض شلوار یا لنگی جبکہ مسلم خواتین قمیض شلوار اور ہندو خواتین گھاگھرا یا بعض ساڑھی کا استعمال کرتی ہیں۔ خواتین کے کپڑے زیادہ تر شوخ رنگوں کے ہوتے ہیں، جن میں سے بعض پر کڑھائی بھی ہوتی ہے۔

تھر کا موسم

پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل کے لیے صحرائے تھر پر اصغر ندیم سید کے لکھے ڈرامہ ’آخری گیت‘ کے ایک ڈائیلاگ میں عابد علی روحی بانو کو مخطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں ’تھر کی ہوا بابا، آدمی کو عاشق بنا دیتی ہے۔‘

دراصل جیسے ہی غروب آفتاب ہوتا ہے تو رن آف کچھ سے آنے والی ہوائیں موسم کو خوشگوار کر دیتی ہے اور آسمان پر ٹمٹماتے تارے منظر کی دلکشی میں مزید اضافے کی وجہ بنتے ہیں۔

مور اور ہرن

تھر کے اکثر گاؤں میں مور پرندے گھومتے پھرتے نظر آئیں گے جو صبح کو گھروں میں دانہ چگنے آتے ہیں اور پھر جنگلوں میں چلے جاتے ہیں اور شام کو پھر لوٹتے ہیں۔ جہاں ہندو آبادی ہے وہاں ان موروں کی تعداد زیادہ ہے کیونکہ اسے شری کرشنا اور سرسوتی دیوی سے منسوب کیا جاتا ہے۔

بعض دیہاتوں کی پنچائتوں نے مور پکڑنے یا فروخت کرنے پر جرمانہ بھی عائد کر رکھا ہے۔

تھر میں ہرن اور نیل گائے بھی پائی جاتی ہے جو انڈیا کے سرحدی علاقوں، رن آف کچھ کے قریب دیکھی جاسکتی ہے۔ ان کے شکار پر پابندی ہے اور سرحدی فورس رینجرز اس کی نگرانی کرتی ہے۔

ننگرپارکر اور جین مندر

مٹھی سے تقریباً 130 کلومیٹر دور قدیمی شہر ننگر پارکر واقع ہے، کارونجھر پہاڑی نے اس شہر کو جیسے گود میں لے رکھا ہے۔ سرخ گرینائیٹ پتھر کے اس پہاڑ کا رنگ سورج کی روشنی کے ساتھ تبدیل ہوتے ہوئے نظر آتا ہے۔

یہاں ہندو مذہب کے کئی آستھان یعنی مقدس مقامات بھی موجود ہیں جن میں ایک کو سادہڑو گام کہا جاتا ہے جہاں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد فوت ہونے والوں کی باقیات جلاتے ہیں۔

بعض روایات کے مطابق مہا بھارت میں جب کوروں نے پانڈوں کو 13 سال کے لیے جلاوطن کیا تھا تو پانچ پانڈے اس پہاڑ پر آ کر بس گئے تھے ان کے نام سے پانی کے تالاب موجود ہیں۔

ننگرپارکر پہاڑ سے شہد اور جڑی بوٹیوں سمیت لکڑیاں حاصل کی جاتیں ہیں ایک کہاوت ہے کہ کارونجھر روزانہ سوا سیر سونا پیدا کرتا ہے۔

ننگرپارکر شہر اور اس کے آس پاس میں جین دھرم کے مندر بھی واقع ہیں جو بارہویں صدی میں قائم کیے گئے تھے۔ شہر میں موجود مندر کی دوبارہ سے مرمت کی جا رہی ہے جبکہ شہر سے باہر دو مندر زبوں حالی کا شکار ہیں۔

ان کے ساتھ ایک قدیم مسجد بھی واقع ہے، مختلف روایات کے مطابق یہ مسجد گجرات میں مسلم حکمران نے تعمیر کی، بعض مورخین اس کو دہلی کے حکمرانوں کے ساتھ جوڑتے ہیں۔

نامور آرکیالوجسٹ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کا کہنا ہے کہ یہ خطہ جین دھرم والوں کا گڑھ رہا ہے۔

وہ بتاتے ہیں ’تیرھویں صدی تک جین برادری نے تجارت میں عروج حاصل کیا اور جب یہ برادری خوشحال ہوئی تو انھوں نے یہ مندر تعمیر کروائے۔ موجودہ مندر بارہویں اور تیرہویں صدی کے بنے ہوئے ہیں۔‘

peacock 3

بتشکر: ریاض سہیل

بی بی سی اردو

لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نَظَر ۔ مقبول نعت November 20, 2019

Posted by Farzana Naina in Poetry.
Tags: , , , ,
add a comment

اعلیٰ حضرت احمد رضا نے چار زبانوں عربی فارسی اُردو ہندی میں یہ نعت لکھی جس کی مثال نہیں ملتی

 

لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نَظَر مثل تو نہ شد پیدا جانا

جگ راج کو تاج تورے سر سوہے تجھ کو شہ دوسرا جانا

 

آپ کی مثل کسی آنکھ نے نہیں دیکھا نہ ہی آپ جیسا کوئی پیدا ہوا

سارے جہان کا تاج آپ کے سر پر سجا ہے اور آپ ہی دونوں جہانوں کے سردار ہیں

 

اَلبحرُ عَلاَوالموَجُ طغےٰ من بیکس و طوفاں ہوشربا

منجدہار میں ہوں بگڑی ہے ہواموری نیا پار لگا جانا

 

دریا کا پانی اونچا ہے اور موجیں سرکشی پر ہیں میں بے سروسامان ہوں اور طوفان ہوش اُڑانے والا ہے

بھنورمیں پھنس گیا ہوں ہوا بھی مخلالف سمت ہے آپ میری کشتی کو پار لگا دیں

 

یَا شَمسُ نَظَرتِ اِلیٰ لیَلیِ چو بطیبہ رسی عرضے بکنی

توری جوت کی جھلجھل جگ میں رچی مری شب نے نہ دن ہونا جانا

 

اے سورج میری اندھیری رات کو دیکھ تو جب طیبہ پہنچے تو میری عرض پیش کرنا

کہ آپ کی روشنی سے سارا جہان منور ہو گیا مگر میری شب ختم ہو کر دن نہ بنی

 

لَکَ بَدر فِی الوجہِ الاجَمل خط ہالہ مہ زلف ابر اجل

تورے چندن چندر پروکنڈل رحمت کی بھرن برسا جانا

آپ کا چہرہ چودھویں کے چاند سے بڑھ کر ہےآپ کی زلف گویا چاند کے گرد ہالہ (پوش)ہے

آپ کے صندل جیسے چہرہ پر زلف کا بادل ہے اب رحمت کی بارش برسا ہی دیں

 

انا فِی عَطَش وّسَخَاک اَتَم اے گیسوئے پاک اے ابرِ کرم

برسن ہارے رم جھم رم جھم دو بوند ادھر بھی گرا جانا

میں پیاسا ہوں اور آپ کی سخاوت کامل ہے،اے زلف پاک اے رحمت کے بادل

برسنے والی بارش کی ہلکی ہلکی دو بوندیں مجھ پر بھی گرا جا

 

یَا قاَفِلَتیِ زِیدَی اَجَلَک رحمے برحسرت تشنہ لبک

مورا جیرا لرجے درک درک طیبہ سے ابھی نہ سنا جانا

اے قافلہ والوں اپنے ٹھہرنے کی مدت زیادہ کرو میں ابھی حسرت زدہ پیاسا ہوں

میرا دل طیبہ سے جانے کی صدا سن کر گھبرا کر تیز تیز ڈھڑک رہا ہے

 

وَاھا لسُویعات ذَھَبت آں عہد حضور بار گہت

جب یاد آوت موہے کر نہ پرت دردا وہ مدینہ کا جانا

افسوس آپ کی بارگاہ میں حضوری کی گھڑیاں تیزی سے گزر گئی

مجھے وہ زمانہ یاد آتا ہے جب میں سفر کی تکالیف کی پرواہ کئے بغیر مدنیہ آ رہا تھا

 

اَلقلبُ شَح وّالھمُّ شجوُں دل زار چناں جاں زیر چنوں

پت اپنی بپت میں کاسے کہوں مورا کون ہے تیرے سوا جانا

دل زخمی اور پریشانیاں اندازے سے زیادہ ہیں،دل فریادی اور چاں کمزور ہے

میراے آقا میں اپنی پریشانیاں کس سے کہوں میری جان آپ کے سوا کون ہے جو میری سنے

 

اَلروح فداک فزد حرقا یک شعلہ دگر برزن عشقا

مورا تن من دھن سب پھونک دیا یہ جان بھی پیارے جلا جانا

میری جان آپ پر فدا ہے،عشق کی چنگاری سے مزید بڑھا دیں

میرا جسم دل اور سامان سب کچھ نچھاور ہو گیا اب اس جان کو بھی جلا دیں

 

بس خامہ خام نوائے رضا نہ یہ طرز میری نہ یہ رنگ مرا

ارشاد احبا ناطق تھا ناچار اس راہ پڑا جانا

رضا کی شاعری نا تجربہ کاراور قلم کمزور ہے ، میرا طور طریقہ اور انداز ایسا نہیں ہے

دوستوں کے اصرار پر میں نے اس طرح کی راہ اختیار کی یعنی چار زبانوں میں شاعری کی

 

 اس  نعت کی خاص بات یہ ہے کہ یہ چار زبانوں عربی فارسی ہندی اور اردو میں ہے، اس سے بھی زیادہ خاص بات یہ ہے کہ ہر شعر ہی چار زبانوں میں ہے، چاروں زبانوں میں برتے گئے آدھے آدھے مصرعے اپنے مفہوم میں باہم اس قدر مربوط ہیں کہ عقل دنگ رہ جائے۔

یہ بات اپنی جگہ کہ چار زبانوں کا ایسا شہکار امام بریلوی کا خاصہ رہا، مگر نعت میں کیے گئے نئی زمینوں اور بحروں کا تجربہ بھی حیران کن ہے، یہ واحد کلام ہے جو امام احمد رضا خاں بریلوی نے فرمائش پہ تخلیق کیا ہے، ورنہ مزاج یہ تھا کہ وہی کلام کہنے سے دریغ کرتے جس کی فرمائش کردی جاتی۔

بتشکر: اردو محفل

مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام ۔ سلام مع فرہنگ November 20, 2019

Posted by Farzana Naina in Hamd, Naat, Poetry, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags: , , , , ,
1 comment so far

مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام

شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام

مِہرِ چرخِ نبوت پہ روشن دُرود

گلِ باغِ رسالت پہ لاکھوں سلام  

شہرِ یارِ ارم تاج دارِ حرم

نوبہارِ شفاعت پہ لاکھوں سلام

شبِ اسرا کے دولہا پہ دائم دُرود

نوشۂ بزمِ جنّت پہ لاکھوں سلام

عرش کی زیب و زینت پہ عرشی دُرود

فرش کی طیب و نُزہت پہ لاکھوں سلام

نورِ عینِ لطافت پہ اَلطف دُرود

زیب و زینِ نظافت پہ لاکھوں سلام

سروِ نازِ قِدَم مغزِ رازِ حِکَم

یکّہ تازِ فضیلت پہ لاکھوں سلام

نقطۂ سِرِّ وحدت پہ یکتا دُرود

مرکزِ دورِ کثرت پہ لاکھوں سلام

صاحبِ رَجعتِ شمس و شقُ القمر

نائبِ دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام

جس کے زیرِ لِوا آدم و من سِوا

اس سزائے سیادت پہ لاکھوں سلام

عرش تا فرش ہے جس کے زیرِ نگیں

اُس کی قاہر ریاست پہ لاکھوں سلام

اصل ہر بُود و بہبود تُخمِ وجود

قاسمِ کنزِ نعمت پہ لاکھوں سلام

فتحِ بابِ نبوت پہ بے حد دُرود

ختمِ دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام

شرقِ انوارِ قدرت پہ نوری دُرود

فتقِ اَزہارِ قدرت پہ لاکھوں سلام

بے سہیم و قسیم و عدیل و مثیل

جوہرِ فردِ عزت پہ لاکھوں سلام

سِرِّ غیبِ ہدایت پہ غیبی دُرود

عطر جیبِ نہایت پہ لاکھوں سلام

ماہِ لاہوتِ خَلوت پہ لاکھوں دُرود

شاہِ ناسوتِ جَلوت پہ لاکھوں سلام

کنزِ ہر بے کس و بے نوا پر دُرود

حرزِ ہر رفتہ طاقت پہ لاکھوں سلام

پرتوِ اسمِ ذاتِ اَحد پر دُرود

نُسخۂ جامعیت پہ لاکھوں سلام

مطلعِ ہر سعادت پہ اسعد دُرود

مقطعِ ہر سیادت پہ لاکھوں سلام

خلق کے داد رس سب کے فریاد رس

کہفِ روزِ مصیبت پہ لاکھوں سلام

مجھ سے بے کس کی دولت پہ لاکھوں دُرود

مجھ سے بے بس کی قوت پہ لاکھوں سلام

شمعِ بزمِ دنیٰ ہُوْ میں گم کُن اَنَا

شرحِ متنِ ہُوِ یَّت پہ لاکھوں سلام  

انتہائے دوئی ابتدائے یکی

جمع تفریق و کثرت پہ لاکھوں سلام

کثرتِ بعدِ قلّت پہ اکثر دُرود

عزتِ بعدِ ذلّت پہ لاکھوں سلام

ربِّ اعلا کی نعمت پہ اعلا دُرود

حق تعالیٰ کی منّت پہ لاکھوں سلام

ہم غریبوں کے آقا پہ بے حد دُرود

ہم فقیروں کی ثروت پہ لاکھوں سلام

فرحتِ جانِ مومن پہ بے حد دُرود

غیظِ قلبِ ضلالت پہ لاکھوں سلام  

سببِ ہر سبب منتہائے طلب

علّتِ جملہ علّت پہ لاکھوں سلام

مصدرِ مظہریت پہ اظہر دُرود

مظہرِ مصدریت پہ لاکھوں سلام

جس کے جلوے سے مرجھائی کلیا ں کھلیں

اُس گلِ پاک مَنبت پہ لاکھوں سلام

قدِّ بے سایہ کے سایۂ مرحمت

ظلِ ممدود رافت پہ لاکھوں سلام

طائرانِ قُدُس جس کی ہیں قُمریاں

اُس سہی سرو قامت پہ لاکھوں سلام

وصف جس کا ہے آئینۂ حق نما

اُس خدا ساز طلعت پہ لاکھوں سلام  

جس کے آگے سرِ سروراں خم رہیں

اُس سرِ تاجِ رفعت پہ لاکھوں سلام

وہ کرم کی گھٹا گیسوے مُشک سا

لکّۂ ابرِ رافت پہ لاکھوں سلام

لَیْلَۃُ القدر میں مطلعِ الفجر حق

مانگ کی استقامت پہ لاکھوں سلام

لخت لختِ دلِ ہر جگر چاک سے

شانہ کرنے کی عادت پہ لاکھوں سلام

دُور و نزدیک کے سُننے والے وہ کان

کانِ لعلِ کرامت پہ لاکھوں سلام

چشمۂ مِہر میں موجِ نورِ جلال

اُس رگِ ہاشمیت پہ لاکھوں سلام

جس کے ماتھے شفاعت کا سہرا رہا

اُس جبینِ سعادت پہ لاکھوں سلام

جن کے سجدے کو محرابِ کعبہ جھکی

اُن بھووں کی لطافت پہ لاکھوں سلام

اُن کی آنکھوں پہ وہ سایہ افگن مژہ

ظلۂ قصرِ رحمت پہ لاکھوں سلام

اشک باریِ مژگاں پہ برسے دُرود

سلکِ دُرِّ شفاعت پہ لاکھوں سلام

معنیِ قَدْ رَأیٰ مقصدِ مَاطَغیٰ

نرگسِ باغِ قدرت پہ لاکھوں سلام

جس طرف اٹھ گئی دم میں دم آ گیا

اُس نگاہِ عنایت پہ لاکھوں سلام

نیچی آنکھوں کی شرم و حیا پر دُرود

اونچی بینی کی رفعت پہ لاکھوں سلام

جن کے آگے چراغِ قمر جھلملائے

اُن عِذاروں کی طلعت پہ لاکھوں سلام

اُن کے خد کی سُہُولت پہ بے حد دُرود

اُن کے قد کی رشاقت پہ لاکھوں سلام  

جس سے تاریک دل جگمگانے لگے

اُس چمک والی رنگت پہ لاکھوں سلام

چاند سے منہ پہ تاباں درخشاں دُرود

نمک آگیں صباحت پہ لاکھوں سلام  

شبنمِ باغِ حق یعنی رُخ کا عَرَق

اُس کی سچی بَراقت پہ لاکھوں سلام

خط کی گردِ دہن وہ دل آرا پھبن

سبزۂ نہرِ رحمت پہ لاکھوں سلام  

رِیشِ خوش معتدل مرہمِ رَیش دل

ہالۂ ماہِ نُدرت پہ لاکھوں سلام

پتلی پتلی گلِ قُدس کی پتّیاں

اُن لبوں کی نزاکت پہ لاکھوں سلام

وہ دہن جس کی ہر بات وحیِ خدا

چشمۂ علم و حکمت پہ لاکھوں سلام

جس کے پانی سے شاداب جان و جناں

اُس دہن کی طراوت پہ لاکھوں سلام

جس سے کھاری کنویں شیرۂ جاں بنے

اُس زُلالِ حلاوت پہ لاکھوں سلام

وہ زباں جس کو سب کُن کی کنجی کہیں

اُس کی نافذ حکومت پہ لاکھوں سلام

اُس کی پیاری فصاحت پہ بے حد دُرود

اُس کی دل کش بلاغت پہ لاکھوں سلام

اُس کی باتوں کی لذّت پہ بے حد دُرود

اُس کے خطبے کی ہیبت پہ لاکھوں سلام

وہ دُعا جس کا جوبن قبولِ بہار

اُس نسیمِ اجابت پہ لاکھوں سلام

جن کے گچھّے سے لچھّے جھڑیں نور کے

اُن ستاروں کی نُزہت پہ لاکھوں سلام

جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں

اُس تبسم کی عادت پہ لاکھوں سلام

جس میں نہریں ہیں شیٖر شکر کی رواں

اُس گلے کی نضارت پہ لاکھوں سلام

دوش بردوش ہے جن سے شانِ شَرَف

ایسے شانوں کی شوکت پہ لاکھوں سلام

حَجَرِ اسودِ کعبۂ جان و دل

یعنی مُہرِ نبوت پہ لاکھوں سلام

روئے آئینۂ علم پُشتِ حضور

پُشتیِ قصرِ ملّت پہ لاکھوں سلام

ہاتھ جس سمت اُٹھّا غنی کر دیا

موجِ بحرِ سماحت پہ لاکھوں سلام

جس کو بارِ دو عالم کی پروا نہیں

ایسے بازو کی قوّت پہ لاکھوں سلام

کعبۂ دین و ایماں کے دونوں ستوں

ساعدینِ رسالت پہ لاکھوں سلام

جس کے ہر خط میں ہے موجِ نورِ کرم

اُس کفِ بحرِ ہمّت پہ لاکھوں سلام

نُور کے چشمے لہرائیں دریا بہیں

انگلیوں کی کرامت پہ لاکھوں سلام

عیدِ مشکل کُشائی کے چمکے ہِلال

ناخنوں کی بشارت پہ لاکھوں سلام

رفعِ ذکرِ جلالت پہ اَرفع دُرود

شرحِ صدرِ صدارت پہ لاکھوں سلام

دل سمجھ سے ورا ہے مگر یوں کہوں

غنچۂ رازِ وحدت پہ لاکھوں سلام

کُل جہاں مِلک اور جَو کی روٹی غذا

اُس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام

جو کہ عزمِ شفاعت پہ کھنچ کر بندھی

اُس کمر کی حمایت پہ لاکھوں سلام  

انبیا تَہ کریں زانُو اُن کے حضور

زانُوؤں کی وجاہت پہ لاکھوں سلام

ساق اصلِ قدم شاخِ نخلِ کرم

شمعِ راہِ اِصابت پہ لاکھوں سلام

کھائی قرآں نے خاکِ گزر کی قسم

اُس کفِ پا کی حُرمت پہ لاکھوں سلام

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند

اُس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

پہلے سجدے پہ روزِ ازل سے دُرود

یادگاریِ اُمّت پہ لاکھوں سلام

زرع شاداب و ہر ضرع پُر شیٖر سے

برَکاتِ رضاعت پہ لاکھوں سلام

بھائیوں کے لیے ترکِ پِستاں کریں

دودھ پیتوں کی نِصفَت پہ لاکھوں سلام

مہدِ والا کی قسمت پہ صدہا دُرود

بُرجِ ماہِ رسالت پہ لاکھوں سلام

اللہ اللہ وہ بچپنے کی پھبَن!

اُس خدا بھاتی صورت پہ لاکھوں سلام

اُٹھتے بوٹوں کی نشوونَما پر دُرود

کھِلتے غنچوں کی نکہت پہ لاکھوں سلام

فضلِ پیدایشی پر ہمیشہ دُرود

کھیلنے سے کراہت پہ لاکھوں سلام

اعتلائے جبلّت پہ عالی دُرود

اعتدالِ طَوِیّت پہ لاکھوں سلام

بے بناوٹ ادا پر ہزاروں دُرود

بے تکلف ملاحت پہ لاکھوں سلام

بھینی بھینی مہک پر مہکتی دُرود

پیاری پیاری نفاست پہ لاکھوں سلام

میٹھی میٹھی عبارت پہ شیریں دُرود

اچھی اچھی اِشارت پہ لاکھوں سلام  

سیدھی سیدھی رَوِش پر کروروں دُرود

سادی سادی طبیعَت پہ لاکھوں سلام

روزِ گرم و شبِ تیرہ و تار میں

کوہ و صحرا کی خَلوت پہ لاکھوں سلام

جس کے گھیرے میں ہیں انبیا و مَلک

اس جہاں گیر بعثت پہ لاکھوں سلام

ادھے شیشے جھلاجھل دمکنے لگے

جلوہ ریزیِ دعوت پہ لاکھوں سلام

لطفِ بیداریِ شب پہ بے حد دُرود

عالمِ خوابِ راحت پہ لاکھوں سلام

خندۂ صبحِ عشرت پہ نُوری دُرود

گِریۂ ابرِ رحمت پہ لاکھوں سلام

نرمیِ خوئے لینت پہ دائم دُرود

گرمیِ شانِ سطوت پہ لاکھوں سلام

جس کے آگے کھنچی گردنیں جھک گئیں

اُس خداداد شوکت پہ لاکھوں سلام

کس کو دیکھا یہ موسیٰ سے پوچھے کوئی

آنکھوں والوں کی ہمّت پہ لاکھوں سلام

گردِ مہ دستِ انجم میں رَخشاں ہِلال

بدر کی دفعِ ظلمت پہ لاکھوں سلام

شورِ تکبیر سے تھرتھراتی زمیں

جنبشِ جیشِ نصرت پہ لاکھوں سلام

نعرہائے دلیراں سے بَن گونجتے

غُرّشِ کوسِ جرأت پہ لاکھوں سلام

وہ چقاچاق خنجر سے آتی صدا

مصطفی تیری صَولت پہ لاکھوں سلام

اُن کے آگے وہ حمزہ کی جاں بازیاں

شیرِ غُرّانِ سطوت پہ لاکھوں سلام

الغرض اُن کے ہر موٗ پہ لاکھوں دُرود

اُن کی ہر خُو و خصلت پہ لاکھوں سلام

اُن کے ہر نام و نسبت پہ نامی دُرود

اُن کے ہر وقت و حالت پہ لاکھوں سلام

اُن کے مولا کی اُن پر کروروں دُرود

اُن کے اصحاب و عترت پہ لاکھوں سلام

پارہائے صُحف غنچہ ہائے قُدُس

اہلِ بیتِ نبوت پہ لاکھوں سلام

آبِ تطہیر سے جس میں پودے جمے

اُس ریاضِ نجابت پہ لاکھوں سلام

خونِ خیرُالرُّسل سے ہے جن کا خمیر

اُن کی بے لوث طینت پہ لاکھوں سلام

اُس بتولِ جگر پارۂ مصطفی

حجلہ آرائے عِفّت پہ لاکھوں سلام

جس کا آنچل نہ دیکھا مہ و مِہر نے

اُس رِدائے نَزاہت پہ لاکھوں سلام

سیّدہ زاہرہ طیّبہ طاہرہ

جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

حَسَنِ مجتبیٰ سیّدُ الاسخیا

راکبِ دوشِ عزت پہ لاکھوں سلام

اَوجِ مِہرِ ہُدیٰ موجِ بحرِ نَدیٰ

رَوحِ رُوحِ سخاوت پہ لاکھوں سلام

شہد خوارِ لُعابِ زبانِ نبی

چاشنی گیرِ عصمت پہ لاکھوں سلام

اُس شہیدِ بَلا شاہِ گلگوں قَبا

بے کسِ دشتِ غربت پہ لاکھوں سلام

دُرِّ دُرجِ نجف مِہرِ بُرجِ شَرَف

رنگِ رومی شہادت پہ لاکھوں سلام

اہلِ اسلام کی مادرانِ شفیق

بانوانِ طہارت پہ لاکھوں سلام  

جلوگیّانِ بیتُ الشَّرَف پر دُرود

پردگیّانِ عفّت پہ لاکھوں سلام

سَیِّما پہلی ماں کہفِ امن و اماں

حق گزارِ رفاقت پہ لاکھوں سلام

عرش سے جس پہ تسلیم نازل ہوئی

اُس سرائے سلامت پہ لاکھوں سلام

منزلُُ مَّن قَصَبْ لَا نَصَبْ لَاصَخَبْ

ایسے کوشک کی زینت پہ لاکھوں سلام

بنتِ صدّیق آرامِ جانِ نبی

اُس حریمِ براء ت پہ لاکھوں سلام

یعنی ہے سورۂ نور جن کی گواہ

اُن کی پُر نور صورت پہ لاکھوں سلام

جن میں رُوح ا لقدُس بے اجازت نہ جائیں

اُن سُرادِق کی عِصمت پہ لاکھوں سلام

شمعِ تابانِ کاشانۂ اجتہاد

مفتیِ چار ملّت پہ لاکھوں سلام

جاں نثارانِ بدر و اُحُد پر دُرود

حق گزارانِ بیعَت پہ لاکھوں سلام

وہ دسوں جن کو جنت کا مژدہ ملا

اُس مبارک جماعت پہ لاکھوں سلام

خاص اُس سابقِ سیرِ قُربِ خدا

اوحَدِ کاملیَّت پہ لاکھوں سلام

سایۂ مصطفیٰ مایۂ اِصطَفیٰ

عِزّو نازِ خلافت پہ لاکھوں سلام

یعنی اُس افضلُ الخلق بعدَ الرُّسُل

ثانی اَثنَینِ ہجرت پہ لاکھوں سلام

اصدقُ الصّادِقیں سیّدُ المتّقیں

چشم و گوشِ وزارت پہ لاکھوں سلام  

وہ عمر جس کے اعدا پہ شیدا سقر

اُس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں سلام

فارقِ حقّ و باطل امامِ الہُدیٰ

تیغِ مسلول شدّت پہ لاکھوں سلام

ترجمانِ نبی ہم زبانِ نبی

جانِ شانِ عدالت پہ لاکھوں سلام

زاہدِ مسجدِ احمدی پر دُرود

دولتِ جیشِ عُسرت پہ لاکھوں سلام

دُرِّ منثور قرآں کی سلک بہی

زوجِ دو نور عفّت پہ لاکھوں سلام

یعنی عثمان صاحب قمیصِ ہدیٰ

حُلّہ پوشِ شہادت پہ لاکھوں سلام

مرتضیٰ شیرِ حق اشجع الاشجعیں

ساقی شیٖر و شربت پہ لاکھوں سلام

اصل نسلِ صفا وجہِ وصلِ خدا

بابِ فصلِ ولایت پہ لاکھوں سلام

اّولیں دافعِ اہلِ رفض و خروج

چارمی رکنِ ملّت پہ لاکھوں سلام

شیرِ شمشیر زن شاہِ خیبر شکن

پرتوِ دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام

ماحیِ رفض و تفضیل و نصب و خروج

حامیِ دین و سنت پہ لاکھوں سلام

مومنیں پیشِ فتح و پسِ فتح سب

اہلِ خیر و عدالت پہ لاکھوں سلام

جس مسلماں نے دیکھا اُنھیں اک نظر

اُس نظر کی بصارت پہ لاکھوں سلام

جن کے دشمن پہ لعنت ہے اللہ کی

اُن سب اہلِ محبت پہ لاکھوں سلام

باقیِ ساقیانِ شرابِ طہور

زینِ اہلِ عبادت پہ لاکھوں سلام

اور جتنے ہیں شہزادے اُس شاہ کے

اُن سب اہلِ مکانت پہ لاکھوں سلام

اُن کی بالا شرافت پہ اعلا دُردو

اُن کی والا سیادت پہ لاکھوں سلام

شافعی مالک احمد امامِ حنیف

چار باغِ امامت پہ لاکھوں سلام

کاملانِ طریقت پہ کامل دُرود

حاملانِ شریعت پہ لاکھوں سلام

غوثِ اعظم امامُ التقیٰ والنقیٰ

جلوۂ شانِ قدرت پہ لاکھوں سلام

قطبِ ابدال و ارشاد و رُشدالرشاد

مُحییِ دین و ملّت پہ لاکھوں سلام

مردِ خیلِ طریقت پہ بے حد دُرود

فردِ اہلِ حقیقت پہ لاکھوں سلام

جس کی منبر ہوئی گردنِ اولیا

اُس قدم کی کرامت پہ لاکھوں سلام

شاہِ برکات و برکات پیشینیاں

نوبہارِ طریقت پہ لاکھوں سلام

سید آلِ محمد امام الرشید

گلِ روضِ ریاضت پہ لاکھوں سلام

حضرتِ حمزہ شیرِ خدا و رسول

زینتِ قادریت پہ لاکھوں سلام  

نام و کام و تن و جان و حال و مقال

سب میں اچھے کی صورت پہ لاکھوں سلام

نورِ جاں عطر مجموعہ آلِ رسول

میرے آقائے نعمت پہ لاکھوں سلام

زیبِ سجّادہ سجّاد نوری نہاد

احمدِ نورِ طینت پہ لاکھوں سلام  

بے عذاب و عتاب و حساب و کتاب

تاابد اہلِ سنّت پہ لاکھوں سلام

تیرے ان دوستوں کے طفیل اے خدا

بندۂ ننگِ خلقت پہ لاکھوں سلام

میرے اُستاد ماں باپ بھائی بہن

اہلِ وُلد و عشیرت پہ لاکھوں سلام

ایک میرا ہی رحمت میں دعویٰ نہیں

شاہ کی ساری اُمّت پہ لاکھوں سلام

کاش محشر میں جب اُن کی آمد ہو اور

بھیجیں سب اُن کی شوکت پہ لاکھوں سلام

مجھ سے خدمت کے قُدسی کہیں ہاں ! رضاؔ

مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام

Small Diamond٭٭٭​Small Diamond

مصطفی: برگزیدہ/ چنا ہوا/ منتخب/ افضل و اعلا

جانِ رحمت: کرم کی جان /رحمت کی روح/سراپا مِہربان

شمع: موم بتّی/چراغ

بزمِ ہدایت: رہِ نمائی کی مجلس (مراد انبیائے کرام علیہم السلام کی مقدس جماعت)

مِہر: سورج … چرخ : آسمان

گلِ باغِ رسالت: نبوت و پیغمبری کے باغ کا پھول

شہرِ یارِ ارم: جنت کے بادشاہ

تاج دارِ حرم: کعبے کے بادشاہ /آقا/صاحبِ تاج

نوبہار: نئی رونق

شفاعت: گناہوں کی معافی کی سفارش

شبِ اسرا کے دولہا: معراج کی رات کے دولہا

دائم: ہمیشہ

نوشۂ بزمِ جنت:جنت کی محفل کے دولہا/سربراہ

عرش: اللہ تعالیٰ کی جلوہ گاہِ خاص

زیب و زینت: حُسن اور سجاوٹ

عرشی دُرود: بلندی والا دُرود

فرش کی طیب و نزہت: زمین کی مہک اور پاکیزگی

نورِ عینِ لطافت:نرمی و نازکی کی آنکھ کا نور

اَلطف دُرود: پاکیزہ ترین دُرود

زیب و زینِ نظافت: پاکیزگی کی زینت اور خوبصورتی

سروِ ناز: ناز و ادا والا سرو قد محبوب

قِدَم: قدیم / ساری مخلوق سے پہلے

مغزِ رازِ حِکَم: حکمت کے رازوں کا خلاصہ

یکّہ تاز: بے مثال و لاجواب … فضیلت: فضل و کمال

یکّہ تازِ فضیلت: فضائل میں سبقت لے جانے والوں میں بے مثال و لاجواب

نقطۂ سِرِّ وحدت: اللہ کی وحدانیت کے رازوں کے مرکز

یکتا دُرود: بے مثل دُرود

مرکزِ دورِ کثرت: اللہ وحدہٗ لاشریک کی جملہ مخلوقات (جسے امام احمد رضا نے کثرت کہاہے) کی تخلیق کا سبب اور ان تمام کا نقطۂ کمال آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات ہے

رَجعت: لوٹانا

صاحبِ رَجعت ِشمس و شقُ القمر: سورج کو لوٹانے والے اور چاند کو ٹکڑے کرنے والے آقا

نائبِ دستِ قدرت: مراد اختیاراتِ الٰہیہ کے نائب

زیرِ لِوا: جھنڈے(لواء الحمد ) کے نیچے

سزائے سیادت : سرداری کے لائق

عرش تا فرش ہے جس کے زیرِ نگیں : زمین و آسمان کی جملہ مخلوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابع و محکوم ہیں

قاہر ریاست: زبردست حکومت/سرداری

اصل: بنیاد … بود: ہستی … بہبود: بھلائی

تُخمِ وجود: زندگی کا بیج( سارے جہان کی بھلائیوں اور کائنات کی اصل و بنیاد آقا ﷺ ہیں )

قاسم: بانٹنے والے … کنزِ نعمت: نعمت کا خزانہ

فتحِ بابِ نبوت: پیغمبری کا دروازہ کھولنے والے

ختمِ دورِ رسالت:پیغمبری کا زمانہ ختم کرنے والے

شرقِ انوارِ قدرت: اللہ تعالیٰ کے انوار و تجلیات کی چمک دمک/مظہرِ انوارِ خداوندی

فتقِ اَزہارِ قربت: قربت کی کلیوں کو کھلانے والے

بے سہیم:لاشریک … قسیم: حصہ دار/بانٹنے والے

عدیل : ہم رُتبہ … مثیل: ہم مثل(مراد آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ کی عطا سے ذات و صفات اور فضائل و خصائل میں بے نظیر ہونا)

جوہرِ فردِ عزت: ایسا مقام و مرتبہ جو ناقابلِ تقسیم ہو یعنی مخلوق میں کسی دوسرے کو نہ ملا ہو

سِرِّ غیبِ بدایت: مراد غیب کے رازوں ( خصوصاً اللہ کی وحدانیت)کے منبع … غیبی دُرود: عالمِ غیب کا دُرود

عطر جیبِ نہایت: مرادرسول اللہ ﷺ کا سینۂ مبارک

قدرت کے رازوں کا گنجینہ اور جنت کی خوشبوؤں کا خزینہ ہے

ماہ: چاند … لاہوت: تصوف میں فنا فی اللہ کے مقام کو کہتے ہیں

خَلوت: تنہائی

ماہِ ناسوتِ خلوت: مقامِ فنا فی اللہ کی تنہائیوں کے چاند

شاہ: بادشاہ … ناسوت: کائنات … جَلوت: ظاہر

شاہِ ناسوتِ جلوت: کائناتِ ہست و بود کی جلوتوں کے بادشاہ

کنزِ ہر بے کس و بے نوا: ہر بے سہارا اور محتاج کا خزانہ

حرز: جائے پناہ … رفتہ طاقت: کم زور/ناتواں

پرتوِ اسمِ ذاتِ اَحد: اللہ کے اسمِ صفاتی(اَحد-اکیلا) کے عکس

نُسخۂ جامعیت: مراداللہ تعالیٰ کی صفات کے مجموعۂ کامل

مطلعِ ہر سعادت: ہر نیک بختی کے طلوع ہونے کا مقام

اسعد دُرود: سعادتوں والا دُرود

مقطعِ ہر سیادت: ہر قسم کی سرداری کی آخری حد

خلق کے دادرس سب کے فریاد رس: ساری مخلوق کے مددگار اور فریاد کو پہنچنے والے

کہفِ روزِ مصیبت: تکلیف کے دن کی پناہ گاہ

بے کس کی دولت: محتا ج کی دولت

بے بس کی قوت: کم زور اور بے سہارا کی طاقت

دَنَا: اللہ تعالیٰ کے قربِ خاص کی منزل

ہُوْ:وہ/ اسمِ ذات

شمعِ بزمِ دَنَا ہُوْ: اللہ تعالیٰ کے قربِ خاص کی مجلس کے چراغ

متن: عبارت … ہُوِیَّت: مرتبۂ وحدت

شرحِ متنِ ہُویَّت: مرتبۂ وحدت(اللہ تعالیٰ کی قدیم و غیر فانی یکّہ و تنہا ذات) کی تفصیل حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ذات ہے کہ آپ ہی سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی پہچان ہوئی

انتہائے دوئی ابتدائے یکی: مراد رسول اللہ ﷺ اللہ کی صفات کے عظیم مظہر ہیں، اللہ خالق ہے آپﷺ مخلوق ہیں، اللہ معبود ہے آپ ﷺ عابد ہیں، لیکن اللہ نے آپ کو اپنی صفات کا ایسا عکس بنا دیا کہ صفاتی دوئی ختم ہو گئی اور اللہ نے آپ کی رضا کو اپنی رضا، آپ کی اطاعت کو اپنی اطاعت، آپ کی بیعت کو اپنی بیعت، آپ کے مارنے کو اپنا مارنا قرار دیا اور آپ کے سبب کائنات کی تخلیق فرمائی

جمع تفریق و کثرت:یہ تصوف کی اصطلاحات ہیں اللہ کی صفاتِ فعلیہ کا مظہر ہونا تفریق اور صفاتِ ذاتیہ کا مظہر جمع کہلاتا ہے، آپ ﷺ صفاتِ الٰہیہ کا مظہر اور ساری مخلوق کا خلاصہ ہیں

کثرتِ بعدِ قلّت: کم کے بعد زیادہ ہونا(اہل اسلام ابتداء ً کم تھے رفتہ رفتہ بڑھتے گئے) … اکثر دُرود: زیادہ دُرود

عزتِ بعدِ ذلّت: کم زوری کے بعد طاقت

ربِّ اعلا کی نعمت: بلند و بالا رب کا انعام

منّت: احسان(آقاﷺ اللہ تعالیٰ کا انعام اور احسان ہیں )

آقا: مالک … بے حد: ان گنت … ثروت : دولت

فرحتِ جانِ مومن: مومن کی جانوں کے سکون و اطمینان

غیظِ قلبِ ضلالت: کفر و گمراہی والے دل کیلئے غیظ و غضب

سببِ ہر سبب: ہر وجود کا سبب/سببِ تخلیقِ کائنات

منتہائے طلب: تمام تلاش و جستجو اور طلب کی انتہا

علّتِ جملہ علّت: ہر مقصد و مدعا کا سبب(باعثِ تخلیقِ کائنات)

مصدرِ مظہریت: اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات اور اس کی عظمتوں کو ظاہر کرنے والے

اظہر دُرود: بہت نمایاں دُرود

مظہرِ مصدریت: اللہ تعالیٰ کے جلووں کے ظاہر ہونے کا مقام حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے

جلوہ: نظارا/دیدار … مرجھائی کلیاں : سوکھے غنچے

گلِ پاک مَنبت: پاکیزہ پھول کی اُٹھان ( نبیِ رحمت ﷺ کے چہرۂ زیبا کے دیدار سے سوکھی کلیاں کھل جاتی ہیں، ایسے پاکیزہ اور بابرکت پھو ل کے بڑھنے پر قربان جائیں )

قدِّ بے سایہ: بغیر سایے والا قد

سایۂ مرحمت: مِہربانی و الا سایا

ظلِ ممدود رافت: کرم اور مِہربانی کا دائمی سایا(آقا ﷺ کے جسمِ پُر نور کا سایا نہ تھا لیکن آپ کی رحمتوں کا سایا سب پر پھیلا ہوا ہے)

طائرانِ قُدُس: مراد فرشتے

قُمری: فاختہ کی طرح ایک اچھی آواز والا پرندہ

سہی: سیدھا … قامت: قد … سرو:دو شاخوں والا ایک خوش قامت درخت( عشاق اپنے محبوب کے جمال کو نظر میں رکھ کر اس سے کنایہ کرتے ہیں یہاں آپ ﷺ کے قدِ رعنا کو عاشقِ صادق نے بیان کرتے ہوئے ’’سہی سرو قامت ‘‘ کی ترکیب استعمال کی ہے)

وصف: تعریف … آئینۂ حق نما: اللہ کی راہ دکھانے والا آئینہ( چہرۂ مصطفی ﷺ حق کو دیکھنے کا آئینہ ہے)

خدا ساز طلعت:خداوند قدوس کی پہچان کرانے والا روشن اور چمک دار چہرہ

سروراں : بادشاہ … خم: جھکنا

سرِ تاجِ رفعت: بلندی کے تاج کا سر

کرم کی گھٹا: مِہربانی کا بادل

گیسوے مُشک سا: کستوری کی طرح مہکنے والے بال

لکّۂ ابرِ رافت: مِہربانی کے بادل کا ٹکڑا

لیلۃُ القدر: شبِ قدر( شعر میں زُلفیں مراد ہے)

مطلعِ الفجر: صبح کا طلوع ہونا(شعر میں مانگ مراد ہے)

مانگ: سر کے بالوں کے درمیان نکالی جانے والی لکیر

استقامت: سیدھا پن … لخت لخت: ٹکڑے ٹکڑے

چاک: پھٹا ہوا … شانہ: کنگھی(امام احمد رضا کہتے ہیں کہ نبیِ کونین ﷺ کے سرِ مبارک میں کنگھی کرنے کے انداز پر میں قربان ہو جاؤں کہ اِس ادا پر میرا دل چاک ہو کر سینے سے باہر آنے کی کوشش کر رہا ہے تو پھر میں آقا ﷺ کے کنگھی کرنے کے عمل پر بھی کیوں نہ سلام کہوں )

کانِ لعلِ کرامت: نبیِ کریم ﷺ کے مبارک کان جو اصل میں عزت کے موتیوں اور عظمت کے ہیرے اور جواہرات کی کان(ذخیرہ)ہیں

چشمۂ مِہر: سورج کا چشمہ

موجِ نورِ جلال: جلال کے سمندر کی نوری موج

رگِ ہاشمیت: غیرت و حیا والے ہاشمی خون کی گردش کرنے والی رگ(جاہ و جلال کے وقت رسول اللہ ﷺ کی دونوں بھووں کے درمیان ایک رگِ انور اُبھر آتی تھی جس کو اعلا حضرت چشمۂ مہر(سورج کا چشمہ) یعنی چہرۂ انور میں موجِ نورِ جلال( جلال کے سمندر کی نوری موج) قرار دے رہے ہیں، اور اس رگِ مبارک کو رگِ ہاشمیت کہہ کر لاکھوں سلام بھیج رہے ہیں )

ما تھا: پیشانی … شفاعت: گناہوں سے معافی کی سفارش

سہرا: شادی کے موقع پر دولہا کے چہرے پر پھولوں سے بنا کر سجایا جاتا ہے

جبینِ سعادت: نیک بختی کی پیشانی

سجدہ : پیشانی زمین پر ٹیکنا

محراب: مسجد میں امام کے کھڑے رہنے کی جگہ

بھووں : ابروؤں

لطافت: نزاکت اور خوبی

سایہ افگن: سایہ کرنے والا

مژہ: پلک

ظلۂ قصرِ رحمت: کر م اور مہربانی کے محل کی چھتری

اشک باریِ مژگاں : پلکوں کا آنسو برسانا

سلکِ دُرِّ شفاعت: شفاعت کے موتیوں کی لڑی( امت کی بخشش کے لیے حضور ﷺ کی مقدس آنکھوں سے بہنے والے آنسووں کو اعلا حضرت نے موتیوں کی لڑی کہا ہے)

معنیِ قَدْ رَأیٰ:حدیثِ پاک من رانی فقد رأی الحق، جس نے مجھے دیکھا اُ س نے حق(خدا کو ) دیکھا، کے معنی آقاﷺ ہیں

مقصدِ مَاطَغیٰ :آیۂ کریمہ ماضل صاحبکم وما غویٰ، نہ تمہارا ساتھی ( اپنی بابرکت صحبت سے تمہیں فیض یاب کرنے والا)بھٹکا اور نہ اِدھر اُدھر ہوا (سورۃالنجم) کے مقصد آپ ﷺ ہی ہیں

نرگس: پیلے رنگ کا خوب صورت پھول۔ جس کی شکل آنکھ کی طرح ہونے کی وجہ سے محبوب کی آنکھ کو اس سے تشبیہ دیتے ہیں

نرگسِ باغِ قدرت: قدرت کے گلشنِ نبوت کے نرگسیں آنکھوں والے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم

دم میں دم آنا: جسم میں جان آنا

نگاہِ عنایت: کرم کی نظر

بینی :ناک … رفعت: بلندی

قمر: چاند … جھلملائے: ٹمٹمائے / جلنا بجھنا

عِذاروں کی طلعت: رخساروں (گالوں ) کی چمک دمک

خد: گال … خَد کی سُہُولت: گالوں کی نرمی

رشاقت: عمدگی/ زیبا قامتی/ خوش قامتی

تاریک: اندھیرا … جگمگانے: چمکنے

چمک والی رنگت: نور اور روشنی والا رنگ و روپ/ نورانی رنگت

تاباں : چمک دار … درخشاں : روشن

چاند سے منہ پہ تاباں درخشاں دُرود: چاند جیسے چمک دار چہرۂ انور پہ روشن و منور دُرود ہو

نمک آگیں صباحت: نمکیں حُسن و جمال(بہت زیادہ پُر کشش اور من مو ہنی شکل و صورت کو نمکینی حُسن کہا جاتا ہے)

شبنمِ باغِ حق یعنی رُخ کا عَرَق: اللہ تعالیٰ کے گلشن کی اوس اور شبنم یعنی آقا ﷺ کے چہرۂ زیبا کا پسینہ

بَراقت : چمک دمک

خط: داڑھی … گردِ دہن: منہ کے ارد گرد

دل آرا پھبن : دل کو موہ لینے والی آرایش و زیبایش

رِیش: داڑھی … رَیش: زخم

رِیشِ خوش معتدل: موزوں اور خوب صورت داڑھی

مرہمِ رَیش دل: دل کے زخموں کا مرہم

ہالۂ ماہِ نُدرت: اعلا حضرت نے رسول اللہ ﷺ کی مبارک داڑھی کو ’ہالۂ ماہِ نُدرت‘ یعنی چودھویں کے چاند(چہرۂ مصطفی ﷺ) کے ارد گرد دل کش اور انوکھے دائروں سے استعارہ دیا ہے

گلِ قُدس کی پتّیاں : جنت کے نکھرے ہوئے پھول کی پتّیاں

نزاکت: خوبی/ نفاست / نرمی

دہن: منہ … وحی: اللہ تعالیٰ کا پیغام

وہ دہن جس کی ہر بات وحیِ خدا: سرکارِ دوعالم ﷺ کے دہنِ پاک سے نکلی ہوئی ہر بات وحیِ خدا ہے اس پر آیۂ کریمہ وما ینطق عن الھویٰ ان ھُو الا وحیُ یُّوحیٰ (سورۃ النجم) شاہد و دال ہے

چشمۂ علم و حکمت: عقل مندی، دانائی اور علم کی نہرِ رواں

شاداب: سر سبز/ تر و تازہ … جناں : جنت کی جمع، جنتیں

طراوت: تری/ تازگی … کھاری: کڑوا/ نمکین

شیرۂ جاں : جان کو تسکین دینے والا میٹھا شربت

زُلال: ٹھنڈا میٹھا اور صاف و شفّاف پانی

حلاوت : مٹھاس

کُن کی کنجی: جملہ مخلوقات کی پیدایش کا سبب آپ ﷺ کی ذات ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ اور عطائے خاص سے پیارے مصطفی ﷺ کو بے حد تصرفات و اختیارات عطا کیے ہیں اسی لیے اعلا حضرت نے آپ ﷺ کو ’کُن کی کنجی‘ کہا ہے

نافذ حکومت: جاری و ساری حکمرانی /حکومت

فصاحت:خوش بیانی/ اچھا کلام

دل کش: دل میں اُترنے والی … بے حد: لاتعداد

بلاغت: موقع محل کے مطابق عمدہ گفتگو

لذّت: کیف وسرور

خطبہ: وعظ و نصیحت اور حمد و نعت کا مجموعہ

ہیبت: رعب و دبدبہ

جوبن : حسن و جمال/رونق/ بہار/شباب

بہارِ قبول: شرفِ قبولیت

نسیمِ اجابت: قبولیت کی خوش بو دار ہَوا

گُچھے: کسی شَے کی کثرت و مجموعہ اور ایک ہی شاخ پر بہت سارے پھل پھول کو کہتے ہیں

لچھے: مسلسل

نزہت: چمک اور پاکیزگی

تسکیں : تسلی … تبسم: مسکراہٹ … عادت: معمول

شیٖر: دودھ … نضارت: تازگی، تری

دوش: سیاہ زلفیں … دوش: کاندھا … شرف: بزرگی

شانوں کی شوکت: کاندھوں کی شوکت

حجرِ اسودِ کعبۂ جان و دل-یعنی مُہرِ نبوت پہ لاکھوں سلام:

دل اور جان کے کعبہ مصطفی ﷺ کی پُشتِ انور پر مُہرِ نبوت جو سیاہ مائل بہ زرد گوشت کا ٹکڑا دونوں کاندھوں کے درمیان تھا اُسے بھی امام احمد رضا نے لاکھوں سلام بھیجا ہے، جس طرح حجرِ اسود بوسہ گاہِ مسلمین ہے اُسی طرح مُہرِ نبوت بھی بوسہ گاہِ عاشقین تھی۔ خصائصِ کبریٰ میں ہے کہ جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضورِ انور ﷺ نے سواری پر مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا تو میں نے مُہرِ نبوت کو چوم لیا اس سے مُشک کی خوش بُوآرہی تھی۔ (ج۱، ص ۶۰)

روئے آئینۂ علم پُشتِ حضور: حضور انور ﷺ کا چہرۂ اقدس جس طرح علم کا آئینہ ہے اُسی طرح آپ کی پُشتِ مبارک (پیٹھ) بھی بے خبر نہیں۔ بخاری باب الخشوع فی الصلاۃ میں ہے کہ سرکار ﷺ نے فرمایا میں آگے پیچھے بل کہ نماز کی امامت کرتے ہوئے تمہارے رکوع اور دلی کیفیات (خشوع) کو بھی دیکھتا ہوں

پُشتی: نگہبان/محافظ … قصر: محل

پُشتیِ قصرِ ملّت: دین اور اُمّت کے نگہبان

غنی: مال دار

موج: جوش/ لہر

بحر: سمندر

سماحت: بخشش/ جود و عطا

بار: بوجھ

دو عالم: دونوں جہان(دنیا و آخرت)

پروا: فکر/ تردد/پریشانی

کعبۂ دین و ایماں : مراد حضور انور ﷺ

ستون: کھمبے … ساعدین: کلائیاں /بازو

خط: نقش و نگار

موجِ نورِ کرم: مِہربانی کے انوار کی لہریں

کف: ہتھیلی

بحرِ ہمّت: عزم و ارادہ اور بخشش کے سمندر

کرامت: بزرگی/عزت اور انوکھی خوبی

عید: خوشی … مشکل کشائی: حاجت پوری کرنا

ہلال: پہلی سے تیسری تاریخ تک کا چاند

بشارت: خوش خبری

رفع: بلند ہونا … ذکرِ جلالت: عظمت و بزرگی کا ذکر

ارفع: بہت بلند

شرح : کھلنا … صدر: سینہ

صدارت: صدر نشینی۔شرحِ صدارت والے سینہ پر لاکھوں سلام

دل سمجھ سے ورا ہے مگر یوں کہوں -غنچۂ رازِ وحدت پہ لاکھوں سلام: حضور انور ﷺ کے ناخنوں، بازوؤں، کلائیوں، انگلیوں اور سینۂ پاک کی بزرگی ظاہر کرنے کے بعد اعلا حضرت کہتے ہیں کہ آقا ﷺ کے دل کی شان مَیں کیسے بیان کروں ؟ جب قلب المؤمن عرش اللہ ہے تو پھر حضور انور ﷺ کا دل اللہ اکبر! میری سمجھ سے بہت بلند تر ہے، آپ کی عظمت و شان میری فکر کماحقہٗ کیسے بیان کر سکے گی؟ بس اک اندازہ سا ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ کا دل اللہ تعالیٰ کے راز ہائے سربستہ کا ایک عظیم الشان خزانہ ہے۔ مواہب لدنیہ جلد ۴ صفحہ ۲۱۸ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنے محبوب کے دل کو اپنے رازوں کا مرکز بنایا

مِلک: ملکیت / قبضہ … جَو: ایک قسم کا اناج

غذا: خوراک/ کھانا … شکم: پیٹ

قناعت: تھوڑی سی چیز پر خوش ہونا

عزم: پکّا ارادہ … کھنچ کر: مضبوطی سے

حمایت: ہم دردی

تَہِ کریں زانو: ادب و احترام سے دو زانو ہو کر بیٹھیں (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض حاصل کریں )

وجاہت: رعب و دبدبہ/ عزت … ساق:پنڈلی

اصل: بنیاد / جڑ … شاخ : ٹہنی

نخل : درخت … کرم : بخشش

ساق اصلِ قدم شاخِ نخلِ کرم: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک پنڈلیوں کو امام احمد رضا نے بخشش اور مہربانی کے درخت کی شاخوں کی بنیاد قرار دیا ہے

شمع: چراغ

راہِ اصابت: منزلِ مقصود/ درست و سیدھا راستہ

خاکِ گزر: راستہ/ … کفِ پا: پاوں کا تلوا

حرمت: عزت

سہانی : من پسند/ خوب صورت

گھڑی: وقت/ لمحہ

دل افروز: دلوں کو زندگی دینے والا … ساعت: وقت

ازل: کائنات کی تخلیق سے پہلے کا وقت،اللہ ہی بہتر جانتا ہے  

یادگاریِ اُمت : اُمت کو یاد رکھنا

زرع: کھیتی … شاداب: سرسبز / ہرا بھرا

ضرع: چھاتی/ پستان … پُر شیر: دودھ سے بھرپور

برکاتِ رضاعت:دودھ پینے کے دوران کی برکتیں ( حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں دودھ کی نہریں جاری ہو گئیں جن بکریوں نے کبھی دودھ نہ دیا تھا اب اُن کا دودھ ختم ہی نہ ہوتا تھا۔ ہر جانور کا تھن دودھ کا منبع بن گیا، اعلا حضرت امام احمد رضا محدثِ بریلوی نے اسے بیان کرنے کے بعد اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں مدتِ رضاعت دودھ پینے کے دوران کی برکتوں پر لاکھوں سلام بھیجا ہے۔

ترکِ پستاں : پستان کا چھوڑنا/ دودھ نہ پینا

نِصفت: عدل و انصاف۔۔حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی اولاد بھی چوں کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دودھ میں شریک تھیں اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک ہی طرف سے دودھ پیتے تھے، دوسری طرف سے نہ پیتے تھے، گویا پیارے مصطفی رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم بچپن ہی سے عدل و انصاف کے پیکر بن گئے تھے۔

مہدِ والا: مبارک گود/ بلند و بالا گود

قسمت: خوش بختی

صدہا: سیکڑوں

بُرج: آسمان کا بارہواں حصہ

ماہِ رسالت: رسالت کا چاند۔۔۔مراد حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

پھبن: حُسن و جمال/ خوب صورتی/ فضل وکمال

خدا بھاتی: اللہ تعالیٰ کو بھی پسند آنے والی

اُٹھتے بوٹوں : پودوں کا بڑھنا

نشوونَما: بالیدگی/ بڑھوتری

غنچے: کلیاں

نکہت: مہک/ خوش بُو

فضل: فضلیت/ کمال

کراہت: نفرت/ ناپسندیدگی

اعتلا: بلند

جبلّت: خلقت و فطرت

اعتلائے جبلّت: فطرت کی بلندی

اعتدال: موزوں / مناسب/ برابر

طَوِیَّت: عادت/ فطرت

بے بناوٹ ادا: بے تکلف/ تصنع اور بناوٹ سے پاک ادا

ملاحت: نمکینی حُسن / سلونا حُسن جو پُر کشش ہوتا ہے

بھینی بھینی مہک: ہلکی ہلکی عمدہ اور خوش گوار خوش بُو

مہکتی دُرود: خوش بُو بکھیرنے والا دُرود

نفاست : پاکیزگی

عبارت: بیان/ گفتگو/ بات چیٖت

شیریں : میٹھا

اِشارت: اشارا /کنایا

روش: چال/ رفتار/ چلنا/ برتاؤ کرنا

طبیعت: مزاج

تیٖرہ و تار: بہت ہی سیاہ … کوہ: پہاڑ … صحرا: جنگل

خَلوت: تنہائی۔۔۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رب عزوجل سے بندگی کے تعلق کو پختہ کرنے کے لیے عرب کی سخت گرمی میں دن کو اور سخت اندھیری راتوں میں غاروں اور جنگلوں میں تنہا عبادتِ الٰہی میں مصروف رہنے کی طرف اشارا کرتے ہوئے امام احمد رضا نے ایسی مبارک خَلوت گزینی پر لاکھوں سلام بھیجا ہے۔

گھیرے : حلقے/ دائرے

انبیا: نبی کی جمع

ملک: فرشتے

جہاں گیر: تمام جہاں پر حاوی/ عالم گیر

بعثت:رسول ہونا۔۔۔اللہ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا جانا۔

اندھے شیشے: مراد مردہ دِل / کفر و شرک کا اندھیرا

جھلاجھل: بہت تیز روشنی

دمکنا: چمکنا

جلوہ ریزی: نور بکھیرنا … دعوت: پیغامِ خدا

جلوہ ریزیِّ دعوت: اللہ کے پیغام کا نور بکھیرنا

لطف: نرمی/ لذت/ ذائقہ/ خوبی

بے داریِ شب: رات کو عبادتِ الٰہی میں جاگنا

عالم: کیفیت … خواب: نیند

راحت: آرام … خندہ: مسکراہٹ

عشرت: خوشی و سرور سے زندگی گذارنا۔

گریہ: رونا … ابر: بادل

رحمت: مہرنانی / کرم

خوئے لینت: نرم عادت/ کبھی غصہ نہ آنا … دائم: ہمیشہ

نرمیِ خوئے لینت: طبیعت کی نرمی

گرمی: رونق

گرمیِ شانِ سطوت: رعب و دبدبہ کی عظمت و شوکت

کھنچی گردنیں : اکڑی ہوئی گردنیں

خداداد شوکت: اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا رعب و دبدبہ

موسیٰ: اللہ عز وجل کے جلیل القدر رسول جنھیں کلیم اللہ کہا جاتا ہے کوہِ طور پر آپ نے اللہ عزوجل کی تجلی کا مشاہدہ فرمایا تھا

ہمت: حوصلہ۔۔۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ذاتِ باریِ تعالیٰ کی تجلی کا مشاہدہ فرمایا جب کہ صاحبِ مازاغ البصر و ما طغیٰ رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے عین ذاتِ خداوندی کو ملاحظہ فرمایا، رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو اعلا حضرت امام احمد رضا نے تعظیماً ’’آنکھوں والوں ‘‘ کہا ہے۔

گردِ مہ: چاند کے گرد

دستِ انجم: کہکشاں / ستاروں کا جھرمٹ

رخشاں : روشن … ہلال: پہلی رات کا چاند، میدانِ بدر میں جب مدینے کے چاند آقاﷺ تشریف لائے تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ستاروں کی طرح آپ کے گرد حلقہ بنائے ہوئے تھے اور ہلال پہلی رات کے چاند کی طرح اپنے آقا، چودھویں رات کے چاند کا دفاع کر رہے تھے۔ اعلا حضرت اسی کو بڑی خوب صورت پیرایہ میں ’’گردِ مہ دستِ انجم میں رخشاں ہلال‘‘ کہہ رہے ہیں۔

بدر کی دفعِ ظلمت: مقامِ بدر میں کفر و شرک کے اندھیروں کو دور کرنا

تکبیر: اللہ اکبر کا نعرہ … تھرتھرائی : کانپ اُٹھی

جنبش: حرکت … جیشِ نصرت:مدد کا لشکر

نعرہ ہائے دلیراں : بہادروں کے نعرے

بَن: جنگل … غُرّش : غرّانا … کوس: نقّارہ

غُرّشِ کوسِ جرأت : ہمت و جواں مردی کے نقّارے کی غرّاہٹ

چقاچاق: تلوار یا خنجر کی کاٹ دار آواز

صَولت: ہیبت/ دبدبہ/ رعب

حمزہ: حضور ﷺ کے چچا جن کا لقب ’’سیدالشہدا‘‘ ہے

جاں بازیاں : قربانیاں / جاں نثاریاں

شیرِ غُرّان : بپھرا ہوا اور دھاڑنے والا شیر

الغرض: ۔ آخر کار/ قصہ مختصر … مُو: بال

خوو خصلت: عادت و ادا

نامی دُرود: مشہور دُرود/ بڑھنے والا دُرود

مولا: اللہ تعالیٰ

اصحاب: صحابہ کی جمع

عترت : اولاد/ اعزّہ/ اقربا

پارہائے صحف: مقدس کلام کے ٹکڑے

غنچہ ہائے قدس: پاکیزہ کلیاں

اہلِ بیتِ نبوت: آقا ﷺ کے گھرانے والے(اولاد و ازواج، مقدس کلام ، مراد رسول اللہ ﷺ کے ٹکڑے اور حصے، آپ ﷺ کے جگر کے ٹکڑے، اور مقدس باغ کے پھول،حضورﷺ، کی کلیاں یعنی خاندانِ نبوت حضور ﷺ کی اولاد و ازواج پر لاکھوں سلام۔

آبِ تطہیر: پاک کرنے والا پانی

ریاضِ نجابت: شرافت اور بزرگی کا باغ

خیرالرسل : تمام رسولوں میں سے بہترین، آپﷺ ہیں۔

خمیر: اصل / فطرت

بے لوث طینت: بے عیب طبیعت/ پیدایش

بتول: حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا لقب

جگر پارۂ مصطفی: مصطفی ﷺ کے دل کا ٹکڑا، فاطمہ بضعۃ منی، فاطمہ میرے دل کا ٹکرا ہے، بخاری باب مناقب فاطمہ۔

حجلہ: دلہن کا پردا/ پالکی … آرا: سنوارنے والا

حجلہ آرائے عفت: مراد فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا شرم و حیا کی پیکر ہیں اور پارسائی و پرہیزگاری کی عظمت و عزت کو سنوارنے والی ہیں

آنچل: دوپٹے کا کنارا

مہ و مہر: چاند سورج

رِدائے نزاہت: طہارت و پاکیزگی کی چادر

سیدہ: جنت کی تمام عورتوں کی سردار

زاہرہ: تر و تازہ پھول یا چمک دار کلیاں

طیبہ: پاک باز … طاہرہ: پاکیزہ/ طہارت والی

جانِ احمد کی راحت: حضورﷺ کے دل کا سکون و آرام

حَسَن: رسول اللہ ﷺ کے نواسے فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے صاحب زادے حضور سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ

مجتبیٰ : پسندیدہ/ چنا ہوا … سید الاسخیائ: سخیوں کا سردار

راکبِ دوشِ عزت: عظمت و بزرگی کے کاندھوں کے سوار

اَوجِ بحرِ ہدیٰ: ہدایت کے سورج کی بلندی

موجِ بحرِ ندیٰ: سخاوت کے سمندر کی لہر

رَوح: آسایش/ فرحت/ ٹھنڈک

رُوحِ سخاوت: جود و عطا کی جان

رَوحِ رُوحِ سخاوت: حَسنِ مجتبیٰ رضی اللہ عنہ سخاوت و عطا کی جان کی ٹھنڈک ہیں

شہد خوارِ لعابِ زبانِ نبی: نبیِ پاک ﷺ کی مبارک زبان کے لعاب کا شہد کھانے والے ۔ مقدس نواسے۔

چاشنی گیرِ عصمت:پاک دامنی اور عزت کی مٹھاس چکھنے والے

بَلا: مصیبت … شاہِ گلگوں قبا: گلاب کے پھول کی طرح سُرخ رنگ کا جبہ پہننے والے بادشاہ( مراد شہیدِ کربلا حضور سیدناامام حسین رضی اللہ عنہ)

بے کسِ دشتِ غربت: بے وطنی اور مسافرت کے جنگل کا اکیلا مسافر (حضور سیدناامام حسین رضی اللہ عنہ)

دُرّ: موتی … دُرج: موتیوں کی ڈبی یا صندوقچہ

نجف : عراق کا شہر حضرت علیِ مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا مسکن تھا

دُرِّ دُرجِ نجف: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے موتیوں کے صندوقچے کا ایک چمک دار اور سچا موتی ( شہید کربلا)

مہرِ بُرجِ شَرَف: بزرگی اور شرافت کے آسمان کا چمکتا سورج

رنگِ رومی شہادت: حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ جب ہجرت کر کے آرہے تھے تو کفار نے ان کا سب سازوسامان لوٹ لیا تھا اور امام حسین رضی اللہ عنہ کی ہجرت الیٰ اللہ اور شہادت میں بھی یہ بات موجود ہے آپ کے قافلے کو بھی لوٹ لیا گیا تھا ’’ رنگِ رومی شہادت‘‘ سے امام احمد رضا نے امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان کرتے ہوئے حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ کے واقعہ سے کنایہ کیا ہے۔

اہلِ اسلام: مسلمانوں … مادرانِ شفیق: مہربان مائیں مراد امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن

بانوانِ طہارت: پاک دامن اور پاکیزہ خواتین

جلوگیّانِ بیت شَرَف: بزرگی والے گھر میں تشریف رکھنے والے

پردگیّانِ عفت: پرہیزگار با پردا خواتین مراد امہات المؤمنین

سیّما: بالخصوص/ خاص طور پر حضرت خدیجۃ الکبرا مراد ہیں۔

کہف: پناہ گاہ … حق گزار: حق ادا کرنے والا

رفاقت: ساتھ … تسلیم: سلام کرنا/ سلامتی

سرائے سلامت: امن کا مقام

منزل: گھر/ ٹھکانہ … قَصَب: موتی … نصَب: مشقت

صخَب: شور … کوشک:حجرہ … زینت:آرایش/ سجاوٹ

اس شعر میں امام احمد رضا نے بخاری و مسلم کی حدیث کے الفاظ کااستعمال کیا ہے حضرت جبریل امین علیہ السلام بارگاہِ نبویﷺ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: فاقرا علیہا السلام من ربہا و منی وبشرہا بیت فی الجنۃ من قصب لا صخب فیہ ولا نصب-حضرت خدیجہ کو اللہ تعالیٰ کا اور میرا سلام کہہ دیجیے اور ان کو جنت میں ایسے گھر کی خوش خبری سنادیجیے جو موتیوں سے بنا ہوا ہے نہ وہاں کوئی تکلیف ہو گی نہ ہی کوئی شور۔

بنتِ صدیق: ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

آرامِ جانِ نبی: نبیِ کریم ﷺ کے دل کا سکون

حریم: بیوی … برأت: پاک دامنی/ پاکی

سورۂ نور: اٹھارھویں پارے کی ایک سورۃ جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی بیان فرمائی ہے …

پُر نور: نور سے بھری ہوئی/ چمکیلی

روح ا لقدس: جبریل امین … سُرادق: خیمہ/ حجرہ ۔۔۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ جو ہمارے نبی ﷺ کی آخری آرام گاہ بھی ہے اس میں جبر یلِ امین بھی بغیر اجازت نہیں آتے تھے ایسے مبارک حجرے کی عظمت پہ لاکھوں سلام۔

شمعِ تاباں : روشن چراغ … کاشانہ: مکان / محل

اجتہاد: فقہِ اسلامی میں مسائل کے استخراج کی محنت و کوشش کرنا/ ٹھیک راہ ڈھونڈنا

مفتی: فتویٰ دینے والا … چار ملّت:خلفائے راشدین کا مقدس زمانہ ۔۔۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مبارک کاشانہ دینِ اسلام کے تمام مسائل کے حل کا مرکز بنا اور آپ اس کی روشن شمع تھیں، خلفائے راشدین کے تمام ادوار میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ہر دینی مسئلے کا حل آپ کی بارگاہ سے لیتے تھے۔

جاں نثارانِ بدر و اُحد:بدر و احد میں جان قربان کرنے والے

حق گزارانِ بیعت : حضور ﷺ کے مبارک ہاتھ پر بیعت کا حق ادا کرنے والے … وہ دسوں : عشرۂ مبشرہ، وہ دس صحابہ جنھیں حضور ﷺ نے دنیا میں جنت کی خوش خبری سنائی- حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علیِ مرتضیٰ، حضرت سعد بن وقاص، حضرت ابو عبیدہ بن جراح، حضرت زبیر بن عوّام، حضرت عبدالرحمان بن عوف، حضرت ابو طلحہ، حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم و نفعنا بہم آمین۔

مژدہ: خوش خبری … مبارک جماعت: بابرکت گروہ

سابق : آگے بڑھنے والا

سیرِ قربِ خدا: خدا کے قرب کا سفر مراد سفرِ ہجرت

اوحد: یگانہ و بے مثل

کاملیت: مکمل ہونا ۔۔۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جو کہ تما م صحابہ پر ہجرت کے سفر میں سبقت لے جانے والے اور صحابہ کی جماعت میں زیادہ کاملیت رکھنے والے ہیں۔

سایۂ مصطفی: مصطفیﷺ کے پر تو/ جانشین

مایۂ اصطفا: تقوا اور پرہیزگاری کے لیے باعثِ فخر

عزّ و نازِ خلافت: جانشینی کے لیے باعثِ فخر و عزت

افضل الخلق بعد الرسل: جملہ رسولوں کے بعد مخلوق سے بہتر

ثانی اَثنین: دو میں سے دوسرا ۔۔۔ قرآنی آیت ثانی اَثنین اذ ہما فی الغار}سورۃ التوبہ{کی طرف اشارا۔

اصدق الصادقیں : تمام سچوں میں سے زیادہ سچا

سید المتقیں : پرہیز گاروں کا سردار ۔۔ مراد حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ۔

چشم و گوشِ وزارت: جانشینی اور نیابت کے کان اور آنکھ

عمر: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

اعدا ۔: عدو کی جمع، دشمن

شیدا: دیوانہ … سقر : دوزخ

خدا دوست: اللہ تعالیٰ کے دوست

فارقِ حق و باطل : حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والا

امام الہدیٰ : ہدایت کا امام

تیغِ مسلولِ شدّت: برہنہ تلوار/ سونتی ہوئی تلوار کی سختی ۔۔۔ مراد، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ۔

ترجمانِ نبی: ایک جیسی زبان بولنے والے

جانِ شانِ عدالت: انصاف کی عزت اور جان

زاہدِ مسجدِ احمدی پہ دُرود:نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ’’مسجدِ نبوی‘‘ کے عبادت گزار پر دُرود

جیش: لشکر … عُسرت: تنگی

دولتِ جیشِ عُسرت: تنگی کے لشکر کی دولت ۔۔۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ جو بے پناہ مال دار ہونے کے باوجود بھی مسجدِ نبوی میں زاہدانہ عبادت کیا کرتے اور تنگی کی زیادتی کے وقت اپنی دولت راہِ خدا میں لُٹایا کرتے تھے۔ دُرِّ منثور: بکھرے ہوئے موتی … سلک: لڑی/ ڈوری

بہی: بہتری ۔۔۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے قرآنِ مجید کے بکھرے ہوئے موتیوں یعنی آیات کو عمدگی اور نفاست کے ساتھ ایک لڑی میں پرو دیا اور جامع القرآن کا لقب پایا۔

زوجِ دو نور عفت : طہارت و پاکیزگی کے دو نور کے خاوند ۔۔۔ مراد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو حضور ﷺ کی دو صاحب زادیوں کے خاوند ہونے کا شَرَف ملا۔

قمیصِ ہدیٰ: ہدایت کی قمیص / خلافت کا لباس

حلہ پوشِ شہادت: شہادت کا لباس پہننے والا ۔۔۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ۔

مرتضیٰ : پسندیدہ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ۔

شیرِ حق: علی شیرِ خدا

اشجع الاشجعیں : بہادروں کا سردار

ساقیِ شیِر و شربت:دودھ اور شربت پلانے والا

اصل نسلِ صفا: طہارت و پاکیزگی کی حامل نسل کی بنیاد

وجہِ وصلِ خدا:خداسے ملانے کا ذریعہ

ولایت: اللہ کی دوستی

بابِ فضلِ ولایت: ولایت کی فضیلت کا دروازہ

اولین: سب سے پہلا … دافع: دور کرنے والا

رفض: رافضیت و شیعیت ۔ گم راہ فرقہ جو صحابہ سے دشمنی رکھتا ہے۔

خروج: ایک گم راہ فرقہ جو اہلِ بیت سے دشمنی رکھتا ہے

چارمی: چوتھا

رکنِ ملّت: امت کا ستون و سہارا۔ یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ۔

شیرِ شمشیر زن: تلوار کا دھنی

خیبر شکن : خیبر کی اینٹ سے اینٹ بجانے والا

پرتوِ دستِ قدرت: قوتِ پروردگار کے ہاتھ کا عکس

ماحی: مٹانے والا

تفضیل: حضرت علی کو تمام صحابہ پر افضل ماننے کا غلط عقیدہ

نصب و خروج: اہلِ بیتِ اطہارسے دشمنی رکھنا

حامیِ دین و سنت: دین و سنت کی حمایت کرنے والا ۔۔۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صحابہ اور اہلِ بیت سے دشمنی رکھنے والوں اور آپ کو تمام صحابہ سے افضل سمجھنے والوں کو اپنے اعمال، افعال اور اقوال کے ذریعہ ختم کر دیا اور اسلام و سنتِ مصطفی ﷺ کی پُر زور حمایت کی۔

مومنین: ایمان والے … پیشِ فتح: فتحِ مکہ سے پہلے

پسِ فتح: فتحِ مکہ کے بعد

اہلِ خیر و عدالت: بھلائی اور انصاف والے، حضور ﷺ کے تمام صحابہ چاہے وہ فتحِ مکہ سے پہلے یا بعد میں ایمان لائے ہوں تمام سے اللہ تعالیٰ نے جنت اور بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے اور الصحابۃ کلہم عدول سب صحابہ بھلائی کرنے والے اور انصاف پسند ہیں۔

بصارت: بینائی /دیکھنا ۔۔۔ اس شعر میں اعلا حضرت نے صحابۂ کرام کو ایک نظر دیکھنے والوں یعنی تابعین پر سلام بھیجاہے۔

لعنت: اللہ کی رحمت سے دوری

اہلِ محبت: پیار والے ، اس شعر میں اشارا ہے حدیث پاک کی طرف کہ :’’ جس نے میرے صحابہ سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے مجھ سے دشمنی کی وہ خدا کا دشمن ہے، بخاری شریف۔

باقیِ ساقیانِ شرابِ طہور: پاکیزہ شراب پلانے والے باقی حضرات، سلام میں جن کا ذکر اب تک ہو چکا ان کے علاوہ باقی تمام ائمۂ اہلِ بیت و صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم۔

زینِ اہلِ عبادت : عبادت گزاروں کی زینت

شہزادے: مراد حضور ﷺ کی جملہ اولاد و امجاد

اہلِ مکانت : اہلِ مرتبہ/ اہلِ کمال

بالا : بلند … شرافت : بزرگی … اعلا دُرود: اونچا دُرود

والا: بلند شان … سیادت: سرداری

شافعی : امام محمد بن ادریس شافعی رضی اللہ عنہ

مالک: امام مالک رضی اللہ عنہ

احمد: امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ

امام حنیف: امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ

امامت: پیشوائی / سرداری

کاملانِ طریقت: روحانیت کے شہِ سوار

حاملانِ طریقت: شریعت پر عمل کرنے والے

غوث : مدد کرنے والا … غوثِ اعظم : مراد حضرت سیدنا محی الدین عبدالقادر جیلانی بغدادی رضی اللہ عنہ

امام التقیٰ والنقیٰ : طہارت و تقوی والوں کے پیشوا

جلوۂ شانِ قدرت : قدرت کی شان کے مظہر

قطب: باطنی طور پر جس ولی کے قبضہ و اقتدار میں کسی شہر یا ملک کا انتظام من جانب اللہ سپرد ہو

ابدال: اولیائے کرام کے اس گروہ کو کہتے ہیں جس کے سپرد باطنی طور پر کسی مخصوص خطہ یا مقام کا انتظام ہوتا ہے ان کی تعداد چالیس ہوتی ہے اولیا کے دس طبقات میں سے یہ پانچواں طبقہ ہے

ارشاد: ہدایت کا بیان کرنے والا

رشد الرشاد: ہدایت کا راستہ دکھانے والا

محیی: زندہ کرنے والے … خیل : سربراہ

فرد: یکتا … اہلِ حقیقت: اہلِ یقین

منبر: جس پر بیٹھ کر خطیب وعظ کرتا ہے

کرامت: بزرگی/ بلندی … شاہِ برکات: مراد حضرت سید شاہ برکت اللہ عشقی و پیمی مارہروی قدس سرہٗ (ولادت ۲۶؍ جمادی الاخریٰ۱۰۷۰ھ وصال شبِ عاشورہ محرم الحرام۱۱۴۲ھ۔

پیشینیاں : پہلے بزرگ … نوبہارِ طریقت: طریقت کی نئی بہار

سید آلِ محمد: سید شاہ برکت اللہ عشقی و پیمی مارہروی قدس سرہٗ کے بڑے فرزند (ولادت ۱۸؍ رمضان المبارک ۱۱۱۱ھ وصال ۱۶؍ رمضان المبارک ۱۱۶۴ھ ۔

امام الرشید: ہدایت کے پیشوا … رَوض: باغ

گلِ رَوضِ ریاضت: عبادت و مجاہدہ کے باغ کے پھول

حضرت حمزہ: سید شاہ آلِ محمد مارہروی قدس سرہٗ کے صاحب زادے حضرت سید شاہ حمزہ عینی مارہروی قدس سرہ صاحب کاشف الاستار شریف، ولادت ۱۴؍ ربیع الثانی ۱۱۳۱ھ وصال ۴؍محر م الحرام ۱۱۹۸ھ ۔

شیرِ خدا ورسول: اللہ و رسول کے شیر

زینتِ قادریت : بزمِ قادریت کی خوب صورتی

کام: مقصد … تن: جسم … حال: حالت … مقال: بات

اچھے: سید آلِ احمد عرف اچھے میاں بن سید شاہ حمزہ عینی مارہروی ۔ ولادت ۲۸؍ رمضان المبارک وصال ۱۷؍ ربیع الاول ۱۲۳۵ھ ۔

نورِ جاں :جان و دل کی روشنی … عطر مجموعہ: خوش بوؤں کا مرکز

آلِ رسول ۔: اعلا حضرت کے مرشدِ گرامی حضرت سید آلِ رسول احمدی مارہروی حضرت ستھرے میاں کے صاحب زادے جو کہ سید شاہ حمزہ عینی مارہروی کے منجھلے صاحب زادے اور عمِ مکرم سید آلِ محمد قدس سرہٗ کے مرید و خلیفہ ہیں ۔ ولادت ۱۲۰۹ھ وصال ذی الحجہ ۱۲۹۶ھ ۔

آقائے نعمت: انعام و بخشش کے سردار، امام احمد رضا نے اپنے مرشد گرامی کے لیے ’آقائے نعمت‘ کی ترکیب استعمال کرتے ہوئے انھیں لاکھوں سلام بھیجا ہے۔

زیب: زینت … سجادہ: بزرگوں کی گدی

سجاد: بہت زیادہ سجدہ کرنے والا

نوری نہاد: نور بھری عادتوں والا ۔۔۔ نوری سے مراد حضرت سید شاہ ابوالحسین احمد نوری مارہروی، سید آلِ رسول احمدی کے پوتے سید شاہ ظہور حسن مارہروی کے صاحب زادے (ولادت ۱۲۵۵ھ وصال۱۱؍ رجب المرجب ۱۳۲۴ھ ۔

احمد : حضرت سید ابولحسین نوری میاں کا نام ’’احمدِ نوری

احمدِ نور طینت: نورانی طبیعت والے احمدِ نوری

عذاب: سزا … عتاب: ناراضگی … تا ابد: ہمیشہ ہمیش

بے عذاب و عتاب و حساب و کتاب: امام احمد رضا کہہ رہے ہیں یا اللہ! بغیر سزا، ناراضگی اور حساب و کتاب کے اپنے نبی کے غلاموں یعنی جملہ اہلِ سنت و جماعت پر ہمیشہ ہمیش رحمتیں، برکتیں اور سلامتی نازل فرما۔

طفیل: وسیلہ/ برکت

ننگِ خلقت: مخلوق کے لیے باعثِ شرم

بندۂ ننگِ خلقت: اس ترکیب سے اعلا حضرت نے خود اپنی ذات مراد لی ہے اس میں آپ جیسی عظیم المرتبت شخصیت کی عاجزی اور انکساری کا پہلو نمایاں ہے، آپ کہتے ہیں کہ یا اللہ ! اِس سلام میں مَیں نے تیرے جن محبوب بندوں کا ذکر کیا ہے ان کے صدقہ و طفیل مجھے بھی اپنی رحمتوں سے حصہ عنایت فرما

وُلد: اولاد … عشیرت: خاندان / قبیلہ

دعویٰ : درخواست/ اعتماد/ بھروسہ/ یقین/ استحقاق

شاہ: مراد حضور رحمتِ عالم ﷺ (اعلا حضرت کہہ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت پر اعتماد اور بھروسے کو مَیں صرف اپنی ذات تک ہی محدود کیوں رکھوں بل کہ مَیں یہ کیوں نہ کہوں کہ حضور ﷺ کی ساری امت پر اللہ تعالیٰ کی لاکھوں رحمتیں اور سلامتیاں نازل ہوں

کاش: خدا کرے ایسا ہی ہو

محشر: قیامت/میدانِ محشر/ حساب کتاب کا دن

آمد: آنا … شوکت: دبدبہ / شان و عظمت

قدسی : پاک باز/ فرماں بردار/ مراد فرشتے( یہ دونوں شعر قطعہ بند ہیں – اعلا حضرت کہہ رہے ہیں کہ میدانِ محشر میں جب کہ نفسی نفسی کا عالم ہو اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری ہو تو کاش! ایسے وقت میں اللہ کے مقرب اور پاک باز فرشتے مجھ سے کہیں کہ اے رضاؔ اپنے نبی ﷺ پر درود و سلام کا نذرانۂ عقیدت پیش کرو اور کہو کہ ع

مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام

بتشکر: محمد حسین مشاہد رضوی

 

Suraiya Shahab ثریا شہاب ایک آواز September 14, 2019

Posted by Farzana Naina in British Pakistani Poetess, Famous Urdu Poets, Farzana Naina, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Nazm, Pakistani Poetess, Poetry, Radio, Shaira, Shairy, Sher, Tv Presenter, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags: , , , , , ,
1 comment so far

مشہور بین الاقوامی براڈ کاسٹر، شاعرہ، افسانہ نگارہ، اور ناول نگارہ ثریا شہاب کینسر کے باعث انتقال کر گئیں۔ 

13 Sep 2019

انا للہ و انا الیہ راجعون

ثریا شہاب سے میری دوستی کا آغاز دو ہزار دو میں ہوا تھا جب میں ادبی محافل میں شرکت کے لیئے ہائیڈل برگ اور فرینکفرٹ گئی تھی۔

پہلی ملاقات میں ہی ہم ایک دوسرے کے گرویدہ ہوگئے، اس دوران انہوں نے جرمن ریڈیو کی ڈوئچے ویلے  ورلڈ سروس کے لیئے میرا انٹرویو ریکارڈ کیا تھا ۔

کینسر کے بعد وہ الزائمر کے مرض میں مبتلا ہوئیں اسی سبب ان سے جب بات ہوئی تو وہ کافی کچھ بھول چکی تھیں اور اپنی پہچان کروانی پڑتی تھی، یہ ایک دلخراش صورتحال رہی لیکن ان سے محبت اور عقیدت کبھی ماند نہیں پڑی۔

آج ثریا شہاب کے انتقال کی خبر ملی تو ایک شدید افسردگی نے گھیر لیا، موت تو برحق ہے اور سبھی کو اک نہ اک روز ساتھ لے ہی جائے گی لیکن ایسے انمول نگینے جب چھینتی ہے تو زندگی کی چمک مدھم پڑنے لگتی ہے۔

ثریا شہاب اردو دنیا کی ایک انمول ہستی تھیں ، ایک زمانہ تھا جو ان کی ورلڈ سروس صداکاری کا دیوانہ تھا۔

ان کی آواز میں خبریں سننے کے لیئے لاکھوں کان منتظر رہتے تھے۔

یہ وہ دور تھا جب مواصلاتی نظام آج کی انٹرنیٹ دنیا سے بیحد مختلف تھا۔

اپنی زبان میں کچھ سننے کے لیئے اردو بولنے اور سمجھنے والے دنیا بھر کے ریڈیو اسٹیشن چھانا کرتے ایسے میں ثریا شہاب کی آواز نے ان کے دلوں کو گرما رکھا تھا۔

ثریا نے ساٹھ کی دہائی سے اپنے نشریاتی سفر میں قدم رکھا، کراچی کے ڈراموں میں بھی حصہ لیا لیکن جلد ہی ایران کی اردو ورلڈ سروس میں کام کرنے زاہدان پدھار گئیں۔

آج بھی وہ آواز سماعتوں میں یوں گونجتی ہے کہ ’’ آواز کی دنیا کے ساتھیو یہ ریڈیو ایران زاہدان ہے‘‘۔

انہوں نےایران سے واپسی کے بعد پاکستان ٹیلیویژن پر خبر نامہ جوائن کیا پھر اس کے بعد لندن چلی گئیں جہاں پر بی بی سی کے لیئے کام کیا، وہیں سے وہ جرمنی چلی گئی تھیں جہاں انہوں نے ایک جرمن نژاد سے اپنی دوسری شادی کی، ثریا کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔

ثریا شہاب ایک محنتی اور باہمت شخصیت کا نام ہے، انہوں نے بے لوث ادبی خدمات انجام دیں جس بنا پر وہ اپنے دور کی شناخت رہیں۔

جرمنی سے وہ ایک میگزین نکالتی تھیں جس میں میری تحاریر بھی شامل رہیں، فون پر بھی وہ ہمیشہ مجھ کو لکھنے کی تحریک دیتی رہیں۔

ثریا شاعری کے علاوہ افسانے بھی لکھتی تھیں ان کے دو ناول، ایک افسانوی مجموعہ اور ایک شعری مجموعہ’’ خود سے ایک سوال‘‘ شائع ہو چکے ہیں۔

جرمنی میں جب ان کی صحت مدھم پڑنے لگی تو انہوں نے اسلام آباد واپسی کر لی تاکہ ان کی بہتر دیکھ بھال ہو سکے، پاکستان لوٹنے کے بعد ان کے جرمن شوہر ہانز وہاں ایڈجسٹ نہ ہوسکے اور واپس چلے گیئے البتہ وہاں بھی ثریا کی طبیعت نے نچلا نہیں بیٹھنے دیا اور ثریا شہاب نے نوجوانوں کے لیئے ایک تنظیم بنا ئی جس کا نام تھا یوتھ لیگ۔

اس تنظیم کا مقصد نوجوانوں کو تعمیری اور مثبت کاموں کی جانب لے جانا تھا، ان کا جینا زندگی سے بھرپور اور ایک مثال رہا۔

ثریا کو الزائمر کی بیماری لگ گئی اور وہ شخصیت جسے ساری دنیا یاد کرتی ہے سب کو بھول گئی۔

پاکستان نے بھی ان کی خدمات کو بھلا دیا اور کبھی کسی اعزاز سے نہیں نوازا، یہی ہمارے ملک کا ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ وہ جیتے جی اپنے ہنرمندوں، محنت کشوں اور با ہمت لوگوں کو صلہ نہیں دیتا۔

ثریا جیسے شستہ لب و لہجہ اور تہذیب و تمدن میں گندھی ہوئی شخصیات آج ڈھونڈے سے شاذ و نادر ہی ملتی ہیں۔

جب تلک رہے جیتا چاہئے ہنسے بولے

آدمی کو چپ رہنا موت کی نشانی ہے

شاعر: تاباں عبد الحئی

میں بہت اداس ہوں اور پروردگار سے ان کی مغفرت کے لیئے دعاگو ہوں کہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔۔۔ آمین۔

Farzaba Naina, Interview with Surraiya Shahab for world service in Germany
Farzaba Naina, Interview with Surraiya Shahab for world service in Germany
Farzaba Naina, Interview with Surraiya Shahab for world service in Germany

Farzana Khan, Interview with Surraiya Shahab for world service in Germany

ثریا کی ذات ایک روشنی تھی اور یہ روشنی کبھی کم نہ ہوگی۔

Yesteryear’s iconic newscaster Suraiya Shahab reaches a tragic end

Paving the way for female newsreaders in an era bygone, yesteryear’s iconic newscaster Suraiya Shahab passed away Friday morning in Islamabad. She was 78.
Shahab, who extended her services to the state-owned Pakistan Television (PTV) for as long as ten years, succumbed to cancer and Alzheimer’s disease after a prolonged period of illness.
Starting her broadcasting career in the 60’s with a magazine programme at Radio Iran Zahidan which mustered immense success, Shahab’s story is a tragic one that shows how the country forgets its own legends.
“It is sad to see how the legends of the nation are banished from people’s thoughts in their lifetime only,” Shahab’s son Khalid shared in an exclusive conversation with The News.
He added, “My mother used to helm a radio programme when she started reading the news professionally at the tender age of 16. She worked for PTV and Radio Pakistan, before joining the British Broadcasting Corporation (BBC).”
“She was diagnosed with breast cancer, for which she underwent surgery in Germany,”
“The doctors however did not completely remove all the cancerous cells that later spread to her brain. She then had to undergo a brain surgery after which most of her memory got affected and she suffered from Alzheimer’s disease.”
Along with extending her services to renowned organisations like PTV and BBC, Suraiya was also engaged in philanthropic work.
“She was actively involved in social work such as construction of wells, building of schools. During her early years with PTV, she worked very hard to regularise daily-wage labourers,”
“Suraiya Shahab was a great name in the news reading realm. alive” .

https://www.urduvoa.com/a/suraiya-shahab/5082788.html

Farzaba Naina in Germany Mushaira

Farzana Khan in Germany Mushaira

Farzaba Naina, Surraiya Shahab and Tahira Safi in Germany Mushaira

Farzana Khan, Surraiya Shahab and Tahira Safi in Germany Mushaira

Farzaba Naina in Germany Mushaira

Farzana Khan in Germany Mushaira

Farzaba Naina in Germany Mushaira

Farzana Khan in Germany Mushaira

Farzaba Naina, Naseem Akhtar, Kaukab Akhtar, Akhtar Sahab and Tahira Safi in Germany Mushaira

Farzana Khan, Naseem Akhtar, Kaukab Akhtar, Akhtar Sahab and Tahira Safi in Germany Mushaira

Farzaba Naina and Tahira Safi in Germany Mushaira

Farzana Khan and Tahira Safi in Germany Mushaira

Farzaba Naina in Germany Mushaira

Farzana Khan in Germany Mushaira

Farzaba Naina in Germany Mushaira

Farzana Khan in Germany Mushaira

Farzaba Naina in Germany Mushaira

Farzana Khan in Germany Mushaira

شامِ  غم کی قسم، آج غمگیں ہیں ہیں ہم Poet Khayyam August 19, 2019

Posted by Farzana Naina in Film and Music, Kavita, Music, Nazm, Poetry, Shairy, Sher, Urdu Poetry.
Tags:
1 comment so far
Poet Khayyam with his son pardeep and wife jagjit kaur

Poet Khayyam with his son pardeep and wife jagjit kaur

’’ شامِ  غم کی قسم، آج غمگیں ہیں ہیں ہم ’’

انیس سو ستائیس 1927 میں پیدا ہونے والے ظہور خیام ہاشمی کی عمر انتقال کے وقت  92 برس تھی۔ خیام  17 سال کی عمر میں موسیقی کے افق پر نمودار ہوئے۔ انہوں نے بالی ووڈ کے کئی مشہور گیتوں کے لئے موسیقی دی ان کی معروف فلموں میں”کبھی کبھی“ اور ”امراؤ جان“ شامل ہیں۔ انہیں سب سے بڑا بریک فلم ”امراؤ جان“ سے ملا۔ اس فلم نے انہیں راتوں رات کامیابی کی منزلوں پر پہنچا دیا۔ انہیں نیشنل ایوارڈ اور فلم فیئر ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

موسیقار خیام کی پہلی اردو فلم ’’فٹ پاتھ‘‘1953 مین ریلیز ہوئی۔ فلم ’’فٹ پاتھ‘‘ کے لیے مجروح سلطان پوری نے ایک گیت لکھا تھا اور اس گیت کو موسیقار خیام نے اس وقت کے نامور گلوکار طلعت محمود سے گوایا تھا۔ گیت کے بول تھے:

شام غم کی قسم آج غمگیں ہیں ہم

آ بھی جا آ بھی جا آج میرے صنم

دل پریشان ہے رات ویران ہے

دیکھ جا کس طرح آج تنہا ہیں ہم

یہ خوبصورت گیت دلیپ کمار پر فلمایا گیا۔ اس گیت کی دھن کے ساتھ ساتھ دلیپ کمار کی اداکاری نے اس گیت کو بڑی شہرت بخشی تھی۔ فلم ’’فٹ پاتھ‘‘ کی موسیقی کے بعد موسیقار خیام عروج پر پہنچ گئے۔ فلم ’’فٹ پاتھ‘‘ بزنس کے اعتبار سے بہت زیادہ کامیاب نہیں ہو سکی مگر موسیقار خیام کی شہرت کا سفر شروع ہو گیا تھا۔ فلم ’’پھر صبح ہوگی‘‘ کی موسیقی نے موسیقار خیام کو بڑا عروج دیا۔’’پھر صبح ہوگی‘‘ کے ہدایت کار رمیش سہگل کو جب راج کپور پروڈکشن کے آفس میں موسیقار خیام نے اپنی چند دھنیں سنائیں جو ڈمی بولوں پر بنائی گئی تھیں تو رمیش سہگل کچھ دیر کے لیے ان دھنوں میں کھو گئے تھے، پھر وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور آگے بڑھ کر موسیقار خیام کا ماتھا چوما اور کہا ارے بھئی! اب تک تم کہاں تھے ہمیں کیوں نہیں ملے۔ پھر خیام نے ان کی فلم ’’پھر صبح ہوگی‘‘ کی موسیقی دی تھی، تو اس فلم کے ہر گیت نے سارے ہندوستان میں اپنی دھاک بٹھا دی تھی ۔

’’پھر صبح ہوگی‘‘ کے گیت ساحر لدھیانوی نے لکھے تھے۔ یوں تو فلم کے گیتوں کی تمام دھنیں خوب تھیں مگر فلم کا تھیم سانگ اور اس کی موسیقی اپنا جواب آپ تھی۔

جب دکھ کے بادل پگھلیں گے

جب سکھ کے ساغر چھلکیں گے

جب دھرتی نغمے گائے گی

وہ صبح کبھی تو آئے گی

اور اسی فلم کے ایک اور گیت میں خیام نے رومانوی موسیقی کو نیا رنگ دیا:

پھر نہ کیجیے مری گستاخ نگاہی کا گلہ

دیکھیے آپ نے پھر پیار سے دیکھا مجھ کو

فلم ’’پھر صبح ہوگی‘‘ کی بے مثال کامیابی نے موسیقار خیام کو صف اول کے موسیقاروں میں کھڑا کردیا تھا۔ خیام کی خوش قسمتی تھی کہ انھیں ساحر لدھیانوی، جاں نثار اختر، کیفی اعظمیٰ، مجروح سلطان پوری اور ندا فاضلی جیسے شاعروں کا ساتھ میسر آیا۔ موسیقار خیام نے فلم ’’شگون‘‘ سے لے کر فلم ’’سلسلہ‘‘ اور فلم ’’رضیہ سلطان‘‘ سے لے کر فلم ’’کبھی کبھی‘‘ تک ان گنت فلموں کی موسیقی دی اور ایسے ایسے گیت منظر عام پر آئے جو دل میں اترتے چلے گئے تھے۔ خیام کے کچھ لازوال گیت یہ تھے:

اے دلِ ناداں، آرزو کیا ہے، جستجو کیا

یہ کیا جگہ ہے دوستو یہ کون سا دیار ہے

دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا

دل چیز کیا ہے آپ میری جان لیجیے

ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں

جلتا ہے بدن پیاس بھڑکی ہے سرِ شام سے جلتا ہے بدن

کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے

میں پل دو پل کا شاعر ہوں، پل دو پل میری جوانی ہے

خیام نے فلم’’شگون‘‘۔کے لئے ساحر لدھیانوی کا لکھا ایک گیت سکھ گلوکارہ جگجیت کور سے گوایا تھا۔ بول تھے:

تم اپنا رنج و غم ساری پریشانی مجھے دے دو

تمہیں غم کی قسم اس دل کی ویرانی مجھے دے دو

اور پھر موسیقار خیام نے جگجیت کور سے شادی کر لی۔ نہ صرف گھریلو زندگی میں بلکہ موسیقی کے شعبے میں بھی جگجیت کور نے خیام کا آدھا کام بانٹ لیا تھا، اور دونوں ایک دوسرے کے درد و غم بھی بانٹ رہے تھے اور سروں کی مالا بھی ایک دوسرے کو پہنا رہے تھے۔ جگجیت کور موسیقار خیام کی اسسٹنٹ بھی بن چکی تھیں اور کئی فلموں میں دونوں کی صلاحیتوں کا نچوڑ منظر عام پر آیا تھا۔ ’’شگون‘‘ کے ساتھ شعلہ و شبنم، بازار، آخری خط اور کبھی کبھی کی لازوال دھنیں موسیقار خیام کی زندگی کا قیمتی سرمایہ تھیں اور ان فلموں میں گیتوں کے ساتھ گیتوں کی سحر انگیزموسیقی نے بھی بڑی دھوم مچائی تھی۔ موسیقار خیام کو کئی فلموں میں فلم فیئر ایوارڈز کے ساتھ ساتھ نیشنل ایوارڈ اور 2010 میں لائف اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔

دو ہزار بارہ میں خیام کے جواں سال بیٹے پردیپ کا اچانک انتقال ہو گیا۔ اس سے خیام کی زندگی بجھ کر رہ گئی۔ انہوں نے پردیپ کے نام پر ایک ٹرسٹ قائم کیا جس کی آمدنی سے ضرورت مند فنکاروں کی مدد کی جاتی ہے۔

بھارت کے شہرہ آفاق میوزک ڈائرکٹر محمد ظہور خیام ہاشمی عرف خیام کا سوجئے ہسپتال میں انتقال ہوا۔ انہیں 16 اگست کو پھیپھڑوں میں انفیکشن  کے باعث  ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔

(18 February 1927 – 19 August 2019)

Himayat Ali Shair – حمایت علی شاعر July 16, 2019

Posted by Farzana Naina in Poetry.
Tags: ,
add a comment

نامور شاعر جناب حمایت علی شاعر کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں وفات پاگئے ہیں، ان کی تدفین بھی ٹورنٹو میں ہوگی۔

Himayat ali shair - Jaag utha hai sara watan 3

جناب حمایت علی شاعر: 14 جولائی 1926ء کو اورنگ آباد دکن میں پیدا ہوئے تھے۔

قیام پاکستان کے بعد انھوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی اور سندھ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا، بعد ازاں وہ اسی جامعہ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ۔

جناب حمایت علی شاعر کے چار شعری مجموعے آگ میں پھول ، مٹی کا قرض ، تشنگی کا سفر اورہارون کی آواز شائع ہوچکے ہیں جبکہ ان کتابوں کا انتخاب حرف حرف روشنی کے عنوان سے شائع ہواتھا۔ 

انھیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے اپنی خود نوشت سوانح عمری مثنوی کی ہئیت میں تحریر کی جو آئینہ در آئینہ کے نام سے اشاعت پذیر ہو چکی ہے۔

حمایت علی شاعر کی دو نثری کتابیں شیخ ایاز اور شخص و عکس بھی شائع ہو چکی ہیں۔ 

اردو شاعری میں ان کا ایک کارنامہ تین مصرعوں ہر مشتمل ایک نئی صنف سخن ’’ ثلاثی ‘‘ کی ایجاد ہے ۔

جناب حمایت علی شاعر نے مختلف شعبوں میں کام کیا ہے جن میں تدریس ، صحافت، ادارت، ریڈیو، ٹیلیوژن اور فلم کے علاوہ تحقیق کا شعبہ نمایاں ہے۔

ٹیلی ویژن پر ان کے کئی تحقیقی پروگرام پیش کئے جا چکے ہیں ،جن میں پانچ سو سالہ علاقائی زبانوں کے شعراء کا اردو کلام خوشبو کا سفر ،اردو نعتیہ شاعری کے سات سو سال پر ترتیب دیا گیا پروگرام عقیدت کا سفر،احتجاجی شاعری کے چالیس سال پر ترتیب دیا گیا پروگرام لب آزاد، پانچ سو سالہ سندھی شعرا کا اردو کلام محبتوں کے سفیراور تحریک آزادی میں اردو شاعری کا حصہ نشید آزادی کے نام سر فہرست ہیں۔

جناب حمایت علی شاعر نے متعدد فلموں کے لیے گیت بھی تحریر کیے جنھیں نگار اور مصور ایوارڈ سے نوازا گیا۔

ان فلموں میں جب سے دیکھا ہے تمھیں، دل نے تجھے مان لیا،دامن،اک تیرا سہارا،خاموش رہو، کنیز، میرے محبوب، تصویر، کھلونا، درد دل، لوری اور نائلہ کے نام سر فہرست ہیں۔ 

انھوں نے ایک فلم لوری بھی پروڈیوس کی تھی جو اپنے وقت کی کامیاب ترین فلم تھی۔ 

حمایت علی شاعر کے فلمی نغمات کا مجموعہ بھی “تجھ کو معلوم نہیں” کے نام سے شائع ہوچکا ہے ۔

بشکریہ: عقیل عباس جعفری

آنکھ کی قسمت ہے اب بہتا سمندر دیکھنا

اور پھر اک ڈوبتے سورج کا منظر دیکھنا

شام ہو جائے تو دن کا غم منانے کے لیے

ایک شعلہ سا منور اپنے اندر دیکھنا

روشنی میں اپنی شخصیت پہ جب بھی سوچنا

اپنے قد کو اپنے سائے سے بھی کم تر دیکھنا

سنگ منزل استعارہ سنگ مرقد کا نہ ہو

اپنے زندہ جسم کو پتھر بنا کر دیکھنا

کیسی آہٹ ہے پس دیوار آخر کون ہے

آنکھ بنتا جا رہا ہے روزن در دیکھنا

ایسا لگتا ہے کہ دیواروں میں در کھل جائیں گے

سایۂ دیوار کے خاموش تیور دیکھنا

اک طرف اڑتے ابابیل اک طرف اصحاب فیل

اب کے اپنے کعبۂ جاں کا مقدر دیکھنا

صفحۂ قرطاس ہے یا زنگ خوردہ آئینہ

لکھ رہے ہیں آج کیا اپنے سخن ور دیکھنا

Blue flower candle

شاعر؛ حمایت علی شاعر

 

ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ

دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بدل جاتے ہیں لوگ

کس لیے کیجے کسی گم گشتہ جنت کی تلاش

جب کہ مٹی کے کھلونوں سے بہل جاتے ہیں لوگ

کتنے سادہ دل ہیں اب بھی سن کے آواز جرس

پیش و پس سے بے خبر گھر سے نکل جاتے ہیں لوگ

اپنے سائے سائے سرنہوڑائے آہستہ خرام

جانے کس منزل کی جانب آج کل جاتے ہیں لوگ

شمع کے مانند اہل انجمن سے بے نیاز

اکثر اپنی آگ میں چپ چاپ جل جاتے ہیں لوگ

شاعرؔ ان کی دوستی کا اب بھی دم بھرتے ہیں آپ

ٹھوکریں کھا کر تو سنتے ہیں سنبھل جاتے ہیں لوگ

Blue flower candle

حمایت علی شاعر کی فلمی شاعری کی مکمل تفصیلحمایت علی شاعر کی ریلیز کے تناظر میں فلمساز اقبال شہزاد اور ھدایتکار حسن طارق کی “بنجارن ” قرار پائی جس میں ان کا لکھا ھوا ایک سونگ شامل ھوا جس کے بول تھے

“پٹ گھونگھٹ کے کھولے تو جھٹ پٹ آجا بابو جی “

اس گیت کو دیبو نے کمپوز کیا تھا

بعد ازاں اسی سال اقبال یوسف کی جاسوسی فلم

“دال میں کالا ” ریلیز ھوئی اور اس فلم میں بھی ان کا ایک نغمہ

” سمجھ نہ آئے دل کو کہاں لے جاؤں صنم میرے صنم ” مصلح الدین کی دُھن میں صدابند ھوا تھا

اسی سال یعنی 1962 میں الحامد کی “آنچل ” پہلی فلم تھی جس کے تمام نغمات حمایت علی شاعر نے لکھے جنہیں موسیقار خلیل احمد (پہلی فلم) نے دلکش دُھنوں سے مزیّن کیا تھا جس میں بیشتر نے مقبولیت اور پسندیدگی کا درجہ حاصل کیا,

بالخصوص

“تجھ کو معلوم نہیں تجھ کو بھلا کیا معلوم”

اور

” کسی چمن میں رھو تم بہار بن کے رھو “

آج بھی ذوق و شوق سے سُنے جاتے ھیں

اسی فلم سے انہیں سال کے بہترین شاعر کا پہلا نگار ایوارڈ تفویض ھوا

حمایت علی شاعر نے مجموعی طور پر ریلیز شدہ 32 فلمز میں 130 نغمات لکھے

جبکہ ” لوری ” کے علاوہ انہوں نے ایک اور فلم” گڑیا ” بھی پروڈیوس کی تھی جو مکمل ھونے کے باوجود ریلیز سے محروم رھی

سال با سال کارکردگی کا ایک جائزہ

1..بنجارن………………………… 1962…..(ایک سونگ

2..دال میں کالا…………….. …1962…..(ایک سونگ

3..آنچل……………………………..1962…..(9, سونگس

4..جب سے دیکھا ھے تمہیں..1963…..(9, سونگس

5..دل نے تجھے مان لیا……….1963……(7, سونگس

6..شرارت………………………….1963……(ایک سونگ

7..دامن…………………………….1963……(7, سونگس

8..اِک تیرا سہارا………………. 1963……(ایک سونگ

9..تانگے والا…………………….. 1963……(2, سونگس

10..انسپکٹر……………………. 1964…….(6, سونگس

11..جھلک………………………. 1964…….(3, سونگس

12..خاموش رھو…………….. 1964…….(3, سونگس

13..مجاھد……………………… 1965…….(3, سونگس

14..کنیز…………………………. 1965…….(7, سونگس

15..تصویر……………………….1966…….(7, سونگس

16..عادل……………………….. 1966…….(2, سونگس

17..بدنام……………………….. 1966…….(ایک سونگ

18..میرے محبوب………….. 1966…….(8, سونگس

19..لوری……………………….. 1966…….(8, سونگس

20..دردِ دل ……………….1966…….(8, سونگس

21..پائل کی جھنکار………. 1966…….(ایک سونگ

22..میں وہ نہیں……………. 1967…….(7, سونگس

23..حُسن کا چور…………… 1967…….(5, سونگس

24..اُلفت……………………….. 1967…….(ایک سونگ

25..کھلونا…………………….. 1968…….(6, سونگس

26..بالم………………………… 1968……. (6, سونگس

27..چودھویں صدی…….. 1969……..(ایک سونگ

28..جھک گیا آسمان…….. 1970……..(ایک سونگ

29..شہر اور سائے………… 1974……. (4, سونگس)

30..خاندان………………….. 1980 ……..(ایک سونگ

31..آس پاس……………….. 1982………(ایک سونگ

32.. چکر…………………….. 1988 …….. (2, سونگس

حمایت علی شاعر کے چند مقبول فلمی سونگس…

**کسی چمن میں رھو تم بہار بن کے روپ…

فلم آنچل

** تجھ کو معلوم نہیں تجھ کو بھلا کیا معلوم..

فلم آنچل

**ھم نے تو تمہیں دل دے ھی دیا…

فلم پائل کی جھنکار

**اپنے پرچم تلے ھر سپاھی چلے….

فلم اک تیرا سہارا

**یہ خوشی عجب خوشی ھے…..

فلم جب سے دیکھا ھے تمہیں

**نہ چھڑا سکو گے دامن نہ نظر بچا سکو گے…

فلم دامن

**میں نے تو پریت نبھائی تھی سانوریا نکلا تو ھرجائی…

فلم خاموش رھو

**ساتھیو, مجاھدو, جاگ اُٹھا ھے سارا وطن…

فلم مجاھد

**پیاری ماں دعا کرو میں جلد بڑا ھوجاؤں…

فلم عادل

**ھم بھی مسافر تم بھی مسافر کون کسی کا ھوئے…

فلم بدنام

**گُل کہوں, خوشبو کہوں, ساغر کہوں, صہبا کہوں…

فلم کھلونا

**ھوا آنچل اُڑاتی ھے اُڑانے دو….

فلم جھک گیا آسمان

**ابھی ابھی میں سوچ رھا تھا کیا گاؤں…

فلم آس پاس

بشکریہ: ملک یوسف جمال

پاکستان کی دستکاری June 2, 2019

Posted by Farzana Naina in Culture, Cultures, Handy Crafts, Pakistan, Pakistani, Pakistani Folk, Sindh, Sindhi.
add a comment

BBC_ماہین خان کا برانڈ گلابو 1

ماہرین کا دعویٰ ہے کہ جنوبی ایشیا کے 80 فیصد ہنر پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ یہ ایک حیرت انگیز انکشاف ہے اور اس بات کا ثبوت بھی کہ یہ ملک فن و ثقافت معاملے میں انتہائی خوشحال ہے۔

پاکستان میں جہاں ہم سال میں چھ موسموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہیں ہمیں اس بات پر بھی فخر ہونا چاہیے کہ اس خطے میں بہت سے فنون نے جنم لیا، پروان چڑھے اور آج بھی زندہ ہیں۔

پاکستان کی ثقافتی اور روایتی ہنرمندی اور دستکاری کو ایک کوزے میں بند کرنا ناممکن ہے۔

BBC_chitai2

تیار شدہ ملبوسات کی برانڈ جنریشن نے حال ہی میں پاکستان کی مختلف دستکاریوں پر مشتمل نقشہ جاری کیا ہے جو علاقوں کے حساب سے مخصوص کڑھائیوں سے متعلق ایک بہترین حوالہ ہے

پاکستان کی فیشن کی صنعت میں بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے کے لیے مغربی رحجانات اور انداز اپنائے جاتے رہے ہیں جبکہ پاکستان کے ثْقافتی انداز اور ہنر دیگر دنیا کے لیے کشش کا باعث ہیں۔

ہنر میں بہت کچھ اہمیت کا حامل ہے جس میں شروعات یہاں پر بننے والے کپڑے کی مختلف اقسام سے ہوتی ہے۔

پاکستان بلاشبہ دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں چار اقسام کا مقبول عام ریشم تیار کیا جاتا ہے جس میں شہتوت (ملبیری)، ریشم کے کیڑے (تسور)، ایری، اور موگا سے بنائے بانے والا ریشم شامل ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ دنیا کا مشہور ترین کپڑا ڈینم (جس سے جینز کی پتلون تیار کی جاتی ہے) بھی وادی مہران کی تہذیب کے زمانے میں تیار ہونا شروع ہوا اور آج تک پاکستان میں بنایا جاتا ہے۔

جہاں کپڑے کی بات آتی ہے وہاں اس کے بننے یا بنانے کا عمل بھی ضرور ہوتا ہے جس کے لیے کراچی کے مشہور زمانہ اورنگی ٹاؤن میں ہاتھ سے کپڑا بننے کے بڑے بڑے کارخانے موجود ہیں جہاں بروکیڈ، جامہ وار، کمخواب، بنارسی اور تانچوئی جیسے قیمتی اور زرق برق کپڑے بنے جاتے ہیں۔ یہ تمام کپڑے پاکستان میں عروسی ملبوسات کی تیاری میں استعمال کیے جاتے ہیں جو کہ پاکستان میں ایک بڑا کاروبار ہے۔

تیار شدہ ملبوسات کی برانڈ جنریشن نے حال ہی میں پاکستان کی مختلف دستکاریوں پر مشتمل نقشہ جاری کیا ہے جو علاقوں کے حساب سے مخصوص کڑھائیوں سے متعلق ایک بہترین حوالہ ہے

یہ کپڑے سلائی کے وقت انتہائی مہارت کے ساتھ کارچوبی کڑھائیوں اور بیلوں سے مزین کیے جاتے ہیں۔ یہاں کے رنگریزی کے فن کا ذکر بھی ضروری ہے جن میں چنری اور بندھنی کی رنگائی جس کا رواج صحرائے تھر سے لے کر جنوبی پنجاب تک ہے اور سندھ میں چھاپے کے کام (بلاک پرنٹ) کی اجرک بہت مشہور ہیں۔

کپڑوں پر کڑھائی کے ہنر کی ابتدا ممکنہ طور پر پاکستان کے شمالی علاقوں چترال اور ہنزہ کی کڑھائی دار اونی شالوں سے ہوتی ہے۔ خطے کے سرد اور سخت موسم میں اوڑھنے کے لیے تیار کی جانے والی یہ شالیں اپنے موٹے اونی دھاگے اور گہرے اور گرم رنگوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔

ان ہی دیدہ زیب شالوں کو دیکھتے ہوئے ایک آسٹریلوی خاتون کیتھی بریڈ نے چترال میں ‘پولی اینڈ می’ کے نام سے ایک منصوبے کا آغاز کیا جو نہ صرف اس علاقے کے ہنر کو محفوظ رکھے ہوئے ہے بلکہ اس کے ذریعے خطے کی خواتین کو معاشی خود مختاری بھی حاصل ہوئی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان میں علاقائی ہنرکو محفوظ یا دوبارہ زندہ کرنے کے بہت سے منصوبوں کے پیچھے سماجی ومعاشی خودمختاری کا خیال ہی کار فرما تھا۔ چترال ہی کا ایک اور منصوبہ شوبیناک بھی شمالی علاقہ جات کے ہنر اور دستکاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

پاکستان کی شمالی پٹی کا ایک اور ہنر سوات کا شوخ رنگوں سے کاڑھا جانے والا پھلکاری ٹانکا ہے جس کا استعمال شالوں، کمبل، اور دیگر کپڑوں پر بکثرت کیا جاتا ہے۔ عموما گیروے، پیلے، نارنجی اور آتشی گلابی رنگوں کے دھاگوں سے مزین یہ ٹانکا اس علاقے کی پہچان بن چکا ہے۔

پاکستان کے صوبے پنجاب میں آئیں تو یہاں کی ثقافت مختلف وضع کی خوش رنگ دستکاریوں سے بھری پڑی ہے جن میں شیشے کا کام، سوئی دھاگے کا کام، شیڈو یا الٹی بھرائی کا کام، گوٹے اور جھلمل ستاروں کا کام بہت مشہور ہیں۔’

پنجاب، خاص طور پر ملتان ہاتھ سے بنے ہوئے برتنوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ یہ مشہور زمانہ مٹی کے برتن اس خطے میں صدیوں سے بنائے جارہے ہیں اور ملتان کی پہچان بن چکے ہیں۔

حالانکہ آج کل جدید طریقوں سے برتن بنانے والوں نے اس ہنر کو بھی کراکری اورگھریلو استعمال کی دیگر اشیا میں متعارف کرایا ہے ہے لیکن یہ فن ابتدا میں بڑے پیمانے پر عمارتوں، مسجدوں، مزاروں اور مقبروں کی سجاوٹ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا کیونکہ اس فن میں شامل رنگ اور اشکال فن اسلامی کی ترجمانی کرتے تھے۔

کپڑوں کی طرف واپس آتے ہیں تو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں مختلف اقسام کی نایاب دستکاریوں کا خزانہ موجود ہے۔ یہاں رنگ برنگ، آڑھے ترچھے ٹانکوں کی پیچیدہ کڑھائی کو صوبے میں موجود ان گنت بلوچی قبائل میں مختلف طریقوں کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔

ان میں بلوچی خانہ بدوشوں کے بکری کی کھال سے بنے شامیانے ‘گودان’ کے گرد کی جانے والی کڑھائی ‘دل وبیتاب’ بہت مشہور ہے۔ بلوچستان کے علاقے کچھ کی کڑھائی اپنے تیز رنگوں کی وجہ سے الگ ہی کمال رکھتی ہے اور فرش پر بچھائے جانے دریوں پر چارسوتی ٹانکا پہاڑوں سے گھرے اس صوبے میں بہت ہی مقبول ہے۔

سندھ میں صدیوں سے جاری منفرد رلی کا کام صوبے کی پہچان بن چکا ہے۔

رلی کی تیاری میں کافی وقت لگتا ہے اور سندھ کے اندرونی علاقوں میں جانا بھی جان جوکھوں کا کام کیونکہ وہاں جانے والے راستوں پر ہمیشہ سکیورٹی خدشات ہوتے ہیں۔

یہ ہنر وہ چھوٹی چھوٹی نشانیاں ہیں جو دنیا کے ثقافتی نقشے میں ہمیں ممتاز کرتی ہیں اور امید ہے کہ ہم اس ورثے کو زندہ رکھنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

بتشکر: آمنہ حیدر عیسانی