jump to navigation

A page from History-Ahmad Shah Durrani February 20, 2008

Posted by Farzana Naina in Random.
Tags: ,
7 comments

Durrani Empire

The Durrani Empire was a large state that included modern Afghanistan, Pakistan, the Khorasan province of Iran and a section of western India,The empire was founded in 1747 by Ahmad Shah Durrani, with its capital at Kandahar. After the death of Ahmad Shah in 1773, kingdom was passed onto his sons followed by his descendants. Ahmad Shah and his descendants were from the Sadozai line of the Abdali (later called Durrani) Pashtuns, making them the second Pashtun rulers of Kandahar, after the Ghilzais.
The Durrani Empire is often considered the origin of the state of Afghanistan. Even before the death of Nadir Shah of Persia, tribes in Afghanistan had been growing stronger and were beginning to take advantage of the waning power of their distant rulers.
Hidustan (INDIA) 1700-1792
Reign of Ahmad Shah Durrani (1747-1772)

Ahmad Shah Durrani
Nadir Shah’s rule ended in June 1747, when he was assassinated. The assassination was likely enough planned by his nephew Ali Qoli, though there is little factual evidence to support this theory. Nonetheless, when the chiefs of the Afghans met later the same year near Kandahar at a Loya jirga (council) to choose a new ruler for the Abdali confederation, Ahmad Shah Abdali was chosen. Despite being younger than other claimants, Ahmad had several overriding factors in his favor:
Ahmed Shah
He was a direct descendant of Sado, patriarch of the Sadozai clan, the most prominent tribe amongst the Pashtun peoples at the time;
He was unquestionably a charismatic leader and seasoned warrior who had at his disposal a trained, mobile force of several thousand cavalrymen;
Not least, he possessed a substantial part of Nadir Shah’s treasury.
One of Ahmad Shah’s first acts as chief was to adopt the title “Durr-i-Durrani” (“pearl of pearls” or “pearl of the age”). The name may have been suggested, as some claim, from a dream dreamt by Ahmad Shah, or as others claim, from the pearl earrings worn by the royal guard of Nadir Shah. The Abdali Pashtuns were known thereafter as the Durrani, and the name of the Abdali confederation was changed to Durrani.

Around the world in 80 Gardens February 17, 2008

Posted by Farzana Naina in Feelings, Photography, Thoughts.
Tags: , , , , , , ,
add a comment

Photobucket

اف۔۔۔۔۔۔۔ میں اور میرے اندر کی لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے عاجز کردیا ہے،

ابھی ابھی پھر سے جنگ شروع ہوگئی ہے اور اس کی وجہ ٹی وی پر دکھایا

جانے والا ایک پروگرام ہے

“اراؤنڈ دی ورلڈ ان ایٹی گارڈنز”

میں ٹہری حسن پرست، نیچر پرست ،

پروگرام میں انڈیا کے بہت سے خوبصورت و حسین گارڈن دکھا رہے ہیں، تاج محل کے ارد گرد کے باغات، مور، ہرن، طوطے، آبشاریں،  اکدم سے نجانے کیا کیا یاد آرہا ہے اوپر سے وہ پھول نظر آ رہے ہیں جو پاکستان میں بھی ہوتے تھے جو میں بچپن میں اپنے ابو سے چھپ کرتوڑلیتی تھی یا کبھی کبھی اسکول سے آتے جاتے دوسروں کے باغ سے بھی چوری سے توڑ کر بہت خوش ہوتی، بچپن کیسا معصوم، بھولا بھالا ۔۔۔۔۔۔۔ کتنا اچھا ہوتا ہے نا۔۔۔۔۔۔۔!۔

وہ گلیاں۔۔۔۔ وہ لوگ۔۔۔۔ وہ محبتیں چھوٹے ایک زمانہ بیت گیا یا یہ سمجھوں کہ ان کو چھڑوادیا گیا، میں نہیں بچھڑی تھی، مجھے ہجر اور جدائی میری مرضی کے بغیر بخشی گئی، مسلسل ہجر، کبھی نا ختم ہونے والا، اب تو زندگی بھی جارہی ہے، یہ یادیں  یہ باتیں یہ پھول یہ پودے، ان کی ایک جھلک نجانے کیا کچھ دکھارہی ہے، انہیں کیا پتہ جو ان کے پاس ہیں ایک دوسرے  کے ساتھ ہیں۔۔۔۔۔

انہیں کیا پتہ کہ ایک پاگل لڑکی ابھی تک ان گلیوں میں دوڑتی بھاگتی ہے، چھوٹی چھوٹی شرارتیں کرتی ہے، چپکے سے کوئی پھول چوری کر کے کتنا خوش ہوتی ہے، اس کی خوشبو سے ، بار بار مسحور ہوتی ہے، اپنی چوری کا لطف اٹھاتی ہے، ، اس کے رنگوں کو دیکھ کر خود بھی ان میں گھل جاتی ہے۔۔۔۔۔

انہیں کیا پتہ کہ جس مٹی سے خمیر اٹھتا ہے اس کی سوندھی مہک کیسے کیسے آنسوؤں میں بھگوتی ہے۔۔۔۔

مجھے اپنے ابو یاد آگئے ہیں، ان کو گارڈننگ کا بہت شوق تھا، ہمارے محلے میں سب سے اچھا گارڈن ہمارا ہی تھا، ابو خود گارڈننگ کرتے تھے،شاید ان کا خمیر ہے جو مجھے بھی پھول پودے بہت لبھاتے ہیں، چھوٹے چھوٹے رنگین پودے، پنکھڑیاں،کلیاں، ان کی تروتازہ خوشبو،ایک سیکنڈ ایک پل کہاں سے لے جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔

۔اس وقت، ابھی بھی جو میرے ارد گرد ہیں انہیں کیا پتہ میں کیا محسوس کر رہی ہوں، کہاں لے گیا مجھے یہ ایک منظر، انہیں کیا پتہ کہ محرومیاں اندر ہی اندر کیسی ٹیسیں اٹھاتی ہیں، کتنی کسک بھر دیتی ہیں۔۔۔

کہتے ہیں کہ انسانی دماغ سے زیادہ بڑا کوئی سٹوریج سسٹم نہیں، پل بھر میں آپ کو وہاں لے جاتا ہے جہاں سے آپ کو یہاں تک آنے میں کتنے برس لگتے ہیں، ، جو بھی ہے بہت تکلیف دہ ہے کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ کچھ یاد نہ رہے، کوئی بھی یاد نہ آئے، ذہن کا اسکرین کسی طرح  وائیپ آف ہوجائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انہیں کیا پتہ جنہوں نے ایک چھوٹی سی لڑکی کو وطن سے جدا کر کے سب سے دور بھیج دیا،انہوں نے تو اپنے سر کے بوجھ  کو اتاردیا لیکن اس کے سر میں۔۔۔۔۔۔۔۔ جس نے ابھی سپنے بننا شروع کیئے تھے۔۔۔۔کون سا بار ڈال دیا۔۔۔۔۔۔

اب وہ لڑکی انہیں گلیوں اسی مٹی کی خوشبو میں گھل کر ختم ہوجاتی ہے، پھر دوبارہ ا پنے آپ کو ڈھونڈتی ہے اور گوندھ لیتی ہے۔۔۔۔۔۔بار بار نئی نئی بن جاتی ہے ۔۔۔۔۔

لیکن بار بار کا یہ جو عمل ہوتا ہے تو بے انتہا تکلیف دہ بن جاتا ہے۔۔۔۔۔

کہاں گئے وہ سب، کیوں چلے گئے ؟ کس پاتال میں رہتے ہیں

،ان کے دل، ان کے ذہن کس چیز کے بنے ہوئے ہیں؟؟؟

کتنی عجیب بات ہے کہ ہم کسی کو سب کچھ نہیں دکھاتے،  سچ نہیں بتاتے ، کوئی نہ کوئی مصلحت، کوئی نہ کوئی احتیاط، کہیں نہ کہیں جھوٹی انا، ہم نے دکھاوے کے کردار بنائے ہوئے ہیں، نجانے کیوں؟؟؟

حالانکہ یہ چھوٹی چھوٹی معصوم باتیں ہوتی ہیں، ننھی ننھی خوشیاں،  ان کہی سی، ادھوری سی خواہشیں  جن میں بچپنا اور معصومیت ہے۔۔۔۔۔۔۔

نجانے ہم اتنے بڑے دیو میں کیسے ڈھل جاتے ہیں کہ یہ سب کچھ ایک بونے کی طرح قدموں میں پڑا اک نظر عنایت کے لیئے ترس رہا ہوتا ہے لیکن ہمیں دکھائی ہی نہیں دیتا۔۔۔۔

انسان ۔۔۔۔۔۔۔کبھی نا سلجھنے والی گتھیوں کی طرح الجھا الجھا انسان،کس پر کھلے گا؟ کب کھلے گا ؟؟؟

Photobucket

My Father’s Favourite Song-میرے ابو کا پسندیدہ گیت

Book By Benazir Bhutto(Quotes) February 7, 2008

Posted by Farzana Naina in Pakistan, Politics, Urdu.
Tags: , , , ,
1 comment so far

بینظیر بھٹو کی کتاب سے اقتباسات

’ائرپورٹ سے نکل کر میرا بکتر بند ٹرک چیونٹی کی رفتار سے چل رہا تھا کیونکہ آس پاس مجمع بڑھتا جا رہا تھا۔شام ڈھلی تو سٹریٹ لائٹس مدھم ہوتے ہوتے بجھنے لگیں۔موبائل فون کے سگنل جیم کرنے والے آلات بھی کام نہیں کر رہے تھے، جن کا کام کسی متوقع خود کش بمبار یا بارود سے بھرے ریموٹ کنٹرولڈ کھلونا ہوائی جہاز کو میرے ٹرک کے قریب پھٹنے سے روکنا تھا۔

میرے شوہر آصف نے دبئی میں ٹی وی پر میرے قافلے کی لائیو کوریج دیکھتے ہوئے مجھ سے بات کی اور یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ٹرک کی چھت پر کھڑے ہو کر عوام کے سامنے آنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ لیکن میں نے کہا کہ میں اپنے عوام کے سامنے آ کر ہی ان کا استقبال کروں گی۔

رات گیارہ بجے سے کچھ بعد میں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے ایک شیر خوار بچے کو پیپلز پارٹی کے جھنڈے سے ملتے جلتے کپڑے پہنا رکھے تھے اور اسے ہاتھوں میں اٹھائے وہ بار بار مجھے اشارے کر رہا تھا کہ میں بچے کو تھام لوں۔میں نے ہجوم کو اشارہ کیا کہ وہ اس شخص کے لیے راستہ بنائیں۔ لیکن جب اس کے لیے راستہ بن گیا تو وہ آگے آنے سے کترانے لگا اور اس نے بچہ ہجوم میں کسی کے حوالے کرنے کی کوشش بھی کی۔ مجھے تشویش ہوئی کہ بچہ زمین پر گر کر ہجوم کے پیروں میں کچلا نہ جائے، یا کھو نہ جائے۔

میں نے اشارہ کیا کہ نہیں، بچے کو میرے پاس لے کر آؤ۔ میں نے سکیورٹی گارڈ کو بھی اشارہ کیا کہ اس شخص کو ٹرک کے اوپر آنے دیا جائے۔ تاہم جب تک وہ شخص ٹرک تک پہنچا میں ٹرک کے اندر بنے کمرے میں آ چکی تھی کیونکہ میرے پاؤں درد کرنے لگے تھے۔ ہمیں شبہ ہے کہ اسی بچے کے کپڑوں کے نیچے پلاسٹک دھماکہ خیز مواد رکھا گیا تھا۔

ایک ہی جگہ پر دس گھنٹے کھڑے رہنے سے میرے پیر سوج گئے تھے اور جوتا پہننے سے مزید تکلیف ہو رہی تھی۔ میں نے سینڈل کے سٹریپ کھولے اور اپنی سیکرٹری ناہید خان کے ساتھ اس تقریر کے مسودے پر کام کرنے لگی جو مجھے مزار قائد پر کرنی تھی اور جو میری زندگی کی سب سے اہم تقریر تھی۔

ایک نکتے پر بحث کے دوران میں نے کہا کہ ہمیں اس تقریر میں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اس پیٹیشن کا ذکر بھی کرنا چاہیے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ قبائلی علاقوں میں تمام سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کا موقعہ دیا جائے تاکہ انتہا پسندوں کا سیاسی سطح پر مقابلہ کیا جا سکے۔

ابھی میری بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ ایک زوردار دھماکے سے ٹرک لرز گیا۔ پہلے دھماکے کی آواز، پھر روشنی کا فلیش، پھر شیشے ٹوٹنے کی آواز اور اس کے بعد موت کی خاموشی۔ ذرا دیر کے بعد چیخ و پکار شروع ہوئی، اور میں نے دل میں کہا’ اوہ میرے خدا یہ نہیں ہو سکتا۔

ابھی میرے کان اس دھماکے کی شدت سے بج رہے تھے کہ دوسرا اور زیادہ زور دار دھماکہ ہوا۔عین اسی وقت کوئی چیز ٹرک سے ٹکرائی اور یوں محسوس ہوتا تھا وہ چیز ٹرک کی باڈی کے ساتھ گھوم رہی ہے۔ بعد میں میں نے ٹرک کے بائیں جانب، جہاں میرا کمرہ تھا، باڈی پر ٹکراؤ کے دو نشان دیکھے۔

میں نے باہر دیکھا تو اندھیری رات نارنجی روشنی میں نہائی ہوئی تھی اور سڑک پر لاشیں بکھری پڑی تھیں۔

اب میں جان گئی ہوں کہ پیپلز پارٹی کے رنگوں والے کپڑے پہنے بچے کے ساتھ کیا ہوا۔ پارٹی کے ایک پارلیمانی رکن آغا سراج درانی میرے ٹرک کے آگے راستہ بنا رہے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ جب مشکوک آدمی نے بچہ ٹرک کے اوپر پہنچانا چاہا تو انہوں نے اسے منع کر کے وہاں سے چلتا کیا۔ اس پر وہ شخص بچے کو لیے ٹرک کے بائیں جانب چلنے والی ایک پولیس گاڑی کی طرف گیا جس میں موجود افراد نے بھی بچے کو لینے سے انکار کر دیا۔ اس سے آگے والی پولیس وین میں پارٹی کی ایک کونسلر رخسانہ فیصل بلوچ اور ایک کیمرہ مین بھی سوار تھے۔

جب وہ آدمی اس وین کے قریب آیا تو پچھلی پولیس گاڑی والوں نےخبردار کیا کہ ’بچے کو مت لینا، بچے کو مت لینا، بچے کو ٹرک کے اندر مت جانے دینا۔

یہ دونوں پولیس گاڑیاں ٹرک کے متوازی اسی جانب چل رہی تھیں جس طرف ٹرک کے اندر میں بیٹھی ہوئی تھی۔ جب پولیس والے اس مشکوک آدمی کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے، اسی وقت پہلا دھماکہ ہوا۔ دوسری پولیس وین میں سوار تمام افراد مارے گئے۔

ایک منٹ سے بھی کم وقفے سے 15 کلوگرام کے ایک کار بم کا دھماکہ کیا گیا اور عینی شاہدین کے مطابق اس کے ساتھ ہی سنائپرز یا ماہر نشانچیوں کو فائرنگ کرتے بھی دیکھا گیا۔

بشکریہ بی بی سی