jump to navigation

Welcome November 4, 2006

Posted by Farzana Naina in Blogroll, Famous Urdu Poets, Farzana Naina, Ghazal, Karachi, Kavita, Naina, Nazm, Nottingham, Pakistan, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Shairy, Sher, Sufi Poets, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
3 comments

قلمی نام : نیناں

برطانیہ میں منظرِ عام پر آنے والی چند شاعرات میں فرزانہ نیناںؔ کا نام بڑا معتبر ہے،۔

متنوع صلاحیتوں کی مالک فرزانہ خان نیناؔں کا تعلق سندھ کے ایک سربر آوردہ خانوادے سے ہے۔

مجلسی اور معاشرتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں اور اپنی ادبی تنظیم نوٹنگھم آرٹس اینڈ لٹریری سوسائٹی کے تحت کئی برس سے مشاعرے و دیگر تقریبات بخوبی منعقد کرواتی رہتی ہیں جو کہ ان کی خوش سلیقگی و خوب ادائیگی کی بھرپور آئینہ دار ہیں،

اس شگفتہ وشستہ ہونہار شاعرہ کے انکل محمد سارنگ لطیفی سندھی زبان کے مشہور شاعر، صحافی اور ڈرامہ نویس تھے اور اس رحجان کا سلسلہ انہی سے جا ملتا ہے،

کراچی سے رشتہء ازدواج میں منسلک ہوکر برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں آباد ہوئیں، شعبہ ٔ ٹیلی کمیونیکیشن میں بطور انسپکٹر ملازمت کی،پھر ٹیچرز ٹریننگ اور بیوٹی کنسلٹنٹ کی تعلیم حاصل کی اور مقامی کالج میں ٹیچنگ کے شعبے سے وابستہ ہوگئیں ساتھ ہی میڈیا اور جرنلزم کے کورسز میں ڈپلوما بھی کیئے یوں مقامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے بھی وابستگی ہوئی،

ان کے پیش کردہ پروگرام خصوصی خوبیوں کی بنا پر دلچسپ اور معلوماتی ہوتے ہیں اور اپنے انداز کی وجہ سے یورپ بھر میں بیحد مقبول ہیں،

ابتدا میں نثری کہانیاں لکھیں اور نظم سے سخن طرازی کا آغاز کیا،جبکہ نثری رنگ میں گہرائیوں کی بدولت کتابوں پر تبصرہ جات اور کالم بھی ایسے دلچسپ لکھتی ہیں کہ پڑھنے والے مزید کا تقاضہ کرتے رہتے ہیں،

فرزانہ نیناںؔ کے خاص نسائی لہجے و منفرد انداز شعرگوئی نے یک لخت اہلِ ذوق کو اپنی جانب متوجہ کر کے برطانیہ کی مسلمہ شاعرات کے طبقے میں اپنا معتبر مقام بنا یا ہوا ہے ،ان کا شعری مجموعہ بعنوان ۔۔’’درد کی نیلی رگیں‘‘ منظرعام پر جب سے آیا ہے تخلیقی چشمے میں ارتعاش پیدا کر رہا ہے،

منفرد نام کی طرح مجموعے کی کتابی شکل و صورت میں بھی انفرادیت ہے، ایک ہی رنگ کا استعمال شاعری میں جس انداز سے پیش کیا گیا ہے وہ اب سے پہلے کسی نے نہیں کیا ،پوری شاعری میں محسوسات کو تمثیلوں کے ذریعے تصاویر کی طرح اجاگر کیا گیا ہے، اشعار میں جذبوں سے پیدا ہونے والی تازگی بدرجہ اتم جھلکتی ہے، ہر مصرعے اور ہر شعر پر ان کے رنگ کی خاص نسائی چھاپ موجود ہے،

آغاز سے ہی یہ دو اشعار ان کا حوالہ بن چکے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

شوخ نظر کی چٹکی نے نقصان کیا
ہاتھوں سے  چائے کے برتن چھوٹے تھے

Blue Flower 41

میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز
اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا

شعری مجموعہ” درد کي نيلي رگيںٰ ”  اپنے نام، کلام ميں نيلے رنگوں کي تماثيل، سائز، ہٗيت، اور تحرير کی چھپائی کے منفرد ہونے کي وجہ سے بہت سراہا گیا ہے، اگر آپ اردوشاعری کے دلدادہ ہيں، جديد شاعری کی باريکيوں سے لطف اندوز ہوتے ہيں تو يہ کتاب اپنی لابريری کی زينت ضرور بنائيں۔

اس کتاب کي قيمت آٹھ برطانوی پاؤنڈ ہے، درج ذیل ای ميل کے ذريعے اپنا پتہ بھجواکر کتاب حاصل کیجئے

بيرونٍ برطانيہ ادائيگی بذريعہ پوسٹل آرڈر جبکہ اندرونٍ برطانيہ چيک اور پوسٹل آرڈر دونوں کے ذريعے کی جا سکتی ہے
اي ميل کا پتہ :

farzananaina@gmail.com
farzananaina@yahoo.co.uk

welcome blue 106

ISLAMABAD:

Mushaira held in honour of expat poet

(Reporter of Dawn news paper)

• ISLAMABAD, Jan 10: A Mushaira was organized in honour of British-Pakistani Urdu poetess, Farzana Khan ‘Naina’ at the Pakistan Academy of Letters (PAL) on Friday. The event was presided over by the PAL chairman, Iftikhar Arif.

• Mr Arif said Farzana Khan was typical of expatriate poets who had an advantage over native poets in expressing original ideas and imagery. He said this was also a fact that expatriate writers were not well at transmuting feelings with the same intensity. In his view, Farzana Khan was certainly a new distinctive voice in Urdu poetry. She used tender expressions and a strange and novel scheme in meters that reverberated with strong musical beats.

• In fact Iftikhar Arif’s verses, which he read at the end of the Mushaira, sounded like a well deserved tribute to the poetess; Mere Chirag Hunar Ka Mamla Hai Kuch Aur Ek Baar Jala Hai Phir Bujhe Ga Naheen (The Muse this time is bright, and once lighted it will not be extinguished).

• A number of senior poets read their poetical pieces at the Mushaira that was conducted by a literary organization, Danish (Wisdom).

Here, Farzana Khan surprised everyone with the range and depth in the couplet that she read “Meine Kaanon Main Pehan Lee Hai Tumhari Aawaz/Ab Meray Vastey Bekaar Hain Chandi Sona”.

She seeks inspiration for her poetry from the glades of Nottinghamshire, England, the county of Lord Byron and Robin Hood, where she had been living for over many years.

Farzana Khan is a Chair person of Nottingham Arts and Literature Society, She works as a broadcaster for Radio Faza and MATV Sky Digital, besides being a beauty therapist and a consultant for immigrants’ education.

Her book of Urdu poetry titled Dard Ki Neeli Ragen (Blue veins of pain) is a collection of 64 Ghazals and 24 Nazms.

The collection has received favourable reviews from a number of eminent Urdu poets, including Dr.Tahir Tauswi, Rafiuddin Raaz, Prof.Shahida Hassan, Prof.Seher Ansari, Ja zib Qureshi, Haider Sherazi, Sarshar Siddiqui, Naqash Kazmi, Nazir Faruqi, Aqeel Danish, Adil Faruqi, Asi Kashmiri,Prof.Shaukat Wasti, Mohsin Ehsan, who had stated that her work was marked with ‘Multicolour’ words. Everyone was impressed with her boldness as well as her delicate feelings, he added.

In addition there is an extraordinary rhythm. About technical aspects of Farzana’s work, a literary critic, Shaukat Wasti, says it deserve serious study.

Name Naina multi pastle 1

میری شاعری میرے بچپن اور جوانی کی کائنات کےرنگوں میں ڈھلی ہے، یادیں طلسمَاتی منظروں کو لیئےچلی آتی ہیں

وہ منظرجو دیو مالائی کہانیوں کی طرح، الف لیلوی داستانوں کی طرح، مجھےشہرزاد بننے پر مجبور کردیتے ہیں،عمر و عیار کی زنبیل سےہر بار کچھ نہ کچھ نکل آتا ہے، شہر بغداد کی گلیاں اجڑ چکی ہیں،نیل کے پانیوں میں جلتے چراغ، دھواں بن کر اوپر ہی اوپر کسی انجانے دیس میں جا چکے ہیں ، دجلہ کے دھاروں سا جلترنگ کہیں سنائی نہیں دیتا۔۔۔

گلی کےآخری کنارے پر بہنے والا پرنالہ  بنجر ہوچکا ہے جہاں اسکول سے واپس آتے ہوئےمیں،بر کھا رت میں اپنی کاپیاں پھاڑ کر کاغذ کی کشتیوں میں تبدیل کر دیا کر تی تھی۔۔۔

گھر کے پچھواڑے والا سوہانجنےکا درخت اپنے پھولوں اور پھلیوں سمیت وقت کا لقمہ بن چکا ہے، جس کی مٹی سےمجھےکبھی کبھی کبھار چونی اٹھنی مل جاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

پیپل کے درخت کے وہ پتے جن کی پیپی بنا کر میں شہنائی کی آواز سنا کرتی تھی،اس کی لٹکتی ہوئی جڑیں جو مجھےسادھو بن کر ڈراتی تھیں، مہاتما بدھ کے نروان کو تلاش کرتے کرتے پچھلی صدی کی گپھا میں ہی رہ گئے ہیں۔۔۔

میری شاعری نیلگوں وسیع و عریض، شفاف آسمان کا کینوس ہے،جہاں میں اپنی مرضی کی تصویریں پینٹ کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابن ہڈ کےاس شہر کی سرنگیں، نجانے کس طرح میڈ میرین کو لے کر مغلیہ دور کے قلعوں میں جا نکلتی ہیں۔۔۔

لارڈ بائرن اور ڈی ایچ لارنس کا یہ شہر،دھیرے دھیرے مجھے جکڑ تا رہا، ولیم ورڈز ورتھ کے ڈیفوڈل اپنی زرد زرد پلکوں سےسرسوں کےکھیت یاددلاتےرہے۔۔۔

نوٹنگھم شہر کی چوک کے وسط میں لہراتا یونین جیک، نجانے کس طرح سبز پاکستانی پرچم کے چاند تارے میں بدل جاتا ہے۔۔۔

پرانی کیسٹوں میں ریکارڈ کئےہوئےگیت اور دوہے، کسی نہ کسی طرح پائلوں میں رمبھا، سمبھا اور لیٹن کی تھرک پیدا کردیتےہیں۔۔۔

شیلےاور کیٹس کا رومانوی انداز،غالب اور چغتائی کےآرٹ کا مرقع بننےلگتا ہے۔۔۔

مجھے جوگن بنا کر ہندی بھجن سسنے پر بھی مجبور کرتی ہیں ۔۔۔ Hymnsشیلنگ کی

سائنسی حقیقتیں،میرےدرد کو نیلی رگوں میں بدلنےکی وجوہات تلاش کرتی ہیں۔۔۔

کریم کافی،مٹی کی سوندھی سوندھی پیالیوں میں جمی چاندی کے ورق جیسی کھیر بن کر مسجدوں سے آنے والی اذان کی طرح رونگھٹے کھڑے کر دیتی ہے۔۔۔۔

سونےکےنقش و نگار سے مزین کتھیڈرل، اونچےاونچے بلند و بالا گرجا  گھر،مشرق کے سورج چاچا اور چندا ماما کا چہرہ چومتےہیں۔۔۔

وینس کی گلیوں میں گھومتے ہوئے،پانی میں کھڑی عمارتوں کی دیواروں پر کائی کا سبز رنگ ،مجھےسپارہ پڑھانے والی استانی جی کےآنگن میں لگی ترئی کی بیلوں کی طرح لپٹا۔۔۔

جولیٹ کےگھر کی بالکنی میں کھڑے ہو کر،مجھے اپنے گلی محلوں کے لڑ کوں کی سیٹیاں سنائی دیں۔۔۔

شاہ عبدالطیف بھٹائی کےمزار اور سہون شریف سےلائی ہوئی کچےکانچ  کی چوڑیاں، مٹی کےرنگین گگھو گھوڑے جب میں تحفتا اپنےانگریز دوستوں کے لئے لائی تو میری سانس کی مالا فقیروں کے گلوں میں پڑے منکوں کی مانند بکھر کر کاغذپر قلم کی آنکھ سےٹپک گئی۔۔.

شاعری مجھےاپنی ہواؤں میں،پروین شاکر کی خوشبو کی طرح اڑانےلگتی ہے، موتئےکی وہ کلیاں یاد دلاتی ہےجنھیں میں قبل از وقت کھلاکر گجرا بنانے کیلئے، کچا کچا توڑ کر بھیگے بھیگے سفید ململ میں لپیٹ دیا کر تی تھی،اور وہ رات کی رانی جو میری خوابگاہ کی کھڑکی کے پاس تھی ،آج بھی یادوں کی بین پر لہراتی رہتی ہے۔۔۔۔
شاعری ایک نیلا نیلا گہرا سمندر بن کر ان لہروں کے چھینٹے اڑانے پر مجبور کردیتی ہے،جہاں میں اتوار کو گھر والوں کےساتھ جاکر اونٹوں کےگلے میں بجتی گھنٹیوں کےسحر میں مبتلا ،سیپیاں چنتےچنتے، ریت میں سسی کےآنچل کا کنارہ،ڈھونڈنے لگتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنہری دھوپ کےساتھ بچپن کےاس گاؤں کی طرف لےجاتی ہےجہاں ہم گرمیوں کی چھٹیاں گزارنےجاتےتھے،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معصوم سہیلیوں کے پراندوں میں الجھا دیتی ہےجن میں وہ موتی پرو کر نشانی کےطور پر مجھےدیتی تھیں،تاکہ میں انھیں شہر جاکر بھول نہ جاؤں۔۔۔

شاعری وہ نیل کنٹھ ہےجو صرف گاؤں میں نظر آتا تھا،

جس کے بارے میں اپنی کلاس فیلوز کو بتاتےہوئے میں ان کی آنکھوں کی حیرت سےلطف اندوز ہوتی اورصوفی شعرا کےکلام جیسا سرور محسوس کرتی۔۔۔

شاعری ان گلابی گلابوں کےساتھ بہتی ہےجنھیں میں اپنےابو کے گلقند بنانے والےباغوں سےتوڑ کر اپنی جھولی میں بھرکر،ندیا میں ڈالتی اوراس پل پرجو اس وقت بھی مجھےچینی اور جاپانی دیو مالائی کہانیوں کےدیس میں لےجاتا تھا گھنٹوں کھڑی اپنی سہیلیوں کےساتھ اس بات پر جھگڑتی کہ میرےگلاب زیادہ دور گئےہیں۔۔۔۔

صفورے کےاس درخت کی گھنی چھاؤں میں بٹھادیتی ہےجو ہمارے باغیچےمیں تھا اور جس کےنیلےاودے پھول جھڑ کر زمین پر اک غالیچہ بنتی،جس پر سفر کرتے ہوئےمجھے کسی کنکورڈ کی چنگھاڑ نہیں سنائی دیتی تھی۔۔۔

شاعری بڑے بھائی کی محبتوں کی وسعتوں کا وہ نیلا آسمانی حصار ہے،جو کبھی کسی محرومی کےاحساس سےنہیں ٹوٹا۔۔۔۔

کڑوے نیم تلے جھلنے والا وہ پنکھا ہے جس کے جھونکے بڑی باجی کی بانہوں کی طرح میرے گرد لپٹ جاتےہیں۔۔۔

شاعری سڑکوں پر چھوٹے بھائی کی موٹر سائیکل کی طرح فراٹےبھرتی ہےجس پر میں اس کےساتھ سند باد جیسی انگریزی فلمیں دیکھنے جاتی اور واپسی پر جادوگر کے سونگھائے ہوئے نیلے گلاب کےاثر میں واپس آتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اان تتلیوں اور مورنیوں کے پاس لےجاتی ہےجو چھوٹی بہنوں کی صورت، آپی آپی کہہ کر میرے گرد منڈلاتی رہتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔

ان چڑیوں کی چوں چوں سنواتی ہےجن کو میں دادی کی آنکھ بچا کر باسمتی چاول، مٹھیاں بھر بھر کے چپکے سے چھت پر کھلاتی اور ان کی پیار بھری ڈانٹ سنا کرتی تھی۔۔۔

شاعری میرے طوطے کی گردن کے گرد پڑا ہوا سرخ کنٹھا بن جاتی ہے، جس سےٹپکنے والے سرخ لہو کےقطرے یادوں کے دریا میں گرتے ہی لعل و یاقوت بن کر راجکماری کےمحل کو جانےوالی سمت بہتے ہیں، انار کی نارنجی کچی کلیاں ہیں جو نگہت اور شاہین،اپنی امی سےچھپ کر میرے ساتھ توڑلیتیں، جس کے بعد بقیہ انار پکنے تک گھر سے نکلنا بند ہوجا یا کرتا تھا۔۔۔۔

یہ شاعری مجھےمولسری کی ان شاخوں میں چھپادیتی ہے جن پر میں اور شہنازتپتی دوپہروں میں مولسریاں کھا کر ان کی گٹھلیاں راہگیروں کو مارتےاور اپنے آپ کو ماورائی شخصیت سمجھتے۔۔۔

یہ میری سہیلی شیریں کےگھر میں لگے ہوئےشہتوت کےکالےکالے رسیلے گچھوں جیسی ہے جن کا ارغوانی رنگ سفید یو نیفارم سے چھٹائے نہیں چھٹتا ۔۔۔۔

شاعری مجھےان اونچی اونچی محرابوں میں لےجاتی ہے جہاں میں اپنی حسین پھپھیوں کو کہانیوں کی شہَزادیاں سمجھا کرتی ،جن کے پائیں باغ میں لگا جامن کا درخت آج بھی یادوں پر نمک مرچ چھڑک کر کوئلوں اور پپیہوں کی طرح کوکتا ہے، شاعری بلقیس خالہ کا وہ پاندان یاد دلاتی ہے جس میں سپاری کےطرح ان لمحوں کےکٹے ہوئےٹکڑے رکھے ہیں جن میں ،میں ابن صفی صاحب سے حمیدی ،فریدی اور عمران کےآنے والے نئے ناول کی چھان بین کرتی ، خالہ کےہاتھ سے لگے ہوئے پان کا سفید چونا،صفی صاحب کی سفید  کار کی طرح اندر سےکاٹ کر تیز رفتاری سےاب بھی گزرتا ہے۔۔۔

یہ کبھی کبھی مجھےموہنجو دڑو جیسے قبرستان میں کھڑا کر دیتی ہے ، جہاں میں اپنے ماں ،باپ کےلئے فاتحہ پڑھتے ہوئے کورے کانچ کی وقت گھڑی میں ریت کی مانند بکھرنے لگتی ہوں،مصری ممیوں کی طرح حنوط چہروں کو جگانے کی کوشش کرتی ہوں،نیلگوں اداسیاں مجھےگھیر لیتی ہیں، درد کی نیلی رگیں میرے تن بدن پر ابھرنےلگتی ہیں،شب کےنیلگوں اندھیرےمیں سر سراتی دھنیں، سایوں کی مانند ارد گرد ناچنےلگتی ہیں،ان کی نیلاہٹ ،پر اسرار طمانیت کے ساتھ چھن چھن کر دریچوں کا پٹ کھولتی ہے، چکوری کی مانند ،چاند ستاروں کے بتاشے سمیٹنے کی خواہشیں کاغذ کے لبوں پر آجاتی ہیں ،سقراط کے زہریلے پیالےمیں چاشنی ملانےکی کوشش تیز ہو جاتی ہے، ہری ہری گھاس کی باریک پتیوں پہ شبنم کی بوندیں جمتی ہی نہیں،والدین جنت الفردوس کو سدھارے، پردیس نے بہن بھائی اور ہمجولیاں چھین لیں، درد بھرے گیت روح چھیلنے لگے،حساسیت بڑھ گئی  ڈائری کے صفحے کالے ہوتے گئے، دل میں کسک کی کرچیاں چبھتی رہیں، کتابیں اور موسیقی ساتھی بن گئیں، بے تحاشہ مطالعہ کیا، جس لائیبریری سےجو بھی مل جاتا پیاسی ندی کی مانند پی جاتی،رات گئے تک مطالعہ کرتی، دنیا کےمختلف ممالک کےادب سے بھی شناسائی ہوئی، یوں رفتہ رفتہ اس نیلےساگر میں پوری طرح ڈوب گئی۔ ۔ ۔

شاعری ایک اپنی دنیا ہےجہاں کچھ پل کےلئےاچانک سب کی نظر سےاوجھل ہو کر میں شہرِ سبا کی سیڑھیاں چڑھتی ہوں، اسی لیئےمیری شاعری سماجی اور انقلابی مسائل کےبجائے میری اپنی راہ فرار کی جانب جاتی ہے، ورنہ اس دنیا میں کون ہےجس کو ان سےمفر ہے!۔

  شاعری مجھے نیلے نیلےآسمان کی وسعتوں سے بادلوں کے چھوٹے چھوٹے سپید ٹکروں کی مانند، خواب وخیال کی دنیا سے نکال  کر، سرخ سرخ اینٹوں سے بنے ہوئے گھروں کی اس سرزمین پراتار دیتی ہے جہاں میں زندگی کے کٹھن رستوں پر اپنے شوہر کے ساءبان تلے چل رہی ہوں، جہاں میرے پھول سے بچوں کی محبت بھری مہک مجھے تروتازہ و سرشار رکھتی ہے۔Name Naina Iceblue heart

 

قربت میں برابر کے شریک لعنتیوں کی بلیک میلنگ April 20, 2017

Posted by Farzana Naina in Abuse, Black Mail, Harassment, Internet, Internet crimes, News, Pakistan, Pakistani, Scandal, Sexual harassment, Urdu.
1 comment so far

انٹرنیٹ پر خواتین کو پرائیویٹ ویڈیوز کی بنیاد پر بلیک میل کرنے کے واقعات

ریپ اور بدنامی کا خوف

ہزاروں لڑکیوں اور خواتین کو ان کی پرائیویٹ وڈیوز کی بنیاد پر ہراساں کیا جا رہا ہے

شمالی افریقہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشا سمیت دنیا کے اکثر قدامت پسند معاشروں میں ہزاروں جوان خواتین کو ان کی نجی تصاویر اور جنسی مناظر کی وجہ سے ہراساں اور بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے بی بی سی نے خصوصی رپورٹ تیار کی ہے جس میں اس رجحان کا مختلف زاوئیوں سے جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔

ذیل میں ڈینئل سلاس ایڈمسن نے جائزہ لیا ہے کہ سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا جیسی جدید ٹیکنالوجی کس طرح ان معاشروں میں عزت، شرم اور بے شرمی جیسے تصورات اور روایات سے ٹکرا رہی ہے۔

پاکستان میں ایک غیر سرکاری تنظیم بھی آن لائن دنیا کو خواتین کے لیے محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس تنظیم کی سربراہ نگہت داد کہتی ہیں کہ ’ہر روز دو یا تین خواتین ان کی تنظیم سے رابطہ کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ انھیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ سالانہ نو سو خواتین۔ ‘

’جب خواتین کسی کے ساتھ رشتے میں ہوتی ہیں تو وہ اپنی تصویریں اور ویڈیو شیئر کر تی رہتی ہیں۔ اور اگر یہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے، اور اس کااختتام اچھا نہیں ہوتا، تو دوسرا فریق اس مواد کو استعمال کرتا ہے اور خاتون کو بلیک میل کرتا ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف یہ ہوتا ہے کہ لڑکی اسی رشتے میں بندھی رہے بلکہ اس سے ان تصاویر کی بنیاد پر ہر الٹا سیدھا کام کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘

اب پاکستان میں بات بلیک میل سے آگے نکل گئی ہے۔ نگہت داد کہتی ہیں کہ اب انھیں سمارٹ فونز اور جنسی تشدد کے درمیان تعلق کے واقعات میں بھی اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔

‘اس کا آغاز تو ایسی تصاویر سے ہوا جن میں مرد اور خاتون نے اپنی قربت کے لمحات کو محفوظ کیا ہوتا تھا، لیکن اب اس قسم کی تصاویر اور ریپ کے واقعات میں بھی تعلق نظر آ رہا ہے۔ سمارٹ فونز جیسی نئی ٹیکنالوجی سے پہلے، جب ریپ جیسے جرائم کا ارتکاب کرنے والے کچھ کرتے تھے تو انھیں معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ خاتون کو خاموش کیسے کرائیں۔ لیکن اب ٹیکنالوجی کی وجہ سے ریپ کے کلچر نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے کیونکہ اب ایسے مجرم خاتون کی ویڈیو بنا لیتے ہیں اور پھر اس کی بنیاد پر اسے دھمکیاں دیتے ہیں کہ اگر اس نے زبان کھولی تو اس کی ویڈیو انٹرنیٹ پر لگا دیں گے۔’

دوسری جانب سنہ 2009 میں ایک اٹھارہ سال مصری لڑکی، غدیر احمد، نے اپنے بوائے فرینڈ کو اپنی ایک چھوٹی سی ویڈیو بھیجی جس میں وہ ایک گھر میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ ڈانس کر رہی تھیں۔ اس وڈیو میں کوئی جنسی مواد نہیں تھا، لیکن اتنا ضرور تھا کہ ویڈیو میں غدیر نے جو لباس پہنا ہوا تھا اس میں ان کا جسم دکھائی دے رہا تھا اور وہ بلا جھجک ناچ رہی تھیں۔

تین سال بعد جب دونوں کا رشتہ ٹوٹ گیا تو غدیر کے بوائے فرینڈ نے ان سے انتقام لینے کی نیت سے ویڈیو یوٹیوب پر چڑھا دی۔ جب غدیر کو معلوم ہوا تو وہ بہت گھبرا گئیں۔ وہ جانتی تھیں کہ یہ سارا معاملہ – ڈانس، ان کا لباس اور اس پر بوائے فرینڈ کا ہونا – یہ تمام باتیں ان کے والدین بالکل قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی مصری معاشرہ جس میں خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنا جسم ڈھانپ کر رکھیں اور ان کو حیا کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔

ویڈیو کے پوسٹ کیے جانے کے بعد کے سالوں میں غدیر نے اس سے ڈرنا چھوڑ دیا اور خود ’مصری انقلاب‘ کا حصہ بن گئیں۔ انھوں نے حجاب لینا چھوڑ دیا اور خواتین کے حقوق کی وکیل بن گئیں۔

انھیں اس بات پر بہت غصہ آیا کہ ایک مرد نے انھیں یوں بدنام کرنے کی کوشش کی اور پھر انھوں نے اپنے سابق بوائے فرینڈ کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کر دی۔ اگرچہ وہ ہتک عزت کا مقدمہ جیت گئیں، لیکن ان کی جو ویڈیو یو ٹیوب پر جا چکی تھی وہ وہاں پڑی رہی۔ اس وڈیو کے وجہ سے غدیر کو کئی مردوں نے معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی ہراساں کیا اور اپنے فیس بُک صفحات پر غدیر کی ویڈیو شیئر کر کے انھیں برا بھلا کہا۔

غددیر احمد : آئیں اور میری ویڈیو دیکھیں، دیکھیں کہ میں کتنی اچھی ڈانسر ہوں۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ میں اس پر شرمندگی محسوس کروں’۔

سوشل میڈیا وغیرہ پر لوگوں کی گالم گلوچ سے تنگ آ کر سنہ 2014 میں غدیر نے اپنی وہی ویڈیو اپنے فیس بُک صفحہ پر خود پوسٹ کر دی۔ تصویر کے ساتھ انھوں نے لکھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی خاتون کے جسم کو اس کے خلاف استعمال کر کے اسے بدنام کرنے کا سلسلہ ختم ہو۔ غدیر نے لکھا کہ ‘آئیں اور میری ویڈیو دیکھیں، دیکھیں کہ میں کتنی اچھی ڈانسر ہوں۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ میں اس پر شرمندگی محسوس کروں۔’

لیکن غدیر افریقہ اور مشرق وسطیٰ کی ان ہزاروں نوجوان لڑکیوں اور خواتین کے مقابلے میں بہت بے باک ہیں جو اپنی نجی تصاویر کے حوالے سے بلیک میلنگ کا شکار ہو رہی ہیں۔

بی بی سی کو اس رپورٹ کی تیاری کے دوران معلوم ہوا کہ ہزاروں لڑکیوں اور خواتین کو ان کی پرائیویٹ ویڈیوز کی بنیاد پر ہراساں کیا جا رہا ہے اور لوگ انھیں بآسانی بلیک میل کر لیتے ہیں۔ ان ویڈیو کلپس میں ہلکے پھلکے فلرٹ کے مناظر سے لیکر گینگ ریب جیسی جنسی زیادتیوں کے مناظر شامل ہوتے ہیں۔

جہاں تک انتقامی بنیاد پر جنسی زیادتی کے مناظر (ریونج پورن) کا تعلق ہے تو یہ مسئلہ دنیا کے تقریباً ہر ملک میں پایا جاتا ہے۔ لیکن کچھ معاشروں میں جنسی مناظر کو خواتین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جانے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ ان معاشروں میں عزت اور شرم جیسے مسائل بہت اہم سمجھے جاتے ہیں۔

اردن کے دارالحکومت میں مقیم ماہر نفسیات اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی، انم العشہ کہتی ہیں کہ ‘ مغرب کا کلچر مخلتف ہے۔ وہاں ایک لڑکی کی برہنہ تصویر شاید صرف ایک لڑکی کو متاثر کرے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ایسی تصویر اس لڑکی کی موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اور اگر اس کی طبعی زندگی ختم نہیں بھی ہوتی، ایسی لڑکی معاشرتی اور نفیساتی لحاظ سے مر جاتی ہے۔ لوگ اس سے ملنا جلنا چھوڑ دیتے ہیں وہ معاشرے سے کاٹ دی جاتی ہے۔’

اس قسم کے واقعات کی اکثریت کے بارے میں آپ کو معلوم ہی نہیں ہوتا کیونکہ لوگ ایسے واقعات کے بارے میں پولیس کو بتاتے ہی نہیں۔ تاہم ایک درجن سے زیادہ ممالک میں وکلاء، پولیس اور سماجی کارکنوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا نے خواتین کو بدنام اور بلیک میل کرنے کی اس وبا میں بہت اضافہ کر دیا ہے جو اس ٹیکنالوجی سے پہلے ڈھکی چھُپی تھی۔

جدید ٹیکنالوجی

جدید ٹیکنالوجی اور روایات کے درمیان جنگ کی وجہ سے خواتین کو بلیک میل کرنا آسان ہو گیا ہے

اردن، مصر، غرب اردن، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک میں اس وبا میں اضافہ ہو چکا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی پولیس کے سائبر کرائم یونٹ کی معاونت کرنے والے سماجی کارکن کمال محمد کہتے ہیں کہ ‘ بعض اوقات اس مقصد کے لیے جو تصویریں استعمال کی جاتی ہیں ان میں کوئی جنسی بات نہیں ہوتی۔ مثلاً کسی لڑکی کی بغیر حجاب کے تصویر بھی سکینڈل بن سکتی ہے۔ کوئی مرد اس تصویر کو عام کرنے کی دھمکی دے کر لڑکی سے اس کی مزید تصویریں حاصل کر سکتا ہے۔’

کمال محمد کا کہنا ہے کہ ‘خلیجی ممالک میں خواتین کی بلیک میلنگ کا مسئلہ بہت زیادہ ہو گیا ہے اور بڑے پیمانے پر خواتین کو اس کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خاص طور پر سعودی عرب، امارات، کویت، قطر اور بحرین میں یہ بہت زیادہ ہے۔ کئی لڑکیوں نے ہمیں بتایا کہ اگر ان کی تصویریں عام کر دی گئیں تو انھیں شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔’

جنوبی ایشیائی ممالک میں بھی سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے ذریعے خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انڈیا کے سپریم کورٹ کے وکیل پون دُگال کہتے ہیں ملک میں خواتین کی ڈیجیٹل تصاویر کے کیسز اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی سیلابی ریلا ہو۔ ‘میرا اندازہ ہے کہ انڈیا میں روزانہ اس قسم کے ہزاروں واقعات ہو رہے ہیں۔’

بتشکر: بی بی سی اردو

 

Quotes of Rumi April 17, 2017

Posted by Farzana Naina in Poetry.
1 comment so far

“Ignore those that make you fearful and sad, that degrade you back towards disease and death.”
― Jalaluddin Rumi.

11 arena AIRE humo de arena

“My heart is so small
it’s almost invisible.
How can You place
such big sorrows in it?
“Look,” He answered,
“your eyes are even smaller,
yet they behold the world.”
― Jalaluddin Rumi.

36d3e7e5d131cae95a89e1a9a8d8681f

“Everything in the universe is within you. Ask all from yourself.”
― Jalaluddin Rumi.

George-Redhawk-5

A poem by Mashal Khan April 15, 2017

Posted by Farzana Naina in Poetry.
add a comment

میں لاپتا ہوگیا ہوں

کئی ہفتے ہوئے

پولیس کو رپورٹ لکھوائے

تب سے روز تھانے جاتا ہوں

حوالدار سے پوچھتا ہوں

میرا کچھ پتا چلا؟

ہمدرد پولیس افسر مایوسی سے سر ہلاتا ہے

پھنسی پھنسی آواز میں کہتا ہے

ابھی تک تمھارا کچھ سراغ نہیں ملا

پھر وہ تسلی دیتا ہے

کسی نہ کسی دن

تم مل ہی جاؤ گے

بے ہوش

کسی سڑک کے کنارے

یا بری طرح زخمی

کسی اسپتال میں

یا لاش کی صورت

کسی ندی میں

میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں

میں بازار چلا جاتا ہوں

اپنا استقبال کرنے کے لیے

گل فروش سے پھول خریدتا ہوں

اپنے زخموں کے لیے

کیمسٹ سے

مرہم پٹی کا سامان

تھوڑی روئی

اور درد کشا گولیاں

اپنی آخری رسومات کے لیے

مسجد کی دکان سے ایک کفن

اور اپنی یاد منانے کے لیے

کئی موم بتیاں

کچھ لوگ کہتے ہیں

کسی کے مرنے پر

موم بتی نہیں جلانی چاہیے

لیکن وہ یہ نہیں بتاتے

کہ آنکھ کا تارہ لاپتا ہوجائے

تو روشنی کہاں سے لائیں؟

گھر کا چراغ بجھ جائے

تو پھر کیا جلائیں؟

مشال خان ۔ 5 مارچ 2017 –   

http://www.bbc.com/urdu/pakistan-39590534

دیکھ کبیرا رویا April 14, 2017

Posted by Farzana Naina in Dekh Kabira Roya, Literature, Manto, Urdu, Urdu Literature.
1 comment so far

سعادت حسن منٹو

 

نگر نگر ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ جو آدمی بھیک مانگے گا اس کو گرفتار کرایا جائے۔ گرفتاریاں شروع ہوئیں۔ لوگ خوشیاں منانے لگے کہ ایک بہت پرانی لعنت دور ہوگئی۔

کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ لوگوں نے پوچھا۔اے جولاہے تو کیوں روتا ہے؟

کبیر نے رو کر کہا۔’’ کپڑا جو چیزوں سے بنتا ہے۔ تانے اور پیٹے سے۔ گرفتاریوں کا تانا تو شروع ہوگیا پر پیٹ بھرنے کا پیٹا کہاں ہے؟‘‘

ایک ایم اے۔ ایل ایل بی کو دو سو کھڈیاں الاٹ ہوگئیں۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ایم اے۔ ایل ایل بی نے پوچھا۔’’ اے جولاہے کے بچے تو کیوں روتا ہے؟۔۔۔۔۔۔ کیا اس لیے کہ میں نے تیرا حق غصب کرلیا ہے؟‘‘

کبیر نے روتے ہوئے جواب دیا۔’’ تمہارا قانون تمہیں یہ نکتہ سمجھاتا ہے کہ کھڈیاں پڑی رہنے دو، دھاگے کا جو کوٹا ملے اسے بیچ دو۔ مفت کی کھٹ کھٹ سے کیا فائدہ۔۔۔ لیکن یہ کھٹ کھٹ ہی جولاہے کی جان ہے!‘‘

چھپی ہوئی کتاب کے فرمے تھے۔ جن کے چھوٹے بڑے لفافے بنائے جا رہے تھے۔ کبیر کا ادھر سے گزر ہوا۔ اس نے وہ تین لفافے اٹھائے اور ان پر چھپی ہوئی تحریر پڑھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے لفافے بننے والے نے حیرت سے پوچھا۔’’ میاں کبیرتم کیوں رونے لگے؟‘‘

کبیر نے جواب دیا۔’’ ان کاغذوں پر بھگت سُورداس کی کویتا چھپی ہے۔ لفافے بنا کر اس کی بے عزتی نہ کرو۔‘‘

لفافے بنانے والے نے حیرت سے کہا۔’’ جس کا نام سُورداس ہے۔ وہ بھگت کبھی نہیں ہوسکتا۔‘‘

کبیر نے زار و قطار رونا شروع کردیا۔

ایک اونچی عمارت پر لکشمی کا بہت خوبصورت بت نصب تھا۔ چند لوگوں نے جب اسے اپنا دفتر بنایا تو اس بُت کو ٹاٹ کے ٹکڑوں سے ڈھانپ دیا۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔ دفتر کے آدمیوں نے اسے ڈھارس دی اور کہا۔’’ ہمارے مذہب میں یہ بت جائز نہیں۔‘‘

کبیر نے ٹاٹ کے ٹکڑوں کی طرف اپنی نمناک آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔’’ خوبصورت چیز کو بدصورت بنا دینا بھی کسی مذہب میں جائز نہیں۔‘‘

دفتر کے آدمی ہنسنے لگے۔ کبیر ڈھاریں مار مارکر رونے لگا۔

صف آرا فوجوں کے سامنے جرنیل نے تقریر کرتے ہوئے کہا۔ ’’اناج کم ہے، کوئی پروا نہیں۔ فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ کوئی فکر نہیں۔۔۔ ہمارے سپاہی دشمن سے بھوکے ہی لڑیں گے۔‘‘

دو لاکھ فوجیوں نے زندہ باد کے نعرے لگانے شروع کردیے۔

کبیر چلا چلا کے رونے لگا۔ جرنیل کو بہت غصہ آیا۔ چنانچہ وہ پکار اٹھا۔’’ اے شخص، بتا سکتا ہے، تو کیوں روتا ہے؟‘‘

کبیر نے رونی آواز میں کہا۔’’ اے میرے بہادر جرنیل۔۔۔ بھوک سے کون لڑے گا۔‘‘

دو لاکھ آدمیوں نے کبیر مردہ باد کے نعرے لگانے شروع کردیے۔

’’بھائیو، داڑھی رکھو مونچھیں کترواؤ اور شرعی پاجامہ پہنو۔۔۔ بہنو، ایک چوٹی کرو، سرخی سفیدہ نہ لگاؤ، برقع پہنو!‘‘۔۔۔۔۔۔ بازار میں ایک آدمی چلا رہا تھا۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھیں نمناک ہوگئیں۔

چلّانے والے آدمی نے اور زیادہ چلّا کر پوچھا۔’’کبیر تو کیوں رونے لگا؟‘‘

کبیر نے اپنے آنسو ضبط کرتے ہوئے کہا۔’’ تیرا بھائی ہے نہ تیری بہن، اور یہ جو تیری داڑھی ہے۔ اس میں تو نے وسمہ کیوں لگا رکھا ہے۔۔۔ کیا سفید اچھی نہیں تھی۔‘‘

چلّانے والے نے گالیاں دینی شروع کردیں۔ کبیر کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔

ایک جگہ بحث ہورہی تھی۔

’’ادب برائے ادب ہے۔‘‘

’’محض بکواس ہے، ادب برائے زندگی ہے۔‘‘

’’وہ زمانہ لد گیا۔۔۔ ادب، پروپیگنڈے کا دوسرا نام ہے۔‘‘

’’تمہاری ایسی کی تیسی۔۔۔‘‘

’’تمہارے اسٹالن کی ایسی کی تیسی۔۔۔‘‘

’’تمہارے رجعت پسند اور فلاں فلاں بیماریوں کے مارے ہوئے فلابیئر اور بادلیئر کی ایسی کی تیسی‘‘۔

کبیر رونے لگا بحث کرنے والے بحث چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ ایک نے اس سے پوچھا۔’’ تمہارے تحت الشعور میں ضرور کوئی ایسی چیز تھی جسے ٹھیس پہنچی۔‘‘

دوسرے نے کہا۔’’ یہ آنسو بورژوائی صدمے کا نتیجہ ہیں۔‘‘

کبیر اور زیادہ رونے لگا۔ بحث کرنے والوں نے تنگ آکر بیک زبان سوال کیا۔’’میاں، یہ بتاؤ کہ تم روتے کیوں ہو؟‘‘

کبیر نے کہا۔’’ میں اس لیے رویا تھا کہ آپ کی سمجھ میں آجائے، ادب برائے ادب ہے یا ادب برائے زندگی۔‘‘

بحث کرنے والے ہنسنے لگے۔ ایک نے کہا۔’’ یہ پرولتاری مسخرہ ہے۔‘‘

دوسرے نے کہا۔’’نہیں یہ بورژوائی بہروپیا ہے۔‘‘

کبیر کی آنکھوں میں پھر آنسو آگئے۔

حکم نافذ ہوگیا کہ شہر کی تمام کسبی عورتیں ایک مہینے کے اندر شادی کرلیں اور شریفانہ زندگی بسر کریں۔ کبیر ایک چکلے سے گزرا تو کسبیوں کے اڑے ہوئے چہرے دیکھ کر اس نے رونا شروع کردیا۔ ایک مولوی نے اس سے پوچھا۔’’مولانا۔ آپ کیوں رو رہے ہیں؟‘‘

کبیر نے روتے ہوئے جواب دیا’’ اخلاق کے معلّم ان کسبیوں کے شوہروں کے لیے کیا بندوبست کریں گے‘‘

مولوی کبیر کی بات نہ سمجھا اور ہنسنے لگا۔ کبیر کی آنکھیں اور زیادہ اشک بار ہوگئیں۔

دس بارہ ہزار کے مجمع میں ایک آدمی تقریر کررہا تھا۔’’بھائیو۔ بازیافتہ عورتوں کا مسئلہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس کا حل ہمیں سب سے پہلے سوچنا ہے اگر ہم غافل رہے۔ تو یہ عورتیں قحبہ خانوں میں چلی جائیں گی۔ فاحشہ بن جائیں گی۔۔۔ سن رہے ہو، فاحشہ بن جائیں گی۔۔۔۔۔۔ تمہارا فرض ہے کہ تم ان کو اس خوفناک مستقبل سے بچاؤ اور اپنے گھروں میں ان کے لیے جگہ پیدا کرو۔۔۔۔۔۔ اپنے اپنے بھائی، یا اپنے بیٹے کی شادی کرنے سے پہلے تمہیں ان عورتوں کو ہرگز ہرگز فراموش نہیں کرناچاہیے۔

کبیر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ تقریر کرنے والا رُک گیا۔ کبیر کی طرف اشارہ کرکے اس نے بلند آواز میں حاضرین سے کہا۔’’ دیکھو اس شخص کے دل پر کتنا اثر ہوا ہے۔‘‘

کبیر نے گلو گیر آواز میں کہا۔’’لفظوں کے بادشاہ، تمہاری تقریر نے میرے دل پرکچھ اثر نہیں کیا۔۔۔ میں نے جب سوچا کہ تم کسی مالدار عورت سے شادی کرنے کی خاطر ابھی تک کنوارے بیٹھے ہو تو میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔‘‘

ایک دکان پر یہ بورڈ لگا تھا۔’’جناح بوٹ ہاؤس۔‘‘ کبیر نے اسے دیکھا۔ تو زار و قطار رونے لگا۔

لوگوں نے دیکھا کہ ایک آدمی کٹ مرا ہے۔ بورڈ پر آنکھیں جمی ہیں اور روئے جارہا ہے۔ انھوں نے تالیاں بجانا شروع کردیں۔’’ پاگل ہے۔۔۔ پاگل ہے!‘‘

ملک کا سب سے بڑا قائد چل بسا تو چاروں طرف ماتم کی صفیں بچھ گئیں۔ اکثر لوگ بازوؤں پر سیاہ بلے باندھ کر پھرنے لگے۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ سیاہ بلّے والوں نے اس سے پوچھا۔’’ کیا دکھ پہنچا جو تم رونے لگے؟‘‘

کبیر نے جواب دیا۔’’ یہ کالے رنگ کی چندیاں اگر جمع کرلی جائیں تو سینکڑوں کی سترپوشی کرسکتی ہیں۔‘‘

سیاہ بلّے والوں نے کبیر کو پیٹنا شروع کردیا۔ تم کمیونسٹ ہو، ففتھ کالمسٹ ہو۔ پاکستان کے غدار ہو۔‘‘

کبیر ہنس پڑا۔’’لیکن دوستو، میرے بازو پر تو کسی رنگ کا بلّا نہیں۔‘‘

نجانے کون سا منظر تھا مجھ کو یاد نہیں April 12, 2017

Posted by Farzana Naina in Farzana, Farzana Naina, Feelings, Poetry, Shaira, Sher, Urdu Shairy.
add a comment

نجانے کون  سا  منظر  تھا  مجھ  کو  یاد  نہیں

  طلسم  میرے  بھی  اندر  تھا  مجھ  کو  یاد  نہیں

 

 میں  اپنی  تہہ میں  کہیں  دور  جا  کے  ڈوب گئی 

وہ  ذرہ  کوئی  سمندر  تھا  مجھ  کو  یاد  نہیں

 

آج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پتہ نہیں کیوں ایک اداسی سی ہے، دور دیسوں کی کہانیوں جیسی کوئی طلسماتی سی فضا ہے ذہن میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جس تک ہم کبھی پہنچ نہیں سکتے ۔۔۔۔۔۔۔۔!۔

[https://www.youtube.com/watch?v=l-dPQyaoNhY]

Ankahi – ان کہی April 12, 2017

Posted by Farzana Naina in British Pakistani Poetess, Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Naina, Nazm, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
2 comments

‘‘ اَن کہی ’’

اَن کہی کے حسن میں کچھ دیر تو ڈوبے رہو

 زندگی خود  میں  اترنے  کی  جو  دے  مہلت ذرا

خواب نگری کے ہر اک کونے کے آئینے تکو

دھوپ چھاؤں آنکھ سے آنکھوں کی ڈبیوں میں رکھو

رات کے پُل پر ہوا کے راگ میں گم صم رہو

چاندنی کی تتلیوں کو رقص میں شامل کرو

روح میں بہتے ہوئے احساس کی لہریں گنو

عمر کے بکھرے ہوئے سیپوں سے کچھ موتی چُنو

چاند سے لپٹی ہوئی بدلی کی چھاؤں میں چلو

بربطوں کی تال پر اک ماورا منظر بُنو

پتھروں کی نیلی محرابوں کے جنگلے کاٹ دو

کہر میں کھوئے ہوئے رستوں پہ  سرگرداں رہو

سبز پریوں کا یہ میلہ روز تو لگتا نہیں

عشق پنچھی اپنے پر دوبارہ پھیلاتا نہیں

پھر کہاں وارفتگی سے ہوگا کوئی منتشر

آرزوؤں کے نگر میں یوں تمہارا منتظر

کہہ دیا سب کچھ تو یہ سارا فسوں مٹ جائے گا

ہر ستارہ کہکشاں کی بھیڑ میں کھو جائے گا

ان کہی کے حسن میں کچھ دیر تو ڈوبے رہو

 !!!ڈوبے رہو کچھ دیر  اور۔۔۔۔ ۔ 

فرزانہ نیناں

Ankahi ke husn mein kuch deir tau doobe raho

Zindagi khud mein uterne ki jo de mohlut zara

Khwab’nagri ke har ik kone ka aaeene tako

Dhoop chaa’on aankh se aankhon ki dibiyon mein rakho

Raat ke pull par hawa ke raag mein gum sum raho

Chandni ki titliyon ko raqs mein shamil karo

Rooh mein behte huey ehsaas ki lehrein gin’no

Umr ke behte huey seepon se kuch moti chuno

Chand se lipti hui badli cha’aon mein chalo

Barbat’ton ki taal par ik maa’wra manazar buno

Pat’tharon ki neeli mehraabon ke jungle kaat do

Kohur mein khoye huey raston pe sardar’daan raho

Sabz pariyon ka ye mela roz tau lagta nahein

Ishq panchi apne par dobara pheilata nahin

Phir kahan waa’raftgi se hoga koi muntashir

Aarzo’on ke nagar mein raah par yun mantazir

Keh diya sab kuch…..tau ye sara fusoon mitt jaey ga

Har sitara keh’kashan ki bhee’rr mein kho jaey ga

An’kahi ke husn mein kuch deir tau doobe raho

Doobe raho, kuch deir aur……………. !!!

~ Farzana Naina.

Golden bar 1

Khush Manzari – خوش منظری April 9, 2017

Posted by Farzana Naina in Farzana, Farzana Naina, Feelings, Flowers, Ghazal, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Naina, Nazm, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Thoughts, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
2 comments

3 Pink Flower bar

خوش منظری

.چیری کے پیڑوں پہ پھولوں سے لدی یہ ڈالیاں !
میری آنکھوں میں کسی جنگل کی جیسے ہرنیاں
کس محبّت سے ترے نغمے سناتی ہیں مجھے
میٹھی آوازوں کی پائل سے جگاتی ہیں مجھے
تیز رفتاری سے کتنی دور تک جاتا ہے دل
کان میں چپکے سے کہتا ہے کوئی : آ مجھ سے مِل
اب بھی اونٹوں کے گلے میں بج رہی ہیں گھنٹیاں
اب بھی صحرا میں سنہری شام کی ہیں سرخیاں
کیا کہوں میں خواب جیسے اِس فسانے کے لئے
پھول تو ہوتے ہیں دریا میں بہانے کے لئے
دائروں میں جھوم کر آتا پہاڑی سے دھواؑں
اُڑتے اُڑتے مجھ پہ رکھ جاتا ہے اک کوہِ گراں

( فــرزانـہ نیــناںؔ )

الوؤں کے گھونسلے میں ڈونلڈ ڈک November 10, 2016

Posted by Farzana Naina in Poetry.
Tags: , , , ,
1 comment so far

الوؤں کے گھونسلے میں ڈونلڈ ڈک

www.cartoonstock.com/cartoonview.asp?catref=hbrn2482

انٹر نیٹ اور تمام میڈیا چینلز پر خبروں کی دنیا میں اس وقت بھونچال آیا ہوا ہے، دنیا کے سب سے طاقتور فرد کے طور پر جس شخص نے امریکی صدر کا عہدہ ہتھیایا ہے اس پر تجزیہ نگاروں کی زبانیں چلتے چلتے رک نہیں پا رہیں، اس کی وجہ سے اب امریکہ میں جلسے جلوسوں کا جو سلسلہ چل پڑا ہے، وہ بھلا کس کے پلے پڑے گا !!!

ان احتجاجات پر غور کیا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ پہلے وہ خود واویلا کرتے رہے، عربوں کے خلاف، چین کے خلاف، روس کے خلاف، میکسیکنز کے خلاف، کالوں کے خلاف وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

ان کے دلوں میں جو تعصب پنہاں تھا اس کو ٹرمپ نے نکال باہر کیا ورنہ اکثریت اس کو ووٹ ڈال کر کامیابی سے ہمکنار کیسے اور کیوں کرواتی؟ ’’ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت ‘‘ کے مصداق اب کچھ نہیں ہو سکتا !

دنیا بھر میں ٹرمپ کی جیت کو مجموعی طور پر غم و غصے کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، حالانکہ ہلری بیگم  ۔۔

بھی شیطان کی چیلی سے کم نہیں ہیں جو کچھ انہوں نے عراق کے لیئے کیا۔۔۔ پھر بھی !

ان دونوں کے بیانات تمام انتخابی مہم کے دوران کبھی تعصب تو کبھی مسخرے پن میں تبدیل ہوتے رہے، دنیا تماشے کے مزے لیتی رہی ، اب احساس ہوا ہے کہ وہ مسخروں کی بڑھکیں نہیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹرمپ نے اپنی چالاکیوں سے امریکی قوم کی آنکھوں میں سرمہ لگا ہی دیا !

اب یہ قوم کیا سوچ کر واویلا مچا رہی ہے بھلا؟

ٹرمپ نے ان کو وہ ہی سنایا جو وہ سننا چاہتے تھے، بالکل اسی طرح جیسے برطانوی ووٹرز نے یورپی یونین کے خلاف ووٹ دینے کے بعد شور مچادیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لگتا ہے ان ملکوں کے سنہرے دور جا چکے ہیں ، یہاں کا عام آدمی ہیلتھ سروسز، بچوں کی تعلیم، مکانوں کی خرید و فروخت، بلوں کی ادائیگیوں، لوکل سروسز اور امن عامہ و جرائم  سے نالاں ہے، ان کے برعکس دنیا کی دوسری اقوام کو دیکھا جائے تو وہ سنجیدگی سے آگے بڑھتی نظر آ رہی ہیں۔

دنیا بھر میں اپنی انتہا پسندی کے باعث امریکہ نے تباہیاں ہی تباہیاں پھیلائی ہیں، خاص کر پاکستانی قوم تو ان کے عتاب کی سزائیں ابھی تک بھگت رہی ہے، آئی ایس کو ختم کرنے کے بہانے اب اور کون کون سی قیامت آئے گی ۔۔۔۔اس خوف میں مبتلا لوگ شاید کچھ کرنے سے قاصر ہی رہیں گے ۔۔۔۔۔۔۔!

ٹرمپ کی فتح اور برطانیہ میں یورپی یونین سے علیحدگی کے غلط فیصلے، ٹریسا جیسی وزیر اعظم کی بے تکی پالیسیوں سے ان دونوں ممالک میں رہنے والوں کی ذہنیت کھل کر سامنے آئی ہے۔

نائیجل فاراج نے چالاکی و خاموشی سے ذہنوں کو تبدیل کیا اور ٹرمپ نے بھی وہی راستہ اپنایا، ووٹرز کو وہ دکھایا اور سنایا جو وہ چاہتے ہیں ۔ 

جس طرح ٹرمپ دنیا کے کلائیمٹ چینج کو ایکنالج نہیں کر رہا اسی طرح برطانیہ کی وزیر اعظم ٹریسا بھی لوکل کاؤنسلز کو    (Fracking)

فریکنگ  کی اجازت دے چکی ہے جو مستقبل کے لیئے کتنی مہلک خیز ثابت ہوگی یہ سوچ کر خوف آتا ہے 

ان ملکوں نے دنیا میں بڑے راج کیئے مگر اب اپنی ہی قوم شاید انہیں تباہیوں کا شکار کر دے !

 امریکی قوم اب اپنی غلطیوں کی سزا بھگتے گی یا نہیں اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا !

فی الوقت تو الوؤں کے گھونسلے میں ڈونلڈ ڈک راج کرتا نظر آ رہا ہے البتہ یہ فقط نظر کا دھوکہ بن کر غلط بھی ثابت ہو سکتا ہے، مستقبل میں اس دنیا کے امن و امان کی صورتحال کیا ہوگی، فی الوقت ایسے سوالات سے یقیناَ۔ سب کے ذہن بر سر پیکار ہیں۔

 

00-trump-cartoons02

Spy Princess Noor Inayat Khan April 9, 2014

Posted by Farzana Naina in Poetry.
Tags: , ,
1 comment so far

ٹیپو سلطان کی پوتی اوردوسری جنگ عظیم

Spy Princess Noor Inayat Khan

Spy Princess Noor Inayat Khan

بشکریہ:خرم سہیل منگل 8 اپريل2014

ایک حسین عورت جس کے نرم ہاتھوں کی انگلیاں ستار بجاتی تھیں، کیا اس کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے، اسے دشمن فوج کے ہاتھوں قتل کیا جائے گا مگر ایسا ہوا، تاریخ ہمیں اس کی کہانی سناتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں جب جرمنی کے نازیوں نے فرانس پر قبضہ کیا، تو برطانیہ نے دشمن پر نظر رکھنے اور خفیہ اطلاعات حاصل کرنے کے لیے اس عورت کو جاسوس بناکر فرانس کے مقبوضہ علاقے میں بھیجا تاکہ وہ انھیں دشمن کی خبریں دے سکے۔
نازیوں کے مقبوضہ علاقوں میں بھیجی جانیوالی یہ پہلی خاتون بھی تھی جسے ونسٹن چرچل کے اعلیٰ خصوصی مشن کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس مشن کے دوران دشمن نے اسے دھر لیا اور کوشش کی گئی کہ وہ سارے راز اگل دے مگر اس نے ایک لفظ تک منہ سے نہ نکالا۔ گرفتاری کے بعد اسے جرمنی کے جس کیمپ میں قید رکھا گیا تھا وہیں اس کے سر پر گولی ماردی گئی۔ اس بہادر عورت کا نام ’’نورالنساء عنایت اﷲ خان‘‘ تھا۔
30برس کی عمر میں موت کو اپنی ہمجولی بنانے والی اس خاتون کا پس منظر ہی ایسا تھا کہ یہ موت سے ڈرنے والی نہیں تھی۔ اس کا آبائی تعلق شہنشاہ میسور ’’ٹیپو سلطان‘‘ سے تھا۔ اس کے ذہن میں اپنے اجداد کی یہ بات بھی شاید تروتازہ تھی کہ ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔‘‘ یہی وجہ تھی کہ اس نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور کسی خوف کو اپنے اوپر طاری نہیں ہونے دیا۔نورالنساء عنایت اﷲ خان چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی۔ روس کے شہر ماسکو میں پیدا ہوئی۔ اس کے والد عنایت اﷲ خان درویش صفت انسان تھے۔ انھیں ورثے میں صوفی تعلیم ملی۔ پہلی جنگ عظیم سے کچھ عرصہ پہلے یہ خاندان روس سے ہجرت کرکے برطانیہ چلا گیا۔ 1920 میں وہاں سے بھی ہجرت کرکے فرانس آباد ہوا۔ نور کے والد عنایت اﷲ خان کا جب انتقال ہوا تو وہ اور اس کے بہن بھائی کم عمر تھے۔ بوڑھی ماں اور چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمے داری نور کے نازک کاندھوں پر آن پڑی۔
یہ وہ زمانہ تھا جب نو رکی آنکھوں میں کچھ خواب تھے، وہ زندگی کو اپنے انداز میں گزارنا چاہتی تھی۔ وہ کم گو اور شرمیلی تھی۔ فرانس میں رہتے ہوئے اس نے کچھ عرصہ مغربی اور مشرقی موسیقی کی تربیت بھی حاصل کی۔ ستار سے اس کو بے حد لگاؤ تھا۔ شاعری سے لکھنے کی ابتدا کی، بچوں کے رسالوں میں کہانیاں لکھنے لگی اور ریڈیو سے بھی خود کو وابستہ کیا۔ 25 برس کی عمر میں اس کی پہلی کتاب ’’بیس جاتک کہانیاں‘‘ لندن سے شایع ہوئی۔ یہ مہاتما گوتم بودھ اور بودھ مت سے بہت متاثر تھی، یہی وجہ تھی کہ اس نے کچھ اس طرز کی کہانیاں لکھیں۔
1940 میں جب دوسری جنگ عظیم کی ابتدا ہوئی اور اس سے فرانس متاثر ہونے لگا تو نورالنساء کا خاندان ساحلی راستے سے فرار ہوکر کسی نہ کسی طرح برطانیہ پہنچ گیا۔ حالات تبدیل ہوگئے اور شاید نور کی ترجیحات بھی، اسی لیے اس نے خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت کی سنگ دل دنیا میں قدم رکھا۔ وہ اپنے والد کی امن پسند اور صوفی سوچ سے بہت متاثر تھی، شاید اسی لیے اس نے نازیوں کے ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کا مصمم ارادہ کرلیا۔ اس نے عملی طور پر قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا اور رائل ایئر فورس میں آلات فراہم کرنے والی فوجی خواتین میں بھرتی ہوگئی، وائرلیس آپریٹر کی تربیت حاصل کی۔ دوسری جنگ عظیم میں بمباری کی تربیت دینے والی درسگاہ میں بھی اسے بھیجا گیا۔ اس نے اپنے شعبے میں مزید ترقی کے لیے کمیشن پاس کیا اور اسسٹنٹ سیکشن آفیسر کے عہدے تک جاپہنچی۔
نورالنساء عنایت اﷲ خان کا تبادلہ ونسٹن چرچل کے ’’اعلیٰ خصوصی مشنز‘‘ برائے فرانس میں ہوگیا۔ یہ برطانوی فضائیہ اور فرسٹ ایڈ نرسنگ کے شعبے میں بھی تبادلہ کرکے بھیجی گئی، اس دوران اسے کئی طرح کے تربیتی ادوار سے گزارا گیا۔ اس کے افسران کاخیال تھا اسے فرانسیسی زبان پر مکمل عبور ہے اور یہ ریڈیو جو اس جنگ میں بہت اہم آلہ تھا، اس کی ماہر ہے۔ لہٰذا اسے خفیہ ایجنٹ کے طور پر مقبوضہ فرانس بھیجنے کی تربیت دی جائے اور پھر اس خیال کو عملی جامہ پہنایا گیا۔
اس دوران اس نے اپنا نام نورالنساء عنایت اﷲ خان سے بدل کر فرضی نام ’’نوراباکر‘‘ رکھ لیا۔ نرس کے روپ میں یہ فرانس پہنچائی گئی۔ یہ وہی ملک تھا، جہاں کچھ عرصہ پہلے تک یہ اپنے خاندان کے ساتھ ایک عام لڑکی کی حیثیت میں زندگی بسر کررہی تھی۔ فرانس میں ڈاکٹروں اور نرسوں کے روپ میں جتنے جاسوس بھیجے گئے، وہ پہلے پکڑے گئے، نور گرفتار ہونے سے بچ گئی۔ وہاں اس نے اپنا خفیہ نام ’’میڈلن‘‘ رکھا۔ وہ اس علاقے کے خطرات کو بھانپ چکی تھی اور واپس لندن آنا چاہتی تھی مگر اسے فرانس میں رک کر برطانیہ کے لیے معلومات بھیجتے رہنے کا کہا گیا۔ وہ اکیلی تھی مگر اس نے اپنا فرض پوری طرح سے نبھایا۔ وہ مستقل بنیادوں پر مقامات بدل بدل کر برطانیہ پیغام بھیجتی رہی۔ اس عرصے میں برطانیہ اور فرانس کے درمیان نور ہی واحد رابطہ تھی۔ نازی فوج کو اس نے تگنی کا ناچ نچایا اور آخرکار 1943 میں فرانس کے ایک مقام سے گرفتار ہوئی۔ نازی فوجی اس سے کچھ نہ اگلوا سکے، البتہ ان کے ہاتھ نور کی وہ ڈائری لگی، جس میں ترسیل شدہ معلومات کی تفصیل درج تھیں۔ نور اور اس کی تین دوسری خواتین ساتھیوں کو 13 ستمبر 1944 کو جرمنی کے ایک کیمپ میں گولی ماردی گئی۔
نورالنساء عنایت اﷲ خان نے نہایت آبرومند انداز اپنایا اور اپنے ملک کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کیا۔ اسے برطانیہ اور فرانس کے اعلیٰ فوجی اعزازات سے نوازا گیا۔ ابھی حال ہی میں برطانیہ کے محکمہ ڈاک نے اس کی تصویر اور نام کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا ہے جسے منسوب کیا گیا اس عورت کے نام جو دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کی ہیروئن تھی اور جس نے فسطائیت کے خلاف لڑتے ہوئے دشمن کے نرغے میں جان دی۔ یہ ڈاک ٹکٹ ’’قابل ذکر زندگیاں‘‘ نامی سیریز کا ایک حصہ ہے، جس میں مزید نو اہم شخصیات کے نام اور تصویر کے ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔
فرانس میں تین مقامات پر اس کی یادگاریں موجود ہیں۔ فرانس کی وہ گلی جہاں کبھی نورالنساء رہاکرتی تھی، اس گلی کو زمانہ جنگ کے دور کے نام ’’میڈلن‘‘ سے منسوب کردیا گیا ہے لندن میں گارڈن اسکوائر کے گارڈن پارک میں بھی نور سے منسوب ایک یادگاری مجسمہ لگایا گیا۔ وہاں اس کے افتتاح کے موقع پر اس کی ایک پرانی ساتھی ’’آئرن وارنر‘‘ جس کی عمر اب 91 برس ہے، اس نے شرکت کی اور بھیگی پلکوں سے اس کو یاد کیا۔
نور کی شخصیت پر ایک بنگالی مصنفہ ’’شرابانی بھاسو‘‘ نے انگریزی میں ’’اسپائے پرنسز‘‘ کے نام سے نورالنساء عنایت اﷲ خان کی سوانح حیات لکھی۔ یہ وہی مصنفہ ہے جس کی کتاب ’’وکٹوریہ اور عبدل‘‘ بہت مشہور ہوئی تھی جس میں تاج برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ اور محل کے ایک مسلمان ملازم منشی عبدالکریم کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ نور پر ’’اینمی آف ریچ‘‘ نامی ٹیلی فلم بھی بنائی گئی جسے بے حد پسند کیا گیا۔ نور عنایت خان ٹرسٹ بھی بنایا گیا جس کے ذریعے امن کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کی ایک کوشش کی گئی۔ اس ٹرسٹ کی بانی وہی بنگالی مصنفہ شرابانی بھاسو ہیں۔ انھوں نے اس ٹرسٹ کو بنانے کے لیے دنیا بھر سے فنڈز اکٹھے کرنے کے لیے جدوجہد کی۔ 2011 میں ’’ہاؤس آف کامن‘‘ میں ایک ڈونرز ڈنر کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اس موقع پر برطانوی وزیراعظم نے بھی اپنا پیغام دیا۔ بھارت سے معروف فلمی ستارے عامر خان کی بیوی کرن راؤ نے بھی اس ٹرسٹ کو فنڈرز دیے۔لندن میں باغ میں نصب کیے گئے مجسمے کے اردگرد درختوں کے پتے ٹوٹ کر بکھرتے رہتے ہیں، اسی طرح جیسے نورالنساء کی زندگی سے ایک ایک کرکے لمحوں کے پتے ٹوٹ کر بکھرے تھے۔ غیرمنقسم ہندوستان کے مسلمان گھرانے کی اس بیٹی نے اپنے پردادا اور دادا کی طرح بہادی سے جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے وطن کی جنگ لڑی۔ کتنی عجیب بات ہے، ٹیپو سلطان فرانسیسی فوج کی حمایت میں انگریزی فوج کے ساتھ لڑے اورپوتی نے فرانسیسی اور انگریزی دونوں سرزمینوں کے لیے نازیوں سے لڑائی کی۔ نورالنساء چاہتی تھی کہ ایشیا کے مسلمانوں کا تشخص اجاگر ہو اور ہندوستان کو آزادی ملے، یہی وجہ ہے کہ اس کی فرض شناسی نے اس کا نام سنہری حروف میں لکھوایا۔ افسوس یہ ہے پاکستان سے اس بہادر بیٹی کے لیے کچھ نہیں لکھا اور کہا گیا، جب کہ یہ وہی جنگ تھی جس میں برصغیر کے مسلمان بھی انگریز کی طرف سے لڑے تھے، مگر تاریخ نے اسے زندہ رکھا ہوا ہے۔
میسور کی شہزادی اور لندن اور پیرس کی ہیروئن نورالنساء عنایت اﷲ خان سے جب آخری وقت میں پوچھا گیا کہ وہ کچھ کہنا چاہتی ہے، تو اس نے صرف ایک لفظ کہا، جو تھا ’’آزادی‘‘ اور پھر اسے آزاد کردیا گیا۔ وہ درد کی زندگی کا ساتھ چھوڑ گئی۔ فرانس کے شہر پیرس میں ’’فضل منزل‘‘ جہاں نور النساء نے اپنی زندگی کے خوبصورت دن بسر کیے تھے، وہاں اب بھی اداسی بال کھولے سو رہی ہے۔

Sughra Mehdi – صغریٰ مہدی April 3, 2014

Posted by Farzana Naina in Urdu, Urdu Literature.
Tags:
add a comment
Sughra Mehdi with Quratul Ain Haider

Sughra Mehdi with Quratul Ain Haider – “8 August 1938 – 17 March 2014”

(بشکریہ: زاہدہ حنا)
’’راگ بھوپالی‘‘ لکھنے والی صغریٰ مہدی اگست 1938ء کی آٹھویں تاریخ کو بھوپال میں پیدا ہوئیں۔ تعلیم دلی اور علی گڑھ میں ہوئی۔ ڈاکٹریٹ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے حاصل کی۔ انہوں نے کہانیاں اور ناول لکھے، سفر نامے تحریر کیے، ادبی تنقید کی کئی کتابیں ان کے قلم سے نکلیں۔ انہوں نے جید عالم ڈاکٹر عابد حسین اور ان کی افسانہ نگار، ناول نگار اور تحقیقی مضامین لکھنے والی شریکِ حیات صالحہ عابد حسین کے ساتھ زندگی گزاری اور گھر کے علمی، ادبی اور تہذیبی ماحول نے ان پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ 1973ء میں ان کا پہلا ناول ’’پابہ جولاں‘‘ اور 1975ء میں کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’’پتھر کا شہزادہ‘‘ شائع ہوا۔ ’’جو میرے وہ راجا کے نہیں‘‘ اور ’’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘‘ ان کے وہ افسانوی مجموعے ہیں جو بے حد مقبول ہوئے۔ ادب میں عورت کی حیثیت اور ہندوستانی سماج میں مسلمان عورت کا مقام ا ن کی دل چسپی کے خاص موضوعات تھے۔ ’’دور درشن‘‘ کے لیے انہوں نے دو ٹی وی سیریل لکھے، جن میں سے ایک ’’راگ بھوپالی‘‘ اور دوسرا صالحہ عابد حسین کے ناول ’’ساتواں آنگن‘‘ کی ڈرامائی تشکیل تھی۔
وہ ایک دوست دار اور دل دار شخصیت تھیں۔ پاکستانی ادیبوں کی وہ جس گرم جوشی سے مہمان داری کرتیں، وہ لوگوں کو تادیر یاد رہتی۔ ان سے میری نیاز مندی پچیس برس سے زیادہ پر محیط تھی۔ میں دو مرتبہ ان کے گھر ’’عابد ولا‘‘ میں ٹھہری لیکن زیادہ تر ہوٹلوں میں ٹھہرائی جاتی اور وہ ناراض ہوتیں ’’میرے گھر کیوں نہیں ٹھہرتیں؟‘‘ ان شکایتوں کے باوجود مجھ سے ملنے کبھی انڈیا انٹرنیشنل سینٹر، کبھی وائی ڈبلیو سی اے ہاسٹل اور کبھی اجے بھون آتیں، ہائے ہائے کرتیں، مجھے برا بھلا کہتیں لیکن آنا لازم تھا، مہینے میں ایک دو مرتبہ ان سے فون پر باتیں ہوتیں اور دونوں ملکوں کے تازہ ترین ادبی بلیٹن کا تبادلہ ہوتا۔ جب تک عینی آپا موجود تھیں، ہم ان کی اور ڈاکٹر عذرا رضا کی باتیں کرتے۔ کوئی ان باتوں کے دورانیے پر نظر کرتا تو یہی سمجھتا کہ دو نہایت دولت مند خواتین ہیں جو ٹیلی فون بل کا حساب لگائے بغیر گپ میں مصروف ہیں۔
قرۃ العین حیدر سے ان کی گہری قربت تھی۔ عینی آپا نے انہیں ’’مشیر خاص‘‘ کے عہدے پر فائز کر رکھا تھا اور اسی لیے وہ کبھی کبھی انہیں ’’مشیر فاطمہ‘‘ کے نام سے بھی یاد کرتیں۔ صغریٰ آپا جدید اردو افسانے کا ایک اہم نام تھیں۔ شہروں شہروں ملکوں ملکوں بلائی جاتیں اور ہر جگہ لوگ ان کے لیے آنکھیں بچھاتے۔ وہ رونقِ بزمِ جہاں تھیں۔ ان کے دم سے ادب کی دنیا اور دوستوں کی محفل میں اجالا تھا۔ یہ اجالا ہمارے درمیان سے 17 مارچ 2014ء کو اٹھالیا گیا۔ ’’عابد ولا‘‘ دلی میں ان کے ماتم دار رضا مہدی ہیں۔ وہ ان کی یاد کی شمعیں جلاتے رہیں گے۔
یہاں ان کا مختصر افسانہ ’’شہر آشوب‘‘ پیش کیا جارہا ہے۔ اسے پڑھیے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ اکثر شہروں اور بیشتر گھروں کی کہانی ہے۔ ہمارے من موہنے سماج کی بنت جس طرح ادھڑی اس کی تصویر کشی صغریٰ مہدی نے جس دل فگاری سے کی ہے، وہ ان کی فنی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

شہر آشوب: صغریٰ مہدی

دھندلے دھندلے سائے۔ جلدی جلدی بدلتی تصویریں۔ شور و غوغا، چہروں پر پریشانی، خوف، غصہ، دولت و اقتدار کا زعم، جان و مال کے محافظ لٹیرے اور قاتل، عزت و آبرو کے نگہبان، عزت و آبرو کے دشمن، عورتیں برہنہ، مرد درندہ بن گئے ہیں، بچے ڈپریشن کا شکار۔ نوجوانوں کی زندگی ایک بوجھ جسے سر سے اتارنے کو آمادہ، دینے والے کو لوٹانے کے لیے کوشاں۔
پیسہ ہر طرف پیسہ، جسے دیکھو اس کے پیچھے دوڑا جارہا ہے۔ جنگل کٹ گئے، مکانوں کا جنگل ہر طرف ہے۔ جدھر دیکھو بلند و بالا آسمان سے باتیں کرتی چمکتی دمکتی عمارتیں اور ان کے پیچھے گندے نالے جھونپڑپٹیاں، کھانستے کراہتے بوڑھے۔ آدمی ہی آدمی، سڑکوں پر ٹریفک، ہر طرح کی سواریاں، موٹر بسیں، ٹرک لوگوں کو کچلتے مارتے، جانیں انسانی جانیں، ارزاں اتنی کہ کوئی بھی چیز اب تنی سستی نہیں ہے۔ ہر ہاتھ میں خنجر، مذہب لوگوں کو ستانے کا ذریعہ، تہوار موت اور تباہی کا پیغام، کرسیاں ہی کرسیاں، ان سے چپکے عیار اور مکار لوگ۔ گھر سنسان جیلیں آباد، کھوکھلے دعوے، فلاحی انجمنیں کھانے کمانے کا ذریعہ، کرسیوں تک پہنچنے کے لیے غریبوں کی خدمت کے مکھوٹے، نئی نئی ایجادیں بدنام ترقی، دراصل تنزل اور تباہی کا سامان۔
نئی نئی بیماریاں، نت نئی دوائیں، ایک دن ان کے فائدے دوسرے دن ان کے نقصانات اور نئی دوائوں کے فائدے ساتھ میں مضر اثرات کی چیتاونی۔ ان سے بچائو کے طریقے۔ تعلیمی ادارے فیکٹریوں میں تبدیل، بدعنوانی کا بول بالا، عیاشیاں بدکاریاں بدنام فرد کی آزادی، تعمیر کے نام پر تخریب، ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی، اب آبروئے اہل نظر، اہل نظر؟ ہے کوئی اہل نظر؟ اے رب العزت ہمیں یہ کون سا دور ملا ہے۔ ناانصاف منصف، جاہل، عالم، دھوکے باز، عیاراور دانشور، ہر تک بند شاعر اعظم، ڈگریاں جعلی، اعزاز ڈھونگ انعام دھوکا۔ ہر جھوٹا ’’ان الحق‘‘ کہہ کر خود کو منصور کہلانے پر مُصر۔ گائوں ویران ہوئے، شہر لوگوں سے ابل رہے ہیں۔ دریا سوکھ گئے ہیں۔ پنگھٹ سنسان ہیں۔ بوڑھے بھٹک رہے ہیں۔ نوجوان مشین بن گئے ہیں۔ ماں باپ بچوں کے آگے سرنگوں ہیں۔ اب شہر میں ہر آن خرابات ولی ہے، تیغ منصفی کررہی ہے۔ دار و رسن گواہی دے رہے ہیں۔ اب شہر میں معتبر کون ہے قاتل کے سوا۔

آج پھر امن رہا بستی میں!
اے مظفر یہ خبر ہے کوئی… امن بستی… خبر۔ بڑا سا برآمدہ، اس کے ساتھ کئی ہال نما بڑے کمرے، برآمدے کے سامنے بڑا سا کمپاؤنڈ، کمروں میں برابر کئی پلنگ بچھے تھے۔ ان ہی کمروں میں سے ایک کمرے سے یہ بُڑبُڑاہٹ کی آواز آنے لگتی ہے۔ کبھی کبھی بُڑبُڑانے والے کی سانس پھولنے لگتی تو وہ چپ ہوجاتا۔ پھر پیٹ میں سانس سماتی تو وہ بکنے لگتا، بے معنی باتیں نہ سر نہ پیر۔ اس پرانی سی عمارت پر بڑا سا بورڈ لگا تھا، اس پر لکھا ہوا تھا،’’آسرا‘‘ یہ ایک اولڈ ایج ہوم تھا۔ ایک مہانگر کے مضافات میں۔ ان کے برابر بچھے پلنگوں پر بوڑھے لیٹے رہتے۔ دوسری طرف کھڑکیاں تھیں، کھولو تو ایک میدان نظر آتا تھا۔ کہیں جھاڑ جھنکاڑ اُگا ہوا تھا۔ ایک پیپل کا پیڑ بھی تھا، تھوڑی دور ایک گندا نالہ بہتا تھا۔ صبح شام بھولی بھٹکی کوئی چڑیا بھی آجاتی۔ شام صبح ان کھڑکیوں سے سورج کے ڈوبنے اور نکلنے کا منظر دیکھا جاسکتا تھا۔
یہ بوڑھا جو ہر وقت اول فول بکا کرتا، اس کو آئے یہاں پانچ سال ہوگئے۔ اس کا بیٹا اسے چھوڑ گیا تھا۔ وہ باہر جاکر بسنا چاہتا تھا، بیچارے نے بہت انتظار کیا، کہاں تک کرتا۔ اس نے اسے بھی اپنے ساتھ لے جانا چاہا، یہ پاگل گیا ہی نہیں۔ کہنے لگا وہاں بھی تو بوڑھوں کے گھر میں رہنا ہوگا تو اب تو اپنے یہاں بھی ہوم ہیں ہم بوڑھوں کے لیے۔ یہاں ہم صورت، ہم زبان لوگ تو ہوں گے اپنا ملک تو ہوگا۔ وہ شام کو کھڑکی کھول کر بیٹھ جاتا، چڑیوں کی آوازیں سنتا، گرمیوں کی دوپہر میں کوئل کی کوک سنتا۔ پھر اپنا بکس نکال کر موٹی موٹی کاپیاں دیکھا کرتا میگنافائنگ گلاس (محدب شیشہ) سے۔ پھر ایک موٹا سا البم لے کر بیٹھ جاتا، یہ تو اکثر بوڑھے کرتے تھے۔ اپنی چندھی آنکھوں سے تصویریں دیکھا کرتے۔ شروع میں آیا تھا تو صبح شام کمپائونڈ میں ٹہلنے نکل جاتا مگر… اب عرصے سے صرف کھڑکی کے ذریعے ہی باہر سے رابطہ رکھتا تھا۔ پانچ سال میں دو دفعہ بیٹا اس سے ملنے آیا۔ بہت سے تحفے لایا قمیص، سوئٹر، جوتے، آفٹر شیو لوشن، ڈریسنگ گائون اور بہت سے چاکلیٹ۔ بوڑھے نے سب چیزیں واپس کردیں بس چاکلیٹ رکھ لیں۔
بہت اصرار کیا تو اس نے ایک قمیص اور سوئٹر رکھ لیا۔ چاکلیٹ اسے پسند تھے، وہ دنوں کھایا کیا۔ دوسری دفعہ بیٹا آیا تو اسے ایک موبائل فون دے گیا۔ دیر تک اسے موبائل پر بات کرنا سکھا گیا۔ بیٹا ہر ہفتے بات کرتا۔ یہ خود تہواروں پر یا 26 جنوری اور 15 اگست کو اپنے پوتے سے بات کرتا اور ان کے بارے میں بتاتا تھا۔ جب وہ آیا تھا تو اس طرح نہیں بُڑبُڑاتا تھا۔ شاید یہ باتیں تب من ہی من میں کرتا تھا مگر دھیرے دھیرے اس کی آواز بلند ہونے لگی۔ اس پر اس کمرے میں رہنے والے بوڑھوں کو تو کوئی اعتراض نہیں تھا مگر کام کرنے والے بہت چڑتے تھے۔ اکثر اس کو جھڑک دیتے تو وہ جواب دیتا بھئی میں تم سے تو کچھ نہیں کہہ رہا۔ بس کہہ رہا ہوں اپنے دل سے، تو پھر اتنی زور سے کیوں کہتے ہو، کیا تمہارا دل بہرا ہے اور سب ہنسنے لگتے۔ دو ایک بوڑھے کہتے اچھا ہے کوئی آواز تو آتی ہے اور وہ جو کہہ رہا ہے سب سچ ہی تو ہے۔ ادھر کچھ دنوں سے وہ بہت کمزور ہوتا جارہا تھا۔ کھانا بھی کم کھاتا۔ بس آہستہ آہستہ یہی کہتا،’’یہ کون سا یُگ ہے؟ کون بانی بیداد ہے، دھندلے دھندلے سائے بدلتی ہوئی تصویریں۔‘‘

کچھ دنوں سے اولڈ ایج ہوم کے منتظمین کو تشویش تھی کہ اب بوڑھا بہت کم بُڑبُڑاتا مگر اور بوڑھے بھی اب وہی لایعنی باتیں کرنے لگے تھے۔ بوڑھے کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جارہی تھی۔ ڈاکٹر کو بلایا گیا اس نے معائنہ کیا اور کہا کہ عمر کے لحاظ سے سب کچھ ٹھیک ہے۔ یہ اس کے دماغ کا انتشار ہے۔ ایک بوڑھا بولا بڑھاپے میں یہ بیماری اکثر ہوجاتی ہے، یہی بُڑبُڑانے کی، مگر اب وہ بولتا تو اتنا آہستہ کہ بار بار کیا، کیا کہنا پڑتا۔ ہر وقت سانس پھولتی رہتی، وہ اسی پھولی ہوئی سانس کے ساتھ یہی سب کچھ کہتا رہتا مگر اور بوڑھے کورس میں یہ باتیں دہرانے لگے تھے۔ ایک دن دیر تک اس کی آواز نہیں آئی تو اس کے پاس کے پلنگ کے بوڑھوں کو تشویش ہوئی۔ اٹینڈینٹ کی توجہ اس طرف دلائی تو وہ ٹال گئے۔ واقعی دوپہر کا کھانا بھی ویسا ہی رکھا رہا تو کسی نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تو چونک پڑا۔ ’’ارے یہ بڑے میاں تو چل دیے۔‘‘ کیا۔ کیا۔ کیا کہہ کر کئی بوڑھے اٹھ کر بیٹھ گئے۔ کیا کہہ رہا ہے؟
انچارج کو اطلاع دی گئی، ڈاکٹر آیا اس نے ان کو مردہ قرار دیا… ارے بھئی واہ بڑے میاں تو خاموشی سے چلے گئے۔ اٹینڈنٹ کہہ رہا تھا۔ اس کمرے میں دوسرے کمروں کے بوڑھے بھی آگئے تھے اور اس کے پلنگ کو گھیرے کھڑے تھے۔ کچھ رو رہے تھے، کچھ کہہ رہے تھے کہ اچھا ہے، اس مصیبت سے چھوٹ گئے۔ پھر جلدی جلدی انتظامات ہوئے اور سہ پہر تک لوگ ان کو اول منزل پہنچا آئے۔
مگر کمرے سے آوازیں اسی طرح آرہی تھیں، پیڑ کٹ گئے، کنویں سوکھ گئے، گائوں ویران ہیں اور شہر لوگوں سے ابل رہے ہیں۔ انسانوں کی جانیں ارزاں ہیں۔ انچارج نے وہاں رائونڈ لگایا تو اس نے سنا کہ ان بوڑھوں کے ساتھ وہاں کام کرنے والے بھی یہی کہہ رہے تھے۔ جاہل، عالم ہیں۔ ُتک بند شاعر اعظم ہیں۔ ہر رند خرابات ولی ہے۔ اس دوران میڈیا کو یہ خبر کسی طرح پہنچ گئی، وہ لوگ اپنے تام جھام کے ساتھ کھڑے تھے۔ سنا ہے آج جو بڑے میاں مرے ہیں وہ بہت بڑے لیکھک تھے۔ ان کو بہت انعامات ملے تھے۔ ان کو راشٹر پتی نے سمان بھی دیا تھا۔ یہ سن کر دو عورتیں اور ایک مرد آگے بڑھے۔ ہاں ہم ان کے رشتے دار ہیں قریبی، ان کی آواز بھرا رہی تھی، عورتیں آنسو پونچھ رہی تھیں۔ مرد آگے بڑھ کر بڑے میاں کے بارے میں انٹرویو دے رہا تھا۔

کھٹاکھٹ تصویریں کھینچ رہی تھیں۔ ان لوگوں سے نمٹ کر میڈیا کے لوگ اولڈ ایج ہوم کے اسٹاف کی طرف متوجہ ہوئے۔ انچارج صاحب آفس میں نہیں تھے۔ ادھر ادھر اور کر مچاریوں کو دیکھا، کوئی نظر نہیں آیا۔ ایک باہمت صحافی اندر گئے تو انہوں نے عجب سماں دیکھا کہ اس کمرے میں جہاں بڑے میاں مرے تھے، سب جمع ہیں۔ بوڑھے انچارج اور سارا اسٹاف ایک کورس میں کہہ رہے ہیں۔ دھندلے دھندلے سائے، جلدی جلدی بدلتی تصویریں، ہر طرف شور و غوغا ہر چہرے پر پریشانی… پھر… پھر کیا ہوا؟ پھر؟ نہیں معلوم کیا ہوا؟