jump to navigation

پنجاب میں جدید طرز کا قبرستان June 10, 2017

Posted by Farzana Naina in Graveyard.
Tags: , , , ,
add a comment

پنجاب کے پہلے جدید طرز کے قبرستان میں کیا ہے؟

عمردراز ننگیانہ ۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام

qabristan

اپنے پیاروں کو قبرستان چھوڑ کر جانا شاید زندگی کا سب سے تکلیف دہ عمل ہوتا ہے تاہم پاکستان کے بڑے شہروں میں میت کو گھر سے قبرستان تک پہنچانا اکثر اوقات زیادہ تکلیف دہ تجربہ ثابت ہوتا ہے۔

میت کو غسل دینے کا انتظام، کفن و تابوت، قبر کی جگہ خریدنا اور پھر میت کو تیار کر کے جنازہ گاہ اور وہاں سے قبرستان تک اس کی ترسیل، سب کا بندوبست مرنے والے کے لواحقین کو سوگواری سے بھی شاید پہلے کرنا پڑتا ہے۔

متوسط اور نچلے طبقے کے لوگ ان تمام مراحل سے متعلقہ اخراجات اور لوازمات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ یا پھر سپورٹ سسٹم کی عدم دستیابی کسی بھی طبقے کے شخص کو مشکل میں ڈال سکتی ہے۔

تاہم مرنے والے کا تعلق اگر پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں سے ہو تو دیگر کئی مسائل بھی شامل ہو جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر لاہور میں رہنے والی سکھ اور ہندو برادریوں کے لیے شہر میں ایک ہی شمشان گھاٹ ہے۔

سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے لاہور کے رہائشی گوپال سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے زیادہ تر لوگوں کو اپنے مردوں کی آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے انہیں پنجاب کے شہر ننکانہ صاحب کے گردوارے میں لے کر جانا پڑتا ہے جو لاہور سے تقریباً اسی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اسی طرح لاہور ہی میں عیسائی برادری کے لیے قبرستان مختص ہیں جن میں سے کئی صدیوں پرانے ہیں۔ لاہور کیتھیڈرل کے ڈین ویری ریورنڈ شاہد معراج کے مطابق ان میں جگہ تیزی سے کم ہو رہی ہے۔

ویری ریورنڈ شاہد معراج کا کہنا ہے کہ ‘وہاں پر جگہ بہت کم ہو گئی ہے بلکہ اب تو نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم بہت عرصے سے حکومت پنجاب سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں جگہ دی جائے۔’

اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ سرد خانوں کی کمی کی وجہ سے میتیں رکھنے کو اکثر جگہ نہیں ملتی تاکہ لوگ ملک سے باہر سے آ کر اپنے پیاروں کی آخری رسومات میں شرکت کر سکیں۔

‘ہر شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے پیاروں کو ایک باوقار تدفین دے سکے اور لوگ دیتے بھی ہیں۔ بگر بعض لوگوں کے لیے اتنے اخراجات اٹھانا یا انتظامات کرنا مشکل بھی ہو جاتا ہے۔’

شہرِ خموشاں کیا ہے؟

ان مسائل کے پیشِ نظر پنجاب حکومت نے حال ہیں میں شہرِ خموشاں کے نام سے ایک اتھارٹی قائم کی ہے جو صوبہ بھر میں دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کے بڑے شہروں کی طرز پر قبرستان بنا رہی ہے۔

اس منصوبے کے تحت تعمیر کیے جانے والا پہلا جدید طرز کا قبرستان لاہور کے مضافات میں بنایا گیا ہے جو ممکنہ طور پر اتوار کے روز سے کام شروع کر دے گا۔ شہرِ خموشاں کفن دفن کے ان تمام مراحل کے لیے سہولیات ایک ہی چھت تلے فراہم کرے گا۔

شہرِ خموشاں اتھارٹی کے مینیجنگ ڈائریکٹر سلمان صوفی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت نہ صرف ملک کی اکثریتی آبادی بلکہ اقلیتوں کے لیے بھی ان کی ضروریات کے مطابق قبرستان یا آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے جگہیں جدید طرز پر تعمیر کی جائیں گی۔

شہرِ خموشاں کیسے کام کرے گا؟

‘آپ کو محض ایک ٹیلیفون کال کرنی ہے، کفن دفن کا تمام بندوبست شہرِ خموشاں میں ہوگا۔ میت کی تیاری سے لیکر جنازہ گاہ اور قبر کی جگہ سب ایک ہی مقام پر ہو گا۔ یہاں تمام ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہوگا اور سب سے بڑی بات یہ کہ لوگوں کو کوئی پیسہ دینے کی ضرورت نہیں ہو گی۔’

ایمبولینس کے ذریعے میت قبرستان لائی جائے گی۔ اس کے لواحقین فون پر پہلے ہی سے جنازہ اور تدفین کا وقت اور قبر کی جگہ کا تعین یہاں کاؤنٹر پر بیٹھے شخص کے پاس کروا چکے ہوں گے۔ مُردوں کو غسل دینے کے لیے جدید طرز کے خانے جات موجود ہوں گے جبکہ وضو کرنے اور انتظار کرنے کی جگہیں علیحدہ سے موجود ہوں گی۔

قبرستان میں جدید کیمرے بھی نصب کیے جا رہے ہیں جن کی مدد سے لوگ ملک کے کسی بھی حصے سے یا ملک سے باہر سے بیٹھ کر بھی آن لائن اپنے پیاروں کی قبریں دیکھ سکیں گے۔

لاہور میں فیروزپور روڑ پر بننے والے پہلے قبرستان میں آٹھ ہزار قبروں کی گنجائش موجود ہے۔ تمام قبریں بلا تفریقِ طبقہ ایک ہی سائز اور طرز کی ہوں گی اور ان کو ترتیب سے بلاکوں کی صورت میں بنایا جائے گا۔ قبر کھودنے کے لیے ایکسکویٹر یعنی مشینری کا استعمال کیا جائے گا جبکہ لواحقین اپنے پیاروں کی قبریں باآسانی کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کی مدد سے تلاش کر سکیں گے۔

اس قبرستان میں جدید طرز کا ایک سردخانہ بھی موجود ہے جہاں بیک وقت 40 میتوں کو رکھنے کی گنجائش ہے۔ اسی طرز کے لاہور میں چار مزید قبرستان بنائے جائیں گے جبکہ ملتان، فیصل آباد اور سرگودھا میں ایسے قبرستانوں کی تعمیر جاری ہے۔

شہرِ خموشاں کا پیسہ کہاں سے آئے گا؟

سلمان صوفی نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘وہ جب لوگوں کو دیکھتے تھے کہ کس طرح ان کو مردوں کو غسل دینے میں یا میت کو تیار کرنے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو میں نے سوچا کہ ایسا ایک قبرستان بنایا جائے جہاں لوگوں کو ایسے مشکل وقت میں کچھ نہ کرنا پڑے اور جگہ جگہ نہ جانا پڑے۔’

شہرِ خموشاں میں آنے والوں سے پیسے نہیں مانگے جائیں گے۔ یہ تمام سہولیات مکمل طور پر حکومتِ پنجاب فراہم کرے گی جس کے لیے سلمان صوفی کے مطابق ایک ارب روپے پہلے ہی سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختص کر دیے گئے ہیں۔ 10 لاکھ کا فنڈ اور دو ایمبولینس گاڑیاں مخیر افراد کی طرف سے عطیہ کیے جا چکے ہیں۔ قبر کھودنے کے لیے مشینری کا استعمال کیا جائے گا۔ سلمان صوفی کا کہنا تھا کہ ایسے مزید قبرستان پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ فروری 2018 تک وہ ایسے 20 سے 25 قبرستان بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو اگلے 10 سے 15 سالوں کی ضروریات کو پورا کر سکیں گے۔ ان میں اقلیتوں کے لیے قبرستان اور سہولتیں بھی شامل ہوں گی۔ ہمیں اقلیتوں کے مسائل کا پوری طرح ادراک ہے اسی لیے ہم نے شہرِ خموشاں قانون میں یہ شق رکھی ہے کہ پاکستان میں بسنے والی ہر اقلیت کے لیے قبرستان اور آخری آرام گاہیں اسی جدید ظرز پر تعمیر کی جائیں گی۔”

ان کا کہنا تھا کہ ہندوؤں اور سکھوں کے لیے شمشان گھاٹ بنائے جائیں گے۔ اسی طرح اتھارٹی عیسائیوں کے لیے اسی طرز کے قبرستان تعمیر کرے گی جو بنانے کے بعد ان کے حوالے کر دیے جائیں گے۔

qabristan 2

Labour of love July 26, 2008

Posted by Farzana Naina in Pakistan.
Tags: , , , ,
2 comments

Ustad Inam pours his soul into his work, only to sell it for next to nothing. His art is resold at prices many times over what he earns in upscale galleries and shops, but he works hard regardless, just to keep his craft alive.

He sits on the dusty floor by the cemented walls of his small studio in Landhi, his rough fingers skillfully engraving a dancing Anarkali on a brass vase, unaware of the fact that he is the only karigar in Karachi who specializes in engraving scenes from the Mughal era on brassware. Because he is not aware of his own value, Ustad Inam sells his art for much less than it is worth, just to ensure he can feed his family of eight.

Ustad Inam, 37, deftly engraves cultural and historical scenes on brass vases, employing the Muradabadi craft of his forefathers, generally known as khudai ka kaam. His work distinguishes itself from the regular phool patties that decorate brassware found in abundance in Peetal Gali at Golimar.

“I learnt how to engrave Mughal figures from my father, Ustad Ikram, who was the only master of this art in Karachi after partition.”

Ustad Ikram learnt this art in Muradabad, the hub of engraved art in India for centuries, and practiced it innovatively after he migrated to Karachi.

“He sketched a hundred figures in various compositions depicting Mughal culture and after years of practice, he excelled at engraving,” Inam says proudly, “After a few years, he could draw straight onto brass plates and vases from life.”

Inam himself does not know how to engrave all of the hundred figures though. “I worked with my father for 20 years, but he died before he could impart all his knowledge to me.” Inam is saddened by the fact that his father’s specialised art lays buried beneath layers of earth instead of having been passed from one generation to the next.

Attempting to preserve the centuries old art, Ustad Inam now along with his two brothers practices whatever little he had been able to learn from his father by labouring for a wholesaler in Golimar.

“The wholesaler supplies us with a lot of brassware in varying sizes which we decorate with colour and engraved sketches of flowers after working on them in different stages.”

The Mughal era comes to life the moment Inam works the last stroke on the brass surface. Mughal courts come alive as a young prince sips his wine and enjoys the dance of a seductive courtesan. A doe-eyed princess lays her head on her beloved’s shoulder and watches a lion chase deer in the woods. The haunting melody played on the rabab of the woman sitting by a snake charmer seems to mesmerize not only the young girls in the scene but the person holding the vase too. One’s heart misses a beat just viewing the etched woman playing with deer by houses emitting smoke from their chimneys. So intricate and captivating are the scenes etched onto the surfaces of Ustad Inam’s vases, that they transport the viewer into another realm.

“Detailing these figures requires a lot of hard work and is very time-consuming too,” Inam tells Kolachi while engraving the tiniest flowers on a dupatta adorning a beautiful princess. “All etching on the vases is done by hand and even the smallest jerk can ruin a day’s worth of effort,” Inam adds as he painstakingly colours the tips of leaves on the dupatta. 

Ustad Inam usually makes up to fifty vases in a month. As he is very thorough about the detailing, fully decorating even a six inch vase takes him around three to four days to complete.

 “Vases are washed in acid before anything else. Then they are sprayed with deco paint, sketched on and the background of figures is painted in different colours. Once this is done, the composition is engraved and colour is stippled in using a straw.  The final piece is dried in a furnace and polished before being plastic-coated,” he tells Kolachi.

Despite all his painstaking efforts, Inam only manages to make a paltry 10000 rupees each month, and sometimes not even that.  A pair of 40 inch vases made after a week’s labour sell for 6000 rupees at his seth’s shop in Golimar, yet earns him no more than 200 rupees.

His wholesaler, however “earns thousands for the over 50 vases I sell him a month, as he sells them to exporters.”

Brassware handicrafts don’t have a huge market in Karachi. According to a rough estimate, the city holds only five per cent of brass made handicrafts, which can be found in  Golimar, Cooperative Market, Zainab Market and a few shops in Clifton and Zamzama. The rest are sold to markets in Islamabad and Rawalpindi. A major chunk of profit is earned through exporting brassware to China, Saudi Arabia and Canada with the pieces depicting Mughal culture sold at prices approximately 25 per cent higher than the regular, uncoloured pieces worked with phool patti.

Inam on the other hand, is paid just about enough to make ends meet. “I don’t earn enough to save,” says Inam who is simply sticking to the profession for the sake of preserving his father’s art. “When I am engraving, I feel as though my father is alive.”

However, he complains that despite all his effort and hard work, the business-savvy people he deals with stand in his way forward.

 “I once tried setting up my own brassware business instead of labouring for someone else, but the venture crashed and burned as in business oriented societies the bigger fish devour the small before they can achieve anything.”

 Inam tells Kolachi that when he tried selling his vases to wholesalers, they would often reject pieces even for the smallest defect, and pay him in installments instead of paying the full amount.

“I was left with no option but to serve the same old master or my family would have been forced to starve. I have been serving him for 18 years now.”

Ustad Inam realizes that his present wholesaler exploits him by not paying him enough and never giving him a raise, but he has not considered switching jobs.

 “I owe my seth 300000 rupees. I had borrowed the money to build my house. When I ask him for a pay raise he tells me to pay back the debt and leave, which I can’t.”

As a result of the the tiny amount he earns every month, yet still being bound to the job because of his debt, almost  serving as a bonded labourer, Inam has stopped picturing any kind of change, nor does he work towards it.

 “I could earn a fortune if I were an artist. Since I don’t paint on canvas nor do I earn millions by exhibiting my work in galleries, I can’t call myself an artist. Still I believe that even the greatest artist cannot imitate my work.”

Ustad Inam makes identical circles on all vases without the help of any tool and challenges that no one except him can do it. “I could draw perfect circle even if I was blindfolded, I have been doing it for 20 years now, and flawlessly.”

Ustad Inam’s years of practice, and his chosen profession being one he is quite devoted to have ensured that his work is always finished to perfection.

Though his work demands to be appreciated for its precision and aesthetic value, Inam dreams simple dreams for himself.

Despite being proud of his skill, Ustad Inam has never exhibited his work in galleries since he neither regards himself an artist nor is he knowledgeable and resourceful enough to have access to them. “I don’t know if I can exhibit my work in galleries. I don’t even know whom to talk to if I want to book myself space in a gallery. If I could earn 15000 rupees instead of the 10000 I earn now, I would be a happy man!”

An Article from “Jang”

Book By Benazir Bhutto(Quotes) February 7, 2008

Posted by Farzana Naina in Pakistan, Politics, Urdu.
Tags: , , , ,
1 comment so far

بینظیر بھٹو کی کتاب سے اقتباسات

’ائرپورٹ سے نکل کر میرا بکتر بند ٹرک چیونٹی کی رفتار سے چل رہا تھا کیونکہ آس پاس مجمع بڑھتا جا رہا تھا۔شام ڈھلی تو سٹریٹ لائٹس مدھم ہوتے ہوتے بجھنے لگیں۔موبائل فون کے سگنل جیم کرنے والے آلات بھی کام نہیں کر رہے تھے، جن کا کام کسی متوقع خود کش بمبار یا بارود سے بھرے ریموٹ کنٹرولڈ کھلونا ہوائی جہاز کو میرے ٹرک کے قریب پھٹنے سے روکنا تھا۔

میرے شوہر آصف نے دبئی میں ٹی وی پر میرے قافلے کی لائیو کوریج دیکھتے ہوئے مجھ سے بات کی اور یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ٹرک کی چھت پر کھڑے ہو کر عوام کے سامنے آنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ لیکن میں نے کہا کہ میں اپنے عوام کے سامنے آ کر ہی ان کا استقبال کروں گی۔

رات گیارہ بجے سے کچھ بعد میں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے ایک شیر خوار بچے کو پیپلز پارٹی کے جھنڈے سے ملتے جلتے کپڑے پہنا رکھے تھے اور اسے ہاتھوں میں اٹھائے وہ بار بار مجھے اشارے کر رہا تھا کہ میں بچے کو تھام لوں۔میں نے ہجوم کو اشارہ کیا کہ وہ اس شخص کے لیے راستہ بنائیں۔ لیکن جب اس کے لیے راستہ بن گیا تو وہ آگے آنے سے کترانے لگا اور اس نے بچہ ہجوم میں کسی کے حوالے کرنے کی کوشش بھی کی۔ مجھے تشویش ہوئی کہ بچہ زمین پر گر کر ہجوم کے پیروں میں کچلا نہ جائے، یا کھو نہ جائے۔

میں نے اشارہ کیا کہ نہیں، بچے کو میرے پاس لے کر آؤ۔ میں نے سکیورٹی گارڈ کو بھی اشارہ کیا کہ اس شخص کو ٹرک کے اوپر آنے دیا جائے۔ تاہم جب تک وہ شخص ٹرک تک پہنچا میں ٹرک کے اندر بنے کمرے میں آ چکی تھی کیونکہ میرے پاؤں درد کرنے لگے تھے۔ ہمیں شبہ ہے کہ اسی بچے کے کپڑوں کے نیچے پلاسٹک دھماکہ خیز مواد رکھا گیا تھا۔

ایک ہی جگہ پر دس گھنٹے کھڑے رہنے سے میرے پیر سوج گئے تھے اور جوتا پہننے سے مزید تکلیف ہو رہی تھی۔ میں نے سینڈل کے سٹریپ کھولے اور اپنی سیکرٹری ناہید خان کے ساتھ اس تقریر کے مسودے پر کام کرنے لگی جو مجھے مزار قائد پر کرنی تھی اور جو میری زندگی کی سب سے اہم تقریر تھی۔

ایک نکتے پر بحث کے دوران میں نے کہا کہ ہمیں اس تقریر میں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اس پیٹیشن کا ذکر بھی کرنا چاہیے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ قبائلی علاقوں میں تمام سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کا موقعہ دیا جائے تاکہ انتہا پسندوں کا سیاسی سطح پر مقابلہ کیا جا سکے۔

ابھی میری بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ ایک زوردار دھماکے سے ٹرک لرز گیا۔ پہلے دھماکے کی آواز، پھر روشنی کا فلیش، پھر شیشے ٹوٹنے کی آواز اور اس کے بعد موت کی خاموشی۔ ذرا دیر کے بعد چیخ و پکار شروع ہوئی، اور میں نے دل میں کہا’ اوہ میرے خدا یہ نہیں ہو سکتا۔

ابھی میرے کان اس دھماکے کی شدت سے بج رہے تھے کہ دوسرا اور زیادہ زور دار دھماکہ ہوا۔عین اسی وقت کوئی چیز ٹرک سے ٹکرائی اور یوں محسوس ہوتا تھا وہ چیز ٹرک کی باڈی کے ساتھ گھوم رہی ہے۔ بعد میں میں نے ٹرک کے بائیں جانب، جہاں میرا کمرہ تھا، باڈی پر ٹکراؤ کے دو نشان دیکھے۔

میں نے باہر دیکھا تو اندھیری رات نارنجی روشنی میں نہائی ہوئی تھی اور سڑک پر لاشیں بکھری پڑی تھیں۔

اب میں جان گئی ہوں کہ پیپلز پارٹی کے رنگوں والے کپڑے پہنے بچے کے ساتھ کیا ہوا۔ پارٹی کے ایک پارلیمانی رکن آغا سراج درانی میرے ٹرک کے آگے راستہ بنا رہے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ جب مشکوک آدمی نے بچہ ٹرک کے اوپر پہنچانا چاہا تو انہوں نے اسے منع کر کے وہاں سے چلتا کیا۔ اس پر وہ شخص بچے کو لیے ٹرک کے بائیں جانب چلنے والی ایک پولیس گاڑی کی طرف گیا جس میں موجود افراد نے بھی بچے کو لینے سے انکار کر دیا۔ اس سے آگے والی پولیس وین میں پارٹی کی ایک کونسلر رخسانہ فیصل بلوچ اور ایک کیمرہ مین بھی سوار تھے۔

جب وہ آدمی اس وین کے قریب آیا تو پچھلی پولیس گاڑی والوں نےخبردار کیا کہ ’بچے کو مت لینا، بچے کو مت لینا، بچے کو ٹرک کے اندر مت جانے دینا۔

یہ دونوں پولیس گاڑیاں ٹرک کے متوازی اسی جانب چل رہی تھیں جس طرف ٹرک کے اندر میں بیٹھی ہوئی تھی۔ جب پولیس والے اس مشکوک آدمی کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے، اسی وقت پہلا دھماکہ ہوا۔ دوسری پولیس وین میں سوار تمام افراد مارے گئے۔

ایک منٹ سے بھی کم وقفے سے 15 کلوگرام کے ایک کار بم کا دھماکہ کیا گیا اور عینی شاہدین کے مطابق اس کے ساتھ ہی سنائپرز یا ماہر نشانچیوں کو فائرنگ کرتے بھی دیکھا گیا۔

بشکریہ بی بی سی

Old Karachi Pictures November 28, 2007

Posted by Farzana Naina in Karachi, Pakistan.
Tags: , , , ,
2 comments

Bunder Road - Karachi

1962 Jacqueline Kennedy perches on camel in Karachi

Bunder Road - Karachi

Bunder Road - Karachi

Chidiya Ghar (Gandhi Garden) Karachi

Inaugurated as Sind Arts College by Lord Reay, Governor of Bombay on 17th January, 1887 and renamed D.J. Science College (upon completion of the present structure), on 15th October, 1882. Located in the heart of old Karachi, the foundation stone for this college was laid on 19th November, 1887 by Lord Dufferin, Viceroy of India. The college is named after Diwan Dayaram Jethmal its main benefactor. The cost of construction is reported to have been Rs.186,514 out of which the Government contributed Rs. 97,193, the balance being raised through public donations.

Picture Taken By: Raja Islam

The century old heritage building of Radio Pakistan located on the main artery of the mega-metropolis, M. A. Jinnah Road went on blazing, as the studio over there had suddenly caught fire on Sunday morning “October 28th 2007”.