jump to navigation

پاکستان کی دستکاری June 2, 2019

Posted by Farzana Naina in Culture, Cultures, Handy Crafts, Pakistan, Pakistani, Pakistani Folk, Sindh, Sindhi.
add a comment

BBC_ماہین خان کا برانڈ گلابو 1

ماہرین کا دعویٰ ہے کہ جنوبی ایشیا کے 80 فیصد ہنر پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ یہ ایک حیرت انگیز انکشاف ہے اور اس بات کا ثبوت بھی کہ یہ ملک فن و ثقافت معاملے میں انتہائی خوشحال ہے۔

پاکستان میں جہاں ہم سال میں چھ موسموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہیں ہمیں اس بات پر بھی فخر ہونا چاہیے کہ اس خطے میں بہت سے فنون نے جنم لیا، پروان چڑھے اور آج بھی زندہ ہیں۔

پاکستان کی ثقافتی اور روایتی ہنرمندی اور دستکاری کو ایک کوزے میں بند کرنا ناممکن ہے۔

BBC_chitai2

تیار شدہ ملبوسات کی برانڈ جنریشن نے حال ہی میں پاکستان کی مختلف دستکاریوں پر مشتمل نقشہ جاری کیا ہے جو علاقوں کے حساب سے مخصوص کڑھائیوں سے متعلق ایک بہترین حوالہ ہے

پاکستان کی فیشن کی صنعت میں بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے کے لیے مغربی رحجانات اور انداز اپنائے جاتے رہے ہیں جبکہ پاکستان کے ثْقافتی انداز اور ہنر دیگر دنیا کے لیے کشش کا باعث ہیں۔

ہنر میں بہت کچھ اہمیت کا حامل ہے جس میں شروعات یہاں پر بننے والے کپڑے کی مختلف اقسام سے ہوتی ہے۔

پاکستان بلاشبہ دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں چار اقسام کا مقبول عام ریشم تیار کیا جاتا ہے جس میں شہتوت (ملبیری)، ریشم کے کیڑے (تسور)، ایری، اور موگا سے بنائے بانے والا ریشم شامل ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ دنیا کا مشہور ترین کپڑا ڈینم (جس سے جینز کی پتلون تیار کی جاتی ہے) بھی وادی مہران کی تہذیب کے زمانے میں تیار ہونا شروع ہوا اور آج تک پاکستان میں بنایا جاتا ہے۔

جہاں کپڑے کی بات آتی ہے وہاں اس کے بننے یا بنانے کا عمل بھی ضرور ہوتا ہے جس کے لیے کراچی کے مشہور زمانہ اورنگی ٹاؤن میں ہاتھ سے کپڑا بننے کے بڑے بڑے کارخانے موجود ہیں جہاں بروکیڈ، جامہ وار، کمخواب، بنارسی اور تانچوئی جیسے قیمتی اور زرق برق کپڑے بنے جاتے ہیں۔ یہ تمام کپڑے پاکستان میں عروسی ملبوسات کی تیاری میں استعمال کیے جاتے ہیں جو کہ پاکستان میں ایک بڑا کاروبار ہے۔

تیار شدہ ملبوسات کی برانڈ جنریشن نے حال ہی میں پاکستان کی مختلف دستکاریوں پر مشتمل نقشہ جاری کیا ہے جو علاقوں کے حساب سے مخصوص کڑھائیوں سے متعلق ایک بہترین حوالہ ہے

یہ کپڑے سلائی کے وقت انتہائی مہارت کے ساتھ کارچوبی کڑھائیوں اور بیلوں سے مزین کیے جاتے ہیں۔ یہاں کے رنگریزی کے فن کا ذکر بھی ضروری ہے جن میں چنری اور بندھنی کی رنگائی جس کا رواج صحرائے تھر سے لے کر جنوبی پنجاب تک ہے اور سندھ میں چھاپے کے کام (بلاک پرنٹ) کی اجرک بہت مشہور ہیں۔

کپڑوں پر کڑھائی کے ہنر کی ابتدا ممکنہ طور پر پاکستان کے شمالی علاقوں چترال اور ہنزہ کی کڑھائی دار اونی شالوں سے ہوتی ہے۔ خطے کے سرد اور سخت موسم میں اوڑھنے کے لیے تیار کی جانے والی یہ شالیں اپنے موٹے اونی دھاگے اور گہرے اور گرم رنگوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔

ان ہی دیدہ زیب شالوں کو دیکھتے ہوئے ایک آسٹریلوی خاتون کیتھی بریڈ نے چترال میں ‘پولی اینڈ می’ کے نام سے ایک منصوبے کا آغاز کیا جو نہ صرف اس علاقے کے ہنر کو محفوظ رکھے ہوئے ہے بلکہ اس کے ذریعے خطے کی خواتین کو معاشی خود مختاری بھی حاصل ہوئی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان میں علاقائی ہنرکو محفوظ یا دوبارہ زندہ کرنے کے بہت سے منصوبوں کے پیچھے سماجی ومعاشی خودمختاری کا خیال ہی کار فرما تھا۔ چترال ہی کا ایک اور منصوبہ شوبیناک بھی شمالی علاقہ جات کے ہنر اور دستکاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

پاکستان کی شمالی پٹی کا ایک اور ہنر سوات کا شوخ رنگوں سے کاڑھا جانے والا پھلکاری ٹانکا ہے جس کا استعمال شالوں، کمبل، اور دیگر کپڑوں پر بکثرت کیا جاتا ہے۔ عموما گیروے، پیلے، نارنجی اور آتشی گلابی رنگوں کے دھاگوں سے مزین یہ ٹانکا اس علاقے کی پہچان بن چکا ہے۔

پاکستان کے صوبے پنجاب میں آئیں تو یہاں کی ثقافت مختلف وضع کی خوش رنگ دستکاریوں سے بھری پڑی ہے جن میں شیشے کا کام، سوئی دھاگے کا کام، شیڈو یا الٹی بھرائی کا کام، گوٹے اور جھلمل ستاروں کا کام بہت مشہور ہیں۔’

پنجاب، خاص طور پر ملتان ہاتھ سے بنے ہوئے برتنوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ یہ مشہور زمانہ مٹی کے برتن اس خطے میں صدیوں سے بنائے جارہے ہیں اور ملتان کی پہچان بن چکے ہیں۔

حالانکہ آج کل جدید طریقوں سے برتن بنانے والوں نے اس ہنر کو بھی کراکری اورگھریلو استعمال کی دیگر اشیا میں متعارف کرایا ہے ہے لیکن یہ فن ابتدا میں بڑے پیمانے پر عمارتوں، مسجدوں، مزاروں اور مقبروں کی سجاوٹ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا کیونکہ اس فن میں شامل رنگ اور اشکال فن اسلامی کی ترجمانی کرتے تھے۔

کپڑوں کی طرف واپس آتے ہیں تو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں مختلف اقسام کی نایاب دستکاریوں کا خزانہ موجود ہے۔ یہاں رنگ برنگ، آڑھے ترچھے ٹانکوں کی پیچیدہ کڑھائی کو صوبے میں موجود ان گنت بلوچی قبائل میں مختلف طریقوں کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔

ان میں بلوچی خانہ بدوشوں کے بکری کی کھال سے بنے شامیانے ‘گودان’ کے گرد کی جانے والی کڑھائی ‘دل وبیتاب’ بہت مشہور ہے۔ بلوچستان کے علاقے کچھ کی کڑھائی اپنے تیز رنگوں کی وجہ سے الگ ہی کمال رکھتی ہے اور فرش پر بچھائے جانے دریوں پر چارسوتی ٹانکا پہاڑوں سے گھرے اس صوبے میں بہت ہی مقبول ہے۔

سندھ میں صدیوں سے جاری منفرد رلی کا کام صوبے کی پہچان بن چکا ہے۔

رلی کی تیاری میں کافی وقت لگتا ہے اور سندھ کے اندرونی علاقوں میں جانا بھی جان جوکھوں کا کام کیونکہ وہاں جانے والے راستوں پر ہمیشہ سکیورٹی خدشات ہوتے ہیں۔

یہ ہنر وہ چھوٹی چھوٹی نشانیاں ہیں جو دنیا کے ثقافتی نقشے میں ہمیں ممتاز کرتی ہیں اور امید ہے کہ ہم اس ورثے کو زندہ رکھنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

بتشکر: آمنہ حیدر عیسانی

ہم اپنے ہی ملک میں پناہ گزینوں کی طرح رہتے ہیں June 2, 2019

Posted by Farzana Naina in Chatai Making, Culture, Cultures, Handy Crafts, Pakistan, Pakistani, Pakistani Folk, Sindh, Sindhi.
add a comment

حیدر آباد کی مشہور ٹھنڈی سڑک کے کنارے بیٹھے زندگی کی تپتی دھوپ سے جھلسے ہوئے ہنرمند جوگی اپنی منفرد دست کاری کا مول نہ ملنے کے باعث مایوس نظر آتے ہیں۔

حیدر آباد پریس کلب کے نزدیک سڑک کنارے لٹکی چٹائیاں ان ماہر دست کاروں کی خاص سوغات ہیں جو وہ آباؤ اجداد کے دور سے بناتے آ رہے ہیں۔

’ہمارے بزرگ سندھ کی سرزمین پر بسے ہیں اس لیے ہمیں اس زمین سے بہت محبت ہے۔ ہم اپنا کام محنت سے کرتے ہیں اور اپنی محرومیوں کی شکایت کسی سے نہیں کرتے لیکن اپنے ہنر کی معقول اجرت نہ ملنے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ہمارا گزارا مشکل ہو گیا ہے۔‘

صبح سے لے کر شام ڈھلے تک جوگیوں کے درجنوں خاندان ٹھنڈی سڑک کے فٹ پاتھ پر ہر آنے جانے والی گاڑی کو حسرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ شاید کوئی ان کے ہنر کو سراہنے والا رک کر ان سے چٹائی سے بنی چیزیں خرید لے۔

’ہمارے بچوں سے لے کر بوڑھے تک یہ کام جانتے ہیں, بچے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے چٹائی بننے کا کام کرتے ہیں۔ اگر ہمیں ہمارے ہنر کی مناسب قیمت ملے تو ہم بھی بچوں کو سکول بھیج سکیں۔‘

گوکل دیو نامی دستکار کا کہنا تھا کہ آس پاس کچھ دکاندار ایسے ہیں جو ہمارے عقیدے کی وجہ سے ہمیں پانی دینا بھی پسند نہیں کرتے۔ انھوں نے بتایا کہ گرمی میں ہمارے بچے کبھی کبھی بھوکے پیاسے چٹائی اور موڑھے بُنتے ہیں۔‘

چٹائی بنانے کا عمل

بانس کی سنہری لکڑیاں یہ جوگی پٹھانوں سے خرید کر لاتے ہیں جس کے بعد ان کی چھٹائی کا کام کیا جاتا ہے۔ کالے اور پھر سفید ڈوروں کی مدد سے بنائی کا کام کیا جاتا ہے۔ ایک چٹائی کی مکمل بنائی میں ایک گھنٹہ لگتا ہے جس کی بعد اس پر کپڑا چڑھا کر اسے خوبصورت ڈیزائنوں سے آراستہ کیا جاتا ہے۔

محنت کش مزدور اور ان کی بنیادی ضروریات

ٹھنڈی سڑک سے کچھ فاصلہ پر ان خاندانوں کی جھگیاں موجود ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ صدیوں سے ان کے آباؤ اجداد سندھ میں مقیم ہونے کہ باوجود اپنی ہی سرزمین پر زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔

’حکومت نے ہمیں جس جگہ کوٹھریاں بنانے کی اجازت دی ہے وہاں نہ تو گٹر لائن ہے اور نہ ہی پانی آتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ ان کے بچوں کو سکول بھیجنے کی ذمہ داری لینا چاہتے ہیں لیکن وہ گورنمنٹ سکول میں بچوں کو کیسے داخل کروائیں جہاں نہ پانی ہے نہ صابن وہ گندے سکول میں بچوں کو نہیں بھیجنا چاہتے۔

ان کا کہنا ہے کہ بڑے سرمایہ دار اکثر ان سے 50 روپے دیہاڑی پر کام کرواتے ہیں اور شہر میں ان کے ہنر کو مہنگے داموں بیچتے ہیں۔

’لوگ 50 روپے دے کر جاتے ہیں اور ہمارے کام کے عوض اپنی جیبوں میں عوض ہزاروں بھر لیتے ہیں‘

بانس سے بنے خوبصورت اور دیدہ زیب ڈیزائن میں موڑھے اور چٹائیاں ہر آنے جانے والے کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرتی ہیں۔ شدید گرمی میں بھی ان ہنرمندوں کی خواتین اور بچے چٹائی کی بنائی اور تیاری میں مشغول نظر آتے ہیں جبکہ مرد گاہکوں سے ڈیل کرتے ہیں۔

رام دیو نامی ہنرمند کا کہنا ہے ’کسی سے کوئی شکایت نہیں، اللہ جتنا دے اتنا کافی ہے لیکن ہم اپنے ہی ملک میں پناہ گزینوں کی طرح رہتے ہیں۔‘

پاکستان کے آئین کے مطابق مزدور طبقے کے حقوق کے تحفظ کے لیے تقریباً 70 قوانین موجود ہیں لیکن ان کا اطلاق صرف فیکٹری ورکروں اور نوکری پیشہ افراد پر ہوتا ہے جبکہ چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے مزدوروں، دست کاروں، ہوٹلوں اور مکینکوں، دیہاڑی داروں، ریڑھی بانوں سمیت دیگر معمولی اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں پر یہ قوانین لاگو نہیں ہوتے جس کے باعث انھیں استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حال ہی میں ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان کے وفد سے بات کرتے ہوئے سندھ کے وزیرِ لیبر غلام مرتضیٰ بلوچ کا کہنا تھا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں پہلی لیبر پالیسی نافذ کی گئی ہے جس کے مطابق مڈل مین کے کردار کو کم سے کم کیا گیا ہے تاکہ چھوٹی نوعیت کے تاجر اور دیہاڑی پر کام کرنے والے مزدوروں کو ان کے کام کا زیادہ سے زیادہ معاوضہ مل سکے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کی ڈومیسٹک لیبر کے حوالے سے حکومت نے 15 نئے قوانین اسمبلی میں پیش کیے ہیں جن کی منظوری کے بعد فوری عمل درآمد کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان قوانین کے مطابق محنت کشوں کو محفوظ ورکر کا درجہ دیا جائے گا۔ 15 نئے قوانین کے مطابق ان افراد کے لیے فلیٹوں کی تعمیر، ان کے بچوں کے لیے سکول اور کالجز کا قیام، یونیفارم اور کتابوں کی فراہمی شامل ہیں۔

بتشکر: سیدہ ثنا بتول

October 23, 2018

Posted by Farzana Naina in Blogroll, Culture, Feelings, Karachi, My Articles, Pakistan, Sindh, Sindhi, Urdu.
add a comment

میں اس خوش قسمت دور کی ہوں جب نانیاں دادیاں روایتی طریقوں سے کھانے تیار کر کے اپنے خاندان کو کھلاتی تھیں، آج سویرے سویرے ’’ سیٹر ڈے کچن ‘‘ میں مچھلی کی ترکیبوں نے مجھے میری پیاری اماں (دادی جان) کے ہاتھ کے ذائقوں میں ڈبوئے رکھا، یورپی مچھلیوں کے نام سنتے ہوئے مجھے کراچی کے وہ دن بہت یاد آئے جب اماں تازہ مچھلی بڑی دیکھ بھال سے خریدتی تھیں، پاپلیٹ، رہو ، سرمئی ، لیڈی فش ، پلا ، کھگا، کنڈا وغیرہ بھاؤ تاؤ، تول مول کے بعد مجھے بھی ان مچھلوں کو دھونے دھلانے کا کام کبھی کبھارسونپا جاتا تو میری آنا کانی دیکھنے لائق ہوتی!

مجھے ان کی آنکھیں، گلپھڑے اور کانٹے نکالتے ہوئے بہت گھن آتی تھی اور بعد میں دس دس دفعہ ہاتھ دھو کر پونڈز کی کریم ہاتھوں  پر ملا کرتی، اماں کے ہاتھ کا ذائقہ بڑی بھابھی کے سوا کسی اور کے ہاتھ سے نہیں چکھا ، البتہ آنٹی ( دوسری امی ) کے ہاتھ کی خالص سندھی مصالحے میں لیپ کر تلی ہوئی مچھلی بھی لا جواب ہوا کرتی تھی۔

جب میں انگلینڈ آئی تو دیکھا کہ پنجاب میں پرورش پانے کے باعث اختر، میرے سسرال والے اور بیشتر پنجابی دوست جھینگوں اور مچھلی وغیرہ کے اتنے شائق نہیں تھے جتنے ہم کراچی والے، یوں بھی لاہورمیں شاید دریائی مچھلی پائی جاتی ہے، جبکہ کراچی میں سمندری مچھلیوں کی بڑی ورائٹی دستیاب ہوا کرتی تھی۔

 پرسوں میں نے جو مچھلی بنائی تھی اس پر پارسلے، کالی مرچیں، نمک، تھوڑا لہسن ، لیموں کا رس اور زیتون کا تیل ملا کر پیس کر وہ پیسٹ اور کدو کش کیا ہوا پنیر اوپر سے ڈالا تھا، نتیجے میں گھر والوں نے انگلیاں تک چاٹ لیں ۔

بہر الحال پاکستان کی مچھلی کا ذائقہ کسی میں نہیں !

درج ذیل لنک گو پچھلے برس کا ہے لیکن آپ کو اگر پاکستانی سیاست کے چینلز دیکھنے سے فراغت ملے تو اس کا مطالعہ سیر حاصل رہے گا۔

J

https://www.dawnnews.tv/news/1068999

Water Hyacinth June 30, 2010

Posted by Farzana Naina in Flowers, Sindh, Water Hyacinth.
Tags: ,
1 comment so far

sparkle.gif

I bought my first Water hyacinth yesterday, Looking for it since long and suddenly I found it in Floraland Nottingham :).

With vibrant green color leaves, a fragrant and beautiful purple flower, and the ability to soak up excess pond nutrients faster than a frog hops off a hot rock in summer – the Water Hyacinth is a great plant to add to your water garden or pond.

Here are just some of it’s benefits:  They float, so you don’t have to worry about planting them or dividing them when they get too big (they divide automatically).


Hyacinths multiply like crazy, so you may only have to buy 4 or 5 and by the end of the summer, you will be giving them away to your friends.

They get a gorgeous purple flower when they bloom, that has a sweet smell to it as it sticks 4-5 inches above the top of the flower.

And most notable about the Hyacinth is it’s fantastic ability to soak up excess nutrients in your pond, as well as act as a ‘floating filter’.  It’s deep floating roots serve as natural filter brushes, trapping suspended silt and other debris in the water – just like an external filter brush would do.  Just shake your Hyacinth sometime, and notice all the silt come out and cloud the water.

And as far as absorbing algae causing nutrients, the Water Hyacinth is hands down the very best pond plant to help get your nutrient levels under control in your pond.

The species of water hyacinth comprise the genus Eichhornia. Water hyacinth are a free-floating perennial aquatic plant native to tropical and sub-tropical South America. With broad, thick, glossy, ovate leaves, water hyacinth may rise above the surface of the water as much as 1 meter in height. The leaves are 10–20 cm across, and float above the water surface. They have long, spongy and bulbous stalks. The feathery, freely hanging roots are purple-black. An erect stalk supports a single spike of 8-15 conspicuously attractive flowers, mostly lavender to pink in colour with six petals. When not in bloom, water hyacinth may be mistaken for frog’s-bit (Limnobium spongia).

One of the fastest growing plants known, water hyacinth reproduces primarily by way of runners or stolons, which eventually form daughter plants. It also produces large quantities of seeds, and these are viable up to thirty years. The common water hyacinth (Eichhornia crassipes) are vigorous growers known to double their population in two weeks.

In Assamese they are known as Meteka. In Sinhala they are known as Japan Jabara (ජපන් ජබර) due to their use in World War II to fool Japanese pilots into thinking lakes were fields usable to land their aircraft, leading to crashes. In Burmese they are known as Baydar.

In Southern Pakistan, they are the Provincial flower of Sindh.

Bhutto – The Movie May 17, 2010

Posted by Farzana Naina in Karachi, News, Pakistan, Pakistani, Politics, Sindh.
Tags: , ,
add a comment

پاكستان كى سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو كى زندگى پر کلِک مارک سیگل نے ’بھٹو‘ كے نام سے ایك دستاویزى فلم بنائى ہے۔۔كینیڈا كے مشہور دستاویزى فلمى میلے ’ہاٹ ڈاكس‘ میں ایک سو پندرہ منٹ دورانیے پر محیط اس فلم كی نمائش کی گئی ہے۔

اس فلم میں بختاور بھٹو زردارى كا تیار كیا ھوا نغمہ بھى شامل كیا گیا ہے۔

فلم میں بھٹو خاندان كو امریكہ كے كینیڈى خاندان سے مشابہت دى گٰئى ہے۔ اس فلم میں بینظیر، ان كے والد ذوالفقار على بھٹو اور شوہر آصف على زردارى كى شخصیتوں كا احاطہ كیا گیا ہے۔

کلِک فلم كى كہانى پاكستان بننے سے پہلے سےشروع ہوتى ہے اور اس میں پاكستان كا كیس بطور ’نیوكلیئر نیشن‘ یعنی جوہری ملک بہت اچھے طریقے سے پیش كیا گیا ہے۔

اس میلے میں فلم كا افتتاحى شو یکم مئی کو ہوا جس كے لیے تمام ٹکٹ پہلے ہى بِك ہو گئے تھے لیکن اس کے باوجود لوگوں كى ایك بڑى تعداد بارش كے باوجود مشہور بلور سنیما گھر كے باہر چانس كى ٹكٹوں پر داخلے كے لیے انتظار كرتى رہى۔
اس فلم كو جنورى میں مشہور امریكى فلمى میلوں سن ڈانس فلم فیسٹویل اور شكاگو فلم فیسٹیول میں اعزازت ملے ہیں

میلے میں فلم کا دوسرا شو چار مئی کو ہے۔

فلم میں پاكستان كے سابق صدر پرویزمشرف، دانشور طارق على، صنم بھٹو، دفاعی امور کے ماہر شجاع نواز، امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانى، امریکہ کی سابق وزیر خارجہ كنڈولیزا رائس، بینظیر کے شوہر آصف على زردارى، برطانوى صحافى كرسٹینا لیمب، بینظیر کے دوست اور مشیر مارك

سیگل اور مسلم لیگ نواز كے رہنما خرم دستگیر كے علاوہ بینظیر كے تینوں بچوں كے انٹرویو قابل ذكر ہیں۔

اس فلم كو میلے کی پانچ اہم دستاویزی فلموں میں شمار كیا جا رہا ہے اور حال ہى میں اقوام متحدہ كى بینظیر قتل پر تفتیشى رپورٹ نے اس فلم كى اہمیت بڑھا دى ہے۔

فلمى مبصر اس فلم كو اس سال كى بہترین دستاویزى فلم كے اعزاز كى توقع كر رہے ہیں۔

فلم میں بتایا گیا ہے كہ بینظیر كے بچے كن مشكلات سے گزرے جب وہ ان سے دور تھیں اور وہ كس طرح پلے بڑھے۔ جب بینظیر ان سے دور ہوتیں تو بچے ان كے لیے نظمیں لكھتے تھے۔

اس فلمى میلے میں شریك پاكستانى نژاد كینیڈین فلمساز حارث شیخ نے فلم پر تبصرہ كرتے ہوے كہا كہ ’اس فلم ’بھٹو‘ سے پاكستان كے بارے میں مغربى ناظرین كو بہت كچھ نیا ملے گا اور یہ ایك اچھى دستاویزى فلم ہے۔‘ (حارث شیخ اس میلے میں پیغمبر اسلام كے گستاخانہ كارٹونوں كے متعلق

بنائى اپنى فلم ’بلاسفیمى‘ پرموٹ كر رہے ہیں۔)

فلم میں صدر آصف على زردارى كى زندگى جس میں بچپن سے لے كر بےنظیر سے شادى اور پھر صدارت تك پہنچنے تك كے بارے میں بہت دلچسپ معلومات دكھائى گئى ہیں۔

بینظیر بھٹو کے بچےفلم میں بینظیر بھٹو کے تینوں بچوں کے انٹرویو شامل ہیںاس فلم میں یہ بھی بتایا گیا ہے كہ بینظیر كى آصف على زردارى سے ’ارینجڈ میرج‘ كن کن مراحل سے گزرى ۔فلم كے ڈائریكٹر ڈویئن بوگمین نے بتایا كہ ’اس فلم پر كام كرنا ان كے لیے ایك اچھا تجربہ رہا ہے اور پاكستان كى سیاست بڑى دلچسپ ہے۔ جس كے بارے میں كوئى كچھ نہیں كہ سكتا۔

فلم میں ذوالفقار على بھٹو كى بیٹى ایك فلم سٹار كى طرح نظر اتى ہیں جسے مغربى ناظرین نے بہت پسند كیا ہے۔ بھٹو خاندان كے بارے میں بہت سارے ایسے مناظر اس فلم میں شامل ہیں جو پہلے كھبى نہ دیكھے گئے تھے۔

اس سے قبل اس فلم كو جنورى میں مشہور امریكى فلمى میلوں سن ڈانس اور شكاگو فلم فیسٹیول میں بھى اعزازت ملے ہیں۔

ایك فلم بین فلپ ڈیوس نے بتایا كہ اس فلم نے ان كے ’پاكستان كے بارے میں كئى شكوك دور كیے ہیں‘ مگر بےنظیر كے قاتلوں كےانجام كے بارے میں عنقریب اسى طرح كى فلم ان كى شدید خواہش ہے

فلم کے پروڈیوسر مارك سیگل نے انٹرویو كے دوران بتایا كہ ’پاكستان اور بھٹو خاندان ناقابل تقسیم ہیں۔ مجھے یقین ہے كى اگر بینظیر زندہ ہوتیں تو جمہوریت كى جنگ جارى ركھتیں‘۔

Trailor of The movie Bhutto

http://www.bhuttothefilm.com/trailer.html

Courtesy of BBC

Book by Fatima Bhutto-Fine Arts in Karachi Jail April 29, 2010

Posted by Farzana Naina in Art, Karachi, Literature, Pakistan, Pakistani, Politics, Sindh.
Tags: , , , , , , , ,
1 comment so far

Flag Pakistan1

لہو اور تلوار کے گیت: فاطمہ بھٹو کی نئی کتاب

پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی اور میر مرتضیٰ کی بیٹی فاطمہ بھٹو نے اپنی یادداشتوں پر مبنی ایک نئی کتاب، ’لہو اور تلوار کے گیت، ایک بیٹی کی یادیں‘، کے نام سے لکھی ہے۔ کتاب کی تقریب رونمائی کراچی کے علاقے کلفٹن میں ہو ءی

فاطمہ بھٹو کی تازہ کتاب چار سو ستر صفحات پر مشتمل ہے جو لندن کے ایک اشاعتی ادارے جوناتھن کیپ نے شائع کروائی ہے۔ فاطمہ بھٹو نے اپنی تازہ کتاب میں اپنی علیل دادی بیگم نصرت بھٹو اور والدہ غنویٰ بھٹو کے نام کی ہے۔

فاطمہ بھٹو کی کتاب کی تقریب رونمائی کلفٹن میں اس جگہ کے قریب منعقد کی گءی جہاں انیس سو چھیانوے میں فاطمہ بھٹو کے والد میر مرتضی بھٹو کو ایک پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا۔

فاطمہ نے کتاب کے سرورق پر بھٹو خاندان کی ان تمام شخصیات کے نام دیے ہیں جن کو مختلف ادوار میں ہلاک کیا گیا ہے۔ ان میں سب سے پہلے ذوالفقارعلی بھٹو کا نام ہے جن کو انیس سو اناسی میں فوجی دور حکومت میں پھانسی دے دی گئی، دوسرے نمبر پر شاہنواز بھٹو جو انیس سو پچاسی میں قتل ہوئے، تیسرے نمبر پر فاطمہ کے والد میر مرتضیٰ بھٹو جو انیس سو چھیانوے میں ہلاک کیے گئے اور آخر میں بینظیر بھٹو کا نام دیا گیا ہے جنہیں دو ہزار سات میں ہلاک کیا گیا۔

فاطمہ بھٹو نے اس سے قبل دو کتابیں لکھی ہیں جن میں ایک شاعری کی کتاب اور دوسری پاکستان میں آنے والے زلزلے کے متعلق ہے۔

فاطمہ بھٹو اپنی کتاب کی تقریب رونمائی کے انڈیا بھی جا رہی ہیں جہاں وہ دلی، ممبئی اور دیگر شہروں میں کتاب کے متعلق تقاریب میں شرکت کریں گی۔ کتاب کی اشاعت کے سلسلے میں لندن میں بھی تقاریب منعقد ہوں گی۔


کراچی جیل کے آرٹسٹ قیدی

پاکستان کی جیلوں میں ہنگاموں اور جرائم کے حوالے سے تو اکثر خبریں سننے کو ملتی ہی ہیں لیکن کراچی کی سینٹرل جیل اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہاں قیدیوں کو مختلف صحت افزا سرگرمیوں کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔

سینٹرل جیل کراچی میں قائم شعبہ فائن آرٹ چند سال پہلے قائم کیا گیا تھا جہاں اب اغوا برائے تاوان اور قتل میں ملوث قیدی پینسل، رنگ اور برش سے پینٹنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

شاید ہی پاکستان کی کسی اور جیل میں اس طرح کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہونگے۔

سینٹرل جیل کراچی کے ایک کمرے میں فائن آرٹ کی کلاس روزانہ چھ سے آٹھ گھنٹے جاری رہتی ہے ، یہ کمرہ قیدیوں کے آرٹ کے نمونوں کی وجہ سے عام جیل کے کمرے سے زیادہ ایک آرٹ گیلری لگتا ہے۔

فائن آرٹ کی کلاس میں سید محمد ارسلان بھی زیرتربیت ہیں۔ارسلان لندن کی ایک یونیورسٹی میں سے ایم بی ای مارکیٹنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان پہنچے اور وزارت دفاع میں ملازمت اختیار کی۔

چھ ماہ پہلے انہیں فوج کے فنڈز میں بدعنوانی کرنے کے مقدمے میں جیل بھیج دیا گیاہے اب وہ تین ماہ سے فائن آرٹ کی کلاس میں آ رہے ہیں۔

ارسلان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پینسل سے کام کی ابتداء کی اور آج کل وہ برش اور واٹر کلر کا استعمال کرتے ہیں۔ان کے کام میں مایوسی کے رنگ نمایاں ہیں۔ارسلان کہتے ہیں کہ دن کا اکثر حصہ فائن آرٹ کلاس میں گزر جاتا ہے مگر وہ قید ہونے کی وجہ سے رات کو کھلا آسمان نہیں دیکھ سکتے۔ انھوں نے کہا کہ قیدی ہونے کے احساسات اب وہ رنگوں میں بیان کرتے ہیں۔

حسنین سینٹرل جیل میں قائم فائن آرٹ کی کلاس کے سینیئر طالبعلم ہیں۔ وہ اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں دو سال سے قید ہیں۔حسنین کو قیدی لفظ سے سخت نفرت ہے، وہ کہتے ہیں کہ قیدی لفظ کا ٹیگ پوری زندگی معاشرے میں آپ کا تعاقب کرتا رہتا ہے۔حسنین کے مطابق پاکستانی معاشرتی ڈھانچے میں قیدی یا جیل کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔

سینٹرل جیل کراچی اٹھارہ سو ننانوے میں قائم ہوئی تھی۔ سینٹرل جیل کراچی میں تین ہزار سے زائد ملزم قید ہیں جن میں سے بیس بائیس کے قریب قیدی فائن آرٹ کی کلاس میں باقاعدہ حصہ لیتے ہیں۔

قیدیوں کو فائن آرٹ کی تعلیم ایک آرٹسٹ سکندر جوگی دیتے ہیں۔سکندر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے تین ماہ کا ایک شارٹ کورس قیدیوں کی تعلیم و تربیت کے لیے مخصوص کیا ہے۔سکندر کے مطابق قیدی کام کی ابتداء سٹل ورک سے کرتے ہیں بعد میں مکس میڈیا کے ذریعے چار کول، آئل پیسٹل اور سافٹ پیسٹل پر اپنے تجربات کرتے رہتے ہیں۔

سینٹرل جیل کراچی کے سپرنٹنڈنٹ نصرت حسین منگن کا کہنا ہے کہ انہوں نے جیل کا قدیم اور خوفناک تصور تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔

Book 712 

Anna Molka Ahmed – pioneer of fine arts in Pakistan

The First Female Painter of Pakistan

Prof Anna Molka Ahmed (1917 – 1994) was a famous Pakistani artist and pioneer of fine arts in the newly born Pakistan in 1947. She was a professor of fine arts at the University of the Punjab in Lahore. She was among the pioneers of women artists in Pakistan and had been a long-time director and moving spirit behind the Fine Arts Department of the Punjab University, Lahore – the first institution that was opened to the women artists in Pakistan. “In fact she has been the facilitator of a movement that made the proactive role of women artists a possibility”. writes Nilofur Farrukh (president of International Art Critics Association, Pakistan Section). It is because of trendsetters like her that the feminist art in Pakistan is gaining strength away from traditional gender discriminatory dominance. In fact these days we are witnessing a gradual dismantling of social and gender classifications. Well this has not been easy, since a lot of women had to struggle hard to bring women atop many a prestigious positions – above men, Ana Molka Ahmed is one such women.  

“Nuclear Holocaust”

 She was born to Jewish parents, in London, UK in 1917. Her mother was Polish and father was a Russian. She studied painting, sculpture and design at St. Martin School of Arts, London. She converted to Islam at the age of 18 in 1935, before marrying Sheikh Ahmed, a would be Pakistani in October 1939. The couple moved to the Indian subcontinent in 1940-41 and settled in Lahore. Although, her marriage was over in 1951 yet she lived in Pakistan with her two daughters. She was awarded Tamgha-i-Imtiaz, President’s Pride of Performance Award in 1979, Quaid-e-Azam Award in 1982 and the Khdejatul Kubra Award in 1983 for her services in the field of fine arts education in the country. Professor Emeritus Anna Molka Ahmed set up a department, which has now become a centre of excellence for Fine Arts in Pakistan.

“The day of Resurrection – Qiyamat”

At the time of independence, there were only five or six Muslim students in the art department, and Anna Molka Ahmed went from one college to other seeking students for the arts department and thus was able to introduce art courses in the Punjab University. Her students became famous artists in the country and many of them are playing their role globally.

“The Hell (Jhahanum)”

“Heaven (Jannat)”

“A village outside Lahore”

Besides painting, she was an avid gardener. She would wear her trade mark while tending the garden, cutting hedges in new and artistic pattern, and went on painting and gardening till the very last time until she was ordered by the doctors to stop because it was straining her health badly.

Anna Molka also took to writing poetry in later part of her life.

Daylight after night.

Spring when birds sing.

Sunshine after rain.

So with life’s pain.

And confidence does not wane.

And courage sustains.

She breathed her last in 1994.

Commemorating Ana Molka, the Pakistan Post issued a Rs. 4 stamp depicting Ana’s portrait and one her masterpiece paintings. Anna Molka Ahmad created a new path and a new way of looking at objects. Her dream and passion will always serve as a guideline for emerging artists, especially the female artists of Pakistan as an inspiration to carry for the torch she ignited decades ago.

Book(154)b

The First Sindhi Topi Day – پہلا سندھی ٹوپی دن December 6, 2009

Posted by Farzana Naina in Culture, Karachi, Pakistan, Sindh, Sindhi.
Tags:
add a comment

KARACHI: The people of Sindh will celebrate a unique cultural day – the ‘Sindhi Topi (cap) Day’ – for the first time in history on December 6.

Interestingly, the day was not announced by any political party but the common people of Sindh decided to celebrate the Sindhi topi after a short message service (SMS) spread throughout the province in response to the comments of a private channel anchorperson, who criticised President Asif Ali Zardari for wearing a traditional Sindhi topi during foreign tours. Following widespread criticism of these comments, nationalist parties including Jeay Sindh Qaumi Mahaz (JSQM), Sindh Tarqi Passand Party (STPP), Awami Tahreek and other groups also supported the idea.

In anticipation of the celebrations, the sale of Sindhi topi has significantly increased and in some cities, the cap has already disappeared from the markets. The Sindhi topi is regarded one of the most essential parts of the Sindhi culture and usually Sindhi people offer this traditional cap and ajrak to their guests as a token of respect. The Sindhi topi is round in shape except a portion in front, which is cut out in different patterns to expose the forehead. Hand-woven Sindhi topis are products of hard labour and made in almost every district of the province. However, the caps produced in Tharparkar, Umerkot, Sanghar and other districts of the Mirpurkhas division are rated better and fetch a better price.

The Sindhi topi is famous all over the world including Pakistan, where not only Sindhis, but also the Pukhtoons and Baloch wear the cap. It is available in different colours but the shape remains the same. There also are two qualities, one is hard and the other is soft, which is supposed to be more sophisticated and has a high price. Another unique, distinct Sindhi cap comprises colourful embroidery and the glasswork.

The National Council of Sindhi Culture and Heritage (NCHCS), in a press statement, has asked the people of Sindh to wear a Sindhi topi along with an ajrak on Dec 6. “The common people of Sindh issued a call to observe the day, thus we too support the call and would celebrate this unique day,” said NCHCS secretary general Ram Kirshan. He added that Sindhis were a nation with a culture of which the Sindhi topi and ajrak are supposed to be the most essential and sacred entities.

“Therefore, we request every Sindhi throughout the world to wear the Sindhi topi and ajrak on the day to celebrate the great civilization of Sindh.”

NCHCS President Ibrahim Kumbhar said for the last few days, some TV channel anchorpersons and journalists have been insulting the Sindh topi, which is a sign of the centuries old Sindhi culture and identity of the Sindhi nation, and therefore the Sindhi people have decided to observe this day. “Sindhis made Pakistan and became a part of the country on the assurance that Sindh would be an independent state in Pakistan, but it did not happen. If all the states in USA have their own flag, anthem and cultural values, why not the languages spoken in Pakistan such as Sindhi, Punjabi, Pushto, Saraiki, Dhatki, Baluchi and others can be made national languages,” he said.

NCHCS office-bearers Syed Syed Jamal Shah and Ghulam Rasool Kunbhar demanded the government to take action against all those involved in insulting the Sindhi culture and asked the PPP leadership to celebrate the day officially. Abrar Kazi and Zulfqar Halepoto of the Sindh Democratic Forum (SDF) have also announced to hold a protest rally in Hyderabad against the offenders.

The Sindh government has also decided to support the call given by the people of Sindh to observe the ‘Sindhi Topi Day’ on December 6, said a press statement issued by the Chief Minister’s House on Tuesday.

Sindh Chief Minister and PPP’s provincial president Qaim Ali Shah said the Sindhi culture is based on the centuries old Indus Valley Civilisation and his government would ensure this culture continues to thrive in the province.

“Every Sindhi views the Sindhi topi and ajrak as sacred entities of the Sindhi culture and they would not tolerate any disrespect of these cultural entities,” said Shah.

“Therefore, I direct the PPP leadership to observe this day throughout the province.”

The chief minister further said the Sindhi people offer this traditional cap and ajrak to their guests as a token of respect.

“The people of Sindh must celebrate this day with full enthusiasm to show short-sighted, anti-Sindh forces that the Sindhi people will sacrifice everything to protect their culture.”

Following comments of a private channel’s anchorperson criticising President Asif Ali Zardari for wearing a traditional Sindhi topi during his foreign tours, the people of Sindh reacted severely and spread an SMS throughout the province to set December 6 as the first-ever ‘Sindhi Topi Day.’

By Amar Guriro

http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=2009%5C12%5C01%5Cstory_1-12-2009_pg12_2

My Poetry Book October 31, 2006

Posted by Farzana Naina in Blogroll, British Pakistani Poetess, Famous Pakistani in uk, Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Karachi, Kavita, Literature, Naina, Nazm, Nottingham, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shairy, Sher, Sindh, Sindhi, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
2 comments

Red and Pink flowersColour changing flowerRed and Pink flowersColour changing flower

اي ميل کا پتہ ::

farzana@farzanaakhtar.com
farzananaina@yahoo.co.uk

My Book Cover