jump to navigation

Welcome November 4, 2006

Posted by Farzana Naina in Blogroll, Famous Urdu Poets, Farzana Naina, Ghazal, Karachi, Kavita, Naina, Nazm, Nottingham, Pakistan, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Shairy, Sher, Sufi Poets, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
3 comments

قلمی نام : نیناں

برطانیہ میں منظرِ عام پر آنے والی چند شاعرات میں فرزانہ نیناںؔ کا نام بڑا معتبر ہے،۔

متنوع صلاحیتوں کی مالک فرزانہ خان نیناؔں کا تعلق سندھ کے ایک سربر آوردہ خانوادے سے ہے۔

مجلسی اور معاشرتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں اور اپنی ادبی تنظیم نوٹنگھم آرٹس اینڈ لٹریری سوسائٹی کے تحت کئی برس سے مشاعرے و دیگر تقریبات بخوبی منعقد کرواتی رہتی ہیں جو کہ ان کی خوش سلیقگی و خوب ادائیگی کی بھرپور آئینہ دار ہیں،

اس شگفتہ وشستہ ہونہار شاعرہ کے انکل محمد سارنگ لطیفی سندھی زبان کے مشہور شاعر، صحافی اور ڈرامہ نویس تھے اور اس رحجان کا سلسلہ انہی سے جا ملتا ہے،

کراچی سے رشتہء ازدواج میں منسلک ہوکر برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں آباد ہوئیں، شعبہ ٔ ٹیلی کمیونیکیشن میں بطور انسپکٹر ملازمت کی،پھر ٹیچرز ٹریننگ اور بیوٹی کنسلٹنٹ کی تعلیم حاصل کی اور مقامی کالج میں ٹیچنگ کے شعبے سے وابستہ ہوگئیں ساتھ ہی میڈیا اور جرنلزم کے کورسز میں ڈپلوما بھی کیئے یوں مقامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے بھی وابستگی ہوئی،

ان کے پیش کردہ پروگرام خصوصی خوبیوں کی بنا پر دلچسپ اور معلوماتی ہوتے ہیں اور اپنے انداز کی وجہ سے یورپ بھر میں بیحد مقبول ہیں،

ابتدا میں نثری کہانیاں لکھیں اور نظم سے سخن طرازی کا آغاز کیا،جبکہ نثری رنگ میں گہرائیوں کی بدولت کتابوں پر تبصرہ جات اور کالم بھی ایسے دلچسپ لکھتی ہیں کہ پڑھنے والے مزید کا تقاضہ کرتے رہتے ہیں،

فرزانہ نیناںؔ کے خاص نسائی لہجے و منفرد انداز شعرگوئی نے یک لخت اہلِ ذوق کو اپنی جانب متوجہ کر کے برطانیہ کی مسلمہ شاعرات کے طبقے میں اپنا معتبر مقام بنا یا ہوا ہے ،ان کا شعری مجموعہ بعنوان ۔۔’’درد کی نیلی رگیں‘‘ منظرعام پر جب سے آیا ہے تخلیقی چشمے میں ارتعاش پیدا کر رہا ہے،

منفرد نام کی طرح مجموعے کی کتابی شکل و صورت میں بھی انفرادیت ہے، ایک ہی رنگ کا استعمال شاعری میں جس انداز سے پیش کیا گیا ہے وہ اب سے پہلے کسی نے نہیں کیا ،پوری شاعری میں محسوسات کو تمثیلوں کے ذریعے تصاویر کی طرح اجاگر کیا گیا ہے، اشعار میں جذبوں سے پیدا ہونے والی تازگی بدرجہ اتم جھلکتی ہے، ہر مصرعے اور ہر شعر پر ان کے رنگ کی خاص نسائی چھاپ موجود ہے،

آغاز سے ہی یہ دو اشعار ان کا حوالہ بن چکے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

شوخ نظر کی چٹکی نے نقصان کیا
ہاتھوں سے  چائے کے برتن چھوٹے تھے

Blue Flower 41

میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز
اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا

شعری مجموعہ” درد کي نيلي رگيںٰ ”  اپنے نام، کلام ميں نيلے رنگوں کي تماثيل، سائز، ہٗيت، اور تحرير کی چھپائی کے منفرد ہونے کي وجہ سے بہت سراہا گیا ہے، اگر آپ اردوشاعری کے دلدادہ ہيں، جديد شاعری کی باريکيوں سے لطف اندوز ہوتے ہيں تو يہ کتاب اپنی لابريری کی زينت ضرور بنائيں۔

اس کتاب کي قيمت آٹھ برطانوی پاؤنڈ ہے، درج ذیل ای ميل کے ذريعے اپنا پتہ بھجواکر کتاب حاصل کیجئے

بيرونٍ برطانيہ ادائيگی بذريعہ پوسٹل آرڈر جبکہ اندرونٍ برطانيہ چيک اور پوسٹل آرڈر دونوں کے ذريعے کی جا سکتی ہے
اي ميل کا پتہ :

farzananaina@gmail.com
farzananaina@yahoo.co.uk

welcome blue 106

ISLAMABAD:

Mushaira held in honour of expat poet

(Reporter of Dawn news paper)

• ISLAMABAD, Jan 10: A Mushaira was organized in honour of British-Pakistani Urdu poetess, Farzana Khan ‘Naina’ at the Pakistan Academy of Letters (PAL) on Friday. The event was presided over by the PAL chairman, Iftikhar Arif.

• Mr Arif said Farzana Khan was typical of expatriate poets who had an advantage over native poets in expressing original ideas and imagery. He said this was also a fact that expatriate writers were not well at transmuting feelings with the same intensity. In his view, Farzana Khan was certainly a new distinctive voice in Urdu poetry. She used tender expressions and a strange and novel scheme in meters that reverberated with strong musical beats.

• In fact Iftikhar Arif’s verses, which he read at the end of the Mushaira, sounded like a well deserved tribute to the poetess; Mere Chirag Hunar Ka Mamla Hai Kuch Aur Ek Baar Jala Hai Phir Bujhe Ga Naheen (The Muse this time is bright, and once lighted it will not be extinguished).

• A number of senior poets read their poetical pieces at the Mushaira that was conducted by a literary organization, Danish (Wisdom).

Here, Farzana Khan surprised everyone with the range and depth in the couplet that she read “Meine Kaanon Main Pehan Lee Hai Tumhari Aawaz/Ab Meray Vastey Bekaar Hain Chandi Sona”.

She seeks inspiration for her poetry from the glades of Nottinghamshire, England, the county of Lord Byron and Robin Hood, where she had been living for over many years.

Farzana Khan is a Chair person of Nottingham Arts and Literature Society, She works as a broadcaster for Radio Faza and MATV Sky Digital, besides being a beauty therapist and a consultant for immigrants’ education.

Her book of Urdu poetry titled Dard Ki Neeli Ragen (Blue veins of pain) is a collection of 64 Ghazals and 24 Nazms.

The collection has received favourable reviews from a number of eminent Urdu poets, including Dr.Tahir Tauswi, Rafiuddin Raaz, Prof.Shahida Hassan, Prof.Seher Ansari, Ja zib Qureshi, Haider Sherazi, Sarshar Siddiqui, Naqash Kazmi, Nazir Faruqi, Aqeel Danish, Adil Faruqi, Asi Kashmiri,Prof.Shaukat Wasti, Mohsin Ehsan, who had stated that her work was marked with ‘Multicolour’ words. Everyone was impressed with her boldness as well as her delicate feelings, he added.

In addition there is an extraordinary rhythm. About technical aspects of Farzana’s work, a literary critic, Shaukat Wasti, says it deserve serious study.

Name Naina multi pastle 1

میری شاعری میرے بچپن اور جوانی کی کائنات کےرنگوں میں ڈھلی ہے، یادیں طلسمَاتی منظروں کو لیئےچلی آتی ہیں

وہ منظرجو دیو مالائی کہانیوں کی طرح، الف لیلوی داستانوں کی طرح، مجھےشہرزاد بننے پر مجبور کردیتے ہیں،عمر و عیار کی زنبیل سےہر بار کچھ نہ کچھ نکل آتا ہے، شہر بغداد کی گلیاں اجڑ چکی ہیں،نیل کے پانیوں میں جلتے چراغ، دھواں بن کر اوپر ہی اوپر کسی انجانے دیس میں جا چکے ہیں ، دجلہ کے دھاروں سا جلترنگ کہیں سنائی نہیں دیتا۔۔۔

گلی کےآخری کنارے پر بہنے والا پرنالہ  بنجر ہوچکا ہے جہاں اسکول سے واپس آتے ہوئےمیں،بر کھا رت میں اپنی کاپیاں پھاڑ کر کاغذ کی کشتیوں میں تبدیل کر دیا کر تی تھی۔۔۔

گھر کے پچھواڑے والا سوہانجنےکا درخت اپنے پھولوں اور پھلیوں سمیت وقت کا لقمہ بن چکا ہے، جس کی مٹی سےمجھےکبھی کبھی کبھار چونی اٹھنی مل جاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

پیپل کے درخت کے وہ پتے جن کی پیپی بنا کر میں شہنائی کی آواز سنا کرتی تھی،اس کی لٹکتی ہوئی جڑیں جو مجھےسادھو بن کر ڈراتی تھیں، مہاتما بدھ کے نروان کو تلاش کرتے کرتے پچھلی صدی کی گپھا میں ہی رہ گئے ہیں۔۔۔

میری شاعری نیلگوں وسیع و عریض، شفاف آسمان کا کینوس ہے،جہاں میں اپنی مرضی کی تصویریں پینٹ کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابن ہڈ کےاس شہر کی سرنگیں، نجانے کس طرح میڈ میرین کو لے کر مغلیہ دور کے قلعوں میں جا نکلتی ہیں۔۔۔

لارڈ بائرن اور ڈی ایچ لارنس کا یہ شہر،دھیرے دھیرے مجھے جکڑ تا رہا، ولیم ورڈز ورتھ کے ڈیفوڈل اپنی زرد زرد پلکوں سےسرسوں کےکھیت یاددلاتےرہے۔۔۔

نوٹنگھم شہر کی چوک کے وسط میں لہراتا یونین جیک، نجانے کس طرح سبز پاکستانی پرچم کے چاند تارے میں بدل جاتا ہے۔۔۔

پرانی کیسٹوں میں ریکارڈ کئےہوئےگیت اور دوہے، کسی نہ کسی طرح پائلوں میں رمبھا، سمبھا اور لیٹن کی تھرک پیدا کردیتےہیں۔۔۔

شیلےاور کیٹس کا رومانوی انداز،غالب اور چغتائی کےآرٹ کا مرقع بننےلگتا ہے۔۔۔

مجھے جوگن بنا کر ہندی بھجن سسنے پر بھی مجبور کرتی ہیں ۔۔۔ Hymnsشیلنگ کی

سائنسی حقیقتیں،میرےدرد کو نیلی رگوں میں بدلنےکی وجوہات تلاش کرتی ہیں۔۔۔

کریم کافی،مٹی کی سوندھی سوندھی پیالیوں میں جمی چاندی کے ورق جیسی کھیر بن کر مسجدوں سے آنے والی اذان کی طرح رونگھٹے کھڑے کر دیتی ہے۔۔۔۔

سونےکےنقش و نگار سے مزین کتھیڈرل، اونچےاونچے بلند و بالا گرجا  گھر،مشرق کے سورج چاچا اور چندا ماما کا چہرہ چومتےہیں۔۔۔

وینس کی گلیوں میں گھومتے ہوئے،پانی میں کھڑی عمارتوں کی دیواروں پر کائی کا سبز رنگ ،مجھےسپارہ پڑھانے والی استانی جی کےآنگن میں لگی ترئی کی بیلوں کی طرح لپٹا۔۔۔

جولیٹ کےگھر کی بالکنی میں کھڑے ہو کر،مجھے اپنے گلی محلوں کے لڑ کوں کی سیٹیاں سنائی دیں۔۔۔

شاہ عبدالطیف بھٹائی کےمزار اور سہون شریف سےلائی ہوئی کچےکانچ  کی چوڑیاں، مٹی کےرنگین گگھو گھوڑے جب میں تحفتا اپنےانگریز دوستوں کے لئے لائی تو میری سانس کی مالا فقیروں کے گلوں میں پڑے منکوں کی مانند بکھر کر کاغذپر قلم کی آنکھ سےٹپک گئی۔۔.

شاعری مجھےاپنی ہواؤں میں،پروین شاکر کی خوشبو کی طرح اڑانےلگتی ہے، موتئےکی وہ کلیاں یاد دلاتی ہےجنھیں میں قبل از وقت کھلاکر گجرا بنانے کیلئے، کچا کچا توڑ کر بھیگے بھیگے سفید ململ میں لپیٹ دیا کر تی تھی،اور وہ رات کی رانی جو میری خوابگاہ کی کھڑکی کے پاس تھی ،آج بھی یادوں کی بین پر لہراتی رہتی ہے۔۔۔۔
شاعری ایک نیلا نیلا گہرا سمندر بن کر ان لہروں کے چھینٹے اڑانے پر مجبور کردیتی ہے،جہاں میں اتوار کو گھر والوں کےساتھ جاکر اونٹوں کےگلے میں بجتی گھنٹیوں کےسحر میں مبتلا ،سیپیاں چنتےچنتے، ریت میں سسی کےآنچل کا کنارہ،ڈھونڈنے لگتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنہری دھوپ کےساتھ بچپن کےاس گاؤں کی طرف لےجاتی ہےجہاں ہم گرمیوں کی چھٹیاں گزارنےجاتےتھے،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معصوم سہیلیوں کے پراندوں میں الجھا دیتی ہےجن میں وہ موتی پرو کر نشانی کےطور پر مجھےدیتی تھیں،تاکہ میں انھیں شہر جاکر بھول نہ جاؤں۔۔۔

شاعری وہ نیل کنٹھ ہےجو صرف گاؤں میں نظر آتا تھا،

جس کے بارے میں اپنی کلاس فیلوز کو بتاتےہوئے میں ان کی آنکھوں کی حیرت سےلطف اندوز ہوتی اورصوفی شعرا کےکلام جیسا سرور محسوس کرتی۔۔۔

شاعری ان گلابی گلابوں کےساتھ بہتی ہےجنھیں میں اپنےابو کے گلقند بنانے والےباغوں سےتوڑ کر اپنی جھولی میں بھرکر،ندیا میں ڈالتی اوراس پل پرجو اس وقت بھی مجھےچینی اور جاپانی دیو مالائی کہانیوں کےدیس میں لےجاتا تھا گھنٹوں کھڑی اپنی سہیلیوں کےساتھ اس بات پر جھگڑتی کہ میرےگلاب زیادہ دور گئےہیں۔۔۔۔

صفورے کےاس درخت کی گھنی چھاؤں میں بٹھادیتی ہےجو ہمارے باغیچےمیں تھا اور جس کےنیلےاودے پھول جھڑ کر زمین پر اک غالیچہ بنتی،جس پر سفر کرتے ہوئےمجھے کسی کنکورڈ کی چنگھاڑ نہیں سنائی دیتی تھی۔۔۔

شاعری بڑے بھائی کی محبتوں کی وسعتوں کا وہ نیلا آسمانی حصار ہے،جو کبھی کسی محرومی کےاحساس سےنہیں ٹوٹا۔۔۔۔

کڑوے نیم تلے جھلنے والا وہ پنکھا ہے جس کے جھونکے بڑی باجی کی بانہوں کی طرح میرے گرد لپٹ جاتےہیں۔۔۔

شاعری سڑکوں پر چھوٹے بھائی کی موٹر سائیکل کی طرح فراٹےبھرتی ہےجس پر میں اس کےساتھ سند باد جیسی انگریزی فلمیں دیکھنے جاتی اور واپسی پر جادوگر کے سونگھائے ہوئے نیلے گلاب کےاثر میں واپس آتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اان تتلیوں اور مورنیوں کے پاس لےجاتی ہےجو چھوٹی بہنوں کی صورت، آپی آپی کہہ کر میرے گرد منڈلاتی رہتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔

ان چڑیوں کی چوں چوں سنواتی ہےجن کو میں دادی کی آنکھ بچا کر باسمتی چاول، مٹھیاں بھر بھر کے چپکے سے چھت پر کھلاتی اور ان کی پیار بھری ڈانٹ سنا کرتی تھی۔۔۔

شاعری میرے طوطے کی گردن کے گرد پڑا ہوا سرخ کنٹھا بن جاتی ہے، جس سےٹپکنے والے سرخ لہو کےقطرے یادوں کے دریا میں گرتے ہی لعل و یاقوت بن کر راجکماری کےمحل کو جانےوالی سمت بہتے ہیں، انار کی نارنجی کچی کلیاں ہیں جو نگہت اور شاہین،اپنی امی سےچھپ کر میرے ساتھ توڑلیتیں، جس کے بعد بقیہ انار پکنے تک گھر سے نکلنا بند ہوجا یا کرتا تھا۔۔۔۔

یہ شاعری مجھےمولسری کی ان شاخوں میں چھپادیتی ہے جن پر میں اور شہنازتپتی دوپہروں میں مولسریاں کھا کر ان کی گٹھلیاں راہگیروں کو مارتےاور اپنے آپ کو ماورائی شخصیت سمجھتے۔۔۔

یہ میری سہیلی شیریں کےگھر میں لگے ہوئےشہتوت کےکالےکالے رسیلے گچھوں جیسی ہے جن کا ارغوانی رنگ سفید یو نیفارم سے چھٹائے نہیں چھٹتا ۔۔۔۔

شاعری مجھےان اونچی اونچی محرابوں میں لےجاتی ہے جہاں میں اپنی حسین پھپھیوں کو کہانیوں کی شہَزادیاں سمجھا کرتی ،جن کے پائیں باغ میں لگا جامن کا درخت آج بھی یادوں پر نمک مرچ چھڑک کر کوئلوں اور پپیہوں کی طرح کوکتا ہے، شاعری بلقیس خالہ کا وہ پاندان یاد دلاتی ہے جس میں سپاری کےطرح ان لمحوں کےکٹے ہوئےٹکڑے رکھے ہیں جن میں ،میں ابن صفی صاحب سے حمیدی ،فریدی اور عمران کےآنے والے نئے ناول کی چھان بین کرتی ، خالہ کےہاتھ سے لگے ہوئے پان کا سفید چونا،صفی صاحب کی سفید  کار کی طرح اندر سےکاٹ کر تیز رفتاری سےاب بھی گزرتا ہے۔۔۔

یہ کبھی کبھی مجھےموہنجو دڑو جیسے قبرستان میں کھڑا کر دیتی ہے ، جہاں میں اپنے ماں ،باپ کےلئے فاتحہ پڑھتے ہوئے کورے کانچ کی وقت گھڑی میں ریت کی مانند بکھرنے لگتی ہوں،مصری ممیوں کی طرح حنوط چہروں کو جگانے کی کوشش کرتی ہوں،نیلگوں اداسیاں مجھےگھیر لیتی ہیں، درد کی نیلی رگیں میرے تن بدن پر ابھرنےلگتی ہیں،شب کےنیلگوں اندھیرےمیں سر سراتی دھنیں، سایوں کی مانند ارد گرد ناچنےلگتی ہیں،ان کی نیلاہٹ ،پر اسرار طمانیت کے ساتھ چھن چھن کر دریچوں کا پٹ کھولتی ہے، چکوری کی مانند ،چاند ستاروں کے بتاشے سمیٹنے کی خواہشیں کاغذ کے لبوں پر آجاتی ہیں ،سقراط کے زہریلے پیالےمیں چاشنی ملانےکی کوشش تیز ہو جاتی ہے، ہری ہری گھاس کی باریک پتیوں پہ شبنم کی بوندیں جمتی ہی نہیں،والدین جنت الفردوس کو سدھارے، پردیس نے بہن بھائی اور ہمجولیاں چھین لیں، درد بھرے گیت روح چھیلنے لگے،حساسیت بڑھ گئی  ڈائری کے صفحے کالے ہوتے گئے، دل میں کسک کی کرچیاں چبھتی رہیں، کتابیں اور موسیقی ساتھی بن گئیں، بے تحاشہ مطالعہ کیا، جس لائیبریری سےجو بھی مل جاتا پیاسی ندی کی مانند پی جاتی،رات گئے تک مطالعہ کرتی، دنیا کےمختلف ممالک کےادب سے بھی شناسائی ہوئی، یوں رفتہ رفتہ اس نیلےساگر میں پوری طرح ڈوب گئی۔ ۔ ۔

شاعری ایک اپنی دنیا ہےجہاں کچھ پل کےلئےاچانک سب کی نظر سےاوجھل ہو کر میں شہرِ سبا کی سیڑھیاں چڑھتی ہوں، اسی لیئےمیری شاعری سماجی اور انقلابی مسائل کےبجائے میری اپنی راہ فرار کی جانب جاتی ہے، ورنہ اس دنیا میں کون ہےجس کو ان سےمفر ہے!۔

  شاعری مجھے نیلے نیلےآسمان کی وسعتوں سے بادلوں کے چھوٹے چھوٹے سپید ٹکروں کی مانند، خواب وخیال کی دنیا سے نکال  کر، سرخ سرخ اینٹوں سے بنے ہوئے گھروں کی اس سرزمین پراتار دیتی ہے جہاں میں زندگی کے کٹھن رستوں پر اپنے شوہر کے ساءبان تلے چل رہی ہوں، جہاں میرے پھول سے بچوں کی محبت بھری مہک مجھے تروتازہ و سرشار رکھتی ہے۔Name Naina Iceblue heart

 

جیمز بانڈ‘ انتقال کر گئے’ May 23, 2017

Posted by Farzana Naina in Film and Music.
Tags: , , ,
add a comment

 Sir Roger

راجر مور کو میں ان کے نام ’’ سائمن ٹیمپلر‘‘ سے جانتی تھی، ان کی ایک ٹیلیویژن  سیریز آیا کرتی تھی جس کا نام تھا ’’ دی سینٹ‘‘ میرے بھائیجان  بڑی باقاعدگی سے وہ سیریل دیکھتے تھے لہذا ہم بھی بچپن میں ایسے ہی پروگرامز کے دلدادہ ہوتے گئے، راجر مور کی مردانہ وجاہت مقناطیسی کیفیت میں خواتین کو کھینچتی رہی اور انہوں نے جیمز بانڈ کا جب رول کیا تو یہ مقبولیت اور عروج کو پہنچی، اب انہیں جیمز بانڈ کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔

آج ان کی وفات کی خبر پڑھ کر صدمہ ہوا، کیسی کیسی ہستیاں اور کیسے مسکراتے چہرے صفحۂ ہستی سے مٹ جاتے ہیں، افسوس صد افسوس !۔

Moore’s Bond movies

Live and Let Die (1973)

The Man with the Golden Gun (1974)

The Spy Who Loved Me (1977)

Moonraker (1979)

For Your Eyes Only (1981)

Octopussy (1983)

A View to a Kill (1985)

Born: 14 October 1927, Stockwell, London
Died: 23 May 2017, Switzerland

 

برطانوی اداکار ’’ سر راجر مور‘‘ جنھوں نے جیمز بانڈ کا کردار ادا کر کے عالمی شہرت حاصل کی نواسی برس کی عمر میں  انتقال کر گئے ہیں، ان کی وفات کی اطلاع ان کے خاندان والوں نے دی۔

سر راجر مور نے جیمز بانڈ سلسلے کی سات فلموں میں برطانوی جاسوس کا مرکزی کردار ادا کیا۔ ان فلموں میں ‘لیو اینڈ لیٹ ڈائی’ کے علاوہ ‘سپائی ہو لوڈ می’ شامل تھیں جنھیں دنیا بھر کے فلم بینوں میں بڑی پذیرائی حاصل ہوئی۔

ٹویٹر پر سر راجر مور کے خاندان والوں نے اطلاع دی کہ وہ سرطان کے مرض میں مبتلا تھے۔ اس ٹویٹ میں مزید کہا گیا کہ تھوڑی مدت کے لیے لیکن بڑی جوانمردی سے انھوں نے اس مرض کا سامنا کیا۔

خاندان کی طرف سے اس تعزیتی بیان میں بچوں کی طرف سے کہا گیا ’پاپا آپ کا شکریہ اور بہت سے لوگوں کے لیے اتنا اہم اور خاص ہونے پر۔’

سر راجر مور کی وفات سوئٹزرلینڈ میں ہوئی اور ان کی خواہش کے مطابق ان کی آخری رسومات نجی طریقے سے مناکو میں ادا کی جائیں گی، ان کے بچوں ڈبورا، جوفری اور کرسچن کی طرف سے مزید کہا گیا ‘ان کے آخری دنوں میں ان پر جنتی محبت اور پیار نچھاور کیا گیا اس کو الفاظ میں بیان کیا جانا ممکن نہیں ہے۔’ 

 Courtesy of BBC 

Sir Roger is survived by his three children and wife Kristina Tholstrup۔

Sir Roger is survived by his three children and wife Kristina Tholstrup

شاعری کی نئی صنف عشرے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت May 22, 2017

Posted by Farzana Naina in Poetry.
add a comment

Book 712star-silver-28

ادریس بابر کی اکثر باتیں کثیرمعنی اور تلازماتی ہوتی ہیں۔ اس لیے اسے سننے کے دو بہترین طریقے ہیں یا تو آپ پورے انہماک سے سنیں تاکہ کوئی جہت رہ نہ جائے، یا پھر سنی ان سنی کر دیں۔

چنانچہ 2014 میں آئی ایٹ میں چائے کے ایک ڈھابے میں بیٹھے ہوئے جب ادریس بابر نے اعلان کیا کہ اس نے شاعری کی ایک دس سطری صنف ایجاد کی ہے جسے عشرے کا نام دیا ہے تو میں نے بھی دوسرے طریقے پر عمل کیا۔ لیکن کچھ دیر بعد چائے کی چسکیوں کے درمیان اس نے عشرہ سنانا شروع کیا تو چونک کر سننا پڑا۔

امیجز اس قدر جیتے جاگتے تھے کہ گویا نیشنل جیوگرافک میگزین سے تصویریں کاٹ کر ایک کولاج بنا لیا گیا ہو۔

تندور پر سردی کا اندازہ

کچن کی میز پر اک چائے کی پیالی رکھی ہے

اسی کے ساتھ چینک (ٹوٹنے والی) رکھی ہے

ہرے صوفے پہ کتا سا کوئی سکڑا پڑا ہے

قریب اک باتھ ٹب میں دھوپ کا ٹکڑا پڑا ہے

پرے کرسی پہ ‘بربر’ کانپتی (بلی) دھری ہے

پرانے نادروں کے واسطے دلّی دھری ہے

بھری الماری سے دل بھر خلا تو ڈھونڈ لائیں

درازیں، درزیں تک جھانکیں، خدا کو ڈھونڈ لائیں

یہ منظر ۔۔۔ سوچ کر ۔۔۔ دونوں نے اندازہ لگایا

تو میں نے عشرہ ۔۔۔ اس نے نان اک تازہ لگایا

اس کے کچھ ہی عرصے بعد ادریس لاہور چلا گیا لیکن اس کے عشرے میسج کے ذریعے یا پھر فیس بک پر دیکھنے کو ملتے رہے۔ انھیں دیکھ کر احساس ہوا کہ ادریس بظاہر دس سطروں کی تنگ دامنی میں بھی ایک نئی دنیا بسا لیتا ہے۔

اس کی ایک تکنیک تو یہ ہے کہ اس نے عشرے کو کسی ایک فارم تک محدود نہیں ہونے دیا۔ چنانچہ عشرہ منظوم اور مقفیٰ بھی ہو سکتا ہے، بلینک ورس بھی اور نثری بھی۔ پھر اس کی سطروں کی لمبائی بھی مقرر نہیں ہے۔

کسی بھی نئے کام کا ایک لازمی حصہ اس پر ہونے والے اعتراضات و الزامات کی بوچھاڑ ہے۔ چنانچہ عشرے کو بھی اپنے حصے کا بوجھ اٹھانا پڑا۔ ادریس غزل کا بےحد عمدہ شاعر ہے۔ حال ہی میں جدید غزل کا ایک انتخاب چھپا تو اس میں ادریس کو سب سے اوپر رکھا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر عشرے کی ایحاد کے بعد بھی اسی شدت سے نکتہ چینی ہوئی۔

لیکن ادریس نے ایک نہ سنی اور اب یہ صورتِ حال ہے کہ ‘لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا’ کے مصداق اب ادریس کے علاوہ درجنوں نوجوان شعرا عشرے ہی کو اپنا بنیادی وسیلۂ اظہار بنا رہے ہیں۔

ادریس کے اکثر عشروں کے موضوعات واقعاتی ہوتے ہیں اور وہ روزمرہ واقعات سے تحریک پا کر عشرے لکھتے ہیں۔

اردو شاعری میں ایک عرصے سے واقعات سے بڑی حد تک گلوخلاصی حاصل کر لی گئی تھی اور واقعاتی شاعری کو کمتر شاعری سمجھا جاتا تھا۔ ایک زمانہ تھا کہ اقبال طرابلس کی جنگ میں زخمیوں کو پانی پلاتی لڑکی پر نظم لکھتے تھے یا پھر شبلی نعمانی یا مولانا ظفر علی خان کی نظمیں ملتی ہیں۔ اس کے بعد سے آزاد نظم چند استثنائی مثالوں کو چھوڑ کر اس قدر اوپر اٹھتی چلی گئی کہ دنیا کے حالات و واقعات کہیں دور نیچے رہ گئے۔

اب کہیں سات آٹھ عشروں بعد عشرہ ایک ایسی صنف بن کر آیا ہے جو روزمرہ واقعات کو موضوع بنانے سے نہیں ہچکچاتا۔ مثلاً ایک عشرے میں دو نوجوانوں کے درمیان مکالمے کے ذریعے ادریس نے دکھایا ہے کہ کوئٹہ میں ہونے والی خونریزی کو دوسرے شہروں میں رہنے والے کس طرح دیکھتے ہیں

کہاں ہے کوئٹہ، کیا ہے کوئٹہ

بم دھماکہ ہوا وہاں؟ نہ کرو!

ہاسٹل کا کرایہ چڑھ گیا ہے

اچھا، پہلے بھی ہوتے ہیں! کس وقت؟

حبس بارش سے اور بڑھ گیا ہے

بیسیوں لوگ مارے گئے؟ لو سنو!

چلتے ہیں تم نے چائے پی کہ نہیں

پہلے بھی مارے جاتے ہیں! اس وقت؟

فلم وہ ڈان لوڈ کی کہ نہیں

کیا وہاں ڈائیوو کا اڈا ہے

اوہو، تھری جی میں کوئی پھڈا ہے!

‘حالاتِ حاضرہ’پر لکھے گئے عشرے صرف تشویش اور درمندی سے لبریز نہیں ہیں بلکہ ان میں فنکارانہ چابکدستی بھی اسی شدت سے دکھائی دیتی ہے۔ مثال کے طور پر اوپر دیے گئے عشرے میں جس مہارت سے مکالمے juxtapose کیے گئے ہیں اسے پڑھ کر فلابیئر کی تکنیک یاد آتی ہے۔

جبری گمشدگی اور ریاستی جبر بےحد تکلیف دہ معاملہ ہے، لیکن ادریس اس پر ہلکے پھلکے لاپروایانہ انداز میں لکھتے ہیں جس سے مسئلہ اور ابھر کر سامنے آتا ہے:

میٹنگ

اس نے میٹنگ بلائی اور کہا

لوگ، دن رات کنٹرول میں ہیں

ٹیپ منہ پر لگائی اور کہا

سب بیانات کنٹرول میں ہیں

اس نے گولی چلائی اور کہا

سر جی، حالات کنٹرول میں ہیں

سب زمیں پر خدا کے نائب تھے

سب زمیں پر خدا کے نائب ہیں

وہ جو اپنی رضا سے مارے گئے۔۔

وہ جو اپنی خوشی سے غائب ہیں

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، عشرہ کسی قسم کی موضوعاتی جکڑبندی پر یقین نہیں رکھتا۔ اس میں زمین اور آسمان کے درمیان کوئی بھی امر زیرِ بحث آ سکتا ہے۔

ادریس بابر کا ایک رومانوی عشرہ نوجوانوں میں خاصا مقبول ہوا ہے اور وہ جہاں بھی جاتے ہیں ان سے فرمائش کی جاتی ہے کہ وہ اسے سنائیں۔

محبت==جدائی

ادهر گوری کو نیند پل بهر نہ آئی

بدن سے وچهوڑے کی کلکل چهڑائی

وہ سورج کی ٹکیا سے مل مل نہائی

نکهر کر نکل آئی ہلچل مچائی

خدا ہو نہ ہو گنگ ٹهیری خدائی

ادهر ریل گاڑی نے سیٹی بجائی

محبت==جدائی

مسافر اسی دائرے میں رہے گا

وہ یہ جان کر اک سٹیشن پہ اترا

کہ وہ عمر بهر راستے میں رہے گا

اردو شاعری میں ریل کے بارے میں کم ہی لکھا گیا ہے۔ منیر نیازی کا درد بھرا شعر ذہن میں آتا ہے

صبحِ کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر

ریل کی سیٹی بجی اور دل لہو میں بھر گیا

ادریس نے اپنے عشرے میں اسی درمندی کو چھو لیا ہے۔

یہ کب سے دوزخ مشہور چلا آتا تھا / لوگ اس خطے کی بدصورتی پر عاشق تھے / جو بھی دیکھتا بھاگ کے دور چلا جاتا تھا / آخر ہمسایوں ماں جایوں کو رحم آیا / ایک نے بھیجے ٹینک تو دوسرا بم لے آیا / کیمپ لگائے امدادی ۔۔۔ لڑنا سکھلایا / جانگلیوں کو بندوقیں گھڑنا سکھلایا / گولیاں کھانا ۔۔۔ جیلوں میں سڑنا سکھلایا / ہر گز اس کی مدد سے منہ موڑیں گے / ہم کشمیر کو جنت بنا کے چھوڑیں گے

بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں اردو شاعری میں کئی اصناف متعارف کروائی کی گئیں، جن میں سانیٹ، نظمِ معرا، آزاد نظم وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے صرف آزاد نظم ہی وقت کی وار سہہ سکی ہے۔ اس کے بعد 80 کی دہائی میں سفارت کارانہ بیساکھیوں کے سہارے ہائیکو متعارف ہوا اور اس صنف میں کتابیں چھپیں، لیکن جونہی بیساکھیاں ہٹیں، ہائیکو بھی دھڑام ہو گیا۔

فی الحال یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ عشرہ ان لمحاتی اصناف سے کس قدر مختلف ثابت ہو گا۔ البتہ جس تیزی سے نوجوان شاعروں نے عشرے کو قبول کر کے اس میں لکھنا شروع کیا ہے، اس سے اس نئی صنف کے اچھے مستقبل کی امید کی رکھی جا سکتی ہے 

ادریس بابر, عشرہ: کشمیر

یہ کب سے دوزخ مشہور چلا آتا تھا / لوگ اس خطے کی بدصورتی پر عاشق تھے / جو بھی دیکھتا بھاگ کے دور چلا جاتا تھا / آخر ہمسایوں ماں جایوں کو رحم آیا / ایک نے بھیجے ٹینک تو دوسرا بم لے آیا / کیمپ لگائے امدادی ۔۔۔ لڑنا سکھلایا / جانگلیوں کو بندوقیں گھڑنا سکھلایا / گولیاں کھانا ۔۔۔ جیلوں میں سڑنا سکھلایا / ہر گز اس کی مدد سے منہ موڑیں گے / ہم   کشمیر کو جنت بنا کے چھوڑیں گے ۔ 

بتشکر: بی بی سی

 

’اے اللہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ہدایت دے‘ May 22, 2017

Posted by Farzana Naina in Poetry.
Tags:
add a comment

DAOW7CkXsAI47TK

ٹوئٹر صارفین نے سعودی عرب کے ایک مذہبی رہنما سعد بن خونیم کی اس دعا کو شیئر کرنا شروع کر دیا جس میں وہ مسلمانوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کی برائی سے بچانے کے لیے دعا کر رہے ہیں۔ اگرچہ سعد بن خونیم کی یہ دعا اب سوشل میڈیا سے ہٹائی جا چکی ہے لیکن بعض لوگوں نے اسے حذف کیے جانے سے پہلے ہی اپنے پاس محفوظ کر رکھا تھا۔

اس دعا میں مولوی صاحب کہتے ہیں: ‘اے اللہ ٹرمپ تیرا ایک بندہ ہے، اس کا مقدر تیرے ہاتھ میں ہے۔ مسلمانوں پر جبر کم کرنےاور ان کے مفادات کے تحفظ کے اسے (ٹرمپ) کو ہدایت دے، خواہ وہ چاہے یا نہ چاہے۔ ہمیں اس کی بدی سے بچا اور  اسے اپنے راستے پر چلا۔’ 

IMG-20170522-WA0052

بن خونیم نے سعودی عرب کے آن لائن اخبار ‘سبق’ کو بتایاکہ انھوں نے یہ دعا نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے امریکہ کے دورے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب کے مثبت بیانات کے بعد اپنے اکاونٹ پر لگائی تھی۔

Trump cartoon 1

ایک کارٹون میں ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی عرب کو یمن کی جنگ میں مشترکہ طور پر ملوث دیکھایا گیا ہے۔ اس کارٹوں میں سعودی بادشاہ اپنے ولی عہد اور یمن کے سعودی حمایت یافتہ صدر عبد الرب منصور ہادی ٹرمپ کی سعودی عرب آمد پر انتہائی فرمانبرداری سے ان کا استقبال کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے لیے بچھائے گئے سرخ قالین کے سات کچھ یمنی عورتیں بچوں کو گود میں لیے بھیک مانگ رہی ہے اور اس کے ساتھ ایک شخص کی خون میں لت پت لاش پڑی ہے۔

Meet Mastanamma The 106 Year Old Youtuber May 22, 2017

Posted by Farzana Naina in Country Foods, South Indian Recipe, Traditional Food, Cookery, Cultures, My recipes.
Tags: , , , , ,
add a comment

105 years grandma-maxresdefault (2)

پرانی چیزوں کو چھو کر ان میں ماضی تلاش کرنا مجھے بہت مرغوب ہے، بیتے ہوئے لمحے بھلائے بھی کہاں بھولتے ہیں !

چھوٹی چھوٹی سی خوشیاں جو کبھی کبھی کسی بھولی بھٹکی تتلی کی مانند اڑ کر ذہن میں چلی آتی ہیں، ان کے رنگ میں رنگی یادیں کیسی پیاری ہوتی ہیں یہ وہی جانتے ہیں جن کے پاس یہ آتی ہیں، ورنہ ایسے بھی ہیں مہرباں جو زندگی کا ہر صفحہ پلٹ کر سادہ کر دیتے ہیں !۔

خیر اس بات کی تمہید یوں بنی کہ میں ایک روز دادی اماں کے دور کی مٹی کی ہنڈیا میں بنی ہوئی مچھلی کے سالن کی ترکیب یو ٹیوب پر تلاش کر رہی تھی !۔ 

مجھے اپنی دادی اماں کے بنائے ہوئے کھانوں کی تراکیب اپنی یاد داشت کے مطابق استعمال کرتے ہوئے ایک عرصہ گزرا لیکن آج تک میں ان کی طرح مچھلی کا سالن نہیں بنا سکی، گو کہ سبھی کھانے والے تعریف کرتے کرتے انگلیاں چاٹ لیتے ہیں لیکن جو میری پیاری دادی کے ہاتھ کی لذت تھی اس سالن میں،  وہ تو صرف ہم بہن بھائی جانتے ہیں جنہوں نے ان کے ہاتھوں بنے کھانے کھائے تھے۔

بس اسی چاؤ میں اچانک ہی ’’مستان اماں‘‘ مل گئیں، یو ٹیوب پر ان کے پکوان دیکھتے دیکھتے منہ میں پانی آجا تا ہے۔

انٹرنیٹ پر 106 سالہ انڈین دادی مستان اماں کے ہاتھوں کے بنے کھانے کی دھوم مچ گئی ہے، ان کے کھانے کے ویڈیوز دیکھنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، حتیٰ کے بی بی سی نے بھی ان کے بارے میں خبر شائع کی ہے۔ 

انڈیا کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے ایک گاؤں کی باشندہ مستان اماں کے پاس ان کی پیدائش کی کوئی سند تو نہیں لیکن ان کا خیال ہے کہ ان کی عمر 106 سال ہے، بقول مستان اماں کہ ان کی شادی گیارہ برس کی عمر میں ہوگئی تھی اور جب سے وہ کھانے بناتی اور اپنے خاندان کو کھلاتی آرہی ہیں، وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ان کے جیسے کھانے کوئی نہیں بنا سکتی البتہ یہی بات ان کی نانی بھی کہا کرتی تھیں۔

105 years grandma-lt 

خیال رہے کہ ان کا باورچی خانہ کھلے آسمان کے نیچے ایک کھیت میں ہے جہاں وہ مٹی کے چولہے پر کھانا بناتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ وہ سبزیاں، دال، مچھلی، کیکڑے اور انڈے بناتی ہیں، لیکن ان کے کھانا بنانے اور پکانے کا طریقہ بالکل منفرد ہے۔

105 years grandma-maxresdefault  .مستان اماں کے تربوز میں چکن پکانے کی ترکیب یہاں دیکھی جا سکتی ہیں

ان کا یو ٹیوب چینل ان کے پڑپوتے اپنے دوست کے ساتھ چلاتے ہیں جس کے تین لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں

105 years grandma-mqdefault

لوگ ان کی خوبصورتی اور توانائی کے بارے میں مسلسل کامنٹ دیتے ہیں اور مستان اماں بھی آج کل اپنی زندہ دلی کے تحت گاڑیوں میں بن ٹھن کردھوپ کا چشمہ لگائے ہوئے مست نظر آنے لگی ہیں ۔ 

105 years grandma-mastanamma3-min

ساتھ ساتھ وہ اپنے زمانے کے مزیدار قصے کہانیوں سے بھی گاؤں والوں کا دل بہلائے جاتی ہیں

105 years grandma-mastanamm2-min

 وہ آج بھی بغیر کسی سہارے اور مدد کے سب کام خود ہی کر سکتی ہیں اور اس سب میں شاید ان کی خوراک و نیچرل طریقے سے رہن سہن کا بڑا ہاتھ ہے ۔

انڈیا میں بہت سی جگہوں پر کیلے اور دوسرے پتوں پر کھانے کا اب بھی رواج ہے، کھیت میں کیلے کے پتوں پر کھانا کھلانے کا طریقہ مقامی ہے۔ 

105 years grandma-3J

انڈیا کی شاید سب سے معمر یوٹیوب سٹار کا مشورہ ہے: ‘خوب پكائيے اور خوب کھائیے۔’ 

Meet Mastanamma, The 106-Year-Old Youtuber Who Has The Internet Raving Over Her Rustic Recipes!

Tucked away in a little corner of the country, 106-year-old Mastanamma is taking the internet by storm with her unique cooking style – simple, local and a hundred percent homely.

I suppose it also has a lot to with the fact that she’s your typical Indian granny – always smiling, always self-reliant, and always ready to don her apron when you’re hungry, even if you’re not.

If you haven’t already heard of her, Mastanamma is the oldest Youtuber in the world.

And being 106 doesn’t stop her from cooking up those rustic delicacies on her youtube channel ‘Country Foods’. Managed by her great-grandson, K Laxman, her channel has 287,923 subscribers from across the globe.

It would be unfair to Mastanamma to only talk about her culinary skills and forget to tell her story.

The jovial, friendly centenarian spent her youth swimming in the rivers of her hometown, Gudiwada in the Krishna district of Andhra Pradesh. A mother to 5, she was married at 11. And at 106, she’s healthier and abler than most.

“I look beautiful in the camera,” she says, smiling.

I bet her followers agree with her because she also gets called “cute” and “beautiful” quite a few times in the comments left below. And I bet she could also give us all lessons in healthy self-confidence. Her own is clearly reflected in her words.

“If I begin any task, success will come to me. ”

Apart from cooking, she’s always got an anecdote to share or a joke to crack you up in her videos. In one, she recounts fondly how in her youth she pushed a boy into the river because he teased her. A dash of badassery makes everything perfect, I suppose.

Mastanamma shares her food with her family and friends, letting no one go unfed, literally. She cooks on an outdoor chulha-like setup, with unsophisticated equipment. She’s no Gordon Ramsey, of course, but she’s a Master Chef in her own rights.

“Nobody can cook like me in the family,” she says.

Funnily enough, that’s almost the same thing my Nana said when I asked for her secret recipe for Bottle Masala.

شاعرہ فرزانہ ناز April 28, 2017

Posted by Farzana Naina in Ghazal, Kavita, Nazm, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags:
1 comment so far

آئینہ صفت وقت ترا حسن ہیں ہم لوگ

کل آئینے ترسیں گےتو صورت نہ ملے گی

میں فرزانہ ناز نامی شاعرہ سے چند روز قبل تک واقف نہیں تھی۔۔۔۔ اس واقعے سے ایک دن پہلے فیس بک پر مجھے ان کی فرینڈ ریکویسٹ آئی تھی اور میں نے ایڈ بھی کر لیا تھا۔۔۔ لیکن پروفائل نہیں چیک کیا تھا کہ کون ہے۔۔۔۔ جلد ہی اس حادثے اور پھر انتقال کی خبر بھی آگئی۔۔۔۔۔ اس قدر دلخراش موت پر آنسو رواں ہوئے اور ذہن و دل میں ان کا اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کا خیال مسلسل گردش کر رہا ہے، دعائے مغفرت لبوں پر ہے اور لواحقین کے لیئے اللہ سے صبر کا التماس۔۔۔ وہ بڑا رحیم و کریم ہے

انا لله و انا اليه راجعون

محترمہ ادبی تنظیم کسب کمال کی جنرل سیکریٹری تھیں، مشاعروں میں دو کم سن معصوم بچے اور شوہر بشیر اسماعیل بھی ہمراہ ہو تے، آپ اکثر ادبی تقریبات میں نظامت کے فرائض سر انجام دیتیں ۔

آپ کا اولین شعری مجموعہ “ہجرت مجھ سے لپٹ گئی ہے‘‘ ایک ماہ پہلے ہی منظر عام پر آیا، جس کی تقریب رونمائی تین مئی2017 کو راولپنڈی آرٹس کو نسل میں ہو نا قرار پائی تھی ، لیکن مشیت ایزدی کی منظوری انسانوں کے فیصلوں اور ارادوں سے  بالاتر ہے، کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ فرزانہ منوں مٹی تلے سو جاۓ گی!!! ۔  

پروردگار ان  کے بچوں اور شوہر بشیر اسماعیل صاحب کو صبر جمیل اور فرزانہ ناز صاحبہ کو کروٹ کروٹ   جنت نصیب فر ماۓ ۔ آمین

18157786_10154766952318922_166916374604740528_n

ستم ظریفی دیکھئے کہ جب فرزانہ ناز کو کسی علاج کی حاجت نہ رہی تو گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے لئے یہ پریس ریلیز جاری کی گئی کہ عرفان صدیقی نے اس حادثے کا ذکر فوراً وزیراعظم نواز شریف سے کیا اور ساتھ ہی یقین دہانی کرائی کہ فرزانہ ناز کا علاج حکومت کرائے گی۔۔۔’’مرگئے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا‘‘۔۔۔کے مصداق یہ بھی کہا گیا کو حکومت اس کے بچوں کی تعلیم اور کفالت کا ذمہ اٹھائے گی ، مگر زمینی حقائق دیکھئے کہ جب فرزانہ ناز کی رات دس بجے نمازِ جنازہ ہوئی، تو اِس میں کوئی حکومتی نمائندہ موجود نہیں تھا، حتیٰ کہ انعام الحق جاوید نے بھی شرکت نہیں کی،حالانکہ فرزانہ کو حادثہ اُن کی تقریب میں پیش آیا تھا اور میزبان کی حیثیت سے اُن کا فرض تھا کہ وہ جنازے میں شرکت کر کے اُس کے شوہر اور بچوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ جس پاک چائنہ فرینڈ شپ سینٹر میں یہ حادثہ پیش آیا اُس کا تین دِنوں کا کرایہ28لاکھ روپے ہے، جو سرکاری خزانے سے ادا کیا گیا۔28لاکھ صرف کرائے کی مد میں خرچ کرنے والوں کو ایک شاعرہ کی جان بچانے کے لئے تین لاکھ روپے خرچ کرتے ہوئے اتنی دیر تک سوچنا پڑا کہ اُس کی جان ہی چلی گئی۔ ( منقول)۔

خدائے بزرگ برتر تمہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ درجات عطا کرے فرزانہ ناز ، ہم سب آج غمزدہ ہیں ، ہمارے قلم اداس ہیں ، وہ سب مشاعرے ، وہ تعتیہ محافل ، مسالمے آنکھوں میں فلم کی طرح گھوم رہے ہیں ، جن میں تم ہمارے ساتھ تھی ، میں نے آج بہت سے شاعروں کی آنکھیں نم دیکھیں ہیں ، بہت سی شاعرات کو ہچکیوں سے روتے دیکھا ہے ، تمہارا اسماعیل مجھ سے ہی کیا سب سے لپٹ لپٹ کے فریاد کر رہا تھا ، سب تمہاری زندگی کے لئے دعا گو تھے ، لیکن تم نے موت کو گلے لگا لیا ، ہسپتال سے تمہاری لاش وصول کر کے تمہارے گھر تک گزرے وقت کا ہر منظر سامنے گھومتا رہا ، میں دیکھتا رہا ، تمہاری گلی میں سب سے ملا ، لیکن تمہارے معصوم بچوں سے نہیں ملا ، کہیں وہ پوچھ نہ لیں ، ہماری امی کہاں ہے؟

 از: خرم خلیق 

 

ہم تمہیں چاہتے ہیں ایسے April 27, 2017

Posted by Farzana Naina in Film and Music.
Tags: , , , , ,
add a comment

بالی وڈ کے معروف اداکار ونود کھنہ 70 برس کی عمر میں ممبئی کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ کافی عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔

جمعرات کو ان کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد بالی وڈ کی کئی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

ونود کھنہ نے دو شادیاں کی تھیں اور ان کے چار بچے ہیں۔

1946 میں پشاور میں پیدا ہونے والے ونود کھنہ نے 140 سے زائد فلموں میں کام کیا۔

انھوں نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز بطور وِلن کیا تھا لیکن ان کی دلکش شخصیت کے باعث وہ جلد ہی ہیرو کے کردار کرنے لگے اور انھوں نے اپنی اداکاری کے جوہر سے فلمی دنیا میں ایک نئی شناخت قائم کر لی۔

ستر سے 80 کی دہائی کے دوران ونود کھنہ کا شمار بالی وڈ کے بہترین اداکاروں میں ہوتا تھا۔ ان کی پہلی فلم ‘من کا میت’ تھی جس میں انھوں نے سنیل دت کے مد مقابل بطور وِلن کام کیا تھا۔

‘پورب اور پچھم‘،’میرا گاؤں میرا دیش’ میں بھی انھوں نے وِلن کا کردار کیا تھا لیکن بعد میں وہ بطور ہیرو آنے لگے۔

ونود کھنہّ بی جے پی کے ٹکٹ پر چار بار پنجاب کے گروداس پور سے پارلیمان کا الیکشن جیتا تھا اور مرکزی وزیر بھی رہے

‘امر اکبر اینتھونی، پرورش، ہیرا پھیری اور مقدر کا سکندر، جیسی سپر ہٹ فلموں میں ونود کھنہ نے اداکاری کے اپنی بہترین جوہر دکھائے۔

جب ان کا فلمی کریئرعروج پر تھا تبھی وہ فلمی دنیا کو ترک کرکے امریکہ میں واقع مشہور یوگی اوشو کے شیلٹر ہوم میں چلے گئے جہاں انھوں نے پانچ برس گزارے۔

سنہ 1987 میں وہ دوبارہ فلمی دنیا میں واپس آئے اور ’انصاف‘ اور ’چاندنی‘ جیسی فلموں سے واپسی کی۔

انھوں نے حال ہی میں سلمان خان کے ساتھ ان کی فلموں دبنگ اور بنگ ٹو میں کام کیا تھا۔

ونود کھنہ نے بی جے پی کے ٹکٹ پر چار بار پنجاب کے گروداس پور سے پارلیمانی انتخاب جیتا اور مرکزی وزیر بھی رہے

ونود کھنّہ بالی وڈ ان کے ایک ایسے ہیرو تھے جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اگر اسّی کی دہائی میں اپنے کریئر کے عروج پر انہوں نے فلمی دنیا نہ چھوڑی ہوتی تو وہ سپرسٹار ہوتے۔

1946 میں پشاور میں پیدا ہونے والے ونود کھنہ نے 1968 میں سنیل دت کی فلم ‘من کا میت’ میں ولن کے کردار سے اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا اور 140 سے بھی زیادہ فلموں میں اداکاری کی۔

ان کی بہترین فلموں میں ‘میرے اپنے’، ‘انصاف’، ‘پرورش’، ‘قربانی’، ’دیاوان‘، ‘میرا گاؤں میرا دیش’، ‘مقدر کا سکندر’، ‘امر اکبر انتھونی’، ‘چاندنی` اور ‘دی برننگ ٹرین ‘ جیسی فلمیں شامل ہیں۔

کیریئر کے ابتدائی دنوں میں انھیں بطور معاون اداکار اور وِلن کے کرداروں میں کاسٹ کیا گیا اور وہ بالی وڈ کے ان چند ہیروز میں سے ہیں جنھوں نے اپنے کریئر کا آغاز بطور ولن کیا لیکن ہیرو بن کر انڈسٹری پر چھا گئے۔

وہ بالی وڈ میں اینگری ینگ مین کی امیج امیتابھ بچن سے پہلے ہی بنا چکے تھے۔

اپنے کریئر کے عروج پر ہی ونود کھنہ اچانک فلمی دنیا کو خیرباد کہہ کر روحانی گرو رجنیش کے شاگرد بن گئے تھے اور ان کے آشرم میں جا کر رہنے لگے تھے۔

ونود کھنہ کا یہ قدم ان کی بیوی گیتانجلی اور ان کے درمیان طلاق کی وجہ بھی بنا۔ گیتانجلی سے ان کے دو بیٹے راہل اور اکشے کھنہ ہیں۔ بعد میں 1990 میں ونود کھنہ نے کویتا سے دوسری شادی کی۔

1987 میں ونود بالی وڈ میں واپس آئے اور فلم انصاف میں ڈمپل کپاڈیہ کے ساتھ نظر آئے اور اس طرح ان کے فلمی سفر کی دوسری اننگز کا آغاز ہوا۔

1988 میں فلم دیا وان میں 46 سال کے ونود کھنّہ 21 سالہ مادھوری دکشت کے ساتھ ایک رومانوی کردار میں دکھائی دیے اور فلمی شائقین نے عمر کے فرق کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے کردار کو خوب سراہا۔

1997 میں ونود کھنہ نے سیاست کے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا اور بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ اپنے سیاسی سفر کے دوران وہ پنجاب کے ضلع گرداس پور سے چار مرتبہ لوک سبھا کے رکن بنے۔

اٹل بہاری واجپئی کی حکومت میں انہوں نے سیاحت اور ثقافت کے وزیر کے طور پر کام کیا اور بعد میں انہیں وزیر مملکت برائے خارجہ کی ذمہ داری بھی دی گئی تھی۔

2010 میں ونود کھنہ ایک بار پھر فلمی پردے پر نظر آئے اور انھوں نے پہلے فلم دبنگ اور پھر اس کے سیکوئل دبنگ ٹو میں سلمان خان کے والد کا کردار ادا کیا۔

اس کے بعد وہ 2015 میں شاہ رخ خان کی فلم دل والے میں بھی نظر آئے۔

انڈین فلم انڈسٹری میں ان کے کئی دوست تھے جن میں سے ایک خاص دوست فیروز خان بھی تھے۔ یہ اتفاق ہی ہے کہ فیروز خان کا انتقال بھی 2009 میں آج ہی کے دن یعنی ستائیس اپریل کو ہوا تھا۔

Courtesy of BBC.

The picture says it all… April 25, 2017

Posted by Farzana Naina in Cultures, Funnies.
2 comments

ایم اے راحت April 24, 2017

Posted by Farzana Naina in Jasoosi Adab, Urdu Fiction Writer, M A Rahat, Literature, Pakistani, Urdu, Urdu Literature.
1 comment so far

18121445_10211088392660259_3392341006876922325_o

نامور مصنف ایم اے راحت لاہور میں انتقال کر گئے ۔ ایم اے راحت نے 1500 سے زائد کرائم اور جاسوسی کہانیوں کے ناول لکھے۔ ایم اے راحت کو طبیعت خرابی پر چار روز قبل اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

۔۔ایم ۔اے راحت نے ابن صفی کے بعد جاسوسی ادب کو نئی جہتوں سے متعارف کروایا ۔۔
لاکھوں لوگوں کو کتب بینی کا چسکہ لگانے والے ایم ۔اے راحت کی تصانیف کی فہرست اس قدر طویل ہے کہ کسی بھی شخص کے لیے ان کی لکھی تصانیف کے صرف نام ہی احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں ۔۔۔افسوس کہ ان کی زندگی میں ان کو ان کے شایان شان مقام نہیں دیا جا سکا ۔۔۔
ساڑھے گیارہ سو ناول ۔۔ اور ساڑھے تین ہزار کہانیاں اور افسانے لکھنے والے اپنے پچھے صرف ایک داستان چھوڑ کر رخصت ہو گئے ۔

قربت میں برابر کے شریک لعنتیوں کی بلیک میلنگ April 20, 2017

Posted by Farzana Naina in Abuse, Black Mail, Harassment, Internet, Internet crimes, News, Pakistan, Pakistani, Scandal, Sexual harassment, Urdu.
1 comment so far

انٹرنیٹ پر خواتین کو پرائیویٹ ویڈیوز کی بنیاد پر بلیک میل کرنے کے واقعات

ریپ اور بدنامی کا خوف

ہزاروں لڑکیوں اور خواتین کو ان کی پرائیویٹ وڈیوز کی بنیاد پر ہراساں کیا جا رہا ہے

شمالی افریقہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشا سمیت دنیا کے اکثر قدامت پسند معاشروں میں ہزاروں جوان خواتین کو ان کی نجی تصاویر اور جنسی مناظر کی وجہ سے ہراساں اور بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے بی بی سی نے خصوصی رپورٹ تیار کی ہے جس میں اس رجحان کا مختلف زاوئیوں سے جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔

ذیل میں ڈینئل سلاس ایڈمسن نے جائزہ لیا ہے کہ سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا جیسی جدید ٹیکنالوجی کس طرح ان معاشروں میں عزت، شرم اور بے شرمی جیسے تصورات اور روایات سے ٹکرا رہی ہے۔

پاکستان میں ایک غیر سرکاری تنظیم بھی آن لائن دنیا کو خواتین کے لیے محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس تنظیم کی سربراہ نگہت داد کہتی ہیں کہ ’ہر روز دو یا تین خواتین ان کی تنظیم سے رابطہ کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ انھیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ سالانہ نو سو خواتین۔ ‘

’جب خواتین کسی کے ساتھ رشتے میں ہوتی ہیں تو وہ اپنی تصویریں اور ویڈیو شیئر کر تی رہتی ہیں۔ اور اگر یہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے، اور اس کااختتام اچھا نہیں ہوتا، تو دوسرا فریق اس مواد کو استعمال کرتا ہے اور خاتون کو بلیک میل کرتا ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف یہ ہوتا ہے کہ لڑکی اسی رشتے میں بندھی رہے بلکہ اس سے ان تصاویر کی بنیاد پر ہر الٹا سیدھا کام کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘

اب پاکستان میں بات بلیک میل سے آگے نکل گئی ہے۔ نگہت داد کہتی ہیں کہ اب انھیں سمارٹ فونز اور جنسی تشدد کے درمیان تعلق کے واقعات میں بھی اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔

‘اس کا آغاز تو ایسی تصاویر سے ہوا جن میں مرد اور خاتون نے اپنی قربت کے لمحات کو محفوظ کیا ہوتا تھا، لیکن اب اس قسم کی تصاویر اور ریپ کے واقعات میں بھی تعلق نظر آ رہا ہے۔ سمارٹ فونز جیسی نئی ٹیکنالوجی سے پہلے، جب ریپ جیسے جرائم کا ارتکاب کرنے والے کچھ کرتے تھے تو انھیں معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ خاتون کو خاموش کیسے کرائیں۔ لیکن اب ٹیکنالوجی کی وجہ سے ریپ کے کلچر نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے کیونکہ اب ایسے مجرم خاتون کی ویڈیو بنا لیتے ہیں اور پھر اس کی بنیاد پر اسے دھمکیاں دیتے ہیں کہ اگر اس نے زبان کھولی تو اس کی ویڈیو انٹرنیٹ پر لگا دیں گے۔’

دوسری جانب سنہ 2009 میں ایک اٹھارہ سال مصری لڑکی، غدیر احمد، نے اپنے بوائے فرینڈ کو اپنی ایک چھوٹی سی ویڈیو بھیجی جس میں وہ ایک گھر میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ ڈانس کر رہی تھیں۔ اس وڈیو میں کوئی جنسی مواد نہیں تھا، لیکن اتنا ضرور تھا کہ ویڈیو میں غدیر نے جو لباس پہنا ہوا تھا اس میں ان کا جسم دکھائی دے رہا تھا اور وہ بلا جھجک ناچ رہی تھیں۔

تین سال بعد جب دونوں کا رشتہ ٹوٹ گیا تو غدیر کے بوائے فرینڈ نے ان سے انتقام لینے کی نیت سے ویڈیو یوٹیوب پر چڑھا دی۔ جب غدیر کو معلوم ہوا تو وہ بہت گھبرا گئیں۔ وہ جانتی تھیں کہ یہ سارا معاملہ – ڈانس، ان کا لباس اور اس پر بوائے فرینڈ کا ہونا – یہ تمام باتیں ان کے والدین بالکل قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی مصری معاشرہ جس میں خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنا جسم ڈھانپ کر رکھیں اور ان کو حیا کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔

ویڈیو کے پوسٹ کیے جانے کے بعد کے سالوں میں غدیر نے اس سے ڈرنا چھوڑ دیا اور خود ’مصری انقلاب‘ کا حصہ بن گئیں۔ انھوں نے حجاب لینا چھوڑ دیا اور خواتین کے حقوق کی وکیل بن گئیں۔

انھیں اس بات پر بہت غصہ آیا کہ ایک مرد نے انھیں یوں بدنام کرنے کی کوشش کی اور پھر انھوں نے اپنے سابق بوائے فرینڈ کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کر دی۔ اگرچہ وہ ہتک عزت کا مقدمہ جیت گئیں، لیکن ان کی جو ویڈیو یو ٹیوب پر جا چکی تھی وہ وہاں پڑی رہی۔ اس وڈیو کے وجہ سے غدیر کو کئی مردوں نے معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی ہراساں کیا اور اپنے فیس بُک صفحات پر غدیر کی ویڈیو شیئر کر کے انھیں برا بھلا کہا۔

غددیر احمد : آئیں اور میری ویڈیو دیکھیں، دیکھیں کہ میں کتنی اچھی ڈانسر ہوں۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ میں اس پر شرمندگی محسوس کروں’۔

سوشل میڈیا وغیرہ پر لوگوں کی گالم گلوچ سے تنگ آ کر سنہ 2014 میں غدیر نے اپنی وہی ویڈیو اپنے فیس بُک صفحہ پر خود پوسٹ کر دی۔ تصویر کے ساتھ انھوں نے لکھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی خاتون کے جسم کو اس کے خلاف استعمال کر کے اسے بدنام کرنے کا سلسلہ ختم ہو۔ غدیر نے لکھا کہ ‘آئیں اور میری ویڈیو دیکھیں، دیکھیں کہ میں کتنی اچھی ڈانسر ہوں۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ میں اس پر شرمندگی محسوس کروں۔’

لیکن غدیر افریقہ اور مشرق وسطیٰ کی ان ہزاروں نوجوان لڑکیوں اور خواتین کے مقابلے میں بہت بے باک ہیں جو اپنی نجی تصاویر کے حوالے سے بلیک میلنگ کا شکار ہو رہی ہیں۔

بی بی سی کو اس رپورٹ کی تیاری کے دوران معلوم ہوا کہ ہزاروں لڑکیوں اور خواتین کو ان کی پرائیویٹ ویڈیوز کی بنیاد پر ہراساں کیا جا رہا ہے اور لوگ انھیں بآسانی بلیک میل کر لیتے ہیں۔ ان ویڈیو کلپس میں ہلکے پھلکے فلرٹ کے مناظر سے لیکر گینگ ریب جیسی جنسی زیادتیوں کے مناظر شامل ہوتے ہیں۔

جہاں تک انتقامی بنیاد پر جنسی زیادتی کے مناظر (ریونج پورن) کا تعلق ہے تو یہ مسئلہ دنیا کے تقریباً ہر ملک میں پایا جاتا ہے۔ لیکن کچھ معاشروں میں جنسی مناظر کو خواتین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جانے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ ان معاشروں میں عزت اور شرم جیسے مسائل بہت اہم سمجھے جاتے ہیں۔

اردن کے دارالحکومت میں مقیم ماہر نفسیات اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی، انم العشہ کہتی ہیں کہ ‘ مغرب کا کلچر مخلتف ہے۔ وہاں ایک لڑکی کی برہنہ تصویر شاید صرف ایک لڑکی کو متاثر کرے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ایسی تصویر اس لڑکی کی موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اور اگر اس کی طبعی زندگی ختم نہیں بھی ہوتی، ایسی لڑکی معاشرتی اور نفیساتی لحاظ سے مر جاتی ہے۔ لوگ اس سے ملنا جلنا چھوڑ دیتے ہیں وہ معاشرے سے کاٹ دی جاتی ہے۔’

اس قسم کے واقعات کی اکثریت کے بارے میں آپ کو معلوم ہی نہیں ہوتا کیونکہ لوگ ایسے واقعات کے بارے میں پولیس کو بتاتے ہی نہیں۔ تاہم ایک درجن سے زیادہ ممالک میں وکلاء، پولیس اور سماجی کارکنوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا نے خواتین کو بدنام اور بلیک میل کرنے کی اس وبا میں بہت اضافہ کر دیا ہے جو اس ٹیکنالوجی سے پہلے ڈھکی چھُپی تھی۔

جدید ٹیکنالوجی

جدید ٹیکنالوجی اور روایات کے درمیان جنگ کی وجہ سے خواتین کو بلیک میل کرنا آسان ہو گیا ہے

اردن، مصر، غرب اردن، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک میں اس وبا میں اضافہ ہو چکا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی پولیس کے سائبر کرائم یونٹ کی معاونت کرنے والے سماجی کارکن کمال محمد کہتے ہیں کہ ‘ بعض اوقات اس مقصد کے لیے جو تصویریں استعمال کی جاتی ہیں ان میں کوئی جنسی بات نہیں ہوتی۔ مثلاً کسی لڑکی کی بغیر حجاب کے تصویر بھی سکینڈل بن سکتی ہے۔ کوئی مرد اس تصویر کو عام کرنے کی دھمکی دے کر لڑکی سے اس کی مزید تصویریں حاصل کر سکتا ہے۔’

کمال محمد کا کہنا ہے کہ ‘خلیجی ممالک میں خواتین کی بلیک میلنگ کا مسئلہ بہت زیادہ ہو گیا ہے اور بڑے پیمانے پر خواتین کو اس کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خاص طور پر سعودی عرب، امارات، کویت، قطر اور بحرین میں یہ بہت زیادہ ہے۔ کئی لڑکیوں نے ہمیں بتایا کہ اگر ان کی تصویریں عام کر دی گئیں تو انھیں شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔’

جنوبی ایشیائی ممالک میں بھی سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے ذریعے خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انڈیا کے سپریم کورٹ کے وکیل پون دُگال کہتے ہیں ملک میں خواتین کی ڈیجیٹل تصاویر کے کیسز اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی سیلابی ریلا ہو۔ ‘میرا اندازہ ہے کہ انڈیا میں روزانہ اس قسم کے ہزاروں واقعات ہو رہے ہیں۔’

بتشکر: بی بی سی اردو

 

Quotes of Rumi April 17, 2017

Posted by Farzana Naina in Poetry.
1 comment so far

“Ignore those that make you fearful and sad, that degrade you back towards disease and death.”
― Jalaluddin Rumi.

11 arena AIRE humo de arena

“My heart is so small
it’s almost invisible.
How can You place
such big sorrows in it?
“Look,” He answered,
“your eyes are even smaller,
yet they behold the world.”
― Jalaluddin Rumi.

36d3e7e5d131cae95a89e1a9a8d8681f

“Everything in the universe is within you. Ask all from yourself.”
― Jalaluddin Rumi.

George-Redhawk-5