jump to navigation

Welcome November 4, 2006

Posted by Farzana Naina in Blogroll, Famous Urdu Poets, Farzana Naina, Ghazal, Karachi, Kavita, Naina, Nazm, Nottingham, Pakistan, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Shairy, Sher, Sufi Poets, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
3 comments

قلمی نام : نیناں

برطانیہ میں منظرِ عام پر آنے والی چند شاعرات میں فرزانہ نیناںؔ کا نام بڑا معتبر ہے،۔

متنوع صلاحیتوں کی مالک فرزانہ خان نیناؔں کا تعلق سندھ کے ایک سربر آوردہ خانوادے سے ہے۔

مجلسی اور معاشرتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں اور اپنی ادبی تنظیم نوٹنگھم آرٹس اینڈ لٹریری سوسائٹی کے تحت کئی برس سے مشاعرے و دیگر تقریبات بخوبی منعقد کرواتی رہتی ہیں جو کہ ان کی خوش سلیقگی و خوب ادائیگی کی بھرپور آئینہ دار ہیں،

اس شگفتہ وشستہ ہونہار شاعرہ کے انکل محمد سارنگ لطیفی سندھی زبان کے مشہور شاعر، صحافی اور ڈرامہ نویس تھے اور اس رحجان کا سلسلہ انہی سے جا ملتا ہے،

کراچی سے رشتہء ازدواج میں منسلک ہوکر برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں آباد ہوئیں، شعبہ ٔ ٹیلی کمیونیکیشن میں بطور انسپکٹر ملازمت کی،پھر ٹیچرز ٹریننگ اور بیوٹی کنسلٹنٹ کی تعلیم حاصل کی اور مقامی کالج میں ٹیچنگ کے شعبے سے وابستہ ہوگئیں ساتھ ہی میڈیا اور جرنلزم کے کورسز میں ڈپلوما بھی کیئے یوں مقامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے بھی وابستگی ہوئی،

ان کے پیش کردہ پروگرام خصوصی خوبیوں کی بنا پر دلچسپ اور معلوماتی ہوتے ہیں اور اپنے انداز کی وجہ سے یورپ بھر میں بیحد مقبول ہیں،

ابتدا میں نثری کہانیاں لکھیں اور نظم سے سخن طرازی کا آغاز کیا،جبکہ نثری رنگ میں گہرائیوں کی بدولت کتابوں پر تبصرہ جات اور کالم بھی ایسے دلچسپ لکھتی ہیں کہ پڑھنے والے مزید کا تقاضہ کرتے رہتے ہیں،

فرزانہ نیناںؔ کے خاص نسائی لہجے و منفرد انداز شعرگوئی نے یک لخت اہلِ ذوق کو اپنی جانب متوجہ کر کے برطانیہ کی مسلمہ شاعرات کے طبقے میں اپنا معتبر مقام بنا یا ہوا ہے ،ان کا شعری مجموعہ بعنوان ۔۔’’درد کی نیلی رگیں‘‘ منظرعام پر جب سے آیا ہے تخلیقی چشمے میں ارتعاش پیدا کر رہا ہے،

منفرد نام کی طرح مجموعے کی کتابی شکل و صورت میں بھی انفرادیت ہے، ایک ہی رنگ کا استعمال شاعری میں جس انداز سے پیش کیا گیا ہے وہ اب سے پہلے کسی نے نہیں کیا ،پوری شاعری میں محسوسات کو تمثیلوں کے ذریعے تصاویر کی طرح اجاگر کیا گیا ہے، اشعار میں جذبوں سے پیدا ہونے والی تازگی بدرجہ اتم جھلکتی ہے، ہر مصرعے اور ہر شعر پر ان کے رنگ کی خاص نسائی چھاپ موجود ہے،

آغاز سے ہی یہ دو اشعار ان کا حوالہ بن چکے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

شوخ نظر کی چٹکی نے نقصان کیا
ہاتھوں سے  چائے کے برتن چھوٹے تھے

Blue Flower 41

میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز
اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا

شعری مجموعہ” درد کي نيلي رگيںٰ ”  اپنے نام، کلام ميں نيلے رنگوں کي تماثيل، سائز، ہٗيت، اور تحرير کی چھپائی کے منفرد ہونے کي وجہ سے بہت سراہا گیا ہے، اگر آپ اردوشاعری کے دلدادہ ہيں، جديد شاعری کی باريکيوں سے لطف اندوز ہوتے ہيں تو يہ کتاب اپنی لابريری کی زينت ضرور بنائيں۔
اي ميل کا پتہ :

farzananaina@gmail.com
farzananaina@yahoo.co.uk

welcome blue 106

ISLAMABAD:

Mushaira held in honour of expat poet

(Reporter of Dawn news paper)

• ISLAMABAD, Jan 10: A Mushaira was organized in honour of British-Pakistani Urdu poetess, Farzana Khan ‘Naina’ at the Pakistan Academy of Letters (PAL) on Friday. The event was presided over by the PAL chairman, Iftikhar Arif.

• Mr Arif said Farzana Khan was typical of expatriate poets who had an advantage over native poets in expressing original ideas and imagery. He said this was also a fact that expatriate writers were not well at transmuting feelings with the same intensity. In his view, Farzana Khan was certainly a new distinctive voice in Urdu poetry. She used tender expressions and a strange and novel scheme in meters that reverberated with strong musical beats.

• In fact Iftikhar Arif’s verses, which he read at the end of the Mushaira, sounded like a well deserved tribute to the poetess; Mere Chirag Hunar Ka Mamla Hai Kuch Aur Ek Baar Jala Hai Phir Bujhe Ga Naheen (The Muse this time is bright, and once lighted it will not be extinguished).

• A number of senior poets read their poetical pieces at the Mushaira that was conducted by a literary organization, Danish (Wisdom).

Here, Farzana Khan surprised everyone with the range and depth in the couplet that she read “Meine Kaanon Main Pehan Lee Hai Tumhari Aawaz/Ab Meray Vastey Bekaar Hain Chandi Sona”.

She seeks inspiration for her poetry from the glades of Nottinghamshire, England, the county of Lord Byron and Robin Hood, where she had been living for over many years.

Farzana Khan is a Chair person of Nottingham Arts and Literature Society, She works as a broadcaster for Radio Faza and MATV Sky Digital, besides being a beauty therapist and a consultant for immigrants’ education.

Her book of Urdu poetry titled Dard Ki Neeli Ragen (Blue veins of pain) is a collection of 64 Ghazals and 24 Nazms.

The collection has received favourable reviews from a number of eminent Urdu poets, including Dr.Tahir Tauswi, Rafiuddin Raaz, Prof.Shahida Hassan, Prof.Seher Ansari, Ja zib Qureshi, Haider Sherazi, Sarshar Siddiqui, Naqash Kazmi, Nazir Faruqi, Aqeel Danish, Adil Faruqi, Asi Kashmiri,Prof.Shaukat Wasti, Mohsin Ehsan, who had stated that her work was marked with ‘Multicolour’ words. Everyone was impressed with her boldness as well as her delicate feelings, he added.

In addition there is an extraordinary rhythm. About technical aspects of Farzana’s work, a literary critic, Shaukat Wasti, says it deserve serious study.

Name Naina multi pastle 1

میری شاعری میرے بچپن اور جوانی کی کائنات کےرنگوں میں ڈھلی ہے، یادیں طلسمَاتی منظروں کو لیئےچلی آتی ہیں

وہ منظرجو دیو مالائی کہانیوں کی طرح، الف لیلوی داستانوں کی طرح، مجھےشہرزاد بننے پر مجبور کردیتے ہیں،عمر و عیار کی زنبیل سےہر بار کچھ نہ کچھ نکل آتا ہے، شہر بغداد کی گلیاں اجڑ چکی ہیں،نیل کے پانیوں میں جلتے چراغ، دھواں بن کر اوپر ہی اوپر کسی انجانے دیس میں جا چکے ہیں ، دجلہ کے دھاروں سا جلترنگ کہیں سنائی نہیں دیتا۔۔۔

گلی کےآخری کنارے پر بہنے والا پرنالہ  بنجر ہوچکا ہے جہاں اسکول سے واپس آتے ہوئےمیں،بر کھا رت میں اپنی کاپیاں پھاڑ کر کاغذ کی کشتیوں میں تبدیل کر دیا کر تی تھی۔۔۔

گھر کے پچھواڑے والا سوہانجنےکا درخت اپنے پھولوں اور پھلیوں سمیت وقت کا لقمہ بن چکا ہے، جس کی مٹی سےمجھےکبھی کبھی کبھار چونی اٹھنی مل جاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

پیپل کے درخت کے وہ پتے جن کی پیپی بنا کر میں شہنائی کی آواز سنا کرتی تھی،اس کی لٹکتی ہوئی جڑیں جو مجھےسادھو بن کر ڈراتی تھیں، مہاتما بدھ کے نروان کو تلاش کرتے کرتے پچھلی صدی کی گپھا میں ہی رہ گئے ہیں۔۔۔

میری شاعری نیلگوں وسیع و عریض، شفاف آسمان کا کینوس ہے،جہاں میں اپنی مرضی کی تصویریں پینٹ کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابن ہڈ کےاس شہر کی سرنگیں، نجانے کس طرح میڈ میرین کو لے کر مغلیہ دور کے قلعوں میں جا نکلتی ہیں۔۔۔

لارڈ بائرن اور ڈی ایچ لارنس کا یہ شہر،دھیرے دھیرے مجھے جکڑ تا رہا، ولیم ورڈز ورتھ کے ڈیفوڈل اپنی زرد زرد پلکوں سےسرسوں کےکھیت یاددلاتےرہے۔۔۔

نوٹنگھم شہر کی چوک کے وسط میں لہراتا یونین جیک، نجانے کس طرح سبز پاکستانی پرچم کے چاند تارے میں بدل جاتا ہے۔۔۔

پرانی کیسٹوں میں ریکارڈ کئےہوئےگیت اور دوہے، کسی نہ کسی طرح پائلوں میں رمبھا، سمبھا اور لیٹن کی تھرک پیدا کردیتےہیں۔۔۔

شیلےاور کیٹس کا رومانوی انداز،غالب اور چغتائی کےآرٹ کا مرقع بننےلگتا ہے۔۔۔

مجھے جوگن بنا کر ہندی بھجن سسنے پر بھی مجبور کرتی ہیں ۔۔۔ Hymnsشیلنگ کی

سائنسی حقیقتیں،میرےدرد کو نیلی رگوں میں بدلنےکی وجوہات تلاش کرتی ہیں۔۔۔

کریم کافی،مٹی کی سوندھی سوندھی پیالیوں میں جمی چاندی کے ورق جیسی کھیر بن کر مسجدوں سے آنے والی اذان کی طرح رونگھٹے کھڑے کر دیتی ہے۔۔۔۔

سونےکےنقش و نگار سے مزین کتھیڈرل، اونچےاونچے بلند و بالا گرجا  گھر،مشرق کے سورج چاچا اور چندا ماما کا چہرہ چومتےہیں۔۔۔

وینس کی گلیوں میں گھومتے ہوئے،پانی میں کھڑی عمارتوں کی دیواروں پر کائی کا سبز رنگ ،مجھےسپارہ پڑھانے والی استانی جی کےآنگن میں لگی ترئی کی بیلوں کی طرح لپٹا۔۔۔

جولیٹ کےگھر کی بالکنی میں کھڑے ہو کر،مجھے اپنے گلی محلوں کے لڑ کوں کی سیٹیاں سنائی دیں۔۔۔

شاہ عبدالطیف بھٹائی کےمزار اور سہون شریف سےلائی ہوئی کچےکانچ  کی چوڑیاں، مٹی کےرنگین گگھو گھوڑے جب میں تحفتا اپنےانگریز دوستوں کے لئے لائی تو میری سانس کی مالا فقیروں کے گلوں میں پڑے منکوں کی مانند بکھر کر کاغذپر قلم کی آنکھ سےٹپک گئی۔۔.

شاعری مجھےاپنی ہواؤں میں،پروین شاکر کی خوشبو کی طرح اڑانےلگتی ہے، موتئےکی وہ کلیاں یاد دلاتی ہےجنھیں میں قبل از وقت کھلاکر گجرا بنانے کیلئے، کچا کچا توڑ کر بھیگے بھیگے سفید ململ میں لپیٹ دیا کر تی تھی،اور وہ رات کی رانی جو میری خوابگاہ کی کھڑکی کے پاس تھی ،آج بھی یادوں کی بین پر لہراتی رہتی ہے۔۔۔۔
شاعری ایک نیلا نیلا گہرا سمندر بن کر ان لہروں کے چھینٹے اڑانے پر مجبور کردیتی ہے،جہاں میں اتوار کو گھر والوں کےساتھ جاکر اونٹوں کےگلے میں بجتی گھنٹیوں کےسحر میں مبتلا ،سیپیاں چنتےچنتے، ریت میں سسی کےآنچل کا کنارہ،ڈھونڈنے لگتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنہری دھوپ کےساتھ بچپن کےاس گاؤں کی طرف لےجاتی ہےجہاں ہم گرمیوں کی چھٹیاں گزارنےجاتےتھے،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معصوم سہیلیوں کے پراندوں میں الجھا دیتی ہےجن میں وہ موتی پرو کر نشانی کےطور پر مجھےدیتی تھیں،تاکہ میں انھیں شہر جاکر بھول نہ جاؤں۔۔۔

شاعری وہ نیل کنٹھ ہےجو صرف گاؤں میں نظر آتا تھا،

جس کے بارے میں اپنی کلاس فیلوز کو بتاتےہوئے میں ان کی آنکھوں کی حیرت سےلطف اندوز ہوتی اورصوفی شعرا کےکلام جیسا سرور محسوس کرتی۔۔۔

شاعری ان گلابی گلابوں کےساتھ بہتی ہےجنھیں میں اپنےابو کے گلقند بنانے والےباغوں سےتوڑ کر اپنی جھولی میں بھرکر،ندیا میں ڈالتی اوراس پل پرجو اس وقت بھی مجھےچینی اور جاپانی دیو مالائی کہانیوں کےدیس میں لےجاتا تھا گھنٹوں کھڑی اپنی سہیلیوں کےساتھ اس بات پر جھگڑتی کہ میرےگلاب زیادہ دور گئےہیں۔۔۔۔

صفورے کےاس درخت کی گھنی چھاؤں میں بٹھادیتی ہےجو ہمارے باغیچےمیں تھا اور جس کےنیلےاودے پھول جھڑ کر زمین پر اک غالیچہ بنتی،جس پر سفر کرتے ہوئےمجھے کسی کنکورڈ کی چنگھاڑ نہیں سنائی دیتی تھی۔۔۔

شاعری بڑے بھائی کی محبتوں کی وسعتوں کا وہ نیلا آسمانی حصار ہے،جو کبھی کسی محرومی کےاحساس سےنہیں ٹوٹا۔۔۔۔

کڑوے نیم تلے جھلنے والا وہ پنکھا ہے جس کے جھونکے بڑی باجی کی بانہوں کی طرح میرے گرد لپٹ جاتےہیں۔۔۔

شاعری سڑکوں پر چھوٹے بھائی کی موٹر سائیکل کی طرح فراٹےبھرتی ہےجس پر میں اس کےساتھ سند باد جیسی انگریزی فلمیں دیکھنے جاتی اور واپسی پر جادوگر کے سونگھائے ہوئے نیلے گلاب کےاثر میں واپس آتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اان تتلیوں اور مورنیوں کے پاس لےجاتی ہےجو چھوٹی بہنوں کی صورت، آپی آپی کہہ کر میرے گرد منڈلاتی رہتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔

ان چڑیوں کی چوں چوں سنواتی ہےجن کو میں دادی کی آنکھ بچا کر باسمتی چاول، مٹھیاں بھر بھر کے چپکے سے چھت پر کھلاتی اور ان کی پیار بھری ڈانٹ سنا کرتی تھی۔۔۔

شاعری میرے طوطے کی گردن کے گرد پڑا ہوا سرخ کنٹھا بن جاتی ہے، جس سےٹپکنے والے سرخ لہو کےقطرے یادوں کے دریا میں گرتے ہی لعل و یاقوت بن کر راجکماری کےمحل کو جانےوالی سمت بہتے ہیں، انار کی نارنجی کچی کلیاں ہیں جو نگہت اور شاہین،اپنی امی سےچھپ کر میرے ساتھ توڑلیتیں، جس کے بعد بقیہ انار پکنے تک گھر سے نکلنا بند ہوجا یا کرتا تھا۔۔۔۔

یہ شاعری مجھےمولسری کی ان شاخوں میں چھپادیتی ہے جن پر میں اور شہنازتپتی دوپہروں میں مولسریاں کھا کر ان کی گٹھلیاں راہگیروں کو مارتےاور اپنے آپ کو ماورائی شخصیت سمجھتے۔۔۔

یہ میری سہیلی شیریں کےگھر میں لگے ہوئےشہتوت کےکالےکالے رسیلے گچھوں جیسی ہے جن کا ارغوانی رنگ سفید یو نیفارم سے چھٹائے نہیں چھٹتا ۔۔۔۔

شاعری مجھےان اونچی اونچی محرابوں میں لےجاتی ہے جہاں میں اپنی حسین پھپھیوں کو کہانیوں کی شہَزادیاں سمجھا کرتی ،جن کے پائیں باغ میں لگا جامن کا درخت آج بھی یادوں پر نمک مرچ چھڑک کر کوئلوں اور پپیہوں کی طرح کوکتا ہے، شاعری بلقیس خالہ کا وہ پاندان یاد دلاتی ہے جس میں سپاری کےطرح ان لمحوں کےکٹے ہوئےٹکڑے رکھے ہیں جن میں ،میں ابن صفی صاحب سے حمیدی ،فریدی اور عمران کےآنے والے نئے ناول کی چھان بین کرتی ، خالہ کےہاتھ سے لگے ہوئے پان کا سفید چونا،صفی صاحب کی سفید  کار کی طرح اندر سےکاٹ کر تیز رفتاری سےاب بھی گزرتا ہے۔۔۔

یہ کبھی کبھی مجھےموہنجو دڑو جیسے قبرستان میں کھڑا کر دیتی ہے ، جہاں میں اپنے ماں ،باپ کےلئے فاتحہ پڑھتے ہوئے کورے کانچ کی وقت گھڑی میں ریت کی مانند بکھرنے لگتی ہوں،مصری ممیوں کی طرح حنوط چہروں کو جگانے کی کوشش کرتی ہوں،نیلگوں اداسیاں مجھےگھیر لیتی ہیں، درد کی نیلی رگیں میرے تن بدن پر ابھرنےلگتی ہیں،شب کےنیلگوں اندھیرےمیں سر سراتی دھنیں، سایوں کی مانند ارد گرد ناچنےلگتی ہیں،ان کی نیلاہٹ ،پر اسرار طمانیت کے ساتھ چھن چھن کر دریچوں کا پٹ کھولتی ہے، چکوری کی مانند ،چاند ستاروں کے بتاشے سمیٹنے کی خواہشیں کاغذ کے لبوں پر آجاتی ہیں ،سقراط کے زہریلے پیالےمیں چاشنی ملانےکی کوشش تیز ہو جاتی ہے، ہری ہری گھاس کی باریک پتیوں پہ شبنم کی بوندیں جمتی ہی نہیں،والدین جنت الفردوس کو سدھارے، پردیس نے بہن بھائی اور ہمجولیاں چھین لیں، درد بھرے گیت روح چھیلنے لگے،حساسیت بڑھ گئی  ڈائری کے صفحے کالے ہوتے گئے، دل میں کسک کی کرچیاں چبھتی رہیں، کتابیں اور موسیقی ساتھی بن گئیں، بے تحاشہ مطالعہ کیا، جس لائیبریری سےجو بھی مل جاتا پیاسی ندی کی مانند پی جاتی،رات گئے تک مطالعہ کرتی، دنیا کےمختلف ممالک کےادب سے بھی شناسائی ہوئی، یوں رفتہ رفتہ اس نیلےساگر میں پوری طرح ڈوب گئی۔ ۔ ۔

شاعری ایک اپنی دنیا ہےجہاں کچھ پل کےلئےاچانک سب کی نظر سےاوجھل ہو کر میں شہرِ سبا کی سیڑھیاں چڑھتی ہوں، اسی لیئےمیری شاعری سماجی اور انقلابی مسائل کےبجائے میری اپنی راہ فرار کی جانب جاتی ہے، ورنہ اس دنیا میں کون ہےجس کو ان سےمفر ہے!۔

  شاعری مجھے نیلے نیلےآسمان کی وسعتوں سے بادلوں کے چھوٹے چھوٹے سپید ٹکروں کی مانند، خواب وخیال کی دنیا سے نکال  کر، سرخ سرخ اینٹوں سے بنے ہوئے گھروں کی اس سرزمین پراتار دیتی ہے جہاں میں زندگی کے کٹھن رستوں پر اپنے شوہر کے ساءبان تلے چل رہی ہوں، جہاں میرے پھول سے بچوں کی محبت بھری مہک مجھے تروتازہ و سرشار رکھتی ہے۔Name Naina Iceblue heart

 

Advertisements

شمس الرحمن فاروقی کے افکار April 19, 2018

Posted by Farzana Naina in Poetry, شمس الرحمن فاروقی.
Tags:
1 comment so far

شمس الرحمن فاروقی کے درج ذیل نتائج، افکار اور تجاویز نہ صرف شعرا کے لیے کیمیا اثر ہیں بلکہ شعر و ادب کے ہر سنجیدہ طالب عالم کے لیے بھی یہ رہنما اصول کا درجہ رکھتے ہیں۔ فاروقی صاحب کی یہ تحریر ان کی مشہور تصنیف “تنقیدی افکار” سے ماخوذ ہے۔ اگرچہ اصل فہرست طویل ہے جسے سلسلہ وار پڑھنے کی تلقین صاحب کتاب نے کی ہے لیکن تنگیِ صفحات اور طلبہ کی ضرورتوں کے مد نظر ، میں اس کی تلخیص پیش کی جارہی ہے۔

1۔ موزوں، ناموزوں سے بہتر ہے۔

(الف)چونکہ نثری نظم میں موزونیت ہوتی ہے، اس لیے نثری نظم، نثر سے بہتر ہوتی ہے۔

2۔ انشا، خبر سے بہتر ہے۔

3۔ کنایہ، تصریح سے بہتر ہے۔

4۔ ابہام، توضیح سے بہتر ہے۔

5۔ اجمال، تفصیل سے بہتر ہے۔

6۔ استعارہ، تشبیہ سے بہتر ہے۔

7۔ علامت، استعارے سے بہتر ہے۔

(الف) لیکن علامت چونکہ خال خال ہی ہاتھ لگتی ہے ، اس لیے استعارے کی تلاش بہتر ہے۔

8۔ تشبیہ، مجرد اور سادہ بیان سے بہتر ہے۔

9۔ پیکر، تشبیہ سے بہتر ہے۔

10۔ دو مصرعوں کے شعر کا حسن اس بات پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ دونوں مصرعوں میں ربط کتنا اور کیسا ہے؟

11۔ اس ربط کو قائم کرنے میں رعایت بہت کام آتی ہے۔

12۔ مبہم شعر، مشکل شعر سے بہتر ہوتا ہے۔

13۔ مشکل شعر، آسان شعر سے بہتر ہوسکتا ہے۔

14۔ شعر کا آسان یا سریع الفہم ہونا اس کی اصلی خوبی نہیں۔

15۔ مشکل سے مشکل شعر کے معنی بہرحال محدود ہوتے ہیں۔

16۔ مبہم شعر کے معنی بہرحال نسبتاً محدود ہوتے ہیں۔

17۔ شعر میں معنی آفرینی سے مراد یہ ہے کہ کلام ایسا بنایا جائے جس میں ایک سے زیادہ معنی نکل سکیں۔

18۔ چونکہ قافیہ بھی معنی میں معاون ہوتا ہے، اس لیے قافیہ پہلے سے سوچ کر شعر کہنا کوئی گناہ نہیں۔

19۔ شعر میں کوئی لفظ، بلکہ کوئی حرف، بے کار نہ ہونا چاہیے۔ لہٰذا، اگر قافیہ یا ردیف یا دونوں پوری طرح کارگر نہیں ہیں تو شعر کے معنی کو سخت صدمہ پہنچنا لازمی ہے۔

20۔ شعر میں کثیر معنی صاف نظر آئیں، یا کثیر معنی کا احتمال ہو، دونوں خوب ہیں۔

21۔ سہل ممتنع کو غیر ضروری اہمیت نہ دینا چاہیے۔

22۔ شعر میں آورد ہے کہ آمد، اس کا فیصلہ اس بات سے نہیں ہوسکتا کہ شعر بے ساختہ کہا گیا یا غور و فکر کے بعد۔ آورد اور آمد، شعر کی کیفیات ہیں، تخلیق شعر کی نہیں۔

23۔ بہت سے اچھے شعر بے معنی ہوسکتے ہیں لیکن بے معنی اور مہمل ایک ہی چیز نہیں۔ اچھا شعر اگر بے معنی ہے تو اس سے مراد یہ نہیں کہ وہ مہمل ہے۔

24۔ قافیہ خوش آہنگی کا ایک طریقہ ہے۔

25۔ ردیف، قافیے کو خوش آہنگ بناتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مردف نظم، غیر مردف نظم سے بہتر ہے۔

26۔ لیکن ردیف میں یکسانیت کا خطرہ ہوتا ہے، اس لیے قافیے کی تازگی ضروری ہے تاکہ ردیف کی یکسانیت کا احساس کم ہوجائے۔

27۔ نیا قافیہ، پرانے قافیے سے بہتر ہے۔

28۔ لیکن نئے قافیے کو پرانے ڈھنگ سے استعمال کرنا بہتر نہیں، اس کے مقابلے میں پرانے قافیے کو نئے رنگ سے نظم کرنا بہتر ہے۔

29۔ قافیہ بدل دیا جائے تو پرانی ردیف بھی نئی معلوم ہونے لگتی ہے۔

30۔ قافیہ، معنی کی توسیع بھی کرتا ہے اور حد بندی بھی۔

31۔ ہر بحر مترنم ہوتی ہے۔

32۔ چونکہ شعر کے آہنگ بہت ہیں اور بحریں تعدا دمیں کم ہیں، اس لیے ثابت ہوا کہ شعر کا آہنگ بحر کا مکمل تابع نہیں ہوتا۔

33۔ نئی بحریں ایجاد کرنے سے بہتر ہے کہ پرانی بحروں میں جو آزادیاں جائز ہیں، ان کو دریافت اور اختیار کیا جائے۔

34۔ اگر نئی بحریں وضع کرنے سے مسائل حل ہوسکتے تو اب تک بہت سی بحریں ایجاد ہوچکی ہوتیں۔

35۔ آزاد نظم کو سب سے پہلے مصرع طرح کے آہنگ سے آزاد ہونا چاہیے۔

36۔ اگر مصرعے چھوٹے بڑے ہیں تو بہتر ہے کہ ہر مصرعے کے بعد وقفہ نہ ہو۔

37۔ نظم کا عنوان اس کے معنی کا حصہ ہوتا ہے، اس لیے بلاعنوان نظم ، عنوان والی نظم کے مقابلے میں مشکل معلوم ہوتی ہے، بشرطیکہ شاعر نے گمراہ کن عنوان نہ رکھا ہو۔ لیکن عنوان اگر ہے تو نظم کی تشریح اس عنوان کے حوالے کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔

38۔شعرکی تعبیر عام طور پر ذاتی ہوتی ہے، لیکن وہ جیسی بھی ہو اسے شعر ہی سے بر آمد ہونا چاہیے۔

39۔ آزاد نظم کا ایک بڑا حسن یہ ہے کہ مصرعوں کو اس طرح توڑا جائے یا ختم کیا جائے کہ اس سے ڈرامائیت یا معنوی دھچکا حاصل ہو۔ معرا نظم میں بھی یہ حسن ایک حد تک ممکن ہے۔

40۔ ہماری آزاد نظم بحر سے آزاد نہیں ہوسکتی۔

41۔ آزاد اور نثری نظم کے شاعر کو ایک حد تک مصور بھی ہونا چاہیے۔ یعنی اس میں یہ صلاحیت ہونا چاہیے کہ وہ تصور کرسکے کہ اس کی نظم کتاب یا رسالے کے صفحے پر چھپ کر کیسی دکھائی دے گی۔

42۔ قواعد، روزمرہ ، محاورہ کی پابندی ضروری ہے۔

43۔ لیکن اگر ان کے خلاف ورزی کر کے معنی کا کوئی نیا پہلو یا مضمون کا کوئی نیا لطف ہاتھ آئے تو خلاف ورزی ضروری ہے۔

44۔ لیکن اس خلاف ورزی کا حق اسی شاعر کو پہنچتا ہے جو قواعد، روزمرہ ، محاورہ پر مکمل عبور حاصل اور ثابت کرچکا ہو۔

45۔ مرکب تشبیہ، یعنی وہ تشبیہ جس میں مشابہت کے کئی پہلو ہوں، مفرد تشبیہ سے بہتر ہے۔

46۔ جذباتیت، یعنی کسی جذبے کا اظہار کرنے کے لیے جتنے الفاظ کافی ہیں، یا جس طرح کے الفاظ کافی ہیں، ان سے زیادہ الفاظ، یا مناسب طرح کے الفاظ سے زیادہ شدید طرح کے الفاظ استعمال کرنا ، بیوقوفوں کا شیوہ ہے۔

47۔ استعارہ جذباتیت کی روک تھام کرتا ہے۔ اسی لیے کم زور شاعروں کے یہاں استعارہ کم اور جذباتیت زیادہ ہوتی ہے۔

48۔ الفاظ کی تکرار بہت خوب ہے، بشرطیکہ صرف وزن پورا کرنے کے لیے یا خیالات کی کمی پورا کرنے کے لیے نہ ہو۔

49۔ شاعری علم بھی ہے اور فن بھی۔

50۔ یہ جو کہا گیا ہے کہ شاعر خدا کا شاگرد ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ شاعر کو کسی علم کی ضرورت نہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ شاعرانہ صلاحیت اکتسابی نہیں ہوتی۔

51۔ شاعرانہ صلاحیت سے موزوں طبعی مراد نہیں۔ اگرچہ موزوں طبعی بھی اکتسابی نہیں ہوتی ، اور تمام لوگ برابر کے موزوں طبع نہیں ہوتے اور موزوں طبعی کو بھی علم کی مدد سے چمکایا جاسکتا ہے لیکن ہر موزوں طبع شخص شاعر نہیں ہوتا۔

52۔ شاعرانہ صلاحیت سے مراد ہے، لفظوں کو اس طرح استعمال کرنے کی صلاحیت کہ ان میں نئے معنوی ابعاد پیدا ہوجائیں۔

53۔ نئے معنوی ابعاد سے مراد یہ ہے کہ شعر میں جس جذبہ، تجربہ، مشاہدہ، صورت حال، احساس یا خیال کو پیش کیا گیا ہے، اس کے بارے میں ہم کسی ایسے تاثر یا کیفیت یا علم سے دو چار ہوں جو پہلے ہماری دسترس میں نہ رہا ہو۔

54۔ شاعری مشق سے ترقی کرتی ہے اور نہیں بھی کرتی ہے۔ صرف مشق پر بھروسا کرنے والا شاعر ناکام ہوسکتا ہے لیکن مشق پر بھروسا کرنے والے شاعر کے یہاں ناکامی کا امکان، اس شاعر سے کم ہے جو مشق نہیں کرتا۔

55۔ مشق سے مراد صرف یہ نہیں کہ شاعر کثرت سے کہے، مشق سے مراد یہ بھی ہے کہ شاعر دوسروں (خاص کر اپنے ہم عصروں اور بعید پیش روؤں) کے شعر کثرت سے پڑھے اور ان پر غور کرے۔

56۔ کیوں کہ اگر دوسروں کی روش سے انحراف کرنا ہے تو ان کی روش جاننا بھی ضروری ہے۔ دوسروں کے اثر میں گرفتار ہو جانے کے امکان کا خوف اسی وقت دور ہوسکتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ دوسروں نے کہا کیا ہے؟

57۔ تمام شاعری کسی نہ کسی معنی میں روایتی ہوتی ہے، اس لیے بہتر شاعر وہی ہے جو روایت سے پوری طرح باخبر ہو۔

58۔ تجربہ کرنے والا شاعر، چاہے وہ ناکام ہی کیوں نہ ہوجائے،محفوظ راہ اختیار کرنے والے شاعر سے عام طور پر بہتر ہوتا ہے۔

59۔ تجربے کے لیے بھی علم شرط ہے۔ پس علم سے کسی حال میں مفر نہیں۔

٭٭٭

مشمولہ سہ ماہی اثبات

بجلی، پانی اور پاکستان April 17, 2018

Posted by Farzana Naina in Issues of Pakistan, Karachi, Pakistan, Pakistani.
Tags: , , ,
add a comment

بجلی، پانی اور پاکستان

سویڈن کی یہ خبر پڑھئیے اور سر دھنیئے کہ دوسرے ممالک  قدرتی وسائل کو اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے کس طرح اپنے کام میں لے رہے ہیں۔

بیرونِ پاکستان ترقیاتی کاموں کی فروانی دیکھ کر اپنے ملک کی بد قسمت عوام کے حقوق کی پامالی پر آنکھیں پانی سے بھر جاتی ہیں۔

سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں دو کلو میٹر طویل الیکٹرک سڑک بنائی گئی ہے، یہ بجلی کی سڑک ائیرپورٹ کے نزدیک بنائی گئی ہے جس پر گاڑی چلانے کے لیے گاڑی کو الیکٹرک کیبل سے منسلک کیا جاتا ہے جب کہ کیبل کا دوسرا سرا سڑک پر لگے الیکٹرک سسٹم سے جوڑ دیا جاتا ہے اس طرح ایک عام گاڑی مکمل طور پر برقی کار میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

سویڈن میں 2030ء تک فیول سے نجات حاصل کرنے اور ٹرانسپورٹ سیکٹر میں تیل کے استعمال میں 70 فیصد تک کمی لانے کے لیے توانائی کے دیگر ذرائع پر کام کیا جا رہا ہے

سٹاک ہوم سے باہر ایک لاجسٹک مقام تک الیکٹرک فیکیشن روڈ پر چلنے والی الیکٹرک گاڑیاں اب خودبخود چارج ہوتی رہیں گی جس کے لئے روڈ ریچارج ایبل خصوصی بیٹریاں گاڑیوں میں نصب کی جا رہی ہیں جن میں نیچے کی طرف سے ایک حصہ سڑک پر بچھی ہوئی الیکٹرک وائر نگ کو چھو سکتا ہے جبکہ گاڑی رکنے کی صورت چارج ہونا خود بخود بند ہو جائے گا۔

یہ نظام گاڑی کی توانائی کی کھپت جانچ سکتا ہے اس کی تعمیر پر ٹرام لائن کی نسبت پچاس فیصد کم خرچہ آتا ہے۔ سویڈن کی حکومت 2030ء تک ماحولیاتی آلودگی میں اپنا کردار صفر کرنے کے لئے فوسل فیول (زمینی ایندھن) کے استعمال سے آزادی کا ہدف رکھتی ہے جس کے لئے ٹرانسپورٹ سیکٹر کا زمینی ایندھن پر انحصار 70 فیصد تک کم کیا جائے گا۔

پاکستان کے حالیہ دورے میں ہمارے ایک رشتہ دار کے گھر جامشورو جانا ہوا، وہاں پہنچ کر میں حیرت زدہ رہ گئی کہ اس گھر میں بجلی کی کمی کا کوئی واویلا نہیں تھا، پنکھے ٹھنڈی ٹھار ہوائیں جھل رہے تھے اور تیز روشنی والے بلب ہم کو جگمگاتے خوش آمدید کہتے نظر آئے۔

ان سے جب اس راز کو کھولنے کا کہا تو وہ ہمیں مکان کی چھت پر بنے ہوئے بر آمدے نما کمرے میں لے گئے، وہاں پر سولر سسٹم لگا ہوا تھا، شمسی توانائی سے ان کا گھر مستفید ہورہا تھا اور بجلی کے بل بھی سوہانِ روح نہ تھے۔

کمال ہی کمال، بہرالحال اس سسٹم  کا خرچہ کافی ہے کہ جو ایک عام شہری کے وسائل پر شاید پورا نہیں اترسکے گا۔

ہم نے کبھی اپنے وطن میں سورج سے ملنے والی توانائی کی جانب توجہ نہیں دی، سولر پاور کو عام کرنے میں کس چیز کی رکاوٹ ہے یہ سمجھ سے بالاتر ہے!

اس کام کے لیئے جتنی انویسٹمنٹ کی جائے گی اس سے سوگنا بڑھ کر ہمارے ملک کو فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

ہمارے وطن میں رہائشی علاقے تو کیا بلکہ ہسپتالوں تک کو مناسب بجلی مہیا نہیں کی جاتی، اس قسم کے ادارے جہاں انسانی جانیں بچائی جاتی ہوں بجلی کے بغیر کیسے چل رہے ہیں؟ یقیناَ کوئی خدائی ہاتھ ان کی مدد کے لیئے کارفرما ہوگا!

بجلی مہیا کرنے کے لیئے کڑوڑوں کے منصوبے پاس ہو ہوتے ہیں لیکن عملی طور پر کوئی کام پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچتا !

آپس کی لوٹ کھسوٹ اور تنازعات میں پڑ کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیئے ملک و قوم کی فلاح و بہبود نامی کوئی سوچ ان لوگوں کے ذہن میں ناپید ہے۔

ایسے لوگوں کا بہترین حل یہ ہے کہ الیکٹرک شاک کھلا کر ان کو دنیا سے آزاد کردیا جائے۔ یہ ایک سخت اسٹیٹمنٹ ہے لیکن ہم لوگ بیزار آ چکے ہیں اور کسی بھی صورت ہم کو ان لوگوں سے اپنے معاشرے کو پاک کرنا ہوگا، جب تک سخت سزائیں نہیں لاگو ہوں گی یہ آوا بگڑا ہی رہے گا !!!

پاکستان میں متعدد نئے بجلی گھر بنانے کے منصوبے آئے دن سنائی تو دیتے ہیں لیکن مجبور عوام فقط خوش آئند خوابوں کے پنکھے ہی جھل کر رہ جاتے ہیں۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سربراہ نے گزشتہ برس بتایا تھا کہ پاکستان نے 2030 تک ایٹمی توانائی کی گنجائش 8 ہزار 800 میگاواٹ تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے لیے مزید تین سے چار بڑے ایٹمی ری ایکٹرز بنائے جائیں گے۔

اس وقت پاکستان کے پاس 5 چھوٹے ری ایکٹرز ہیں جن کی مجموعی مشترکہ پیداوار صرف 1300 میگاواٹ ہے۔ چشمہ کے مقام پر چوتھا پاور پلانٹ ستمبر میں فعال کیا گیا جسے چینی کمپنی ’چائنا نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن‘ نے بنایا ہے اور یہی کمپنی کراچی کے قریب بھی 1100 میگاواٹ کے دو ایٹمی ری ایکٹرز تعمیر کررہی ہے۔

 کہا گیا ہے کہ دونوں نئے ری ایکٹرز کی تعمیر کا کام 60 اور 40 فیصد مکمل ہوگیا ہے جو 2020 اور 2021 میں فعال ہوجائیں گے۔ پاکستانی حکومت 8 ویں ایٹمی ری ایکٹرز کی تعمیر کا ٹھیکہ بھی دینے والی ہے جس کی پیداواری گنجائش 1100 میگا واٹ ہوگی اور جس کے مکمل ہونے پر بجلی کی مجموعی پیدوار 5 ہزار میگا واٹ تک پہنچ جائے گی۔

نئے ری ایکٹرز کی تعمیر کے لیے رقم سرکاری خزانے یا قرض لے کر حاصل کی جائے گی !

ترقی یافتہ ملکوں کو شمسی بجلی کی ضرورت نہیں کیونکہ اُن کے پاس روایتی بجلی بہت ہے۔ مہنگا ہونے کے باوجود وہ ممالک اِس ماحول دوست متبادل پر توجہ دے رہے ہیں کیونکہ وہ مالی لحاظ سے مضبوط ہیں۔‘

لیکن پاکستان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں، ہمارا ملک پیٹرول کی درآمد پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے پھر بھی ضروریات پوری نہیں ہوتیں۔

ہوا سے بجلی کی فراہمی مخصوص علاقوں میں ممکن ہے۔

پانی کے بڑے ڈیم ہمالیہ کے ساتھ ہیں اور ہندوستان مسلسل رکارٹیں کھڑی کرتا رہتا ہے۔

اب چین سے تجارتی معاملات کی جو پیش رفت ہوئی ہے اس کی مدد سے بجلی گھر بھی بنائے جا سکتے۔

شمسی بجلی ایک بڑا قابلِ عمل اور بہترین حل ہے، ایک بجلی گھر کے لیے دو یا تین پینل کافی ہوتے ہیں، کاش کہ ان اقدامات پر جلز از جلد اور سنجیدگی سے عمل کر کے ملک و قوم کی تکالیف دور کی جائیں، موجودہ دور میں بجلی اور پانی کی قلت شرمناک لگتی ہے کیونہ ہمارا وطن قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے وطن میں موجود خزانوں سے بہرہ مند نہ ہو سکیں !

دبئی آ تے جاتے جب میں صحراوں کو گل و گلزار ہوتے دیکھتی ہوں تو دل باغ باغ ہونے کے بجائے اپنے وطن کے بارے میں سوچ کر خزاں رسیدہ پتے کی صورت مرجھانے لگتا ہے !

کاش کہ میری آنکھیں وہ دن دیکھیں جب لوگ پانی بجلی اور ایک صاف ستھرے پاکستان میں زندگی کی بہاریں دیکھا کریں گے  !

فرزانہ خان نیناؔں

http://www.dailymail.co.uk/news/article-5616199/Sweden-builds-electrified-road-powers-vehicle-electric-rails.html?ITO=1490&ns_mchannel=rss&ns_campaign=1490

سعودی عرب میں کیا کچھ بدلا؟ January 15, 2018

Posted by Farzana Naina in Mohammed Bin Salman, Saudi Arabia.
Tags: , , ,
add a comment

سعودی عرب کے بادشاہ محمد بن سلمان کو سوتیلے بھائی شاہ عبداللہ کے انتقال کے بعد جب تقریباً تین سال قبل اقتدار ملا تب سے

Mohammed Bin Salman Saudi Arabia's crown prince Mohammed Bin Salman

32, Mohammed bin Salman is the most powerful Saudi royal in decades

انھوں نے ملکی پالیسیوں میں بہت اہم تبدیلیاں کی ہیں۔

ان تبدیلیوں میں سنیچر کو نئی اینٹی کرپشن کمیٹی نے گیارہ شہزادوں، چار موجودہ اور ‘درجنوں’ سابق وزرا کو گرفتار کر لیا جن میں اربوں ڈالر کے اثاثے رکھنے والے شہزادہ الولید بن طلال بھی شامل ہیں۔

اعلیٰ سطح پر تبدیلیاں

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوری سنہ 2015 کو شاہ سلمان نے شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد 79 برس کی عمر میں تخت سنبھالنے کے بعد اپنے بھتیجے محمد بن نائف کو ولی عہد اور نائب وزیراعظم بنایا اور اپنے بیٹے شہزادہ سلمان کو وزیر دفاع کا عہدہ دیا۔

لیکن رواں برس جون میں انھوں نے اپنے 32 سالہ بیٹے کو ولی عہد بنا دیا اور آہستہ آہستہ محمد بن نائف سے اختیارات واپس لے لیے۔

مارچ سنہ 2015 میں سعودی عرب یمن میں صدر منصور ہادی کی جانب سے شیعہ حوثی باغیوں اور ان کے حامیوں کے خلاف کارروائیوں میں یمن کا ساتھ دینے کے لیے اتحادی ممالک کا سربراہ بن گیا۔ اس سلسلے میں سعودی عرب نے فضائی بمباری کا آغاز کیا جو اب تک جاری ہے۔

پھر اتحادی افواج نے یمن میں اپنے دستے تعینات کیے۔ انسانی حقوق کے گروہوں کی جانب سے ان فضائی حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں پر شدید تنقید کی گئی تھی۔

تہران سے تعلقات کشیدہ

جنوری 2016 میں سعودی عرب نے دہشت گردی کے الزامات میں 47 افراد کو پھانسی کی سزا دی۔ ان میں زیادہ تر تعداد تو سنی فرقے کے مسلمانوں کی تھی تاہم اس میں سعودی عرب کے ایک بڑے شیعہ عالم نمر النمر بھی شامل تھے۔

ان کی پھانسی کے نتیجے میں سعودی عرب کے اپنے علاقائی حریف ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات خراب ہو گئے۔ ریاض نے اپنے سفارتخانے پر حملے کے بعد تہران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر دیے۔

معاشی اصلاحات

اپریل 2016 میں سعودی حکومت نے وژن 2030 کے نام سے ایک بڑے اصلاحاتی منصوبے کی منظوری دی۔

اس منصوبے کا مقصد یہ تھا کہ معیشت کا انحصار تیل پر ہی نہ ہو بلکہ اس کے لیے آمدن کے ذرائع کو مزید وسعت دی جائے۔ اس منصوبے میں تیل کی سرکاری کمپنی آرمکو کے حصص کی فروخت سے سرمایہ حاصل کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

سعودی عرب کو سنہ 2014 کے وسط میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے سبسڈی کو کم کرنا پڑا تھا اور اپنے اہم ترقیاتی منصوبوں کو معطل کرنا پڑا تھا۔

دسمبر 2016 میں سعودی عرب نے اوپیک تنظیم کے ممالک اور اس تنظیم سے باہر روس کے ساتھ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے لیے تیل کی پیداوار کم کرنے پر اتفاق کیا۔

واشنگٹن کے ساتھ معاہدے

ڈونلڈ ٹرمپ نے بطور امریکی صدر اقتدار سنھبالنے کے بعد اپنا پہلا دورہ رواں برس مئی میں سعودی عرب کا کیا تھا۔

دونوں ملکوں کے درمیان 380 ارب ڈالر کے معاہدے طے پائے جن میں 110 ارب ڈالر کا ہتھیار فراہم کرنے کا معاہدہ ہوا۔ اس کا مقصد بظاہر سعودی عرب کو ایران اور بنیاد پرست مسلمان گروہوں سے نمٹنے میں مدد دینا تھا۔

قطر بحران

جون 2017 میں سعودی عرب اور متعدد خلیجی اتحادیوں اور مصر نے قطر سے اپنے سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو ختم کرتے ہوئے اس پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ‘دہشت گردوں’ کی مدد کرتا ہے اور وہ ایران کے بہت قریب ہو رہا ہے۔

قطر نے ان الزامات کو مسترد کیا تاہم سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے دوحہ کے خلاف مزید اقتصادی اقدامات کیے۔

عورتوں کے لیے مزید حقوق

دسمبر 2015 میں سعودی عرب نے پہلی مرتبہ خواتین کو نہ صرف انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق دیا بلکہ انھیں بطور امیدوار حصہ لینے کی اجازت بھی دے دی۔

رواں برس ستمبر میں شاہی فرمان میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی گئی اور یہ پابندی جون 2018 میں ختم ہو جائے گی۔

عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے کے فیصلے سے کچھ ہی روز پہلے خواتین کو سٹیڈیم میں پہلی بار جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ بعد میں حکام نے بتایا کہ خواتین کو دیگر کھیلوں کے سٹیڈیمز میں جانے کی اجازت دی جائے گی تاہم اس کے لیے مردوں اور خواتین کے لیے الگ الگ نشستوں کا اہتمام کیا جائے گا۔

اب بھی سعودی خواتین کو بیرون ملک جانے یا سفر کرنے کے لیے خاندان کے مرد سرپرست کی اجازت درکار ہوتی ہے۔

کریک ڈاؤن

ستمبر میں حکام نے 20 افراد کو حراست میں لیا تھا جن میں معروف عالم سلمان الاوادہ اور الاوادہ القارنی بھی شامل تھے اور بظاہر یہ کریک ڈاؤن حکومت پر تنقید کرنے والوں پر کیا تھا۔

معروف سعودی صحافی جمال کاشوگی نے بھی ٹویٹ کی کہ انھیں سعودی اخبار الحیات میں لکھنے سے روک دیا گیا ہے کیونکہ انھوں نے بظاہر اپنی ٹوئٹس میں اخوان المسلمین کی حمایت کی تھی۔

سرمایہ کاری، معتدل انداز

گذشتہ ماہ کے آخر میں سعودی عرب کے والی عہد محمد بن سلمان نے کاروباری کانفرنس میں اربوں ڈالر مالیت کا نیا شہر اور کاروباری زون تعمیر کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے این ای او ایم (نیوم) نامی منصوبے کے بارے میں بتایا کہ ملک کے شمال مغربی علاقے میں 26 ہزار پانچ سو مربع کلومیٹر پر محیط ہو گا۔

بتایا گیا کہ این ای او ایم (نیوم) نامی منصوبے سے سال دو ہزار تیس تک سعودی معیشت میں ایک سو ارب ڈالر تک حصہ ہو گا اور یہ بحرِ احمر کے ساحل اور عقابہ خلیج پر ایک پرکشش منزل ہو گا جو ایشیا، افریقہ اور یورپ سے جوڑے گا۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی سیاحتی ویزے کی شروعات بھی کریں گے۔

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب میں ‘معتدل اسلام کی واپسی’ کے لیے کوشاں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم اپنی زندگیوں کے آئندہ 30 سال ان تباہ کن عناصر کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔ ہم انتہا پسندی کو جلد ہی ختم کر دیں گے۔’

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب میں ’معتدل اسلام کی واپسی‘ کے لیے کوشاں ہیں۔

شہزادہ محمد بن سلمان کو ملک کے نئے ترقیاتی پلان وژن 2030 کا بانی بھی مانا جاتا ہے۔ سعودی حکومت کی کوشش ہے کہ ملک کو اقتصادی طور پر تیل پر انحصار کم کرنا پڑے۔

اس ضمن میں شہزادہ سلمان نے گذشتہ روز ایک اقتصادی میگا سٹی کا اعلان بھی کیا ہے جو کہ مصر اور اردن کے سرحدی علاقے میں 500 بلین ڈالر کی مدد سے تعمیر کی جائے گی۔

سعودی عرب کی 31 سالہ شہزادے محمد بن سلمان کا عروج حیرت انگیز ہے۔

Mohammed Bin Salman

Mohammed Bin Salman, Saudi Arabia’s Deputy Crown Prince

یمن میں بے نتیجہ اور نقصان دہ فوجی کارروائیوں کے پیچھے کارفرما رہنے کے باوجود وہ اپنے ملک میں خاصے معروف ہیں، خاص طور پر نوجوان سعودیوں میں۔

انھوں نے سرکاری اداروں میں بہت سارے غیر مؤثر اور بزرگ افراد کی جگہ مغرب سے تعلیم یافتہ نوجوان ٹیکنوکریٹس کو بھرتی کیا ہے۔ انھوں نے ایک انتہائی پر جرات مندانہ تعمیراتی منصوبہ ‘وژن 2030’ بھی ترتیب دیا اور سعودی عرب کی سرکاری آئل کمپنی سعودی ارماکو کے کچھ حصوں کی فروخت کا بھی اعلان کیا۔

نھوں نے واشنگٹن اور ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بھی تعلقات قائم کیے لیکن ان کی سب سے بڑی اور خطرہ موہ لینے والی کوشش قدامت پسند مذہبی اسٹیبلشمنٹ پر قدغن لگانا ہوسکتی ہے۔ واشنگٹن کو یہ کوشش پسند ہے لیکن ان کے ملک کے قریبی ساتھیوں کو یہ پسند نہیں۔

نئے ولی عہد محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد کی حیثیت سے یمن سعودی عرب جنگ، توانائی سے متعلق عالمی پالیسی سازی اور اس کے نفاذ اور تیل کے ختم ہوجانے کے بعد ریاست کے مستقبل سے متعلق منصوبوں کے لیے ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

Mohammed Bin Salman at the of 32 is the most powerful Saudi royal in decades-1

محمد بن سلمان 31 اگست 1985 کو پیدا ہوئے تھے اور وہ اس وقت کے شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز السعود کی تیسری اہلیہ فہدہ بن فلاح کے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں۔

ریاض کی کنگ سعود یونیورسٹی سے بیچلرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد شہزداہ محمد نے کئی سرکاری اداروں میں کام کیا۔ اُن کی ایک ہی بیوی ہے جن سے ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان فرانس میں 30 کروڑ ڈالر مالیت کے محل کے اصل خریدار ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق نیویارک ٹائمز نے پیرس کے مغرب میں واقع محل کو دنیا کا مہنگا ترین گھر قرار دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ اپنے ملک میں بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے والے طاقتور ولی عہد کی غیر معمولی قیمتی خریداریوں کی ایک کڑی ہے۔

سعودی عرب کے حکام نے جولائی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ پر ردعمل دینے سے انکار کیا تھا جس میں فرانس کی تحقیقاتی صحافت کی ویب سائٹ میڈیا پارٹ میں نشاندہی کی گئی تھی کہ شہزادہ محمد بن سلمان محل کے اصل خریدار ہیں۔

فارچون میگزین نے 2015 میں اس محل کی فروخت کے وقت بتایا تھا کہ محل کے فواروں کو آئی فون کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور اپنے طرز تعمیر کے لحاظ سے یہ 17ویں صدی کی عمارت دکھائی دیتی ہے۔

اس وقت محل کی خریداری کو دنیا کا سب سے مہنگا گھر قرار دیا گیا تھا۔

اصل میں عمارت کو 19 ویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا تاہم سعودی عرب کی ایک کمپنی نے اسے خرید کر منہدم کر دیا تھا اور اس کی جگہ نئی عمارت کھڑی کی تھی۔

57 ایکٹر پر مشتمل اس محل میں سینیما گھر، ڈیلکس سوئمنگ پول، فوارے، سرنگ اور زیر آب کمرہ ہے جس کی شیشے کی چھت سے پانی میں تیرتی رنگ برنگی مچھلیوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق اطالوی آرٹسٹ لیونارڈو ڈاونچی کی بنائی ہوئی دنیا کی مہنگی ترین پینٹنگ ‘ سلاوتور مندی’ کے خریدار سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہیں۔

یاد رہے کہ گذشہ ماہ نیویارک میں ہونے والی نیلامی میں 500 سال پرانی پینٹنگ 45 کروڑ ڈالر میں فروخت ہوئی تھی لیکن نیلام میں خریدنے والے کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ حال ہی میں شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں انسداد بدعنوانی کے شاہی منصوبے کے تحت کئی شہزادوں اور حکومتی وزراء کو گرفتار کیا تھا اور ان کی رہائی کےعوض لُوٹی ہوئی دولت لوٹانے کو کہا تھا۔

Mohammed Bin Salman, Saudi Arabia's Deputy Crown Prince-2

Mohammed Bin Salman, Saudi Arabia’s Crown Prince

‘سلاوتور مندی’ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے 1505 میں تخلیق کیا گیا تھا۔ اس کے خالق لیونارڈو ڈا ونچی کی وفات 1519 میں ہوئی تھی اور اب ان کی بنائی ہوئی 20 سے بھی کم پینٹنگز وجود میں ہیں۔

سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار خواتین شائقین کو سٹیڈیم میں جا کر مردوں کے فٹبال میچز دیکھنے کا موقع ملا ہے۔

خیال رہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے خواتین کے حقوق اور اختیارات پر پہلے سے موجود عائد پابندیوں کو کم کرنے کا آغاز گذشتہ برس سے کیا ہے جس کے تحت گاڑی چلانے کی اجازت، بغیر محرم کے سعودی عرب میں داخلے کی اجازت اور تفریح کے لیے گھر کی بجائے کھیل کے میدان میں جانے اور سینیما گھروں میں جانے کا موقع تاریخ میں پہلی بار مل رہا ہے۔

جمعے اور سنیچر کو منعقد ہونے والے فٹ بال میچز کو دیکھنے کے لیے اکیلی آنے والی خواتین اور فیملز کے لیے مردوں سے الگ انکلوژرز بنائے گئے تھے۔

میچ کے دوران خواتین کی جانب خواتین عملے کو ہی تعینات کیا گیا تھا۔ روایتی کالے حجاب میں ملبوس ان خاتون اہلکاروں نے خواتین شائقین کو خوش آمدید کہا۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ چند روز پہلے ہی ملک میں پہلے ویمن سکواش ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا گیا تھا جبکہ گذشتہ برس نومبر میں ویمن باسکٹ بال چیمپیئن شپ منعقد ہوئی۔ اس وقت وہاں آنے والی خواتین شائقین کی تعداد 3000 بتائی گئی تھی۔

سعودی خواتین پر اب بھی کچھ پابندیاں برقرار ہیں جن میں انھیں مردوں کی اجازت ضروری ہوتی ہے ان میں سے چند یہ ہیں۔

  • پاسپورٹ کا حصول
  • بیرون ملک سفر
  • شادی
  • بینک اکاؤنٹ کھلوانے
  • مخصوص کاروبار شروع کرنے
  • موت کی سزا پانے کے بعد ان کی میت کی گھر منتقلی

بشکریہ بی بی سی

Mohammad Bin Salman Bin Abdulaziz Al Saud, also known as MBS, is the Crown Prince of Saudi Arabia, also serving as First Deputy Prime Minister, President of the Council for Economic and Development.
Born: 31 August 1985 (age 32), Jeddah, Saudi Arabia
Spouse: Sara bint Mashoor bin Abdulaziz Al Saud (m. 2008)
Education: King Saud University
House: House of Saud
Siblings: Sultan bin Salman Al Saud, MORE
Parents: Salman of Saudi Arabia, Fahda Bint Falah Al Hithleen AlAjami
The 32-year-old has become the most influential figure in the world’s leading oil exporter. In June 2017 he was elevated to the position of crown prince, replacing his cousin.

Rasa Chughtai رسا چغتائی چل بسے January 6, 2018

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Ghazal, Kavita, Mushaira, Nazm, Poetry, Shairy, Sher, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags: , , , ,
add a comment

نام مرزا محتشم علی بیگ اور رسا تخلص,۔ ۱۹۲۸ء میں سوائے مادھوپور، ریاست جے پور میں پیدا ہوئے۔۱۹۵۰ء میں ہجرت کرکے پاکستان آئے ۔مختلف اداروں میں ملازم رہے۔روزنامہ ’حریت ‘ کراچی سے بھی وابستہ رہے۔ حضرت بینش سلیمی سے تلمذ حاصل ہے۔حکومت پاکستان نے ان کے ادبی خدمات کے اعتراف میں ۲۰۰۱ء میں انھیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’ریختہ‘، ’زنجیر ہمسائیگی‘، ’تصنیف‘، ’چشمہ ٹھنڈے پانے کا‘، ’تیرے آنے کا انتظار رہا‘۔

رسا چغتائی
Rasa Chughtai Poet

آہٹیں سن رہا ہوں یادوں کی

آج بھی اپنے انتظار میں گم

💜

جنوں کیسا کہاں کا عشق صاحب

‎میں اپنے آپ ہی میں مبتلا ہوں

💜

ترے نزدیک آ کر سوچتا ہوں

میں زندہ تھا کہ اب زندہ ہوا ہوں

💜

حال دل پوچھتے ہو کیا تم نے

ہوتے دیکھا ہے دل اداس کہیں

💜

جن آنکھوں سے مجھے تم دیکھتے ہو

میں ان آنکھوں سے دنیا دیکھتا ہوں

خدا جانے مری گٹھری میں کیا ہے

نہ جانے کیوں اٹھائے پھر رہا ہوں

یہ کوئی اور ہے اے عکس دریا

میں اپنے عکس کو پہچانتا ہوں

نہ آدم ہے نہ آدم زاد کوئی

کن آوازوں سے سر ٹکرا رہا ہوں

مجھے اس بھیڑ میں لگتا ہے ایسا

کہ میں خود سے بچھڑ کے رہ گیا ہوں

جسے سمجھا نہیں شاید کسی نے

میں اپنے عہد کا وہ سانحہ ہوں

نہ جانے کیوں یہ سانسیں چل رہی ہیں

میں اپنی زندگی تو جی چکا ہوں

جہاں موج حوادث چاہے لے جائے

خدا ہوں میں نہ کوئی ناخدا ہوں

جنوں کیسا کہاں کا عشق صاحب

میں اپنے آپ ہی میں مبتلا ہوں

نہیں کچھ دوش اس میں آسماں کا

میں خود ہی اپنی نظروں سے گرا ہوں

طرارے بھر رہا ہے وقت یا رب

کہ میں ہی چلتے چلتے رک گیا ہوں

وہ پہروں آئینہ کیوں دیکھتا ہے

مگر یہ بات میں کیوں سوچتا ہوں

اگر یہ محفل بنت عنب ہے

تو میں ایسا کہاں کا پارسا ہوں

غم اندیشہ ہائے زندگی کیا

تپش سے آگہی کی جل رہا ہوں

ابھی یہ بھی کہاں جانا کہ مرزاؔ

میں کیا ہوں کون ہوں کیا کر رہا ہوں

💜رسا چغتائی

جن آنکھوں سے مجھے تم دیکھتے ہو

میں ان آنکھوں سے دنیا دیکھتا ہوں

💜

اور کچھ یوں ہوا کہ بچوں نے

چھینا جھپٹی میں توڑ ڈالا مجھے

💜

اس گھر کی ساری دیواریں شیشے کی ہیں

لیکن اس گھر کا مالک خود اک پتھر ہے

💜

ترے نزدیک آ کر سوچتا ہوں

میں زندہ تھا کہ اب زندہ ہوا ہوں

💜

اٹھا لایا ہوں سارے خواب اپنے

تری یادوں کے بوسیدہ مکاں سے

رسا چغتائی 💜

ہے لیکن اجنبی ایسا نہیں ہے

وہ چہرہ جو ابھی دیکھا نہیں ہے

بہر صورت ہے ہر صورت اضافی

نظر آتا ہے جو ویسا نہیں ہے

اسے کہتے ہیں اندوہ معانی

لب نغمہ گل نغمہ نہیں ہے

لہو میں میرے گردش کر رہا ہے

ابھی وہ حرف جو لکھا نہیں ہے

ہجوم تشنگاں ہے اور دریا

سمجھتا ہے کوئی پیاسا نہیں ہے

عجب میرا قبیلہ ہے کہ جس میں

کوئی میرے قبیلے کا نہیں ہے

جہاں تم ہو وہاں سایہ ہے میرا

جہاں میں ہوں وہاں سایہ نہیں ہے

سر دامان صحرا کھل رہا ہے

مگر وہ پھول جو میرا نہیں ہے

مجھے وہ شخص زندہ کر گیا ہے

جسے خود اپنا اندازہ نہیں ہے

محبت میں رساؔ کھویا ہی کیا تھا

جو یہ کہتے کہ کچھ پایا نہیں ہے

ڈیئر غالب، سالگرہ مبارک December 29, 2017

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Ghazal, Mirza Ghalib, Poetry, Shairy, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
1 comment so far

غالب کی دلی میں اردو کی حالتِ زار

ویسے فیس بک پر تو میں نے اُسی روز گلی قاسم جان، کوچہ بَلّی ماراں، پرانی دلی میں واقع آپ کی حویلی کے صدر دروازے پر کھینچی ہوئی اپنی تصویر پوسٹ کر دی تھی۔ آپ کی تاریخ پیدائش یعنی 27 دسمبر 1797 کا بھی ذکر کر دیا تھا اور یہ بھی کہ ’ریختہ کے استاد’ کو پیدا ہوئے 220 سال ہو چکے ہیں۔ 

Ghalib 1

غالب کی ۱۰۰ ویں برسی کے موقع پر متحدہ پاکستان میں جاری کردہ پندرہ پیسے مالیت کا جاری کردہ ایک یادگار ٹکٹ جس کا نمونہ غالب کی حویلی میں آویزاں ہے۔

ویسے کیا آپ نے کبھی اپنی سالگرہ منائی؟ یا اس زمانے میں ہیپی برتھ ڈے، سالگرہ مبارک اور جنم دن کی شُبھ کامناؤں کا رواج نہیں تھا، آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ کہاں اردو، کہاں اسد اللہ خان غالب کی زبان اور کہاں یہ آفریدی پٹھان۔

ہوا یہ کہ اِسی موسمِ خزاں میں بی بی سی اردو کے وظیفے پر ولایت (لندن) سے آپ کے شہر دِلی گیا تھا تاکہ وہاں ہندی والوں سے ڈِیجیٹل میڈیا کی تربیت حاصل کروں۔۔۔اوہ ہو، آپ دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں گے کہ آخر کو ہے نا پٹھان، خالص اردو میں بھی انگریزی اصطلاحوں کی آمیزش کر ڈالی۔

Ghalib 1
غالب کی مہر کا عکس

آپ تو خیر فورٹ وِلیئم کالج میں استاد کی نوکری ٹھکرا کر وہاں سے اس لیے لوٹ آئے تھے کہ انگریز پرنسپل یعنی صدر مدرس آپ کے استقبال کے لیے کالج کے دروازے پر موجود نہیں تھا۔ مگر انگریز ہندوستان ہی میں نہیں دنیا بھر میں ایسی چھاپ چھوڑ گئے ہیں کہ انگریزی الفاظ ہر زبان کا حصہ بن گئے ہیں۔ ہندی بولنے والوں نے بعض انگریزی اصطلاحوں کے ہندی متبادل اختراع کیے مگر سچ یہ ہے کہ سننے میں مضحکہ خیز سے لگتے ہیں۔

اردو والوں نے یہ کہہ کر کہ ‘اردو کا دامن بڑا وسیع ہے’، دھڑا دھڑ ان ولایتی الفاظ کو سمو لیا۔ ویسے بھی جن انگریزی الفاظ کا اردو متبادل ہے بھی ان میں سے بھی بعض کانوں کو بھلے نہیں لگتے۔ مثلاً لبلبے کو انگریزی میں ‘پینکرِیاس’ کہتے ہیں۔ خدا لگتی کہیے صوتی اعتبار سے آپ کو کونسا لفظ بھایا؟

ارے آپ تو ویب سائٹ، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، سمارٹ فون، سیلفی، فیس بُک، پوسٹ، بی بی سی، ڈیجیٹل اور میڈیا سے بھی مانوس نہیں۔ صرف آپ کے لیے میں ان کا بالترتیب لفظی ترجمہ کرنے کی جسارت کر رہا ہوں: جالا مقام، برقیاتی شمارکنندہ، بین الجال، ذہین آلۂ سماعت، خودعکسی، چہرہ کتاب، چسپی، فرنگی نشریاتی ادارہ، ہندسئی، وسلیہ۔

ان کے بعض اشعار کو اردو کے ساتھ ہندی میں بھی لکھا گیا ہے جب کہ انگریزی میں شعر کا مفہوم بیان کیا گیا ہے

مان گئے نا آپ بھی کہ ترجمے سے اصل فصیح تر ہے۔ ویسے اردو اور انگریزی کے ملاپ سے بننے والی زبان کو بعض لوگ ‘اُردریزی’ کہتے ہیں۔ برا مت مانیے گا آپ کے شہر دلی میں بھی اردو کا حال بے حال ہے۔ 

Ghalib ki poshaak
غالب کی پوشاک

بات ہو رہی تھی آپ کی سالگرہ اور آپ کی حویلی پر میری حاضری کی۔

آپ کے شہر کے تاریخی آثار اور سلاطینِ دلی کی قبریں دیکھنے کے علاوہ میں نظام الدین اولیا، امیرخُسرو، بختیار کاکی اور مٹکا پیر کے مزاروں کو بھی دیکھنے کی غرض سے گیا۔

گزر تو آپ کی آخری آرام گاہ کے پاس سے بھی دو مرتبہ ہوا۔ مگر بقول شخصے آپ نے ‘حاضری’ کی اجازت نہیں دی۔ کیونکہ مجاور سورج ڈوبتے ہی آپ کی قبر کے احاطے کو مقفل کر دیتا تھا۔ خیر، میں جہاں بھی جاتا وہاں کی تصاویر فیس بک پر پوسٹ کر دیتا۔

غالب پسِ مرگ کسی مصور کی آنکھ سے
غالب پسِ مرگ کسی مصور کی آنکھ سے

اب پالکی کا زمانہ تو رہا نہیں، اس لیے چاندنی چوک سے آپ کی حویلی کے لیے سائیکل رکشا لیا۔ مگر رکشابان نے آدھے راستے میں یہ کہہ کر اتار دیا کہ آگے سڑک پر گاڑیوں کا ازدحام ہے لہذا پیدل جانا بہتر ہوگا۔ آپ کی گلی کا پوچھتے پوچھتے آپ کی دہلیز پر پہنچ گیا۔

غالب کی شادی تیرہ برس کی عمر میں ہوگئی تھی
غالب کی شادی تیرہ برس کی عمر میں ہوگئی تھی

حکومتِ ہند نے بائیس سال پہلے عوامی دباؤ میں آکر حویلی کو ہیٹر (گرمالہ) بنانے والوں سے خالی کروا کر اِسے قومی وِرثہ قرار دیدیا تھا۔ ویسے آدھے حصے میں اب بھی کوئی ‘رقیبِ روسیا’ دفتر لگائے بیٹھا ہے۔

حکومت نے غالب کی حویلی سے ہیٹر بنانے والوں کو نکال کر اسے قومی ورثے کا درجہ دیدیا ہے
حکومت نے غالب کی حویلی سے ہیٹر بنانے والوں کو نکال کر اسے قومی ورثے کا درجہ دیدیا ہے

آپ کو یہ سن کر دکھ ہوگا کہ حویلی کی حالت زیادہ اچھی نہیں۔ آپ کی کچھ یادگاریں محفوظ تھیں۔ گرد میں اٹے اشعار کے طُغرے دیواروں پر آویزاں تھے۔ گھر اور دشت کی ویرانی میں مماثلت پیدا کر کے اپنی حویلی کی بے رونقی کا اقرار تو آپ اپنی زندگی ہی میں کر چکے تھے۔

غالب کی حویلی کے ایک حصے میں _سفری انصرام کے گماشتے‘ دفتر اور کاغذات کی نقول بنانے والی کی دکان
غالب کی حویلی کے ایک حصے میں ’سفری انصرام کے گماشتے‘ دفتر اور کاغذات کی نقول بنانے والی کی دکان

ستم یہ ہے کہ جس شعر میں آپ نے اس ویرانی کا ذکر کیا ہے اس کے مِصْرَعِ ثانی میں کسی ستم ظریف نے تصرف کر کے اسے الٹا کر دیا ہے۔ یعنی ‘دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا’ کی بجائے ‘گھر کو دیکھ کے دشت یاد آیا’ لکھ دیا ہے۔ستم بالائے ستم یہ کہ ہندی رسم الخط میں بالکل صحیح طور سے نقل کیا گیا ہے۔ جبکہ اس کا انگریزی ترجمہ بھی اصل شعر کے خاصا قریب ہے۔ اپنی بات کا یقین دلانے کے لیے میں تصویر بھی ساتھ لایا ہوں۔ یہ دیکھیے!

کاش غالب کے شعر کے ساتھ ان ہی کی حویلی میں ایسی زیادتی نہ ہوتی
کاش غالب کے شعر کے ساتھ ان ہی کی حویلی میں ایسی زیادتی نہ ہوتی

آپ تو خیر انتہائی کمزور مغل فرمانروا بہادر شاہ ظفر کے مصاحب تھے۔ دلی والوں نے تو ایک سڑک کی لوح پر شہنشاہ اکبر اعظم کا نام بھی الٹا لکھ دیا ہے۔ اور یہ سب ایسے میں ہو رہا ہے کہ دلی میں آپ کی قبر کے ساتھ ہی غالب اکیڈیمی قائم ہے اور اب تو شہر میں جشنِ ریختہ کا اہتمام بھی باقاعدگی سے ہونے لگا ہے۔

کیا اکبر روڈ کے اکبر کو کسی نے غور سے نہیں دیکھا

کیا اکبر روڈ کے اکبر کو کسی نے غور سے نہیں دیکھاجو ‘چند تصویر بتاں، کچھ حسینوں کے خطوط’ بعد مرنے کے آپ کے گھر سے نکلے، ان کا وہاں کوئی سراغ نہ تھا۔ ہو سکتا ہے اسی کوتوالِ شہر کی شرارت ہو جو نواب جان کے دل میں آپ کے لیے محبت کی وجہ سے آپ کا عدو بن گیا تھا۔

ذکر حویلی کی ویرانی کا ہو رہا تھا۔ میں پہنچا تو وہاں ایک گارڈ (دربان) موجود تھا۔ کچھ دیر بعد ایک نوجوان نے اندر کی کچھ تصاویر بنائیں۔ پھر دو ادھیڑ عمر افراد آئے۔ نام یاد نہیں مگر ایک ہندو تھا دوسرا سِکھ۔ تعارف کے بعد بتایا کہ آس پاس ہی رہتے ہیں اور انھیں اردو پڑھنا نہیں آتی مگر کبھی کبھار اس عظیم شاعر (یعنی آپ) کی حویلی کا چکر لگا لیتے ہیں۔

ویلی میں رکھا دیوانِ غالب کا بوسیدہ نسخہ
حویلی میں رکھا دیوانِ غالب کا بوسیدہ نسخہ

ان صاحبانِ ذوق سے ملاقات کے بعد جس چیز نے مجھے ورطۂ حیرت میں ڈالا وہ تھی آپ کی حویلی میں دو مزید پٹھانوں کی موجودگی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ افغانستان کے صوبے لغمان سے ہندوستان کسی کام سے آئے تھے اور اگلے روز واپسی سے پہلے مرزا غالب کی حویلی دیکھنے آئے ہیں۔

بحیثیتِ شاعر دوسروں نے غالب کا لوہا مانا ہے
بحیثیتِ شاعر دوسروں نے غالب کا لوہا مانا ہے

بحیثیتِ شاعر دوسروں نے تو غالب کا لوہا مانا ہی ہے، انھیں بھی اپنی عظمت کا بخوبی احساس تھا

گویا سوات کے ایک پٹھان کی فرمائش پر، تیراہ کا ایک پٹھان آپ کی حویلی جاتا ہے اور وہاں دو افغان پٹھانوں سے ملاقات ہوتی ہے

استاد ذوق نے تو آپ کی قدر نہیں کی مگر شاید اب وہ گلشن آباد ہو گیا ہے جس کا ذکر آپ نے کیا تھا: ‘میں عندلیبِ گلشنِ ناآفریدہ ہوں’

Kehte Hain Ke Ghalib Ka Hai Andaaz E Bayaan Aur

Kehte Hain Ke Ghalib Ka Hai Andaaz E Bayaan Aur

فقط۔۔۔آپ کے دَرَجات کی بلندی کے لیے دعا گو۔۔۔۔ تحریر: عمر آفریدی

Saffron – زعفران December 11, 2017

Posted by Farzana Naina in Country Foods, South Indian Recipe, Traditional Food, Cookery, Flowers, Food.
Tags: , , , , , , ,
add a comment

zafraan-saffron 1

زعفران: رنگ و نور کا جادو

تحریر: بشکریہ بی بی سی

زعفران کو نازک پتیوں میں رنگ و نور کا جادو کہا جا سکتا ہے جس کا نہ صرف غذاؤں کو خوشبودار اور رنگین بنانے میں دنیا کے ہرگوشے میں استعمال ہوتا ہے بلکہ اس کے طبی فوائد بھی ہیں۔

یونان و مصر و روما بھی اس کے سحر آگيں اور مدہوش کن اثرات سے نہ بچ سکے۔ زعفران کب اور کیسے وجود میں آیا؟ اس کے متعلق مختلف علاقوں کے دلچسپ افسانے ہیں۔

یونانی اساطیر میں یہ پایا جاتا ہے کہ کِرکس نامی گبرو جوان سی لیکس نامی خوبصورت حسینہ کے عشق میں گرفتار ہوا لیکن حسینہ نے اس کے جذبات کی قدر نہ کی اور اسے فالسی رنگ کے خوبصورت پھول میں تبدیل کر دیا۔ یہ فالسی رنگ کا پھول اب زعفران کہلاتا ہے۔

مصر کی قدیم روایت میں اسے قلوپطرہ اور فرعون شاہوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مصر کے قدیم معبد زعفران کے پانی سے پاک کیے جاتے تھے۔ روم کے بادشاہ ‘نیرو’ کے استقبال کے لیے روم کی شاہراہوں پر زعفران کے پھول بکھیر دیے گئے تھے۔ ہوا کے نرم جھونکوں میں بسی زعفران کی خوشبو اور فرش پر بکھرے نازک پھول ایک دلفریب منظر پیش کر رہے تھے۔

انگلستان کی سرزمین میں زعفران کی آمد کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ایڈورڈ سوم کے عہد حکومت میں ایک انگریز سیاح مشرق وسطی سے زعفران کے بیج اپنی چھڑی میں چھپا کر لے آيا تھا۔ والڈن شہر میں اس کی کاشت کا آغاز کیا۔ قسمت نے یاوری کی اور پودے پھلنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے والڈن شہر زعفران سے بھر گیا۔

چودھویں صدی میں سپین زعفران کا اہم مرکز تھا اور آج بھی سپین کا زعفران بہترین زعفران مانا جاتا ہے کیونکہ اس کا رنگ گہرا اور خوشبو دیوانہ کردینے والی ہوتی ہے۔

ہندوستان میں بھی زعفران کی آمد کی کہانی دلچسپی سے خالی نہیں۔ 11ھویں یا 12ھویں صدی میں دو صوفی خواجہ مسعود ولی اور شیخ شریف الدین ولی کشمیر کی وادیوں میں بھٹک رہے تھے۔ اچانک بیمار ہوئے اور مدد کی خاطر پاس کے گاؤں پہنچے۔ صحتیاب ہونے پر زعفران کے دو ‘بلب’ یا گانھیں گاؤں کے سربراہ کو نذر کیں۔ ان دو گانٹھوں نے پامپور کی تقدیر بدل دی جہاں آج بھی بڑے پیمانے پر زعفران کی کاشت ہوتی ہے۔ میلوں تک پھیلے زعفران کے کھیت دلفریب سماں پیش کرتے ہیں۔ پامپور اپنے ان دو صوفیوں کو نہیں بھولا ہے اور ان کے مزار پر لوگوں کی آمد کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

کشمیر کے معروف دانشور محمد یوسف تینگ کو اس کہانی پر یقین نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زعفران اور کشمیر کا پرانا ساتھ ہے۔ کشیمر کے حکمراں یوسف شاہ چک (86-1579) نے پامپور میں زعفران کی کاشت شروع کی تھی۔ حقیقت خواہ کچھ ہو آج پامپور زعفران کی کاشت کا سب سے بڑا مرکز ہے اور وہاں کے دو سو سے زیادہ گاؤں تقریبا ڈھائی ہزار کلو زعفران پیدا کرتے ہیں۔

اکتوبر کے دوسرے اور تیسرے ہفتے سے نومبر کے پہلے ہفتے تک زعفران اپنی بہار پر ہوتا ہے۔ آسمان پر چاند تاروں کا جال اور فرش پر زعفران کی رگین بہار جنت کا منظر پیش کرتی ہے۔

پامپور کے رہائیشی غلام محمد زعفران کے کھیتوں میں بیٹھ کر نمکین چائے پیتے ہوئے ماضی کی داستان دہراتے ہیں۔ کشمیر کے حکمراں یوسف شاہ چاندنی رات میں زعفران کے کھیتوں کی سیر کو نکلے، مدہوشی کا عالم تھا، مہکتی ہوا کے جھونکے، چاند کی مدھم روشنی میں میلوں تک پھیلے زعفران کے کھیت ہوش لیے جاتے تھے۔ اچانک دور سے آتی ہوئی سریلی آواز نے انھیں بے چین کر دیا۔ ہرکارے دوڑائے گئے۔ پتہ چلا کہ ایک معمولی لڑکی زون نغمہ سرا تھی۔ بادشاہ اس خوبصورت اور سریلی آواز کے سحر میں گرفتار ہو گئے اور انھیں کو اپنی ملکہ بنا کر حبہ خاتون کا نام دیا۔

الغرض نازک پتیوں نے ایسا جادو چلایا کہ انسان بے بس ہو کر رہ گيا۔ کشمیر کے شعبۂ سیاحت نے جشنِ زعفران کی بنا ڈالی۔ جب زعفران کے پھولوں پر بہار آتی ہے تو سارا پامپور اور سیاح رقص و سرود کے شادمانی میں ڈوب جاتے ہیں۔ آٹھ روزہ سالانہ جشن پامپور کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

کھانوں میں زعفران کا استعمال ایران کی دین ہے اور یہ مغل بادشاہوں کے دسترخوان میں مخصوص اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ۔۔زعفران اپنی تمامتر صفات کے ساتھ ایک قیمتی اثاثہ ہے جو عوام کی دسترس سے باہر ہے۔

از: سلمی حسین

The spice saffron, as well as being famously expensive, is packed with antioxidants. It is said to help combat depression and lower blood pressure, to soften your skin and hair and is essential in a broad range of dishes from Swedish buns to paella.

Saffron is central to national cuisines from Morocco to the Himalayas, essential to dishes from risotto Milanese to Kashmiri curry. As well as being a sought-after culinary ingredient the versatile spice is also increasingly being added to medications and cosmetics.

کراچی ٹرام December 6, 2017

Posted by Farzana Naina in Cultures, Karachi, Pakistan, Pakistani.
Tags: , , , ,
add a comment

کراچی شہر جتنا قدیم ہے اس میں اتنی ہی ماضی کی یادیں چھپی ہیں، شہر کے بیشتر باسیوں کو شاید اس چیز کا علم  ہی نہیں ہوگا کہ یہاں کبھی سڑکوں پر ٹن ٹن کرتی ٹرام دوڑا کرتی تھیں جو ٹرانسپورٹ کا انتہائی اہم ذریعہ تھیں

قیام پاکستان کے بعد لوگوں کا اندرون ملک سفر کا بڑا ذریعہ ریل گاڑی تھی لیکن اندرون شہر کے لئے آمد و رفت کا اہم ذریعہ ٹرام ہوا کرتی تھی گو کہ اس وقت مالی اعتبار سے مضبوط افراد کے پاس ہی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں لیکن عام شہری تانگوں یا ٹرام میں ہی سفر کیا کرتے تھے۔ جن راستوں سے دن میں کم از کم ایک بار ہمارا گزر ہوتا ہے وہاں کبھی ٹرام بھی چلا کرتی تھی لیکن آج اس کی باقیات کا بھی کوئی وجود نہیں لیکن وہ سڑکیں آج نئے ناموں سے جانی

جاتی ہیں۔

ٹرام ایک چھوٹی ریل گاڑی نما سفری گاڑی تھی جو پٹڑیوں پر چلتی تھی جس میں 60 سے 70 افراد کی بیک وقت بیٹھنے کی گنجائش تھی اور مسافروں کے بیٹھنے کے لئے چاروں اطراف سیٹیں تھیں جب کہ درمیان میں مسافروں کے کھڑے ہونے کی جگہ۔ ٹرام میں کوئی شیشے نہیں بلکہ صرف ایک چھت اور کھڑکیوں کی جگہ بڑ ے بڑے ہوادان ہوتے تھے جو ہنگامی صورت میں ایگزٹ ڈور کا بھی کام دیتے تھے، اگر یوں کہا جائے کہ ٹرام اپنے زمانے کی جدید مسافر گاڑی تھی تو یہ غلط نہ ہوگا۔

آج کراچی آبادی اور رقبے کے اعتبار سے پھیل چکا ہے لیکن آج سے 50 سال قبل کراچی کے نقشے پر اولڈ سٹی ایریا ہی تھا اور یہیں ٹرام چلا کرتی تھی۔ بندر روڈ جسے آج ایم اے جناح روڈ کہا جاتا ہے یہاں ٹرام کا ایک طویل ٹریک تھا جو گرو مندر سے شروع ہوکر ٹاور پر ختم ہوتا تھا اور اسی ٹریک سے مزید دو ٹریک نکلتے تھے ایک کیپری سینما سے سولجر بازار کو جاتا تھااور وہاں سے سیدھا گرومندر اور اسی طرح ایک ٹریک کینٹ اسٹیشن سے سیدھا بندر روڈ پر آکر ملتا تھا۔ ایم اے جناح روڈ کے عین وسط میں جہاں آج دونوں سڑکوں کو تقسیم کرنے کے لئے ڈیوائڈر بناہے وہیں ٹرام کی پٹڑیاں بچھی تھیں اسی طرح کینٹ اسٹیشن سے ایمپریس مارکیٹ اور وہاں سے سیدھا ایم اے جناح روڈ تک سڑک کے بیچ و بیچ پٹڑیاں آتی تھیں۔

کراچی کے70 سالہ بزرگ شہری مشتاق سہیل ٹرام کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ٹرام اپنے زمانے کی تیز ترین اور پرکشش سواری ہوا کرتی تھی جو شہر کے مرکز میں چلا کرتی تھی اور اس کی خاص بات یہ تھی کہ اس کا کا کوئی اسٹاپ نہیں ہوتا تھا اس لئے مسافر چلتی ٹرام پر چڑھا کرتے، جس طرح آج اگر آپ کسی مسافر بس ڈبلیو گیارہ، یا جی سترہ میں سفر کریں تو ان میں بھی مسافروں کو اکثر چلتی بس سے اترنا پڑتا ہے ایسا ہی کچھ ٹرام میں بھی تھا۔ مشتاق سہیل کے مطابق جب کبھی ہمیں تغلق ہاؤس سے ٹاور جانا ہوتا تو تبت سینٹر تک پیدل چلا کرتے اور وہاں ٹرام کا انتظار کرتے اور پھر 10 سے 15  منٹ میں ٹاور پہنچ جایا کرتے تھے، ٹرام میں سفر کرنے کے کچھ اصول تھے کہ آپ کو بھاری بھرکم سامان لے جانے کی ہرگز اجازت نہیں تھی ہاں اگر ایک آدھ بیگ ہو جسے گود میں ہی رکھ لیا جائے تو اسکی اجازت تھی۔

ٹرام کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ اس میں ڈرائیور کے لئے کوئی الگ سے ڈرائیونگ سیٹ نہیں تھی اور وہ بالکل اگلے حصے میں کھڑا ہوکر ایک ہاتھ سے گھنٹی بجاتا رہتا اور دوسرے ہاتھ سے پٹڑی پر چلنے والے لوگوں کو ہٹنے کا اشارہ کرتا رہتا اور دن بھر یہی سلسلہ جاری رہتا تھا۔ 1975 تک جب تک ٹرام چلتی رہی اس کا کرایہ دس پیسے تھا اگر آپ کو گرومندر سے ٹاور جانا ہو یا کینٹ اسٹیشن سے ٹاور یا صدر آنا ہو تو اس کا کرایہ دس پیسے ہی تھا اور اس زمانے میں چونکہ کوچز اور بسیں نہیں تھیں تو اکثر لوگ ٹرام سے ہی سفر کیا کرتے تھے۔

مشتاق سہیل نے اپنے ماضی کو کھریدتے ہوئے بتاتا کہ اس زمانے میں کراچی مختصر اور بہت پرامن شہر ہوا کرتا تھا جو اولڈ سٹی ایریا اور لالو کھیت دس نمبر تک ہی محیط تھا، سوک سینٹر کے قریب قریب اور پیرکالونی سے آگے کچھ نہیں تھا اور اس وقت بڑے بزرگ کہا کرتے تھے کہ شہر سے 12 میل پرے ہے کیکل بیلی بستی یونیورسٹی اور یونیورسٹی جانے کے لئے 40 فٹ کی کچی سڑک تھی جس پر نہ لائٹ تھی اور نہ ہی اسے پکا کیا گیا تھا اور آج جہاں سوئی گیس کا دفتر ہے وہاں لائٹ ہوا کرتی تھی لیکن قریبی علاقے ویران تھے جب کہ طالبعلم عموماً تانگوں پر یونیورسٹی جایا کرتے تھے۔ 60 کی دہائی میں اہم سڑکوں پر ٹرام کے علاوہ ڈبل ڈیکر، بھگیاں اور تانگے چلا کرتے تھے اور انتہائی محدود تعداد میں چند ایک بسیں بھی تھیں اور وہ یہی خستہ حال ون ڈی، فور ایل وغیرہ بسیں تھیں جو آج بھی مسافروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جارہی ہیں جو اسی دور کی یاد تازہ کرتی ہیں۔

عام طور پر بھگیاں اور تانگے بندر روڈ (ایم اے جناح روڈ) سے سولجر بازار سے قائداعظم کے مزارسے ہوتے ہوئے خداداد کالونی اور لائنز ایریا میں چلتے تھے اور لائنز ایریا میں سینٹ پیٹرکس اسکول سے چند قدم کے فاصلے پر اس وقت بھی گھوڑوں کا اصطبل موجود ہے جو اسی دور کی یادگار ہے۔ مشتاق سہیل نے ایک دلچسپ بات یہ بتائی کہ اس زمانے میں کراچی کی سڑکیں دھلا کرتی تھیں جن راستوں پر تانگے اور بھگیاں چلا کرتی تھیں وہاں صبح سویرے پانی سے بھرے ٹینکر آتے اور پھر بڑے بڑے پائیپوں کے ذریعے سڑکوں کی دھلائی کا کام علی الصبح مکمل کرلیا جاتا جس کے بعد سورج نکلنے تک جمع شدہ پانی خشک ہوجاتا اور یہ مشق ہفتہ وار بنیاد پر کی جاتی تھی۔

ایک اور بزرگ شہری محمد علی بابا ٹرام کو جہاز کا درجہ دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ہمارے دور میں غربت انتہا کو تھی، والدین کے پاس پیسے اتنے ہی ہوا کرتے تھے کہ ہمیں دو وقت کا کھانا کھلا سکیں اور ہم دن بھر اپنے والد کے ساتھ کینٹ اسٹیشن پر مزدوری کیا کرتے اور روز بڑی بڑی ریل گاڑیاں دیکھ کر تنگ سے آچکے تھے لیکن جب ٹرام کو کینٹ اسٹیشن کے باہر سے چلتا دیکھتے تو خواہش یہی ہوتی کہ اس میں سفر کیا جائے لیکن جیب میں اتنے پیسے نہ ہوتے کہ ٹرام میں بیٹھنے کی ہمت کرتے اور کبھی کبھی شرارتاً جیسی ہی ٹرام کینٹ اسٹیشن سے صدر کی جانب روانہ ہوتی تو لپک کر اس پر چڑھ جاتے اور تھوڑی ہی دور جاکر اترتے اور پھر وہاں سے دوبارہ پیدل چل کر اسٹیشن آتے۔

واقفان حال کا خیال ہے کہ محمد علی چاؤلہ کی کمپنی کی سربراہی میں چلنے والی ٹرام 1975 میں سیاست کی نذر ہوگئی جب کہ بعض حلقے کہتے ہیں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی اور محمد علی ٹرام وے کمپنی کے درمیان ٹرام منصوبے کا معاہدہ ختم ہوگیا تھا جس کے بعد اسے بند کرنا پڑا لیکن ایک مرتبہ پھر 39 سال بعد سندھ حکومت اولڈ سٹی ایریا میں ٹرام منصوبہ دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہی ہے، لیکن صدر اور اولڈ سٹی ایریا اتنا گنجان ہوچکا ہے کہ یہاں اب ٹرام چلانے کی گنجائش نہیں اور بہتر یہی ہوگا کہ صدر کا ٹریفک متبادل راستوں پر موڑنے کے لئے میٹرو بس طرز کے منصوبے شروع کئے جائیں۔

کراچی میں ٹرام کی مختصر تاریخ :

ایسٹ انڈیا ٹرام وے کمپنی کی جانب سے 10 اپریل1885 کو کراچی میں ٹرام سروس کا افتتاح کیا گیا، ابتدا میں ٹرام اسٹیم انجن پر چلتی تھی لیکن فضائی آلودگی اور شہریوں کی تکلیف کے پیش نظر ایک سال بعد ہی اسے گھوڑوں پر منتقل کردیا گیا یعنی ہر ٹرام کے آگے دو گھوڑوں کو باندھا جاتا جو اسے کھینچ کر منزل تک پہنچانے کا کام دیتے اور ایک عرصہ تک ٹرام کو چلانے کے لئے گھوڑوں کا استعمال کیا گیا۔1910میں پہلی مرتبہ ٹرام کو پیٹرول انجن پر منتقل کیا گیا اور پھر1945 میں اسے ڈیزل انجن سے چلایا جانے لگا۔ ابتدا میں ٹرام کیماڑی سے ایم اے جناح روڈ تک چلا کرتی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ اسے سولجر بازار اور کینٹ اسٹیشن تک بڑھایا گیااور اس طرح ایک ٹریک نشتر روڈ سے ایمپریس مارکیٹ تک بھی بنایا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی پورا ٹرامنصوبہ کراچی کے شہری محمد علی چاؤلہ کو فروخت کرکے رخصت ہوگئی اور1975 تک ٹرام کا سارا نظام محمد علی ٹرام وے کمپنی کے پاس ہی رہا۔

کراچی میں ٹراموے کمپنی کے کاروبار کا آغاز کا سہرا کراچی کے میونسپل سیکریٹری اور معروف انجینئر اور آرکیٹکٹ مسٹر جیمز اسٹریچن کے سر تھا۔ انہوں نے 1881ء میں لندن کے مشتر ایڈورڈ میتھیوز کو ٹراموے کی لائن بچھانے کا ٹینڈر دیا مگر ان لائنوں کی تنصیب کا کام 1883ء میں شروع ہوسکا۔ اکتوبر 1884ء میں یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچا اور 20 اپریل 1885ء کو کراچی میں پہلی مرتبہ ٹرام چلی۔ اس پہلی ٹرام میں سفر کرنے والوں میں سندھ کے اس وقت کے کمشنر مسٹر ہنری نیپئر بی ارسکن بھی شامل تھے۔

شروع شروع میں یہ ٹرام بھاپ سے چلائی جاتی تھی مگر اس بھاپ سے ایک جانب شور پیدا ہوتا تھا اور دوسری جانب فضا میں آلودگی میں اضافہ ہوتا تھا چنانچہ تھوڑے ہی عرصے کے بعد اس کو بند کردیا گیا بعد میں اس کی جگہ چھوٹی اور ہلکی ٹراموں نے لی جنہیں گھوڑے کھینچا کرتے تھے کچھ عرصہ کراچی میں دو منزلہ ٹرامیں بھی چلتی رہیں‘ یہ ٹرامیں بھی گھوڑے ہی کھینچا کرتے تھے۔

بیسویں صدی میں یہ ٹرامیں ڈیزل کی قوت سے چلنے لگیں۔ کراچی میں ٹراموے کے نظام کا مرکز صدر میں ایڈولجی ڈنشا ڈسپنسری تھی۔ اس ڈسپنسری سے ٹراموں کے کئی روٹ شروع ہوتے تھے جو گاندھی گارڈن‘ بولٹن مارکیٹ اور کینٹ ریلوے اسٹیشن تک جایا کرتے تھے۔

یہ ٹرامیں ایسٹ انڈیا ٹراموے کمپنی کی ملکیت تھیں۔ یہ کمپنی 500 روپے سالانہ فی میل کے حساب سے ٹرام لائنوں کی رائلٹی کراچی میونسپلٹی کو ادا کرتی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد ٹراموے کا یہ نظام محمد علی نامی ایک کاروباری شخص نے خرید لیا اور اس کا نام اپنے نام پر محمد علی ٹراموے کمپنی رکھ لیا۔ کمپنی کے زمانہ عروج میں کمپنی کے پاس 63 ٹرامیں تھیں اور اس کا عملہ آٹھ سو افراد پر مشتمل تھا۔ لیکن ایک وقت وہ بھی آیا جب کمپنی کے پاس فقط پانچ ٹرامیں رہ گئی تھیں۔

30 اپریل 1975ء کو کراچی میں نوّے سالہ قدیم ٹراموے کمپنی نے اپنا کاروبار بند کرنے کا اعلان کردی

۔ کراچی کی سڑکوں پر ٹرام آخری مرتبہ چلی اور پھر یہ نظام ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا

Coutesey of Newspapers.

Song for Mohammed By Johann Wolfgang von Goethe December 2, 2017

Posted by Farzana Naina in Poetry.
add a comment

۔ گوئٹے نے نعت جرمن زبان میں لکھی تھی ۔ جرمن سے انگلش میں ‘ ایملی ایزسٹ ‘ نے ترجمہ کیا اور انگلش سے ڈاکٹر شان

الحق حقی نے اردو میں منظوم ترجمہ کیا ۔ یہ نعت اور یہ ترجمہ خاصے کی شے ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نغمہ محمدئ

شاعر : جان وولف وین گوئٹے

انگلش ترجمہ : ایملی ایزسٹ

اردو ترجمہ : ڈاکٹر شان الحق حقی

Song for Mohammed

By: Johann Wolfgang von Goethe

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Behold this rocky spring,

bright with joy

like a twinkling star;

above the clouds

its youth was nourished

by good spirits

among the cliffs in the bushes.

Fresh as a youth

it dances out of the cloud

down to the marble rocks,

cheering again

to the sky.

Along mountainous paths

it chases after colorful pebbles,

and with the step of a young leader

its companion-springs journey

with it onward.

Below in the valley

flowers appear from its footprints,

and the meadow

derives life from its breath.

But no shaded valley can stop it,

no flower,

clasping its knees

and imploring it with loving eyes:

toward the Plains it presses its course,

twisting like a snake.

Brooks nuzzle up

sociably. Now it treads

into the Plain, resplendent with silver,

and the Plain grows silver too,

and the rivers of the Plain

and the brooks of the mountains

cheer and shout: “Brother!

Brother, take your brothers with,

take them with you to your ancient father,

to the eternal ocean,

whose outstretched arms

await us,

who, ah! has opened them in vain

to embrace his yearning children;

for the bleak wasteland’s

greedy sand devours us; the sun above

sucks up all our blood; a hill

clogs us into a pool! Brother,

take your brothers from this Plain,

take your brothers from the mountains,

take them with you to your ancient father!

Come all of you! –

and now [the spring] swells

more grandly: an entire race

lifts the prince up high!

And in rolling triumph

it gives names to the lands and cities

that grow in its path.

Irresistibly it rushes onward,

leaving a wake of flaming-tipped towers

and houses of marble – creations

of its bounty.

Like Atlas it bears cedar houses

upon its giant’s shoulders;

over its head, the wind noisily

blows a thousand flags

as testimony of its glory.

And so it brings its brothers,

its treasures, its children,

effervescent with joy,

to the waiting parent’s bosom.

(Translation from German to English

by Emily Ezust)

نغمہ ء ِ محمدی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ پاکیزہ چشمہ

جواوجِ فلک سے چٹانوں پہ اترا

سحابوں سے اوپر بلند آسمانوں پہ جولاں ملائک کی چشم نگہداشت کے سائے سائے

چٹانوں کی آغوش میں عہد برنائی تک جوئے جولاں بنا

چٹانوں سے نیچے اترتے اترتے

وہ کتنے ہی صد رنگ اَن گھڑ خزف ریزے

آغوشِ شفقت میں اپنی سمیٹے

بہت سے سسکتے ہوئے رینگتے، سُست کم مایہ سوتوں کو چونکاتا ، للکارتا ساتھ لیتا ہوا خوش خراماں چلا

بے نمو وادیاں لہلہانے لگیں

پھول ہی پھول چاروں طرف کھل اٹھے

جس طرف اُس ﷺ کا رخ پھر گیا

اُس ﷺ کے فیضِ قدم سے بہار آگئی

یہ چٹانوں کے پہلو کی چھوٹی سی وادی ہی کچھ

اُس ﷺ کی منزل نہ تھی

وہ تو بڑھتا گیا

کوئی وادی ، کوئی دشت، کوئی چمن، گلستاں، مرغزار

اُس ﷺ کے پائے رواں کو نہ ٹھہرا سکا

اُس ﷺ کے آگے ابھی اور صحرا بھی تھے

خشک نہريں بھی تھیں ، اُترے دریا بھی تھے ۔

سیلِ جاں بخش کے ، اُس ﷺ کے سب منتظر

جوق در جوق پاس اُس ﷺ کے آنے لگے

شور آمد کا اُسﷺ کی اٹھانے لگے

راہبر ﷺ ساتھ ہم کو بھی لیتے چلو

کب سے تھیں پستیاں ہم کو جکڑے ہوئے

راہ گھیرے ہوئے ، پاؤں پکڑے ہوئے

یاد آتا ہے مسکن پرانا ہمیں

آسمانوں کی جانب ہے جانا ہمیں

ورنہ یونہی نشیبوں میں دھنس جائیں گے

جال میں اِن زمینوں کے پھنس جائیں گے

اپنے خالق کی آواز کانوں میں ہے

اپنی منزل وہيں آسمانوں میں ہے

گرد آلود ہیں پاک کر دے ہمیں

آ ۔ ہم آغوش ِ افلاک کردے ہمیں

وہ رواں ہے ، رواں ہے ، رواں اب بھی ہے

ساتھ ساتھ اُس کے اک کارواں اب بھی ہے

شہر آتے رہے شہر جاتے رہے

اُس ﷺ کے دم سے سبھی فیض پاتے رہے

اُس ﷺ کے ہر موڑ پر ایک دنیا نئی

ہر قدم پر طلوع ایک فردا نئی

قصر ابھرا کيے خواب ہوتے گئے

کتنے منظر تہہ ِ آب ہوتے گئے

شاہ اور شاہیاں خواب ہوتی گئیں

عظمتیں کتنی نایاب ہوتی گئیں

اُس ﷺ کی رحمت کا دھارا ہے اب بھی رواں

از زمیں تا فلک

از فلک تا زمیں

از ازل تا ابد جاوداں ، بیکراں

دشت و در ، گلشن و گل سے بے واسطہ

فیض یاب اس سے کل

اور خود کل سے بے واسطہ

(از شان الحق حقی)

ــــــــ

 

گل از رخت آموخته نازك بدني را – مولانا جامی November 30, 2017

Posted by Farzana Naina in Kavita, Nazm, Poetry, Shairy, Urdu Shairy.
Tags: , , ,
add a comment

گل از رخت آموخته نازك بدني را

پھول نے نزاکت کا سبق آپ سے لیا ہے  

بلبل ز تو آموخته شيرين سخني را

بلبل نے شیریں نغمگی آپ سے سیکھی

هر كس كه لب لعل ترا ديد، به خود گفت

جس کسی نے تیرے لبوں کو دیکھا اس نے دل میں کہا

حقا كه چه خوش كنده عقيق يمني را

کیا ہی خوبصورت تراشا ہوا یمنی عقیق ہے

خياط ازل دوخته بر قامت زيبات

خیاط ازل نے تیری خوش قامتی پر

بر قد تو اين جامه ي سبز چمني را

تیرے قد کے موافق خوب سبز لباس بنایا ہے

در عشقِ تو دندان شکستند به الفت

تیرے عشق میں اپنے دانت جب انہوں نے تڑوائے

تو نامه رسانید اویس قرني را

تو آپ نے اویس قرنی کے نام نامہ بھیجا

از جامؔی بيچاره رسانيدہ سلامی

بر درگه دربار رسول مدني را

مجبور جامی کی طرف سے سلام پہنچاؤ رسول مصطفی کے حضور۔

فلم پدماوتی – Padmawati November 27, 2017

Posted by Farzana Naina in Film and Music.
Tags: , , , , ,
add a comment

 ‘اصل ناانصافی تو ’علاوالدین خلجی‘ کے ساتھ ہوئی ہے

padmawati

ہندوستانی سینما میں سنجے لیلا بھنسالی ہمہ جہت صلاحیتیں رکھنے والے فلم ساز ہیں۔ کمرشل اور آرٹ سینما میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، بالخصوص آرٹ سینما کے لیے فلمیں تخلیق کرتے وقت اِس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ کمرشل فلموں کی طرح پسند کی جائیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی فلموں کے اسکرپٹ اور اداکاروں کے انتخاب میں بے حد حساس واقع ہوئے ہیں، خاص طور پر برِصغیر کی تاریخ اُن کا پسندیدہ موضوع ہے۔

اِس تناظر میں اب تک وہ ’باجی راؤ مستانی‘ جیسی شاندار فلم بھی بنا چکے ہیں، جبکہ ’خاموشی‘، ’گزارش‘، ’بلیک‘، ’ہم دل دے چکے صنم‘، ’دیو داس‘ اور ’رام لیلا‘ جیسی عمدہ فلمیں بھی اِن کے کھاتے میں سنہری حروف میں درج ہیں۔

فلم ’پدماوتی‘ کے تنازعہ کی ابتداء اور بگڑتی صورتحال

گزشتہ برس سے سنجے لیلا بھنسالی اپنی نئی فلم پدماوتی پر کام کررہے ہیں۔ بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے اِس بار موضوع کے انتخاب میں اُن سے کوئی تکنیکی غلطی ہوئی ہے کیونکہ اِس فلم کے حصے میں اب تک صرف تنازعات ہی آئے ہیں۔ پچھلے سال مغربی ہندوستان کی ریاست راجستھان کے شہر جے پور کے معروف تاریخی مقام ’جے گڑھ فورٹ‘ میں سنجے لیلا بھنسالی اور اُن کے ساتھیوں پر انتہاپسندوں کی طرف سے حملہ ہوا، کچھ عرصے بعد ایک اور ریاست مہاراشٹرا کے شہر کولہا پور میں اُن کی فلم کا سیٹ نذرِ آتش کردیا گیا۔ مختلف لسانی و مذہبی تنظمیوں کی طرف سے دھمکیوں کا تاحال سلسلہ جاری ہے، جن میں انتہا پسند ہندو راجپوتوں کی تنظیم ’کرنی سینا‘ پیش پیش ہے۔

انتہا پسندوں نے پدماوتی کا کردار نبھانے والی اداکارہ دپیکا پڈوکون کی ناک اور اداکار رنویر سنگھ کی ٹانگیں کاٹنے کی دھمکی دی ہے، جبکہ دوسری طرف حکمراں جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما سورج پال امو نے سنجے لیلا بھنسالی اور دپیکا پڈوکون کا سر قلم کرنے پر 10 کروڑ روپے کا انعام بھی مقرر کیا ہے۔ ایک اور انتہاپسند تنظیم کی طرف سے اِن دونوں کے سر کی قیمت 5 کروڑ لگائی جاچکی ہے۔ حال ہی میں بھارتی شہر جے پور کے مشہور ’نہر گڑھ ‘ قلعہ پر ایک شخص کی پھندہ لگی لاش بھی جھولتی ہوئی پائی گئی ہے، جبکہ اُس کے قریب ایک دھمکی آمیز تحریر بھی ملی، جس پر کئی مزید دھمکیوں کے ساتھ ساتھ ’پدماوتی‘ درج تھا

مخالفت اور حمایت میں بلند ہونے والی آوازیں

اِس فلم کی مخالف آوازوں میں ایک طرف تو ہندوستان کی حکمران پارٹی بی جے پی، حزبِ اختلاف کانگریس، راجستھان کا سابق شاہی خاندان، انتہا پسند تنظیم بجرنگ دل، مدھیا پردیش کے وزیر اعلیٰ سمیت کئی بھارتی فنکار بھی شامل ہیں، لیکن مخالف رائے رکھنے والے فنکاروں کی اکثریت تاحال خاموش ہے۔ دوسری طرف چند ایک فنکاروں نے اِس فلم کی حمایت میں بھی اپنی آواز بلند کی، جن میں سلمان خان، شبانہ اعظمی، کرن جوہر، فرحان اختر، ہریتک روشن، انوراگ کیشپ، رام گوپال ورما، عالیہ بھٹ وغیرہ شامل ہیں۔ اِن کے علاوہ بولی ووڈ کی چھوٹی بڑی تنظیموں سمیت ’انڈین فلمز اینڈ ٹی وی ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن‘ نے بھی اپنا احتجاج بلند کیا ہے، جس میں انہوں نے خود سنجے لیلابھنسالی کے ساتھ کھڑے ہونے کا عندیہ دیا ہے۔

فلم کی نمائش منسوخی اور نئی تاریخ

ابتدائی طور پر اِس فلم کی ریلیز کا دن یکم دسمبر 2017ء تھا، پہلے سینسر بورڈ کی طرف سے اِس کو روکا گیا، لیکن عدالتی حکم کے بعد نمائش کرنے کی اجازت دے دی گئی، مگر حالات بگڑتے دیکھ کر سنجے لیلا بھنسالی نے فلم کی نمائش رضاکارانہ طور پر معطل کردی۔ اب اِس فلم کو نئی تاریخ کے مطابق 12 جنوری 2018ء یعنی مہینے کے دوسرے ہفتے میں ریلیز کیا جائے گا، البتہ برطانیہ میں یہ فلم دھمکیاں موصول ہونے کے باوجود، یکم دسمبر کو ہی ریلیز ہو رہی ہے۔ ابتدائی دنوں میں پاکستان میں سینما گھروں کی طرف سے بھی اِس فلم کی نمائش کے لیے تشہیر کی گئی تھی، مگر اب انتہائی خاموشی سے اِس کی ریلیز اور تشہیر دونوں کا سلسلہ منقطع کردیا گیا ہے۔

‘پدماوتی‘ تاریخ کی نگاہ سے

چونکہ اِس فلم کی وجہ سے کئی بڑے تنازعات نے جنم لیا اور اب نوبت موجودہ حالات تک آن پہنچی ہے، اِس لیے اِسی تناظر میں مزید کچھ باتیں جاننے کی ضرورت ہے۔

اِس فلم کا مرکزی خیال 1540ء میں لکھی گئی طویل نظم ’پدماوتی‘ سے لیا گیا ہے، جس کے خالق صوفی شاعر ملک محمد جائسی ہیں۔ اِس نظم کے مطابق، کہانی میں راوی ایک توتا ہے، جو چتوڑ کی رانی پدماوتی کے لیے شوہر تلاش کرتا ہے، اور کئی مواقعوں پر اپنی جان بچاکر اِس کہانی کو آگے بڑھاتا ہے۔

0009bcg

نظم کے مطابق سلطان علاؤالدین خلجی مہارانی پدماوتی کے حُسن کے بارے میں جان کر اُس پر فریفتہ ہوجاتا ہے اور اُس کو حاصل کرنے کی خاطر چتوڑ پر چڑھ دوڑتا ہے۔ چتوڑ کا راجا رتن سین قلعہ بند ہوجاتا ہے، سلطان کئی مہینے انتظار کرنے کے بعد شکست خوردہ ہوتا ہے، اور ایک موقع پر راجا رتن سین سلطان کو محل میں کھانے کی دعوت دیتا ہے، جہاں وہ آئینے میں مہارانی پدماوتی کا دیدار بھی کرلیتا ہے۔ سلطان مہارانی کو حاصل کرنے کے لیے راجا رتن سین کو دھوکے سے قید کرکے دہلی لے آتا ہے، جہاں سے مہارانی پدماوتی اُسے آزاد کروا لیتی ہے۔ جس کے بعد سلطان اور راجا کے مابین کھلی جنگ ہوتی ہے، جس میں راجا جان سے جاتا ہے اور مہارانی اپنے شوہر کے ساتھ ستی ہوجاتی ہے۔

اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر سنجے لیلا بھنسالی کی فلم کا مرکزی خیال صوفی شاعر محمد ملک جائسی کی نظم سے ہی لیا گیا ہے، تو پھر ہندوستانی راجپوتوں کے اعتراضات کی گنجائش نہیں بنتی، کیونکہ اِس نظم کی بابت ہندوستان میں ہر کوئی واقف ہے کہ یہ راجستھان سمیت کئی ریاستوں کے نصاب میں بھی شامل ہے۔ سنجے لیلا بھنسالی نے واضح طور پر کہا ہے کہ ’اِس فلم کا مرکزی خیال اُسی نظم سے لیا گیا جبکہ سلطان علاؤالدین خلجی اور رانی پدماوتی کا کوئی رومانوی منظر فلم کاحصہ نہیں ہے۔‘

کہانی کی تاریخی حیثیت فلم بننے سے پہلے بھی متنازعہ ہے، لیکن اِس کے باوجود اِسے راجپوتوں کے ہاں خاص تاریخی و نسلی تقدس حاصل ہے، پھر اِسی کہانی پر فلم بن جانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں، جس پر اتنا واویلا کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین یک طرفہ راگ آلاپے جا رہے ہیں اور اُن کا خیال ہے کہ فلم میں سلطان اور رانی کے مابین رومانوی منظر کشی کی گئی ہے۔

تاریخی مغالطے

معروف تاریخ دان محمد احتشام الدین دہلوی کا خیال ہے کہ ’اِس کہانی میں بیان کردہ واقعات کو سچ مان بھی لیا جائے تو تاریخی وجوہات کی بناء پر اِس واقعہ کو سلطان غیاث الدین خلجی سے جوڑا جاسکتا ہے، جو علاؤالدین خلجی کے دو سو برس بعد ’مالوہ‘ کا حکمران گزرا ہے۔ جس کی سرحدیں ریاست چتوڑ سے ملتی تھیں اور اُن کے مابین جھڑپیں وغیرہ بھی ہوا کرتی تھیں۔‘

دیگر تاریخی حقائق کی چھان بین کی جائے تو کئی طرح کے تضادات سامنے آتے ہیں۔ مثال کے طور پر ملک محمد جائسی کی نظم کے مطابق، علاؤالدین خلجی اور راجا رتن سین کے مابین 8 سال تک مسلسل جنگ ہوتی رہی، جبکہ تاریخ بتاتی ہے کہ علاؤالدین خلجی نے ایک ہی بار میں چتوڑ کو فتح کرلیا تھا۔ اِسی طرح سلطان علاؤالدین خلجی کے زمانے میں چتوڑ کے راجا رتن سین نہیں بلکہ لکھم سین تھے۔

تاریخ دانوں کے مطابق غیاث الدین خلجی کے زمانے میں چتوڑ کے راجا رتن سین تھے اور عورتوں کے حُسن کا پرستار علاؤالدین خلجی نہیں بلکہ غیاث الدین خلجی تھا، اور یہی وجہ ہے کہ اُس کے بارے میں تو یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ وہ اِس طرح کی حرکت میں ملوث ہوسکتا ہے، مگر سلطان علاؤالدین خلجی کا اِس قصے میں دور دور تک کوئی وجود نہیں ہے۔

پدماوتی اور امیرخسرو

اب اِس صورتحال میں تاریخی پہلوؤں کے تناظر میں جو تشویشناک پہلو ہے وہ یہ کہ اب تک اِس طرف زیادہ توجہ نہیں دی گئی کہ صوفی شاعر ملک محمد جائسی کی نظم کا متن تاریخی حقائق پر مبنی ہے بھی یا نہیں؟ اِس طویل نظم کے دو حصے ہیں، جن میں تخیلاتی طور پر سلطان اور مہارانی کا قصہ بنایا گیا ہے اور حقیقت سے اِس کا کوئی تعلق نہیں تھا، کیونکہ سب کچھ تاریخ کے کاغذات میں درج اور موجود ہے۔

ہندوستان میں، ترک نژاد علاؤالدین خلجی 1296ء میں دہلی کے سلطان بنے تھے۔ اُن کے 721 سال بعد یہ فلم ’پدماوتی‘ بن رہی ہے، جبکہ ملک محمد جائسی کی نظم 1540ء میں لکھی گئی، جب ہندوستان کا حکمران شیر شاہ سوری تھا۔ علاؤالدین خلجی نے جب چتوڑ فتح کیا تو اُن کے ہمراہ معروف موسیقار اور عالم امیر خسرو بھی تھے۔ اُس وقت کے مورخین میں، امیر خسرو سمیت کسی کی لکھی ہوئی تاریخ میں اِس قصے کا کوئی تذکرہ تو دور کی بات جھلک تک نہیں ملتی۔

اِس کے طویل عرصے بعد تاریخ فیروز شاہی لکھی گئی، جس میں سلطان علاؤالدین خلجی کی کمزوریوں اور خرابیوں کو بھی بیان کیا گیا، مگر اُس تاریخ میں بھی پدماوتی کے ساتھ کسی تعلق کا تذکرہ نہیں ملتا، لہٰذا اِس تناظر میں سب سے زیادہ ناانصافی کسی کے ساتھ ہوئی ہے تو وہ ہندوستانی راجپوت یا سنجے لیلا بھنسالی نہیں، نہ ہی مہارانی پدماوتی اور دپیکا پڈوکون ہے، بلکہ وہ تاریخ کا معروف حکمران علاؤالدین خلجی ہے، جس کے کردار کو پہلے ایک نظم میں مسخ کیا گیا، اور اُسی مسخ شدہ تصور کی توسیع زیرِ نظر فلم پدماوتی میں کی گئی۔

سلطان علاؤالدین خلجی کے ساتھ ناانصافی

پدماوتی جیسے خیالی کردار کے لیے تو ہندوستان میں ایک طوفان برپا ہے، مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک حقیقی اور انصاف پر مبنی کردار کو جس بُری طرح مسخ کیا گیا، اُس پر کوئی بات نہیں ہو رہی۔ اِس تاریخی خیانت کے مرتکب تمام متعلقہ لوگ تاریخ کو جوابدہ ہوں گے۔ اِن تمام حوالوں کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد تو ایک خیال یہ بھی آتا ہے کہ اِس فلم کے ذریعے جس طرح سلطان علاؤالدین خلجی کے کردار کو مسخ کیا گیا ہے، اُس پر مسلمان کوئی آواز نہ اُٹھا سکیں، اُسی کے سدِباب کے طور پر یہ سب ناٹک رچایا گیا، وگرنہ ایسا بھی کیا کہ، جس بات کا سارے فسانے میں ذکر ہی نہیں، وہ بات اُن کو اتنی ناگوار کیوں گزر رہی ہے؟ اب ایسا لگتا ہے کہ اِس فلم ’پدماوتی‘ کو کامیاب بنانے کے لیے کہیں پہلے یہ ڈراما تو نہیں پلانٹ کیا گیا، کیونکہ تاریخی حقائق اور عہدِ حاضر کے مورخین کچھ اور کہہ رہے ہیں، ملاحظہ کیجیے۔

گھر کی گواہی

بی بی سی ہندی سروس، دہلی نے، انڈیا کی معروف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کے سربراہ اور ہندوستان کی عہدِ وسطیٰ کی تاریخ کے ماہر پروفیسر سید علی ندیم رضوی سے گفتگو کی۔ اُن کے مطابق فلم پدماوتی میں افسانوی کردار مہارانی پدماوتی کو کس طرح سے دکھایا گیا ہے، اِس پر تو سب مخالفت کر رہے ہیں، لیکن فلمساز (بھنسالی) نے اصل ناانصافی تو علاؤالدین خلجی کے ساتھ کی ہے۔ اِس فلم میں علاؤالدین خلجی کو کچھ اِس طرح پیش کیا گیا ہے، جیسے وہ کوئی وحشی، سفاک، جنگلی اور ظالم حکمران ہو، نوچ نوچ کر کھاتا ہو، عجیب و غریب کپڑے پہنتا ہو۔ لیکن درحقیقت وہ اپنے دور کے بہت مہذب شخص تھے۔ جنہوں نے کئی ایسے اقدامات کیے، جن کے اثرات آج تک نظر آتے ہیں۔ اُن کا شمار ہندوستان کے سب سے روشن خیال حکمرانوں میں ہوتا ہے۔ جس گنگا جمنا تہذیب کے لیے ہندوستان مشہور ہے اور جسے بعد میں اکبر نے آگے بڑھایا، اُس کی ابتداء علاؤالدین خلجی نے ہی کی تھی۔

پروفیسر سید علی ندیم رضوی کی گفتگو اور دیگر مورخین کی لکھی ہوئی تاریخ، جہاں جہاں بھی علاؤالدین خلجی کا تذکرہ موجود ہے، وہاں ایسا ماحول، معاشرت، طرزِ زندگی، آدابِ مجلس اور جذباتی مدو جزر نہیں محسوس ہوتے، جن کی عکس بندی فلم میں کی گئی ہے۔ اِس فلم کے ذریعے مہارانی پدماوتی کا تو کچھ نہیں بگڑے گا، جس طرح سنجے لیلا بھنسالی بیان بھی کرچکے، مگر سلطان خلجی کی شخصیت اور اُن کے دور کو جس طرح مسخ کردیا گیا ہے اُس کی اتنے سنجیدہ اور باصلاحیت فلم ساز سے توقع نہیں تھی، یہ سب حقائق افسوسناک ہیں۔ پھر اِس سے زیادہ تکلیف دہ پہلو پاکستان میں طاری خاموشی بھی ہے، کوئی فنکار، فلم ساز، کسی ثقافتی ادارے کا نمائندہ، کوئی دانشور، کسی نے بھی برِصغیر کی تاریخ کی ایک اہم شخصیت کے کردار کو مسخ کرنے پر کوئی آواز نہیں اٹھائی۔

تاریخ کے منچ پر فلم اور ڈرامے کے کردار

ایسا لگ رہا ہے کہ ہندوستان میں یہ سارا ناٹک سوچی سمجھی سازش ہے اور کچھ عرصے میں تمام چیزیں نارمل ہونے کے بعد فلم بھی ریلیز ہوجائے گی۔ تنازعات کی وجہ سے اب توجہ بھی خوب ملے گی، جس کا اثر باکس آفس پر بھی پڑے گا اور اِن ہنگاموں کے بعد، ہندوستان میں کسی مسلمان کو اِس فلم پر انگلی اُٹھانے کی جرات بھی نہیں ہوگی۔

سنجے لیلا بھنسالی سے گزارش ہے کہ وہ تاریخ کے موضوع پر فلمیں ضرور بنائیں مگر بہتر یہ ہو کہ وہ اپنی فلموں میں فکشن کا لاحقہ لگائیں تاکہ فلم بین کو یہ اندازہ ہوسکے کہ یہ تخیل پر مبنی فلم ہے، جس طرح ماضی میں ’امراؤ جان ادا‘ یا پھر ’مغل اعظم‘ بنائی گئی ہیں۔ فرضی کہانیوں کو، حقیقی اور اصل کہانیاں کہہ کر بیان کریں گے تو وہ متنازعہ بھی ہوں گی اور بدنامی کا باعث بھی بنیں گی۔

تاریخ سے چھیڑ چھاڑ کوئی سلطان کرے یا فلم ساز، یہ بات طے ہے کہ تاریخ اُس کو کبھی معاف نہیں کرتی۔

خرم سہیل اپ ڈیٹ 27 نومبر 2017

بلاگر صحافی، محقق، فری لانس کالم نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

دلی کے سلطان علاؤالدین خلجی نے 1303 عیسوی میں چتوڑ پر حملہ کیا۔ بہت سے راجپوت مانتے ہیں کہ علاؤ الدین خلجی نے راجہ رتن سنگھ کی اہلیہ پدماوتی کے حسن کے قصے سن کر چتوڑ کے لیے کوچ کیا تھا۔

لیکن مورخین کے مطابق اس دور کی دستاویزات میں کہیں رانی پدماوتی کا ذکر نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پدماوتی کا کردار شاعر ملک محمد جائسی نے سولہویں صدی میں تخلیق دیا تھا اور ان کی کہانی پدماوت صرف ایک کہانی ہے، تاریخ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

لیکن راجپوت تنظیمیں اپنے موقف پر قائم ہیں۔ وہ یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ پدماوتی کا کرداد افسانوی ہے اور یہ کہانی چتوڑ پر علاؤ الدین خلجی کے حملے کے تقریباً ڈھائی سو سال بعد لکھی گئی تھی۔

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ فلم میں کوئی ایسا سین نہیں ہونا چاہیے جس سے یہ تاثر بھی ملے کے الاوالدین خلجی اور پدماوتی میں کوئی ۔قربت یا محبت تھی، چاہے یہ سین ڈریم سیکوئنس کے طور پر ہی کیوں نہ فلمایا گیا ہو

BBC.