jump to navigation

Lakeeron se nikal-لکیروں سے نکل کر July 27, 2017

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Ghazal, Ghazal, Kavita, Nazm, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Sufi Poets, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
add a comment

Golden bar 1

لکیروں سے نکل کر ہاتھ کی مجھ کو بلائے گی
یہ قسمت وَجد میں آئی تو خود مجھ کو بنائے گی
 
مِری آنکھوں میں سارے خواب اُس کے روٹھنے تک تھے
مِرا شک ٹھیک نکلا ‘ زندگی مجھ کو رلائے گی
 
مِرے ہونٹوں پہ اب تک تتلیوں سی مسکراہٹ ہے
مجھے ڈر لگ رہا ہے’ ایک دن یہ اُڑنے جائے گی
 
بہت سی شمعیں سینے میں اگر جلتی رہیں تو پھر
مری آنکھوں سے تھوڑی روشنی باہر بھی آئے گی
 
ذرا سی روشنی کے بعد چکّر تیرگی کا ہے
اگر تو اک نئی تصویر پر نظریں جمائے گی
 
خود اپنی زندگی سے کیوں نکل جاتی ہوں میں ‘ نیناںؔ !
مِری لا حاصلی کے درد قدرت ہی مٹائے گی
 
( فــرزانـہ نیناںؔ ) 
Golden rose Bar
Lakeeron se nikal kar haath ki, mujhko bulaye gi
Ye qismat wajd mein aayi tau khud mujhko banaye gi
 
Meri aankhon mein saare khwab uske roothne tak thay
Mera shak theek nikla zindagi mujhko rulaye gi
 
Mere honton pe ab tak titliyon si muskurahat hai
Mujhe darr lag raha hai eik din ye ur’rne jaye gi
 
Bohut si shamein seene mein agar jalti rahein tau phir
Meri aankhon se thori roshni bahar bhi aaye gi
 
Zara si roshni ke baad chakker teergi ka hai
Agar tu ik nai tasweer par nazrein jamaye gi
 
Khud apni zindagi se kyon nikal jati hon mein naina
Meri la’haasili ke dard qudrat hi mitaye gi
 

butterfly-yellow-sl~ Farzana Naina.butterfly-yellow-sl

0aa1ec07c2d7e0ad0eb9ef5e7005bff3

Advertisements

ایم اے راحت April 24, 2017

Posted by Farzana Naina in Jasoosi Adab, Urdu Fiction Writer, M A Rahat, Literature, Pakistani, Urdu, Urdu Literature.
1 comment so far

18121445_10211088392660259_3392341006876922325_o

نامور مصنف ایم اے راحت لاہور میں انتقال کر گئے ۔ ایم اے راحت نے 1500 سے زائد کرائم اور جاسوسی کہانیوں کے ناول لکھے۔ ایم اے راحت کو طبیعت خرابی پر چار روز قبل اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

۔۔ایم ۔اے راحت نے ابن صفی کے بعد جاسوسی ادب کو نئی جہتوں سے متعارف کروایا ۔۔
لاکھوں لوگوں کو کتب بینی کا چسکہ لگانے والے ایم ۔اے راحت کی تصانیف کی فہرست اس قدر طویل ہے کہ کسی بھی شخص کے لیے ان کی لکھی تصانیف کے صرف نام ہی احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں ۔۔۔افسوس کہ ان کی زندگی میں ان کو ان کے شایان شان مقام نہیں دیا جا سکا ۔۔۔
ساڑھے گیارہ سو ناول ۔۔ اور ساڑھے تین ہزار کہانیاں اور افسانے لکھنے والے اپنے پچھے صرف ایک داستان چھوڑ کر رخصت ہو گئے ۔

دیکھ کبیرا رویا April 14, 2017

Posted by Farzana Naina in Dekh Kabira Roya, Literature, Manto, Urdu, Urdu Literature.
1 comment so far

سعادت حسن منٹو

 

نگر نگر ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ جو آدمی بھیک مانگے گا اس کو گرفتار کرایا جائے۔ گرفتاریاں شروع ہوئیں۔ لوگ خوشیاں منانے لگے کہ ایک بہت پرانی لعنت دور ہوگئی۔

کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ لوگوں نے پوچھا۔اے جولاہے تو کیوں روتا ہے؟

کبیر نے رو کر کہا۔’’ کپڑا جو چیزوں سے بنتا ہے۔ تانے اور پیٹے سے۔ گرفتاریوں کا تانا تو شروع ہوگیا پر پیٹ بھرنے کا پیٹا کہاں ہے؟‘‘

ایک ایم اے۔ ایل ایل بی کو دو سو کھڈیاں الاٹ ہوگئیں۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ایم اے۔ ایل ایل بی نے پوچھا۔’’ اے جولاہے کے بچے تو کیوں روتا ہے؟۔۔۔۔۔۔ کیا اس لیے کہ میں نے تیرا حق غصب کرلیا ہے؟‘‘

کبیر نے روتے ہوئے جواب دیا۔’’ تمہارا قانون تمہیں یہ نکتہ سمجھاتا ہے کہ کھڈیاں پڑی رہنے دو، دھاگے کا جو کوٹا ملے اسے بیچ دو۔ مفت کی کھٹ کھٹ سے کیا فائدہ۔۔۔ لیکن یہ کھٹ کھٹ ہی جولاہے کی جان ہے!‘‘

چھپی ہوئی کتاب کے فرمے تھے۔ جن کے چھوٹے بڑے لفافے بنائے جا رہے تھے۔ کبیر کا ادھر سے گزر ہوا۔ اس نے وہ تین لفافے اٹھائے اور ان پر چھپی ہوئی تحریر پڑھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے لفافے بننے والے نے حیرت سے پوچھا۔’’ میاں کبیرتم کیوں رونے لگے؟‘‘

کبیر نے جواب دیا۔’’ ان کاغذوں پر بھگت سُورداس کی کویتا چھپی ہے۔ لفافے بنا کر اس کی بے عزتی نہ کرو۔‘‘

لفافے بنانے والے نے حیرت سے کہا۔’’ جس کا نام سُورداس ہے۔ وہ بھگت کبھی نہیں ہوسکتا۔‘‘

کبیر نے زار و قطار رونا شروع کردیا۔

ایک اونچی عمارت پر لکشمی کا بہت خوبصورت بت نصب تھا۔ چند لوگوں نے جب اسے اپنا دفتر بنایا تو اس بُت کو ٹاٹ کے ٹکڑوں سے ڈھانپ دیا۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔ دفتر کے آدمیوں نے اسے ڈھارس دی اور کہا۔’’ ہمارے مذہب میں یہ بت جائز نہیں۔‘‘

کبیر نے ٹاٹ کے ٹکڑوں کی طرف اپنی نمناک آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔’’ خوبصورت چیز کو بدصورت بنا دینا بھی کسی مذہب میں جائز نہیں۔‘‘

دفتر کے آدمی ہنسنے لگے۔ کبیر ڈھاریں مار مارکر رونے لگا۔

صف آرا فوجوں کے سامنے جرنیل نے تقریر کرتے ہوئے کہا۔ ’’اناج کم ہے، کوئی پروا نہیں۔ فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ کوئی فکر نہیں۔۔۔ ہمارے سپاہی دشمن سے بھوکے ہی لڑیں گے۔‘‘

دو لاکھ فوجیوں نے زندہ باد کے نعرے لگانے شروع کردیے۔

کبیر چلا چلا کے رونے لگا۔ جرنیل کو بہت غصہ آیا۔ چنانچہ وہ پکار اٹھا۔’’ اے شخص، بتا سکتا ہے، تو کیوں روتا ہے؟‘‘

کبیر نے رونی آواز میں کہا۔’’ اے میرے بہادر جرنیل۔۔۔ بھوک سے کون لڑے گا۔‘‘

دو لاکھ آدمیوں نے کبیر مردہ باد کے نعرے لگانے شروع کردیے۔

’’بھائیو، داڑھی رکھو مونچھیں کترواؤ اور شرعی پاجامہ پہنو۔۔۔ بہنو، ایک چوٹی کرو، سرخی سفیدہ نہ لگاؤ، برقع پہنو!‘‘۔۔۔۔۔۔ بازار میں ایک آدمی چلا رہا تھا۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھیں نمناک ہوگئیں۔

چلّانے والے آدمی نے اور زیادہ چلّا کر پوچھا۔’’کبیر تو کیوں رونے لگا؟‘‘

کبیر نے اپنے آنسو ضبط کرتے ہوئے کہا۔’’ تیرا بھائی ہے نہ تیری بہن، اور یہ جو تیری داڑھی ہے۔ اس میں تو نے وسمہ کیوں لگا رکھا ہے۔۔۔ کیا سفید اچھی نہیں تھی۔‘‘

چلّانے والے نے گالیاں دینی شروع کردیں۔ کبیر کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔

ایک جگہ بحث ہورہی تھی۔

’’ادب برائے ادب ہے۔‘‘

’’محض بکواس ہے، ادب برائے زندگی ہے۔‘‘

’’وہ زمانہ لد گیا۔۔۔ ادب، پروپیگنڈے کا دوسرا نام ہے۔‘‘

’’تمہاری ایسی کی تیسی۔۔۔‘‘

’’تمہارے اسٹالن کی ایسی کی تیسی۔۔۔‘‘

’’تمہارے رجعت پسند اور فلاں فلاں بیماریوں کے مارے ہوئے فلابیئر اور بادلیئر کی ایسی کی تیسی‘‘۔

کبیر رونے لگا بحث کرنے والے بحث چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ ایک نے اس سے پوچھا۔’’ تمہارے تحت الشعور میں ضرور کوئی ایسی چیز تھی جسے ٹھیس پہنچی۔‘‘

دوسرے نے کہا۔’’ یہ آنسو بورژوائی صدمے کا نتیجہ ہیں۔‘‘

کبیر اور زیادہ رونے لگا۔ بحث کرنے والوں نے تنگ آکر بیک زبان سوال کیا۔’’میاں، یہ بتاؤ کہ تم روتے کیوں ہو؟‘‘

کبیر نے کہا۔’’ میں اس لیے رویا تھا کہ آپ کی سمجھ میں آجائے، ادب برائے ادب ہے یا ادب برائے زندگی۔‘‘

بحث کرنے والے ہنسنے لگے۔ ایک نے کہا۔’’ یہ پرولتاری مسخرہ ہے۔‘‘

دوسرے نے کہا۔’’نہیں یہ بورژوائی بہروپیا ہے۔‘‘

کبیر کی آنکھوں میں پھر آنسو آگئے۔

حکم نافذ ہوگیا کہ شہر کی تمام کسبی عورتیں ایک مہینے کے اندر شادی کرلیں اور شریفانہ زندگی بسر کریں۔ کبیر ایک چکلے سے گزرا تو کسبیوں کے اڑے ہوئے چہرے دیکھ کر اس نے رونا شروع کردیا۔ ایک مولوی نے اس سے پوچھا۔’’مولانا۔ آپ کیوں رو رہے ہیں؟‘‘

کبیر نے روتے ہوئے جواب دیا’’ اخلاق کے معلّم ان کسبیوں کے شوہروں کے لیے کیا بندوبست کریں گے‘‘

مولوی کبیر کی بات نہ سمجھا اور ہنسنے لگا۔ کبیر کی آنکھیں اور زیادہ اشک بار ہوگئیں۔

دس بارہ ہزار کے مجمع میں ایک آدمی تقریر کررہا تھا۔’’بھائیو۔ بازیافتہ عورتوں کا مسئلہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس کا حل ہمیں سب سے پہلے سوچنا ہے اگر ہم غافل رہے۔ تو یہ عورتیں قحبہ خانوں میں چلی جائیں گی۔ فاحشہ بن جائیں گی۔۔۔ سن رہے ہو، فاحشہ بن جائیں گی۔۔۔۔۔۔ تمہارا فرض ہے کہ تم ان کو اس خوفناک مستقبل سے بچاؤ اور اپنے گھروں میں ان کے لیے جگہ پیدا کرو۔۔۔۔۔۔ اپنے اپنے بھائی، یا اپنے بیٹے کی شادی کرنے سے پہلے تمہیں ان عورتوں کو ہرگز ہرگز فراموش نہیں کرناچاہیے۔

کبیر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ تقریر کرنے والا رُک گیا۔ کبیر کی طرف اشارہ کرکے اس نے بلند آواز میں حاضرین سے کہا۔’’ دیکھو اس شخص کے دل پر کتنا اثر ہوا ہے۔‘‘

کبیر نے گلو گیر آواز میں کہا۔’’لفظوں کے بادشاہ، تمہاری تقریر نے میرے دل پرکچھ اثر نہیں کیا۔۔۔ میں نے جب سوچا کہ تم کسی مالدار عورت سے شادی کرنے کی خاطر ابھی تک کنوارے بیٹھے ہو تو میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔‘‘

ایک دکان پر یہ بورڈ لگا تھا۔’’جناح بوٹ ہاؤس۔‘‘ کبیر نے اسے دیکھا۔ تو زار و قطار رونے لگا۔

لوگوں نے دیکھا کہ ایک آدمی کٹ مرا ہے۔ بورڈ پر آنکھیں جمی ہیں اور روئے جارہا ہے۔ انھوں نے تالیاں بجانا شروع کردیں۔’’ پاگل ہے۔۔۔ پاگل ہے!‘‘

ملک کا سب سے بڑا قائد چل بسا تو چاروں طرف ماتم کی صفیں بچھ گئیں۔ اکثر لوگ بازوؤں پر سیاہ بلے باندھ کر پھرنے لگے۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ سیاہ بلّے والوں نے اس سے پوچھا۔’’ کیا دکھ پہنچا جو تم رونے لگے؟‘‘

کبیر نے جواب دیا۔’’ یہ کالے رنگ کی چندیاں اگر جمع کرلی جائیں تو سینکڑوں کی سترپوشی کرسکتی ہیں۔‘‘

سیاہ بلّے والوں نے کبیر کو پیٹنا شروع کردیا۔ تم کمیونسٹ ہو، ففتھ کالمسٹ ہو۔ پاکستان کے غدار ہو۔‘‘

کبیر ہنس پڑا۔’’لیکن دوستو، میرے بازو پر تو کسی رنگ کا بلّا نہیں۔‘‘

Ankahi – ان کہی April 12, 2017

Posted by Farzana Naina in British Pakistani Poetess, Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Naina, Nazm, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
2 comments

‘‘ اَن کہی ’’

اَن کہی کے حسن میں کچھ دیر تو ڈوبے رہو

 زندگی خود  میں  اترنے  کی  جو  دے  مہلت ذرا

خواب نگری کے ہر اک کونے کے آئینے تکو

دھوپ چھاؤں آنکھ سے آنکھوں کی ڈبیوں میں رکھو

رات کے پُل پر ہوا کے راگ میں گم صم رہو

چاندنی کی تتلیوں کو رقص میں شامل کرو

روح میں بہتے ہوئے احساس کی لہریں گنو

عمر کے بکھرے ہوئے سیپوں سے کچھ موتی چُنو

چاند سے لپٹی ہوئی بدلی کی چھاؤں میں چلو

بربطوں کی تال پر اک ماورا منظر بُنو

پتھروں کی نیلی محرابوں کے جنگلے کاٹ دو

کہر میں کھوئے ہوئے رستوں پہ  سرگرداں رہو

سبز پریوں کا یہ میلہ روز تو لگتا نہیں

عشق پنچھی اپنے پر دوبارہ پھیلاتا نہیں

پھر کہاں وارفتگی سے ہوگا کوئی منتشر

آرزوؤں کے نگر میں یوں تمہارا منتظر

کہہ دیا سب کچھ تو یہ سارا فسوں مٹ جائے گا

ہر ستارہ کہکشاں کی بھیڑ میں کھو جائے گا

ان کہی کے حسن میں کچھ دیر تو ڈوبے رہو

 !!!ڈوبے رہو کچھ دیر  اور۔۔۔۔ ۔ 

فرزانہ نیناں

Ankahi ke husn mein kuch deir tau doobe raho

Zindagi khud mein uterne ki jo de mohlut zara

Khwab’nagri ke har ik kone ka aaeene tako

Dhoop chaa’on aankh se aankhon ki dibiyon mein rakho

Raat ke pull par hawa ke raag mein gum sum raho

Chandni ki titliyon ko raqs mein shamil karo

Rooh mein behte huey ehsaas ki lehrein gin’no

Umr ke behte huey seepon se kuch moti chuno

Chand se lipti hui badli cha’aon mein chalo

Barbat’ton ki taal par ik maa’wra manazar buno

Pat’tharon ki neeli mehraabon ke jungle kaat do

Kohur mein khoye huey raston pe sardar’daan raho

Sabz pariyon ka ye mela roz tau lagta nahein

Ishq panchi apne par dobara pheilata nahin

Phir kahan waa’raftgi se hoga koi muntashir

Aarzo’on ke nagar mein raah par yun mantazir

Keh diya sab kuch…..tau ye sara fusoon mitt jaey ga

Har sitara keh’kashan ki bhee’rr mein kho jaey ga

An’kahi ke husn mein kuch deir tau doobe raho

Doobe raho, kuch deir aur……………. !!!

~ Farzana Naina.

Golden bar 1

Khush Manzari – خوش منظری April 9, 2017

Posted by Farzana Naina in Farzana, Farzana Naina, Feelings, Flowers, Ghazal, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Naina, Nazm, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Thoughts, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
2 comments

3 Pink Flower bar

خوش منظری

.چیری کے پیڑوں پہ پھولوں سے لدی یہ ڈالیاں !
میری آنکھوں میں کسی جنگل کی جیسے ہرنیاں
کس محبّت سے ترے نغمے سناتی ہیں مجھے
میٹھی آوازوں کی پائل سے جگاتی ہیں مجھے
تیز رفتاری سے کتنی دور تک جاتا ہے دل
کان میں چپکے سے کہتا ہے کوئی : آ مجھ سے مِل
اب بھی اونٹوں کے گلے میں بج رہی ہیں گھنٹیاں
اب بھی صحرا میں سنہری شام کی ہیں سرخیاں
کیا کہوں میں خواب جیسے اِس فسانے کے لئے
پھول تو ہوتے ہیں دریا میں بہانے کے لئے
دائروں میں جھوم کر آتا پہاڑی سے دھواؑں
اُڑتے اُڑتے مجھ پہ رکھ جاتا ہے اک کوہِ گراں

( فــرزانـہ نیــناںؔ )

Sughra Mehdi – صغریٰ مہدی April 3, 2014

Posted by Farzana Naina in Urdu, Urdu Literature.
Tags:
add a comment
Sughra Mehdi with Quratul Ain Haider

Sughra Mehdi with Quratul Ain Haider – “8 August 1938 – 17 March 2014”

(بشکریہ: زاہدہ حنا)
’’راگ بھوپالی‘‘ لکھنے والی صغریٰ مہدی اگست 1938ء کی آٹھویں تاریخ کو بھوپال میں پیدا ہوئیں۔ تعلیم دلی اور علی گڑھ میں ہوئی۔ ڈاکٹریٹ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے حاصل کی۔ انہوں نے کہانیاں اور ناول لکھے، سفر نامے تحریر کیے، ادبی تنقید کی کئی کتابیں ان کے قلم سے نکلیں۔ انہوں نے جید عالم ڈاکٹر عابد حسین اور ان کی افسانہ نگار، ناول نگار اور تحقیقی مضامین لکھنے والی شریکِ حیات صالحہ عابد حسین کے ساتھ زندگی گزاری اور گھر کے علمی، ادبی اور تہذیبی ماحول نے ان پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ 1973ء میں ان کا پہلا ناول ’’پابہ جولاں‘‘ اور 1975ء میں کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’’پتھر کا شہزادہ‘‘ شائع ہوا۔ ’’جو میرے وہ راجا کے نہیں‘‘ اور ’’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘‘ ان کے وہ افسانوی مجموعے ہیں جو بے حد مقبول ہوئے۔ ادب میں عورت کی حیثیت اور ہندوستانی سماج میں مسلمان عورت کا مقام ا ن کی دل چسپی کے خاص موضوعات تھے۔ ’’دور درشن‘‘ کے لیے انہوں نے دو ٹی وی سیریل لکھے، جن میں سے ایک ’’راگ بھوپالی‘‘ اور دوسرا صالحہ عابد حسین کے ناول ’’ساتواں آنگن‘‘ کی ڈرامائی تشکیل تھی۔
وہ ایک دوست دار اور دل دار شخصیت تھیں۔ پاکستانی ادیبوں کی وہ جس گرم جوشی سے مہمان داری کرتیں، وہ لوگوں کو تادیر یاد رہتی۔ ان سے میری نیاز مندی پچیس برس سے زیادہ پر محیط تھی۔ میں دو مرتبہ ان کے گھر ’’عابد ولا‘‘ میں ٹھہری لیکن زیادہ تر ہوٹلوں میں ٹھہرائی جاتی اور وہ ناراض ہوتیں ’’میرے گھر کیوں نہیں ٹھہرتیں؟‘‘ ان شکایتوں کے باوجود مجھ سے ملنے کبھی انڈیا انٹرنیشنل سینٹر، کبھی وائی ڈبلیو سی اے ہاسٹل اور کبھی اجے بھون آتیں، ہائے ہائے کرتیں، مجھے برا بھلا کہتیں لیکن آنا لازم تھا، مہینے میں ایک دو مرتبہ ان سے فون پر باتیں ہوتیں اور دونوں ملکوں کے تازہ ترین ادبی بلیٹن کا تبادلہ ہوتا۔ جب تک عینی آپا موجود تھیں، ہم ان کی اور ڈاکٹر عذرا رضا کی باتیں کرتے۔ کوئی ان باتوں کے دورانیے پر نظر کرتا تو یہی سمجھتا کہ دو نہایت دولت مند خواتین ہیں جو ٹیلی فون بل کا حساب لگائے بغیر گپ میں مصروف ہیں۔
قرۃ العین حیدر سے ان کی گہری قربت تھی۔ عینی آپا نے انہیں ’’مشیر خاص‘‘ کے عہدے پر فائز کر رکھا تھا اور اسی لیے وہ کبھی کبھی انہیں ’’مشیر فاطمہ‘‘ کے نام سے بھی یاد کرتیں۔ صغریٰ آپا جدید اردو افسانے کا ایک اہم نام تھیں۔ شہروں شہروں ملکوں ملکوں بلائی جاتیں اور ہر جگہ لوگ ان کے لیے آنکھیں بچھاتے۔ وہ رونقِ بزمِ جہاں تھیں۔ ان کے دم سے ادب کی دنیا اور دوستوں کی محفل میں اجالا تھا۔ یہ اجالا ہمارے درمیان سے 17 مارچ 2014ء کو اٹھالیا گیا۔ ’’عابد ولا‘‘ دلی میں ان کے ماتم دار رضا مہدی ہیں۔ وہ ان کی یاد کی شمعیں جلاتے رہیں گے۔
یہاں ان کا مختصر افسانہ ’’شہر آشوب‘‘ پیش کیا جارہا ہے۔ اسے پڑھیے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ اکثر شہروں اور بیشتر گھروں کی کہانی ہے۔ ہمارے من موہنے سماج کی بنت جس طرح ادھڑی اس کی تصویر کشی صغریٰ مہدی نے جس دل فگاری سے کی ہے، وہ ان کی فنی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

شہر آشوب: صغریٰ مہدی

دھندلے دھندلے سائے۔ جلدی جلدی بدلتی تصویریں۔ شور و غوغا، چہروں پر پریشانی، خوف، غصہ، دولت و اقتدار کا زعم، جان و مال کے محافظ لٹیرے اور قاتل، عزت و آبرو کے نگہبان، عزت و آبرو کے دشمن، عورتیں برہنہ، مرد درندہ بن گئے ہیں، بچے ڈپریشن کا شکار۔ نوجوانوں کی زندگی ایک بوجھ جسے سر سے اتارنے کو آمادہ، دینے والے کو لوٹانے کے لیے کوشاں۔
پیسہ ہر طرف پیسہ، جسے دیکھو اس کے پیچھے دوڑا جارہا ہے۔ جنگل کٹ گئے، مکانوں کا جنگل ہر طرف ہے۔ جدھر دیکھو بلند و بالا آسمان سے باتیں کرتی چمکتی دمکتی عمارتیں اور ان کے پیچھے گندے نالے جھونپڑپٹیاں، کھانستے کراہتے بوڑھے۔ آدمی ہی آدمی، سڑکوں پر ٹریفک، ہر طرح کی سواریاں، موٹر بسیں، ٹرک لوگوں کو کچلتے مارتے، جانیں انسانی جانیں، ارزاں اتنی کہ کوئی بھی چیز اب تنی سستی نہیں ہے۔ ہر ہاتھ میں خنجر، مذہب لوگوں کو ستانے کا ذریعہ، تہوار موت اور تباہی کا پیغام، کرسیاں ہی کرسیاں، ان سے چپکے عیار اور مکار لوگ۔ گھر سنسان جیلیں آباد، کھوکھلے دعوے، فلاحی انجمنیں کھانے کمانے کا ذریعہ، کرسیوں تک پہنچنے کے لیے غریبوں کی خدمت کے مکھوٹے، نئی نئی ایجادیں بدنام ترقی، دراصل تنزل اور تباہی کا سامان۔
نئی نئی بیماریاں، نت نئی دوائیں، ایک دن ان کے فائدے دوسرے دن ان کے نقصانات اور نئی دوائوں کے فائدے ساتھ میں مضر اثرات کی چیتاونی۔ ان سے بچائو کے طریقے۔ تعلیمی ادارے فیکٹریوں میں تبدیل، بدعنوانی کا بول بالا، عیاشیاں بدکاریاں بدنام فرد کی آزادی، تعمیر کے نام پر تخریب، ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی، اب آبروئے اہل نظر، اہل نظر؟ ہے کوئی اہل نظر؟ اے رب العزت ہمیں یہ کون سا دور ملا ہے۔ ناانصاف منصف، جاہل، عالم، دھوکے باز، عیاراور دانشور، ہر تک بند شاعر اعظم، ڈگریاں جعلی، اعزاز ڈھونگ انعام دھوکا۔ ہر جھوٹا ’’ان الحق‘‘ کہہ کر خود کو منصور کہلانے پر مُصر۔ گائوں ویران ہوئے، شہر لوگوں سے ابل رہے ہیں۔ دریا سوکھ گئے ہیں۔ پنگھٹ سنسان ہیں۔ بوڑھے بھٹک رہے ہیں۔ نوجوان مشین بن گئے ہیں۔ ماں باپ بچوں کے آگے سرنگوں ہیں۔ اب شہر میں ہر آن خرابات ولی ہے، تیغ منصفی کررہی ہے۔ دار و رسن گواہی دے رہے ہیں۔ اب شہر میں معتبر کون ہے قاتل کے سوا۔

آج پھر امن رہا بستی میں!
اے مظفر یہ خبر ہے کوئی… امن بستی… خبر۔ بڑا سا برآمدہ، اس کے ساتھ کئی ہال نما بڑے کمرے، برآمدے کے سامنے بڑا سا کمپاؤنڈ، کمروں میں برابر کئی پلنگ بچھے تھے۔ ان ہی کمروں میں سے ایک کمرے سے یہ بُڑبُڑاہٹ کی آواز آنے لگتی ہے۔ کبھی کبھی بُڑبُڑانے والے کی سانس پھولنے لگتی تو وہ چپ ہوجاتا۔ پھر پیٹ میں سانس سماتی تو وہ بکنے لگتا، بے معنی باتیں نہ سر نہ پیر۔ اس پرانی سی عمارت پر بڑا سا بورڈ لگا تھا، اس پر لکھا ہوا تھا،’’آسرا‘‘ یہ ایک اولڈ ایج ہوم تھا۔ ایک مہانگر کے مضافات میں۔ ان کے برابر بچھے پلنگوں پر بوڑھے لیٹے رہتے۔ دوسری طرف کھڑکیاں تھیں، کھولو تو ایک میدان نظر آتا تھا۔ کہیں جھاڑ جھنکاڑ اُگا ہوا تھا۔ ایک پیپل کا پیڑ بھی تھا، تھوڑی دور ایک گندا نالہ بہتا تھا۔ صبح شام بھولی بھٹکی کوئی چڑیا بھی آجاتی۔ شام صبح ان کھڑکیوں سے سورج کے ڈوبنے اور نکلنے کا منظر دیکھا جاسکتا تھا۔
یہ بوڑھا جو ہر وقت اول فول بکا کرتا، اس کو آئے یہاں پانچ سال ہوگئے۔ اس کا بیٹا اسے چھوڑ گیا تھا۔ وہ باہر جاکر بسنا چاہتا تھا، بیچارے نے بہت انتظار کیا، کہاں تک کرتا۔ اس نے اسے بھی اپنے ساتھ لے جانا چاہا، یہ پاگل گیا ہی نہیں۔ کہنے لگا وہاں بھی تو بوڑھوں کے گھر میں رہنا ہوگا تو اب تو اپنے یہاں بھی ہوم ہیں ہم بوڑھوں کے لیے۔ یہاں ہم صورت، ہم زبان لوگ تو ہوں گے اپنا ملک تو ہوگا۔ وہ شام کو کھڑکی کھول کر بیٹھ جاتا، چڑیوں کی آوازیں سنتا، گرمیوں کی دوپہر میں کوئل کی کوک سنتا۔ پھر اپنا بکس نکال کر موٹی موٹی کاپیاں دیکھا کرتا میگنافائنگ گلاس (محدب شیشہ) سے۔ پھر ایک موٹا سا البم لے کر بیٹھ جاتا، یہ تو اکثر بوڑھے کرتے تھے۔ اپنی چندھی آنکھوں سے تصویریں دیکھا کرتے۔ شروع میں آیا تھا تو صبح شام کمپائونڈ میں ٹہلنے نکل جاتا مگر… اب عرصے سے صرف کھڑکی کے ذریعے ہی باہر سے رابطہ رکھتا تھا۔ پانچ سال میں دو دفعہ بیٹا اس سے ملنے آیا۔ بہت سے تحفے لایا قمیص، سوئٹر، جوتے، آفٹر شیو لوشن، ڈریسنگ گائون اور بہت سے چاکلیٹ۔ بوڑھے نے سب چیزیں واپس کردیں بس چاکلیٹ رکھ لیں۔
بہت اصرار کیا تو اس نے ایک قمیص اور سوئٹر رکھ لیا۔ چاکلیٹ اسے پسند تھے، وہ دنوں کھایا کیا۔ دوسری دفعہ بیٹا آیا تو اسے ایک موبائل فون دے گیا۔ دیر تک اسے موبائل پر بات کرنا سکھا گیا۔ بیٹا ہر ہفتے بات کرتا۔ یہ خود تہواروں پر یا 26 جنوری اور 15 اگست کو اپنے پوتے سے بات کرتا اور ان کے بارے میں بتاتا تھا۔ جب وہ آیا تھا تو اس طرح نہیں بُڑبُڑاتا تھا۔ شاید یہ باتیں تب من ہی من میں کرتا تھا مگر دھیرے دھیرے اس کی آواز بلند ہونے لگی۔ اس پر اس کمرے میں رہنے والے بوڑھوں کو تو کوئی اعتراض نہیں تھا مگر کام کرنے والے بہت چڑتے تھے۔ اکثر اس کو جھڑک دیتے تو وہ جواب دیتا بھئی میں تم سے تو کچھ نہیں کہہ رہا۔ بس کہہ رہا ہوں اپنے دل سے، تو پھر اتنی زور سے کیوں کہتے ہو، کیا تمہارا دل بہرا ہے اور سب ہنسنے لگتے۔ دو ایک بوڑھے کہتے اچھا ہے کوئی آواز تو آتی ہے اور وہ جو کہہ رہا ہے سب سچ ہی تو ہے۔ ادھر کچھ دنوں سے وہ بہت کمزور ہوتا جارہا تھا۔ کھانا بھی کم کھاتا۔ بس آہستہ آہستہ یہی کہتا،’’یہ کون سا یُگ ہے؟ کون بانی بیداد ہے، دھندلے دھندلے سائے بدلتی ہوئی تصویریں۔‘‘

کچھ دنوں سے اولڈ ایج ہوم کے منتظمین کو تشویش تھی کہ اب بوڑھا بہت کم بُڑبُڑاتا مگر اور بوڑھے بھی اب وہی لایعنی باتیں کرنے لگے تھے۔ بوڑھے کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جارہی تھی۔ ڈاکٹر کو بلایا گیا اس نے معائنہ کیا اور کہا کہ عمر کے لحاظ سے سب کچھ ٹھیک ہے۔ یہ اس کے دماغ کا انتشار ہے۔ ایک بوڑھا بولا بڑھاپے میں یہ بیماری اکثر ہوجاتی ہے، یہی بُڑبُڑانے کی، مگر اب وہ بولتا تو اتنا آہستہ کہ بار بار کیا، کیا کہنا پڑتا۔ ہر وقت سانس پھولتی رہتی، وہ اسی پھولی ہوئی سانس کے ساتھ یہی سب کچھ کہتا رہتا مگر اور بوڑھے کورس میں یہ باتیں دہرانے لگے تھے۔ ایک دن دیر تک اس کی آواز نہیں آئی تو اس کے پاس کے پلنگ کے بوڑھوں کو تشویش ہوئی۔ اٹینڈینٹ کی توجہ اس طرف دلائی تو وہ ٹال گئے۔ واقعی دوپہر کا کھانا بھی ویسا ہی رکھا رہا تو کسی نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تو چونک پڑا۔ ’’ارے یہ بڑے میاں تو چل دیے۔‘‘ کیا۔ کیا۔ کیا کہہ کر کئی بوڑھے اٹھ کر بیٹھ گئے۔ کیا کہہ رہا ہے؟
انچارج کو اطلاع دی گئی، ڈاکٹر آیا اس نے ان کو مردہ قرار دیا… ارے بھئی واہ بڑے میاں تو خاموشی سے چلے گئے۔ اٹینڈنٹ کہہ رہا تھا۔ اس کمرے میں دوسرے کمروں کے بوڑھے بھی آگئے تھے اور اس کے پلنگ کو گھیرے کھڑے تھے۔ کچھ رو رہے تھے، کچھ کہہ رہے تھے کہ اچھا ہے، اس مصیبت سے چھوٹ گئے۔ پھر جلدی جلدی انتظامات ہوئے اور سہ پہر تک لوگ ان کو اول منزل پہنچا آئے۔
مگر کمرے سے آوازیں اسی طرح آرہی تھیں، پیڑ کٹ گئے، کنویں سوکھ گئے، گائوں ویران ہیں اور شہر لوگوں سے ابل رہے ہیں۔ انسانوں کی جانیں ارزاں ہیں۔ انچارج نے وہاں رائونڈ لگایا تو اس نے سنا کہ ان بوڑھوں کے ساتھ وہاں کام کرنے والے بھی یہی کہہ رہے تھے۔ جاہل، عالم ہیں۔ ُتک بند شاعر اعظم ہیں۔ ہر رند خرابات ولی ہے۔ اس دوران میڈیا کو یہ خبر کسی طرح پہنچ گئی، وہ لوگ اپنے تام جھام کے ساتھ کھڑے تھے۔ سنا ہے آج جو بڑے میاں مرے ہیں وہ بہت بڑے لیکھک تھے۔ ان کو بہت انعامات ملے تھے۔ ان کو راشٹر پتی نے سمان بھی دیا تھا۔ یہ سن کر دو عورتیں اور ایک مرد آگے بڑھے۔ ہاں ہم ان کے رشتے دار ہیں قریبی، ان کی آواز بھرا رہی تھی، عورتیں آنسو پونچھ رہی تھیں۔ مرد آگے بڑھ کر بڑے میاں کے بارے میں انٹرویو دے رہا تھا۔

کھٹاکھٹ تصویریں کھینچ رہی تھیں۔ ان لوگوں سے نمٹ کر میڈیا کے لوگ اولڈ ایج ہوم کے اسٹاف کی طرف متوجہ ہوئے۔ انچارج صاحب آفس میں نہیں تھے۔ ادھر ادھر اور کر مچاریوں کو دیکھا، کوئی نظر نہیں آیا۔ ایک باہمت صحافی اندر گئے تو انہوں نے عجب سماں دیکھا کہ اس کمرے میں جہاں بڑے میاں مرے تھے، سب جمع ہیں۔ بوڑھے انچارج اور سارا اسٹاف ایک کورس میں کہہ رہے ہیں۔ دھندلے دھندلے سائے، جلدی جلدی بدلتی تصویریں، ہر طرف شور و غوغا ہر چہرے پر پریشانی… پھر… پھر کیا ہوا؟ پھر؟ نہیں معلوم کیا ہوا؟

Khushwant Singh March 20, 2014

Posted by Farzana Naina in Literature, Urdu, Urdu Literature.
Tags:
add a comment

khushwant s

بھارتی صحافت اور ادب کے’ڈرٹی اولڈ مین‘ خشونت سنگھ تقریباً چھ دہائیوں تک بھارتی ادب اور صحافت پر چھائے رہے۔
وہ السٹریٹڈ ویکلی اور ہندوستان ٹائمز سمیت کئی جریدوں اور اخبارووں کے ایڈیٹر رہے لیکن انہوں نے اپنے کریئر کا آغاز لاہور ہائی کورٹ میں ایک وکیل کی حیثیت سے کیا تھا۔
بعد میں وہ سفارتکار بھی رہے لیکن انہیں ایک ایسے صحافی اور ادیب کے طور پر یاد کیا جائے گا جس نے اپنی تحریروں میں کبھی ’پولیٹکلی کریکٹ‘ رہنے کی کوشش نہیں کی، انہوں نے وہ لکھا جو ان کےدل میں تھا۔
وہ اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کرتے تھے اور اکثر سیکس اور خواتین پر اپنے بیانات کی وجہ سے تنازعات میں گھر جاتے۔ اسی لیے انہیں بھارتی ادب کا ’ڈرٹی اولڈ مین‘ کہا جانے لگا تھا لیکن انہوں نے اس لقب پر کبھی اعتراض نہیں کیا۔
لیکن آؤٹ لک جریدے کے مدیر ونود مہتا سے ایک بات چیت کے دوران انہوں نے مذاق میں کہا تھا کہ ’لوگ مجھے ڈرٹی اولڈ مین تو کہنے لگے ہیں لیکن میری کتابوں میں آپ کو سیکس کا زیادہ ذکر نہیں ملے گا۔۔۔میں نے زیادہ تر سنجیدہ موضوعات پر لکھا ہے۔‘
وہ دو فروری انیس سو پندرہ کو ہڈالی میں پیدا ہوئے تھے جو اب پاکستان میں ہے۔ تقسیم کے جنون پر ان کی کتاب ’ٹرین ٹو پاکستان’ نے انہیں سب سے زیادہ شہرت دلائی۔ یہ کتاب 1956 میں شائع ہوئی تھی اور اب بھی کئی یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہے۔
ہندوستان ٹائمز میں دہائیوں سے ان کا ہفتہ وار کالم ’ود میلس ٹوورڈز ون اینڈ آل‘ (بخشا کسی کو نہیں جائے گا) بےانتہا مقبول تھا، کچھ ان کے لکھنے کے سادہ انداز کی وجہ سے اور کچھ ان کی حق گوئی اور بے باکی کی وجہ سے۔
مصنفہ سعدیہ دہلوی نے ایک مرتبہ خشونت سنگھ کے بارے میں کہا تھا کہ’ اگر خشونت سنگھ عورت ہوتے تو ہمیشہ امید سے ہی رہتے کیونکہ انہیں کسی کام کے لیے منع کرنا نہیں آتا تھا۔‘
اردو ادب اور شاعری کا انہیں بے پناہ شوق تھا جس کی جھلک ان کے مضامین میں خوب نظر آتی تھی اور ان کی ظرافت شناسی بے مثال تھی جس کا وہ اپنے کالم میں بھرپور استعمال کرتے تھے۔
موت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ’ہمارے گھروں میں موت کا شاذ ونادر ہی ذکر کیا جاتا ہے، نامعلوم کیوں جبکہ ہم سب کو معلوم ہے کہ موت آنی ہی ہے، خدا میں شک ہو تو ہو، موت میں نہیں کوئی شک۔۔۔ پچانوے سال کی عمر میں، میں اکثر موت کے بارے سوچتا ہوں، لیکن اتنا نہیں کہ نیند اڑ جائے۔ جو لوگ گزر چکے ہیں، ان کے بارے میں سوچتا ہوں کہ وہ کہاں ہوں گے، مجھے اس کا جواب نہیں معلوم کہ مرنے کے بعد آپ کہاں جاتے ہیں، پھر کیا ہوتا ہے۔۔۔؟‘
’بس میں امید کرتا ہوں کہ جب موت آئے، تو تیزی سے آئے، زیادہ تکلیف نہ ہو، جیسے بس آپ سوتے ہوئے اس دنیا سےچلے جائیں۔‘
خشونت سنگھ کو اپنے سوالوں کا جواب ملے گا یا نہیں، یہ تو معلوم نہیں لیکن موت انہیں ویسی ہی نصیب ہوئی جیسی وہ چاہتے تھے

بشکریہ: سہیل حلیم: بی بی سی اردو دہلی

عمر کے آخری دور میں بھی وہ لکھنے میں سرگرم رہے اور گزشتہ سال ان کی کتاب خشونت نامہ دی لیسنز آف مائی لائف‘شائع ہوئی تھی

عمر کے آخری دور میں بھی وہ لکھنے میں سرگرم رہے اور گزشتہ سال ان کی کتاب خشونت نامہ دی لیسنز آف مائی لائف‘شائع ہوئی تھی

وہ فروری سنہ 1915 کو موجودہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع خوشاب کے گاؤں ہڈالی میں پیدا ہوئے تھے۔
انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بھارت کے شہر دہلی میں حاصل کی اور پھر مزید تعلیم کے لیے لاہور کے گورنمنٹ کالج کا رخ کیا تھا۔
برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی اور انر ٹیمپل میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد انہوں نے واپس لاہور جا کر ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔
تقسیمِ ہند کے بعد وہ اپنے خاندان سمیت نئی دہلی میں بس گئے۔ وہ کچھ عرصہ وزارت خارجہ میں سفارتی عہدوں پر بھی تعینات رہے لیکن جلد ہی سرکاری نوکری کو خیرآباد کہہ دیا۔
ان کا ذرائع ابلاغ سے تعلق 1940 کی دہائی کے آخر میں اس وقت قائم ہوا تھا جب انھوں نے وزارتِ خارجہ میں ملازمت کی اور پہلے کینیڈا اور پھر برطانیہ اور آئرلینڈ میں افسرِ اطلاعات اور پریس اتاشی کے طور پر بھارتی حکومت کی نمائندگی کی۔
سرکاری ملازمت کے دوران ہی انھوں نے ملک کے منصوبہ بندی کمیشن کے جریدے ’یوجنا‘ کی ادارت سے اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا اور سرکاری ملازمت سے مستعفی ہونے کے بعد1951 میں صحافی کی حیثیت سے آل انڈیا ریڈیو میں نوکری اختیار کر لی جہاں سے ان کے تابناک کریئر کا آغاز ہوا۔
پدم بھوشن کی واپسی
بھارتی حکومت نے انہیں 1974 میں ملک کے دوسرے بڑے شہری اعزاز پدم بھوشن سے نوازا تھا لیکن 1984 میں گولڈن ٹیمپل میں ہونے والے فوجی آپریشن بلیو سٹار پر احتجاجاً انہوں نے یہ اعزاز واپس کر دیا تھا۔
وہ بھارت کے مشہور جریدے نیشل ہیرالڈ جو کہ بعد میں السٹریٹڈ ویکلی کہلایا کہ مدیر رہے اور ان کے دور میں یہ جریدہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گیا۔ خشونت سنگھ ہندوستان ٹائمز کے ایڈیٹر بھی رہے۔
خشونت سنگھ نے 30 سے زیادہ ناولوں کے علاوہ درجنوں افسانے اور مضامین سمیت 80 سے زیادہ کتابیں تحریر کیں۔
بطور ادیب انھیں سب سے پہلے پہچان برصغیر کی تقسیم کے موضوع پر لکھے گئے ناول’ٹرین ٹو پاکستان‘ سے ملی جسے 1954 میں عالمی شہرت یافتہ گروو پریس ایوارڈ دیا گیا
اس کے علاوہ انہوں نے ’ہسٹری آف سکھ‘ کے نام سے سکھ مذہب کی تاریخ بھی لکھی جسے اس سلسلے میں ہونے والا سب سے ٹھوس کام سمجھا جاتا ہے۔
عمر کے آخری دور میں بھی وہ لکھنے لکھانے میں مصروف رہے اور گزشتہ سال ان کی کتاب ’خشونت نامہ: دی لیسنز آف مائی لائف‘ شائع ہوئی تھی۔
خشونت سنگھ 1980 سے 1986 تک بھارتی راجیہ سبھا کے رکن بھی رہے۔ بھارتی حکومت نے انہیں 1974 میں ملک کے دوسرے بڑے شہری اعزاز پدم بھوشن سے نوازا تھا لیکن 1984 میں گولڈن ٹیمپل میں ہونے والے فوجی آپریشن بلیو سٹار پر احتجاجاً انہوں نے یہ اعزاز واپس کر دیا تھا۔
ان کے انتقال پر بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ کی سرکاری ٹویٹ میں کہا گیا، ’وہ ایک باصلاحیت مصنف اور پیارے دوست تھے۔ انہوں نے واقعی ایک تخلیقی زندگی گزاری۔‘
ان کی موت پر مورخ رام چندر نے اپنی ٹویٹ میں کہا، ’خشونت سنگھ اپنی سکھوں کی تاریخ کے باعث یاد کیے جائیں گے۔ اگرچہ ہم انہیں بھول سکتے ہیں لیکن ان کی کتابیں اور سخاوت یاد رکھی جائے گی۔‘
مصنف امتیاو گھوش نے ٹویٹ کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا، ’عظیم مؤرخ، ناول نگار، ایڈیٹر، کالم نگار اور ایک شاندار آدمی خشونت سنگھ کی موت بہت افسوس ناک خبر ہے۔

Khushwant Singh ColoumnKhushwant-Singh-A-Train-to-Pakistan

   khuswant singh wifekhushwant_singh

گلاب جامن اور سانولی لڑکیاں

خشونت سنگھ سے ملاقات؟ کیا پاگل ہوگئے ہو؟ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا؟ ہم یہاں دلی میں رہتے ہوئے ان سے نہیں مل سکتے تو آپ کیسے مل پائیں گے؟؟؟
آج کل وہ اپنی پوتی کے قبضے میں ہیں جس نے 94 سالہ سردار جی ( مئی 2009 ) پر مارشل لا لگا رکھا ہے۔ اس عمر میں بچارے سردار جی کو چوبیس گھنٹے کی لیفٹ رائٹ کروا رکھی ہے۔
’بابا یہ کھاؤ گے وہ نہیں۔ وہسکی دو پیگ سے زیادہ نہیں۔ ملاقاتی صرف ایک دفعہ۔ وہ بھی شام سات سے آٹھ بجے تک بس۔ چیخ کے بات نہیں کرنی۔ غصے میں نہیں آنا۔ کھل کے قہقہہ نہیں لگانا ورنہ اچھو ( کھانسی کا دورہ) آجائے گا۔ مٹھائی صرف چکھنی ہے کھانی نہیں۔ لکھنے کے اوقات یہ ہیں اور پڑھنے کے یہ اور چہل قدمی کا یہ وقت ہے‘ وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔
غرض بی بی سی دہلی بیورو کے ہندی اور اردو سروس کے دوستوں اور دوستنیوں نے میری حوصلہ شکنی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ صرف ایک امید دلائی گئی کہ اگر پوتی کے بجائے سردار جی نے فون اٹھا لیا جو کہ تقریباً ناممکنات میں سے ہے تب شاید ملاقات ہوسکے۔۔۔ مجھے ذرا دیر کے لیے لگا کہ میرے یہ سب دوست ہی دراصل خشونت سنگھ کی پوتی ہیں۔
بہرحال میں نے سردار جی سے ملاقات پر اناللہ پڑھ لی اور دلائی لامہ سے ملنے دھرم شالہ چلا گیا۔ دھرم شالے کی پہاڑیوں سے ترائی میں آتے سمے ڈرائیور نے ایک قصباتی بازار میں گاڑی روکی اور جانے مجھے کیا سوجھی کہ سامنے نظر آنے والے پی سی او میں گھس کے خشونت سنگھ کا نمبر ملا دیا۔
ہلو۔۔۔۔ ایک بھاری سا جوابی ہیلو سنتے ہی میں ریسیور سے تقریباً لٹک گیا۔ خشونت سنگھ جی بات کررہے ہیں؟
جی۔
میں پاکستان سے آیا ہوں؟
تو؟
آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔
کیوں؟ نام تو بتاؤ کون ہو۔
پرسوں میری لاہور کی فلائٹ ہے۔ ویزا صرف چار دن کا رہ گیا ہے۔ آپ سے نہیں ملا تو واپس نہیں جاؤں گا۔ بھلے گرفتار ہی ہوجاؤں۔”
خشونت سنگھ:فلمی ڈائیلاگ مت بولو نام بتاؤ
جی میں وسعت اللہ خان ہوں بی بی سی کے لیے کام کرتا ہوں۔
کہاں ٹھہرے ہوئے ہو۔
آپ کی حویلی سے صرف پانچ سو گز دور گالف لنک میں۔
یار پاکستانی تم کل شام سات بجے آ تو جاؤ لیکن صرف گپ شپ کے لیے آ سکتے ہو بس۔
جی جی میں بالکل سمجھ گیا۔
اور پھر فون لائن ڈیڈ ہوگئی۔
نئی دہلی کے صاف ستھرے جدید علاقے گالف لنک میں خان مارکیٹ کے بالکل سامنے انگریز دور کی بنی ایک وسیع رہائشی عمارت کے گیٹ پر حویلی سجان سنگھ (خشونت سنگھ کے والد) کی سنگی تختی پیوست ہے۔گیٹ کے اندر دو باوردی چوکیدار اونگھ رہے ہیں۔
کہاں؟
خشونت سنگھ کے پاس۔
وہ کون ہے؟
دوسرے چوکیدار نے فوراً اسے ٹوکا ابے یہ اپنے سجان سنگھ کے ابا کو پوچھ رہیا ہے۔ ہے نا جی؟
جی جی سجان سنگھ کے ابا ۔۔۔۔کہاں رہتے ہیں۔
وہ سامنے نو لمبر میں چلے جاؤ جی۔ بس ایک ہی گھنٹی بجانا۔
جی بہت شکریہ۔۔اور پھر لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے میں نے نو لمبر اپارٹمنٹ کی صرف ایک ہی گھنٹی بجائی۔ دورازہ بند نہیں تھا بس بھڑا ہوا تھا۔ کسی ملازم نے دروازہ کھولا یہ پوچھے بغیر کہ کس سے ملنا ہے۔ ایک بڑا سا ایڈورڈین انداز کا کمرہ، شطرنج کے سفید اور سیاہ خانوں کی بساط جیسا فرش‘ کھڑکیوں پر سفید پردے جن پر خطِ نستعلیق میں تکرار کے ساتھ اسلام و علیکم لکھا ہوا تھا۔
خشونت سنگھ جی گلے میں چاندی کا خلال لٹکائے بیٹھے تھے۔ ان کے سامنے پڑی تپائی پر مٹھائی کے دو کھلے ڈبے رکھے تھے اور کچھ ادھیڑ عمر خواتین و حضرات اپنے ہی لائے گئے گلاب جامن کھا رہے تھے۔ سردار جی کبھی کبھی سرہانے پڑے گلاس سے بس چسکی سی لے لیتے۔
آؤ بھئی آؤ ۔۔۔ کیا نام بتایا تھا سم اللہ خان ہے نا۔۔۔
جی وسعت اللہ خان۔
’یار یہ تمہارے سوات میں کیا ہو رہا ہے۔ (ان دنوں سوات میں آرمی آپریشن ہورہا تھا)۔ ان بےوقوفوں کو کچھ سمجھاؤ۔ مسئلے ایسے حل نہیں ہوتے، اور مسئلے پیدا ہوجاتے ہیں۔‘
بھٹو سے میں کہتا تھا کہ تم داؤد (افغان صدر) کی ایسی تیسی کرنے کے لیے افغانی مولویوں کی مہمانی مت کرو تمہارے گلے پڑ جائیں گے۔ اب دیکھو کیا ہورہا ہے۔
کیا میں آپ کی یہ بات ریکارڈ کر لوں؟ میں نے لجلجاتے ہوئے پوچھا۔
یار وہی تم اندر سے سستے صحافی ہی نکلے نا۔ میں نے تمہیں صرف گپ شپ کے لیے بلایا ہے۔ لو یہ گلاب جامن کھاؤ۔۔۔ اور یہ سب ہمارے دوست ہیں روزانہ شام کو مجھے بوڑھا سمجھ کے دل بہلانے اکھٹے ہو جاتے ہیں یہ فلاں۔۔ یہ فلاں۔۔۔ یہ مسز فلاں اور یہ مسٹر فلاں۔۔۔ اچھے ہیں نہ گلاب جامن ۔۔۔
جی بہت مزے کے ہیں۔
گلاب جامن اور سانولی لڑکیاں۔۔۔ ہا ہا ہا ہا۔۔۔ سردار جی کے سب ہی درباریوں نے قہقہے میں ان کا ساتھ دیا۔
ابھی ایک دو دن پہلے پتہ نہیں میں نے کس بے دھیانی میں فون اٹھا لیا۔ کوئی خاتون تھیں۔ عجیب سی ہی بات کی انہوں نے۔ کہنے لگیں خشونت جی آپ نے اتنی کتابیں لکھیں۔ سینکڑوں مضمون لکھ لیے۔ آپ اتنا کیسے لکھ لیتے ہیں؟؟
میں نے کہا اس لیے لکھ لیتا ہوں کیونکہ ابھی تک قلم کے لیے کنڈوم ایجاد نہیں ہوا۔۔۔ دیکھو یار اس دنیا میں کیسے کیسے چ۔۔۔ پڑے ہوئے ہیں۔۔۔ اور بتاؤ تمہارے پاکستان میں کیا ہورہا ہے۔ دل تو بڑا کرتا ہے مگر اب جسم ساتھ نہیں دیتا۔
میں بس انہیں سنتا رہا سنتا رہا سنتا رہا۔۔۔
اور پھر آٹھ بج گئے اور پھر ان کی پوتی کمرے میں داخل ہوئی اور پھر اس نے ان کے دونوں بازؤں میں ہاتھ ڈال کر انہیں کھڑا کیا اور سردار جی ایک چھوٹے سے بچے کی طرح فرمانبرداری کے ساتھ قدم بھرنے لگے۔ پلٹ کر انہوں نے ہم سب کو شرارتی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہا یہ لڑکی بڑی جلاد ہے اور میں اس کے رحم و کرم پر ہوں۔ تم لوگ جب تک چاہے بیٹھو۔ ابھی چائے آ رہی ہے۔ اوئے پاکستانی چائے پیے بغیر مت جانا۔ خدا حافظ۔
اور پھر وہ دروازے کے پیچھے غائب ہوگئے، میری تیرتھ یاترا مکمل ہوچکی تھی۔

بشکریہ: وسعت اللہ خان بی بی سی

Khushwant Singh (extreme right) with PM Jawaharlal Nehru (second from left) during the first Commonwealth PM's Conference in London in 1962

Ahmed Mirza Jamil changed the way of Urdu March 20, 2014

Posted by Farzana Naina in Literature, Pakistan, Pakistani, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
add a comment

Ahmed Mirza Jamil changed the way all Urdu newspapers and books would be published anywhere in the world; and he did it back in 1981 with his Noori Nastaliq script that gave the Midas touch to desktop publishing.

Ahmed Mirza Jamil-640x480

The present-day Urdu publishing owes its elegant contours to the calligraphic skills of this great wizard of calligraphy.

Before being used in the composing software, InPage, the Noori Nastaliq was created as a digital typeface (font) in 1981 when master-calligrapher Ahmed Mirza Jamil and Monotype Imaging (then called Monotype Corp) collaborated on a joint venture.

Earlier, Urdu newspapers, books and magazines needed manual calligraphers, who were replaced by computer machines in Pakistan, India, UK and other countries.

The government of Pakistan recognised Ahmad Mirza Jamil’s singular achievement in 1982 by designating Noori Nastaliq as an ‘Invention of National Importance’ and awarded him with the medal of distinction, Tamgha-e-Imtiaz.

In recognition of his achievement, the University of Karachi also awarded him the degree of Doctor of Letters, Honoris Causa.

Narrating the history of his achievement in his book, ‘Revolution in Urdu Composing’, he wrote: “In future, Urdu authors will be able to compose their books like the authors of the languages of Roman script. Now, the day a manuscript is ready is the day the publication is ready for printing. There is no waiting for calligraphers to give their time grudgingly, no apprehension of mistakes creeping in, nor any complaints about the calligraphers or operators not being familiar with the language.

“Soon our future generations will be asking incredulously whether it was really true that there was a time when newspapers were painstakingly manually calligraphed all through the night to be printed on high speed machines in the morning. Were we really so primitive that our national language had to limp along holding on to the crutches of the calligraphers that made the completion of books an exercise ranging from months to years depending upon their volume.”

Noted Urdu litterateur Ahmed Nadeem Qasmi paid tribute to Ahmed Mirza Jamil during his lifetime.

He said, “The revolution brought about by Noori Nastaliq in the field of Urdu publishing sends out many positive signals. It has at last settled the long-standing dispute about Urdu typewriter’s keys that had raged from the time Pakistan was born. The future generations will surely be indebted to him for this revolution.

Dr Ahmed Mirza Jamil passed away unsung on February 17, 2014. May his soul be blessed.

Published in The Express Tribune, March 15th, 2014.

بچوں کا ادب August 10, 2012

Posted by Farzana Naina in Literature, Pakistan, Pakistani, Urdu, Urdu Literature.
Tags:
add a comment

بچوں کا ادب: ادبیات‘ اسلام آباد

مدیر: محمد عاصم بٹ

صفحات: 493

قیمت: دو سو روپے

پاکستان میں ہی کیا دنیا بھر کی مختلف زبانوں میں بچوں کے ادب کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اسے دی جانی چاہیے۔ یہ شکایت ان ملکوں میں بھی ہے جنھیں ترقی یافتہ اور بچوں کے معاملات میں انتہائی حسّاس سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور اس دور میں جب کمپیوٹر تیزی سے ہر شعبے میں کاغذ پر شائع ہونے والے مواد کی جگہ لیتا جا رہا ہے کاغذ پر شائع ہونے والے اور شائع کرنے والوں نے از خود ہی پسپائی اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔

تاہم پاکستان اور پاکستان جیسے دوسرے ملکوں میں اس بات کی گنجائش ہے کہ کاغذ پر شائع ہونے والا مواد اپنا کردار ادا کرے کیوں کہ ان کے ہاں ابھی کمپیوٹر اس طرح زندگیوں کا حصہ نہیں بنا جیسا کہ بہت سے ملکوں میں بن چکا ہے اور بچے تک کمپیوٹر اس سے حد تک واقف ہیں کہ ہمارے ہاں کے بڑے بھی نہیں ہیں۔

پاکستان میں ایک زمانہ تھا جب بچوں کے لیے رسالے اور کتابیں باقاعدگی سے شائع ہوتی تھیں اور انھیں پڑھنے کا رحجان بھی تھا۔ خاص طور پر متوسط طبقے کا شاید ہی کوئی گھر ایسا ہوتا تھا جہاں بچوں کا کوئی رسالہ ہر ماہ نہ آتا ہو۔ لیکن ستر اور اسّی کی دہائی کے دوران کچھ ایسا ہوا کہ آہستہ آہستہ بچوں کے رسالے شائع ہونا بند ہونے لگے اور اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے شائع ہونے والی کتابیں بھی۔

اب کتابوں کی دکانوں اور اخبار وجرائد بیچنے والوں کی دکانوں پر اوّل تو بچوں کے رسالے اور کتابیں ہوتے ہی نہیں اور اگر ہوتے ہیں تو انتہائی کم تعداد میں۔ بڑے شہروں کی بڑی دکانوں اور شاپنگ مالز میں ضرور دکانوں پر بچوں کے لیے انتہائی عمدہ چھپی ہوئی مہنگی کتابیں موجود ہوتی ہیں لیکن ان میں اردو یا کسی اور قومیتی زبان کی کتاب کم ہی دکھائی دیتی ہے۔

یہ صورتحال پاکستان کی بدلتی ہوئی سماجی شکل کا اظہار کرتی ہے اور اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں صورتحال کیا ہونے والی ہے۔ انگریزی یا کسی بھی زبان کا بڑھنے میں کوئی خرابی نہیں لیکن اس کی وجہ سے ملک کی اپنی بڑی اور دوسری زبانوں سے توجہ کا ہٹنا کسی بھی طرح اچھی علامت نہیں۔

اس پورے پس منظر میں اکادمی ادبیات پاکستان، نے سہ ماہی ’ادبیات‘ نیا شمارہ شائع کیا ہے۔ پیش نظر شمارہ جریدے کا شمارہ نمبر 95-94 ہے۔ شمارے کے نمبر ہی واضح ہو جاتا ہے کہ یہ جریدہ کتنی باقاعدگی سے شائع ہوتا ہے۔

یہ شمارہ بچوں کے ادب کے بارے پہلے شائع ہونے والے حصے کا جز ہے۔ پہلے حصے یا جلد اوّل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس میں بچوں کے بین الاقوامی ادب سے خصوصی انتخاب پیش کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور حصے کی خبر بھی دی گئی ہے جو ’پاکستانی ادب: حصہ نثر‘ ہو گا۔

حصہ نظم میں کل تقریباً تین سو تراسی تخلیقات اور تراجم ہیں۔ حصہ حمد میں پندرہ تخلیقات ہیں جن میں ماضی سے منتخب کی جانے والی حمدیں بھی اور شاید نئی اور پہلی بار شائع ہونے والی بھی۔ یقین سے کچھ اس لیے نہیں کہا جاسکتا کہ کسی بھی تخلیق پر اس کی تخلیق کا سال نہیں ہے لیکن الطاف حسین حالی جیسے ناموں کو دیکھ کر یہ تو یقین سے کہا ہی جا سکتا ہے کہ ماضی سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔

اس کے بعد نعتوں کا حصہ جس میں سولہ نعتیں ہیں۔ جن میں میر حسن دہلوی، مولانا احمد رضا خان اور مولانا حالی کی نعتیں بھی ہیں۔ تیسرا حصہ سوہنی دھرتی کے نام سے قائم کیا گیا ہے جو چودہ نظموں پر مشتمل ہے۔ اسی طرح ملت کا پاسباں، کلاسیکی شاعری سے انتخاب، نظم کہانی، تمثیل اور اثاثہ کے نام سے حصے بنائے گئے ہیں۔

ایک خاصا بڑا حصہ پاکستانی زبانوں کا ادب کے نام سے قائم کیا گیا ہے، اس میں بلوچی، براہوی، پستوں، ہندکو، سندھی، پنجابی، سرائیکی اور پوٹھوہاری میں بچوں کے لیے لکھی جانے والی نظموں کے تراجم ہیں۔

اس کے علاوہ اس شمارے کا سب سے دلکش اور قابلِ تعریف پہلو بچوں کی مصوری کے نمونے ہیں جو ہر حصے کی ابتدا پر لگائے گئے ہیں۔ اور نوجوان مصوروں کے تعارف کے ساتھ ساتھ ان کی تصاویر بھی شائع کی گئی ہے۔ یہ اقدام بہت عمدہ ہے اس سے ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہی نہیں ہو گی انھیں مصوری جاری رکھنے کی تحریک بھی ملے گی۔

یہ غالباً اردو میں بچوں کی شاعری کی ایک ایسی جلد ہے جس میں نہ صرف اردو شاعری کا بہت بڑا حصہ جمع کر دیا گیا ہے بلکہ پاکستان کو دوسری قومیتی زبانوں میں بچوں کے لیے لکھی جانی والی شاعری بھی موجود ہے۔

اس مبصر کی نظر سے اب تک اردو میں ایسا کوئی انتخاب نہیں گزرا جس میں بچوں کی شاعری کا اتنا بڑا ذخیرہ ایک جگہ موجود ہو۔ پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر کسی کو پاکستان میں بچوں کی شاعری کے بارے میں جاننا ہو تو یہ ایک شمارہ ہی خاصے معقول تعارف کے لیے کافی ہے۔

اس حصے کو مرتب کرنے والے اس کا کچھ نہیں کر سکتے کہ بہت سے نظموں کی زبان بچوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔ بچوں کے لیے لکھنے والے تمام لوگوں کو اس بات پر ضرور توجہ  دینی چاہیے۔

بشکریہ: انور سن راۓ، بی بی سی

Alif Laila Books August 2, 2012

Posted by Farzana Naina in Karachi, Literature, Pakistan, Urdu, Urdu Literature.
Tags: ,
1 comment so far

مافوق الفطرت قصے کہانیوں سے تقریبا ہر بچے کو لگاؤ ہوتا ہے، جس کا ثبوت آج کے دور کے ”ہیری پوٹر” پڑھنے والے بچے ہیں۔

میرا بچپن بھی ایسی ہی کہانیوں کے درمیان پر لگا کر اڑتا تھا، کبھی جادویٔ قالین تو کبھی دیو مالایٔ قصے، پریاں، دیو زاد، شہزادے اور شہزادیاں، یہی بچپن کی دنیا تھی، ہزار داستان تو اکثر و بیشتر محلے کی لایٔبریری سے لا کر پڑھی جاتی، پھر نیند کی وادی اس فینٹسی لینڈ میں لے جاتی ۔۔۔۔۔۔۔ ۡ

قصہ مختصر کہ پردیس نے ہاتھ بڑھا کر اپنی جانب کھینچا تو یہ کہانیاں اور ان کہانیوں سے نکلتی ہویٔ کہانیاں سب وہیں کی وہیں دھری رہ گیٔں ۔۔۔۔۔۔!۔

انہیں کہانیوں میں الف لیلوی قصوں کی کتاب بھی تھی جو بعد کے برسوں میں ذہن کے کسی گوشے سے نکل آیٔ۔۔۔۔۔

اب میری جستجو کا سفر شروع ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک کتاب مل تو گیٔ جو میں اٹھا لایٔ مگر اس کی خستہ حالت کی بنا پر محفوظ کرنا مشکل ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر ایک اور کراچی یاترا میں بھایٔ کی منت سماجت کر کے اردو بازار کو کھنگالنا شروع کیا (چونکہ وہ علاقہ اس جگہ سے خاصی دور ہے جہاں بھایٔ رہتے ہیں اور یوں بھی اردو بازار اکیلے جانا کافی غیر محفوظ سا لگتا ہے) ۔۔۔

خیر داستان الف لیلیٰ مجھے مل گیٔ تھی  جو میں سنبھال سنبھال کر اپنے سوٹ کیس میں نت نۓ جوڑوں کے بجاۓ کتابوں کے انبار میں رکھ کر لے آیٔ۔

اب بھی کبھی کبھار اس کا مطالعہ اور اس میں استعمال کی ہویٔ اردو زبان کے الفاظ ورطۂ حیرت میں غرق کردیتے ہیں۔

نام کتاب: الف لیلہ : مترجم: رتن ناتھ سرشار

صفحات: جلد اوّل 342، جلد دوم 321، جلد سوم 464، جلد چہارم 566

قیمت: جلد اوّل 795 روپے، جلد دوم 795 روپے، جلد سوم 895 روپے، جلد چہارم 895 روپے

ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان۔ کراچی

الف لیلہ دنیا میں کہانیوں کی مشہور و مقبول ترین کتابوں میں سے ایک کتاب ہے۔ اسے شام میں لکھا گیا۔ کس نے لکھا؟

کسی ایک نے یا زیادہ نے یا یہ کہانیاں وہاں کے قصہ گو سنایا کرتے تھے جسے وہاں کے کسی مصنف نے لکھ کر ایک جگہ جمع کر دیا، اس بارے میں اب تک یقین سے کچھ نہیں کہا گیا۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد یہ ایرانی، مصری اور ترک زبانوں میں پہنچی اور ان زبانوں کے قصہ گو اس میں اضافے کرتے رہے۔

بعد میں جب یہ کہانیاں ایک ہزار ایک راتوں پر پھیل گئیں تو اس نام ’الف لیلۃ و لیلۃ‘ یعنی ’ایک ہزار ایک راتیں‘ ہو گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے بعد کسی لکھنے والے نے ان کہانیوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔

الف لیلہ کی کہانیوں کی کہانی کچھ یوں ہے کہ سمرقندکا ایک بادشاہ شہریار اپنی ملکہ کی بے وفائی سے دل برداشتہ ہو کر عورتوں سے ہی بدظن ہوگیا، اُس نے یہ دستور بنا لیا کہ روزانہ ایک نئی شادی کرتا اور دلہن کو رات بھر رکھ کر صبح کو قتل کرا دیتا۔ آخر اس کے ایک وزیر کی لڑکی شہرزاد نے اپنی صنف کو اس عذاب سے نجات دلانے کا ارادہ کیا اور اپنے والد کو بمشکل راضی کر کے شہریار سے شادی کر لی۔

اُس نے پہلی رات ہی سے بادشاہ کو ایک کہانی سنانا شروع کی۔ رات ختم ہوگئی مگر کہانی ایک ایسے موڑ پر تھی کہ بادشاہ شہرزاد کو ہلاک کرنے سے باز رہا۔ ہر رات شہرزاد کہانی شروع کرتی اور صبح کے قریب اسے ایک ایسے موڑ پر ختم روکتی کہ اس میں ایک نئی کہانی کا تجسس بھرا سرا دکھائی دیتا اور اتنا دلچسپ ہوتا کہ بادشاہ اس کے بارے میں جاننے کے لیے شہرزاد کا قتل ملتوی کرتا چلا گیا۔

یہ سلسلہ اتنا ایک ہزار ایک راتوں پر پھیل گیا اس دوران بادشاہ اور شہر زاد کے تعلقات میں تبدیلی آتی گئی اور ان کے ہاں دو بچے ہوگئے اور بادشاہ کی بدظنی جاتی رہی۔

بعض محققین کا خیال ہے کہ عرب مورخ محمد بن اسحاق نے کتاب الفہرست میں کہانیوں کی جس کتاب کا ذکر ’ہزار افسانہ‘ کے نام سے ہوا ہے وہ دراصل الف لیلہ ہی ہے اور اس میں جو کہانی بطور نمونہ ہے وہ الف لیلہ کی پہلی کہانی ہے۔

کچھ لوگ اس سے یہ نتیجہ بھی نکالتے ہیں کہ الف لیلہ پہلے ’ہزار افسانہ‘ کے نام سے موجود تھی۔

اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے جو کتاب شائع کی ہے اس میں مرتیبین نے یہ تفصیل بیان کرنے پر توجہ ضروری نہیں سمجھی اگرچہ رتن ناتھ سرشار کے بارے میں خاصی تفصیل موجود ہے۔ جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے صرف پہلی جلد پر کام کیا تھا جب کہ دوسری جلد مولوی محمد اسمٰعیل نے تیار کی‘۔ لیکن اوکسفرڈ کی چاروں جلدوں پر رتن ناتھ سرشار ہی کا نام ہے۔ کیوں ہے؟ اس بارے کچھ نہیں کہا گیا۔

یورپ میں سب سے پہلے ایک فرانسیسی ادیب آنتون گلاں کو اس کتاب کا مخطوطہ 1690 میں ملا اور اس نے اس کا فرانسیسی ترجمہ گیارہ سال بعد شائع کیا، یہی ترجمہ اردو سمیت کم و بیش دوسری زبانوں میں ہونے والے تمام تراجم کی بنیاد بنا۔

ایک زمانہ تھا کہ پاکستان میں الف لیلہ اور اس نوع کی دوسری کتابوں کے انتہائی سستے اور خراب ایڈیشن ملا کرتے تھے لیکن اب وہ ایڈیشن بھی دکھائی نہیں دیتے۔

کتاب میں بتایا گیا ہے کہ سرشار کی الف لیلہ کا ایک تلخیص شدہ ایڈیشن انتظار حسین اور سید وقار عظیم ترتیب دیا تھا جو لاہور سے 1962 میں شائع ہوا تھا اس میں مولوی اسمٰعیل کی تیار کردہ دوسری جلد کی کہانیاں شامل نہیں تھیں۔ اب یہ ایڈیشن بھی دستیاب نہیں ہے۔

اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان سے چار جلدوں شائع ہونے والی الف لیلہ کے بارے میں اگرچہ یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ رتن ناتھ سرشار ہی کی پہلی جلد ہے یا اس میں دوسری تمام کہانیاں بھی شامل ہیں۔

چوتھی جلد 784ویں رات پر ختم ہوتی ہے اور پانچویں جلد زیر طبع ہے، ہو سکتا ہے کہ پانچویں جلد میں اس باتوں کا بھی خلاصہ کر دیا جائے لیکن ان باتوں سے کا چار جلدوں میں شامل کہانیوں کی دلچسپی سے کوئی تعلق نہیں۔

الف لیلہ کی اہمیت یہ ہے کہ عام لوگ تو اس کا لطف اٹھا ہی سکتے ہیں فکشن لکھنے والوں کے لیے خاص طور پر یہ ایک ایسی کتاب ہے جس سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ اس کی زبان ضرور ایسی ہے جو اردو کے بہت سے اساتذہ کے لیے بھی امتحان ہو سکتی ہے لیکن اس کے باوجود اس کتاب کو اردو جاننے سے دلچسپی رکھنے والے ہر گھر میں ہونا چاہیے۔

اوکسفرڈ یونیورسٹی کا ایڈیشن انتہائی عمدہ ہے۔ عام خریداروں کے لیے اس کی قیمت کچھ زیادہ ہو سکتی ہے لیکن عمدگی کو دیکھتے ہوئے زیادہ نہیں ہے۔

سیریز کے ایڈیٹر شمس الرحمٰن فاروقی ہیں جو اردو کے معروف نقاد، ناول و افسانہ نگار ہونے کے علاوہ ہندوستان سے شائع ہونے والے ادبی جریدے ’شب خون‘ کے مدیر رہے ہیں جب کہ ایڈیٹر اجمل کمال ہیں جو پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ’آج‘ کے مدیر ہیں اور اپنے ترجموں کے علاوہ تنقیدی مضامین اور کتابوں کی اشاعت کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں۔

بشکریہ : انور سِن رائے آف بی بی سی