jump to navigation

Qaid Rota Hoga ! April 12, 2011

Posted by Farzana Naina in Culture, Famous Urdu Poets, Film and Music, Literature, Pakistan, Pakistani Music, Poetry, Urdu, Urdu Poetry.
add a comment

شدت پسندی سے متاثر ہونے والی ثقافتی سرگرمیوں کا سب سے زیادہ نقصان نوجوان اٹھا رہے ہیں جن کے ناپختہ ذہنوں کی بے چینی ثقافتی وسائل میں بتدریج کمی کی وجہ سے اور بڑھتی جا رہی ہے

غزل دلکش ترنم میں پڑھی جا رہی تھی۔ سننے والے اپنی نشستوں پر جمے، مختلف طور طریقوں سے نوجوان شاعر کو داد پیش کر کے کسی سوچ میں محو دکھائی دے رہے تھے۔ شاید اس لیے کہ غزل لب و رخسار کی بجائے پاکستان کے موجودہ حالات پر مبنی تھی۔ جدید تشبیہہ و استعاروں سے لیس اشعار سوچ کی نئی راہوں کے متلاشی تھے۔

یہ مناظر حال ہی میں فیض گھر لاہور کے ایک کشادہ ہال میں منعقد کیے گئے ایک مشاعرے سے ہیں۔

ادبی نشست کے نام سے یہ ماہانا سلسلہ فیض گھر کے بے شمار ادبی اور ثقافتی پراگراموں میں سے ایک ہے جس کا مقصد نوجوان نسل کے آرٹسٹوں کو اظہار فن کا موقع دینا ہے۔

معروف مصورہ اور فیض گھر کی بورڈ ممبر سلیمہ ہاشمی کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ثقافتی کام سیاسی و سماجی جمود یا انتہا پسندی کے عالم میں سیاسی نوعیت اختیار کر لیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں جب آزادانہ سوچ کو انتہا پسندی اور مذہبی نوعیت کی سختیوں کا پابند کیا جاتا ہے تو اس کے خلاف بےخوفی سے اپنی سوچ کا برملا اظہار کرنا ہر تخلیقی شخص کی ذمہ داری بن جاتی ہے کیونکہ یہی اصل چیلنج ہے۔

’ہماری تاریخ اور ساری روایات ہم سے چھن گئی ہیں۔ ہم رہ نہیں سکتے۔ ہم سانس نہیں لے سکتے۔‘

پاکستان کے باقی شہروں کی طرح ثقافتی مرکز لاہور بھی پچھلے چند سالوں سے خود کش حملوں اور بم دھماکوں کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ دو ہزار آٹھ میں ورلڈ پرفارمنگ آرٹس فیسٹول کے دوران کلچرل کامپلیکس الحمرا کے باہر ہونے والے تین بم دھماکوں کے باعث یہ سالانہ فیسٹیول جس میں دنیا بھر سے فنکار شرکت کرتے تھے بند کر دیا گیا تھا اور اب تک بند ہے۔

شدت پسندی سے متاثر ہونے والی ثقافتی سرگرمیوں کا سب سے زیادہ نقصان نوجوان اٹھا رہے ہیں جن کے ناپختہ ذہنوں کی بے چینی ثقافتی وسائل میں بتدریج کمی کی وجہ سے اور بڑھتی جا رہی ہے۔

سوچ نامی میوزک بینڈ کے عدنان کا کہنا ہے کہ وہ معاشرے میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور اگر ان کے میوزک کے ذریعے ایسا ہو سکے تو وہ خود کو دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان سمجھیں گے

یہی وجہ ہے کہ چوبیس سالہ گلوکار عدنان دھول نے تین سال پہلے ملک کے پیچیدہ حالات سے متاثر ہو کر میوزک کا باقاعدہ آغاز کیا اور آواز و ساز کے ذریعے اپنا پیغام نوجوانوں تک پہنچانا ضروری سمجھا۔

سوچ نامی میوزک بینڈ کے عدنان کا کہنا ہے کہ وہ معاشرے میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور اگر ان کے میوزک کے ذریعے ایسا ہو سکے تو وہ خود کو دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان سمجھیں گے۔

عدنان آج کل بی اے کے امتحان کی تیاری کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گانوں کے بول خود لکھتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ شاعری کے اصولوں سے ناآشنا ہیں اور اردگرد کے ماحول سے متاثر ہو کر جو جی میں آتا ہے اسے لکھ کر دھن بنا لیتے ہیں۔

ان کے ’اٹھ جوانا‘ کے نام سے مشہور ہونے والے پنجابی گانے کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس کا خیال انہیں اس روز آیا جب لاہور میں ایک دن میں پانچ خود کش بم دھماکے ہوئے۔

بقول ان کے وہ خوفزدہ نہیں ہیں اور اپنا کام جاری رکھیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے اگلے گانے کا موضوع قائد اعظم کا بھولا ہوا نظریہ ہے اور اس کا نام ’قائد روتا ہوگا‘ ہے۔

بشکریہ بی بی سی

Advertisements

New Pakistani Movies April 11, 2011

Posted by Farzana Naina in Pakistan, Pakistani, Urdu.
Tags: ,
1 comment so far

پاکستان میں فلمیں تو گنی چنی بنتی ہیں۔ مگر جہاں ایک طرف ہدایت کار شعیب منصور کی فلم ’بول‘ ریلیز ہو رہی ہے، دوسری طرف چھوٹے پیمانے کی فلم ’گول چکر‘ بھی سکرین پر آنے والی ہے۔

جلد ہی ریلیز ہونی والی فلم ’گول چکر‘ میں ایک کردار کینڈی نامی شخص ہیں۔ کینڈی ان نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو اپنے رات دن اسلام آباد کے اہم شاپنگ مرکز جناح سوپر میں گزارتے ہیں۔ اسلام آباد کے نوجوان ان کو ‘جناح بوائز‘ کہتے ہیں۔ یہ وہ لڑکے ہیں جن کا کام ہی گاڑیوں میں بلند آواز میں گانے لگا کر جناح سوپر میں لڑکیوں کو تنگ کرنے کے لیے چکر لگانا ہے۔

فلم گول چکر کی ہدایت کاری اسلام آباد کے دو نوجوان عائشہ لینیا اختر اور شہباز شگری نے کی ہے۔ عائشہ نے حال ہی میں ایک اور آزاد فلم ’سلیکستان‘ میں اداکاری کی تھی، اور اس کے بعد عائشہ کو ایک فلم بنانے کا خیال آیا۔

’جناح بوائز‘ کے بارے میں عائشہ نے کہا کہ یہ اسلام آباد کی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ’جن کو ہم جناح بوائز کہتے ہیں، ان کا تعلق میرے اور شہباز کے سماجی طبقے سے نہیں ہے، مگر کینڈی کردار بنانے کا مقصد ان کا مذاق اڑانا نہیں تھا۔ ہمارا مقصد جناح بوائز کا نرم پہلو دکھانا تھا۔‘

اس فلم کی سرمایہ کاری خود عائشہ اور شہباز ہی نے کی ہے اور اس کی لاگت تقریباً دو لاکھ روپے کی تھی۔ جہاں عائشہ نے فلم سلیکستان میں اداکاری کی ہے اور پھر گول چکر فلم بھی بنائی ہے لیکن اس سے قبل، کینڈی کے کردار کے گرد بیس منٹ کی ’سول سرچ‘ نامی فلم فیس بک اور یو ٹیوب پر ریلیز کی تھی۔ اس بیس منٹ دورانیے کی مقبولیت کے بعد عائشہ اور شہباز کو انہی کرداروں پر مبنی ایک لمبے دورانیے کی فلم بنانے کا حوصلہ ملا ۔

چونکہ پاکستان میں گنی چنی فلمیں بنتی ہیں، اسی لئے ایسی آزاد یا چھوٹے پیمانے کی فلموں کو توجہ زیادہ ملتی ہے۔ جیسے بھارت میں ایک ہزار فلموں میں دو درجن ایسی فلمیں ریلیز ہوں تو آدمی اتنا نہیں سوچتا۔ لیکن یہاں کیونکہ باقی آپ کے ارد گرد کچھ نہیں ہے تو ہمارے ہاں باقی اس طرح کی دو تین فلمیں آ جاتی ہیں، تو ان کو اس لئے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ اور کچہ نہیں ہے ۔۔۔ حسن زیدی۔

فلم بناتے وقت عائشہ اور شہباز نے اس کے ریلیز کے بارے میں زیادہ سوچا نہیں تھا۔ ’ہم اس کو فیس بک اور یوٹیوب پر ریلیز کر ہی نہیں سکتے۔ اس کا دورانیہ پینتالیس منٹ سے ایک گھنٹے کا ہو سکتا ہے۔ تو ہم نے لوگوں سے نجی محفلوں میں نمائش کے لئے اور ڈی وی ڈی کے تقسیم کرنے والوں سے بات کر لی ہے۔‘

چند ماہ پہلے جب ’سلیکستان‘ کو پاکستانی سینسر بورڈ نے نازیبا زبان کے باعث پاس نہیں کیا، تو اس کے ہدایت کار حماد خان نے فلم کو نجی محفلوں میں دکھانا شروع کیا، انٹرنیٹ پر ریلیز کیا اور فلمی میلوں میں نمائش کی۔

فلم نقاد، ہدایت کار اور کراچی فلم فیسٹول کے سربراہ حسن زیدی نے کہا کہ شروع میں ایسا جذبہ تو اچھا ہوتا ہے۔’جب ہم نے اپنی پہلی فلم بنائی تھی تو یہ نہیں سوچا تھا کہ اس کا آگے کیا کرنا ہے کیونکہ ہمیں پتہ ہی نہیں تھا۔شروع میں یہ اچھی چیز ہوتی ہے کہ لوگوں کہ پاس اتنا جذبہ ہے۔‘

حسن زیدی کا یہ بھی کہنا تھا کہ چونکہ پاکستان میں گنی چنی فلمیں بنتی ہیں، اسی لئے ایسی آزاد یا چھوٹے پیمانے کی فلموں کو توجہ زیادہ ملتی ہے۔ جیسے بھارت میں ایک ہزار فلموں میں دو درجن ایسی فلمیں ریلیز ہوں تو آدمی اتنا نہیں سوچتا۔ لیکن یہاں کیونکہ باقی آپ کے ارد گرد کچھ نہیں ہے تو ہمارے ہاں باقی اس طرح کی دو تین فلمیں آ جاتی ہیں، تو ان کو اس لئے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ اور کچہ نہیں ہے۔

دوسری جانب، سال دو ہزار سات کی مقبول فلم ’خدا کے لئے‘ کے ہدایت کار شعیب منصور بھی جلد اپنی نئی فلم ’بول‘ ریلیز کر رہے ہیں۔ فلم نقاد اور ہدایت کار عمر خان نے اس کے بارے میں کہا کہ ’سلیکستان‘، ’گول چکر‘، ’بول‘ اور انکی اپنی بنائی ہوئی ڈراؤنی فلم ’ذبح خانہ‘ کے شائقین مختلف ہیں۔

حسن زیدی کا کہنا ہے کہ ’خدا کے لئے‘ کے بعد، شائقین میں ’بول‘ سے بہت توقعات وابسطہ ہیں۔ ’بول کے پیچھے ایک بہت بڑا میڈیا ہاؤس اس کی مشہوری کرے گا، جو اس کے پرڈیوسر بھی ہیں اور خدا کے لئے کی وجہ سے شعیب منصور کا کافی نام ہے، اور امید ہے کہ لوگ اس کو دیکھنے ضرور جائیں گے۔‘

ایک بات تو طے ہے۔ پاکستان میں فلمی صنعت کا ماتم بہت ہوا ہے، لیکن گول چکر اور بول جیسی فلموں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فلم بنانے کا جذبہ ابھی مرا نہیں ہے۔

بشکریہ بی بی سی


MUMKIN HAI

DIN PARESHAN HAI