jump to navigation

Suraiya Shahab ثریا شہاب ایک آواز September 14, 2019

Posted by Farzana Naina in British Pakistani Poetess, Famous Urdu Poets, Farzana Naina, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Nazm, Pakistani Poetess, Poetry, Radio, Shaira, Shairy, Sher, Tv Presenter, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags: , , , , , ,
1 comment so far

مشہور بین الاقوامی براڈ کاسٹر، شاعرہ، افسانہ نگارہ، اور ناول نگارہ ثریا شہاب کینسر کے باعث انتقال کر گئیں۔ 

13 Sep 2019

انا للہ و انا الیہ راجعون

ثریا شہاب سے میری دوستی کا آغاز دو ہزار دو میں ہوا تھا جب میں ادبی محافل میں شرکت کے لیئے ہائیڈل برگ اور فرینکفرٹ گئی تھی۔

پہلی ملاقات میں ہی ہم ایک دوسرے کے گرویدہ ہوگئے، اس دوران انہوں نے جرمن ریڈیو کی ڈوئچے ویلے  ورلڈ سروس کے لیئے میرا انٹرویو ریکارڈ کیا تھا ۔

کینسر کے بعد وہ الزائمر کے مرض میں مبتلا ہوئیں اسی سبب ان سے جب بات ہوئی تو وہ کافی کچھ بھول چکی تھیں اور اپنی پہچان کروانی پڑتی تھی، یہ ایک دلخراش صورتحال رہی لیکن ان سے محبت اور عقیدت کبھی ماند نہیں پڑی۔

آج ثریا شہاب کے انتقال کی خبر ملی تو ایک شدید افسردگی نے گھیر لیا، موت تو برحق ہے اور سبھی کو اک نہ اک روز ساتھ لے ہی جائے گی لیکن ایسے انمول نگینے جب چھینتی ہے تو زندگی کی چمک مدھم پڑنے لگتی ہے۔

ثریا شہاب اردو دنیا کی ایک انمول ہستی تھیں ، ایک زمانہ تھا جو ان کی ورلڈ سروس صداکاری کا دیوانہ تھا۔

ان کی آواز میں خبریں سننے کے لیئے لاکھوں کان منتظر رہتے تھے۔

یہ وہ دور تھا جب مواصلاتی نظام آج کی انٹرنیٹ دنیا سے بیحد مختلف تھا۔

اپنی زبان میں کچھ سننے کے لیئے اردو بولنے اور سمجھنے والے دنیا بھر کے ریڈیو اسٹیشن چھانا کرتے ایسے میں ثریا شہاب کی آواز نے ان کے دلوں کو گرما رکھا تھا۔

ثریا نے ساٹھ کی دہائی سے اپنے نشریاتی سفر میں قدم رکھا، کراچی کے ڈراموں میں بھی حصہ لیا لیکن جلد ہی ایران کی اردو ورلڈ سروس میں کام کرنے زاہدان پدھار گئیں۔

آج بھی وہ آواز سماعتوں میں یوں گونجتی ہے کہ ’’ آواز کی دنیا کے ساتھیو یہ ریڈیو ایران زاہدان ہے‘‘۔

انہوں نےایران سے واپسی کے بعد پاکستان ٹیلیویژن پر خبر نامہ جوائن کیا پھر اس کے بعد لندن چلی گئیں جہاں پر بی بی سی کے لیئے کام کیا، وہیں سے وہ جرمنی چلی گئی تھیں جہاں انہوں نے ایک جرمن نژاد سے اپنی دوسری شادی کی، ثریا کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔

ثریا شہاب ایک محنتی اور باہمت شخصیت کا نام ہے، انہوں نے بے لوث ادبی خدمات انجام دیں جس بنا پر وہ اپنے دور کی شناخت رہیں۔

جرمنی سے وہ ایک میگزین نکالتی تھیں جس میں میری تحاریر بھی شامل رہیں، فون پر بھی وہ ہمیشہ مجھ کو لکھنے کی تحریک دیتی رہیں۔

ثریا شاعری کے علاوہ افسانے بھی لکھتی تھیں ان کے دو ناول، ایک افسانوی مجموعہ اور ایک شعری مجموعہ’’ خود سے ایک سوال‘‘ شائع ہو چکے ہیں۔

جرمنی میں جب ان کی صحت مدھم پڑنے لگی تو انہوں نے اسلام آباد واپسی کر لی تاکہ ان کی بہتر دیکھ بھال ہو سکے، پاکستان لوٹنے کے بعد ان کے جرمن شوہر ہانز وہاں ایڈجسٹ نہ ہوسکے اور واپس چلے گیئے البتہ وہاں بھی ثریا کی طبیعت نے نچلا نہیں بیٹھنے دیا اور ثریا شہاب نے نوجوانوں کے لیئے ایک تنظیم بنا ئی جس کا نام تھا یوتھ لیگ۔

اس تنظیم کا مقصد نوجوانوں کو تعمیری اور مثبت کاموں کی جانب لے جانا تھا، ان کا جینا زندگی سے بھرپور اور ایک مثال رہا۔

ثریا کو الزائمر کی بیماری لگ گئی اور وہ شخصیت جسے ساری دنیا یاد کرتی ہے سب کو بھول گئی۔

پاکستان نے بھی ان کی خدمات کو بھلا دیا اور کبھی کسی اعزاز سے نہیں نوازا، یہی ہمارے ملک کا ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ وہ جیتے جی اپنے ہنرمندوں، محنت کشوں اور با ہمت لوگوں کو صلہ نہیں دیتا۔

ثریا جیسے شستہ لب و لہجہ اور تہذیب و تمدن میں گندھی ہوئی شخصیات آج ڈھونڈے سے شاذ و نادر ہی ملتی ہیں۔

جب تلک رہے جیتا چاہئے ہنسے بولے

آدمی کو چپ رہنا موت کی نشانی ہے

شاعر: تاباں عبد الحئی

میں بہت اداس ہوں اور پروردگار سے ان کی مغفرت کے لیئے دعاگو ہوں کہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔۔۔ آمین۔

Farzaba Naina, Interview with Surraiya Shahab for world service in Germany
Farzaba Naina, Interview with Surraiya Shahab for world service in Germany
Farzaba Naina, Interview with Surraiya Shahab for world service in Germany

Farzana Khan, Interview with Surraiya Shahab for world service in Germany

ثریا کی ذات ایک روشنی تھی اور یہ روشنی کبھی کم نہ ہوگی۔

Yesteryear’s iconic newscaster Suraiya Shahab reaches a tragic end

Paving the way for female newsreaders in an era bygone, yesteryear’s iconic newscaster Suraiya Shahab passed away Friday morning in Islamabad. She was 78.
Shahab, who extended her services to the state-owned Pakistan Television (PTV) for as long as ten years, succumbed to cancer and Alzheimer’s disease after a prolonged period of illness.
Starting her broadcasting career in the 60’s with a magazine programme at Radio Iran Zahidan which mustered immense success, Shahab’s story is a tragic one that shows how the country forgets its own legends.
“It is sad to see how the legends of the nation are banished from people’s thoughts in their lifetime only,” Shahab’s son Khalid shared in an exclusive conversation with The News.
He added, “My mother used to helm a radio programme when she started reading the news professionally at the tender age of 16. She worked for PTV and Radio Pakistan, before joining the British Broadcasting Corporation (BBC).”
“She was diagnosed with breast cancer, for which she underwent surgery in Germany,”
“The doctors however did not completely remove all the cancerous cells that later spread to her brain. She then had to undergo a brain surgery after which most of her memory got affected and she suffered from Alzheimer’s disease.”
Along with extending her services to renowned organisations like PTV and BBC, Suraiya was also engaged in philanthropic work.
“She was actively involved in social work such as construction of wells, building of schools. During her early years with PTV, she worked very hard to regularise daily-wage labourers,”
“Suraiya Shahab was a great name in the news reading realm. alive” .

https://www.urduvoa.com/a/suraiya-shahab/5082788.html

Farzaba Naina in Germany Mushaira

Farzana Khan in Germany Mushaira

Farzaba Naina, Surraiya Shahab and Tahira Safi in Germany Mushaira

Farzana Khan, Surraiya Shahab and Tahira Safi in Germany Mushaira

Farzaba Naina in Germany Mushaira

Farzana Khan in Germany Mushaira

Farzaba Naina in Germany Mushaira

Farzana Khan in Germany Mushaira

Farzaba Naina, Naseem Akhtar, Kaukab Akhtar, Akhtar Sahab and Tahira Safi in Germany Mushaira

Farzana Khan, Naseem Akhtar, Kaukab Akhtar, Akhtar Sahab and Tahira Safi in Germany Mushaira

Farzaba Naina and Tahira Safi in Germany Mushaira

Farzana Khan and Tahira Safi in Germany Mushaira

Farzaba Naina in Germany Mushaira

Farzana Khan in Germany Mushaira

Farzaba Naina in Germany Mushaira

Farzana Khan in Germany Mushaira

Farzaba Naina in Germany Mushaira

Farzana Khan in Germany Mushaira

شامِ  غم کی قسم، آج غمگیں ہیں ہیں ہم Poet Khayyam August 19, 2019

Posted by Farzana Naina in Film and Music, Kavita, Music, Nazm, Poetry, Shairy, Sher, Urdu Poetry.
Tags:
1 comment so far
Poet Khayyam with his son pardeep and wife jagjit kaur

Poet Khayyam with his son pardeep and wife jagjit kaur

’’ شامِ  غم کی قسم، آج غمگیں ہیں ہیں ہم ’’

انیس سو ستائیس 1927 میں پیدا ہونے والے ظہور خیام ہاشمی کی عمر انتقال کے وقت  92 برس تھی۔ خیام  17 سال کی عمر میں موسیقی کے افق پر نمودار ہوئے۔ انہوں نے بالی ووڈ کے کئی مشہور گیتوں کے لئے موسیقی دی ان کی معروف فلموں میں”کبھی کبھی“ اور ”امراؤ جان“ شامل ہیں۔ انہیں سب سے بڑا بریک فلم ”امراؤ جان“ سے ملا۔ اس فلم نے انہیں راتوں رات کامیابی کی منزلوں پر پہنچا دیا۔ انہیں نیشنل ایوارڈ اور فلم فیئر ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

موسیقار خیام کی پہلی اردو فلم ’’فٹ پاتھ‘‘1953 مین ریلیز ہوئی۔ فلم ’’فٹ پاتھ‘‘ کے لیے مجروح سلطان پوری نے ایک گیت لکھا تھا اور اس گیت کو موسیقار خیام نے اس وقت کے نامور گلوکار طلعت محمود سے گوایا تھا۔ گیت کے بول تھے:

شام غم کی قسم آج غمگیں ہیں ہم

آ بھی جا آ بھی جا آج میرے صنم

دل پریشان ہے رات ویران ہے

دیکھ جا کس طرح آج تنہا ہیں ہم

یہ خوبصورت گیت دلیپ کمار پر فلمایا گیا۔ اس گیت کی دھن کے ساتھ ساتھ دلیپ کمار کی اداکاری نے اس گیت کو بڑی شہرت بخشی تھی۔ فلم ’’فٹ پاتھ‘‘ کی موسیقی کے بعد موسیقار خیام عروج پر پہنچ گئے۔ فلم ’’فٹ پاتھ‘‘ بزنس کے اعتبار سے بہت زیادہ کامیاب نہیں ہو سکی مگر موسیقار خیام کی شہرت کا سفر شروع ہو گیا تھا۔ فلم ’’پھر صبح ہوگی‘‘ کی موسیقی نے موسیقار خیام کو بڑا عروج دیا۔’’پھر صبح ہوگی‘‘ کے ہدایت کار رمیش سہگل کو جب راج کپور پروڈکشن کے آفس میں موسیقار خیام نے اپنی چند دھنیں سنائیں جو ڈمی بولوں پر بنائی گئی تھیں تو رمیش سہگل کچھ دیر کے لیے ان دھنوں میں کھو گئے تھے، پھر وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور آگے بڑھ کر موسیقار خیام کا ماتھا چوما اور کہا ارے بھئی! اب تک تم کہاں تھے ہمیں کیوں نہیں ملے۔ پھر خیام نے ان کی فلم ’’پھر صبح ہوگی‘‘ کی موسیقی دی تھی، تو اس فلم کے ہر گیت نے سارے ہندوستان میں اپنی دھاک بٹھا دی تھی ۔

’’پھر صبح ہوگی‘‘ کے گیت ساحر لدھیانوی نے لکھے تھے۔ یوں تو فلم کے گیتوں کی تمام دھنیں خوب تھیں مگر فلم کا تھیم سانگ اور اس کی موسیقی اپنا جواب آپ تھی۔

جب دکھ کے بادل پگھلیں گے

جب سکھ کے ساغر چھلکیں گے

جب دھرتی نغمے گائے گی

وہ صبح کبھی تو آئے گی

اور اسی فلم کے ایک اور گیت میں خیام نے رومانوی موسیقی کو نیا رنگ دیا:

پھر نہ کیجیے مری گستاخ نگاہی کا گلہ

دیکھیے آپ نے پھر پیار سے دیکھا مجھ کو

فلم ’’پھر صبح ہوگی‘‘ کی بے مثال کامیابی نے موسیقار خیام کو صف اول کے موسیقاروں میں کھڑا کردیا تھا۔ خیام کی خوش قسمتی تھی کہ انھیں ساحر لدھیانوی، جاں نثار اختر، کیفی اعظمیٰ، مجروح سلطان پوری اور ندا فاضلی جیسے شاعروں کا ساتھ میسر آیا۔ موسیقار خیام نے فلم ’’شگون‘‘ سے لے کر فلم ’’سلسلہ‘‘ اور فلم ’’رضیہ سلطان‘‘ سے لے کر فلم ’’کبھی کبھی‘‘ تک ان گنت فلموں کی موسیقی دی اور ایسے ایسے گیت منظر عام پر آئے جو دل میں اترتے چلے گئے تھے۔ خیام کے کچھ لازوال گیت یہ تھے:

اے دلِ ناداں، آرزو کیا ہے، جستجو کیا

یہ کیا جگہ ہے دوستو یہ کون سا دیار ہے

دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا

دل چیز کیا ہے آپ میری جان لیجیے

ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں

جلتا ہے بدن پیاس بھڑکی ہے سرِ شام سے جلتا ہے بدن

کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے

میں پل دو پل کا شاعر ہوں، پل دو پل میری جوانی ہے

خیام نے فلم’’شگون‘‘۔کے لئے ساحر لدھیانوی کا لکھا ایک گیت سکھ گلوکارہ جگجیت کور سے گوایا تھا۔ بول تھے:

تم اپنا رنج و غم ساری پریشانی مجھے دے دو

تمہیں غم کی قسم اس دل کی ویرانی مجھے دے دو

اور پھر موسیقار خیام نے جگجیت کور سے شادی کر لی۔ نہ صرف گھریلو زندگی میں بلکہ موسیقی کے شعبے میں بھی جگجیت کور نے خیام کا آدھا کام بانٹ لیا تھا، اور دونوں ایک دوسرے کے درد و غم بھی بانٹ رہے تھے اور سروں کی مالا بھی ایک دوسرے کو پہنا رہے تھے۔ جگجیت کور موسیقار خیام کی اسسٹنٹ بھی بن چکی تھیں اور کئی فلموں میں دونوں کی صلاحیتوں کا نچوڑ منظر عام پر آیا تھا۔ ’’شگون‘‘ کے ساتھ شعلہ و شبنم، بازار، آخری خط اور کبھی کبھی کی لازوال دھنیں موسیقار خیام کی زندگی کا قیمتی سرمایہ تھیں اور ان فلموں میں گیتوں کے ساتھ گیتوں کی سحر انگیزموسیقی نے بھی بڑی دھوم مچائی تھی۔ موسیقار خیام کو کئی فلموں میں فلم فیئر ایوارڈز کے ساتھ ساتھ نیشنل ایوارڈ اور 2010 میں لائف اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔

دو ہزار بارہ میں خیام کے جواں سال بیٹے پردیپ کا اچانک انتقال ہو گیا۔ اس سے خیام کی زندگی بجھ کر رہ گئی۔ انہوں نے پردیپ کے نام پر ایک ٹرسٹ قائم کیا جس کی آمدنی سے ضرورت مند فنکاروں کی مدد کی جاتی ہے۔

بھارت کے شہرہ آفاق میوزک ڈائرکٹر محمد ظہور خیام ہاشمی عرف خیام کا سوجئے ہسپتال میں انتقال ہوا۔ انہیں 16 اگست کو پھیپھڑوں میں انفیکشن  کے باعث  ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔

(18 February 1927 – 19 August 2019)

Un Baadlon Mein January 11, 2019

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Farzana Naina, Kavita, Mushaira, Nazm, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Radio Presenter, Shaira, Shairy, Sher, Urdu, Urdu Poetry, Urdu Shairy, Video.
add a comment

ان بادلوں میں روشن چہرہ  ٹہر گیا ہے

Fehmida Riaz 28th July 1945 – 20th Nov 2018 November 21, 2018

Posted by Farzana Naina in Fehmida Riaz, Literature, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shairy, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags: ,
add a comment

Fehmida riyaz 0

پاکستان کی ممتاز انقلابی شاعرہ ’’ فہمیدہ ریاض‘‘ رضائے الہی سے لاہور میں انتقال فرما گئیں۔

انا للہ و انا الیہ راجعون

 اپنے تانیثی اور غیر روایتی خیالات کے لئے معروف

فہمیدہ ریاض (تخلص فہمیدہ) :۲۸  ؍جولائی ۱۹۴۵ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئیں، ایم اے تک تعلیم حاصل کی، لندن سے فلم ٹیکنک میں ڈپلوما حاصل کیا، طالب علمی کے زمانے میں حیدرآباد میں پہلی نظم لکھی جو ’’فنون‘‘ میں چھپی۔

پہلا شعری مجموعہ ’’پتھر کی زبان‘‘ ۱۹۶۷ء میں منظر عام پر آیا۔’’بدن دریدہ‘‘ ۱۹۷۳ء میں ان کی شادی کے بعد انگلینڈ کے زمانہ قیام میں چھپا۔’’دھوپ‘‘ ان کا تیسرا مجموعۂ کلام ۱۹۷۶ء میں چھپا۔  

کچھ عرصہ نیشنل بک کونسل ، اسلام آباد کی سربراہ رہیں، جب جنرل ضیاء الحق برسر اقتدار آئے تو یہ ادبی مجلہ ’’آواز‘‘ کی مدیرہ تھیں، ملٹری حکومت ان کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتی تھی لہذا یہ ہندوستان چلی گئیں۔

 ’’کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے‘‘۱۹۴۸ء میں ہندوستان میں ان کا شعری مجموعہ چھپا۔

ضیاء الحق کے انتقال کے بعد فہمیدہ ریاض پاکستان واپس آگئی تھیں۔

ان کی دیگر تصانیف کے نام یہ ہیں:

’حلقہ مری زنجیر کا ‘، ’ہم رکا ب‘، ’ادھورا آدمی‘، ’اپنا جرم ثابت ہے‘، ’ میں مٹی کی مورت ہوں‘، ’آدمی کی زندگی‘۔ ان کی محبوب صنف سخن نظم رہی ۔

پروردگار ان کی مغفرت فرمائے ۔ آمین۔

Fehmida Riaz

چادر اور چار دیواری

فہمیدہ ریاض

حضور میں اس سیاہ چادر کا کیا کروں گی

یہ آپ کیوں مجھ کو بخشتے ہیں بصد عنایت

نہ سوگ میں ہوں کہ اس کو اوڑھوں

غم و الم خلق کو دکھاؤں

نہ روگ ہوں میں کہ اس کی تاریکیوں میں خفت سے ڈوب جاؤں

نہ میں گناہ گار ہوں نہ مجرم

کہ اس سیاہی کی مہر اپنی جبیں پہ ہر حال میں لگاؤں

اگر نہ گستاخ مجھ کو سمجھیں

اگر میں جاں کی امان پاؤں

تو دست بستہ کروں گزارش

کہ بندہ پرور

حضور کے حجرۂ معطر میں ایک لاشہ پڑا ہوا ہے

نہ جانے کب کا گلا سڑا ہے

یہ آپ سے رحم چاہتا ہے

حضور اتنا کرم تو کیجے

سیاہ چادر مجھے نہ دیجئے

سیاہ چادر سے اپنے حجرے کی بے کفن لاش ڈھانپ دیجئے

کہ اس سے پھوٹی ہے جو عفونت

وہ کوچے کوچے میں ہانپتی ہے

وہ سر پٹکتی ہے چوکھٹوں پر

برہنگی تن کی ڈھانپتی ہے

سنیں ذرا دل خراش چیخیں

بنا رہی ہیں عجب ہیولے

جو چادروں میں بھی ہیں برہنہ

یہ کون ہیں جانتے تو ہوں گے

حضور پہچانتے تو ہوں گے

یہ لونڈیاں ہیں

کہ یرغمالی حلال شب بھر رہے ہیں

دم صبح در بدر ہیں

حضور کے نطفہ کو مبارک کے نصف ورثہ سے بے معتبر ہیں

یہ بیبیاں ہیں

کہ زوجگی کا خراج دینے

قطار اندر قطار باری کی منتظر ہیں

یہ بچیاں ہیں

کہ جن کے سر پر پھرا جو حضرت کا دست شفقت

تو کم سنی کے لہو سے ریش سپید رنگین ہو گئی ہے

حضور کے حجلۂ معطر میں زندگی خون رو گئی ہے

پڑا ہوا ہے جہاں یہ لاشہ

طویل صدیوں سے قتل انسانیت کا یہ خوں چکاں تماشہ

اب اس تماشہ کو ختم کیجے

حضور اب اس کو ڈھانپ دیجئے

سیاہ چادر تو بن چکی ہے مری نہیں آپ کی ضرورت

کہ اس زمیں پر وجود میرا نہیں فقط اک نشان شہوت

حیات کی شاہ راہ پر جگمگا رہی ہے مری ذہانت

زمین کے رخ پر جو ہے پسینہ تو جھلملاتی ہے میری محنت

یہ چار دیواریاں یہ چادر گلی سڑی لاش کو مبارک

کھلی فضاؤں میں بادباں کھول کر بڑھے گا مرا سفینہ

میں آدم نو کی ہم سفر ہوں

کہ جس نے جیتی مری بھروسہ بھری رفاقت 

 

Fehmida Riaz 1

باکرہ

فہمیدہ ریاض

آسماں تپتے ہوئے لوہے کی مانند سفید

ریگ سوکھی ہوئی پیاسے کی زباں کی مانند

پیاس حلقوم میں ہے جسم میں ہے جان میں ہے

سر بہ زانو ہوں جھلستے ہوئے ریگستاں میں

تیری سرکار میں لے آئی ہوں یہ وحش ذبیح

مجھ پہ لازم تھی جو قربانی وہ میں نے کر دی

اس کی ابلی ہوئی آنکھوں میں ابھی تک ہے چمک

اور سیہ بال ہیں بھیگے ہوئے خوں سے اب تک

تیرا فرمان یہ تھا اس پہ کوئی داغ نہ ہو

سو یہ بے عیب اچھوتا بھی تھا ان دیکھا بھی

بے کراں ریگ میں سب گرم لہو جذب ہوا

دیکھ چادر پہ مری ثبت ہے اس کا دھبا

اے خدا وند کبیر

اے جبار

متکبر و جلیل

ہاں ترے نام پڑھے اور کیا ذبح اسے

اب کوئی پارۂ ابر آئے کہیں سایہ ہو

اے خدا وند عظیم

باد تسکیں! کہ نفس آگ بنا جاتا ہے

قطرۂ آب کہ جاں لب پہ چلی آئی ہے

***     ***     ***

 

زبانوں کا بوسہ

فہمیدہ ریاض

زبانوں کے رس میں یہ کیسی مہک ہے

یہ بوسہ کہ جس سے محبت کی صہبا کی اڑتی ہے خوشبو

یہ بد مست خوشبو جو گہرا غنودہ نشہ لا رہی ہے

یہ کیسا نشہ ہے

مرے ذہن کے ریزے ریزے میں ایک آنکھ سی کھل گئی ہے

تم اپنی زباں میرے منہ میں رکھے جیسے پاتال سے میری جاں کھینچتے ہو

یہ بھیگا ہوا گرم و تاریک بوسہ

اماوس کی کالی برستی ہوئی رات جیسے امڈتی چلی آ رہی ہے

کہیں کوئی ساعت ازل سے رمیدہ

مری روح کے دشت میں اڑ رہی تھی

وہ ساعت قریں تر چلی آ رہی ہے

مجھے ایسا لگتا ہے

تاریکیوں کے

لرزتے ہوئے پل کو

میں پار کرتی چلی جا رہی ہوں

یہ پل ختم ہونے کو ہے

اور اب

اس کے آگے

کہیں روشنی ہے

***     ***     ***

Fehmida Riaz2

کب تک مجھ سے پیار کرو گے

کب تک؟

جب تک میرے رحم سے بچے کی تخلیق کا خون بہے گا

جب تک میرا رنگ ہے تازہ

جب تک میرا انگ تنا ہے

پر اس کے آگے بھی تو کچھ ہے

وہ سب کیا ہے

کسے پتہ ہے

وہیں کی ایک مسافر میں بھی

انجانے کا شوق بڑا ہے

پر تم میرے ساتھ نہ ہوگے تب تک 

Fehmida riyaz Kya tum chand na dekho ge 1

Kab tum mujhko yaad karoge? September 23, 2018

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Nazm, Poetry, Shairy, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags: , , , , , , , ,
add a comment

Kab tum mujhko yaad

Butterfly pink 2Thanks 15

Waqt ke uljhe uljhe dhaage

Jab dil tor kar chal deinge

Pag’dandi par peele pat’tey tumko tanha dekheinge

Perron ke seene par likhe naam bhi ho jayein tehleel

Aur hawa bhi simt ko apni kar jaye tabdeel

Bheeni bheeni khushbo humko har ik gaam pukare gi

Kar ke yakh’basta jab humko barf us paar sudhare gi

Dhoop sada’on ke sikke jab kanon mein khankae gi

Garja ghar ki oonchi burji chand ka chehra choome gi

Baarish, muskanon ke moti pat’ther par jab phorey gi

Aur barasti bondon ke dharon par dhaare jore gi

Garm garm angaaron jaise aansoo aankh se ubleinge

Dil ke armaan ik muddat ke baad tarap kar niklenge

Jab ehsaas ki dunya mein phir aur na ghungroo chan’kenge

Sirf khamoshi goonje gi tab aane wale mausam ki

Khirki par dastak na hogi kisi sureeli rim jhim ki

Shaam ke sanat’te mein badan par coat tumhara jhoole ga

Yaadon ka lams ta’tole ga ghor udaasi choo le ga

Oonchi oonchi baaton se tum khamoshi mein shor karogey

Geet purane sun kar thandi saansein bhar kar bhor karogey 

Us pal shab ki tanhai  mein apne dil ko shaad karogey

Bolo, mujhko yaad karoge…?

 

Rasa Chughtai رسا چغتائی چل بسے January 6, 2018

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Ghazal, Kavita, Mushaira, Nazm, Poetry, Shairy, Sher, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags: , , , ,
add a comment

نام مرزا محتشم علی بیگ اور رسا تخلص,۔ ۱۹۲۸ء میں سوائے مادھوپور، ریاست جے پور میں پیدا ہوئے۔۱۹۵۰ء میں ہجرت کرکے پاکستان آئے ۔مختلف اداروں میں ملازم رہے۔روزنامہ ’حریت ‘ کراچی سے بھی وابستہ رہے۔ حضرت بینش سلیمی سے تلمذ حاصل ہے۔حکومت پاکستان نے ان کے ادبی خدمات کے اعتراف میں ۲۰۰۱ء میں انھیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’ریختہ‘، ’زنجیر ہمسائیگی‘، ’تصنیف‘، ’چشمہ ٹھنڈے پانے کا‘، ’تیرے آنے کا انتظار رہا‘۔

رسا چغتائی
Rasa Chughtai Poet

آہٹیں سن رہا ہوں یادوں کی

آج بھی اپنے انتظار میں گم

💜

جنوں کیسا کہاں کا عشق صاحب

‎میں اپنے آپ ہی میں مبتلا ہوں

💜

ترے نزدیک آ کر سوچتا ہوں

میں زندہ تھا کہ اب زندہ ہوا ہوں

💜

حال دل پوچھتے ہو کیا تم نے

ہوتے دیکھا ہے دل اداس کہیں

💜

جن آنکھوں سے مجھے تم دیکھتے ہو

میں ان آنکھوں سے دنیا دیکھتا ہوں

خدا جانے مری گٹھری میں کیا ہے

نہ جانے کیوں اٹھائے پھر رہا ہوں

یہ کوئی اور ہے اے عکس دریا

میں اپنے عکس کو پہچانتا ہوں

نہ آدم ہے نہ آدم زاد کوئی

کن آوازوں سے سر ٹکرا رہا ہوں

مجھے اس بھیڑ میں لگتا ہے ایسا

کہ میں خود سے بچھڑ کے رہ گیا ہوں

جسے سمجھا نہیں شاید کسی نے

میں اپنے عہد کا وہ سانحہ ہوں

نہ جانے کیوں یہ سانسیں چل رہی ہیں

میں اپنی زندگی تو جی چکا ہوں

جہاں موج حوادث چاہے لے جائے

خدا ہوں میں نہ کوئی ناخدا ہوں

جنوں کیسا کہاں کا عشق صاحب

میں اپنے آپ ہی میں مبتلا ہوں

نہیں کچھ دوش اس میں آسماں کا

میں خود ہی اپنی نظروں سے گرا ہوں

طرارے بھر رہا ہے وقت یا رب

کہ میں ہی چلتے چلتے رک گیا ہوں

وہ پہروں آئینہ کیوں دیکھتا ہے

مگر یہ بات میں کیوں سوچتا ہوں

اگر یہ محفل بنت عنب ہے

تو میں ایسا کہاں کا پارسا ہوں

غم اندیشہ ہائے زندگی کیا

تپش سے آگہی کی جل رہا ہوں

ابھی یہ بھی کہاں جانا کہ مرزاؔ

میں کیا ہوں کون ہوں کیا کر رہا ہوں

💜رسا چغتائی

جن آنکھوں سے مجھے تم دیکھتے ہو

میں ان آنکھوں سے دنیا دیکھتا ہوں

💜

اور کچھ یوں ہوا کہ بچوں نے

چھینا جھپٹی میں توڑ ڈالا مجھے

💜

اس گھر کی ساری دیواریں شیشے کی ہیں

لیکن اس گھر کا مالک خود اک پتھر ہے

💜

ترے نزدیک آ کر سوچتا ہوں

میں زندہ تھا کہ اب زندہ ہوا ہوں

💜

اٹھا لایا ہوں سارے خواب اپنے

تری یادوں کے بوسیدہ مکاں سے

رسا چغتائی 💜

ہے لیکن اجنبی ایسا نہیں ہے

وہ چہرہ جو ابھی دیکھا نہیں ہے

بہر صورت ہے ہر صورت اضافی

نظر آتا ہے جو ویسا نہیں ہے

اسے کہتے ہیں اندوہ معانی

لب نغمہ گل نغمہ نہیں ہے

لہو میں میرے گردش کر رہا ہے

ابھی وہ حرف جو لکھا نہیں ہے

ہجوم تشنگاں ہے اور دریا

سمجھتا ہے کوئی پیاسا نہیں ہے

عجب میرا قبیلہ ہے کہ جس میں

کوئی میرے قبیلے کا نہیں ہے

جہاں تم ہو وہاں سایہ ہے میرا

جہاں میں ہوں وہاں سایہ نہیں ہے

سر دامان صحرا کھل رہا ہے

مگر وہ پھول جو میرا نہیں ہے

مجھے وہ شخص زندہ کر گیا ہے

جسے خود اپنا اندازہ نہیں ہے

محبت میں رساؔ کھویا ہی کیا تھا

جو یہ کہتے کہ کچھ پایا نہیں ہے

ڈیئر غالب، سالگرہ مبارک December 29, 2017

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Ghazal, Mirza Ghalib, Poetry, Shairy, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
1 comment so far

غالب کی دلی میں اردو کی حالتِ زار

ویسے فیس بک پر تو میں نے اُسی روز گلی قاسم جان، کوچہ بَلّی ماراں، پرانی دلی میں واقع آپ کی حویلی کے صدر دروازے پر کھینچی ہوئی اپنی تصویر پوسٹ کر دی تھی۔ آپ کی تاریخ پیدائش یعنی 27 دسمبر 1797 کا بھی ذکر کر دیا تھا اور یہ بھی کہ ’ریختہ کے استاد’ کو پیدا ہوئے 220 سال ہو چکے ہیں۔ 

Ghalib 1

غالب کی ۱۰۰ ویں برسی کے موقع پر متحدہ پاکستان میں جاری کردہ پندرہ پیسے مالیت کا جاری کردہ ایک یادگار ٹکٹ جس کا نمونہ غالب کی حویلی میں آویزاں ہے۔

ویسے کیا آپ نے کبھی اپنی سالگرہ منائی؟ یا اس زمانے میں ہیپی برتھ ڈے، سالگرہ مبارک اور جنم دن کی شُبھ کامناؤں کا رواج نہیں تھا، آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ کہاں اردو، کہاں اسد اللہ خان غالب کی زبان اور کہاں یہ آفریدی پٹھان۔

ہوا یہ کہ اِسی موسمِ خزاں میں بی بی سی اردو کے وظیفے پر ولایت (لندن) سے آپ کے شہر دِلی گیا تھا تاکہ وہاں ہندی والوں سے ڈِیجیٹل میڈیا کی تربیت حاصل کروں۔۔۔اوہ ہو، آپ دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں گے کہ آخر کو ہے نا پٹھان، خالص اردو میں بھی انگریزی اصطلاحوں کی آمیزش کر ڈالی۔

Ghalib 1
غالب کی مہر کا عکس

آپ تو خیر فورٹ وِلیئم کالج میں استاد کی نوکری ٹھکرا کر وہاں سے اس لیے لوٹ آئے تھے کہ انگریز پرنسپل یعنی صدر مدرس آپ کے استقبال کے لیے کالج کے دروازے پر موجود نہیں تھا۔ مگر انگریز ہندوستان ہی میں نہیں دنیا بھر میں ایسی چھاپ چھوڑ گئے ہیں کہ انگریزی الفاظ ہر زبان کا حصہ بن گئے ہیں۔ ہندی بولنے والوں نے بعض انگریزی اصطلاحوں کے ہندی متبادل اختراع کیے مگر سچ یہ ہے کہ سننے میں مضحکہ خیز سے لگتے ہیں۔

اردو والوں نے یہ کہہ کر کہ ‘اردو کا دامن بڑا وسیع ہے’، دھڑا دھڑ ان ولایتی الفاظ کو سمو لیا۔ ویسے بھی جن انگریزی الفاظ کا اردو متبادل ہے بھی ان میں سے بھی بعض کانوں کو بھلے نہیں لگتے۔ مثلاً لبلبے کو انگریزی میں ‘پینکرِیاس’ کہتے ہیں۔ خدا لگتی کہیے صوتی اعتبار سے آپ کو کونسا لفظ بھایا؟

ارے آپ تو ویب سائٹ، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، سمارٹ فون، سیلفی، فیس بُک، پوسٹ، بی بی سی، ڈیجیٹل اور میڈیا سے بھی مانوس نہیں۔ صرف آپ کے لیے میں ان کا بالترتیب لفظی ترجمہ کرنے کی جسارت کر رہا ہوں: جالا مقام، برقیاتی شمارکنندہ، بین الجال، ذہین آلۂ سماعت، خودعکسی، چہرہ کتاب، چسپی، فرنگی نشریاتی ادارہ، ہندسئی، وسلیہ۔

ان کے بعض اشعار کو اردو کے ساتھ ہندی میں بھی لکھا گیا ہے جب کہ انگریزی میں شعر کا مفہوم بیان کیا گیا ہے

مان گئے نا آپ بھی کہ ترجمے سے اصل فصیح تر ہے۔ ویسے اردو اور انگریزی کے ملاپ سے بننے والی زبان کو بعض لوگ ‘اُردریزی’ کہتے ہیں۔ برا مت مانیے گا آپ کے شہر دلی میں بھی اردو کا حال بے حال ہے۔ 

Ghalib ki poshaak
غالب کی پوشاک

بات ہو رہی تھی آپ کی سالگرہ اور آپ کی حویلی پر میری حاضری کی۔

آپ کے شہر کے تاریخی آثار اور سلاطینِ دلی کی قبریں دیکھنے کے علاوہ میں نظام الدین اولیا، امیرخُسرو، بختیار کاکی اور مٹکا پیر کے مزاروں کو بھی دیکھنے کی غرض سے گیا۔

گزر تو آپ کی آخری آرام گاہ کے پاس سے بھی دو مرتبہ ہوا۔ مگر بقول شخصے آپ نے ‘حاضری’ کی اجازت نہیں دی۔ کیونکہ مجاور سورج ڈوبتے ہی آپ کی قبر کے احاطے کو مقفل کر دیتا تھا۔ خیر، میں جہاں بھی جاتا وہاں کی تصاویر فیس بک پر پوسٹ کر دیتا۔

غالب پسِ مرگ کسی مصور کی آنکھ سے
غالب پسِ مرگ کسی مصور کی آنکھ سے

اب پالکی کا زمانہ تو رہا نہیں، اس لیے چاندنی چوک سے آپ کی حویلی کے لیے سائیکل رکشا لیا۔ مگر رکشابان نے آدھے راستے میں یہ کہہ کر اتار دیا کہ آگے سڑک پر گاڑیوں کا ازدحام ہے لہذا پیدل جانا بہتر ہوگا۔ آپ کی گلی کا پوچھتے پوچھتے آپ کی دہلیز پر پہنچ گیا۔

غالب کی شادی تیرہ برس کی عمر میں ہوگئی تھی
غالب کی شادی تیرہ برس کی عمر میں ہوگئی تھی

حکومتِ ہند نے بائیس سال پہلے عوامی دباؤ میں آکر حویلی کو ہیٹر (گرمالہ) بنانے والوں سے خالی کروا کر اِسے قومی وِرثہ قرار دیدیا تھا۔ ویسے آدھے حصے میں اب بھی کوئی ‘رقیبِ روسیا’ دفتر لگائے بیٹھا ہے۔

حکومت نے غالب کی حویلی سے ہیٹر بنانے والوں کو نکال کر اسے قومی ورثے کا درجہ دیدیا ہے
حکومت نے غالب کی حویلی سے ہیٹر بنانے والوں کو نکال کر اسے قومی ورثے کا درجہ دیدیا ہے

آپ کو یہ سن کر دکھ ہوگا کہ حویلی کی حالت زیادہ اچھی نہیں۔ آپ کی کچھ یادگاریں محفوظ تھیں۔ گرد میں اٹے اشعار کے طُغرے دیواروں پر آویزاں تھے۔ گھر اور دشت کی ویرانی میں مماثلت پیدا کر کے اپنی حویلی کی بے رونقی کا اقرار تو آپ اپنی زندگی ہی میں کر چکے تھے۔

غالب کی حویلی کے ایک حصے میں _سفری انصرام کے گماشتے‘ دفتر اور کاغذات کی نقول بنانے والی کی دکان
غالب کی حویلی کے ایک حصے میں ’سفری انصرام کے گماشتے‘ دفتر اور کاغذات کی نقول بنانے والی کی دکان

ستم یہ ہے کہ جس شعر میں آپ نے اس ویرانی کا ذکر کیا ہے اس کے مِصْرَعِ ثانی میں کسی ستم ظریف نے تصرف کر کے اسے الٹا کر دیا ہے۔ یعنی ‘دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا’ کی بجائے ‘گھر کو دیکھ کے دشت یاد آیا’ لکھ دیا ہے۔ستم بالائے ستم یہ کہ ہندی رسم الخط میں بالکل صحیح طور سے نقل کیا گیا ہے۔ جبکہ اس کا انگریزی ترجمہ بھی اصل شعر کے خاصا قریب ہے۔ اپنی بات کا یقین دلانے کے لیے میں تصویر بھی ساتھ لایا ہوں۔ یہ دیکھیے!

کاش غالب کے شعر کے ساتھ ان ہی کی حویلی میں ایسی زیادتی نہ ہوتی
کاش غالب کے شعر کے ساتھ ان ہی کی حویلی میں ایسی زیادتی نہ ہوتی

آپ تو خیر انتہائی کمزور مغل فرمانروا بہادر شاہ ظفر کے مصاحب تھے۔ دلی والوں نے تو ایک سڑک کی لوح پر شہنشاہ اکبر اعظم کا نام بھی الٹا لکھ دیا ہے۔ اور یہ سب ایسے میں ہو رہا ہے کہ دلی میں آپ کی قبر کے ساتھ ہی غالب اکیڈیمی قائم ہے اور اب تو شہر میں جشنِ ریختہ کا اہتمام بھی باقاعدگی سے ہونے لگا ہے۔

کیا اکبر روڈ کے اکبر کو کسی نے غور سے نہیں دیکھا

کیا اکبر روڈ کے اکبر کو کسی نے غور سے نہیں دیکھاجو ‘چند تصویر بتاں، کچھ حسینوں کے خطوط’ بعد مرنے کے آپ کے گھر سے نکلے، ان کا وہاں کوئی سراغ نہ تھا۔ ہو سکتا ہے اسی کوتوالِ شہر کی شرارت ہو جو نواب جان کے دل میں آپ کے لیے محبت کی وجہ سے آپ کا عدو بن گیا تھا۔

ذکر حویلی کی ویرانی کا ہو رہا تھا۔ میں پہنچا تو وہاں ایک گارڈ (دربان) موجود تھا۔ کچھ دیر بعد ایک نوجوان نے اندر کی کچھ تصاویر بنائیں۔ پھر دو ادھیڑ عمر افراد آئے۔ نام یاد نہیں مگر ایک ہندو تھا دوسرا سِکھ۔ تعارف کے بعد بتایا کہ آس پاس ہی رہتے ہیں اور انھیں اردو پڑھنا نہیں آتی مگر کبھی کبھار اس عظیم شاعر (یعنی آپ) کی حویلی کا چکر لگا لیتے ہیں۔

ویلی میں رکھا دیوانِ غالب کا بوسیدہ نسخہ
حویلی میں رکھا دیوانِ غالب کا بوسیدہ نسخہ

ان صاحبانِ ذوق سے ملاقات کے بعد جس چیز نے مجھے ورطۂ حیرت میں ڈالا وہ تھی آپ کی حویلی میں دو مزید پٹھانوں کی موجودگی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ افغانستان کے صوبے لغمان سے ہندوستان کسی کام سے آئے تھے اور اگلے روز واپسی سے پہلے مرزا غالب کی حویلی دیکھنے آئے ہیں۔

بحیثیتِ شاعر دوسروں نے غالب کا لوہا مانا ہے
بحیثیتِ شاعر دوسروں نے غالب کا لوہا مانا ہے

بحیثیتِ شاعر دوسروں نے تو غالب کا لوہا مانا ہی ہے، انھیں بھی اپنی عظمت کا بخوبی احساس تھا

گویا سوات کے ایک پٹھان کی فرمائش پر، تیراہ کا ایک پٹھان آپ کی حویلی جاتا ہے اور وہاں دو افغان پٹھانوں سے ملاقات ہوتی ہے

استاد ذوق نے تو آپ کی قدر نہیں کی مگر شاید اب وہ گلشن آباد ہو گیا ہے جس کا ذکر آپ نے کیا تھا: ‘میں عندلیبِ گلشنِ ناآفریدہ ہوں’

Kehte Hain Ke Ghalib Ka Hai Andaaz E Bayaan Aur

Kehte Hain Ke Ghalib Ka Hai Andaaz E Bayaan Aur

فقط۔۔۔آپ کے دَرَجات کی بلندی کے لیے دعا گو۔۔۔۔ تحریر: عمر آفریدی

گل از رخت آموخته نازك بدني را – مولانا جامی November 30, 2017

Posted by Farzana Naina in Kavita, Nazm, Poetry, Shairy, Urdu Shairy.
Tags: , , ,
add a comment

گل از رخت آموخته نازك بدني را

پھول نے نزاکت کا سبق آپ سے لیا ہے  

بلبل ز تو آموخته شيرين سخني را

بلبل نے شیریں نغمگی آپ سے سیکھی

هر كس كه لب لعل ترا ديد، به خود گفت

جس کسی نے تیرے لبوں کو دیکھا اس نے دل میں کہا

حقا كه چه خوش كنده عقيق يمني را

کیا ہی خوبصورت تراشا ہوا یمنی عقیق ہے

خياط ازل دوخته بر قامت زيبات

خیاط ازل نے تیری خوش قامتی پر

بر قد تو اين جامه ي سبز چمني را

تیرے قد کے موافق خوب سبز لباس بنایا ہے

در عشقِ تو دندان شکستند به الفت

تیرے عشق میں اپنے دانت جب انہوں نے تڑوائے

تو نامه رسانید اویس قرني را

تو آپ نے اویس قرنی کے نام نامہ بھیجا

از جامؔی بيچاره رسانيدہ سلامی

بر درگه دربار رسول مدني را

مجبور جامی کی طرف سے سلام پہنچاؤ رسول مصطفی کے حضور۔

سید مصطفیٰ حسین زیدی October 15, 2017

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Ghazal, Kavita, Nazm, Poetry, Shairy, Sher, Urdu Poetry.
Tags: , , ,
add a comment

سید مصطفیٰ حسین زیدی کی پیدائش 10 اکتوبر 1930ء کو ایک متمول خاندان میں ہوئی تھی ان کے والد سید لخت حسین زیدی سی آئی ڈی کے ایک اعلیٰ افسر تھے۔ مصطفیٰ زیدی بے حد ذہین طالب علم تھے۔ الہ آباد یونیو رسٹی سے انہوں نے گریجویشن کیا تھا اور صرف 19 سال کی عمر میں ان کا شعری مجموعہ ”موج مری صدف صدف“ کے عنوان سے شائع ہوا تھا جس کا دیباچہ فراق گورکھپوری نے لکھا تھا اور فراق صاحب نے ان کی شکل میں ایک بڑے شاعر کی پیش گوئی کی تھی۔ کسی حد تک تو یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی لیکن بے وقت موت نے ان کا شعری سفر اچانک ختم کر دیا۔ چالیس سال کی زندگی میں ان کے چھہ مجموعے شائع ہوئے۔ ان کے مرنے کے بعد ان کی کلیات شائع ہوئی۔ شروع میں وہ تیغ اللہ آبادی تخلص کرتے رہے۔

مصطفیٰ زیدی 1951ء میں کراچی چلے گئے تھے۔ کچھہ دن وہ اسلامیہ کالج پشاور میں بطور استاد تعینات رہے۔ وہاں سے نکالے گئے ۔ پھر انہوں نے سی ایس پی کا امتحان دیا جس میں کامیابی حاصل کی اور اہم عہدوں پر کام کیا۔ آزادیِ فکر کا گلا گھونٹے جانے کی باز گشت ان کے اشعار میں سنی جا سکتی ہے۔

جس دن سے اپنا طرزِ فقیرانہ چھٹ گیا

شاہی تو مل گئی دلِ شاہانہ چھٹ گیا

جنرل یحییٰ خاں کے عتاب کے بھی شکار ہوئے اور یحییٰ خاں نے جو 303 افسران کی ہٹ لسٹ تیار کر رکھی تھی اس میں مصطفیٰ زیدی کا نام بھی تھا مگر فوجی آمر سے قبل وہ کسی بڑی سازش کا شکا ر ہو گئے اور اس کا سبب بنی گوجرانوالہ کی ایک شادی شدہ خاتون ایک خاتون شہناز گل، جس کے باعث مصطفیٰ زیدی کو اپنی زندگی سے ہاتھہ دھونا پڑے۔

ان کی لاش 12 اکتوبر 1970ء کو کراچی میں ان کے دوست کے بنگلے سے ملی ۔ جس پر بعد میں تحقیقاتی کمیشن بھی بنا تھا اور مقدمہ عدالت میں بھی گیا۔ یہ مقدمہ اخبارات نے اس قدر اچھالا کہ مہینوں تک اس پر دھواں دھار بحث ہوتی رہی۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ یہ قتل نہیں بلکہ خودکشی تھی اور شہناز گل کو بری کر دیا۔

میں کس کے ہاتھہ پہ اپنا لہو تلاش کروں

تمام شہر نے پہنے ہوۓ ہیں دستانے

شہناز گل کے لیے مصطفیٰ زیدی نے کئی غزلیں اور نظمیں کہی تھیں جن میں یہ شعر بہت مشہور ہے:

فنکار خود نہ تھی مرے فن کی شریک تھی

وہ روح کے سفر میں بدن کی شریک تھی

مصطفیٰ زیدی کو جس درد و کرب سے گزرنا پڑا اس کی باز گشت ان کی غزلوں کے اشعار میں سنائی دیتی ہے۔ خاص طور پر ان کی مشہور غزل میں تو یہ کرب بار بار اتر آتا ہے:

کسی اور غم میں اتنی خلشِ نہاں نہیں ہے

غمِ دل مرے رفیقو غمِ رائیگاں نہیں ہے

کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی ہم زباں نہیں ہے

فقط ایک دل تھا اب تک سو مہرباں نہیں ہے

مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو

مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے

کسی آنکھہ کو صدا دو کسی زلف کو پکارو

بڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سائباں نہیں ہے

انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آسکو تو آؤ

مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

مصطفیٰ زیدی ، جوش ملیح آبادی سے متاثر تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی شاعری میں جوش جیسی گھن گرج نہیں ہے۔ لیکن زیدی نے بھی کربلا کے استعارے کو بہت خوبصورتی سے استعمال کیا ہے:

ایسی سونی تو کبھی شامِ غریباں بھی نہ تھی

دل بجھے جاتے ہیں اے تیرگیِ صبح وطن

میں اسی کوہ صفت خون کی ایک بوند ہوں جو

ریگ زارِ نجف و خاکِ خراساں سے ملا

جدید غز ل کی تشکیل میں مصطفیٰ زیدی کا بہت اہم حصہ ہے اور ان کے شعری مجموعے موج مری صدف صدف، شہرِ آرزو،زنجیریں، کوہِ ندا اور قبائے ساز اردو کے شعری ادب میں اضافہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

کچھہ اور شعر:

غمِ دوراں نے بھی سیکھے غم جاناں کے چلن

وہی سوچی ہوئی چالیں وہی بے ساختہ پن

وہی اقرار میں انکار کے لاکھوں پہلو

وہی ہونٹوں پہ تبسم وہی ابرو پہ شکن

حدیث ہے کہ اصولاَ گناہ گار نہ ہوں

گناہ گار پہ پتھرسنبھالنے والے

خود اپنی آنکھہ کے شہتیر کی خبر رکھیں

ہماری آنکھہ سے کانٹے نکالنے والے

اب تو چبھتی ہے ہوا برف کے میدانوں کو

ان دنوں جسم کے احساس سے جلتا ہے بدن

مجھہ کو اس شہر سے کچھہ دور ٹھہر جانے دو

میرے ہم راہ میری بے سرو سامانی ہے

اس طرح ہوش گنوانا بھی کوئی بات نہیں

اور یوں ہو ش میں رہنے میں بھی نادانی ہے

طالب دستِ ہوس اور کئی دامن تھے

ہم سے ملتا جو نہ یوسف کے گریباں سے ملا

لوگوں کی ملامت بھی ہےِ خود درد سری بھی

کس کام کی اپنی یہ وسیع النظری بھی

کیا جانیئے کیوں سست تھی کل ذہن کی رفتار

ممکن ہوئی تاروں سے مری ہم سفری بھی

میں کس کےہاتھہ پہ اپنا لہو تلاش کروں

تمام شہرنے پہنے ہوۓ ہیں دستانے

Mustafa Zaidi and Sheeren Gul 1Mustafa Zaidi and Sheeren Gul 2

Lakeeron se nikal-لکیروں سے نکل کر July 27, 2017

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Ghazal, Ghazal, Kavita, Nazm, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Sufi Poets, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
add a comment

Golden bar 1

لکیروں سے نکل کر ہاتھ کی مجھ کو بلائے گی

یہ قسمت وَجد میں آئی تو خود مجھ کو بنائے گی

 

مِری آنکھوں میں سارے خواب اُس کے روٹھنے تک تھے

مِرا شک ٹھیک نکلا ‘ زندگی مجھ کو رلائے گی

 

مِرے ہونٹوں پہ اب تک تتلیوں سی مسکراہٹ ہے

مجھے ڈر لگ رہا ہے’ ایک دن یہ اُڑنے جائے گی

 

بہت سی شمعیں سینے میں اگر جلتی رہیں تو پھر

مری آنکھوں سے تھوڑی روشنی باہر بھی آئے گی

 

ذرا سی روشنی کے بعد چکّر تیرگی کا ہے

اگر تو اک نئی تصویر پر نظریں جمائے گی

 

خود اپنی زندگی سے کیوں نکل جاتی ہوں میں ‘ نیناںؔ !

مِری لا حاصلی کے درد قدرت ہی مٹائے گی

 

( فــرزانـہ نیناںؔ ) 

Golden rose Bar
Lakeeron se nikal kar haath ki, mujhko bulaye gi
Ye qismat wajd mein aayi tau khud mujhko banaye gi
 
Meri aankhon mein saare khwab uske roothne tak thay
Mera shak theek nikla zindagi mujhko rulaye gi
 
Mere honton pe ab tak titliyon si muskurahat hai
Mujhe darr lag raha hai eik din ye ur’rne jaye gi
 
Bohut si shamein seene mein agar jalti rahein tau phir
Meri aankhon se thori roshni bahar bhi aaye gi
 
Zara si roshni ke baad chakker teergi ka hai
Agar tu ik nai tasweer par nazrein jamaye gi
 
Khud apni zindagi se kyon nikal jati hon mein naina
Meri la’haasili ke dard qudrat hi mitaye gi
 

butterfly-yellow-sl~ Farzana Naina.butterfly-yellow-sl

0aa1ec07c2d7e0ad0eb9ef5e7005bff3