jump to navigation

Kab tum mujhko yaad karoge? September 23, 2018

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Nazm, Poetry, Shairy, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags: , , , , , , , ,
add a comment

Kab tum mujhko yaad

Butterfly pink 2Thanks 15

Waqt ke uljhe uljhe dhaage

Jab dil tor kar chal deinge

Pag’dandi par peele pat’tey tumko tanha dekheinge

Perron ke seene par likhe naam bhi ho jayein tehleel

Aur hawa bhi simt ko apni kar jaye tabdeel

Bheeni bheeni khushbo humko har ik gaam pukare gi

Kar ke yakh’basta jab humko barf us paar sudhare gi

Dhoop sada’on ke sikke jab kanon mein khankae gi

Garja ghar ki oonchi burji chand ka chehra choome gi

Baarish, muskanon ke moti pat’ther par jab phorey gi

Aur barasti bondon ke dharon par dhaare jore gi

Garm garm angaaron jaise aansoo aankh se ubleinge

Dil ke armaan ik muddat ke baad tarap kar niklenge

Jab ehsaas ki dunya mein phir aur na ghungroo chan’kenge

Sirf khamoshi goonje gi tab aane wale mausam ki

Khirki par dastak na hogi kisi sureeli rim jhim ki

Shaam ke sanat’te mein badan par coat tumhara jhoole ga

Yaadon ka lams ta’tole ga ghor udaasi choo le ga

Oonchi oonchi baaton se tum khamoshi mein shor karogey

Geet purane sun kar thandi saansein bhar kar bhor karogey 

Us pal shab ki tanhai  mein apne dil ko shaad karogey

Bolo, mujhko yaad karoge…?

 

Advertisements

میر انیس کے مرثیئے September 21, 2018

Posted by Farzana Naina in Marsia, Mir Anees Ke Marsiye, Moharrum, Poetry.
Tags: ,
add a comment

میر انیس

فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے

سادات کی بستی کے اجڑنے کی خبر ہے

در پیش ہے وہ غم، کہ جہاں زیر و زبر ہے

گل چاک گریباں ہیں صبا خاک بہ سر ہے

گل رو صفتِ غنچہ کمر بستہ گھڑے ہیں

سب ایک جگہ صورتِ گلدستہ کھڑے ہیں

آراستہ ہیں بہر سفر، سروِ قبا پوش

عمامے سروں پر ہیں عبائیں بسر دوش

یارانِ وطن ہوتے ہیں آپس میں ہم آغوش

حیراں کوئی تصویر کی صورت کوئی خاموش

منہ ملتا ہے رو کر کوئی سرور کے قدم پر

گر پڑتا ہے کوئی علیؔ اکبر کے قدم پر

عباسؔ کا منہ دیکھ کے کہتا ہے کوئی آہ

اب آنکھوں سے چھپ جائے گی تصویر یداللہ

کہتے ہیں گلے مل کے یہ قاسم کے ہوا خواہ

واللہ دلوں پر ہے عجب صدمۂ جانکاہ

ہم لوگوں سے شیریں سخنی کون کرے گا

یہ انس، یہ خُلقِ حسنی کون کرے گا

روتے ہیں وہ، جو عون و محمد کے ہیں، ہم سن

کہتے ہیں کہ مکتب میں نہ جی بہلے گا تم بن

اس داغ سے چین آئے ہمیں، یہ نہیں ممکن

گرمی کا مہینہ ہے سفر کے یہ نہیں دن

تم حضرتِ شبیرؔ کے سایے میں پلے ہو

کیوں دھوپ کی تکلیف اٹھانے کو چلے ہو

ہم جولیوں سے کہتے تھے وہ دونوں برادر

ہاں بھائیو تم بھی ہمیں یاد آؤ گے اکثر

پالا ہے ہمیں شاہ نے، ہم جائیں نہ کیوں کر

ماموں رہیں جنگل میں تو اپنا ہے وہی گھر

وہ دن ہو کہ ہم حقِّ غلامی سے ادا ہوں

تم بھی یہ دعا مانگو کہ ہم شہ پہ فدا ہوں

رخصت کے لئے لوگ چلے آتے ہیں باہم

ہر قلب حزیں ہے، تو ہر اک چشم ہے پُر نم

ایسا نہیں گھر کوئی کہ جس میں نہیں ماتم

غل ہے کہ چلا دلبرِ مخدومۂ عالم

خدام کھڑے پیٹتے ہیں قبر نبی کے

روضہ پہ اداسی ہے رسولِ عربی کے

ہے جب سے کھلا حالِ سفر بند ہے بازار

یہ جنسِ غم ارزاں ہے کہ روتے ہیں دکاں دار

خاک ارتی ہے ویرانیِ یثرب کے ہیں آثار

ہر کوچے میں ہے شور، کہ ہے ہے شہِ ابرار

اب یاں کوئی والی نہ رہا آہ ہمارا

جاتا ہے مدینے سے شہنشاہ ہمارا

تدبیر سفر میں ہیں ادھر سبطِ پیمبر

گھر میں کبھی آتے ہیں کبھی جاتے ہیں باہر

اسباب نکلواتے ہیں عباسؔ دلاور

تقسیم سواری کے تردد میں ہیں اکبرؔ

شہ کو جنہیں لے جانا ہے، وہ پاتے ہیں گھوڑے

خالی ہوا اصطبل، چلے آتے ہیں گھوڑے

حاضر درِ دولت پہ ہیں، سب یاور و انصار

کوئی تو کمر باندھتا ہے اور کوئی ہتھیار

ہودج بھی کسے جاتے ہیں، محمل بھی ہیں تیار

چلاتے ہیں درباں، کؤی آئے نہ خبردار

ہر محمل و ہودج پہ گھٹا ٹوپ پڑے ہیں

پردے کی قناتیں لئے فراش کھڑے ہیں

عوراتِ محلہ چلی آتی ہیں بصد غم

کہتی ہیں یہ دن رحلتِ زہراؔ سے نہیں کم

پُرسے کی طرح رونے کا غل ہوتا ہے ہر دم

فرش اٹھتا ہے کیا بچھتی ہے گویا صفِ ماتم

غل ہوتا ہے ہر سمت، جدا ہوتی ہے زینبؔ

ہر اک کے گلے ملتی ہے اور روتی ہے زینبؔ

لے لے کے بلائیں یہی سب کرتی ہیں تقریر

اس گرمی کے موسم میں کہاں جاتے ہیں شبیرؔ

سمجھاتی نہیں بھائی کو اے شاہ کی ہمشیر

مسلم کا خط آ لے تو کریں کوچ کی تدبیر

للّٰلہ ابھی قبر پیمبرؐ کو نہ چھوڑیں

گھر فاطمہؔ زہرا کا ہے اس گھر کو نہ چھوڑیں

وہ گھر ہے ملک رہتے تھے جس گھر کے نگہباں

کیوں اپنے بزرگوں کا مکاں کرتے ہیں ویراں

کوفے کی بھی خلقت تو نہیں صاحب ایماں

بی بی یہ مدینے کی تباہی کا ہے ساماں

ایک ایک شقی دشمنِ اولادِ علیؔ ہے

شمشیر ستم واں سرِ حیدر پہ چلی ہے

اجڑے گا مدینہ جو یہ گھر ہوئے گا خالی

بربادیِ یثرب کی بنا چرخ نے ڈالی

کیا جانیں پھر آئیں کہ نہ آئیں شہِ عالی

حضرت کے سوا کون ہے اس شہر کا والی

زہراؔ ہیں نہ حیدرؔ نہ پیمبر نہ حسنؔ ہیں

اب ان کی جگہ آپ ہیں یا شاہِ زمن ہیں

گرمی کا یہ دن اور پہاڑوں کا سفر آہ

ان چھوٹے سے بچوں کا نگہبان ہے اللہ

رستے کی مشقت سے کہاں ہیں ابھی آگاہ

ان کو تو نہ لے جائیں سفر میں شہِ ذی جاہ

قطرہ بھی دمِ تشنہ دہانی نہیں ملتا

کوسوں تلک اس راہ میں پانی نہیں ملتا

منہ دیکھ کے اصغر کا چلا آتا ہے رونا

آرام سے مادر کی کہاں گود میں سونا

جھولا یہ کہاں اور کہاں نرم بچھونا

لکھا تھا اسی سن میں مسافر انہیں ہونا

کیا ہوگا جو میداں میں ہوا گرم چلے گی

یہ پھول سے کمھلائیں گے، ماں ہاتھ ملے گی

ان بیبیوں سے کہتی تھی یہ شاہ کی ہمشیر

بہنوں ہمیں یثرب سے لئے جاتی ہے تقدیر

اس شہر میں رہنا نہیں ملتا کسی تدبیر

یہ خط پہ خط آئے ہیں کہ مجبور ہیں شبیرؔ

مجھ کو بھی ہے رنج ایسا کہ کچھ کہہ نہیں سکتی

بھائی سے جدا ہو کے مگر رہ نہیں سکتی

ماں کی لحد چھوڑ کے میں یاں سے نہ جاتی

فاقے بھی اگر ہوتے تو غم اس کا نہ کھاتی

بھائی کی طرف دیکھ کے شق ہوتی ہے چھاتی

بے جائے، مجھے بات کوئی بن نہیں آتی

ظاہر میں تو مابین لحد سوتی ہیں اماں

میں خواب میں جب دیکھتی ہوں روتی ہیں اماں

ہے روح پہ اماں کی قلق کرتی ہیں زاری

سر پیٹتے میں نے انہیں دیکھا کئی باری

روداد بیاں کر گئی ہیں مجھ سے وہ ساری

فرماتی تھیں بھائی سے خبر دار میں واری

غم خوار ہے تو اور خدا حافظِ جاں ہے

نہ باپ ہے سر پر مرے بچے کے نہ ماں ہے

یاد آتی ہے ہر دم مجھے اماں کی مصیبت

کچھ جان کی تھی فکر نہ ان کو دمِ رحلت

آہستہ یہ فرماتی تھیں باصد غم و حسرت

شبیرؔ سدھارے جو سوئے وادیِٔ غربت

اس دن مری تربت سے بھی منہ موڑیو زینبؔ

اس بھائی کو تنہا نہ کبھی چھوڑیو زینبؔ

اماں کی وصیت کو بجا لاؤں نہ کیوں کر

گھر بھائی سے تھا بھائی نہ ہوگا تو کہاں گھر

دو بہنیں ہیں ماں جائیاں اور ایک برادر

رسی سے بندھے ہاتھ کہ بلوے میں کھلے سر

جو ہووے سو ہو بھائی کے ہمراہ ہے زینبؔ

اس کوچ کے انجام سے آگاہ ہے زینبؔ

یہ کہتی تھی زینبؔ کہ پکارے شہِ عادل

تیار ہیں دروزاے پہ سب ہودج و محمل

طے شام تلک ہوگی کہیں آج کی منزل

رخصت کرو لوگوں کو بس اب رونے سے حاصل

چلتی ہے ہوا سرد ابھی وقت سحر ہے

بچے کئی ہمراہ ہیں گرمی کا سفر ہے

رخصت کرو ان کو جو کہ ہیں ملنے کو آئے

کہہ دو کوئی گہوارۂ اصغر کو بھی لائے

نادان سکینہؔ کہیں آنسو نہ بہائے

جانے کی خبر میری نہ صغراؔ کہیں پائے

ڈر ہے کہیں گھبرا کے نہ دم اس کا نکل جائے

باتیں کرو ایسی کہ وہ بیمار بہل جائے

رخصت کو ابھی قبر پیمبر پہ ہے جانا

کیا جانیے پھر ہو کہ نہ ہوئے مرا آنا

اماں کی لحد پر ہے ابھی اشک بہانا

اس مرقدِ انور کو ہے آنکھوں سے لگانا

آخر تو لئے جاتی ہے، تقدیر وطن سے

چلتے ہوئے ملنا ہے ابھی قبرِ حسن سے

سن کر یہ سخن بانوئے ناشاد پکاری

میں لٹتی ہوں کیسا سفر اور کیسی سواری

غش ہو گئی ہے فاطمہؔ صغرا مری پیاری

یہ کس کے لئے کرتے ہیں سب گریہ و زاری

اب کس پہ میں اس صاحبِ آزار کو چھوڑوں

اس حال میں کس طرح سے بیمار کو چھوڑوں

ماں ہوں میں، کلیجہ نہیں، سینہ میں سنبھلتا

صاحب مرے دل کو ہے کوئی ہاتھوں سے ملتا

میں تو اسے لے چلتی، یہ کچھ بس نہیں چلتا

رہ جاتیں جو بہنیں بھی تو دل اس کا بہلتا

دروازے پہ تیار سواری پہ کھڑی ہے

پر اب تو مجھے جان کی صغراؔ کی پڑی ہے

چلاتی تھی کبراؔ کہ بہن آنکھ تو کھولو

کہتی تھی سکینہؔ کہ ذرا منہ سے تو بولو

ہم جاتے ہیں تم اٹھ کے بغل گیر تو ہو لو

چھاتی سے لگو باپ کی دل کھول کے رو لو

تم جس کی ہو شیدا وہ برادر نہ ملے گا

گھر بھر میں جو ڈھونڈو گی تو اکبر نہ ملے گا

ہشیار ہو کیا صبح سے بیہوش ہے خواہر

اصغرؔ کو کرو پیار کلیجے سے لگا کر

چھاتی سے لگو اٹھ کے کھڑی روتی ہیں مادر

ہم روتے ہیں دیکھو تو ذرا آنکھ اٹھا کر

افسوس، اسی طور سے غفلت میں رہو گی

کیا آخری بابا کی زیارت نہ کرو گی

سن کر یہ سخن شاہ کے آنسو نکل آئے

بیمار کے نزدیک گئے سر کو جھکائے

منہ دیکھ کے بانو کا سخن لب پہ یہ لائے

کیا ضعف و نقاہت ہے، خدا اس کو بچائے

جس صاحبِ آزار کا یہ حال ہو گھر میں

دانستہ میں کیوں کر اسے لے جاؤں سفر میں

کہہ کر یہ سخن بیٹھ گئے سید خوش خو

اور سورۂ الحمد پڑھا تھام کے بازو

بیمار نے پائی گلِ زہراؔ کی جو خوش بو

آنکھوں کو تو کھولا پہ ٹپکنے لگے آنسو

ماں سے کہا مجھ میں جو حواس آئے ہیں اماں

کیا میرے مسیحا مرے پاس آئے ہیں اماں

ماں نے کہا ہاں ہاں وہی آئے ہیں مری جاں

جو کہنا ہو کہہ لو کہ یہاں اور ہے ساماں

دیکھو تو ادھر روتے ہیں بی بی شہِ ذی شاں

صغراؔ نے کہا ان کی محبت کے میں قرباں

وہ کون سا ساماں ہے جو یوں روتے ہیں بابا

کھل کر کہو مجھ سے کہ جدا ہوتے ہیں بابا

یہ گھر کا سب اسباب گیا کس لئے باہر

نہ فرش، نہ ہے مسندِ فرزند پیمبر

دالان سے کیا ہوگیا گہورۂ اصغرؔ

اجڑا ہوا لوگو نظر آتا ہے مجھے گھر

کچھ منہ سے تو بولو مرا دم گھٹتا ہے اماں

کیا سبطِ پیمبر سے وطن چھٹتا ہے اماں

شبیرؔ کا منہ تکنے لگی بانوئے مغموم

صغراؔ کے لئے رونے لگیں زینبؔ و کلثومؔ

بیٹی سے یہ فرمانے لگی سیدِ مظلوم

پردہ رہا اب کیا تمہیں خود ہوگیا معلوم

تم چھٹتی ہو اس واسطے سب روتے ہیں صغراؔ

ہم آج سے آوارہ وطن ہوتے ہیں صغراؔ

اب شہر میں اک دم ہے ٹھہرنا مجھے دشوار

میں پا بہ رکاب، اور ہو تم صاحبِ آزار

پھر آتا ہے وہ گھر میں، سفر میں جو ہو بیمار

تکلیف تمہیں دوں یہ مناسب نہیں زنہار

غربت میں بشر کے لئے سو طرح کا ڈر ہے

میرا تو سفر رنج و مصیبت کا سفر ہے

لُو چلتی ہے خاک اڑتی ہے گرمی کے ہیں ایام

جنگل مین نہ راحت، نہ کہیں راہ میں آرام

بستی میں کہیں صبح، تو جنگل میں کہیں شام

دریا کہیں حائل، کہیں پانی کا نہیں نام

صحّت میں گوارا ہے جو تکلیف گذر جائے

اس طرح کا بیمار نہ مرتا ہو تو مرجائے

صغراؔ نے کہا کھانے سے خود ہے مجھے انکار

پانی جو کہیں راہ میں مانگوں تو گنہگار

کچھ بھوک کا شکوہ نہیں کرنے کی یہ بیمار

تبرید فقط آپ کا ہے شربتِ دیدار

گرمی میں بھی راحت سے گزر جائے گی بابا

آئے گا پسینہ تپ اتر جائے گی بابا

کیا تاب اگر منہ سے کہوں درد ہے سر میں

اف تک نہ کروں، بھڑکے اگر آگ جگر میں

بھولے سے بھی شب کو نہ کراہوں گی سفر میں

قربان گئی، چھوڑ نہ جاؤ مجھے گھر میں

ہو جانا خفا راہ میں گر روئے گی صغراؔ

یاں نیند کب آتی ہے جو واں سوئے گی صغراؔ

وہ بات نہ ہوگی، کہ جو بے چین ہوں مادر

ہر صبح میں پی لوں گی دوا آپ بنا کر

دن بھر، مری گودی میں رہیں گے علی اصغرؔ

لونڈی ہوں سکینہؔ کی، نہ سمجھو مجھے دختر

میں یہ نہیں کہتی کہ عماری میں بٹھا دو

بابا مجھے فضہ کی سواری میں بٹھا دو

شہہ بولے کہ واقف ہے مرے حال سے اللہ

میں کہہ نہیں سکتا مجھے درپیش ہے جو راہ

کھل جائے گا یہ راز بھی، گو تم نہیں آگاہ

ایسا بھی کوئی ہے جسے بیٹی کی نہ ہو چاہ

ناچار یہ فرقت کا الم سہتا ہوں صغراؔ

ہے مصلحتِ حق یہی جو کہتا ہوں صغراؔ

اے نورِ بصر آنکھوں پہ لے کر تجھے چلنا

تو مجھ سے بہلتی، مرا دل تجھ سے بہلتا

تپ ہے تجھے، اور غم سے جگر ہے مرا جلتا

یہ ضعف کہ دم تک نہیں سینے میں سنبھلتا

جز ہجر علاج اور کوئی ہو نہیں سکتا

دانستہ تمہیں ہاتھ سے میں کھو نہیں سکتا

منہ تکنے لگی ماں کا وہ بیمار بصد غم

چتون سے عیاں تھا کہ چلیں آپ موئے ہم

ماں کہتی تھی مختار ہیں، بی بی شہ عالم

میرے تو کلیجے پہ چھری چلتی ہے اس دم

وہ درد ہے جس درد سے چارا نہیں صغراؔ

تقدیر سے کچھ زور ہمارا نہیں صغراؔ

صغراؔ نے کہا کوئی کسی کا نہیں زنہار

سب کی یہی مرضی ہے کہ مر جائے یہ بیمار

اللہ نہ وہ آنکھ کسی کی ہے، نہ وہ پیار

اک ہم ہیں کہ ہیں، سب پہ فدا سب کے ہیں غم خوار

بیزار ہیں سب ایک بھی شفقت نہیں کرتا

سچ ہے کوئی مردے سے محبت نہیں کرتا

ہمشیر کے عاشق ہیں سلامت رہیں اکبرؔ

اتنا نہ کہا مر گئی یا جیتی ہے خواہر

میں گھر میں تڑپتی ہوں وہ ہیں صبح سے باہر

وہ کیا کریں برگشتہ ہے اپنا ہی مقدر

پوچھا نہ کسی نے کہ وہ بیمار کدھر ہے

نہ بھائیوں کو دھیان نہ بہنوں کو خبر ہے

کیا ان کو پڑی تھی جو وہ غم کھانے کو آتے

میں کون جو صورت مجھے دکھلانے کو آتے

ہوتی جو غرض چھاتی سے لپٹانے کو آتے

زلفیں جو الجھتی تو، سلجھوانے کو آتے

کل تک تو مرے حالِ پریشاں پہ نظر تھی

تقدیر کے اس پیچ کی مجھ کو نہ خبر تھی

مانوس سکینہؔ سے ہیں عباسؔ دلاور

میں کون ہوں جو میری خبر پوچھتے آ کر

سرسبز رہے خلق میں نو بادۂ شبّر

شادی میں بلائیں مجھے یہ بھی نہیں باور

بے دولہا بنے منہ کو چھپاتے ہیں ابھی سے

میں جیتی ہوں اور آنکھ چراتے ہیں ابھی سے

کس سے کہوں اس درد کو میں بیکس و رنجور

بہنیں بھی الگ مجھ سے ہیں اور بھائی بھی ہیں دور

اماں کا سخن یہ ہے کہ بیٹی میں ہوں مجبور

ہمراہیٔ بیمار کسی کو نہیں منظور

دنیا سے سفر، رنج و مصیبت میں لکھا تھا

تنہائی کا مرنا مری قسمت میں لکھا تھا

سب بیبیاں رونے لگیں سن سن کے یہ تقریر

چھاتی سے لگا کر اسے کہنے لگے شبیرؔ

لو صبر کرو، کوچ میں اب ہوتی ہے تاخیر

منہ دیکھ کے چپ رہ گئی وہ بیکس و دلگیر

نزدیک تھا دل چیر کے پہلو نکل آئے

اچھا تو کہا منہ سے پہ آنسو نکل آئے

بانو کو اشارہ کیا حضرت نے کہ جاؤ

اکبر کو بلاؤ، علیؔ اصغر کو بھی لاؤ

آئے علیؔ اکبر تو کہا شاہ نے آؤ

روٹھی ہے بہن تم سے گلے اس کو لگاؤ

چلتے ہوئے جی بھر کے ذرا پیار تو کر لو

لینے انہیں کب آؤ گے اقرار تو کر لو

پاس آن کے اکبرؔ نے یہ کی پیار کی تقریرا

کیا مجھ سے خفا ہوگئیں صغراؔ مری تقصیر

چلانے لگی، چھاتی پہ منہ رکھ کے، وہ دلگیر

محبوب برادر ترے قربان یہ ہمشیر

صدقے ترے سر پر سے اتارے مجھے کوئی

بل کھائی ہوئی زلفوں پہ وارے مجھے کوئی

رخساروں پہ سبزے کے نکلنے کے میں صدقے

تلوار لئے شان سے چلنے کے میں صدقے

افسوس سے ان ہاتھوں کے ملنے کے میں صدقے

کیوں روتے ہو اشک آنکھوں سے ڈھلنے کے میں صدقے

جلد آن کے بھینا کی خبر لیجیو بھائی

بے میرے کہیں بیاہ نہ کر لیجیو بھائی

لکھنا مجھے نسبت کا اگر ہو کہیں سامان

حقدار ہوں میں نیگ کی میرا بھی رہے دھیان

اور مر گئی پیچھے تو رہے دل میں سب ارمان

لے آنا دولہن کو مری تربت پہ میں قربان

خوشنود مری روح کو کر دیجیو بھائی

حق نیگ کا تم قبر پہ دھر دیجیو بھائی

پیارے مرے بھیا مرے مہ رو، علیؔ اکبر

چھپ جائیں گے آنکھوں سے یہ گیسو، علیؔ اکبر

یاد آئے گی یہ جسم کی خوشبو، علیؔ اکبر

ڈھونڈھیں گی یہ آنکھیں تمہیں، ہر سو علیؔ اکبر

دل سینے میں کیوں کر تہہ و بالا نہ رہے گا

جب چاند چھپے گا تو اجالا نہ رہے گا

کیا گذرے گی جب گھر سے چلے جاؤ گے بھائی

کیسے مجھے ہر بات میں یاد آؤ گے بھائی

تشریف خدا جانیے کب لاؤ گے بھائی

کی دیر تو جیتا نہ ہمیں پاؤ گے بھائی

کیا دم کا بھروسہ کہ چراغِ سحری ہیں

تم آج مسافر ہو تو ہم کل سفری ہیں

ہا سچ ہے کہ بیمار کا بہتر نہیں جانا

صحت سے جو ہیں ان میں کہاں میرا ٹھکانا

بھیا جو اب آنا تو مری قبر پہ آنا

ہم گور کی منزل کی طرف ہوں گے روانا

کیا لطف کسی کو نہیں گر چاہ ہماری

وہ راہ تمہاری ہے تو یہ راہ ہماری

مرنا تو مقدم ہے، غم اس کا نہیں زنہار

دھڑکا ہے کہ جب ہوں گے عیاں موت کے آثار

قبلہ کی طرف، کون کرے گا رخِ بیمار

یٰسین بھی پڑھنے کو نہ ہوگا کوئی غم خوار

سانس اکھڑے گی جس وقت تو فریاد کروں گی

میں ہچکیاں لے لے کے تمہیں یاد کروں گی

ماں بولی یہ کیا کہتی ہے صغراؔ ترے قربان

گھبرا کے نہ اب تن سے نکل جائے مری جان

بیکس مری بچی، ترا اللہ نگہبان

صحّت ہو تجھے میری دعا ہے یہی ہر آن

کیا بھائی جدا بہنوں سے ہوتے نہیں بیٹا

کنبے کے لئے جان کو کھوتے نہیں بیٹا

میں صدقے گئی بس نہ کرو گریہ و زاری

اصغرؔ مرا روتا ہے صدا سن کے تمہاری

وہ کانپتے ہاتھوں کو اٹھا کر یہ پکاری

آ آ مرے ننھے سے مسافر ترے واری

چھٹتی ہے یہ بیمار بہن جان گئے تم

اصغرؔ مری آواز کو پہچان گئے تم

تم جاتے ہو اور ساتھ بہن جا نہیں سکتی

تپ ہے تمہیں چھاتی سے میں لپٹا نہیں سکتی

جو دل میں ہے لب پر وہ سخن لا نہیں سکتی

رکھ لوں تمہیں اماں کو بھی سمجھا نہیں سکتی

بیکس ہوں مرا کوئی مددگار نہیں ہے

تم ہو سو تمہیں طاقتِ گفتار نہیں ہے

معصوم نے جس دم یہ سنی درد کی گفتار

صغراؔ کی طرف ہاتھوں کو لٹکا دیا اک بار

لے لے کے بلائیں یہ لگی کہنے وہ بیمار

جھک جھک کے دکھاتے ہو مجھے آخری دیدار

دنیا سے کوئی دن میں گذر جائے گی صغراؔ

تم بھی یہ سمجھتے ہو کہ مر جائے گی صغراؔ

عباس نے اتنے میں یہ ڈیوڑھی سے پکارا

چلنے کو ہے اب قافلہ تیار ہمارا

لپٹا کے گلے فاطمہؔ صغرا کو دوبارا

اٹھے شہِ دیں، گھر تہہ و بالا ہوا سارا

جس چشم کو دیکھا سو وہ پر نم نظر آئی

اک مجلسِ ماتم تھی، کہ برہم نظر آئی

بیت الشرفِ خاص سے نکلے شہِ ابرار

روتے ہوئے ڈیوڑھی پہ گئے عترتِ اطہار

فراشوں کو عباس پکارے یہ بہ تکرار

پردے کی قناتوں سے خبردار! خبردار

باہر حرم آتے ہیں، رسول دوسرا کے

شقہ کوئی جھک جائے نہ جھونکے سے ہوا کے

لڑکا بھی جو کوٹھے پہ چڑھا ہو وہ اتر جائے

آتا ہو ادھر جو وہ، اسی جا پہ ٹھہر جائے

ناقے پہ بھی کوئی نہ برابر سے گذر جائے

دیتے رہو آواز جہاں تک کہ نظر جائے

مریمؔ سے سوا حق نے شرف ان کو دیئے ہیں

افلاک پہ آنکھوں کو ملک بند کیے ہیں

عباسؔ علی سے علیؔ اکبر نے کہا تب

ہیں قافلہ سالارِ حرم حضرت زینبؔ

پہلے وہ ہوں اسوار تو محمل میں چڑھیں سب

حضرت نے کہا ہاں یہی میرا بھی ہے مطلب

گھر میں مرنے زہراؔ کی جگہ بنتِ علیؔ ہے

میں جانتا ہوں ماں مرے ہمراہ چلی ہے

پہنچی جو ہیں ناقے کے قریں دخترِ حیدرؔ

خود ہاتھ پکڑنے کو بڑھے سبطِ پیمبر

فضہ تو سنبھالے ہوئے تھی گوشۂ چادر

تھے پردۂ محمل کو اٹھائے علیؔ اکبر

فرزند کمر بستہ چپ و راس کھڑے تھے

نعلین اٹھا لینے کو عباسؔ کھڑے تھے

اک دن تو مہیا تھا، یہ سامانِ سواری

اک روز تھا وہ، گرد تھے نیزے لئے ناری

محمل تھا، نہ ہودج، نہ کجاوہ، نہ عماری

بے پردہ تھی وہ حیدر کرار کی پیاری

ننھے کئی بچوں کے گلے ساتھ بندھے تھے

تھے بال کھلے چہروں پہ اور ہاتھ بندھے تھے

زینت دہِ محمل جو ہوئی دخترِزہرا

ناقوں پہ چڑھے سب حرمِ سیدِ والا

آنے لگے رہوار، کھلا گرد کا پردا

عباسؔ سے بولے یہ شہِ یثرب و بطحا

صدمہ ہے بچھڑنے کا مرے روحِ نبی پر

رخصت کو چلو قبرِ رسولِ عربی پر

ہے قبر پہ نانا کی مقدم مجھے جانا

کیا جانیے پھر ہو کہ نہ ہو شہر میں آنا

اماں کی ہے تربت پہ ابھی اشک بہانا

اس مرقدِ انور کو ہے آنکھوں سے لگانا

آخر تو لیے جاتی ہے تقدیرِ وطن سے

چلتے ہوئے ملنا ہے ابھی قبرِ حسنؔ سے

پیدل شہِ دیں روضۂ احمد کو سدھارے

تربت سے صدا آئی کہ آ آ مرے پیارے

تعویذ سے شبیرؔ لپٹ کر یہ پکارے

ملتا نہیں آرام نواسے کو تمہارے

خط کیا ہیں اجل کا یہ پیام آیا ہے نانا

آج آخری رخصت کو غلام آیا ہے نانا

خادم کو کہیں امن کی اب جا نہیں ملتی

راحت کوئی ساعت مرے مولا نہیں ملتی

دکھ کون سا اور کون سی ایذا نہیں ملتی

ہیں آپ جہاں، راہ وہ اصلا نہیں ملتی

پابندِ مصیبت ہوں گرفتارِ بلا ہوں

خود پاؤں سے اپنے طرفِ قبر چلا ہوں

میں اک تنِ تنہا ہوں ستم گار ہزاروں

اک جان ہے اور درپئے آزار ہزاروں

اک پھول سے رکھتے ہیں، خلشِ خار ہزاروں

اک سر ہے فقط اور خریدار ہزاروں

واں جمع کئی شہر کے خوں ریز ہوئے ہیں

خنجر مری گردن کے لئے تیز ہوئے ہیں

فرمایئے اب جائے کدھر آپ کا شبیرؔ

یاں قید کی ہے فکر ادھر قتل کی تدبیر

تیغیں ہیں کہیں میرے لئے اور کہیں زنجیر

خوں ریزی کو کعبہ تلک آ پہنچے ہیں بے پیر

بچ جاؤں، جو پاس اپنے بلا لیجئے نانا

تربت میں نواسے کو چھپا لیجئے نانا

یہ کہہ کے مَلا قبر سے شہہ نے جو رخِ پاک

ہلنے لگا صدمے سے مزارِ شہِ لولاک

جنبش جو ہوئی قبر کو تھرا گئے افلاک

کانپی جو زمیں صحنِ مقدس میں اڑی خاک

اس شور میں آئی یہ صدا روضۂ جد سے

تم آگے چلو ہم بھی نکلتے ہیں لحد سے

باتوں نے تری دل کو مرے کر دیا مجروح

تو شہر سے جاتا ہے تڑپتی ہے مری روح

بے تیغ کیا، خنجرِ غم نے ترے مذبوح

ہے کشتیِٔ امت پہ تباہی، کہ چلا نوح

افلاکِ امامت کا تجھے بدر نہ سمجھے

بے قدر ہیں ظالم کہ تری قدر نہ سمجھے

مارا گیا جس روز سے شبرؔ مرا پیارا

اس روز سے ٹکڑے ہے کلیجہ مرا سارا

اب قتل میں ہوتا ہوں ترے ساتھ دوبارا

امت نے کیا پاسِ ادب خوب ہمارا

زہراؔ کی جو بستی کو اجاڑیں تو عجب کیا

اعدا مجھے تربت سے اکھاڑیں تو عجب کیا

اس ذکر پہ رویا کیے شہہ سر کو جھکائے

واں سے جو اٹھے فاطمہؔ کی قبر پہ آئے

پائینِ لحد گر کے بہت اشک بہائے

آواز یہ آئی کہ میں صدقے مرے جائے

ہے شور ترے کوچ کا جس دن سے وطن میں

پیارے میں اسی دن سے تڑپتی ہوں کفن میں

تربت میں جو کی میں نے بہت گریہ و زاری

گھبرا کے علیؔ آئے نجف سے کئی باری

کہتے تھے کہ اے احمدِ مختار کی پیاری

تم پاس ہو تربت ہے بہت دور ہماری

گھر لٹتا ہے کیوں کر ہمیں چین آئے گا زہراؓ

کیا ہم سے نہ رخصت کو حسینؔ آئے گا زہراؓ

میں نے جو کہا قبر سے کیوں نکلے ہو باہر

نہ سر پہ عمامہ ہے نہ ہے دوش پہ چادر

فرمایا کہ ماتم میں ہوں اے بنتِ پیمبر

مرنے کو پسر جاتا ہے برباد ہوا گھر

ترسیں گے وہ پانی کو جو نازوں کے پلے ہیں

تلواریں ہیں اب اور مرے بچوں کے گلے ہیں

پھرتا ہے مری آنکھوں میں شبیرؔ کا مقتل

وہ نہرِ فرات اور کئی کوس کا جنگل

وہ بجلیاں تلواروں کی اور شام کا بادل

دریا سے وہ پیاسوں کے ہٹا دینے کی ہلچل

شبیرؔ کے سر پر سے یہ آفت نہ ٹلے گی

دسویں کو محرم کی چھری مجھ پہ چلے گی

سن کر یہ بیاں باپ کا مادر کی زبانی

رو رو کے پکارا اسد اللہ کا جانی

ہاں والدہ سچ ہے نہ ملے گا مجھے پانی

پیاسے ہیں مرے خون کے یہ ظلم کے بانی

بچپن میں کیا تھا، مرا ماتم شہ دیں نے

نانا کو خبر دی تھی مری روح امیں نے

پہلو میں جو تھی فاطمہؔ کے تربتِ شبرؔ

اس قبر سے لپٹے بہ محبت شہِ صفدر

چلائے کہ شبیرؔ کی رخصت ہے برادر

حضرت کو تو پہلو ہوا اماں کا میسر

قبریں بھی جدا ہیں تہِ افلاک ہماری

دیکھیں ہمیں لے جائے کہاں خاک ہماری

یہ کہہ کے چلے قبر حسن سے شہِ مظلوم

رہوار جو مانگا تو سواری کی ہوئی دھوم

یارانِ وطن گرد تھے افسردۂ مغموم

چلاتے تھے خادم کہ چلا خلق کا مخدوم

خالی ہوا گھر آج رسول عربی کا

تابوت اسی دھوم سے نکلا تھا بنی کا

جب اٹھ گئی تھیں خلق سے مخدومۂ عالم

سر پیٹتے تھے لوگ اسی طرح سے باہم

برپا تھا جنازے پہ علیؔ کے یونہیں ماتم

تھا رحلتِ شبرؔ میں محبوں کا یہی غم

بس آج سے بے وارث و والی ہے مدینہ

اب پنجتن پاک سے خالی ہے مدینہ

چلاتی تھیں رانڈیں کہ چلی شہہ کی سواری

لے گا خبر اب کون مصیبت میں ہماری

آنکھوں سے یتیموں کی دُرِ اشک تھا جاری

مضطر تھے اپاہج ضعفا کرتے تھے زاری

کہتے تھے گدا، ہم کو غنی کون کرے گا

محتاجوں کی فاقہ شکنی کون کرے گا

تھا، ناکے تلک شہر کے اک شورِ قیامت

سمجھاتے ہوئے سب کو چلے جاتے تھے حضرت

رو رو کے وہ کہتا تھا جسے کرتے تھے رخصت

پائیں گے کہاں ہم، یہ غنیمت ہے زیارت

آخر تو بچھڑ کر کفِ افسوس ملیں گے

دس بیس قدم اور بھی ہمراہ چلیں گے

قسمیں انہیں دے دے کے کہا شہ نے کہ جاؤ

تکلیف تمہیں ہوتی ہے اب ساتھ نہ آؤ

اللہ کو سونپا تمہیں آنسو نہ بہاؤ

پھرنے کے نہیں، ہم سے بس اب ہاتھ اٹھاؤ

اس بیکس و تنہا کی خبر پوچھتے رہنا

یارو مری صغراؔ کی خبر پوچھتے رہنا

روتے ہوئے وہ لوگ پھرے شاہ سدھارے

جو صاحبِ قسمت تھے وہ ہمراہ سدھارے

کس شوق سے مردانِ حق آگاہ سدھارے

عابد طرفِ خانۂ اللہ سدھارے

اترے نہ مسافر کسی مخلوق کے گھر میں

عاشق کو کشش لے گئی معشوق کے گھر میں

روشن ہوئی کعبہ کی زمیں نورِ خدا سے

مکہ نے شرف اور بھی پایا شرفا سے

جھک جھک کے ملے، سبطِ پیمبر غربا سے

آباد ہوا شہر، نمازوں کی صدا سے

خوش ہو کے ہوا خواہ یہ کہتے تھے علیؓ کے

سب باپ کی خو بو ہے نواسے میں نبی کے

کعبے مین بھی اک دن نہ ملا شاہ کو آرام

کوفے سے چلے آتے تھے نامے سحر و شام

اعدا نے گذرنے نہ دیے، حج کے بھی ایام

کھولا پسرِ فاطمہ نے باندھ کے احرام

عازم طرفِ راہِ الٰہی ہوئے حضرت

تھی ہشتم ذی الحجہ کہ راہی ہوئے حضرت

جاتے تھے دل افسردہ و غمگیں شہِ ابرار

ہر گام پہ ہوتے تھے عیاں موت کے آثار

قبریں نظر آتیں کسی صحرا میں جو دو چار

فرماتے تھے شہ فاعتبرو یا اولی الابصار

جز خاک نہ ہوئے گا نشان بھی بدنوں کا

انجام یہ ہے ہم سے غریب الوطنوں کا

احباب کہیں، گھر ہے کہیں، آپ کہیں ہیں

آگے تو زمیں پر تھے پر اب زیرِ زمیں ہیں

خالی ہیں مکاں آپ تہِ خاک مکیں ہیں

جو دور نہ رہتے تھے وہ اب پاس نہیں ہیں

حسرت یہ رہی ہوگی کہ پہنچے نہ وطن میں

کیا منہ کو لپیٹے ہوئے سوتے ہیں کفن میں

باتیں تھیں یہی یاس کی اور درد کی تقریر

منزل پہ بھی آرام سے سوتے تھے نہ شبیرؔ

شب کو کہیں اترے، تو سحر کو ہوئے رہگیر

جلدی تھی کہ، ہو جائے شہادت میں نہ تاخیر

مقتل کا یہ تھا شوق شہِ جن و بشر کو

جس طرح سے ڈھونڈھے کوئی معشوق کے گھر کو

ملتا تھا کوئی مرد مسافر جو سر راہ

یوں پوچھتے تھے اس سے بہ حسرت شہہ ذی جاہ

ایسا کوئی صحرا بھی ہے اے بندۂ اللہ

اک نہر سوا جس میں ہو چشمہ نہ کوئی چاہ

کیا ملتا ہے، اس دشت میں اور کیا نہیں ملتا

ہم ڈھونڈھتے پھرت ہیں، وہ صحرا نہیں ملتا

وہ عرض یہ کرتا تھا کہ سبطِ شہِ لولاک

ہے سخت پُر اندوہ، وہ صحرا تہہ افلاک

ہنستا ہوا واں جائے تو ہو جاتا ہے غمناک

سنتا ہوں وہاں دن کو اڑاتا ہے کوئی خاک

واں راتوں کو آتی ہے صدا سینہ زنی کی

درویش کی ممکن ہے سکونت نہ غنی کی

چلاتی ہے عورت کوئی ہے ہے مرے فرزند

اس دشت میں ہو جائے گا تو خاک کا پیوند

تلواروں سے ٹکرے یہیں ہوں گے ترے دلبند

پانی یہیں ہو جائے گا بچوں پہ ترے بند

پیارے تو اسی خاک پہ گھوڑے سے گرے گا

ہے ہے یہیں خنجر تری گردن پہ پھرے گا

اک شیر ترائی میں یہ چلاتا ہے دن رات

کٹ جائیں گے یاں ہاتھ مرے لال کے ہیہات

کیا حال کہوں نہر کا، اے شاہِ خوش اوقات

پانی تو نہیں شور، پہ مشہور ہے یہ بات

طائر بھی دمِ تشنہ دہانی نہیں پیتے

وحشی کبھی واں آن کے پانی نہیں پیتے

اس جا نہ اترتا ہے نہ دم لیتا ہے رہ گیر

ہے شور کہ اس آب میں ہے آگ کی تاثیر

پیاسوں کے لئے اس کی ہر اک موج ہے شمشیر

اس طرح ہوا چلتی ہے جس طرح چلیں تیر

بجھتی نہیں واں پیاس کس تشنہ گلو کی

بو آتی ہے اس نہر کے پانی میں لہو کی

اس شخص سے یہ کہہ کے چلے قبلۂ عالم

اللہ نے چاہا تو بسائیں گے اسے ہم

عاشق پہ بلا بعد بلا آتی ہے ہر دم

غم اور بڑھا، وصل کا عرصہ جو رہا کم

آفت یہ نئی فوج شہنشاہ میں آئی

مسلم کی شہادت کی خبر راہ میں آئی

غربت میں نہ ماتم کی سنائے خبر اللہ

طاری ہوا حضرت پہ عجب صدمۂ جانکاہ

گوندھے ہوئے سر کھول کے پیٹے حرمِ شاہ

فرماتے تھے شہ سب کو ہے درپیش یہی راہ

ہو گا وہی اللہ کو جو مدِ نظر ہے

آج ان کا ہوا کوچ، کل اپنا بھی سفر ہے

وارث کے لئے زوجۂ مسلم کا تھا یہ حال

محمل سے گری پڑتی تھی بکھرائے ہوئے بال

روتے تھے بہن کے لئے عباس خوش اقبال

وہ کہتی تھی ساتھ آئے تھے چھوٹے مرے دو لال

پوچھو تو کدھر وہ مرے پیارے گئے دونوں

فرماتے تھے شبیرؔ کہ مارے گئے دونوں

محمل تھے سب اس بی بی کے ہودج کے برابر

تھا شور کہ بیوہ ہوئی شبیرؔ کی خواہر

گھبرا گئی تھی مسلمِؔ مظلوم کی دختر

ہر بار یہی پوچھتی تھی ماں سے لپٹ کر

کیوں پیٹتی ہو کون جدا ہو گیا اماں

غربت میں مرے باپ پہ کیا ہو گیا اماں

اس دن سے تو اک ابر ستم فوج پہ چھایا

کھانا کئی دن قافلہ والوں نے نہ کھایا

رستے میں ابھی تھا اسداللہ کا جایا

جو چاند محرم کا فلک پر نظر آیا

سب نے مہِ نو لشکرِ شبیرؔ میں دیکھا

منہ شاہ نے آئینۂ شمشیر میں دیکھا

خویش و رفقا چاند کی تسلیم کو آئے

مجرے کو جھکے اور سخن لب پہ یہ لائے

یہ چاند مبارک ہو یداللہ کے جائے

کفار پہ تو فتح، اسی چاند میں پائے

رتبہ مہہ و خورشید سے بالا رہے تیرا

تا حشر زمانے میں اجالا رہے تیرا

حضرت نے دعا پڑھ کے یہ کی حق سے مناجات

کر رحم گنہگاروں پہ اے قاضیِٔ حاجات

سر دینے کا مشتاق ہوں عالِم ہے تری ذات

خنجر مری آنکھوں میں پھرا کرتا ہے دن رات

باقی ہیں جو راتیں وہ عبادت میں بسر ہوں

یہ زیست کے دس دن تری طاعت میں بسر ہوں

پہنچا دے مجھے جلدی بس اے خالقِ افلاک

اُس خاک پہ جس خاک سے ملتی ہے مری خاک

طالب ہے ترے قرب کا سبطِ شہہ لولاک

نہ ملک کی خواہش ہے نہ درکار ہے املاک

بیتاب ہے دل صبر کا یارا نہیں مجھ کو

اب فصل بجز وصل گوارا نہیں مجھو کو

اتنے میں یہ فضہؔ علیؔ اکبر کو پکاری

لو دیکھ چکی چاند ید اللہ کی پیاری

عادت ہے کہ وہ دیکھتی ہیں شکل تمہاری

آنکھوں کو کیے بند یہ فرماتی ہیں واری

آئے تو رخِ اکبرِ ذی قدر کو دیکھوں

شکل مہِ نو دیکھ چکی بدر کو دیکھوں

شہ داخلِ خیمہ ہوئے فرزند کے ہمراہ

منہ دیکھ چکی چاند ید اللہ کی پیاری

یہ چاند ہے کس طرح کا اے فاطمہؓ کے ماہ

فرمانے لگے رو کے بہن سے شہہِ ذی جاہ

سر تن سے مرا اس مہِ پُر غم میں کٹے گا

زینبؔ یہ مہینہ تمہیں ماتم میں کٹے گا

یہ آل نبی کی ہے مصیبت کا مہینا

یہ ظلم کا عشرہ ہے یہ آفت کا مہینا

پہنچا ہے غریبوں کی شہادت کا مہینا

آخر ہے بس اب عمر کی مدت کا مہینا

یہ بار امامت مری گردن سے اتر جائے

ہو خاتمہ بالخیر جو سر تن سے اتر جائے

گردوں پہ مہِ نو جو نمایاں ہے یہ ہمشیر

چڑھتی ہے مرے سر کے لئے چرخ پہ شمشیر

اس چاند میں کٹ جائے گا سب لشکرِ شبیر

نیزہ کوئی کھائے گا کلیجہ پہ، کوئی تیر

برچھی کسی جانباز کے پہلو میں لگے گی

شمشیر، کسی شیر کے پہلو میں لگے گی

خیمے کو جلا دیں گے، لٹے گا زر و زیور

اس ماہ میں ہوں گے نہ پدر اور نہ برادر

ماؤں سے پسر چھوٹیں گے بہنوں سے برادر

بیوہ کئی سیدانیاں ہوویں گی مقرر

گھڑکیں گے ستمگار جو رووے گی سکینہؔ

اس ماہ میں بے باپ کی ہووے گی سکینہؔ

دولہا کوئی ٹاپوں کے تلے ہوئے گا پامال

پیٹے گی کوئی تازہ دلہن کھولے ہوئے بال

تیروں سے کسی ماں کا جگر ہووئے گا غربال

نکلے گی کوئی کہتی ہوئی ہائے مرا لال

معصوموں کے سونے کی جگہ پائیں گے خالی

بچوں سے بھری گودیاں ہو جائیں گی خالی

اس عشرۂ اوّل میں نہ ہوئیں گے بہن ہم

تاریخِ سفر ہے دہم ماہِ محرم

عشرہ یہ وہ عشرہ ہے کہ اے زینبِؔ پُر غم

جس لال کی عاشق ہو وہ ہو جائے گا بے دم

دیکھو گی نہ پھر منہ علیؔ اکبر سے پسر کا

اب شام میں ہوئے گا تمہیں چاند صفر کا

رونے کے لئے حق نے بنائے ہیں یہ دس دن

ان روزوں خوشی ہو کہ کسی کو نہیں ممکن

لیویں گے مرا تعزیہ ہر شہر کے ساکن

اکبر کو جواں روئیں گے معصوموں کو کم سن

بھولیں ہمیں ایسے نہیں غم خوار ہمارے

ہوئیں گے سیہ پوش عزادار ہمارے

غش ہو گئی سن کر یہ بیاں زینبؔ پُر غم

خیمے میں اسی رات سے برپا ہوا ماتم

بیدار رہیں صبح تلک بیبیاں باہم

خیموں کو اکھڑوا کے چلے قبلۂ عالم

آخر وہی صحرا، وہی جنگل نظر آیا

تھی دوسری تاریخ کہ مقتل نظر آیا

اترے اسی میدانِ بلا خیز میں سرور

استادہ ہوئے، خیمۂ ناموسِ پیمبر

صحرا کی طرف دیکھ کے خوش ہو گئے اکبرؔ

دریا پہ ٹہلنے لگے عباسِؔ دلاور

شہہ بولے ہوا نہر کی بھائی تمہیں بھائی

ہاں شیر ہو دریا کی ترائی تمہیں بھائی

خامے کو بس اب روک انیسؔ جگر افگار

خالق سے دعا مانگ کہ اے ایزدِ غفار

زندہ رہیں دنیا میں شہہ دیں کے عزادار

غیر از غمِ شہ، ان کو نہ غم ہو کوئی زنہار

آنکھوں سے مزارِ شہِ دلگیر کو دیکھیں

اس سال میں بس روضۂ شبیرؔ کو دیکھیں

شمس الرحمن فاروقی کے افکار April 19, 2018

Posted by Farzana Naina in Poetry, شمس الرحمن فاروقی.
Tags:
add a comment

شمس الرحمن فاروقی کے درج ذیل نتائج، افکار اور تجاویز نہ صرف شعرا کے لیے کیمیا اثر ہیں بلکہ شعر و ادب کے ہر سنجیدہ طالب عالم کے لیے بھی یہ رہنما اصول کا درجہ رکھتے ہیں۔ فاروقی صاحب کی یہ تحریر ان کی مشہور تصنیف “تنقیدی افکار” سے ماخوذ ہے۔ اگرچہ اصل فہرست طویل ہے جسے سلسلہ وار پڑھنے کی تلقین صاحب کتاب نے کی ہے لیکن تنگیِ صفحات اور طلبہ کی ضرورتوں کے مد نظر ، میں اس کی تلخیص پیش کی جارہی ہے۔

1۔ موزوں، ناموزوں سے بہتر ہے۔

(الف)چونکہ نثری نظم میں موزونیت ہوتی ہے، اس لیے نثری نظم، نثر سے بہتر ہوتی ہے۔

2۔ انشا، خبر سے بہتر ہے۔

3۔ کنایہ، تصریح سے بہتر ہے۔

4۔ ابہام، توضیح سے بہتر ہے۔

5۔ اجمال، تفصیل سے بہتر ہے۔

6۔ استعارہ، تشبیہ سے بہتر ہے۔

7۔ علامت، استعارے سے بہتر ہے۔

(الف) لیکن علامت چونکہ خال خال ہی ہاتھ لگتی ہے ، اس لیے استعارے کی تلاش بہتر ہے۔

8۔ تشبیہ، مجرد اور سادہ بیان سے بہتر ہے۔

9۔ پیکر، تشبیہ سے بہتر ہے۔

10۔ دو مصرعوں کے شعر کا حسن اس بات پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ دونوں مصرعوں میں ربط کتنا اور کیسا ہے؟

11۔ اس ربط کو قائم کرنے میں رعایت بہت کام آتی ہے۔

12۔ مبہم شعر، مشکل شعر سے بہتر ہوتا ہے۔

13۔ مشکل شعر، آسان شعر سے بہتر ہوسکتا ہے۔

14۔ شعر کا آسان یا سریع الفہم ہونا اس کی اصلی خوبی نہیں۔

15۔ مشکل سے مشکل شعر کے معنی بہرحال محدود ہوتے ہیں۔

16۔ مبہم شعر کے معنی بہرحال نسبتاً محدود ہوتے ہیں۔

17۔ شعر میں معنی آفرینی سے مراد یہ ہے کہ کلام ایسا بنایا جائے جس میں ایک سے زیادہ معنی نکل سکیں۔

18۔ چونکہ قافیہ بھی معنی میں معاون ہوتا ہے، اس لیے قافیہ پہلے سے سوچ کر شعر کہنا کوئی گناہ نہیں۔

19۔ شعر میں کوئی لفظ، بلکہ کوئی حرف، بے کار نہ ہونا چاہیے۔ لہٰذا، اگر قافیہ یا ردیف یا دونوں پوری طرح کارگر نہیں ہیں تو شعر کے معنی کو سخت صدمہ پہنچنا لازمی ہے۔

20۔ شعر میں کثیر معنی صاف نظر آئیں، یا کثیر معنی کا احتمال ہو، دونوں خوب ہیں۔

21۔ سہل ممتنع کو غیر ضروری اہمیت نہ دینا چاہیے۔

22۔ شعر میں آورد ہے کہ آمد، اس کا فیصلہ اس بات سے نہیں ہوسکتا کہ شعر بے ساختہ کہا گیا یا غور و فکر کے بعد۔ آورد اور آمد، شعر کی کیفیات ہیں، تخلیق شعر کی نہیں۔

23۔ بہت سے اچھے شعر بے معنی ہوسکتے ہیں لیکن بے معنی اور مہمل ایک ہی چیز نہیں۔ اچھا شعر اگر بے معنی ہے تو اس سے مراد یہ نہیں کہ وہ مہمل ہے۔

24۔ قافیہ خوش آہنگی کا ایک طریقہ ہے۔

25۔ ردیف، قافیے کو خوش آہنگ بناتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مردف نظم، غیر مردف نظم سے بہتر ہے۔

26۔ لیکن ردیف میں یکسانیت کا خطرہ ہوتا ہے، اس لیے قافیے کی تازگی ضروری ہے تاکہ ردیف کی یکسانیت کا احساس کم ہوجائے۔

27۔ نیا قافیہ، پرانے قافیے سے بہتر ہے۔

28۔ لیکن نئے قافیے کو پرانے ڈھنگ سے استعمال کرنا بہتر نہیں، اس کے مقابلے میں پرانے قافیے کو نئے رنگ سے نظم کرنا بہتر ہے۔

29۔ قافیہ بدل دیا جائے تو پرانی ردیف بھی نئی معلوم ہونے لگتی ہے۔

30۔ قافیہ، معنی کی توسیع بھی کرتا ہے اور حد بندی بھی۔

31۔ ہر بحر مترنم ہوتی ہے۔

32۔ چونکہ شعر کے آہنگ بہت ہیں اور بحریں تعدا دمیں کم ہیں، اس لیے ثابت ہوا کہ شعر کا آہنگ بحر کا مکمل تابع نہیں ہوتا۔

33۔ نئی بحریں ایجاد کرنے سے بہتر ہے کہ پرانی بحروں میں جو آزادیاں جائز ہیں، ان کو دریافت اور اختیار کیا جائے۔

34۔ اگر نئی بحریں وضع کرنے سے مسائل حل ہوسکتے تو اب تک بہت سی بحریں ایجاد ہوچکی ہوتیں۔

35۔ آزاد نظم کو سب سے پہلے مصرع طرح کے آہنگ سے آزاد ہونا چاہیے۔

36۔ اگر مصرعے چھوٹے بڑے ہیں تو بہتر ہے کہ ہر مصرعے کے بعد وقفہ نہ ہو۔

37۔ نظم کا عنوان اس کے معنی کا حصہ ہوتا ہے، اس لیے بلاعنوان نظم ، عنوان والی نظم کے مقابلے میں مشکل معلوم ہوتی ہے، بشرطیکہ شاعر نے گمراہ کن عنوان نہ رکھا ہو۔ لیکن عنوان اگر ہے تو نظم کی تشریح اس عنوان کے حوالے کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔

38۔شعرکی تعبیر عام طور پر ذاتی ہوتی ہے، لیکن وہ جیسی بھی ہو اسے شعر ہی سے بر آمد ہونا چاہیے۔

39۔ آزاد نظم کا ایک بڑا حسن یہ ہے کہ مصرعوں کو اس طرح توڑا جائے یا ختم کیا جائے کہ اس سے ڈرامائیت یا معنوی دھچکا حاصل ہو۔ معرا نظم میں بھی یہ حسن ایک حد تک ممکن ہے۔

40۔ ہماری آزاد نظم بحر سے آزاد نہیں ہوسکتی۔

41۔ آزاد اور نثری نظم کے شاعر کو ایک حد تک مصور بھی ہونا چاہیے۔ یعنی اس میں یہ صلاحیت ہونا چاہیے کہ وہ تصور کرسکے کہ اس کی نظم کتاب یا رسالے کے صفحے پر چھپ کر کیسی دکھائی دے گی۔

42۔ قواعد، روزمرہ ، محاورہ کی پابندی ضروری ہے۔

43۔ لیکن اگر ان کے خلاف ورزی کر کے معنی کا کوئی نیا پہلو یا مضمون کا کوئی نیا لطف ہاتھ آئے تو خلاف ورزی ضروری ہے۔

44۔ لیکن اس خلاف ورزی کا حق اسی شاعر کو پہنچتا ہے جو قواعد، روزمرہ ، محاورہ پر مکمل عبور حاصل اور ثابت کرچکا ہو۔

45۔ مرکب تشبیہ، یعنی وہ تشبیہ جس میں مشابہت کے کئی پہلو ہوں، مفرد تشبیہ سے بہتر ہے۔

46۔ جذباتیت، یعنی کسی جذبے کا اظہار کرنے کے لیے جتنے الفاظ کافی ہیں، یا جس طرح کے الفاظ کافی ہیں، ان سے زیادہ الفاظ، یا مناسب طرح کے الفاظ سے زیادہ شدید طرح کے الفاظ استعمال کرنا ، بیوقوفوں کا شیوہ ہے۔

47۔ استعارہ جذباتیت کی روک تھام کرتا ہے۔ اسی لیے کم زور شاعروں کے یہاں استعارہ کم اور جذباتیت زیادہ ہوتی ہے۔

48۔ الفاظ کی تکرار بہت خوب ہے، بشرطیکہ صرف وزن پورا کرنے کے لیے یا خیالات کی کمی پورا کرنے کے لیے نہ ہو۔

49۔ شاعری علم بھی ہے اور فن بھی۔

50۔ یہ جو کہا گیا ہے کہ شاعر خدا کا شاگرد ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ شاعر کو کسی علم کی ضرورت نہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ شاعرانہ صلاحیت اکتسابی نہیں ہوتی۔

51۔ شاعرانہ صلاحیت سے موزوں طبعی مراد نہیں۔ اگرچہ موزوں طبعی بھی اکتسابی نہیں ہوتی ، اور تمام لوگ برابر کے موزوں طبع نہیں ہوتے اور موزوں طبعی کو بھی علم کی مدد سے چمکایا جاسکتا ہے لیکن ہر موزوں طبع شخص شاعر نہیں ہوتا۔

52۔ شاعرانہ صلاحیت سے مراد ہے، لفظوں کو اس طرح استعمال کرنے کی صلاحیت کہ ان میں نئے معنوی ابعاد پیدا ہوجائیں۔

53۔ نئے معنوی ابعاد سے مراد یہ ہے کہ شعر میں جس جذبہ، تجربہ، مشاہدہ، صورت حال، احساس یا خیال کو پیش کیا گیا ہے، اس کے بارے میں ہم کسی ایسے تاثر یا کیفیت یا علم سے دو چار ہوں جو پہلے ہماری دسترس میں نہ رہا ہو۔

54۔ شاعری مشق سے ترقی کرتی ہے اور نہیں بھی کرتی ہے۔ صرف مشق پر بھروسا کرنے والا شاعر ناکام ہوسکتا ہے لیکن مشق پر بھروسا کرنے والے شاعر کے یہاں ناکامی کا امکان، اس شاعر سے کم ہے جو مشق نہیں کرتا۔

55۔ مشق سے مراد صرف یہ نہیں کہ شاعر کثرت سے کہے، مشق سے مراد یہ بھی ہے کہ شاعر دوسروں (خاص کر اپنے ہم عصروں اور بعید پیش روؤں) کے شعر کثرت سے پڑھے اور ان پر غور کرے۔

56۔ کیوں کہ اگر دوسروں کی روش سے انحراف کرنا ہے تو ان کی روش جاننا بھی ضروری ہے۔ دوسروں کے اثر میں گرفتار ہو جانے کے امکان کا خوف اسی وقت دور ہوسکتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ دوسروں نے کہا کیا ہے؟

57۔ تمام شاعری کسی نہ کسی معنی میں روایتی ہوتی ہے، اس لیے بہتر شاعر وہی ہے جو روایت سے پوری طرح باخبر ہو۔

58۔ تجربہ کرنے والا شاعر، چاہے وہ ناکام ہی کیوں نہ ہوجائے،محفوظ راہ اختیار کرنے والے شاعر سے عام طور پر بہتر ہوتا ہے۔

59۔ تجربے کے لیے بھی علم شرط ہے۔ پس علم سے کسی حال میں مفر نہیں۔

٭٭٭

مشمولہ سہ ماہی اثبات

Rasa Chughtai رسا چغتائی چل بسے January 6, 2018

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Ghazal, Kavita, Mushaira, Nazm, Poetry, Shairy, Sher, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags: , , , ,
add a comment

نام مرزا محتشم علی بیگ اور رسا تخلص,۔ ۱۹۲۸ء میں سوائے مادھوپور، ریاست جے پور میں پیدا ہوئے۔۱۹۵۰ء میں ہجرت کرکے پاکستان آئے ۔مختلف اداروں میں ملازم رہے۔روزنامہ ’حریت ‘ کراچی سے بھی وابستہ رہے۔ حضرت بینش سلیمی سے تلمذ حاصل ہے۔حکومت پاکستان نے ان کے ادبی خدمات کے اعتراف میں ۲۰۰۱ء میں انھیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’ریختہ‘، ’زنجیر ہمسائیگی‘، ’تصنیف‘، ’چشمہ ٹھنڈے پانے کا‘، ’تیرے آنے کا انتظار رہا‘۔

رسا چغتائی
Rasa Chughtai Poet

آہٹیں سن رہا ہوں یادوں کی

آج بھی اپنے انتظار میں گم

💜

جنوں کیسا کہاں کا عشق صاحب

‎میں اپنے آپ ہی میں مبتلا ہوں

💜

ترے نزدیک آ کر سوچتا ہوں

میں زندہ تھا کہ اب زندہ ہوا ہوں

💜

حال دل پوچھتے ہو کیا تم نے

ہوتے دیکھا ہے دل اداس کہیں

💜

جن آنکھوں سے مجھے تم دیکھتے ہو

میں ان آنکھوں سے دنیا دیکھتا ہوں

خدا جانے مری گٹھری میں کیا ہے

نہ جانے کیوں اٹھائے پھر رہا ہوں

یہ کوئی اور ہے اے عکس دریا

میں اپنے عکس کو پہچانتا ہوں

نہ آدم ہے نہ آدم زاد کوئی

کن آوازوں سے سر ٹکرا رہا ہوں

مجھے اس بھیڑ میں لگتا ہے ایسا

کہ میں خود سے بچھڑ کے رہ گیا ہوں

جسے سمجھا نہیں شاید کسی نے

میں اپنے عہد کا وہ سانحہ ہوں

نہ جانے کیوں یہ سانسیں چل رہی ہیں

میں اپنی زندگی تو جی چکا ہوں

جہاں موج حوادث چاہے لے جائے

خدا ہوں میں نہ کوئی ناخدا ہوں

جنوں کیسا کہاں کا عشق صاحب

میں اپنے آپ ہی میں مبتلا ہوں

نہیں کچھ دوش اس میں آسماں کا

میں خود ہی اپنی نظروں سے گرا ہوں

طرارے بھر رہا ہے وقت یا رب

کہ میں ہی چلتے چلتے رک گیا ہوں

وہ پہروں آئینہ کیوں دیکھتا ہے

مگر یہ بات میں کیوں سوچتا ہوں

اگر یہ محفل بنت عنب ہے

تو میں ایسا کہاں کا پارسا ہوں

غم اندیشہ ہائے زندگی کیا

تپش سے آگہی کی جل رہا ہوں

ابھی یہ بھی کہاں جانا کہ مرزاؔ

میں کیا ہوں کون ہوں کیا کر رہا ہوں

💜رسا چغتائی

جن آنکھوں سے مجھے تم دیکھتے ہو

میں ان آنکھوں سے دنیا دیکھتا ہوں

💜

اور کچھ یوں ہوا کہ بچوں نے

چھینا جھپٹی میں توڑ ڈالا مجھے

💜

اس گھر کی ساری دیواریں شیشے کی ہیں

لیکن اس گھر کا مالک خود اک پتھر ہے

💜

ترے نزدیک آ کر سوچتا ہوں

میں زندہ تھا کہ اب زندہ ہوا ہوں

💜

اٹھا لایا ہوں سارے خواب اپنے

تری یادوں کے بوسیدہ مکاں سے

رسا چغتائی 💜

ہے لیکن اجنبی ایسا نہیں ہے

وہ چہرہ جو ابھی دیکھا نہیں ہے

بہر صورت ہے ہر صورت اضافی

نظر آتا ہے جو ویسا نہیں ہے

اسے کہتے ہیں اندوہ معانی

لب نغمہ گل نغمہ نہیں ہے

لہو میں میرے گردش کر رہا ہے

ابھی وہ حرف جو لکھا نہیں ہے

ہجوم تشنگاں ہے اور دریا

سمجھتا ہے کوئی پیاسا نہیں ہے

عجب میرا قبیلہ ہے کہ جس میں

کوئی میرے قبیلے کا نہیں ہے

جہاں تم ہو وہاں سایہ ہے میرا

جہاں میں ہوں وہاں سایہ نہیں ہے

سر دامان صحرا کھل رہا ہے

مگر وہ پھول جو میرا نہیں ہے

مجھے وہ شخص زندہ کر گیا ہے

جسے خود اپنا اندازہ نہیں ہے

محبت میں رساؔ کھویا ہی کیا تھا

جو یہ کہتے کہ کچھ پایا نہیں ہے

ڈیئر غالب، سالگرہ مبارک December 29, 2017

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Ghazal, Mirza Ghalib, Poetry, Shairy, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
1 comment so far

غالب کی دلی میں اردو کی حالتِ زار

ویسے فیس بک پر تو میں نے اُسی روز گلی قاسم جان، کوچہ بَلّی ماراں، پرانی دلی میں واقع آپ کی حویلی کے صدر دروازے پر کھینچی ہوئی اپنی تصویر پوسٹ کر دی تھی۔ آپ کی تاریخ پیدائش یعنی 27 دسمبر 1797 کا بھی ذکر کر دیا تھا اور یہ بھی کہ ’ریختہ کے استاد’ کو پیدا ہوئے 220 سال ہو چکے ہیں۔ 

Ghalib 1

غالب کی ۱۰۰ ویں برسی کے موقع پر متحدہ پاکستان میں جاری کردہ پندرہ پیسے مالیت کا جاری کردہ ایک یادگار ٹکٹ جس کا نمونہ غالب کی حویلی میں آویزاں ہے۔

ویسے کیا آپ نے کبھی اپنی سالگرہ منائی؟ یا اس زمانے میں ہیپی برتھ ڈے، سالگرہ مبارک اور جنم دن کی شُبھ کامناؤں کا رواج نہیں تھا، آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ کہاں اردو، کہاں اسد اللہ خان غالب کی زبان اور کہاں یہ آفریدی پٹھان۔

ہوا یہ کہ اِسی موسمِ خزاں میں بی بی سی اردو کے وظیفے پر ولایت (لندن) سے آپ کے شہر دِلی گیا تھا تاکہ وہاں ہندی والوں سے ڈِیجیٹل میڈیا کی تربیت حاصل کروں۔۔۔اوہ ہو، آپ دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں گے کہ آخر کو ہے نا پٹھان، خالص اردو میں بھی انگریزی اصطلاحوں کی آمیزش کر ڈالی۔

Ghalib 1
غالب کی مہر کا عکس

آپ تو خیر فورٹ وِلیئم کالج میں استاد کی نوکری ٹھکرا کر وہاں سے اس لیے لوٹ آئے تھے کہ انگریز پرنسپل یعنی صدر مدرس آپ کے استقبال کے لیے کالج کے دروازے پر موجود نہیں تھا۔ مگر انگریز ہندوستان ہی میں نہیں دنیا بھر میں ایسی چھاپ چھوڑ گئے ہیں کہ انگریزی الفاظ ہر زبان کا حصہ بن گئے ہیں۔ ہندی بولنے والوں نے بعض انگریزی اصطلاحوں کے ہندی متبادل اختراع کیے مگر سچ یہ ہے کہ سننے میں مضحکہ خیز سے لگتے ہیں۔

اردو والوں نے یہ کہہ کر کہ ‘اردو کا دامن بڑا وسیع ہے’، دھڑا دھڑ ان ولایتی الفاظ کو سمو لیا۔ ویسے بھی جن انگریزی الفاظ کا اردو متبادل ہے بھی ان میں سے بھی بعض کانوں کو بھلے نہیں لگتے۔ مثلاً لبلبے کو انگریزی میں ‘پینکرِیاس’ کہتے ہیں۔ خدا لگتی کہیے صوتی اعتبار سے آپ کو کونسا لفظ بھایا؟

ارے آپ تو ویب سائٹ، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، سمارٹ فون، سیلفی، فیس بُک، پوسٹ، بی بی سی، ڈیجیٹل اور میڈیا سے بھی مانوس نہیں۔ صرف آپ کے لیے میں ان کا بالترتیب لفظی ترجمہ کرنے کی جسارت کر رہا ہوں: جالا مقام، برقیاتی شمارکنندہ، بین الجال، ذہین آلۂ سماعت، خودعکسی، چہرہ کتاب، چسپی، فرنگی نشریاتی ادارہ، ہندسئی، وسلیہ۔

ان کے بعض اشعار کو اردو کے ساتھ ہندی میں بھی لکھا گیا ہے جب کہ انگریزی میں شعر کا مفہوم بیان کیا گیا ہے

مان گئے نا آپ بھی کہ ترجمے سے اصل فصیح تر ہے۔ ویسے اردو اور انگریزی کے ملاپ سے بننے والی زبان کو بعض لوگ ‘اُردریزی’ کہتے ہیں۔ برا مت مانیے گا آپ کے شہر دلی میں بھی اردو کا حال بے حال ہے۔ 

Ghalib ki poshaak
غالب کی پوشاک

بات ہو رہی تھی آپ کی سالگرہ اور آپ کی حویلی پر میری حاضری کی۔

آپ کے شہر کے تاریخی آثار اور سلاطینِ دلی کی قبریں دیکھنے کے علاوہ میں نظام الدین اولیا، امیرخُسرو، بختیار کاکی اور مٹکا پیر کے مزاروں کو بھی دیکھنے کی غرض سے گیا۔

گزر تو آپ کی آخری آرام گاہ کے پاس سے بھی دو مرتبہ ہوا۔ مگر بقول شخصے آپ نے ‘حاضری’ کی اجازت نہیں دی۔ کیونکہ مجاور سورج ڈوبتے ہی آپ کی قبر کے احاطے کو مقفل کر دیتا تھا۔ خیر، میں جہاں بھی جاتا وہاں کی تصاویر فیس بک پر پوسٹ کر دیتا۔

غالب پسِ مرگ کسی مصور کی آنکھ سے
غالب پسِ مرگ کسی مصور کی آنکھ سے

اب پالکی کا زمانہ تو رہا نہیں، اس لیے چاندنی چوک سے آپ کی حویلی کے لیے سائیکل رکشا لیا۔ مگر رکشابان نے آدھے راستے میں یہ کہہ کر اتار دیا کہ آگے سڑک پر گاڑیوں کا ازدحام ہے لہذا پیدل جانا بہتر ہوگا۔ آپ کی گلی کا پوچھتے پوچھتے آپ کی دہلیز پر پہنچ گیا۔

غالب کی شادی تیرہ برس کی عمر میں ہوگئی تھی
غالب کی شادی تیرہ برس کی عمر میں ہوگئی تھی

حکومتِ ہند نے بائیس سال پہلے عوامی دباؤ میں آکر حویلی کو ہیٹر (گرمالہ) بنانے والوں سے خالی کروا کر اِسے قومی وِرثہ قرار دیدیا تھا۔ ویسے آدھے حصے میں اب بھی کوئی ‘رقیبِ روسیا’ دفتر لگائے بیٹھا ہے۔

حکومت نے غالب کی حویلی سے ہیٹر بنانے والوں کو نکال کر اسے قومی ورثے کا درجہ دیدیا ہے
حکومت نے غالب کی حویلی سے ہیٹر بنانے والوں کو نکال کر اسے قومی ورثے کا درجہ دیدیا ہے

آپ کو یہ سن کر دکھ ہوگا کہ حویلی کی حالت زیادہ اچھی نہیں۔ آپ کی کچھ یادگاریں محفوظ تھیں۔ گرد میں اٹے اشعار کے طُغرے دیواروں پر آویزاں تھے۔ گھر اور دشت کی ویرانی میں مماثلت پیدا کر کے اپنی حویلی کی بے رونقی کا اقرار تو آپ اپنی زندگی ہی میں کر چکے تھے۔

غالب کی حویلی کے ایک حصے میں _سفری انصرام کے گماشتے‘ دفتر اور کاغذات کی نقول بنانے والی کی دکان
غالب کی حویلی کے ایک حصے میں ’سفری انصرام کے گماشتے‘ دفتر اور کاغذات کی نقول بنانے والی کی دکان

ستم یہ ہے کہ جس شعر میں آپ نے اس ویرانی کا ذکر کیا ہے اس کے مِصْرَعِ ثانی میں کسی ستم ظریف نے تصرف کر کے اسے الٹا کر دیا ہے۔ یعنی ‘دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا’ کی بجائے ‘گھر کو دیکھ کے دشت یاد آیا’ لکھ دیا ہے۔ستم بالائے ستم یہ کہ ہندی رسم الخط میں بالکل صحیح طور سے نقل کیا گیا ہے۔ جبکہ اس کا انگریزی ترجمہ بھی اصل شعر کے خاصا قریب ہے۔ اپنی بات کا یقین دلانے کے لیے میں تصویر بھی ساتھ لایا ہوں۔ یہ دیکھیے!

کاش غالب کے شعر کے ساتھ ان ہی کی حویلی میں ایسی زیادتی نہ ہوتی
کاش غالب کے شعر کے ساتھ ان ہی کی حویلی میں ایسی زیادتی نہ ہوتی

آپ تو خیر انتہائی کمزور مغل فرمانروا بہادر شاہ ظفر کے مصاحب تھے۔ دلی والوں نے تو ایک سڑک کی لوح پر شہنشاہ اکبر اعظم کا نام بھی الٹا لکھ دیا ہے۔ اور یہ سب ایسے میں ہو رہا ہے کہ دلی میں آپ کی قبر کے ساتھ ہی غالب اکیڈیمی قائم ہے اور اب تو شہر میں جشنِ ریختہ کا اہتمام بھی باقاعدگی سے ہونے لگا ہے۔

کیا اکبر روڈ کے اکبر کو کسی نے غور سے نہیں دیکھا

کیا اکبر روڈ کے اکبر کو کسی نے غور سے نہیں دیکھاجو ‘چند تصویر بتاں، کچھ حسینوں کے خطوط’ بعد مرنے کے آپ کے گھر سے نکلے، ان کا وہاں کوئی سراغ نہ تھا۔ ہو سکتا ہے اسی کوتوالِ شہر کی شرارت ہو جو نواب جان کے دل میں آپ کے لیے محبت کی وجہ سے آپ کا عدو بن گیا تھا۔

ذکر حویلی کی ویرانی کا ہو رہا تھا۔ میں پہنچا تو وہاں ایک گارڈ (دربان) موجود تھا۔ کچھ دیر بعد ایک نوجوان نے اندر کی کچھ تصاویر بنائیں۔ پھر دو ادھیڑ عمر افراد آئے۔ نام یاد نہیں مگر ایک ہندو تھا دوسرا سِکھ۔ تعارف کے بعد بتایا کہ آس پاس ہی رہتے ہیں اور انھیں اردو پڑھنا نہیں آتی مگر کبھی کبھار اس عظیم شاعر (یعنی آپ) کی حویلی کا چکر لگا لیتے ہیں۔

ویلی میں رکھا دیوانِ غالب کا بوسیدہ نسخہ
حویلی میں رکھا دیوانِ غالب کا بوسیدہ نسخہ

ان صاحبانِ ذوق سے ملاقات کے بعد جس چیز نے مجھے ورطۂ حیرت میں ڈالا وہ تھی آپ کی حویلی میں دو مزید پٹھانوں کی موجودگی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ افغانستان کے صوبے لغمان سے ہندوستان کسی کام سے آئے تھے اور اگلے روز واپسی سے پہلے مرزا غالب کی حویلی دیکھنے آئے ہیں۔

بحیثیتِ شاعر دوسروں نے غالب کا لوہا مانا ہے
بحیثیتِ شاعر دوسروں نے غالب کا لوہا مانا ہے

بحیثیتِ شاعر دوسروں نے تو غالب کا لوہا مانا ہی ہے، انھیں بھی اپنی عظمت کا بخوبی احساس تھا

گویا سوات کے ایک پٹھان کی فرمائش پر، تیراہ کا ایک پٹھان آپ کی حویلی جاتا ہے اور وہاں دو افغان پٹھانوں سے ملاقات ہوتی ہے

استاد ذوق نے تو آپ کی قدر نہیں کی مگر شاید اب وہ گلشن آباد ہو گیا ہے جس کا ذکر آپ نے کیا تھا: ‘میں عندلیبِ گلشنِ ناآفریدہ ہوں’

Kehte Hain Ke Ghalib Ka Hai Andaaz E Bayaan Aur

Kehte Hain Ke Ghalib Ka Hai Andaaz E Bayaan Aur

فقط۔۔۔آپ کے دَرَجات کی بلندی کے لیے دعا گو۔۔۔۔ تحریر: عمر آفریدی

Song for Mohammed By Johann Wolfgang von Goethe December 2, 2017

Posted by Farzana Naina in Poetry.
add a comment

۔ گوئٹے نے نعت جرمن زبان میں لکھی تھی ۔ جرمن سے انگلش میں ‘ ایملی ایزسٹ ‘ نے ترجمہ کیا اور انگلش سے ڈاکٹر شان

الحق حقی نے اردو میں منظوم ترجمہ کیا ۔ یہ نعت اور یہ ترجمہ خاصے کی شے ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نغمہ محمدئ

شاعر : جان وولف وین گوئٹے

انگلش ترجمہ : ایملی ایزسٹ

اردو ترجمہ : ڈاکٹر شان الحق حقی

Song for Mohammed

By: Johann Wolfgang von Goethe

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Behold this rocky spring,

bright with joy

like a twinkling star;

above the clouds

its youth was nourished

by good spirits

among the cliffs in the bushes.

Fresh as a youth

it dances out of the cloud

down to the marble rocks,

cheering again

to the sky.

Along mountainous paths

it chases after colorful pebbles,

and with the step of a young leader

its companion-springs journey

with it onward.

Below in the valley

flowers appear from its footprints,

and the meadow

derives life from its breath.

But no shaded valley can stop it,

no flower,

clasping its knees

and imploring it with loving eyes:

toward the Plains it presses its course,

twisting like a snake.

Brooks nuzzle up

sociably. Now it treads

into the Plain, resplendent with silver,

and the Plain grows silver too,

and the rivers of the Plain

and the brooks of the mountains

cheer and shout: “Brother!

Brother, take your brothers with,

take them with you to your ancient father,

to the eternal ocean,

whose outstretched arms

await us,

who, ah! has opened them in vain

to embrace his yearning children;

for the bleak wasteland’s

greedy sand devours us; the sun above

sucks up all our blood; a hill

clogs us into a pool! Brother,

take your brothers from this Plain,

take your brothers from the mountains,

take them with you to your ancient father!

Come all of you! –

and now [the spring] swells

more grandly: an entire race

lifts the prince up high!

And in rolling triumph

it gives names to the lands and cities

that grow in its path.

Irresistibly it rushes onward,

leaving a wake of flaming-tipped towers

and houses of marble – creations

of its bounty.

Like Atlas it bears cedar houses

upon its giant’s shoulders;

over its head, the wind noisily

blows a thousand flags

as testimony of its glory.

And so it brings its brothers,

its treasures, its children,

effervescent with joy,

to the waiting parent’s bosom.

(Translation from German to English

by Emily Ezust)

نغمہ ء ِ محمدی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ پاکیزہ چشمہ

جواوجِ فلک سے چٹانوں پہ اترا

سحابوں سے اوپر بلند آسمانوں پہ جولاں ملائک کی چشم نگہداشت کے سائے سائے

چٹانوں کی آغوش میں عہد برنائی تک جوئے جولاں بنا

چٹانوں سے نیچے اترتے اترتے

وہ کتنے ہی صد رنگ اَن گھڑ خزف ریزے

آغوشِ شفقت میں اپنی سمیٹے

بہت سے سسکتے ہوئے رینگتے، سُست کم مایہ سوتوں کو چونکاتا ، للکارتا ساتھ لیتا ہوا خوش خراماں چلا

بے نمو وادیاں لہلہانے لگیں

پھول ہی پھول چاروں طرف کھل اٹھے

جس طرف اُس ﷺ کا رخ پھر گیا

اُس ﷺ کے فیضِ قدم سے بہار آگئی

یہ چٹانوں کے پہلو کی چھوٹی سی وادی ہی کچھ

اُس ﷺ کی منزل نہ تھی

وہ تو بڑھتا گیا

کوئی وادی ، کوئی دشت، کوئی چمن، گلستاں، مرغزار

اُس ﷺ کے پائے رواں کو نہ ٹھہرا سکا

اُس ﷺ کے آگے ابھی اور صحرا بھی تھے

خشک نہريں بھی تھیں ، اُترے دریا بھی تھے ۔

سیلِ جاں بخش کے ، اُس ﷺ کے سب منتظر

جوق در جوق پاس اُس ﷺ کے آنے لگے

شور آمد کا اُسﷺ کی اٹھانے لگے

راہبر ﷺ ساتھ ہم کو بھی لیتے چلو

کب سے تھیں پستیاں ہم کو جکڑے ہوئے

راہ گھیرے ہوئے ، پاؤں پکڑے ہوئے

یاد آتا ہے مسکن پرانا ہمیں

آسمانوں کی جانب ہے جانا ہمیں

ورنہ یونہی نشیبوں میں دھنس جائیں گے

جال میں اِن زمینوں کے پھنس جائیں گے

اپنے خالق کی آواز کانوں میں ہے

اپنی منزل وہيں آسمانوں میں ہے

گرد آلود ہیں پاک کر دے ہمیں

آ ۔ ہم آغوش ِ افلاک کردے ہمیں

وہ رواں ہے ، رواں ہے ، رواں اب بھی ہے

ساتھ ساتھ اُس کے اک کارواں اب بھی ہے

شہر آتے رہے شہر جاتے رہے

اُس ﷺ کے دم سے سبھی فیض پاتے رہے

اُس ﷺ کے ہر موڑ پر ایک دنیا نئی

ہر قدم پر طلوع ایک فردا نئی

قصر ابھرا کيے خواب ہوتے گئے

کتنے منظر تہہ ِ آب ہوتے گئے

شاہ اور شاہیاں خواب ہوتی گئیں

عظمتیں کتنی نایاب ہوتی گئیں

اُس ﷺ کی رحمت کا دھارا ہے اب بھی رواں

از زمیں تا فلک

از فلک تا زمیں

از ازل تا ابد جاوداں ، بیکراں

دشت و در ، گلشن و گل سے بے واسطہ

فیض یاب اس سے کل

اور خود کل سے بے واسطہ

(از شان الحق حقی)

ــــــــ

 

گل از رخت آموخته نازك بدني را – مولانا جامی November 30, 2017

Posted by Farzana Naina in Kavita, Nazm, Poetry, Shairy, Urdu Shairy.
Tags: , , ,
add a comment

گل از رخت آموخته نازك بدني را

پھول نے نزاکت کا سبق آپ سے لیا ہے  

بلبل ز تو آموخته شيرين سخني را

بلبل نے شیریں نغمگی آپ سے سیکھی

هر كس كه لب لعل ترا ديد، به خود گفت

جس کسی نے تیرے لبوں کو دیکھا اس نے دل میں کہا

حقا كه چه خوش كنده عقيق يمني را

کیا ہی خوبصورت تراشا ہوا یمنی عقیق ہے

خياط ازل دوخته بر قامت زيبات

خیاط ازل نے تیری خوش قامتی پر

بر قد تو اين جامه ي سبز چمني را

تیرے قد کے موافق خوب سبز لباس بنایا ہے

در عشقِ تو دندان شکستند به الفت

تیرے عشق میں اپنے دانت جب انہوں نے تڑوائے

تو نامه رسانید اویس قرني را

تو آپ نے اویس قرنی کے نام نامہ بھیجا

از جامؔی بيچاره رسانيدہ سلامی

بر درگه دربار رسول مدني را

مجبور جامی کی طرف سے سلام پہنچاؤ رسول مصطفی کے حضور۔

سید مصطفیٰ حسین زیدی October 15, 2017

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Ghazal, Kavita, Nazm, Poetry, Shairy, Sher, Urdu Poetry.
Tags: , , ,
add a comment

سید مصطفیٰ حسین زیدی کی پیدائش 10 اکتوبر 1930ء کو ایک متمول خاندان میں ہوئی تھی ان کے والد سید لخت حسین زیدی سی آئی ڈی کے ایک اعلیٰ افسر تھے۔ مصطفیٰ زیدی بے حد ذہین طالب علم تھے۔ الہ آباد یونیو رسٹی سے انہوں نے گریجویشن کیا تھا اور صرف 19 سال کی عمر میں ان کا شعری مجموعہ ”موج مری صدف صدف“ کے عنوان سے شائع ہوا تھا جس کا دیباچہ فراق گورکھپوری نے لکھا تھا اور فراق صاحب نے ان کی شکل میں ایک بڑے شاعر کی پیش گوئی کی تھی۔ کسی حد تک تو یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی لیکن بے وقت موت نے ان کا شعری سفر اچانک ختم کر دیا۔ چالیس سال کی زندگی میں ان کے چھہ مجموعے شائع ہوئے۔ ان کے مرنے کے بعد ان کی کلیات شائع ہوئی۔ شروع میں وہ تیغ اللہ آبادی تخلص کرتے رہے۔

مصطفیٰ زیدی 1951ء میں کراچی چلے گئے تھے۔ کچھہ دن وہ اسلامیہ کالج پشاور میں بطور استاد تعینات رہے۔ وہاں سے نکالے گئے ۔ پھر انہوں نے سی ایس پی کا امتحان دیا جس میں کامیابی حاصل کی اور اہم عہدوں پر کام کیا۔ آزادیِ فکر کا گلا گھونٹے جانے کی باز گشت ان کے اشعار میں سنی جا سکتی ہے۔

جس دن سے اپنا طرزِ فقیرانہ چھٹ گیا

شاہی تو مل گئی دلِ شاہانہ چھٹ گیا

جنرل یحییٰ خاں کے عتاب کے بھی شکار ہوئے اور یحییٰ خاں نے جو 303 افسران کی ہٹ لسٹ تیار کر رکھی تھی اس میں مصطفیٰ زیدی کا نام بھی تھا مگر فوجی آمر سے قبل وہ کسی بڑی سازش کا شکا ر ہو گئے اور اس کا سبب بنی گوجرانوالہ کی ایک شادی شدہ خاتون ایک خاتون شہناز گل، جس کے باعث مصطفیٰ زیدی کو اپنی زندگی سے ہاتھہ دھونا پڑے۔

ان کی لاش 12 اکتوبر 1970ء کو کراچی میں ان کے دوست کے بنگلے سے ملی ۔ جس پر بعد میں تحقیقاتی کمیشن بھی بنا تھا اور مقدمہ عدالت میں بھی گیا۔ یہ مقدمہ اخبارات نے اس قدر اچھالا کہ مہینوں تک اس پر دھواں دھار بحث ہوتی رہی۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ یہ قتل نہیں بلکہ خودکشی تھی اور شہناز گل کو بری کر دیا۔

میں کس کے ہاتھہ پہ اپنا لہو تلاش کروں

تمام شہر نے پہنے ہوۓ ہیں دستانے

شہناز گل کے لیے مصطفیٰ زیدی نے کئی غزلیں اور نظمیں کہی تھیں جن میں یہ شعر بہت مشہور ہے:

فنکار خود نہ تھی مرے فن کی شریک تھی

وہ روح کے سفر میں بدن کی شریک تھی

مصطفیٰ زیدی کو جس درد و کرب سے گزرنا پڑا اس کی باز گشت ان کی غزلوں کے اشعار میں سنائی دیتی ہے۔ خاص طور پر ان کی مشہور غزل میں تو یہ کرب بار بار اتر آتا ہے:

کسی اور غم میں اتنی خلشِ نہاں نہیں ہے

غمِ دل مرے رفیقو غمِ رائیگاں نہیں ہے

کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی ہم زباں نہیں ہے

فقط ایک دل تھا اب تک سو مہرباں نہیں ہے

مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو

مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے

کسی آنکھہ کو صدا دو کسی زلف کو پکارو

بڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سائباں نہیں ہے

انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آسکو تو آؤ

مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

مصطفیٰ زیدی ، جوش ملیح آبادی سے متاثر تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی شاعری میں جوش جیسی گھن گرج نہیں ہے۔ لیکن زیدی نے بھی کربلا کے استعارے کو بہت خوبصورتی سے استعمال کیا ہے:

ایسی سونی تو کبھی شامِ غریباں بھی نہ تھی

دل بجھے جاتے ہیں اے تیرگیِ صبح وطن

میں اسی کوہ صفت خون کی ایک بوند ہوں جو

ریگ زارِ نجف و خاکِ خراساں سے ملا

جدید غز ل کی تشکیل میں مصطفیٰ زیدی کا بہت اہم حصہ ہے اور ان کے شعری مجموعے موج مری صدف صدف، شہرِ آرزو،زنجیریں، کوہِ ندا اور قبائے ساز اردو کے شعری ادب میں اضافہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

کچھہ اور شعر:

غمِ دوراں نے بھی سیکھے غم جاناں کے چلن

وہی سوچی ہوئی چالیں وہی بے ساختہ پن

وہی اقرار میں انکار کے لاکھوں پہلو

وہی ہونٹوں پہ تبسم وہی ابرو پہ شکن

حدیث ہے کہ اصولاَ گناہ گار نہ ہوں

گناہ گار پہ پتھرسنبھالنے والے

خود اپنی آنکھہ کے شہتیر کی خبر رکھیں

ہماری آنکھہ سے کانٹے نکالنے والے

اب تو چبھتی ہے ہوا برف کے میدانوں کو

ان دنوں جسم کے احساس سے جلتا ہے بدن

مجھہ کو اس شہر سے کچھہ دور ٹھہر جانے دو

میرے ہم راہ میری بے سرو سامانی ہے

اس طرح ہوش گنوانا بھی کوئی بات نہیں

اور یوں ہو ش میں رہنے میں بھی نادانی ہے

طالب دستِ ہوس اور کئی دامن تھے

ہم سے ملتا جو نہ یوسف کے گریباں سے ملا

لوگوں کی ملامت بھی ہےِ خود درد سری بھی

کس کام کی اپنی یہ وسیع النظری بھی

کیا جانیئے کیوں سست تھی کل ذہن کی رفتار

ممکن ہوئی تاروں سے مری ہم سفری بھی

میں کس کےہاتھہ پہ اپنا لہو تلاش کروں

تمام شہرنے پہنے ہوۓ ہیں دستانے

Mustafa Zaidi and Sheeren Gul 1Mustafa Zaidi and Sheeren Gul 2

انشا جی October 15, 2017

Posted by Farzana Naina in Ibne Insha, Poetry.
add a comment

انشا جی نے بڑی سوچ بچار سے عشق لگایا تھا ایسی محبوبہ کا چناؤ کیا تھا جو پہلے ہی کسی اور کی ہوچکی تھی۔ شادی شدہ تھی، بچوں والی تھی ۔ جس کے دل میں انشا کے لئے جذبہ ہمدردی پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا ۔ جس سے ملنے کے تمامتر راستے مسدود ہو چکے تھے۔

 اپنے عشق کو پورے طور پر محفوظ کر لینے کے بعد اس نے عشق کے ساز پر بیراگ کا نغمہ چھیڑ دیا۔

مواقع تو ملے مگر انشا نے کبھی محبوبہ سے بات نہ کی۔ ہمت نہ پڑی۔ اکژ اپنے دوستوں سے کہا کرتا ۔۔۔ ” یار اُسے کہہ کہ مجھہ سے بات کرے ” اس کے انداز میں بڑی منت اور عاجزی ہوتی پھر عاشق کا جلال جاگتا ۔۔۔۔ کہتا ۔۔۔ ” دیکھہ اس سے اپنی بات نہ چھیڑنا ۔۔ باتوں باتوں میں بھرما نہ لینا ۔”

محبوبہ تیز طرار تھی ۔ دنیا دار تھی ۔ پہلے تو تمسخر اڑاتی رہی ۔ پھر انشا کی دیوانگی کو کام میں لانے کا منصوبہ باندھا۔ اس دلچسپ مشغلے میں میاں بھی شریک ہوگیا۔

انشا کو فرمائشیں موصول ہونے لگیں ۔ اس پر انشا پھولے نہ سماتا ۔۔

دوستوں نے اسے بار بار سمجھایا کہ انشا وہ تجھے بنا رہی ہے ۔ انشا جواب میں کہتا کتنی خوشی کی بات ہے کہ بنا تو رہی ہے ۔ یہ بھی تو ایک تعلق ہے ۔ تم مجھے اس تعلق سے محروم کیوں کر رہے ہو ۔

ایک روز جب وہ فرمائش پوری کرنے کے لئے شاپنگ کرنے گیا تو اتفاق سے میں بھی ساتھہ تھا ۔

میں نے انشا کی منتیں کیں کہ انشا جی اتنی قیمتی چیز مت خریدو ۔ تمہاری ساری تنخواہ لگ جائے گی۔ انشا بولا ۔ ” مفتی جی ، تمہیں پتہ نہیں کہ اس نے مجھے کیا کیا دیا ہے ۔ اس نے مجھے شاعر بنا دیا۔ شہرت دی ۔۔ زندگی دی ‘‘

انشا کی آنکھوں میں آنسو چھلک رہے تھے ۔

ممتاز مفتی : ” اور اوکھے لوگ “

ابن انشاؔ
 

جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا

کبھی شہر بتاں میں خراب پھرے کبھی دشت جنوں آباد کیا

کبھی بستیاں بن کبھی کوہ و دمن رہا کتنے دنوں یہی جی کا چلن

جہاں حسن ملا وہاں بیٹھ رہے جہاں پیار ملا وہاں صاد کیا

شب ماہ میں جب بھی یہ درد اٹھا کبھی بیت کہے لکھی چاند نگر

کبھی کوہ سے جا سر پھوڑ مرے کبھی قیس کو جا استاد کیا

یہی عشق بالآخر روگ بنا کہ ہے چاہ کے ساتھ بجوگ بنا

جسے بننا تھا عیش وہ سوگ بنا بڑا من کے نگر میں فساد کیا

اب قربت و صحبت یار کہاں لب و عارض و زلف و کنار کہاں

اب اپنا بھی میرؔ سا عالم ہے ٹک دیکھ لیا جی شاد کیا

 

 Ibne Insha

Lakeeron se nikal-لکیروں سے نکل کر July 27, 2017

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Ghazal, Ghazal, Kavita, Nazm, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Sufi Poets, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
add a comment

Golden bar 1

لکیروں سے نکل کر ہاتھ کی مجھ کو بلائے گی

یہ قسمت وَجد میں آئی تو خود مجھ کو بنائے گی

 

مِری آنکھوں میں سارے خواب اُس کے روٹھنے تک تھے

مِرا شک ٹھیک نکلا ‘ زندگی مجھ کو رلائے گی

 

مِرے ہونٹوں پہ اب تک تتلیوں سی مسکراہٹ ہے

مجھے ڈر لگ رہا ہے’ ایک دن یہ اُڑنے جائے گی

 

بہت سی شمعیں سینے میں اگر جلتی رہیں تو پھر

مری آنکھوں سے تھوڑی روشنی باہر بھی آئے گی

 

ذرا سی روشنی کے بعد چکّر تیرگی کا ہے

اگر تو اک نئی تصویر پر نظریں جمائے گی

 

خود اپنی زندگی سے کیوں نکل جاتی ہوں میں ‘ نیناںؔ !

مِری لا حاصلی کے درد قدرت ہی مٹائے گی

 

( فــرزانـہ نیناںؔ ) 

Golden rose Bar
Lakeeron se nikal kar haath ki, mujhko bulaye gi
Ye qismat wajd mein aayi tau khud mujhko banaye gi
 
Meri aankhon mein saare khwab uske roothne tak thay
Mera shak theek nikla zindagi mujhko rulaye gi
 
Mere honton pe ab tak titliyon si muskurahat hai
Mujhe darr lag raha hai eik din ye ur’rne jaye gi
 
Bohut si shamein seene mein agar jalti rahein tau phir
Meri aankhon se thori roshni bahar bhi aaye gi
 
Zara si roshni ke baad chakker teergi ka hai
Agar tu ik nai tasweer par nazrein jamaye gi
 
Khud apni zindagi se kyon nikal jati hon mein naina
Meri la’haasili ke dard qudrat hi mitaye gi
 

butterfly-yellow-sl~ Farzana Naina.butterfly-yellow-sl

0aa1ec07c2d7e0ad0eb9ef5e7005bff3