jump to navigation

شاعرہ فرزانہ ناز April 28, 2017

Posted by Farzana Naina in Ghazal, Kavita, Nazm, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags:
1 comment so far

آئینہ صفت وقت ترا حسن ہیں ہم لوگ

کل آئینے ترسیں گےتو صورت نہ ملے گی

میں فرزانہ ناز نامی شاعرہ سے چند روز قبل تک واقف نہیں تھی۔۔۔۔ اس واقعے سے ایک دن پہلے فیس بک پر مجھے ان کی فرینڈ ریکویسٹ آئی تھی اور میں نے ایڈ بھی کر لیا تھا۔۔۔ لیکن پروفائل نہیں چیک کیا تھا کہ کون ہے۔۔۔۔ جلد ہی اس حادثے اور پھر انتقال کی خبر بھی آگئی۔۔۔۔۔ اس قدر دلخراش موت پر آنسو رواں ہوئے اور ذہن و دل میں ان کا اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کا خیال مسلسل گردش کر رہا ہے، دعائے مغفرت لبوں پر ہے اور لواحقین کے لیئے اللہ سے صبر کا التماس۔۔۔ وہ بڑا رحیم و کریم ہے

انا لله و انا اليه راجعون

محترمہ ادبی تنظیم کسب کمال کی جنرل سیکریٹری تھیں، مشاعروں میں دو کم سن معصوم بچے اور شوہر بشیر اسماعیل بھی ہمراہ ہو تے، آپ اکثر ادبی تقریبات میں نظامت کے فرائض سر انجام دیتیں ۔

آپ کا اولین شعری مجموعہ “ہجرت مجھ سے لپٹ گئی ہے‘‘ ایک ماہ پہلے ہی منظر عام پر آیا، جس کی تقریب رونمائی تین مئی2017 کو راولپنڈی آرٹس کو نسل میں ہو نا قرار پائی تھی ، لیکن مشیت ایزدی کی منظوری انسانوں کے فیصلوں اور ارادوں سے  بالاتر ہے، کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ فرزانہ منوں مٹی تلے سو جاۓ گی!!! ۔  

پروردگار ان  کے بچوں اور شوہر بشیر اسماعیل صاحب کو صبر جمیل اور فرزانہ ناز صاحبہ کو کروٹ کروٹ   جنت نصیب فر ماۓ ۔ آمین

18157786_10154766952318922_166916374604740528_n

ستم ظریفی دیکھئے کہ جب فرزانہ ناز کو کسی علاج کی حاجت نہ رہی تو گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے لئے یہ پریس ریلیز جاری کی گئی کہ عرفان صدیقی نے اس حادثے کا ذکر فوراً وزیراعظم نواز شریف سے کیا اور ساتھ ہی یقین دہانی کرائی کہ فرزانہ ناز کا علاج حکومت کرائے گی۔۔۔’’مرگئے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا‘‘۔۔۔کے مصداق یہ بھی کہا گیا کو حکومت اس کے بچوں کی تعلیم اور کفالت کا ذمہ اٹھائے گی ، مگر زمینی حقائق دیکھئے کہ جب فرزانہ ناز کی رات دس بجے نمازِ جنازہ ہوئی، تو اِس میں کوئی حکومتی نمائندہ موجود نہیں تھا، حتیٰ کہ انعام الحق جاوید نے بھی شرکت نہیں کی،حالانکہ فرزانہ کو حادثہ اُن کی تقریب میں پیش آیا تھا اور میزبان کی حیثیت سے اُن کا فرض تھا کہ وہ جنازے میں شرکت کر کے اُس کے شوہر اور بچوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ جس پاک چائنہ فرینڈ شپ سینٹر میں یہ حادثہ پیش آیا اُس کا تین دِنوں کا کرایہ28لاکھ روپے ہے، جو سرکاری خزانے سے ادا کیا گیا۔28لاکھ صرف کرائے کی مد میں خرچ کرنے والوں کو ایک شاعرہ کی جان بچانے کے لئے تین لاکھ روپے خرچ کرتے ہوئے اتنی دیر تک سوچنا پڑا کہ اُس کی جان ہی چلی گئی۔ ( منقول)۔

خدائے بزرگ برتر تمہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ درجات عطا کرے فرزانہ ناز ، ہم سب آج غمزدہ ہیں ، ہمارے قلم اداس ہیں ، وہ سب مشاعرے ، وہ تعتیہ محافل ، مسالمے آنکھوں میں فلم کی طرح گھوم رہے ہیں ، جن میں تم ہمارے ساتھ تھی ، میں نے آج بہت سے شاعروں کی آنکھیں نم دیکھیں ہیں ، بہت سی شاعرات کو ہچکیوں سے روتے دیکھا ہے ، تمہارا اسماعیل مجھ سے ہی کیا سب سے لپٹ لپٹ کے فریاد کر رہا تھا ، سب تمہاری زندگی کے لئے دعا گو تھے ، لیکن تم نے موت کو گلے لگا لیا ، ہسپتال سے تمہاری لاش وصول کر کے تمہارے گھر تک گزرے وقت کا ہر منظر سامنے گھومتا رہا ، میں دیکھتا رہا ، تمہاری گلی میں سب سے ملا ، لیکن تمہارے معصوم بچوں سے نہیں ملا ، کہیں وہ پوچھ نہ لیں ، ہماری امی کہاں ہے؟

 از: خرم خلیق 

 

ایم اے راحت April 24, 2017

Posted by Farzana Naina in Jasoosi Adab, Urdu Fiction Writer, M A Rahat, Literature, Pakistani, Urdu, Urdu Literature.
1 comment so far

18121445_10211088392660259_3392341006876922325_o

نامور مصنف ایم اے راحت لاہور میں انتقال کر گئے ۔ ایم اے راحت نے 1500 سے زائد کرائم اور جاسوسی کہانیوں کے ناول لکھے۔ ایم اے راحت کو طبیعت خرابی پر چار روز قبل اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

۔۔ایم ۔اے راحت نے ابن صفی کے بعد جاسوسی ادب کو نئی جہتوں سے متعارف کروایا ۔۔
لاکھوں لوگوں کو کتب بینی کا چسکہ لگانے والے ایم ۔اے راحت کی تصانیف کی فہرست اس قدر طویل ہے کہ کسی بھی شخص کے لیے ان کی لکھی تصانیف کے صرف نام ہی احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں ۔۔۔افسوس کہ ان کی زندگی میں ان کو ان کے شایان شان مقام نہیں دیا جا سکا ۔۔۔
ساڑھے گیارہ سو ناول ۔۔ اور ساڑھے تین ہزار کہانیاں اور افسانے لکھنے والے اپنے پچھے صرف ایک داستان چھوڑ کر رخصت ہو گئے ۔

قربت میں برابر کے شریک لعنتیوں کی بلیک میلنگ April 20, 2017

Posted by Farzana Naina in Abuse, Black Mail, Harassment, Internet, Internet crimes, News, Pakistan, Pakistani, Scandal, Sexual harassment, Urdu.
1 comment so far

انٹرنیٹ پر خواتین کو پرائیویٹ ویڈیوز کی بنیاد پر بلیک میل کرنے کے واقعات

ریپ اور بدنامی کا خوف

ہزاروں لڑکیوں اور خواتین کو ان کی پرائیویٹ وڈیوز کی بنیاد پر ہراساں کیا جا رہا ہے

شمالی افریقہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشا سمیت دنیا کے اکثر قدامت پسند معاشروں میں ہزاروں جوان خواتین کو ان کی نجی تصاویر اور جنسی مناظر کی وجہ سے ہراساں اور بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے بی بی سی نے خصوصی رپورٹ تیار کی ہے جس میں اس رجحان کا مختلف زاوئیوں سے جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔

ذیل میں ڈینئل سلاس ایڈمسن نے جائزہ لیا ہے کہ سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا جیسی جدید ٹیکنالوجی کس طرح ان معاشروں میں عزت، شرم اور بے شرمی جیسے تصورات اور روایات سے ٹکرا رہی ہے۔

پاکستان میں ایک غیر سرکاری تنظیم بھی آن لائن دنیا کو خواتین کے لیے محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس تنظیم کی سربراہ نگہت داد کہتی ہیں کہ ’ہر روز دو یا تین خواتین ان کی تنظیم سے رابطہ کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ انھیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ سالانہ نو سو خواتین۔ ‘

’جب خواتین کسی کے ساتھ رشتے میں ہوتی ہیں تو وہ اپنی تصویریں اور ویڈیو شیئر کر تی رہتی ہیں۔ اور اگر یہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے، اور اس کااختتام اچھا نہیں ہوتا، تو دوسرا فریق اس مواد کو استعمال کرتا ہے اور خاتون کو بلیک میل کرتا ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف یہ ہوتا ہے کہ لڑکی اسی رشتے میں بندھی رہے بلکہ اس سے ان تصاویر کی بنیاد پر ہر الٹا سیدھا کام کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘

اب پاکستان میں بات بلیک میل سے آگے نکل گئی ہے۔ نگہت داد کہتی ہیں کہ اب انھیں سمارٹ فونز اور جنسی تشدد کے درمیان تعلق کے واقعات میں بھی اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔

‘اس کا آغاز تو ایسی تصاویر سے ہوا جن میں مرد اور خاتون نے اپنی قربت کے لمحات کو محفوظ کیا ہوتا تھا، لیکن اب اس قسم کی تصاویر اور ریپ کے واقعات میں بھی تعلق نظر آ رہا ہے۔ سمارٹ فونز جیسی نئی ٹیکنالوجی سے پہلے، جب ریپ جیسے جرائم کا ارتکاب کرنے والے کچھ کرتے تھے تو انھیں معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ خاتون کو خاموش کیسے کرائیں۔ لیکن اب ٹیکنالوجی کی وجہ سے ریپ کے کلچر نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے کیونکہ اب ایسے مجرم خاتون کی ویڈیو بنا لیتے ہیں اور پھر اس کی بنیاد پر اسے دھمکیاں دیتے ہیں کہ اگر اس نے زبان کھولی تو اس کی ویڈیو انٹرنیٹ پر لگا دیں گے۔’

دوسری جانب سنہ 2009 میں ایک اٹھارہ سال مصری لڑکی، غدیر احمد، نے اپنے بوائے فرینڈ کو اپنی ایک چھوٹی سی ویڈیو بھیجی جس میں وہ ایک گھر میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ ڈانس کر رہی تھیں۔ اس وڈیو میں کوئی جنسی مواد نہیں تھا، لیکن اتنا ضرور تھا کہ ویڈیو میں غدیر نے جو لباس پہنا ہوا تھا اس میں ان کا جسم دکھائی دے رہا تھا اور وہ بلا جھجک ناچ رہی تھیں۔

تین سال بعد جب دونوں کا رشتہ ٹوٹ گیا تو غدیر کے بوائے فرینڈ نے ان سے انتقام لینے کی نیت سے ویڈیو یوٹیوب پر چڑھا دی۔ جب غدیر کو معلوم ہوا تو وہ بہت گھبرا گئیں۔ وہ جانتی تھیں کہ یہ سارا معاملہ – ڈانس، ان کا لباس اور اس پر بوائے فرینڈ کا ہونا – یہ تمام باتیں ان کے والدین بالکل قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی مصری معاشرہ جس میں خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنا جسم ڈھانپ کر رکھیں اور ان کو حیا کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔

ویڈیو کے پوسٹ کیے جانے کے بعد کے سالوں میں غدیر نے اس سے ڈرنا چھوڑ دیا اور خود ’مصری انقلاب‘ کا حصہ بن گئیں۔ انھوں نے حجاب لینا چھوڑ دیا اور خواتین کے حقوق کی وکیل بن گئیں۔

انھیں اس بات پر بہت غصہ آیا کہ ایک مرد نے انھیں یوں بدنام کرنے کی کوشش کی اور پھر انھوں نے اپنے سابق بوائے فرینڈ کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کر دی۔ اگرچہ وہ ہتک عزت کا مقدمہ جیت گئیں، لیکن ان کی جو ویڈیو یو ٹیوب پر جا چکی تھی وہ وہاں پڑی رہی۔ اس وڈیو کے وجہ سے غدیر کو کئی مردوں نے معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی ہراساں کیا اور اپنے فیس بُک صفحات پر غدیر کی ویڈیو شیئر کر کے انھیں برا بھلا کہا۔

غددیر احمد : آئیں اور میری ویڈیو دیکھیں، دیکھیں کہ میں کتنی اچھی ڈانسر ہوں۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ میں اس پر شرمندگی محسوس کروں’۔

سوشل میڈیا وغیرہ پر لوگوں کی گالم گلوچ سے تنگ آ کر سنہ 2014 میں غدیر نے اپنی وہی ویڈیو اپنے فیس بُک صفحہ پر خود پوسٹ کر دی۔ تصویر کے ساتھ انھوں نے لکھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی خاتون کے جسم کو اس کے خلاف استعمال کر کے اسے بدنام کرنے کا سلسلہ ختم ہو۔ غدیر نے لکھا کہ ‘آئیں اور میری ویڈیو دیکھیں، دیکھیں کہ میں کتنی اچھی ڈانسر ہوں۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ میں اس پر شرمندگی محسوس کروں۔’

لیکن غدیر افریقہ اور مشرق وسطیٰ کی ان ہزاروں نوجوان لڑکیوں اور خواتین کے مقابلے میں بہت بے باک ہیں جو اپنی نجی تصاویر کے حوالے سے بلیک میلنگ کا شکار ہو رہی ہیں۔

بی بی سی کو اس رپورٹ کی تیاری کے دوران معلوم ہوا کہ ہزاروں لڑکیوں اور خواتین کو ان کی پرائیویٹ ویڈیوز کی بنیاد پر ہراساں کیا جا رہا ہے اور لوگ انھیں بآسانی بلیک میل کر لیتے ہیں۔ ان ویڈیو کلپس میں ہلکے پھلکے فلرٹ کے مناظر سے لیکر گینگ ریب جیسی جنسی زیادتیوں کے مناظر شامل ہوتے ہیں۔

جہاں تک انتقامی بنیاد پر جنسی زیادتی کے مناظر (ریونج پورن) کا تعلق ہے تو یہ مسئلہ دنیا کے تقریباً ہر ملک میں پایا جاتا ہے۔ لیکن کچھ معاشروں میں جنسی مناظر کو خواتین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جانے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ ان معاشروں میں عزت اور شرم جیسے مسائل بہت اہم سمجھے جاتے ہیں۔

اردن کے دارالحکومت میں مقیم ماہر نفسیات اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی، انم العشہ کہتی ہیں کہ ‘ مغرب کا کلچر مخلتف ہے۔ وہاں ایک لڑکی کی برہنہ تصویر شاید صرف ایک لڑکی کو متاثر کرے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ایسی تصویر اس لڑکی کی موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اور اگر اس کی طبعی زندگی ختم نہیں بھی ہوتی، ایسی لڑکی معاشرتی اور نفیساتی لحاظ سے مر جاتی ہے۔ لوگ اس سے ملنا جلنا چھوڑ دیتے ہیں وہ معاشرے سے کاٹ دی جاتی ہے۔’

اس قسم کے واقعات کی اکثریت کے بارے میں آپ کو معلوم ہی نہیں ہوتا کیونکہ لوگ ایسے واقعات کے بارے میں پولیس کو بتاتے ہی نہیں۔ تاہم ایک درجن سے زیادہ ممالک میں وکلاء، پولیس اور سماجی کارکنوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا نے خواتین کو بدنام اور بلیک میل کرنے کی اس وبا میں بہت اضافہ کر دیا ہے جو اس ٹیکنالوجی سے پہلے ڈھکی چھُپی تھی۔

جدید ٹیکنالوجی

جدید ٹیکنالوجی اور روایات کے درمیان جنگ کی وجہ سے خواتین کو بلیک میل کرنا آسان ہو گیا ہے

اردن، مصر، غرب اردن، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک میں اس وبا میں اضافہ ہو چکا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی پولیس کے سائبر کرائم یونٹ کی معاونت کرنے والے سماجی کارکن کمال محمد کہتے ہیں کہ ‘ بعض اوقات اس مقصد کے لیے جو تصویریں استعمال کی جاتی ہیں ان میں کوئی جنسی بات نہیں ہوتی۔ مثلاً کسی لڑکی کی بغیر حجاب کے تصویر بھی سکینڈل بن سکتی ہے۔ کوئی مرد اس تصویر کو عام کرنے کی دھمکی دے کر لڑکی سے اس کی مزید تصویریں حاصل کر سکتا ہے۔’

کمال محمد کا کہنا ہے کہ ‘خلیجی ممالک میں خواتین کی بلیک میلنگ کا مسئلہ بہت زیادہ ہو گیا ہے اور بڑے پیمانے پر خواتین کو اس کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خاص طور پر سعودی عرب، امارات، کویت، قطر اور بحرین میں یہ بہت زیادہ ہے۔ کئی لڑکیوں نے ہمیں بتایا کہ اگر ان کی تصویریں عام کر دی گئیں تو انھیں شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔’

جنوبی ایشیائی ممالک میں بھی سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے ذریعے خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انڈیا کے سپریم کورٹ کے وکیل پون دُگال کہتے ہیں ملک میں خواتین کی ڈیجیٹل تصاویر کے کیسز اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی سیلابی ریلا ہو۔ ‘میرا اندازہ ہے کہ انڈیا میں روزانہ اس قسم کے ہزاروں واقعات ہو رہے ہیں۔’

بتشکر: بی بی سی اردو

 

Ahmed Mirza Jamil changed the way of Urdu March 20, 2014

Posted by Farzana Naina in Literature, Pakistan, Pakistani, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
add a comment

Ahmed Mirza Jamil changed the way all Urdu newspapers and books would be published anywhere in the world; and he did it back in 1981 with his Noori Nastaliq script that gave the Midas touch to desktop publishing.

Ahmed Mirza Jamil-640x480

The present-day Urdu publishing owes its elegant contours to the calligraphic skills of this great wizard of calligraphy.

Before being used in the composing software, InPage, the Noori Nastaliq was created as a digital typeface (font) in 1981 when master-calligrapher Ahmed Mirza Jamil and Monotype Imaging (then called Monotype Corp) collaborated on a joint venture.

Earlier, Urdu newspapers, books and magazines needed manual calligraphers, who were replaced by computer machines in Pakistan, India, UK and other countries.

The government of Pakistan recognised Ahmad Mirza Jamil’s singular achievement in 1982 by designating Noori Nastaliq as an ‘Invention of National Importance’ and awarded him with the medal of distinction, Tamgha-e-Imtiaz.

In recognition of his achievement, the University of Karachi also awarded him the degree of Doctor of Letters, Honoris Causa.

Narrating the history of his achievement in his book, ‘Revolution in Urdu Composing’, he wrote: “In future, Urdu authors will be able to compose their books like the authors of the languages of Roman script. Now, the day a manuscript is ready is the day the publication is ready for printing. There is no waiting for calligraphers to give their time grudgingly, no apprehension of mistakes creeping in, nor any complaints about the calligraphers or operators not being familiar with the language.

“Soon our future generations will be asking incredulously whether it was really true that there was a time when newspapers were painstakingly manually calligraphed all through the night to be printed on high speed machines in the morning. Were we really so primitive that our national language had to limp along holding on to the crutches of the calligraphers that made the completion of books an exercise ranging from months to years depending upon their volume.”

Noted Urdu litterateur Ahmed Nadeem Qasmi paid tribute to Ahmed Mirza Jamil during his lifetime.

He said, “The revolution brought about by Noori Nastaliq in the field of Urdu publishing sends out many positive signals. It has at last settled the long-standing dispute about Urdu typewriter’s keys that had raged from the time Pakistan was born. The future generations will surely be indebted to him for this revolution.

Dr Ahmed Mirza Jamil passed away unsung on February 17, 2014. May his soul be blessed.

Published in The Express Tribune, March 15th, 2014.

بچوں کا ادب August 10, 2012

Posted by Farzana Naina in Literature, Pakistan, Pakistani, Urdu, Urdu Literature.
Tags:
add a comment

بچوں کا ادب: ادبیات‘ اسلام آباد

مدیر: محمد عاصم بٹ

صفحات: 493

قیمت: دو سو روپے

پاکستان میں ہی کیا دنیا بھر کی مختلف زبانوں میں بچوں کے ادب کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اسے دی جانی چاہیے۔ یہ شکایت ان ملکوں میں بھی ہے جنھیں ترقی یافتہ اور بچوں کے معاملات میں انتہائی حسّاس سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور اس دور میں جب کمپیوٹر تیزی سے ہر شعبے میں کاغذ پر شائع ہونے والے مواد کی جگہ لیتا جا رہا ہے کاغذ پر شائع ہونے والے اور شائع کرنے والوں نے از خود ہی پسپائی اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔

تاہم پاکستان اور پاکستان جیسے دوسرے ملکوں میں اس بات کی گنجائش ہے کہ کاغذ پر شائع ہونے والا مواد اپنا کردار ادا کرے کیوں کہ ان کے ہاں ابھی کمپیوٹر اس طرح زندگیوں کا حصہ نہیں بنا جیسا کہ بہت سے ملکوں میں بن چکا ہے اور بچے تک کمپیوٹر اس سے حد تک واقف ہیں کہ ہمارے ہاں کے بڑے بھی نہیں ہیں۔

پاکستان میں ایک زمانہ تھا جب بچوں کے لیے رسالے اور کتابیں باقاعدگی سے شائع ہوتی تھیں اور انھیں پڑھنے کا رحجان بھی تھا۔ خاص طور پر متوسط طبقے کا شاید ہی کوئی گھر ایسا ہوتا تھا جہاں بچوں کا کوئی رسالہ ہر ماہ نہ آتا ہو۔ لیکن ستر اور اسّی کی دہائی کے دوران کچھ ایسا ہوا کہ آہستہ آہستہ بچوں کے رسالے شائع ہونا بند ہونے لگے اور اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے شائع ہونے والی کتابیں بھی۔

اب کتابوں کی دکانوں اور اخبار وجرائد بیچنے والوں کی دکانوں پر اوّل تو بچوں کے رسالے اور کتابیں ہوتے ہی نہیں اور اگر ہوتے ہیں تو انتہائی کم تعداد میں۔ بڑے شہروں کی بڑی دکانوں اور شاپنگ مالز میں ضرور دکانوں پر بچوں کے لیے انتہائی عمدہ چھپی ہوئی مہنگی کتابیں موجود ہوتی ہیں لیکن ان میں اردو یا کسی اور قومیتی زبان کی کتاب کم ہی دکھائی دیتی ہے۔

یہ صورتحال پاکستان کی بدلتی ہوئی سماجی شکل کا اظہار کرتی ہے اور اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں صورتحال کیا ہونے والی ہے۔ انگریزی یا کسی بھی زبان کا بڑھنے میں کوئی خرابی نہیں لیکن اس کی وجہ سے ملک کی اپنی بڑی اور دوسری زبانوں سے توجہ کا ہٹنا کسی بھی طرح اچھی علامت نہیں۔

اس پورے پس منظر میں اکادمی ادبیات پاکستان، نے سہ ماہی ’ادبیات‘ نیا شمارہ شائع کیا ہے۔ پیش نظر شمارہ جریدے کا شمارہ نمبر 95-94 ہے۔ شمارے کے نمبر ہی واضح ہو جاتا ہے کہ یہ جریدہ کتنی باقاعدگی سے شائع ہوتا ہے۔

یہ شمارہ بچوں کے ادب کے بارے پہلے شائع ہونے والے حصے کا جز ہے۔ پہلے حصے یا جلد اوّل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس میں بچوں کے بین الاقوامی ادب سے خصوصی انتخاب پیش کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور حصے کی خبر بھی دی گئی ہے جو ’پاکستانی ادب: حصہ نثر‘ ہو گا۔

حصہ نظم میں کل تقریباً تین سو تراسی تخلیقات اور تراجم ہیں۔ حصہ حمد میں پندرہ تخلیقات ہیں جن میں ماضی سے منتخب کی جانے والی حمدیں بھی اور شاید نئی اور پہلی بار شائع ہونے والی بھی۔ یقین سے کچھ اس لیے نہیں کہا جاسکتا کہ کسی بھی تخلیق پر اس کی تخلیق کا سال نہیں ہے لیکن الطاف حسین حالی جیسے ناموں کو دیکھ کر یہ تو یقین سے کہا ہی جا سکتا ہے کہ ماضی سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔

اس کے بعد نعتوں کا حصہ جس میں سولہ نعتیں ہیں۔ جن میں میر حسن دہلوی، مولانا احمد رضا خان اور مولانا حالی کی نعتیں بھی ہیں۔ تیسرا حصہ سوہنی دھرتی کے نام سے قائم کیا گیا ہے جو چودہ نظموں پر مشتمل ہے۔ اسی طرح ملت کا پاسباں، کلاسیکی شاعری سے انتخاب، نظم کہانی، تمثیل اور اثاثہ کے نام سے حصے بنائے گئے ہیں۔

ایک خاصا بڑا حصہ پاکستانی زبانوں کا ادب کے نام سے قائم کیا گیا ہے، اس میں بلوچی، براہوی، پستوں، ہندکو، سندھی، پنجابی، سرائیکی اور پوٹھوہاری میں بچوں کے لیے لکھی جانے والی نظموں کے تراجم ہیں۔

اس کے علاوہ اس شمارے کا سب سے دلکش اور قابلِ تعریف پہلو بچوں کی مصوری کے نمونے ہیں جو ہر حصے کی ابتدا پر لگائے گئے ہیں۔ اور نوجوان مصوروں کے تعارف کے ساتھ ساتھ ان کی تصاویر بھی شائع کی گئی ہے۔ یہ اقدام بہت عمدہ ہے اس سے ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہی نہیں ہو گی انھیں مصوری جاری رکھنے کی تحریک بھی ملے گی۔

یہ غالباً اردو میں بچوں کی شاعری کی ایک ایسی جلد ہے جس میں نہ صرف اردو شاعری کا بہت بڑا حصہ جمع کر دیا گیا ہے بلکہ پاکستان کو دوسری قومیتی زبانوں میں بچوں کے لیے لکھی جانی والی شاعری بھی موجود ہے۔

اس مبصر کی نظر سے اب تک اردو میں ایسا کوئی انتخاب نہیں گزرا جس میں بچوں کی شاعری کا اتنا بڑا ذخیرہ ایک جگہ موجود ہو۔ پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر کسی کو پاکستان میں بچوں کی شاعری کے بارے میں جاننا ہو تو یہ ایک شمارہ ہی خاصے معقول تعارف کے لیے کافی ہے۔

اس حصے کو مرتب کرنے والے اس کا کچھ نہیں کر سکتے کہ بہت سے نظموں کی زبان بچوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔ بچوں کے لیے لکھنے والے تمام لوگوں کو اس بات پر ضرور توجہ  دینی چاہیے۔

بشکریہ: انور سن راۓ، بی بی سی

New Pakistani Movies April 11, 2011

Posted by Farzana Naina in Pakistan, Pakistani, Urdu.
Tags: ,
1 comment so far

پاکستان میں فلمیں تو گنی چنی بنتی ہیں۔ مگر جہاں ایک طرف ہدایت کار شعیب منصور کی فلم ’بول‘ ریلیز ہو رہی ہے، دوسری طرف چھوٹے پیمانے کی فلم ’گول چکر‘ بھی سکرین پر آنے والی ہے۔

جلد ہی ریلیز ہونی والی فلم ’گول چکر‘ میں ایک کردار کینڈی نامی شخص ہیں۔ کینڈی ان نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو اپنے رات دن اسلام آباد کے اہم شاپنگ مرکز جناح سوپر میں گزارتے ہیں۔ اسلام آباد کے نوجوان ان کو ‘جناح بوائز‘ کہتے ہیں۔ یہ وہ لڑکے ہیں جن کا کام ہی گاڑیوں میں بلند آواز میں گانے لگا کر جناح سوپر میں لڑکیوں کو تنگ کرنے کے لیے چکر لگانا ہے۔

فلم گول چکر کی ہدایت کاری اسلام آباد کے دو نوجوان عائشہ لینیا اختر اور شہباز شگری نے کی ہے۔ عائشہ نے حال ہی میں ایک اور آزاد فلم ’سلیکستان‘ میں اداکاری کی تھی، اور اس کے بعد عائشہ کو ایک فلم بنانے کا خیال آیا۔

’جناح بوائز‘ کے بارے میں عائشہ نے کہا کہ یہ اسلام آباد کی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ’جن کو ہم جناح بوائز کہتے ہیں، ان کا تعلق میرے اور شہباز کے سماجی طبقے سے نہیں ہے، مگر کینڈی کردار بنانے کا مقصد ان کا مذاق اڑانا نہیں تھا۔ ہمارا مقصد جناح بوائز کا نرم پہلو دکھانا تھا۔‘

اس فلم کی سرمایہ کاری خود عائشہ اور شہباز ہی نے کی ہے اور اس کی لاگت تقریباً دو لاکھ روپے کی تھی۔ جہاں عائشہ نے فلم سلیکستان میں اداکاری کی ہے اور پھر گول چکر فلم بھی بنائی ہے لیکن اس سے قبل، کینڈی کے کردار کے گرد بیس منٹ کی ’سول سرچ‘ نامی فلم فیس بک اور یو ٹیوب پر ریلیز کی تھی۔ اس بیس منٹ دورانیے کی مقبولیت کے بعد عائشہ اور شہباز کو انہی کرداروں پر مبنی ایک لمبے دورانیے کی فلم بنانے کا حوصلہ ملا ۔

چونکہ پاکستان میں گنی چنی فلمیں بنتی ہیں، اسی لئے ایسی آزاد یا چھوٹے پیمانے کی فلموں کو توجہ زیادہ ملتی ہے۔ جیسے بھارت میں ایک ہزار فلموں میں دو درجن ایسی فلمیں ریلیز ہوں تو آدمی اتنا نہیں سوچتا۔ لیکن یہاں کیونکہ باقی آپ کے ارد گرد کچھ نہیں ہے تو ہمارے ہاں باقی اس طرح کی دو تین فلمیں آ جاتی ہیں، تو ان کو اس لئے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ اور کچہ نہیں ہے ۔۔۔ حسن زیدی۔

فلم بناتے وقت عائشہ اور شہباز نے اس کے ریلیز کے بارے میں زیادہ سوچا نہیں تھا۔ ’ہم اس کو فیس بک اور یوٹیوب پر ریلیز کر ہی نہیں سکتے۔ اس کا دورانیہ پینتالیس منٹ سے ایک گھنٹے کا ہو سکتا ہے۔ تو ہم نے لوگوں سے نجی محفلوں میں نمائش کے لئے اور ڈی وی ڈی کے تقسیم کرنے والوں سے بات کر لی ہے۔‘

چند ماہ پہلے جب ’سلیکستان‘ کو پاکستانی سینسر بورڈ نے نازیبا زبان کے باعث پاس نہیں کیا، تو اس کے ہدایت کار حماد خان نے فلم کو نجی محفلوں میں دکھانا شروع کیا، انٹرنیٹ پر ریلیز کیا اور فلمی میلوں میں نمائش کی۔

فلم نقاد، ہدایت کار اور کراچی فلم فیسٹول کے سربراہ حسن زیدی نے کہا کہ شروع میں ایسا جذبہ تو اچھا ہوتا ہے۔’جب ہم نے اپنی پہلی فلم بنائی تھی تو یہ نہیں سوچا تھا کہ اس کا آگے کیا کرنا ہے کیونکہ ہمیں پتہ ہی نہیں تھا۔شروع میں یہ اچھی چیز ہوتی ہے کہ لوگوں کہ پاس اتنا جذبہ ہے۔‘

حسن زیدی کا یہ بھی کہنا تھا کہ چونکہ پاکستان میں گنی چنی فلمیں بنتی ہیں، اسی لئے ایسی آزاد یا چھوٹے پیمانے کی فلموں کو توجہ زیادہ ملتی ہے۔ جیسے بھارت میں ایک ہزار فلموں میں دو درجن ایسی فلمیں ریلیز ہوں تو آدمی اتنا نہیں سوچتا۔ لیکن یہاں کیونکہ باقی آپ کے ارد گرد کچھ نہیں ہے تو ہمارے ہاں باقی اس طرح کی دو تین فلمیں آ جاتی ہیں، تو ان کو اس لئے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ اور کچہ نہیں ہے۔

دوسری جانب، سال دو ہزار سات کی مقبول فلم ’خدا کے لئے‘ کے ہدایت کار شعیب منصور بھی جلد اپنی نئی فلم ’بول‘ ریلیز کر رہے ہیں۔ فلم نقاد اور ہدایت کار عمر خان نے اس کے بارے میں کہا کہ ’سلیکستان‘، ’گول چکر‘، ’بول‘ اور انکی اپنی بنائی ہوئی ڈراؤنی فلم ’ذبح خانہ‘ کے شائقین مختلف ہیں۔

حسن زیدی کا کہنا ہے کہ ’خدا کے لئے‘ کے بعد، شائقین میں ’بول‘ سے بہت توقعات وابسطہ ہیں۔ ’بول کے پیچھے ایک بہت بڑا میڈیا ہاؤس اس کی مشہوری کرے گا، جو اس کے پرڈیوسر بھی ہیں اور خدا کے لئے کی وجہ سے شعیب منصور کا کافی نام ہے، اور امید ہے کہ لوگ اس کو دیکھنے ضرور جائیں گے۔‘

ایک بات تو طے ہے۔ پاکستان میں فلمی صنعت کا ماتم بہت ہوا ہے، لیکن گول چکر اور بول جیسی فلموں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فلم بنانے کا جذبہ ابھی مرا نہیں ہے۔

بشکریہ بی بی سی


MUMKIN HAI

DIN PARESHAN HAI

Bhutto – The Movie May 17, 2010

Posted by Farzana Naina in Karachi, News, Pakistan, Pakistani, Politics, Sindh.
Tags: , ,
add a comment

پاكستان كى سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو كى زندگى پر کلِک مارک سیگل نے ’بھٹو‘ كے نام سے ایك دستاویزى فلم بنائى ہے۔۔كینیڈا كے مشہور دستاویزى فلمى میلے ’ہاٹ ڈاكس‘ میں ایک سو پندرہ منٹ دورانیے پر محیط اس فلم كی نمائش کی گئی ہے۔

اس فلم میں بختاور بھٹو زردارى كا تیار كیا ھوا نغمہ بھى شامل كیا گیا ہے۔

فلم میں بھٹو خاندان كو امریكہ كے كینیڈى خاندان سے مشابہت دى گٰئى ہے۔ اس فلم میں بینظیر، ان كے والد ذوالفقار على بھٹو اور شوہر آصف على زردارى كى شخصیتوں كا احاطہ كیا گیا ہے۔

کلِک فلم كى كہانى پاكستان بننے سے پہلے سےشروع ہوتى ہے اور اس میں پاكستان كا كیس بطور ’نیوكلیئر نیشن‘ یعنی جوہری ملک بہت اچھے طریقے سے پیش كیا گیا ہے۔

اس میلے میں فلم كا افتتاحى شو یکم مئی کو ہوا جس كے لیے تمام ٹکٹ پہلے ہى بِك ہو گئے تھے لیکن اس کے باوجود لوگوں كى ایك بڑى تعداد بارش كے باوجود مشہور بلور سنیما گھر كے باہر چانس كى ٹكٹوں پر داخلے كے لیے انتظار كرتى رہى۔
اس فلم كو جنورى میں مشہور امریكى فلمى میلوں سن ڈانس فلم فیسٹویل اور شكاگو فلم فیسٹیول میں اعزازت ملے ہیں

میلے میں فلم کا دوسرا شو چار مئی کو ہے۔

فلم میں پاكستان كے سابق صدر پرویزمشرف، دانشور طارق على، صنم بھٹو، دفاعی امور کے ماہر شجاع نواز، امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانى، امریکہ کی سابق وزیر خارجہ كنڈولیزا رائس، بینظیر کے شوہر آصف على زردارى، برطانوى صحافى كرسٹینا لیمب، بینظیر کے دوست اور مشیر مارك

سیگل اور مسلم لیگ نواز كے رہنما خرم دستگیر كے علاوہ بینظیر كے تینوں بچوں كے انٹرویو قابل ذكر ہیں۔

اس فلم كو میلے کی پانچ اہم دستاویزی فلموں میں شمار كیا جا رہا ہے اور حال ہى میں اقوام متحدہ كى بینظیر قتل پر تفتیشى رپورٹ نے اس فلم كى اہمیت بڑھا دى ہے۔

فلمى مبصر اس فلم كو اس سال كى بہترین دستاویزى فلم كے اعزاز كى توقع كر رہے ہیں۔

فلم میں بتایا گیا ہے كہ بینظیر كے بچے كن مشكلات سے گزرے جب وہ ان سے دور تھیں اور وہ كس طرح پلے بڑھے۔ جب بینظیر ان سے دور ہوتیں تو بچے ان كے لیے نظمیں لكھتے تھے۔

اس فلمى میلے میں شریك پاكستانى نژاد كینیڈین فلمساز حارث شیخ نے فلم پر تبصرہ كرتے ہوے كہا كہ ’اس فلم ’بھٹو‘ سے پاكستان كے بارے میں مغربى ناظرین كو بہت كچھ نیا ملے گا اور یہ ایك اچھى دستاویزى فلم ہے۔‘ (حارث شیخ اس میلے میں پیغمبر اسلام كے گستاخانہ كارٹونوں كے متعلق

بنائى اپنى فلم ’بلاسفیمى‘ پرموٹ كر رہے ہیں۔)

فلم میں صدر آصف على زردارى كى زندگى جس میں بچپن سے لے كر بےنظیر سے شادى اور پھر صدارت تك پہنچنے تك كے بارے میں بہت دلچسپ معلومات دكھائى گئى ہیں۔

بینظیر بھٹو کے بچےفلم میں بینظیر بھٹو کے تینوں بچوں کے انٹرویو شامل ہیںاس فلم میں یہ بھی بتایا گیا ہے كہ بینظیر كى آصف على زردارى سے ’ارینجڈ میرج‘ كن کن مراحل سے گزرى ۔فلم كے ڈائریكٹر ڈویئن بوگمین نے بتایا كہ ’اس فلم پر كام كرنا ان كے لیے ایك اچھا تجربہ رہا ہے اور پاكستان كى سیاست بڑى دلچسپ ہے۔ جس كے بارے میں كوئى كچھ نہیں كہ سكتا۔

فلم میں ذوالفقار على بھٹو كى بیٹى ایك فلم سٹار كى طرح نظر اتى ہیں جسے مغربى ناظرین نے بہت پسند كیا ہے۔ بھٹو خاندان كے بارے میں بہت سارے ایسے مناظر اس فلم میں شامل ہیں جو پہلے كھبى نہ دیكھے گئے تھے۔

اس سے قبل اس فلم كو جنورى میں مشہور امریكى فلمى میلوں سن ڈانس اور شكاگو فلم فیسٹیول میں بھى اعزازت ملے ہیں۔

ایك فلم بین فلپ ڈیوس نے بتایا كہ اس فلم نے ان كے ’پاكستان كے بارے میں كئى شكوك دور كیے ہیں‘ مگر بےنظیر كے قاتلوں كےانجام كے بارے میں عنقریب اسى طرح كى فلم ان كى شدید خواہش ہے

فلم کے پروڈیوسر مارك سیگل نے انٹرویو كے دوران بتایا كہ ’پاكستان اور بھٹو خاندان ناقابل تقسیم ہیں۔ مجھے یقین ہے كى اگر بینظیر زندہ ہوتیں تو جمہوریت كى جنگ جارى ركھتیں‘۔

Trailor of The movie Bhutto

http://www.bhuttothefilm.com/trailer.html

Courtesy of BBC

Book by Fatima Bhutto-Fine Arts in Karachi Jail April 29, 2010

Posted by Farzana Naina in Art, Karachi, Literature, Pakistan, Pakistani, Politics, Sindh.
Tags:
1 comment so far

Flag Pakistan1

لہو اور تلوار کے گیت: فاطمہ بھٹو کی نئی کتاب

پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی اور میر مرتضیٰ کی بیٹی فاطمہ بھٹو نے اپنی یادداشتوں پر مبنی ایک نئی کتاب، ’لہو اور تلوار کے گیت، ایک بیٹی کی یادیں‘، کے نام سے لکھی ہے۔ کتاب کی تقریب رونمائی کراچی کے علاقے کلفٹن میں ہو ءی

فاطمہ بھٹو کی تازہ کتاب چار سو ستر صفحات پر مشتمل ہے جو لندن کے ایک اشاعتی ادارے جوناتھن کیپ نے شائع کروائی ہے۔ فاطمہ بھٹو نے اپنی تازہ کتاب میں اپنی علیل دادی بیگم نصرت بھٹو اور والدہ غنویٰ بھٹو کے نام کی ہے۔

فاطمہ بھٹو کی کتاب کی تقریب رونمائی کلفٹن میں اس جگہ کے قریب منعقد کی گءی جہاں انیس سو چھیانوے میں فاطمہ بھٹو کے والد میر مرتضی بھٹو کو ایک پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا۔

فاطمہ نے کتاب کے سرورق پر بھٹو خاندان کی ان تمام شخصیات کے نام دیے ہیں جن کو مختلف ادوار میں ہلاک کیا گیا ہے۔ ان میں سب سے پہلے ذوالفقارعلی بھٹو کا نام ہے جن کو انیس سو اناسی میں فوجی دور حکومت میں پھانسی دے دی گئی، دوسرے نمبر پر شاہنواز بھٹو جو انیس سو پچاسی میں قتل ہوئے، تیسرے نمبر پر فاطمہ کے والد میر مرتضیٰ بھٹو جو انیس سو چھیانوے میں ہلاک کیے گئے اور آخر میں بینظیر بھٹو کا نام دیا گیا ہے جنہیں دو ہزار سات میں ہلاک کیا گیا۔

فاطمہ بھٹو نے اس سے قبل دو کتابیں لکھی ہیں جن میں ایک شاعری کی کتاب اور دوسری پاکستان میں آنے والے زلزلے کے متعلق ہے۔

فاطمہ بھٹو اپنی کتاب کی تقریب رونمائی کے انڈیا بھی جا رہی ہیں جہاں وہ دلی، ممبئی اور دیگر شہروں میں کتاب کے متعلق تقاریب میں شرکت کریں گی۔ کتاب کی اشاعت کے سلسلے میں لندن میں بھی تقاریب منعقد ہوں گی۔


کراچی جیل کے آرٹسٹ قیدی

پاکستان کی جیلوں میں ہنگاموں اور جرائم کے حوالے سے تو اکثر خبریں سننے کو ملتی ہی ہیں لیکن کراچی کی سینٹرل جیل اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہاں قیدیوں کو مختلف صحت افزا سرگرمیوں کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔

سینٹرل جیل کراچی میں قائم شعبہ فائن آرٹ چند سال پہلے قائم کیا گیا تھا جہاں اب اغوا برائے تاوان اور قتل میں ملوث قیدی پینسل، رنگ اور برش سے پینٹنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

شاید ہی پاکستان کی کسی اور جیل میں اس طرح کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہونگے۔

سینٹرل جیل کراچی کے ایک کمرے میں فائن آرٹ کی کلاس روزانہ چھ سے آٹھ گھنٹے جاری رہتی ہے ، یہ کمرہ قیدیوں کے آرٹ کے نمونوں کی وجہ سے عام جیل کے کمرے سے زیادہ ایک آرٹ گیلری لگتا ہے۔

فائن آرٹ کی کلاس میں سید محمد ارسلان بھی زیرتربیت ہیں۔ارسلان لندن کی ایک یونیورسٹی میں سے ایم بی ای مارکیٹنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان پہنچے اور وزارت دفاع میں ملازمت اختیار کی۔

چھ ماہ پہلے انہیں فوج کے فنڈز میں بدعنوانی کرنے کے مقدمے میں جیل بھیج دیا گیاہے اب وہ تین ماہ سے فائن آرٹ کی کلاس میں آ رہے ہیں۔

ارسلان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پینسل سے کام کی ابتداء کی اور آج کل وہ برش اور واٹر کلر کا استعمال کرتے ہیں۔ان کے کام میں مایوسی کے رنگ نمایاں ہیں۔ارسلان کہتے ہیں کہ دن کا اکثر حصہ فائن آرٹ کلاس میں گزر جاتا ہے مگر وہ قید ہونے کی وجہ سے رات کو کھلا آسمان نہیں دیکھ سکتے۔ انھوں نے کہا کہ قیدی ہونے کے احساسات اب وہ رنگوں میں بیان کرتے ہیں۔

حسنین سینٹرل جیل میں قائم فائن آرٹ کی کلاس کے سینیئر طالبعلم ہیں۔ وہ اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں دو سال سے قید ہیں۔حسنین کو قیدی لفظ سے سخت نفرت ہے، وہ کہتے ہیں کہ قیدی لفظ کا ٹیگ پوری زندگی معاشرے میں آپ کا تعاقب کرتا رہتا ہے۔حسنین کے مطابق پاکستانی معاشرتی ڈھانچے میں قیدی یا جیل کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔

سینٹرل جیل کراچی اٹھارہ سو ننانوے میں قائم ہوئی تھی۔ سینٹرل جیل کراچی میں تین ہزار سے زائد ملزم قید ہیں جن میں سے بیس بائیس کے قریب قیدی فائن آرٹ کی کلاس میں باقاعدہ حصہ لیتے ہیں۔

قیدیوں کو فائن آرٹ کی تعلیم ایک آرٹسٹ سکندر جوگی دیتے ہیں۔سکندر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے تین ماہ کا ایک شارٹ کورس قیدیوں کی تعلیم و تربیت کے لیے مخصوص کیا ہے۔سکندر کے مطابق قیدی کام کی ابتداء سٹل ورک سے کرتے ہیں بعد میں مکس میڈیا کے ذریعے چار کول، آئل پیسٹل اور سافٹ پیسٹل پر اپنے تجربات کرتے رہتے ہیں۔

سینٹرل جیل کراچی کے سپرنٹنڈنٹ نصرت حسین منگن کا کہنا ہے کہ انہوں نے جیل کا قدیم اور خوفناک تصور تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔

Book 712

Mere qareeb hiمرے قریب ہی۔ March 25, 2008

Posted by Farzana Naina in Farzana, Ghazal, Kavita, Naina, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shairy, Sher, Urdu.
Tags: , , , ,
4 comments

angel-roseMere Qareeb hi yellowbutt83.gifflower_glitter_graphics_6a.gifbutt83.gif

Welcome November 4, 2006

Posted by Farzana Naina in Blogroll, Famous Urdu Poets, Farzana Naina, Ghazal, Karachi, Kavita, Naina, Nazm, Nottingham, Pakistan, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Shairy, Sher, Sufi Poets, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
3 comments

قلمی نام : نیناں

برطانیہ میں منظرِ عام پر آنے والی چند شاعرات میں فرزانہ نیناںؔ کا نام بڑا معتبر ہے،۔

متنوع صلاحیتوں کی مالک فرزانہ خان نیناؔں کا تعلق سندھ کے ایک سربر آوردہ خانوادے سے ہے۔

مجلسی اور معاشرتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں اور اپنی ادبی تنظیم نوٹنگھم آرٹس اینڈ لٹریری سوسائٹی کے تحت کئی برس سے مشاعرے و دیگر تقریبات بخوبی منعقد کرواتی رہتی ہیں جو کہ ان کی خوش سلیقگی و خوب ادائیگی کی بھرپور آئینہ دار ہیں،

اس شگفتہ وشستہ ہونہار شاعرہ کے انکل محمد سارنگ لطیفی سندھی زبان کے مشہور شاعر، صحافی اور ڈرامہ نویس تھے اور اس رحجان کا سلسلہ انہی سے جا ملتا ہے،

کراچی سے رشتہء ازدواج میں منسلک ہوکر برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں آباد ہوئیں، شعبہ ٔ ٹیلی کمیونیکیشن میں بطور انسپکٹر ملازمت کی،پھر ٹیچرز ٹریننگ اور بیوٹی کنسلٹنٹ کی تعلیم حاصل کی اور مقامی کالج میں ٹیچنگ کے شعبے سے وابستہ ہوگئیں ساتھ ہی میڈیا اور جرنلزم کے کورسز میں ڈپلوما بھی کیئے یوں مقامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے بھی وابستگی ہوئی،

ان کے پیش کردہ پروگرام خصوصی خوبیوں کی بنا پر دلچسپ اور معلوماتی ہوتے ہیں اور اپنے انداز کی وجہ سے یورپ بھر میں بیحد مقبول ہیں،

ابتدا میں نثری کہانیاں لکھیں اور نظم سے سخن طرازی کا آغاز کیا،جبکہ نثری رنگ میں گہرائیوں کی بدولت کتابوں پر تبصرہ جات اور کالم بھی ایسے دلچسپ لکھتی ہیں کہ پڑھنے والے مزید کا تقاضہ کرتے رہتے ہیں،

فرزانہ نیناںؔ کے خاص نسائی لہجے و منفرد انداز شعرگوئی نے یک لخت اہلِ ذوق کو اپنی جانب متوجہ کر کے برطانیہ کی مسلمہ شاعرات کے طبقے میں اپنا معتبر مقام بنا یا ہوا ہے ،ان کا شعری مجموعہ بعنوان ۔۔’’درد کی نیلی رگیں‘‘ منظرعام پر جب سے آیا ہے تخلیقی چشمے میں ارتعاش پیدا کر رہا ہے،

منفرد نام کی طرح مجموعے کی کتابی شکل و صورت میں بھی انفرادیت ہے، ایک ہی رنگ کا استعمال شاعری میں جس انداز سے پیش کیا گیا ہے وہ اب سے پہلے کسی نے نہیں کیا ،پوری شاعری میں محسوسات کو تمثیلوں کے ذریعے تصاویر کی طرح اجاگر کیا گیا ہے، اشعار میں جذبوں سے پیدا ہونے والی تازگی بدرجہ اتم جھلکتی ہے، ہر مصرعے اور ہر شعر پر ان کے رنگ کی خاص نسائی چھاپ موجود ہے،

آغاز سے ہی یہ دو اشعار ان کا حوالہ بن چکے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

شوخ نظر کی چٹکی نے نقصان کیا
ہاتھوں سے  چائے کے برتن چھوٹے تھے

Blue Flower 41

میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز
اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا

شعری مجموعہ” درد کي نيلي رگيںٰ ”  اپنے نام، کلام ميں نيلے رنگوں کي تماثيل، سائز، ہٗيت، اور تحرير کی چھپائی کے منفرد ہونے کي وجہ سے بہت سراہا گیا ہے، اگر آپ اردوشاعری کے دلدادہ ہيں، جديد شاعری کی باريکيوں سے لطف اندوز ہوتے ہيں تو يہ کتاب اپنی لابريری کی زينت ضرور بنائيں۔

اس کتاب کي قيمت آٹھ برطانوی پاؤنڈ ہے، درج ذیل ای ميل کے ذريعے اپنا پتہ بھجواکر کتاب حاصل کیجئے

بيرونٍ برطانيہ ادائيگی بذريعہ پوسٹل آرڈر جبکہ اندرونٍ برطانيہ چيک اور پوسٹل آرڈر دونوں کے ذريعے کی جا سکتی ہے
اي ميل کا پتہ :

farzananaina@gmail.com
farzananaina@yahoo.co.uk

welcome blue 106

ISLAMABAD:

Mushaira held in honour of expat poet

(Reporter of Dawn news paper)

• ISLAMABAD, Jan 10: A Mushaira was organized in honour of British-Pakistani Urdu poetess, Farzana Khan ‘Naina’ at the Pakistan Academy of Letters (PAL) on Friday. The event was presided over by the PAL chairman, Iftikhar Arif.

• Mr Arif said Farzana Khan was typical of expatriate poets who had an advantage over native poets in expressing original ideas and imagery. He said this was also a fact that expatriate writers were not well at transmuting feelings with the same intensity. In his view, Farzana Khan was certainly a new distinctive voice in Urdu poetry. She used tender expressions and a strange and novel scheme in meters that reverberated with strong musical beats.

• In fact Iftikhar Arif’s verses, which he read at the end of the Mushaira, sounded like a well deserved tribute to the poetess; Mere Chirag Hunar Ka Mamla Hai Kuch Aur Ek Baar Jala Hai Phir Bujhe Ga Naheen (The Muse this time is bright, and once lighted it will not be extinguished).

• A number of senior poets read their poetical pieces at the Mushaira that was conducted by a literary organization, Danish (Wisdom).

Here, Farzana Khan surprised everyone with the range and depth in the couplet that she read “Meine Kaanon Main Pehan Lee Hai Tumhari Aawaz/Ab Meray Vastey Bekaar Hain Chandi Sona”.

She seeks inspiration for her poetry from the glades of Nottinghamshire, England, the county of Lord Byron and Robin Hood, where she had been living for over many years.

Farzana Khan is a Chair person of Nottingham Arts and Literature Society, She works as a broadcaster for Radio Faza and MATV Sky Digital, besides being a beauty therapist and a consultant for immigrants’ education.

Her book of Urdu poetry titled Dard Ki Neeli Ragen (Blue veins of pain) is a collection of 64 Ghazals and 24 Nazms.

The collection has received favourable reviews from a number of eminent Urdu poets, including Dr.Tahir Tauswi, Rafiuddin Raaz, Prof.Shahida Hassan, Prof.Seher Ansari, Ja zib Qureshi, Haider Sherazi, Sarshar Siddiqui, Naqash Kazmi, Nazir Faruqi, Aqeel Danish, Adil Faruqi, Asi Kashmiri,Prof.Shaukat Wasti, Mohsin Ehsan, who had stated that her work was marked with ‘Multicolour’ words. Everyone was impressed with her boldness as well as her delicate feelings, he added.

In addition there is an extraordinary rhythm. About technical aspects of Farzana’s work, a literary critic, Shaukat Wasti, says it deserve serious study.

Name Naina multi pastle 1

میری شاعری میرے بچپن اور جوانی کی کائنات کےرنگوں میں ڈھلی ہے، یادیں طلسمَاتی منظروں کو لیئےچلی آتی ہیں

وہ منظرجو دیو مالائی کہانیوں کی طرح، الف لیلوی داستانوں کی طرح، مجھےشہرزاد بننے پر مجبور کردیتے ہیں،عمر و عیار کی زنبیل سےہر بار کچھ نہ کچھ نکل آتا ہے، شہر بغداد کی گلیاں اجڑ چکی ہیں،نیل کے پانیوں میں جلتے چراغ، دھواں بن کر اوپر ہی اوپر کسی انجانے دیس میں جا چکے ہیں ، دجلہ کے دھاروں سا جلترنگ کہیں سنائی نہیں دیتا۔۔۔

گلی کےآخری کنارے پر بہنے والا پرنالہ  بنجر ہوچکا ہے جہاں اسکول سے واپس آتے ہوئےمیں،بر کھا رت میں اپنی کاپیاں پھاڑ کر کاغذ کی کشتیوں میں تبدیل کر دیا کر تی تھی۔۔۔

گھر کے پچھواڑے والا سوہانجنےکا درخت اپنے پھولوں اور پھلیوں سمیت وقت کا لقمہ بن چکا ہے، جس کی مٹی سےمجھےکبھی کبھی کبھار چونی اٹھنی مل جاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

پیپل کے درخت کے وہ پتے جن کی پیپی بنا کر میں شہنائی کی آواز سنا کرتی تھی،اس کی لٹکتی ہوئی جڑیں جو مجھےسادھو بن کر ڈراتی تھیں، مہاتما بدھ کے نروان کو تلاش کرتے کرتے پچھلی صدی کی گپھا میں ہی رہ گئے ہیں۔۔۔

میری شاعری نیلگوں وسیع و عریض، شفاف آسمان کا کینوس ہے،جہاں میں اپنی مرضی کی تصویریں پینٹ کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابن ہڈ کےاس شہر کی سرنگیں، نجانے کس طرح میڈ میرین کو لے کر مغلیہ دور کے قلعوں میں جا نکلتی ہیں۔۔۔

لارڈ بائرن اور ڈی ایچ لارنس کا یہ شہر،دھیرے دھیرے مجھے جکڑ تا رہا، ولیم ورڈز ورتھ کے ڈیفوڈل اپنی زرد زرد پلکوں سےسرسوں کےکھیت یاددلاتےرہے۔۔۔

نوٹنگھم شہر کی چوک کے وسط میں لہراتا یونین جیک، نجانے کس طرح سبز پاکستانی پرچم کے چاند تارے میں بدل جاتا ہے۔۔۔

پرانی کیسٹوں میں ریکارڈ کئےہوئےگیت اور دوہے، کسی نہ کسی طرح پائلوں میں رمبھا، سمبھا اور لیٹن کی تھرک پیدا کردیتےہیں۔۔۔

شیلےاور کیٹس کا رومانوی انداز،غالب اور چغتائی کےآرٹ کا مرقع بننےلگتا ہے۔۔۔

مجھے جوگن بنا کر ہندی بھجن سسنے پر بھی مجبور کرتی ہیں ۔۔۔ Hymnsشیلنگ کی

سائنسی حقیقتیں،میرےدرد کو نیلی رگوں میں بدلنےکی وجوہات تلاش کرتی ہیں۔۔۔

کریم کافی،مٹی کی سوندھی سوندھی پیالیوں میں جمی چاندی کے ورق جیسی کھیر بن کر مسجدوں سے آنے والی اذان کی طرح رونگھٹے کھڑے کر دیتی ہے۔۔۔۔

سونےکےنقش و نگار سے مزین کتھیڈرل، اونچےاونچے بلند و بالا گرجا  گھر،مشرق کے سورج چاچا اور چندا ماما کا چہرہ چومتےہیں۔۔۔

وینس کی گلیوں میں گھومتے ہوئے،پانی میں کھڑی عمارتوں کی دیواروں پر کائی کا سبز رنگ ،مجھےسپارہ پڑھانے والی استانی جی کےآنگن میں لگی ترئی کی بیلوں کی طرح لپٹا۔۔۔

جولیٹ کےگھر کی بالکنی میں کھڑے ہو کر،مجھے اپنے گلی محلوں کے لڑ کوں کی سیٹیاں سنائی دیں۔۔۔

شاہ عبدالطیف بھٹائی کےمزار اور سہون شریف سےلائی ہوئی کچےکانچ  کی چوڑیاں، مٹی کےرنگین گگھو گھوڑے جب میں تحفتا اپنےانگریز دوستوں کے لئے لائی تو میری سانس کی مالا فقیروں کے گلوں میں پڑے منکوں کی مانند بکھر کر کاغذپر قلم کی آنکھ سےٹپک گئی۔۔.

شاعری مجھےاپنی ہواؤں میں،پروین شاکر کی خوشبو کی طرح اڑانےلگتی ہے، موتئےکی وہ کلیاں یاد دلاتی ہےجنھیں میں قبل از وقت کھلاکر گجرا بنانے کیلئے، کچا کچا توڑ کر بھیگے بھیگے سفید ململ میں لپیٹ دیا کر تی تھی،اور وہ رات کی رانی جو میری خوابگاہ کی کھڑکی کے پاس تھی ،آج بھی یادوں کی بین پر لہراتی رہتی ہے۔۔۔۔
شاعری ایک نیلا نیلا گہرا سمندر بن کر ان لہروں کے چھینٹے اڑانے پر مجبور کردیتی ہے،جہاں میں اتوار کو گھر والوں کےساتھ جاکر اونٹوں کےگلے میں بجتی گھنٹیوں کےسحر میں مبتلا ،سیپیاں چنتےچنتے، ریت میں سسی کےآنچل کا کنارہ،ڈھونڈنے لگتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنہری دھوپ کےساتھ بچپن کےاس گاؤں کی طرف لےجاتی ہےجہاں ہم گرمیوں کی چھٹیاں گزارنےجاتےتھے،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معصوم سہیلیوں کے پراندوں میں الجھا دیتی ہےجن میں وہ موتی پرو کر نشانی کےطور پر مجھےدیتی تھیں،تاکہ میں انھیں شہر جاکر بھول نہ جاؤں۔۔۔

شاعری وہ نیل کنٹھ ہےجو صرف گاؤں میں نظر آتا تھا،

جس کے بارے میں اپنی کلاس فیلوز کو بتاتےہوئے میں ان کی آنکھوں کی حیرت سےلطف اندوز ہوتی اورصوفی شعرا کےکلام جیسا سرور محسوس کرتی۔۔۔

شاعری ان گلابی گلابوں کےساتھ بہتی ہےجنھیں میں اپنےابو کے گلقند بنانے والےباغوں سےتوڑ کر اپنی جھولی میں بھرکر،ندیا میں ڈالتی اوراس پل پرجو اس وقت بھی مجھےچینی اور جاپانی دیو مالائی کہانیوں کےدیس میں لےجاتا تھا گھنٹوں کھڑی اپنی سہیلیوں کےساتھ اس بات پر جھگڑتی کہ میرےگلاب زیادہ دور گئےہیں۔۔۔۔

صفورے کےاس درخت کی گھنی چھاؤں میں بٹھادیتی ہےجو ہمارے باغیچےمیں تھا اور جس کےنیلےاودے پھول جھڑ کر زمین پر اک غالیچہ بنتی،جس پر سفر کرتے ہوئےمجھے کسی کنکورڈ کی چنگھاڑ نہیں سنائی دیتی تھی۔۔۔

شاعری بڑے بھائی کی محبتوں کی وسعتوں کا وہ نیلا آسمانی حصار ہے،جو کبھی کسی محرومی کےاحساس سےنہیں ٹوٹا۔۔۔۔

کڑوے نیم تلے جھلنے والا وہ پنکھا ہے جس کے جھونکے بڑی باجی کی بانہوں کی طرح میرے گرد لپٹ جاتےہیں۔۔۔

شاعری سڑکوں پر چھوٹے بھائی کی موٹر سائیکل کی طرح فراٹےبھرتی ہےجس پر میں اس کےساتھ سند باد جیسی انگریزی فلمیں دیکھنے جاتی اور واپسی پر جادوگر کے سونگھائے ہوئے نیلے گلاب کےاثر میں واپس آتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اان تتلیوں اور مورنیوں کے پاس لےجاتی ہےجو چھوٹی بہنوں کی صورت، آپی آپی کہہ کر میرے گرد منڈلاتی رہتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔

ان چڑیوں کی چوں چوں سنواتی ہےجن کو میں دادی کی آنکھ بچا کر باسمتی چاول، مٹھیاں بھر بھر کے چپکے سے چھت پر کھلاتی اور ان کی پیار بھری ڈانٹ سنا کرتی تھی۔۔۔

شاعری میرے طوطے کی گردن کے گرد پڑا ہوا سرخ کنٹھا بن جاتی ہے، جس سےٹپکنے والے سرخ لہو کےقطرے یادوں کے دریا میں گرتے ہی لعل و یاقوت بن کر راجکماری کےمحل کو جانےوالی سمت بہتے ہیں، انار کی نارنجی کچی کلیاں ہیں جو نگہت اور شاہین،اپنی امی سےچھپ کر میرے ساتھ توڑلیتیں، جس کے بعد بقیہ انار پکنے تک گھر سے نکلنا بند ہوجا یا کرتا تھا۔۔۔۔

یہ شاعری مجھےمولسری کی ان شاخوں میں چھپادیتی ہے جن پر میں اور شہنازتپتی دوپہروں میں مولسریاں کھا کر ان کی گٹھلیاں راہگیروں کو مارتےاور اپنے آپ کو ماورائی شخصیت سمجھتے۔۔۔

یہ میری سہیلی شیریں کےگھر میں لگے ہوئےشہتوت کےکالےکالے رسیلے گچھوں جیسی ہے جن کا ارغوانی رنگ سفید یو نیفارم سے چھٹائے نہیں چھٹتا ۔۔۔۔

شاعری مجھےان اونچی اونچی محرابوں میں لےجاتی ہے جہاں میں اپنی حسین پھپھیوں کو کہانیوں کی شہَزادیاں سمجھا کرتی ،جن کے پائیں باغ میں لگا جامن کا درخت آج بھی یادوں پر نمک مرچ چھڑک کر کوئلوں اور پپیہوں کی طرح کوکتا ہے، شاعری بلقیس خالہ کا وہ پاندان یاد دلاتی ہے جس میں سپاری کےطرح ان لمحوں کےکٹے ہوئےٹکڑے رکھے ہیں جن میں ،میں ابن صفی صاحب سے حمیدی ،فریدی اور عمران کےآنے والے نئے ناول کی چھان بین کرتی ، خالہ کےہاتھ سے لگے ہوئے پان کا سفید چونا،صفی صاحب کی سفید  کار کی طرح اندر سےکاٹ کر تیز رفتاری سےاب بھی گزرتا ہے۔۔۔

یہ کبھی کبھی مجھےموہنجو دڑو جیسے قبرستان میں کھڑا کر دیتی ہے ، جہاں میں اپنے ماں ،باپ کےلئے فاتحہ پڑھتے ہوئے کورے کانچ کی وقت گھڑی میں ریت کی مانند بکھرنے لگتی ہوں،مصری ممیوں کی طرح حنوط چہروں کو جگانے کی کوشش کرتی ہوں،نیلگوں اداسیاں مجھےگھیر لیتی ہیں، درد کی نیلی رگیں میرے تن بدن پر ابھرنےلگتی ہیں،شب کےنیلگوں اندھیرےمیں سر سراتی دھنیں، سایوں کی مانند ارد گرد ناچنےلگتی ہیں،ان کی نیلاہٹ ،پر اسرار طمانیت کے ساتھ چھن چھن کر دریچوں کا پٹ کھولتی ہے، چکوری کی مانند ،چاند ستاروں کے بتاشے سمیٹنے کی خواہشیں کاغذ کے لبوں پر آجاتی ہیں ،سقراط کے زہریلے پیالےمیں چاشنی ملانےکی کوشش تیز ہو جاتی ہے، ہری ہری گھاس کی باریک پتیوں پہ شبنم کی بوندیں جمتی ہی نہیں،والدین جنت الفردوس کو سدھارے، پردیس نے بہن بھائی اور ہمجولیاں چھین لیں، درد بھرے گیت روح چھیلنے لگے،حساسیت بڑھ گئی  ڈائری کے صفحے کالے ہوتے گئے، دل میں کسک کی کرچیاں چبھتی رہیں، کتابیں اور موسیقی ساتھی بن گئیں، بے تحاشہ مطالعہ کیا، جس لائیبریری سےجو بھی مل جاتا پیاسی ندی کی مانند پی جاتی،رات گئے تک مطالعہ کرتی، دنیا کےمختلف ممالک کےادب سے بھی شناسائی ہوئی، یوں رفتہ رفتہ اس نیلےساگر میں پوری طرح ڈوب گئی۔ ۔ ۔

شاعری ایک اپنی دنیا ہےجہاں کچھ پل کےلئےاچانک سب کی نظر سےاوجھل ہو کر میں شہرِ سبا کی سیڑھیاں چڑھتی ہوں، اسی لیئےمیری شاعری سماجی اور انقلابی مسائل کےبجائے میری اپنی راہ فرار کی جانب جاتی ہے، ورنہ اس دنیا میں کون ہےجس کو ان سےمفر ہے!۔

  شاعری مجھے نیلے نیلےآسمان کی وسعتوں سے بادلوں کے چھوٹے چھوٹے سپید ٹکروں کی مانند، خواب وخیال کی دنیا سے نکال  کر، سرخ سرخ اینٹوں سے بنے ہوئے گھروں کی اس سرزمین پراتار دیتی ہے جہاں میں زندگی کے کٹھن رستوں پر اپنے شوہر کے ساءبان تلے چل رہی ہوں، جہاں میرے پھول سے بچوں کی محبت بھری مہک مجھے تروتازہ و سرشار رکھتی ہے۔Name Naina Iceblue heart