jump to navigation

Angelonia – کالی آنکھوں والی سوسن August 14, 2012

Posted by Farzana Naina in Flowers, Photography.
Tags: , , , , ,
add a comment

اینجولینیا کا پودا کیاریوں میں خوب بھلا معلوم ہوتا ہے، آج میں آٹھ پودے خرید کر لایٔ اور کیاریوں میں لگادیۓ، اب دیکھیں کہ ان پر بہار کب آتی ہے! ۔

سفید اور گلابی سی یہ ننھی ننھی کلیاں میرے من کو خوب بھایٔں، گو کہ موسم بہار جب بھی آیا میری چھوٹی سی بگھیا میں پھول لگانے کے کے لیۓ زمین کی قلت پڑ جاتی ہے اور خان صاحب کی جیب بھی چھوٹی ہونے لگ جاتی ہے مگر پھولوں سے میرا عشق تو ازل سے ہے، اس پر خزاں اپنا تسلط نہیں جما سکتی !۔

Angelonia is also called summer snapdragon, and once you get a good look at it, you’ll know why. It has salvia-like flower spires that reach a foot or 2 high, but they’re studded with fascinating snapdragon-like flowers with beautiful colorations in purple, white, or pink. It’s the perfect plant for adding bright colour to hot, sunny spaces. This tough plant blooms all summer long with spire like spikes of blooms. While all varieties are beautiful, keep an eye out for the sweetly scented selections.

While most gardeners treat Angelonia as an annual, it is a tough perennial in Or if you have a bright, sunny spot indoors, you can even keep it flowering all winter.

Light: Sun

Plant Type: Annual

Plant Height: 1-2 feet tall

Plant Width: 1-2 feet wide

Flower Colour: Blooms in shades of white, pink, or purple, depending on type

Landscape Uses: Containers, Beds & Borders

Special Features: Flowers, Fragrant, Attracts Butterflies, Drought Tolerant, Easy to Grow

ایک اور پودا جو ”کالی آنکھوں والی سوسن” کہلاتا ہے وہ بھی کافی دن سے میری نظر میں تھا،

اتفاقا [ہوم بیس] میں وہ بھی سیل پر لگا ہوا مل گیا، بیچارا مرجھا رہا تھا اور قیمت بھی گرادی گیٔ تھی، ۔

اب بھلا مجھ کو ترس کیسے نہ آتا اور پودے کے لیۓ میرا دل کیوں نہ مرجھاتا!

لہذا یہ پودا بھی میری ننھی سی بگھیا  میں جاۓ امان پا گیا۔

اس پودے کی وجہ سے تتلیاں بھی کھنچی چلی آتی ہیں سو دیکھنا یہ ہے کہ کس کس رنگ اور قسم کی تتلی منڈلاۓ گی، اور اس پودے کی کالی کالی آنکھیں کس کو لبھایٔں گی!۔

Rudbeckia Hirta, the Black-eyed Susan, with the other common names of Brown-eyed Susan, Brown Betty, Brown Daisy (Rudbeckia triloba), Gloriosa Daisy, Yellow Daisy, and Yellow Ox-eye Daisy. It is a flowering plant in the family Asteraceae. It is an upright annual (sometimes biennial or perennial) Black-eyed Susans can be established, like most other wildflowers, simply by spreading seeds throughout a designated area. They are able to reseed themselves after the first season.

The plant can reach a height of 1 m. It has alternate, mostly basal leaves 10-18 cm long, covered by coarse hair. It flowers from June to August, with inflorescences measuring 5-8 cm in diameter with yellow ray florets circling a brown, domed center of disc florets.

Butterflies are attracted to Rudbeckia hirta when planted in large color-masses

The roots but not seedheads of Rudbeckia hirta can be used much like the related Echinacea purpurea.

It is an astringent used as in a warm infusion as a wash for sores and swellings, The Ojibwa used it as a poultice for snake bites and to make an infusion for treating colds and worms in children. The plant is diuretic and was used by the Menominee and Potawatomi.

Juice from the roots had been used as drops for earaches.

The plant contains anthocyanins.

Advertisements

بچوں کا ادب August 10, 2012

Posted by Farzana Naina in Literature, Pakistan, Pakistani, Urdu, Urdu Literature.
Tags:
add a comment

بچوں کا ادب: ادبیات‘ اسلام آباد

مدیر: محمد عاصم بٹ

صفحات: 493

قیمت: دو سو روپے

پاکستان میں ہی کیا دنیا بھر کی مختلف زبانوں میں بچوں کے ادب کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اسے دی جانی چاہیے۔ یہ شکایت ان ملکوں میں بھی ہے جنھیں ترقی یافتہ اور بچوں کے معاملات میں انتہائی حسّاس سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور اس دور میں جب کمپیوٹر تیزی سے ہر شعبے میں کاغذ پر شائع ہونے والے مواد کی جگہ لیتا جا رہا ہے کاغذ پر شائع ہونے والے اور شائع کرنے والوں نے از خود ہی پسپائی اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔

تاہم پاکستان اور پاکستان جیسے دوسرے ملکوں میں اس بات کی گنجائش ہے کہ کاغذ پر شائع ہونے والا مواد اپنا کردار ادا کرے کیوں کہ ان کے ہاں ابھی کمپیوٹر اس طرح زندگیوں کا حصہ نہیں بنا جیسا کہ بہت سے ملکوں میں بن چکا ہے اور بچے تک کمپیوٹر اس سے حد تک واقف ہیں کہ ہمارے ہاں کے بڑے بھی نہیں ہیں۔

پاکستان میں ایک زمانہ تھا جب بچوں کے لیے رسالے اور کتابیں باقاعدگی سے شائع ہوتی تھیں اور انھیں پڑھنے کا رحجان بھی تھا۔ خاص طور پر متوسط طبقے کا شاید ہی کوئی گھر ایسا ہوتا تھا جہاں بچوں کا کوئی رسالہ ہر ماہ نہ آتا ہو۔ لیکن ستر اور اسّی کی دہائی کے دوران کچھ ایسا ہوا کہ آہستہ آہستہ بچوں کے رسالے شائع ہونا بند ہونے لگے اور اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے شائع ہونے والی کتابیں بھی۔

اب کتابوں کی دکانوں اور اخبار وجرائد بیچنے والوں کی دکانوں پر اوّل تو بچوں کے رسالے اور کتابیں ہوتے ہی نہیں اور اگر ہوتے ہیں تو انتہائی کم تعداد میں۔ بڑے شہروں کی بڑی دکانوں اور شاپنگ مالز میں ضرور دکانوں پر بچوں کے لیے انتہائی عمدہ چھپی ہوئی مہنگی کتابیں موجود ہوتی ہیں لیکن ان میں اردو یا کسی اور قومیتی زبان کی کتاب کم ہی دکھائی دیتی ہے۔

یہ صورتحال پاکستان کی بدلتی ہوئی سماجی شکل کا اظہار کرتی ہے اور اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں صورتحال کیا ہونے والی ہے۔ انگریزی یا کسی بھی زبان کا بڑھنے میں کوئی خرابی نہیں لیکن اس کی وجہ سے ملک کی اپنی بڑی اور دوسری زبانوں سے توجہ کا ہٹنا کسی بھی طرح اچھی علامت نہیں۔

اس پورے پس منظر میں اکادمی ادبیات پاکستان، نے سہ ماہی ’ادبیات‘ نیا شمارہ شائع کیا ہے۔ پیش نظر شمارہ جریدے کا شمارہ نمبر 95-94 ہے۔ شمارے کے نمبر ہی واضح ہو جاتا ہے کہ یہ جریدہ کتنی باقاعدگی سے شائع ہوتا ہے۔

یہ شمارہ بچوں کے ادب کے بارے پہلے شائع ہونے والے حصے کا جز ہے۔ پہلے حصے یا جلد اوّل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس میں بچوں کے بین الاقوامی ادب سے خصوصی انتخاب پیش کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور حصے کی خبر بھی دی گئی ہے جو ’پاکستانی ادب: حصہ نثر‘ ہو گا۔

حصہ نظم میں کل تقریباً تین سو تراسی تخلیقات اور تراجم ہیں۔ حصہ حمد میں پندرہ تخلیقات ہیں جن میں ماضی سے منتخب کی جانے والی حمدیں بھی اور شاید نئی اور پہلی بار شائع ہونے والی بھی۔ یقین سے کچھ اس لیے نہیں کہا جاسکتا کہ کسی بھی تخلیق پر اس کی تخلیق کا سال نہیں ہے لیکن الطاف حسین حالی جیسے ناموں کو دیکھ کر یہ تو یقین سے کہا ہی جا سکتا ہے کہ ماضی سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔

اس کے بعد نعتوں کا حصہ جس میں سولہ نعتیں ہیں۔ جن میں میر حسن دہلوی، مولانا احمد رضا خان اور مولانا حالی کی نعتیں بھی ہیں۔ تیسرا حصہ سوہنی دھرتی کے نام سے قائم کیا گیا ہے جو چودہ نظموں پر مشتمل ہے۔ اسی طرح ملت کا پاسباں، کلاسیکی شاعری سے انتخاب، نظم کہانی، تمثیل اور اثاثہ کے نام سے حصے بنائے گئے ہیں۔

ایک خاصا بڑا حصہ پاکستانی زبانوں کا ادب کے نام سے قائم کیا گیا ہے، اس میں بلوچی، براہوی، پستوں، ہندکو، سندھی، پنجابی، سرائیکی اور پوٹھوہاری میں بچوں کے لیے لکھی جانے والی نظموں کے تراجم ہیں۔

اس کے علاوہ اس شمارے کا سب سے دلکش اور قابلِ تعریف پہلو بچوں کی مصوری کے نمونے ہیں جو ہر حصے کی ابتدا پر لگائے گئے ہیں۔ اور نوجوان مصوروں کے تعارف کے ساتھ ساتھ ان کی تصاویر بھی شائع کی گئی ہے۔ یہ اقدام بہت عمدہ ہے اس سے ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہی نہیں ہو گی انھیں مصوری جاری رکھنے کی تحریک بھی ملے گی۔

یہ غالباً اردو میں بچوں کی شاعری کی ایک ایسی جلد ہے جس میں نہ صرف اردو شاعری کا بہت بڑا حصہ جمع کر دیا گیا ہے بلکہ پاکستان کو دوسری قومیتی زبانوں میں بچوں کے لیے لکھی جانی والی شاعری بھی موجود ہے۔

اس مبصر کی نظر سے اب تک اردو میں ایسا کوئی انتخاب نہیں گزرا جس میں بچوں کی شاعری کا اتنا بڑا ذخیرہ ایک جگہ موجود ہو۔ پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر کسی کو پاکستان میں بچوں کی شاعری کے بارے میں جاننا ہو تو یہ ایک شمارہ ہی خاصے معقول تعارف کے لیے کافی ہے۔

اس حصے کو مرتب کرنے والے اس کا کچھ نہیں کر سکتے کہ بہت سے نظموں کی زبان بچوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔ بچوں کے لیے لکھنے والے تمام لوگوں کو اس بات پر ضرور توجہ  دینی چاہیے۔

بشکریہ: انور سن راۓ، بی بی سی

Alif Laila Books August 2, 2012

Posted by Farzana Naina in Karachi, Literature, Pakistan, Urdu, Urdu Literature.
Tags: ,
1 comment so far

مافوق الفطرت قصے کہانیوں سے تقریبا ہر بچے کو لگاؤ ہوتا ہے، جس کا ثبوت آج کے دور کے ”ہیری پوٹر” پڑھنے والے بچے ہیں۔

میرا بچپن بھی ایسی ہی کہانیوں کے درمیان پر لگا کر اڑتا تھا، کبھی جادویٔ قالین تو کبھی دیو مالایٔ قصے، پریاں، دیو زاد، شہزادے اور شہزادیاں، یہی بچپن کی دنیا تھی، ہزار داستان تو اکثر و بیشتر محلے کی لایٔبریری سے لا کر پڑھی جاتی، پھر نیند کی وادی اس فینٹسی لینڈ میں لے جاتی ۔۔۔۔۔۔۔ ۡ

قصہ مختصر کہ پردیس نے ہاتھ بڑھا کر اپنی جانب کھینچا تو یہ کہانیاں اور ان کہانیوں سے نکلتی ہویٔ کہانیاں سب وہیں کی وہیں دھری رہ گیٔں ۔۔۔۔۔۔!۔

انہیں کہانیوں میں الف لیلوی قصوں کی کتاب بھی تھی جو بعد کے برسوں میں ذہن کے کسی گوشے سے نکل آیٔ۔۔۔۔۔

اب میری جستجو کا سفر شروع ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک کتاب مل تو گیٔ جو میں اٹھا لایٔ مگر اس کی خستہ حالت کی بنا پر محفوظ کرنا مشکل ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر ایک اور کراچی یاترا میں بھایٔ کی منت سماجت کر کے اردو بازار کو کھنگالنا شروع کیا (چونکہ وہ علاقہ اس جگہ سے خاصی دور ہے جہاں بھایٔ رہتے ہیں اور یوں بھی اردو بازار اکیلے جانا کافی غیر محفوظ سا لگتا ہے) ۔۔۔

خیر داستان الف لیلیٰ مجھے مل گیٔ تھی  جو میں سنبھال سنبھال کر اپنے سوٹ کیس میں نت نۓ جوڑوں کے بجاۓ کتابوں کے انبار میں رکھ کر لے آیٔ۔

اب بھی کبھی کبھار اس کا مطالعہ اور اس میں استعمال کی ہویٔ اردو زبان کے الفاظ ورطۂ حیرت میں غرق کردیتے ہیں۔

نام کتاب: الف لیلہ : مترجم: رتن ناتھ سرشار

صفحات: جلد اوّل 342، جلد دوم 321، جلد سوم 464، جلد چہارم 566

قیمت: جلد اوّل 795 روپے، جلد دوم 795 روپے، جلد سوم 895 روپے، جلد چہارم 895 روپے

ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان۔ کراچی

الف لیلہ دنیا میں کہانیوں کی مشہور و مقبول ترین کتابوں میں سے ایک کتاب ہے۔ اسے شام میں لکھا گیا۔ کس نے لکھا؟

کسی ایک نے یا زیادہ نے یا یہ کہانیاں وہاں کے قصہ گو سنایا کرتے تھے جسے وہاں کے کسی مصنف نے لکھ کر ایک جگہ جمع کر دیا، اس بارے میں اب تک یقین سے کچھ نہیں کہا گیا۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد یہ ایرانی، مصری اور ترک زبانوں میں پہنچی اور ان زبانوں کے قصہ گو اس میں اضافے کرتے رہے۔

بعد میں جب یہ کہانیاں ایک ہزار ایک راتوں پر پھیل گئیں تو اس نام ’الف لیلۃ و لیلۃ‘ یعنی ’ایک ہزار ایک راتیں‘ ہو گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے بعد کسی لکھنے والے نے ان کہانیوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔

الف لیلہ کی کہانیوں کی کہانی کچھ یوں ہے کہ سمرقندکا ایک بادشاہ شہریار اپنی ملکہ کی بے وفائی سے دل برداشتہ ہو کر عورتوں سے ہی بدظن ہوگیا، اُس نے یہ دستور بنا لیا کہ روزانہ ایک نئی شادی کرتا اور دلہن کو رات بھر رکھ کر صبح کو قتل کرا دیتا۔ آخر اس کے ایک وزیر کی لڑکی شہرزاد نے اپنی صنف کو اس عذاب سے نجات دلانے کا ارادہ کیا اور اپنے والد کو بمشکل راضی کر کے شہریار سے شادی کر لی۔

اُس نے پہلی رات ہی سے بادشاہ کو ایک کہانی سنانا شروع کی۔ رات ختم ہوگئی مگر کہانی ایک ایسے موڑ پر تھی کہ بادشاہ شہرزاد کو ہلاک کرنے سے باز رہا۔ ہر رات شہرزاد کہانی شروع کرتی اور صبح کے قریب اسے ایک ایسے موڑ پر ختم روکتی کہ اس میں ایک نئی کہانی کا تجسس بھرا سرا دکھائی دیتا اور اتنا دلچسپ ہوتا کہ بادشاہ اس کے بارے میں جاننے کے لیے شہرزاد کا قتل ملتوی کرتا چلا گیا۔

یہ سلسلہ اتنا ایک ہزار ایک راتوں پر پھیل گیا اس دوران بادشاہ اور شہر زاد کے تعلقات میں تبدیلی آتی گئی اور ان کے ہاں دو بچے ہوگئے اور بادشاہ کی بدظنی جاتی رہی۔

بعض محققین کا خیال ہے کہ عرب مورخ محمد بن اسحاق نے کتاب الفہرست میں کہانیوں کی جس کتاب کا ذکر ’ہزار افسانہ‘ کے نام سے ہوا ہے وہ دراصل الف لیلہ ہی ہے اور اس میں جو کہانی بطور نمونہ ہے وہ الف لیلہ کی پہلی کہانی ہے۔

کچھ لوگ اس سے یہ نتیجہ بھی نکالتے ہیں کہ الف لیلہ پہلے ’ہزار افسانہ‘ کے نام سے موجود تھی۔

اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے جو کتاب شائع کی ہے اس میں مرتیبین نے یہ تفصیل بیان کرنے پر توجہ ضروری نہیں سمجھی اگرچہ رتن ناتھ سرشار کے بارے میں خاصی تفصیل موجود ہے۔ جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے صرف پہلی جلد پر کام کیا تھا جب کہ دوسری جلد مولوی محمد اسمٰعیل نے تیار کی‘۔ لیکن اوکسفرڈ کی چاروں جلدوں پر رتن ناتھ سرشار ہی کا نام ہے۔ کیوں ہے؟ اس بارے کچھ نہیں کہا گیا۔

یورپ میں سب سے پہلے ایک فرانسیسی ادیب آنتون گلاں کو اس کتاب کا مخطوطہ 1690 میں ملا اور اس نے اس کا فرانسیسی ترجمہ گیارہ سال بعد شائع کیا، یہی ترجمہ اردو سمیت کم و بیش دوسری زبانوں میں ہونے والے تمام تراجم کی بنیاد بنا۔

ایک زمانہ تھا کہ پاکستان میں الف لیلہ اور اس نوع کی دوسری کتابوں کے انتہائی سستے اور خراب ایڈیشن ملا کرتے تھے لیکن اب وہ ایڈیشن بھی دکھائی نہیں دیتے۔

کتاب میں بتایا گیا ہے کہ سرشار کی الف لیلہ کا ایک تلخیص شدہ ایڈیشن انتظار حسین اور سید وقار عظیم ترتیب دیا تھا جو لاہور سے 1962 میں شائع ہوا تھا اس میں مولوی اسمٰعیل کی تیار کردہ دوسری جلد کی کہانیاں شامل نہیں تھیں۔ اب یہ ایڈیشن بھی دستیاب نہیں ہے۔

اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان سے چار جلدوں شائع ہونے والی الف لیلہ کے بارے میں اگرچہ یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ رتن ناتھ سرشار ہی کی پہلی جلد ہے یا اس میں دوسری تمام کہانیاں بھی شامل ہیں۔

چوتھی جلد 784ویں رات پر ختم ہوتی ہے اور پانچویں جلد زیر طبع ہے، ہو سکتا ہے کہ پانچویں جلد میں اس باتوں کا بھی خلاصہ کر دیا جائے لیکن ان باتوں سے کا چار جلدوں میں شامل کہانیوں کی دلچسپی سے کوئی تعلق نہیں۔

الف لیلہ کی اہمیت یہ ہے کہ عام لوگ تو اس کا لطف اٹھا ہی سکتے ہیں فکشن لکھنے والوں کے لیے خاص طور پر یہ ایک ایسی کتاب ہے جس سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ اس کی زبان ضرور ایسی ہے جو اردو کے بہت سے اساتذہ کے لیے بھی امتحان ہو سکتی ہے لیکن اس کے باوجود اس کتاب کو اردو جاننے سے دلچسپی رکھنے والے ہر گھر میں ہونا چاہیے۔

اوکسفرڈ یونیورسٹی کا ایڈیشن انتہائی عمدہ ہے۔ عام خریداروں کے لیے اس کی قیمت کچھ زیادہ ہو سکتی ہے لیکن عمدگی کو دیکھتے ہوئے زیادہ نہیں ہے۔

سیریز کے ایڈیٹر شمس الرحمٰن فاروقی ہیں جو اردو کے معروف نقاد، ناول و افسانہ نگار ہونے کے علاوہ ہندوستان سے شائع ہونے والے ادبی جریدے ’شب خون‘ کے مدیر رہے ہیں جب کہ ایڈیٹر اجمل کمال ہیں جو پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ’آج‘ کے مدیر ہیں اور اپنے ترجموں کے علاوہ تنقیدی مضامین اور کتابوں کی اشاعت کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں۔

بشکریہ : انور سِن رائے آف بی بی سی