jump to navigation

صوبہ سندھ کا صحرائے تھر January 16, 2020

Posted by Farzana Naina in Cultures, Pakistan, Pakistani, Pakistani Folk, Sindh, Sindhi, Thar Desert.
add a comment

نہ چوری کا ڈر اور نہ ہی ڈکیتی کا خوف، نہ ماحول کی آلودگی کی پریشانی اور نہ ہی اجنبیت کا احساس۔ یہ ہے پاکستان کے صوبہ سندھ کا صحرائے تھر، جہاں ثقافت، روایت اور اقدار آج بھی اپنی اصلی شکل میں موجود ہیں۔

تھر کا شمار دنیا کے بڑے صحراؤں میں ہوتا ہے، اس کو دوست صحرا بھی کہا جاتا ہے کیونکہ دیگر صحرائی علاقوں کے مقابلے میں یہاں رسائی آسان ہے

peacock 60

کراچی سے مٹھی تھر کا ضلعی ہیڈ کوارٹر مٹھی ہے، یہ شہر ایک خاتون کے نام پر آباد ہے۔ بعض روایات کے مطابق یہاں مائی مٹھاں نامی خاتون کا کنواں تھا جس میں سے مسافر پانی پیا کرتے تھے۔

سندھ کا صحرائے تھر

مٹھی پہنچنے کے لیے عمرکوٹ، میرپورخاص اور بدین سے راستے آتے ہیں۔ آج کل یہاں جاری کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبوں کی وجہ سے کراچی سے مٹھی تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔

آپ قومی شاہراہ پر سفر کرتے ہوئے مکلی سے سجاول، اور وہاں سے بدین اور پھر وہاں سے تھر کی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں۔ تھر کو ملانے والی سڑک اچھی ہے اور تمام چھوٹے بڑے شہروں کو بائی پاس دیے گئے ہیں اس لیے کراچی سے مٹھی پانچ سے چھ گھنٹے میں پہنچا جا سکتا ہے۔

ہندو مسلم بھائی چارہ

تھر میں ہندو مسلم صدیوں سے ساتھ رہتے آئے ہیں کبھی یہاں مسلمانوں تو کبھی ہندوؤں کی حکومتیں رہی ہیں۔ عید ہو یا ہولی کا تہوار، دسہرا ہو یا محرم دونوں مذاہب سے تعلق رکھنے والے اس میں شریک ہوتے ہیں۔

شہر میں موجود درجن سے زائد مسلم درگاہوں کے منتظمین ہندو برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس شہر میں گائے کی قربانی یا گوشت فروحت نہیں کیا جاتا۔

گڈی بھٹ

مٹھی شہر ٹیلوں کے درمیان میں واقع ہے، جس کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سب سے بڑے ٹیلے کو گڈی بھٹ کہا جاتا ہے جہاں پر ایک چبوترہ بھی قائم ہے۔

یہاں پر تالپور حکمرانوں کے دور کی ایک چیک پوسٹ بھی واقع تھی جو وقت کے ساتھ مسمار ہو گئی۔ کسی زمانے میں گجرات اور راجستھان سے بیرونی حملہ آوروں اور ڈاکوؤں پر نظر رکھنے کے لیے یہ چیک پوسٹ بنائی گئی تھی۔

جیسے ہی اس ٹیلے کے عقب میں سورج غروب ہوتا ہے، شہر کی بتیاں جگمگاتی ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے پوجا یا مہندی کی تھالی میں موم بتیاں سجا دی ہوں۔ جبکہ آسمان پر تارے اس منظر کو اور بھی دلکش بنا دیتے ہیں۔

ثقافت اور سنگیت کے رنگ

تھر کی دست کاری کراچی، اسلام آباد سمیت ملک کے کئی بڑے شہروں میں دستیاب ہے، جس میں روایتی کپڑے، گرم شالیں، لیٹر بکس، وال پیس وغیرہ شامل ہیں۔

بعض لباس آج بھی بلاک پرنٹنگ سے بنائے جاتے ہیں۔ان میں سے کچھ چادریں آج بھی کھڈی پر بنائی جاتی ہیں جو مشین کی بنی ہوئی چادروں سے زیادہ پائیدار ہوتی ہیں۔

مارواڑی گیت ’کھڑی نیم کے نیچے ہوں تو ہیکلی‘ سے مقبولیت حاصل کرنے والی مائی بھاگی کا تعلق بھی صحرائے تھر سے تھا۔ ان کے علاوہ عارب فقیر، صادق فقیر اور موجودہ کریم فقیر گائیکی کی روایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہاں کے منگنہار قبیلے کے یہ گلوکار مقامی زبان ڈھاٹکی، سندھی اور اردو میں گا سکتے ہیں۔ گیت سنگیت کا شوق رکھنے والے سیاح انھیں نجی محفلوں اور گیسٹ ہاؤسز پر بلا کر سنتے ہیں۔

سنت نیٹو رام آشرام

مٹھی سے تقریباً 40 کلومیٹر دور اسلام کوٹ واقع ہے، تھر کوئلے سے بجلی کی پیداوار کرنے کی وجہ سے اہم شہر ہے جس کے قریب ایئرپورٹ بھی واقع ہے۔ کسی زمانے میں اس شہر کو نیموں کا شہر کہا جاتا تھا یہاں بڑی تعداد میں نیم کے درخت ہوا کرتے تھے۔

شہر کے اندر ایک بزرگ سنت نیٹو رام کا آشرم ہے، روایت ہے کہ تھر میں جب قحط آتا تھا اور یہاں سے مسافر گزرتے تھے تو یہ بزرگ تمام لوگوں سے چندہ جمع کر کے چاول بناتے تھے اور جنھیں وہ خود آواز لگا کر مسافروں کو کھلاتے تھے۔

سیوا کے اس پنتھ کو ابھی تک برقرار رکھا گیا ہے، ان کے آشرم میں انسانوں کے علاوہ جانوروں اور پرندوں کے دانے دنکے اور پانی کا بھی انتظام ہے اور یہاں آنے والے مسافروں سے مذہب نہیں پوچھا جاتا۔

چونئرے اور لانڈھیاں

تھر میں لوگوں کی اکثریت اگلو نما کچے کمروں میں رہتے ہیں، ان کی چھتیں گھاس سے بنی ہوئی ہوتی ہیں

تھر میں لوگوں کی اکثریت اگلو نما کچے کمروں میں رہتے ہیں، ان کی چھتیں گھاس سے بنی ہوئی ہوتی ہیں جو گرمی میں ٹھنڈے رہتے ہیں۔ ہر سال یا دو سال کے بعد ان پر تازہ گھاس لگائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سیمنٹ اور مٹی سے بنے ہوئے کمرے بھی ہوتے ہیں جن کو لانڈھی کہا جاتا ہے۔

یہاں پانی عام طور پر کنویں سے حاصل ہوتا ہے جس کے لیے گدھے، اونٹ یا بیل کا استعمال ہوتا ہے۔ کنوؤں سے پانی نکالنے کی ذمہ داری مردوں کی ہے جبکہ گھروں تک پانی خواتین پہنچاتی ہیں۔

بدلتے وقت کے ساتھ کئی دیہاتوں میں اب ٹیوب ویل آ گئے ہیں اس لیے سروں پر پانی کے دو سے تین مٹکے رکھ کر چلنے والی خواتین بہت کم نظر آتی ہیں۔

تھر کی مہمان نوازی

تھر میں قحط ہو یا بارشوں کے بعد کی خوشحالی یہاں کے لوگ مہمان نواز ہیں۔ اگر آپ کہیں گاؤں کے قریب رک گئے ہیں تو مسافروں کی مدد کرنا اور ان کی مہمان نوازی مقامی لوگوں کی روایت میں شامل ہیں۔

مرد قمیض شلوار یا لنگی جبکہ مسلم خواتین قمیض شلوار اور ہندو خواتین گھاگھرا یا بعض ساڑھی کا استعمال کرتی ہیں۔ خواتین کے کپڑے زیادہ تر شوخ رنگوں کے ہوتے ہیں، جن میں سے بعض پر کڑھائی بھی ہوتی ہے۔

تھر کا موسم

پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل کے لیے صحرائے تھر پر اصغر ندیم سید کے لکھے ڈرامہ ’آخری گیت‘ کے ایک ڈائیلاگ میں عابد علی روحی بانو کو مخطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں ’تھر کی ہوا بابا، آدمی کو عاشق بنا دیتی ہے۔‘

دراصل جیسے ہی غروب آفتاب ہوتا ہے تو رن آف کچھ سے آنے والی ہوائیں موسم کو خوشگوار کر دیتی ہے اور آسمان پر ٹمٹماتے تارے منظر کی دلکشی میں مزید اضافے کی وجہ بنتے ہیں۔

مور اور ہرن

تھر کے اکثر گاؤں میں مور پرندے گھومتے پھرتے نظر آئیں گے جو صبح کو گھروں میں دانہ چگنے آتے ہیں اور پھر جنگلوں میں چلے جاتے ہیں اور شام کو پھر لوٹتے ہیں۔ جہاں ہندو آبادی ہے وہاں ان موروں کی تعداد زیادہ ہے کیونکہ اسے شری کرشنا اور سرسوتی دیوی سے منسوب کیا جاتا ہے۔

بعض دیہاتوں کی پنچائتوں نے مور پکڑنے یا فروخت کرنے پر جرمانہ بھی عائد کر رکھا ہے۔

تھر میں ہرن اور نیل گائے بھی پائی جاتی ہے جو انڈیا کے سرحدی علاقوں، رن آف کچھ کے قریب دیکھی جاسکتی ہے۔ ان کے شکار پر پابندی ہے اور سرحدی فورس رینجرز اس کی نگرانی کرتی ہے۔

ننگرپارکر اور جین مندر

مٹھی سے تقریباً 130 کلومیٹر دور قدیمی شہر ننگر پارکر واقع ہے، کارونجھر پہاڑی نے اس شہر کو جیسے گود میں لے رکھا ہے۔ سرخ گرینائیٹ پتھر کے اس پہاڑ کا رنگ سورج کی روشنی کے ساتھ تبدیل ہوتے ہوئے نظر آتا ہے۔

یہاں ہندو مذہب کے کئی آستھان یعنی مقدس مقامات بھی موجود ہیں جن میں ایک کو سادہڑو گام کہا جاتا ہے جہاں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد فوت ہونے والوں کی باقیات جلاتے ہیں۔

بعض روایات کے مطابق مہا بھارت میں جب کوروں نے پانڈوں کو 13 سال کے لیے جلاوطن کیا تھا تو پانچ پانڈے اس پہاڑ پر آ کر بس گئے تھے ان کے نام سے پانی کے تالاب موجود ہیں۔

ننگرپارکر پہاڑ سے شہد اور جڑی بوٹیوں سمیت لکڑیاں حاصل کی جاتیں ہیں ایک کہاوت ہے کہ کارونجھر روزانہ سوا سیر سونا پیدا کرتا ہے۔

ننگرپارکر شہر اور اس کے آس پاس میں جین دھرم کے مندر بھی واقع ہیں جو بارہویں صدی میں قائم کیے گئے تھے۔ شہر میں موجود مندر کی دوبارہ سے مرمت کی جا رہی ہے جبکہ شہر سے باہر دو مندر زبوں حالی کا شکار ہیں۔

ان کے ساتھ ایک قدیم مسجد بھی واقع ہے، مختلف روایات کے مطابق یہ مسجد گجرات میں مسلم حکمران نے تعمیر کی، بعض مورخین اس کو دہلی کے حکمرانوں کے ساتھ جوڑتے ہیں۔

نامور آرکیالوجسٹ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کا کہنا ہے کہ یہ خطہ جین دھرم والوں کا گڑھ رہا ہے۔

وہ بتاتے ہیں ’تیرھویں صدی تک جین برادری نے تجارت میں عروج حاصل کیا اور جب یہ برادری خوشحال ہوئی تو انھوں نے یہ مندر تعمیر کروائے۔ موجودہ مندر بارہویں اور تیرہویں صدی کے بنے ہوئے ہیں۔‘

peacock 3

بتشکر: ریاض سہیل

بی بی سی اردو

پاکستان کی دستکاری June 2, 2019

Posted by Farzana Naina in Culture, Cultures, Handy Crafts, Pakistan, Pakistani, Pakistani Folk, Sindh, Sindhi.
add a comment

BBC_ماہین خان کا برانڈ گلابو 1

ماہرین کا دعویٰ ہے کہ جنوبی ایشیا کے 80 فیصد ہنر پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ یہ ایک حیرت انگیز انکشاف ہے اور اس بات کا ثبوت بھی کہ یہ ملک فن و ثقافت معاملے میں انتہائی خوشحال ہے۔

پاکستان میں جہاں ہم سال میں چھ موسموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہیں ہمیں اس بات پر بھی فخر ہونا چاہیے کہ اس خطے میں بہت سے فنون نے جنم لیا، پروان چڑھے اور آج بھی زندہ ہیں۔

پاکستان کی ثقافتی اور روایتی ہنرمندی اور دستکاری کو ایک کوزے میں بند کرنا ناممکن ہے۔

BBC_chitai2

تیار شدہ ملبوسات کی برانڈ جنریشن نے حال ہی میں پاکستان کی مختلف دستکاریوں پر مشتمل نقشہ جاری کیا ہے جو علاقوں کے حساب سے مخصوص کڑھائیوں سے متعلق ایک بہترین حوالہ ہے

پاکستان کی فیشن کی صنعت میں بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے کے لیے مغربی رحجانات اور انداز اپنائے جاتے رہے ہیں جبکہ پاکستان کے ثْقافتی انداز اور ہنر دیگر دنیا کے لیے کشش کا باعث ہیں۔

ہنر میں بہت کچھ اہمیت کا حامل ہے جس میں شروعات یہاں پر بننے والے کپڑے کی مختلف اقسام سے ہوتی ہے۔

پاکستان بلاشبہ دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں چار اقسام کا مقبول عام ریشم تیار کیا جاتا ہے جس میں شہتوت (ملبیری)، ریشم کے کیڑے (تسور)، ایری، اور موگا سے بنائے بانے والا ریشم شامل ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ دنیا کا مشہور ترین کپڑا ڈینم (جس سے جینز کی پتلون تیار کی جاتی ہے) بھی وادی مہران کی تہذیب کے زمانے میں تیار ہونا شروع ہوا اور آج تک پاکستان میں بنایا جاتا ہے۔

جہاں کپڑے کی بات آتی ہے وہاں اس کے بننے یا بنانے کا عمل بھی ضرور ہوتا ہے جس کے لیے کراچی کے مشہور زمانہ اورنگی ٹاؤن میں ہاتھ سے کپڑا بننے کے بڑے بڑے کارخانے موجود ہیں جہاں بروکیڈ، جامہ وار، کمخواب، بنارسی اور تانچوئی جیسے قیمتی اور زرق برق کپڑے بنے جاتے ہیں۔ یہ تمام کپڑے پاکستان میں عروسی ملبوسات کی تیاری میں استعمال کیے جاتے ہیں جو کہ پاکستان میں ایک بڑا کاروبار ہے۔

تیار شدہ ملبوسات کی برانڈ جنریشن نے حال ہی میں پاکستان کی مختلف دستکاریوں پر مشتمل نقشہ جاری کیا ہے جو علاقوں کے حساب سے مخصوص کڑھائیوں سے متعلق ایک بہترین حوالہ ہے

یہ کپڑے سلائی کے وقت انتہائی مہارت کے ساتھ کارچوبی کڑھائیوں اور بیلوں سے مزین کیے جاتے ہیں۔ یہاں کے رنگریزی کے فن کا ذکر بھی ضروری ہے جن میں چنری اور بندھنی کی رنگائی جس کا رواج صحرائے تھر سے لے کر جنوبی پنجاب تک ہے اور سندھ میں چھاپے کے کام (بلاک پرنٹ) کی اجرک بہت مشہور ہیں۔

کپڑوں پر کڑھائی کے ہنر کی ابتدا ممکنہ طور پر پاکستان کے شمالی علاقوں چترال اور ہنزہ کی کڑھائی دار اونی شالوں سے ہوتی ہے۔ خطے کے سرد اور سخت موسم میں اوڑھنے کے لیے تیار کی جانے والی یہ شالیں اپنے موٹے اونی دھاگے اور گہرے اور گرم رنگوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔

ان ہی دیدہ زیب شالوں کو دیکھتے ہوئے ایک آسٹریلوی خاتون کیتھی بریڈ نے چترال میں ‘پولی اینڈ می’ کے نام سے ایک منصوبے کا آغاز کیا جو نہ صرف اس علاقے کے ہنر کو محفوظ رکھے ہوئے ہے بلکہ اس کے ذریعے خطے کی خواتین کو معاشی خود مختاری بھی حاصل ہوئی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان میں علاقائی ہنرکو محفوظ یا دوبارہ زندہ کرنے کے بہت سے منصوبوں کے پیچھے سماجی ومعاشی خودمختاری کا خیال ہی کار فرما تھا۔ چترال ہی کا ایک اور منصوبہ شوبیناک بھی شمالی علاقہ جات کے ہنر اور دستکاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

پاکستان کی شمالی پٹی کا ایک اور ہنر سوات کا شوخ رنگوں سے کاڑھا جانے والا پھلکاری ٹانکا ہے جس کا استعمال شالوں، کمبل، اور دیگر کپڑوں پر بکثرت کیا جاتا ہے۔ عموما گیروے، پیلے، نارنجی اور آتشی گلابی رنگوں کے دھاگوں سے مزین یہ ٹانکا اس علاقے کی پہچان بن چکا ہے۔

پاکستان کے صوبے پنجاب میں آئیں تو یہاں کی ثقافت مختلف وضع کی خوش رنگ دستکاریوں سے بھری پڑی ہے جن میں شیشے کا کام، سوئی دھاگے کا کام، شیڈو یا الٹی بھرائی کا کام، گوٹے اور جھلمل ستاروں کا کام بہت مشہور ہیں۔’

پنجاب، خاص طور پر ملتان ہاتھ سے بنے ہوئے برتنوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ یہ مشہور زمانہ مٹی کے برتن اس خطے میں صدیوں سے بنائے جارہے ہیں اور ملتان کی پہچان بن چکے ہیں۔

حالانکہ آج کل جدید طریقوں سے برتن بنانے والوں نے اس ہنر کو بھی کراکری اورگھریلو استعمال کی دیگر اشیا میں متعارف کرایا ہے ہے لیکن یہ فن ابتدا میں بڑے پیمانے پر عمارتوں، مسجدوں، مزاروں اور مقبروں کی سجاوٹ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا کیونکہ اس فن میں شامل رنگ اور اشکال فن اسلامی کی ترجمانی کرتے تھے۔

کپڑوں کی طرف واپس آتے ہیں تو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں مختلف اقسام کی نایاب دستکاریوں کا خزانہ موجود ہے۔ یہاں رنگ برنگ، آڑھے ترچھے ٹانکوں کی پیچیدہ کڑھائی کو صوبے میں موجود ان گنت بلوچی قبائل میں مختلف طریقوں کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔

ان میں بلوچی خانہ بدوشوں کے بکری کی کھال سے بنے شامیانے ‘گودان’ کے گرد کی جانے والی کڑھائی ‘دل وبیتاب’ بہت مشہور ہے۔ بلوچستان کے علاقے کچھ کی کڑھائی اپنے تیز رنگوں کی وجہ سے الگ ہی کمال رکھتی ہے اور فرش پر بچھائے جانے دریوں پر چارسوتی ٹانکا پہاڑوں سے گھرے اس صوبے میں بہت ہی مقبول ہے۔

سندھ میں صدیوں سے جاری منفرد رلی کا کام صوبے کی پہچان بن چکا ہے۔

رلی کی تیاری میں کافی وقت لگتا ہے اور سندھ کے اندرونی علاقوں میں جانا بھی جان جوکھوں کا کام کیونکہ وہاں جانے والے راستوں پر ہمیشہ سکیورٹی خدشات ہوتے ہیں۔

یہ ہنر وہ چھوٹی چھوٹی نشانیاں ہیں جو دنیا کے ثقافتی نقشے میں ہمیں ممتاز کرتی ہیں اور امید ہے کہ ہم اس ورثے کو زندہ رکھنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

بتشکر: آمنہ حیدر عیسانی

ہم اپنے ہی ملک میں پناہ گزینوں کی طرح رہتے ہیں June 2, 2019

Posted by Farzana Naina in Chatai Making, Culture, Cultures, Handy Crafts, Pakistan, Pakistani, Pakistani Folk, Sindh, Sindhi.
add a comment

حیدر آباد کی مشہور ٹھنڈی سڑک کے کنارے بیٹھے زندگی کی تپتی دھوپ سے جھلسے ہوئے ہنرمند جوگی اپنی منفرد دست کاری کا مول نہ ملنے کے باعث مایوس نظر آتے ہیں۔

حیدر آباد پریس کلب کے نزدیک سڑک کنارے لٹکی چٹائیاں ان ماہر دست کاروں کی خاص سوغات ہیں جو وہ آباؤ اجداد کے دور سے بناتے آ رہے ہیں۔

’ہمارے بزرگ سندھ کی سرزمین پر بسے ہیں اس لیے ہمیں اس زمین سے بہت محبت ہے۔ ہم اپنا کام محنت سے کرتے ہیں اور اپنی محرومیوں کی شکایت کسی سے نہیں کرتے لیکن اپنے ہنر کی معقول اجرت نہ ملنے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ہمارا گزارا مشکل ہو گیا ہے۔‘

صبح سے لے کر شام ڈھلے تک جوگیوں کے درجنوں خاندان ٹھنڈی سڑک کے فٹ پاتھ پر ہر آنے جانے والی گاڑی کو حسرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ شاید کوئی ان کے ہنر کو سراہنے والا رک کر ان سے چٹائی سے بنی چیزیں خرید لے۔

’ہمارے بچوں سے لے کر بوڑھے تک یہ کام جانتے ہیں, بچے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے چٹائی بننے کا کام کرتے ہیں۔ اگر ہمیں ہمارے ہنر کی مناسب قیمت ملے تو ہم بھی بچوں کو سکول بھیج سکیں۔‘

گوکل دیو نامی دستکار کا کہنا تھا کہ آس پاس کچھ دکاندار ایسے ہیں جو ہمارے عقیدے کی وجہ سے ہمیں پانی دینا بھی پسند نہیں کرتے۔ انھوں نے بتایا کہ گرمی میں ہمارے بچے کبھی کبھی بھوکے پیاسے چٹائی اور موڑھے بُنتے ہیں۔‘

چٹائی بنانے کا عمل

بانس کی سنہری لکڑیاں یہ جوگی پٹھانوں سے خرید کر لاتے ہیں جس کے بعد ان کی چھٹائی کا کام کیا جاتا ہے۔ کالے اور پھر سفید ڈوروں کی مدد سے بنائی کا کام کیا جاتا ہے۔ ایک چٹائی کی مکمل بنائی میں ایک گھنٹہ لگتا ہے جس کی بعد اس پر کپڑا چڑھا کر اسے خوبصورت ڈیزائنوں سے آراستہ کیا جاتا ہے۔

محنت کش مزدور اور ان کی بنیادی ضروریات

ٹھنڈی سڑک سے کچھ فاصلہ پر ان خاندانوں کی جھگیاں موجود ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ صدیوں سے ان کے آباؤ اجداد سندھ میں مقیم ہونے کہ باوجود اپنی ہی سرزمین پر زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔

’حکومت نے ہمیں جس جگہ کوٹھریاں بنانے کی اجازت دی ہے وہاں نہ تو گٹر لائن ہے اور نہ ہی پانی آتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ ان کے بچوں کو سکول بھیجنے کی ذمہ داری لینا چاہتے ہیں لیکن وہ گورنمنٹ سکول میں بچوں کو کیسے داخل کروائیں جہاں نہ پانی ہے نہ صابن وہ گندے سکول میں بچوں کو نہیں بھیجنا چاہتے۔

ان کا کہنا ہے کہ بڑے سرمایہ دار اکثر ان سے 50 روپے دیہاڑی پر کام کرواتے ہیں اور شہر میں ان کے ہنر کو مہنگے داموں بیچتے ہیں۔

’لوگ 50 روپے دے کر جاتے ہیں اور ہمارے کام کے عوض اپنی جیبوں میں عوض ہزاروں بھر لیتے ہیں‘

بانس سے بنے خوبصورت اور دیدہ زیب ڈیزائن میں موڑھے اور چٹائیاں ہر آنے جانے والے کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرتی ہیں۔ شدید گرمی میں بھی ان ہنرمندوں کی خواتین اور بچے چٹائی کی بنائی اور تیاری میں مشغول نظر آتے ہیں جبکہ مرد گاہکوں سے ڈیل کرتے ہیں۔

رام دیو نامی ہنرمند کا کہنا ہے ’کسی سے کوئی شکایت نہیں، اللہ جتنا دے اتنا کافی ہے لیکن ہم اپنے ہی ملک میں پناہ گزینوں کی طرح رہتے ہیں۔‘

پاکستان کے آئین کے مطابق مزدور طبقے کے حقوق کے تحفظ کے لیے تقریباً 70 قوانین موجود ہیں لیکن ان کا اطلاق صرف فیکٹری ورکروں اور نوکری پیشہ افراد پر ہوتا ہے جبکہ چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے مزدوروں، دست کاروں، ہوٹلوں اور مکینکوں، دیہاڑی داروں، ریڑھی بانوں سمیت دیگر معمولی اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں پر یہ قوانین لاگو نہیں ہوتے جس کے باعث انھیں استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حال ہی میں ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان کے وفد سے بات کرتے ہوئے سندھ کے وزیرِ لیبر غلام مرتضیٰ بلوچ کا کہنا تھا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں پہلی لیبر پالیسی نافذ کی گئی ہے جس کے مطابق مڈل مین کے کردار کو کم سے کم کیا گیا ہے تاکہ چھوٹی نوعیت کے تاجر اور دیہاڑی پر کام کرنے والے مزدوروں کو ان کے کام کا زیادہ سے زیادہ معاوضہ مل سکے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کی ڈومیسٹک لیبر کے حوالے سے حکومت نے 15 نئے قوانین اسمبلی میں پیش کیے ہیں جن کی منظوری کے بعد فوری عمل درآمد کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان قوانین کے مطابق محنت کشوں کو محفوظ ورکر کا درجہ دیا جائے گا۔ 15 نئے قوانین کے مطابق ان افراد کے لیے فلیٹوں کی تعمیر، ان کے بچوں کے لیے سکول اور کالجز کا قیام، یونیفارم اور کتابوں کی فراہمی شامل ہیں۔

بتشکر: سیدہ ثنا بتول

بجلی، پانی اور پاکستان April 17, 2018

Posted by Farzana Naina in Issues of Pakistan, Karachi, Pakistan, Pakistani.
Tags: , , ,
add a comment

بجلی، پانی اور پاکستان

سویڈن کی یہ خبر پڑھئیے اور سر دھنیئے کہ دوسرے ممالک  قدرتی وسائل کو اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے کس طرح اپنے کام میں لے رہے ہیں۔

بیرونِ پاکستان ترقیاتی کاموں کی فروانی دیکھ کر اپنے ملک کی بد قسمت عوام کے حقوق کی پامالی پر آنکھیں پانی سے بھر جاتی ہیں۔

سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں دو کلو میٹر طویل الیکٹرک سڑک بنائی گئی ہے، یہ بجلی کی سڑک ائیرپورٹ کے نزدیک بنائی گئی ہے جس پر گاڑی چلانے کے لیے گاڑی کو الیکٹرک کیبل سے منسلک کیا جاتا ہے جب کہ کیبل کا دوسرا سرا سڑک پر لگے الیکٹرک سسٹم سے جوڑ دیا جاتا ہے اس طرح ایک عام گاڑی مکمل طور پر برقی کار میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

سویڈن میں 2030ء تک فیول سے نجات حاصل کرنے اور ٹرانسپورٹ سیکٹر میں تیل کے استعمال میں 70 فیصد تک کمی لانے کے لیے توانائی کے دیگر ذرائع پر کام کیا جا رہا ہے

سٹاک ہوم سے باہر ایک لاجسٹک مقام تک الیکٹرک فیکیشن روڈ پر چلنے والی الیکٹرک گاڑیاں اب خودبخود چارج ہوتی رہیں گی جس کے لئے روڈ ریچارج ایبل خصوصی بیٹریاں گاڑیوں میں نصب کی جا رہی ہیں جن میں نیچے کی طرف سے ایک حصہ سڑک پر بچھی ہوئی الیکٹرک وائر نگ کو چھو سکتا ہے جبکہ گاڑی رکنے کی صورت چارج ہونا خود بخود بند ہو جائے گا۔

یہ نظام گاڑی کی توانائی کی کھپت جانچ سکتا ہے اس کی تعمیر پر ٹرام لائن کی نسبت پچاس فیصد کم خرچہ آتا ہے۔ سویڈن کی حکومت 2030ء تک ماحولیاتی آلودگی میں اپنا کردار صفر کرنے کے لئے فوسل فیول (زمینی ایندھن) کے استعمال سے آزادی کا ہدف رکھتی ہے جس کے لئے ٹرانسپورٹ سیکٹر کا زمینی ایندھن پر انحصار 70 فیصد تک کم کیا جائے گا۔

پاکستان کے حالیہ دورے میں ہمارے ایک رشتہ دار کے گھر جامشورو جانا ہوا، وہاں پہنچ کر میں حیرت زدہ رہ گئی کہ اس گھر میں بجلی کی کمی کا کوئی واویلا نہیں تھا، پنکھے ٹھنڈی ٹھار ہوائیں جھل رہے تھے اور تیز روشنی والے بلب ہم کو جگمگاتے خوش آمدید کہتے نظر آئے۔

ان سے جب اس راز کو کھولنے کا کہا تو وہ ہمیں مکان کی چھت پر بنے ہوئے بر آمدے نما کمرے میں لے گئے، وہاں پر سولر سسٹم لگا ہوا تھا، شمسی توانائی سے ان کا گھر مستفید ہورہا تھا اور بجلی کے بل بھی سوہانِ روح نہ تھے۔

کمال ہی کمال، بہرالحال اس سسٹم  کا خرچہ کافی ہے کہ جو ایک عام شہری کے وسائل پر شاید پورا نہیں اترسکے گا۔

ہم نے کبھی اپنے وطن میں سورج سے ملنے والی توانائی کی جانب توجہ نہیں دی، سولر پاور کو عام کرنے میں کس چیز کی رکاوٹ ہے یہ سمجھ سے بالاتر ہے!

اس کام کے لیئے جتنی انویسٹمنٹ کی جائے گی اس سے سوگنا بڑھ کر ہمارے ملک کو فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

ہمارے وطن میں رہائشی علاقے تو کیا بلکہ ہسپتالوں تک کو مناسب بجلی مہیا نہیں کی جاتی، اس قسم کے ادارے جہاں انسانی جانیں بچائی جاتی ہوں بجلی کے بغیر کیسے چل رہے ہیں؟ یقیناَ کوئی خدائی ہاتھ ان کی مدد کے لیئے کارفرما ہوگا!

بجلی مہیا کرنے کے لیئے کڑوڑوں کے منصوبے پاس ہو ہوتے ہیں لیکن عملی طور پر کوئی کام پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچتا !

آپس کی لوٹ کھسوٹ اور تنازعات میں پڑ کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیئے ملک و قوم کی فلاح و بہبود نامی کوئی سوچ ان لوگوں کے ذہن میں ناپید ہے۔

ایسے لوگوں کا بہترین حل یہ ہے کہ الیکٹرک شاک کھلا کر ان کو دنیا سے آزاد کردیا جائے۔ یہ ایک سخت اسٹیٹمنٹ ہے لیکن ہم لوگ بیزار آ چکے ہیں اور کسی بھی صورت ہم کو ان لوگوں سے اپنے معاشرے کو پاک کرنا ہوگا، جب تک سخت سزائیں نہیں لاگو ہوں گی یہ آوا بگڑا ہی رہے گا !!!

پاکستان میں متعدد نئے بجلی گھر بنانے کے منصوبے آئے دن سنائی تو دیتے ہیں لیکن مجبور عوام فقط خوش آئند خوابوں کے پنکھے ہی جھل کر رہ جاتے ہیں۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سربراہ نے گزشتہ برس بتایا تھا کہ پاکستان نے 2030 تک ایٹمی توانائی کی گنجائش 8 ہزار 800 میگاواٹ تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے لیے مزید تین سے چار بڑے ایٹمی ری ایکٹرز بنائے جائیں گے۔

اس وقت پاکستان کے پاس 5 چھوٹے ری ایکٹرز ہیں جن کی مجموعی مشترکہ پیداوار صرف 1300 میگاواٹ ہے۔ چشمہ کے مقام پر چوتھا پاور پلانٹ ستمبر میں فعال کیا گیا جسے چینی کمپنی ’چائنا نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن‘ نے بنایا ہے اور یہی کمپنی کراچی کے قریب بھی 1100 میگاواٹ کے دو ایٹمی ری ایکٹرز تعمیر کررہی ہے۔

 کہا گیا ہے کہ دونوں نئے ری ایکٹرز کی تعمیر کا کام 60 اور 40 فیصد مکمل ہوگیا ہے جو 2020 اور 2021 میں فعال ہوجائیں گے۔ پاکستانی حکومت 8 ویں ایٹمی ری ایکٹرز کی تعمیر کا ٹھیکہ بھی دینے والی ہے جس کی پیداواری گنجائش 1100 میگا واٹ ہوگی اور جس کے مکمل ہونے پر بجلی کی مجموعی پیدوار 5 ہزار میگا واٹ تک پہنچ جائے گی۔

نئے ری ایکٹرز کی تعمیر کے لیے رقم سرکاری خزانے یا قرض لے کر حاصل کی جائے گی !

ترقی یافتہ ملکوں کو شمسی بجلی کی ضرورت نہیں کیونکہ اُن کے پاس روایتی بجلی بہت ہے۔ مہنگا ہونے کے باوجود وہ ممالک اِس ماحول دوست متبادل پر توجہ دے رہے ہیں کیونکہ وہ مالی لحاظ سے مضبوط ہیں۔‘

لیکن پاکستان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں، ہمارا ملک پیٹرول کی درآمد پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے پھر بھی ضروریات پوری نہیں ہوتیں۔

ہوا سے بجلی کی فراہمی مخصوص علاقوں میں ممکن ہے۔

پانی کے بڑے ڈیم ہمالیہ کے ساتھ ہیں اور ہندوستان مسلسل رکارٹیں کھڑی کرتا رہتا ہے۔

اب چین سے تجارتی معاملات کی جو پیش رفت ہوئی ہے اس کی مدد سے بجلی گھر بھی بنائے جا سکتے۔

شمسی بجلی ایک بڑا قابلِ عمل اور بہترین حل ہے، ایک بجلی گھر کے لیے دو یا تین پینل کافی ہوتے ہیں، کاش کہ ان اقدامات پر جلز از جلد اور سنجیدگی سے عمل کر کے ملک و قوم کی تکالیف دور کی جائیں، موجودہ دور میں بجلی اور پانی کی قلت شرمناک لگتی ہے کیونہ ہمارا وطن قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے وطن میں موجود خزانوں سے بہرہ مند نہ ہو سکیں !

دبئی آ تے جاتے جب میں صحراوں کو گل و گلزار ہوتے دیکھتی ہوں تو دل باغ باغ ہونے کے بجائے اپنے وطن کے بارے میں سوچ کر خزاں رسیدہ پتے کی صورت مرجھانے لگتا ہے !

کاش کہ میری آنکھیں وہ دن دیکھیں جب لوگ پانی بجلی اور ایک صاف ستھرے پاکستان میں زندگی کی بہاریں دیکھا کریں گے  !

فرزانہ خان نیناؔں

http://www.dailymail.co.uk/news/article-5616199/Sweden-builds-electrified-road-powers-vehicle-electric-rails.html?ITO=1490&ns_mchannel=rss&ns_campaign=1490

کراچی ٹرام December 6, 2017

Posted by Farzana Naina in Cultures, Karachi, Pakistan, Pakistani.
Tags: , , , ,
add a comment

کراچی شہر جتنا قدیم ہے اس میں اتنی ہی ماضی کی یادیں چھپی ہیں، شہر کے بیشتر باسیوں کو شاید اس چیز کا علم  ہی نہیں ہوگا کہ یہاں کبھی سڑکوں پر ٹن ٹن کرتی ٹرام دوڑا کرتی تھیں جو ٹرانسپورٹ کا انتہائی اہم ذریعہ تھیں

قیام پاکستان کے بعد لوگوں کا اندرون ملک سفر کا بڑا ذریعہ ریل گاڑی تھی لیکن اندرون شہر کے لئے آمد و رفت کا اہم ذریعہ ٹرام ہوا کرتی تھی گو کہ اس وقت مالی اعتبار سے مضبوط افراد کے پاس ہی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں لیکن عام شہری تانگوں یا ٹرام میں ہی سفر کیا کرتے تھے۔ جن راستوں سے دن میں کم از کم ایک بار ہمارا گزر ہوتا ہے وہاں کبھی ٹرام بھی چلا کرتی تھی لیکن آج اس کی باقیات کا بھی کوئی وجود نہیں لیکن وہ سڑکیں آج نئے ناموں سے جانی

جاتی ہیں۔

ٹرام ایک چھوٹی ریل گاڑی نما سفری گاڑی تھی جو پٹڑیوں پر چلتی تھی جس میں 60 سے 70 افراد کی بیک وقت بیٹھنے کی گنجائش تھی اور مسافروں کے بیٹھنے کے لئے چاروں اطراف سیٹیں تھیں جب کہ درمیان میں مسافروں کے کھڑے ہونے کی جگہ۔ ٹرام میں کوئی شیشے نہیں بلکہ صرف ایک چھت اور کھڑکیوں کی جگہ بڑ ے بڑے ہوادان ہوتے تھے جو ہنگامی صورت میں ایگزٹ ڈور کا بھی کام دیتے تھے، اگر یوں کہا جائے کہ ٹرام اپنے زمانے کی جدید مسافر گاڑی تھی تو یہ غلط نہ ہوگا۔

آج کراچی آبادی اور رقبے کے اعتبار سے پھیل چکا ہے لیکن آج سے 50 سال قبل کراچی کے نقشے پر اولڈ سٹی ایریا ہی تھا اور یہیں ٹرام چلا کرتی تھی۔ بندر روڈ جسے آج ایم اے جناح روڈ کہا جاتا ہے یہاں ٹرام کا ایک طویل ٹریک تھا جو گرو مندر سے شروع ہوکر ٹاور پر ختم ہوتا تھا اور اسی ٹریک سے مزید دو ٹریک نکلتے تھے ایک کیپری سینما سے سولجر بازار کو جاتا تھااور وہاں سے سیدھا گرومندر اور اسی طرح ایک ٹریک کینٹ اسٹیشن سے سیدھا بندر روڈ پر آکر ملتا تھا۔ ایم اے جناح روڈ کے عین وسط میں جہاں آج دونوں سڑکوں کو تقسیم کرنے کے لئے ڈیوائڈر بناہے وہیں ٹرام کی پٹڑیاں بچھی تھیں اسی طرح کینٹ اسٹیشن سے ایمپریس مارکیٹ اور وہاں سے سیدھا ایم اے جناح روڈ تک سڑک کے بیچ و بیچ پٹڑیاں آتی تھیں۔

کراچی کے70 سالہ بزرگ شہری مشتاق سہیل ٹرام کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ٹرام اپنے زمانے کی تیز ترین اور پرکشش سواری ہوا کرتی تھی جو شہر کے مرکز میں چلا کرتی تھی اور اس کی خاص بات یہ تھی کہ اس کا کا کوئی اسٹاپ نہیں ہوتا تھا اس لئے مسافر چلتی ٹرام پر چڑھا کرتے، جس طرح آج اگر آپ کسی مسافر بس ڈبلیو گیارہ، یا جی سترہ میں سفر کریں تو ان میں بھی مسافروں کو اکثر چلتی بس سے اترنا پڑتا ہے ایسا ہی کچھ ٹرام میں بھی تھا۔ مشتاق سہیل کے مطابق جب کبھی ہمیں تغلق ہاؤس سے ٹاور جانا ہوتا تو تبت سینٹر تک پیدل چلا کرتے اور وہاں ٹرام کا انتظار کرتے اور پھر 10 سے 15  منٹ میں ٹاور پہنچ جایا کرتے تھے، ٹرام میں سفر کرنے کے کچھ اصول تھے کہ آپ کو بھاری بھرکم سامان لے جانے کی ہرگز اجازت نہیں تھی ہاں اگر ایک آدھ بیگ ہو جسے گود میں ہی رکھ لیا جائے تو اسکی اجازت تھی۔

ٹرام کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ اس میں ڈرائیور کے لئے کوئی الگ سے ڈرائیونگ سیٹ نہیں تھی اور وہ بالکل اگلے حصے میں کھڑا ہوکر ایک ہاتھ سے گھنٹی بجاتا رہتا اور دوسرے ہاتھ سے پٹڑی پر چلنے والے لوگوں کو ہٹنے کا اشارہ کرتا رہتا اور دن بھر یہی سلسلہ جاری رہتا تھا۔ 1975 تک جب تک ٹرام چلتی رہی اس کا کرایہ دس پیسے تھا اگر آپ کو گرومندر سے ٹاور جانا ہو یا کینٹ اسٹیشن سے ٹاور یا صدر آنا ہو تو اس کا کرایہ دس پیسے ہی تھا اور اس زمانے میں چونکہ کوچز اور بسیں نہیں تھیں تو اکثر لوگ ٹرام سے ہی سفر کیا کرتے تھے۔

مشتاق سہیل نے اپنے ماضی کو کھریدتے ہوئے بتاتا کہ اس زمانے میں کراچی مختصر اور بہت پرامن شہر ہوا کرتا تھا جو اولڈ سٹی ایریا اور لالو کھیت دس نمبر تک ہی محیط تھا، سوک سینٹر کے قریب قریب اور پیرکالونی سے آگے کچھ نہیں تھا اور اس وقت بڑے بزرگ کہا کرتے تھے کہ شہر سے 12 میل پرے ہے کیکل بیلی بستی یونیورسٹی اور یونیورسٹی جانے کے لئے 40 فٹ کی کچی سڑک تھی جس پر نہ لائٹ تھی اور نہ ہی اسے پکا کیا گیا تھا اور آج جہاں سوئی گیس کا دفتر ہے وہاں لائٹ ہوا کرتی تھی لیکن قریبی علاقے ویران تھے جب کہ طالبعلم عموماً تانگوں پر یونیورسٹی جایا کرتے تھے۔ 60 کی دہائی میں اہم سڑکوں پر ٹرام کے علاوہ ڈبل ڈیکر، بھگیاں اور تانگے چلا کرتے تھے اور انتہائی محدود تعداد میں چند ایک بسیں بھی تھیں اور وہ یہی خستہ حال ون ڈی، فور ایل وغیرہ بسیں تھیں جو آج بھی مسافروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جارہی ہیں جو اسی دور کی یاد تازہ کرتی ہیں۔

عام طور پر بھگیاں اور تانگے بندر روڈ (ایم اے جناح روڈ) سے سولجر بازار سے قائداعظم کے مزارسے ہوتے ہوئے خداداد کالونی اور لائنز ایریا میں چلتے تھے اور لائنز ایریا میں سینٹ پیٹرکس اسکول سے چند قدم کے فاصلے پر اس وقت بھی گھوڑوں کا اصطبل موجود ہے جو اسی دور کی یادگار ہے۔ مشتاق سہیل نے ایک دلچسپ بات یہ بتائی کہ اس زمانے میں کراچی کی سڑکیں دھلا کرتی تھیں جن راستوں پر تانگے اور بھگیاں چلا کرتی تھیں وہاں صبح سویرے پانی سے بھرے ٹینکر آتے اور پھر بڑے بڑے پائیپوں کے ذریعے سڑکوں کی دھلائی کا کام علی الصبح مکمل کرلیا جاتا جس کے بعد سورج نکلنے تک جمع شدہ پانی خشک ہوجاتا اور یہ مشق ہفتہ وار بنیاد پر کی جاتی تھی۔

ایک اور بزرگ شہری محمد علی بابا ٹرام کو جہاز کا درجہ دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ہمارے دور میں غربت انتہا کو تھی، والدین کے پاس پیسے اتنے ہی ہوا کرتے تھے کہ ہمیں دو وقت کا کھانا کھلا سکیں اور ہم دن بھر اپنے والد کے ساتھ کینٹ اسٹیشن پر مزدوری کیا کرتے اور روز بڑی بڑی ریل گاڑیاں دیکھ کر تنگ سے آچکے تھے لیکن جب ٹرام کو کینٹ اسٹیشن کے باہر سے چلتا دیکھتے تو خواہش یہی ہوتی کہ اس میں سفر کیا جائے لیکن جیب میں اتنے پیسے نہ ہوتے کہ ٹرام میں بیٹھنے کی ہمت کرتے اور کبھی کبھی شرارتاً جیسی ہی ٹرام کینٹ اسٹیشن سے صدر کی جانب روانہ ہوتی تو لپک کر اس پر چڑھ جاتے اور تھوڑی ہی دور جاکر اترتے اور پھر وہاں سے دوبارہ پیدل چل کر اسٹیشن آتے۔

واقفان حال کا خیال ہے کہ محمد علی چاؤلہ کی کمپنی کی سربراہی میں چلنے والی ٹرام 1975 میں سیاست کی نذر ہوگئی جب کہ بعض حلقے کہتے ہیں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی اور محمد علی ٹرام وے کمپنی کے درمیان ٹرام منصوبے کا معاہدہ ختم ہوگیا تھا جس کے بعد اسے بند کرنا پڑا لیکن ایک مرتبہ پھر 39 سال بعد سندھ حکومت اولڈ سٹی ایریا میں ٹرام منصوبہ دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہی ہے، لیکن صدر اور اولڈ سٹی ایریا اتنا گنجان ہوچکا ہے کہ یہاں اب ٹرام چلانے کی گنجائش نہیں اور بہتر یہی ہوگا کہ صدر کا ٹریفک متبادل راستوں پر موڑنے کے لئے میٹرو بس طرز کے منصوبے شروع کئے جائیں۔

کراچی میں ٹرام کی مختصر تاریخ :

ایسٹ انڈیا ٹرام وے کمپنی کی جانب سے 10 اپریل1885 کو کراچی میں ٹرام سروس کا افتتاح کیا گیا، ابتدا میں ٹرام اسٹیم انجن پر چلتی تھی لیکن فضائی آلودگی اور شہریوں کی تکلیف کے پیش نظر ایک سال بعد ہی اسے گھوڑوں پر منتقل کردیا گیا یعنی ہر ٹرام کے آگے دو گھوڑوں کو باندھا جاتا جو اسے کھینچ کر منزل تک پہنچانے کا کام دیتے اور ایک عرصہ تک ٹرام کو چلانے کے لئے گھوڑوں کا استعمال کیا گیا۔1910میں پہلی مرتبہ ٹرام کو پیٹرول انجن پر منتقل کیا گیا اور پھر1945 میں اسے ڈیزل انجن سے چلایا جانے لگا۔ ابتدا میں ٹرام کیماڑی سے ایم اے جناح روڈ تک چلا کرتی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ اسے سولجر بازار اور کینٹ اسٹیشن تک بڑھایا گیااور اس طرح ایک ٹریک نشتر روڈ سے ایمپریس مارکیٹ تک بھی بنایا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی پورا ٹرامنصوبہ کراچی کے شہری محمد علی چاؤلہ کو فروخت کرکے رخصت ہوگئی اور1975 تک ٹرام کا سارا نظام محمد علی ٹرام وے کمپنی کے پاس ہی رہا۔

کراچی میں ٹراموے کمپنی کے کاروبار کا آغاز کا سہرا کراچی کے میونسپل سیکریٹری اور معروف انجینئر اور آرکیٹکٹ مسٹر جیمز اسٹریچن کے سر تھا۔ انہوں نے 1881ء میں لندن کے مشتر ایڈورڈ میتھیوز کو ٹراموے کی لائن بچھانے کا ٹینڈر دیا مگر ان لائنوں کی تنصیب کا کام 1883ء میں شروع ہوسکا۔ اکتوبر 1884ء میں یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچا اور 20 اپریل 1885ء کو کراچی میں پہلی مرتبہ ٹرام چلی۔ اس پہلی ٹرام میں سفر کرنے والوں میں سندھ کے اس وقت کے کمشنر مسٹر ہنری نیپئر بی ارسکن بھی شامل تھے۔

شروع شروع میں یہ ٹرام بھاپ سے چلائی جاتی تھی مگر اس بھاپ سے ایک جانب شور پیدا ہوتا تھا اور دوسری جانب فضا میں آلودگی میں اضافہ ہوتا تھا چنانچہ تھوڑے ہی عرصے کے بعد اس کو بند کردیا گیا بعد میں اس کی جگہ چھوٹی اور ہلکی ٹراموں نے لی جنہیں گھوڑے کھینچا کرتے تھے کچھ عرصہ کراچی میں دو منزلہ ٹرامیں بھی چلتی رہیں‘ یہ ٹرامیں بھی گھوڑے ہی کھینچا کرتے تھے۔

بیسویں صدی میں یہ ٹرامیں ڈیزل کی قوت سے چلنے لگیں۔ کراچی میں ٹراموے کے نظام کا مرکز صدر میں ایڈولجی ڈنشا ڈسپنسری تھی۔ اس ڈسپنسری سے ٹراموں کے کئی روٹ شروع ہوتے تھے جو گاندھی گارڈن‘ بولٹن مارکیٹ اور کینٹ ریلوے اسٹیشن تک جایا کرتے تھے۔

یہ ٹرامیں ایسٹ انڈیا ٹراموے کمپنی کی ملکیت تھیں۔ یہ کمپنی 500 روپے سالانہ فی میل کے حساب سے ٹرام لائنوں کی رائلٹی کراچی میونسپلٹی کو ادا کرتی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد ٹراموے کا یہ نظام محمد علی نامی ایک کاروباری شخص نے خرید لیا اور اس کا نام اپنے نام پر محمد علی ٹراموے کمپنی رکھ لیا۔ کمپنی کے زمانہ عروج میں کمپنی کے پاس 63 ٹرامیں تھیں اور اس کا عملہ آٹھ سو افراد پر مشتمل تھا۔ لیکن ایک وقت وہ بھی آیا جب کمپنی کے پاس فقط پانچ ٹرامیں رہ گئی تھیں۔

30 اپریل 1975ء کو کراچی میں نوّے سالہ قدیم ٹراموے کمپنی نے اپنا کاروبار بند کرنے کا اعلان کردی

۔ کراچی کی سڑکوں پر ٹرام آخری مرتبہ چلی اور پھر یہ نظام ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا

Coutesey of Newspapers.

Lakeeron se nikal-لکیروں سے نکل کر July 27, 2017

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Ghazal, Ghazal, Kavita, Nazm, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Sufi Poets, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
add a comment

Golden bar 1

لکیروں سے نکل کر ہاتھ کی مجھ کو بلائے گی

یہ قسمت وَجد میں آئی تو خود مجھ کو بنائے گی

 

مِری آنکھوں میں سارے خواب اُس کے روٹھنے تک تھے

مِرا شک ٹھیک نکلا ‘ زندگی مجھ کو رلائے گی

 

مِرے ہونٹوں پہ اب تک تتلیوں سی مسکراہٹ ہے

مجھے ڈر لگ رہا ہے’ ایک دن یہ اُڑنے جائے گی

 

بہت سی شمعیں سینے میں اگر جلتی رہیں تو پھر

مری آنکھوں سے تھوڑی روشنی باہر بھی آئے گی

 

ذرا سی روشنی کے بعد چکّر تیرگی کا ہے

اگر تو اک نئی تصویر پر نظریں جمائے گی

 

خود اپنی زندگی سے کیوں نکل جاتی ہوں میں ‘ نیناںؔ !

مِری لا حاصلی کے درد قدرت ہی مٹائے گی

 

( فــرزانـہ نیناںؔ ) 

Golden rose Bar
Lakeeron se nikal kar haath ki, mujhko bulaye gi
Ye qismat wajd mein aayi tau khud mujhko banaye gi
 
Meri aankhon mein saare khwab uske roothne tak thay
Mera shak theek nikla zindagi mujhko rulaye gi
 
Mere honton pe ab tak titliyon si muskurahat hai
Mujhe darr lag raha hai eik din ye ur’rne jaye gi
 
Bohut si shamein seene mein agar jalti rahein tau phir
Meri aankhon se thori roshni bahar bhi aaye gi
 
Zara si roshni ke baad chakker teergi ka hai
Agar tu ik nai tasweer par nazrein jamaye gi
 
Khud apni zindagi se kyon nikal jati hon mein naina
Meri la’haasili ke dard qudrat hi mitaye gi
 

butterfly-yellow-sl~ Farzana Naina.butterfly-yellow-sl

0aa1ec07c2d7e0ad0eb9ef5e7005bff3

شاعرہ فرزانہ ناز April 28, 2017

Posted by Farzana Naina in Ghazal, Kavita, Nazm, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags:
1 comment so far

آئینہ صفت وقت ترا حسن ہیں ہم لوگ

کل آئینے ترسیں گےتو صورت نہ ملے گی

میں فرزانہ ناز نامی شاعرہ سے چند روز قبل تک واقف نہیں تھی۔۔۔۔ اس واقعے سے ایک دن پہلے فیس بک پر مجھے ان کی فرینڈ ریکویسٹ آئی تھی اور میں نے ایڈ بھی کر لیا تھا۔۔۔ لیکن پروفائل نہیں چیک کیا تھا کہ کون ہے۔۔۔۔ جلد ہی اس حادثے اور پھر انتقال کی خبر بھی آگئی۔۔۔۔۔ اس قدر دلخراش موت پر آنسو رواں ہوئے اور ذہن و دل میں ان کا اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کا خیال مسلسل گردش کر رہا ہے، دعائے مغفرت لبوں پر ہے اور لواحقین کے لیئے اللہ سے صبر کا التماس۔۔۔ وہ بڑا رحیم و کریم ہے

انا لله و انا اليه راجعون

محترمہ ادبی تنظیم کسب کمال کی جنرل سیکریٹری تھیں، مشاعروں میں دو کم سن معصوم بچے اور شوہر بشیر اسماعیل بھی ہمراہ ہو تے، آپ اکثر ادبی تقریبات میں نظامت کے فرائض سر انجام دیتیں ۔

آپ کا اولین شعری مجموعہ “ہجرت مجھ سے لپٹ گئی ہے‘‘ ایک ماہ پہلے ہی منظر عام پر آیا، جس کی تقریب رونمائی تین مئی2017 کو راولپنڈی آرٹس کو نسل میں ہو نا قرار پائی تھی ، لیکن مشیت ایزدی کی منظوری انسانوں کے فیصلوں اور ارادوں سے  بالاتر ہے، کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ فرزانہ منوں مٹی تلے سو جاۓ گی!!! ۔  

پروردگار ان  کے بچوں اور شوہر بشیر اسماعیل صاحب کو صبر جمیل اور فرزانہ ناز صاحبہ کو کروٹ کروٹ   جنت نصیب فر ماۓ ۔ آمین

18157786_10154766952318922_166916374604740528_n

ستم ظریفی دیکھئے کہ جب فرزانہ ناز کو کسی علاج کی حاجت نہ رہی تو گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے لئے یہ پریس ریلیز جاری کی گئی کہ عرفان صدیقی نے اس حادثے کا ذکر فوراً وزیراعظم نواز شریف سے کیا اور ساتھ ہی یقین دہانی کرائی کہ فرزانہ ناز کا علاج حکومت کرائے گی۔۔۔’’مرگئے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا‘‘۔۔۔کے مصداق یہ بھی کہا گیا کو حکومت اس کے بچوں کی تعلیم اور کفالت کا ذمہ اٹھائے گی ، مگر زمینی حقائق دیکھئے کہ جب فرزانہ ناز کی رات دس بجے نمازِ جنازہ ہوئی، تو اِس میں کوئی حکومتی نمائندہ موجود نہیں تھا، حتیٰ کہ انعام الحق جاوید نے بھی شرکت نہیں کی،حالانکہ فرزانہ کو حادثہ اُن کی تقریب میں پیش آیا تھا اور میزبان کی حیثیت سے اُن کا فرض تھا کہ وہ جنازے میں شرکت کر کے اُس کے شوہر اور بچوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ جس پاک چائنہ فرینڈ شپ سینٹر میں یہ حادثہ پیش آیا اُس کا تین دِنوں کا کرایہ28لاکھ روپے ہے، جو سرکاری خزانے سے ادا کیا گیا۔28لاکھ صرف کرائے کی مد میں خرچ کرنے والوں کو ایک شاعرہ کی جان بچانے کے لئے تین لاکھ روپے خرچ کرتے ہوئے اتنی دیر تک سوچنا پڑا کہ اُس کی جان ہی چلی گئی۔ ( منقول)۔

خدائے بزرگ برتر تمہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ درجات عطا کرے فرزانہ ناز ، ہم سب آج غمزدہ ہیں ، ہمارے قلم اداس ہیں ، وہ سب مشاعرے ، وہ تعتیہ محافل ، مسالمے آنکھوں میں فلم کی طرح گھوم رہے ہیں ، جن میں تم ہمارے ساتھ تھی ، میں نے آج بہت سے شاعروں کی آنکھیں نم دیکھیں ہیں ، بہت سی شاعرات کو ہچکیوں سے روتے دیکھا ہے ، تمہارا اسماعیل مجھ سے ہی کیا سب سے لپٹ لپٹ کے فریاد کر رہا تھا ، سب تمہاری زندگی کے لئے دعا گو تھے ، لیکن تم نے موت کو گلے لگا لیا ، ہسپتال سے تمہاری لاش وصول کر کے تمہارے گھر تک گزرے وقت کا ہر منظر سامنے گھومتا رہا ، میں دیکھتا رہا ، تمہاری گلی میں سب سے ملا ، لیکن تمہارے معصوم بچوں سے نہیں ملا ، کہیں وہ پوچھ نہ لیں ، ہماری امی کہاں ہے؟

 از: خرم خلیق 

 

ایم اے راحت April 24, 2017

Posted by Farzana Naina in Jasoosi Adab, Urdu Fiction Writer, M A Rahat, Literature, Pakistani, Urdu, Urdu Literature.
1 comment so far

18121445_10211088392660259_3392341006876922325_o

نامور مصنف ایم اے راحت لاہور میں انتقال کر گئے ۔ ایم اے راحت نے 1500 سے زائد کرائم اور جاسوسی کہانیوں کے ناول لکھے۔ ایم اے راحت کو طبیعت خرابی پر چار روز قبل اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

۔۔ایم ۔اے راحت نے ابن صفی کے بعد جاسوسی ادب کو نئی جہتوں سے متعارف کروایا ۔۔
لاکھوں لوگوں کو کتب بینی کا چسکہ لگانے والے ایم ۔اے راحت کی تصانیف کی فہرست اس قدر طویل ہے کہ کسی بھی شخص کے لیے ان کی لکھی تصانیف کے صرف نام ہی احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں ۔۔۔افسوس کہ ان کی زندگی میں ان کو ان کے شایان شان مقام نہیں دیا جا سکا ۔۔۔
ساڑھے گیارہ سو ناول ۔۔ اور ساڑھے تین ہزار کہانیاں اور افسانے لکھنے والے اپنے پچھے صرف ایک داستان چھوڑ کر رخصت ہو گئے ۔

قربت میں برابر کے شریک لعنتیوں کی بلیک میلنگ April 20, 2017

Posted by Farzana Naina in Abuse, Black Mail, Harassment, Internet, Internet crimes, News, Pakistan, Pakistani, Scandal, Sexual harassment, Urdu.
1 comment so far

انٹرنیٹ پر خواتین کو پرائیویٹ ویڈیوز کی بنیاد پر بلیک میل کرنے کے واقعات

ریپ اور بدنامی کا خوف

ہزاروں لڑکیوں اور خواتین کو ان کی پرائیویٹ وڈیوز کی بنیاد پر ہراساں کیا جا رہا ہے

شمالی افریقہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشا سمیت دنیا کے اکثر قدامت پسند معاشروں میں ہزاروں جوان خواتین کو ان کی نجی تصاویر اور جنسی مناظر کی وجہ سے ہراساں اور بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے بی بی سی نے خصوصی رپورٹ تیار کی ہے جس میں اس رجحان کا مختلف زاوئیوں سے جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔

ذیل میں ڈینئل سلاس ایڈمسن نے جائزہ لیا ہے کہ سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا جیسی جدید ٹیکنالوجی کس طرح ان معاشروں میں عزت، شرم اور بے شرمی جیسے تصورات اور روایات سے ٹکرا رہی ہے۔

پاکستان میں ایک غیر سرکاری تنظیم بھی آن لائن دنیا کو خواتین کے لیے محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس تنظیم کی سربراہ نگہت داد کہتی ہیں کہ ’ہر روز دو یا تین خواتین ان کی تنظیم سے رابطہ کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ انھیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ سالانہ نو سو خواتین۔ ‘

’جب خواتین کسی کے ساتھ رشتے میں ہوتی ہیں تو وہ اپنی تصویریں اور ویڈیو شیئر کر تی رہتی ہیں۔ اور اگر یہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے، اور اس کااختتام اچھا نہیں ہوتا، تو دوسرا فریق اس مواد کو استعمال کرتا ہے اور خاتون کو بلیک میل کرتا ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف یہ ہوتا ہے کہ لڑکی اسی رشتے میں بندھی رہے بلکہ اس سے ان تصاویر کی بنیاد پر ہر الٹا سیدھا کام کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘

اب پاکستان میں بات بلیک میل سے آگے نکل گئی ہے۔ نگہت داد کہتی ہیں کہ اب انھیں سمارٹ فونز اور جنسی تشدد کے درمیان تعلق کے واقعات میں بھی اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔

‘اس کا آغاز تو ایسی تصاویر سے ہوا جن میں مرد اور خاتون نے اپنی قربت کے لمحات کو محفوظ کیا ہوتا تھا، لیکن اب اس قسم کی تصاویر اور ریپ کے واقعات میں بھی تعلق نظر آ رہا ہے۔ سمارٹ فونز جیسی نئی ٹیکنالوجی سے پہلے، جب ریپ جیسے جرائم کا ارتکاب کرنے والے کچھ کرتے تھے تو انھیں معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ خاتون کو خاموش کیسے کرائیں۔ لیکن اب ٹیکنالوجی کی وجہ سے ریپ کے کلچر نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے کیونکہ اب ایسے مجرم خاتون کی ویڈیو بنا لیتے ہیں اور پھر اس کی بنیاد پر اسے دھمکیاں دیتے ہیں کہ اگر اس نے زبان کھولی تو اس کی ویڈیو انٹرنیٹ پر لگا دیں گے۔’

دوسری جانب سنہ 2009 میں ایک اٹھارہ سال مصری لڑکی، غدیر احمد، نے اپنے بوائے فرینڈ کو اپنی ایک چھوٹی سی ویڈیو بھیجی جس میں وہ ایک گھر میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ ڈانس کر رہی تھیں۔ اس وڈیو میں کوئی جنسی مواد نہیں تھا، لیکن اتنا ضرور تھا کہ ویڈیو میں غدیر نے جو لباس پہنا ہوا تھا اس میں ان کا جسم دکھائی دے رہا تھا اور وہ بلا جھجک ناچ رہی تھیں۔

تین سال بعد جب دونوں کا رشتہ ٹوٹ گیا تو غدیر کے بوائے فرینڈ نے ان سے انتقام لینے کی نیت سے ویڈیو یوٹیوب پر چڑھا دی۔ جب غدیر کو معلوم ہوا تو وہ بہت گھبرا گئیں۔ وہ جانتی تھیں کہ یہ سارا معاملہ – ڈانس، ان کا لباس اور اس پر بوائے فرینڈ کا ہونا – یہ تمام باتیں ان کے والدین بالکل قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی مصری معاشرہ جس میں خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنا جسم ڈھانپ کر رکھیں اور ان کو حیا کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔

ویڈیو کے پوسٹ کیے جانے کے بعد کے سالوں میں غدیر نے اس سے ڈرنا چھوڑ دیا اور خود ’مصری انقلاب‘ کا حصہ بن گئیں۔ انھوں نے حجاب لینا چھوڑ دیا اور خواتین کے حقوق کی وکیل بن گئیں۔

انھیں اس بات پر بہت غصہ آیا کہ ایک مرد نے انھیں یوں بدنام کرنے کی کوشش کی اور پھر انھوں نے اپنے سابق بوائے فرینڈ کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کر دی۔ اگرچہ وہ ہتک عزت کا مقدمہ جیت گئیں، لیکن ان کی جو ویڈیو یو ٹیوب پر جا چکی تھی وہ وہاں پڑی رہی۔ اس وڈیو کے وجہ سے غدیر کو کئی مردوں نے معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی ہراساں کیا اور اپنے فیس بُک صفحات پر غدیر کی ویڈیو شیئر کر کے انھیں برا بھلا کہا۔

غددیر احمد : آئیں اور میری ویڈیو دیکھیں، دیکھیں کہ میں کتنی اچھی ڈانسر ہوں۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ میں اس پر شرمندگی محسوس کروں’۔

سوشل میڈیا وغیرہ پر لوگوں کی گالم گلوچ سے تنگ آ کر سنہ 2014 میں غدیر نے اپنی وہی ویڈیو اپنے فیس بُک صفحہ پر خود پوسٹ کر دی۔ تصویر کے ساتھ انھوں نے لکھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی خاتون کے جسم کو اس کے خلاف استعمال کر کے اسے بدنام کرنے کا سلسلہ ختم ہو۔ غدیر نے لکھا کہ ‘آئیں اور میری ویڈیو دیکھیں، دیکھیں کہ میں کتنی اچھی ڈانسر ہوں۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ میں اس پر شرمندگی محسوس کروں۔’

لیکن غدیر افریقہ اور مشرق وسطیٰ کی ان ہزاروں نوجوان لڑکیوں اور خواتین کے مقابلے میں بہت بے باک ہیں جو اپنی نجی تصاویر کے حوالے سے بلیک میلنگ کا شکار ہو رہی ہیں۔

بی بی سی کو اس رپورٹ کی تیاری کے دوران معلوم ہوا کہ ہزاروں لڑکیوں اور خواتین کو ان کی پرائیویٹ ویڈیوز کی بنیاد پر ہراساں کیا جا رہا ہے اور لوگ انھیں بآسانی بلیک میل کر لیتے ہیں۔ ان ویڈیو کلپس میں ہلکے پھلکے فلرٹ کے مناظر سے لیکر گینگ ریب جیسی جنسی زیادتیوں کے مناظر شامل ہوتے ہیں۔

جہاں تک انتقامی بنیاد پر جنسی زیادتی کے مناظر (ریونج پورن) کا تعلق ہے تو یہ مسئلہ دنیا کے تقریباً ہر ملک میں پایا جاتا ہے۔ لیکن کچھ معاشروں میں جنسی مناظر کو خواتین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جانے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ ان معاشروں میں عزت اور شرم جیسے مسائل بہت اہم سمجھے جاتے ہیں۔

اردن کے دارالحکومت میں مقیم ماہر نفسیات اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی، انم العشہ کہتی ہیں کہ ‘ مغرب کا کلچر مخلتف ہے۔ وہاں ایک لڑکی کی برہنہ تصویر شاید صرف ایک لڑکی کو متاثر کرے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ایسی تصویر اس لڑکی کی موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اور اگر اس کی طبعی زندگی ختم نہیں بھی ہوتی، ایسی لڑکی معاشرتی اور نفیساتی لحاظ سے مر جاتی ہے۔ لوگ اس سے ملنا جلنا چھوڑ دیتے ہیں وہ معاشرے سے کاٹ دی جاتی ہے۔’

اس قسم کے واقعات کی اکثریت کے بارے میں آپ کو معلوم ہی نہیں ہوتا کیونکہ لوگ ایسے واقعات کے بارے میں پولیس کو بتاتے ہی نہیں۔ تاہم ایک درجن سے زیادہ ممالک میں وکلاء، پولیس اور سماجی کارکنوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا نے خواتین کو بدنام اور بلیک میل کرنے کی اس وبا میں بہت اضافہ کر دیا ہے جو اس ٹیکنالوجی سے پہلے ڈھکی چھُپی تھی۔

جدید ٹیکنالوجی

جدید ٹیکنالوجی اور روایات کے درمیان جنگ کی وجہ سے خواتین کو بلیک میل کرنا آسان ہو گیا ہے

اردن، مصر، غرب اردن، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک میں اس وبا میں اضافہ ہو چکا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی پولیس کے سائبر کرائم یونٹ کی معاونت کرنے والے سماجی کارکن کمال محمد کہتے ہیں کہ ‘ بعض اوقات اس مقصد کے لیے جو تصویریں استعمال کی جاتی ہیں ان میں کوئی جنسی بات نہیں ہوتی۔ مثلاً کسی لڑکی کی بغیر حجاب کے تصویر بھی سکینڈل بن سکتی ہے۔ کوئی مرد اس تصویر کو عام کرنے کی دھمکی دے کر لڑکی سے اس کی مزید تصویریں حاصل کر سکتا ہے۔’

کمال محمد کا کہنا ہے کہ ‘خلیجی ممالک میں خواتین کی بلیک میلنگ کا مسئلہ بہت زیادہ ہو گیا ہے اور بڑے پیمانے پر خواتین کو اس کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خاص طور پر سعودی عرب، امارات، کویت، قطر اور بحرین میں یہ بہت زیادہ ہے۔ کئی لڑکیوں نے ہمیں بتایا کہ اگر ان کی تصویریں عام کر دی گئیں تو انھیں شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔’

جنوبی ایشیائی ممالک میں بھی سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے ذریعے خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انڈیا کے سپریم کورٹ کے وکیل پون دُگال کہتے ہیں ملک میں خواتین کی ڈیجیٹل تصاویر کے کیسز اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی سیلابی ریلا ہو۔ ‘میرا اندازہ ہے کہ انڈیا میں روزانہ اس قسم کے ہزاروں واقعات ہو رہے ہیں۔’

بتشکر: بی بی سی اردو

 

Ahmed Mirza Jamil changed the way of Urdu March 20, 2014

Posted by Farzana Naina in Literature, Pakistan, Pakistani, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
add a comment

Ahmed Mirza Jamil changed the way all Urdu newspapers and books would be published anywhere in the world; and he did it back in 1981 with his Noori Nastaliq script that gave the Midas touch to desktop publishing.

Ahmed Mirza Jamil-640x480

The present-day Urdu publishing owes its elegant contours to the calligraphic skills of this great wizard of calligraphy.

Before being used in the composing software, InPage, the Noori Nastaliq was created as a digital typeface (font) in 1981 when master-calligrapher Ahmed Mirza Jamil and Monotype Imaging (then called Monotype Corp) collaborated on a joint venture.

Earlier, Urdu newspapers, books and magazines needed manual calligraphers, who were replaced by computer machines in Pakistan, India, UK and other countries.

The government of Pakistan recognised Ahmad Mirza Jamil’s singular achievement in 1982 by designating Noori Nastaliq as an ‘Invention of National Importance’ and awarded him with the medal of distinction, Tamgha-e-Imtiaz.

In recognition of his achievement, the University of Karachi also awarded him the degree of Doctor of Letters, Honoris Causa.

Narrating the history of his achievement in his book, ‘Revolution in Urdu Composing’, he wrote: “In future, Urdu authors will be able to compose their books like the authors of the languages of Roman script. Now, the day a manuscript is ready is the day the publication is ready for printing. There is no waiting for calligraphers to give their time grudgingly, no apprehension of mistakes creeping in, nor any complaints about the calligraphers or operators not being familiar with the language.

“Soon our future generations will be asking incredulously whether it was really true that there was a time when newspapers were painstakingly manually calligraphed all through the night to be printed on high speed machines in the morning. Were we really so primitive that our national language had to limp along holding on to the crutches of the calligraphers that made the completion of books an exercise ranging from months to years depending upon their volume.”

Noted Urdu litterateur Ahmed Nadeem Qasmi paid tribute to Ahmed Mirza Jamil during his lifetime.

He said, “The revolution brought about by Noori Nastaliq in the field of Urdu publishing sends out many positive signals. It has at last settled the long-standing dispute about Urdu typewriter’s keys that had raged from the time Pakistan was born. The future generations will surely be indebted to him for this revolution.

Dr Ahmed Mirza Jamil passed away unsung on February 17, 2014. May his soul be blessed.

Published in The Express Tribune, March 15th, 2014.