jump to navigation

Ramadan Al Kareem 2009 September 5, 2009

Posted by Farzana Naina in Islam, Religion.
Tags:
2 comments
ramadanRamadan 2
  Ramadan 3
Ramadan 1
Ramadan 4
Ramadan 5
Ramadan 6
Ramadan 7
Ramadan 8
Ramadan 9
Ramadan 10
Ramadan 11
Ramadan 12
Allah ki 3 nematein

Welcome November 4, 2006

Posted by Farzana Naina in Blogroll, Famous Urdu Poets, Farzana Naina, Ghazal, Karachi, Kavita, Naina, Nazm, Nottingham, Pakistan, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Shairy, Sher, Sufi Poets, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
3 comments

قلمی نام : نیناں

برطانیہ میں منظرِ عام پر آنے والی چند شاعرات میں فرزانہ نیناںؔ کا نام بڑا معتبر ہے،۔

متنوع صلاحیتوں کی مالک فرزانہ خان نیناؔں کا تعلق سندھ کے ایک سربر آوردہ خانوادے سے ہے۔

مجلسی اور معاشرتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں اور اپنی ادبی تنظیم نوٹنگھم آرٹس اینڈ لٹریری سوسائٹی کے تحت کئی برس سے مشاعرے و دیگر تقریبات بخوبی منعقد کرواتی رہتی ہیں جو کہ ان کی خوش سلیقگی و خوب ادائیگی کی بھرپور آئینہ دار ہیں،

اس شگفتہ وشستہ ہونہار شاعرہ کے انکل محمد سارنگ لطیفی سندھی زبان کے مشہور شاعر، صحافی اور ڈرامہ نویس تھے اور اس رحجان کا سلسلہ انہی سے جا ملتا ہے،

کراچی سے رشتہء ازدواج میں منسلک ہوکر برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں آباد ہوئیں، شعبہ ٔ ٹیلی کمیونیکیشن میں بطور انسپکٹر ملازمت کی،پھر ٹیچرز ٹریننگ اور بیوٹی کنسلٹنٹ کی تعلیم حاصل کی اور مقامی کالج میں ٹیچنگ کے شعبے سے وابستہ ہوگئیں ساتھ ہی میڈیا اور جرنلزم کے کورسز میں ڈپلوما بھی کیئے یوں مقامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے بھی وابستگی ہوئی،

ان کے پیش کردہ پروگرام خصوصی خوبیوں کی بنا پر دلچسپ اور معلوماتی ہوتے ہیں اور اپنے انداز کی وجہ سے یورپ بھر میں بیحد مقبول ہیں،

ابتدا میں نثری کہانیاں لکھیں اور نظم سے سخن طرازی کا آغاز کیا،جبکہ نثری رنگ میں گہرائیوں کی بدولت کتابوں پر تبصرہ جات اور کالم بھی ایسے دلچسپ لکھتی ہیں کہ پڑھنے والے مزید کا تقاضہ کرتے رہتے ہیں،

فرزانہ نیناںؔ کے خاص نسائی لہجے و منفرد انداز شعرگوئی نے یک لخت اہلِ ذوق کو اپنی جانب متوجہ کر کے برطانیہ کی مسلمہ شاعرات کے طبقے میں اپنا معتبر مقام بنا یا ہوا ہے ،ان کا شعری مجموعہ بعنوان ۔۔’’درد کی نیلی رگیں‘‘ منظرعام پر جب سے آیا ہے تخلیقی چشمے میں ارتعاش پیدا کر رہا ہے،

منفرد نام کی طرح مجموعے کی کتابی شکل و صورت میں بھی انفرادیت ہے، ایک ہی رنگ کا استعمال شاعری میں جس انداز سے پیش کیا گیا ہے وہ اب سے پہلے کسی نے نہیں کیا ،پوری شاعری میں محسوسات کو تمثیلوں کے ذریعے تصاویر کی طرح اجاگر کیا گیا ہے، اشعار میں جذبوں سے پیدا ہونے والی تازگی بدرجہ اتم جھلکتی ہے، ہر مصرعے اور ہر شعر پر ان کے رنگ کی خاص نسائی چھاپ موجود ہے،

آغاز سے ہی یہ دو اشعار ان کا حوالہ بن چکے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

شوخ نظر کی چٹکی نے نقصان کیا
ہاتھوں سے  چائے کے برتن چھوٹے تھے

Blue Flower 41

میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز
اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا

شعری مجموعہ” درد کي نيلي رگيںٰ ”  اپنے نام، کلام ميں نيلے رنگوں کي تماثيل، سائز، ہٗيت، اور تحرير کی چھپائی کے منفرد ہونے کي وجہ سے بہت سراہا گیا ہے، اگر آپ اردوشاعری کے دلدادہ ہيں، جديد شاعری کی باريکيوں سے لطف اندوز ہوتے ہيں تو يہ کتاب اپنی لابريری کی زينت ضرور بنائيں۔

اس کتاب کي قيمت آٹھ برطانوی پاؤنڈ ہے، درج ذیل ای ميل کے ذريعے اپنا پتہ بھجواکر کتاب حاصل کیجئے

بيرونٍ برطانيہ ادائيگی بذريعہ پوسٹل آرڈر جبکہ اندرونٍ برطانيہ چيک اور پوسٹل آرڈر دونوں کے ذريعے کی جا سکتی ہے
اي ميل کا پتہ :

farzananaina@gmail.com
farzananaina@yahoo.co.uk

welcome blue 106

ISLAMABAD:

Mushaira held in honour of expat poet

(Reporter of Dawn news paper)

• ISLAMABAD, Jan 10: A Mushaira was organized in honour of British-Pakistani Urdu poetess, Farzana Khan ‘Naina’ at the Pakistan Academy of Letters (PAL) on Friday. The event was presided over by the PAL chairman, Iftikhar Arif.

• Mr Arif said Farzana Khan was typical of expatriate poets who had an advantage over native poets in expressing original ideas and imagery. He said this was also a fact that expatriate writers were not well at transmuting feelings with the same intensity. In his view, Farzana Khan was certainly a new distinctive voice in Urdu poetry. She used tender expressions and a strange and novel scheme in meters that reverberated with strong musical beats.

• In fact Iftikhar Arif’s verses, which he read at the end of the Mushaira, sounded like a well deserved tribute to the poetess; Mere Chirag Hunar Ka Mamla Hai Kuch Aur Ek Baar Jala Hai Phir Bujhe Ga Naheen (The Muse this time is bright, and once lighted it will not be extinguished).

• A number of senior poets read their poetical pieces at the Mushaira that was conducted by a literary organization, Danish (Wisdom).

Here, Farzana Khan surprised everyone with the range and depth in the couplet that she read “Meine Kaanon Main Pehan Lee Hai Tumhari Aawaz/Ab Meray Vastey Bekaar Hain Chandi Sona”.

She seeks inspiration for her poetry from the glades of Nottinghamshire, England, the county of Lord Byron and Robin Hood, where she had been living for over many years.

Farzana Khan is a Chair person of Nottingham Arts and Literature Society, She works as a broadcaster for Radio Faza and MATV Sky Digital, besides being a beauty therapist and a consultant for immigrants’ education.

Her book of Urdu poetry titled Dard Ki Neeli Ragen (Blue veins of pain) is a collection of 64 Ghazals and 24 Nazms.

The collection has received favourable reviews from a number of eminent Urdu poets, including Dr.Tahir Tauswi, Rafiuddin Raaz, Prof.Shahida Hassan, Prof.Seher Ansari, Ja zib Qureshi, Haider Sherazi, Sarshar Siddiqui, Naqash Kazmi, Nazir Faruqi, Aqeel Danish, Adil Faruqi, Asi Kashmiri,Prof.Shaukat Wasti, Mohsin Ehsan, who had stated that her work was marked with ‘Multicolour’ words. Everyone was impressed with her boldness as well as her delicate feelings, he added.

In addition there is an extraordinary rhythm. About technical aspects of Farzana’s work, a literary critic, Shaukat Wasti, says it deserve serious study.

Name Naina multi pastle 1

میری شاعری میرے بچپن اور جوانی کی کائنات کےرنگوں میں ڈھلی ہے، یادیں طلسمَاتی منظروں کو لیئےچلی آتی ہیں

وہ منظرجو دیو مالائی کہانیوں کی طرح، الف لیلوی داستانوں کی طرح، مجھےشہرزاد بننے پر مجبور کردیتے ہیں،عمر و عیار کی زنبیل سےہر بار کچھ نہ کچھ نکل آتا ہے، شہر بغداد کی گلیاں اجڑ چکی ہیں،نیل کے پانیوں میں جلتے چراغ، دھواں بن کر اوپر ہی اوپر کسی انجانے دیس میں جا چکے ہیں ، دجلہ کے دھاروں سا جلترنگ کہیں سنائی نہیں دیتا۔۔۔

گلی کےآخری کنارے پر بہنے والا پرنالہ  بنجر ہوچکا ہے جہاں اسکول سے واپس آتے ہوئےمیں،بر کھا رت میں اپنی کاپیاں پھاڑ کر کاغذ کی کشتیوں میں تبدیل کر دیا کر تی تھی۔۔۔

گھر کے پچھواڑے والا سوہانجنےکا درخت اپنے پھولوں اور پھلیوں سمیت وقت کا لقمہ بن چکا ہے، جس کی مٹی سےمجھےکبھی کبھی کبھار چونی اٹھنی مل جاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

پیپل کے درخت کے وہ پتے جن کی پیپی بنا کر میں شہنائی کی آواز سنا کرتی تھی،اس کی لٹکتی ہوئی جڑیں جو مجھےسادھو بن کر ڈراتی تھیں، مہاتما بدھ کے نروان کو تلاش کرتے کرتے پچھلی صدی کی گپھا میں ہی رہ گئے ہیں۔۔۔

میری شاعری نیلگوں وسیع و عریض، شفاف آسمان کا کینوس ہے،جہاں میں اپنی مرضی کی تصویریں پینٹ کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابن ہڈ کےاس شہر کی سرنگیں، نجانے کس طرح میڈ میرین کو لے کر مغلیہ دور کے قلعوں میں جا نکلتی ہیں۔۔۔

لارڈ بائرن اور ڈی ایچ لارنس کا یہ شہر،دھیرے دھیرے مجھے جکڑ تا رہا، ولیم ورڈز ورتھ کے ڈیفوڈل اپنی زرد زرد پلکوں سےسرسوں کےکھیت یاددلاتےرہے۔۔۔

نوٹنگھم شہر کی چوک کے وسط میں لہراتا یونین جیک، نجانے کس طرح سبز پاکستانی پرچم کے چاند تارے میں بدل جاتا ہے۔۔۔

پرانی کیسٹوں میں ریکارڈ کئےہوئےگیت اور دوہے، کسی نہ کسی طرح پائلوں میں رمبھا، سمبھا اور لیٹن کی تھرک پیدا کردیتےہیں۔۔۔

شیلےاور کیٹس کا رومانوی انداز،غالب اور چغتائی کےآرٹ کا مرقع بننےلگتا ہے۔۔۔

مجھے جوگن بنا کر ہندی بھجن سسنے پر بھی مجبور کرتی ہیں ۔۔۔ Hymnsشیلنگ کی

سائنسی حقیقتیں،میرےدرد کو نیلی رگوں میں بدلنےکی وجوہات تلاش کرتی ہیں۔۔۔

کریم کافی،مٹی کی سوندھی سوندھی پیالیوں میں جمی چاندی کے ورق جیسی کھیر بن کر مسجدوں سے آنے والی اذان کی طرح رونگھٹے کھڑے کر دیتی ہے۔۔۔۔

سونےکےنقش و نگار سے مزین کتھیڈرل، اونچےاونچے بلند و بالا گرجا  گھر،مشرق کے سورج چاچا اور چندا ماما کا چہرہ چومتےہیں۔۔۔

وینس کی گلیوں میں گھومتے ہوئے،پانی میں کھڑی عمارتوں کی دیواروں پر کائی کا سبز رنگ ،مجھےسپارہ پڑھانے والی استانی جی کےآنگن میں لگی ترئی کی بیلوں کی طرح لپٹا۔۔۔

جولیٹ کےگھر کی بالکنی میں کھڑے ہو کر،مجھے اپنے گلی محلوں کے لڑ کوں کی سیٹیاں سنائی دیں۔۔۔

شاہ عبدالطیف بھٹائی کےمزار اور سہون شریف سےلائی ہوئی کچےکانچ  کی چوڑیاں، مٹی کےرنگین گگھو گھوڑے جب میں تحفتا اپنےانگریز دوستوں کے لئے لائی تو میری سانس کی مالا فقیروں کے گلوں میں پڑے منکوں کی مانند بکھر کر کاغذپر قلم کی آنکھ سےٹپک گئی۔۔.

شاعری مجھےاپنی ہواؤں میں،پروین شاکر کی خوشبو کی طرح اڑانےلگتی ہے، موتئےکی وہ کلیاں یاد دلاتی ہےجنھیں میں قبل از وقت کھلاکر گجرا بنانے کیلئے، کچا کچا توڑ کر بھیگے بھیگے سفید ململ میں لپیٹ دیا کر تی تھی،اور وہ رات کی رانی جو میری خوابگاہ کی کھڑکی کے پاس تھی ،آج بھی یادوں کی بین پر لہراتی رہتی ہے۔۔۔۔
شاعری ایک نیلا نیلا گہرا سمندر بن کر ان لہروں کے چھینٹے اڑانے پر مجبور کردیتی ہے،جہاں میں اتوار کو گھر والوں کےساتھ جاکر اونٹوں کےگلے میں بجتی گھنٹیوں کےسحر میں مبتلا ،سیپیاں چنتےچنتے، ریت میں سسی کےآنچل کا کنارہ،ڈھونڈنے لگتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنہری دھوپ کےساتھ بچپن کےاس گاؤں کی طرف لےجاتی ہےجہاں ہم گرمیوں کی چھٹیاں گزارنےجاتےتھے،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معصوم سہیلیوں کے پراندوں میں الجھا دیتی ہےجن میں وہ موتی پرو کر نشانی کےطور پر مجھےدیتی تھیں،تاکہ میں انھیں شہر جاکر بھول نہ جاؤں۔۔۔

شاعری وہ نیل کنٹھ ہےجو صرف گاؤں میں نظر آتا تھا،

جس کے بارے میں اپنی کلاس فیلوز کو بتاتےہوئے میں ان کی آنکھوں کی حیرت سےلطف اندوز ہوتی اورصوفی شعرا کےکلام جیسا سرور محسوس کرتی۔۔۔

شاعری ان گلابی گلابوں کےساتھ بہتی ہےجنھیں میں اپنےابو کے گلقند بنانے والےباغوں سےتوڑ کر اپنی جھولی میں بھرکر،ندیا میں ڈالتی اوراس پل پرجو اس وقت بھی مجھےچینی اور جاپانی دیو مالائی کہانیوں کےدیس میں لےجاتا تھا گھنٹوں کھڑی اپنی سہیلیوں کےساتھ اس بات پر جھگڑتی کہ میرےگلاب زیادہ دور گئےہیں۔۔۔۔

صفورے کےاس درخت کی گھنی چھاؤں میں بٹھادیتی ہےجو ہمارے باغیچےمیں تھا اور جس کےنیلےاودے پھول جھڑ کر زمین پر اک غالیچہ بنتی،جس پر سفر کرتے ہوئےمجھے کسی کنکورڈ کی چنگھاڑ نہیں سنائی دیتی تھی۔۔۔

شاعری بڑے بھائی کی محبتوں کی وسعتوں کا وہ نیلا آسمانی حصار ہے،جو کبھی کسی محرومی کےاحساس سےنہیں ٹوٹا۔۔۔۔

کڑوے نیم تلے جھلنے والا وہ پنکھا ہے جس کے جھونکے بڑی باجی کی بانہوں کی طرح میرے گرد لپٹ جاتےہیں۔۔۔

شاعری سڑکوں پر چھوٹے بھائی کی موٹر سائیکل کی طرح فراٹےبھرتی ہےجس پر میں اس کےساتھ سند باد جیسی انگریزی فلمیں دیکھنے جاتی اور واپسی پر جادوگر کے سونگھائے ہوئے نیلے گلاب کےاثر میں واپس آتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اان تتلیوں اور مورنیوں کے پاس لےجاتی ہےجو چھوٹی بہنوں کی صورت، آپی آپی کہہ کر میرے گرد منڈلاتی رہتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔

ان چڑیوں کی چوں چوں سنواتی ہےجن کو میں دادی کی آنکھ بچا کر باسمتی چاول، مٹھیاں بھر بھر کے چپکے سے چھت پر کھلاتی اور ان کی پیار بھری ڈانٹ سنا کرتی تھی۔۔۔

شاعری میرے طوطے کی گردن کے گرد پڑا ہوا سرخ کنٹھا بن جاتی ہے، جس سےٹپکنے والے سرخ لہو کےقطرے یادوں کے دریا میں گرتے ہی لعل و یاقوت بن کر راجکماری کےمحل کو جانےوالی سمت بہتے ہیں، انار کی نارنجی کچی کلیاں ہیں جو نگہت اور شاہین،اپنی امی سےچھپ کر میرے ساتھ توڑلیتیں، جس کے بعد بقیہ انار پکنے تک گھر سے نکلنا بند ہوجا یا کرتا تھا۔۔۔۔

یہ شاعری مجھےمولسری کی ان شاخوں میں چھپادیتی ہے جن پر میں اور شہنازتپتی دوپہروں میں مولسریاں کھا کر ان کی گٹھلیاں راہگیروں کو مارتےاور اپنے آپ کو ماورائی شخصیت سمجھتے۔۔۔

یہ میری سہیلی شیریں کےگھر میں لگے ہوئےشہتوت کےکالےکالے رسیلے گچھوں جیسی ہے جن کا ارغوانی رنگ سفید یو نیفارم سے چھٹائے نہیں چھٹتا ۔۔۔۔

شاعری مجھےان اونچی اونچی محرابوں میں لےجاتی ہے جہاں میں اپنی حسین پھپھیوں کو کہانیوں کی شہَزادیاں سمجھا کرتی ،جن کے پائیں باغ میں لگا جامن کا درخت آج بھی یادوں پر نمک مرچ چھڑک کر کوئلوں اور پپیہوں کی طرح کوکتا ہے، شاعری بلقیس خالہ کا وہ پاندان یاد دلاتی ہے جس میں سپاری کےطرح ان لمحوں کےکٹے ہوئےٹکڑے رکھے ہیں جن میں ،میں ابن صفی صاحب سے حمیدی ،فریدی اور عمران کےآنے والے نئے ناول کی چھان بین کرتی ، خالہ کےہاتھ سے لگے ہوئے پان کا سفید چونا،صفی صاحب کی سفید  کار کی طرح اندر سےکاٹ کر تیز رفتاری سےاب بھی گزرتا ہے۔۔۔

یہ کبھی کبھی مجھےموہنجو دڑو جیسے قبرستان میں کھڑا کر دیتی ہے ، جہاں میں اپنے ماں ،باپ کےلئے فاتحہ پڑھتے ہوئے کورے کانچ کی وقت گھڑی میں ریت کی مانند بکھرنے لگتی ہوں،مصری ممیوں کی طرح حنوط چہروں کو جگانے کی کوشش کرتی ہوں،نیلگوں اداسیاں مجھےگھیر لیتی ہیں، درد کی نیلی رگیں میرے تن بدن پر ابھرنےلگتی ہیں،شب کےنیلگوں اندھیرےمیں سر سراتی دھنیں، سایوں کی مانند ارد گرد ناچنےلگتی ہیں،ان کی نیلاہٹ ،پر اسرار طمانیت کے ساتھ چھن چھن کر دریچوں کا پٹ کھولتی ہے، چکوری کی مانند ،چاند ستاروں کے بتاشے سمیٹنے کی خواہشیں کاغذ کے لبوں پر آجاتی ہیں ،سقراط کے زہریلے پیالےمیں چاشنی ملانےکی کوشش تیز ہو جاتی ہے، ہری ہری گھاس کی باریک پتیوں پہ شبنم کی بوندیں جمتی ہی نہیں،والدین جنت الفردوس کو سدھارے، پردیس نے بہن بھائی اور ہمجولیاں چھین لیں، درد بھرے گیت روح چھیلنے لگے،حساسیت بڑھ گئی  ڈائری کے صفحے کالے ہوتے گئے، دل میں کسک کی کرچیاں چبھتی رہیں، کتابیں اور موسیقی ساتھی بن گئیں، بے تحاشہ مطالعہ کیا، جس لائیبریری سےجو بھی مل جاتا پیاسی ندی کی مانند پی جاتی،رات گئے تک مطالعہ کرتی، دنیا کےمختلف ممالک کےادب سے بھی شناسائی ہوئی، یوں رفتہ رفتہ اس نیلےساگر میں پوری طرح ڈوب گئی۔ ۔ ۔

شاعری ایک اپنی دنیا ہےجہاں کچھ پل کےلئےاچانک سب کی نظر سےاوجھل ہو کر میں شہرِ سبا کی سیڑھیاں چڑھتی ہوں، اسی لیئےمیری شاعری سماجی اور انقلابی مسائل کےبجائے میری اپنی راہ فرار کی جانب جاتی ہے، ورنہ اس دنیا میں کون ہےجس کو ان سےمفر ہے!۔

  شاعری مجھے نیلے نیلےآسمان کی وسعتوں سے بادلوں کے چھوٹے چھوٹے سپید ٹکروں کی مانند، خواب وخیال کی دنیا سے نکال  کر، سرخ سرخ اینٹوں سے بنے ہوئے گھروں کی اس سرزمین پراتار دیتی ہے جہاں میں زندگی کے کٹھن رستوں پر اپنے شوہر کے ساءبان تلے چل رہی ہوں، جہاں میرے پھول سے بچوں کی محبت بھری مہک مجھے تروتازہ و سرشار رکھتی ہے۔Name Naina Iceblue heart

 

پنجاب میں جدید طرز کا قبرستان June 10, 2017

Posted by Farzana Naina in Graveyard.
Tags: , , , ,
add a comment

پنجاب کے پہلے جدید طرز کے قبرستان میں کیا ہے؟

عمردراز ننگیانہ ۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام

qabristan

اپنے پیاروں کو قبرستان چھوڑ کر جانا شاید زندگی کا سب سے تکلیف دہ عمل ہوتا ہے تاہم پاکستان کے بڑے شہروں میں میت کو گھر سے قبرستان تک پہنچانا اکثر اوقات زیادہ تکلیف دہ تجربہ ثابت ہوتا ہے۔

میت کو غسل دینے کا انتظام، کفن و تابوت، قبر کی جگہ خریدنا اور پھر میت کو تیار کر کے جنازہ گاہ اور وہاں سے قبرستان تک اس کی ترسیل، سب کا بندوبست مرنے والے کے لواحقین کو سوگواری سے بھی شاید پہلے کرنا پڑتا ہے۔

متوسط اور نچلے طبقے کے لوگ ان تمام مراحل سے متعلقہ اخراجات اور لوازمات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ یا پھر سپورٹ سسٹم کی عدم دستیابی کسی بھی طبقے کے شخص کو مشکل میں ڈال سکتی ہے۔

تاہم مرنے والے کا تعلق اگر پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں سے ہو تو دیگر کئی مسائل بھی شامل ہو جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر لاہور میں رہنے والی سکھ اور ہندو برادریوں کے لیے شہر میں ایک ہی شمشان گھاٹ ہے۔

سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے لاہور کے رہائشی گوپال سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے زیادہ تر لوگوں کو اپنے مردوں کی آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے انہیں پنجاب کے شہر ننکانہ صاحب کے گردوارے میں لے کر جانا پڑتا ہے جو لاہور سے تقریباً اسی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اسی طرح لاہور ہی میں عیسائی برادری کے لیے قبرستان مختص ہیں جن میں سے کئی صدیوں پرانے ہیں۔ لاہور کیتھیڈرل کے ڈین ویری ریورنڈ شاہد معراج کے مطابق ان میں جگہ تیزی سے کم ہو رہی ہے۔

ویری ریورنڈ شاہد معراج کا کہنا ہے کہ ‘وہاں پر جگہ بہت کم ہو گئی ہے بلکہ اب تو نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم بہت عرصے سے حکومت پنجاب سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں جگہ دی جائے۔’

اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ سرد خانوں کی کمی کی وجہ سے میتیں رکھنے کو اکثر جگہ نہیں ملتی تاکہ لوگ ملک سے باہر سے آ کر اپنے پیاروں کی آخری رسومات میں شرکت کر سکیں۔

‘ہر شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے پیاروں کو ایک باوقار تدفین دے سکے اور لوگ دیتے بھی ہیں۔ بگر بعض لوگوں کے لیے اتنے اخراجات اٹھانا یا انتظامات کرنا مشکل بھی ہو جاتا ہے۔’

شہرِ خموشاں کیا ہے؟

ان مسائل کے پیشِ نظر پنجاب حکومت نے حال ہیں میں شہرِ خموشاں کے نام سے ایک اتھارٹی قائم کی ہے جو صوبہ بھر میں دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کے بڑے شہروں کی طرز پر قبرستان بنا رہی ہے۔

اس منصوبے کے تحت تعمیر کیے جانے والا پہلا جدید طرز کا قبرستان لاہور کے مضافات میں بنایا گیا ہے جو ممکنہ طور پر اتوار کے روز سے کام شروع کر دے گا۔ شہرِ خموشاں کفن دفن کے ان تمام مراحل کے لیے سہولیات ایک ہی چھت تلے فراہم کرے گا۔

شہرِ خموشاں اتھارٹی کے مینیجنگ ڈائریکٹر سلمان صوفی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت نہ صرف ملک کی اکثریتی آبادی بلکہ اقلیتوں کے لیے بھی ان کی ضروریات کے مطابق قبرستان یا آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے جگہیں جدید طرز پر تعمیر کی جائیں گی۔

شہرِ خموشاں کیسے کام کرے گا؟

‘آپ کو محض ایک ٹیلیفون کال کرنی ہے، کفن دفن کا تمام بندوبست شہرِ خموشاں میں ہوگا۔ میت کی تیاری سے لیکر جنازہ گاہ اور قبر کی جگہ سب ایک ہی مقام پر ہو گا۔ یہاں تمام ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہوگا اور سب سے بڑی بات یہ کہ لوگوں کو کوئی پیسہ دینے کی ضرورت نہیں ہو گی۔’

ایمبولینس کے ذریعے میت قبرستان لائی جائے گی۔ اس کے لواحقین فون پر پہلے ہی سے جنازہ اور تدفین کا وقت اور قبر کی جگہ کا تعین یہاں کاؤنٹر پر بیٹھے شخص کے پاس کروا چکے ہوں گے۔ مُردوں کو غسل دینے کے لیے جدید طرز کے خانے جات موجود ہوں گے جبکہ وضو کرنے اور انتظار کرنے کی جگہیں علیحدہ سے موجود ہوں گی۔

قبرستان میں جدید کیمرے بھی نصب کیے جا رہے ہیں جن کی مدد سے لوگ ملک کے کسی بھی حصے سے یا ملک سے باہر سے بیٹھ کر بھی آن لائن اپنے پیاروں کی قبریں دیکھ سکیں گے۔

لاہور میں فیروزپور روڑ پر بننے والے پہلے قبرستان میں آٹھ ہزار قبروں کی گنجائش موجود ہے۔ تمام قبریں بلا تفریقِ طبقہ ایک ہی سائز اور طرز کی ہوں گی اور ان کو ترتیب سے بلاکوں کی صورت میں بنایا جائے گا۔ قبر کھودنے کے لیے ایکسکویٹر یعنی مشینری کا استعمال کیا جائے گا جبکہ لواحقین اپنے پیاروں کی قبریں باآسانی کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کی مدد سے تلاش کر سکیں گے۔

اس قبرستان میں جدید طرز کا ایک سردخانہ بھی موجود ہے جہاں بیک وقت 40 میتوں کو رکھنے کی گنجائش ہے۔ اسی طرز کے لاہور میں چار مزید قبرستان بنائے جائیں گے جبکہ ملتان، فیصل آباد اور سرگودھا میں ایسے قبرستانوں کی تعمیر جاری ہے۔

شہرِ خموشاں کا پیسہ کہاں سے آئے گا؟

سلمان صوفی نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘وہ جب لوگوں کو دیکھتے تھے کہ کس طرح ان کو مردوں کو غسل دینے میں یا میت کو تیار کرنے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو میں نے سوچا کہ ایسا ایک قبرستان بنایا جائے جہاں لوگوں کو ایسے مشکل وقت میں کچھ نہ کرنا پڑے اور جگہ جگہ نہ جانا پڑے۔’

شہرِ خموشاں میں آنے والوں سے پیسے نہیں مانگے جائیں گے۔ یہ تمام سہولیات مکمل طور پر حکومتِ پنجاب فراہم کرے گی جس کے لیے سلمان صوفی کے مطابق ایک ارب روپے پہلے ہی سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختص کر دیے گئے ہیں۔ 10 لاکھ کا فنڈ اور دو ایمبولینس گاڑیاں مخیر افراد کی طرف سے عطیہ کیے جا چکے ہیں۔ قبر کھودنے کے لیے مشینری کا استعمال کیا جائے گا۔ سلمان صوفی کا کہنا تھا کہ ایسے مزید قبرستان پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ فروری 2018 تک وہ ایسے 20 سے 25 قبرستان بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو اگلے 10 سے 15 سالوں کی ضروریات کو پورا کر سکیں گے۔ ان میں اقلیتوں کے لیے قبرستان اور سہولتیں بھی شامل ہوں گی۔ ہمیں اقلیتوں کے مسائل کا پوری طرح ادراک ہے اسی لیے ہم نے شہرِ خموشاں قانون میں یہ شق رکھی ہے کہ پاکستان میں بسنے والی ہر اقلیت کے لیے قبرستان اور آخری آرام گاہیں اسی جدید ظرز پر تعمیر کی جائیں گی۔”

ان کا کہنا تھا کہ ہندوؤں اور سکھوں کے لیے شمشان گھاٹ بنائے جائیں گے۔ اسی طرح اتھارٹی عیسائیوں کے لیے اسی طرز کے قبرستان تعمیر کرے گی جو بنانے کے بعد ان کے حوالے کر دیے جائیں گے۔

qabristan 2

وہ جنگ جس نے مشرقِ وسطیٰ کو بدل کر رکھ دیا June 8, 2017

Posted by Farzana Naina in Arab Israel War, Facts.
Tags: ,
1 comment so far

Courtesy of BBC.

جیریمی بوئن

مدیر برائے مشرقِ وسطی، بی بی سی    7 جون 2017

پچاس برس سال قبل اسرائیل اور اس کے ہمسایہ عرب ممالک کے درمیان جنگ چھڑی تھی۔ یہ جنگ صرف چھ روز جاری رہی لیکن اس کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔

سنہ 1948 میں اسرائیل کے عرب ہمسایوں نے نئی نئی قائم ہونے والی اس ریاست کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے لیے اس پر ناکام حملہ کیا۔ مصر کی فوج کو پسپا ہونا پڑا لیکن چند دستے جو فلوجہ میں محصور ہو گئے تھے انھوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔

مصر کے نوجوان افسروں کے ایک گروپ اور اسرائیل فوج کے افسروں نے اس تعطل کو توڑنے کی کوشش کی۔

ان میں اسرائیل فوجی خاندان سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ اسحاق رابن جو جنوبی محاذ پر جنگ کارروائی کی قیادت کر رہے تھے اور 30 سالہ مصری میجر جمال عبدالناصر بھی شامل تھے۔

نازیوں کی طرف سے 60 لاکھ یہودیوں کے قتل عام کے چند سال بعد مقدس سرزمین پر یہودی ریاست کے قیام کا خواب پورا ہو گیا تھا۔

فلسطینی سنہ 1948 کے اس واقعے کو ’النکبہ‘ یا تباہی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ساڑھے سات لاکھ فلسطینیوں کو ان کی اپنی سرزمین سے بے دخل کر کے اسرائیل کا وجود عمل میں لایا گیا اور ان فلسطینیوں کو واپس جانے نہیں دیا گیا۔

عربوں کی اسرائیل کے ہاتھوں شکست ایک ایسا تہلکہ خیز سیاسی واقعہ تھا جس کے بعد یہ خطہ اب تک عدم استحکام کا شکار ہے، نہر سویز کے بحران کے بعد جمال عبدالناصر عرب دنیا کے ہیرو بن گئے، مصر کی فوج نے جو ندامت اور اپنے ساتھ غداری کے احساس سے چور تھی، اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ جنگ کے چار سال بعد ناصر کی قیادت میں نوجوان افسران کے ایک گروپ نے مصر میں بادشاہت کا خاتمہ کر دیا۔

دونوں ملکوں کو بخوبی علم تھا کہ اگلی جنگ جلد یا بدیر ضرور ہو گی۔

سنہ 1956 میں جمال عبدالناصر نے صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔ اسی برس انھوں نے برطانیہ، فرانس اور اسرائیل کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نہر سویز کو قومیانے کا فیصلہ کر لیا اور یوں وہ قومی ہیرو اور عربوں کے قائد بن گئے۔ اسرائیل میں اسحاق رابن فوج میں نوکری کرتے رہے اور سنہ 1966 میں فوج کے اعلیٰ ترین افسر یعنی چیف آف سٹاف بن گئے۔ عربوں کے زخم مندمل نہیں ہوئے۔ اسرائیل یہ کبھی فراموش نہیں کر سکا کہ اس کے ہمسایہ ملکوں نے اس کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی۔ دونوں کو پوری طرح احساس تھا کہ اگلی جنگ جلد یا بدیر ضرور ہو گی۔

خراب ہمسائے

اسرائیل اور عرب ہمسائیوں کے لیے باہمی نفرت اور ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھنے کے لیے بہت سی وجوہات موجود تھیں۔

سنہ 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں سرد جنگ نے بداعتمادی اور کشیدگی کی فضا کو مزید ایندھن فراہم کیا۔

سویت یونین نے مصر کو جدید فضائی طیارے فراہم کیے۔ اسرائیل کے امریکہ کے ساتھ قریبی دوستی تھی لیکن یہ ابھی امریکی دفاعی امداد حاصل کرنے والا سب سے بڑا ملک نہیں بنا تھا۔ سنہ 1960 میں اسرائیل نے فرانس سے طیارے اور برطانیہ سے ٹینک حاصل کیے۔

سنہ 1948 کے بعد اسرائیل نے اپنی پوزیشن کو مسحتکم کرنے کے لیے انتھک محنت کی اور اس دوان اس نے مزید دس لاکھ یہودی تارکین وطن کو آباد کیا۔ اسرائیل میں آنے والوں کے لیے فوج میں خدمات انجام دینا ایک لازمی شرط تھی۔

اسرائیل نے ایک سریع الحرکت اور ہلاکت خیز فوج تیار کر لی اور 1967 میں وہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کے قریب تھا۔

اسحاق رابن 1967 میں اسرائیلی فوج میں چیف آف سٹاف تھے

اسرائیل میں پیدا ہونے والے نئے اسرائیلی جنھیں ‘سبراس’ (عبرانی زبان میں ایک ترش پھل کا نام) کہا جاتا تھا مختلف ملکوں میں آباد یہودیوں کی ماضی میں کی گئی غلطیوں کو نہ دہرانے کے لیے پرعزم تھے۔

رابن اسرائیل فوج کے بارے میں پراعتماد تھے۔ ان کا مشن ہر جنگ جیتنا تھا اور اسرائیل ایک جنگ بھی ہارنے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ مصر کی افواج اور اس کے اتحادی شام کی فوجیں جو کم تربیت یافتہ تھیں، بلند و بانگ دعوے کرنے لگیں اور یہ فراموش کر بیٹھیں کہ 1956 میں نہر سویز کے بحران سے حاصل ہونے والی سیاسی فتح کے بعد انھیں فوجی شکست کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔ جمال عبدالناصر نے عرب دنیا میں قومی تحریک پر توجہ مرکوز رکھی جس کےبارے میں ان کے رفقا کا خیال تھا عربوں کے قومی تفاخر کو بحال کر کے اسرائیل سے بدلہ لیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے اپنے سب سے قریبی ساتھی فیلڈ مارشل عبدالحکیم عامر کو مسلح افواج کا کمانڈر ان چیف بنا دیا۔ مصر ایک قدیم ملک ہے جس میں عدم تحفظ کا احساس نہیں تھا جو اسرائیل جیسے جارح ملک کو کھائے جاتا ہے۔ عبدالحکیم عامر کا سب سے اہم مشن جو انھوں نے بڑی خوش اسلوبی سے نبھایا، وہ نوجوان افسران کو خوش اور مطمئن رکھ کر فوج کی وفاداری کو یقینی بنانا تھا۔ فوج کی لڑائی کی صلاحیت کو بہتر بنانا ان کی ترجیحات میں نہیں تھا۔

سنہ 1967 تک مصر یمن کی جنگ میں ملوث ہو چکا تھا جو اس کا اپنا ویتنام بن گیا۔ وہ بہتر انداز میں جنگ نہیں کر سکا۔ لیکن ناصر عامر کی جگہ کوئی بہتر فوجی نہیں لا سکتے تھے۔ شام کی فوج بھی سیاست کا شکار ہو چکی تھی اور سویت یونین کی طفیلی ریاست بن گئی تھی اور وہاں کئی جرنیل فوجی بغاوتوں کے نتیجے میں برسراقتدار آئے۔ عرب قومیت، سوشلزم اور اتحاد کی بہت بات کرتے تھے لیکن حقیقت میں وہ بری طرح تقسیم کا شکار تھے۔ شام اور مصر کی قیادت اپنے خلاف سازشوں کی شکایت کرتے تھے جو ان کے بقول اردن اور سعودی عرب کی بادشاہتیں کر رہی تھیں۔ سعودی عرب اور اردن کی بادشاہتیں مصر اور شام میں مقبول فوجی آمروں سے خائف تھیں کہ وہ پوری عرب دنیا میں انقلابی جذبات بھڑکا سکتے تھے۔ اردن کے فرمانروا شاہ حسین برطانیہ اور امریکہ کے قریبی اتحادی تھے۔ اردن وہ واحد اسلامی ملک ہے جو سنہ 1948 کی جنگ میں فاتح رہا تھا۔

اردن کے شاہ حسین

شاہ حسین کے دادا شاہ عبداللہ کے یہودی ایجنسی سے خفیہ روابط تھے جو برطانیہ کی حاکمیت والے فلسطینی علاقوں میں یہودیوں کی نمائندگی کرنے والی مرکزی تنظیم تھی۔ انھوں نے 1948 میں پہلے سے طے شدہ برطانوی انخلاء کے بعد اس زمین کو آپس میں بانٹ لینے کی گٹھ جوڑ کر رکھی تھی۔

سنہ 1951 میں ایک فلسطینی قوم پرست نے شاہ عبداللہ کو بیت المقدس کی الاقصیٰ مسجد میں ہلاک کر دیا۔ 15 برس کے شہزادہ حسین نے اپنی دادا کو ہلاک ہوتے دیکھا اور اس کے اگلے دن پہلی مرتبہ بندوق اٹھائی۔ ایک سال بعد وہ بادشاہ بن گئے۔

سنہ 1948 کی جنگ کے بعد اردن اور اسرائیل قریب آئے لیکن اتنے قریب نہیں آ سکے کہ امن ممکن ہو سکے۔ شاہ حسین کے دور میں بھی خفیہ مذاکرات جاری رہے۔ وہ اردن کی کمزوری سے بخوبی واقف تھے۔ اس کا زیادہ تر علاقہ صحرا پر مشتمل تھا اور اس کی اکثریتی آبادی عدم اطمینان کا شکار فلسطینی پناہ گزینوں پر مشتمل تھی۔

شامی علامات

سنہ 1967 کی جنگ عرب اور اسرائیلی فوجوں کے درمیان طویل کشیدگی اور خوفناک سرحدی جھڑپوں کے بعد شروع ہوئی۔

مصر اور اسرائیل کے درمیان سرحد عموماً پرامن رہی۔ اسرائیل کی شمالی سرحد مستقل کشیدگی کا شکار تھی جہاں متنازع علاقوں اور دریائے اردن کے پانی کا رخ موڑنے کی مصری فوج کی کوششوں کی وجہ سے جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں۔ شام نے فلسطینی گوریلا جنگجوؤں کو پناہ دے رکھی تھی جو اسرائیل کے اندر حملے کرتے رہتے تھے۔

مغربی قوتوں کو اس بارے میں کوئی ابہام نہیں تھا کہ مشرق وسطیٰ میں سنہ 1967 کی جنگ سے قبل کون سی فوجی طاقت کا توازن کس کے حق میں تھا۔ امریکہ کے جوائنٹ چیف آف سٹاف کا کہنا تھا کہ اسرائیل کم از کم اگلے پانچ برس تک کسی بھی عرب اتحاد کی مشترکہ فوجوں کا تنہا مقابلہ کر سکتا ہے۔

سنہ 1967 میں تل ابیب میں تعینات برطانوی فوجی اتاشی کا اسرائیلی فوج کے بارے میں ایک رپورٹ میں کہنا تھا کہ کمان، تربیت، دفاعی سازو سامان اور رسد کے شعبوں میں اسرائیلی فوج جنگ کے لیے اس سے زیادہ کبھی تیار نہیں تھی۔ اعلیٰ تربیت یافتہ، خودانحصار، سخت جان اسرائیلی فوجیوں میں اپنے ملک کے دفاع کے لیے لڑنے کا جذبہ اوج پر تھا اور وہ جنگ پر جانے کے لیے تیار تھے۔ سرحدی جنگیں کشیدگی کے باعث شروع ہوئیں۔ فلسطینی گوریلا ایک سرحدی باڑ توڑ کر اندر آئے۔ اسرائیل نے اس حملے کو دہشت گردی قرار دے کر مذمت کی اور اس طرح کے حملے روکنے کے لیے اس نے بھرپور جوابی کارروائی کی۔ اردن کے زیر قبضہ غرب اردن کے ایک گاؤں سیموا میں نومبر 1966 میں اسرائیلی فوج کی ایک بڑی کارروائی کے بعد اسرائیل کے اندر ایک بارودی سرنگ کا حملہ ہوا۔

غرب اردن میں اسرائیلی فوجی کارروائی پر فلسطینیوں میں خوب شور شرابہ ہوا۔ حسین دہشت زدہ تھے۔ انھوں نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کو بتایا کہ وہ تین برس سے اسرائیل کے ساتھ خفیہ مذاکرات کر رہے ہیں اور ان کے اسرائیلی رابطہ کار نے جس دن کارروائی کی گئی اس صبح بھی یہ یقین دلایا تھا کہ جوابی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ امریکہ کا رویہ ہمدردانہ تھا۔ انھوں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی اس قرار داد کی بھی حمایت کی جس میں سیموا کے حملے کی مذمت کی گئی۔ شاہ حسین نے غرب اردن میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور انھیں تقریباً یہ یقین ہو گیا تھا کہ غم اور غصے کا شکار فلسطینی ان کا تخت الٹ دیں گے۔ انھیں یہ خوف لاحق ہو گیا کہ ان کی فوج میں جمال عبدالناصر کے حمایتی فوجی افسر ان کے خلاف بغاوت کر دیں گے اور اسے بہانا بنا کر اسرائیل غرب اردن اور مشرقی بیت المقدس کو ہڑپ کر جائے گا۔ وہ اس حشر کا شکار نہیں ہونا چاہتے تھے جو مشرق وسطیٰ میں دوسرے ہاشمی فرمانروا اور ان کے رشتے کے بھائی اور دوست عراق کے بادشاہ فیصل کا مقدر بنا تھا۔

عراق کے شاہ فیصل کو ان کے محل کے دالان میں سنہ 1958 کی بغاوت میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

شام اور اسرائیل کی سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی سے جنگ کے بادل گہرے ہوتے چلے جا رہے تھے۔ شاہ حسین کے برعکس جن کے بارے میں امریکیوں کو بھی یقین تھا کہ وہ فلسطینیوں کی چھاپہ مار کارروائی روکنے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، شام فلسطینیوں کی حوصلہ افزائی کر رہا تھا۔ اسرائیل متنازع علاقوں پر اپنے دعوؤں کو جارحانہ انداز میں آگے بڑھا رہا تھا جن میں غیر فوجی علاقوں میں بکتر بند ٹریکٹروں کے ذریعہ گھاس کی کٹائی کا عمل بھی شامل تھا۔

سات اپریل سنہ 1967 کو شام اور اسرائیل میں بھرپور جنگ شروع ہو گئی۔ اسرائیل کی فوج نے شامی افواج کو زبردست نقصان پہنچایا۔ اگلی صبح ایک برطانوی سفارت کار کے مطابق بیت المقدس میں اسرائیلی فوجی قوت اور عربوں کی بے بسی پر ششدر فلسطینی نوجوان یہ کہتے نظر آئے کہ مصر کہاں ہے اور جمال عبدالناصر پر عملی اقدام کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا تھا۔

اسرائیل قومی تفاخر کے جذبے سے سرشار تھا لیکن چند سیاست دان اور فوجی خدشات کا شکار تھے۔ اسرائیلی پارلیمان کی ایک راہداری میں فوج کے سابق چیف آف آرمی سٹاف موشے دایان کا آمنا سامنا جنرل ایزر وائزمین میں سے ہوا جو اسحاق رابن کے دستِ راست تھے۔ موشے دایان نے ان سے پوچھا کیا تم ہوش میں تو ہو۔ تم تو ملک کو جنگ میں دھکیل رہے ہو۔’

شام اور فلسطینی گوریلا گروپ اسرائیل کو اشتعال دلانے کی پر ممکن کوشش کر رہے تھے اور اسرائیل ہر اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دینے کے لیے آمادہ تھا۔ مصر اور شام کو نظر آ رہا تھا اور برطانیہ اور امریکہ بھی دیکھ رہے تھے کہ اسرائیل بڑی جنگ کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ایک نیوز ایجنسی کی مبالغہ آمیز رپورٹ میں اسرائیلی فوجی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ اگر فلسطینیوں کی طرف سے کارروائیاں جاری رہیں تو اسرائیل محدود فوجی کارروائی کرے گا جس کا مقصد دمشق میں شام کی فوجی کا تخت الٹنا ہو گا۔ اس خبر کا ذریعہ فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل ہارون ایرو تھے۔ انھوں نے شامی حکومت کے خاتمے کو ممکنہ اقدامات میں سے انتہائی اقدام قرار دیا لیکن اس خبر کو شام اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ، دونوں نے بڑی سنجیدگی سے لیا۔ اور پھر سوویت یونین کی مداخلت نے سب کچھ بدل دیا۔ 13 مئی کو ماسکو نے قاہرہ کو صاف الفاظ میں خبردار کر دیا کہ اسرائیل شام کے ساتھ اپنی سرحد پر فوجیوں جمع کر رہا ہے اور وہ ایک ہفتے کے اندر اندر شام پر حملہ کر دے گا۔

اس سوال پر اس دن سے بحث ہو رہی ہے کہ آخر سوویت یونین نے اس جنگ میں پہلی گولی کیونکر چلائی تھی۔ دو اسرائیلی تاریخ دانوں، ایزابیلا گنور اور گڈیون ریمیز، کا خیال ہے کہ سوویت یونین نے جان بوچھ کر تنازع شروع کرایا تھا۔ ان دونوں کا کہنا ہے کہ اصل میں سوویت یونین اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کے منصوبے کو روکنا چاہتا تھا اور اس لڑائی میں اپنی فوجیں بھیجنے تک کے لیے تیار تھا۔

اُس وقت ایک درمیانے درجے کے سوویت افسر نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کو بتایا تھا کہ سوویت یونین عربوں کو اکسا رہا تھا کہ وہ امریکہ کے لیے مسائل پیدا کریں۔ اس وقت امریکہ کو ویتنام میں ایک بڑے مسئلے کا سامنا تھا اور اگر مشرق وسطیٰ میں ایک نئی جنگ چھڑ جاتی تو امریکہ کے لیے ایک نیا دردِ سر پیدا ہو سکتا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ ان دنوں اسرائیل اور اس کے عرب ہمسائیوں کو کسی کے اکسانے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ چنانچہ دونوں فریقوں نے اُس لڑائی میں چھلانگ لگا دی جس کی توقع دونوں ایک عرصے سے کر رہے تھے۔

ناصر کا جوا

سوویت یونین کی جانب سے خبردار کیے جانے کے محض 24 گھنٹے بعد مصری فوج کے کمانڈر، فیلڈ مارشل حکیم عامر نے نے اپنی فوج کو جنگ کے لیے پوری طرح تیار رہنے کا حکم دے دیا۔ فوج کے چیف آف آپریشنز جنرل انور القادی نے اپنے کمانڈر کو بتایا کہ بہترین فوجیوں سمیت ملک کی آدھی سے زیادہ فوج یمن میں الجھی ہوئی ہے اور اس وقت یہ فوج اسرائیل کے ساتھ لڑنے بالکل قابل نہیں ہے۔ اس پر عامر نے جنرل القادی کو ایک مرتبہ پھر یقین دلایا کہ لڑائی منصوبے کا حصہ ہے ہی نہیں، بلکہ وہ اسرائیل کی جانب سے شام کو دے جانے والی دھمکیوں کے جواب میں محض طاقت کا ‘مظاہرہ’ کرنا چاہتے ہیں۔

دو دن بعد مصر نے اسرائیل سے جڑی سرحد پر 1956 سے گشت کرنے والے اقوامِ متحدہ کے مبصرین کو نکال کر اور اپنی فوج کو صحرائے سینا میں تعینات کر کے خود کو اس بحران میں مزید پھنسا لیا۔ اس وقت چونکہ اسرائیلی فوج کے سر پر شام سوار تھا، اس لیے اسرائیل نے مصر کے ساتھ صبر کا مظاہرہ کیا۔.

اس وقت شلومو گزیت فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ تھے۔ انھوں نے امریکی سفارتکاروں کو بتایا کہ اسرائیل کو مصر کے جارحانہ رویے پر بہت حیرت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اسے مصر کی جانب سے محض ‘لفظوں کی جنگ’ سمجھتا ہے، اور اسرائیل مصر کی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لائے گا تاکہ وقتیکہ کہ مصر بحیرۂ احمر میں آبنائے طیران کو بند کر کے ایلات کی بندرگاہ کو اسرائیل کے لیے بند نہیں کر دیتا۔ مصر میں اسرائیل کے خلاف جذبات کو مہمیز دینے میں جمال عبدالناصر کے پسندیدہ ریڈیو سٹیشن ‘صوت العرب’ نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ قاہرہ میں قائم اس ریڈیو سٹیشن کی نشریات پورے مشرق وسطیٰ میں سنی جاتی تھیں اور یہ جمال ناصر کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم آلہ بن چکا تھا۔ اسرائیل نے ناصر کے اقوام متحدہ کے فوجیوں کو نکالنے اور صحرائے سینا میں مزید فوج بھیجنے کے فیصلوں پر کسی خاص رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔ چنانچہ ناصر نے اسرائیل کو مزید زِچ کرنے کے لیے ایلات کی بندرگاہ کو ایک مرتبہ پھر بند کر دیا۔ صحرائے سینا میں مصری فضائیہ کے اڈے پر تقریر کرتے ہوئے جمال ناصر نے اعلان کیا کہ ’اگر اسرائیل ہمیں جنگ کی دھمکی دیتا ہے، تو ہم اس کا استقبال کریں گے۔‘

ناصر کی خواہش تھی کہ دنیا بھر میں ان کی شناخت ایک ایسے عرب رہنما کی بن جائے جو یہودی ریاست کے سامنے کھڑا ہونے کی جرات رکھتا ہے۔ چنانچہ جدید لڑاکا طیارے اڑانے والی فضائیہ کے ہوابازوں کے درمیان کھڑے ناصر کی تصویر کی دنیا بھر میں خوب تشہیر کی گئی۔

مصر کی جانب سے اس اعلان کے صرف 42 منٹ بعد ہی امریکہ نے نائب صدر کے مصر کے دورے کی امید دلا کر کہا کہ اگر اس تنازعے کو بڑھنے نہ دیا جائے تو یہ دورہ ممکن ہو سکتا ہے۔ اس وقت تک امریکی صدر لنڈن جانسن ساری صورت حال پر خاصے برہم ہو چکے تھے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل یو تھاٹ امن مشن پر مشرق وسطیٰ کی جانب سفر شروع کر چکے تھے۔ اس موقعے پر ناصر نے اپنے اس وعدے کا اعادہ کیا کہ مصر پہلی گولی نہیں چلائے گا۔ لیکن اپنے دورے کے اختتام پر یو تھاٹ کا تجزیہ یہی تھا کہ اگر ایلات کی بندرگاہ کا محاصرہ ختم نہیں ہوتا تو جنگ یقینی ہے۔

حملے کے لیے دباؤ

جمال ناصر کی جانب سے آبنائے طیران کے بند کیے جانے کے صرف ایک دن بعد ہی اسرائیلی وزیر اعظم لیوی ایکشول نے اپنی فوجوں کو سرحد کی جانب پیش قدمی کا حکم دے دیا۔ اس حکم کے 48 گھنٹے کے اندر اندر پچاس سال تک کی عمر کے دو لاکھ 50 ہزار فوجی اور نیم فوجی دستے میدان میں اترنے کے لیے تیار تھے۔

جنرل رابن پر دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔ تمام شواہد بتا رہے تھے کہ اسرائیل یہ جنگ جیت جائے گا، لیکن جنرل رابن خود کو قائل کر چکے تھے کہ وہ اسرائیل کو آگ میں جھونکنے جا رہے ہیں۔ وہ اس قدر ذہنی دباؤ کا شکار تھے کہ سگریٹ کی کئی ڈبیاں پینے کے بعد وہ تھک ہار کے بستر پر گر گئے۔ وہ تقریباً 24 گھنٹے سوتے رہے اور پھر جا گے تو واپس دفتر لوٹے۔

جہاں تک جنگ کو رکوانے کی بین الاقوامی کوششوں کا تعلق ہے تو سفارتکاری کی دنیا میں ان کا آغاز تنازع شروع ہوتے ہی ہو گیا تھا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ، ابا ایبان، نے بھی پہلی پرواز پکڑی اور صدر جانسن سے ملاقات کے لیے واشنگٹن روانہ ہو گئے۔

اس سے پہلے جب سنہ 1956 میں اسرائیل نے برطانیہ اور فرانس کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کر کے مصر پر حملہ کیا تھا، اس وقت امریکہ نے نہ صرف اسرائیل کو جارح ملک قرار دیا تھا بلکہ اسے ان علاقوں سے نکل جانے پر مجبور کر دیا تھا جن پر اسرائیل قبضہ کر چکا تھا۔ اسی لیے اِس مرتبہ اسرائیل کی کوشش تھی کہ اسے امریکہ کی تائید حاصل ہو جائے۔

صدر جانسن نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ پہلی گولی اس کی طرف سے نہیں چلنی چاہیے۔ انھوں نے اسرائیلی وزیر خارجہ کو کہا کہ وہ مصر کی فکر نہ کریں۔ مصر کی جانب سے جنگ کے امکانات کم ہی ہیں، اور اگر ایسا ہوتا ہے تو (مجھے پتہ ہے) ’آپ مار مار کے اُس کا بھرکس نکال دیں گے۔‘ امریکی صدر لنڈن بی جانسن نے اسرائیل کو متنبہ کیا تھا کہ جنگ کا آغاز ان کی جانب سے نہ ہو۔ صدر جانسن نے ملاقات میں یہ اشارہ بھی دیا کہ اگر موزوں ہوا تو امریکہ شاید اپنے اتحادیوں کی بحریہ کے ساتھ مل کر آبنائے طیران کو کھولنے کے لیے حملہ بھی کر سکتا ہے۔ ایبا ایبان نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اسی رفتار پر چلیں گے جس پر امریکہ چل رہا ہے، لیکن اسرائیلی فوج حملے کے لیے تیار تھی اور ان کے جرنیل بھی سیاستدانوں کی تاخیر سے مایوس ہو رہے تھے۔ فوجی ایبان کے رویے سے بہت چِڑ چکے تھے اور وزیر خارجہ کا انداز گفتگو اور ان کے شہری طور طریقے ان فوجیوں کو ایک آنکھ نہیں بھا رہے تھے۔ اسی لیے جب 28 مئی کو اسرائیلی کابینہ نے مزید دو ہفتے تک انتظار کا فیصلہ کیا تو جرنیل بہت برہم ہوئے۔ اُن کے خیال میں یہ مسئلہ صرف آبنائے طیران کے کھلنے کا نہیں تھا، بلکہ ان کی نظر خطے کی بڑی تصویر پر تھی۔ جرنیلوں کے خیال میں جمال ناصر تمام عرب دنیا کو اسرائیل کے خلاف متحد کر رہے تھے اور اسی مقصد کی خاطر انھوں نے اپنی فوج صحرائے سینا میں بھیج دی تھی تاکہ وہاں سے اسرائیلی سرحد پر براہ راست حملہ کیا جا سکے۔

اردن کا مخمصہ

جمال ناصر سنہ 1956 سے عرب دنیا کے واحد متفقہ رہنما بن چکے تھے۔ اور جب وہ عربوں کی نفرت کی علامت اسرائیل کے خلاف کھڑے ہوئے تو عربوں میں ان کی سیاسی حیثیت مزید مستحکم ہو گئی۔ انھوں نے 28 مئی کو قاہرہ میں غیر ملکی صحافیوں سے ایک ملاقات کی جس میں انھوں نے صحرائے سینا اور آبنائے طیران میں بحران کو فلسطین کے خلاف اسرائیل کی ‘جارحانہ کارروائیوں’ سے نسبت دی۔ جمال ناصر کا کہنا تھا کہ چونکہ اسرائیل سنہ 1948 میں فلسطینیوں پر ڈاکہ ڈال کر ان کے علاقے چھین لیے ہیں، اس لیے اب اسرائیل کے ساتھ امن بقائے باہمی کے تحت رہنا ممکن نہیں رہا۔

جمال ناصر کے اعتماد نے اردن کے شاہ حسین کو ایک کونے میں دھکیل دیا۔ حسین ناصر پر اعتماد نہیں کرتے تھے۔ انھوں نے عمان میں سی آی اے کے سربراہ کو بتایا کہ ان کے خیال میں اسرائیل کا اصل ہدف غربِ ادرن پر قبضہ کرنا ہے۔ حسین کا سب سے بڑا مسئلہ ان کی اپنی بقا اور بادشاہت تھی۔ اسی لیے انھوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی جمال ناصر کے ساتھ مفاہمت کا فیصلہ کر لیا۔ جنگ کے کچھ سال بعد انھوں نے تاریخ دان، ایوی شلیم سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ‘مجھے معلوم تھا کہ جنگ ہو کے رہے گی۔ مجھے پتہ تھا کہ ہم یہ جنگ ہار جائیں گے۔ مجھے معلوم تھا کہ اردن خطرے میں ہے۔ ہمیں دونوں طرف سے خطرہ تھا، تو ایک حل تو یہ تھا کہ ہم وہی کرتے جو ہم نے کیا، اور اگر ہم اس تنازع سے باہر رہتے تو ہمارا ملک دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا۔’

خوف اور خطرات

اگر اسرائیلی جرنیلوں کو وہ کرنے دیا جاتا جو وہ چاہتے تھے تو انھیں یقین تھا کہ وہ اسرائیل کو زبردست فتح سے ہمکنار کر سکتے تھے۔ لیکن اسرائیل میں فوج کے اندر کے معاملات پر سخت سینسر کی وجہ سے جرنیلوں کی باتیں باہر نہیں آ سکتی تھیں اور دوسری جانب عرب ریڈیو سٹیشنوں اوراسرائیلی اخبارات میں ایک دوسرے کے خلاف خوفناک دھمکیاں رکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پورے اسرائیل پر ناامیدی کے بادل چھا گئے۔ حکومت نے متوقع اموات کے ہیش نظر تابوت اکھٹے کرنا شروع کر دیے اور مذہبی رہنماؤں نے ہنگامی بنیادوں پر عوامی پارکوں کو قبرستانوں میں تبدیل کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ ان حالات میں وزیر اعظم لیوی ایشکول کی 28 مئی کی تقریر نے رہی سہی کسر بھی نکال دی۔ تقریر کے دوران ان کی زبان لڑکھڑا رہی تھی اور وہ الفاظ ادا نہیں کر پا رہے تھے۔ تقریر کے بعد ایک ملاقات میں اسرائیلی جرنیلوں نے وزیر اعظم کے خوب لتے لیے۔ جب تمام جرنیل انھیں برا بھلا کہہ رہے تھے تو بریگیڈیئر جرنل ایریل شیرون نے چیخ کر کہا کہ مسٹر وزیر اعظم ‘ ہم نے اپنا سب سے بڑا ہتھیار کھو دیا ہے، اور وہ ہتھیار ہے ہمارا خوف ۔’

اس ملاقات میں موجود بہت سے کمانڈروں نے نہایت سخت اور تضحیک آمیز الفاظ استعمال کیے اور اپنی حکومت کا موازنہ ان یہودی رہنماؤں سے کرنا شروع کر دیا جو یورپ سے جلاوطنی کے بعد غلاموں کی طرح رحم کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

یورپ سے آئے ہوئے اپنے سیاسی رہنماؤں کے برعکس سنہ 1950 اور 60 کی دہائیوں میں اسرائیل میں پیدا ہونے والے لوگوں کی پرورش اس انداز میں ہوئی تھی کہ وہ یورپی یہودیوں کو کمزور سمجھتے تھے کہ یہ لوگ نازیوں کے ظلم کے خلاف کھڑے نہیں ہوئے اور اُن کا ہر ظلم برداشت کیا۔ اکثر اسرائیلی وزرائے اعظم کی طرح ایشکول کے پاس وزارت عظمیٰ کے ساتھ ساتھ وزارت دفاع کا قلمدان بھی تھا۔ لیکن جلد ہی انھیں مجبوراً وزارت دفاع کا عہدہ اسرائیل کے ایک جنگی ہیرو، ایک آنکھ والے جنرل موشے دان کو دینا پڑ گیا۔ موشے دان کی شہرت یہ تھی کہ وہ ہر وقت جنگ کے لیے تیار رہنے والے شخص ہیں۔ اسرائیل کے جوان جرنیل ملک کے وزیراعظم لیوی ایشکول پر بھروسہ نہیں کرتے تھے

جنگ سے پہلے آخری دن

جمال ناصر ایک بڑا جُوا کھیل رہے تھے۔ اگرچہ مصر کے پاس ایک جدید فضائیہ تھی، لیکن اس کی برّی فوج کمزور تھی۔ ناصر کے جرنیلوں کو بھی معلوم تھا کہ ناصر کی خطروں سے کھیلنے کی عادت انھیں ایک تباہ کن جنگ کے دہانے پر لے آئی ہے۔

دوسری جانب جنگ کو روکنے کی بین الاقوامی کوششیں بھی ناکام ہو چکی تھیں۔ برطانیہ اور امریکہ کہ پاس لے دے کے یہی حل بچا تھا کہ بحرہ احمر میں مجوزہ بحری ٹاسک فورس کسی طرح آبنائے طیران کو مصر کے ہاتھوں سے چھڑا لے لیکن برطانوی اور امریکی بحریہ کے سربراہوں کو یہ حل بالکل پسند نہیں تھا۔ انھیں فکر تھی کہ اگر وہ آبنائے طیران کو چھڑوا نہ سکے تو یہ جمال ناصر کی ایک اور فتح ثابت ہو گی۔

اور پھر جمعہ دو جون کو اسرائیلی جرنیلوں نے اپنی دفاعی کابینہ کو جنگ کا حتمی فیصلہ پیش کر دیا۔ انھوں نے سیاستدانوں کو بتایا کہ وہ مصر کی پٹائی کر سکتے ہیں، لیکن وہ اس میں جتنی تاخیر کریں گے یہ کام اُتنا ہی مشکل ہو جائے گا۔

اس سے چند دن پہلے اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ میئر امیت بھی بھیس بدل کر ایک نقلی پاسپورٹ پر واشنگٹن کا سفر کر چکے تھے۔ وہ جنگ کا مزید انتظار نہیں کرنا چاہتے تھے کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ 50 سال تک کی عمر کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو طویل عرصے کے لیے فوج میں بلانے کے بعد ملک کی معیشت تباہ ہو جائے گی۔ امریکیوں نے بھی اسرائیل کو واضح اشارہ دے دیا۔ امریکیوں کو بتا دیا گیا تھا کہ اب اسرائیل جنگ کرنے جا رہا ہے اور وہ (امریکی) اس جنگ کو روکنے کی کوشش نہیں کریں گے۔

موساد کے سربراہ میئر امیت جب طیارے میں واپس اسرائیل آئے تو امریکہ میں اسرائیل کے سفیر ایب ہارمن بھی ان کے ہمراہ تھے اور اُس طیارے میں تمام مسافروں کے لیے گیس ماسک بھی موجود تھے۔۔ وہ سنیچر تین جون کو تل ابیب کے ہوائی اڈے پر اترے۔ ایک کار ان دونوں کو لے کر سیدھی وزیر اعظم ایشکول کی رہائش گاہ پر پہنچی، جہاں وہ اپنے وزرا کے ہمراہ اِن دونوں کا انتظار کر رہے تھے۔ میئر امیت کی خواہش تھی کہ فوراً جنگ شروع کر دی جائے، جبکہ ایب ہارمن چاہتے تھے ہفتہ بھر انتظار کیا جائے۔

موشے دایان نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ہم سات، نو دن تک انتظار کرتے ہیں تو ہزاروں لوگ مر چکے ہوں گے۔ پہلا حملہ ہمیں کر دینا چاہیے، اور جہاں تک سیاسی پہلو کا تعلق ہے، وہ ہم حملے کے بعد دیکھ لیں گے۔’ کمرے میں موجود کسی بھی شخص کو اب یہ شک نہیں رہا تھا کہ جنگ کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ اسرائیل جنگ کرنے جا رہا ہے۔ اگلی ہی صبح کابینہ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کر دی۔ جمال ناصر کی پیشنگوئی یہ تھی کہ اسرائیل چار یا پانچ جون کو حملہ کر دے گا۔ ان کی اس پیشنگوئی کی بنیاد وادیِ اردن اور اسرائیل کی جانب عراقی توپ خانے کی پیش قدمی تھی۔

اچانک حملہ

پانچ جون صبح سات بج کر 40 منٹ تل ابیب میں وزارت دفاع کے دفتر میں ہر ایک سانس روکے بیٹھا تھا کیونکہ حملے کا لمحہ قریب آ چکا تھا۔ اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر تھا کہ وہ دشمن کو سوچنے کا موقع ہی نہ دیں اور نہایت سرعت سے مصر سے آغاز کر کے عرب فضائیہ کے تمام اڈّوں کو تباہ کر دیں۔

اسرائیلی فضائیہ ان حملوں کی تیاری کئی سالوں سے کر رہی تھی۔ اس مقصد کے لیے جاسوس طیاروں کی مدد سے انھوں نے عرب فضائیہ کے تمام اڈوں کا بغور مطالعہ کر لیا تھا۔ مصر اور دیگر عرب ملکوں کے برعکس اسرائیلیوں نے اپنی پوری تیاری کی تھی۔ انھوں نے مصر، اردن اور شام کے ہوائی اڈوں کی مکمل تصویر حاصل کرنے کے لیے سینکڑوں جاسوس مشن بھیجے۔ ہر پائلٹ کے پاس اہداف کی ایک کتاب تھی جس میں اس کے محل وقوع اور دفاع سے متعلق تفصیل موجود تھی۔ حتیٰ کے انھوں نے ریڈیو کالز سن کر بڑے عرب کمانڈروں کی آوازوں کو شناخت کرنے کے لیے نظام بنا لیا تھا۔

یہ ایک بڑی کامیابی تھی۔ فیلڈ مارشل عامر اور مصر کی اعلی قیادت سینا میں موجود ایک ہوائی اڈے بیر تمادا میں ملاقات کر رہے تھے۔ اجلاس شروع ہونے کو تھا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے بم گرانا شروع کیا۔ فوجی جنرل اتنے حیران تھے کہ ان کے ذہنوں میں پہلا خیال بغاو ت کا آیا یا مصر کے ساتھ کسی قسم کے دھوکے کا۔ عامر اپنا جہاز اڑانے میں کامیاب ہو گئے لیکن ایک ایسا وقت بھی آیا کہ انہیں جہاز اتارنے کے لیے کوئی جگہ نہیں مل رہی تھی کیونکہ مصر کے سبھی ہوائی اڈوں پر حملہ کیا گیا تھا۔

ادھر تل ابیب میں ایزر وائزمین بہت خوش تھے۔ حملے ان کی توقع سے اچھے جا رہے تھے۔ انھیں دشمن کے خلاف حیران کن کامیابی ملی تھی۔ انھوں نے اپنی اہلیہ کو فون کیا ’ہم جنگ جیت گئے۔‘ وہ چلائے تھے۔ اس دن اسرائیل نے اردن اور شام کی فوج کے پیشتر ہوائی اڈے تباہ کر دیئے تھے۔ فضاؤں پر اسرائیل کا قبضہ تھا۔ اسرائیل کے حملے کے نتیجے میں مصری فضائیہ ناکارہ  ۔ہو کر رہ گئی

اسرائیل نے شاہ حسین کو متنبہ کیا کہ جنگ میں شامل نہ ہوں لیکن انھوں نے ذہن بنا لیا تھا اس لیے انھوں نے اردن کی قابل فوج کو مصر کے نااہل جنرل کے ماتحت دے دیا۔ یروشلم میں لڑائی کے آغاز کے آدھے دن بعد ہی اردن کی فوج نے فائر کھول دیا۔ شاہ حسین نے اسرائیل کی جانب سے جنگ سے دور رہنے کی صورت میں بچ جانے کے اشاروں کو درگزر کیا۔ 1966 میں سمووا ریڈ کے بعد انھوں نے اسرائیل کی یقین دہانی پر بھروسہ نہیں کیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر وہ مصر کے ساتھ فوجی اتحاد سے نکلے تو وہ اپنا تخت کھو دیں گے۔

جنوب میں اسرائیلی زمینی فوج صحرائے سینا میں تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔ ادھر مصری فوج بھی بہادر سے لڑ رہی تھی لیکن وہ اسرائیلی فوج کی طرح حاضر دماغی میں تربیت یافتہ، لچک دار اور پھرتیلے نہیں تھے۔ قاہرہ میں فوج کے صدر دفتر میں کمانڈرز گھبراہٹ کا شکار ہو رہے تھے۔ جنرل صلاح الدین ہدیدی مان چکے تھے جنگ آدھی ہاری جا چکی ہے اور یہ مصر کے لیے بدترین شکست تھی۔ لیکن باہر سڑکوں پر لوگ جشن منا رہے تھے۔ حکمران جماعت کی جانب سے فراہم کی گئی بسوں پر لوگ شہر میں آ رہے تھے۔ وائس آف عرب خبروں اور سچ کا ایک قابلِ بھروسہ ذریعہ تھا اور وہ سراب پھیلا رہا تھا۔ رات آٹھ بج کر 17 منٹ پر وہ یہ خبر دے رہا تھا کہ 86 اسرائیلی طیارے مار گرائے گئے اور مصر ٹینک اسرائیل میں گھس گئے ہیں۔ صحرائے سینا میں موجود جنرل محمد عبدالغنی بڑھتی ہوئی دہشت کے ساتھ یہ خبر سن رہے تھے اور وہ جانتے تھے کہ یہ سب بکواس ہے۔

برسوں بعد میں نے احمد سے پوچھا کہ انھوں نے آن ائر جھوٹ کیوں بولا۔ انھوں نے اپنا دفاع کیا: ’آپ لوگوں سے لڑنے کے لیے کہہ رہے ہیں رقص کرنے کے لیے نہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ نشریات ہمارا سب سے طاقتور ہتھیار تھیں۔ ہمارے کئی سامع ان پڑھ تھے اس لیے ریڈیو ان تک رسائی کا سب سے اہم ذریعہ تھا۔‘ 1967 میں جب شکست کی درست خبر سامنے آئی ناصر اور عامر اپنے مسکن میں لوٹ آئے۔ انور سادات نے بحیثیت صدر اسرائیل کے ساتھ تاریخی امن معاہدہ کیا جس کے بعد انھیں انہی کے محافظ نے قتل کر دیا۔

ایک نیا منظر نامہ

پانچ دنوں میں اسرائیل نے مصر، اردن اور شام کی فوجوں کو اکھاڑ پھینکا۔ اس نے مصر سے غزہ کی پٹی اور صحرائے سینا، شام سے گولان کی پہاڑیوں اور اردن سے مغربی پٹی اور مشرقی یروشلم کے علاقے چھین لیے۔

دو ہزار سال میں پہلی مرتبہ یہودیوں کے مقدس مقام یروشلم پر یہودیوں کا قبضہ ہوا۔ جس کے بعد مزید فلسطینی بے دخل، فرار اور قتل ہوئے تاہم یہ 1948 کے پیمانے پر نہیں ہوا۔ ناصر نے استعفی دے دیا تاہم لاکھوں لوگوں کے احتجاج کے بعد انھیں یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔ اس کے بعد وہ اپنی وفات تک 1970 تک اپنے عہدے پر قائم رہے۔ فیلڈ مارشل عامر کی موت پراسرار حالات میں ہوئی۔ ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ انھیں زہر دیا گیا۔

اردن کے شاہ حسین نے مشرقی یروشلم کھو دیا لیکن ان کا تحت باقی رہا۔ انھوں نے اسرائیل کے ساتھ خفیہ مذاکرات جاری رکھے اور دونوں ممالک میں سنہ 1994 میں امن قائم ہوا۔

شام میں فضائی فوج کے کمانڈر نے 1970 میں اقتدار پر قبضہ کر لیا ان کا نام حفیظ الاسد تھا اور سنہ 2000 میں ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے بشارالاسد ان کے جانشین بنے۔

اسرائیل میں وزیرِ اعظم ایشکول سنہ 1969 میں دل کا دورے پڑنے سے وفات پا گئے۔ ان کی بیوہ مریم کا کہنا تھا کہ وہ جنگ کی شام وزراتِ دفاع سے جبراً نکالے جانے کے صدمے سے کبھی نکل ہی نہیں پائے۔

ایشکول کے جانیشن گولڈا میئر کو سنہ 1973 میں خبردار کیا گیا کہ شام اور مصر ایک اچانک حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔ لیکن اسرائیلی اب تک سنہ 1967 میں مخالفین کو دی گئی شکست کے گھمنڈ کے زیرِ اثر تھے۔

اس جنگ میں امریکہ نے اسرائیل کی کافی مدد کی۔ 1967 کے بعد امریکیوں نے اسرائیل کو ایک نئی نگاہ سے دیکھنا شروع کیا۔ انھیں نوجوان سبراس سے محبت ہو گئی جنھوں نے تین عرب فوجوں کو شکست دی۔

اسرائیل اور فلسطین پر سنہ 1967 کی جنگ کے اثرات مرتب ہوئے اور اسرائیل نے فلسطینی سرزمین پر قبضہ شروع کر دیا جو آج نصف صدی کے بعد بھی جاری ہے۔ اسرائیل نے مشرقی یروشلم اور گولان کی پہاڑیوں کو ریاست میں ضم کر دیا جسے عالمی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔

فلسطینیوں نے جون 1967 میں اسرائیلی فوجیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے

جنگ کے ختم ہوتے ہی اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریئن نے فتح کی دلفریب اور پرکشش چمک دھمک سے متعلق خبردار کیا۔ ایک تھنک ٹینک سے خطاب میں انھوں نے کہا ’ان خطوں میں رہنا یہودی ریاست کو بگاڑ دے گا یا شاید اسے تباہ کر دے۔ اسرائیل کو یروشلم کو پاس رکھتے ہوئے باقی علاقے عربوں کو لوٹا دینے چاہییں۔ چاہے یہ امن معاہدے کے تحت کریں یا اس کے بغیر ہی۔‘

نقشے پر اسرائیلی ریاست کا گولان سے سوئز تک پھیلاؤ اور دریائے اردن کی لمبائی دیکھ کر اسرائیلی وزیرِ خارجہ ابا ایبان اسے امن کی ضمانت کے بجائے جنگ کے دعوت نامے کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ لیکن اسرائیل میں کسی بھی احتیاط کو مکمل رد کر دیا گیا کیونکہ ان کی فوج نے عربوں سے نمٹا تھا۔ مذہبی رجحان رکھنے والے یہودیوں کا کہنا تھا کہ یہ فتح ایک معجزہ تھی اور خدا نے انھیں عطا کی ہے۔

یہودی (مبلغ) ربی زوی یہودہ کوک نے پوراٹ سمیت کئی آبادکاروں کو قائل کیا۔ کوک ایک صیہونی رہنما تھے اور انھوں نے لوگوں کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نے خدا کا دیا ہوا کام کیا۔

ان کے بقول ’اسرائیلی دفاعی افواج مقدس ہیں۔ وہ خدا کی زمین پر اس کے بندوں کی حکومت کے ترجمان ہیں۔‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ خدا کی طرف سے یہودیوں کو تحفے میں دی جانے والے زمین کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔ لیکن ان کی مشکل یہ تھی کہ فلسطینی اسے اپنی زمین قرار دیتے ہیں اور اپنے مقدس مقامات کی حفاظت اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ جنگ کے ایک ماہ بعد ہی امریکی صدر جانسن کے مشرقِ وسطی کے لیے مشیر باب اینڈرسن نے خبردار کیا کہ یروشلم کی عربوں کے لیے ایک خاص اہمیت ہے۔ بعض اسرائیلوں کا خیال تھا کے بعض خطوں کو امن معادہدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن مشرقی یروشلم اس کا حصہ نہیں تھا بلکہ مغربی پٹی سے اس میں داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔

اگست میں خرطوم میں ہونے والے اجلاس میں عرب ریاستیں ایک ایسے ملک کو عزت دینے کے حق میں نہیں تھیں جس نے ان کی تذلیل کی۔ عرب رہنماؤں کا کہنا تھا اسرائیل کے ساتھ کوئی مذاکرات، کوئی امن معاہدہ نہیں ہوگا۔

سنہ 1967 کی شکست فلسطینی نیشنل موومنٹ کے آغاز کا باعث بنی۔ اس سے پہلے فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن ناصر کی کٹھ پتلی کے طور پر کام کر رہی تھی جس کے ذریعے درحقیقت فلسطینیوں کو استعمال کیا جا رہا تھا نا کہ ان کی آزادی کی جنگ میں مدد کی جاتی۔ 1967 بعد یاسر عرفات اور ان کی جماعت الفتح نے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ 1968 میں تین ماہ کے دوران درجنوں حملوں کے بعد اسرائیل نے اردن کے کیمپ میں واقع تنظیم کے صدر دفتر پر حملہ کیا۔ انھیں غیر متوقع طور پر فلسطینی گوریلوں اور اردن کے اسلحے کا سامنا کرنا پڑا۔ آخر کار اسرائیل نے کرامہ کو تباہ کر دیا تاہم کئی گھنٹوں تک سڑکوں پر جاری رہنے والے اس لڑائی میں ان کے 30 جوان مارے گئے۔ اس لڑائی میں الفتح کے 100 جنگجو ہلاک ہوئے اور انھیں قومی ہیرو قرار دیا گیا۔ یاسر عرفات قریب المرگ فلسطینی لبریشن آرگینائزیشن کے سربراہ بنے۔ جہاں فلسطینی لبریشن کی پہچان اور بین الاقوامی شخیصت بن گئے وہیں وہ اسرائیلیوں کے لیے دنیا کے بدترین دہشت گرد قرار پائے۔

پائیدار میراث

سنہ 1967 کی جنگ نے اسرائیل کو قابض بنا دیا جو باقی ہر چیز سے زیادہ معنی رکھتا ہے۔ یہ اسرائیل اور فلسطین دونوں کے لیے ایک تباہی کا باعث تھا۔ اسرائیل نے بین الاقومی قوانین سے سرکشی کرتے ہوئے یہودی بستیاں تعمیر کیں۔ قوانین کے مطابق قبضہ کرنے والے مقبوضہ اراضی پر اپنے لوگوں کو آباد نہیں کر سکتے لیکن اسرائیل اسے مختلف نظر سے دیکھتے ہیں۔

ابا ایبان نے پیش گوئی کی تھی کہ فلسطینی ’آزادی، تفاخر ، عزت اور پرچم‘ کا ذائقہ کبھی نہیں بھولیں گے۔

فوجی قبضے کا مطلب جبر ہے۔ قبضہ تشدد کی فضا قائم کرتا ہے جس کی وجہ سے انسانی جانیں سستی ہو جاتی ہیں اور مقبوضہ علاقوں کے لوگوں پر ظلم کیا جاتا ہے اور جو لوگ اس کے خلاف لڑتے ہیں ان پر طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے۔

سنہ 1967 کی جنگ کے بعد کے حالات کو سدھارنے کے لیے 90 کی دہائی میں مذاکرات شروع ہوئے۔ سنہ 1993 میں امریکی صدر کلنٹن کی میزبانی میں اس وقت کے اسرائیلی وزیرِ اعظم یِتزک ریبن نے اپنے پرانے دشمن یاسر عرفات سے ہاتھ ملایا۔ امن عمل میں دونوں جانب سے کمیاں دیکھنے میں آئیں۔ انتہائی دائیں بازوں کے اسرائیلیوں نے اسے سنجیدگی سے لیا۔ ان کا خیال تھا کہ اس سے ان کے اس پورے خطہِ زمین پر حکومت کے خواب کو دھچکا لگا جو خدا نے انہیں دی تھی۔

سنہ 1995 میں ایک انتہا پسند یہودی نے وزیرِ اعظم ریبن کو تل ابیب میں قتل کر دیا۔ ان کا قاتل اتنا خوش تھا کہ اس نے ایک ایسے شخص کو قتل کیا جو یہودیوں کے لیے خطرہ تھا۔ ریبن اسرائیلیوں کے لیے بہت اہم تھے، وہ اپنے تحفظ کے لیے ان پر بھروسہ کرتے تھے۔ امن عمل شاید ریبن کے ساتھ ناکام ہوا لیکن ایک ایسے شخص کے بغیر امن ممکن بھی نہیں تھا جس نے 1967 کی جنگ اور فلسطینیوں کے تشدد کے دوران فوجی کی قیادت کی۔ 1967  کے پچاس سال گزرنے کے بعد کئی دوسرے امریکی صدور کی طرح ڈونلڈ ٹرمپ کو امید ہے کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن عمل میں مدد کریں گے۔

اگر ان کے خواب بات چیت میں بدلتے ہیں تو ایسے خطے کے مستقبل کا تعین ہوگا جس پر چھ دن کی جنگ کے بعد قبضہ کر لیا گیا۔ یہ ایک غیر معمولی انسانی ڈرامہ تھا جس میں ایک اسرائیلی نسل کو بھاری کامیابی ملی جبکہ عربوں کے بچے اور ان کے بچے اس جنگ کے باعث بننے والی دنیا میں امن سے نہیں رہ پائے۔

ایک مقدس زمین جس دل یروشلم (بیت المقدس) ہے جہاں مذاہب، تہذیبوں اور قومیتوں کی ٹیکٹونک پلیٹس یکجا ہوتی ہیں۔ ان کے درمیان گزرنے والی فالٹ لائن کبھی خاموش نہیں رہتی، یہ ہمیشہ خطرناک رہتی ہے۔

سنہ 1967 کی میراث سے جان چھڑانا آسان نہیں ہے۔

 

Home Remedies for Skin May 30, 2017

Posted by Farzana Naina in Skin care, Prevent wrinkles and sagging skin, Home Remedies for skin,.
Tags: , , , , , , , , , , , , , , , ,
add a comment

Natural remedies 2Coconut oil is used medicinally around the globe to treat a variety of health issues from asthma to wounds. Relating to the body’s largest organ, the skin, coconut oil helps to heal bruises, scrapes and burns; it helps fight premature aging in the skin and skin inflammation and it is a natural exfoliant. Virgin coconut oil fights to prevent wrinkles and sagging skin and to prevent and fade age spots. It is a protective antioxidant with no added fragrances or harmful chemicals.

Wash your face and hands with clean water. Dry gently with a soft towel.

Pour a few drops of coconut oil into the palm of your hand.

Apply the coconut oil to your face where the age spots have appeared and gently massage the oil into the skin. Massage the skin in an upward pattern toward the hair line. If the age spots are near the eyes, use the ring finger, only, as this is the weakest finger and will not pull the gentle skin around the eye area.

Apply coconut oil to your hands and arms if you have age spots in those areas. If you do not have age spots on your hands and arms, apply some there for age spot prevention.

Apply coconut oil to your age spots immediately after coming in from the sunshine to help repair any damage that the sun may have caused.

Home-Remedies-Step-4-Version-3

Usage of Lemon

Apply lemon juice directly to spots. Lemon juice contains an acid that may help break down melanin pigment and thus reduce the appearance of spots within a month or two. Vitamin C in lemons may directly bleach the skin as well. Cut a lemon into slices and place the slices directly on the brown spots. Leave it on for about 30 minutes and then rinse off with running water.

Be careful about combining lemon juice and direct sun exposure; there are reports that placing lemon juice on the skin can cause significant sunburns in direct sunlight. Other reports suggest that the bleaching of the brown spots is more effective in direct sunlight. It may be best limit sun exposure to lemon-juice treated brown spots to 10 minutes at a time.

***Home-Remedies-Step-3-Version-3       

Use a lemon juice and sugar combination. Squeeze the juice of one lemon into a bowl and add 2-4 tablespoons of sugar, slowly adding the sugar until it combines with the lemon juice to make a sort of paste.

Apply the mixture to each brown spot with a brush or a cotton swab.

Leave the paste on for about half an hour and then rinse it off with cool water.

This paste may dry your skin, so be sure to apply a moisturizer after every treatment.

***

Make a paste with honey, sugar, and lemon juice. Squeeze the juice of one lemon into a bowl and add up to 2 tablespoons of sugar (depending on how much juice the lemon had) and two tablespoons of honey, making a goopy paste.

Apply the mixture to each brown spot with a brush or a cotton swab.

Leave it on for a half hour and then rinse it off with cool water.

The honey provides moisture to protect your skin from over-drying.

Natural remedies 1

Learn about the power of enzymes. Enzymes are the workforce of the biochemical world. Enzymes change various substances without getting used up themselves, like nature’s catalytic converters. The enzymes may help break down melanin into colourless smaller parts.

The different foods described here contain different enzymes, but all classified as enzymes which break up proteins—the proteases or proteolytic enzymes.

These proteases include papain (in papaya), potato aspartic protease, and bromelain (in pineapple).

Grate a potato and mix with honey. Take one medium sized potato (any kind of white potato will work) and grate it into a bowl. Add enough honey to make a paste.

Apply the mixture to the brown spots.

Leave the mixture on for about 15 minutes, and then rinse it off with cool water.

Papaya Mask

Home-Remedies-Step-6-Version-3

Make a papaya mask. Scoop all of the pulp out of a papaya and mash it in a bowl until it is an even consistency. You may want to use a hand mixer to thoroughly mash the fruit.

Use a cotton swab or make-up brush to apply a mask to your face and any other area that has brown spots.

Leave the mask on until it dries and rinse off with cool water.

Pineapple

Home-Remedies-Step-7-Version-3

Use pineapple juice or a pineapple mask. Pour some pineapple juice into a bowl (ensure that it is 100% pineapple juice with no added sugar or juice your own pineapple). Using a cotton swab, apply the pineapple juice to any brown spot and leave it on until dry. Rinse off with cool water.

As an alternative, mash up some pineapple slices and apply as a mask to your face and any other area that has brown spots. Leave the mask on until dry, and then rinse off with cool water.

Try chickpeas

Home-Remedies-Step-8-Version-3

Cook ½ cup of chickpeas (also known as garbanzo beans) by measuring out ¼ cup of peas and boiling them in ½ of water. Boil until the peas are soft (15 minutes for canned beans or about an hour for dried beans), then remove from heat and cool.

When cooled, mash the cooked chick peas to make a paste.

Rub the paste onto the spots and let it dry. Rinse it off with cool water.

Yogurt For Skin Spots

Home-Remedies-Step-9-Version-3

Apply plain yogurt directly onto your face. As a dairy product, yogurt contains acids that can help lighten dark spots. The “good” bacteria in yogurt may be beneficial as well, as they are known to contain enzymes that can break down proteins like melanin.

Rub the plain yogurt onto your dark spots that need “fading”.

Leave on until the yogurt dries, and then rinse off with cool water.

Removing Skin spots

Mix plain yogurt with herbs. Some herbs may help the yogurt remove the spots from your skin. Apply the yogurt and herb mixture directly onto your face and any other area with spots. Leave on until dry, and then rinse off with cool water. The following herbs contain antioxidants and bioflavonoids that can help lighten brown spots when combined with yogurt:

1 tablespoon of mustard powder

1 tablespoon of turmeric/curcumin powder

1 tablespoon of aloe vera gel

 

Try castor oil

Castor oil contains antioxidants that can protect and lighten the skin. Soak a cotton ball with a few drops of castor oil and dab on your skin anywhere you want to fade the spots. Let it soak in and leave it on!

Use Vitamin E

Vitamin E has antioxidant, anti-inflammatory, and healing properties and can help fade dark spots on your skin. Open or pierce a liquid capsule of Vitamin E and apply directly to your dark spots. Let it soak in and leave it on!

Visit a dermatologist. Brown spots are harmless, but they can be mistaken for skin cancer. It’s always a good idea to have any spots on your skin checked by a dermatologist. Once your dermatologist has verified that the spots are merely cosmetic, you can take measures to reduce the appearance of the spots.

Learn your ABCDEs

Dermatologists often talk about the “ABCDEs” of skin cancer– ways to distinguish between skin cancer and a benign (non-cancerous) growth. Skin cancer tends to be:

Assymetric

With uneven Borders (edges)

With varied Colours (Different shades of brown, black and tan)

Larger in Diameter (¼ inch or 6mm)

Evolving (changing) in size, shape, colour, how much above the skin surface they are raised etc.

Skin Check

Look over your skin regularly. Most cancerous spots are marked by change, so keeping track of the way your skin looks can help you with early detection. Depending on factors such as time spent exposed to UV rays and family history, you may need to have your skin checked regularly by a professional dermatologist.

Make an avocado mask

Home remedies Get-Rid-of-Acne-Scars-at-Home-Without-Chemicals-Step-8-Avacado

Remove the pulp from one avocado, mash it, and apply it to the affected area for 10–15 minutes. Rinse it off with cool water and pat your skin dry with a soft washcloth. This remedy can be applied daily for people with dry, sensitive skin and twice a week for people with oily skin.

Avocado is a fruit rich in many vitamins, nutrients and fatty acids that stimulate collagen production and tissue repair. Vitamins such as vitamin A and C have anti-inflammatory, antioxidant properties that help protect the skin from harmful free radicals. Vitamin E helps moisturize the skin and reduce the appearance of scars.

Cleanser and Toner

Home remedies Get-Rid-of-Acne-Scars-at-Home-Without-Chemicals-Step-11

Make your own natural cleanser and toner. If you don’t want to buy a cleanser, head to the kitchen and make your own. Infuse one teaspoon of green tea, which contains natural antioxidants, in a cup of warm water for 3–5 minutes. Strain the tea into a clean bowl and let it cool for 15–20 minutes. Dip a cotton ball, facial wipe, or microdermabrasion cloth into the infusion and apply it to your skin.

Never apply makeup immediately after washing your skin. It can also clog your pores, causing more acne breakouts. Also be sure to use oil-free cosmetics for your skin and hair.

Exfoliation

Use a gentle and natural exfoliant. Exfoliation can improve your skin’s appearance and remove dead skin cells, preventing acne. For a natural exfolliant, boil 1 tablespoon of organic oatmeal in ¼ cup water. Once it cools, gently massage the mixture onto your face. Oatmeal is a natural plant-based cleanser with antioxidant, anti-inflammatory and photo protective properties. Its high concentration of starches helps the skin stay moisturized too, so it is safe to use for people with sensitive skin.

Before using any exfoliating products, ask your dermatologist what treatment may be right for your skin type. People with dry, sensitive skin should limit exfoliating to once or twice per week, while people with oily, thicker skin can exfoliate once every day.

Avoid parabens

Home remedies Get-Rid-of-Acne-Scars-at-Home-Without-Chemicals-Step-16

Parabens are preservatives used in many cosmetic products. Many studies have found that parabens can disrupt hormonal balance and put you at a higher risk of breast and uterine cancers. They can also cause skin irritation and inflammation for people who suffer from acne, and may be a potential allergen.

Butyl and propyl paraben are considered more toxic than methyl paraben and ethyl paraben, but the latter is more easily absorbed by the human body

Steam your pores

Before you think about squeezing or pulling them out, you need to really loosen the pores. Blackheads are very sticky and won’t come out easily, but by loosening the pores you give yourself the best chance of success. An excellent way to do this is to carefully hold your face at least a foot above a bowl of steaming water for ten to fifteen minutes. Getting any closer can cause burns.

Place a towel over your head so the steam can’t escape.

You will feel the steam beginning to loosen your pores.

You can also soak a washcloth in hot water and lay it over your face.

جیمز بانڈ‘ انتقال کر گئے’ May 23, 2017

Posted by Farzana Naina in Film and Music.
Tags: , , ,
add a comment

 Sir Roger

راجر مور کو میں ان کے نام ’’ سائمن ٹیمپلر‘‘ سے جانتی تھی، ان کی ایک ٹیلیویژن  سیریز آیا کرتی تھی جس کا نام تھا ’’ دی سینٹ‘‘ میرے بھائیجان  بڑی باقاعدگی سے وہ سیریل دیکھتے تھے لہذا ہم بھی بچپن میں ایسے ہی پروگرامز کے دلدادہ ہوتے گئے، راجر مور کی مردانہ وجاہت مقناطیسی کیفیت میں خواتین کو کھینچتی رہی اور انہوں نے جیمز بانڈ کا جب رول کیا تو یہ مقبولیت اور عروج کو پہنچی، اب انہیں جیمز بانڈ کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔

آج ان کی وفات کی خبر پڑھ کر صدمہ ہوا، کیسی کیسی ہستیاں اور کیسے مسکراتے چہرے صفحۂ ہستی سے مٹ جاتے ہیں، افسوس صد افسوس !۔

Moore’s Bond movies

Live and Let Die (1973)

The Man with the Golden Gun (1974)

The Spy Who Loved Me (1977)

Moonraker (1979)

For Your Eyes Only (1981)

Octopussy (1983)

A View to a Kill (1985)

Born: 14 October 1927, Stockwell, London
Died: 23 May 2017, Switzerland

 

برطانوی اداکار ’’ سر راجر مور‘‘ جنھوں نے جیمز بانڈ کا کردار ادا کر کے عالمی شہرت حاصل کی نواسی برس کی عمر میں  انتقال کر گئے ہیں، ان کی وفات کی اطلاع ان کے خاندان والوں نے دی۔

سر راجر مور نے جیمز بانڈ سلسلے کی سات فلموں میں برطانوی جاسوس کا مرکزی کردار ادا کیا۔ ان فلموں میں ‘لیو اینڈ لیٹ ڈائی’ کے علاوہ ‘سپائی ہو لوڈ می’ شامل تھیں جنھیں دنیا بھر کے فلم بینوں میں بڑی پذیرائی حاصل ہوئی۔

ٹویٹر پر سر راجر مور کے خاندان والوں نے اطلاع دی کہ وہ سرطان کے مرض میں مبتلا تھے۔ اس ٹویٹ میں مزید کہا گیا کہ تھوڑی مدت کے لیے لیکن بڑی جوانمردی سے انھوں نے اس مرض کا سامنا کیا۔

خاندان کی طرف سے اس تعزیتی بیان میں بچوں کی طرف سے کہا گیا ’پاپا آپ کا شکریہ اور بہت سے لوگوں کے لیے اتنا اہم اور خاص ہونے پر۔’

سر راجر مور کی وفات سوئٹزرلینڈ میں ہوئی اور ان کی خواہش کے مطابق ان کی آخری رسومات نجی طریقے سے مناکو میں ادا کی جائیں گی، ان کے بچوں ڈبورا، جوفری اور کرسچن کی طرف سے مزید کہا گیا ‘ان کے آخری دنوں میں ان پر جنتی محبت اور پیار نچھاور کیا گیا اس کو الفاظ میں بیان کیا جانا ممکن نہیں ہے۔’ 

 Courtesy of BBC 

Sir Roger is survived by his three children and wife Kristina Tholstrup۔

Sir Roger is survived by his three children and wife Kristina Tholstrup

Roger Moore, The Saint - 4 October 1962 - 9 February 1969

Simon Templar is the Saint. He robs from the criminally rich and gives to the poor and deserving — while keeping a nice percentage for himself. His strict moral code makes him target those who got their wealth through nefarious means – corrupt politicians, warmongers and the like. His criminal activities put him at odds with the law, but his wit, charm and intelligence tends to keeps him one step ahead of the police.
 
First episode date: 4 October 1962
Final episode date: 9 February 1969

The Persuaders are two equally matched men from different backgrounds who reluctantly team together to solve cases that the police and the courts cannot.

Danny Wilde (Tony Curtis) is a rough diamond, educated and moulded in the slums of New York City, who escaped by enlisting in the US Navy. He later became a millionaire in the oil business. Curtis himself suffered a tough childhood in the Bronx, and served in the US Navy. He was 46 when he made The Persuaders, but he performed all his own stunts and fight sequences.

Lord (Brett) Sinclair (Roger Moore) is a polished British nobleman, educated at Harrow and Oxford, a former British Army officer and an ex-racing car driver, who addresses his colleague as “Daniel”.

As a pair of globe-trotting playboys, the men meet on holiday in the French Riviera, instantly disliking each other and destroying a hotel bar during a fist-fight. They are arrested and delivered to retired Judge Fulton (Laurence Naismith), who offers them the choice of spending 90 days in jail or helping him to right errors of impunity. Grudgingly, Wilde and Sinclair agree to help Fulton to solve a case. He then releases them from any threat of jail.

 
First episode date: 17 September 1971
Final episode date: 25 February 1972
Network: ITV
Awards: Logie Award for Best British Show

James Bond

Seven actors in total have portrayed Bond on film. Following Connery’s portrayal, David Niven, George Lazenby, Roger Moore, Timothy Dalton, Pierce Brosnan and Daniel Craig have assumed the role.

شاعری کی نئی صنف عشرے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت May 22, 2017

Posted by Farzana Naina in Poetry.
add a comment

Book 712star-silver-28

ادریس بابر کی اکثر باتیں کثیرمعنی اور تلازماتی ہوتی ہیں۔ اس لیے اسے سننے کے دو بہترین طریقے ہیں یا تو آپ پورے انہماک سے سنیں تاکہ کوئی جہت رہ نہ جائے، یا پھر سنی ان سنی کر دیں۔

چنانچہ 2014 میں آئی ایٹ میں چائے کے ایک ڈھابے میں بیٹھے ہوئے جب ادریس بابر نے اعلان کیا کہ اس نے شاعری کی ایک دس سطری صنف ایجاد کی ہے جسے عشرے کا نام دیا ہے تو میں نے بھی دوسرے طریقے پر عمل کیا۔ لیکن کچھ دیر بعد چائے کی چسکیوں کے درمیان اس نے عشرہ سنانا شروع کیا تو چونک کر سننا پڑا۔

امیجز اس قدر جیتے جاگتے تھے کہ گویا نیشنل جیوگرافک میگزین سے تصویریں کاٹ کر ایک کولاج بنا لیا گیا ہو۔

تندور پر سردی کا اندازہ

کچن کی میز پر اک چائے کی پیالی رکھی ہے

اسی کے ساتھ چینک (ٹوٹنے والی) رکھی ہے

ہرے صوفے پہ کتا سا کوئی سکڑا پڑا ہے

قریب اک باتھ ٹب میں دھوپ کا ٹکڑا پڑا ہے

پرے کرسی پہ ‘بربر’ کانپتی (بلی) دھری ہے

پرانے نادروں کے واسطے دلّی دھری ہے

بھری الماری سے دل بھر خلا تو ڈھونڈ لائیں

درازیں، درزیں تک جھانکیں، خدا کو ڈھونڈ لائیں

یہ منظر ۔۔۔ سوچ کر ۔۔۔ دونوں نے اندازہ لگایا

تو میں نے عشرہ ۔۔۔ اس نے نان اک تازہ لگایا

اس کے کچھ ہی عرصے بعد ادریس لاہور چلا گیا لیکن اس کے عشرے میسج کے ذریعے یا پھر فیس بک پر دیکھنے کو ملتے رہے۔ انھیں دیکھ کر احساس ہوا کہ ادریس بظاہر دس سطروں کی تنگ دامنی میں بھی ایک نئی دنیا بسا لیتا ہے۔

اس کی ایک تکنیک تو یہ ہے کہ اس نے عشرے کو کسی ایک فارم تک محدود نہیں ہونے دیا۔ چنانچہ عشرہ منظوم اور مقفیٰ بھی ہو سکتا ہے، بلینک ورس بھی اور نثری بھی۔ پھر اس کی سطروں کی لمبائی بھی مقرر نہیں ہے۔

کسی بھی نئے کام کا ایک لازمی حصہ اس پر ہونے والے اعتراضات و الزامات کی بوچھاڑ ہے۔ چنانچہ عشرے کو بھی اپنے حصے کا بوجھ اٹھانا پڑا۔ ادریس غزل کا بےحد عمدہ شاعر ہے۔ حال ہی میں جدید غزل کا ایک انتخاب چھپا تو اس میں ادریس کو سب سے اوپر رکھا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر عشرے کی ایحاد کے بعد بھی اسی شدت سے نکتہ چینی ہوئی۔

لیکن ادریس نے ایک نہ سنی اور اب یہ صورتِ حال ہے کہ ‘لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا’ کے مصداق اب ادریس کے علاوہ درجنوں نوجوان شعرا عشرے ہی کو اپنا بنیادی وسیلۂ اظہار بنا رہے ہیں۔

ادریس کے اکثر عشروں کے موضوعات واقعاتی ہوتے ہیں اور وہ روزمرہ واقعات سے تحریک پا کر عشرے لکھتے ہیں۔

اردو شاعری میں ایک عرصے سے واقعات سے بڑی حد تک گلوخلاصی حاصل کر لی گئی تھی اور واقعاتی شاعری کو کمتر شاعری سمجھا جاتا تھا۔ ایک زمانہ تھا کہ اقبال طرابلس کی جنگ میں زخمیوں کو پانی پلاتی لڑکی پر نظم لکھتے تھے یا پھر شبلی نعمانی یا مولانا ظفر علی خان کی نظمیں ملتی ہیں۔ اس کے بعد سے آزاد نظم چند استثنائی مثالوں کو چھوڑ کر اس قدر اوپر اٹھتی چلی گئی کہ دنیا کے حالات و واقعات کہیں دور نیچے رہ گئے۔

اب کہیں سات آٹھ عشروں بعد عشرہ ایک ایسی صنف بن کر آیا ہے جو روزمرہ واقعات کو موضوع بنانے سے نہیں ہچکچاتا۔ مثلاً ایک عشرے میں دو نوجوانوں کے درمیان مکالمے کے ذریعے ادریس نے دکھایا ہے کہ کوئٹہ میں ہونے والی خونریزی کو دوسرے شہروں میں رہنے والے کس طرح دیکھتے ہیں

کہاں ہے کوئٹہ، کیا ہے کوئٹہ

بم دھماکہ ہوا وہاں؟ نہ کرو!

ہاسٹل کا کرایہ چڑھ گیا ہے

اچھا، پہلے بھی ہوتے ہیں! کس وقت؟

حبس بارش سے اور بڑھ گیا ہے

بیسیوں لوگ مارے گئے؟ لو سنو!

چلتے ہیں تم نے چائے پی کہ نہیں

پہلے بھی مارے جاتے ہیں! اس وقت؟

فلم وہ ڈان لوڈ کی کہ نہیں

کیا وہاں ڈائیوو کا اڈا ہے

اوہو، تھری جی میں کوئی پھڈا ہے!

‘حالاتِ حاضرہ’پر لکھے گئے عشرے صرف تشویش اور درمندی سے لبریز نہیں ہیں بلکہ ان میں فنکارانہ چابکدستی بھی اسی شدت سے دکھائی دیتی ہے۔ مثال کے طور پر اوپر دیے گئے عشرے میں جس مہارت سے مکالمے juxtapose کیے گئے ہیں اسے پڑھ کر فلابیئر کی تکنیک یاد آتی ہے۔

جبری گمشدگی اور ریاستی جبر بےحد تکلیف دہ معاملہ ہے، لیکن ادریس اس پر ہلکے پھلکے لاپروایانہ انداز میں لکھتے ہیں جس سے مسئلہ اور ابھر کر سامنے آتا ہے:

میٹنگ

اس نے میٹنگ بلائی اور کہا

لوگ، دن رات کنٹرول میں ہیں

ٹیپ منہ پر لگائی اور کہا

سب بیانات کنٹرول میں ہیں

اس نے گولی چلائی اور کہا

سر جی، حالات کنٹرول میں ہیں

سب زمیں پر خدا کے نائب تھے

سب زمیں پر خدا کے نائب ہیں

وہ جو اپنی رضا سے مارے گئے۔۔

وہ جو اپنی خوشی سے غائب ہیں

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، عشرہ کسی قسم کی موضوعاتی جکڑبندی پر یقین نہیں رکھتا۔ اس میں زمین اور آسمان کے درمیان کوئی بھی امر زیرِ بحث آ سکتا ہے۔

ادریس بابر کا ایک رومانوی عشرہ نوجوانوں میں خاصا مقبول ہوا ہے اور وہ جہاں بھی جاتے ہیں ان سے فرمائش کی جاتی ہے کہ وہ اسے سنائیں۔

محبت==جدائی

ادهر گوری کو نیند پل بهر نہ آئی

بدن سے وچهوڑے کی کلکل چهڑائی

وہ سورج کی ٹکیا سے مل مل نہائی

نکهر کر نکل آئی ہلچل مچائی

خدا ہو نہ ہو گنگ ٹهیری خدائی

ادهر ریل گاڑی نے سیٹی بجائی

محبت==جدائی

مسافر اسی دائرے میں رہے گا

وہ یہ جان کر اک سٹیشن پہ اترا

کہ وہ عمر بهر راستے میں رہے گا

اردو شاعری میں ریل کے بارے میں کم ہی لکھا گیا ہے۔ منیر نیازی کا درد بھرا شعر ذہن میں آتا ہے

صبحِ کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر

ریل کی سیٹی بجی اور دل لہو میں بھر گیا

ادریس نے اپنے عشرے میں اسی درمندی کو چھو لیا ہے۔

یہ کب سے دوزخ مشہور چلا آتا تھا / لوگ اس خطے کی بدصورتی پر عاشق تھے / جو بھی دیکھتا بھاگ کے دور چلا جاتا تھا / آخر ہمسایوں ماں جایوں کو رحم آیا / ایک نے بھیجے ٹینک تو دوسرا بم لے آیا / کیمپ لگائے امدادی ۔۔۔ لڑنا سکھلایا / جانگلیوں کو بندوقیں گھڑنا سکھلایا / گولیاں کھانا ۔۔۔ جیلوں میں سڑنا سکھلایا / ہر گز اس کی مدد سے منہ موڑیں گے / ہم کشمیر کو جنت بنا کے چھوڑیں گے

بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں اردو شاعری میں کئی اصناف متعارف کروائی کی گئیں، جن میں سانیٹ، نظمِ معرا، آزاد نظم وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے صرف آزاد نظم ہی وقت کی وار سہہ سکی ہے۔ اس کے بعد 80 کی دہائی میں سفارت کارانہ بیساکھیوں کے سہارے ہائیکو متعارف ہوا اور اس صنف میں کتابیں چھپیں، لیکن جونہی بیساکھیاں ہٹیں، ہائیکو بھی دھڑام ہو گیا۔

فی الحال یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ عشرہ ان لمحاتی اصناف سے کس قدر مختلف ثابت ہو گا۔ البتہ جس تیزی سے نوجوان شاعروں نے عشرے کو قبول کر کے اس میں لکھنا شروع کیا ہے، اس سے اس نئی صنف کے اچھے مستقبل کی امید کی رکھی جا سکتی ہے 

ادریس بابر, عشرہ: کشمیر

یہ کب سے دوزخ مشہور چلا آتا تھا / لوگ اس خطے کی بدصورتی پر عاشق تھے / جو بھی دیکھتا بھاگ کے دور چلا جاتا تھا / آخر ہمسایوں ماں جایوں کو رحم آیا / ایک نے بھیجے ٹینک تو دوسرا بم لے آیا / کیمپ لگائے امدادی ۔۔۔ لڑنا سکھلایا / جانگلیوں کو بندوقیں گھڑنا سکھلایا / گولیاں کھانا ۔۔۔ جیلوں میں سڑنا سکھلایا / ہر گز اس کی مدد سے منہ موڑیں گے / ہم   کشمیر کو جنت بنا کے چھوڑیں گے ۔ 

بتشکر: بی بی سی

 

’اے اللہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ہدایت دے‘ May 22, 2017

Posted by Farzana Naina in Poetry.
Tags:
add a comment

DAOW7CkXsAI47TK

ٹوئٹر صارفین نے سعودی عرب کے ایک مذہبی رہنما سعد بن خونیم کی اس دعا کو شیئر کرنا شروع کر دیا جس میں وہ مسلمانوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کی برائی سے بچانے کے لیے دعا کر رہے ہیں۔ اگرچہ سعد بن خونیم کی یہ دعا اب سوشل میڈیا سے ہٹائی جا چکی ہے لیکن بعض لوگوں نے اسے حذف کیے جانے سے پہلے ہی اپنے پاس محفوظ کر رکھا تھا۔

اس دعا میں مولوی صاحب کہتے ہیں: ‘اے اللہ ٹرمپ تیرا ایک بندہ ہے، اس کا مقدر تیرے ہاتھ میں ہے۔ مسلمانوں پر جبر کم کرنےاور ان کے مفادات کے تحفظ کے اسے (ٹرمپ) کو ہدایت دے، خواہ وہ چاہے یا نہ چاہے۔ ہمیں اس کی بدی سے بچا اور  اسے اپنے راستے پر چلا۔’ 

IMG-20170522-WA0052

بن خونیم نے سعودی عرب کے آن لائن اخبار ‘سبق’ کو بتایاکہ انھوں نے یہ دعا نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے امریکہ کے دورے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب کے مثبت بیانات کے بعد اپنے اکاونٹ پر لگائی تھی۔

Trump cartoon 1

ایک کارٹون میں ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی عرب کو یمن کی جنگ میں مشترکہ طور پر ملوث دیکھایا گیا ہے۔ اس کارٹوں میں سعودی بادشاہ اپنے ولی عہد اور یمن کے سعودی حمایت یافتہ صدر عبد الرب منصور ہادی ٹرمپ کی سعودی عرب آمد پر انتہائی فرمانبرداری سے ان کا استقبال کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے لیے بچھائے گئے سرخ قالین کے سات کچھ یمنی عورتیں بچوں کو گود میں لیے بھیک مانگ رہی ہے اور اس کے ساتھ ایک شخص کی خون میں لت پت لاش پڑی ہے۔

Meet Mastanamma The 106 Year Old Youtuber May 22, 2017

Posted by Farzana Naina in Country Foods, South Indian Recipe, Traditional Food, Cookery, Cultures, My recipes.
Tags: , , , , ,
add a comment

105 years grandma-maxresdefault (2)

پرانی چیزوں کو چھو کر ان میں ماضی تلاش کرنا مجھے بہت مرغوب ہے، بیتے ہوئے لمحے بھلائے بھی کہاں بھولتے ہیں !

چھوٹی چھوٹی سی خوشیاں جو کبھی کبھی کسی بھولی بھٹکی تتلی کی مانند اڑ کر ذہن میں چلی آتی ہیں، ان کے رنگ میں رنگی یادیں کیسی پیاری ہوتی ہیں یہ وہی جانتے ہیں جن کے پاس یہ آتی ہیں، ورنہ ایسے بھی ہیں مہرباں جو زندگی کا ہر صفحہ پلٹ کر سادہ کر دیتے ہیں !۔

خیر اس بات کی تمہید یوں بنی کہ میں ایک روز دادی اماں کے دور کی مٹی کی ہنڈیا میں بنی ہوئی مچھلی کے سالن کی ترکیب یو ٹیوب پر تلاش کر رہی تھی !۔ 

مجھے اپنی دادی اماں کے بنائے ہوئے کھانوں کی تراکیب اپنی یاد داشت کے مطابق استعمال کرتے ہوئے ایک عرصہ گزرا لیکن آج تک میں ان کی طرح مچھلی کا سالن نہیں بنا سکی، گو کہ سبھی کھانے والے تعریف کرتے کرتے انگلیاں چاٹ لیتے ہیں لیکن جو میری پیاری دادی کے ہاتھ کی لذت تھی اس سالن میں،  وہ تو صرف ہم بہن بھائی جانتے ہیں جنہوں نے ان کے ہاتھوں بنے کھانے کھائے تھے۔

بس اسی چاؤ میں اچانک ہی ’’مستان اماں‘‘ مل گئیں، یو ٹیوب پر ان کے پکوان دیکھتے دیکھتے منہ میں پانی آجا تا ہے۔

انٹرنیٹ پر 106 سالہ انڈین دادی مستان اماں کے ہاتھوں کے بنے کھانے کی دھوم مچ گئی ہے، ان کے کھانے کے ویڈیوز دیکھنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، حتیٰ کے بی بی سی نے بھی ان کے بارے میں خبر شائع کی ہے۔ 

انڈیا کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے ایک گاؤں کی باشندہ مستان اماں کے پاس ان کی پیدائش کی کوئی سند تو نہیں لیکن ان کا خیال ہے کہ ان کی عمر 106 سال ہے، بقول مستان اماں کہ ان کی شادی گیارہ برس کی عمر میں ہوگئی تھی اور جب سے وہ کھانے بناتی اور اپنے خاندان کو کھلاتی آرہی ہیں، وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ان کے جیسے کھانے کوئی نہیں بنا سکتی البتہ یہی بات ان کی نانی بھی کہا کرتی تھیں۔

105 years grandma-lt 

خیال رہے کہ ان کا باورچی خانہ کھلے آسمان کے نیچے ایک کھیت میں ہے جہاں وہ مٹی کے چولہے پر کھانا بناتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ وہ سبزیاں، دال، مچھلی، کیکڑے اور انڈے بناتی ہیں، لیکن ان کے کھانا بنانے اور پکانے کا طریقہ بالکل منفرد ہے۔

105 years grandma-maxresdefault  .مستان اماں کے تربوز میں چکن پکانے کی ترکیب یہاں دیکھی جا سکتی ہیں

ان کا یو ٹیوب چینل ان کے پڑپوتے اپنے دوست کے ساتھ چلاتے ہیں جس کے تین لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں

105 years grandma-mqdefault

لوگ ان کی خوبصورتی اور توانائی کے بارے میں مسلسل کامنٹ دیتے ہیں اور مستان اماں بھی آج کل اپنی زندہ دلی کے تحت گاڑیوں میں بن ٹھن کردھوپ کا چشمہ لگائے ہوئے مست نظر آنے لگی ہیں ۔ 

105 years grandma-mastanamma3-min

ساتھ ساتھ وہ اپنے زمانے کے مزیدار قصے کہانیوں سے بھی گاؤں والوں کا دل بہلائے جاتی ہیں

105 years grandma-mastanamm2-min

 وہ آج بھی بغیر کسی سہارے اور مدد کے سب کام خود ہی کر سکتی ہیں اور اس سب میں شاید ان کی خوراک و نیچرل طریقے سے رہن سہن کا بڑا ہاتھ ہے ۔

انڈیا میں بہت سی جگہوں پر کیلے اور دوسرے پتوں پر کھانے کا اب بھی رواج ہے، کھیت میں کیلے کے پتوں پر کھانا کھلانے کا طریقہ مقامی ہے۔ 

105 years grandma-3J

انڈیا کی شاید سب سے معمر یوٹیوب سٹار کا مشورہ ہے: ‘خوب پكائيے اور خوب کھائیے۔’ 

Meet Mastanamma, The 106-Year-Old Youtuber Who Has The Internet Raving Over Her Rustic Recipes!

Tucked away in a little corner of the country, 106-year-old Mastanamma is taking the internet by storm with her unique cooking style – simple, local and a hundred percent homely.

I suppose it also has a lot to with the fact that she’s your typical Indian granny – always smiling, always self-reliant, and always ready to don her apron when you’re hungry, even if you’re not.

If you haven’t already heard of her, Mastanamma is the oldest Youtuber in the world.

And being 106 doesn’t stop her from cooking up those rustic delicacies on her youtube channel ‘Country Foods’. Managed by her great-grandson, K Laxman, her channel has 287,923 subscribers from across the globe.

It would be unfair to Mastanamma to only talk about her culinary skills and forget to tell her story.

The jovial, friendly centenarian spent her youth swimming in the rivers of her hometown, Gudiwada in the Krishna district of Andhra Pradesh. A mother to 5, she was married at 11. And at 106, she’s healthier and abler than most.

“I look beautiful in the camera,” she says, smiling.

I bet her followers agree with her because she also gets called “cute” and “beautiful” quite a few times in the comments left below. And I bet she could also give us all lessons in healthy self-confidence. Her own is clearly reflected in her words.

“If I begin any task, success will come to me. ”

Apart from cooking, she’s always got an anecdote to share or a joke to crack you up in her videos. In one, she recounts fondly how in her youth she pushed a boy into the river because he teased her. A dash of badassery makes everything perfect, I suppose.

Mastanamma shares her food with her family and friends, letting no one go unfed, literally. She cooks on an outdoor chulha-like setup, with unsophisticated equipment. She’s no Gordon Ramsey, of course, but she’s a Master Chef in her own rights.

“Nobody can cook like me in the family,” she says.

Funnily enough, that’s almost the same thing my Nana said when I asked for her secret recipe for Bottle Masala.

شاعرہ فرزانہ ناز April 28, 2017

Posted by Farzana Naina in Ghazal, Kavita, Nazm, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags:
1 comment so far

آئینہ صفت وقت ترا حسن ہیں ہم لوگ

کل آئینے ترسیں گےتو صورت نہ ملے گی

میں فرزانہ ناز نامی شاعرہ سے چند روز قبل تک واقف نہیں تھی۔۔۔۔ اس واقعے سے ایک دن پہلے فیس بک پر مجھے ان کی فرینڈ ریکویسٹ آئی تھی اور میں نے ایڈ بھی کر لیا تھا۔۔۔ لیکن پروفائل نہیں چیک کیا تھا کہ کون ہے۔۔۔۔ جلد ہی اس حادثے اور پھر انتقال کی خبر بھی آگئی۔۔۔۔۔ اس قدر دلخراش موت پر آنسو رواں ہوئے اور ذہن و دل میں ان کا اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کا خیال مسلسل گردش کر رہا ہے، دعائے مغفرت لبوں پر ہے اور لواحقین کے لیئے اللہ سے صبر کا التماس۔۔۔ وہ بڑا رحیم و کریم ہے

انا لله و انا اليه راجعون

محترمہ ادبی تنظیم کسب کمال کی جنرل سیکریٹری تھیں، مشاعروں میں دو کم سن معصوم بچے اور شوہر بشیر اسماعیل بھی ہمراہ ہو تے، آپ اکثر ادبی تقریبات میں نظامت کے فرائض سر انجام دیتیں ۔

آپ کا اولین شعری مجموعہ “ہجرت مجھ سے لپٹ گئی ہے‘‘ ایک ماہ پہلے ہی منظر عام پر آیا، جس کی تقریب رونمائی تین مئی2017 کو راولپنڈی آرٹس کو نسل میں ہو نا قرار پائی تھی ، لیکن مشیت ایزدی کی منظوری انسانوں کے فیصلوں اور ارادوں سے  بالاتر ہے، کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ فرزانہ منوں مٹی تلے سو جاۓ گی!!! ۔  

پروردگار ان  کے بچوں اور شوہر بشیر اسماعیل صاحب کو صبر جمیل اور فرزانہ ناز صاحبہ کو کروٹ کروٹ   جنت نصیب فر ماۓ ۔ آمین

18157786_10154766952318922_166916374604740528_n

ستم ظریفی دیکھئے کہ جب فرزانہ ناز کو کسی علاج کی حاجت نہ رہی تو گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے لئے یہ پریس ریلیز جاری کی گئی کہ عرفان صدیقی نے اس حادثے کا ذکر فوراً وزیراعظم نواز شریف سے کیا اور ساتھ ہی یقین دہانی کرائی کہ فرزانہ ناز کا علاج حکومت کرائے گی۔۔۔’’مرگئے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا‘‘۔۔۔کے مصداق یہ بھی کہا گیا کو حکومت اس کے بچوں کی تعلیم اور کفالت کا ذمہ اٹھائے گی ، مگر زمینی حقائق دیکھئے کہ جب فرزانہ ناز کی رات دس بجے نمازِ جنازہ ہوئی، تو اِس میں کوئی حکومتی نمائندہ موجود نہیں تھا، حتیٰ کہ انعام الحق جاوید نے بھی شرکت نہیں کی،حالانکہ فرزانہ کو حادثہ اُن کی تقریب میں پیش آیا تھا اور میزبان کی حیثیت سے اُن کا فرض تھا کہ وہ جنازے میں شرکت کر کے اُس کے شوہر اور بچوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ جس پاک چائنہ فرینڈ شپ سینٹر میں یہ حادثہ پیش آیا اُس کا تین دِنوں کا کرایہ28لاکھ روپے ہے، جو سرکاری خزانے سے ادا کیا گیا۔28لاکھ صرف کرائے کی مد میں خرچ کرنے والوں کو ایک شاعرہ کی جان بچانے کے لئے تین لاکھ روپے خرچ کرتے ہوئے اتنی دیر تک سوچنا پڑا کہ اُس کی جان ہی چلی گئی۔ ( منقول)۔

خدائے بزرگ برتر تمہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ درجات عطا کرے فرزانہ ناز ، ہم سب آج غمزدہ ہیں ، ہمارے قلم اداس ہیں ، وہ سب مشاعرے ، وہ تعتیہ محافل ، مسالمے آنکھوں میں فلم کی طرح گھوم رہے ہیں ، جن میں تم ہمارے ساتھ تھی ، میں نے آج بہت سے شاعروں کی آنکھیں نم دیکھیں ہیں ، بہت سی شاعرات کو ہچکیوں سے روتے دیکھا ہے ، تمہارا اسماعیل مجھ سے ہی کیا سب سے لپٹ لپٹ کے فریاد کر رہا تھا ، سب تمہاری زندگی کے لئے دعا گو تھے ، لیکن تم نے موت کو گلے لگا لیا ، ہسپتال سے تمہاری لاش وصول کر کے تمہارے گھر تک گزرے وقت کا ہر منظر سامنے گھومتا رہا ، میں دیکھتا رہا ، تمہاری گلی میں سب سے ملا ، لیکن تمہارے معصوم بچوں سے نہیں ملا ، کہیں وہ پوچھ نہ لیں ، ہماری امی کہاں ہے؟

 از: خرم خلیق 

 

ہم تمہیں چاہتے ہیں ایسے April 27, 2017

Posted by Farzana Naina in Film and Music.
Tags: , , , , ,
add a comment

بالی وڈ کے معروف اداکار ونود کھنہ 70 برس کی عمر میں ممبئی کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ کافی عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔

جمعرات کو ان کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد بالی وڈ کی کئی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

ونود کھنہ نے دو شادیاں کی تھیں اور ان کے چار بچے ہیں۔

1946 میں پشاور میں پیدا ہونے والے ونود کھنہ نے 140 سے زائد فلموں میں کام کیا۔

انھوں نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز بطور وِلن کیا تھا لیکن ان کی دلکش شخصیت کے باعث وہ جلد ہی ہیرو کے کردار کرنے لگے اور انھوں نے اپنی اداکاری کے جوہر سے فلمی دنیا میں ایک نئی شناخت قائم کر لی۔

ستر سے 80 کی دہائی کے دوران ونود کھنہ کا شمار بالی وڈ کے بہترین اداکاروں میں ہوتا تھا۔ ان کی پہلی فلم ‘من کا میت’ تھی جس میں انھوں نے سنیل دت کے مد مقابل بطور وِلن کام کیا تھا۔

‘پورب اور پچھم‘،’میرا گاؤں میرا دیش’ میں بھی انھوں نے وِلن کا کردار کیا تھا لیکن بعد میں وہ بطور ہیرو آنے لگے۔

ونود کھنہّ بی جے پی کے ٹکٹ پر چار بار پنجاب کے گروداس پور سے پارلیمان کا الیکشن جیتا تھا اور مرکزی وزیر بھی رہے

‘امر اکبر اینتھونی، پرورش، ہیرا پھیری اور مقدر کا سکندر، جیسی سپر ہٹ فلموں میں ونود کھنہ نے اداکاری کے اپنی بہترین جوہر دکھائے۔

جب ان کا فلمی کریئرعروج پر تھا تبھی وہ فلمی دنیا کو ترک کرکے امریکہ میں واقع مشہور یوگی اوشو کے شیلٹر ہوم میں چلے گئے جہاں انھوں نے پانچ برس گزارے۔

سنہ 1987 میں وہ دوبارہ فلمی دنیا میں واپس آئے اور ’انصاف‘ اور ’چاندنی‘ جیسی فلموں سے واپسی کی۔

انھوں نے حال ہی میں سلمان خان کے ساتھ ان کی فلموں دبنگ اور بنگ ٹو میں کام کیا تھا۔

ونود کھنہ نے بی جے پی کے ٹکٹ پر چار بار پنجاب کے گروداس پور سے پارلیمانی انتخاب جیتا اور مرکزی وزیر بھی رہے

ونود کھنّہ بالی وڈ ان کے ایک ایسے ہیرو تھے جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اگر اسّی کی دہائی میں اپنے کریئر کے عروج پر انہوں نے فلمی دنیا نہ چھوڑی ہوتی تو وہ سپرسٹار ہوتے۔

1946 میں پشاور میں پیدا ہونے والے ونود کھنہ نے 1968 میں سنیل دت کی فلم ‘من کا میت’ میں ولن کے کردار سے اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا اور 140 سے بھی زیادہ فلموں میں اداکاری کی۔

ان کی بہترین فلموں میں ‘میرے اپنے’، ‘انصاف’، ‘پرورش’، ‘قربانی’، ’دیاوان‘، ‘میرا گاؤں میرا دیش’، ‘مقدر کا سکندر’، ‘امر اکبر انتھونی’، ‘چاندنی` اور ‘دی برننگ ٹرین ‘ جیسی فلمیں شامل ہیں۔

کیریئر کے ابتدائی دنوں میں انھیں بطور معاون اداکار اور وِلن کے کرداروں میں کاسٹ کیا گیا اور وہ بالی وڈ کے ان چند ہیروز میں سے ہیں جنھوں نے اپنے کریئر کا آغاز بطور ولن کیا لیکن ہیرو بن کر انڈسٹری پر چھا گئے۔

وہ بالی وڈ میں اینگری ینگ مین کی امیج امیتابھ بچن سے پہلے ہی بنا چکے تھے۔

اپنے کریئر کے عروج پر ہی ونود کھنہ اچانک فلمی دنیا کو خیرباد کہہ کر روحانی گرو رجنیش کے شاگرد بن گئے تھے اور ان کے آشرم میں جا کر رہنے لگے تھے۔

ونود کھنہ کا یہ قدم ان کی بیوی گیتانجلی اور ان کے درمیان طلاق کی وجہ بھی بنا۔ گیتانجلی سے ان کے دو بیٹے راہل اور اکشے کھنہ ہیں۔ بعد میں 1990 میں ونود کھنہ نے کویتا سے دوسری شادی کی۔

1987 میں ونود بالی وڈ میں واپس آئے اور فلم انصاف میں ڈمپل کپاڈیہ کے ساتھ نظر آئے اور اس طرح ان کے فلمی سفر کی دوسری اننگز کا آغاز ہوا۔

1988 میں فلم دیا وان میں 46 سال کے ونود کھنّہ 21 سالہ مادھوری دکشت کے ساتھ ایک رومانوی کردار میں دکھائی دیے اور فلمی شائقین نے عمر کے فرق کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے کردار کو خوب سراہا۔

1997 میں ونود کھنہ نے سیاست کے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا اور بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ اپنے سیاسی سفر کے دوران وہ پنجاب کے ضلع گرداس پور سے چار مرتبہ لوک سبھا کے رکن بنے۔

اٹل بہاری واجپئی کی حکومت میں انہوں نے سیاحت اور ثقافت کے وزیر کے طور پر کام کیا اور بعد میں انہیں وزیر مملکت برائے خارجہ کی ذمہ داری بھی دی گئی تھی۔

2010 میں ونود کھنہ ایک بار پھر فلمی پردے پر نظر آئے اور انھوں نے پہلے فلم دبنگ اور پھر اس کے سیکوئل دبنگ ٹو میں سلمان خان کے والد کا کردار ادا کیا۔

اس کے بعد وہ 2015 میں شاہ رخ خان کی فلم دل والے میں بھی نظر آئے۔

انڈین فلم انڈسٹری میں ان کے کئی دوست تھے جن میں سے ایک خاص دوست فیروز خان بھی تھے۔ یہ اتفاق ہی ہے کہ فیروز خان کا انتقال بھی 2009 میں آج ہی کے دن یعنی ستائیس اپریل کو ہوا تھا۔

Courtesy of BBC.

The picture says it all… April 25, 2017

Posted by Farzana Naina in Cultures, Funnies.
2 comments