jump to navigation

Professor Shaukat Wasti – پر اسرار نسائیت

tulips_pink_smtulips_pink_smtulips_pink_sm

 

”فرزانہ نیناں کے لیۓ منظوم دیباچہ”

بسکہ خوش خد و خال خوب خیال
حسن بیں آنکھ، دل حریمِ جمال
ہے لگی دل کی دل لگی کا مال
وہ لگن سے مگن نہال نہال
فہم میں وہم دھیان میں رومان
ہے تعاقب میں اپنے آپ نڈھال
نظم میں گرد، ذات کے اپنی
وہ بنے ریشمین فکر کا جال
ہو غزل میں حسین لفظوں سے
گھنگھروؤں کی چھنک سی ،تھاپ دھمال
بول بلبل کی چونچ سے چن کر
شعر لیتی ہے چہچہاتے ڈھال
بھینچ لے شاعری کی مُٹھی میں
جگنوؤں کو لگائے مہندی لال
کانچ کی چوڑیوں کو چھنکا کر
اس میں گونجائے ، سُر،سُریلے تال
ہو غزل فکر کے طرارے سے
جیسے طرار ایک غزال
بات میں یوں انڈھیلتی نشہ
جس طرح دے ہوا میں جام اُچھال
بھرتی درپن کی مانگ مانگ سندور
پھینکتی جھیل جھیل، پھول ، گلال
مور، تتلی، دھنک کے رنگوں سے
گوندھتی ، نقش نقش ، کارِ مثال
نثر ، شیریں ، رقم کرے ایسی
ہر مقالہ ، بنائے، شہد مقال
ٹہنی ٹہنی، کرے ، ادب شاداب
اور سیراب ، ڈال، اوپر ڈال
نکتہ چیں، عیب جو ہو، لاکھ کوئی
معترض اس پہ ، ہو سکے یہ محال
تیرا دَرپے، مخا لف اور حریف
ہو خفیف، اِس کا خوف، صاف نکال
ہے پُر امید ، خوب مستقبل
حال کو تُو، بَصد وَثوق سنبھال
تجھ سے مشہور ہوگا نوٹنگھم
ہوئی آمد، بدیر، یہ ہے مَلال
نئی آواز ، خاص نسوانی
شرمَگیں لہجہ ، با حیا ، احوال
رین آنچل پہ ، کاڑھ ، چاندنی گوٹ
چہرہ دکھلائے، دن کا گھونگھٹ ڈال
کیا بنائے ، بہار کے منظر
خوش نما ، خوش نما، نکھارا جال
آسماں پر ، شفق کی پیمک کو
ٹا نکنا ہے ترے ہی فن کی مجال
پھر محبت کا ، پُر حجاب بیان
باہمہ رمز ہائے ہجر و وصال
شاعری ، زندگی کا آئینہ
صاف ، شفاف ، عکس کے تمثال
سوزنِ فکر سے ، پُرو ڈالے
فلکِ زندگی پہ ، بَدر ، ہلال
رکھ دیئے ، لا کے اِک ادا کے ساتھ
شعر کے سب ،پُھلیل ، پھول کے تھال
دکھ کی نیلی رگیں ، سب اپنی ہیں
درد ، دل کا ، نہیں پرایا مال
اپنی بیتی ہوئی ، کہانی ہے
اپنی ہی زندگی کے ، ماہ و سال
طبعاََ اک نکتہ سنج سنجیدہ
فطرتاَََ نا قبول ، ہزل ہزال
چلبلی بھی نہیں ہے ، اوروں سی
نہ کسی دوسری ، کی سی چونچال
ڈھا ل عورت میں حور کی سیرت

کردیا حذف ، ادب سے روپ چھنال
فکر پر اس کے آفریں کہیئے
ذکر پر یہ ، نکالیئے اب فال
ایک معصوم ، دخترِ فطرت
شاعرہ ، بیشک ایک نیک خصال
مدحَ خواں ،کب کسی کا ہو شوکت
ہاں مگر جس میں ، واقعی ہو ، کمال
***
شوکت واسطی

mothergoosesmپراسرار نسائیت

شاعری شروع سے فطری جذبات کے اظہار کا شعوری یا غیر شعوری شعار رہی ہے، مرد اور عورت کی انسانی خو بو، خصائل مسائل، رواج مزاج، ذوق و شوق، رہن سہن، پسند ناپسند، طبیعی و طبعی اعتبار سے متضاد اگر نہیں تو متفاوت ضرور رہے ہیں،اس کا سب سے زیادہ سبب تو جسمانی ہئیتِ ترکیبی کا فرق ہے، تاہم ہماری بود و باش،طور طریق، ماحول معاشرے کی ماہیت کا بھی اس میں معتدبہ دخل تسلیم کرنا ضرور ہے، عورت فطری اعتبار سے فنکاریء قدرت کی عمدہ مظہر، حسن و حیا کا پیکر اور ضبط و صبر کی خوگر ہے، وہ مرد ایسی مہم جویانہ بے باکانہ خوئے عمل سے آپ کو محفوظ اور اپنی ذات تک نسائی خوبی و خاطر کو ملحوظ رکھتی ہے، تاریخ میں سیفو، قلو پطرہ، نورجہاں، جھانسی کی رانی سبھی نے اپنی جگہ نسوانی وجاہت کا ثبوت بہم پہنچایا ہے مگر ایسی مثالیں عدیم النظیر جانیں اور اسے کلیہ قرار نہ دیں، البتہ مرد نے اس کی لطافت، نزاکت، چھب ڈھب، غمزہء ناز اور اداو ناز کو اپنے فکر و فم کو مسلسل بو قلموں بنائے رکھا اور اس میں وجودِ زن سے نادر و نایاب رنگ بھرے، مجسمہ تراش نے مادموزیل میڈونا اور وینس( وینس ڈی میلو نہیں) کے خوشنما بت ڈھالے،مصور نے مونا لیزا کی دلفریب مسکراہٹ میں سے اچھوتے زاویئے نکالے اور ہمارے شاعر نے اس کے سراپا پر زیب تن کیئے خوبصورت لفظوں کے پشواز اور ہالے اس کے سبک اندام و لطیف وجود سے اپنے اپنے فن میں دلآ ویز ڈھنگ اور دلکش رنگ بھر بھر دیئے،سرِ دست ہمارا روئے سخن صرف شاعری سے ہے، دنیا بھر میں بہ استثنائے چند اس فن پر فقط مردوں کا ہی اجار رہا ہے، اس میں صنفِ لطیف کو اس کی حقیقی صورت میں کبھی اجاگر نہیں کیا گیا، یعنی عورت کو اس کا نام لے کر یا صیغہء تانیث سے یاد کرنے سے اغماض ہی برتا گیا، وجہ تھی مادری کے بجائے پدری بندوبست کا غلبہ، مردانگی کا تسلط اور علم سے عورت کی بے دخلی، یہ صورتِ حال جہاں کہیں کیسی بھی رہی ہو لیکن قدیم عربی شاعروں نے اس سلسلے میں صاف گوئی کا ثبوت دیا اور اپنی محبوبہ کو نام لے کر مخاطب کرنے میں کسی قسم کی عار محسوس نہ کی، وہ اس کے حسن و جمال کا بر ملا چرچا کرتے تھے اور اس کے من موہنے خدو خال کھول کھول کر بیان کرنے میں بھی تامل نہ برتتے اور سرِ عام سناتے، پھر اس حوالے سے اپنے جذبات کا فخریہ فاش اظہار بھی کر جاتے، رعایت کرتے نہ لحاظ خاطر میں لاتے۔
تاہم اب کی صورتِ حال کے متعلق بصد طمانیت یہ کہا جا سکتا ہے کہ کئی شاعرات اسی کومل شیتل لَے لہجے میں شعر سرا ہیں، اتنا کہہ لینے کے بعد یہ اہم نکتہ بھی ضرور اٹھانا چاہیئے اور صراحت کے ساتھ سامنے لانا چاہیئے کہ خاتون و خانم کی ایک اپنی دنیا ہے، ان مستورات کے دن رات اپنے، اپنی کل اور آج ہے، اپنا کام کاج ہے، اپنی زندگی اور سماج ہے، جس میں مردوں کا گذر دخل اندازی کے سوا اور کچھ قرار نہیں دیا جا سکتا ہے، ہر لڑکی کابچپن گٹیوں، گٹکریوں، کلھیوں، گڑیوں کے معصوم کھیلوں میں بیتتا ہے، لڑکپن اکیلے سویروں میں گزرتا ہے، اور عنفوان سہیلیوں کی پر لطف چھیڑ چھاڑ،کھسر پسر اور راز و نیاز کی دل لگی میں مست و مصروف رہتا ہے تا آنکہ بابل کے گھر کی یہ بھولی چڑیا پھُرسے اڑ کر سسرال کی منڈیر پر جا براجتی ہے،بھرپور جوانی کا رسمسار ومانی زمانہ کتنی دیر چلتا ہے، ہر ایک کے اپنے لیکھ اور اپنے اپنے بھاگ، اگر سوچا جائے تو یوں ہر عورت کی اپنی اپنی کتھا بانی اور رام کہانی ہوتی ہے جسے وہ سنجیدگیء فکر سے اپنے فن میں سموئے تو خاص الگ الگ انداز کی دلدوز جانسوز بِنتی بن جائے، یا دلپذیر اور دلآویز ایسی بیتی کہ بھائے اور لبھائے، یہ سراسر بچپن، شوخ و شنگ کنوار پن اور سہانے سہاگ جیون کی ایسی واقعی سرگذشت و روداد ہے جس پر مرد کی ذات اس کے حالات واقعات کی ہلکی سی پرچھائیں پڑسکے اور نہ ہی چھچھلتی سی چھاپ لگ سکے، لڑکیوں بالیوں، کنواریوں بیاہیوں کے اپنے اپنے کھیل، دلچسپیاں اور مشغلے ہوتے ہیں، چلن سبھاؤ بھی کافی فرق سے ہیں، ہر قسم کے رنگا رنگ کپڑے، اگر یہ سب مستوراتی آن بان شان ان مسمات بیگمات کی شاعری کا خاص نشان بن جائے تو کیا نہ کہیئے، حیرت آتی ہے کہ ہماری شاعرات کا اس جانب دھیان ہی نہیں گیا ۔۔۔ !۔
مجھے اتنی تمہید لکھنے کا باعث یہ بنا کہ اب کی بار قیامِ برطانیہ کے دوران بائرن کے مولد پر فضا شہر نوٹنگھم میں بساطِ سخن پر ایک نو وارد جواں سال شاعرہ کا ایسا کلام سننے کاتفاق ہوا جو سراسر پُر اسرار نسائیت کا آئینہ دار تھا،اس کے اچھوتے افکارِ خوش اسلوب اور انوکھے اظہارِ خوب نے مجھے بہت متاثر کیا، یہ بلکل نئی اپچ، نرالی سج دھج کی خیال آرائی لگی۔
زیرِ نظر مجموعۂ کلام ’’درد کی نیلی رگیں‘‘ فرزانہ نیناںؔ کی ایسی کتاب ہے جس میں بچپن کی سادہ معصوم یادیں، البیلے لڑکپن کی الہڑ شوخیاں اور منچلی جوانی کے خوبصورت لمحات کی بہَ طرزِ نسوانی مکمل ترجمانی موجود ہے، مزید برآں اس کی بیشتر لفظیات خالصتاََ نسائیت کی البیلی ادا سے لبھاتی ہے اور قاری کو محظوظ کرنے کے ساتھ ساتھ اچنبھے میں ڈال جاتی ہے، اضافی دلچسپی کا بات اس کی چابکدستانہ بنت میں ہے جس کے اندر شاعرہ کی نرم انگلیوں کی سر سراہٹ محسوس ہو، اس نے اپنے دلپسند رنگوں کی قوس و قزح جا بجا شعروں میں سمو دی ہے، شاداب فکروں کی بو قلموں تازگئ فکر کے لہلہاتے سبزہ زار میں بودی ہے اور اپنی سخن سازی میں نئے پن کی شگفتگی پرو دی ہے۔
’’نیلی رگیں‘‘ ہماری کئی شاعرات کے لئے ایک نیا اور واضح شعور اجاگر کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوگی، یہ ضرور پڑھی جانی چاہئے تاکہ فرزانہ کے فن کی جملہ خوبیاں مطالعے کا حاصل بن سکیں،تفریحِ دل و دماغ بن سکیں۔

پروفیسر شوکت واسطی
اسلام آباد،پاکستان

*********

Comments»

No comments yet — be the first.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: