jump to navigation

Ankahi – ان کہی April 12, 2017

Posted by Farzana Naina in British Pakistani Poetess, Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Naina, Nazm, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
2 comments

‘‘ اَن کہی ’’

اَن کہی کے حسن میں کچھ دیر تو ڈوبے رہو

 زندگی خود  میں  اترنے  کی  جو  دے  مہلت ذرا

خواب نگری کے ہر اک کونے کے آئینے تکو

دھوپ چھاؤں آنکھ سے آنکھوں کی ڈبیوں میں رکھو

رات کے پُل پر ہوا کے راگ میں گم صم رہو

چاندنی کی تتلیوں کو رقص میں شامل کرو

روح میں بہتے ہوئے احساس کی لہریں گنو

عمر کے بکھرے ہوئے سیپوں سے کچھ موتی چُنو

چاند سے لپٹی ہوئی بدلی کی چھاؤں میں چلو

بربطوں کی تال پر اک ماورا منظر بُنو

پتھروں کی نیلی محرابوں کے جنگلے کاٹ دو

کہر میں کھوئے ہوئے رستوں پہ  سرگرداں رہو

سبز پریوں کا یہ میلہ روز تو لگتا نہیں

عشق پنچھی اپنے پر دوبارہ پھیلاتا نہیں

پھر کہاں وارفتگی سے ہوگا کوئی منتشر

آرزوؤں کے نگر میں یوں تمہارا منتظر

کہہ دیا سب کچھ تو یہ سارا فسوں مٹ جائے گا

ہر ستارہ کہکشاں کی بھیڑ میں کھو جائے گا

ان کہی کے حسن میں کچھ دیر تو ڈوبے رہو

 !!!ڈوبے رہو کچھ دیر  اور۔۔۔۔ ۔ 

فرزانہ نیناں

Ankahi ke husn mein kuch deir tau doobe raho

Zindagi khud mein uterne ki jo de mohlut zara

Khwab’nagri ke har ik kone ka aaeene tako

Dhoop chaa’on aankh se aankhon ki dibiyon mein rakho

Raat ke pull par hawa ke raag mein gum sum raho

Chandni ki titliyon ko raqs mein shamil karo

Rooh mein behte huey ehsaas ki lehrein gin’no

Umr ke behte huey seepon se kuch moti chuno

Chand se lipti hui badli cha’aon mein chalo

Barbat’ton ki taal par ik maa’wra manazar buno

Pat’tharon ki neeli mehraabon ke jungle kaat do

Kohur mein khoye huey raston pe sardar’daan raho

Sabz pariyon ka ye mela roz tau lagta nahein

Ishq panchi apne par dobara pheilata nahin

Phir kahan waa’raftgi se hoga koi muntashir

Aarzo’on ke nagar mein raah par yun mantazir

Keh diya sab kuch…..tau ye sara fusoon mitt jaey ga

Har sitara keh’kashan ki bhee’rr mein kho jaey ga

An’kahi ke husn mein kuch deir tau doobe raho

Doobe raho, kuch deir aur……………. !!!

~ Farzana Naina.

Golden bar 1

Khush Manzari – خوش منظری April 9, 2017

Posted by Farzana Naina in Farzana, Farzana Naina, Feelings, Flowers, Ghazal, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Naina, Nazm, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Thoughts, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
2 comments

3 Pink Flower bar

خوش منظری

.چیری کے پیڑوں پہ پھولوں سے لدی یہ ڈالیاں !
میری آنکھوں میں کسی جنگل کی جیسے ہرنیاں
کس محبّت سے ترے نغمے سناتی ہیں مجھے
میٹھی آوازوں کی پائل سے جگاتی ہیں مجھے
تیز رفتاری سے کتنی دور تک جاتا ہے دل
کان میں چپکے سے کہتا ہے کوئی : آ مجھ سے مِل
اب بھی اونٹوں کے گلے میں بج رہی ہیں گھنٹیاں
اب بھی صحرا میں سنہری شام کی ہیں سرخیاں
کیا کہوں میں خواب جیسے اِس فسانے کے لئے
پھول تو ہوتے ہیں دریا میں بہانے کے لئے
دائروں میں جھوم کر آتا پہاڑی سے دھواؑں
اُڑتے اُڑتے مجھ پہ رکھ جاتا ہے اک کوہِ گراں

( فــرزانـہ نیــناںؔ )

Azeem Mighty Poets October 29, 2013

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Feelings, Ghazal, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Nazm, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Urdu Shairy.
add a comment

شاعری کرنے کے باوجود مجھے شاعروں کا رویہ کبھی سمجھ نہیں آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! ۔

ہر ایک اپنے آپ کو عظیم کہتا اور سمجھتا ہے، اب تو میری بھی ایک عمر ہوگیٔ ہے ان سب کو دیکھتے سنتے، چاہے کویٔ نیا لکھنے والا ہو یا پرانا، اپنے بارے میں وہ وہ لن ترانیاں کہ اللہ کی پناہ!

ہر پل ہر لمحہ اسی کوشش میں رہتے ہیں کہ ان پر داد و تحسین کے ڈونگرے برستے رہیں۔

یہ سب کے سب شیخی مارنے کا کویٔ موقعہ ہاتھ سے نہیں گنواتے، میں تو حیران ہوتے ہوتے اب حیرانگی سے بھی تنگ آ گیٔ ہوں۔

ہر شاعر دوسرے شاعر کو اس قدر کمتر سمجھتا ہے کہ توبہ، برایٗیاں کرتے کرتے ان کے ذہن و دل پر کویٔ بوجھ نہیں پڑتا !!!۔

خاص کر جب سے فیس بک ایجاد ہوا اور وہاں جو شاعروں اور ادیبوں کی جوتم پیزار ہوتی ، جو درگت بنایٔ جاتی ہے اس سے تو ان کے آباء و اجداد کے مردے بھی قبروں میں بلبلاتے ہوں گے۔۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔۔۔ ایک سے ایک اپنے آپ کو عظیم شاعر کہنے اور کہلوانے میں جان توڑ کوششیں کر رہا ہے، ہنسوں نہیں تو اور کیا کروں۔

ہایٔے ہاۓ ، یہ بچارے غالب، میر، اقبال، فیض اور فراز، بیچارے۔

 

Mehdi Hassan June 1, 2012

Posted by Farzana Naina in Film and Music, Ghazal, Ghazal, Music, Old Pakistani Music, Poetry, Radio, Shairy, Urdu Poetry, Video.
Tags: , , , , , ,
1 comment so far

بشکریہ بی بی سی اردو

شہنشاہِ غزل استاد مہدی حسن 1927 میں راجستھان کے ایک گاؤں لُونا میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد اور چچا دُھرپد گائیکی کے ماہر تھے اور مہدی حسن کی ابتدائی تربیت گھر ہی میں ہوئی۔ خود اُن کے بقول وہ کلاونت گھرانے کی سولھویں پیڑھی سے تعلق رکھتے تھے۔

1947 میں بیس سالہ مہدی حسن اہلِ خانہ کے ساتھ نقلِ وطن کر کے پاکستان آ گئے اور محنت مزدوری کے طور پر سائیکلیں مرمت کرنے کا کام شروع کیا۔

کسبِ کمالِ کُن کہ عزیزِ جہاں شوی

اسی روایت پر عمل کرتے ہوئے انھوں نے مکینک کے کام میں مہارت حاصل کی اور پہلے موٹر مکینک اور اسکے بعد ٹریکٹر کے مکینک بن گئے، لیکن رہینِ ستم ہائے روزگار رہنے کے باوجود وہ موسیقی کے خیال سے غافل نہیں رہے اور ہر حال میں اپنا ریاض جاری رکھا۔

سن پچاس کی دہائی اُن کے لیے مبارک ثابت ہوئی جب اُن کا تعارف ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر سلیم گیلانی سے ہوا۔ جوہر شناس نے موتی کی صحیح پہچان کی تھی چنانچہ دھرپد، خیال، ٹھُمری اور دادرے کی تنگنائے سے نکل کر یہ جوہرِ قابل غزل کی پُرفضا وادی میں آنکلا جہاں اسکی صلاحیتوں کو جِلا ملی اور سن ساٹھ کی دہائی میں اسکی گائی ہوئی فیص احمد فیض کی غزل ’گلوں میں رنگ بھرے‘ ہر گلی کوچے میں گونجنے لگی۔

فلمی موسیقار جو ان کے فن کو ریڈیو کی گائیکی کہہ کر دامن چھڑاتے رہے تھے، اب جمگھٹا بنا کر اسکے گرد جمع ہوگئے چنانچہ سن ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں مہدی حسن پاکستان کے معروف ترین فلمی گائیک بن گئے اور سنتوش کمار، درپن، وحید مراد اور محمد علی سے لیکر ندیم اور شاہد تک ہر ہیرو نے مہدی حسن کے گائے ہوئے گیتوں پر لب ہلائے۔

سنجیدہ حلقوں میں اُن کی حیثیت ایک غزل گائیک کے طور پر مستحکم رہی۔ اسی حیثیت میں انھوں نے برِصغیر کے ملکوں کا کئی بار دورہ کیا۔ بھارت میں اُن کے احترام کا جو عالم تھا وہ لتا منگیشکر کے اس خراجِ تحسین سے ظاہر ہوا کہ مہدی حسن کے گلے میں تو بھگوان بولتے ہیں۔ نیپال کے شاہ بریندرا اُن کے احترام میں اُٹھ کے کھڑے ہوجاتے تھے اور فخر سے بتاتے تھے کہ انھیں مہدی حسن کی کئی غزلیں زبانی یاد ہیں۔

پاکستان کے صدر ایوب، صدر ضیاءالحق اور صدر پرویز مشرف بھی اُن کے مداح تھے اور انھیں اعلیٰ ترین سِول اعزازات سے نواز چُکے تھے، لیکن مہدی حسن کے لیے سب سے بڑا اعزاز وہ بےپناہ مقبولیت اور محبت تھی جو انھیں عوام کے دربار سے ملی۔ پاک و ہند سے باہر بھی جہاں جہاں اُردو بولنے اور سمجھنے والے لوگ آباد ہیں، مہدی حسن کی پذیرائی ہوتی رہی اور سن اسّی کی دہائی میں انھوں نے اپنا بیشتر وقت یورپ اور امریکہ کے دوروں میں گزارا۔

مہدی حسن کثیرالاولاد آدمی تھے۔ اُن کے چودہ بچّے ہیں، نو بیٹے اور پانچ بیٹیاں۔ اپنے بیٹوں آصف اور کامران کے علاوہ انھوں نے پوتوں کو بھی موسیقی کی تعلیم دی اور آخری عمر میں انھوں نے پردادا بننے کا اعزاز بھی حاصل کرلیا اور اپنے پڑپوتوں کے سر پہ بھی دستِ شفقت رکھا۔

اُن کے شاگردوں میں سب سے پہلے پرویز مہدی نے نام پیدا کیا اور تمام عمر اپنے اُستاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے رہے۔ بعد میں غلام عباس، سلامت علی، آصف جاوید اور طلعت عزیز جیسے ہونہار شاگردوں نے اُن کی طرز گائیکی کو زندہ رکھا۔

ملکہ ترنم نور جہاں کا کہنا تھا کہ ایسی آواز صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتی ہے، حالانکہ یہ بات خود مادام کی شخصیت پر بھی اتنی ہی صادق آتی ہے۔ آج مداّح اور ممدوح دونوں ہی اس دنیا میں نہیں لیکن موت نے صرف اُن کا جسدِ خاکی ہم سے چھینا ہے۔ اُن کی لازوال آواز ہمیشہ زندہ رہے گی۔

Jagjit Singh – جگجیت سنگھ October 10, 2011

Posted by Farzana Naina in Art, Film and Music, Ghazal, Ghazal, Kavita, Mushaira, Music, Nazm, Poetry, Radio, Shairy, Sher, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags:
2 comments

پير 10 اکتوبر2011

بھارت میں غزلوں کے معروف گلوکار اور غزل گائیک جگجیت سنگھ کا ممبئی کے لیلا وتی ہسپتال میں انتقال ہوگیا ہے۔ ان کی عمر ستّر برس تھی۔

گزشتہ ہفتہ برین ہیمبرج کے سبب انہیں ہسپتال میں داخل کیا گيا تھا۔ سوگواروں میں وہ اپنی اہلیہ چترا داس کو چھوڑ گئے ہیں۔

جس روز انہیں ہسپتال میں داخل کیا گیا اس روز وہ ممبئی میں پاکستان کے مشہور زمانہ گلوکار غلام علی کے ساتھ مشترکہ پروگرام پیش کرنے والے تھے۔

جگجیت سنگھ کے ایک ہی بیٹا تھا۔ جو جوانی میں ہی ایک روڈ حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

آزادی کے بعد بھارت میں غزل گائیکی کے فن کے حالات اچھے نہیں رہے تھے لیکن جگجیت نے اس فن کو دوبارہ زندہ کیا اور غزل کو درباروں یا ادب کی محفلوں سے نکال کر عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جگجیت سنگھ غزل گلوکاری کے لیے بھارت میں تو مشہور ہیں ہی لیکن ان کے مداح دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔

جگجیت سنگھ ریاست راجستھان کے شری گنگا نگر میں آٹھ فروری انیس سو اکتالیس میں پیدا ہوئے تھے۔ پیدائش کے وقت ان کا نام جگموہن رکھا گيا تھا لیکن ایک خاندانی ستارہ شناش کی صلاح پر ان کا نام جگجیت سنگھ کر دیا گیا۔

جگجیت سنگھ نے فلموں میں بھی نغمے گائے لیکن بھارت میں انہیں غزل گائیکی کا معمار مانا جاتا ہے جنہوں نے اس فن کو عوام میں مقبول کیا۔

نقاد ان کے فن کو معیاری یا اعلٰی پائے کا نہیں سمجھتے ہیں لیکن نکتہ چینی بھی اس بات کے قائل ہیں کہ انہوں نے غزلوں کو فلمی گیتوں کی طرح عوام تک پہنچایا۔

جگجیت سنگھ پہلے اپنی اہلیہ چترا کے ساتھ مل کر غزلیں گاتے تھے اور ان کے کئی البم کافی مقبول ہوئے۔ لیکن بیٹے کی موت کے بعد چترانے اس پیشہ کو یکسر چھوڑ دیا اور کبھی دوبارہ نہیں گایا۔

گجیت نے لتا منگیشکر کے ساتھ مل کر سجدہ کے نام سے ایک البم بنایا تھا جو بہت مقبول ہوا تھا۔ انہوں نے اوشا منگیشکر کے ساتھ بھی کافی کام کیا۔

انہوں نے بالی وڈ کے معروف نغمہ نگار اور شاعر گلزار کے سات بھی کافی کام کیا اور ان کے ٹی وی سیریل مرزا غالب میں انہوں نے کئی غزلیں پیش کیں جو بہت مقبول ہوئیں۔ غالب کی چند غزلوں کو جگجیت سنگھ نے عوام میں دوام بخشا۔ اس سیریل کی بیشتر غزلیں اب بھی لوگوں کی پسندیدہ ہیں۔

انہوں نے جاوید اختر کے ساتھ بھی کام کیا اور سوز کے نام سے ایک البم تیار کیا جو کافی سنا گیا۔

جگجیت سنگھ کو گھوڑوں سے بہت لگاؤ تھا اور گھوڑوں کی ریس کے شوقین تھے۔ ان کے پاس گھوڑے تھے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے انہوں نے بہت سے لوگوں کی مدد بھی لی تھی۔

بشکریہ بی بی سی اردو

ہفتہ 24 ستمبر 2011

بھارت کے مشہور غزل گو جگجیت سنگھ کی دماغ کی شریان پھٹنے کے بعد ممبئی کے ایک ہسپتال میں ان کا آپریشن کیا گیا ہے۔

ممبئی کے علاقے باندرہ میں واقع ليلاوتی ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ جمعہ کی صبح ہسپتال لائے جانے کے بعد ستّر سالہ جگجیت سنگھ کی سرجری کی گئی تاہم ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے ان کے ایک قربت دار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

انہیں جمعہ کی شام پاکستان کے مشہور غزل گو غلام علی کے ساتھ ایک پروگرام میں شامل ہونا تھا۔

اس سے پہلے جگجیت سنگھ کو سنہ انیس سو اٹھانوے میں دل کا دورہ پڑا تھا اور جسم میں خون کی گردش میں مسائل کی وجہ سے انہیں اکتوبر سنہ دو ہزار سات میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ شاید ان ہی وجوہات کی بناء پر انہیں برین ہیمرج ہوا ہوگا۔

جگجیت سنگھ کے خاندان کے ایک قریبی دوست نے ليلاوتي ہسپتال میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کے دماغ کے ایک حصہ میں خون جم گیا تھا جسے نکالنے کے لئے آپریشن کیا گیا۔

ان کے مطابق، انہیں اگلے اڑتالیس گھنٹے تک انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا جائے گا۔

BBC UK

 

Br’rooh Larkiyon Ka – بے روح لڑکیوں کا ٹھکانہ November 18, 2009

Posted by Farzana Naina in British Pakistani Poetess, Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Ghazal, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Naina, Nazm, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
2 comments

Berooh larkiyon ka thikana bana hua-wordpress

Be’rooh Larkiyon Ka Thikana Bana Hua

Kamrah Hai Mera Aeena’khana Bana Hua

 

Meine Tau Koi Baat Kisi Se Nahi Kahi

Socha Hai Jo Wohi Hai Fasana Bana Hua

 

Nadiya Mein Kis Ne Rakh Diye Jalte Huey Charaagh

Mausam Hai Chasm E Tar Ka Suhana Bana Hua

 

Aurak Ka Zehn Mard Ki Is Kainaat Mein

Abtak Hai Uljhanon Ka Nishana Bana Hua

 

Mumkin Hai Maar De Mujhe Uski Koi Khaber

Dushman Hai Jiska Mera Gharana Bana Hua

 

Baarish Ki Aag Hai Mere Ander Lagi Hui

Baadal Hai Aaso’on Ka Nishana Bana Hua

 

Naina Kai Baras Se Hawa Ki Hon Humnafas

Hai Ye Badan Usi Ka Khazana Bana Hua

Thank you 10Flower magenta 4

Name pink 2 nName pink 2 aName pink 2 iName pink 2 nName pink 2 a