jump to navigation

A Tribute To Mohammed Aziz (Playback Singer) November 29, 2018

Posted by Farzana Naina in Film and Music, Music, Poetry.
Tags: , , , ,
add a comment

Welcome Pink Rose

music notes

محمد عزیز : پیدائش 2 جولائی، 1954, کلکتا, بھارت

انتقال : 27 نومبر، 2018, Nanavati hospital, ممبئی, بھارت

اولاد: ثنا عزيز

ممبئی کی ہندی فلم انڈسٹری میں فلموں کے لیے 1980 اور 1990 کے عشرے میں بہترین نغمے پیش  کرنے والے گلوکار محمد عزیز کا ایک نجی اسپتال میں 64 سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا۔

 

 

محمد عزیز  2 جولائی 1954 کو مغربی بنگال کے اشوک نگر میں پیدا ہوئے تھے۔

محمد عزیز کا نغمہ ’’آپ کے آجانے سے ‘‘ اور ’’ مائی نیم از لکھن‘‘  فلموں کے چاہنے والوں میں خوب مقبول ہوا ۔

پیر کے روز محمد عزیز کا ایک میوزیکل پروگرام کولکتہ میں منعقد کیا گیا تھا اور ستائیس نومبر دو ہزار اٹھارہ کے منگل کو دوپہر دو بجے ممبئی آمد کے بعد انہوں نے ڈرائیور کو کہا کہ میری طبیعت خراب ہو رہی ہے، جس کے بعد انہیں فوری طور پر ناناوتی اسپتال پہنچایا گیا، چیک اپ کرتے ہی ڈاکٹروں نے دل کا دورہ پڑنے کی اطلاع دی اور انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔

میوزک کمپوزر انو ملک نے سب سے پہلے محمد عزیز کو فلم ’’ مرد‘‘ میں امیتابھ پر فلمائے گانے ’’ مرد ٹانگے والا‘‘  گانے کا چانس دیا تھا۔

محمد عزیز کے تعلقات لکشمی کانت پیارے لال کے ساتھ بہت اچھے اور قریبی تھے، جبکہ کلیان جی آنند ، آر ڈی برمن، نوشاد، او پی نیر اور بپی لہری بھی ان کے رفیق تھے۔

محمد عزیز نے امیتابھ بچن کے دور سے لے کر رشی کپور اور گو وندا جیسے ہیروز کے لیئے مقبول ترین گیت گائے۔

محمد عزیز کو پیار سے ’’ منا ‘‘ کہہ کر پکارا جاتا تھا، ان کا پورا نام ’’ سید محمد عزیز النبی‘‘ تھا۔

اپنی زندگی کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ آر ڈی برمن کے پاس گیت سنانے پہنچا، وہ اپنے گھر میں تھے اور کمرے میں مائیک بھی لگا ہوا تھا، لہذا میں نے گیت گایا، لیکن برمن نے کہا کہ اپنے لہجے پر ابھی اور محنت کرو، باہر نکل کر میں سوچتا رہا کہ میں تو اہلِ زبان ہوں اس سے بہتر اور کیا سیکھوں گا!۔

پھر اس کے بعد میں ان کی طرف سے مایوس ہوگیا لیکن ایک دن آشا جی مجھے کہا کہ چلو میری گاڑی میں بیٹھو میں تمہیں برمن کے پاس لے چلتی ہوں، میں نے بہانہ کر دیا کہ ابھی تھوڑی بعد میں خود ہی گھر پہنچ جاؤں گا، آشا جی نے ہمیشہ میری بہت مدد کی، وہ ایک مہربان ہستی ہیں ۔

انہوں نے اپنے گائیکی کے دور میں آشا بھونسلے، لتا منگیشکر، انورادھا پوڈوال، کویتا کرشنا مورتی، کے ساتھ اسی اور نوے کی دہائی میں بہترین گیتوں سے دھوم مچادی تھی۔

 محمد عزیز نے بطور پلے بیک گلوکار اپنے کیریئر کا آغاز بنگلہ فلم ‘جیوتی’ سے کیا تھا۔ سال 1984 میں وہ ممبئی آ گئے جہاں انہوں نے ہندی فلم ‘امبر’ میں گیت گایا، اس کے بعد عزیز نے کئی فلموں کے ہٹ گانے گائے،  انہوں نے مرد کے علاوہ بنجارن، آدمی کھلونا ہے، لو 86، پاپی دیوتا، ظلم کو جلا دوں گا، پتھر کے انسان، بیوی ہو تو ایسی، برسات کی رات، لال دوپٹہ ململ کا، رام لکھن، ہمارا خاندان، رام اوتار جیسی کئی فلموں میں گانے گائے۔

ہندی، اردو کے علاوہ محمد عزیز نے بھجن، بھگتی گیت، اڑیسہ، اور صوفی کلام بھی گایا۔ 

ان کے میوزیکل کیریئر میں گانوں کی کل تعداد بائیس ہزار سے زائد ہے۔

وہ ان چند گلوکاروں میں سے تھے جو اپنی آواز کا نوٹ بہت اونچا اٹھا سکتے ہیں، محمد عزیز نے ہندی فلموں کے علاوہ بنگالی، اوڑیا اور دیگر علاقائی زبان کی فلموں میں بھی بطور پلے بیک گانے گائے، وہ خود محمد رفیع کے بہت بڑے پرستار تھے جبکہ سونو نگم ان کے بہت بڑے پرستار ہیں۔  

آخری دور میں ان کو شکوہ رہا کہ فلم انڈسٹری نے ان کو بڑے ستاروں کے میوزیکل شوز میں بلانا چھوڑ دیا ہے، ان کی گلوکاری جتنی مقبول تھی اتنا ہی ان کو فلمی دنیا نے نظر انداز کیا ہوا تھا۔ 

Music Multi Eighth Note Music Multi TwoEighthNote Music Multi Eighth Note Tiny music notes Rose red 13 Tiny music notes Music Multi Eighth Note Music Multi TwoEighthNote Music Multi Eighth Note

ساری دنیا پیاری پر تو ہے سب سے پیارا ۔۔۔ فلم:  میرا کا موہن

 اے مرے دوست لوٹ کے آجا ۔۔۔ فلم: سورگ  

متوا بھول نہ جانا ۔۔۔ فلم: کب تک چپ رہوں گی

بہت جتاتے ہو چاہ ہم سے ۔۔۔ فلم: آدمی کھلونا ہے

کیسے کٹے دن کیسے کٹی راتیں ۔۔۔ فلم: سورگ

کچھ ہو گیا، چاند کے دیس میں دل میرا اڑ گیا ۔۔۔ فلم: کشن کنہیا 

تیرے میرے بیچ میں کیسا ہے یہ بندھن انجانا ۔۔۔ فلم: اک دوجے کے لیئے

آتے آتے آتے تیری یاد آ گئی ۔۔۔ فلم: جان کی بازی

پل دن مہینے کئی سال ہوگئے ۔۔۔ فلم: آپ کی یادیں

پیار ہمارا امر رہے گا ۔۔۔ فلم: مدت

ساتھیا او ساتھیا سورج ہے تو ۔۔۔ فلم: پاپ کو جلا کر راکھ کردوں گا

میں تیرے بن جی نہیں سکتا ۔۔۔ فلم: لال پری

تم جو بنے ہمدرد ہمارے ۔۔۔ فلم: فتح  

پت جھڑ ساون بسنت بہار ۔۔۔ فلم: سندور

جب پیار کیا اقرار کیا ۔۔۔ فلم: وطن کے رکھوالے

آج کل یاد کچھ اور رہتا نہیں ۔۔۔ فلم: نگینہ ۱۹۸۶

تجھے رب نے بنایا کس لیئے ۔۔۔ فلم: یاد رکھے گی دنیا

پھول گلاب کا ۔۔۔ فلم: بیوی ہو تو ایسی

ہم تمہیں اتنا پیار کریں گے ۔۔۔ فلم: بیس سال بعد

لوگ کہتے ہیں کہ پیلا چاند ہے سب سے حسیں ۔۔۔ فلم: خود غرض

سارے شکوے گلے بھلا کے کہو ۔۔۔ فلم: آزاد دیش کے غلام

یاد رکھیو یہ چار اکشر پیار کے ۔۔۔ فلم: عزت دار ۱۹۹۰

سن اے بہار دل کی پکار ۔۔۔ فلم: آسمان سے اونچا

دل کے ارمانوں کو تونے جگا دیا ۔۔۔ فلم: انصاف کی پکار

میں نے تجھ سے پیار کیا ہے ۔۔۔ فلم: سوریا

میرے محبوب رک جاؤ تمہارا چاہنے والا ۔۔۔ فلم: ہمارا خاندان

تو بھی بے قرار میں بھی بے قرار ۔۔۔ فلم: وقت کی آواز

میں تیری محبت میں پاگل ہو جاؤں گا ۔۔۔ فلم: تری دیو

آج صبح جب میں جگا ۔۔۔ فلم: آگ اور شعلہ

انگلی میں انگوٹھی، انگوٹھی میں نگینہ ۔۔۔ فلم: رام اوتار

آپ کا چہرہ آپ کا جلوہ ۔۔۔ فلم: تہلکہ

مئے سے مینا سے نہ ساقی سے ۔۔۔ فلم: خود غرض

مل گئے دل اب تو کھل کے مل ذرا ۔۔۔ فلم اگنی ۱۹۸۸

میں نے دل کا حکم سن لیا تیرے صدقے بلم ۔۔۔ فلم: برسات کی رات

تونے بے چین اتنا زیادہ کیا ۔۔۔ فلم: نگینہ

دنیا میں کتنا غم ہے ۔۔۔ فلم: امرت ۱۹۸۶  

تو مجھے قبول میں تجھے قبول ۔۔۔ فلم: خدا گواہ

محبوب سے ہمارے بادِ صبا یہ ہمارا ۔۔۔ فلم: لو ۸۶

تو ہی میری پریم کہانی ۔۔۔ فلم: پتھر کے انسان

اک لڑکی جس کا نام محبت ۔۔۔ فلم: شعلہ اور شبنم

اپنی آنکھوں کے ستاروں میں ۔۔۔ فلم: پولیس اور مجرم

رب کو یاد کروں ۔۔۔ فلم: خدا گواہ

ساون کا مہینہ ۔۔۔ فلم: ایسا پیار کہاں

چلو چلو چلیں دور کہیں ۔۔۔ فلم: سندور

کھینچ لایا ہے تیرا پیار ۔۔۔ فلم: جنم جنم

جیسے اک چاند کا ٹکڑا ۔۔۔ فلم: انتقام

بہنیں ہنستی ہیں تو ۔۔۔ فلم: پیار کا دیوتا

چھن چھن باجیں گھنگھرو ۔۔۔ فلم: گھنگھرو

یار تیرا پیار تو ہے میری زندگی ۔۔۔ فلم : ہم بھی تو انسان ہیں

مجھے جینے نہیں دیتی ہے ۔۔۔ فلم: بومب بلاسٹ

میرے صنم تیرے سر کی قسم ۔۔۔ فلم: مجبور 

جند تیرے نام کر دی ۔۔۔ فلم: پیار کا دیوتا

تم حسیں کسقدر ہو ۔۔۔ فلم: حاتم طائی  

گوری کا ساجن ، ساجن کی گوری ۔۔۔ فلم: آخری راستہ  

Pink Flower 3

***      ***

موسیقی کے دلدادہ انہیں گیتوں کے جادو میں کچھ مہکتے لمحے ایک الگ دنیا میں گزار آتے ہیں۔

یہ گیت وہ آئینے ہیں جن میں حساس لوگ اپنا دل اور دھڑکن دیکھ لیتے ہیں!۔

ان گیتوں میں کبھی کبھی وہ جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں جب محبت نے اپنی مقناطیسی کشش سے مجھے کھینچ لیا تھا، ہم ان گیتوں میں اپنے دلبر کو دیکھتے ہیں یا پھر اسے جو چھین لیا گیا، جو دل چیر گیا ہو، وہ دور کہیں کھو گیا، اوجھل ہوگیا جب اس کے ہمراہ بتائی چند گھڑیاں نصیب ہوتیں اور باقی دن ان گیتوں کے سہارے کٹ جاتا۔ !۔

وقت ان لمحوں کی سوئیاں توڑ کر آگے نکل گیا، لیکن میں اب تک ان چبھتی سوئیوں کو نکال نہیں پائی، اس کے ساتھ کی سب دعائیں کہیں اس عرش و فرش کے درمیان بھٹکتی رہ گئیں !۔

یہ گیت  گلے میں آنسوؤں کا پھندا بن کر سانسیں گھوٹتے ہیں ، اُس کی مہک میرے تن من میں ہے، لیکن وہ نہیں ہے، کہیں بھی نہیں۔

جیسے کوئی خواب تھا، سراسر ایک خواب، جو آنکھ  کھلتے ہی غائب ہو گیا !۔

میں ایک کٹے پروں والا پرندہ جو پھڑ پھڑا کر رہ جاتا ہے، نہ جیتا ہے نہ مرتا ہے، مرے ارد گرد کی دنیا  کبھی اس طلسم کو محسوس نہیں کر سکتی جس نے مجھے حصار میں لیا ہوا تھا، کبھی اس دکھ کی تیز دھار نہیں دیکھ سکتی جو مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کاٹتا ہے۔

نا ہی وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔۔۔ جو میرے بن اک پل نہیں رہ پاتا تھا۔۔۔!!!۔

Fairy Grey heart

Federico García Lorca 5 June 1898 -19 August 1936 (aged 38) November 25, 2018

Posted by Farzana Naina in Literature, Poetry.
Tags: ,
add a comment

‘‘گارسیالورکا’’

Federico Garcia Lorca

اسپین کی شاعری کا ہی اسم اعظم نہیں بلکہ دنیا بھر میں اس کی تکریم غیر معمولی شاعرانہ استعداد کی وجہ سے کی جاتی ہے۔ گارسیالورکا محض ۳۸ برس کی عمر میں

ین کی شاعری کا ہی اسم اعظم نہیں بلکہ دنیا بھر میں اس کی تکریم غیر 

جنرل فرانکو کے ڈکٹیٹر شپ کے عہد میں مارا گیا۔ اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے سپین کی خانہ جنگی کے زمانے میں حریت فکر کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دیا اور جواں مرگ ہو کر ۱۹۳۶ء میں پوری دنیا کو آمریت سے نفرت کا سبق دیا۔

لورکا ایک متمول گھرانے میں سپین کے مضافات میں ۱۸۹۸ء کو پیدا ہوا تھا۔ اس کی شاعری نے سپین کی زبان اور محاورے کا منہاج ہی بدل کے رکھ دیا اور شاعری کے پرانے، فرسودہ اور گھسے پٹے انداز کو تبدیل ہی نہیں کیا بلکہ جڑ سے اکھاڑ کے رکھ دیا۔ یہی نہیں لورکا نے ڈراموں کی دنیا میں بھی انقلاب برپا کیا۔ اس کے ڈراموں میں انسان کی روح اور معاشرے کی اصل حقیقت، ایک تخلیقی قوت کی صورت میں سامنے آئی۔ وہ انسانی تقدیر، قدروں کی شکست، جنسیت اور موت، جیسے بے شمار موضوعات کو بالکل جداگانہ فراست کے ساتھ بیان پر قادر تھا۔ اس نے عیسوی دنیا کے بارے میں بھی زبردست تنقید کی ہے اور کیتھولک چرچ کی مختلف بہیمانہ صورتوں کو بے نقاب کیا ہے۔

لورکا کہتا تھا کہ پندرھویں صدی میں مسلمانوں کے شان دار ثقافتی اور تہذیبی ورثے کو چرچ نے جس صورت میں برباد کیا، وہ سپین کی روح پر ایک خطرناک وار تھا۔ جس سے سپین کی تہذیبی زندگی انحطاط پذیر ہوئی۔ جس کا دُکھ اس کی نظموں میں سریلسٹ تکنیک میں ظاہر ہوا۔ ہرچند لورکا، ترقی پسند نظریات کا مالک بے باک شخص تھا، وہ مذاہب سے برگشتہ تھا اور آرٹ کی بے پایاں تاثیر پر یقین رکھتا تھا۔ سپین میں مسلمانوں کے شان دار ماضی کے بعد، ایک تاریک دور کا آغاز ہوا اور باالخصوص آزادی نسواں کو سلب کر دیا گیا۔ لوگوں کو بربریت اور مذہبی تنگ نظری کا اسیر ہونا پڑا۔ اس کا انتہائی گہرا اثر پڑا اور سماج میں فکری انجماد تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔ 

on-this-day-19-august-1936-the-gay-socialist-poet-35632836

فیڈرکوگارسیالورکا، کی نفسیات پر لڑکپن ہی میں، اس کے اثرات مرتسم ہونا شروع ہوئے، اگرچہ طبعاً و ہ آزاد منش اور باغی روح لے کر پیدا ہو ا تھا۔ مگر لورکا نے کہا ہے کہ اس نے اپنی ماں جو مدرس تھی، اس سے انتہائی اثر قبول کیا۔ اس کی ماں ایک ذہین خاتون تھی اور لورکا کے طبعی، ادبی رجحان سے واقف تھی۔

اس کا خاندان ۱۹۰۹ء میں سپین کے شہر گرینڈا منتقل ہوا، جہاں لورکا نے تعلیم حاصل کی۔ پھر میڈرڈ میں قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اس کی ملاقات نام ور مصور سلویڈرڈالی سے ہوئی۔ ڈالی اور لورکا کی رفاقت نے پینٹنگ اور ادب کے باب میں بے شمار مباحث کو جنم دیا۔ ڈالی نے لورکا کے حسن تکلم، شائستگی اور خوب روئی کا بار بار اظہار کیا۔ لیکن ان کی رفاقت ۱۹۲۹ء میں اس وقت اختتام پذیر ہوئی جب لورکا نے سپین کو الوداع کہا اور امریکا چلا گیا۔

اسی دوران، اس کی شخصیت میں فکری تلاطم جنم لے رہا تھا۔ اپنی زمین سے ہجرت، رفاقتوں سے محرومی، جنسی ناآسودگی، تنہائی، موت کا خوف، ان سب عوامل نے لورکا کو ہلا کر رکھ دیا، مگر اس کی تخلیقی اپج نے علامات کا ایک نیا جہان اپنی مشہور عالم شعری کتاب Gypsy Ballads کے ذریعے ہویدا کیا۔ اس شعری کتاب نے اسے بے کنار عالمی شہرت دی۔ 

Federico Garcia Loca - Renowned Spanish Poet

یہ نظمیں انسانی رشتوں کو جس شاعرانہ اسالیب میں ڈھالتی ہیں، اس کے لیے لورکا نے شعر میں اتنا ارتکاز پیدا کیا کہ لفظوں نے عمومی مطالب سے بغاوت کی اور انسانی تجربے کا ایسا پینو راما پیش کیا، جس میں بیسویں صدی کی ایک نئی بوطیقا سامنے آئی۔گویا لورکا نے خارجی اشیا کو باطن کے آئینے میں ہمہ جہت کر دیا۔

لورکا نے امریکا آ کر کولمبیا میں اپنی دوسری عالمگیر شعری کتاب Poet in New York تخلیق کی۔ یہ نظمیں موضوع، اسلوب اور تکنیک کے نقطۂ نظر سے اس درجہ ترفع کی حامل ہیں ۔ یہ اپنے مواد کے نرالے پن اور لحن کے باغیانہ آفاق کی وجہ سے خود لورکا کے لیے حیرت کا باعث تھیں۔ کیوں کہ بعض اوقات فن کار اپنے آرٹ کی گمبھیرتا کی اولین آواز سے گھبرا بھی جاتا ہے۔ اس لیے کہ لفظ کے معینہ راستوں سے ہٹنے کی جرأت کوئی معمولی بات نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لورکا نے اپنی مختصر زندگی کے دوران میں کتاب شائع کرنے سے گریز کیا۔ ان نظموں کا سحر امیجری اور علامتوں کا پراسرار نظام، آج تک نئی شاعری کی عظمت کا شارح ہے۔ 

Federico García Lorca

انجام کار لورکا دوبارہ سپین لوٹ آیا اور ۱۹۳۰ء میں ڈراما نگاری کی طرف ہمہ تن سرگرم ہو رہا۔ یہ دور، فی الواقع، لورکا کی خلاقانہ فراوانی کا ہے، پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ سپین کی حکومت نے، اس کی قدر منزلت کی اور وہ ڈرامے کی ترویج کے لیے La-Barraca کا ڈائریکٹر بنایا گیا۔ یہ گشتی ڈرامے پیش کرنے کا ادارہ ٹھہرا۔ اس دور میں اس نے اپنا شہرہ آفاق ڈراما Blood Wedding لکھا۔ جس کی شہرت سے پورا مغرب گونج اٹھا۔ یہ زبردست منظوم ڈراما تھا۔ اس کے بعد اس کا دوسرا قابل رشک ڈراما سامنے آیا۔ جس کا نام Yerma تھا۔ میڈرڈ میں، اس ڈرامے کی مقبولیت نے لورکا کو ذہنی آسودگی دی۔

۱۹۳۶ء میں اس کا ناقابل فراموش ڈراما The House of Bernadaialba منظر عام پر آیا۔ یہ ڈرامے سپین کی ادبی تاریخ میں امر ہیں اور دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے اور عالم گیر شہرت پائی۔

کہا جاتا ہے کہ ۱۹۳۰ء سے اس کے قتل تک، لورکا، نے ڈرامے کی صنف اور سپینی زبان کو ایک نئی قوت ایجاد سے آباد کیا۔ مگر اس دوران میں وہ، شاعری پر پوری توجہ نہ دے سکا۔ کیوں کہ، اس کے ذہن پر ڈرامے کا بھوت سوار تھا۔ البتہ اس دور میں لورکا نے اپنی طویل نظم “Lament for the death of bull fighter” ضرور لکھی ۔ یہ عظیم الشان نظم اس کی موت کے بعد شائع ہوئی۔ اور تو اور لورکا کی کتابوں پر فرانکو کے ڈکٹیٹر شپ کے عہد میں چالیس برس تک پابندی رہی۔ مگر اس کے باوجود دنیا بھر میں لورکا کی کتب کے تراجم ہوئے۔ اور سپین میں زبردست قدغن کے باوجود لورکا، کی کتابیں مختلف ادارے چوری چھپے شائع کرتے رہے۔ اس کی شاعری کا لسانی شیوہ، لفظ کے عمومی دائرے سے نکل کر، اظہار کا لامحدود منطقہ وضع کرتا ہے۔ اس کے شاعرانہ اصوات میں جو طلسم ہے وہ ہمارے اندر وہی تجربہ اور امکانات پیدا کرتا ہے جس سے لورکا گزرا، مگر اس کی ہزار ہا پرتیں ہیں۔ لورکا کی کئی نظموں کے تراجم اردو میں بھی ہوئے۔ لورکا کی نظموں میں غنائیت کے اندر سے المیہ پھوٹتا ہے۔ اس کے مصروں کی بافت میں صوت و آہنگ کی فراوانی ہے اس لیے کہ اس نے ابتداً موسیقی سیکھی۔ فی الواقع لڑکپن میں وہ موسیقار بننا چاہتا تھا۔

۱۹۲۶ء میں جب لورکا نے اپنی مشہور تخلیق The shoe maker’s prodigious wife مکمل کی تو اسے پہلی بار، ادبی حلقوں نے اس لیے بھی سراہا کہ وہ سپاٹ نظموں کی حدود توڑ کر ایک نیا شعری وژن لانے میں کام ران ہوا تھا جس کی مثال ہسپانوی زبان میں نہ تھی۔ 

federico-garcia-lorca_quotes

گارسیا لورکا، نے اپنے ڈراموں اور نظموں میں کھلے حواس کے ساتھ، زندگی کی بدلتی صورت حال کا ادعا کیا ہے۔کیوں کہ اس نے مروجہ لغاتی معانی کی جبریت سے شاعری کو نکال کر خالص سونا بنایا۔ پھر اس کا کمال یہ ہے کہ اس نے اکہرے شعری امکانات کو کلیتاً رد کیا اور انسانی تجربے کو ایک ہمہ گیر صداقت میں بدل دیا۔

لورکا کی نظموں کا ایک مرکزی اشارہ جنسی ناآسودگی اورا مردپرستی بھی رہا۔ وہ ایک غیر معمولی شاعر تھا۔ اس لیے اس نے شجر ممنوعہ کو، سپین کی شعری تاریخ میں پہلی بار، سب پر واشگاف کیا۔ اس نے اپنے شعری قالب میں تجربے کے بے پناہ حجم کی وجہ سے انسانی رشتوں کی نئی توجیح کی ہے۔ اس کے لیے اس کی یہ نظمیں یادگار رہیں۔

  1. The Gypsy and the wind.

  2. Ditty of the first desire.

  3. Sonnet of the sweet complain.

  4. The faithless wife.

  5. The bulterfly’s, evil trick

لورکا کی موت کو اب ستر برس سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ مگر دنیا بھر کے اہل قلم اس جواں مرگ شاعر کے لیے اس لیے اب بھی آنسو بہاتے ہیں کہ جنرل فرانکو کی فاشسٹ حکومت نے بے شمار فن کاروں کے ساتھ، اسے اپنے آبائی شہر ترینڈا میں قتل کر کے اجتماعی قبر میں دفنا دیا۔

Garcia at the time of his execution

گاسیا لورکا سزائے موت کے وقت

سپین کے عوام، آرٹسٹوں اور ترقی پسند حلقوں نے اب بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں لورکا کا مقام قتل بتایا جائے تاکہ اس عظیم شاعر کی یادگار بنا سکیں جس نے ہسپانوی ادب کو عالم گیر شہرت دی اور خود بے دردی سے قتل ہوا۔

***

بے خواب محبت کی رات/گارسیا لورکا

ترجمہ: محمد سلیم الرحمٰن

رات کا نزول، ہم دونوں اور پورا چاند

میں رو پڑا اور تجھے ہنسی آ گئی

تیری تحقیر خدا، اور میرے گلے شکوے

زنجیروں میں جکڑی فاختائیں اور لمحے

رات کا نزول، ہم دونوں۔ دکھ کا بلوریں شیشہ

ایک مہیب دوری کی وجہ سے تو نے آنسو بہائے

میرا دکھ تیرے ریت کے بنے نربل دل پر

اذیتوں کے خوشے کی طرح چھایا ہوا

صبح نے ہمیں سیج پر ایک دوسرے سے ملا دیا

کبھی نہ تھمنے والے لہو کی ٹھنڈی

بہتی ندی پر ہم منھ رکھے ہوئے

اور چلمن پڑی بالکونی میں سورج نے پاؤں دھرا

اور میرے کفنائے ہوئے دل پر

زندگی کے مرجان نے اپنی شاخیں پھیلائیں

 ***تحریر: علی تنہا***

Fehmida Riaz 28th July 1945 – 20th Nov 2018 November 21, 2018

Posted by Farzana Naina in Fehmida Riaz, Literature, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shairy, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags: ,
add a comment

Fehmida riyaz 0

پاکستان کی ممتاز انقلابی شاعرہ ’’ فہمیدہ ریاض‘‘ رضائے الہی سے لاہور میں انتقال فرما گئیں۔

انا للہ و انا الیہ راجعون

 اپنے تانیثی اور غیر روایتی خیالات کے لئے معروف

فہمیدہ ریاض (تخلص فہمیدہ) :۲۸  ؍جولائی ۱۹۴۵ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئیں، ایم اے تک تعلیم حاصل کی، لندن سے فلم ٹیکنک میں ڈپلوما حاصل کیا، طالب علمی کے زمانے میں حیدرآباد میں پہلی نظم لکھی جو ’’فنون‘‘ میں چھپی۔

پہلا شعری مجموعہ ’’پتھر کی زبان‘‘ ۱۹۶۷ء میں منظر عام پر آیا۔’’بدن دریدہ‘‘ ۱۹۷۳ء میں ان کی شادی کے بعد انگلینڈ کے زمانہ قیام میں چھپا۔’’دھوپ‘‘ ان کا تیسرا مجموعۂ کلام ۱۹۷۶ء میں چھپا۔  

کچھ عرصہ نیشنل بک کونسل ، اسلام آباد کی سربراہ رہیں، جب جنرل ضیاء الحق برسر اقتدار آئے تو یہ ادبی مجلہ ’’آواز‘‘ کی مدیرہ تھیں، ملٹری حکومت ان کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتی تھی لہذا یہ ہندوستان چلی گئیں۔

 ’’کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے‘‘۱۹۴۸ء میں ہندوستان میں ان کا شعری مجموعہ چھپا۔

ضیاء الحق کے انتقال کے بعد فہمیدہ ریاض پاکستان واپس آگئی تھیں۔

ان کی دیگر تصانیف کے نام یہ ہیں:

’حلقہ مری زنجیر کا ‘، ’ہم رکا ب‘، ’ادھورا آدمی‘، ’اپنا جرم ثابت ہے‘، ’ میں مٹی کی مورت ہوں‘، ’آدمی کی زندگی‘۔ ان کی محبوب صنف سخن نظم رہی ۔

پروردگار ان کی مغفرت فرمائے ۔ آمین۔

Fehmida Riaz

چادر اور چار دیواری

فہمیدہ ریاض

حضور میں اس سیاہ چادر کا کیا کروں گی

یہ آپ کیوں مجھ کو بخشتے ہیں بصد عنایت

نہ سوگ میں ہوں کہ اس کو اوڑھوں

غم و الم خلق کو دکھاؤں

نہ روگ ہوں میں کہ اس کی تاریکیوں میں خفت سے ڈوب جاؤں

نہ میں گناہ گار ہوں نہ مجرم

کہ اس سیاہی کی مہر اپنی جبیں پہ ہر حال میں لگاؤں

اگر نہ گستاخ مجھ کو سمجھیں

اگر میں جاں کی امان پاؤں

تو دست بستہ کروں گزارش

کہ بندہ پرور

حضور کے حجرۂ معطر میں ایک لاشہ پڑا ہوا ہے

نہ جانے کب کا گلا سڑا ہے

یہ آپ سے رحم چاہتا ہے

حضور اتنا کرم تو کیجے

سیاہ چادر مجھے نہ دیجئے

سیاہ چادر سے اپنے حجرے کی بے کفن لاش ڈھانپ دیجئے

کہ اس سے پھوٹی ہے جو عفونت

وہ کوچے کوچے میں ہانپتی ہے

وہ سر پٹکتی ہے چوکھٹوں پر

برہنگی تن کی ڈھانپتی ہے

سنیں ذرا دل خراش چیخیں

بنا رہی ہیں عجب ہیولے

جو چادروں میں بھی ہیں برہنہ

یہ کون ہیں جانتے تو ہوں گے

حضور پہچانتے تو ہوں گے

یہ لونڈیاں ہیں

کہ یرغمالی حلال شب بھر رہے ہیں

دم صبح در بدر ہیں

حضور کے نطفہ کو مبارک کے نصف ورثہ سے بے معتبر ہیں

یہ بیبیاں ہیں

کہ زوجگی کا خراج دینے

قطار اندر قطار باری کی منتظر ہیں

یہ بچیاں ہیں

کہ جن کے سر پر پھرا جو حضرت کا دست شفقت

تو کم سنی کے لہو سے ریش سپید رنگین ہو گئی ہے

حضور کے حجلۂ معطر میں زندگی خون رو گئی ہے

پڑا ہوا ہے جہاں یہ لاشہ

طویل صدیوں سے قتل انسانیت کا یہ خوں چکاں تماشہ

اب اس تماشہ کو ختم کیجے

حضور اب اس کو ڈھانپ دیجئے

سیاہ چادر تو بن چکی ہے مری نہیں آپ کی ضرورت

کہ اس زمیں پر وجود میرا نہیں فقط اک نشان شہوت

حیات کی شاہ راہ پر جگمگا رہی ہے مری ذہانت

زمین کے رخ پر جو ہے پسینہ تو جھلملاتی ہے میری محنت

یہ چار دیواریاں یہ چادر گلی سڑی لاش کو مبارک

کھلی فضاؤں میں بادباں کھول کر بڑھے گا مرا سفینہ

میں آدم نو کی ہم سفر ہوں

کہ جس نے جیتی مری بھروسہ بھری رفاقت 

 

Fehmida Riaz 1

باکرہ

فہمیدہ ریاض

آسماں تپتے ہوئے لوہے کی مانند سفید

ریگ سوکھی ہوئی پیاسے کی زباں کی مانند

پیاس حلقوم میں ہے جسم میں ہے جان میں ہے

سر بہ زانو ہوں جھلستے ہوئے ریگستاں میں

تیری سرکار میں لے آئی ہوں یہ وحش ذبیح

مجھ پہ لازم تھی جو قربانی وہ میں نے کر دی

اس کی ابلی ہوئی آنکھوں میں ابھی تک ہے چمک

اور سیہ بال ہیں بھیگے ہوئے خوں سے اب تک

تیرا فرمان یہ تھا اس پہ کوئی داغ نہ ہو

سو یہ بے عیب اچھوتا بھی تھا ان دیکھا بھی

بے کراں ریگ میں سب گرم لہو جذب ہوا

دیکھ چادر پہ مری ثبت ہے اس کا دھبا

اے خدا وند کبیر

اے جبار

متکبر و جلیل

ہاں ترے نام پڑھے اور کیا ذبح اسے

اب کوئی پارۂ ابر آئے کہیں سایہ ہو

اے خدا وند عظیم

باد تسکیں! کہ نفس آگ بنا جاتا ہے

قطرۂ آب کہ جاں لب پہ چلی آئی ہے

***     ***     ***

 

زبانوں کا بوسہ

فہمیدہ ریاض

زبانوں کے رس میں یہ کیسی مہک ہے

یہ بوسہ کہ جس سے محبت کی صہبا کی اڑتی ہے خوشبو

یہ بد مست خوشبو جو گہرا غنودہ نشہ لا رہی ہے

یہ کیسا نشہ ہے

مرے ذہن کے ریزے ریزے میں ایک آنکھ سی کھل گئی ہے

تم اپنی زباں میرے منہ میں رکھے جیسے پاتال سے میری جاں کھینچتے ہو

یہ بھیگا ہوا گرم و تاریک بوسہ

اماوس کی کالی برستی ہوئی رات جیسے امڈتی چلی آ رہی ہے

کہیں کوئی ساعت ازل سے رمیدہ

مری روح کے دشت میں اڑ رہی تھی

وہ ساعت قریں تر چلی آ رہی ہے

مجھے ایسا لگتا ہے

تاریکیوں کے

لرزتے ہوئے پل کو

میں پار کرتی چلی جا رہی ہوں

یہ پل ختم ہونے کو ہے

اور اب

اس کے آگے

کہیں روشنی ہے

***     ***     ***

Fehmida Riaz2

کب تک مجھ سے پیار کرو گے

کب تک؟

جب تک میرے رحم سے بچے کی تخلیق کا خون بہے گا

جب تک میرا رنگ ہے تازہ

جب تک میرا انگ تنا ہے

پر اس کے آگے بھی تو کچھ ہے

وہ سب کیا ہے

کسے پتہ ہے

وہیں کی ایک مسافر میں بھی

انجانے کا شوق بڑا ہے

پر تم میرے ساتھ نہ ہوگے تب تک 

Fehmida riyaz Kya tum chand na dekho ge 1

احمد ندیم قاسمی November 20, 2018

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Literature, Poetry, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags:
add a comment
Ahmed-Nadeem qasmi poet

 

Ahmed Nadeem Qasmi

 

          پاکستان کے نامور افسانہ نگار‘ شاعر‘ ناقد‘ کالم نگار‘ محقق‘ مترجم اور صحافی جناب احمد ندیم قاسمی کی تاریخ پیدائش 20 نومبر 1916ء ہے۔

          جناب احمد ندیم قاسمی کا اصل نام احمد شاہ تھا اور وہ کوانگہ ضلع خوشاب میں پیدا ہوئے تھے۔ جناب احمد ندیم قاسمی ایک ہمہ جہت ادبی شخصیت تھے ان کی تصانیف کا دائرہ ہر صنف ادب تک پھیلا ہوا ہے، کتب کے نام درج ذیل ہیں۔

شعری مجموعے :

 ’’دھڑکنیں‘ رم جھم‘ جلال و جمال‘ شعلہ گل‘ دشت وفا‘ محیط‘ دوام، لوح خاک‘جمال اور ارض وسما‘‘۔

 افسانوی مجموعے :  

’’چوپال‘ بگولے‘ طلوع و غروب‘  آنچل‘  آبلے‘  آس پاس‘ در و دیوار‘ سناٹا‘ بازار حیات‘ برگ حنا‘ سیلاب و گرداب، گھر سے گھر تک‘ کپاس کا پھول‘ نیلا پتھر اور کوہ پیما‘‘۔

تنقیدی مضامین کے مجموعے:  

’’ تہذیب و فن، پس الفاظ اور معنی کی تلاش‘‘۔  

خاکوں کے دو مجموعے :

’’میرے ہم سفر اور میرے ہم قدم شامل ہیں۔’’

احمد ندیم قاسمی کا شمار انجمن ترقی پسند مصنّفین کے بانیوں میں ہوتا تھا، انہوں نے اس جماعت کی وابستگی کے حوالے سے کئی مرتبہ قید و بند کی صعوبت بھی برداشت کی۔

 احمد ندیم قاسمی پھول‘ تہذیب نسواں‘ ادب لطیف‘ نقوش‘ سویرا‘ فنون اور روزنامہ امروز کے مدیر رہے اور متعدد اخبارات میں کالم نگاری بھی کرتے رہے۔ 

احمد ندیم قاسمی 1974 سے اپنی وفات تک مجلس ترقی ادب کے ناظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ‘ ستارہ امتیاز اور نشان امتیاز سے نوازا تھا۔

پاکستان رائٹرز گلڈ نے انہیں تین مرتبہ آدم جی ادبی انعام عطا کیا تھا۔ بزم فروغ اردو ادب قطر نے انہیں اپنے ایوارڈ سے نوازا تھا اور اکادمی ادبیات پاکستان نے انہیں 1997ء کا کمال فن ایوارڈ اور2007ء میں شائع ہونے والے بہترین شعری مجموعے کا  علامہ محمد اقبال ایوارڈ عطا کیا تھا۔

انہیں پنجاب کا پریم چند بھی کہا جاتا تھا۔

 جناب احمد ندیم قاسمی 10جولائی 2006ء کو لاہور میں وفات پاگئے اور لاہور ہی میں ملتان روڈ پر ملت پارک کے نزدیک شیخ المشائخ قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

ان کا ایک شعر ملاحظہ کیجیئے ؎

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جائوں گا 

میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا 

***

خود کو تو ندیمؔ آزمایا
اب مر کے خدا کو آزماؤں

Progressive writers (left to right) Sibte Hasan, Faiz Ahmed Faiz, Hameed Akhtar and Ahmed Nadeem Qasmi

Progressive writers (left to right) Sibte Hasan, Faiz Ahmed Faiz, Hameed Akhtar and Ahmed Nadeem Qasmi

دنیا کا سب سے بڑا پوسٹ کارڈ اور ماحولیاتی تبدیلی November 19, 2018

Posted by Farzana Naina in Global warming, World.
Tags: , , ,
add a comment

سوئزلینڈ کے گلپائن خطے میں واقع برفانی پہاڑی علاقے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں اور اسی جگہ کو دنیا کے سب سے بڑے پوسٹ کارڈ بنانے کے لیے چنا گیا۔

تیزی سے پگلتے ہوئے الیٹش گلیشییر پر بنائے اس کارڈ 125000 ڈرائنگس اور پیغامات درج ہیں جو سب ماحولیاتی تبدیلیوں کےبارے میں ہیں۔

اس پوسٹ کارڈ کا حجم 2500 مربع کلومیٹر ہے اور اسے دنیا بھر کے بچوں نے بنایا۔

ایک نے لکھا ’ہم مستقبل ہیں ہمیں ایک موقع دیں‘۔

فضا سے دیکھنے پر پوری تصویر پر یہ پیغام نظر آتا ہے ’عالمی درجۂ حرارت کو روکیں #1.5 ڈگری سینٹی گریڈ ‘۔ یہ سائنسدانوں کی جانب سے عالمی درجۂ حرارت کی مقرر کردہ حد ہے۔

یہ پوسٹ کارڈ بنانے کا انتظام ویوو فائنڈیشن نے کیا تھا۔ 

ادارے کے مطابق اس سرگرمی نے ایک نیا عالمی ریکارڈ بنایا ہے جس میں سب سے زیادہ پوسٹ کارڈز کو ایک ساتھ ایک تصویر میں جوڑا گیا۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ 16000 کارڈ کا تھا۔

اس پوسٹ کارڈ کے لیے مخصوص گلیشیر کا انتخاب اس کی خطرے کی حد تک تیزی سے پگھلنے کے باعث کیا گیا۔

زیوریخ یونیوبرسٹی میں برفانی تودوں کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یورپ میں سب سے بڑا برفانی تودہ جو 23 کلومیٹر طویل ہے سنہ 2100 تک مکمل ختم ہو سکتا ہے۔

ہائیڈروجن، فلورین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ وہ گیسیں ہیں جو فریزرز، ایئرکنڈیشنرز اور سپریز میں بھی استعمال ہوتی ہیں اور یہ عالمی حدت میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہیں۔

اس وقت اوسط عالمی درجۂ حرارت 15 ڈگری سیلسیئس ہے، لیکن ارضیاتی ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ ماضی میں اس میں کمی بیشی ہوتی رہی ہے۔

تاہم ماضی میں ہونے والی تبدیلیوں کے مقابلے پر درجۂ حرارت میں ہونے والی موجودہ تبدیلی بہت تیزی سے رونما ہو رہی ہے۔ سائنس دانوں کو تشویش ہے کہ انسانوں کے ہاتھوں کی جانے والی اس برق رفتار تبدیلی سے مستقبل میں زمین کے موسم پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔

گرین ہاؤس اثر اس قدرتی عمل کو کہا جاتا ہے جس کی مدد سے زمین سورج سے حاصل شدہ توانائی کو مقید کر لیتی ہے۔ سورج سے آنے والی حرارت روشنی کی شکل میں زمین کی سطح سے ٹکرانے کے بعد منعکس ہو کر واپس خلا میں بکھر جاتی ہے، تاہم کرۂ ہوائی میں موجود گیسیں اس حرارت کے کچھ حصے کو جذب کر لیتی ہیں، جس سے کرۂ ہوائی کا نچلا حصہ اور زمین کی سطح دونوں گرم ہو جاتے ہیں۔

اگر یہ عمل نہ ہوتا تو اس وقت زمین 30 درجہ زیادہ ٹھنڈی ہوتی، اور اس پر زندگی گزارنا بہت مشکل ہو جاتا۔

درجۂ حرارت کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ سو سالوں میں دنیا کے اوسط درجۂ حرارت میں 0.8 درجے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس سے میں 0.6 درجے فیصد اضافہ پچھلے تین عشروں میں دیکھنے میں آیا ہے۔

مصنوعی سیاروں سے حاصل شدہ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ حالیہ عشروں میں سمندر کی سطح تین ملی میٹر سالانہ اونچی ہو گئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پانی گرم ہو کر پھیل جاتا ہے۔

تاہم ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ پہاڑوں پر واقع گلیشیئر اور قطبی برف کی تہہ پگھل رہے ہیں۔ مصنوعی سیاروں سے لی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قطبی برف میں ڈرامائی کمی واقع ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ جانوروں اور پودوں کے رویوں میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ اب پھول وقت سے پہلے کھل جاتے ہیں اور جانوروں کی ہجرت اور رویے میں بھی فرق پڑا ہے۔

بین الاقوامی پینل برائے ماحولیاتی تبدیلی نے 2013 میں ایک تخمینہ پیش کیا تھا جس میں کمپیوٹر ماڈل پر مبنی مختلف پیش گوئیاں کی گئی تھیں۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ 21ویں صدی کے اختتام تک عالمی درجۂ حرارت میں 1.5 ڈگری کا اضافہ ممکن ہے۔

عام طور پر دو ڈگری تپش کو خطرناک عالمی تبدیلی کی دہلیز سمجھا جاتا ہے۔

اگر ہم فوری طور پر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج روک بھی دیں تب بھی سائنس دان کہتے ہیں کہ ان کے اثرات خاصے عرصے تک جاری رہیں گے کیوں کہ ماحولیاتی نظام کے مختلف حصے، مثلاً پانی اور برف کی تہیں، درجۂ حرارت میں تبدیلوں کا ردِعمل دکھانے میں سینکڑوں برس لگاتے ہیں۔

مکمل اثرات غیریقینی ہیں، البتہ اندازہ ہے کہ اس سے صاف پانی کی فراہمی میں کمی واقع ہو گی، خوراک کی پیداوار میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوں گی، اور سیلابوں، طوفانوں، قحط سالی اور گرمی کی لہروں میں اضافے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر اموات واقع ہو سکتی ہیں۔

سائنس دان کہتے ہیں کہ مجموعی طور پر بارشوں میں اضافہ ہو جائے گا لیکن سمندر سے دور 

علاقوں میں خشک سالی ہو گی اور موسمِ گرما کا دورانیہ بڑھ جائے گا۔ 

Rain 183

اس کے علاوہ سمندر کی سطح میں اضافے کی وجہ سے طوفان اور سیلاب آنے کا خطرہ بڑھ جائے گا، تاہم دنیا کے مختلف علاقوں میں مختلف اثرات دیکھنے کو ملیں گے۔

زیادہ اثر غریب ملکوں پر پڑے گا جہاں اس تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے وسائل کی کمی ہے۔

موسم یک لخت تبدیل ہونے کی وجہ سے جانداروں کی بہت سی نسلیں ناپید ہو جائیں گی۔ عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ملیریا، پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور قحط سالی سے لاکھوں لوگ موت کی آغوش میں چلے جائیں گے۔

اس کے علاوہ سمندروں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے جذب ہونے سے ان کی تیزابیت بڑھ جائے گی۔ اس سے سمندری حیات اور کورل ریف پر مضر اثرات مرتب ہوں گے 

Rain 90Fish12

بی بی سی

Somwhere In Time November 10, 2018

Posted by Farzana Naina in English Poetry, Film and Music, Music.
Tags:
add a comment

These lyrics are dedicated to my Neighbour “Norma Rogers” who passed away few years back, her friendship was a gift for me, may she rest in peace knowing that she is loved and live in my heart,

She gave me this album when we used to listen the music on cassettes, Since I found that on you tube I watched the movie and songs many times, It’s such a movie which makes you one understand what is good in this world, much more than a movie, The selection and pacing of images are very poised, I like the movie and know the love of Norma with her husband “Dave” who passed away many years ago fighting with cancer, I think she was just patiently waiting to be with him all this time until her time on earth ended too!

This movie and the theme music and the entire music score by the late John Barry is second to none, It’s for the people who understand what a special thing to have loved a soul so deeply and for those that have lost some one!

Lyrics are emotional and in keeping with the theme of the story, very touching and beautiful, since Norma gave me the Album this song became one of my favourite,

 I shall never forget her of listening to it.

Somewhere in time

We met on timeless hills

And in the evening mist we kissed

And time stood still

Before the dawn, we found forever

Moments are timeless when I feel your caress

You’ll always be inside of me

And I know when love is true

It’s always with you

Somewhere in time

I came to realize

Love never goes

Love never goes

Once it has touched your heart

Just like the strength of wine that’s left

As two lips part

A taste of love will linger after

I know the meaning of all that I see

You’ll always be inside of me

And I know when love is true

It’s always with you

Somewhere in time

I came to realize

Love never goes.

John Barry Prendergast, OBE (3 November 1933 – 30 January 2011) was an English conductor and composer of film music. He is best known for composing the soundtracks for 11 of the James Bond films between 1963 and 1987 (Barry also arranged and performed the James Bond Theme to the first film in the series, 1962’s Dr. No). He wrote the scores to the award winning films Midnight Cowboy, Dances with Wolves and Out of Africa, in a career spanning over 50 years. In 1999 he received an OBE for services to music.

 

https://www.youtube.com/watch?v=oaHxusInILo&list=LL5imja917uTaouWMn9wUTYg&index=135&t=0s

Somewhere in Time (2:58)

The Old Woman (2:49)

The Journey Back in Time (4:22)

A Day Together (6:02)

Rhapsody on a Theme of Paganini (composed by Rachmaninov) (2:57)

Is He the One? (3:10)

The Man of My Dreams (1:35)

Return to the Present (4:04)

Theme from “Somewhere in Time” (3:20)

Celebrating the success of his first play, Richard Collier (Christopher Reeve) is approached by an elderly woman who presses an antique pocket watch into his hand and whispers, “Come back to me.” A few years later, during a period of writer’s block, he sees a photograph in a hotel museum, and learns that this elderly woman was once a talented and lovely actress. Drawn mysteriously to the expression on the woman’s face in the photograph, he turns to a former professor for insights on time travel.

For he must find her, even if he has to go back to 1912 to do so. Self-hypnosis, and removing reminders of the modern present are the keys, and Collier eventually awakens the day before Elise McKenna’s (Jane Seymore) August 1912 performance at the Grand Hotel.

McKenna’s manager, William Robinson (Christopher Plummer) is an obstacle. There are hints that he is clairvoyant, and he fears the man who will change McKenna’s life. His attempts to separate the couple, however, backfire, causing his protégé to resent him. Elise and Richard press on, and are eventually able to declare their love for each other.

A tiny forgotten object from 1980 pulls Richard away from his beloved, and all his attempts to re-hypnotise himself and return to 1912 fail. His grief overwhelms him, and he dies. On the “other side,” the young Elise is waiting to welcome him, and the lovers are reunited.