jump to navigation

Welcome November 4, 2006

Posted by Farzana Naina in Blogroll, Famous Urdu Poets, Farzana Naina, Ghazal, Karachi, Kavita, Naina, Nazm, Nottingham, Pakistan, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Shairy, Sher, Sufi Poets, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
3 comments

قلمی نام : نیناں

برطانیہ میں منظرِ عام پر آنے والی چند شاعرات میں فرزانہ نیناںؔ کا نام بڑا معتبر ہے،۔

متنوع صلاحیتوں کی مالک فرزانہ خان نیناؔں کا تعلق سندھ کے ایک سربر آوردہ خانوادے سے ہے۔

مجلسی اور معاشرتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں اور اپنی ادبی تنظیم نوٹنگھم آرٹس اینڈ لٹریری سوسائٹی کے تحت کئی برس سے مشاعرے و دیگر تقریبات بخوبی منعقد کرواتی رہتی ہیں جو کہ ان کی خوش سلیقگی و خوب ادائیگی کی بھرپور آئینہ دار ہیں،

اس شگفتہ وشستہ ہونہار شاعرہ کے انکل محمد سارنگ لطیفی سندھی زبان کے مشہور شاعر، صحافی اور ڈرامہ نویس تھے اور اس رحجان کا سلسلہ انہی سے جا ملتا ہے،

کراچی سے رشتہء ازدواج میں منسلک ہوکر برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں آباد ہوئیں، شعبہ ٔ ٹیلی کمیونیکیشن میں بطور انسپکٹر ملازمت کی،پھر ٹیچرز ٹریننگ اور بیوٹی کنسلٹنٹ کی تعلیم حاصل کی اور مقامی کالج میں ٹیچنگ کے شعبے سے وابستہ ہوگئیں ساتھ ہی میڈیا اور جرنلزم کے کورسز میں ڈپلوما بھی کیئے یوں مقامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے بھی وابستگی ہوئی،

ان کے پیش کردہ پروگرام خصوصی خوبیوں کی بنا پر دلچسپ اور معلوماتی ہوتے ہیں اور اپنے انداز کی وجہ سے یورپ بھر میں بیحد مقبول ہیں،

ابتدا میں نثری کہانیاں لکھیں اور نظم سے سخن طرازی کا آغاز کیا،جبکہ نثری رنگ میں گہرائیوں کی بدولت کتابوں پر تبصرہ جات اور کالم بھی ایسے دلچسپ لکھتی ہیں کہ پڑھنے والے مزید کا تقاضہ کرتے رہتے ہیں،

فرزانہ نیناںؔ کے خاص نسائی لہجے و منفرد انداز شعرگوئی نے یک لخت اہلِ ذوق کو اپنی جانب متوجہ کر کے برطانیہ کی مسلمہ شاعرات کے طبقے میں اپنا معتبر مقام بنا یا ہوا ہے ،ان کا شعری مجموعہ بعنوان ۔۔’’درد کی نیلی رگیں‘‘ منظرعام پر جب سے آیا ہے تخلیقی چشمے میں ارتعاش پیدا کر رہا ہے،

منفرد نام کی طرح مجموعے کی کتابی شکل و صورت میں بھی انفرادیت ہے، ایک ہی رنگ کا استعمال شاعری میں جس انداز سے پیش کیا گیا ہے وہ اب سے پہلے کسی نے نہیں کیا ،پوری شاعری میں محسوسات کو تمثیلوں کے ذریعے تصاویر کی طرح اجاگر کیا گیا ہے، اشعار میں جذبوں سے پیدا ہونے والی تازگی بدرجہ اتم جھلکتی ہے، ہر مصرعے اور ہر شعر پر ان کے رنگ کی خاص نسائی چھاپ موجود ہے،

آغاز سے ہی یہ دو اشعار ان کا حوالہ بن چکے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

شوخ نظر کی چٹکی نے نقصان کیا
ہاتھوں سے  چائے کے برتن چھوٹے تھے

Blue Flower 41

میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز
اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا

شعری مجموعہ” درد کي نيلي رگيںٰ ”  اپنے نام، کلام ميں نيلے رنگوں کي تماثيل، سائز، ہٗيت، اور تحرير کی چھپائی کے منفرد ہونے کي وجہ سے بہت سراہا گیا ہے، اگر آپ اردوشاعری کے دلدادہ ہيں، جديد شاعری کی باريکيوں سے لطف اندوز ہوتے ہيں تو يہ کتاب اپنی لابريری کی زينت ضرور بنائيں۔
اي ميل کا پتہ :

farzananaina@gmail.com
farzananaina@yahoo.co.uk

welcome blue 106

ISLAMABAD:

Mushaira held in honour of expat poet

(Reporter of Dawn news paper)

• ISLAMABAD, Jan 10: A Mushaira was organized in honour of British-Pakistani Urdu poetess, Farzana Khan ‘Naina’ at the Pakistan Academy of Letters (PAL) on Friday. The event was presided over by the PAL chairman, Iftikhar Arif.

• Mr Arif said Farzana Khan was typical of expatriate poets who had an advantage over native poets in expressing original ideas and imagery. He said this was also a fact that expatriate writers were not well at transmuting feelings with the same intensity. In his view, Farzana Khan was certainly a new distinctive voice in Urdu poetry. She used tender expressions and a strange and novel scheme in meters that reverberated with strong musical beats.

• In fact Iftikhar Arif’s verses, which he read at the end of the Mushaira, sounded like a well deserved tribute to the poetess; Mere Chirag Hunar Ka Mamla Hai Kuch Aur Ek Baar Jala Hai Phir Bujhe Ga Naheen (The Muse this time is bright, and once lighted it will not be extinguished).

• A number of senior poets read their poetical pieces at the Mushaira that was conducted by a literary organization, Danish (Wisdom).

Here, Farzana Khan surprised everyone with the range and depth in the couplet that she read “Meine Kaanon Main Pehan Lee Hai Tumhari Aawaz/Ab Meray Vastey Bekaar Hain Chandi Sona”.

She seeks inspiration for her poetry from the glades of Nottinghamshire, England, the county of Lord Byron and Robin Hood, where she had been living for over many years.

Farzana Khan is a Chair person of Nottingham Arts and Literature Society, She works as a broadcaster for Radio Faza and MATV Sky Digital, besides being a beauty therapist and a consultant for immigrants’ education.

Her book of Urdu poetry titled Dard Ki Neeli Ragen (Blue veins of pain) is a collection of 64 Ghazals and 24 Nazms.

The collection has received favourable reviews from a number of eminent Urdu poets, including Dr.Tahir Tauswi, Rafiuddin Raaz, Prof.Shahida Hassan, Prof.Seher Ansari, Ja zib Qureshi, Haider Sherazi, Sarshar Siddiqui, Naqash Kazmi, Nazir Faruqi, Aqeel Danish, Adil Faruqi, Asi Kashmiri,Prof.Shaukat Wasti, Mohsin Ehsan, who had stated that her work was marked with ‘Multicolour’ words. Everyone was impressed with her boldness as well as her delicate feelings, he added.

In addition there is an extraordinary rhythm. About technical aspects of Farzana’s work, a literary critic, Shaukat Wasti, says it deserve serious study.

Name Naina multi pastle 1

میری شاعری میرے بچپن اور جوانی کی کائنات کےرنگوں میں ڈھلی ہے، یادیں طلسمَاتی منظروں کو لیئےچلی آتی ہیں

وہ منظرجو دیو مالائی کہانیوں کی طرح، الف لیلوی داستانوں کی طرح، مجھےشہرزاد بننے پر مجبور کردیتے ہیں،عمر و عیار کی زنبیل سےہر بار کچھ نہ کچھ نکل آتا ہے، شہر بغداد کی گلیاں اجڑ چکی ہیں،نیل کے پانیوں میں جلتے چراغ، دھواں بن کر اوپر ہی اوپر کسی انجانے دیس میں جا چکے ہیں ، دجلہ کے دھاروں سا جلترنگ کہیں سنائی نہیں دیتا۔۔۔

گلی کےآخری کنارے پر بہنے والا پرنالہ  بنجر ہوچکا ہے جہاں اسکول سے واپس آتے ہوئےمیں،بر کھا رت میں اپنی کاپیاں پھاڑ کر کاغذ کی کشتیوں میں تبدیل کر دیا کر تی تھی۔۔۔

گھر کے پچھواڑے والا سوہانجنےکا درخت اپنے پھولوں اور پھلیوں سمیت وقت کا لقمہ بن چکا ہے، جس کی مٹی سےمجھےکبھی کبھی کبھار چونی اٹھنی مل جاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

پیپل کے درخت کے وہ پتے جن کی پیپی بنا کر میں شہنائی کی آواز سنا کرتی تھی،اس کی لٹکتی ہوئی جڑیں جو مجھےسادھو بن کر ڈراتی تھیں، مہاتما بدھ کے نروان کو تلاش کرتے کرتے پچھلی صدی کی گپھا میں ہی رہ گئے ہیں۔۔۔

میری شاعری نیلگوں وسیع و عریض، شفاف آسمان کا کینوس ہے،جہاں میں اپنی مرضی کی تصویریں پینٹ کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابن ہڈ کےاس شہر کی سرنگیں، نجانے کس طرح میڈ میرین کو لے کر مغلیہ دور کے قلعوں میں جا نکلتی ہیں۔۔۔

لارڈ بائرن اور ڈی ایچ لارنس کا یہ شہر،دھیرے دھیرے مجھے جکڑ تا رہا، ولیم ورڈز ورتھ کے ڈیفوڈل اپنی زرد زرد پلکوں سےسرسوں کےکھیت یاددلاتےرہے۔۔۔

نوٹنگھم شہر کی چوک کے وسط میں لہراتا یونین جیک، نجانے کس طرح سبز پاکستانی پرچم کے چاند تارے میں بدل جاتا ہے۔۔۔

پرانی کیسٹوں میں ریکارڈ کئےہوئےگیت اور دوہے، کسی نہ کسی طرح پائلوں میں رمبھا، سمبھا اور لیٹن کی تھرک پیدا کردیتےہیں۔۔۔

شیلےاور کیٹس کا رومانوی انداز،غالب اور چغتائی کےآرٹ کا مرقع بننےلگتا ہے۔۔۔

مجھے جوگن بنا کر ہندی بھجن سسنے پر بھی مجبور کرتی ہیں ۔۔۔ Hymnsشیلنگ کی

سائنسی حقیقتیں،میرےدرد کو نیلی رگوں میں بدلنےکی وجوہات تلاش کرتی ہیں۔۔۔

کریم کافی،مٹی کی سوندھی سوندھی پیالیوں میں جمی چاندی کے ورق جیسی کھیر بن کر مسجدوں سے آنے والی اذان کی طرح رونگھٹے کھڑے کر دیتی ہے۔۔۔۔

سونےکےنقش و نگار سے مزین کتھیڈرل، اونچےاونچے بلند و بالا گرجا  گھر،مشرق کے سورج چاچا اور چندا ماما کا چہرہ چومتےہیں۔۔۔

وینس کی گلیوں میں گھومتے ہوئے،پانی میں کھڑی عمارتوں کی دیواروں پر کائی کا سبز رنگ ،مجھےسپارہ پڑھانے والی استانی جی کےآنگن میں لگی ترئی کی بیلوں کی طرح لپٹا۔۔۔

جولیٹ کےگھر کی بالکنی میں کھڑے ہو کر،مجھے اپنے گلی محلوں کے لڑ کوں کی سیٹیاں سنائی دیں۔۔۔

شاہ عبدالطیف بھٹائی کےمزار اور سہون شریف سےلائی ہوئی کچےکانچ  کی چوڑیاں، مٹی کےرنگین گگھو گھوڑے جب میں تحفتا اپنےانگریز دوستوں کے لئے لائی تو میری سانس کی مالا فقیروں کے گلوں میں پڑے منکوں کی مانند بکھر کر کاغذپر قلم کی آنکھ سےٹپک گئی۔۔.

شاعری مجھےاپنی ہواؤں میں،پروین شاکر کی خوشبو کی طرح اڑانےلگتی ہے، موتئےکی وہ کلیاں یاد دلاتی ہےجنھیں میں قبل از وقت کھلاکر گجرا بنانے کیلئے، کچا کچا توڑ کر بھیگے بھیگے سفید ململ میں لپیٹ دیا کر تی تھی،اور وہ رات کی رانی جو میری خوابگاہ کی کھڑکی کے پاس تھی ،آج بھی یادوں کی بین پر لہراتی رہتی ہے۔۔۔۔
شاعری ایک نیلا نیلا گہرا سمندر بن کر ان لہروں کے چھینٹے اڑانے پر مجبور کردیتی ہے،جہاں میں اتوار کو گھر والوں کےساتھ جاکر اونٹوں کےگلے میں بجتی گھنٹیوں کےسحر میں مبتلا ،سیپیاں چنتےچنتے، ریت میں سسی کےآنچل کا کنارہ،ڈھونڈنے لگتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنہری دھوپ کےساتھ بچپن کےاس گاؤں کی طرف لےجاتی ہےجہاں ہم گرمیوں کی چھٹیاں گزارنےجاتےتھے،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معصوم سہیلیوں کے پراندوں میں الجھا دیتی ہےجن میں وہ موتی پرو کر نشانی کےطور پر مجھےدیتی تھیں،تاکہ میں انھیں شہر جاکر بھول نہ جاؤں۔۔۔

شاعری وہ نیل کنٹھ ہےجو صرف گاؤں میں نظر آتا تھا،

جس کے بارے میں اپنی کلاس فیلوز کو بتاتےہوئے میں ان کی آنکھوں کی حیرت سےلطف اندوز ہوتی اورصوفی شعرا کےکلام جیسا سرور محسوس کرتی۔۔۔

شاعری ان گلابی گلابوں کےساتھ بہتی ہےجنھیں میں اپنےابو کے گلقند بنانے والےباغوں سےتوڑ کر اپنی جھولی میں بھرکر،ندیا میں ڈالتی اوراس پل پرجو اس وقت بھی مجھےچینی اور جاپانی دیو مالائی کہانیوں کےدیس میں لےجاتا تھا گھنٹوں کھڑی اپنی سہیلیوں کےساتھ اس بات پر جھگڑتی کہ میرےگلاب زیادہ دور گئےہیں۔۔۔۔

صفورے کےاس درخت کی گھنی چھاؤں میں بٹھادیتی ہےجو ہمارے باغیچےمیں تھا اور جس کےنیلےاودے پھول جھڑ کر زمین پر اک غالیچہ بنتی،جس پر سفر کرتے ہوئےمجھے کسی کنکورڈ کی چنگھاڑ نہیں سنائی دیتی تھی۔۔۔

شاعری بڑے بھائی کی محبتوں کی وسعتوں کا وہ نیلا آسمانی حصار ہے،جو کبھی کسی محرومی کےاحساس سےنہیں ٹوٹا۔۔۔۔

کڑوے نیم تلے جھلنے والا وہ پنکھا ہے جس کے جھونکے بڑی باجی کی بانہوں کی طرح میرے گرد لپٹ جاتےہیں۔۔۔

شاعری سڑکوں پر چھوٹے بھائی کی موٹر سائیکل کی طرح فراٹےبھرتی ہےجس پر میں اس کےساتھ سند باد جیسی انگریزی فلمیں دیکھنے جاتی اور واپسی پر جادوگر کے سونگھائے ہوئے نیلے گلاب کےاثر میں واپس آتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اان تتلیوں اور مورنیوں کے پاس لےجاتی ہےجو چھوٹی بہنوں کی صورت، آپی آپی کہہ کر میرے گرد منڈلاتی رہتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔

ان چڑیوں کی چوں چوں سنواتی ہےجن کو میں دادی کی آنکھ بچا کر باسمتی چاول، مٹھیاں بھر بھر کے چپکے سے چھت پر کھلاتی اور ان کی پیار بھری ڈانٹ سنا کرتی تھی۔۔۔

شاعری میرے طوطے کی گردن کے گرد پڑا ہوا سرخ کنٹھا بن جاتی ہے، جس سےٹپکنے والے سرخ لہو کےقطرے یادوں کے دریا میں گرتے ہی لعل و یاقوت بن کر راجکماری کےمحل کو جانےوالی سمت بہتے ہیں، انار کی نارنجی کچی کلیاں ہیں جو نگہت اور شاہین،اپنی امی سےچھپ کر میرے ساتھ توڑلیتیں، جس کے بعد بقیہ انار پکنے تک گھر سے نکلنا بند ہوجا یا کرتا تھا۔۔۔۔

یہ شاعری مجھےمولسری کی ان شاخوں میں چھپادیتی ہے جن پر میں اور شہنازتپتی دوپہروں میں مولسریاں کھا کر ان کی گٹھلیاں راہگیروں کو مارتےاور اپنے آپ کو ماورائی شخصیت سمجھتے۔۔۔

یہ میری سہیلی شیریں کےگھر میں لگے ہوئےشہتوت کےکالےکالے رسیلے گچھوں جیسی ہے جن کا ارغوانی رنگ سفید یو نیفارم سے چھٹائے نہیں چھٹتا ۔۔۔۔

شاعری مجھےان اونچی اونچی محرابوں میں لےجاتی ہے جہاں میں اپنی حسین پھپھیوں کو کہانیوں کی شہَزادیاں سمجھا کرتی ،جن کے پائیں باغ میں لگا جامن کا درخت آج بھی یادوں پر نمک مرچ چھڑک کر کوئلوں اور پپیہوں کی طرح کوکتا ہے، شاعری بلقیس خالہ کا وہ پاندان یاد دلاتی ہے جس میں سپاری کےطرح ان لمحوں کےکٹے ہوئےٹکڑے رکھے ہیں جن میں ،میں ابن صفی صاحب سے حمیدی ،فریدی اور عمران کےآنے والے نئے ناول کی چھان بین کرتی ، خالہ کےہاتھ سے لگے ہوئے پان کا سفید چونا،صفی صاحب کی سفید  کار کی طرح اندر سےکاٹ کر تیز رفتاری سےاب بھی گزرتا ہے۔۔۔

یہ کبھی کبھی مجھےموہنجو دڑو جیسے قبرستان میں کھڑا کر دیتی ہے ، جہاں میں اپنے ماں ،باپ کےلئے فاتحہ پڑھتے ہوئے کورے کانچ کی وقت گھڑی میں ریت کی مانند بکھرنے لگتی ہوں،مصری ممیوں کی طرح حنوط چہروں کو جگانے کی کوشش کرتی ہوں،نیلگوں اداسیاں مجھےگھیر لیتی ہیں، درد کی نیلی رگیں میرے تن بدن پر ابھرنےلگتی ہیں،شب کےنیلگوں اندھیرےمیں سر سراتی دھنیں، سایوں کی مانند ارد گرد ناچنےلگتی ہیں،ان کی نیلاہٹ ،پر اسرار طمانیت کے ساتھ چھن چھن کر دریچوں کا پٹ کھولتی ہے، چکوری کی مانند ،چاند ستاروں کے بتاشے سمیٹنے کی خواہشیں کاغذ کے لبوں پر آجاتی ہیں ،سقراط کے زہریلے پیالےمیں چاشنی ملانےکی کوشش تیز ہو جاتی ہے، ہری ہری گھاس کی باریک پتیوں پہ شبنم کی بوندیں جمتی ہی نہیں،والدین جنت الفردوس کو سدھارے، پردیس نے بہن بھائی اور ہمجولیاں چھین لیں، درد بھرے گیت روح چھیلنے لگے،حساسیت بڑھ گئی  ڈائری کے صفحے کالے ہوتے گئے، دل میں کسک کی کرچیاں چبھتی رہیں، کتابیں اور موسیقی ساتھی بن گئیں، بے تحاشہ مطالعہ کیا، جس لائیبریری سےجو بھی مل جاتا پیاسی ندی کی مانند پی جاتی،رات گئے تک مطالعہ کرتی، دنیا کےمختلف ممالک کےادب سے بھی شناسائی ہوئی، یوں رفتہ رفتہ اس نیلےساگر میں پوری طرح ڈوب گئی۔ ۔ ۔

شاعری ایک اپنی دنیا ہےجہاں کچھ پل کےلئےاچانک سب کی نظر سےاوجھل ہو کر میں شہرِ سبا کی سیڑھیاں چڑھتی ہوں، اسی لیئےمیری شاعری سماجی اور انقلابی مسائل کےبجائے میری اپنی راہ فرار کی جانب جاتی ہے، ورنہ اس دنیا میں کون ہےجس کو ان سےمفر ہے!۔

  شاعری مجھے نیلے نیلےآسمان کی وسعتوں سے بادلوں کے چھوٹے چھوٹے سپید ٹکروں کی مانند، خواب وخیال کی دنیا سے نکال  کر، سرخ سرخ اینٹوں سے بنے ہوئے گھروں کی اس سرزمین پراتار دیتی ہے جہاں میں زندگی کے کٹھن رستوں پر اپنے شوہر کے ساءبان تلے چل رہی ہوں، جہاں میرے پھول سے بچوں کی محبت بھری مہک مجھے تروتازہ و سرشار رکھتی ہے۔Name Naina Iceblue heart

 

Himayat Ali Shair – حمایت علی شاعر July 16, 2019

Posted by Farzana Naina in Poetry.
Tags: ,
add a comment

نامور شاعر جناب حمایت علی شاعر کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں وفات پاگئے ہیں، ان کی تدفین بھی ٹورنٹو میں ہوگی۔

Himayat ali shair - Jaag utha hai sara watan 3

جناب حمایت علی شاعر: 14 جولائی 1926ء کو اورنگ آباد دکن میں پیدا ہوئے تھے۔

قیام پاکستان کے بعد انھوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی اور سندھ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا، بعد ازاں وہ اسی جامعہ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ۔

جناب حمایت علی شاعر کے چار شعری مجموعے آگ میں پھول ، مٹی کا قرض ، تشنگی کا سفر اورہارون کی آواز شائع ہوچکے ہیں جبکہ ان کتابوں کا انتخاب حرف حرف روشنی کے عنوان سے شائع ہواتھا۔ 

انھیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے اپنی خود نوشت سوانح عمری مثنوی کی ہئیت میں تحریر کی جو آئینہ در آئینہ کے نام سے اشاعت پذیر ہو چکی ہے۔

حمایت علی شاعر کی دو نثری کتابیں شیخ ایاز اور شخص و عکس بھی شائع ہو چکی ہیں۔ 

اردو شاعری میں ان کا ایک کارنامہ تین مصرعوں ہر مشتمل ایک نئی صنف سخن ’’ ثلاثی ‘‘ کی ایجاد ہے ۔

جناب حمایت علی شاعر نے مختلف شعبوں میں کام کیا ہے جن میں تدریس ، صحافت، ادارت، ریڈیو، ٹیلیوژن اور فلم کے علاوہ تحقیق کا شعبہ نمایاں ہے۔

ٹیلی ویژن پر ان کے کئی تحقیقی پروگرام پیش کئے جا چکے ہیں ،جن میں پانچ سو سالہ علاقائی زبانوں کے شعراء کا اردو کلام خوشبو کا سفر ،اردو نعتیہ شاعری کے سات سو سال پر ترتیب دیا گیا پروگرام عقیدت کا سفر،احتجاجی شاعری کے چالیس سال پر ترتیب دیا گیا پروگرام لب آزاد، پانچ سو سالہ سندھی شعرا کا اردو کلام محبتوں کے سفیراور تحریک آزادی میں اردو شاعری کا حصہ نشید آزادی کے نام سر فہرست ہیں۔

جناب حمایت علی شاعر نے متعدد فلموں کے لیے گیت بھی تحریر کیے جنھیں نگار اور مصور ایوارڈ سے نوازا گیا۔

ان فلموں میں جب سے دیکھا ہے تمھیں، دل نے تجھے مان لیا،دامن،اک تیرا سہارا،خاموش رہو، کنیز، میرے محبوب، تصویر، کھلونا، درد دل، لوری اور نائلہ کے نام سر فہرست ہیں۔ 

انھوں نے ایک فلم لوری بھی پروڈیوس کی تھی جو اپنے وقت کی کامیاب ترین فلم تھی۔ 

حمایت علی شاعر کے فلمی نغمات کا مجموعہ بھی “تجھ کو معلوم نہیں” کے نام سے شائع ہوچکا ہے ۔

بشکریہ: عقیل عباس جعفری

آنکھ کی قسمت ہے اب بہتا سمندر دیکھنا

اور پھر اک ڈوبتے سورج کا منظر دیکھنا

شام ہو جائے تو دن کا غم منانے کے لیے

ایک شعلہ سا منور اپنے اندر دیکھنا

روشنی میں اپنی شخصیت پہ جب بھی سوچنا

اپنے قد کو اپنے سائے سے بھی کم تر دیکھنا

سنگ منزل استعارہ سنگ مرقد کا نہ ہو

اپنے زندہ جسم کو پتھر بنا کر دیکھنا

کیسی آہٹ ہے پس دیوار آخر کون ہے

آنکھ بنتا جا رہا ہے روزن در دیکھنا

ایسا لگتا ہے کہ دیواروں میں در کھل جائیں گے

سایۂ دیوار کے خاموش تیور دیکھنا

اک طرف اڑتے ابابیل اک طرف اصحاب فیل

اب کے اپنے کعبۂ جاں کا مقدر دیکھنا

صفحۂ قرطاس ہے یا زنگ خوردہ آئینہ

لکھ رہے ہیں آج کیا اپنے سخن ور دیکھنا

Blue flower candle

شاعر؛ حمایت علی شاعر

 

ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ

دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بدل جاتے ہیں لوگ

کس لیے کیجے کسی گم گشتہ جنت کی تلاش

جب کہ مٹی کے کھلونوں سے بہل جاتے ہیں لوگ

کتنے سادہ دل ہیں اب بھی سن کے آواز جرس

پیش و پس سے بے خبر گھر سے نکل جاتے ہیں لوگ

اپنے سائے سائے سرنہوڑائے آہستہ خرام

جانے کس منزل کی جانب آج کل جاتے ہیں لوگ

شمع کے مانند اہل انجمن سے بے نیاز

اکثر اپنی آگ میں چپ چاپ جل جاتے ہیں لوگ

شاعرؔ ان کی دوستی کا اب بھی دم بھرتے ہیں آپ

ٹھوکریں کھا کر تو سنتے ہیں سنبھل جاتے ہیں لوگ

Blue flower candle

حمایت علی شاعر کی فلمی شاعری کی مکمل تفصیلحمایت علی شاعر کی ریلیز کے تناظر میں فلمساز اقبال شہزاد اور ھدایتکار حسن طارق کی “بنجارن ” قرار پائی جس میں ان کا لکھا ھوا ایک سونگ شامل ھوا جس کے بول تھے

“پٹ گھونگھٹ کے کھولے تو جھٹ پٹ آجا بابو جی “

اس گیت کو دیبو نے کمپوز کیا تھا

بعد ازاں اسی سال اقبال یوسف کی جاسوسی فلم

“دال میں کالا ” ریلیز ھوئی اور اس فلم میں بھی ان کا ایک نغمہ

” سمجھ نہ آئے دل کو کہاں لے جاؤں صنم میرے صنم ” مصلح الدین کی دُھن میں صدابند ھوا تھا

اسی سال یعنی 1962 میں الحامد کی “آنچل ” پہلی فلم تھی جس کے تمام نغمات حمایت علی شاعر نے لکھے جنہیں موسیقار خلیل احمد (پہلی فلم) نے دلکش دُھنوں سے مزیّن کیا تھا جس میں بیشتر نے مقبولیت اور پسندیدگی کا درجہ حاصل کیا,

بالخصوص

“تجھ کو معلوم نہیں تجھ کو بھلا کیا معلوم”

اور

” کسی چمن میں رھو تم بہار بن کے رھو “

آج بھی ذوق و شوق سے سُنے جاتے ھیں

اسی فلم سے انہیں سال کے بہترین شاعر کا پہلا نگار ایوارڈ تفویض ھوا

حمایت علی شاعر نے مجموعی طور پر ریلیز شدہ 32 فلمز میں 130 نغمات لکھے

جبکہ ” لوری ” کے علاوہ انہوں نے ایک اور فلم” گڑیا ” بھی پروڈیوس کی تھی جو مکمل ھونے کے باوجود ریلیز سے محروم رھی

سال با سال کارکردگی کا ایک جائزہ

1..بنجارن………………………… 1962…..(ایک سونگ

2..دال میں کالا…………….. …1962…..(ایک سونگ

3..آنچل……………………………..1962…..(9, سونگس

4..جب سے دیکھا ھے تمہیں..1963…..(9, سونگس

5..دل نے تجھے مان لیا……….1963……(7, سونگس

6..شرارت………………………….1963……(ایک سونگ

7..دامن…………………………….1963……(7, سونگس

8..اِک تیرا سہارا………………. 1963……(ایک سونگ

9..تانگے والا…………………….. 1963……(2, سونگس

10..انسپکٹر……………………. 1964…….(6, سونگس

11..جھلک………………………. 1964…….(3, سونگس

12..خاموش رھو…………….. 1964…….(3, سونگس

13..مجاھد……………………… 1965…….(3, سونگس

14..کنیز…………………………. 1965…….(7, سونگس

15..تصویر……………………….1966…….(7, سونگس

16..عادل……………………….. 1966…….(2, سونگس

17..بدنام……………………….. 1966…….(ایک سونگ

18..میرے محبوب………….. 1966…….(8, سونگس

19..لوری……………………….. 1966…….(8, سونگس

20..دردِ دل ……………….1966…….(8, سونگس

21..پائل کی جھنکار………. 1966…….(ایک سونگ

22..میں وہ نہیں……………. 1967…….(7, سونگس

23..حُسن کا چور…………… 1967…….(5, سونگس

24..اُلفت……………………….. 1967…….(ایک سونگ

25..کھلونا…………………….. 1968…….(6, سونگس

26..بالم………………………… 1968……. (6, سونگس

27..چودھویں صدی…….. 1969……..(ایک سونگ

28..جھک گیا آسمان…….. 1970……..(ایک سونگ

29..شہر اور سائے………… 1974……. (4, سونگس)

30..خاندان………………….. 1980 ……..(ایک سونگ

31..آس پاس……………….. 1982………(ایک سونگ

32.. چکر…………………….. 1988 …….. (2, سونگس

حمایت علی شاعر کے چند مقبول فلمی سونگس…

**کسی چمن میں رھو تم بہار بن کے روپ…

فلم آنچل

** تجھ کو معلوم نہیں تجھ کو بھلا کیا معلوم..

فلم آنچل

**ھم نے تو تمہیں دل دے ھی دیا…

فلم پائل کی جھنکار

**اپنے پرچم تلے ھر سپاھی چلے….

فلم اک تیرا سہارا

**یہ خوشی عجب خوشی ھے…..

فلم جب سے دیکھا ھے تمہیں

**نہ چھڑا سکو گے دامن نہ نظر بچا سکو گے…

فلم دامن

**میں نے تو پریت نبھائی تھی سانوریا نکلا تو ھرجائی…

فلم خاموش رھو

**ساتھیو, مجاھدو, جاگ اُٹھا ھے سارا وطن…

فلم مجاھد

**پیاری ماں دعا کرو میں جلد بڑا ھوجاؤں…

فلم عادل

**ھم بھی مسافر تم بھی مسافر کون کسی کا ھوئے…

فلم بدنام

**گُل کہوں, خوشبو کہوں, ساغر کہوں, صہبا کہوں…

فلم کھلونا

**ھوا آنچل اُڑاتی ھے اُڑانے دو….

فلم جھک گیا آسمان

**ابھی ابھی میں سوچ رھا تھا کیا گاؤں…

فلم آس پاس

بشکریہ: ملک یوسف جمال

پاکستان کی دستکاری June 2, 2019

Posted by Farzana Naina in Culture, Cultures, Handy Crafts, Pakistan, Pakistani, Pakistani Folk, Sindh, Sindhi.
add a comment

BBC_ماہین خان کا برانڈ گلابو 1

ماہرین کا دعویٰ ہے کہ جنوبی ایشیا کے 80 فیصد ہنر پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ یہ ایک حیرت انگیز انکشاف ہے اور اس بات کا ثبوت بھی کہ یہ ملک فن و ثقافت معاملے میں انتہائی خوشحال ہے۔

پاکستان میں جہاں ہم سال میں چھ موسموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہیں ہمیں اس بات پر بھی فخر ہونا چاہیے کہ اس خطے میں بہت سے فنون نے جنم لیا، پروان چڑھے اور آج بھی زندہ ہیں۔

پاکستان کی ثقافتی اور روایتی ہنرمندی اور دستکاری کو ایک کوزے میں بند کرنا ناممکن ہے۔

BBC_chitai2

تیار شدہ ملبوسات کی برانڈ جنریشن نے حال ہی میں پاکستان کی مختلف دستکاریوں پر مشتمل نقشہ جاری کیا ہے جو علاقوں کے حساب سے مخصوص کڑھائیوں سے متعلق ایک بہترین حوالہ ہے

پاکستان کی فیشن کی صنعت میں بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے کے لیے مغربی رحجانات اور انداز اپنائے جاتے رہے ہیں جبکہ پاکستان کے ثْقافتی انداز اور ہنر دیگر دنیا کے لیے کشش کا باعث ہیں۔

ہنر میں بہت کچھ اہمیت کا حامل ہے جس میں شروعات یہاں پر بننے والے کپڑے کی مختلف اقسام سے ہوتی ہے۔

پاکستان بلاشبہ دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں چار اقسام کا مقبول عام ریشم تیار کیا جاتا ہے جس میں شہتوت (ملبیری)، ریشم کے کیڑے (تسور)، ایری، اور موگا سے بنائے بانے والا ریشم شامل ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ دنیا کا مشہور ترین کپڑا ڈینم (جس سے جینز کی پتلون تیار کی جاتی ہے) بھی وادی مہران کی تہذیب کے زمانے میں تیار ہونا شروع ہوا اور آج تک پاکستان میں بنایا جاتا ہے۔

جہاں کپڑے کی بات آتی ہے وہاں اس کے بننے یا بنانے کا عمل بھی ضرور ہوتا ہے جس کے لیے کراچی کے مشہور زمانہ اورنگی ٹاؤن میں ہاتھ سے کپڑا بننے کے بڑے بڑے کارخانے موجود ہیں جہاں بروکیڈ، جامہ وار، کمخواب، بنارسی اور تانچوئی جیسے قیمتی اور زرق برق کپڑے بنے جاتے ہیں۔ یہ تمام کپڑے پاکستان میں عروسی ملبوسات کی تیاری میں استعمال کیے جاتے ہیں جو کہ پاکستان میں ایک بڑا کاروبار ہے۔

تیار شدہ ملبوسات کی برانڈ جنریشن نے حال ہی میں پاکستان کی مختلف دستکاریوں پر مشتمل نقشہ جاری کیا ہے جو علاقوں کے حساب سے مخصوص کڑھائیوں سے متعلق ایک بہترین حوالہ ہے

یہ کپڑے سلائی کے وقت انتہائی مہارت کے ساتھ کارچوبی کڑھائیوں اور بیلوں سے مزین کیے جاتے ہیں۔ یہاں کے رنگریزی کے فن کا ذکر بھی ضروری ہے جن میں چنری اور بندھنی کی رنگائی جس کا رواج صحرائے تھر سے لے کر جنوبی پنجاب تک ہے اور سندھ میں چھاپے کے کام (بلاک پرنٹ) کی اجرک بہت مشہور ہیں۔

کپڑوں پر کڑھائی کے ہنر کی ابتدا ممکنہ طور پر پاکستان کے شمالی علاقوں چترال اور ہنزہ کی کڑھائی دار اونی شالوں سے ہوتی ہے۔ خطے کے سرد اور سخت موسم میں اوڑھنے کے لیے تیار کی جانے والی یہ شالیں اپنے موٹے اونی دھاگے اور گہرے اور گرم رنگوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔

ان ہی دیدہ زیب شالوں کو دیکھتے ہوئے ایک آسٹریلوی خاتون کیتھی بریڈ نے چترال میں ‘پولی اینڈ می’ کے نام سے ایک منصوبے کا آغاز کیا جو نہ صرف اس علاقے کے ہنر کو محفوظ رکھے ہوئے ہے بلکہ اس کے ذریعے خطے کی خواتین کو معاشی خود مختاری بھی حاصل ہوئی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان میں علاقائی ہنرکو محفوظ یا دوبارہ زندہ کرنے کے بہت سے منصوبوں کے پیچھے سماجی ومعاشی خودمختاری کا خیال ہی کار فرما تھا۔ چترال ہی کا ایک اور منصوبہ شوبیناک بھی شمالی علاقہ جات کے ہنر اور دستکاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

پاکستان کی شمالی پٹی کا ایک اور ہنر سوات کا شوخ رنگوں سے کاڑھا جانے والا پھلکاری ٹانکا ہے جس کا استعمال شالوں، کمبل، اور دیگر کپڑوں پر بکثرت کیا جاتا ہے۔ عموما گیروے، پیلے، نارنجی اور آتشی گلابی رنگوں کے دھاگوں سے مزین یہ ٹانکا اس علاقے کی پہچان بن چکا ہے۔

پاکستان کے صوبے پنجاب میں آئیں تو یہاں کی ثقافت مختلف وضع کی خوش رنگ دستکاریوں سے بھری پڑی ہے جن میں شیشے کا کام، سوئی دھاگے کا کام، شیڈو یا الٹی بھرائی کا کام، گوٹے اور جھلمل ستاروں کا کام بہت مشہور ہیں۔’

پنجاب، خاص طور پر ملتان ہاتھ سے بنے ہوئے برتنوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ یہ مشہور زمانہ مٹی کے برتن اس خطے میں صدیوں سے بنائے جارہے ہیں اور ملتان کی پہچان بن چکے ہیں۔

حالانکہ آج کل جدید طریقوں سے برتن بنانے والوں نے اس ہنر کو بھی کراکری اورگھریلو استعمال کی دیگر اشیا میں متعارف کرایا ہے ہے لیکن یہ فن ابتدا میں بڑے پیمانے پر عمارتوں، مسجدوں، مزاروں اور مقبروں کی سجاوٹ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا کیونکہ اس فن میں شامل رنگ اور اشکال فن اسلامی کی ترجمانی کرتے تھے۔

کپڑوں کی طرف واپس آتے ہیں تو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں مختلف اقسام کی نایاب دستکاریوں کا خزانہ موجود ہے۔ یہاں رنگ برنگ، آڑھے ترچھے ٹانکوں کی پیچیدہ کڑھائی کو صوبے میں موجود ان گنت بلوچی قبائل میں مختلف طریقوں کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔

ان میں بلوچی خانہ بدوشوں کے بکری کی کھال سے بنے شامیانے ‘گودان’ کے گرد کی جانے والی کڑھائی ‘دل وبیتاب’ بہت مشہور ہے۔ بلوچستان کے علاقے کچھ کی کڑھائی اپنے تیز رنگوں کی وجہ سے الگ ہی کمال رکھتی ہے اور فرش پر بچھائے جانے دریوں پر چارسوتی ٹانکا پہاڑوں سے گھرے اس صوبے میں بہت ہی مقبول ہے۔

سندھ میں صدیوں سے جاری منفرد رلی کا کام صوبے کی پہچان بن چکا ہے۔

رلی کی تیاری میں کافی وقت لگتا ہے اور سندھ کے اندرونی علاقوں میں جانا بھی جان جوکھوں کا کام کیونکہ وہاں جانے والے راستوں پر ہمیشہ سکیورٹی خدشات ہوتے ہیں۔

یہ ہنر وہ چھوٹی چھوٹی نشانیاں ہیں جو دنیا کے ثقافتی نقشے میں ہمیں ممتاز کرتی ہیں اور امید ہے کہ ہم اس ورثے کو زندہ رکھنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

بتشکر: آمنہ حیدر عیسانی

Sea Silk known As Byssus June 2, 2019

Posted by Farzana Naina in Culture, Handy Crafts, Italy, Pinna Nobilis.
Tags: , , , , , ,
add a comment

سمندری ریشم جسے بُننے میں چھ سال لگتے ہیں

آپ نے ریشم کی کئی قسمیں دیکھی ہوں گی لیکن سمندری ریشم کے بارے میں شاید ہی سنا ہو گا۔ اسے بائیسس (byssus)کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ریشم کی یہ قسم انتہائی مخصوص ہے اور اس کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔

star-silver-2

اس کے متعلق دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک ایک ہی خاندان کی خواتین تقریباً ایک ہزار سال اسے تیار کرنے کے کام میں مشغول ہیں۔ یہ خاندان اٹلی کے سارڈینیا جزیرے پر رہتا تھا اور اب اس خاندان کی ایک ہی خاتون چیارا ویگو بچی ہیں۔ ویگو 62 سال کی ہیں اور آج بھی وہ سمندر سے یہ ریشم نکالنے کا کام کرتی ہیں۔

یہ خیال ظاہر کیا جاتاہے کہ چیارا ویگو دنیا کی اب واحد خاتون ہیں جنھیں سمندری ریشم کو سمندر کی تہہ سے نکالنے سے لے کر اسے تیار کرنے، رنگنے اور کشیدہ کاری کرنے کا ہنر آتا ہے۔ کہتے ہیں کہ سورج کی روشنی پڑنے پر سمندری ریشم سونے کی طرح چمکتا ہے۔

سمندری ریشم کی تاریخ بہت پرانی ہے

ویگو بائسس سے دھاگہ بناتے ہوئے دیکھی جا سکتی ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ پانچ ہزار سال قبل میسوپوٹیمیا میں خواتین اپنے بادشاہ کے لیے جو نفیس کپڑے تیارکرتی تھیں ان میں سمندری ریشم کے تاروں کا استعمال ہوتا تھا۔ روایات کے مطابق حضرت سلیمان کا چغہ اس کپڑے سے تیار کیا گیا تھا۔ جبکہ مصر کے بادشاہ بھی اس کے لباس کو پسند کرتے تھے۔ تورات میں اس کا 45 بار ذکر آيا ہے۔ کہتے ہیں کہ مسیحی رہنما پوپ اور دوسری اہم شخصیات بھی اس کے بنے کپڑے پہننا پسند کرتی تھیں۔

بہت سی روایات میں یہ مذکور ہے کہ خدا نے اپنے پیغمبر موسیٰ کو سمندری ریشم سے معبد کو سجانے کا حکم دیا تھا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہزاروں سال پہلے ویگو کے خاندان نے بائسس یعنی سمندری ریشم کو بننے کے کام کی بنا ڈالی تھی۔ اس سلسلے میں زیادہ معلومات نہیں کہ انھوں نے یہ کام کیوں شروع کیا لیکن گذشتہ ایک ہزار سالوں سے ویگو کے خاندان کی خواتین میں نسل در نسل بائیسس نکالنے، اسے بننے، اس کا پیٹرن بنانے اور رنگنے کا ہنر چلا آ رہا ہے۔ اس کے ساتھ وہ اپنی نئی نسل کو اس فن کو بچا کر آگے بڑھانے کی ہدایت بھی کرتی آئی ہیں۔

star-silver-2

ویگو نے یہ ہنر اپنی نانی سے حاصل کیا۔ انہوں نے دستی کھڈی پر انھیں اسے بنانے کا ہنر سکھایا۔

تین سال کی عمر سے کام شروع کیا تھا

بحری ریشم سے بنائی انتہائی مشکل اور پیچیدہ کام ہے اور ایک رومال بنانے میں چھ سال کا وقت لگ جاتا ہے

سمندری ریشم کو نکالنے کے لیے بھی مخصوص صلاحیت درکار ہے۔ سمندر میں ایک خاص قسم کے جاندار کے جسم پر دھاگہ نما تار اگتے ہیں جہاں سے انھیں کاٹ کر نکالا جاتا ہے۔ سائنس کی زبان میں اسے پنا نوبلس (pinna nobilis) یا شریف قلم کہتے ہیں۔

اس کے ریشے کو نکالنے کے لیے سمندر کی گہرائيوں میں اترنا پڑتا ہے۔ ویگو کہتی ہیں کہ جب وہ صرف تین سال کی تھیں اس وقت سے ہی ان کی نانی انھیں سینٹ اینٹییوکو کے قریب سمندر میں لے جاتی تھیں اور 12 سال کی عمر تک ویگو نے سمندری ریشم بننے کا ہنر سیکھ لیا تھا۔

آج وگو 62 سال کی ہیں اور آج بھی وہ اٹلی کے کوسٹ گارڈز کی نگرانی میں سارڈینیا کے قریب بحیرہ روم کی گہرائیوں سے چاند کی روشنی میں ریشم کے تار نکالتی ہیں۔ اس کے لیے انھیں سمندر میں 15 میٹر کی گہرائی تک اترنا پڑتا ہے۔ ویگوبتاتی ہیں کہ 24 نسلوں سے ان کے یہاں یہ کام ہو رہا ہے۔ 30 گرام ریشے جمع کرنے کے لیے انھیں 100 دفعہ پانی میں غوطہ لگانے ہوتے ہیں۔

ویگو کو لوگ ‘سو میستو’ یعنی استانی کے نام سے پکارتے ہیں اور ایک وقت میں صرف ایک استانی ہو سکتی ہے۔ یہ مقام حاصل کرنے کے لیے ساری زندگی کو اس کام کے لیے وقف کرنا ہوتا ہے اور موجودہ استانی سے اس کے تمام ہنر سیکھنے ہوتے ہیں۔

star-silver-2

یہ کام پیسے کے لیے نہیں ہے

یہ دو سو سال پرانا ہاتھ سے بننے والی مشین ہے جس پر ویگو بحری ریشم سے نمائش کے لیے اشیا بناتی ہیں

سمندری ریشم تیار کرنے کا کام پیسے کمانے کے لیے نہیں کیا جاتا۔ اسے سیکھنے سے پہلے سمندر کی قسم کھانی پڑتی ہے کہ اس ریشم کا استعمال دولت کمانے کے لیے نہیں کیا جائے گا۔ یہ کبھی بھی خریدا یا بیچا نہیں جائے گا۔ ویگو نے بھی اس سے کوئی کمائی نہیں کی۔

جو کچھ بھی سمندری ریشم سے تیار کیا جاتا ہے وہ صرف لوگوں کی نمائش کے لیے ہوتا ہے۔ ویگو نے بائسس کی بہت سے چیزیں بنائی ہیں اور یہ تمام چیزیں برطانیہ میوزیم اور ویٹیکن سٹی میں نمائش کے لیے ہیں۔

ویگو اپنے شوہر کے ساتھ ایک اپارٹمنٹ میں رہتی ہیں اور انھوں نے گھر کے قریب ایک سٹوڈیو بنایا ہے، جسے لوگ دور دور سے دیکھنے آتے ہیں۔ یہاں 200 سال پرانی کھڈی ہے جس پر ویگو کام کرتی ہیں۔

یہاں چھوٹے چھوٹے مرتبان بھی ہیں اور اس میں رکھے قدرتی رنگ سے سمندری ریشم کو رنگا جاتا ہے۔ سٹوڈیو کی دیواروں پر ویگو کو دی جانے والی سند آویزاں ہیں۔

ویگو بحری ریشم کو رنگنے کے لیے مختلف قسم کے قدرتی رنگوں کا استعمال کرتی ہیں

اس سٹوڈیو کا دورہ کرنے والے زائرین ویگو کو کچھ عطیہ دیتے ہیں اور اسی سے ان کا خرچ چلتا ہے۔

سمندری ریشم سے بنا سامان صرف تحفے میں دیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے پوپ بینڈکٹ اور ڈنمارک کی ملکہ کے لیے سمندری ریشم کے پارچے بن کر دیے تھے۔.

جو خواتین ماں بننے کی امید لے کر وہاں آتی ہیں ویگو انھیں بھی برکت کے طور پر کوئی ٹکڑا دے دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بائسس کسی ایک کے لیے نہیں بلکہ سب کے لیے ہے۔ اسے فروخت کرنا سورج اور سمندر سے منافع کمانے کی طرح ہے اور ایسا کرنا گناہ ہے۔

star-silver-2

بحری ریشم کی تیاری آسان نہیں

ویگو 30 گرام بائسس حاصل کرنے کے لیے سمندر میں تقریبا 100 بار غوطے لگاتی ہیں

سمندری ریشم کشید کرنے کا طریقہ بہت پیچیدہ ہے۔ سمندر سے خام بائسس نکالنے کے بعد اسے 25 دنوں تک صاف پانی میں بھگو کر رکھا جاتا ہے تاکہ اس کا نمک ختم ہوجائے۔ ہر تین گھنٹے پر پانی کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔ پھر اسے خشک کیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس کے ریشے الگ ہوتے ہیں۔

ویگو بتاتی ہیں کہ اصلی سمندری ریشم انسانی بالوں کے مقابلے میں تین گنا باریک ہوتا ہے۔ بعد میں ان ریشوں کو زرد رنگ کے محلول میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ویگو کو 124 قسم کے قدرتی رنگوں میں اس ریشم کو رنگنے کی مہارت حاصل ہے۔ یہ رنگ پھل، پھول اور سمندر صدف سے بنائے جاتے ہیں۔

ریشوں سے دھاگہ بنانے میں 15 دن لگتے ہیں اور ایک سینٹی میٹر کپڑے کا وزن محض دو گرام ہوتا ہے۔ اسے بنانے میں تقریباً چھ سال صرف ہوتے ہیں۔ اگر کپڑے پر کوئی تصویر ابھارنی ہو تو مزید وقت لگ جاتا ہے۔

ویگو کو اپنی کھڈی پر کام کرتے دیکھا جا سکتا ہے

ویگو کہتی ہیں کہ اب تک ان کے خاندان نے 140 نمونوں پر کام کیا ہے۔ ان میں سے آٹھ نمونے ایسے ہیں جن کے بارے میں لکھا نہیں گیا بلکہ وہ نسل در نسل زبانی چلے آ رہے ہیں۔اس روایت کو برقرار رکھنے کے لیے ويگو یہ ہنر اب اپنی چھوٹی بیٹی سکھا رہی ہیں۔ ویگو کا کہنا ہے کہ سمندر سے ریشم بنانے کا کام ایک ایسا راز ہے جو ہر کسی کو نہیں بتایا جا سکتا۔ اپنے خاندان میں بھی صرف اسی کو بتایا جاتا ہے جو سمندر کی قسم کھاتا ہے اور اس کا احترام کرتا ہے۔

ویگو کہتی ہیں کہ شاید یہ راز ان کے ساتھ ہی چلا جائے لیکن بائسس ہمیشہ رہے گا۔

star-silver-2Blue Flower Girl in Shell

بتشکر: ایلیٹ سٹین

بی بی سی

ہم اپنے ہی ملک میں پناہ گزینوں کی طرح رہتے ہیں June 2, 2019

Posted by Farzana Naina in Chatai Making, Culture, Cultures, Handy Crafts, Pakistan, Pakistani, Pakistani Folk, Sindh, Sindhi.
add a comment

حیدر آباد کی مشہور ٹھنڈی سڑک کے کنارے بیٹھے زندگی کی تپتی دھوپ سے جھلسے ہوئے ہنرمند جوگی اپنی منفرد دست کاری کا مول نہ ملنے کے باعث مایوس نظر آتے ہیں۔

حیدر آباد پریس کلب کے نزدیک سڑک کنارے لٹکی چٹائیاں ان ماہر دست کاروں کی خاص سوغات ہیں جو وہ آباؤ اجداد کے دور سے بناتے آ رہے ہیں۔

’ہمارے بزرگ سندھ کی سرزمین پر بسے ہیں اس لیے ہمیں اس زمین سے بہت محبت ہے۔ ہم اپنا کام محنت سے کرتے ہیں اور اپنی محرومیوں کی شکایت کسی سے نہیں کرتے لیکن اپنے ہنر کی معقول اجرت نہ ملنے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ہمارا گزارا مشکل ہو گیا ہے۔‘

صبح سے لے کر شام ڈھلے تک جوگیوں کے درجنوں خاندان ٹھنڈی سڑک کے فٹ پاتھ پر ہر آنے جانے والی گاڑی کو حسرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ شاید کوئی ان کے ہنر کو سراہنے والا رک کر ان سے چٹائی سے بنی چیزیں خرید لے۔

’ہمارے بچوں سے لے کر بوڑھے تک یہ کام جانتے ہیں, بچے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے چٹائی بننے کا کام کرتے ہیں۔ اگر ہمیں ہمارے ہنر کی مناسب قیمت ملے تو ہم بھی بچوں کو سکول بھیج سکیں۔‘

گوکل دیو نامی دستکار کا کہنا تھا کہ آس پاس کچھ دکاندار ایسے ہیں جو ہمارے عقیدے کی وجہ سے ہمیں پانی دینا بھی پسند نہیں کرتے۔ انھوں نے بتایا کہ گرمی میں ہمارے بچے کبھی کبھی بھوکے پیاسے چٹائی اور موڑھے بُنتے ہیں۔‘

چٹائی بنانے کا عمل

بانس کی سنہری لکڑیاں یہ جوگی پٹھانوں سے خرید کر لاتے ہیں جس کے بعد ان کی چھٹائی کا کام کیا جاتا ہے۔ کالے اور پھر سفید ڈوروں کی مدد سے بنائی کا کام کیا جاتا ہے۔ ایک چٹائی کی مکمل بنائی میں ایک گھنٹہ لگتا ہے جس کی بعد اس پر کپڑا چڑھا کر اسے خوبصورت ڈیزائنوں سے آراستہ کیا جاتا ہے۔

محنت کش مزدور اور ان کی بنیادی ضروریات

ٹھنڈی سڑک سے کچھ فاصلہ پر ان خاندانوں کی جھگیاں موجود ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ صدیوں سے ان کے آباؤ اجداد سندھ میں مقیم ہونے کہ باوجود اپنی ہی سرزمین پر زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔

’حکومت نے ہمیں جس جگہ کوٹھریاں بنانے کی اجازت دی ہے وہاں نہ تو گٹر لائن ہے اور نہ ہی پانی آتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ ان کے بچوں کو سکول بھیجنے کی ذمہ داری لینا چاہتے ہیں لیکن وہ گورنمنٹ سکول میں بچوں کو کیسے داخل کروائیں جہاں نہ پانی ہے نہ صابن وہ گندے سکول میں بچوں کو نہیں بھیجنا چاہتے۔

ان کا کہنا ہے کہ بڑے سرمایہ دار اکثر ان سے 50 روپے دیہاڑی پر کام کرواتے ہیں اور شہر میں ان کے ہنر کو مہنگے داموں بیچتے ہیں۔

’لوگ 50 روپے دے کر جاتے ہیں اور ہمارے کام کے عوض اپنی جیبوں میں عوض ہزاروں بھر لیتے ہیں‘

بانس سے بنے خوبصورت اور دیدہ زیب ڈیزائن میں موڑھے اور چٹائیاں ہر آنے جانے والے کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرتی ہیں۔ شدید گرمی میں بھی ان ہنرمندوں کی خواتین اور بچے چٹائی کی بنائی اور تیاری میں مشغول نظر آتے ہیں جبکہ مرد گاہکوں سے ڈیل کرتے ہیں۔

رام دیو نامی ہنرمند کا کہنا ہے ’کسی سے کوئی شکایت نہیں، اللہ جتنا دے اتنا کافی ہے لیکن ہم اپنے ہی ملک میں پناہ گزینوں کی طرح رہتے ہیں۔‘

پاکستان کے آئین کے مطابق مزدور طبقے کے حقوق کے تحفظ کے لیے تقریباً 70 قوانین موجود ہیں لیکن ان کا اطلاق صرف فیکٹری ورکروں اور نوکری پیشہ افراد پر ہوتا ہے جبکہ چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے مزدوروں، دست کاروں، ہوٹلوں اور مکینکوں، دیہاڑی داروں، ریڑھی بانوں سمیت دیگر معمولی اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں پر یہ قوانین لاگو نہیں ہوتے جس کے باعث انھیں استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حال ہی میں ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان کے وفد سے بات کرتے ہوئے سندھ کے وزیرِ لیبر غلام مرتضیٰ بلوچ کا کہنا تھا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں پہلی لیبر پالیسی نافذ کی گئی ہے جس کے مطابق مڈل مین کے کردار کو کم سے کم کیا گیا ہے تاکہ چھوٹی نوعیت کے تاجر اور دیہاڑی پر کام کرنے والے مزدوروں کو ان کے کام کا زیادہ سے زیادہ معاوضہ مل سکے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کی ڈومیسٹک لیبر کے حوالے سے حکومت نے 15 نئے قوانین اسمبلی میں پیش کیے ہیں جن کی منظوری کے بعد فوری عمل درآمد کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان قوانین کے مطابق محنت کشوں کو محفوظ ورکر کا درجہ دیا جائے گا۔ 15 نئے قوانین کے مطابق ان افراد کے لیے فلیٹوں کی تعمیر، ان کے بچوں کے لیے سکول اور کالجز کا قیام، یونیفارم اور کتابوں کی فراہمی شامل ہیں۔

بتشکر: سیدہ ثنا بتول

ڈارون سے قبل نظریۂ ارتقا پیش کرنے والا مسلمان مفکر Al-Jahiz (776-868) February 12, 2019

Posted by Farzana Naina in Darwin theory, Evolution, Islam, Literature, Muslim Thinkers.
Tags: , , , ,
add a comment
muslim thinker jahiz

جاحظ نے سائنس، جغرافیہ، فلسفہ، صرف و نحو اور علم البیان جیسے کئی موضوعات پر قلم اٹھایا

ظریۂ ارتقا انسان کی فکری تاریخ کے طاقتور ترین نظریات میں سے ایک ہے اور جتنا اس نے انسانی فکر پر اثرات ڈالے ہیں، شاید ہی کسی اور نظریے نے ڈالے ہوں۔

عام طور پر چارلز ڈارون کو اس نظریے کا بانی سمجھا جاتا ہے، لیکن حیاتیاتی ارتقا کا تصور ہزاروں برس پہلے موجود تھا۔

ڈارون کا کمال یہ ہے کہ اس نے اس نظریے کو اتنی پختہ منطقی اور سائنسی بنیادوں سے استوار کیا کہ یہ چند عشروں کے اندر اندر دنیا بھر میں مسلمہ مان لیا گیا، اور بعد میں حاصل ہونے والے ہزاروں بین الشعبہ جاتی شواہد اسے مضبوط سے مضبوط تر بناتے چلے گئے۔

ڈارون کے نظریے کے بنیادی ستون دو ہیں، ‘نیچرل سیلیکشن’ یا قدرتی انتخاب اور ‘ڈیسینٹ ود ماڈی فیکیشن’ یا ترمیم کے ساتھ سلسلۂ نسب کا چلنا۔ جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے، ڈارون نے اس نظریے کو بنیاد فراہم کی، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ قدرتی انتخاب کا ذکر ڈارون سے ایک ہزار سال پہلے مسلمان مفکر جاحظ پیش کر چکے تھے جو ڈارون کے نظریے سے حیرت انگیز طور پر مشابہہ ہے۔

جاحظ کا پورا نام ابو عثمان عمرو بحرالکنانی البصری تھا اور وہ 776 عیسوی میں بصرہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا خاندان بےحد غریب تھا اور ان کے دادا ساربان تھے۔جاحظ خود بچپن میں بصرہ کی نہروں کے کنارے مچھلیاں بیچا کرتے تھے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بدہیت تھے جس کی وجہ سے لوگ ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔

عربی لفظ جاحظ کا مطلب ایسا شخص ہے جس کے دیدے باہر کو نکلے ہوئے ہوں لیکن جاحظ نے ان رکاوٹوں کو آڑے نہیں آنے دیا اور تہیہ کر لیا کہ اپنے مخالفوں کو علم کی روشنی سے شکست دیں گے۔

چارلز ڈارون نے اپنے مشاہدات اور گہرے غور و فکر کے بعد نظریۂ ارتقا کو ٹھوس عقلی اور استدلالی بنیاد فراہم کر دی جس نے دنیا کا فکری و علمی نقشہ ہمیشہ کے لیے بدل کے رکھ دیا۔

اس مقصد کے لیے انھوں نے تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ وہ خود لکھنے پڑھنے کے ساتھ ساتھ فارغ اوقات میں مختلف علمی محافل میں جا کر تقاریر اور مباحثے سنا کرتے تھے۔ اس زمانے میں معتزلہ فرقہ جڑ پکڑ رہا تھا اور ان کی محافل میں مذہبی مسائل، فلسفہ اور سائنس پر دھواں دھار بحثیں ہوا کرتی تھیں۔ جاحظ نے باقاعدگی سے ان محفلوں میں شرکت شروع کر دی جس سے انھیں اپنے نظریات وضع کرنے میں مدد ملی۔

یہ عباسی سلطنت کے عروج کا زمانہ تھا۔ عباسی خلیفہ ہارون الرشید اور مامون الرشید کا دور، کتب خانوں، علمی بحثوں، اور بیت الحکمہ کا دور۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا بھر سے علوم و فنون عربی زبان میں ترجمہ ہو رہے تھے، اور مسلم دنیا نت نئے نظریات سے روشناس ہو رہی تھی۔

مسلمانوں نے ابھی حال ہی میں چینیوں سے کاغذ بنانے کا کارآمد فن سیکھا تھا جس نے علم و دانش کے میدانوں میں انقلاب بپا کر دیا تھا۔ نوجوان حاحظ نے اس ماحول کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور مختلف و متنوع موضوعات پر ایک کے بعد ایک تصنیف پیش کرنا شروع کر دی۔

جلد ہی ان کی شہرت دور و نزدیک تک پہنچ گئی یہاں تک کہ خود عباسی خلیفہ مامون الرشید بھی ان کے قدردانوں میں شامل ہو گئے۔ بعد میں خلیفہ المتوکل نے انھیں اپنے بچوں کا استاد مقرر کر دیا۔

جاحظ نے سائنس، جغرافیہ، فلسفہ، صرف و نحو اور علم البیان جیسے کئی موضوعات پر قلم اٹھایا۔ اس زمانے میں لکھی گئی بعض فہرستوں میں ان کی کتابوں کی تعداد دو سو کے قریب بتائی گئی ہے، تاہم ان میں سے صرف ایک تہائی محفوظ رہ سکی ہیں۔

جاحظ کی ‘کتاب البخلاء’ (بخیلوں کی کتاب) نویں صدی کے عرب معاشرے کا زندہ مرقع ہے جس میں انھوں نے متعدد لوگوں کی جیتی جاگتی تصویریں پیش کی ہیں۔

جانوروں کا انسائیکلوپیڈیا

یوں تو جاحظ نے دو سو سے زائد کتابیں لکھیں، جن میں سے ارتقا کے سلسلے میں ‘کتاب الحیوان’ سب سے دلچسپ ہے۔ اس انسائیکلوپیڈیائی کتاب میں انھوں نے ساڑھے تین سو جانوروں کا احوال بیان کیا ہے۔ ویسا ہی احوال جو آج آپ کو وکی پیڈیا پر مل جاتا ہے۔

اسی کتاب میں جاحظ نے چند ایسے تصورات پیش کیے جو حیرت انگیز طور پر ڈارون کے نظریۂ ارتقا سے مشابہ ہیں۔ ان نظریات کو بنیادی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

بقا کی جدوجہد

جاحظ لکھتے ہیں کہ ہر جاندار ہر وقت بقا کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ جانور زندہ رہنے کے لیے خود سے چھوٹے جانوروں کو کھا جاتے ہیں، مگر خود بڑے جانوروں کی خوراک بن جاتے ہیں۔ یہ جدوجہد نہ صرف جانوروں کی مختلف نسلوں کے درمیان پائی جاتی ہے بلکہ ایک ہی نسل کے جانور بھی ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں۔

الجاحظ کی تصنیف کتاب الحیوان میں ساڑھے تین سو جانوروں کا احوال بیان کیا گیا ہے

muslim thinker jahiz 2

الجاحظ کی تصنیف کتاب الحیوان میں ساڑھے تین سو جانوروں کا احوال بیان کیا گیا ہے

ایک نسل کی دوسری نسل میں تبدیلی

جاحظ اس بات کے قائل تھے جانوروں کی ایک نسل مختلف عوامل کی وجہ سے دوسری نسل میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

ماحولیاتی عوامل کا اثر

جاحظ کا خیال تھا کہ خوراک، ماحول اور پناہ گاہ ایسے عوامل ہیں جو جانوروں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور انھی کے زیرِ اثر جانوروں کی خصوصیات بھی تبدیل ہو جاتی ہیں۔ یہ خصوصیات ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی رہتی ہیں اور جانور بتدریج اپنے ماحول میں زیادہ بہتر طریقے سے ڈھلنے لگتا ہے۔ اس طرح بہتر خصوصیات والے جانور بقا کی دوڑ میں کامیاب رہتے ہیں۔

وہ لکھتے ہیں: ‘جانور اپنی بقا کی مسلسل جدوجہد میں مگن ہیں اور وہ ہر وقت خوراک حاصل کرنے، کسی کی خوراک بننے سے بچنے، اور اپنی نسل آگے بڑھانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔

 کہلایا۔’یہ وہی نظریہ ہے جو بعد میں ‘بقائے اصلح۔

(survival of the fittest)

جاحظ کے ان خیالات کا اثر بعد میں آنے والے مسلمان مفکرین پر بھی ہوا، چنانچہ ہمیں ان کی بازگشت فارابی، ابن العربی، رومی، البیرونی، ابنِ خلدون اور دوسرے حکما کے ہاں ملتی ہے۔

علامہ اقبال نے بھی جاحظ کا ذکر کیا ہے۔ اپنے خطبات کے مجموعے ‘ری کنسٹرکشن آف ریلیجیئس تھاٹ ان اسلام’ (اسلامی مذہبی فکر کی تشکیلِ نو) میں لکھتے ہیں کہ ‘یہ جاحظ تھا جس نے نقلِ مکانی اور ماحول کی وجہ سے جانوروں کی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔’

ارتقا کے بارے میں مسلمانوں کے یہ تصورات 19ویں صدی کے یورپ میں خاصے عام تھے۔ حتیٰ کہ ڈارون کے ایک ہم عصرجان ولیم ڈریپر نے 1878 میں نظریۂ ارتقا کو ‘محمڈن تھیوری آف ایوولوشن’ یعنی ‘مسلمانوں کا نظریۂ ارتقا’ سے موسوم کیا تھا۔

اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ڈارون نے جاحظ کے خیالات سے استفادہ کیا تھا، بعض ویب سائٹوں پر لکھا ہے کہ وہ عربی جانتے تھے لیکن اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں۔ وہ ارتقا کے نظریے کے موجد نہ سہی لیکن انھوں نے اپنے مشاہدات اور گہرے غور و فکر کے بعد اس نظریے کو ٹھوس عقلی اور استدلالی بنیاد فراہم کر دی جس نے دنیا کا فکری و علمی نقشہ ہمیشہ کے لیے بدل کے رکھ دیا۔

تاہم جاحظ کا یہ اعزاز ضرور ہے کہ جو بات 19ویں صدی میں ڈارون کو سوجھی، اس کی طرف وہ ایک ہزار سال قبل ہی اشارہ کر چکے تھے۔

علم و دانش اور کتابوں سے عشق جاحظ کی موت کا سبب بھی بن گیا۔ کہا جاتا ہے کہ 92 سال کی عمر میں شیلف سے ایک کتاب نکالتے ہوئے بھاری بھرکم شیلف ان کے اوپر آ گرا اور یوں اسلامی تاریخ کا یہ یکتا دانشور کتابوں ہی کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا۔

Nasir ad-Din Tusi (1201-1274)

Muhammad al-Nakhshabi (10th century)

https://stepfeed.com/these-muslim-scholars-wrote-about-evolution-900-years-before-darwin-was-born-8064

بتشکر: صحافی ظفر سید

Un Baadlon Mein January 11, 2019

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Farzana Naina, Kavita, Mushaira, Nazm, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Radio Presenter, Shaira, Shairy, Sher, Urdu, Urdu Poetry, Urdu Shairy, Video.
add a comment

ان بادلوں میں روشن چہرہ  ٹہر گیا ہے

Yaani the musician December 12, 2018

Posted by Farzana Naina in Film and Music, Music, Yanni The Musician.
Tags: , , , ,
add a comment

Music Multi TwoEighthNoteMusic Multi Eighth NoteMusic Blue Eighth NoteMusic Multi Eighth NoteMusic Multi TwoEighthNoteMusic Multi bar 1

شیشے والے کمرے سے دن کی کسمساتی کرنیں گارڈن کے خالی گھونسلے پر رکتے رکتے چلی ہی گئیں، چائے کے کپ سے اٹھتی ہوئی بھاپ سرد موسم کے سرمئی بادلوں میں چہرے تراشے جاتی ہے، کیا خبر میری طرح وہ چڑیاں بھی اپنے بچوں کی سلامتی لیئے دعائیں پڑھ کر پھونکتی ہوں !

ایک بچہ میرا مسقط کے ٹور پر ہے اور ایک کریبین کروز شپ پر، ان کی غیر موجودگی کا فقط یہ فائدہ ہوا کہ پھیکے کھانے کے بجائے تیز مرچوں والے  بھنے گوشت کی خوشبو نے پورے گھر کو لپیٹ میں لیا ہوا ہے !

بہر الحال کالی مرچوں والے پاپڑ میں نے مائیکرو ویو میں ہی بنائے، تیل میں تلے پاپڑوں کی کر کراہٹ صحت کے خوف سے دم توڑ دیتی ہے۔

کوئی بتائے کہ اس موسم میں چار بجے آدھی رات دوڑتی چلی آ رہی ہو تو ہم انگریزوں کی طرح برٹش ویدر پر مینڈک والی ٹر ٹر نہ کریں تو اور کیا کریں!

یاس و ملال کی کیفیت طاری ہونے ہی والی تھی کہ گوگل کو پکار لگائی اس نے ایک ثانیئے میں میری پسند کے مطابق کھٹ سے اطالوی موسیقار ’’ یانی ‘‘ کو لگادیا۔۔۔۔۔تھینکس گوگل جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس اطالوی نے تو انگلی کے اشارے پر کیا پیانو، کیا کی بورڈ ، جاز، کلاسیکل، سوفٹ راک، سب پر جادو کیا ہوا ہے، اوپر سے اس منحنی ہستی کی بھرپور آواز بھی کمال ہے۔

اَسی کی دہائی سے سنتے آج بھی  ’’ یانی‘‘ کو سنتے ہوئے اس وقت جو لطف آ رہا ہے وہ بیان سے باہر، گھر بیٹھے میں بھی گویا کروز شپ پر کئی جزیروں کی سیر کو نکل گئی ہوں !۔ 

A Tribute To Mohammed Aziz (Playback Singer) November 29, 2018

Posted by Farzana Naina in Film and Music, Music, Poetry.
Tags: , , , ,
add a comment

Welcome Pink Rose

music notes

محمد عزیز : پیدائش 2 جولائی، 1954, کلکتا, بھارت

انتقال : 27 نومبر، 2018, Nanavati hospital, ممبئی, بھارت

اولاد: ثنا عزيز

ممبئی کی ہندی فلم انڈسٹری میں فلموں کے لیے 1980 اور 1990 کے عشرے میں بہترین نغمے پیش  کرنے والے گلوکار محمد عزیز کا ایک نجی اسپتال میں 64 سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا۔

 

 

محمد عزیز  2 جولائی 1954 کو مغربی بنگال کے اشوک نگر میں پیدا ہوئے تھے۔

محمد عزیز کا نغمہ ’’آپ کے آجانے سے ‘‘ اور ’’ مائی نیم از لکھن‘‘  فلموں کے چاہنے والوں میں خوب مقبول ہوا ۔

پیر کے روز محمد عزیز کا ایک میوزیکل پروگرام کولکتہ میں منعقد کیا گیا تھا اور ستائیس نومبر دو ہزار اٹھارہ کے منگل کو دوپہر دو بجے ممبئی آمد کے بعد انہوں نے ڈرائیور کو کہا کہ میری طبیعت خراب ہو رہی ہے، جس کے بعد انہیں فوری طور پر ناناوتی اسپتال پہنچایا گیا، چیک اپ کرتے ہی ڈاکٹروں نے دل کا دورہ پڑنے کی اطلاع دی اور انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔

میوزک کمپوزر انو ملک نے سب سے پہلے محمد عزیز کو فلم ’’ مرد‘‘ میں امیتابھ پر فلمائے گانے ’’ مرد ٹانگے والا‘‘  گانے کا چانس دیا تھا۔

محمد عزیز کے تعلقات لکشمی کانت پیارے لال کے ساتھ بہت اچھے اور قریبی تھے، جبکہ کلیان جی آنند ، آر ڈی برمن، نوشاد، او پی نیر اور بپی لہری بھی ان کے رفیق تھے۔

محمد عزیز نے امیتابھ بچن کے دور سے لے کر رشی کپور اور گو وندا جیسے ہیروز کے لیئے مقبول ترین گیت گائے۔

محمد عزیز کو پیار سے ’’ منا ‘‘ کہہ کر پکارا جاتا تھا، ان کا پورا نام ’’ سید محمد عزیز النبی‘‘ تھا۔

اپنی زندگی کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ آر ڈی برمن کے پاس گیت سنانے پہنچا، وہ اپنے گھر میں تھے اور کمرے میں مائیک بھی لگا ہوا تھا، لہذا میں نے گیت گایا، لیکن برمن نے کہا کہ اپنے لہجے پر ابھی اور محنت کرو، باہر نکل کر میں سوچتا رہا کہ میں تو اہلِ زبان ہوں اس سے بہتر اور کیا سیکھوں گا!۔

پھر اس کے بعد میں ان کی طرف سے مایوس ہوگیا لیکن ایک دن آشا جی مجھے کہا کہ چلو میری گاڑی میں بیٹھو میں تمہیں برمن کے پاس لے چلتی ہوں، میں نے بہانہ کر دیا کہ ابھی تھوڑی بعد میں خود ہی گھر پہنچ جاؤں گا، آشا جی نے ہمیشہ میری بہت مدد کی، وہ ایک مہربان ہستی ہیں ۔

انہوں نے اپنے گائیکی کے دور میں آشا بھونسلے، لتا منگیشکر، انورادھا پوڈوال، کویتا کرشنا مورتی، کے ساتھ اسی اور نوے کی دہائی میں بہترین گیتوں سے دھوم مچادی تھی۔

 محمد عزیز نے بطور پلے بیک گلوکار اپنے کیریئر کا آغاز بنگلہ فلم ‘جیوتی’ سے کیا تھا۔ سال 1984 میں وہ ممبئی آ گئے جہاں انہوں نے ہندی فلم ‘امبر’ میں گیت گایا، اس کے بعد عزیز نے کئی فلموں کے ہٹ گانے گائے،  انہوں نے مرد کے علاوہ بنجارن، آدمی کھلونا ہے، لو 86، پاپی دیوتا، ظلم کو جلا دوں گا، پتھر کے انسان، بیوی ہو تو ایسی، برسات کی رات، لال دوپٹہ ململ کا، رام لکھن، ہمارا خاندان، رام اوتار جیسی کئی فلموں میں گانے گائے۔

ہندی، اردو کے علاوہ محمد عزیز نے بھجن، بھگتی گیت، اڑیسہ، اور صوفی کلام بھی گایا۔ 

ان کے میوزیکل کیریئر میں گانوں کی کل تعداد بائیس ہزار سے زائد ہے۔

وہ ان چند گلوکاروں میں سے تھے جو اپنی آواز کا نوٹ بہت اونچا اٹھا سکتے ہیں، محمد عزیز نے ہندی فلموں کے علاوہ بنگالی، اوڑیا اور دیگر علاقائی زبان کی فلموں میں بھی بطور پلے بیک گانے گائے، وہ خود محمد رفیع کے بہت بڑے پرستار تھے جبکہ سونو نگم ان کے بہت بڑے پرستار ہیں۔  

آخری دور میں ان کو شکوہ رہا کہ فلم انڈسٹری نے ان کو بڑے ستاروں کے میوزیکل شوز میں بلانا چھوڑ دیا ہے، ان کی گلوکاری جتنی مقبول تھی اتنا ہی ان کو فلمی دنیا نے نظر انداز کیا ہوا تھا۔ 

Music Multi Eighth Note Music Multi TwoEighthNote Music Multi Eighth Note Tiny music notes Rose red 13 Tiny music notes Music Multi Eighth Note Music Multi TwoEighthNote Music Multi Eighth Note

ساری دنیا پیاری پر تو ہے سب سے پیارا ۔۔۔ فلم:  میرا کا موہن

 اے مرے دوست لوٹ کے آجا ۔۔۔ فلم: سورگ  

متوا بھول نہ جانا ۔۔۔ فلم: کب تک چپ رہوں گی

بہت جتاتے ہو چاہ ہم سے ۔۔۔ فلم: آدمی کھلونا ہے

کیسے کٹے دن کیسے کٹی راتیں ۔۔۔ فلم: سورگ

کچھ ہو گیا، چاند کے دیس میں دل میرا اڑ گیا ۔۔۔ فلم: کشن کنہیا 

تیرے میرے بیچ میں کیسا ہے یہ بندھن انجانا ۔۔۔ فلم: اک دوجے کے لیئے

آتے آتے آتے تیری یاد آ گئی ۔۔۔ فلم: جان کی بازی

پل دن مہینے کئی سال ہوگئے ۔۔۔ فلم: آپ کی یادیں

پیار ہمارا امر رہے گا ۔۔۔ فلم: مدت

ساتھیا او ساتھیا سورج ہے تو ۔۔۔ فلم: پاپ کو جلا کر راکھ کردوں گا

میں تیرے بن جی نہیں سکتا ۔۔۔ فلم: لال پری

تم جو بنے ہمدرد ہمارے ۔۔۔ فلم: فتح  

پت جھڑ ساون بسنت بہار ۔۔۔ فلم: سندور

جب پیار کیا اقرار کیا ۔۔۔ فلم: وطن کے رکھوالے

آج کل یاد کچھ اور رہتا نہیں ۔۔۔ فلم: نگینہ ۱۹۸۶

تجھے رب نے بنایا کس لیئے ۔۔۔ فلم: یاد رکھے گی دنیا

پھول گلاب کا ۔۔۔ فلم: بیوی ہو تو ایسی

ہم تمہیں اتنا پیار کریں گے ۔۔۔ فلم: بیس سال بعد

لوگ کہتے ہیں کہ پیلا چاند ہے سب سے حسیں ۔۔۔ فلم: خود غرض

سارے شکوے گلے بھلا کے کہو ۔۔۔ فلم: آزاد دیش کے غلام

یاد رکھیو یہ چار اکشر پیار کے ۔۔۔ فلم: عزت دار ۱۹۹۰

سن اے بہار دل کی پکار ۔۔۔ فلم: آسمان سے اونچا

دل کے ارمانوں کو تونے جگا دیا ۔۔۔ فلم: انصاف کی پکار

میں نے تجھ سے پیار کیا ہے ۔۔۔ فلم: سوریا

میرے محبوب رک جاؤ تمہارا چاہنے والا ۔۔۔ فلم: ہمارا خاندان

تو بھی بے قرار میں بھی بے قرار ۔۔۔ فلم: وقت کی آواز

میں تیری محبت میں پاگل ہو جاؤں گا ۔۔۔ فلم: تری دیو

آج صبح جب میں جگا ۔۔۔ فلم: آگ اور شعلہ

انگلی میں انگوٹھی، انگوٹھی میں نگینہ ۔۔۔ فلم: رام اوتار

آپ کا چہرہ آپ کا جلوہ ۔۔۔ فلم: تہلکہ

مئے سے مینا سے نہ ساقی سے ۔۔۔ فلم: خود غرض

مل گئے دل اب تو کھل کے مل ذرا ۔۔۔ فلم اگنی ۱۹۸۸

میں نے دل کا حکم سن لیا تیرے صدقے بلم ۔۔۔ فلم: برسات کی رات

تونے بے چین اتنا زیادہ کیا ۔۔۔ فلم: نگینہ

دنیا میں کتنا غم ہے ۔۔۔ فلم: امرت ۱۹۸۶  

تو مجھے قبول میں تجھے قبول ۔۔۔ فلم: خدا گواہ

محبوب سے ہمارے بادِ صبا یہ ہمارا ۔۔۔ فلم: لو ۸۶

تو ہی میری پریم کہانی ۔۔۔ فلم: پتھر کے انسان

اک لڑکی جس کا نام محبت ۔۔۔ فلم: شعلہ اور شبنم

اپنی آنکھوں کے ستاروں میں ۔۔۔ فلم: پولیس اور مجرم

رب کو یاد کروں ۔۔۔ فلم: خدا گواہ

ساون کا مہینہ ۔۔۔ فلم: ایسا پیار کہاں

چلو چلو چلیں دور کہیں ۔۔۔ فلم: سندور

کھینچ لایا ہے تیرا پیار ۔۔۔ فلم: جنم جنم

جیسے اک چاند کا ٹکڑا ۔۔۔ فلم: انتقام

بہنیں ہنستی ہیں تو ۔۔۔ فلم: پیار کا دیوتا

چھن چھن باجیں گھنگھرو ۔۔۔ فلم: گھنگھرو

یار تیرا پیار تو ہے میری زندگی ۔۔۔ فلم : ہم بھی تو انسان ہیں

مجھے جینے نہیں دیتی ہے ۔۔۔ فلم: بومب بلاسٹ

میرے صنم تیرے سر کی قسم ۔۔۔ فلم: مجبور 

جند تیرے نام کر دی ۔۔۔ فلم: پیار کا دیوتا

تم حسیں کسقدر ہو ۔۔۔ فلم: حاتم طائی  

گوری کا ساجن ، ساجن کی گوری ۔۔۔ فلم: آخری راستہ  

Pink Flower 3

***      ***

موسیقی کے دلدادہ انہیں گیتوں کے جادو میں کچھ مہکتے لمحے ایک الگ دنیا میں گزار آتے ہیں۔

یہ گیت وہ آئینے ہیں جن میں حساس لوگ اپنا دل اور دھڑکن دیکھ لیتے ہیں!۔

ان گیتوں میں کبھی کبھی وہ جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں جب محبت نے اپنی مقناطیسی کشش سے مجھے کھینچ لیا تھا، ہم ان گیتوں میں اپنے دلبر کو دیکھتے ہیں یا پھر اسے جو چھین لیا گیا، جو دل چیر گیا ہو، وہ دور کہیں کھو گیا، اوجھل ہوگیا جب اس کے ہمراہ بتائی چند گھڑیاں نصیب ہوتیں اور باقی دن ان گیتوں کے سہارے کٹ جاتا۔ !۔

وقت ان لمحوں کی سوئیاں توڑ کر آگے نکل گیا، لیکن میں اب تک ان چبھتی سوئیوں کو نکال نہیں پائی، اس کے ساتھ کی سب دعائیں کہیں اس عرش و فرش کے درمیان بھٹکتی رہ گئیں !۔

یہ گیت  گلے میں آنسوؤں کا پھندا بن کر سانسیں گھوٹتے ہیں ، اُس کی مہک میرے تن من میں ہے، لیکن وہ نہیں ہے، کہیں بھی نہیں۔

جیسے کوئی خواب تھا، سراسر ایک خواب، جو آنکھ  کھلتے ہی غائب ہو گیا !۔

میں ایک کٹے پروں والا پرندہ جو پھڑ پھڑا کر رہ جاتا ہے، نہ جیتا ہے نہ مرتا ہے، مرے ارد گرد کی دنیا  کبھی اس طلسم کو محسوس نہیں کر سکتی جس نے مجھے حصار میں لیا ہوا تھا، کبھی اس دکھ کی تیز دھار نہیں دیکھ سکتی جو مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کاٹتا ہے۔

نا ہی وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔۔۔ جو میرے بن اک پل نہیں رہ پاتا تھا۔۔۔!!!۔

Fairy Grey heart

Federico García Lorca 5 June 1898 -19 August 1936 (aged 38) November 25, 2018

Posted by Farzana Naina in Literature, Poetry.
Tags: ,
add a comment

‘‘گارسیالورکا’’

Federico Garcia Lorca

اسپین کی شاعری کا ہی اسم اعظم نہیں بلکہ دنیا بھر میں اس کی تکریم غیر معمولی شاعرانہ استعداد کی وجہ سے کی جاتی ہے۔ گارسیالورکا محض ۳۸ برس کی عمر میں

ین کی شاعری کا ہی اسم اعظم نہیں بلکہ دنیا بھر میں اس کی تکریم غیر 

جنرل فرانکو کے ڈکٹیٹر شپ کے عہد میں مارا گیا۔ اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے سپین کی خانہ جنگی کے زمانے میں حریت فکر کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دیا اور جواں مرگ ہو کر ۱۹۳۶ء میں پوری دنیا کو آمریت سے نفرت کا سبق دیا۔

لورکا ایک متمول گھرانے میں سپین کے مضافات میں ۱۸۹۸ء کو پیدا ہوا تھا۔ اس کی شاعری نے سپین کی زبان اور محاورے کا منہاج ہی بدل کے رکھ دیا اور شاعری کے پرانے، فرسودہ اور گھسے پٹے انداز کو تبدیل ہی نہیں کیا بلکہ جڑ سے اکھاڑ کے رکھ دیا۔ یہی نہیں لورکا نے ڈراموں کی دنیا میں بھی انقلاب برپا کیا۔ اس کے ڈراموں میں انسان کی روح اور معاشرے کی اصل حقیقت، ایک تخلیقی قوت کی صورت میں سامنے آئی۔ وہ انسانی تقدیر، قدروں کی شکست، جنسیت اور موت، جیسے بے شمار موضوعات کو بالکل جداگانہ فراست کے ساتھ بیان پر قادر تھا۔ اس نے عیسوی دنیا کے بارے میں بھی زبردست تنقید کی ہے اور کیتھولک چرچ کی مختلف بہیمانہ صورتوں کو بے نقاب کیا ہے۔

لورکا کہتا تھا کہ پندرھویں صدی میں مسلمانوں کے شان دار ثقافتی اور تہذیبی ورثے کو چرچ نے جس صورت میں برباد کیا، وہ سپین کی روح پر ایک خطرناک وار تھا۔ جس سے سپین کی تہذیبی زندگی انحطاط پذیر ہوئی۔ جس کا دُکھ اس کی نظموں میں سریلسٹ تکنیک میں ظاہر ہوا۔ ہرچند لورکا، ترقی پسند نظریات کا مالک بے باک شخص تھا، وہ مذاہب سے برگشتہ تھا اور آرٹ کی بے پایاں تاثیر پر یقین رکھتا تھا۔ سپین میں مسلمانوں کے شان دار ماضی کے بعد، ایک تاریک دور کا آغاز ہوا اور باالخصوص آزادی نسواں کو سلب کر دیا گیا۔ لوگوں کو بربریت اور مذہبی تنگ نظری کا اسیر ہونا پڑا۔ اس کا انتہائی گہرا اثر پڑا اور سماج میں فکری انجماد تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔ 

on-this-day-19-august-1936-the-gay-socialist-poet-35632836

فیڈرکوگارسیالورکا، کی نفسیات پر لڑکپن ہی میں، اس کے اثرات مرتسم ہونا شروع ہوئے، اگرچہ طبعاً و ہ آزاد منش اور باغی روح لے کر پیدا ہو ا تھا۔ مگر لورکا نے کہا ہے کہ اس نے اپنی ماں جو مدرس تھی، اس سے انتہائی اثر قبول کیا۔ اس کی ماں ایک ذہین خاتون تھی اور لورکا کے طبعی، ادبی رجحان سے واقف تھی۔

اس کا خاندان ۱۹۰۹ء میں سپین کے شہر گرینڈا منتقل ہوا، جہاں لورکا نے تعلیم حاصل کی۔ پھر میڈرڈ میں قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اس کی ملاقات نام ور مصور سلویڈرڈالی سے ہوئی۔ ڈالی اور لورکا کی رفاقت نے پینٹنگ اور ادب کے باب میں بے شمار مباحث کو جنم دیا۔ ڈالی نے لورکا کے حسن تکلم، شائستگی اور خوب روئی کا بار بار اظہار کیا۔ لیکن ان کی رفاقت ۱۹۲۹ء میں اس وقت اختتام پذیر ہوئی جب لورکا نے سپین کو الوداع کہا اور امریکا چلا گیا۔

اسی دوران، اس کی شخصیت میں فکری تلاطم جنم لے رہا تھا۔ اپنی زمین سے ہجرت، رفاقتوں سے محرومی، جنسی ناآسودگی، تنہائی، موت کا خوف، ان سب عوامل نے لورکا کو ہلا کر رکھ دیا، مگر اس کی تخلیقی اپج نے علامات کا ایک نیا جہان اپنی مشہور عالم شعری کتاب Gypsy Ballads کے ذریعے ہویدا کیا۔ اس شعری کتاب نے اسے بے کنار عالمی شہرت دی۔ 

Federico Garcia Loca - Renowned Spanish Poet

یہ نظمیں انسانی رشتوں کو جس شاعرانہ اسالیب میں ڈھالتی ہیں، اس کے لیے لورکا نے شعر میں اتنا ارتکاز پیدا کیا کہ لفظوں نے عمومی مطالب سے بغاوت کی اور انسانی تجربے کا ایسا پینو راما پیش کیا، جس میں بیسویں صدی کی ایک نئی بوطیقا سامنے آئی۔گویا لورکا نے خارجی اشیا کو باطن کے آئینے میں ہمہ جہت کر دیا۔

لورکا نے امریکا آ کر کولمبیا میں اپنی دوسری عالمگیر شعری کتاب Poet in New York تخلیق کی۔ یہ نظمیں موضوع، اسلوب اور تکنیک کے نقطۂ نظر سے اس درجہ ترفع کی حامل ہیں ۔ یہ اپنے مواد کے نرالے پن اور لحن کے باغیانہ آفاق کی وجہ سے خود لورکا کے لیے حیرت کا باعث تھیں۔ کیوں کہ بعض اوقات فن کار اپنے آرٹ کی گمبھیرتا کی اولین آواز سے گھبرا بھی جاتا ہے۔ اس لیے کہ لفظ کے معینہ راستوں سے ہٹنے کی جرأت کوئی معمولی بات نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لورکا نے اپنی مختصر زندگی کے دوران میں کتاب شائع کرنے سے گریز کیا۔ ان نظموں کا سحر امیجری اور علامتوں کا پراسرار نظام، آج تک نئی شاعری کی عظمت کا شارح ہے۔ 

Federico García Lorca

انجام کار لورکا دوبارہ سپین لوٹ آیا اور ۱۹۳۰ء میں ڈراما نگاری کی طرف ہمہ تن سرگرم ہو رہا۔ یہ دور، فی الواقع، لورکا کی خلاقانہ فراوانی کا ہے، پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ سپین کی حکومت نے، اس کی قدر منزلت کی اور وہ ڈرامے کی ترویج کے لیے La-Barraca کا ڈائریکٹر بنایا گیا۔ یہ گشتی ڈرامے پیش کرنے کا ادارہ ٹھہرا۔ اس دور میں اس نے اپنا شہرہ آفاق ڈراما Blood Wedding لکھا۔ جس کی شہرت سے پورا مغرب گونج اٹھا۔ یہ زبردست منظوم ڈراما تھا۔ اس کے بعد اس کا دوسرا قابل رشک ڈراما سامنے آیا۔ جس کا نام Yerma تھا۔ میڈرڈ میں، اس ڈرامے کی مقبولیت نے لورکا کو ذہنی آسودگی دی۔

۱۹۳۶ء میں اس کا ناقابل فراموش ڈراما The House of Bernadaialba منظر عام پر آیا۔ یہ ڈرامے سپین کی ادبی تاریخ میں امر ہیں اور دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے اور عالم گیر شہرت پائی۔

کہا جاتا ہے کہ ۱۹۳۰ء سے اس کے قتل تک، لورکا، نے ڈرامے کی صنف اور سپینی زبان کو ایک نئی قوت ایجاد سے آباد کیا۔ مگر اس دوران میں وہ، شاعری پر پوری توجہ نہ دے سکا۔ کیوں کہ، اس کے ذہن پر ڈرامے کا بھوت سوار تھا۔ البتہ اس دور میں لورکا نے اپنی طویل نظم “Lament for the death of bull fighter” ضرور لکھی ۔ یہ عظیم الشان نظم اس کی موت کے بعد شائع ہوئی۔ اور تو اور لورکا کی کتابوں پر فرانکو کے ڈکٹیٹر شپ کے عہد میں چالیس برس تک پابندی رہی۔ مگر اس کے باوجود دنیا بھر میں لورکا کی کتب کے تراجم ہوئے۔ اور سپین میں زبردست قدغن کے باوجود لورکا، کی کتابیں مختلف ادارے چوری چھپے شائع کرتے رہے۔ اس کی شاعری کا لسانی شیوہ، لفظ کے عمومی دائرے سے نکل کر، اظہار کا لامحدود منطقہ وضع کرتا ہے۔ اس کے شاعرانہ اصوات میں جو طلسم ہے وہ ہمارے اندر وہی تجربہ اور امکانات پیدا کرتا ہے جس سے لورکا گزرا، مگر اس کی ہزار ہا پرتیں ہیں۔ لورکا کی کئی نظموں کے تراجم اردو میں بھی ہوئے۔ لورکا کی نظموں میں غنائیت کے اندر سے المیہ پھوٹتا ہے۔ اس کے مصروں کی بافت میں صوت و آہنگ کی فراوانی ہے اس لیے کہ اس نے ابتداً موسیقی سیکھی۔ فی الواقع لڑکپن میں وہ موسیقار بننا چاہتا تھا۔

۱۹۲۶ء میں جب لورکا نے اپنی مشہور تخلیق The shoe maker’s prodigious wife مکمل کی تو اسے پہلی بار، ادبی حلقوں نے اس لیے بھی سراہا کہ وہ سپاٹ نظموں کی حدود توڑ کر ایک نیا شعری وژن لانے میں کام ران ہوا تھا جس کی مثال ہسپانوی زبان میں نہ تھی۔ 

federico-garcia-lorca_quotes

گارسیا لورکا، نے اپنے ڈراموں اور نظموں میں کھلے حواس کے ساتھ، زندگی کی بدلتی صورت حال کا ادعا کیا ہے۔کیوں کہ اس نے مروجہ لغاتی معانی کی جبریت سے شاعری کو نکال کر خالص سونا بنایا۔ پھر اس کا کمال یہ ہے کہ اس نے اکہرے شعری امکانات کو کلیتاً رد کیا اور انسانی تجربے کو ایک ہمہ گیر صداقت میں بدل دیا۔

لورکا کی نظموں کا ایک مرکزی اشارہ جنسی ناآسودگی اورا مردپرستی بھی رہا۔ وہ ایک غیر معمولی شاعر تھا۔ اس لیے اس نے شجر ممنوعہ کو، سپین کی شعری تاریخ میں پہلی بار، سب پر واشگاف کیا۔ اس نے اپنے شعری قالب میں تجربے کے بے پناہ حجم کی وجہ سے انسانی رشتوں کی نئی توجیح کی ہے۔ اس کے لیے اس کی یہ نظمیں یادگار رہیں۔

  1. The Gypsy and the wind.

  2. Ditty of the first desire.

  3. Sonnet of the sweet complain.

  4. The faithless wife.

  5. The bulterfly’s, evil trick

لورکا کی موت کو اب ستر برس سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ مگر دنیا بھر کے اہل قلم اس جواں مرگ شاعر کے لیے اس لیے اب بھی آنسو بہاتے ہیں کہ جنرل فرانکو کی فاشسٹ حکومت نے بے شمار فن کاروں کے ساتھ، اسے اپنے آبائی شہر ترینڈا میں قتل کر کے اجتماعی قبر میں دفنا دیا۔

Garcia at the time of his execution

گاسیا لورکا سزائے موت کے وقت

سپین کے عوام، آرٹسٹوں اور ترقی پسند حلقوں نے اب بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں لورکا کا مقام قتل بتایا جائے تاکہ اس عظیم شاعر کی یادگار بنا سکیں جس نے ہسپانوی ادب کو عالم گیر شہرت دی اور خود بے دردی سے قتل ہوا۔

***

بے خواب محبت کی رات/گارسیا لورکا

ترجمہ: محمد سلیم الرحمٰن

رات کا نزول، ہم دونوں اور پورا چاند

میں رو پڑا اور تجھے ہنسی آ گئی

تیری تحقیر خدا، اور میرے گلے شکوے

زنجیروں میں جکڑی فاختائیں اور لمحے

رات کا نزول، ہم دونوں۔ دکھ کا بلوریں شیشہ

ایک مہیب دوری کی وجہ سے تو نے آنسو بہائے

میرا دکھ تیرے ریت کے بنے نربل دل پر

اذیتوں کے خوشے کی طرح چھایا ہوا

صبح نے ہمیں سیج پر ایک دوسرے سے ملا دیا

کبھی نہ تھمنے والے لہو کی ٹھنڈی

بہتی ندی پر ہم منھ رکھے ہوئے

اور چلمن پڑی بالکونی میں سورج نے پاؤں دھرا

اور میرے کفنائے ہوئے دل پر

زندگی کے مرجان نے اپنی شاخیں پھیلائیں

 ***تحریر: علی تنہا***

Fehmida Riaz 28th July 1945 – 20th Nov 2018 November 21, 2018

Posted by Farzana Naina in Fehmida Riaz, Literature, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shairy, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags: ,
add a comment

Fehmida riyaz 0

پاکستان کی ممتاز انقلابی شاعرہ ’’ فہمیدہ ریاض‘‘ رضائے الہی سے لاہور میں انتقال فرما گئیں۔

انا للہ و انا الیہ راجعون

 اپنے تانیثی اور غیر روایتی خیالات کے لئے معروف

فہمیدہ ریاض (تخلص فہمیدہ) :۲۸  ؍جولائی ۱۹۴۵ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئیں، ایم اے تک تعلیم حاصل کی، لندن سے فلم ٹیکنک میں ڈپلوما حاصل کیا، طالب علمی کے زمانے میں حیدرآباد میں پہلی نظم لکھی جو ’’فنون‘‘ میں چھپی۔

پہلا شعری مجموعہ ’’پتھر کی زبان‘‘ ۱۹۶۷ء میں منظر عام پر آیا۔’’بدن دریدہ‘‘ ۱۹۷۳ء میں ان کی شادی کے بعد انگلینڈ کے زمانہ قیام میں چھپا۔’’دھوپ‘‘ ان کا تیسرا مجموعۂ کلام ۱۹۷۶ء میں چھپا۔  

کچھ عرصہ نیشنل بک کونسل ، اسلام آباد کی سربراہ رہیں، جب جنرل ضیاء الحق برسر اقتدار آئے تو یہ ادبی مجلہ ’’آواز‘‘ کی مدیرہ تھیں، ملٹری حکومت ان کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتی تھی لہذا یہ ہندوستان چلی گئیں۔

 ’’کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے‘‘۱۹۴۸ء میں ہندوستان میں ان کا شعری مجموعہ چھپا۔

ضیاء الحق کے انتقال کے بعد فہمیدہ ریاض پاکستان واپس آگئی تھیں۔

ان کی دیگر تصانیف کے نام یہ ہیں:

’حلقہ مری زنجیر کا ‘، ’ہم رکا ب‘، ’ادھورا آدمی‘، ’اپنا جرم ثابت ہے‘، ’ میں مٹی کی مورت ہوں‘، ’آدمی کی زندگی‘۔ ان کی محبوب صنف سخن نظم رہی ۔

پروردگار ان کی مغفرت فرمائے ۔ آمین۔

Fehmida Riaz

چادر اور چار دیواری

فہمیدہ ریاض

حضور میں اس سیاہ چادر کا کیا کروں گی

یہ آپ کیوں مجھ کو بخشتے ہیں بصد عنایت

نہ سوگ میں ہوں کہ اس کو اوڑھوں

غم و الم خلق کو دکھاؤں

نہ روگ ہوں میں کہ اس کی تاریکیوں میں خفت سے ڈوب جاؤں

نہ میں گناہ گار ہوں نہ مجرم

کہ اس سیاہی کی مہر اپنی جبیں پہ ہر حال میں لگاؤں

اگر نہ گستاخ مجھ کو سمجھیں

اگر میں جاں کی امان پاؤں

تو دست بستہ کروں گزارش

کہ بندہ پرور

حضور کے حجرۂ معطر میں ایک لاشہ پڑا ہوا ہے

نہ جانے کب کا گلا سڑا ہے

یہ آپ سے رحم چاہتا ہے

حضور اتنا کرم تو کیجے

سیاہ چادر مجھے نہ دیجئے

سیاہ چادر سے اپنے حجرے کی بے کفن لاش ڈھانپ دیجئے

کہ اس سے پھوٹی ہے جو عفونت

وہ کوچے کوچے میں ہانپتی ہے

وہ سر پٹکتی ہے چوکھٹوں پر

برہنگی تن کی ڈھانپتی ہے

سنیں ذرا دل خراش چیخیں

بنا رہی ہیں عجب ہیولے

جو چادروں میں بھی ہیں برہنہ

یہ کون ہیں جانتے تو ہوں گے

حضور پہچانتے تو ہوں گے

یہ لونڈیاں ہیں

کہ یرغمالی حلال شب بھر رہے ہیں

دم صبح در بدر ہیں

حضور کے نطفہ کو مبارک کے نصف ورثہ سے بے معتبر ہیں

یہ بیبیاں ہیں

کہ زوجگی کا خراج دینے

قطار اندر قطار باری کی منتظر ہیں

یہ بچیاں ہیں

کہ جن کے سر پر پھرا جو حضرت کا دست شفقت

تو کم سنی کے لہو سے ریش سپید رنگین ہو گئی ہے

حضور کے حجلۂ معطر میں زندگی خون رو گئی ہے

پڑا ہوا ہے جہاں یہ لاشہ

طویل صدیوں سے قتل انسانیت کا یہ خوں چکاں تماشہ

اب اس تماشہ کو ختم کیجے

حضور اب اس کو ڈھانپ دیجئے

سیاہ چادر تو بن چکی ہے مری نہیں آپ کی ضرورت

کہ اس زمیں پر وجود میرا نہیں فقط اک نشان شہوت

حیات کی شاہ راہ پر جگمگا رہی ہے مری ذہانت

زمین کے رخ پر جو ہے پسینہ تو جھلملاتی ہے میری محنت

یہ چار دیواریاں یہ چادر گلی سڑی لاش کو مبارک

کھلی فضاؤں میں بادباں کھول کر بڑھے گا مرا سفینہ

میں آدم نو کی ہم سفر ہوں

کہ جس نے جیتی مری بھروسہ بھری رفاقت 

 

Fehmida Riaz 1

باکرہ

فہمیدہ ریاض

آسماں تپتے ہوئے لوہے کی مانند سفید

ریگ سوکھی ہوئی پیاسے کی زباں کی مانند

پیاس حلقوم میں ہے جسم میں ہے جان میں ہے

سر بہ زانو ہوں جھلستے ہوئے ریگستاں میں

تیری سرکار میں لے آئی ہوں یہ وحش ذبیح

مجھ پہ لازم تھی جو قربانی وہ میں نے کر دی

اس کی ابلی ہوئی آنکھوں میں ابھی تک ہے چمک

اور سیہ بال ہیں بھیگے ہوئے خوں سے اب تک

تیرا فرمان یہ تھا اس پہ کوئی داغ نہ ہو

سو یہ بے عیب اچھوتا بھی تھا ان دیکھا بھی

بے کراں ریگ میں سب گرم لہو جذب ہوا

دیکھ چادر پہ مری ثبت ہے اس کا دھبا

اے خدا وند کبیر

اے جبار

متکبر و جلیل

ہاں ترے نام پڑھے اور کیا ذبح اسے

اب کوئی پارۂ ابر آئے کہیں سایہ ہو

اے خدا وند عظیم

باد تسکیں! کہ نفس آگ بنا جاتا ہے

قطرۂ آب کہ جاں لب پہ چلی آئی ہے

***     ***     ***

 

زبانوں کا بوسہ

فہمیدہ ریاض

زبانوں کے رس میں یہ کیسی مہک ہے

یہ بوسہ کہ جس سے محبت کی صہبا کی اڑتی ہے خوشبو

یہ بد مست خوشبو جو گہرا غنودہ نشہ لا رہی ہے

یہ کیسا نشہ ہے

مرے ذہن کے ریزے ریزے میں ایک آنکھ سی کھل گئی ہے

تم اپنی زباں میرے منہ میں رکھے جیسے پاتال سے میری جاں کھینچتے ہو

یہ بھیگا ہوا گرم و تاریک بوسہ

اماوس کی کالی برستی ہوئی رات جیسے امڈتی چلی آ رہی ہے

کہیں کوئی ساعت ازل سے رمیدہ

مری روح کے دشت میں اڑ رہی تھی

وہ ساعت قریں تر چلی آ رہی ہے

مجھے ایسا لگتا ہے

تاریکیوں کے

لرزتے ہوئے پل کو

میں پار کرتی چلی جا رہی ہوں

یہ پل ختم ہونے کو ہے

اور اب

اس کے آگے

کہیں روشنی ہے

***     ***     ***

Fehmida Riaz2

کب تک مجھ سے پیار کرو گے

کب تک؟

جب تک میرے رحم سے بچے کی تخلیق کا خون بہے گا

جب تک میرا رنگ ہے تازہ

جب تک میرا انگ تنا ہے

پر اس کے آگے بھی تو کچھ ہے

وہ سب کیا ہے

کسے پتہ ہے

وہیں کی ایک مسافر میں بھی

انجانے کا شوق بڑا ہے

پر تم میرے ساتھ نہ ہوگے تب تک 

Fehmida riyaz Kya tum chand na dekho ge 1