jump to navigation

ہم تمہیں چاہتے ہیں ایسے April 27, 2017

Posted by Farzana Naina in Film and Music.
Tags: , , , , ,
add a comment

بالی وڈ کے معروف اداکار ونود کھنہ 70 برس کی عمر میں ممبئی کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ کافی عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔

جمعرات کو ان کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد بالی وڈ کی کئی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

ونود کھنہ نے دو شادیاں کی تھیں اور ان کے چار بچے ہیں۔

1946 میں پشاور میں پیدا ہونے والے ونود کھنہ نے 140 سے زائد فلموں میں کام کیا۔

انھوں نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز بطور وِلن کیا تھا لیکن ان کی دلکش شخصیت کے باعث وہ جلد ہی ہیرو کے کردار کرنے لگے اور انھوں نے اپنی اداکاری کے جوہر سے فلمی دنیا میں ایک نئی شناخت قائم کر لی۔

ستر سے 80 کی دہائی کے دوران ونود کھنہ کا شمار بالی وڈ کے بہترین اداکاروں میں ہوتا تھا۔ ان کی پہلی فلم ‘من کا میت’ تھی جس میں انھوں نے سنیل دت کے مد مقابل بطور وِلن کام کیا تھا۔

‘پورب اور پچھم‘،’میرا گاؤں میرا دیش’ میں بھی انھوں نے وِلن کا کردار کیا تھا لیکن بعد میں وہ بطور ہیرو آنے لگے۔

ونود کھنہّ بی جے پی کے ٹکٹ پر چار بار پنجاب کے گروداس پور سے پارلیمان کا الیکشن جیتا تھا اور مرکزی وزیر بھی رہے

‘امر اکبر اینتھونی، پرورش، ہیرا پھیری اور مقدر کا سکندر، جیسی سپر ہٹ فلموں میں ونود کھنہ نے اداکاری کے اپنی بہترین جوہر دکھائے۔

جب ان کا فلمی کریئرعروج پر تھا تبھی وہ فلمی دنیا کو ترک کرکے امریکہ میں واقع مشہور یوگی اوشو کے شیلٹر ہوم میں چلے گئے جہاں انھوں نے پانچ برس گزارے۔

سنہ 1987 میں وہ دوبارہ فلمی دنیا میں واپس آئے اور ’انصاف‘ اور ’چاندنی‘ جیسی فلموں سے واپسی کی۔

انھوں نے حال ہی میں سلمان خان کے ساتھ ان کی فلموں دبنگ اور بنگ ٹو میں کام کیا تھا۔

ونود کھنہ نے بی جے پی کے ٹکٹ پر چار بار پنجاب کے گروداس پور سے پارلیمانی انتخاب جیتا اور مرکزی وزیر بھی رہے

ونود کھنّہ بالی وڈ ان کے ایک ایسے ہیرو تھے جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اگر اسّی کی دہائی میں اپنے کریئر کے عروج پر انہوں نے فلمی دنیا نہ چھوڑی ہوتی تو وہ سپرسٹار ہوتے۔

1946 میں پشاور میں پیدا ہونے والے ونود کھنہ نے 1968 میں سنیل دت کی فلم ‘من کا میت’ میں ولن کے کردار سے اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا اور 140 سے بھی زیادہ فلموں میں اداکاری کی۔

ان کی بہترین فلموں میں ‘میرے اپنے’، ‘انصاف’، ‘پرورش’، ‘قربانی’، ’دیاوان‘، ‘میرا گاؤں میرا دیش’، ‘مقدر کا سکندر’، ‘امر اکبر انتھونی’، ‘چاندنی` اور ‘دی برننگ ٹرین ‘ جیسی فلمیں شامل ہیں۔

کیریئر کے ابتدائی دنوں میں انھیں بطور معاون اداکار اور وِلن کے کرداروں میں کاسٹ کیا گیا اور وہ بالی وڈ کے ان چند ہیروز میں سے ہیں جنھوں نے اپنے کریئر کا آغاز بطور ولن کیا لیکن ہیرو بن کر انڈسٹری پر چھا گئے۔

وہ بالی وڈ میں اینگری ینگ مین کی امیج امیتابھ بچن سے پہلے ہی بنا چکے تھے۔

اپنے کریئر کے عروج پر ہی ونود کھنہ اچانک فلمی دنیا کو خیرباد کہہ کر روحانی گرو رجنیش کے شاگرد بن گئے تھے اور ان کے آشرم میں جا کر رہنے لگے تھے۔

ونود کھنہ کا یہ قدم ان کی بیوی گیتانجلی اور ان کے درمیان طلاق کی وجہ بھی بنا۔ گیتانجلی سے ان کے دو بیٹے راہل اور اکشے کھنہ ہیں۔ بعد میں 1990 میں ونود کھنہ نے کویتا سے دوسری شادی کی۔

1987 میں ونود بالی وڈ میں واپس آئے اور فلم انصاف میں ڈمپل کپاڈیہ کے ساتھ نظر آئے اور اس طرح ان کے فلمی سفر کی دوسری اننگز کا آغاز ہوا۔

1988 میں فلم دیا وان میں 46 سال کے ونود کھنّہ 21 سالہ مادھوری دکشت کے ساتھ ایک رومانوی کردار میں دکھائی دیے اور فلمی شائقین نے عمر کے فرق کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے کردار کو خوب سراہا۔

1997 میں ونود کھنہ نے سیاست کے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا اور بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ اپنے سیاسی سفر کے دوران وہ پنجاب کے ضلع گرداس پور سے چار مرتبہ لوک سبھا کے رکن بنے۔

اٹل بہاری واجپئی کی حکومت میں انہوں نے سیاحت اور ثقافت کے وزیر کے طور پر کام کیا اور بعد میں انہیں وزیر مملکت برائے خارجہ کی ذمہ داری بھی دی گئی تھی۔

2010 میں ونود کھنہ ایک بار پھر فلمی پردے پر نظر آئے اور انھوں نے پہلے فلم دبنگ اور پھر اس کے سیکوئل دبنگ ٹو میں سلمان خان کے والد کا کردار ادا کیا۔

اس کے بعد وہ 2015 میں شاہ رخ خان کی فلم دل والے میں بھی نظر آئے۔

انڈین فلم انڈسٹری میں ان کے کئی دوست تھے جن میں سے ایک خاص دوست فیروز خان بھی تھے۔ یہ اتفاق ہی ہے کہ فیروز خان کا انتقال بھی 2009 میں آج ہی کے دن یعنی ستائیس اپریل کو ہوا تھا۔

Courtesy of BBC.

Advertisements

Book by Fatima Bhutto-Fine Arts in Karachi Jail April 29, 2010

Posted by Farzana Naina in Art, Karachi, Literature, Pakistan, Pakistani, Politics, Sindh.
Tags: , , , , , , , ,
1 comment so far

Flag Pakistan1

لہو اور تلوار کے گیت: فاطمہ بھٹو کی نئی کتاب

پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی اور میر مرتضیٰ کی بیٹی فاطمہ بھٹو نے اپنی یادداشتوں پر مبنی ایک نئی کتاب، ’لہو اور تلوار کے گیت، ایک بیٹی کی یادیں‘، کے نام سے لکھی ہے۔ کتاب کی تقریب رونمائی کراچی کے علاقے کلفٹن میں ہو ءی

فاطمہ بھٹو کی تازہ کتاب چار سو ستر صفحات پر مشتمل ہے جو لندن کے ایک اشاعتی ادارے جوناتھن کیپ نے شائع کروائی ہے۔ فاطمہ بھٹو نے اپنی تازہ کتاب میں اپنی علیل دادی بیگم نصرت بھٹو اور والدہ غنویٰ بھٹو کے نام کی ہے۔

فاطمہ بھٹو کی کتاب کی تقریب رونمائی کلفٹن میں اس جگہ کے قریب منعقد کی گءی جہاں انیس سو چھیانوے میں فاطمہ بھٹو کے والد میر مرتضی بھٹو کو ایک پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا۔

فاطمہ نے کتاب کے سرورق پر بھٹو خاندان کی ان تمام شخصیات کے نام دیے ہیں جن کو مختلف ادوار میں ہلاک کیا گیا ہے۔ ان میں سب سے پہلے ذوالفقارعلی بھٹو کا نام ہے جن کو انیس سو اناسی میں فوجی دور حکومت میں پھانسی دے دی گئی، دوسرے نمبر پر شاہنواز بھٹو جو انیس سو پچاسی میں قتل ہوئے، تیسرے نمبر پر فاطمہ کے والد میر مرتضیٰ بھٹو جو انیس سو چھیانوے میں ہلاک کیے گئے اور آخر میں بینظیر بھٹو کا نام دیا گیا ہے جنہیں دو ہزار سات میں ہلاک کیا گیا۔

فاطمہ بھٹو نے اس سے قبل دو کتابیں لکھی ہیں جن میں ایک شاعری کی کتاب اور دوسری پاکستان میں آنے والے زلزلے کے متعلق ہے۔

فاطمہ بھٹو اپنی کتاب کی تقریب رونمائی کے انڈیا بھی جا رہی ہیں جہاں وہ دلی، ممبئی اور دیگر شہروں میں کتاب کے متعلق تقاریب میں شرکت کریں گی۔ کتاب کی اشاعت کے سلسلے میں لندن میں بھی تقاریب منعقد ہوں گی۔


کراچی جیل کے آرٹسٹ قیدی

پاکستان کی جیلوں میں ہنگاموں اور جرائم کے حوالے سے تو اکثر خبریں سننے کو ملتی ہی ہیں لیکن کراچی کی سینٹرل جیل اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہاں قیدیوں کو مختلف صحت افزا سرگرمیوں کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔

سینٹرل جیل کراچی میں قائم شعبہ فائن آرٹ چند سال پہلے قائم کیا گیا تھا جہاں اب اغوا برائے تاوان اور قتل میں ملوث قیدی پینسل، رنگ اور برش سے پینٹنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

شاید ہی پاکستان کی کسی اور جیل میں اس طرح کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہونگے۔

سینٹرل جیل کراچی کے ایک کمرے میں فائن آرٹ کی کلاس روزانہ چھ سے آٹھ گھنٹے جاری رہتی ہے ، یہ کمرہ قیدیوں کے آرٹ کے نمونوں کی وجہ سے عام جیل کے کمرے سے زیادہ ایک آرٹ گیلری لگتا ہے۔

فائن آرٹ کی کلاس میں سید محمد ارسلان بھی زیرتربیت ہیں۔ارسلان لندن کی ایک یونیورسٹی میں سے ایم بی ای مارکیٹنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان پہنچے اور وزارت دفاع میں ملازمت اختیار کی۔

چھ ماہ پہلے انہیں فوج کے فنڈز میں بدعنوانی کرنے کے مقدمے میں جیل بھیج دیا گیاہے اب وہ تین ماہ سے فائن آرٹ کی کلاس میں آ رہے ہیں۔

ارسلان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پینسل سے کام کی ابتداء کی اور آج کل وہ برش اور واٹر کلر کا استعمال کرتے ہیں۔ان کے کام میں مایوسی کے رنگ نمایاں ہیں۔ارسلان کہتے ہیں کہ دن کا اکثر حصہ فائن آرٹ کلاس میں گزر جاتا ہے مگر وہ قید ہونے کی وجہ سے رات کو کھلا آسمان نہیں دیکھ سکتے۔ انھوں نے کہا کہ قیدی ہونے کے احساسات اب وہ رنگوں میں بیان کرتے ہیں۔

حسنین سینٹرل جیل میں قائم فائن آرٹ کی کلاس کے سینیئر طالبعلم ہیں۔ وہ اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں دو سال سے قید ہیں۔حسنین کو قیدی لفظ سے سخت نفرت ہے، وہ کہتے ہیں کہ قیدی لفظ کا ٹیگ پوری زندگی معاشرے میں آپ کا تعاقب کرتا رہتا ہے۔حسنین کے مطابق پاکستانی معاشرتی ڈھانچے میں قیدی یا جیل کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔

سینٹرل جیل کراچی اٹھارہ سو ننانوے میں قائم ہوئی تھی۔ سینٹرل جیل کراچی میں تین ہزار سے زائد ملزم قید ہیں جن میں سے بیس بائیس کے قریب قیدی فائن آرٹ کی کلاس میں باقاعدہ حصہ لیتے ہیں۔

قیدیوں کو فائن آرٹ کی تعلیم ایک آرٹسٹ سکندر جوگی دیتے ہیں۔سکندر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے تین ماہ کا ایک شارٹ کورس قیدیوں کی تعلیم و تربیت کے لیے مخصوص کیا ہے۔سکندر کے مطابق قیدی کام کی ابتداء سٹل ورک سے کرتے ہیں بعد میں مکس میڈیا کے ذریعے چار کول، آئل پیسٹل اور سافٹ پیسٹل پر اپنے تجربات کرتے رہتے ہیں۔

سینٹرل جیل کراچی کے سپرنٹنڈنٹ نصرت حسین منگن کا کہنا ہے کہ انہوں نے جیل کا قدیم اور خوفناک تصور تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔

Book 712 

Anna Molka Ahmed – pioneer of fine arts in Pakistan

The First Female Painter of Pakistan

Prof Anna Molka Ahmed (1917 – 1994) was a famous Pakistani artist and pioneer of fine arts in the newly born Pakistan in 1947. She was a professor of fine arts at the University of the Punjab in Lahore. She was among the pioneers of women artists in Pakistan and had been a long-time director and moving spirit behind the Fine Arts Department of the Punjab University, Lahore – the first institution that was opened to the women artists in Pakistan. “In fact she has been the facilitator of a movement that made the proactive role of women artists a possibility”. writes Nilofur Farrukh (president of International Art Critics Association, Pakistan Section). It is because of trendsetters like her that the feminist art in Pakistan is gaining strength away from traditional gender discriminatory dominance. In fact these days we are witnessing a gradual dismantling of social and gender classifications. Well this has not been easy, since a lot of women had to struggle hard to bring women atop many a prestigious positions – above men, Ana Molka Ahmed is one such women.  

“Nuclear Holocaust”

 She was born to Jewish parents, in London, UK in 1917. Her mother was Polish and father was a Russian. She studied painting, sculpture and design at St. Martin School of Arts, London. She converted to Islam at the age of 18 in 1935, before marrying Sheikh Ahmed, a would be Pakistani in October 1939. The couple moved to the Indian subcontinent in 1940-41 and settled in Lahore. Although, her marriage was over in 1951 yet she lived in Pakistan with her two daughters. She was awarded Tamgha-i-Imtiaz, President’s Pride of Performance Award in 1979, Quaid-e-Azam Award in 1982 and the Khdejatul Kubra Award in 1983 for her services in the field of fine arts education in the country. Professor Emeritus Anna Molka Ahmed set up a department, which has now become a centre of excellence for Fine Arts in Pakistan.

“The day of Resurrection – Qiyamat”

At the time of independence, there were only five or six Muslim students in the art department, and Anna Molka Ahmed went from one college to other seeking students for the arts department and thus was able to introduce art courses in the Punjab University. Her students became famous artists in the country and many of them are playing their role globally.

“The Hell (Jhahanum)”

“Heaven (Jannat)”

“A village outside Lahore”

Besides painting, she was an avid gardener. She would wear her trade mark while tending the garden, cutting hedges in new and artistic pattern, and went on painting and gardening till the very last time until she was ordered by the doctors to stop because it was straining her health badly.

Anna Molka also took to writing poetry in later part of her life.

Daylight after night.

Spring when birds sing.

Sunshine after rain.

So with life’s pain.

And confidence does not wane.

And courage sustains.

She breathed her last in 1994.

Commemorating Ana Molka, the Pakistan Post issued a Rs. 4 stamp depicting Ana’s portrait and one her masterpiece paintings. Anna Molka Ahmad created a new path and a new way of looking at objects. Her dream and passion will always serve as a guideline for emerging artists, especially the female artists of Pakistan as an inspiration to carry for the torch she ignited decades ago.

Book(154)b

Rasme Karokari – رسم کارو کاری October 22, 2007

Posted by Farzana Naina in Ghazal, Kavita, Poetry, Shairy, Sher, Urdu.
Tags: , , , , , , , , , , ,
1 comment so far

Rasme Karokari red