jump to navigation

Himayat Ali Shair – حمایت علی شاعر July 16, 2019

Posted by Farzana Naina in Poetry.
Tags: ,
add a comment

نامور شاعر جناب حمایت علی شاعر کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں وفات پاگئے ہیں، ان کی تدفین بھی ٹورنٹو میں ہوگی۔

Himayat ali shair - Jaag utha hai sara watan 3

جناب حمایت علی شاعر: 14 جولائی 1926ء کو اورنگ آباد دکن میں پیدا ہوئے تھے۔

قیام پاکستان کے بعد انھوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی اور سندھ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا، بعد ازاں وہ اسی جامعہ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ۔

جناب حمایت علی شاعر کے چار شعری مجموعے آگ میں پھول ، مٹی کا قرض ، تشنگی کا سفر اورہارون کی آواز شائع ہوچکے ہیں جبکہ ان کتابوں کا انتخاب حرف حرف روشنی کے عنوان سے شائع ہواتھا۔ 

انھیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے اپنی خود نوشت سوانح عمری مثنوی کی ہئیت میں تحریر کی جو آئینہ در آئینہ کے نام سے اشاعت پذیر ہو چکی ہے۔

حمایت علی شاعر کی دو نثری کتابیں شیخ ایاز اور شخص و عکس بھی شائع ہو چکی ہیں۔ 

اردو شاعری میں ان کا ایک کارنامہ تین مصرعوں ہر مشتمل ایک نئی صنف سخن ’’ ثلاثی ‘‘ کی ایجاد ہے ۔

جناب حمایت علی شاعر نے مختلف شعبوں میں کام کیا ہے جن میں تدریس ، صحافت، ادارت، ریڈیو، ٹیلیوژن اور فلم کے علاوہ تحقیق کا شعبہ نمایاں ہے۔

ٹیلی ویژن پر ان کے کئی تحقیقی پروگرام پیش کئے جا چکے ہیں ،جن میں پانچ سو سالہ علاقائی زبانوں کے شعراء کا اردو کلام خوشبو کا سفر ،اردو نعتیہ شاعری کے سات سو سال پر ترتیب دیا گیا پروگرام عقیدت کا سفر،احتجاجی شاعری کے چالیس سال پر ترتیب دیا گیا پروگرام لب آزاد، پانچ سو سالہ سندھی شعرا کا اردو کلام محبتوں کے سفیراور تحریک آزادی میں اردو شاعری کا حصہ نشید آزادی کے نام سر فہرست ہیں۔

جناب حمایت علی شاعر نے متعدد فلموں کے لیے گیت بھی تحریر کیے جنھیں نگار اور مصور ایوارڈ سے نوازا گیا۔

ان فلموں میں جب سے دیکھا ہے تمھیں، دل نے تجھے مان لیا،دامن،اک تیرا سہارا،خاموش رہو، کنیز، میرے محبوب، تصویر، کھلونا، درد دل، لوری اور نائلہ کے نام سر فہرست ہیں۔ 

انھوں نے ایک فلم لوری بھی پروڈیوس کی تھی جو اپنے وقت کی کامیاب ترین فلم تھی۔ 

حمایت علی شاعر کے فلمی نغمات کا مجموعہ بھی “تجھ کو معلوم نہیں” کے نام سے شائع ہوچکا ہے ۔

بشکریہ: عقیل عباس جعفری

آنکھ کی قسمت ہے اب بہتا سمندر دیکھنا

اور پھر اک ڈوبتے سورج کا منظر دیکھنا

شام ہو جائے تو دن کا غم منانے کے لیے

ایک شعلہ سا منور اپنے اندر دیکھنا

روشنی میں اپنی شخصیت پہ جب بھی سوچنا

اپنے قد کو اپنے سائے سے بھی کم تر دیکھنا

سنگ منزل استعارہ سنگ مرقد کا نہ ہو

اپنے زندہ جسم کو پتھر بنا کر دیکھنا

کیسی آہٹ ہے پس دیوار آخر کون ہے

آنکھ بنتا جا رہا ہے روزن در دیکھنا

ایسا لگتا ہے کہ دیواروں میں در کھل جائیں گے

سایۂ دیوار کے خاموش تیور دیکھنا

اک طرف اڑتے ابابیل اک طرف اصحاب فیل

اب کے اپنے کعبۂ جاں کا مقدر دیکھنا

صفحۂ قرطاس ہے یا زنگ خوردہ آئینہ

لکھ رہے ہیں آج کیا اپنے سخن ور دیکھنا

Blue flower candle

شاعر؛ حمایت علی شاعر

 

ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ

دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بدل جاتے ہیں لوگ

کس لیے کیجے کسی گم گشتہ جنت کی تلاش

جب کہ مٹی کے کھلونوں سے بہل جاتے ہیں لوگ

کتنے سادہ دل ہیں اب بھی سن کے آواز جرس

پیش و پس سے بے خبر گھر سے نکل جاتے ہیں لوگ

اپنے سائے سائے سرنہوڑائے آہستہ خرام

جانے کس منزل کی جانب آج کل جاتے ہیں لوگ

شمع کے مانند اہل انجمن سے بے نیاز

اکثر اپنی آگ میں چپ چاپ جل جاتے ہیں لوگ

شاعرؔ ان کی دوستی کا اب بھی دم بھرتے ہیں آپ

ٹھوکریں کھا کر تو سنتے ہیں سنبھل جاتے ہیں لوگ

Blue flower candle

حمایت علی شاعر کی فلمی شاعری کی مکمل تفصیلحمایت علی شاعر کی ریلیز کے تناظر میں فلمساز اقبال شہزاد اور ھدایتکار حسن طارق کی “بنجارن ” قرار پائی جس میں ان کا لکھا ھوا ایک سونگ شامل ھوا جس کے بول تھے

“پٹ گھونگھٹ کے کھولے تو جھٹ پٹ آجا بابو جی “

اس گیت کو دیبو نے کمپوز کیا تھا

بعد ازاں اسی سال اقبال یوسف کی جاسوسی فلم

“دال میں کالا ” ریلیز ھوئی اور اس فلم میں بھی ان کا ایک نغمہ

” سمجھ نہ آئے دل کو کہاں لے جاؤں صنم میرے صنم ” مصلح الدین کی دُھن میں صدابند ھوا تھا

اسی سال یعنی 1962 میں الحامد کی “آنچل ” پہلی فلم تھی جس کے تمام نغمات حمایت علی شاعر نے لکھے جنہیں موسیقار خلیل احمد (پہلی فلم) نے دلکش دُھنوں سے مزیّن کیا تھا جس میں بیشتر نے مقبولیت اور پسندیدگی کا درجہ حاصل کیا,

بالخصوص

“تجھ کو معلوم نہیں تجھ کو بھلا کیا معلوم”

اور

” کسی چمن میں رھو تم بہار بن کے رھو “

آج بھی ذوق و شوق سے سُنے جاتے ھیں

اسی فلم سے انہیں سال کے بہترین شاعر کا پہلا نگار ایوارڈ تفویض ھوا

حمایت علی شاعر نے مجموعی طور پر ریلیز شدہ 32 فلمز میں 130 نغمات لکھے

جبکہ ” لوری ” کے علاوہ انہوں نے ایک اور فلم” گڑیا ” بھی پروڈیوس کی تھی جو مکمل ھونے کے باوجود ریلیز سے محروم رھی

سال با سال کارکردگی کا ایک جائزہ

1..بنجارن………………………… 1962…..(ایک سونگ

2..دال میں کالا…………….. …1962…..(ایک سونگ

3..آنچل……………………………..1962…..(9, سونگس

4..جب سے دیکھا ھے تمہیں..1963…..(9, سونگس

5..دل نے تجھے مان لیا……….1963……(7, سونگس

6..شرارت………………………….1963……(ایک سونگ

7..دامن…………………………….1963……(7, سونگس

8..اِک تیرا سہارا………………. 1963……(ایک سونگ

9..تانگے والا…………………….. 1963……(2, سونگس

10..انسپکٹر……………………. 1964…….(6, سونگس

11..جھلک………………………. 1964…….(3, سونگس

12..خاموش رھو…………….. 1964…….(3, سونگس

13..مجاھد……………………… 1965…….(3, سونگس

14..کنیز…………………………. 1965…….(7, سونگس

15..تصویر……………………….1966…….(7, سونگس

16..عادل……………………….. 1966…….(2, سونگس

17..بدنام……………………….. 1966…….(ایک سونگ

18..میرے محبوب………….. 1966…….(8, سونگس

19..لوری……………………….. 1966…….(8, سونگس

20..دردِ دل ……………….1966…….(8, سونگس

21..پائل کی جھنکار………. 1966…….(ایک سونگ

22..میں وہ نہیں……………. 1967…….(7, سونگس

23..حُسن کا چور…………… 1967…….(5, سونگس

24..اُلفت……………………….. 1967…….(ایک سونگ

25..کھلونا…………………….. 1968…….(6, سونگس

26..بالم………………………… 1968……. (6, سونگس

27..چودھویں صدی…….. 1969……..(ایک سونگ

28..جھک گیا آسمان…….. 1970……..(ایک سونگ

29..شہر اور سائے………… 1974……. (4, سونگس)

30..خاندان………………….. 1980 ……..(ایک سونگ

31..آس پاس……………….. 1982………(ایک سونگ

32.. چکر…………………….. 1988 …….. (2, سونگس

حمایت علی شاعر کے چند مقبول فلمی سونگس…

**کسی چمن میں رھو تم بہار بن کے روپ…

فلم آنچل

** تجھ کو معلوم نہیں تجھ کو بھلا کیا معلوم..

فلم آنچل

**ھم نے تو تمہیں دل دے ھی دیا…

فلم پائل کی جھنکار

**اپنے پرچم تلے ھر سپاھی چلے….

فلم اک تیرا سہارا

**یہ خوشی عجب خوشی ھے…..

فلم جب سے دیکھا ھے تمہیں

**نہ چھڑا سکو گے دامن نہ نظر بچا سکو گے…

فلم دامن

**میں نے تو پریت نبھائی تھی سانوریا نکلا تو ھرجائی…

فلم خاموش رھو

**ساتھیو, مجاھدو, جاگ اُٹھا ھے سارا وطن…

فلم مجاھد

**پیاری ماں دعا کرو میں جلد بڑا ھوجاؤں…

فلم عادل

**ھم بھی مسافر تم بھی مسافر کون کسی کا ھوئے…

فلم بدنام

**گُل کہوں, خوشبو کہوں, ساغر کہوں, صہبا کہوں…

فلم کھلونا

**ھوا آنچل اُڑاتی ھے اُڑانے دو….

فلم جھک گیا آسمان

**ابھی ابھی میں سوچ رھا تھا کیا گاؤں…

فلم آس پاس

بشکریہ: ملک یوسف جمال

Un Baadlon Mein January 11, 2019

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Farzana Naina, Kavita, Mushaira, Nazm, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Radio Presenter, Shaira, Shairy, Sher, Urdu, Urdu Poetry, Urdu Shairy, Video.
add a comment

ان بادلوں میں روشن چہرہ  ٹہر گیا ہے

A Tribute To Mohammed Aziz (Playback Singer) November 29, 2018

Posted by Farzana Naina in Film and Music, Music, Poetry.
Tags: , , , ,
add a comment

Welcome Pink Rose

music notes

محمد عزیز : پیدائش 2 جولائی، 1954, کلکتا, بھارت

انتقال : 27 نومبر، 2018, Nanavati hospital, ممبئی, بھارت

اولاد: ثنا عزيز

ممبئی کی ہندی فلم انڈسٹری میں فلموں کے لیے 1980 اور 1990 کے عشرے میں بہترین نغمے پیش  کرنے والے گلوکار محمد عزیز کا ایک نجی اسپتال میں 64 سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا۔

 

 

محمد عزیز  2 جولائی 1954 کو مغربی بنگال کے اشوک نگر میں پیدا ہوئے تھے۔

محمد عزیز کا نغمہ ’’آپ کے آجانے سے ‘‘ اور ’’ مائی نیم از لکھن‘‘  فلموں کے چاہنے والوں میں خوب مقبول ہوا ۔

پیر کے روز محمد عزیز کا ایک میوزیکل پروگرام کولکتہ میں منعقد کیا گیا تھا اور ستائیس نومبر دو ہزار اٹھارہ کے منگل کو دوپہر دو بجے ممبئی آمد کے بعد انہوں نے ڈرائیور کو کہا کہ میری طبیعت خراب ہو رہی ہے، جس کے بعد انہیں فوری طور پر ناناوتی اسپتال پہنچایا گیا، چیک اپ کرتے ہی ڈاکٹروں نے دل کا دورہ پڑنے کی اطلاع دی اور انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔

میوزک کمپوزر انو ملک نے سب سے پہلے محمد عزیز کو فلم ’’ مرد‘‘ میں امیتابھ پر فلمائے گانے ’’ مرد ٹانگے والا‘‘  گانے کا چانس دیا تھا۔

محمد عزیز کے تعلقات لکشمی کانت پیارے لال کے ساتھ بہت اچھے اور قریبی تھے، جبکہ کلیان جی آنند ، آر ڈی برمن، نوشاد، او پی نیر اور بپی لہری بھی ان کے رفیق تھے۔

محمد عزیز نے امیتابھ بچن کے دور سے لے کر رشی کپور اور گو وندا جیسے ہیروز کے لیئے مقبول ترین گیت گائے۔

محمد عزیز کو پیار سے ’’ منا ‘‘ کہہ کر پکارا جاتا تھا، ان کا پورا نام ’’ سید محمد عزیز النبی‘‘ تھا۔

اپنی زندگی کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ آر ڈی برمن کے پاس گیت سنانے پہنچا، وہ اپنے گھر میں تھے اور کمرے میں مائیک بھی لگا ہوا تھا، لہذا میں نے گیت گایا، لیکن برمن نے کہا کہ اپنے لہجے پر ابھی اور محنت کرو، باہر نکل کر میں سوچتا رہا کہ میں تو اہلِ زبان ہوں اس سے بہتر اور کیا سیکھوں گا!۔

پھر اس کے بعد میں ان کی طرف سے مایوس ہوگیا لیکن ایک دن آشا جی مجھے کہا کہ چلو میری گاڑی میں بیٹھو میں تمہیں برمن کے پاس لے چلتی ہوں، میں نے بہانہ کر دیا کہ ابھی تھوڑی بعد میں خود ہی گھر پہنچ جاؤں گا، آشا جی نے ہمیشہ میری بہت مدد کی، وہ ایک مہربان ہستی ہیں ۔

انہوں نے اپنے گائیکی کے دور میں آشا بھونسلے، لتا منگیشکر، انورادھا پوڈوال، کویتا کرشنا مورتی، کے ساتھ اسی اور نوے کی دہائی میں بہترین گیتوں سے دھوم مچادی تھی۔

 محمد عزیز نے بطور پلے بیک گلوکار اپنے کیریئر کا آغاز بنگلہ فلم ‘جیوتی’ سے کیا تھا۔ سال 1984 میں وہ ممبئی آ گئے جہاں انہوں نے ہندی فلم ‘امبر’ میں گیت گایا، اس کے بعد عزیز نے کئی فلموں کے ہٹ گانے گائے،  انہوں نے مرد کے علاوہ بنجارن، آدمی کھلونا ہے، لو 86، پاپی دیوتا، ظلم کو جلا دوں گا، پتھر کے انسان، بیوی ہو تو ایسی، برسات کی رات، لال دوپٹہ ململ کا، رام لکھن، ہمارا خاندان، رام اوتار جیسی کئی فلموں میں گانے گائے۔

ہندی، اردو کے علاوہ محمد عزیز نے بھجن، بھگتی گیت، اڑیسہ، اور صوفی کلام بھی گایا۔ 

ان کے میوزیکل کیریئر میں گانوں کی کل تعداد بائیس ہزار سے زائد ہے۔

وہ ان چند گلوکاروں میں سے تھے جو اپنی آواز کا نوٹ بہت اونچا اٹھا سکتے ہیں، محمد عزیز نے ہندی فلموں کے علاوہ بنگالی، اوڑیا اور دیگر علاقائی زبان کی فلموں میں بھی بطور پلے بیک گانے گائے، وہ خود محمد رفیع کے بہت بڑے پرستار تھے جبکہ سونو نگم ان کے بہت بڑے پرستار ہیں۔  

آخری دور میں ان کو شکوہ رہا کہ فلم انڈسٹری نے ان کو بڑے ستاروں کے میوزیکل شوز میں بلانا چھوڑ دیا ہے، ان کی گلوکاری جتنی مقبول تھی اتنا ہی ان کو فلمی دنیا نے نظر انداز کیا ہوا تھا۔ 

Music Multi Eighth Note Music Multi TwoEighthNote Music Multi Eighth Note Tiny music notes Rose red 13 Tiny music notes Music Multi Eighth Note Music Multi TwoEighthNote Music Multi Eighth Note

ساری دنیا پیاری پر تو ہے سب سے پیارا ۔۔۔ فلم:  میرا کا موہن

 اے مرے دوست لوٹ کے آجا ۔۔۔ فلم: سورگ  

متوا بھول نہ جانا ۔۔۔ فلم: کب تک چپ رہوں گی

بہت جتاتے ہو چاہ ہم سے ۔۔۔ فلم: آدمی کھلونا ہے

کیسے کٹے دن کیسے کٹی راتیں ۔۔۔ فلم: سورگ

کچھ ہو گیا، چاند کے دیس میں دل میرا اڑ گیا ۔۔۔ فلم: کشن کنہیا 

تیرے میرے بیچ میں کیسا ہے یہ بندھن انجانا ۔۔۔ فلم: اک دوجے کے لیئے

آتے آتے آتے تیری یاد آ گئی ۔۔۔ فلم: جان کی بازی

پل دن مہینے کئی سال ہوگئے ۔۔۔ فلم: آپ کی یادیں

پیار ہمارا امر رہے گا ۔۔۔ فلم: مدت

ساتھیا او ساتھیا سورج ہے تو ۔۔۔ فلم: پاپ کو جلا کر راکھ کردوں گا

میں تیرے بن جی نہیں سکتا ۔۔۔ فلم: لال پری

تم جو بنے ہمدرد ہمارے ۔۔۔ فلم: فتح  

پت جھڑ ساون بسنت بہار ۔۔۔ فلم: سندور

جب پیار کیا اقرار کیا ۔۔۔ فلم: وطن کے رکھوالے

آج کل یاد کچھ اور رہتا نہیں ۔۔۔ فلم: نگینہ ۱۹۸۶

تجھے رب نے بنایا کس لیئے ۔۔۔ فلم: یاد رکھے گی دنیا

پھول گلاب کا ۔۔۔ فلم: بیوی ہو تو ایسی

ہم تمہیں اتنا پیار کریں گے ۔۔۔ فلم: بیس سال بعد

لوگ کہتے ہیں کہ پیلا چاند ہے سب سے حسیں ۔۔۔ فلم: خود غرض

سارے شکوے گلے بھلا کے کہو ۔۔۔ فلم: آزاد دیش کے غلام

یاد رکھیو یہ چار اکشر پیار کے ۔۔۔ فلم: عزت دار ۱۹۹۰

سن اے بہار دل کی پکار ۔۔۔ فلم: آسمان سے اونچا

دل کے ارمانوں کو تونے جگا دیا ۔۔۔ فلم: انصاف کی پکار

میں نے تجھ سے پیار کیا ہے ۔۔۔ فلم: سوریا

میرے محبوب رک جاؤ تمہارا چاہنے والا ۔۔۔ فلم: ہمارا خاندان

تو بھی بے قرار میں بھی بے قرار ۔۔۔ فلم: وقت کی آواز

میں تیری محبت میں پاگل ہو جاؤں گا ۔۔۔ فلم: تری دیو

آج صبح جب میں جگا ۔۔۔ فلم: آگ اور شعلہ

انگلی میں انگوٹھی، انگوٹھی میں نگینہ ۔۔۔ فلم: رام اوتار

آپ کا چہرہ آپ کا جلوہ ۔۔۔ فلم: تہلکہ

مئے سے مینا سے نہ ساقی سے ۔۔۔ فلم: خود غرض

مل گئے دل اب تو کھل کے مل ذرا ۔۔۔ فلم اگنی ۱۹۸۸

میں نے دل کا حکم سن لیا تیرے صدقے بلم ۔۔۔ فلم: برسات کی رات

تونے بے چین اتنا زیادہ کیا ۔۔۔ فلم: نگینہ

دنیا میں کتنا غم ہے ۔۔۔ فلم: امرت ۱۹۸۶  

تو مجھے قبول میں تجھے قبول ۔۔۔ فلم: خدا گواہ

محبوب سے ہمارے بادِ صبا یہ ہمارا ۔۔۔ فلم: لو ۸۶

تو ہی میری پریم کہانی ۔۔۔ فلم: پتھر کے انسان

اک لڑکی جس کا نام محبت ۔۔۔ فلم: شعلہ اور شبنم

اپنی آنکھوں کے ستاروں میں ۔۔۔ فلم: پولیس اور مجرم

رب کو یاد کروں ۔۔۔ فلم: خدا گواہ

ساون کا مہینہ ۔۔۔ فلم: ایسا پیار کہاں

چلو چلو چلیں دور کہیں ۔۔۔ فلم: سندور

کھینچ لایا ہے تیرا پیار ۔۔۔ فلم: جنم جنم

جیسے اک چاند کا ٹکڑا ۔۔۔ فلم: انتقام

بہنیں ہنستی ہیں تو ۔۔۔ فلم: پیار کا دیوتا

چھن چھن باجیں گھنگھرو ۔۔۔ فلم: گھنگھرو

یار تیرا پیار تو ہے میری زندگی ۔۔۔ فلم : ہم بھی تو انسان ہیں

مجھے جینے نہیں دیتی ہے ۔۔۔ فلم: بومب بلاسٹ

میرے صنم تیرے سر کی قسم ۔۔۔ فلم: مجبور 

جند تیرے نام کر دی ۔۔۔ فلم: پیار کا دیوتا

تم حسیں کسقدر ہو ۔۔۔ فلم: حاتم طائی  

گوری کا ساجن ، ساجن کی گوری ۔۔۔ فلم: آخری راستہ  

Pink Flower 3

***      ***

موسیقی کے دلدادہ انہیں گیتوں کے جادو میں کچھ مہکتے لمحے ایک الگ دنیا میں گزار آتے ہیں۔

یہ گیت وہ آئینے ہیں جن میں حساس لوگ اپنا دل اور دھڑکن دیکھ لیتے ہیں!۔

ان گیتوں میں کبھی کبھی وہ جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں جب محبت نے اپنی مقناطیسی کشش سے مجھے کھینچ لیا تھا، ہم ان گیتوں میں اپنے دلبر کو دیکھتے ہیں یا پھر اسے جو چھین لیا گیا، جو دل چیر گیا ہو، وہ دور کہیں کھو گیا، اوجھل ہوگیا جب اس کے ہمراہ بتائی چند گھڑیاں نصیب ہوتیں اور باقی دن ان گیتوں کے سہارے کٹ جاتا۔ !۔

وقت ان لمحوں کی سوئیاں توڑ کر آگے نکل گیا، لیکن میں اب تک ان چبھتی سوئیوں کو نکال نہیں پائی، اس کے ساتھ کی سب دعائیں کہیں اس عرش و فرش کے درمیان بھٹکتی رہ گئیں !۔

یہ گیت  گلے میں آنسوؤں کا پھندا بن کر سانسیں گھوٹتے ہیں ، اُس کی مہک میرے تن من میں ہے، لیکن وہ نہیں ہے، کہیں بھی نہیں۔

جیسے کوئی خواب تھا، سراسر ایک خواب، جو آنکھ  کھلتے ہی غائب ہو گیا !۔

میں ایک کٹے پروں والا پرندہ جو پھڑ پھڑا کر رہ جاتا ہے، نہ جیتا ہے نہ مرتا ہے، مرے ارد گرد کی دنیا  کبھی اس طلسم کو محسوس نہیں کر سکتی جس نے مجھے حصار میں لیا ہوا تھا، کبھی اس دکھ کی تیز دھار نہیں دیکھ سکتی جو مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کاٹتا ہے۔

نا ہی وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔۔۔ جو میرے بن اک پل نہیں رہ پاتا تھا۔۔۔!!!۔

Fairy Grey heart

Federico García Lorca 5 June 1898 -19 August 1936 (aged 38) November 25, 2018

Posted by Farzana Naina in Literature, Poetry.
Tags: ,
add a comment

‘‘گارسیالورکا’’

Federico Garcia Lorca

اسپین کی شاعری کا ہی اسم اعظم نہیں بلکہ دنیا بھر میں اس کی تکریم غیر معمولی شاعرانہ استعداد کی وجہ سے کی جاتی ہے۔ گارسیالورکا محض ۳۸ برس کی عمر میں

ین کی شاعری کا ہی اسم اعظم نہیں بلکہ دنیا بھر میں اس کی تکریم غیر 

جنرل فرانکو کے ڈکٹیٹر شپ کے عہد میں مارا گیا۔ اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے سپین کی خانہ جنگی کے زمانے میں حریت فکر کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دیا اور جواں مرگ ہو کر ۱۹۳۶ء میں پوری دنیا کو آمریت سے نفرت کا سبق دیا۔

لورکا ایک متمول گھرانے میں سپین کے مضافات میں ۱۸۹۸ء کو پیدا ہوا تھا۔ اس کی شاعری نے سپین کی زبان اور محاورے کا منہاج ہی بدل کے رکھ دیا اور شاعری کے پرانے، فرسودہ اور گھسے پٹے انداز کو تبدیل ہی نہیں کیا بلکہ جڑ سے اکھاڑ کے رکھ دیا۔ یہی نہیں لورکا نے ڈراموں کی دنیا میں بھی انقلاب برپا کیا۔ اس کے ڈراموں میں انسان کی روح اور معاشرے کی اصل حقیقت، ایک تخلیقی قوت کی صورت میں سامنے آئی۔ وہ انسانی تقدیر، قدروں کی شکست، جنسیت اور موت، جیسے بے شمار موضوعات کو بالکل جداگانہ فراست کے ساتھ بیان پر قادر تھا۔ اس نے عیسوی دنیا کے بارے میں بھی زبردست تنقید کی ہے اور کیتھولک چرچ کی مختلف بہیمانہ صورتوں کو بے نقاب کیا ہے۔

لورکا کہتا تھا کہ پندرھویں صدی میں مسلمانوں کے شان دار ثقافتی اور تہذیبی ورثے کو چرچ نے جس صورت میں برباد کیا، وہ سپین کی روح پر ایک خطرناک وار تھا۔ جس سے سپین کی تہذیبی زندگی انحطاط پذیر ہوئی۔ جس کا دُکھ اس کی نظموں میں سریلسٹ تکنیک میں ظاہر ہوا۔ ہرچند لورکا، ترقی پسند نظریات کا مالک بے باک شخص تھا، وہ مذاہب سے برگشتہ تھا اور آرٹ کی بے پایاں تاثیر پر یقین رکھتا تھا۔ سپین میں مسلمانوں کے شان دار ماضی کے بعد، ایک تاریک دور کا آغاز ہوا اور باالخصوص آزادی نسواں کو سلب کر دیا گیا۔ لوگوں کو بربریت اور مذہبی تنگ نظری کا اسیر ہونا پڑا۔ اس کا انتہائی گہرا اثر پڑا اور سماج میں فکری انجماد تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔ 

on-this-day-19-august-1936-the-gay-socialist-poet-35632836

فیڈرکوگارسیالورکا، کی نفسیات پر لڑکپن ہی میں، اس کے اثرات مرتسم ہونا شروع ہوئے، اگرچہ طبعاً و ہ آزاد منش اور باغی روح لے کر پیدا ہو ا تھا۔ مگر لورکا نے کہا ہے کہ اس نے اپنی ماں جو مدرس تھی، اس سے انتہائی اثر قبول کیا۔ اس کی ماں ایک ذہین خاتون تھی اور لورکا کے طبعی، ادبی رجحان سے واقف تھی۔

اس کا خاندان ۱۹۰۹ء میں سپین کے شہر گرینڈا منتقل ہوا، جہاں لورکا نے تعلیم حاصل کی۔ پھر میڈرڈ میں قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اس کی ملاقات نام ور مصور سلویڈرڈالی سے ہوئی۔ ڈالی اور لورکا کی رفاقت نے پینٹنگ اور ادب کے باب میں بے شمار مباحث کو جنم دیا۔ ڈالی نے لورکا کے حسن تکلم، شائستگی اور خوب روئی کا بار بار اظہار کیا۔ لیکن ان کی رفاقت ۱۹۲۹ء میں اس وقت اختتام پذیر ہوئی جب لورکا نے سپین کو الوداع کہا اور امریکا چلا گیا۔

اسی دوران، اس کی شخصیت میں فکری تلاطم جنم لے رہا تھا۔ اپنی زمین سے ہجرت، رفاقتوں سے محرومی، جنسی ناآسودگی، تنہائی، موت کا خوف، ان سب عوامل نے لورکا کو ہلا کر رکھ دیا، مگر اس کی تخلیقی اپج نے علامات کا ایک نیا جہان اپنی مشہور عالم شعری کتاب Gypsy Ballads کے ذریعے ہویدا کیا۔ اس شعری کتاب نے اسے بے کنار عالمی شہرت دی۔ 

Federico Garcia Loca - Renowned Spanish Poet

یہ نظمیں انسانی رشتوں کو جس شاعرانہ اسالیب میں ڈھالتی ہیں، اس کے لیے لورکا نے شعر میں اتنا ارتکاز پیدا کیا کہ لفظوں نے عمومی مطالب سے بغاوت کی اور انسانی تجربے کا ایسا پینو راما پیش کیا، جس میں بیسویں صدی کی ایک نئی بوطیقا سامنے آئی۔گویا لورکا نے خارجی اشیا کو باطن کے آئینے میں ہمہ جہت کر دیا۔

لورکا نے امریکا آ کر کولمبیا میں اپنی دوسری عالمگیر شعری کتاب Poet in New York تخلیق کی۔ یہ نظمیں موضوع، اسلوب اور تکنیک کے نقطۂ نظر سے اس درجہ ترفع کی حامل ہیں ۔ یہ اپنے مواد کے نرالے پن اور لحن کے باغیانہ آفاق کی وجہ سے خود لورکا کے لیے حیرت کا باعث تھیں۔ کیوں کہ بعض اوقات فن کار اپنے آرٹ کی گمبھیرتا کی اولین آواز سے گھبرا بھی جاتا ہے۔ اس لیے کہ لفظ کے معینہ راستوں سے ہٹنے کی جرأت کوئی معمولی بات نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لورکا نے اپنی مختصر زندگی کے دوران میں کتاب شائع کرنے سے گریز کیا۔ ان نظموں کا سحر امیجری اور علامتوں کا پراسرار نظام، آج تک نئی شاعری کی عظمت کا شارح ہے۔ 

Federico García Lorca

انجام کار لورکا دوبارہ سپین لوٹ آیا اور ۱۹۳۰ء میں ڈراما نگاری کی طرف ہمہ تن سرگرم ہو رہا۔ یہ دور، فی الواقع، لورکا کی خلاقانہ فراوانی کا ہے، پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ سپین کی حکومت نے، اس کی قدر منزلت کی اور وہ ڈرامے کی ترویج کے لیے La-Barraca کا ڈائریکٹر بنایا گیا۔ یہ گشتی ڈرامے پیش کرنے کا ادارہ ٹھہرا۔ اس دور میں اس نے اپنا شہرہ آفاق ڈراما Blood Wedding لکھا۔ جس کی شہرت سے پورا مغرب گونج اٹھا۔ یہ زبردست منظوم ڈراما تھا۔ اس کے بعد اس کا دوسرا قابل رشک ڈراما سامنے آیا۔ جس کا نام Yerma تھا۔ میڈرڈ میں، اس ڈرامے کی مقبولیت نے لورکا کو ذہنی آسودگی دی۔

۱۹۳۶ء میں اس کا ناقابل فراموش ڈراما The House of Bernadaialba منظر عام پر آیا۔ یہ ڈرامے سپین کی ادبی تاریخ میں امر ہیں اور دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے اور عالم گیر شہرت پائی۔

کہا جاتا ہے کہ ۱۹۳۰ء سے اس کے قتل تک، لورکا، نے ڈرامے کی صنف اور سپینی زبان کو ایک نئی قوت ایجاد سے آباد کیا۔ مگر اس دوران میں وہ، شاعری پر پوری توجہ نہ دے سکا۔ کیوں کہ، اس کے ذہن پر ڈرامے کا بھوت سوار تھا۔ البتہ اس دور میں لورکا نے اپنی طویل نظم “Lament for the death of bull fighter” ضرور لکھی ۔ یہ عظیم الشان نظم اس کی موت کے بعد شائع ہوئی۔ اور تو اور لورکا کی کتابوں پر فرانکو کے ڈکٹیٹر شپ کے عہد میں چالیس برس تک پابندی رہی۔ مگر اس کے باوجود دنیا بھر میں لورکا کی کتب کے تراجم ہوئے۔ اور سپین میں زبردست قدغن کے باوجود لورکا، کی کتابیں مختلف ادارے چوری چھپے شائع کرتے رہے۔ اس کی شاعری کا لسانی شیوہ، لفظ کے عمومی دائرے سے نکل کر، اظہار کا لامحدود منطقہ وضع کرتا ہے۔ اس کے شاعرانہ اصوات میں جو طلسم ہے وہ ہمارے اندر وہی تجربہ اور امکانات پیدا کرتا ہے جس سے لورکا گزرا، مگر اس کی ہزار ہا پرتیں ہیں۔ لورکا کی کئی نظموں کے تراجم اردو میں بھی ہوئے۔ لورکا کی نظموں میں غنائیت کے اندر سے المیہ پھوٹتا ہے۔ اس کے مصروں کی بافت میں صوت و آہنگ کی فراوانی ہے اس لیے کہ اس نے ابتداً موسیقی سیکھی۔ فی الواقع لڑکپن میں وہ موسیقار بننا چاہتا تھا۔

۱۹۲۶ء میں جب لورکا نے اپنی مشہور تخلیق The shoe maker’s prodigious wife مکمل کی تو اسے پہلی بار، ادبی حلقوں نے اس لیے بھی سراہا کہ وہ سپاٹ نظموں کی حدود توڑ کر ایک نیا شعری وژن لانے میں کام ران ہوا تھا جس کی مثال ہسپانوی زبان میں نہ تھی۔ 

federico-garcia-lorca_quotes

گارسیا لورکا، نے اپنے ڈراموں اور نظموں میں کھلے حواس کے ساتھ، زندگی کی بدلتی صورت حال کا ادعا کیا ہے۔کیوں کہ اس نے مروجہ لغاتی معانی کی جبریت سے شاعری کو نکال کر خالص سونا بنایا۔ پھر اس کا کمال یہ ہے کہ اس نے اکہرے شعری امکانات کو کلیتاً رد کیا اور انسانی تجربے کو ایک ہمہ گیر صداقت میں بدل دیا۔

لورکا کی نظموں کا ایک مرکزی اشارہ جنسی ناآسودگی اورا مردپرستی بھی رہا۔ وہ ایک غیر معمولی شاعر تھا۔ اس لیے اس نے شجر ممنوعہ کو، سپین کی شعری تاریخ میں پہلی بار، سب پر واشگاف کیا۔ اس نے اپنے شعری قالب میں تجربے کے بے پناہ حجم کی وجہ سے انسانی رشتوں کی نئی توجیح کی ہے۔ اس کے لیے اس کی یہ نظمیں یادگار رہیں۔

  1. The Gypsy and the wind.

  2. Ditty of the first desire.

  3. Sonnet of the sweet complain.

  4. The faithless wife.

  5. The bulterfly’s, evil trick

لورکا کی موت کو اب ستر برس سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ مگر دنیا بھر کے اہل قلم اس جواں مرگ شاعر کے لیے اس لیے اب بھی آنسو بہاتے ہیں کہ جنرل فرانکو کی فاشسٹ حکومت نے بے شمار فن کاروں کے ساتھ، اسے اپنے آبائی شہر ترینڈا میں قتل کر کے اجتماعی قبر میں دفنا دیا۔

Garcia at the time of his execution

گاسیا لورکا سزائے موت کے وقت

سپین کے عوام، آرٹسٹوں اور ترقی پسند حلقوں نے اب بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں لورکا کا مقام قتل بتایا جائے تاکہ اس عظیم شاعر کی یادگار بنا سکیں جس نے ہسپانوی ادب کو عالم گیر شہرت دی اور خود بے دردی سے قتل ہوا۔

***

بے خواب محبت کی رات/گارسیا لورکا

ترجمہ: محمد سلیم الرحمٰن

رات کا نزول، ہم دونوں اور پورا چاند

میں رو پڑا اور تجھے ہنسی آ گئی

تیری تحقیر خدا، اور میرے گلے شکوے

زنجیروں میں جکڑی فاختائیں اور لمحے

رات کا نزول، ہم دونوں۔ دکھ کا بلوریں شیشہ

ایک مہیب دوری کی وجہ سے تو نے آنسو بہائے

میرا دکھ تیرے ریت کے بنے نربل دل پر

اذیتوں کے خوشے کی طرح چھایا ہوا

صبح نے ہمیں سیج پر ایک دوسرے سے ملا دیا

کبھی نہ تھمنے والے لہو کی ٹھنڈی

بہتی ندی پر ہم منھ رکھے ہوئے

اور چلمن پڑی بالکونی میں سورج نے پاؤں دھرا

اور میرے کفنائے ہوئے دل پر

زندگی کے مرجان نے اپنی شاخیں پھیلائیں

 ***تحریر: علی تنہا***

Fehmida Riaz 28th July 1945 – 20th Nov 2018 November 21, 2018

Posted by Farzana Naina in Fehmida Riaz, Literature, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shairy, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags: ,
add a comment

Fehmida riyaz 0

پاکستان کی ممتاز انقلابی شاعرہ ’’ فہمیدہ ریاض‘‘ رضائے الہی سے لاہور میں انتقال فرما گئیں۔

انا للہ و انا الیہ راجعون

 اپنے تانیثی اور غیر روایتی خیالات کے لئے معروف

فہمیدہ ریاض (تخلص فہمیدہ) :۲۸  ؍جولائی ۱۹۴۵ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئیں، ایم اے تک تعلیم حاصل کی، لندن سے فلم ٹیکنک میں ڈپلوما حاصل کیا، طالب علمی کے زمانے میں حیدرآباد میں پہلی نظم لکھی جو ’’فنون‘‘ میں چھپی۔

پہلا شعری مجموعہ ’’پتھر کی زبان‘‘ ۱۹۶۷ء میں منظر عام پر آیا۔’’بدن دریدہ‘‘ ۱۹۷۳ء میں ان کی شادی کے بعد انگلینڈ کے زمانہ قیام میں چھپا۔’’دھوپ‘‘ ان کا تیسرا مجموعۂ کلام ۱۹۷۶ء میں چھپا۔  

کچھ عرصہ نیشنل بک کونسل ، اسلام آباد کی سربراہ رہیں، جب جنرل ضیاء الحق برسر اقتدار آئے تو یہ ادبی مجلہ ’’آواز‘‘ کی مدیرہ تھیں، ملٹری حکومت ان کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتی تھی لہذا یہ ہندوستان چلی گئیں۔

 ’’کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے‘‘۱۹۴۸ء میں ہندوستان میں ان کا شعری مجموعہ چھپا۔

ضیاء الحق کے انتقال کے بعد فہمیدہ ریاض پاکستان واپس آگئی تھیں۔

ان کی دیگر تصانیف کے نام یہ ہیں:

’حلقہ مری زنجیر کا ‘، ’ہم رکا ب‘، ’ادھورا آدمی‘، ’اپنا جرم ثابت ہے‘، ’ میں مٹی کی مورت ہوں‘، ’آدمی کی زندگی‘۔ ان کی محبوب صنف سخن نظم رہی ۔

پروردگار ان کی مغفرت فرمائے ۔ آمین۔

Fehmida Riaz

چادر اور چار دیواری

فہمیدہ ریاض

حضور میں اس سیاہ چادر کا کیا کروں گی

یہ آپ کیوں مجھ کو بخشتے ہیں بصد عنایت

نہ سوگ میں ہوں کہ اس کو اوڑھوں

غم و الم خلق کو دکھاؤں

نہ روگ ہوں میں کہ اس کی تاریکیوں میں خفت سے ڈوب جاؤں

نہ میں گناہ گار ہوں نہ مجرم

کہ اس سیاہی کی مہر اپنی جبیں پہ ہر حال میں لگاؤں

اگر نہ گستاخ مجھ کو سمجھیں

اگر میں جاں کی امان پاؤں

تو دست بستہ کروں گزارش

کہ بندہ پرور

حضور کے حجرۂ معطر میں ایک لاشہ پڑا ہوا ہے

نہ جانے کب کا گلا سڑا ہے

یہ آپ سے رحم چاہتا ہے

حضور اتنا کرم تو کیجے

سیاہ چادر مجھے نہ دیجئے

سیاہ چادر سے اپنے حجرے کی بے کفن لاش ڈھانپ دیجئے

کہ اس سے پھوٹی ہے جو عفونت

وہ کوچے کوچے میں ہانپتی ہے

وہ سر پٹکتی ہے چوکھٹوں پر

برہنگی تن کی ڈھانپتی ہے

سنیں ذرا دل خراش چیخیں

بنا رہی ہیں عجب ہیولے

جو چادروں میں بھی ہیں برہنہ

یہ کون ہیں جانتے تو ہوں گے

حضور پہچانتے تو ہوں گے

یہ لونڈیاں ہیں

کہ یرغمالی حلال شب بھر رہے ہیں

دم صبح در بدر ہیں

حضور کے نطفہ کو مبارک کے نصف ورثہ سے بے معتبر ہیں

یہ بیبیاں ہیں

کہ زوجگی کا خراج دینے

قطار اندر قطار باری کی منتظر ہیں

یہ بچیاں ہیں

کہ جن کے سر پر پھرا جو حضرت کا دست شفقت

تو کم سنی کے لہو سے ریش سپید رنگین ہو گئی ہے

حضور کے حجلۂ معطر میں زندگی خون رو گئی ہے

پڑا ہوا ہے جہاں یہ لاشہ

طویل صدیوں سے قتل انسانیت کا یہ خوں چکاں تماشہ

اب اس تماشہ کو ختم کیجے

حضور اب اس کو ڈھانپ دیجئے

سیاہ چادر تو بن چکی ہے مری نہیں آپ کی ضرورت

کہ اس زمیں پر وجود میرا نہیں فقط اک نشان شہوت

حیات کی شاہ راہ پر جگمگا رہی ہے مری ذہانت

زمین کے رخ پر جو ہے پسینہ تو جھلملاتی ہے میری محنت

یہ چار دیواریاں یہ چادر گلی سڑی لاش کو مبارک

کھلی فضاؤں میں بادباں کھول کر بڑھے گا مرا سفینہ

میں آدم نو کی ہم سفر ہوں

کہ جس نے جیتی مری بھروسہ بھری رفاقت 

 

Fehmida Riaz 1

باکرہ

فہمیدہ ریاض

آسماں تپتے ہوئے لوہے کی مانند سفید

ریگ سوکھی ہوئی پیاسے کی زباں کی مانند

پیاس حلقوم میں ہے جسم میں ہے جان میں ہے

سر بہ زانو ہوں جھلستے ہوئے ریگستاں میں

تیری سرکار میں لے آئی ہوں یہ وحش ذبیح

مجھ پہ لازم تھی جو قربانی وہ میں نے کر دی

اس کی ابلی ہوئی آنکھوں میں ابھی تک ہے چمک

اور سیہ بال ہیں بھیگے ہوئے خوں سے اب تک

تیرا فرمان یہ تھا اس پہ کوئی داغ نہ ہو

سو یہ بے عیب اچھوتا بھی تھا ان دیکھا بھی

بے کراں ریگ میں سب گرم لہو جذب ہوا

دیکھ چادر پہ مری ثبت ہے اس کا دھبا

اے خدا وند کبیر

اے جبار

متکبر و جلیل

ہاں ترے نام پڑھے اور کیا ذبح اسے

اب کوئی پارۂ ابر آئے کہیں سایہ ہو

اے خدا وند عظیم

باد تسکیں! کہ نفس آگ بنا جاتا ہے

قطرۂ آب کہ جاں لب پہ چلی آئی ہے

***     ***     ***

 

زبانوں کا بوسہ

فہمیدہ ریاض

زبانوں کے رس میں یہ کیسی مہک ہے

یہ بوسہ کہ جس سے محبت کی صہبا کی اڑتی ہے خوشبو

یہ بد مست خوشبو جو گہرا غنودہ نشہ لا رہی ہے

یہ کیسا نشہ ہے

مرے ذہن کے ریزے ریزے میں ایک آنکھ سی کھل گئی ہے

تم اپنی زباں میرے منہ میں رکھے جیسے پاتال سے میری جاں کھینچتے ہو

یہ بھیگا ہوا گرم و تاریک بوسہ

اماوس کی کالی برستی ہوئی رات جیسے امڈتی چلی آ رہی ہے

کہیں کوئی ساعت ازل سے رمیدہ

مری روح کے دشت میں اڑ رہی تھی

وہ ساعت قریں تر چلی آ رہی ہے

مجھے ایسا لگتا ہے

تاریکیوں کے

لرزتے ہوئے پل کو

میں پار کرتی چلی جا رہی ہوں

یہ پل ختم ہونے کو ہے

اور اب

اس کے آگے

کہیں روشنی ہے

***     ***     ***

Fehmida Riaz2

کب تک مجھ سے پیار کرو گے

کب تک؟

جب تک میرے رحم سے بچے کی تخلیق کا خون بہے گا

جب تک میرا رنگ ہے تازہ

جب تک میرا انگ تنا ہے

پر اس کے آگے بھی تو کچھ ہے

وہ سب کیا ہے

کسے پتہ ہے

وہیں کی ایک مسافر میں بھی

انجانے کا شوق بڑا ہے

پر تم میرے ساتھ نہ ہوگے تب تک 

Fehmida riyaz Kya tum chand na dekho ge 1

احمد ندیم قاسمی November 20, 2018

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Literature, Poetry, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags:
add a comment
Ahmed-Nadeem qasmi poet

 

Ahmed Nadeem Qasmi

 

          پاکستان کے نامور افسانہ نگار‘ شاعر‘ ناقد‘ کالم نگار‘ محقق‘ مترجم اور صحافی جناب احمد ندیم قاسمی کی تاریخ پیدائش 20 نومبر 1916ء ہے۔

          جناب احمد ندیم قاسمی کا اصل نام احمد شاہ تھا اور وہ کوانگہ ضلع خوشاب میں پیدا ہوئے تھے۔ جناب احمد ندیم قاسمی ایک ہمہ جہت ادبی شخصیت تھے ان کی تصانیف کا دائرہ ہر صنف ادب تک پھیلا ہوا ہے، کتب کے نام درج ذیل ہیں۔

شعری مجموعے :

 ’’دھڑکنیں‘ رم جھم‘ جلال و جمال‘ شعلہ گل‘ دشت وفا‘ محیط‘ دوام، لوح خاک‘جمال اور ارض وسما‘‘۔

 افسانوی مجموعے :  

’’چوپال‘ بگولے‘ طلوع و غروب‘  آنچل‘  آبلے‘  آس پاس‘ در و دیوار‘ سناٹا‘ بازار حیات‘ برگ حنا‘ سیلاب و گرداب، گھر سے گھر تک‘ کپاس کا پھول‘ نیلا پتھر اور کوہ پیما‘‘۔

تنقیدی مضامین کے مجموعے:  

’’ تہذیب و فن، پس الفاظ اور معنی کی تلاش‘‘۔  

خاکوں کے دو مجموعے :

’’میرے ہم سفر اور میرے ہم قدم شامل ہیں۔’’

احمد ندیم قاسمی کا شمار انجمن ترقی پسند مصنّفین کے بانیوں میں ہوتا تھا، انہوں نے اس جماعت کی وابستگی کے حوالے سے کئی مرتبہ قید و بند کی صعوبت بھی برداشت کی۔

 احمد ندیم قاسمی پھول‘ تہذیب نسواں‘ ادب لطیف‘ نقوش‘ سویرا‘ فنون اور روزنامہ امروز کے مدیر رہے اور متعدد اخبارات میں کالم نگاری بھی کرتے رہے۔ 

احمد ندیم قاسمی 1974 سے اپنی وفات تک مجلس ترقی ادب کے ناظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ‘ ستارہ امتیاز اور نشان امتیاز سے نوازا تھا۔

پاکستان رائٹرز گلڈ نے انہیں تین مرتبہ آدم جی ادبی انعام عطا کیا تھا۔ بزم فروغ اردو ادب قطر نے انہیں اپنے ایوارڈ سے نوازا تھا اور اکادمی ادبیات پاکستان نے انہیں 1997ء کا کمال فن ایوارڈ اور2007ء میں شائع ہونے والے بہترین شعری مجموعے کا  علامہ محمد اقبال ایوارڈ عطا کیا تھا۔

انہیں پنجاب کا پریم چند بھی کہا جاتا تھا۔

 جناب احمد ندیم قاسمی 10جولائی 2006ء کو لاہور میں وفات پاگئے اور لاہور ہی میں ملتان روڈ پر ملت پارک کے نزدیک شیخ المشائخ قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

ان کا ایک شعر ملاحظہ کیجیئے ؎

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جائوں گا 

میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا 

***

خود کو تو ندیمؔ آزمایا
اب مر کے خدا کو آزماؤں

Progressive writers (left to right) Sibte Hasan, Faiz Ahmed Faiz, Hameed Akhtar and Ahmed Nadeem Qasmi

Progressive writers (left to right) Sibte Hasan, Faiz Ahmed Faiz, Hameed Akhtar and Ahmed Nadeem Qasmi

Mushaira in Frankfurt October 12, 2018

Posted by Farzana Naina in Poetry.
add a comment

ایک نشست  🌺  ایک تعارف  🌺

ہم اپنے دل کی کتھا کاغذوں پہ لکھتے ہیں

مگر  یہ  لوگ  اسے  شاعری سمجھتے  ہیں

وطن سے دور وطن کی خوشبو

اکتوبر بروز ہفتہ جرمنی میں ایک ادبی نشست اردو جرمن کلچرل سوسائیٹی کی جانب سے منعقد کی گئی جس کے تیس سال مکمل ہورہے تھے اور خواتین کی نشست کے انعقاد کو نو سال۔ !

اس نشست کے دو حصے تھے پہلا نثری اور دوسرا نظم و شاعری۔

پہلے حصے کی صدارت ناروے سے آنے والی ادبی شخصیت محترمہ طاہرہ زرتشت صاحبہ نے کی جو کہ خود بھی شاعرہ ہیں اور اپنی تحاریر میں ایک مقام رکھتی ہیں۔

اس نشست میں تین کتب کی رونمائی اور ان پر مقالہ جات پیش کئے گئے

محفل کا آغاز سورہ رحمان کی تلاوت سے کیا گیا

بعد میں دو بچیوں نے محترم ڈاکٹر اسماعیل صاحب کا سدا بہار نعتیہ کلام ترنم سے پیش کیا، خاکسار نے بھی نعتیہ کلام پیش کیا اور داد و دعائیں وصول کیں ۔  

اس کے بعد مقالہ جات پڑھے گئے اور مصنفات نے اپنی اپنی کتب کا تعارف پیش کیا ۔

پہلا مقالہ محترمہ درثمین احمد صاحبہ نے پیش کیا

کتاب کا نام  تھا “روح دیکھی ہے کبھی ” یہ ایک افسانوی مجموعہ ہے جس کی مصنفہ جرمنی کی محترمہ ہما فلک صاحبہ تھیں۔

دوسرا مقالہ محترمہ فرزانہ نیناں صاحبہ (برطانیہ) نے کتاب    

  “جرمنی میں اردو”

پر بحسن و خوبی پیش کیا جس کی مصنفہ محترمہ عشرت سیماصاحبہ تھیں ۔

اور تیسرا مقالہ محترمہ نبیلہ رفیق صاحبہ (ناروے) کی کتاب “جھرنا”

کے بارے میں محترمہ مسرت آفتاب صاحبہ نے پیش کیا۔

ماشاللہ تینوں ہی کتب اپنے اپنے ناموں کے اعتبار سے بہترین تحریر پر مبنی ہیں۔

آخر میں محترمہ طاہرہ زرتشت صاحبہ نے ادب اور تحریر کے اعتبار سے دنیا کی ایک عالمگیر کتاب قران پاک پر جو ادبی اور اخلاقی معیار کی مکمل کتاب ہے کے بارے میں الفاظ کی شستگی اور تخیل کے ہمراہ اظہاریہ کیا۔

اس پروگرام کے بعد چائے کا وقفہ تھا جس میں سب حاضرات محفل کو چائے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے بھی ملنے اور آپس میں متعارف ہونے کا موقع ملا۔ 

ہال کے باہر خواتین کی دلچسپی اور ضرورت کے لیئے ملبوسات، جیولری اور گھر میں ہاتھ سے بنائی گئی مختلف مصنوعات کا بازار بھی لگایا گیا تھا، خواتین ذوق و شوق سے شاپنگ بھی  کرتی نظر آئیں، یہاں پردے کے انتظام کے باعث مکمل آزادی و پر سکون ماحول میں تمام خواتین نے اس پروگرام کو انجوائے کیا ۔

چائے کے وقفے کے بعد مشاعرے کی کاروائی کا آغاز ہؤا جس کی صدارت  برطانیہ کی معروف و معتبر شاعرہ محترمہ فرزانہ نیناں صاحبہ نے کی جن کی شاعری و ادبی خدمات کا بھی ایک عرصے سے اردو ادب کے میدان میں اعلی مقام ہے۔

اس پروگرام میں مقامی شاعرات کے علاوہ ناروے  سے آئی ہوئی تین شاعرات بھی شامل رھیں۔

محترمہ طاہرہ زرتشت صاحبہ محترمہ نبیلہ رفیق صاحبہ اور یہ خاکسار۔ !  

یوکے سے آنے والی مہمان شاعرات میں،   

محترمہ فوزیہ بٹ صاحبہ

محترمہ مدثرہ عباسی صاحبہ اور

محترمہ فزانہ نیناں صاحبہ نے شرکت کی۔

جرمنی کی مہمان شاعرات میں سے شازیہ نورین صاحبہ پہلی بار شریک ہوئیں جبکہ محترمہ طاہرہ رباب صاحبہ اور محترمہ عشرت سیما صاحبہ نے بھی شرکت کی ۔

تمام شاعرات نے داد دینے والی معزز خواتین سے خوب خوب داد وصول کی جو کبھی جذباتی ہو کر تو کبھی ہنستے مسکراتے، قہقہے بکھیرتے اور کبھی تالیاں بجا کر خوش ہوتے شاعرات کا حوصلہ بڑھاتی رہیں۔ ماشاللہ۔

پردیس میں اتنے بڑے پیمانے پر اس قدر تعداد میں خواتین کا شامل ہونا اور ہر شعر کو سمجھ کر اس پر داد دینا اور اپنی زبان کی اس طریقے سے نئی نسل کے دلوں میں محبت ڈالنے کا یہ انوکھا انداز سب کا دل لبھاتا رہا۔، حالانکہ پروگرام خاصا وقت لے چکا تھا لیکن سننے والے اور داد دینے والے ابھی تازہ دم اور مزید سننے کے موڈ میں تھے ۔

بہرالحال جب مشاعرہ اختتام پذیر ہوا تو مہمان شاعرات اور دو مقامی شاعرات کو فیض احمد فیض ایوارڈ کی شیلڈز پیش کی گئیں جو ہم سب کے لیئے باعث اعزاز تھا۔

کچھ برس قبل اس پروگرام میں محترم فیض مرحوم صاحب کی بیٹی محترمہ سلیمہ ہاشمی صاحبہ نے شرکت کی تھی جس کے بعد سے یہ ایوارڈ ادبی شخصیات کو ان کی خدمات کے صلے میں دیا جانے لگا ہے۔

محفل کے اختتام پر عشائیے کا اہتمام تھا، انتظامیہ کے ساتھ ساتھ اللہ کا بھی شکر ادا کیا  گیا کہ محفل میں شامل ہونے کے شوق میں سبھی نے دوپہر کا کھانا بھی نہ کھایا تھا اور داد پہ داد اور تالیاں بجا بجا کے گلے خشک اور آنتیں قل ھواللہ پڑھ رہی تھیں۔

اگلے دن اسی حال میں مخلوط مشاعرہ بھی منعقد ہونا تھا لہذا انتظامیہ نے اس کی تیاری بھی کرنی تھی چنانچہ سب سے ملتے الوداع کرتے ہم سب گھروں کی طرف روانہ ہونے لگے اچھی اور خوشگوار یادوں کے ساتھ ۔

خدا تعالی کا بڑا فضل و احسان ہے کہ اس نے باہم ادبی رشتوں کی بدولت احباب و خواتین کو آپس میں پیار و محبت کی لڑی میں دانوں کی صورت پرویا ہؤا ہے اور یہ سُچے موتیوں کی لڑی دن بدن لمبی اور مظبوط ہوتی جارہی ہے۔

آخر میں یہ خاکسار محترم عرفان خان صاحب ان کی اہلیہ محترمہ شمیم صاحبہ اور ان کے بیٹوں کا جو ہمہ وقت ائیر پورٹ سے مہمانوں کو لانے لیجانے اور ٹراسپورٹ کی سہولت دینے میں مصروف رہے اور ان کی تمام انتظامیہ و کارکنان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہے جنہوں نے اپنی محبت اور انتھک لگن اور کوشش سے اس ادبی محفل کو کامیاب کرنے اور احباب و خواتین کو سہولت کے ساتھ محفل میں شامل ہونے کے لیئے بھر پور کردار ادا کیا ہے۔

🌺💐🌹

مشاعرے میں شریک ہونے والی شاعرات کی لسٹ

دُرِ ثمین

شازیہ فاروق

فریحہ خان

بشرٰی خالد

مغفورہ رانجھا

طیبہ عزیز

رفعت مرزا

نائمہ طاہرہ

امتۃ الجنیل سیال

بشارت اسماعیل

شفقت شاکرہ

صفیہ چیمہ

فہمیدہ مسرت

فرزانہ ناہید

حمیرا نگہت

شوکت احمد

امۃ القدوس قدسیہ

مدثرہ عباسی

نبیلہ رفیق

فوزیہ بٹ

عشرت معین سیما

شازیہ نور عین

طاہرہ زرتشت ناز

طاہرہ رباب

فرزانہ خان نیناں

الحمدللہ علی ذالک ۔۔۔ خاکسار ۔۔۔ امتہ القدوس قدسیہ ۔۔۔ ناروے۔

15.10.2018

Kab tum mujhko yaad karoge? September 23, 2018

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Nazm, Poetry, Shairy, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags: , , , , , , , ,
add a comment

Kab tum mujhko yaad

Butterfly pink 2Thanks 15

Waqt ke uljhe uljhe dhaage

Jab dil tor kar chal deinge

Pag’dandi par peele pat’tey tumko tanha dekheinge

Perron ke seene par likhe naam bhi ho jayein tehleel

Aur hawa bhi simt ko apni kar jaye tabdeel

Bheeni bheeni khushbo humko har ik gaam pukare gi

Kar ke yakh’basta jab humko barf us paar sudhare gi

Dhoop sada’on ke sikke jab kanon mein khankae gi

Garja ghar ki oonchi burji chand ka chehra choome gi

Baarish, muskanon ke moti pat’ther par jab phorey gi

Aur barasti bondon ke dharon par dhaare jore gi

Garm garm angaaron jaise aansoo aankh se ubleinge

Dil ke armaan ik muddat ke baad tarap kar niklenge

Jab ehsaas ki dunya mein phir aur na ghungroo chan’kenge

Sirf khamoshi goonje gi tab aane wale mausam ki

Khirki par dastak na hogi kisi sureeli rim jhim ki

Shaam ke sanat’te mein badan par coat tumhara jhoole ga

Yaadon ka lams ta’tole ga ghor udaasi choo le ga

Oonchi oonchi baaton se tum khamoshi mein shor karogey

Geet purane sun kar thandi saansein bhar kar bhor karogey 

Us pal shab ki tanhai  mein apne dil ko shaad karogey

Bolo, mujhko yaad karoge…?

 

میر انیس کے مرثیئے September 21, 2018

Posted by Farzana Naina in Marsia, Mir Anees Ke Marsiye, Moharrum, Poetry.
Tags: ,
add a comment

میر انیس

فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے

سادات کی بستی کے اجڑنے کی خبر ہے

در پیش ہے وہ غم، کہ جہاں زیر و زبر ہے

گل چاک گریباں ہیں صبا خاک بہ سر ہے

گل رو صفتِ غنچہ کمر بستہ گھڑے ہیں

سب ایک جگہ صورتِ گلدستہ کھڑے ہیں

آراستہ ہیں بہر سفر، سروِ قبا پوش

عمامے سروں پر ہیں عبائیں بسر دوش

یارانِ وطن ہوتے ہیں آپس میں ہم آغوش

حیراں کوئی تصویر کی صورت کوئی خاموش

منہ ملتا ہے رو کر کوئی سرور کے قدم پر

گر پڑتا ہے کوئی علیؔ اکبر کے قدم پر

عباسؔ کا منہ دیکھ کے کہتا ہے کوئی آہ

اب آنکھوں سے چھپ جائے گی تصویر یداللہ

کہتے ہیں گلے مل کے یہ قاسم کے ہوا خواہ

واللہ دلوں پر ہے عجب صدمۂ جانکاہ

ہم لوگوں سے شیریں سخنی کون کرے گا

یہ انس، یہ خُلقِ حسنی کون کرے گا

روتے ہیں وہ، جو عون و محمد کے ہیں، ہم سن

کہتے ہیں کہ مکتب میں نہ جی بہلے گا تم بن

اس داغ سے چین آئے ہمیں، یہ نہیں ممکن

گرمی کا مہینہ ہے سفر کے یہ نہیں دن

تم حضرتِ شبیرؔ کے سایے میں پلے ہو

کیوں دھوپ کی تکلیف اٹھانے کو چلے ہو

ہم جولیوں سے کہتے تھے وہ دونوں برادر

ہاں بھائیو تم بھی ہمیں یاد آؤ گے اکثر

پالا ہے ہمیں شاہ نے، ہم جائیں نہ کیوں کر

ماموں رہیں جنگل میں تو اپنا ہے وہی گھر

وہ دن ہو کہ ہم حقِّ غلامی سے ادا ہوں

تم بھی یہ دعا مانگو کہ ہم شہ پہ فدا ہوں

رخصت کے لئے لوگ چلے آتے ہیں باہم

ہر قلب حزیں ہے، تو ہر اک چشم ہے پُر نم

ایسا نہیں گھر کوئی کہ جس میں نہیں ماتم

غل ہے کہ چلا دلبرِ مخدومۂ عالم

خدام کھڑے پیٹتے ہیں قبر نبی کے

روضہ پہ اداسی ہے رسولِ عربی کے

ہے جب سے کھلا حالِ سفر بند ہے بازار

یہ جنسِ غم ارزاں ہے کہ روتے ہیں دکاں دار

خاک ارتی ہے ویرانیِ یثرب کے ہیں آثار

ہر کوچے میں ہے شور، کہ ہے ہے شہِ ابرار

اب یاں کوئی والی نہ رہا آہ ہمارا

جاتا ہے مدینے سے شہنشاہ ہمارا

تدبیر سفر میں ہیں ادھر سبطِ پیمبر

گھر میں کبھی آتے ہیں کبھی جاتے ہیں باہر

اسباب نکلواتے ہیں عباسؔ دلاور

تقسیم سواری کے تردد میں ہیں اکبرؔ

شہ کو جنہیں لے جانا ہے، وہ پاتے ہیں گھوڑے

خالی ہوا اصطبل، چلے آتے ہیں گھوڑے

حاضر درِ دولت پہ ہیں، سب یاور و انصار

کوئی تو کمر باندھتا ہے اور کوئی ہتھیار

ہودج بھی کسے جاتے ہیں، محمل بھی ہیں تیار

چلاتے ہیں درباں، کؤی آئے نہ خبردار

ہر محمل و ہودج پہ گھٹا ٹوپ پڑے ہیں

پردے کی قناتیں لئے فراش کھڑے ہیں

عوراتِ محلہ چلی آتی ہیں بصد غم

کہتی ہیں یہ دن رحلتِ زہراؔ سے نہیں کم

پُرسے کی طرح رونے کا غل ہوتا ہے ہر دم

فرش اٹھتا ہے کیا بچھتی ہے گویا صفِ ماتم

غل ہوتا ہے ہر سمت، جدا ہوتی ہے زینبؔ

ہر اک کے گلے ملتی ہے اور روتی ہے زینبؔ

لے لے کے بلائیں یہی سب کرتی ہیں تقریر

اس گرمی کے موسم میں کہاں جاتے ہیں شبیرؔ

سمجھاتی نہیں بھائی کو اے شاہ کی ہمشیر

مسلم کا خط آ لے تو کریں کوچ کی تدبیر

للّٰلہ ابھی قبر پیمبرؐ کو نہ چھوڑیں

گھر فاطمہؔ زہرا کا ہے اس گھر کو نہ چھوڑیں

وہ گھر ہے ملک رہتے تھے جس گھر کے نگہباں

کیوں اپنے بزرگوں کا مکاں کرتے ہیں ویراں

کوفے کی بھی خلقت تو نہیں صاحب ایماں

بی بی یہ مدینے کی تباہی کا ہے ساماں

ایک ایک شقی دشمنِ اولادِ علیؔ ہے

شمشیر ستم واں سرِ حیدر پہ چلی ہے

اجڑے گا مدینہ جو یہ گھر ہوئے گا خالی

بربادیِ یثرب کی بنا چرخ نے ڈالی

کیا جانیں پھر آئیں کہ نہ آئیں شہِ عالی

حضرت کے سوا کون ہے اس شہر کا والی

زہراؔ ہیں نہ حیدرؔ نہ پیمبر نہ حسنؔ ہیں

اب ان کی جگہ آپ ہیں یا شاہِ زمن ہیں

گرمی کا یہ دن اور پہاڑوں کا سفر آہ

ان چھوٹے سے بچوں کا نگہبان ہے اللہ

رستے کی مشقت سے کہاں ہیں ابھی آگاہ

ان کو تو نہ لے جائیں سفر میں شہِ ذی جاہ

قطرہ بھی دمِ تشنہ دہانی نہیں ملتا

کوسوں تلک اس راہ میں پانی نہیں ملتا

منہ دیکھ کے اصغر کا چلا آتا ہے رونا

آرام سے مادر کی کہاں گود میں سونا

جھولا یہ کہاں اور کہاں نرم بچھونا

لکھا تھا اسی سن میں مسافر انہیں ہونا

کیا ہوگا جو میداں میں ہوا گرم چلے گی

یہ پھول سے کمھلائیں گے، ماں ہاتھ ملے گی

ان بیبیوں سے کہتی تھی یہ شاہ کی ہمشیر

بہنوں ہمیں یثرب سے لئے جاتی ہے تقدیر

اس شہر میں رہنا نہیں ملتا کسی تدبیر

یہ خط پہ خط آئے ہیں کہ مجبور ہیں شبیرؔ

مجھ کو بھی ہے رنج ایسا کہ کچھ کہہ نہیں سکتی

بھائی سے جدا ہو کے مگر رہ نہیں سکتی

ماں کی لحد چھوڑ کے میں یاں سے نہ جاتی

فاقے بھی اگر ہوتے تو غم اس کا نہ کھاتی

بھائی کی طرف دیکھ کے شق ہوتی ہے چھاتی

بے جائے، مجھے بات کوئی بن نہیں آتی

ظاہر میں تو مابین لحد سوتی ہیں اماں

میں خواب میں جب دیکھتی ہوں روتی ہیں اماں

ہے روح پہ اماں کی قلق کرتی ہیں زاری

سر پیٹتے میں نے انہیں دیکھا کئی باری

روداد بیاں کر گئی ہیں مجھ سے وہ ساری

فرماتی تھیں بھائی سے خبر دار میں واری

غم خوار ہے تو اور خدا حافظِ جاں ہے

نہ باپ ہے سر پر مرے بچے کے نہ ماں ہے

یاد آتی ہے ہر دم مجھے اماں کی مصیبت

کچھ جان کی تھی فکر نہ ان کو دمِ رحلت

آہستہ یہ فرماتی تھیں باصد غم و حسرت

شبیرؔ سدھارے جو سوئے وادیِٔ غربت

اس دن مری تربت سے بھی منہ موڑیو زینبؔ

اس بھائی کو تنہا نہ کبھی چھوڑیو زینبؔ

اماں کی وصیت کو بجا لاؤں نہ کیوں کر

گھر بھائی سے تھا بھائی نہ ہوگا تو کہاں گھر

دو بہنیں ہیں ماں جائیاں اور ایک برادر

رسی سے بندھے ہاتھ کہ بلوے میں کھلے سر

جو ہووے سو ہو بھائی کے ہمراہ ہے زینبؔ

اس کوچ کے انجام سے آگاہ ہے زینبؔ

یہ کہتی تھی زینبؔ کہ پکارے شہِ عادل

تیار ہیں دروزاے پہ سب ہودج و محمل

طے شام تلک ہوگی کہیں آج کی منزل

رخصت کرو لوگوں کو بس اب رونے سے حاصل

چلتی ہے ہوا سرد ابھی وقت سحر ہے

بچے کئی ہمراہ ہیں گرمی کا سفر ہے

رخصت کرو ان کو جو کہ ہیں ملنے کو آئے

کہہ دو کوئی گہوارۂ اصغر کو بھی لائے

نادان سکینہؔ کہیں آنسو نہ بہائے

جانے کی خبر میری نہ صغراؔ کہیں پائے

ڈر ہے کہیں گھبرا کے نہ دم اس کا نکل جائے

باتیں کرو ایسی کہ وہ بیمار بہل جائے

رخصت کو ابھی قبر پیمبر پہ ہے جانا

کیا جانیے پھر ہو کہ نہ ہوئے مرا آنا

اماں کی لحد پر ہے ابھی اشک بہانا

اس مرقدِ انور کو ہے آنکھوں سے لگانا

آخر تو لئے جاتی ہے، تقدیر وطن سے

چلتے ہوئے ملنا ہے ابھی قبرِ حسن سے

سن کر یہ سخن بانوئے ناشاد پکاری

میں لٹتی ہوں کیسا سفر اور کیسی سواری

غش ہو گئی ہے فاطمہؔ صغرا مری پیاری

یہ کس کے لئے کرتے ہیں سب گریہ و زاری

اب کس پہ میں اس صاحبِ آزار کو چھوڑوں

اس حال میں کس طرح سے بیمار کو چھوڑوں

ماں ہوں میں، کلیجہ نہیں، سینہ میں سنبھلتا

صاحب مرے دل کو ہے کوئی ہاتھوں سے ملتا

میں تو اسے لے چلتی، یہ کچھ بس نہیں چلتا

رہ جاتیں جو بہنیں بھی تو دل اس کا بہلتا

دروازے پہ تیار سواری پہ کھڑی ہے

پر اب تو مجھے جان کی صغراؔ کی پڑی ہے

چلاتی تھی کبراؔ کہ بہن آنکھ تو کھولو

کہتی تھی سکینہؔ کہ ذرا منہ سے تو بولو

ہم جاتے ہیں تم اٹھ کے بغل گیر تو ہو لو

چھاتی سے لگو باپ کی دل کھول کے رو لو

تم جس کی ہو شیدا وہ برادر نہ ملے گا

گھر بھر میں جو ڈھونڈو گی تو اکبر نہ ملے گا

ہشیار ہو کیا صبح سے بیہوش ہے خواہر

اصغرؔ کو کرو پیار کلیجے سے لگا کر

چھاتی سے لگو اٹھ کے کھڑی روتی ہیں مادر

ہم روتے ہیں دیکھو تو ذرا آنکھ اٹھا کر

افسوس، اسی طور سے غفلت میں رہو گی

کیا آخری بابا کی زیارت نہ کرو گی

سن کر یہ سخن شاہ کے آنسو نکل آئے

بیمار کے نزدیک گئے سر کو جھکائے

منہ دیکھ کے بانو کا سخن لب پہ یہ لائے

کیا ضعف و نقاہت ہے، خدا اس کو بچائے

جس صاحبِ آزار کا یہ حال ہو گھر میں

دانستہ میں کیوں کر اسے لے جاؤں سفر میں

کہہ کر یہ سخن بیٹھ گئے سید خوش خو

اور سورۂ الحمد پڑھا تھام کے بازو

بیمار نے پائی گلِ زہراؔ کی جو خوش بو

آنکھوں کو تو کھولا پہ ٹپکنے لگے آنسو

ماں سے کہا مجھ میں جو حواس آئے ہیں اماں

کیا میرے مسیحا مرے پاس آئے ہیں اماں

ماں نے کہا ہاں ہاں وہی آئے ہیں مری جاں

جو کہنا ہو کہہ لو کہ یہاں اور ہے ساماں

دیکھو تو ادھر روتے ہیں بی بی شہِ ذی شاں

صغراؔ نے کہا ان کی محبت کے میں قرباں

وہ کون سا ساماں ہے جو یوں روتے ہیں بابا

کھل کر کہو مجھ سے کہ جدا ہوتے ہیں بابا

یہ گھر کا سب اسباب گیا کس لئے باہر

نہ فرش، نہ ہے مسندِ فرزند پیمبر

دالان سے کیا ہوگیا گہورۂ اصغرؔ

اجڑا ہوا لوگو نظر آتا ہے مجھے گھر

کچھ منہ سے تو بولو مرا دم گھٹتا ہے اماں

کیا سبطِ پیمبر سے وطن چھٹتا ہے اماں

شبیرؔ کا منہ تکنے لگی بانوئے مغموم

صغراؔ کے لئے رونے لگیں زینبؔ و کلثومؔ

بیٹی سے یہ فرمانے لگی سیدِ مظلوم

پردہ رہا اب کیا تمہیں خود ہوگیا معلوم

تم چھٹتی ہو اس واسطے سب روتے ہیں صغراؔ

ہم آج سے آوارہ وطن ہوتے ہیں صغراؔ

اب شہر میں اک دم ہے ٹھہرنا مجھے دشوار

میں پا بہ رکاب، اور ہو تم صاحبِ آزار

پھر آتا ہے وہ گھر میں، سفر میں جو ہو بیمار

تکلیف تمہیں دوں یہ مناسب نہیں زنہار

غربت میں بشر کے لئے سو طرح کا ڈر ہے

میرا تو سفر رنج و مصیبت کا سفر ہے

لُو چلتی ہے خاک اڑتی ہے گرمی کے ہیں ایام

جنگل مین نہ راحت، نہ کہیں راہ میں آرام

بستی میں کہیں صبح، تو جنگل میں کہیں شام

دریا کہیں حائل، کہیں پانی کا نہیں نام

صحّت میں گوارا ہے جو تکلیف گذر جائے

اس طرح کا بیمار نہ مرتا ہو تو مرجائے

صغراؔ نے کہا کھانے سے خود ہے مجھے انکار

پانی جو کہیں راہ میں مانگوں تو گنہگار

کچھ بھوک کا شکوہ نہیں کرنے کی یہ بیمار

تبرید فقط آپ کا ہے شربتِ دیدار

گرمی میں بھی راحت سے گزر جائے گی بابا

آئے گا پسینہ تپ اتر جائے گی بابا

کیا تاب اگر منہ سے کہوں درد ہے سر میں

اف تک نہ کروں، بھڑکے اگر آگ جگر میں

بھولے سے بھی شب کو نہ کراہوں گی سفر میں

قربان گئی، چھوڑ نہ جاؤ مجھے گھر میں

ہو جانا خفا راہ میں گر روئے گی صغراؔ

یاں نیند کب آتی ہے جو واں سوئے گی صغراؔ

وہ بات نہ ہوگی، کہ جو بے چین ہوں مادر

ہر صبح میں پی لوں گی دوا آپ بنا کر

دن بھر، مری گودی میں رہیں گے علی اصغرؔ

لونڈی ہوں سکینہؔ کی، نہ سمجھو مجھے دختر

میں یہ نہیں کہتی کہ عماری میں بٹھا دو

بابا مجھے فضہ کی سواری میں بٹھا دو

شہہ بولے کہ واقف ہے مرے حال سے اللہ

میں کہہ نہیں سکتا مجھے درپیش ہے جو راہ

کھل جائے گا یہ راز بھی، گو تم نہیں آگاہ

ایسا بھی کوئی ہے جسے بیٹی کی نہ ہو چاہ

ناچار یہ فرقت کا الم سہتا ہوں صغراؔ

ہے مصلحتِ حق یہی جو کہتا ہوں صغراؔ

اے نورِ بصر آنکھوں پہ لے کر تجھے چلنا

تو مجھ سے بہلتی، مرا دل تجھ سے بہلتا

تپ ہے تجھے، اور غم سے جگر ہے مرا جلتا

یہ ضعف کہ دم تک نہیں سینے میں سنبھلتا

جز ہجر علاج اور کوئی ہو نہیں سکتا

دانستہ تمہیں ہاتھ سے میں کھو نہیں سکتا

منہ تکنے لگی ماں کا وہ بیمار بصد غم

چتون سے عیاں تھا کہ چلیں آپ موئے ہم

ماں کہتی تھی مختار ہیں، بی بی شہ عالم

میرے تو کلیجے پہ چھری چلتی ہے اس دم

وہ درد ہے جس درد سے چارا نہیں صغراؔ

تقدیر سے کچھ زور ہمارا نہیں صغراؔ

صغراؔ نے کہا کوئی کسی کا نہیں زنہار

سب کی یہی مرضی ہے کہ مر جائے یہ بیمار

اللہ نہ وہ آنکھ کسی کی ہے، نہ وہ پیار

اک ہم ہیں کہ ہیں، سب پہ فدا سب کے ہیں غم خوار

بیزار ہیں سب ایک بھی شفقت نہیں کرتا

سچ ہے کوئی مردے سے محبت نہیں کرتا

ہمشیر کے عاشق ہیں سلامت رہیں اکبرؔ

اتنا نہ کہا مر گئی یا جیتی ہے خواہر

میں گھر میں تڑپتی ہوں وہ ہیں صبح سے باہر

وہ کیا کریں برگشتہ ہے اپنا ہی مقدر

پوچھا نہ کسی نے کہ وہ بیمار کدھر ہے

نہ بھائیوں کو دھیان نہ بہنوں کو خبر ہے

کیا ان کو پڑی تھی جو وہ غم کھانے کو آتے

میں کون جو صورت مجھے دکھلانے کو آتے

ہوتی جو غرض چھاتی سے لپٹانے کو آتے

زلفیں جو الجھتی تو، سلجھوانے کو آتے

کل تک تو مرے حالِ پریشاں پہ نظر تھی

تقدیر کے اس پیچ کی مجھ کو نہ خبر تھی

مانوس سکینہؔ سے ہیں عباسؔ دلاور

میں کون ہوں جو میری خبر پوچھتے آ کر

سرسبز رہے خلق میں نو بادۂ شبّر

شادی میں بلائیں مجھے یہ بھی نہیں باور

بے دولہا بنے منہ کو چھپاتے ہیں ابھی سے

میں جیتی ہوں اور آنکھ چراتے ہیں ابھی سے

کس سے کہوں اس درد کو میں بیکس و رنجور

بہنیں بھی الگ مجھ سے ہیں اور بھائی بھی ہیں دور

اماں کا سخن یہ ہے کہ بیٹی میں ہوں مجبور

ہمراہیٔ بیمار کسی کو نہیں منظور

دنیا سے سفر، رنج و مصیبت میں لکھا تھا

تنہائی کا مرنا مری قسمت میں لکھا تھا

سب بیبیاں رونے لگیں سن سن کے یہ تقریر

چھاتی سے لگا کر اسے کہنے لگے شبیرؔ

لو صبر کرو، کوچ میں اب ہوتی ہے تاخیر

منہ دیکھ کے چپ رہ گئی وہ بیکس و دلگیر

نزدیک تھا دل چیر کے پہلو نکل آئے

اچھا تو کہا منہ سے پہ آنسو نکل آئے

بانو کو اشارہ کیا حضرت نے کہ جاؤ

اکبر کو بلاؤ، علیؔ اصغر کو بھی لاؤ

آئے علیؔ اکبر تو کہا شاہ نے آؤ

روٹھی ہے بہن تم سے گلے اس کو لگاؤ

چلتے ہوئے جی بھر کے ذرا پیار تو کر لو

لینے انہیں کب آؤ گے اقرار تو کر لو

پاس آن کے اکبرؔ نے یہ کی پیار کی تقریرا

کیا مجھ سے خفا ہوگئیں صغراؔ مری تقصیر

چلانے لگی، چھاتی پہ منہ رکھ کے، وہ دلگیر

محبوب برادر ترے قربان یہ ہمشیر

صدقے ترے سر پر سے اتارے مجھے کوئی

بل کھائی ہوئی زلفوں پہ وارے مجھے کوئی

رخساروں پہ سبزے کے نکلنے کے میں صدقے

تلوار لئے شان سے چلنے کے میں صدقے

افسوس سے ان ہاتھوں کے ملنے کے میں صدقے

کیوں روتے ہو اشک آنکھوں سے ڈھلنے کے میں صدقے

جلد آن کے بھینا کی خبر لیجیو بھائی

بے میرے کہیں بیاہ نہ کر لیجیو بھائی

لکھنا مجھے نسبت کا اگر ہو کہیں سامان

حقدار ہوں میں نیگ کی میرا بھی رہے دھیان

اور مر گئی پیچھے تو رہے دل میں سب ارمان

لے آنا دولہن کو مری تربت پہ میں قربان

خوشنود مری روح کو کر دیجیو بھائی

حق نیگ کا تم قبر پہ دھر دیجیو بھائی

پیارے مرے بھیا مرے مہ رو، علیؔ اکبر

چھپ جائیں گے آنکھوں سے یہ گیسو، علیؔ اکبر

یاد آئے گی یہ جسم کی خوشبو، علیؔ اکبر

ڈھونڈھیں گی یہ آنکھیں تمہیں، ہر سو علیؔ اکبر

دل سینے میں کیوں کر تہہ و بالا نہ رہے گا

جب چاند چھپے گا تو اجالا نہ رہے گا

کیا گذرے گی جب گھر سے چلے جاؤ گے بھائی

کیسے مجھے ہر بات میں یاد آؤ گے بھائی

تشریف خدا جانیے کب لاؤ گے بھائی

کی دیر تو جیتا نہ ہمیں پاؤ گے بھائی

کیا دم کا بھروسہ کہ چراغِ سحری ہیں

تم آج مسافر ہو تو ہم کل سفری ہیں

ہا سچ ہے کہ بیمار کا بہتر نہیں جانا

صحت سے جو ہیں ان میں کہاں میرا ٹھکانا

بھیا جو اب آنا تو مری قبر پہ آنا

ہم گور کی منزل کی طرف ہوں گے روانا

کیا لطف کسی کو نہیں گر چاہ ہماری

وہ راہ تمہاری ہے تو یہ راہ ہماری

مرنا تو مقدم ہے، غم اس کا نہیں زنہار

دھڑکا ہے کہ جب ہوں گے عیاں موت کے آثار

قبلہ کی طرف، کون کرے گا رخِ بیمار

یٰسین بھی پڑھنے کو نہ ہوگا کوئی غم خوار

سانس اکھڑے گی جس وقت تو فریاد کروں گی

میں ہچکیاں لے لے کے تمہیں یاد کروں گی

ماں بولی یہ کیا کہتی ہے صغراؔ ترے قربان

گھبرا کے نہ اب تن سے نکل جائے مری جان

بیکس مری بچی، ترا اللہ نگہبان

صحّت ہو تجھے میری دعا ہے یہی ہر آن

کیا بھائی جدا بہنوں سے ہوتے نہیں بیٹا

کنبے کے لئے جان کو کھوتے نہیں بیٹا

میں صدقے گئی بس نہ کرو گریہ و زاری

اصغرؔ مرا روتا ہے صدا سن کے تمہاری

وہ کانپتے ہاتھوں کو اٹھا کر یہ پکاری

آ آ مرے ننھے سے مسافر ترے واری

چھٹتی ہے یہ بیمار بہن جان گئے تم

اصغرؔ مری آواز کو پہچان گئے تم

تم جاتے ہو اور ساتھ بہن جا نہیں سکتی

تپ ہے تمہیں چھاتی سے میں لپٹا نہیں سکتی

جو دل میں ہے لب پر وہ سخن لا نہیں سکتی

رکھ لوں تمہیں اماں کو بھی سمجھا نہیں سکتی

بیکس ہوں مرا کوئی مددگار نہیں ہے

تم ہو سو تمہیں طاقتِ گفتار نہیں ہے

معصوم نے جس دم یہ سنی درد کی گفتار

صغراؔ کی طرف ہاتھوں کو لٹکا دیا اک بار

لے لے کے بلائیں یہ لگی کہنے وہ بیمار

جھک جھک کے دکھاتے ہو مجھے آخری دیدار

دنیا سے کوئی دن میں گذر جائے گی صغراؔ

تم بھی یہ سمجھتے ہو کہ مر جائے گی صغراؔ

عباس نے اتنے میں یہ ڈیوڑھی سے پکارا

چلنے کو ہے اب قافلہ تیار ہمارا

لپٹا کے گلے فاطمہؔ صغرا کو دوبارا

اٹھے شہِ دیں، گھر تہہ و بالا ہوا سارا

جس چشم کو دیکھا سو وہ پر نم نظر آئی

اک مجلسِ ماتم تھی، کہ برہم نظر آئی

بیت الشرفِ خاص سے نکلے شہِ ابرار

روتے ہوئے ڈیوڑھی پہ گئے عترتِ اطہار

فراشوں کو عباس پکارے یہ بہ تکرار

پردے کی قناتوں سے خبردار! خبردار

باہر حرم آتے ہیں، رسول دوسرا کے

شقہ کوئی جھک جائے نہ جھونکے سے ہوا کے

لڑکا بھی جو کوٹھے پہ چڑھا ہو وہ اتر جائے

آتا ہو ادھر جو وہ، اسی جا پہ ٹھہر جائے

ناقے پہ بھی کوئی نہ برابر سے گذر جائے

دیتے رہو آواز جہاں تک کہ نظر جائے

مریمؔ سے سوا حق نے شرف ان کو دیئے ہیں

افلاک پہ آنکھوں کو ملک بند کیے ہیں

عباسؔ علی سے علیؔ اکبر نے کہا تب

ہیں قافلہ سالارِ حرم حضرت زینبؔ

پہلے وہ ہوں اسوار تو محمل میں چڑھیں سب

حضرت نے کہا ہاں یہی میرا بھی ہے مطلب

گھر میں مرنے زہراؔ کی جگہ بنتِ علیؔ ہے

میں جانتا ہوں ماں مرے ہمراہ چلی ہے

پہنچی جو ہیں ناقے کے قریں دخترِ حیدرؔ

خود ہاتھ پکڑنے کو بڑھے سبطِ پیمبر

فضہ تو سنبھالے ہوئے تھی گوشۂ چادر

تھے پردۂ محمل کو اٹھائے علیؔ اکبر

فرزند کمر بستہ چپ و راس کھڑے تھے

نعلین اٹھا لینے کو عباسؔ کھڑے تھے

اک دن تو مہیا تھا، یہ سامانِ سواری

اک روز تھا وہ، گرد تھے نیزے لئے ناری

محمل تھا، نہ ہودج، نہ کجاوہ، نہ عماری

بے پردہ تھی وہ حیدر کرار کی پیاری

ننھے کئی بچوں کے گلے ساتھ بندھے تھے

تھے بال کھلے چہروں پہ اور ہاتھ بندھے تھے

زینت دہِ محمل جو ہوئی دخترِزہرا

ناقوں پہ چڑھے سب حرمِ سیدِ والا

آنے لگے رہوار، کھلا گرد کا پردا

عباسؔ سے بولے یہ شہِ یثرب و بطحا

صدمہ ہے بچھڑنے کا مرے روحِ نبی پر

رخصت کو چلو قبرِ رسولِ عربی پر

ہے قبر پہ نانا کی مقدم مجھے جانا

کیا جانیے پھر ہو کہ نہ ہو شہر میں آنا

اماں کی ہے تربت پہ ابھی اشک بہانا

اس مرقدِ انور کو ہے آنکھوں سے لگانا

آخر تو لیے جاتی ہے تقدیرِ وطن سے

چلتے ہوئے ملنا ہے ابھی قبرِ حسنؔ سے

پیدل شہِ دیں روضۂ احمد کو سدھارے

تربت سے صدا آئی کہ آ آ مرے پیارے

تعویذ سے شبیرؔ لپٹ کر یہ پکارے

ملتا نہیں آرام نواسے کو تمہارے

خط کیا ہیں اجل کا یہ پیام آیا ہے نانا

آج آخری رخصت کو غلام آیا ہے نانا

خادم کو کہیں امن کی اب جا نہیں ملتی

راحت کوئی ساعت مرے مولا نہیں ملتی

دکھ کون سا اور کون سی ایذا نہیں ملتی

ہیں آپ جہاں، راہ وہ اصلا نہیں ملتی

پابندِ مصیبت ہوں گرفتارِ بلا ہوں

خود پاؤں سے اپنے طرفِ قبر چلا ہوں

میں اک تنِ تنہا ہوں ستم گار ہزاروں

اک جان ہے اور درپئے آزار ہزاروں

اک پھول سے رکھتے ہیں، خلشِ خار ہزاروں

اک سر ہے فقط اور خریدار ہزاروں

واں جمع کئی شہر کے خوں ریز ہوئے ہیں

خنجر مری گردن کے لئے تیز ہوئے ہیں

فرمایئے اب جائے کدھر آپ کا شبیرؔ

یاں قید کی ہے فکر ادھر قتل کی تدبیر

تیغیں ہیں کہیں میرے لئے اور کہیں زنجیر

خوں ریزی کو کعبہ تلک آ پہنچے ہیں بے پیر

بچ جاؤں، جو پاس اپنے بلا لیجئے نانا

تربت میں نواسے کو چھپا لیجئے نانا

یہ کہہ کے مَلا قبر سے شہہ نے جو رخِ پاک

ہلنے لگا صدمے سے مزارِ شہِ لولاک

جنبش جو ہوئی قبر کو تھرا گئے افلاک

کانپی جو زمیں صحنِ مقدس میں اڑی خاک

اس شور میں آئی یہ صدا روضۂ جد سے

تم آگے چلو ہم بھی نکلتے ہیں لحد سے

باتوں نے تری دل کو مرے کر دیا مجروح

تو شہر سے جاتا ہے تڑپتی ہے مری روح

بے تیغ کیا، خنجرِ غم نے ترے مذبوح

ہے کشتیِٔ امت پہ تباہی، کہ چلا نوح

افلاکِ امامت کا تجھے بدر نہ سمجھے

بے قدر ہیں ظالم کہ تری قدر نہ سمجھے

مارا گیا جس روز سے شبرؔ مرا پیارا

اس روز سے ٹکڑے ہے کلیجہ مرا سارا

اب قتل میں ہوتا ہوں ترے ساتھ دوبارا

امت نے کیا پاسِ ادب خوب ہمارا

زہراؔ کی جو بستی کو اجاڑیں تو عجب کیا

اعدا مجھے تربت سے اکھاڑیں تو عجب کیا

اس ذکر پہ رویا کیے شہہ سر کو جھکائے

واں سے جو اٹھے فاطمہؔ کی قبر پہ آئے

پائینِ لحد گر کے بہت اشک بہائے

آواز یہ آئی کہ میں صدقے مرے جائے

ہے شور ترے کوچ کا جس دن سے وطن میں

پیارے میں اسی دن سے تڑپتی ہوں کفن میں

تربت میں جو کی میں نے بہت گریہ و زاری

گھبرا کے علیؔ آئے نجف سے کئی باری

کہتے تھے کہ اے احمدِ مختار کی پیاری

تم پاس ہو تربت ہے بہت دور ہماری

گھر لٹتا ہے کیوں کر ہمیں چین آئے گا زہراؓ

کیا ہم سے نہ رخصت کو حسینؔ آئے گا زہراؓ

میں نے جو کہا قبر سے کیوں نکلے ہو باہر

نہ سر پہ عمامہ ہے نہ ہے دوش پہ چادر

فرمایا کہ ماتم میں ہوں اے بنتِ پیمبر

مرنے کو پسر جاتا ہے برباد ہوا گھر

ترسیں گے وہ پانی کو جو نازوں کے پلے ہیں

تلواریں ہیں اب اور مرے بچوں کے گلے ہیں

پھرتا ہے مری آنکھوں میں شبیرؔ کا مقتل

وہ نہرِ فرات اور کئی کوس کا جنگل

وہ بجلیاں تلواروں کی اور شام کا بادل

دریا سے وہ پیاسوں کے ہٹا دینے کی ہلچل

شبیرؔ کے سر پر سے یہ آفت نہ ٹلے گی

دسویں کو محرم کی چھری مجھ پہ چلے گی

سن کر یہ بیاں باپ کا مادر کی زبانی

رو رو کے پکارا اسد اللہ کا جانی

ہاں والدہ سچ ہے نہ ملے گا مجھے پانی

پیاسے ہیں مرے خون کے یہ ظلم کے بانی

بچپن میں کیا تھا، مرا ماتم شہ دیں نے

نانا کو خبر دی تھی مری روح امیں نے

پہلو میں جو تھی فاطمہؔ کے تربتِ شبرؔ

اس قبر سے لپٹے بہ محبت شہِ صفدر

چلائے کہ شبیرؔ کی رخصت ہے برادر

حضرت کو تو پہلو ہوا اماں کا میسر

قبریں بھی جدا ہیں تہِ افلاک ہماری

دیکھیں ہمیں لے جائے کہاں خاک ہماری

یہ کہہ کے چلے قبر حسن سے شہِ مظلوم

رہوار جو مانگا تو سواری کی ہوئی دھوم

یارانِ وطن گرد تھے افسردۂ مغموم

چلاتے تھے خادم کہ چلا خلق کا مخدوم

خالی ہوا گھر آج رسول عربی کا

تابوت اسی دھوم سے نکلا تھا بنی کا

جب اٹھ گئی تھیں خلق سے مخدومۂ عالم

سر پیٹتے تھے لوگ اسی طرح سے باہم

برپا تھا جنازے پہ علیؔ کے یونہیں ماتم

تھا رحلتِ شبرؔ میں محبوں کا یہی غم

بس آج سے بے وارث و والی ہے مدینہ

اب پنجتن پاک سے خالی ہے مدینہ

چلاتی تھیں رانڈیں کہ چلی شہہ کی سواری

لے گا خبر اب کون مصیبت میں ہماری

آنکھوں سے یتیموں کی دُرِ اشک تھا جاری

مضطر تھے اپاہج ضعفا کرتے تھے زاری

کہتے تھے گدا، ہم کو غنی کون کرے گا

محتاجوں کی فاقہ شکنی کون کرے گا

تھا، ناکے تلک شہر کے اک شورِ قیامت

سمجھاتے ہوئے سب کو چلے جاتے تھے حضرت

رو رو کے وہ کہتا تھا جسے کرتے تھے رخصت

پائیں گے کہاں ہم، یہ غنیمت ہے زیارت

آخر تو بچھڑ کر کفِ افسوس ملیں گے

دس بیس قدم اور بھی ہمراہ چلیں گے

قسمیں انہیں دے دے کے کہا شہ نے کہ جاؤ

تکلیف تمہیں ہوتی ہے اب ساتھ نہ آؤ

اللہ کو سونپا تمہیں آنسو نہ بہاؤ

پھرنے کے نہیں، ہم سے بس اب ہاتھ اٹھاؤ

اس بیکس و تنہا کی خبر پوچھتے رہنا

یارو مری صغراؔ کی خبر پوچھتے رہنا

روتے ہوئے وہ لوگ پھرے شاہ سدھارے

جو صاحبِ قسمت تھے وہ ہمراہ سدھارے

کس شوق سے مردانِ حق آگاہ سدھارے

عابد طرفِ خانۂ اللہ سدھارے

اترے نہ مسافر کسی مخلوق کے گھر میں

عاشق کو کشش لے گئی معشوق کے گھر میں

روشن ہوئی کعبہ کی زمیں نورِ خدا سے

مکہ نے شرف اور بھی پایا شرفا سے

جھک جھک کے ملے، سبطِ پیمبر غربا سے

آباد ہوا شہر، نمازوں کی صدا سے

خوش ہو کے ہوا خواہ یہ کہتے تھے علیؓ کے

سب باپ کی خو بو ہے نواسے میں نبی کے

کعبے مین بھی اک دن نہ ملا شاہ کو آرام

کوفے سے چلے آتے تھے نامے سحر و شام

اعدا نے گذرنے نہ دیے، حج کے بھی ایام

کھولا پسرِ فاطمہ نے باندھ کے احرام

عازم طرفِ راہِ الٰہی ہوئے حضرت

تھی ہشتم ذی الحجہ کہ راہی ہوئے حضرت

جاتے تھے دل افسردہ و غمگیں شہِ ابرار

ہر گام پہ ہوتے تھے عیاں موت کے آثار

قبریں نظر آتیں کسی صحرا میں جو دو چار

فرماتے تھے شہ فاعتبرو یا اولی الابصار

جز خاک نہ ہوئے گا نشان بھی بدنوں کا

انجام یہ ہے ہم سے غریب الوطنوں کا

احباب کہیں، گھر ہے کہیں، آپ کہیں ہیں

آگے تو زمیں پر تھے پر اب زیرِ زمیں ہیں

خالی ہیں مکاں آپ تہِ خاک مکیں ہیں

جو دور نہ رہتے تھے وہ اب پاس نہیں ہیں

حسرت یہ رہی ہوگی کہ پہنچے نہ وطن میں

کیا منہ کو لپیٹے ہوئے سوتے ہیں کفن میں

باتیں تھیں یہی یاس کی اور درد کی تقریر

منزل پہ بھی آرام سے سوتے تھے نہ شبیرؔ

شب کو کہیں اترے، تو سحر کو ہوئے رہگیر

جلدی تھی کہ، ہو جائے شہادت میں نہ تاخیر

مقتل کا یہ تھا شوق شہِ جن و بشر کو

جس طرح سے ڈھونڈھے کوئی معشوق کے گھر کو

ملتا تھا کوئی مرد مسافر جو سر راہ

یوں پوچھتے تھے اس سے بہ حسرت شہہ ذی جاہ

ایسا کوئی صحرا بھی ہے اے بندۂ اللہ

اک نہر سوا جس میں ہو چشمہ نہ کوئی چاہ

کیا ملتا ہے، اس دشت میں اور کیا نہیں ملتا

ہم ڈھونڈھتے پھرت ہیں، وہ صحرا نہیں ملتا

وہ عرض یہ کرتا تھا کہ سبطِ شہِ لولاک

ہے سخت پُر اندوہ، وہ صحرا تہہ افلاک

ہنستا ہوا واں جائے تو ہو جاتا ہے غمناک

سنتا ہوں وہاں دن کو اڑاتا ہے کوئی خاک

واں راتوں کو آتی ہے صدا سینہ زنی کی

درویش کی ممکن ہے سکونت نہ غنی کی

چلاتی ہے عورت کوئی ہے ہے مرے فرزند

اس دشت میں ہو جائے گا تو خاک کا پیوند

تلواروں سے ٹکرے یہیں ہوں گے ترے دلبند

پانی یہیں ہو جائے گا بچوں پہ ترے بند

پیارے تو اسی خاک پہ گھوڑے سے گرے گا

ہے ہے یہیں خنجر تری گردن پہ پھرے گا

اک شیر ترائی میں یہ چلاتا ہے دن رات

کٹ جائیں گے یاں ہاتھ مرے لال کے ہیہات

کیا حال کہوں نہر کا، اے شاہِ خوش اوقات

پانی تو نہیں شور، پہ مشہور ہے یہ بات

طائر بھی دمِ تشنہ دہانی نہیں پیتے

وحشی کبھی واں آن کے پانی نہیں پیتے

اس جا نہ اترتا ہے نہ دم لیتا ہے رہ گیر

ہے شور کہ اس آب میں ہے آگ کی تاثیر

پیاسوں کے لئے اس کی ہر اک موج ہے شمشیر

اس طرح ہوا چلتی ہے جس طرح چلیں تیر

بجھتی نہیں واں پیاس کس تشنہ گلو کی

بو آتی ہے اس نہر کے پانی میں لہو کی

اس شخص سے یہ کہہ کے چلے قبلۂ عالم

اللہ نے چاہا تو بسائیں گے اسے ہم

عاشق پہ بلا بعد بلا آتی ہے ہر دم

غم اور بڑھا، وصل کا عرصہ جو رہا کم

آفت یہ نئی فوج شہنشاہ میں آئی

مسلم کی شہادت کی خبر راہ میں آئی

غربت میں نہ ماتم کی سنائے خبر اللہ

طاری ہوا حضرت پہ عجب صدمۂ جانکاہ

گوندھے ہوئے سر کھول کے پیٹے حرمِ شاہ

فرماتے تھے شہ سب کو ہے درپیش یہی راہ

ہو گا وہی اللہ کو جو مدِ نظر ہے

آج ان کا ہوا کوچ، کل اپنا بھی سفر ہے

وارث کے لئے زوجۂ مسلم کا تھا یہ حال

محمل سے گری پڑتی تھی بکھرائے ہوئے بال

روتے تھے بہن کے لئے عباس خوش اقبال

وہ کہتی تھی ساتھ آئے تھے چھوٹے مرے دو لال

پوچھو تو کدھر وہ مرے پیارے گئے دونوں

فرماتے تھے شبیرؔ کہ مارے گئے دونوں

محمل تھے سب اس بی بی کے ہودج کے برابر

تھا شور کہ بیوہ ہوئی شبیرؔ کی خواہر

گھبرا گئی تھی مسلمِؔ مظلوم کی دختر

ہر بار یہی پوچھتی تھی ماں سے لپٹ کر

کیوں پیٹتی ہو کون جدا ہو گیا اماں

غربت میں مرے باپ پہ کیا ہو گیا اماں

اس دن سے تو اک ابر ستم فوج پہ چھایا

کھانا کئی دن قافلہ والوں نے نہ کھایا

رستے میں ابھی تھا اسداللہ کا جایا

جو چاند محرم کا فلک پر نظر آیا

سب نے مہِ نو لشکرِ شبیرؔ میں دیکھا

منہ شاہ نے آئینۂ شمشیر میں دیکھا

خویش و رفقا چاند کی تسلیم کو آئے

مجرے کو جھکے اور سخن لب پہ یہ لائے

یہ چاند مبارک ہو یداللہ کے جائے

کفار پہ تو فتح، اسی چاند میں پائے

رتبہ مہہ و خورشید سے بالا رہے تیرا

تا حشر زمانے میں اجالا رہے تیرا

حضرت نے دعا پڑھ کے یہ کی حق سے مناجات

کر رحم گنہگاروں پہ اے قاضیِٔ حاجات

سر دینے کا مشتاق ہوں عالِم ہے تری ذات

خنجر مری آنکھوں میں پھرا کرتا ہے دن رات

باقی ہیں جو راتیں وہ عبادت میں بسر ہوں

یہ زیست کے دس دن تری طاعت میں بسر ہوں

پہنچا دے مجھے جلدی بس اے خالقِ افلاک

اُس خاک پہ جس خاک سے ملتی ہے مری خاک

طالب ہے ترے قرب کا سبطِ شہہ لولاک

نہ ملک کی خواہش ہے نہ درکار ہے املاک

بیتاب ہے دل صبر کا یارا نہیں مجھ کو

اب فصل بجز وصل گوارا نہیں مجھو کو

اتنے میں یہ فضہؔ علیؔ اکبر کو پکاری

لو دیکھ چکی چاند ید اللہ کی پیاری

عادت ہے کہ وہ دیکھتی ہیں شکل تمہاری

آنکھوں کو کیے بند یہ فرماتی ہیں واری

آئے تو رخِ اکبرِ ذی قدر کو دیکھوں

شکل مہِ نو دیکھ چکی بدر کو دیکھوں

شہ داخلِ خیمہ ہوئے فرزند کے ہمراہ

منہ دیکھ چکی چاند ید اللہ کی پیاری

یہ چاند ہے کس طرح کا اے فاطمہؓ کے ماہ

فرمانے لگے رو کے بہن سے شہہِ ذی جاہ

سر تن سے مرا اس مہِ پُر غم میں کٹے گا

زینبؔ یہ مہینہ تمہیں ماتم میں کٹے گا

یہ آل نبی کی ہے مصیبت کا مہینا

یہ ظلم کا عشرہ ہے یہ آفت کا مہینا

پہنچا ہے غریبوں کی شہادت کا مہینا

آخر ہے بس اب عمر کی مدت کا مہینا

یہ بار امامت مری گردن سے اتر جائے

ہو خاتمہ بالخیر جو سر تن سے اتر جائے

گردوں پہ مہِ نو جو نمایاں ہے یہ ہمشیر

چڑھتی ہے مرے سر کے لئے چرخ پہ شمشیر

اس چاند میں کٹ جائے گا سب لشکرِ شبیر

نیزہ کوئی کھائے گا کلیجہ پہ، کوئی تیر

برچھی کسی جانباز کے پہلو میں لگے گی

شمشیر، کسی شیر کے پہلو میں لگے گی

خیمے کو جلا دیں گے، لٹے گا زر و زیور

اس ماہ میں ہوں گے نہ پدر اور نہ برادر

ماؤں سے پسر چھوٹیں گے بہنوں سے برادر

بیوہ کئی سیدانیاں ہوویں گی مقرر

گھڑکیں گے ستمگار جو رووے گی سکینہؔ

اس ماہ میں بے باپ کی ہووے گی سکینہؔ

دولہا کوئی ٹاپوں کے تلے ہوئے گا پامال

پیٹے گی کوئی تازہ دلہن کھولے ہوئے بال

تیروں سے کسی ماں کا جگر ہووئے گا غربال

نکلے گی کوئی کہتی ہوئی ہائے مرا لال

معصوموں کے سونے کی جگہ پائیں گے خالی

بچوں سے بھری گودیاں ہو جائیں گی خالی

اس عشرۂ اوّل میں نہ ہوئیں گے بہن ہم

تاریخِ سفر ہے دہم ماہِ محرم

عشرہ یہ وہ عشرہ ہے کہ اے زینبِؔ پُر غم

جس لال کی عاشق ہو وہ ہو جائے گا بے دم

دیکھو گی نہ پھر منہ علیؔ اکبر سے پسر کا

اب شام میں ہوئے گا تمہیں چاند صفر کا

رونے کے لئے حق نے بنائے ہیں یہ دس دن

ان روزوں خوشی ہو کہ کسی کو نہیں ممکن

لیویں گے مرا تعزیہ ہر شہر کے ساکن

اکبر کو جواں روئیں گے معصوموں کو کم سن

بھولیں ہمیں ایسے نہیں غم خوار ہمارے

ہوئیں گے سیہ پوش عزادار ہمارے

غش ہو گئی سن کر یہ بیاں زینبؔ پُر غم

خیمے میں اسی رات سے برپا ہوا ماتم

بیدار رہیں صبح تلک بیبیاں باہم

خیموں کو اکھڑوا کے چلے قبلۂ عالم

آخر وہی صحرا، وہی جنگل نظر آیا

تھی دوسری تاریخ کہ مقتل نظر آیا

اترے اسی میدانِ بلا خیز میں سرور

استادہ ہوئے، خیمۂ ناموسِ پیمبر

صحرا کی طرف دیکھ کے خوش ہو گئے اکبرؔ

دریا پہ ٹہلنے لگے عباسِؔ دلاور

شہہ بولے ہوا نہر کی بھائی تمہیں بھائی

ہاں شیر ہو دریا کی ترائی تمہیں بھائی

خامے کو بس اب روک انیسؔ جگر افگار

خالق سے دعا مانگ کہ اے ایزدِ غفار

زندہ رہیں دنیا میں شہہ دیں کے عزادار

غیر از غمِ شہ، ان کو نہ غم ہو کوئی زنہار

آنکھوں سے مزارِ شہِ دلگیر کو دیکھیں

اس سال میں بس روضۂ شبیرؔ کو دیکھیں

شمس الرحمن فاروقی کے افکار April 19, 2018

Posted by Farzana Naina in Poetry, شمس الرحمن فاروقی.
Tags:
add a comment

شمس الرحمن فاروقی کے درج ذیل نتائج، افکار اور تجاویز نہ صرف شعرا کے لیے کیمیا اثر ہیں بلکہ شعر و ادب کے ہر سنجیدہ طالب عالم کے لیے بھی یہ رہنما اصول کا درجہ رکھتے ہیں۔ فاروقی صاحب کی یہ تحریر ان کی مشہور تصنیف “تنقیدی افکار” سے ماخوذ ہے۔ اگرچہ اصل فہرست طویل ہے جسے سلسلہ وار پڑھنے کی تلقین صاحب کتاب نے کی ہے لیکن تنگیِ صفحات اور طلبہ کی ضرورتوں کے مد نظر ، میں اس کی تلخیص پیش کی جارہی ہے۔

1۔ موزوں، ناموزوں سے بہتر ہے۔

(الف)چونکہ نثری نظم میں موزونیت ہوتی ہے، اس لیے نثری نظم، نثر سے بہتر ہوتی ہے۔

2۔ انشا، خبر سے بہتر ہے۔

3۔ کنایہ، تصریح سے بہتر ہے۔

4۔ ابہام، توضیح سے بہتر ہے۔

5۔ اجمال، تفصیل سے بہتر ہے۔

6۔ استعارہ، تشبیہ سے بہتر ہے۔

7۔ علامت، استعارے سے بہتر ہے۔

(الف) لیکن علامت چونکہ خال خال ہی ہاتھ لگتی ہے ، اس لیے استعارے کی تلاش بہتر ہے۔

8۔ تشبیہ، مجرد اور سادہ بیان سے بہتر ہے۔

9۔ پیکر، تشبیہ سے بہتر ہے۔

10۔ دو مصرعوں کے شعر کا حسن اس بات پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ دونوں مصرعوں میں ربط کتنا اور کیسا ہے؟

11۔ اس ربط کو قائم کرنے میں رعایت بہت کام آتی ہے۔

12۔ مبہم شعر، مشکل شعر سے بہتر ہوتا ہے۔

13۔ مشکل شعر، آسان شعر سے بہتر ہوسکتا ہے۔

14۔ شعر کا آسان یا سریع الفہم ہونا اس کی اصلی خوبی نہیں۔

15۔ مشکل سے مشکل شعر کے معنی بہرحال محدود ہوتے ہیں۔

16۔ مبہم شعر کے معنی بہرحال نسبتاً محدود ہوتے ہیں۔

17۔ شعر میں معنی آفرینی سے مراد یہ ہے کہ کلام ایسا بنایا جائے جس میں ایک سے زیادہ معنی نکل سکیں۔

18۔ چونکہ قافیہ بھی معنی میں معاون ہوتا ہے، اس لیے قافیہ پہلے سے سوچ کر شعر کہنا کوئی گناہ نہیں۔

19۔ شعر میں کوئی لفظ، بلکہ کوئی حرف، بے کار نہ ہونا چاہیے۔ لہٰذا، اگر قافیہ یا ردیف یا دونوں پوری طرح کارگر نہیں ہیں تو شعر کے معنی کو سخت صدمہ پہنچنا لازمی ہے۔

20۔ شعر میں کثیر معنی صاف نظر آئیں، یا کثیر معنی کا احتمال ہو، دونوں خوب ہیں۔

21۔ سہل ممتنع کو غیر ضروری اہمیت نہ دینا چاہیے۔

22۔ شعر میں آورد ہے کہ آمد، اس کا فیصلہ اس بات سے نہیں ہوسکتا کہ شعر بے ساختہ کہا گیا یا غور و فکر کے بعد۔ آورد اور آمد، شعر کی کیفیات ہیں، تخلیق شعر کی نہیں۔

23۔ بہت سے اچھے شعر بے معنی ہوسکتے ہیں لیکن بے معنی اور مہمل ایک ہی چیز نہیں۔ اچھا شعر اگر بے معنی ہے تو اس سے مراد یہ نہیں کہ وہ مہمل ہے۔

24۔ قافیہ خوش آہنگی کا ایک طریقہ ہے۔

25۔ ردیف، قافیے کو خوش آہنگ بناتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مردف نظم، غیر مردف نظم سے بہتر ہے۔

26۔ لیکن ردیف میں یکسانیت کا خطرہ ہوتا ہے، اس لیے قافیے کی تازگی ضروری ہے تاکہ ردیف کی یکسانیت کا احساس کم ہوجائے۔

27۔ نیا قافیہ، پرانے قافیے سے بہتر ہے۔

28۔ لیکن نئے قافیے کو پرانے ڈھنگ سے استعمال کرنا بہتر نہیں، اس کے مقابلے میں پرانے قافیے کو نئے رنگ سے نظم کرنا بہتر ہے۔

29۔ قافیہ بدل دیا جائے تو پرانی ردیف بھی نئی معلوم ہونے لگتی ہے۔

30۔ قافیہ، معنی کی توسیع بھی کرتا ہے اور حد بندی بھی۔

31۔ ہر بحر مترنم ہوتی ہے۔

32۔ چونکہ شعر کے آہنگ بہت ہیں اور بحریں تعدا دمیں کم ہیں، اس لیے ثابت ہوا کہ شعر کا آہنگ بحر کا مکمل تابع نہیں ہوتا۔

33۔ نئی بحریں ایجاد کرنے سے بہتر ہے کہ پرانی بحروں میں جو آزادیاں جائز ہیں، ان کو دریافت اور اختیار کیا جائے۔

34۔ اگر نئی بحریں وضع کرنے سے مسائل حل ہوسکتے تو اب تک بہت سی بحریں ایجاد ہوچکی ہوتیں۔

35۔ آزاد نظم کو سب سے پہلے مصرع طرح کے آہنگ سے آزاد ہونا چاہیے۔

36۔ اگر مصرعے چھوٹے بڑے ہیں تو بہتر ہے کہ ہر مصرعے کے بعد وقفہ نہ ہو۔

37۔ نظم کا عنوان اس کے معنی کا حصہ ہوتا ہے، اس لیے بلاعنوان نظم ، عنوان والی نظم کے مقابلے میں مشکل معلوم ہوتی ہے، بشرطیکہ شاعر نے گمراہ کن عنوان نہ رکھا ہو۔ لیکن عنوان اگر ہے تو نظم کی تشریح اس عنوان کے حوالے کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔

38۔شعرکی تعبیر عام طور پر ذاتی ہوتی ہے، لیکن وہ جیسی بھی ہو اسے شعر ہی سے بر آمد ہونا چاہیے۔

39۔ آزاد نظم کا ایک بڑا حسن یہ ہے کہ مصرعوں کو اس طرح توڑا جائے یا ختم کیا جائے کہ اس سے ڈرامائیت یا معنوی دھچکا حاصل ہو۔ معرا نظم میں بھی یہ حسن ایک حد تک ممکن ہے۔

40۔ ہماری آزاد نظم بحر سے آزاد نہیں ہوسکتی۔

41۔ آزاد اور نثری نظم کے شاعر کو ایک حد تک مصور بھی ہونا چاہیے۔ یعنی اس میں یہ صلاحیت ہونا چاہیے کہ وہ تصور کرسکے کہ اس کی نظم کتاب یا رسالے کے صفحے پر چھپ کر کیسی دکھائی دے گی۔

42۔ قواعد، روزمرہ ، محاورہ کی پابندی ضروری ہے۔

43۔ لیکن اگر ان کے خلاف ورزی کر کے معنی کا کوئی نیا پہلو یا مضمون کا کوئی نیا لطف ہاتھ آئے تو خلاف ورزی ضروری ہے۔

44۔ لیکن اس خلاف ورزی کا حق اسی شاعر کو پہنچتا ہے جو قواعد، روزمرہ ، محاورہ پر مکمل عبور حاصل اور ثابت کرچکا ہو۔

45۔ مرکب تشبیہ، یعنی وہ تشبیہ جس میں مشابہت کے کئی پہلو ہوں، مفرد تشبیہ سے بہتر ہے۔

46۔ جذباتیت، یعنی کسی جذبے کا اظہار کرنے کے لیے جتنے الفاظ کافی ہیں، یا جس طرح کے الفاظ کافی ہیں، ان سے زیادہ الفاظ، یا مناسب طرح کے الفاظ سے زیادہ شدید طرح کے الفاظ استعمال کرنا ، بیوقوفوں کا شیوہ ہے۔

47۔ استعارہ جذباتیت کی روک تھام کرتا ہے۔ اسی لیے کم زور شاعروں کے یہاں استعارہ کم اور جذباتیت زیادہ ہوتی ہے۔

48۔ الفاظ کی تکرار بہت خوب ہے، بشرطیکہ صرف وزن پورا کرنے کے لیے یا خیالات کی کمی پورا کرنے کے لیے نہ ہو۔

49۔ شاعری علم بھی ہے اور فن بھی۔

50۔ یہ جو کہا گیا ہے کہ شاعر خدا کا شاگرد ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ شاعر کو کسی علم کی ضرورت نہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ شاعرانہ صلاحیت اکتسابی نہیں ہوتی۔

51۔ شاعرانہ صلاحیت سے موزوں طبعی مراد نہیں۔ اگرچہ موزوں طبعی بھی اکتسابی نہیں ہوتی ، اور تمام لوگ برابر کے موزوں طبع نہیں ہوتے اور موزوں طبعی کو بھی علم کی مدد سے چمکایا جاسکتا ہے لیکن ہر موزوں طبع شخص شاعر نہیں ہوتا۔

52۔ شاعرانہ صلاحیت سے مراد ہے، لفظوں کو اس طرح استعمال کرنے کی صلاحیت کہ ان میں نئے معنوی ابعاد پیدا ہوجائیں۔

53۔ نئے معنوی ابعاد سے مراد یہ ہے کہ شعر میں جس جذبہ، تجربہ، مشاہدہ، صورت حال، احساس یا خیال کو پیش کیا گیا ہے، اس کے بارے میں ہم کسی ایسے تاثر یا کیفیت یا علم سے دو چار ہوں جو پہلے ہماری دسترس میں نہ رہا ہو۔

54۔ شاعری مشق سے ترقی کرتی ہے اور نہیں بھی کرتی ہے۔ صرف مشق پر بھروسا کرنے والا شاعر ناکام ہوسکتا ہے لیکن مشق پر بھروسا کرنے والے شاعر کے یہاں ناکامی کا امکان، اس شاعر سے کم ہے جو مشق نہیں کرتا۔

55۔ مشق سے مراد صرف یہ نہیں کہ شاعر کثرت سے کہے، مشق سے مراد یہ بھی ہے کہ شاعر دوسروں (خاص کر اپنے ہم عصروں اور بعید پیش روؤں) کے شعر کثرت سے پڑھے اور ان پر غور کرے۔

56۔ کیوں کہ اگر دوسروں کی روش سے انحراف کرنا ہے تو ان کی روش جاننا بھی ضروری ہے۔ دوسروں کے اثر میں گرفتار ہو جانے کے امکان کا خوف اسی وقت دور ہوسکتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ دوسروں نے کہا کیا ہے؟

57۔ تمام شاعری کسی نہ کسی معنی میں روایتی ہوتی ہے، اس لیے بہتر شاعر وہی ہے جو روایت سے پوری طرح باخبر ہو۔

58۔ تجربہ کرنے والا شاعر، چاہے وہ ناکام ہی کیوں نہ ہوجائے،محفوظ راہ اختیار کرنے والے شاعر سے عام طور پر بہتر ہوتا ہے۔

59۔ تجربے کے لیے بھی علم شرط ہے۔ پس علم سے کسی حال میں مفر نہیں۔

٭٭٭

مشمولہ سہ ماہی اثبات