jump to navigation

شمس الرحمن فاروقی کے افکار April 19, 2018

Posted by Farzana Naina in Poetry, شمس الرحمن فاروقی.
Tags:
add a comment

شمس الرحمن فاروقی کے درج ذیل نتائج، افکار اور تجاویز نہ صرف شعرا کے لیے کیمیا اثر ہیں بلکہ شعر و ادب کے ہر سنجیدہ طالب عالم کے لیے بھی یہ رہنما اصول کا درجہ رکھتے ہیں۔ فاروقی صاحب کی یہ تحریر ان کی مشہور تصنیف “تنقیدی افکار” سے ماخوذ ہے۔ اگرچہ اصل فہرست طویل ہے جسے سلسلہ وار پڑھنے کی تلقین صاحب کتاب نے کی ہے لیکن تنگیِ صفحات اور طلبہ کی ضرورتوں کے مد نظر ، میں اس کی تلخیص پیش کی جارہی ہے۔

1۔ موزوں، ناموزوں سے بہتر ہے۔

(الف)چونکہ نثری نظم میں موزونیت ہوتی ہے، اس لیے نثری نظم، نثر سے بہتر ہوتی ہے۔

2۔ انشا، خبر سے بہتر ہے۔

3۔ کنایہ، تصریح سے بہتر ہے۔

4۔ ابہام، توضیح سے بہتر ہے۔

5۔ اجمال، تفصیل سے بہتر ہے۔

6۔ استعارہ، تشبیہ سے بہتر ہے۔

7۔ علامت، استعارے سے بہتر ہے۔

(الف) لیکن علامت چونکہ خال خال ہی ہاتھ لگتی ہے ، اس لیے استعارے کی تلاش بہتر ہے۔

8۔ تشبیہ، مجرد اور سادہ بیان سے بہتر ہے۔

9۔ پیکر، تشبیہ سے بہتر ہے۔

10۔ دو مصرعوں کے شعر کا حسن اس بات پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ دونوں مصرعوں میں ربط کتنا اور کیسا ہے؟

11۔ اس ربط کو قائم کرنے میں رعایت بہت کام آتی ہے۔

12۔ مبہم شعر، مشکل شعر سے بہتر ہوتا ہے۔

13۔ مشکل شعر، آسان شعر سے بہتر ہوسکتا ہے۔

14۔ شعر کا آسان یا سریع الفہم ہونا اس کی اصلی خوبی نہیں۔

15۔ مشکل سے مشکل شعر کے معنی بہرحال محدود ہوتے ہیں۔

16۔ مبہم شعر کے معنی بہرحال نسبتاً محدود ہوتے ہیں۔

17۔ شعر میں معنی آفرینی سے مراد یہ ہے کہ کلام ایسا بنایا جائے جس میں ایک سے زیادہ معنی نکل سکیں۔

18۔ چونکہ قافیہ بھی معنی میں معاون ہوتا ہے، اس لیے قافیہ پہلے سے سوچ کر شعر کہنا کوئی گناہ نہیں۔

19۔ شعر میں کوئی لفظ، بلکہ کوئی حرف، بے کار نہ ہونا چاہیے۔ لہٰذا، اگر قافیہ یا ردیف یا دونوں پوری طرح کارگر نہیں ہیں تو شعر کے معنی کو سخت صدمہ پہنچنا لازمی ہے۔

20۔ شعر میں کثیر معنی صاف نظر آئیں، یا کثیر معنی کا احتمال ہو، دونوں خوب ہیں۔

21۔ سہل ممتنع کو غیر ضروری اہمیت نہ دینا چاہیے۔

22۔ شعر میں آورد ہے کہ آمد، اس کا فیصلہ اس بات سے نہیں ہوسکتا کہ شعر بے ساختہ کہا گیا یا غور و فکر کے بعد۔ آورد اور آمد، شعر کی کیفیات ہیں، تخلیق شعر کی نہیں۔

23۔ بہت سے اچھے شعر بے معنی ہوسکتے ہیں لیکن بے معنی اور مہمل ایک ہی چیز نہیں۔ اچھا شعر اگر بے معنی ہے تو اس سے مراد یہ نہیں کہ وہ مہمل ہے۔

24۔ قافیہ خوش آہنگی کا ایک طریقہ ہے۔

25۔ ردیف، قافیے کو خوش آہنگ بناتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مردف نظم، غیر مردف نظم سے بہتر ہے۔

26۔ لیکن ردیف میں یکسانیت کا خطرہ ہوتا ہے، اس لیے قافیے کی تازگی ضروری ہے تاکہ ردیف کی یکسانیت کا احساس کم ہوجائے۔

27۔ نیا قافیہ، پرانے قافیے سے بہتر ہے۔

28۔ لیکن نئے قافیے کو پرانے ڈھنگ سے استعمال کرنا بہتر نہیں، اس کے مقابلے میں پرانے قافیے کو نئے رنگ سے نظم کرنا بہتر ہے۔

29۔ قافیہ بدل دیا جائے تو پرانی ردیف بھی نئی معلوم ہونے لگتی ہے۔

30۔ قافیہ، معنی کی توسیع بھی کرتا ہے اور حد بندی بھی۔

31۔ ہر بحر مترنم ہوتی ہے۔

32۔ چونکہ شعر کے آہنگ بہت ہیں اور بحریں تعدا دمیں کم ہیں، اس لیے ثابت ہوا کہ شعر کا آہنگ بحر کا مکمل تابع نہیں ہوتا۔

33۔ نئی بحریں ایجاد کرنے سے بہتر ہے کہ پرانی بحروں میں جو آزادیاں جائز ہیں، ان کو دریافت اور اختیار کیا جائے۔

34۔ اگر نئی بحریں وضع کرنے سے مسائل حل ہوسکتے تو اب تک بہت سی بحریں ایجاد ہوچکی ہوتیں۔

35۔ آزاد نظم کو سب سے پہلے مصرع طرح کے آہنگ سے آزاد ہونا چاہیے۔

36۔ اگر مصرعے چھوٹے بڑے ہیں تو بہتر ہے کہ ہر مصرعے کے بعد وقفہ نہ ہو۔

37۔ نظم کا عنوان اس کے معنی کا حصہ ہوتا ہے، اس لیے بلاعنوان نظم ، عنوان والی نظم کے مقابلے میں مشکل معلوم ہوتی ہے، بشرطیکہ شاعر نے گمراہ کن عنوان نہ رکھا ہو۔ لیکن عنوان اگر ہے تو نظم کی تشریح اس عنوان کے حوالے کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔

38۔شعرکی تعبیر عام طور پر ذاتی ہوتی ہے، لیکن وہ جیسی بھی ہو اسے شعر ہی سے بر آمد ہونا چاہیے۔

39۔ آزاد نظم کا ایک بڑا حسن یہ ہے کہ مصرعوں کو اس طرح توڑا جائے یا ختم کیا جائے کہ اس سے ڈرامائیت یا معنوی دھچکا حاصل ہو۔ معرا نظم میں بھی یہ حسن ایک حد تک ممکن ہے۔

40۔ ہماری آزاد نظم بحر سے آزاد نہیں ہوسکتی۔

41۔ آزاد اور نثری نظم کے شاعر کو ایک حد تک مصور بھی ہونا چاہیے۔ یعنی اس میں یہ صلاحیت ہونا چاہیے کہ وہ تصور کرسکے کہ اس کی نظم کتاب یا رسالے کے صفحے پر چھپ کر کیسی دکھائی دے گی۔

42۔ قواعد، روزمرہ ، محاورہ کی پابندی ضروری ہے۔

43۔ لیکن اگر ان کے خلاف ورزی کر کے معنی کا کوئی نیا پہلو یا مضمون کا کوئی نیا لطف ہاتھ آئے تو خلاف ورزی ضروری ہے۔

44۔ لیکن اس خلاف ورزی کا حق اسی شاعر کو پہنچتا ہے جو قواعد، روزمرہ ، محاورہ پر مکمل عبور حاصل اور ثابت کرچکا ہو۔

45۔ مرکب تشبیہ، یعنی وہ تشبیہ جس میں مشابہت کے کئی پہلو ہوں، مفرد تشبیہ سے بہتر ہے۔

46۔ جذباتیت، یعنی کسی جذبے کا اظہار کرنے کے لیے جتنے الفاظ کافی ہیں، یا جس طرح کے الفاظ کافی ہیں، ان سے زیادہ الفاظ، یا مناسب طرح کے الفاظ سے زیادہ شدید طرح کے الفاظ استعمال کرنا ، بیوقوفوں کا شیوہ ہے۔

47۔ استعارہ جذباتیت کی روک تھام کرتا ہے۔ اسی لیے کم زور شاعروں کے یہاں استعارہ کم اور جذباتیت زیادہ ہوتی ہے۔

48۔ الفاظ کی تکرار بہت خوب ہے، بشرطیکہ صرف وزن پورا کرنے کے لیے یا خیالات کی کمی پورا کرنے کے لیے نہ ہو۔

49۔ شاعری علم بھی ہے اور فن بھی۔

50۔ یہ جو کہا گیا ہے کہ شاعر خدا کا شاگرد ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ شاعر کو کسی علم کی ضرورت نہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ شاعرانہ صلاحیت اکتسابی نہیں ہوتی۔

51۔ شاعرانہ صلاحیت سے موزوں طبعی مراد نہیں۔ اگرچہ موزوں طبعی بھی اکتسابی نہیں ہوتی ، اور تمام لوگ برابر کے موزوں طبع نہیں ہوتے اور موزوں طبعی کو بھی علم کی مدد سے چمکایا جاسکتا ہے لیکن ہر موزوں طبع شخص شاعر نہیں ہوتا۔

52۔ شاعرانہ صلاحیت سے مراد ہے، لفظوں کو اس طرح استعمال کرنے کی صلاحیت کہ ان میں نئے معنوی ابعاد پیدا ہوجائیں۔

53۔ نئے معنوی ابعاد سے مراد یہ ہے کہ شعر میں جس جذبہ، تجربہ، مشاہدہ، صورت حال، احساس یا خیال کو پیش کیا گیا ہے، اس کے بارے میں ہم کسی ایسے تاثر یا کیفیت یا علم سے دو چار ہوں جو پہلے ہماری دسترس میں نہ رہا ہو۔

54۔ شاعری مشق سے ترقی کرتی ہے اور نہیں بھی کرتی ہے۔ صرف مشق پر بھروسا کرنے والا شاعر ناکام ہوسکتا ہے لیکن مشق پر بھروسا کرنے والے شاعر کے یہاں ناکامی کا امکان، اس شاعر سے کم ہے جو مشق نہیں کرتا۔

55۔ مشق سے مراد صرف یہ نہیں کہ شاعر کثرت سے کہے، مشق سے مراد یہ بھی ہے کہ شاعر دوسروں (خاص کر اپنے ہم عصروں اور بعید پیش روؤں) کے شعر کثرت سے پڑھے اور ان پر غور کرے۔

56۔ کیوں کہ اگر دوسروں کی روش سے انحراف کرنا ہے تو ان کی روش جاننا بھی ضروری ہے۔ دوسروں کے اثر میں گرفتار ہو جانے کے امکان کا خوف اسی وقت دور ہوسکتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ دوسروں نے کہا کیا ہے؟

57۔ تمام شاعری کسی نہ کسی معنی میں روایتی ہوتی ہے، اس لیے بہتر شاعر وہی ہے جو روایت سے پوری طرح باخبر ہو۔

58۔ تجربہ کرنے والا شاعر، چاہے وہ ناکام ہی کیوں نہ ہوجائے،محفوظ راہ اختیار کرنے والے شاعر سے عام طور پر بہتر ہوتا ہے۔

59۔ تجربے کے لیے بھی علم شرط ہے۔ پس علم سے کسی حال میں مفر نہیں۔

٭٭٭

مشمولہ سہ ماہی اثبات

بجلی، پانی اور پاکستان April 17, 2018

Posted by Farzana Naina in Issues of Pakistan, Karachi, Pakistan, Pakistani.
Tags: , , ,
add a comment

بجلی، پانی اور پاکستان

سویڈن کی یہ خبر پڑھئیے اور سر دھنیئے کہ دوسرے ممالک  قدرتی وسائل کو اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے کس طرح اپنے کام میں لے رہے ہیں۔

بیرونِ پاکستان ترقیاتی کاموں کی فروانی دیکھ کر اپنے ملک کی بد قسمت عوام کے حقوق کی پامالی پر آنکھیں پانی سے بھر جاتی ہیں۔

سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں دو کلو میٹر طویل الیکٹرک سڑک بنائی گئی ہے، یہ بجلی کی سڑک ائیرپورٹ کے نزدیک بنائی گئی ہے جس پر گاڑی چلانے کے لیے گاڑی کو الیکٹرک کیبل سے منسلک کیا جاتا ہے جب کہ کیبل کا دوسرا سرا سڑک پر لگے الیکٹرک سسٹم سے جوڑ دیا جاتا ہے اس طرح ایک عام گاڑی مکمل طور پر برقی کار میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

سویڈن میں 2030ء تک فیول سے نجات حاصل کرنے اور ٹرانسپورٹ سیکٹر میں تیل کے استعمال میں 70 فیصد تک کمی لانے کے لیے توانائی کے دیگر ذرائع پر کام کیا جا رہا ہے

سٹاک ہوم سے باہر ایک لاجسٹک مقام تک الیکٹرک فیکیشن روڈ پر چلنے والی الیکٹرک گاڑیاں اب خودبخود چارج ہوتی رہیں گی جس کے لئے روڈ ریچارج ایبل خصوصی بیٹریاں گاڑیوں میں نصب کی جا رہی ہیں جن میں نیچے کی طرف سے ایک حصہ سڑک پر بچھی ہوئی الیکٹرک وائر نگ کو چھو سکتا ہے جبکہ گاڑی رکنے کی صورت چارج ہونا خود بخود بند ہو جائے گا۔

یہ نظام گاڑی کی توانائی کی کھپت جانچ سکتا ہے اس کی تعمیر پر ٹرام لائن کی نسبت پچاس فیصد کم خرچہ آتا ہے۔ سویڈن کی حکومت 2030ء تک ماحولیاتی آلودگی میں اپنا کردار صفر کرنے کے لئے فوسل فیول (زمینی ایندھن) کے استعمال سے آزادی کا ہدف رکھتی ہے جس کے لئے ٹرانسپورٹ سیکٹر کا زمینی ایندھن پر انحصار 70 فیصد تک کم کیا جائے گا۔

پاکستان کے حالیہ دورے میں ہمارے ایک رشتہ دار کے گھر جامشورو جانا ہوا، وہاں پہنچ کر میں حیرت زدہ رہ گئی کہ اس گھر میں بجلی کی کمی کا کوئی واویلا نہیں تھا، پنکھے ٹھنڈی ٹھار ہوائیں جھل رہے تھے اور تیز روشنی والے بلب ہم کو جگمگاتے خوش آمدید کہتے نظر آئے۔

ان سے جب اس راز کو کھولنے کا کہا تو وہ ہمیں مکان کی چھت پر بنے ہوئے بر آمدے نما کمرے میں لے گئے، وہاں پر سولر سسٹم لگا ہوا تھا، شمسی توانائی سے ان کا گھر مستفید ہورہا تھا اور بجلی کے بل بھی سوہانِ روح نہ تھے۔

کمال ہی کمال، بہرالحال اس سسٹم  کا خرچہ کافی ہے کہ جو ایک عام شہری کے وسائل پر شاید پورا نہیں اترسکے گا۔

ہم نے کبھی اپنے وطن میں سورج سے ملنے والی توانائی کی جانب توجہ نہیں دی، سولر پاور کو عام کرنے میں کس چیز کی رکاوٹ ہے یہ سمجھ سے بالاتر ہے!

اس کام کے لیئے جتنی انویسٹمنٹ کی جائے گی اس سے سوگنا بڑھ کر ہمارے ملک کو فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

ہمارے وطن میں رہائشی علاقے تو کیا بلکہ ہسپتالوں تک کو مناسب بجلی مہیا نہیں کی جاتی، اس قسم کے ادارے جہاں انسانی جانیں بچائی جاتی ہوں بجلی کے بغیر کیسے چل رہے ہیں؟ یقیناَ کوئی خدائی ہاتھ ان کی مدد کے لیئے کارفرما ہوگا!

بجلی مہیا کرنے کے لیئے کڑوڑوں کے منصوبے پاس ہو ہوتے ہیں لیکن عملی طور پر کوئی کام پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچتا !

آپس کی لوٹ کھسوٹ اور تنازعات میں پڑ کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیئے ملک و قوم کی فلاح و بہبود نامی کوئی سوچ ان لوگوں کے ذہن میں ناپید ہے۔

ایسے لوگوں کا بہترین حل یہ ہے کہ الیکٹرک شاک کھلا کر ان کو دنیا سے آزاد کردیا جائے۔ یہ ایک سخت اسٹیٹمنٹ ہے لیکن ہم لوگ بیزار آ چکے ہیں اور کسی بھی صورت ہم کو ان لوگوں سے اپنے معاشرے کو پاک کرنا ہوگا، جب تک سخت سزائیں نہیں لاگو ہوں گی یہ آوا بگڑا ہی رہے گا !!!

پاکستان میں متعدد نئے بجلی گھر بنانے کے منصوبے آئے دن سنائی تو دیتے ہیں لیکن مجبور عوام فقط خوش آئند خوابوں کے پنکھے ہی جھل کر رہ جاتے ہیں۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سربراہ نے گزشتہ برس بتایا تھا کہ پاکستان نے 2030 تک ایٹمی توانائی کی گنجائش 8 ہزار 800 میگاواٹ تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے لیے مزید تین سے چار بڑے ایٹمی ری ایکٹرز بنائے جائیں گے۔

اس وقت پاکستان کے پاس 5 چھوٹے ری ایکٹرز ہیں جن کی مجموعی مشترکہ پیداوار صرف 1300 میگاواٹ ہے۔ چشمہ کے مقام پر چوتھا پاور پلانٹ ستمبر میں فعال کیا گیا جسے چینی کمپنی ’چائنا نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن‘ نے بنایا ہے اور یہی کمپنی کراچی کے قریب بھی 1100 میگاواٹ کے دو ایٹمی ری ایکٹرز تعمیر کررہی ہے۔

 کہا گیا ہے کہ دونوں نئے ری ایکٹرز کی تعمیر کا کام 60 اور 40 فیصد مکمل ہوگیا ہے جو 2020 اور 2021 میں فعال ہوجائیں گے۔ پاکستانی حکومت 8 ویں ایٹمی ری ایکٹرز کی تعمیر کا ٹھیکہ بھی دینے والی ہے جس کی پیداواری گنجائش 1100 میگا واٹ ہوگی اور جس کے مکمل ہونے پر بجلی کی مجموعی پیدوار 5 ہزار میگا واٹ تک پہنچ جائے گی۔

نئے ری ایکٹرز کی تعمیر کے لیے رقم سرکاری خزانے یا قرض لے کر حاصل کی جائے گی !

ترقی یافتہ ملکوں کو شمسی بجلی کی ضرورت نہیں کیونکہ اُن کے پاس روایتی بجلی بہت ہے۔ مہنگا ہونے کے باوجود وہ ممالک اِس ماحول دوست متبادل پر توجہ دے رہے ہیں کیونکہ وہ مالی لحاظ سے مضبوط ہیں۔‘

لیکن پاکستان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں، ہمارا ملک پیٹرول کی درآمد پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے پھر بھی ضروریات پوری نہیں ہوتیں۔

ہوا سے بجلی کی فراہمی مخصوص علاقوں میں ممکن ہے۔

پانی کے بڑے ڈیم ہمالیہ کے ساتھ ہیں اور ہندوستان مسلسل رکارٹیں کھڑی کرتا رہتا ہے۔

اب چین سے تجارتی معاملات کی جو پیش رفت ہوئی ہے اس کی مدد سے بجلی گھر بھی بنائے جا سکتے۔

شمسی بجلی ایک بڑا قابلِ عمل اور بہترین حل ہے، ایک بجلی گھر کے لیے دو یا تین پینل کافی ہوتے ہیں، کاش کہ ان اقدامات پر جلز از جلد اور سنجیدگی سے عمل کر کے ملک و قوم کی تکالیف دور کی جائیں، موجودہ دور میں بجلی اور پانی کی قلت شرمناک لگتی ہے کیونہ ہمارا وطن قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے وطن میں موجود خزانوں سے بہرہ مند نہ ہو سکیں !

دبئی آ تے جاتے جب میں صحراوں کو گل و گلزار ہوتے دیکھتی ہوں تو دل باغ باغ ہونے کے بجائے اپنے وطن کے بارے میں سوچ کر خزاں رسیدہ پتے کی صورت مرجھانے لگتا ہے !

کاش کہ میری آنکھیں وہ دن دیکھیں جب لوگ پانی بجلی اور ایک صاف ستھرے پاکستان میں زندگی کی بہاریں دیکھا کریں گے  !

فرزانہ خان نیناؔں

http://www.dailymail.co.uk/news/article-5616199/Sweden-builds-electrified-road-powers-vehicle-electric-rails.html?ITO=1490&ns_mchannel=rss&ns_campaign=1490