jump to navigation

شاعری کی نئی صنف عشرے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت May 22, 2017

Posted by Farzana Naina in Poetry.
add a comment

Book 712star-silver-28

ادریس بابر کی اکثر باتیں کثیرمعنی اور تلازماتی ہوتی ہیں۔ اس لیے اسے سننے کے دو بہترین طریقے ہیں یا تو آپ پورے انہماک سے سنیں تاکہ کوئی جہت رہ نہ جائے، یا پھر سنی ان سنی کر دیں۔

چنانچہ 2014 میں آئی ایٹ میں چائے کے ایک ڈھابے میں بیٹھے ہوئے جب ادریس بابر نے اعلان کیا کہ اس نے شاعری کی ایک دس سطری صنف ایجاد کی ہے جسے عشرے کا نام دیا ہے تو میں نے بھی دوسرے طریقے پر عمل کیا۔ لیکن کچھ دیر بعد چائے کی چسکیوں کے درمیان اس نے عشرہ سنانا شروع کیا تو چونک کر سننا پڑا۔

امیجز اس قدر جیتے جاگتے تھے کہ گویا نیشنل جیوگرافک میگزین سے تصویریں کاٹ کر ایک کولاج بنا لیا گیا ہو۔

تندور پر سردی کا اندازہ

کچن کی میز پر اک چائے کی پیالی رکھی ہے

اسی کے ساتھ چینک (ٹوٹنے والی) رکھی ہے

ہرے صوفے پہ کتا سا کوئی سکڑا پڑا ہے

قریب اک باتھ ٹب میں دھوپ کا ٹکڑا پڑا ہے

پرے کرسی پہ ‘بربر’ کانپتی (بلی) دھری ہے

پرانے نادروں کے واسطے دلّی دھری ہے

بھری الماری سے دل بھر خلا تو ڈھونڈ لائیں

درازیں، درزیں تک جھانکیں، خدا کو ڈھونڈ لائیں

یہ منظر ۔۔۔ سوچ کر ۔۔۔ دونوں نے اندازہ لگایا

تو میں نے عشرہ ۔۔۔ اس نے نان اک تازہ لگایا

اس کے کچھ ہی عرصے بعد ادریس لاہور چلا گیا لیکن اس کے عشرے میسج کے ذریعے یا پھر فیس بک پر دیکھنے کو ملتے رہے۔ انھیں دیکھ کر احساس ہوا کہ ادریس بظاہر دس سطروں کی تنگ دامنی میں بھی ایک نئی دنیا بسا لیتا ہے۔

اس کی ایک تکنیک تو یہ ہے کہ اس نے عشرے کو کسی ایک فارم تک محدود نہیں ہونے دیا۔ چنانچہ عشرہ منظوم اور مقفیٰ بھی ہو سکتا ہے، بلینک ورس بھی اور نثری بھی۔ پھر اس کی سطروں کی لمبائی بھی مقرر نہیں ہے۔

کسی بھی نئے کام کا ایک لازمی حصہ اس پر ہونے والے اعتراضات و الزامات کی بوچھاڑ ہے۔ چنانچہ عشرے کو بھی اپنے حصے کا بوجھ اٹھانا پڑا۔ ادریس غزل کا بےحد عمدہ شاعر ہے۔ حال ہی میں جدید غزل کا ایک انتخاب چھپا تو اس میں ادریس کو سب سے اوپر رکھا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر عشرے کی ایحاد کے بعد بھی اسی شدت سے نکتہ چینی ہوئی۔

لیکن ادریس نے ایک نہ سنی اور اب یہ صورتِ حال ہے کہ ‘لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا’ کے مصداق اب ادریس کے علاوہ درجنوں نوجوان شعرا عشرے ہی کو اپنا بنیادی وسیلۂ اظہار بنا رہے ہیں۔

ادریس کے اکثر عشروں کے موضوعات واقعاتی ہوتے ہیں اور وہ روزمرہ واقعات سے تحریک پا کر عشرے لکھتے ہیں۔

اردو شاعری میں ایک عرصے سے واقعات سے بڑی حد تک گلوخلاصی حاصل کر لی گئی تھی اور واقعاتی شاعری کو کمتر شاعری سمجھا جاتا تھا۔ ایک زمانہ تھا کہ اقبال طرابلس کی جنگ میں زخمیوں کو پانی پلاتی لڑکی پر نظم لکھتے تھے یا پھر شبلی نعمانی یا مولانا ظفر علی خان کی نظمیں ملتی ہیں۔ اس کے بعد سے آزاد نظم چند استثنائی مثالوں کو چھوڑ کر اس قدر اوپر اٹھتی چلی گئی کہ دنیا کے حالات و واقعات کہیں دور نیچے رہ گئے۔

اب کہیں سات آٹھ عشروں بعد عشرہ ایک ایسی صنف بن کر آیا ہے جو روزمرہ واقعات کو موضوع بنانے سے نہیں ہچکچاتا۔ مثلاً ایک عشرے میں دو نوجوانوں کے درمیان مکالمے کے ذریعے ادریس نے دکھایا ہے کہ کوئٹہ میں ہونے والی خونریزی کو دوسرے شہروں میں رہنے والے کس طرح دیکھتے ہیں

کہاں ہے کوئٹہ، کیا ہے کوئٹہ

بم دھماکہ ہوا وہاں؟ نہ کرو!

ہاسٹل کا کرایہ چڑھ گیا ہے

اچھا، پہلے بھی ہوتے ہیں! کس وقت؟

حبس بارش سے اور بڑھ گیا ہے

بیسیوں لوگ مارے گئے؟ لو سنو!

چلتے ہیں تم نے چائے پی کہ نہیں

پہلے بھی مارے جاتے ہیں! اس وقت؟

فلم وہ ڈان لوڈ کی کہ نہیں

کیا وہاں ڈائیوو کا اڈا ہے

اوہو، تھری جی میں کوئی پھڈا ہے!

‘حالاتِ حاضرہ’پر لکھے گئے عشرے صرف تشویش اور درمندی سے لبریز نہیں ہیں بلکہ ان میں فنکارانہ چابکدستی بھی اسی شدت سے دکھائی دیتی ہے۔ مثال کے طور پر اوپر دیے گئے عشرے میں جس مہارت سے مکالمے juxtapose کیے گئے ہیں اسے پڑھ کر فلابیئر کی تکنیک یاد آتی ہے۔

جبری گمشدگی اور ریاستی جبر بےحد تکلیف دہ معاملہ ہے، لیکن ادریس اس پر ہلکے پھلکے لاپروایانہ انداز میں لکھتے ہیں جس سے مسئلہ اور ابھر کر سامنے آتا ہے:

میٹنگ

اس نے میٹنگ بلائی اور کہا

لوگ، دن رات کنٹرول میں ہیں

ٹیپ منہ پر لگائی اور کہا

سب بیانات کنٹرول میں ہیں

اس نے گولی چلائی اور کہا

سر جی، حالات کنٹرول میں ہیں

سب زمیں پر خدا کے نائب تھے

سب زمیں پر خدا کے نائب ہیں

وہ جو اپنی رضا سے مارے گئے۔۔

وہ جو اپنی خوشی سے غائب ہیں

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، عشرہ کسی قسم کی موضوعاتی جکڑبندی پر یقین نہیں رکھتا۔ اس میں زمین اور آسمان کے درمیان کوئی بھی امر زیرِ بحث آ سکتا ہے۔

ادریس بابر کا ایک رومانوی عشرہ نوجوانوں میں خاصا مقبول ہوا ہے اور وہ جہاں بھی جاتے ہیں ان سے فرمائش کی جاتی ہے کہ وہ اسے سنائیں۔

محبت==جدائی

ادهر گوری کو نیند پل بهر نہ آئی

بدن سے وچهوڑے کی کلکل چهڑائی

وہ سورج کی ٹکیا سے مل مل نہائی

نکهر کر نکل آئی ہلچل مچائی

خدا ہو نہ ہو گنگ ٹهیری خدائی

ادهر ریل گاڑی نے سیٹی بجائی

محبت==جدائی

مسافر اسی دائرے میں رہے گا

وہ یہ جان کر اک سٹیشن پہ اترا

کہ وہ عمر بهر راستے میں رہے گا

اردو شاعری میں ریل کے بارے میں کم ہی لکھا گیا ہے۔ منیر نیازی کا درد بھرا شعر ذہن میں آتا ہے

صبحِ کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر

ریل کی سیٹی بجی اور دل لہو میں بھر گیا

ادریس نے اپنے عشرے میں اسی درمندی کو چھو لیا ہے۔

یہ کب سے دوزخ مشہور چلا آتا تھا / لوگ اس خطے کی بدصورتی پر عاشق تھے / جو بھی دیکھتا بھاگ کے دور چلا جاتا تھا / آخر ہمسایوں ماں جایوں کو رحم آیا / ایک نے بھیجے ٹینک تو دوسرا بم لے آیا / کیمپ لگائے امدادی ۔۔۔ لڑنا سکھلایا / جانگلیوں کو بندوقیں گھڑنا سکھلایا / گولیاں کھانا ۔۔۔ جیلوں میں سڑنا سکھلایا / ہر گز اس کی مدد سے منہ موڑیں گے / ہم کشمیر کو جنت بنا کے چھوڑیں گے

بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں اردو شاعری میں کئی اصناف متعارف کروائی کی گئیں، جن میں سانیٹ، نظمِ معرا، آزاد نظم وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے صرف آزاد نظم ہی وقت کی وار سہہ سکی ہے۔ اس کے بعد 80 کی دہائی میں سفارت کارانہ بیساکھیوں کے سہارے ہائیکو متعارف ہوا اور اس صنف میں کتابیں چھپیں، لیکن جونہی بیساکھیاں ہٹیں، ہائیکو بھی دھڑام ہو گیا۔

فی الحال یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ عشرہ ان لمحاتی اصناف سے کس قدر مختلف ثابت ہو گا۔ البتہ جس تیزی سے نوجوان شاعروں نے عشرے کو قبول کر کے اس میں لکھنا شروع کیا ہے، اس سے اس نئی صنف کے اچھے مستقبل کی امید کی رکھی جا سکتی ہے 

ادریس بابر, عشرہ: کشمیر

یہ کب سے دوزخ مشہور چلا آتا تھا / لوگ اس خطے کی بدصورتی پر عاشق تھے / جو بھی دیکھتا بھاگ کے دور چلا جاتا تھا / آخر ہمسایوں ماں جایوں کو رحم آیا / ایک نے بھیجے ٹینک تو دوسرا بم لے آیا / کیمپ لگائے امدادی ۔۔۔ لڑنا سکھلایا / جانگلیوں کو بندوقیں گھڑنا سکھلایا / گولیاں کھانا ۔۔۔ جیلوں میں سڑنا سکھلایا / ہر گز اس کی مدد سے منہ موڑیں گے / ہم   کشمیر کو جنت بنا کے چھوڑیں گے ۔ 

بتشکر: بی بی سی

 

’اے اللہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ہدایت دے‘ May 22, 2017

Posted by Farzana Naina in Poetry.
Tags:
add a comment

DAOW7CkXsAI47TK

ٹوئٹر صارفین نے سعودی عرب کے ایک مذہبی رہنما سعد بن خونیم کی اس دعا کو شیئر کرنا شروع کر دیا جس میں وہ مسلمانوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کی برائی سے بچانے کے لیے دعا کر رہے ہیں۔ اگرچہ سعد بن خونیم کی یہ دعا اب سوشل میڈیا سے ہٹائی جا چکی ہے لیکن بعض لوگوں نے اسے حذف کیے جانے سے پہلے ہی اپنے پاس محفوظ کر رکھا تھا۔

اس دعا میں مولوی صاحب کہتے ہیں: ‘اے اللہ ٹرمپ تیرا ایک بندہ ہے، اس کا مقدر تیرے ہاتھ میں ہے۔ مسلمانوں پر جبر کم کرنےاور ان کے مفادات کے تحفظ کے اسے (ٹرمپ) کو ہدایت دے، خواہ وہ چاہے یا نہ چاہے۔ ہمیں اس کی بدی سے بچا اور  اسے اپنے راستے پر چلا۔’ 

IMG-20170522-WA0052

بن خونیم نے سعودی عرب کے آن لائن اخبار ‘سبق’ کو بتایاکہ انھوں نے یہ دعا نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے امریکہ کے دورے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب کے مثبت بیانات کے بعد اپنے اکاونٹ پر لگائی تھی۔

Trump cartoon 1

ایک کارٹون میں ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی عرب کو یمن کی جنگ میں مشترکہ طور پر ملوث دیکھایا گیا ہے۔ اس کارٹوں میں سعودی بادشاہ اپنے ولی عہد اور یمن کے سعودی حمایت یافتہ صدر عبد الرب منصور ہادی ٹرمپ کی سعودی عرب آمد پر انتہائی فرمانبرداری سے ان کا استقبال کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے لیے بچھائے گئے سرخ قالین کے سات کچھ یمنی عورتیں بچوں کو گود میں لیے بھیک مانگ رہی ہے اور اس کے ساتھ ایک شخص کی خون میں لت پت لاش پڑی ہے۔

شاعرہ فرزانہ ناز April 28, 2017

Posted by Farzana Naina in Ghazal, Kavita, Nazm, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags:
1 comment so far

آئینہ صفت وقت ترا حسن ہیں ہم لوگ

کل آئینے ترسیں گےتو صورت نہ ملے گی

میں فرزانہ ناز نامی شاعرہ سے چند روز قبل تک واقف نہیں تھی۔۔۔۔ اس واقعے سے ایک دن پہلے فیس بک پر مجھے ان کی فرینڈ ریکویسٹ آئی تھی اور میں نے ایڈ بھی کر لیا تھا۔۔۔ لیکن پروفائل نہیں چیک کیا تھا کہ کون ہے۔۔۔۔ جلد ہی اس حادثے اور پھر انتقال کی خبر بھی آگئی۔۔۔۔۔ اس قدر دلخراش موت پر آنسو رواں ہوئے اور ذہن و دل میں ان کا اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کا خیال مسلسل گردش کر رہا ہے، دعائے مغفرت لبوں پر ہے اور لواحقین کے لیئے اللہ سے صبر کا التماس۔۔۔ وہ بڑا رحیم و کریم ہے

انا لله و انا اليه راجعون

محترمہ ادبی تنظیم کسب کمال کی جنرل سیکریٹری تھیں، مشاعروں میں دو کم سن معصوم بچے اور شوہر بشیر اسماعیل بھی ہمراہ ہو تے، آپ اکثر ادبی تقریبات میں نظامت کے فرائض سر انجام دیتیں ۔

آپ کا اولین شعری مجموعہ “ہجرت مجھ سے لپٹ گئی ہے‘‘ ایک ماہ پہلے ہی منظر عام پر آیا، جس کی تقریب رونمائی تین مئی2017 کو راولپنڈی آرٹس کو نسل میں ہو نا قرار پائی تھی ، لیکن مشیت ایزدی کی منظوری انسانوں کے فیصلوں اور ارادوں سے  بالاتر ہے، کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ فرزانہ منوں مٹی تلے سو جاۓ گی!!! ۔  

پروردگار ان  کے بچوں اور شوہر بشیر اسماعیل صاحب کو صبر جمیل اور فرزانہ ناز صاحبہ کو کروٹ کروٹ   جنت نصیب فر ماۓ ۔ آمین

18157786_10154766952318922_166916374604740528_n

ستم ظریفی دیکھئے کہ جب فرزانہ ناز کو کسی علاج کی حاجت نہ رہی تو گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے لئے یہ پریس ریلیز جاری کی گئی کہ عرفان صدیقی نے اس حادثے کا ذکر فوراً وزیراعظم نواز شریف سے کیا اور ساتھ ہی یقین دہانی کرائی کہ فرزانہ ناز کا علاج حکومت کرائے گی۔۔۔’’مرگئے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا‘‘۔۔۔کے مصداق یہ بھی کہا گیا کو حکومت اس کے بچوں کی تعلیم اور کفالت کا ذمہ اٹھائے گی ، مگر زمینی حقائق دیکھئے کہ جب فرزانہ ناز کی رات دس بجے نمازِ جنازہ ہوئی، تو اِس میں کوئی حکومتی نمائندہ موجود نہیں تھا، حتیٰ کہ انعام الحق جاوید نے بھی شرکت نہیں کی،حالانکہ فرزانہ کو حادثہ اُن کی تقریب میں پیش آیا تھا اور میزبان کی حیثیت سے اُن کا فرض تھا کہ وہ جنازے میں شرکت کر کے اُس کے شوہر اور بچوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ جس پاک چائنہ فرینڈ شپ سینٹر میں یہ حادثہ پیش آیا اُس کا تین دِنوں کا کرایہ28لاکھ روپے ہے، جو سرکاری خزانے سے ادا کیا گیا۔28لاکھ صرف کرائے کی مد میں خرچ کرنے والوں کو ایک شاعرہ کی جان بچانے کے لئے تین لاکھ روپے خرچ کرتے ہوئے اتنی دیر تک سوچنا پڑا کہ اُس کی جان ہی چلی گئی۔ ( منقول)۔

خدائے بزرگ برتر تمہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ درجات عطا کرے فرزانہ ناز ، ہم سب آج غمزدہ ہیں ، ہمارے قلم اداس ہیں ، وہ سب مشاعرے ، وہ تعتیہ محافل ، مسالمے آنکھوں میں فلم کی طرح گھوم رہے ہیں ، جن میں تم ہمارے ساتھ تھی ، میں نے آج بہت سے شاعروں کی آنکھیں نم دیکھیں ہیں ، بہت سی شاعرات کو ہچکیوں سے روتے دیکھا ہے ، تمہارا اسماعیل مجھ سے ہی کیا سب سے لپٹ لپٹ کے فریاد کر رہا تھا ، سب تمہاری زندگی کے لئے دعا گو تھے ، لیکن تم نے موت کو گلے لگا لیا ، ہسپتال سے تمہاری لاش وصول کر کے تمہارے گھر تک گزرے وقت کا ہر منظر سامنے گھومتا رہا ، میں دیکھتا رہا ، تمہاری گلی میں سب سے ملا ، لیکن تمہارے معصوم بچوں سے نہیں ملا ، کہیں وہ پوچھ نہ لیں ، ہماری امی کہاں ہے؟

 از: خرم خلیق 

 

Quotes of Rumi April 17, 2017

Posted by Farzana Naina in Poetry.
1 comment so far

“Ignore those that make you fearful and sad, that degrade you back towards disease and death.”
― Jalaluddin Rumi.

11 arena AIRE humo de arena

“My heart is so small
it’s almost invisible.
How can You place
such big sorrows in it?
“Look,” He answered,
“your eyes are even smaller,
yet they behold the world.”
― Jalaluddin Rumi.

36d3e7e5d131cae95a89e1a9a8d8681f

“Everything in the universe is within you. Ask all from yourself.”
― Jalaluddin Rumi.

George-Redhawk-5

A poem by Mashal Khan April 15, 2017

Posted by Farzana Naina in Poetry.
add a comment

میں لاپتا ہوگیا ہوں

کئی ہفتے ہوئے

پولیس کو رپورٹ لکھوائے

تب سے روز تھانے جاتا ہوں

حوالدار سے پوچھتا ہوں

میرا کچھ پتا چلا؟

ہمدرد پولیس افسر مایوسی سے سر ہلاتا ہے

پھنسی پھنسی آواز میں کہتا ہے

ابھی تک تمھارا کچھ سراغ نہیں ملا

پھر وہ تسلی دیتا ہے

کسی نہ کسی دن

تم مل ہی جاؤ گے

بے ہوش

کسی سڑک کے کنارے

یا بری طرح زخمی

کسی اسپتال میں

یا لاش کی صورت

کسی ندی میں

میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں

میں بازار چلا جاتا ہوں

اپنا استقبال کرنے کے لیے

گل فروش سے پھول خریدتا ہوں

اپنے زخموں کے لیے

کیمسٹ سے

مرہم پٹی کا سامان

تھوڑی روئی

اور درد کشا گولیاں

اپنی آخری رسومات کے لیے

مسجد کی دکان سے ایک کفن

اور اپنی یاد منانے کے لیے

کئی موم بتیاں

کچھ لوگ کہتے ہیں

کسی کے مرنے پر

موم بتی نہیں جلانی چاہیے

لیکن وہ یہ نہیں بتاتے

کہ آنکھ کا تارہ لاپتا ہوجائے

تو روشنی کہاں سے لائیں؟

گھر کا چراغ بجھ جائے

تو پھر کیا جلائیں؟

مشال خان ۔ 5 مارچ 2017 –   

http://www.bbc.com/urdu/pakistan-39590534

نجانے کون سا منظر تھا مجھ کو یاد نہیں April 12, 2017

Posted by Farzana Naina in Farzana, Farzana Naina, Feelings, Poetry, Shaira, Sher, Urdu Shairy.
add a comment

نجانے کون  سا  منظر  تھا  مجھ  کو  یاد  نہیں

  طلسم  میرے  بھی  اندر  تھا  مجھ  کو  یاد  نہیں

 میں  اپنی  تہہ میں  کہیں  دور  جا  کے  ڈوب گئی 

وہ  قطرہ  کوئی  سمندر  تھا  مجھ  کو  یاد  نہیں

آج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پتہ نہیں کیوں ایک اداسی سی ہے، دور دیسوں کی کہانیوں جیسی کوئی طلسماتی سی فضا ہے ذہن میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جس تک ہم کبھی پہنچ نہیں سکتے ۔۔۔۔۔۔۔۔!۔

[https://www.youtube.com/watch?v=l-dPQyaoNhY]

Ankahi – ان کہی April 12, 2017

Posted by Farzana Naina in British Pakistani Poetess, Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Naina, Nazm, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
2 comments

‘‘ اَن کہی ’’

اَن کہی کے حسن میں کچھ دیر تو ڈوبے رہو

 زندگی خود  میں  اترنے  کی  جو  دے  مہلت ذرا

خواب نگری کے ہر اک کونے کے آئینے تکو

دھوپ چھاؤں آنکھ سے آنکھوں کی ڈبیوں میں رکھو

رات کے پُل پر ہوا کے راگ میں گم صم رہو

چاندنی کی تتلیوں کو رقص میں شامل کرو

روح میں بہتے ہوئے احساس کی لہریں گنو

عمر کے بکھرے ہوئے سیپوں سے کچھ موتی چُنو

چاند سے لپٹی ہوئی بدلی کی چھاؤں میں چلو

بربطوں کی تال پر اک ماورا منظر بُنو

پتھروں کی نیلی محرابوں کے جنگلے کاٹ دو

کہر میں کھوئے ہوئے رستوں پہ  سرگرداں رہو

سبز پریوں کا یہ میلہ روز تو لگتا نہیں

عشق پنچھی اپنے پر دوبارہ پھیلاتا نہیں

پھر کہاں وارفتگی سے ہوگا کوئی منتشر

آرزوؤں کے نگر میں یوں تمہارا منتظر

کہہ دیا سب کچھ تو یہ سارا فسوں مٹ جائے گا

ہر ستارہ کہکشاں کی بھیڑ میں کھو جائے گا

ان کہی کے حسن میں کچھ دیر تو ڈوبے رہو

 !!!ڈوبے رہو کچھ دیر  اور۔۔۔۔ ۔ 

فرزانہ نیناں

Ankahi ke husn mein kuch deir tau doobe raho

Zindagi khud mein uterne ki jo de mohlut zara

Khwab’nagri ke har ik kone ka aaeene tako

Dhoop chaa’on aankh se aankhon ki dibiyon mein rakho

Raat ke pull par hawa ke raag mein gum sum raho

Chandni ki titliyon ko raqs mein shamil karo

Rooh mein behte huey ehsaas ki lehrein gin’no

Umr ke behte huey seepon se kuch moti chuno

Chand se lipti hui badli cha’aon mein chalo

Barbat’ton ki taal par ik maa’wra manazar buno

Pat’tharon ki neeli mehraabon ke jungle kaat do

Kohur mein khoye huey raston pe sardar’daan raho

Sabz pariyon ka ye mela roz tau lagta nahein

Ishq panchi apne par dobara pheilata nahin

Phir kahan waa’raftgi se hoga koi muntashir

Aarzo’on ke nagar mein raah par yun mantazir

Keh diya sab kuch…..tau ye sara fusoon mitt jaey ga

Har sitara keh’kashan ki bhee’rr mein kho jaey ga

An’kahi ke husn mein kuch deir tau doobe raho

Doobe raho, kuch deir aur……………. !!!

~ Farzana Naina.

Golden bar 1

Khush Manzari – خوش منظری April 9, 2017

Posted by Farzana Naina in Farzana, Farzana Naina, Feelings, Flowers, Ghazal, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Naina, Nazm, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Thoughts, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
2 comments

3 Pink Flower bar

خوش منظری

.چیری کے پیڑوں پہ پھولوں سے لدی یہ ڈالیاں !
میری آنکھوں میں کسی جنگل کی جیسے ہرنیاں
کس محبّت سے ترے نغمے سناتی ہیں مجھے
میٹھی آوازوں کی پائل سے جگاتی ہیں مجھے
تیز رفتاری سے کتنی دور تک جاتا ہے دل
کان میں چپکے سے کہتا ہے کوئی : آ مجھ سے مِل
اب بھی اونٹوں کے گلے میں بج رہی ہیں گھنٹیاں
اب بھی صحرا میں سنہری شام کی ہیں سرخیاں
کیا کہوں میں خواب جیسے اِس فسانے کے لئے
پھول تو ہوتے ہیں دریا میں بہانے کے لئے
دائروں میں جھوم کر آتا پہاڑی سے دھواؑں
اُڑتے اُڑتے مجھ پہ رکھ جاتا ہے اک کوہِ گراں

( فــرزانـہ نیــناںؔ )

الوؤں کے گھونسلے میں ڈونلڈ ڈک November 10, 2016

Posted by Farzana Naina in Poetry.
Tags: , , , ,
1 comment so far

الوؤں کے گھونسلے میں ڈونلڈ ڈک

www.cartoonstock.com/cartoonview.asp?catref=hbrn2482

انٹر نیٹ اور تمام میڈیا چینلز پر خبروں کی دنیا میں اس وقت بھونچال آیا ہوا ہے، دنیا کے سب سے طاقتور فرد کے طور پر جس شخص نے امریکی صدر کا عہدہ ہتھیایا ہے اس پر تجزیہ نگاروں کی زبانیں چلتے چلتے رک نہیں پا رہیں، اس کی وجہ سے اب امریکہ میں جلسے جلوسوں کا جو سلسلہ چل پڑا ہے، وہ بھلا کس کے پلے پڑے گا !!!

ان احتجاجات پر غور کیا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ پہلے وہ خود واویلا کرتے رہے، عربوں کے خلاف، چین کے خلاف، روس کے خلاف، میکسیکنز کے خلاف، کالوں کے خلاف وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

ان کے دلوں میں جو تعصب پنہاں تھا اس کو ٹرمپ نے نکال باہر کیا ورنہ اکثریت اس کو ووٹ ڈال کر کامیابی سے ہمکنار کیسے اور کیوں کرواتی؟ ’’ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت ‘‘ کے مصداق اب کچھ نہیں ہو سکتا !

دنیا بھر میں ٹرمپ کی جیت کو مجموعی طور پر غم و غصے کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، حالانکہ ہلری بیگم  ۔۔

بھی شیطان کی چیلی سے کم نہیں ہیں جو کچھ انہوں نے عراق کے لیئے کیا۔۔۔ پھر بھی !

ان دونوں کے بیانات تمام انتخابی مہم کے دوران کبھی تعصب تو کبھی مسخرے پن میں تبدیل ہوتے رہے، دنیا تماشے کے مزے لیتی رہی ، اب احساس ہوا ہے کہ وہ مسخروں کی بڑھکیں نہیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹرمپ نے اپنی چالاکیوں سے امریکی قوم کی آنکھوں میں سرمہ لگا ہی دیا !

اب یہ قوم کیا سوچ کر واویلا مچا رہی ہے بھلا؟

ٹرمپ نے ان کو وہ ہی سنایا جو وہ سننا چاہتے تھے، بالکل اسی طرح جیسے برطانوی ووٹرز نے یورپی یونین کے خلاف ووٹ دینے کے بعد شور مچادیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لگتا ہے ان ملکوں کے سنہرے دور جا چکے ہیں ، یہاں کا عام آدمی ہیلتھ سروسز، بچوں کی تعلیم، مکانوں کی خرید و فروخت، بلوں کی ادائیگیوں، لوکل سروسز اور امن عامہ و جرائم  سے نالاں ہے، ان کے برعکس دنیا کی دوسری اقوام کو دیکھا جائے تو وہ سنجیدگی سے آگے بڑھتی نظر آ رہی ہیں۔

دنیا بھر میں اپنی انتہا پسندی کے باعث امریکہ نے تباہیاں ہی تباہیاں پھیلائی ہیں، خاص کر پاکستانی قوم تو ان کے عتاب کی سزائیں ابھی تک بھگت رہی ہے، آئی ایس کو ختم کرنے کے بہانے اب اور کون کون سی قیامت آئے گی ۔۔۔۔اس خوف میں مبتلا لوگ شاید کچھ کرنے سے قاصر ہی رہیں گے ۔۔۔۔۔۔۔!

ٹرمپ کی فتح اور برطانیہ میں یورپی یونین سے علیحدگی کے غلط فیصلے، ٹریسا جیسی وزیر اعظم کی بے تکی پالیسیوں سے ان دونوں ممالک میں رہنے والوں کی ذہنیت کھل کر سامنے آئی ہے۔

نائیجل فاراج نے چالاکی و خاموشی سے ذہنوں کو تبدیل کیا اور ٹرمپ نے بھی وہی راستہ اپنایا، ووٹرز کو وہ دکھایا اور سنایا جو وہ چاہتے ہیں ۔ 

جس طرح ٹرمپ دنیا کے کلائیمٹ چینج کو ایکنالج نہیں کر رہا اسی طرح برطانیہ کی وزیر اعظم ٹریسا بھی لوکل کاؤنسلز کو    (Fracking)

فریکنگ  کی اجازت دے چکی ہے جو مستقبل کے لیئے کتنی مہلک خیز ثابت ہوگی یہ سوچ کر خوف آتا ہے 

ان ملکوں نے دنیا میں بڑے راج کیئے مگر اب اپنی ہی قوم شاید انہیں تباہیوں کا شکار کر دے !

 امریکی قوم اب اپنی غلطیوں کی سزا بھگتے گی یا نہیں اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا !

فی الوقت تو الوؤں کے گھونسلے میں ڈونلڈ ڈک راج کرتا نظر آ رہا ہے البتہ یہ فقط نظر کا دھوکہ بن کر غلط بھی ثابت ہو سکتا ہے، مستقبل میں اس دنیا کے امن و امان کی صورتحال کیا ہوگی، فی الوقت ایسے سوالات سے یقیناَ۔ سب کے ذہن بر سر پیکار ہیں۔

 

00-trump-cartoons02

Spy Princess Noor Inayat Khan April 9, 2014

Posted by Farzana Naina in Poetry.
Tags: , ,
1 comment so far

ٹیپو سلطان کی پوتی اوردوسری جنگ عظیم

Spy Princess Noor Inayat Khan

Spy Princess Noor Inayat Khan

بشکریہ:خرم سہیل منگل 8 اپريل2014

ایک حسین عورت جس کے نرم ہاتھوں کی انگلیاں ستار بجاتی تھیں، کیا اس کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے، اسے دشمن فوج کے ہاتھوں قتل کیا جائے گا مگر ایسا ہوا، تاریخ ہمیں اس کی کہانی سناتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں جب جرمنی کے نازیوں نے فرانس پر قبضہ کیا، تو برطانیہ نے دشمن پر نظر رکھنے اور خفیہ اطلاعات حاصل کرنے کے لیے اس عورت کو جاسوس بناکر فرانس کے مقبوضہ علاقے میں بھیجا تاکہ وہ انھیں دشمن کی خبریں دے سکے۔
نازیوں کے مقبوضہ علاقوں میں بھیجی جانیوالی یہ پہلی خاتون بھی تھی جسے ونسٹن چرچل کے اعلیٰ خصوصی مشن کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس مشن کے دوران دشمن نے اسے دھر لیا اور کوشش کی گئی کہ وہ سارے راز اگل دے مگر اس نے ایک لفظ تک منہ سے نہ نکالا۔ گرفتاری کے بعد اسے جرمنی کے جس کیمپ میں قید رکھا گیا تھا وہیں اس کے سر پر گولی ماردی گئی۔ اس بہادر عورت کا نام ’’نورالنساء عنایت اﷲ خان‘‘ تھا۔
30برس کی عمر میں موت کو اپنی ہمجولی بنانے والی اس خاتون کا پس منظر ہی ایسا تھا کہ یہ موت سے ڈرنے والی نہیں تھی۔ اس کا آبائی تعلق شہنشاہ میسور ’’ٹیپو سلطان‘‘ سے تھا۔ اس کے ذہن میں اپنے اجداد کی یہ بات بھی شاید تروتازہ تھی کہ ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔‘‘ یہی وجہ تھی کہ اس نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور کسی خوف کو اپنے اوپر طاری نہیں ہونے دیا۔نورالنساء عنایت اﷲ خان چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی۔ روس کے شہر ماسکو میں پیدا ہوئی۔ اس کے والد عنایت اﷲ خان درویش صفت انسان تھے۔ انھیں ورثے میں صوفی تعلیم ملی۔ پہلی جنگ عظیم سے کچھ عرصہ پہلے یہ خاندان روس سے ہجرت کرکے برطانیہ چلا گیا۔ 1920 میں وہاں سے بھی ہجرت کرکے فرانس آباد ہوا۔ نور کے والد عنایت اﷲ خان کا جب انتقال ہوا تو وہ اور اس کے بہن بھائی کم عمر تھے۔ بوڑھی ماں اور چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمے داری نور کے نازک کاندھوں پر آن پڑی۔
یہ وہ زمانہ تھا جب نو رکی آنکھوں میں کچھ خواب تھے، وہ زندگی کو اپنے انداز میں گزارنا چاہتی تھی۔ وہ کم گو اور شرمیلی تھی۔ فرانس میں رہتے ہوئے اس نے کچھ عرصہ مغربی اور مشرقی موسیقی کی تربیت بھی حاصل کی۔ ستار سے اس کو بے حد لگاؤ تھا۔ شاعری سے لکھنے کی ابتدا کی، بچوں کے رسالوں میں کہانیاں لکھنے لگی اور ریڈیو سے بھی خود کو وابستہ کیا۔ 25 برس کی عمر میں اس کی پہلی کتاب ’’بیس جاتک کہانیاں‘‘ لندن سے شایع ہوئی۔ یہ مہاتما گوتم بودھ اور بودھ مت سے بہت متاثر تھی، یہی وجہ تھی کہ اس نے کچھ اس طرز کی کہانیاں لکھیں۔
1940 میں جب دوسری جنگ عظیم کی ابتدا ہوئی اور اس سے فرانس متاثر ہونے لگا تو نورالنساء کا خاندان ساحلی راستے سے فرار ہوکر کسی نہ کسی طرح برطانیہ پہنچ گیا۔ حالات تبدیل ہوگئے اور شاید نور کی ترجیحات بھی، اسی لیے اس نے خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت کی سنگ دل دنیا میں قدم رکھا۔ وہ اپنے والد کی امن پسند اور صوفی سوچ سے بہت متاثر تھی، شاید اسی لیے اس نے نازیوں کے ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کا مصمم ارادہ کرلیا۔ اس نے عملی طور پر قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا اور رائل ایئر فورس میں آلات فراہم کرنے والی فوجی خواتین میں بھرتی ہوگئی، وائرلیس آپریٹر کی تربیت حاصل کی۔ دوسری جنگ عظیم میں بمباری کی تربیت دینے والی درسگاہ میں بھی اسے بھیجا گیا۔ اس نے اپنے شعبے میں مزید ترقی کے لیے کمیشن پاس کیا اور اسسٹنٹ سیکشن آفیسر کے عہدے تک جاپہنچی۔
نورالنساء عنایت اﷲ خان کا تبادلہ ونسٹن چرچل کے ’’اعلیٰ خصوصی مشنز‘‘ برائے فرانس میں ہوگیا۔ یہ برطانوی فضائیہ اور فرسٹ ایڈ نرسنگ کے شعبے میں بھی تبادلہ کرکے بھیجی گئی، اس دوران اسے کئی طرح کے تربیتی ادوار سے گزارا گیا۔ اس کے افسران کاخیال تھا اسے فرانسیسی زبان پر مکمل عبور ہے اور یہ ریڈیو جو اس جنگ میں بہت اہم آلہ تھا، اس کی ماہر ہے۔ لہٰذا اسے خفیہ ایجنٹ کے طور پر مقبوضہ فرانس بھیجنے کی تربیت دی جائے اور پھر اس خیال کو عملی جامہ پہنایا گیا۔
اس دوران اس نے اپنا نام نورالنساء عنایت اﷲ خان سے بدل کر فرضی نام ’’نوراباکر‘‘ رکھ لیا۔ نرس کے روپ میں یہ فرانس پہنچائی گئی۔ یہ وہی ملک تھا، جہاں کچھ عرصہ پہلے تک یہ اپنے خاندان کے ساتھ ایک عام لڑکی کی حیثیت میں زندگی بسر کررہی تھی۔ فرانس میں ڈاکٹروں اور نرسوں کے روپ میں جتنے جاسوس بھیجے گئے، وہ پہلے پکڑے گئے، نور گرفتار ہونے سے بچ گئی۔ وہاں اس نے اپنا خفیہ نام ’’میڈلن‘‘ رکھا۔ وہ اس علاقے کے خطرات کو بھانپ چکی تھی اور واپس لندن آنا چاہتی تھی مگر اسے فرانس میں رک کر برطانیہ کے لیے معلومات بھیجتے رہنے کا کہا گیا۔ وہ اکیلی تھی مگر اس نے اپنا فرض پوری طرح سے نبھایا۔ وہ مستقل بنیادوں پر مقامات بدل بدل کر برطانیہ پیغام بھیجتی رہی۔ اس عرصے میں برطانیہ اور فرانس کے درمیان نور ہی واحد رابطہ تھی۔ نازی فوج کو اس نے تگنی کا ناچ نچایا اور آخرکار 1943 میں فرانس کے ایک مقام سے گرفتار ہوئی۔ نازی فوجی اس سے کچھ نہ اگلوا سکے، البتہ ان کے ہاتھ نور کی وہ ڈائری لگی، جس میں ترسیل شدہ معلومات کی تفصیل درج تھیں۔ نور اور اس کی تین دوسری خواتین ساتھیوں کو 13 ستمبر 1944 کو جرمنی کے ایک کیمپ میں گولی ماردی گئی۔
نورالنساء عنایت اﷲ خان نے نہایت آبرومند انداز اپنایا اور اپنے ملک کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کیا۔ اسے برطانیہ اور فرانس کے اعلیٰ فوجی اعزازات سے نوازا گیا۔ ابھی حال ہی میں برطانیہ کے محکمہ ڈاک نے اس کی تصویر اور نام کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا ہے جسے منسوب کیا گیا اس عورت کے نام جو دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کی ہیروئن تھی اور جس نے فسطائیت کے خلاف لڑتے ہوئے دشمن کے نرغے میں جان دی۔ یہ ڈاک ٹکٹ ’’قابل ذکر زندگیاں‘‘ نامی سیریز کا ایک حصہ ہے، جس میں مزید نو اہم شخصیات کے نام اور تصویر کے ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔
فرانس میں تین مقامات پر اس کی یادگاریں موجود ہیں۔ فرانس کی وہ گلی جہاں کبھی نورالنساء رہاکرتی تھی، اس گلی کو زمانہ جنگ کے دور کے نام ’’میڈلن‘‘ سے منسوب کردیا گیا ہے لندن میں گارڈن اسکوائر کے گارڈن پارک میں بھی نور سے منسوب ایک یادگاری مجسمہ لگایا گیا۔ وہاں اس کے افتتاح کے موقع پر اس کی ایک پرانی ساتھی ’’آئرن وارنر‘‘ جس کی عمر اب 91 برس ہے، اس نے شرکت کی اور بھیگی پلکوں سے اس کو یاد کیا۔
نور کی شخصیت پر ایک بنگالی مصنفہ ’’شرابانی بھاسو‘‘ نے انگریزی میں ’’اسپائے پرنسز‘‘ کے نام سے نورالنساء عنایت اﷲ خان کی سوانح حیات لکھی۔ یہ وہی مصنفہ ہے جس کی کتاب ’’وکٹوریہ اور عبدل‘‘ بہت مشہور ہوئی تھی جس میں تاج برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ اور محل کے ایک مسلمان ملازم منشی عبدالکریم کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ نور پر ’’اینمی آف ریچ‘‘ نامی ٹیلی فلم بھی بنائی گئی جسے بے حد پسند کیا گیا۔ نور عنایت خان ٹرسٹ بھی بنایا گیا جس کے ذریعے امن کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کی ایک کوشش کی گئی۔ اس ٹرسٹ کی بانی وہی بنگالی مصنفہ شرابانی بھاسو ہیں۔ انھوں نے اس ٹرسٹ کو بنانے کے لیے دنیا بھر سے فنڈز اکٹھے کرنے کے لیے جدوجہد کی۔ 2011 میں ’’ہاؤس آف کامن‘‘ میں ایک ڈونرز ڈنر کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اس موقع پر برطانوی وزیراعظم نے بھی اپنا پیغام دیا۔ بھارت سے معروف فلمی ستارے عامر خان کی بیوی کرن راؤ نے بھی اس ٹرسٹ کو فنڈرز دیے۔لندن میں باغ میں نصب کیے گئے مجسمے کے اردگرد درختوں کے پتے ٹوٹ کر بکھرتے رہتے ہیں، اسی طرح جیسے نورالنساء کی زندگی سے ایک ایک کرکے لمحوں کے پتے ٹوٹ کر بکھرے تھے۔ غیرمنقسم ہندوستان کے مسلمان گھرانے کی اس بیٹی نے اپنے پردادا اور دادا کی طرح بہادی سے جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے وطن کی جنگ لڑی۔ کتنی عجیب بات ہے، ٹیپو سلطان فرانسیسی فوج کی حمایت میں انگریزی فوج کے ساتھ لڑے اورپوتی نے فرانسیسی اور انگریزی دونوں سرزمینوں کے لیے نازیوں سے لڑائی کی۔ نورالنساء چاہتی تھی کہ ایشیا کے مسلمانوں کا تشخص اجاگر ہو اور ہندوستان کو آزادی ملے، یہی وجہ ہے کہ اس کی فرض شناسی نے اس کا نام سنہری حروف میں لکھوایا۔ افسوس یہ ہے پاکستان سے اس بہادر بیٹی کے لیے کچھ نہیں لکھا اور کہا گیا، جب کہ یہ وہی جنگ تھی جس میں برصغیر کے مسلمان بھی انگریز کی طرف سے لڑے تھے، مگر تاریخ نے اسے زندہ رکھا ہوا ہے۔
میسور کی شہزادی اور لندن اور پیرس کی ہیروئن نورالنساء عنایت اﷲ خان سے جب آخری وقت میں پوچھا گیا کہ وہ کچھ کہنا چاہتی ہے، تو اس نے صرف ایک لفظ کہا، جو تھا ’’آزادی‘‘ اور پھر اسے آزاد کردیا گیا۔ وہ درد کی زندگی کا ساتھ چھوڑ گئی۔ فرانس کے شہر پیرس میں ’’فضل منزل‘‘ جہاں نور النساء نے اپنی زندگی کے خوبصورت دن بسر کیے تھے، وہاں اب بھی اداسی بال کھولے سو رہی ہے۔