jump to navigation

گل از رخت آموخته نازك بدني را – مولانا جامی November 30, 2017

Posted by Farzana Naina in Kavita, Nazm, Poetry, Shairy, Urdu Shairy.
Tags: , , ,
add a comment

گل از رخت آموخته نازك بدني را

پھول نے نزاکت کا سبق آپ سے لیا ہے  

بلبل ز تو آموخته شيرين سخني را

بلبل نے شیریں نغمگی آپ سے سیکھی

هر كس كه لب لعل ترا ديد، به خود گفت

جس کسی نے تیرے لبوں کو دیکھا اس نے دل میں کہا

حقا كه چه خوش كنده عقيق يمني را

کیا ہی خوبصورت تراشا ہوا یمنی عقیق ہے

خياط ازل دوخته بر قامت زيبات

خیاط ازل نے تیری خوش قامتی پر

بر قد تو اين جامه ي سبز چمني را

تیرے قد کے موافق خوب سبز لباس بنایا ہے

در عشقِ تو دندان شکستند به الفت

تیرے عشق میں اپنے دانت جب انہوں نے تڑوائے

تو نامه رسانید اویس قرني را

تو آپ نے اویس قرنی کے نام نامہ بھیجا

از جامؔی بيچاره رسانيدہ سلامی

بر درگه دربار رسول مدني را

مجبور جامی کی طرف سے سلام پہنچاؤ رسول مصطفی کے حضور۔

Advertisements

سید مصطفیٰ حسین زیدی October 15, 2017

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Ghazal, Kavita, Nazm, Poetry, Shairy, Sher, Urdu Poetry.
Tags: , , ,
add a comment

سید مصطفیٰ حسین زیدی کی پیدائش 10 اکتوبر 1930ء کو ایک متمول خاندان میں ہوئی تھی ان کے والد سید لخت حسین زیدی سی آئی ڈی کے ایک اعلیٰ افسر تھے۔ مصطفیٰ زیدی بے حد ذہین طالب علم تھے۔ الہ آباد یونیو رسٹی سے انہوں نے گریجویشن کیا تھا اور صرف 19 سال کی عمر میں ان کا شعری مجموعہ ”موج مری صدف صدف“ کے عنوان سے شائع ہوا تھا جس کا دیباچہ فراق گورکھپوری نے لکھا تھا اور فراق صاحب نے ان کی شکل میں ایک بڑے شاعر کی پیش گوئی کی تھی۔ کسی حد تک تو یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی لیکن بے وقت موت نے ان کا شعری سفر اچانک ختم کر دیا۔ چالیس سال کی زندگی میں ان کے چھہ مجموعے شائع ہوئے۔ ان کے مرنے کے بعد ان کی کلیات شائع ہوئی۔ شروع میں وہ تیغ اللہ آبادی تخلص کرتے رہے۔

مصطفیٰ زیدی 1951ء میں کراچی چلے گئے تھے۔ کچھہ دن وہ اسلامیہ کالج پشاور میں بطور استاد تعینات رہے۔ وہاں سے نکالے گئے ۔ پھر انہوں نے سی ایس پی کا امتحان دیا جس میں کامیابی حاصل کی اور اہم عہدوں پر کام کیا۔ آزادیِ فکر کا گلا گھونٹے جانے کی باز گشت ان کے اشعار میں سنی جا سکتی ہے۔

جس دن سے اپنا طرزِ فقیرانہ چھٹ گیا

شاہی تو مل گئی دلِ شاہانہ چھٹ گیا

جنرل یحییٰ خاں کے عتاب کے بھی شکار ہوئے اور یحییٰ خاں نے جو 303 افسران کی ہٹ لسٹ تیار کر رکھی تھی اس میں مصطفیٰ زیدی کا نام بھی تھا مگر فوجی آمر سے قبل وہ کسی بڑی سازش کا شکا ر ہو گئے اور اس کا سبب بنی گوجرانوالہ کی ایک شادی شدہ خاتون ایک خاتون شہناز گل، جس کے باعث مصطفیٰ زیدی کو اپنی زندگی سے ہاتھہ دھونا پڑے۔

ان کی لاش 12 اکتوبر 1970ء کو کراچی میں ان کے دوست کے بنگلے سے ملی ۔ جس پر بعد میں تحقیقاتی کمیشن بھی بنا تھا اور مقدمہ عدالت میں بھی گیا۔ یہ مقدمہ اخبارات نے اس قدر اچھالا کہ مہینوں تک اس پر دھواں دھار بحث ہوتی رہی۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ یہ قتل نہیں بلکہ خودکشی تھی اور شہناز گل کو بری کر دیا۔

میں کس کے ہاتھہ پہ اپنا لہو تلاش کروں

تمام شہر نے پہنے ہوۓ ہیں دستانے

شہناز گل کے لیے مصطفیٰ زیدی نے کئی غزلیں اور نظمیں کہی تھیں جن میں یہ شعر بہت مشہور ہے:

فنکار خود نہ تھی مرے فن کی شریک تھی

وہ روح کے سفر میں بدن کی شریک تھی

مصطفیٰ زیدی کو جس درد و کرب سے گزرنا پڑا اس کی باز گشت ان کی غزلوں کے اشعار میں سنائی دیتی ہے۔ خاص طور پر ان کی مشہور غزل میں تو یہ کرب بار بار اتر آتا ہے:

کسی اور غم میں اتنی خلشِ نہاں نہیں ہے

غمِ دل مرے رفیقو غمِ رائیگاں نہیں ہے

کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی ہم زباں نہیں ہے

فقط ایک دل تھا اب تک سو مہرباں نہیں ہے

مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو

مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے

کسی آنکھہ کو صدا دو کسی زلف کو پکارو

بڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سائباں نہیں ہے

انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آسکو تو آؤ

مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

مصطفیٰ زیدی ، جوش ملیح آبادی سے متاثر تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی شاعری میں جوش جیسی گھن گرج نہیں ہے۔ لیکن زیدی نے بھی کربلا کے استعارے کو بہت خوبصورتی سے استعمال کیا ہے:

ایسی سونی تو کبھی شامِ غریباں بھی نہ تھی

دل بجھے جاتے ہیں اے تیرگیِ صبح وطن

میں اسی کوہ صفت خون کی ایک بوند ہوں جو

ریگ زارِ نجف و خاکِ خراساں سے ملا

جدید غز ل کی تشکیل میں مصطفیٰ زیدی کا بہت اہم حصہ ہے اور ان کے شعری مجموعے موج مری صدف صدف، شہرِ آرزو،زنجیریں، کوہِ ندا اور قبائے ساز اردو کے شعری ادب میں اضافہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

کچھہ اور شعر:

غمِ دوراں نے بھی سیکھے غم جاناں کے چلن

وہی سوچی ہوئی چالیں وہی بے ساختہ پن

وہی اقرار میں انکار کے لاکھوں پہلو

وہی ہونٹوں پہ تبسم وہی ابرو پہ شکن

حدیث ہے کہ اصولاَ گناہ گار نہ ہوں

گناہ گار پہ پتھرسنبھالنے والے

خود اپنی آنکھہ کے شہتیر کی خبر رکھیں

ہماری آنکھہ سے کانٹے نکالنے والے

اب تو چبھتی ہے ہوا برف کے میدانوں کو

ان دنوں جسم کے احساس سے جلتا ہے بدن

مجھہ کو اس شہر سے کچھہ دور ٹھہر جانے دو

میرے ہم راہ میری بے سرو سامانی ہے

اس طرح ہوش گنوانا بھی کوئی بات نہیں

اور یوں ہو ش میں رہنے میں بھی نادانی ہے

طالب دستِ ہوس اور کئی دامن تھے

ہم سے ملتا جو نہ یوسف کے گریباں سے ملا

لوگوں کی ملامت بھی ہےِ خود درد سری بھی

کس کام کی اپنی یہ وسیع النظری بھی

کیا جانیئے کیوں سست تھی کل ذہن کی رفتار

ممکن ہوئی تاروں سے مری ہم سفری بھی

میں کس کےہاتھہ پہ اپنا لہو تلاش کروں

تمام شہرنے پہنے ہوۓ ہیں دستانے

Mustafa Zaidi and Sheeren Gul 1Mustafa Zaidi and Sheeren Gul 2

Lakeeron se nikal-لکیروں سے نکل کر July 27, 2017

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Ghazal, Ghazal, Kavita, Nazm, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Sufi Poets, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
add a comment

Golden bar 1

لکیروں سے نکل کر ہاتھ کی مجھ کو بلائے گی

یہ قسمت وَجد میں آئی تو خود مجھ کو بنائے گی

 

مِری آنکھوں میں سارے خواب اُس کے روٹھنے تک تھے

مِرا شک ٹھیک نکلا ‘ زندگی مجھ کو رلائے گی

 

مِرے ہونٹوں پہ اب تک تتلیوں سی مسکراہٹ ہے

مجھے ڈر لگ رہا ہے’ ایک دن یہ اُڑنے جائے گی

 

بہت سی شمعیں سینے میں اگر جلتی رہیں تو پھر

مری آنکھوں سے تھوڑی روشنی باہر بھی آئے گی

 

ذرا سی روشنی کے بعد چکّر تیرگی کا ہے

اگر تو اک نئی تصویر پر نظریں جمائے گی

 

خود اپنی زندگی سے کیوں نکل جاتی ہوں میں ‘ نیناںؔ !

مِری لا حاصلی کے درد قدرت ہی مٹائے گی

 

( فــرزانـہ نیناںؔ ) 

Golden rose Bar
Lakeeron se nikal kar haath ki, mujhko bulaye gi
Ye qismat wajd mein aayi tau khud mujhko banaye gi
 
Meri aankhon mein saare khwab uske roothne tak thay
Mera shak theek nikla zindagi mujhko rulaye gi
 
Mere honton pe ab tak titliyon si muskurahat hai
Mujhe darr lag raha hai eik din ye ur’rne jaye gi
 
Bohut si shamein seene mein agar jalti rahein tau phir
Meri aankhon se thori roshni bahar bhi aaye gi
 
Zara si roshni ke baad chakker teergi ka hai
Agar tu ik nai tasweer par nazrein jamaye gi
 
Khud apni zindagi se kyon nikal jati hon mein naina
Meri la’haasili ke dard qudrat hi mitaye gi
 

butterfly-yellow-sl~ Farzana Naina.butterfly-yellow-sl

0aa1ec07c2d7e0ad0eb9ef5e7005bff3

شاعرہ فرزانہ ناز April 28, 2017

Posted by Farzana Naina in Ghazal, Kavita, Nazm, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags:
1 comment so far

آئینہ صفت وقت ترا حسن ہیں ہم لوگ

کل آئینے ترسیں گےتو صورت نہ ملے گی

میں فرزانہ ناز نامی شاعرہ سے چند روز قبل تک واقف نہیں تھی۔۔۔۔ اس واقعے سے ایک دن پہلے فیس بک پر مجھے ان کی فرینڈ ریکویسٹ آئی تھی اور میں نے ایڈ بھی کر لیا تھا۔۔۔ لیکن پروفائل نہیں چیک کیا تھا کہ کون ہے۔۔۔۔ جلد ہی اس حادثے اور پھر انتقال کی خبر بھی آگئی۔۔۔۔۔ اس قدر دلخراش موت پر آنسو رواں ہوئے اور ذہن و دل میں ان کا اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کا خیال مسلسل گردش کر رہا ہے، دعائے مغفرت لبوں پر ہے اور لواحقین کے لیئے اللہ سے صبر کا التماس۔۔۔ وہ بڑا رحیم و کریم ہے

انا لله و انا اليه راجعون

محترمہ ادبی تنظیم کسب کمال کی جنرل سیکریٹری تھیں، مشاعروں میں دو کم سن معصوم بچے اور شوہر بشیر اسماعیل بھی ہمراہ ہو تے، آپ اکثر ادبی تقریبات میں نظامت کے فرائض سر انجام دیتیں ۔

آپ کا اولین شعری مجموعہ “ہجرت مجھ سے لپٹ گئی ہے‘‘ ایک ماہ پہلے ہی منظر عام پر آیا، جس کی تقریب رونمائی تین مئی2017 کو راولپنڈی آرٹس کو نسل میں ہو نا قرار پائی تھی ، لیکن مشیت ایزدی کی منظوری انسانوں کے فیصلوں اور ارادوں سے  بالاتر ہے، کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ فرزانہ منوں مٹی تلے سو جاۓ گی!!! ۔  

پروردگار ان  کے بچوں اور شوہر بشیر اسماعیل صاحب کو صبر جمیل اور فرزانہ ناز صاحبہ کو کروٹ کروٹ   جنت نصیب فر ماۓ ۔ آمین

18157786_10154766952318922_166916374604740528_n

ستم ظریفی دیکھئے کہ جب فرزانہ ناز کو کسی علاج کی حاجت نہ رہی تو گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے لئے یہ پریس ریلیز جاری کی گئی کہ عرفان صدیقی نے اس حادثے کا ذکر فوراً وزیراعظم نواز شریف سے کیا اور ساتھ ہی یقین دہانی کرائی کہ فرزانہ ناز کا علاج حکومت کرائے گی۔۔۔’’مرگئے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا‘‘۔۔۔کے مصداق یہ بھی کہا گیا کو حکومت اس کے بچوں کی تعلیم اور کفالت کا ذمہ اٹھائے گی ، مگر زمینی حقائق دیکھئے کہ جب فرزانہ ناز کی رات دس بجے نمازِ جنازہ ہوئی، تو اِس میں کوئی حکومتی نمائندہ موجود نہیں تھا، حتیٰ کہ انعام الحق جاوید نے بھی شرکت نہیں کی،حالانکہ فرزانہ کو حادثہ اُن کی تقریب میں پیش آیا تھا اور میزبان کی حیثیت سے اُن کا فرض تھا کہ وہ جنازے میں شرکت کر کے اُس کے شوہر اور بچوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ جس پاک چائنہ فرینڈ شپ سینٹر میں یہ حادثہ پیش آیا اُس کا تین دِنوں کا کرایہ28لاکھ روپے ہے، جو سرکاری خزانے سے ادا کیا گیا۔28لاکھ صرف کرائے کی مد میں خرچ کرنے والوں کو ایک شاعرہ کی جان بچانے کے لئے تین لاکھ روپے خرچ کرتے ہوئے اتنی دیر تک سوچنا پڑا کہ اُس کی جان ہی چلی گئی۔ ( منقول)۔

خدائے بزرگ برتر تمہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ درجات عطا کرے فرزانہ ناز ، ہم سب آج غمزدہ ہیں ، ہمارے قلم اداس ہیں ، وہ سب مشاعرے ، وہ تعتیہ محافل ، مسالمے آنکھوں میں فلم کی طرح گھوم رہے ہیں ، جن میں تم ہمارے ساتھ تھی ، میں نے آج بہت سے شاعروں کی آنکھیں نم دیکھیں ہیں ، بہت سی شاعرات کو ہچکیوں سے روتے دیکھا ہے ، تمہارا اسماعیل مجھ سے ہی کیا سب سے لپٹ لپٹ کے فریاد کر رہا تھا ، سب تمہاری زندگی کے لئے دعا گو تھے ، لیکن تم نے موت کو گلے لگا لیا ، ہسپتال سے تمہاری لاش وصول کر کے تمہارے گھر تک گزرے وقت کا ہر منظر سامنے گھومتا رہا ، میں دیکھتا رہا ، تمہاری گلی میں سب سے ملا ، لیکن تمہارے معصوم بچوں سے نہیں ملا ، کہیں وہ پوچھ نہ لیں ، ہماری امی کہاں ہے؟

 از: خرم خلیق 

 

Ankahi – ان کہی April 12, 2017

Posted by Farzana Naina in British Pakistani Poetess, Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Naina, Nazm, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
2 comments

‘‘ اَن کہی ’’

اَن کہی کے حسن میں کچھ دیر تو ڈوبے رہو

 زندگی خود  میں  اترنے  کی  جو  دے  مہلت ذرا

خواب نگری کے ہر اک کونے کے آئینے تکو

دھوپ چھاؤں آنکھ سے آنکھوں کی ڈبیوں میں رکھو

رات کے پُل پر ہوا کے راگ میں گم صم رہو

چاندنی کی تتلیوں کو رقص میں شامل کرو

روح میں بہتے ہوئے احساس کی لہریں گنو

عمر کے بکھرے ہوئے سیپوں سے کچھ موتی چُنو

چاند سے لپٹی ہوئی بدلی کی چھاؤں میں چلو

بربطوں کی تال پر اک ماورا منظر بُنو

پتھروں کی نیلی محرابوں کے جنگلے کاٹ دو

کہر میں کھوئے ہوئے رستوں پہ  سرگرداں رہو

سبز پریوں کا یہ میلہ روز تو لگتا نہیں

عشق پنچھی اپنے پر دوبارہ پھیلاتا نہیں

پھر کہاں وارفتگی سے ہوگا کوئی منتشر

آرزوؤں کے نگر میں یوں تمہارا منتظر

کہہ دیا سب کچھ تو یہ سارا فسوں مٹ جائے گا

ہر ستارہ کہکشاں کی بھیڑ میں کھو جائے گا

ان کہی کے حسن میں کچھ دیر تو ڈوبے رہو

 !!!ڈوبے رہو کچھ دیر  اور۔۔۔۔ ۔ 

فرزانہ نیناں

Ankahi ke husn mein kuch deir tau doobe raho

Zindagi khud mein uterne ki jo de mohlut zara

Khwab’nagri ke har ik kone ka aaeene tako

Dhoop chaa’on aankh se aankhon ki dibiyon mein rakho

Raat ke pull par hawa ke raag mein gum sum raho

Chandni ki titliyon ko raqs mein shamil karo

Rooh mein behte huey ehsaas ki lehrein gin’no

Umr ke behte huey seepon se kuch moti chuno

Chand se lipti hui badli cha’aon mein chalo

Barbat’ton ki taal par ik maa’wra manazar buno

Pat’tharon ki neeli mehraabon ke jungle kaat do

Kohur mein khoye huey raston pe sardar’daan raho

Sabz pariyon ka ye mela roz tau lagta nahein

Ishq panchi apne par dobara pheilata nahin

Phir kahan waa’raftgi se hoga koi muntashir

Aarzo’on ke nagar mein raah par yun mantazir

Keh diya sab kuch…..tau ye sara fusoon mitt jaey ga

Har sitara keh’kashan ki bhee’rr mein kho jaey ga

An’kahi ke husn mein kuch deir tau doobe raho

Doobe raho, kuch deir aur……………. !!!

~ Farzana Naina.

Golden bar 1

Khush Manzari – خوش منظری April 9, 2017

Posted by Farzana Naina in Farzana, Farzana Naina, Feelings, Flowers, Ghazal, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Naina, Nazm, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Thoughts, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
2 comments

3 Pink Flower bar

خوش منظری

.چیری کے پیڑوں پہ پھولوں سے لدی یہ ڈالیاں !
میری آنکھوں میں کسی جنگل کی جیسے ہرنیاں
کس محبّت سے ترے نغمے سناتی ہیں مجھے
میٹھی آوازوں کی پائل سے جگاتی ہیں مجھے
تیز رفتاری سے کتنی دور تک جاتا ہے دل
کان میں چپکے سے کہتا ہے کوئی : آ مجھ سے مِل
اب بھی اونٹوں کے گلے میں بج رہی ہیں گھنٹیاں
اب بھی صحرا میں سنہری شام کی ہیں سرخیاں
کیا کہوں میں خواب جیسے اِس فسانے کے لئے
پھول تو ہوتے ہیں دریا میں بہانے کے لئے
دائروں میں جھوم کر آتا پہاڑی سے دھواؑں
اُڑتے اُڑتے مجھ پہ رکھ جاتا ہے اک کوہِ گراں

( فــرزانـہ نیــناںؔ )

Azeem Mighty Poets October 29, 2013

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Feelings, Ghazal, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Nazm, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Urdu Shairy.
add a comment

شاعری کرنے کے باوجود مجھے شاعروں کا رویہ کبھی سمجھ نہیں آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! ۔

ہر ایک اپنے آپ کو عظیم کہتا اور سمجھتا ہے، اب تو میری بھی ایک عمر ہوگیٔ ہے ان سب کو دیکھتے سنتے، چاہے کویٔ نیا لکھنے والا ہو یا پرانا، اپنے بارے میں وہ وہ لن ترانیاں کہ اللہ کی پناہ!

ہر پل ہر لمحہ اسی کوشش میں رہتے ہیں کہ ان پر داد و تحسین کے ڈونگرے برستے رہیں۔

یہ سب کے سب شیخی مارنے کا کویٔ موقعہ ہاتھ سے نہیں گنواتے، میں تو حیران ہوتے ہوتے اب حیرانگی سے بھی تنگ آ گیٔ ہوں۔

ہر شاعر دوسرے شاعر کو اس قدر کمتر سمجھتا ہے کہ توبہ، برایٗیاں کرتے کرتے ان کے ذہن و دل پر کویٔ بوجھ نہیں پڑتا !!!۔

خاص کر جب سے فیس بک ایجاد ہوا اور وہاں جو شاعروں اور ادیبوں کی جوتم پیزار ہوتی ، جو درگت بنایٔ جاتی ہے اس سے تو ان کے آباء و اجداد کے مردے بھی قبروں میں بلبلاتے ہوں گے۔۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔۔۔ ایک سے ایک اپنے آپ کو عظیم شاعر کہنے اور کہلوانے میں جان توڑ کوششیں کر رہا ہے، ہنسوں نہیں تو اور کیا کروں۔

ہایٔے ہاۓ ، یہ بچارے غالب، میر، اقبال، فیض اور فراز، بیچارے۔

 

Jagjit Singh – جگجیت سنگھ October 10, 2011

Posted by Farzana Naina in Art, Film and Music, Ghazal, Ghazal, Kavita, Mushaira, Music, Nazm, Poetry, Radio, Shairy, Sher, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags:
2 comments

پير 10 اکتوبر2011

بھارت میں غزلوں کے معروف گلوکار اور غزل گائیک جگجیت سنگھ کا ممبئی کے لیلا وتی ہسپتال میں انتقال ہوگیا ہے۔ ان کی عمر ستّر برس تھی۔

گزشتہ ہفتہ برین ہیمبرج کے سبب انہیں ہسپتال میں داخل کیا گيا تھا۔ سوگواروں میں وہ اپنی اہلیہ چترا داس کو چھوڑ گئے ہیں۔

جس روز انہیں ہسپتال میں داخل کیا گیا اس روز وہ ممبئی میں پاکستان کے مشہور زمانہ گلوکار غلام علی کے ساتھ مشترکہ پروگرام پیش کرنے والے تھے۔

جگجیت سنگھ کے ایک ہی بیٹا تھا۔ جو جوانی میں ہی ایک روڈ حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

آزادی کے بعد بھارت میں غزل گائیکی کے فن کے حالات اچھے نہیں رہے تھے لیکن جگجیت نے اس فن کو دوبارہ زندہ کیا اور غزل کو درباروں یا ادب کی محفلوں سے نکال کر عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جگجیت سنگھ غزل گلوکاری کے لیے بھارت میں تو مشہور ہیں ہی لیکن ان کے مداح دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔

جگجیت سنگھ ریاست راجستھان کے شری گنگا نگر میں آٹھ فروری انیس سو اکتالیس میں پیدا ہوئے تھے۔ پیدائش کے وقت ان کا نام جگموہن رکھا گيا تھا لیکن ایک خاندانی ستارہ شناش کی صلاح پر ان کا نام جگجیت سنگھ کر دیا گیا۔

جگجیت سنگھ نے فلموں میں بھی نغمے گائے لیکن بھارت میں انہیں غزل گائیکی کا معمار مانا جاتا ہے جنہوں نے اس فن کو عوام میں مقبول کیا۔

نقاد ان کے فن کو معیاری یا اعلٰی پائے کا نہیں سمجھتے ہیں لیکن نکتہ چینی بھی اس بات کے قائل ہیں کہ انہوں نے غزلوں کو فلمی گیتوں کی طرح عوام تک پہنچایا۔

جگجیت سنگھ پہلے اپنی اہلیہ چترا کے ساتھ مل کر غزلیں گاتے تھے اور ان کے کئی البم کافی مقبول ہوئے۔ لیکن بیٹے کی موت کے بعد چترانے اس پیشہ کو یکسر چھوڑ دیا اور کبھی دوبارہ نہیں گایا۔

گجیت نے لتا منگیشکر کے ساتھ مل کر سجدہ کے نام سے ایک البم بنایا تھا جو بہت مقبول ہوا تھا۔ انہوں نے اوشا منگیشکر کے ساتھ بھی کافی کام کیا۔

انہوں نے بالی وڈ کے معروف نغمہ نگار اور شاعر گلزار کے سات بھی کافی کام کیا اور ان کے ٹی وی سیریل مرزا غالب میں انہوں نے کئی غزلیں پیش کیں جو بہت مقبول ہوئیں۔ غالب کی چند غزلوں کو جگجیت سنگھ نے عوام میں دوام بخشا۔ اس سیریل کی بیشتر غزلیں اب بھی لوگوں کی پسندیدہ ہیں۔

انہوں نے جاوید اختر کے ساتھ بھی کام کیا اور سوز کے نام سے ایک البم تیار کیا جو کافی سنا گیا۔

جگجیت سنگھ کو گھوڑوں سے بہت لگاؤ تھا اور گھوڑوں کی ریس کے شوقین تھے۔ ان کے پاس گھوڑے تھے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے انہوں نے بہت سے لوگوں کی مدد بھی لی تھی۔

بشکریہ بی بی سی اردو

ہفتہ 24 ستمبر 2011

بھارت کے مشہور غزل گو جگجیت سنگھ کی دماغ کی شریان پھٹنے کے بعد ممبئی کے ایک ہسپتال میں ان کا آپریشن کیا گیا ہے۔

ممبئی کے علاقے باندرہ میں واقع ليلاوتی ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ جمعہ کی صبح ہسپتال لائے جانے کے بعد ستّر سالہ جگجیت سنگھ کی سرجری کی گئی تاہم ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے ان کے ایک قربت دار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

انہیں جمعہ کی شام پاکستان کے مشہور غزل گو غلام علی کے ساتھ ایک پروگرام میں شامل ہونا تھا۔

اس سے پہلے جگجیت سنگھ کو سنہ انیس سو اٹھانوے میں دل کا دورہ پڑا تھا اور جسم میں خون کی گردش میں مسائل کی وجہ سے انہیں اکتوبر سنہ دو ہزار سات میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ شاید ان ہی وجوہات کی بناء پر انہیں برین ہیمرج ہوا ہوگا۔

جگجیت سنگھ کے خاندان کے ایک قریبی دوست نے ليلاوتي ہسپتال میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کے دماغ کے ایک حصہ میں خون جم گیا تھا جسے نکالنے کے لئے آپریشن کیا گیا۔

ان کے مطابق، انہیں اگلے اڑتالیس گھنٹے تک انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا جائے گا۔

BBC UK

 

Br’rooh Larkiyon Ka – بے روح لڑکیوں کا ٹھکانہ November 18, 2009

Posted by Farzana Naina in British Pakistani Poetess, Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Ghazal, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Naina, Nazm, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
2 comments

Berooh larkiyon ka thikana bana hua-wordpress

Be’rooh Larkiyon Ka Thikana Bana Hua

Kamrah Hai Mera Aeena’khana Bana Hua

 

Meine Tau Koi Baat Kisi Se Nahi Kahi

Socha Hai Jo Wohi Hai Fasana Bana Hua

 

Nadiya Mein Kis Ne Rakh Diye Jalte Huey Charaagh

Mausam Hai Chasm E Tar Ka Suhana Bana Hua

 

Aurak Ka Zehn Mard Ki Is Kainaat Mein

Abtak Hai Uljhanon Ka Nishana Bana Hua

 

Mumkin Hai Maar De Mujhe Uski Koi Khaber

Dushman Hai Jiska Mera Gharana Bana Hua

 

Baarish Ki Aag Hai Mere Ander Lagi Hui

Baadal Hai Aaso’on Ka Nishana Bana Hua

 

Naina Kai Baras Se Hawa Ki Hon Humnafas

Hai Ye Badan Usi Ka Khazana Bana Hua

Thank you 10Flower magenta 4

Name pink 2 nName pink 2 aName pink 2 iName pink 2 nName pink 2 a

Nariyal Ka Perr – ناریل کا پیڑ August 22, 2008

Posted by Farzana Naina in Kavita, Poetry, Shairy, Urdu.
Tags: , , , , , ,
5 comments
i-dream-of.gif
ساحل کے پاس تنہا

اک پیڑ ناریل کا

اک خواب ڈھونڈھتا ہے

یادوں میں بھیگا بھیگا

آنچل سے نیلے تن میں

آکاش جیسے پیاسے

سیپوں کے ٹوٹے پھوٹے

خالی پڑے ہیں کاسے
وہ ریت بھی نہیں ہے

جس پر لکھا تھا تم نے

ساگر سکوت میں ہے

لہریں بھی سو رہی ہیں

اک قاش بے دلی سے

بس چاند کی پڑی ہے

کومل سی یاد کوئی
تنہا جہاں کھڑی ہے

اُس ناریل کے نیچے  ۔
 
Sparkle Flower tree