jump to navigation

کورونا وائرس: کووڈ-19 سے متعلق سوالات اور جوابات March 27, 2020

Posted by Farzana Naina in Covid 19.
Tags: , ,
1 comment so far

کورونا وائرس: کووڈ-19 سے متعلق چند بنیادی سوالات اور ان کے جواب

26 مار چ 2020

دنیا میں جیسے جیسے کووِڈ-19 نامی کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے عام آدمی کے ذہن میں اس بیماری کے بارے میں نت نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔

مارچ کی 26 تاریخ تک دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اب تک چار لاکھ 72 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ اس سے اب تک 21 ہزار 300 سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

جیسا کہ یہ وائرس کھانسی کے ذریعہ انسان سے انسان میں منتقل ہوتا ہے لہذا یہ ضروری ہے کہ الکوحل سے بنے ہینڈ سینیٹائزر یا گرم پانی اور صابن سے بار بار ہاتھ دھوئیں اور چہرے کو بار بار چھونے سے اجتناب کریں۔

اس کے علاوہ، آپ کو کسی بھی ایسے شخص سے رابطے سے گریز کرنا چاہیے جسے کھانسی، زکام یا بخار کے شکایت ہو۔ جو بھی شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے متاثر ہے اسے فوراً اپنے معالج سے رابطہ کرنا چاہیے۔

 

ایک ہفتہ قبل میری سونگھنے اور ذائقے کی حس ختم ہوگئی، کیا یہ کورونا وائرس کی علامت ہے؟

برطانیہ میں ناک، کان اور گلے کے سپیشلسٹ ڈاکٹروں کے نوٹس میں آیا ہے کہ سونگھنے کی حس کے ختم ہونے یعنی اینوسمیا کی شکایات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں لوگ سوشل میڈیا پر سونگھنے اور ذائقے کی حس سے محرومی کی شکایت کی رہے ہیں اور کچھ کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ مگر اب تک اس حوالے سے ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہیں اور عمومی نزلہ زکام کی وجہ سے بھی سونگھنے یا ذائقے کی حس یا دونوں عارضی طور پر ختم ہوجاتی ہیں۔

میں خطرے کی زد میں موجود شخص ہوں اور میری نگہداشت کے لیے نرس کو آنے کی ضرورت ہے، کیا وہ میرے گھر آ سکتے ہیں؟

اگر آپ کو انتہائی ضروری نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے تو یہ ایسی صورتحال میں جاری رہ سکتی ہے جب اس شخص میں کورونا وائرس کی علامات نہ ہوں۔

آپ کے گھر آنے والے کسی بھی شخص کو آپ کے گھر میں داخل ہونے اور آپ کے گھر سے جانے سے پہلے اور اس دوران بار بار 20 سیکنڈ تک اپنے ہاتھ صابن اور پانی سے دھونے چاہییں۔ اس کے علاوہ انھیں آپ سے دو میٹر یعنی 6 فٹ کا فاصلہ برقرار رکھنا چاہیے۔

یہ بھی اہم ہے کہ ایسے متبادل افراد موجود ہوں جو آپ کے نرس کے بیمار پڑنے پر آپ کی نگہداشت کر سکیں۔

اگر کسی میں کووِڈ-19 کی علامات پیدا ہوجائیں تو گھر میں موجود کسی حاملہ خاتون کو خود ساختہ تنہائی سے متعلق کیا اقدام کرنا چاہیے؟

اگر آپ کے گھر میں کسی کے اندر کورونا وائرس کی علامات پیدا ہوجائیں تو برطانوی حکومت کی ہدایت ہے کہ خطرے کی زد میں موجود لوگ یعنی حاملہ خواتین یا 70 سال سے زائد عمر کے افراد ہوسکے تو 14 دن کے لیے خود کو تنہا کر لیں۔

اگر یہ ممکن نہ ہو تو علامات کے حامل شخص سے جتنا دور ہو سکے اتنا دور رہیں۔ ابھی تک اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ہیں کہ کیا کورونا وائرس کی وجہ سے حاملہ خواتین اور ان کے بچے زیادہ خطرے کے شکار ہیں، لیکن حکام نے زور دیا ہے کہ انھیں اس حوالے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

کیا کورونا وائرس پالتو کتوں اور بلیوں کے بالوں پر زندہ رہ سکتا ہے اور وہاں سے دوسرے لوگوں کو لگ سکتا ہے؟

کورونا وائرس کا خطرہ نہ بھی ہو تب بھی آپ کو پالتو جانوروں پر ہاتھ پھیرنے یا انھیں سنبھالنے کے بعد اپنے ہاتھ اچھی طرح دھونے چاہییں۔ اور جہاں یہ مانا جا رہا ہے کہ کووِڈ 19 ابتدائی طور پر انسانوں میں جانوروں کے ذریعے آیا تھا، یہ اب بھی واضح نہیں ہے کہ ایسا کیسے ہوا، اور اب تک ایسی کوئی مثال نہیں جس میں انسانوں کو یہ اپنے پالتو جانوروں کے ذریعے لگا ہو۔

جانوروں کی صحت کی عالمی تنظیم (او آئی ای) کا کہنا ہے کہ بظاہر پالتو جانور وائرس پھیلانے کا سبب نہیں ہیں، مگر اس حوالے سے مزید ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں کہ کیا جانوروں پر یہ اثرانداز ہوتا ہے یا نہیں، اور اگر ہوتا ہے تو کس طرح۔

او آئی ای کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ لوگ جو کووِڈ-19 کے شکار ہیں یا اس بیماری کی وجہ سے زیرِ علاج ہیں، انھیں پالتو جانوروں کے قریب جانے سے گریز کرنا چاہیے اور کسی دوسرے شخص سے کہنا چاہیے کہ وہ انھیں سنبھال لے۔ اور اگر انھیں یہ خود ہی کرنا ہو تو صفائی کا خیال رکھنا چاہیے اور چہرے پر ماسک پہننا چاہیے۔

کورونا وائرس کی نگہداشت کا دورانیہ کتنا ہے؟

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے میں عموماً پانچ دن لگ جاتے ہیں لیکن کچھ لوگوں میں یہ علامات بہت دیر میں بھی ظاہر ہوئیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ وائرس کی نگہداشت کا دورانیہ 14 دن تک کا ہے لیکن بعض محققین کا کہنا ہے کہ یہ 24 دن تک بھی ہوسکتا ہے۔۔

نگہداشت کے دورانیے کے بارے میں علم ہونا اور اسے سمجھنا بہت اہم ہے۔ اس کی مدد سے ڈاکٹرز اور صحت کے حکام کو اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے طریقے تلاش کرنے میں مدد ملی ہے۔

کیا کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے کا مطلب ہے کہ اس سے بچ گئے؟

یہ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ اس وائرس سے انسانوں کا واسطہ ابھی گذشتہ دسمبر سے پڑا ہے لیکن ماضی میں دوسرے وائرسز اور کورونا وائرس کی اقسام کے ساتھ ہونے والے تجربات کی بنیاد پر دیکھا جائے تو آپ کے اندر آپ ایسی اینٹی باڈیز ہونی چاہیئں جو آپ کو اس وائرس سے پچا سکیں۔

سارس اور دوسرے کورونا وائرس میں دوبارے انفیکشن دیکھنے میں نہیں آیا۔ چین سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق ہسپتال سے خارج کیے جانے والے افراد میں دوبارہ مثبت ٹیسٹ آئے ہیں لیکن ہم ان ٹیسٹس کے بارے مںی بھی پر یقین نہیں۔

تاہم اہم بات یہ ہے کہ یہ لوگ اب انفیکشن پھیلنے کا سبب نہیں رہے۔

کورونا اور فلو میں کیا فرق ہے؟

کورونا اور فلو کی کئی علامات ایک جیسی ہیں جس کی وجہ سے بغیر ٹیسٹ کے اس کی تشخیص مشکل ہے۔ کورونا وائرس کی بڑی علامات میں بخار اور خشک کھانسی شامل ہیں۔

فلو میں بھی اکثر بخار اور کھانسی ہوتی ہے جبکہ لوگوں کو سانس لینے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔

سیلف آئسولیشن کا کیا مطلب ہے؟

سیلف آئسولیشن کا مطلب 14 دن کے لیے گھر پر رہنا ہے اس دوران نہ تو یہ شخص سکول یا کام پر جاتا ہے نہ ہی کسی عوام مقام پر اور اس دوران وہ عوامی ٹرانسپورٹ کے استعمال سے بھی گریز کرتا ہے۔

سیلف آئسولیشن کے دوران ایسا کرنے والا شخص اپنے گھر میں بھی دوسرے افراد سے دور رہتا ہے۔

اگر آپ سیلف آئسولیشن میں ہیں اور اگر آپ کو سودا خریدنے کی ضرورت ہے تو آن لائن سروس استعمال کریں۔

اس دوران آپ کو اپنے پالتو جانوروں سے بھی دور رہنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو ان کے پاس جانے سے پہلے اور بعد ہاتھ ضرور دھوئیں۔

مجھے کیا کرنا چاہیے اگر میرے ساتھ رہنے والا سیلف آئسولیشن اختیار کر لے؟

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروسز کا کہنا ہے ایسے افراد جو خود ساختہ طور پر اپنے آپ کو الگ تھلگ رکھ رہے ہیں ایسے میں صرف ان لوگوں کو ان ساتھ رہنے کی اجازت دی جانی چاہیے جو پہلے سے ان کے ساتھ رہتے ہیں۔

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس شخص کو شک ہے کہ اسے کورونا وائرس ہے اسے گھر میں موجود دوسروں سے کم سے کم رابطہ رکھنا چاہئے۔ اگر ممکن ہو تو ، انھیں ایک ہی کمرے میں نہیں رہنا چاہئے۔

کسی بھی مشترکہ کراکری اور کھانے کے برتنوں کو استعمال کے بعد اچھی طرح صاف کرنا چاہئے، اور باتھ روم اور مشترکہ استعمال کی سطحوں کو بھی اچھی طرح صاف کرنا چاہیے۔

کیا کسی پبلک سوئمنگ پول میں تیرنا محفوظ ہے؟

بیشتر پبلک سوئمنگ پولز کے پانی میں کلورین ہوتا ہے، ایک ایسا کیمیکل جو وائرس کو مار سکتا ہے۔ لہذا جب تک اس میں مناسب طریقے اور مقدار کی کلورین شامل ہے سوئمنگ پول کو استعمال کرنا محفوظ ہونا چاہئے۔

البتہ آپ پھر بھی کسی متاثرہ شخص سے وائرس پکڑ سکتے ہیں اگر وہ سطحوں کو آلودہ کرتے ہیں ، جیسے کپڑے تبدیل کرنے کی جگہ یا عمارت کے دروازوں کے ہینڈلز وغیرہ۔ اور اگر کوئی وائرس سے متاثرہ شخص وہاں موجود ہوں تو وہ قریبی رابطے میں آنے کے صورت میں کھانسی اور چھینک کے ذریعہ بھی وائرس دوسروں میں منتقل کر سکتا ہے۔

کورونا وائرس سے بچنے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بہت سارے دیگر طریقے موجود ہیں۔

کیا صحت مند معذور افراد میں کورونا وائرس سے مرنے کا خطرہ زیادہ ہے؟

کورونا وائرس سے زیادہ متاثر ہونے کا خطرہ بزرگ افراد یا پہلے سے بیمار افراد میں زیادہ ہوتا ہے۔ ان بیماریوں میں دل کے امراض، ذیابیطس اور پھیھڑوں کی بیماریاں شامل ہیں۔

اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ معذور افراد جو دوسری صورت میں صحت مند ہیں اور جو مثال کے طور پر سانس کی تکلیف میں مبتلا نہیں ہے ان میں کورونا وائرس سے ہلاکت کا خطرہ زیادہ ہے۔

کورونا وائرس سے بچوں کو کتنا خطرہ ہے؟

چین کے اعداد و شمار کے مطابق عام طور پر بچوں کو کورونا وائرس نے نسبتاً بہت کم متاثر کیا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ انفیکشن کا خاتمہ کرنے کے قابل ہیں یا ان میں کوئی علامات نہیں ہیں یا صرف بہت ہی ہلکی سی علامات ظاہر ہوئی ہے جیسا کہ زکام۔

تاہم ، دمہ جیسی بنیادی پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا بچوں کو زیادہ محتاط رہنا پڑتا ہے کیونکہ وائرس ان پر حملہ آور ہوسکتا ہے۔

اگرچہ زیادہ تر بچوں کے لیے یہ کسی سانس کے دیگر انفیکشن کی طرح ہوگا اور خطرے کی کوئی وجہ بات نہیں ہو گی۔

دمہ کے مریضوں کے لیے یہ وائرس کتنا خطرناک ہے؟

سانس کی بیماری کا شکار کرنے والے کورونا وائرس جیسے وائرس سے دمہ کی علامات بڑھ سکتی ہیں۔

دمہ کی بیماری کے حوالے سے برطانوی ادارے ’ایزتھما یو کے‘ ایسے افراد کو جو اس وائرس سے تشویش میں مبتلا ہیں اپنے دمے کی بیماری پر قابو پانے کے لیے چند ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ ان ہدایات میں ڈاکٹر کا تجویز کردہ انہیلر کا روزانہ استعمال شامل ہے۔

اس سے کورونا وائرس سمیت کسی بھی سانس کے وائرس سے دمہ کے حملے کے خطرے کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

اگر آپ کے دمے کی علامات کسی بھی وقت بگڑ جائیں تو فوراً اپنے معالج سے رابطہ کریں۔

اگر آپ کے کسی دفتری ساتھی کو کورونا وائرس کی وجہ سے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے تو کیا آپ کو بھی قرنطینہ میں رہنا چاہیے؟

اس ضمن میں متعدد اداروں نے کورونا وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے عملے کو گھر سے کام کرنے کو کہا ہے۔ یہ فیصلہ ان کمپینوں کے چند ملازمین کی متاثرہ ممالک سے واپسی کے بعد ان میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔

لیکن برطانوی ادارے پبلک ہیلتھ انگلینڈ (پی ایچ ای) کا کہنا ہے کہ عملے کو کام سے گھر بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ زیادہ تر مشتبہ کیسز کے نتائج منفی نکلتے ہیں۔ برطانوی ادارہ برائے صحت دفتروں کو بند کرنے کی سفارش نہیں کرتا ہے یہاں تک کہ اگر کورونا وائرس کا کوئی تصدیق شدہ کیس بھی ہو۔

برطانوی حکام صرف ان افراد کو خود ساختہ قرنطینہ کا مشورہ دیتے ہیں:

جو کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں

جن کا تصدیق شدہ متاثرہ افراد کے ساتھ قریبی رابطہ رہا ہو

جنھوں نے حال ہی میں متاثرہ ممالک کا دورہ کیا ہو

کیا ایسے افراد جن کو پہلے ہی نمونیا ہو چکا ہے وہ کورونا وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں؟

یہ نیا کورونا وائرس بہت کم تعداد میں افراد کو نمونیا میں مبتلا کر سکتا ہے۔ صرف ان افراد میں اس کا خطرہ موجود ہے جن کے پھیپھڑے پہلے ہی سے کمزور یا خراب ہوں۔ مگر کیونکہ یہ کورونا وائرس کی ایک نئی قسم ہے اور کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں ہے اس لیے یہ نیا وائرس کسی بھی طرح کی پھیپھڑوں کی بیماری یا نمونیا کا سبب بن سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف ویکسین دستیاب ہونے میں ابھی 18 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔

حاملہ خواتین اگر کورونا وائرس سے متاثر ہو جائیں تو ان کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟

سائنسدانوں کے پاس ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ حاملہ خواتین کو اس وائرس سے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ ہے۔

اپنے آپ کو وائرس سے بچانے کے لیے حفظان صحت کے آسان مشوروں پر عمل کرنا ضروری ہے۔ ان میں اکثر اپنے ہاتھوں کو صابن اور پانی سے اچھی طرح دھونا، اپنے چہرے، آنکھوں یا منہ کو گندے ہاتھوں سے نہ چھونا اور بیمار لوگوں سے دور رہنا شامل ہے۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کورونا وائرس سے متاثر ہو گئے ہیں، یا کسی ایسے شخص کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں جسے اس وائرس نے متاثر کیا یا کسی ایسے متاثرہ ملک کا سفر کیا ہو تو آپ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ اپنے گھر میں رہیں اور ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

کیا کورونا وائرس فلو سے زیادہ نقصان دہ ہے؟

ابھی ان دونوں بیماری کا براہ راست موازنہ کرنا قبل از وقت ہے لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ دونوں وائرس انتہائی خطرناک ہیں۔

اوسطاً کورونا وائرس سے متاثرہ شخص دو سے تین دیگر افراد کو انفیکشن منتقل کرتے ہیں جبکہ فلو سے متاثرہ افراد اسے قریباً ایک دوسرے شخص تک پہنچاتے ہیں۔

تاہم، فلو سے متاثرہ افراد دوسروں کے لیے زیادہ تیزی سے متعدی ہو جاتے ہیں لہذا دونوں وائرس آسانی سے پھیل سکتے ہیں۔

اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے مہلک کورونا وائرس جانوروں سے انسانوں میں کیسے منتقل ہوا اور یہ تقریباً یقینی ہے کہ چین میں کورونا وائرس کی ابتدائی وباء کسی جانور کے ذریعہ ہی شروع ہوئی تھی۔ اس نئے انفیکشن کے ابتدائی واقعات کا سراغ جنوبی چین کی سی فوڈ ہول سیل مارکیٹ سے ملتا ہے، جہاں زندہ جنگلی جانور بھی فروخت ہوئے جن میں مرغی، چمگادڑ اور سانپ شامل ہیں۔

البتہ کوئی جانور اس وائرس کو انسانی میں منتقل کرنے کا ذریعہ نہیں ہو سکتا ہے۔

چین سے باہر رہنے والے افراد کے لیے کسی جانور سے وائرس سے متاثر ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ ہم اس وقت اس وبا کے مختلف مرحلوں پر ہیں جہاں یہ انسان سے انسان میں پھیل رہا ہے اور یہ ہی اصل خطرہ ہے۔

کیا کورونا وائرس کھڑکی اور دروازے کے ہینڈل کو ہاتھ لگانے سے بھی پھیل سکتا ہے ؟

اگر کوئی متاثرہ شخص کھانسی کرتے ہوئے اپنے ہاتھ منھ پر رکھتا ہے اور پھر کسی چیز کو ہاتھ لگاتا ہے تو وہ سطح پر متاثر ہو جاتی ہے۔ دروازے کے ہینڈل اس کی اچھی مثال ہیں جہاں اس وائرس کے ہونے کا امکان ہو سکتے ہیں۔

تاہم اس بات کا ابھی تک علم نہیں ہے کہ یہ نیا کورونا وائرس اس طرح کی سطحوں پر کتنی دیر تک زندہ رہ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی عمر دنوں کی بجائے گھنٹوں میں ہے لیکن یہ بہتر ہے کہ آپ باقاعدگی سے ہاتھ دھوئیں تاکہ وائرس سے متاثر ہونے اور پھیلنے کا امکان کم ہو۔

کیا موسم اور درجہ حرارت کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر اثر ڈالتا ہے؟

ہمیں ابھی اس وائرس کے متعلق بہت کچھ جاننا باقی ہے۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ موسمی یا درجہ حرارت میں تبدیلی اس کے پھیلاؤ پر کوئی اثرات مرتب کریں گے یا نہیں۔

چند دیگر وائرس جیسا کے فلو موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ اپنے اثرات مرتب کرتا ہے جیسا کہ موسم سرما میں یہ بڑھ جاتا ہے۔

مارس اور اس طرح کے دیگر وائرس کے متعلق چند تحقیق یہ ظاہر کرتی ہیں کہ یہ آب و ہوا کے حالات سے متاثر ہوتے ہیں جو گرم مہینوں میں قدرے زیادہ تیزی سے پھیلتے ہیں۔

کیا آپ متاثرہ شخص کے تیارکردہ کھانے سے اس وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں؟

اگر کوئی کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کھانا تیار کردہ ہے اور اس دوران حفظان صحت اور صفائی کا خیال نہیں رکھتا تو ممکنہ طور پر اس سے کوئی اور شخص متاثر ہو سکتا ہے۔ کورونا وائرس کھانسی کے دوران منھ پر ہاتھ رکھنے سے پھیل سکتا ہے اور اگر ایسے میں متاثرہ شخص نے ہاتھ اچھی طرح دھو کر کھانا تیار نہیں کیا تو اس کے امکان بڑھ جاتے ہیں۔ لہذا کھانےکو چھونے اور کھانے سے قبل اچھی طرح ہاتھ دھوئیں تاکہ اس کے جراثیم کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

اگر آپ ایک مرتبہ کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں تو کیا اس وائرس کے خلاف آپ کی مدافعت بڑھ جاتی ہیں؟

جب لوگ کسی انفیکشن یا بیماری سے صحت یاب ہوجاتے ہیں تو ان کے جسم میں اس بیماری سے دوبارہ لڑنے کی کچھ یادداشت رہ جاتی ہے۔ تاہم یہ مدافعاتی عمل ہمیشہ دیرپا یا مکمل طور پر موثر نہیں ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں کمی بھی آسکتی ہے۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ انفیکشن کے بعد یہ مدافعت کب تک چل سکتی ہے۔

کیا چہرے کا ماسک وائرس کے خلاف کارآمد ہے اور اسے کتنی مدت بعد تبدیل کرناچاہیے؟

اس بارے میں بہت کم شواہد موجود ہیں کہ چہرے کے ماسک پہننے سے فرق پڑتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اپنے منھ کے قریب ہاتھ لے جانے سے قبل یہ زیادہ موثر ہے اچھی حفظان صحت کے تحت آپ باقاعدگی سے اپنے ہاتھ دھوئیں۔

کیا کورونا وائرس جنسی طور پر منتقل ہو سکتا ہے؟

یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا یہ بھی وائرس منتقلی کا ایک ذریعہ ہے یا نہیں جس کے بارے میں ہمیں فکر مند ہونا چاہئے۔ فی الحال، اس وائرس کے پھیلنے کا سب سے بڑا ذریعہ کھانسی اور چھینکوں کو سمجھا جاتا ہے۔

کیا کورونا وائرس سے متاثرہ شخص مکمل صحت یاب ہوا ہے؟

جی ہاں. بہت سے ایسے افراد جو کوروناوائرس سے متاثر ہوئے اور ان میں بیماری کے معمولی علامات ظاہر ہوئی ان میں سے زیادہ تر افراد کی مکمل صحت یابی کی توقع کی جاتی ہے۔

تاہم، بزرگ افراد جنھیں پہلے سے ذیابیطس، کینسر یا کمزور مدافعتی نظام جیسی بیماریاں لاحق ہیں ان کے لیے یہ ایک خاص خطرہ بن سکتا ہے۔

چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے ایک ماہر کا کہنا ہے کورونا وائرس کے معمولی علامات سے ٹھیک ہونے میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔

کیا کورونا وائرس ووہان سے خریدی گئی اور دیگر ممالک میں بذریعہ ڈاک بھیجی گئیں اشیا کے ذریعہ منتقل ہو سکتا ہے؟

اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اس کا کوئی خطرہ ہے۔ کورونا وائرس سمیت کچھ بیماریاں ان سطحوں سے پھیل سکتی ہیں جہاں ان کے متاثرہ افراد کے کھانسی یا چھینکنے کے بعد چھوا ہو، لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وائرس زیادہ دن زندہ نہیں رہتا ہے۔ کچھ بھی جو بذریعہ ڈاک بھیجا گیا ہے اس کے منزل مقصود تک پہنچنے تک اس سے آلودہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔

کیا سانس کی اس بیماری سے بچنے کے لیے ویکسینیشن کروانا ممکن ہے؟

اس وقت اس وائرس سے بچاؤ کی کوئی ویکسین موجود نہیں ہے جو لوگوں کو اس قسم کے کورونا وائرس سے بچا سکے لیکن محققین اس کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ ایک نئی بیماری ہے جو انسانوں میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔ جس کا مطلب ہے کہ ڈاکٹروں کے پاس اس کے بارے میں جاننے کے لیے ابھی بھی بہت کچھ ہے۔

کورونا وائرس: چہرے کو ہاتھ نہ لگانا اتنا مشکل کیوں؟

ہم روزانہ ہی اپنی آنکھوں، ناک اور منہ کو غیرارادی طور پر چھونے کے عادی ہیں

کسی وبا کے پھوٹنے کی صورت میں ہمیں اپنی ان تمام عادتوں میں سے جو ہمیں دوسرے جانداروں سے ممتاز کرتی ہیں، کے بارے میں متفکر ہونا چاہیے۔

جانداروں کی دوسری تمام انواع میں صرف انسانوں کے بارے میں یہ معلوم ہے کہ وہ غیرارادی طور پر اپنے جسم کو چھوتے ہیں۔

اور انسان کی یہی عادت کورونا وائرس (کووِڈ 19) کی وبا کے پھیلنے کا سبب بن رہی ہے۔

ہم ایسا کیوں کرتے ہیں، اور اس غیرارادی فعل کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟

آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ ہم سب اپنے چہروں کو بہت زیادہ چھوتے ہیں۔

سنہ 2015 میں آسٹریلیا میں میڈیکل کے طلبا پر کی گئی تحقیق میں انھیں بھی اس عادت میں مبتلا پایا گیا۔   

طب کے طالب علم کی حیثیت سے تو شاید انھیں اس کے مضر اثرات کے بارے میں زیادہ آگہی ہونی چاہیے تھی۔ مگر دیکھا گیا کہ انھوں نے بھی ایک گھنٹے کے دوران اپنے چہرے کو چھوا، جس میں منھ، ناک اور آنکھوں کو ہاتھ لگانا شامل تھا۔

ماہرینِ صحت اور عالمی ادارۂ صحت سمیت عوامی صحت کے دوسرے اداروں کا کہنا ہے کہ متواتر چھونے کی عادت خطرناک ہے۔

ہمارا منہ، ناک اور آنکھیں ہی ہمارے جسم میں جراثیم کے داخل ہونے کا راستہ ہیں

کووِڈ 19 سے بچاؤ سے متعلق ہدایات میں ہاتھوں کو غیرمتحرک رکھنے پر اتنا ہی زور دیا گیا ہے جتنا کہ انھیں دھونے پر۔

لگتا ہے کہ یہ انسان اور بندر کی نسل کے بس ہی میں نہیں کہ وہ ایسا نہ کرے، یہ ان کے ارتقا کا حصہ ہے۔

زیادہ تر انواع سنورنے اور سنوارنے یا پھر حشرات کو بھگانے کی غرض سے اپنے چہرے کو چھوتی ہیں، مگر انسان اور بندر کے ایسا کرنے کی اور کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

امریکہ میں یو سی برکلے سے وابستہ ماہرِ نفسیات ڈیکر کلکنر کا کہنا ہے کہ بعض اوقات یہ فعل سکون بخش ہوتا ہے۔ جبکہ بعض اوقات ناز اٹھانے یا اٹھوانے یا پھر مختلف جذبات کے اظہار کے دوران وقفہ پیدا کرنے کے لیے چہرے کو چھوا جاتا ہے، ’بالکل ویسے ہی جیسے سٹیج پر ایک منظر کے خاتمے پر پردہ گرتا اور نئے منظر سے پہلے اٹھتا ہے۔`

عادات پر ریسرچ کرنے والے دوسرے ماہرین کا خیال ہے کہ خود کو چھونے کا عمل ایک طرح سے اپنے جذبات اور توجہ کے دورانیے پر قابو رکھنا ہے۔

جرمن ماہرِ نفسیات اور لِپزگ یونیورسٹی کے پروفیسر مارٹِن گرنوالڈ سمجھتے ہیں کہ یہ ’ہماری انواع کی بنیادی خصلت ہے۔‘

انسان اور بندر کی نسل کے دوسرے جانور اپنے جسم کو بغیر کسی وجہ کے بھی چھوتے ہیں

پروفیسر گرنوالڈ نے بی سی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’خود کو چھونے والی حرکات خود ہی سرزد ہوتی ہیں۔ یہ کسی پیغام رسانی کا کام نہیں کرتی اس لیے اکثر ہمیں ان کا احساس بھی نہیں ہو پاتا۔‘

ان کہنا تھا کہ ’یہ ہمارے سوچنے، سمجھنے اور کئی جذباتی افعال میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اور ایسا تمام انسانوں کے ساتھ ہوتا ہے۔‘

خود کو چھونے میں مشکل یہ ہے کہ آنکھوں، ناک اور منھ کو چھونے سے ہر طرح کے جراثیم ہمارے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔

کووِڈ 19 ہی کی مثال لیجیے، یہ ایک انسان سے دوسرے انسان کو اس وقت لگتا ہے جب کسی متاثرہ شخص کی ناک یا منھ سے چھینٹے اُڑ کر دوسروں پر گرتے ہیں۔

ایسی چیزوں اور جگہوں کو چھونے سے بھی انفیکشن ہو سکتا ہے جہاں پہلے سے جراثیم موجود ہوں

لیکن یہ وبا اس وقت بھی لگ جاتی ہے جب ہم کسی ایسی چیز یا سطح کو چھوتے ہیں جس پر یہ وائرس پہلے سے موجود ہو۔

اگرچہ ماہرین فی الحال وائرس کی اس نئی قسم پر تحقیق میں مصروف ہیں، تاہم کورونا وائرس کی دوسری اقسام کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ یہ بہت سخت جان ہوتی ہیں اور تحقیق کے دوران وہ مختلف مقامات پر نو روز تک زندہ پائی گئی ہیں۔

بقا کی صلاحیت

ان کے باقی رہنے کی یہ صلاحیت ہمارے چہرے کو چھونے کی عادت کے ساتھ مل کر وائرس کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔

سنہ 2012 میں امریکی اور برازیلی محققین نے عام لوگوں میں سے بغیر کسی امتیاز کے منتخب ایک گروہ کا مشاہدہ کرتے ہوئے پایا کہ ان لوگوں نے ایک گھنٹے کے اندر تین سے زیادہ بار عوامی مقامات پر مختلف جگہوں کو چھوا تھا۔

چہرے پر ماسک یا نقاب ہمیں خود کو چھونے کی عادت سے باز رکھ سکتا ہے

ان لوگوں نے ایک گھنٹے کے اندر تین سے زیادہ مرتبہ اپنے منھ اور ناک کو بھی ہاتھ لگایا تھا۔ یہ تعداد آسٹریلیا میں طب کے طلبہ کی تعداد سے کہیں کم ہے جنھوں نے ایک گھنٹے کے اندر اپنے چہرے کو 23 بار چھوا تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ یہ طلبہ ایک کمرے میں بیٹھے ہوئے لیکچر سن رہے تھا جہاں باہر کے مقابلے میں دھیان بٹنے کے امکانات کم تھے۔

بعض ماہرین کے نزدیک خود کو چھونے کا یہ رجحان چہرے پر ماسک چڑھانے کو لازمی بنا دیتا ہے تاکہ ایسے وائرس سے بچا جا سکے۔

برطانیہ میں لیڈز یونیورسٹی کے پروفیسر سٹیون گریِفِن کا کہنا ہے کہ ’ماسک یا نقاب پہننے سے لوگوں میں چہرے کو چھونے کی عادت کو بھی کم کیا جا سکتا ہے، جو انفیکشن پھیلنے کا بڑا سبب ہے۔‘

ہم کیا کر سکتے ہیں؟

کولمبیا یونیورسٹی میں عادات و اطوار کے پروفیسر مائیکل ہالزورتھ کہتے ہیں کہ اس معاملے میں مشورہ دینا آسان مگر اس پر کاربند رہنا مشکل ہے۔

 ’لوگوں کو کسی ایسی چیز سے روکنا جو غیرارادی طور پر وقوع پذیر ہوتی ہے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔‘

ان کے بقول ’چہرے کو کم بار چھونے کے مقابلے میں بار بار ہاتھ دھونا زیادہ آسان ہے‘

آپ کسی ایسی عادت کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں جس کے بارے میں آپ کو پتا ہی نہ ہو

پروفیسر ہالزورتھ کا کہنا ہے کہ چند تراکیب ہیں جن کے ذریعے ہم چہرہ چھونے کی عادت کو کم کر سکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ ہم یہ عہد کر لیں کہ چہرے کو ہاتھ نہیں لگانا۔

وہ مشورہ دیتے ہیں کہ ’اگر خارش ہو تو متاثرہ مقام کو کھجانے کے لیے متبادل طریقے کے طور پر ہتھیلی کی پشت استعمال کی جا سکتے ہے۔ اگرچہ یہ ایک مثالی حل تو نہیں ہے، مگر اس طرح سے ہم مرض پھیلنے کا خطرہ ضرور کم کر سکتے ہیں۔‘

چھونے کے محرکات کی پہچان

ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ان عوامل کی بھی نشاندہی کرنے کی کوشش کرنے چاہیے جو ہمیں خود کو چھونے پر مجبور کرتے ہیں۔

پروفیسر ہالزورتھ کہتے ہیں کہ ’اگر ہمیں خود کو چھونے پر مجبور کر دینے والے عوامل کا پتا چل جائے تو ہم کچھ نہ کچھ کر سکتے ہیں۔

’جن لوگوں کو آنکھیں چھونے کی عادت ہو وہ دھوپ کی عینک پہن سکتے ہیں۔‘

’یا جب آنکھیں ملنے کو دل کرے تو ہاتھوں کو اپنے تلے دبا لیں۔‘

ہاتھ دھونے کو جتنی بھی اہیمت دی جائے کم ہے

یا پھر ہم ہاتھوں کو کسی اور طرح سے مصروف رکھ سکتے ہیں تاکہ وہ خود بخود اٹھ کر چہرے کی طرف نہ جائیں۔

لیکن ہاتھوں کو جراثیم سے پاک رکھنا ہر حال میں ضروری ہے۔

پروفیسر ہالزورتھ کا کہنا ہے کہ ’جو لوگ چہرے کو چھونے کی اپنی عادت سے مجبور ہیں وہ کسی دوست یا رشتہ دار سے کہہ سکتے ہیں کہ جب وہ ایسا کرنے لگیں تو انھیں ٹوک دیا جائے۔‘

دستانے پہننا کیسا رہے گا؟

اس وقت تک مناسب نہیں ہے جب تک انھیں بھی ہاتھوں کی طرح دھویا نہ جائے یا پھر متواتر بدلا نہ جائے۔

توجہ اور باقاعدگی سے ہاتھ دھونے کا کوئی متبادل نہیں ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس گھیبرییسس نے 28 فروری کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا ’ہمیں ویکسین اور دوا کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم خود کو اور دوسروں کو محفوظ رکھنے کے لیے انفرادی سطح پر کئی چیزیں کر سکتے ہیں۔‘

مقصود تک پہنچنے تک اس سے آلودہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔

کیا سانس کی اس بیماری سے بچنے کے لیے ویکسینیشن کروانا ممکن ہے؟

اس وقت اس وائرس سے بچاؤ کی کوئی ویکسین موجود نہیں ہے جو لوگوں کو اس قسم کے کورونا وائرس سے بچا سکے لیکن محققین اس کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ ایک نئی بیماری ہے جو انسانوں میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔ جس کا مطلب ہے کہ ڈاکٹروں کے پاس اس کے بارے میں جاننے کے لیے ابھی بھی بہت کچھ ہے۔

کورونا وائرس: چہرے کو ہاتھ نہ لگانا اتنا مشکل کیوں؟

ہم روزانہ ہی اپنی آنکھوں، ناک اور منہ کو غیرارادی طور پر چھونے کے عادی ہیں

کسی وبا کے پھوٹنے کی صورت میں ہمیں اپنی ان تمام عادتوں میں سے جو ہمیں دوسرے جانداروں سے ممتاز کرتی ہیں، کے بارے میں متفکر ہونا چاہیے۔

جانداروں کی دوسری تمام انواع میں صرف انسانوں کے بارے میں یہ معلوم ہے کہ وہ غیرارادی طور پر اپنے جسم کو چھوتے ہیں۔

اور انسان کی یہی عادت کورونا وائرس (کووِڈ 19) کی وبا کے پھیلنے کا سبب بن رہی ہے۔

ہم ایسا کیوں کرتے ہیں، اور اس غیرارادی فعل کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟

آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ ہم سب اپنے چہروں کو بہت زیادہ چھوتے ہیں۔

سنہ2015 میں آسٹریلیا میں میڈیکل کے طلبا پر کی گئی تحقیق میں انھیں بھی اس عادت میں مبتلا پایا گیا۔  

طب کے طالب علم کی حیثیت سے تو شاید انھیں اس کے مضر اثرات کے بارے میں زیادہ آگہی ہونی چاہیے تھی۔ مگر دیکھا گیا کہ انھوں نے بھی ایک گھنٹے کے دوران اپنے چہرے کو چھوا، جس میں منھ، ناک اور آنکھوں کو ہاتھ لگانا شامل تھا۔

ماہرینِ صحت اور عالمی ادارۂ صحت سمیت عوامی صحت کے دوسرے اداروں کا کہنا ہے کہ متواتر چھونے کی عادت خطرناک ہے۔

ہمارا منہ، ناک اور آنکھیں ہی ہمارے جسم میں جراثیم کے داخل ہونے کا راستہ ہیں

کووِڈ 19 سے بچاؤ سے متعلق ہدایات میں ہاتھوں کو غیرمتحرک رکھنے پر اتنا ہی زور دیا گیا ہے جتنا کہ انھیں دھونے پر۔

لگتا ہے کہ یہ انسان اور بندر کی نسل کے بس ہی میں نہیں کہ وہ ایسا نہ کرے، یہ ان کے ارتقا کا حصہ ہے۔

زیادہ تر انواع سنورنے اور سنوارنے یا پھر حشرات کو بھگانے کی غرض سے اپنے چہرے کو چھوتی ہیں، مگر انسان اور بندر کے ایسا کرنے کی اور کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

امریکہ میں یو سی برکلے سے وابستہ ماہرِ نفسیات ڈیکر کلکنر کا کہنا ہے کہ بعض اوقات یہ فعل سکون بخش ہوتا ہے۔ جبکہ بعض اوقات ناز اٹھانے یا اٹھوانے یا پھر مختلف جذبات کے اظہار کے دوران وقفہ پیدا کرنے کے لیے چہرے کو چھوا جاتا ہے، ’بالکل ویسے ہی جیسے سٹیج پر ایک منظر کے خاتمے پر پردہ گرتا اور نئے منظر سے پہلے اٹھتا ہے۔`

عادات پر ریسرچ کرنے والے دوسرے ماہرین کا خیال ہے کہ خود کو چھونے کا عمل ایک طرح سے اپنے جذبات اور توجہ کے دورانیے پر قابو رکھنا ہے۔

جرمن ماہرِ نفسیات اور لِپزگ یونیورسٹی کے پروفیسر مارٹِن گرنوالڈ سمجھتے ہیں کہ یہ ’ہماری انواع کی بنیادی خصلت ہے۔‘

انسان اور بندر کی نسل کے دوسرے جانور اپنے جسم کو بغیر کسی وجہ کے بھی چھوتے ہیں

پروفیسر گرنوالڈ نے بی سی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’خود کو چھونے والی حرکات خود ہی سرزد ہوتی ہیں۔ یہ کسی پیغام رسانی کا کام نہیں کرتی اس لیے اکثر ہمیں ان کا احساس بھی نہیں ہو پاتا۔‘

ان کہنا تھا کہ ’یہ ہمارے سوچنے، سمجھنے اور کئی جذباتی افعال میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اور ایسا تمام انسانوں کے ساتھ ہوتا ہے۔‘

خود کو چھونے میں مشکل یہ ہے کہ آنکھوں، ناک اور منھ کو چھونے سے ہر طرح کے جراثیم ہمارے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔

کووِڈ 19 ہی کی مثال لیجیے، یہ ایک انسان سے دوسرے انسان کو اس وقت لگتا ہے جب کسی متاثرہ شخص کی ناک یا منھ سے چھینٹے اُڑ کر دوسروں پر گرتے ہیں۔

ایسی چیزوں اور جگہوں کو چھونے سے بھی انفیکشن ہو سکتا ہے جہاں پہلے سے جراثیم موجود ہوں

لیکن یہ وبا اس وقت بھی لگ جاتی ہے جب ہم کسی ایسی چیز یا سطح کو چھوتے ہیں جس پر یہ وائرس پہلے سے موجود ہو۔

اگرچہ ماہرین فی الحال وائرس کی اس نئی قسم پر تحقیق میں مصروف ہیں، تاہم کورونا وائرس کی دوسری اقسام کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ یہ بہت سخت جان ہوتی ہیں اور تحقیق کے دوران وہ مختلف مقامات پر نو روز تک زندہ پائی گئی ہیں۔

بقا کی صلاحیت

ان کے باقی رہنے کی یہ صلاحیت ہمارے چہرے کو چھونے کی عادت کے ساتھ مل کر وائرس کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔

سنہ 2012 میں امریکی اور برازیلی محققین نے عام لوگوں میں سے بغیر کسی امتیاز کے منتخب ایک گروہ کا مشاہدہ کرتے ہوئے پایا کہ ان لوگوں نے ایک گھنٹے کے اندر تین سے زیادہ بار عوامی مقامات پر مختلف جگہوں کو چھوا تھا۔

چہرے پر ماسک یا نقاب ہمیں خود کو چھونے کی عادت سے باز رکھ سکتا ہے

ان لوگوں نے ایک گھنٹے کے اندر تین سے زیادہ مرتبہ اپنے منھ اور ناک کو بھی ہاتھ لگایا تھا۔ یہ تعداد آسٹریلیا میں طب کے طلبہ کی تعداد سے کہیں کم ہے جنھوں نے ایک گھنٹے کے اندر اپنے چہرے کو 23 بار چھوا تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ یہ طلبہ ایک کمرے میں بیٹھے ہوئے لیکچر سن رہے تھا جہاں باہر کے مقابلے میں دھیان بٹنے کے امکانات کم تھے۔

بعض ماہرین کے نزدیک خود کو چھونے کا یہ رجحان چہرے پر ماسک چڑھانے کو لازمی بنا دیتا ہے تاکہ ایسے وائرس سے بچا جا سکے۔

برطانیہ میں لیڈز یونیورسٹی کے پروفیسر سٹیون گریِفِن کا کہنا ہے کہ ’ماسک یا نقاب پہننے سے لوگوں میں چہرے کو چھونے کی عادت کو بھی کم کیا جا سکتا ہے، جو انفیکشن پھیلنے کا بڑا سبب ہے۔‘

ہم کیا کر سکتے ہیں؟

کولمبیا یونیورسٹی میں عادات و اطوار کے پروفیسر مائیکل ہالزورتھ کہتے ہیں کہ اس معاملے میں مشورہ دینا آسان مگر اس پر کاربند رہنا مشکل ہے۔

 ’لوگوں کو کسی ایسی چیز سے روکنا جو غیرارادی طور پر وقوع پذیر ہوتی ہے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔‘

ان کے بقول ’چہرے کو کم بار چھونے کے مقابلے میں بار بار ہاتھ دھونا زیادہ آسان ہے‘

آپ کسی ایسی عادت کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں جس کے بارے میں آپ کو پتا ہی نہ ہو

پروفیسر ہالزورتھ کا کہنا ہے کہ چند تراکیب ہیں جن کے ذریعے ہم چہرہ چھونے کی عادت کو کم کر سکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ ہم یہ عہد کر لیں کہ چہرے کو ہاتھ نہیں لگانا۔

وہ مشورہ دیتے ہیں کہ ’اگر خارش ہو تو متاثرہ مقام کو کھجانے کے لیے متبادل طریقے کے طور پر ہتھیلی کی پشت استعمال کی جا سکتے ہے۔ اگرچہ یہ ایک مثالی حل تو نہیں ہے، مگر اس طرح سے ہم مرض پھیلنے کا خطرہ ضرور کم کر سکتے ہیں۔‘

چھونے کے محرکات کی پہچان

ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ان عوامل کی بھی نشاندہی کرنے کی کوشش کرنے چاہیے جو ہمیں خود کو چھونے پر مجبور کرتے ہیں۔

پروفیسر ہالزورتھ کہتے ہیں کہ ’اگر ہمیں خود کو چھونے پر مجبور کر دینے والے عوامل کا پتا چل جائے تو ہم کچھ نہ کچھ کر سکتے ہیں۔

’جن لوگوں کو آنکھیں چھونے کی عادت ہو وہ دھوپ کی عینک پہن سکتے ہیں۔‘

’یا جب آنکھیں ملنے کو دل کرے تو ہاتھوں کو اپنے تلے دبا لیں۔‘

ہاتھ دھونے کو جتنی بھی اہیمت دی جائے کم ہے

یا پھر ہم ہاتھوں کو کسی اور طرح سے مصروف رکھ سکتے ہیں تاکہ وہ خود بخود اٹھ کر چہرے کی طرف نہ جائیں۔

لیکن ہاتھوں کو جراثیم سے پاک رکھنا ہر حال میں ضروری ہے۔

پروفیسر ہالزورتھ کا کہنا ہے کہ ’جو لوگ چہرے کو چھونے کی اپنی عادت سے مجبور ہیں وہ کسی دوست یا رشتہ دار سے کہہ سکتے ہیں کہ جب وہ ایسا کرنے لگیں تو انھیں ٹوک دیا جائے۔‘

دستانے پہننا کیسا رہے گا؟

اس وقت تک مناسب نہیں ہے جب تک انھیں بھی ہاتھوں کی طرح دھویا نہ جائے یا پھر متواتر بدلا نہ جائے۔

توجہ اور باقاعدگی سے ہاتھ دھونے کا کوئی متبادل نہیں ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس گھیبرییسس نے 28 فروری کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا ’ہمیں ویکسین اور دوا کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم خود کو اور دوسروں کو محفوظ رکھنے کے لیے انفرادی سطح پر کئی چیزیں کر سکتے ہیں۔‘

بتشکر: بی بی سی اردو