jump to navigation

Spy Princess Noor Inayat Khan April 9, 2014

Posted by Farzana Naina in Poetry.
Tags: , ,
1 comment so far

ٹیپو سلطان کی پوتی اوردوسری جنگ عظیم

Spy Princess Noor Inayat Khan

Spy Princess Noor Inayat Khan

بشکریہ:خرم سہیل منگل 8 اپريل2014

ایک حسین عورت جس کے نرم ہاتھوں کی انگلیاں ستار بجاتی تھیں، کیا اس کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے، اسے دشمن فوج کے ہاتھوں قتل کیا جائے گا مگر ایسا ہوا، تاریخ ہمیں اس کی کہانی سناتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں جب جرمنی کے نازیوں نے فرانس پر قبضہ کیا، تو برطانیہ نے دشمن پر نظر رکھنے اور خفیہ اطلاعات حاصل کرنے کے لیے اس عورت کو جاسوس بناکر فرانس کے مقبوضہ علاقے میں بھیجا تاکہ وہ انھیں دشمن کی خبریں دے سکے۔
نازیوں کے مقبوضہ علاقوں میں بھیجی جانیوالی یہ پہلی خاتون بھی تھی جسے ونسٹن چرچل کے اعلیٰ خصوصی مشن کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس مشن کے دوران دشمن نے اسے دھر لیا اور کوشش کی گئی کہ وہ سارے راز اگل دے مگر اس نے ایک لفظ تک منہ سے نہ نکالا۔ گرفتاری کے بعد اسے جرمنی کے جس کیمپ میں قید رکھا گیا تھا وہیں اس کے سر پر گولی ماردی گئی۔ اس بہادر عورت کا نام ’’نورالنساء عنایت اﷲ خان‘‘ تھا۔
30برس کی عمر میں موت کو اپنی ہمجولی بنانے والی اس خاتون کا پس منظر ہی ایسا تھا کہ یہ موت سے ڈرنے والی نہیں تھی۔ اس کا آبائی تعلق شہنشاہ میسور ’’ٹیپو سلطان‘‘ سے تھا۔ اس کے ذہن میں اپنے اجداد کی یہ بات بھی شاید تروتازہ تھی کہ ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔‘‘ یہی وجہ تھی کہ اس نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور کسی خوف کو اپنے اوپر طاری نہیں ہونے دیا۔نورالنساء عنایت اﷲ خان چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی۔ روس کے شہر ماسکو میں پیدا ہوئی۔ اس کے والد عنایت اﷲ خان درویش صفت انسان تھے۔ انھیں ورثے میں صوفی تعلیم ملی۔ پہلی جنگ عظیم سے کچھ عرصہ پہلے یہ خاندان روس سے ہجرت کرکے برطانیہ چلا گیا۔ 1920 میں وہاں سے بھی ہجرت کرکے فرانس آباد ہوا۔ نور کے والد عنایت اﷲ خان کا جب انتقال ہوا تو وہ اور اس کے بہن بھائی کم عمر تھے۔ بوڑھی ماں اور چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمے داری نور کے نازک کاندھوں پر آن پڑی۔
یہ وہ زمانہ تھا جب نو رکی آنکھوں میں کچھ خواب تھے، وہ زندگی کو اپنے انداز میں گزارنا چاہتی تھی۔ وہ کم گو اور شرمیلی تھی۔ فرانس میں رہتے ہوئے اس نے کچھ عرصہ مغربی اور مشرقی موسیقی کی تربیت بھی حاصل کی۔ ستار سے اس کو بے حد لگاؤ تھا۔ شاعری سے لکھنے کی ابتدا کی، بچوں کے رسالوں میں کہانیاں لکھنے لگی اور ریڈیو سے بھی خود کو وابستہ کیا۔ 25 برس کی عمر میں اس کی پہلی کتاب ’’بیس جاتک کہانیاں‘‘ لندن سے شایع ہوئی۔ یہ مہاتما گوتم بودھ اور بودھ مت سے بہت متاثر تھی، یہی وجہ تھی کہ اس نے کچھ اس طرز کی کہانیاں لکھیں۔
1940 میں جب دوسری جنگ عظیم کی ابتدا ہوئی اور اس سے فرانس متاثر ہونے لگا تو نورالنساء کا خاندان ساحلی راستے سے فرار ہوکر کسی نہ کسی طرح برطانیہ پہنچ گیا۔ حالات تبدیل ہوگئے اور شاید نور کی ترجیحات بھی، اسی لیے اس نے خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت کی سنگ دل دنیا میں قدم رکھا۔ وہ اپنے والد کی امن پسند اور صوفی سوچ سے بہت متاثر تھی، شاید اسی لیے اس نے نازیوں کے ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کا مصمم ارادہ کرلیا۔ اس نے عملی طور پر قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا اور رائل ایئر فورس میں آلات فراہم کرنے والی فوجی خواتین میں بھرتی ہوگئی، وائرلیس آپریٹر کی تربیت حاصل کی۔ دوسری جنگ عظیم میں بمباری کی تربیت دینے والی درسگاہ میں بھی اسے بھیجا گیا۔ اس نے اپنے شعبے میں مزید ترقی کے لیے کمیشن پاس کیا اور اسسٹنٹ سیکشن آفیسر کے عہدے تک جاپہنچی۔
نورالنساء عنایت اﷲ خان کا تبادلہ ونسٹن چرچل کے ’’اعلیٰ خصوصی مشنز‘‘ برائے فرانس میں ہوگیا۔ یہ برطانوی فضائیہ اور فرسٹ ایڈ نرسنگ کے شعبے میں بھی تبادلہ کرکے بھیجی گئی، اس دوران اسے کئی طرح کے تربیتی ادوار سے گزارا گیا۔ اس کے افسران کاخیال تھا اسے فرانسیسی زبان پر مکمل عبور ہے اور یہ ریڈیو جو اس جنگ میں بہت اہم آلہ تھا، اس کی ماہر ہے۔ لہٰذا اسے خفیہ ایجنٹ کے طور پر مقبوضہ فرانس بھیجنے کی تربیت دی جائے اور پھر اس خیال کو عملی جامہ پہنایا گیا۔
اس دوران اس نے اپنا نام نورالنساء عنایت اﷲ خان سے بدل کر فرضی نام ’’نوراباکر‘‘ رکھ لیا۔ نرس کے روپ میں یہ فرانس پہنچائی گئی۔ یہ وہی ملک تھا، جہاں کچھ عرصہ پہلے تک یہ اپنے خاندان کے ساتھ ایک عام لڑکی کی حیثیت میں زندگی بسر کررہی تھی۔ فرانس میں ڈاکٹروں اور نرسوں کے روپ میں جتنے جاسوس بھیجے گئے، وہ پہلے پکڑے گئے، نور گرفتار ہونے سے بچ گئی۔ وہاں اس نے اپنا خفیہ نام ’’میڈلن‘‘ رکھا۔ وہ اس علاقے کے خطرات کو بھانپ چکی تھی اور واپس لندن آنا چاہتی تھی مگر اسے فرانس میں رک کر برطانیہ کے لیے معلومات بھیجتے رہنے کا کہا گیا۔ وہ اکیلی تھی مگر اس نے اپنا فرض پوری طرح سے نبھایا۔ وہ مستقل بنیادوں پر مقامات بدل بدل کر برطانیہ پیغام بھیجتی رہی۔ اس عرصے میں برطانیہ اور فرانس کے درمیان نور ہی واحد رابطہ تھی۔ نازی فوج کو اس نے تگنی کا ناچ نچایا اور آخرکار 1943 میں فرانس کے ایک مقام سے گرفتار ہوئی۔ نازی فوجی اس سے کچھ نہ اگلوا سکے، البتہ ان کے ہاتھ نور کی وہ ڈائری لگی، جس میں ترسیل شدہ معلومات کی تفصیل درج تھیں۔ نور اور اس کی تین دوسری خواتین ساتھیوں کو 13 ستمبر 1944 کو جرمنی کے ایک کیمپ میں گولی ماردی گئی۔
نورالنساء عنایت اﷲ خان نے نہایت آبرومند انداز اپنایا اور اپنے ملک کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کیا۔ اسے برطانیہ اور فرانس کے اعلیٰ فوجی اعزازات سے نوازا گیا۔ ابھی حال ہی میں برطانیہ کے محکمہ ڈاک نے اس کی تصویر اور نام کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا ہے جسے منسوب کیا گیا اس عورت کے نام جو دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کی ہیروئن تھی اور جس نے فسطائیت کے خلاف لڑتے ہوئے دشمن کے نرغے میں جان دی۔ یہ ڈاک ٹکٹ ’’قابل ذکر زندگیاں‘‘ نامی سیریز کا ایک حصہ ہے، جس میں مزید نو اہم شخصیات کے نام اور تصویر کے ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔
فرانس میں تین مقامات پر اس کی یادگاریں موجود ہیں۔ فرانس کی وہ گلی جہاں کبھی نورالنساء رہاکرتی تھی، اس گلی کو زمانہ جنگ کے دور کے نام ’’میڈلن‘‘ سے منسوب کردیا گیا ہے لندن میں گارڈن اسکوائر کے گارڈن پارک میں بھی نور سے منسوب ایک یادگاری مجسمہ لگایا گیا۔ وہاں اس کے افتتاح کے موقع پر اس کی ایک پرانی ساتھی ’’آئرن وارنر‘‘ جس کی عمر اب 91 برس ہے، اس نے شرکت کی اور بھیگی پلکوں سے اس کو یاد کیا۔
نور کی شخصیت پر ایک بنگالی مصنفہ ’’شرابانی بھاسو‘‘ نے انگریزی میں ’’اسپائے پرنسز‘‘ کے نام سے نورالنساء عنایت اﷲ خان کی سوانح حیات لکھی۔ یہ وہی مصنفہ ہے جس کی کتاب ’’وکٹوریہ اور عبدل‘‘ بہت مشہور ہوئی تھی جس میں تاج برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ اور محل کے ایک مسلمان ملازم منشی عبدالکریم کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ نور پر ’’اینمی آف ریچ‘‘ نامی ٹیلی فلم بھی بنائی گئی جسے بے حد پسند کیا گیا۔ نور عنایت خان ٹرسٹ بھی بنایا گیا جس کے ذریعے امن کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کی ایک کوشش کی گئی۔ اس ٹرسٹ کی بانی وہی بنگالی مصنفہ شرابانی بھاسو ہیں۔ انھوں نے اس ٹرسٹ کو بنانے کے لیے دنیا بھر سے فنڈز اکٹھے کرنے کے لیے جدوجہد کی۔ 2011 میں ’’ہاؤس آف کامن‘‘ میں ایک ڈونرز ڈنر کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اس موقع پر برطانوی وزیراعظم نے بھی اپنا پیغام دیا۔ بھارت سے معروف فلمی ستارے عامر خان کی بیوی کرن راؤ نے بھی اس ٹرسٹ کو فنڈرز دیے۔لندن میں باغ میں نصب کیے گئے مجسمے کے اردگرد درختوں کے پتے ٹوٹ کر بکھرتے رہتے ہیں، اسی طرح جیسے نورالنساء کی زندگی سے ایک ایک کرکے لمحوں کے پتے ٹوٹ کر بکھرے تھے۔ غیرمنقسم ہندوستان کے مسلمان گھرانے کی اس بیٹی نے اپنے پردادا اور دادا کی طرح بہادی سے جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے وطن کی جنگ لڑی۔ کتنی عجیب بات ہے، ٹیپو سلطان فرانسیسی فوج کی حمایت میں انگریزی فوج کے ساتھ لڑے اورپوتی نے فرانسیسی اور انگریزی دونوں سرزمینوں کے لیے نازیوں سے لڑائی کی۔ نورالنساء چاہتی تھی کہ ایشیا کے مسلمانوں کا تشخص اجاگر ہو اور ہندوستان کو آزادی ملے، یہی وجہ ہے کہ اس کی فرض شناسی نے اس کا نام سنہری حروف میں لکھوایا۔ افسوس یہ ہے پاکستان سے اس بہادر بیٹی کے لیے کچھ نہیں لکھا اور کہا گیا، جب کہ یہ وہی جنگ تھی جس میں برصغیر کے مسلمان بھی انگریز کی طرف سے لڑے تھے، مگر تاریخ نے اسے زندہ رکھا ہوا ہے۔
میسور کی شہزادی اور لندن اور پیرس کی ہیروئن نورالنساء عنایت اﷲ خان سے جب آخری وقت میں پوچھا گیا کہ وہ کچھ کہنا چاہتی ہے، تو اس نے صرف ایک لفظ کہا، جو تھا ’’آزادی‘‘ اور پھر اسے آزاد کردیا گیا۔ وہ درد کی زندگی کا ساتھ چھوڑ گئی۔ فرانس کے شہر پیرس میں ’’فضل منزل‘‘ جہاں نور النساء نے اپنی زندگی کے خوبصورت دن بسر کیے تھے، وہاں اب بھی اداسی بال کھولے سو رہی ہے۔

Sughra Mehdi – صغریٰ مہدی April 3, 2014

Posted by Farzana Naina in Urdu, Urdu Literature.
Tags:
add a comment
Sughra Mehdi with Quratul Ain Haider

Sughra Mehdi with Quratul Ain Haider – “8 August 1938 – 17 March 2014”

(بشکریہ: زاہدہ حنا)
’’راگ بھوپالی‘‘ لکھنے والی صغریٰ مہدی اگست 1938ء کی آٹھویں تاریخ کو بھوپال میں پیدا ہوئیں۔ تعلیم دلی اور علی گڑھ میں ہوئی۔ ڈاکٹریٹ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے حاصل کی۔ انہوں نے کہانیاں اور ناول لکھے، سفر نامے تحریر کیے، ادبی تنقید کی کئی کتابیں ان کے قلم سے نکلیں۔ انہوں نے جید عالم ڈاکٹر عابد حسین اور ان کی افسانہ نگار، ناول نگار اور تحقیقی مضامین لکھنے والی شریکِ حیات صالحہ عابد حسین کے ساتھ زندگی گزاری اور گھر کے علمی، ادبی اور تہذیبی ماحول نے ان پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ 1973ء میں ان کا پہلا ناول ’’پابہ جولاں‘‘ اور 1975ء میں کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’’پتھر کا شہزادہ‘‘ شائع ہوا۔ ’’جو میرے وہ راجا کے نہیں‘‘ اور ’’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘‘ ان کے وہ افسانوی مجموعے ہیں جو بے حد مقبول ہوئے۔ ادب میں عورت کی حیثیت اور ہندوستانی سماج میں مسلمان عورت کا مقام ا ن کی دل چسپی کے خاص موضوعات تھے۔ ’’دور درشن‘‘ کے لیے انہوں نے دو ٹی وی سیریل لکھے، جن میں سے ایک ’’راگ بھوپالی‘‘ اور دوسرا صالحہ عابد حسین کے ناول ’’ساتواں آنگن‘‘ کی ڈرامائی تشکیل تھی۔
وہ ایک دوست دار اور دل دار شخصیت تھیں۔ پاکستانی ادیبوں کی وہ جس گرم جوشی سے مہمان داری کرتیں، وہ لوگوں کو تادیر یاد رہتی۔ ان سے میری نیاز مندی پچیس برس سے زیادہ پر محیط تھی۔ میں دو مرتبہ ان کے گھر ’’عابد ولا‘‘ میں ٹھہری لیکن زیادہ تر ہوٹلوں میں ٹھہرائی جاتی اور وہ ناراض ہوتیں ’’میرے گھر کیوں نہیں ٹھہرتیں؟‘‘ ان شکایتوں کے باوجود مجھ سے ملنے کبھی انڈیا انٹرنیشنل سینٹر، کبھی وائی ڈبلیو سی اے ہاسٹل اور کبھی اجے بھون آتیں، ہائے ہائے کرتیں، مجھے برا بھلا کہتیں لیکن آنا لازم تھا، مہینے میں ایک دو مرتبہ ان سے فون پر باتیں ہوتیں اور دونوں ملکوں کے تازہ ترین ادبی بلیٹن کا تبادلہ ہوتا۔ جب تک عینی آپا موجود تھیں، ہم ان کی اور ڈاکٹر عذرا رضا کی باتیں کرتے۔ کوئی ان باتوں کے دورانیے پر نظر کرتا تو یہی سمجھتا کہ دو نہایت دولت مند خواتین ہیں جو ٹیلی فون بل کا حساب لگائے بغیر گپ میں مصروف ہیں۔
قرۃ العین حیدر سے ان کی گہری قربت تھی۔ عینی آپا نے انہیں ’’مشیر خاص‘‘ کے عہدے پر فائز کر رکھا تھا اور اسی لیے وہ کبھی کبھی انہیں ’’مشیر فاطمہ‘‘ کے نام سے بھی یاد کرتیں۔ صغریٰ آپا جدید اردو افسانے کا ایک اہم نام تھیں۔ شہروں شہروں ملکوں ملکوں بلائی جاتیں اور ہر جگہ لوگ ان کے لیے آنکھیں بچھاتے۔ وہ رونقِ بزمِ جہاں تھیں۔ ان کے دم سے ادب کی دنیا اور دوستوں کی محفل میں اجالا تھا۔ یہ اجالا ہمارے درمیان سے 17 مارچ 2014ء کو اٹھالیا گیا۔ ’’عابد ولا‘‘ دلی میں ان کے ماتم دار رضا مہدی ہیں۔ وہ ان کی یاد کی شمعیں جلاتے رہیں گے۔
یہاں ان کا مختصر افسانہ ’’شہر آشوب‘‘ پیش کیا جارہا ہے۔ اسے پڑھیے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ اکثر شہروں اور بیشتر گھروں کی کہانی ہے۔ ہمارے من موہنے سماج کی بنت جس طرح ادھڑی اس کی تصویر کشی صغریٰ مہدی نے جس دل فگاری سے کی ہے، وہ ان کی فنی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

شہر آشوب: صغریٰ مہدی

دھندلے دھندلے سائے۔ جلدی جلدی بدلتی تصویریں۔ شور و غوغا، چہروں پر پریشانی، خوف، غصہ، دولت و اقتدار کا زعم، جان و مال کے محافظ لٹیرے اور قاتل، عزت و آبرو کے نگہبان، عزت و آبرو کے دشمن، عورتیں برہنہ، مرد درندہ بن گئے ہیں، بچے ڈپریشن کا شکار۔ نوجوانوں کی زندگی ایک بوجھ جسے سر سے اتارنے کو آمادہ، دینے والے کو لوٹانے کے لیے کوشاں۔
پیسہ ہر طرف پیسہ، جسے دیکھو اس کے پیچھے دوڑا جارہا ہے۔ جنگل کٹ گئے، مکانوں کا جنگل ہر طرف ہے۔ جدھر دیکھو بلند و بالا آسمان سے باتیں کرتی چمکتی دمکتی عمارتیں اور ان کے پیچھے گندے نالے جھونپڑپٹیاں، کھانستے کراہتے بوڑھے۔ آدمی ہی آدمی، سڑکوں پر ٹریفک، ہر طرح کی سواریاں، موٹر بسیں، ٹرک لوگوں کو کچلتے مارتے، جانیں انسانی جانیں، ارزاں اتنی کہ کوئی بھی چیز اب تنی سستی نہیں ہے۔ ہر ہاتھ میں خنجر، مذہب لوگوں کو ستانے کا ذریعہ، تہوار موت اور تباہی کا پیغام، کرسیاں ہی کرسیاں، ان سے چپکے عیار اور مکار لوگ۔ گھر سنسان جیلیں آباد، کھوکھلے دعوے، فلاحی انجمنیں کھانے کمانے کا ذریعہ، کرسیوں تک پہنچنے کے لیے غریبوں کی خدمت کے مکھوٹے، نئی نئی ایجادیں بدنام ترقی، دراصل تنزل اور تباہی کا سامان۔
نئی نئی بیماریاں، نت نئی دوائیں، ایک دن ان کے فائدے دوسرے دن ان کے نقصانات اور نئی دوائوں کے فائدے ساتھ میں مضر اثرات کی چیتاونی۔ ان سے بچائو کے طریقے۔ تعلیمی ادارے فیکٹریوں میں تبدیل، بدعنوانی کا بول بالا، عیاشیاں بدکاریاں بدنام فرد کی آزادی، تعمیر کے نام پر تخریب، ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی، اب آبروئے اہل نظر، اہل نظر؟ ہے کوئی اہل نظر؟ اے رب العزت ہمیں یہ کون سا دور ملا ہے۔ ناانصاف منصف، جاہل، عالم، دھوکے باز، عیاراور دانشور، ہر تک بند شاعر اعظم، ڈگریاں جعلی، اعزاز ڈھونگ انعام دھوکا۔ ہر جھوٹا ’’ان الحق‘‘ کہہ کر خود کو منصور کہلانے پر مُصر۔ گائوں ویران ہوئے، شہر لوگوں سے ابل رہے ہیں۔ دریا سوکھ گئے ہیں۔ پنگھٹ سنسان ہیں۔ بوڑھے بھٹک رہے ہیں۔ نوجوان مشین بن گئے ہیں۔ ماں باپ بچوں کے آگے سرنگوں ہیں۔ اب شہر میں ہر آن خرابات ولی ہے، تیغ منصفی کررہی ہے۔ دار و رسن گواہی دے رہے ہیں۔ اب شہر میں معتبر کون ہے قاتل کے سوا۔

آج پھر امن رہا بستی میں!
اے مظفر یہ خبر ہے کوئی… امن بستی… خبر۔ بڑا سا برآمدہ، اس کے ساتھ کئی ہال نما بڑے کمرے، برآمدے کے سامنے بڑا سا کمپاؤنڈ، کمروں میں برابر کئی پلنگ بچھے تھے۔ ان ہی کمروں میں سے ایک کمرے سے یہ بُڑبُڑاہٹ کی آواز آنے لگتی ہے۔ کبھی کبھی بُڑبُڑانے والے کی سانس پھولنے لگتی تو وہ چپ ہوجاتا۔ پھر پیٹ میں سانس سماتی تو وہ بکنے لگتا، بے معنی باتیں نہ سر نہ پیر۔ اس پرانی سی عمارت پر بڑا سا بورڈ لگا تھا، اس پر لکھا ہوا تھا،’’آسرا‘‘ یہ ایک اولڈ ایج ہوم تھا۔ ایک مہانگر کے مضافات میں۔ ان کے برابر بچھے پلنگوں پر بوڑھے لیٹے رہتے۔ دوسری طرف کھڑکیاں تھیں، کھولو تو ایک میدان نظر آتا تھا۔ کہیں جھاڑ جھنکاڑ اُگا ہوا تھا۔ ایک پیپل کا پیڑ بھی تھا، تھوڑی دور ایک گندا نالہ بہتا تھا۔ صبح شام بھولی بھٹکی کوئی چڑیا بھی آجاتی۔ شام صبح ان کھڑکیوں سے سورج کے ڈوبنے اور نکلنے کا منظر دیکھا جاسکتا تھا۔
یہ بوڑھا جو ہر وقت اول فول بکا کرتا، اس کو آئے یہاں پانچ سال ہوگئے۔ اس کا بیٹا اسے چھوڑ گیا تھا۔ وہ باہر جاکر بسنا چاہتا تھا، بیچارے نے بہت انتظار کیا، کہاں تک کرتا۔ اس نے اسے بھی اپنے ساتھ لے جانا چاہا، یہ پاگل گیا ہی نہیں۔ کہنے لگا وہاں بھی تو بوڑھوں کے گھر میں رہنا ہوگا تو اب تو اپنے یہاں بھی ہوم ہیں ہم بوڑھوں کے لیے۔ یہاں ہم صورت، ہم زبان لوگ تو ہوں گے اپنا ملک تو ہوگا۔ وہ شام کو کھڑکی کھول کر بیٹھ جاتا، چڑیوں کی آوازیں سنتا، گرمیوں کی دوپہر میں کوئل کی کوک سنتا۔ پھر اپنا بکس نکال کر موٹی موٹی کاپیاں دیکھا کرتا میگنافائنگ گلاس (محدب شیشہ) سے۔ پھر ایک موٹا سا البم لے کر بیٹھ جاتا، یہ تو اکثر بوڑھے کرتے تھے۔ اپنی چندھی آنکھوں سے تصویریں دیکھا کرتے۔ شروع میں آیا تھا تو صبح شام کمپائونڈ میں ٹہلنے نکل جاتا مگر… اب عرصے سے صرف کھڑکی کے ذریعے ہی باہر سے رابطہ رکھتا تھا۔ پانچ سال میں دو دفعہ بیٹا اس سے ملنے آیا۔ بہت سے تحفے لایا قمیص، سوئٹر، جوتے، آفٹر شیو لوشن، ڈریسنگ گائون اور بہت سے چاکلیٹ۔ بوڑھے نے سب چیزیں واپس کردیں بس چاکلیٹ رکھ لیں۔
بہت اصرار کیا تو اس نے ایک قمیص اور سوئٹر رکھ لیا۔ چاکلیٹ اسے پسند تھے، وہ دنوں کھایا کیا۔ دوسری دفعہ بیٹا آیا تو اسے ایک موبائل فون دے گیا۔ دیر تک اسے موبائل پر بات کرنا سکھا گیا۔ بیٹا ہر ہفتے بات کرتا۔ یہ خود تہواروں پر یا 26 جنوری اور 15 اگست کو اپنے پوتے سے بات کرتا اور ان کے بارے میں بتاتا تھا۔ جب وہ آیا تھا تو اس طرح نہیں بُڑبُڑاتا تھا۔ شاید یہ باتیں تب من ہی من میں کرتا تھا مگر دھیرے دھیرے اس کی آواز بلند ہونے لگی۔ اس پر اس کمرے میں رہنے والے بوڑھوں کو تو کوئی اعتراض نہیں تھا مگر کام کرنے والے بہت چڑتے تھے۔ اکثر اس کو جھڑک دیتے تو وہ جواب دیتا بھئی میں تم سے تو کچھ نہیں کہہ رہا۔ بس کہہ رہا ہوں اپنے دل سے، تو پھر اتنی زور سے کیوں کہتے ہو، کیا تمہارا دل بہرا ہے اور سب ہنسنے لگتے۔ دو ایک بوڑھے کہتے اچھا ہے کوئی آواز تو آتی ہے اور وہ جو کہہ رہا ہے سب سچ ہی تو ہے۔ ادھر کچھ دنوں سے وہ بہت کمزور ہوتا جارہا تھا۔ کھانا بھی کم کھاتا۔ بس آہستہ آہستہ یہی کہتا،’’یہ کون سا یُگ ہے؟ کون بانی بیداد ہے، دھندلے دھندلے سائے بدلتی ہوئی تصویریں۔‘‘

کچھ دنوں سے اولڈ ایج ہوم کے منتظمین کو تشویش تھی کہ اب بوڑھا بہت کم بُڑبُڑاتا مگر اور بوڑھے بھی اب وہی لایعنی باتیں کرنے لگے تھے۔ بوڑھے کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جارہی تھی۔ ڈاکٹر کو بلایا گیا اس نے معائنہ کیا اور کہا کہ عمر کے لحاظ سے سب کچھ ٹھیک ہے۔ یہ اس کے دماغ کا انتشار ہے۔ ایک بوڑھا بولا بڑھاپے میں یہ بیماری اکثر ہوجاتی ہے، یہی بُڑبُڑانے کی، مگر اب وہ بولتا تو اتنا آہستہ کہ بار بار کیا، کیا کہنا پڑتا۔ ہر وقت سانس پھولتی رہتی، وہ اسی پھولی ہوئی سانس کے ساتھ یہی سب کچھ کہتا رہتا مگر اور بوڑھے کورس میں یہ باتیں دہرانے لگے تھے۔ ایک دن دیر تک اس کی آواز نہیں آئی تو اس کے پاس کے پلنگ کے بوڑھوں کو تشویش ہوئی۔ اٹینڈینٹ کی توجہ اس طرف دلائی تو وہ ٹال گئے۔ واقعی دوپہر کا کھانا بھی ویسا ہی رکھا رہا تو کسی نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تو چونک پڑا۔ ’’ارے یہ بڑے میاں تو چل دیے۔‘‘ کیا۔ کیا۔ کیا کہہ کر کئی بوڑھے اٹھ کر بیٹھ گئے۔ کیا کہہ رہا ہے؟
انچارج کو اطلاع دی گئی، ڈاکٹر آیا اس نے ان کو مردہ قرار دیا… ارے بھئی واہ بڑے میاں تو خاموشی سے چلے گئے۔ اٹینڈنٹ کہہ رہا تھا۔ اس کمرے میں دوسرے کمروں کے بوڑھے بھی آگئے تھے اور اس کے پلنگ کو گھیرے کھڑے تھے۔ کچھ رو رہے تھے، کچھ کہہ رہے تھے کہ اچھا ہے، اس مصیبت سے چھوٹ گئے۔ پھر جلدی جلدی انتظامات ہوئے اور سہ پہر تک لوگ ان کو اول منزل پہنچا آئے۔
مگر کمرے سے آوازیں اسی طرح آرہی تھیں، پیڑ کٹ گئے، کنویں سوکھ گئے، گائوں ویران ہیں اور شہر لوگوں سے ابل رہے ہیں۔ انسانوں کی جانیں ارزاں ہیں۔ انچارج نے وہاں رائونڈ لگایا تو اس نے سنا کہ ان بوڑھوں کے ساتھ وہاں کام کرنے والے بھی یہی کہہ رہے تھے۔ جاہل، عالم ہیں۔ ُتک بند شاعر اعظم ہیں۔ ہر رند خرابات ولی ہے۔ اس دوران میڈیا کو یہ خبر کسی طرح پہنچ گئی، وہ لوگ اپنے تام جھام کے ساتھ کھڑے تھے۔ سنا ہے آج جو بڑے میاں مرے ہیں وہ بہت بڑے لیکھک تھے۔ ان کو بہت انعامات ملے تھے۔ ان کو راشٹر پتی نے سمان بھی دیا تھا۔ یہ سن کر دو عورتیں اور ایک مرد آگے بڑھے۔ ہاں ہم ان کے رشتے دار ہیں قریبی، ان کی آواز بھرا رہی تھی، عورتیں آنسو پونچھ رہی تھیں۔ مرد آگے بڑھ کر بڑے میاں کے بارے میں انٹرویو دے رہا تھا۔

کھٹاکھٹ تصویریں کھینچ رہی تھیں۔ ان لوگوں سے نمٹ کر میڈیا کے لوگ اولڈ ایج ہوم کے اسٹاف کی طرف متوجہ ہوئے۔ انچارج صاحب آفس میں نہیں تھے۔ ادھر ادھر اور کر مچاریوں کو دیکھا، کوئی نظر نہیں آیا۔ ایک باہمت صحافی اندر گئے تو انہوں نے عجب سماں دیکھا کہ اس کمرے میں جہاں بڑے میاں مرے تھے، سب جمع ہیں۔ بوڑھے انچارج اور سارا اسٹاف ایک کورس میں کہہ رہے ہیں۔ دھندلے دھندلے سائے، جلدی جلدی بدلتی تصویریں، ہر طرف شور و غوغا ہر چہرے پر پریشانی… پھر… پھر کیا ہوا؟ پھر؟ نہیں معلوم کیا ہوا؟