jump to navigation

Manzil March 27, 2008

Posted by Farzana Naina in Poetry.
Tags: , ,
5 comments

butt35.gifglitter textglitter textglitter textglitter textglitter textbutt35.gifbutt35.gifmanzil-ko-rehguzar-mein-rose-framed.jpgbutterfly-211.gifbutt35.gif

Mere qareeb hiمرے قریب ہی۔ March 25, 2008

Posted by Farzana Naina in Farzana, Ghazal, Kavita, Naina, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shairy, Sher, Urdu.
Tags: , , , ,
4 comments

angel-roseMere Qareeb hi yellowbutt83.gifflower_glitter_graphics_6a.gifbutt83.gif

Ghazwa-e-Badar was fought HERE March 20, 2008

Posted by Farzana Naina in Religion.
Tags: ,
4 comments

On 17th Ramadan Year 2nd of Hejra, Prophet Mohammad (PBUH) came to BADER from MADINA

With around 300 of his Followers from the way shows in picture (Red Arrow).

Right Arrow Shows (Al Odoat Al Dunea) and on versant of it Muslims Camp, Middle Arrow Shows

the way which ABO SOFEAN Convoy pass all the way through and Left Arrow Shows Malaeka mountain

(where JEBREAL and MEKAEAL sent By ALLAH with 1000 Of Malaeka to help Muslims Army against Unbelievers.  

 

The names of the 14 martyr from the Followers of Prophet Mohammad where killed on BADER CONQUEST,

Malaeka Mountain

bader-4.jpg

Prophet Mohammed (PBUH) Camp with his Army in this Area and The Hill in the Picture is Called (Odoat Al Dunea)

bader-5.jpg

Right Arrow Shows (Al Odoat Al Dunea) and on versant of it Muslims Camp, Middle Arrow Shows

the way which ABO SOFEAN Convoy pass all the way through and Left Arrow Shows Malaeka mountain

The Arrow Shows the Moshreken (Unbelievers) Base Camp called in Quran as (Al Odoat Al Qoswa) and there army were 950 men.

 bader-8.jpgThis is where Muslims Army moved to where BADER WELL was at the back of thembader-9.jpgA different picture angle of (Al Odoat Al Dunea) and Malaeka Mountain and the new camp area where Muslims moved to.bader-10.jpgALARESH MASJID was built in the place where Prophet Mohammad (PBUH) built a Hut as suggested by SAAD BIN MOAD. bader-11.jpgALARESH MASJID from insidebader-12.jpgbader-13.jpg

Soch Nagar March 19, 2008

Posted by Farzana Naina in Feelings.
Tags: , , , ,
add a comment
angels-watch-over-you.gif

کبھی کبھی ،کوئی دعا ۔۔۔۔۔ ایسی کیوں ہوتی ہے جسے آپ کے سوا کوئی نہیں مانگ سکتا؟

پتہ نہیں کیوں کبھی کبھی اپنے آپ سے ملاقات کے لیئے اپنی ہی دعاؤں پر انحصار کرنا

پڑتا ہے؟

ایک چھوٹی سی بات کے لئے ساری عمر قبولیت کی گھڑی کا انتظار کرنا بہت

کٹھن ہوتا ہے …..جس دروازے پر دستک دی جائے…. وہ صرف اسی کے لیئے کھلے …. اسی

کے لئے مخصوص ہو …. شارع عام تو ہرکسی کے لیئے موجود ہے …. جس کا جی چاہے اٹھ

کر چل پڑے ….. مخصوص اور منفرد ہونا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے …. کاش ہم تم بھی اجنبی

ہوتے جس طرح اور لوگ ہوتے ہیں بے تعلق سے ۔۔۔۔۔۔۔ بے تعارف سے ۔۔۔۔۔۔۔ بے قراری نہ بے

کلی ہوتی نا مکمل نہ زندگی ہوتی یوں نہ ہوتیں اذیتیں دل کی زندگی بھی نہ ہوتی مشکل

میں آنسوؤں سے نہ دوستی کرتے اپنے دل سے نہ دشمنی کرتے کیسا دھوپ چھاؤں کا

موسم ہے آج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہیں آفتاب بن کر کوئی جگمگا رہا ہے کہیں ماہتاب نیلگوں اداسی

میں…….ڈوبتا جا رہا ہے کیسا عجیب دن ہے۔۔۔۔۔۔ کتنا کچھ کرنے کو ہے لیکن پھر بھی لگ

رہا ہے کہ کچھ بھی نہیں…. کیسا عجیب موسم ہے؟

*** اجنبی شہر ہے اجنبی شام ہے

جان من


Baaz auqaat insaan bohut ghabrata hai,

bohut pachta’ta hai…..

mein bhi aap hi apni baton se tang aa jati hon,

aakhir meine kisi ko aisa kya kaha ya keh diya ke wo aisi mushkil or takleefdah kaifiaat mein mubtila ho jata hai…………..

Phir achanak mere saamne chaand nikal aata hai,

mein usey dekhne lagti hon,

wo sada se mera saathi hai, mere dil ki dunya mein jhaankta hai, meri baatein sunta hai………… mein dunya se ghabra ker bhaag jaati hon, uski panah mein,

wo mujhe sukoon bhi deta hai or be’chain bhi kerta hai……….

mohabbat ki khoobsurtiyoon mein gum bhi kar deta hai………

par mein hi ghabra jaati hon naa…………mohabbaton se chuphti hon,

kinara’ kashi ikhtiyaar ker leti hon…….

haalanke mujhe maloom hai……k ye…………komal hai,

nirmal hai or mukammal bhi hai………….

kisi haseen deis mein mujhe le jaye gi…….

.jahan dil ki shakl ke khoobsurat sar’sabz pattay khiley hongay….

jahan jazbon ki gulabiyaan phoolon ki tarah perron par khil jayein gi…….

barish hogi tau sufaid motiye ke kaliyon ki tarah tapkey gi………lekin ……

mujhe ye bhi khaber hai ke jab suraj in manazir ki taab na laa ker jalne lagey ga…….

tab ye sab kuch ……….

zard patton mein tabdeel ho ker ik dheir ban jaaye ga……..

or sookhey patton ke dheir mein………………

hamesha aag hi lagai jati hai !!!!!!!

=========                 ========

خیالوں، خوابوں اور نیندوں  پر ہمیشہ کسی روشنی کا راج رہا ہے ، جب دن دھیرے دھیرے اندھیرا بن جاتا ہے تب اس تاریکی میں میری آس میری امیدیں روشنی بن جاتی ہیں، رات کسی لڑکی کی طرح اس تیرگی میں دیپک جلاتی ہے ستاروں کے دیپک، ننھے ننھے سے چراغ جن کے بیچ چاند کی مشعل جلتی ہے، وہ چمکتا رہتا ہے کبھی ادھورا تو کبھی پورا ۔۔۔

کبھی جلتا ہے تو کبھی بجھتا ہے اور رات، رات اسی لڑکی کی طرح اپنی پلکیں گراتی اور اٹھاتی رہتی ہے جو کبھی شور تو کبھی خاموشی، کبھی آہٹ تو کبھی سرگوشی سے اپنے آپ ہی بہل جاےٗ، رنگوں اور راگنیوں سے دکھوں کی دھوپ پر چادر تان لیتی ہو، اس کا وجود جذبہٗ پرستش کو گھولتا  اور دل کو برف کے سرد گالوں سے بچا کر نرم گرم حرارت سے پر کردیتا ہو۔

Lev Nikolaevich Tolstoy – لیو ٹالسٹائی March 13, 2008

Posted by Farzana Naina in English Literature, Leo Tolstoy, Literature, World.
Tags: , ,
2 comments

 

Lev Nikolaevich Tolstoy

حالاتِ زندگی

لیو تولستوئی 9 ستمبر 1828ء کو روس کی ریاست تُلّا میں یسنایا کے جاگیردار کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کے والدین بچپن میں ہی انتقال کر گئے لہٰذا وہ اور اُن کے بہن بھائی مختلف رشتہ داروں کے ہاں پرورش پاتے رہے۔ بچپن میں فرانسیسی اور جرمن استادوں سے تعلیم حاصل کی، سولہ سال کی عمر میں اس نے کازان یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخلہ لیا لیکن اُن کے اساتذہ انہیں نالائق طالب علم خیال کرتے تھے، ساتھی طلٍبا اور اساتذہ کے منفی رویے کے باعث انہوں نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر آبائی قصبے یسنایا لوٹ آئے۔ کئی سال تک ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ میں لوگوں کی سماجی زندگی کا مطالعہ اورکسانوں کی حالت بہتر بنانے کے منصوبے بناتے رہے ۔1851ء میں فوج میں شامل ہوکر ترکو ں کے خلاف جنگ میں حصہ لیا لیکن جلد ہی وہ فوجی زندگی سے اکتا گئے اور سینٹ پیٹرزبرگ آ گئے۔ آپ نے پہلا ناول 1856ء میں “بچپن” کے نام سے لکھا لیکن آپ کی شہرت اس وقت پھیلی جب اس نے جنگ کی ہولناکیوں کے بارے میں سیواتوپول کی کہانیاں لکھیں۔ پھر مغربی یورپ کی طویل سیاحت کی، بعد میں اپنی جاگیر پر واپس آئے کسانوں کے بچوں کی تعلیم و تربیت میں مصروف ہو گئے۔ اس دوران اس نے اپنا زندہ جاوید امن اور جنگ اور اینا کرینینا لکھ کر بے پناہ شہرت حاصل کی۔

1876ء کے بعد سے روسی کلیساکے جمود زدہ نظریات کے خلاف خیالات آپ کے ذہن میں چھائے رہے اور آپ نے مسیحیت کی نشاۃ ثانیہ کا اپنا نظر یہ وضع کیا اور انسانی محبت، سکون اور اطمینان قلب اور عدم تشدد کو اپنا مسلک قرار دیا، ساتھ ہی ایک اعتراف کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں اپنے نظریات کو پیش کیا اور ذاتی ملکیت کے تصور کو رد کیا، انسان سے انسان کے جبرو استحصال کی شدت سے مذمت کی۔ وہ زبان اور قلم سے جمہوریت، مساوات اور اخوت کی تلقین کرنے لگے۔ آپ کے انقلابی خیالات روس سے باہر بھی مقبول ہونے لگے لوگوں پر آپ کا اثر و رسوخ اتنا زیادہ تھا کہ روس کی حکومت کو آپ کی سرگرمیوں کی مخالفت کرنے کی جرات نہ ہوئی۔ آپ اپنے نظریات کے مطابق زندگی بسر کرنا چاہتے تھے لیکن خاندان کے افراد اس کے مخالف تھے، لہٰذا دل گرفتہ ہو کر گھر چھوڑ دیا اور اپنے حصے کی ساری جاگیر اور دولت کسانوں اور مزدورں میں تقسیم کر دی، زندگی کے آخری لمحوں تک تن کے دو کپڑوں کے علاوہ آپ کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ آخر کار 20 نومبر 1910ء کو ایک اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر کسمپرسی کی حالت میں وفات پاگئے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال کہتے تھے کہ مسیحی دنیا میں پاکیزہ زندگی، روحانیت، ترک و تجرید، درویشی و ایثار کے اعتبار سے آپ جیسی مثال مشکل سے ملے گی۔

خدا کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں

آیوان اکسیونوف ، ولاڈیمر نام کے ایک شہر کا سوداگر تھا۔ اس کے پاس دو دکانیں اور ایک گھر تھا۔ اکسیونوف بے حد خوبصورت اور گانے کا شوق رکھنے والا تھا۔ اپنی جوانی کی شروعات سے ہی اس نے شراب پینا شروع کر دی تھی اور آدھی جوانی ہوتے ہوتے اس میں برباد ہونا شروع ہو گیا تھا ، مگر شادی ہونے کے بعد اس نے اپنی شراب پینے کی لت کو کم کیا،اورپھرصرف کبھی کبھی پیا کرتا تھا۔ ایک بارحسب معمول جب وہ گرمیوں میں اپنے گھر کو چھوڑ کے نزھنی میلے میں کام کے سلسلے سے جا رہا تھا تو اس کی بیوی نے اس سے کہا۔

“آیوان،آج مت جاو، میں نے تمہارے بارے میں ایک برا خواب دیکھا ہے۔”

“ہا ہا ، تمہیں کہیں اس بات کا ڈر تو نہیں لگ رہا کہ میں میلے میں جا کر رنگ رلیاں مناؤںگا۔” اکسیونوف نے کہا اور ہنسنے لگا۔

“مجھے نہیں پتا کہ میں نے جو برا خواب دیکھا ہے اس سے مجھے کیوں ڈر لگ رہا ہے، مجھے یہ بھی نہیں پتا کہ میں اس سے ڈر رہی ہوں یا کسی اور ڈر سے ۔ مجھے جو پتا ہے وہ یہ کہ میں نے دیکھا کہ تم نے جب واپس آکر اپنی ٹوپی اتاری تو تمہارے بال سفید ہو چکے تھے”

“وہ ایک اچھا خواب تھا ۔ دیکھنا میں ضرور جب واپس آؤں گا تو کتنے تحفے لاؤں گا”اکسیونوف نے ہنس کر کہا۔

اور پھر اس نے اپنے گھر والوں کو الوداع کہا اور اپنے سفر پر چل پڑا۔ اپنا آدھا سفر پورا کرنے کے بعد اس کی راستے میں ایک اور سوداگر سے ملاقات ہوئی جو اس کا پرانا جاننے والا تھا۔ انہوں نے ایک ہی سرائے میں کمرے لیے ، شام کی چاے ساتھ میں پی اور پھر اپنے کمرے میں سونے کے لیے چلے گئے۔ اکسونوف رات میں کافی جلدی ہی سو گیا تھا اس لئے اس کی آنکھ صبح طلوع فجر کے وقت ہی کھل گئی تھی۔ اس نے اپنے گاڑی ہانکنے والے کو اٹھا کر گھوڑوں کو گاڑی سے ملانے کو کہا۔ اس کے بعد وہ سرائے کے مالک کے پاس گیااور اپنا کرایہ چکتا کر کےاس نے پھر سے اپنا سفر شروع کر دیا۔

تقریباً پچیس میل کا سفر طے کرنے کے بعد گاڑی ہانکنے والے نے گھوڑوں کو چرانے کے لئے گاڑی کو روک دیا۔ چونکہ گاڑی ایک سرائے کے پاس رکی تھی اس لئے ، اکسیونوف کو آرام کرنے میں پریشانی نہیں ہوئی ، اس نے کچھ دیر سرائے کے ہال میں بیٹھ کر آرام کیا اور پھر باہر پورچ میں نکل کر چائے کا آرڈر دیا اور ایک پیڑ کے نیچے بیٹھ کر اپنا گٹار نکالا اور اس کی دھن پر گنگنانے لگا۔ٍاچانک ، ایک گاڑی جسے تین گھوڑے کھینچ رہے تھے وہاں آکر رکی اور اس میں سے دو آفیسر نکل کر اکسیونوف کی طرف بڑھے۔ انہوں نے اس کی طرف پہنچ کر اس سے پوچھ تاچھ کرنا شروع کی، جیسے کہ وہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے؟اکسیونوف نے ہر سوال کا جواب پورے سلیقے سے دیا اور پھر ان سے پوچھا۔

“کیا آپ میرے ساتھ چائے پینا پسند کریں گے”

اکسیونوف کے اس سوال کا جواب دینے کے بجائے ان دو آفیسروں نے اس سے الٹے سوال کرنا شروع کر دیے۔ جیسے کہ تم نے کل کی رات کہاں گزاری ؟ کیا تم اکیلے تھےیا پھر کسی سوداگر کے ساتھ تھے؟کیا تم نے اس کو آج صبح دیکھاتھا؟ تم صبح ہونے سے پہلے ہی وہاں سے کیوں نکل آئے؟

اکسیونوف ان سوالوں کو سن کر سوچ میں پڑ گیا کہ اس سے اس طرح کے سوالات کن وجوہات کی بنا پر کئے جا رہے ہیں۔ مگر پھر بھی اس نے ہر ایک سوال کا جواب پوری سچائی کے ساتھ دیا اور پھر کہنے لگا۔

“آپ دونوں مجھ سے ایسے سوالات کیوں کر رہے ہیں جو کسی چور یا ڈاکو سے کئے جاتے ہیں۔ میں اپنے کام کے سلسلے میں یہاں سے گزر رہا ہوں اور مجھ یہ سوالات کرنے کا کیا تک بنتا ہے؟”

“میں اس علاقہ کا پولیس آفیسر ہوں اور میں تم سے یہ سب سوالات اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ جس سوداگر کے ساتھ تم نے پچھلی رات گزاری تھی ، اس کی لاش آج صبح اس سرائے سے برامد ہوئی ہے۔ اس کا قتل گلا کاٹ کے کیا گیا ہے ۔ ہمیں تمہارےسامان کی تلاشی لینی ہوگی۔”ان میں سے ایک آفیسر نے یہ کہنے کے بعد دوسرے افسر سے تلاشی لینے کو کہا ۔ ایک آفیسر اپنے دوسرے آئے ہوئے ساتھیوں کو لے کر سرائے میں داخل ہوا۔ان لوگوں نے اکسیونوف کا بیگ کھولا اور اس کی تلاشی لینی شروع کردی۔ اچانک ایک آفیسر نے اس بیگ میں سے ایک چاقو نکالا اور چلا کر بولا۔ “یہ کس کا چاقوہے؟”

اکسیونوف کی نظریں جب اس چاقو پر پڑی جس پر خون لگا ہوا تھا، تو اس کے حواس اڑگئے۔

“ایسا کیسے ہوا؟ اس چاقو پر خون کیسے لگا؟”

اکسیونوف نے جواب دینے کی کوشش کی مگر اس کہ منہ سے سوائے اس کے ایک لفظ بھی اور نہ نکلا کہ “مجھے نہیں معلوم”

“آج صبح اس سوداگر کی لاش برامد ہوئی جس کا گلا کٹا ہوا تھا۔ ایک تم ہی ہو جس نے یہ کیا ہوگا۔کمرا اندر سے بند تھا اور وہاں کوئی نہیں تھا۔یہ رہا وہ خون سے لت پت چاقو اور تمہارا چہرا صاف صاف بتا رہا ہے کہ یہ خون کس نے کیا ہے۔بتائو مجھے کہ تم نے اسے کیسے مارا ؟کتنا پیسہ لوٹ کربھاگ رہے تھے تم؟”اس پولیس آفیسر نے اکسیونوف سے کہا جو اس کے پاس کھڑا تھا۔

اکسیونوف نے قسم کھائی کہ اس نے کچھ نہیں کیا ہے، اس نے چائے پینے کے بعد سے اس سوداگر کو دیکھا تک نہیں تھا،اس کے پاس ایک پیسہ بھی نہ تھا سوائے اپنے آٹھ ہزار روبل کے، اور یہ کہ چاقو اس کا نہیں ہے۔ مگر اس کی آواز بھرائی ہوئی تھی، اس کا چہرا پیلا پڑ گیا تھا، اور وہ خوف سے اس بری طرح کانپ رہا تھا جیسے کہ وہ گنہگار ہو۔ اس پولیس آفیسر نے دوسرے چھوٹے آفیسروں کو یہ حکم دیا کہ وہ اکسیونوف کو باندھ کر گاڑی میں بٹھائیں۔ جیسے ہی ان لوگوں نے اکسیونوف کو گاڑی میں باندھ کر رکھا ، اس کے آنسوگرنے لگے۔ اس سے اس کا سارا سامان اور پیسہ ضبط کر لیا گیا اور اسے پاس کے شہر کی جیل بھیج دیا گیا۔ اس کی ساری جانچ پڑتال ولاڈیمر میں ہی ہوئی تھی۔ جانچ کے دوران دوسرے سوداگروں نے یہ بتایا کہ وہ خالی وقت میں شراب پیتا تھا مگر پھر بھی وہ ایک اچھا آدمی تھا۔لیکن تمام شواہد کی روشنی میں عدالت نے اس پر یہ جرم پکا کردیا کہ اس نے ریازن کے ایک سوداگر کا قتل کیا اور اس کے بیس ہزار روبل لوٹ لیئے۔ اس کی بیوی دکھی ہو گئی اور اس کو با لکل سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کس پر یقین کرے۔ اس کے بچے کافی چھوٹے تھے، ایک تو ابھی ماں کے دودھ پر ہی بڑھ رہا تھا۔ ان سب کو اپنے ساتھ لے کر اس کی بیوی اس جیل میں گئی جہاں اکسیونوف قیدی تھا۔ پہلے اسے ملنے کی اجازت نہیں ملی مگر بہت گڑگڑانے کے بعد اسے اجازت مل گئی ۔ اس کی نظریں جب اپنے شوہر پر پڑیں ، جو کہ ہتکڑی میں قید چور اچکوں کے ساتھ کھڑا تھا ، وہ وہیں زمین پر گر گئی اور کافی دیر تک ہوش میں نہ آسکی۔ پھر اس نے اپنے بچوں کو اپنی طرف کھینچا اور اس کے پاس ہوکر بیٹھ گئی۔ اس نے اسے گھر کے بارے میں بتایا اور پھر اس سے ان سب حالات کی وجہ پوچھنے لگی۔اس نے سب بتا دیا۔ اس کے بعد وہ بولی۔

“اب ہم کیا کر سکتے ہیں؟”

“ہمیں زار کے پاس جانا پڑے گا اور ان کے سامنے ایک معصوم آدمی کی زندگی بچانے کی عرضی پیش کرنی پڑیگی”

اس کی بیوی نے اسے بتایا کہ اس نے زار کے سامنے عرضی پیش کردی تھی مگر وہ قبول نہیں کی گئی۔ اکسیونوف نے بنا کچھ کہے ، اپنی آنکھیں مایوسی سے زمین میں گاڑ لیں۔

“وہ سب کچھ بالکل غلط نہیں تھا جو میں نے تمہارے بارے میں خواب میں دیکھا تھا۔ تمیں یا د ہے؟ تمہیں اس دن باہر نہیں نکلنا چاہیئے تھا۔ “اپنی انگلیاں اس کے بالوں میں سے نکالتے ہوئے اس کی بیوی نے کہا۔ “وانیا میرے پیارے، مجھے سچ بتائو، کیا وہ تم نہیں تھے جس نے یہ سب کیا ہے؟”

“تو اب تم بھی مجھ پر شک کر رہی ہو”اکسیونوف نے کہا اور اپنا چہرا اپنے ہاتھوں میں چھپا کر رونے لگا۔ تبھی ایک سنتری آیا اور کہنے لگا کہ اب تمہارے بیوی بچوں کو جانا ہوگا، اور اکسیونوف نے آخری بار اپنے بیوی بچوں کو الوداع کر دیا۔ جب سب جا چکے تو اپنے آپ کو اکیلا پا کر اکسیونوف نے اپنی بیوی کا خواب اور اس پر شک کر نا یاد کیا اور یہ کہہ کر رونے لگا کہ “اب تو ایسا لگتا ہے کہ بس خدا ہی سچ جانتا ہے، اب بس ایک وہ ہی ہے جس سے میں درخواست کر سکتا ہوں، جسے عرضی دے سکتا ہوںاور ایک اسی سے رحم کی بھیک مانگ سکتا ہوں۔”

اس کے بعد اکسیونوف نے نہ تو کوئی عرضی لکھی اور نہ ہی کوئی امید رکھی۔ اس نے اپنا سارا وقت خدا کی عبادت کے نام کر دیا۔ اس کے بعد اکسیونوف کو کوڑے پڑوانے بھیجا گیا۔ اس کو ایسے کوڑھوں سے مارا گیا جو موت کے بھی باعث بن سکتے تھے۔ جب کوڑھوں کے زخم بھر گئے تو اس کو سایبیریا بھیج دیا گیا۔چھبیس سال تک اکسیونوف سایبیریا میں ایک مجرم کی طرح رہا۔ اس کے بال برف کی طرح سفید ہو گئے اور اس کی ڈارھی لمبی ، پتلی اور زیادہ سفید ہو گئی۔ اس کی ساری خوشی مر چکی تھی ، وہ خمیدہ کمر ہوگیا تھا، اس کے چلنے کی رفتار دھیمی ہو گئی تھی ، وہ کم بولنے لگا تھا، اس کی ہنسی غائب ہو چکی تھی، مگر وہ اب بھی عبادت کر تا تھا۔ جیل میں اکسیونوف نے جوتے بنانا سیکھا اور یہی کر کے اس نے کچھ پیسے بھی کمائے جس ایک کتاب خریدی جس کا نام تھا “ولیوں کی زندگیاں” وہ یہ کتاب جیل میں اس وقت پڑھتا تھا جب وہاں زیادہ روشنی ہوا کرتی تھی ۔ اتوار کے دن وہ اس کتاب کو چرچ کے اندر بلند آواز میں پڑھتا بھی تھا اورمڈہبی گیت بھی گاتا تھا کیونکہ اس کی آواز ابھی تک اچھی تھی۔جیل کے ادھیکاری اکسیونوف کو اس کی نیکی کی وجہ سے پسند کرتے تھے اور دوسرے قیدری اس کی بہت عزت کرتے تھے:وہ اس کو “بابا” اور “دادا” کہہ کر پکارتے تھے۔ جب بھی کسی قیدی کو اپنی عرضی جیل ادھیکاریوں کے سامنے پیش کرنی ہوتی تھی تووہ اکسیونوف کو ہی اپنا نمائندہ بناتے تھے، اور اگر کبھی کوئی جھگڑا ہوتا تھا تو وہ اسی کے پاس انصاف اور صحیح فیصلے کی غرض سے آیا کرتے تھے۔ اکسیونوف کو اپنے گھر کی ذرا بھی خبر نہیں تھی، اس کو تو یہ بھی نہیں پتا تھا کہ اس کے بیوی بچے زندہ بھی ہیں کہ نہیں۔

ایک دن جیل میں قیدیوں کا ایک نیا گروہ لایا گیا۔ شام میں سارے پرانے قیدیوں نے نئے قیدیوں سے ان کے گاؤں اور ان کی سراؤں کے بارے میں پوچھ تاچھ کی ۔ سب چیزیں چھوڑ کر اکسیونوف ان نئے قیدیوں کی پوچھ تاچھ کے دوران زمین پر بیٹھ کر نیچےسر کئے ان کے ہر ایک لفظ کو غور سے سن رہا تھا ۔ ان نئے قیدیوں میں سے ایک جو تقریباَ ساٹھ سال کا رہا ہوگا ، لمبا ، چوڑا ، اپنے گرفتار ہونے کی وجہ بتا رہا تھا ۔

“دوستو!”اس نے کہا”میں نے بس ایک گھوڑا ، جو کہ ایک گاڑی سے باندھ لیا تو مجھ پر چوری کا الزام لگا دیا گیا ۔ میں نے کہا بھی کہ میں نے ایسا صرف گھر جلدی پہنچنے کے لئے لیا تھا اور اس کے بعد میں اس کو جانے دیتا۔ جبکہ گاڑی ہانکنے والا میرا بہت اچھا دوست تھا۔ تو جب میں نے ان سے کہا کہ ‘مجھے جانے دیجیے ‘ تو انہوں نے کہا کہ ‘نہیں ، تم نے اسے چرایا ہے ‘ مگر وہ یہ نہیں بتا سکے کہ میں نے اسے کب اور کہاں سے چرایا ہے ۔ میں نے ایک بار سچ میں ایک غلط کام کیا تھا ، اور یہاں آنے والا تھا لیکن میں نہیں پکڑا گیا ۔ اب مجھے یہاں بھیجا گیا ہے جبکہ میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔۔مگر یہ سب جھوٹ ہے ، میں سائبیریا پہلے بھی آچکا ہوں مگر کبھی بہت نہیں رکا۔ “

“تم کہاں سے ہو” کسی نے پوچھا۔

“ولاڈیمر ۔ میرے گھر والے وہاں کے ہیں ۔ میرا نام مکر ہے اور دوسرے لوگ مجھے سیمیونچ بھی کہتے ہیں”

اکسیونوف نے اپنا سر اٹھا یا اور بولا ” سیمیونچ کیا تم مجھے کچھ ولاڈیمرکےاس سوداگر اکسیونوف کے بارے میں کچھ بتا سکتے ہو ؟ کیا وہ اب بھی زندہ ہے ؟”

“بتا سکتے ہو ؟ بالکل بتا سکتا ہوں ۔ اکسیونوف کے گھر والے بہت امیر ہیں ۔ مگر ان کا باپ ہماری ہی طرح کہیں اس جیل میں قید ہے چونکہ وہ بھی ایک بہت بڑا گنہگار ہے ! آپ بتایئے ، بابا ، آپ یہاں کیوں آئے؟”

اکسیوننوف نے اپنی بد نصیبی کے بارے میں بتانا درست نہ سمجھا تو اس نے صرف اتنا ہی کہ دیا۔ “میں اپنے ایک گنہ کی وجہ سے اس جیل میں تقریبا َ چھبیس سال سے ہوں ۔”

“کون سا گنہ؟” مکر نے پوچھا۔

“خیر خیر ۔۔۔۔میں گنہگار تھا ۔” اکسیونوف نے تو کچھ نہیں کہا مگر اس کے ساتھیوں نے مکر کو سب بتا دیا کہ اکسیونوف سائبیریا میں کیوں آیا ہے ۔ انہوں نےبتایا کہ کیسے کسی اور نے ایک سوداگر کا قتل کیا اور اکسیونوف کو اس الزام میں قید کر دیا گیا۔ جب مکر نے یہ سب کچھ سنا تو اس کی آنکھیں اکسیونوف کو دیکھتی ہی رہ گئیں ۔ اس نے اپنے گھٹنے پر ہاتھ مار کر کہا۔

“خیر یہ سب بہت عجیب ہے! کافی عجیب!مگر آپ اتنےضعیف کیسے ہو گئے بابا”

دوسروں نے مکر سے بہت پوچھا کہ وہ اس بات پر اتنا کیوں چونکا اور یہ کہ اس نے اکسیونوف کو پہلے کہاں دیکھا تھا، مگر مکر کہ منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکلا۔ اس نے بس اتنا ہی کہا ۔

“یہ بہت اچھی بات ہے کہ ہم یہاں آکر پھر سے ملے، دوست!”

ان لفظوں کو سن کر اکسیونوف نے سوچا کہ شاید کہیں یہ آدمی اس سوداگر کے قاتل کو جانتا ہو۔ تو آخر اس نے کہا ۔ ” سیمیونچ شاید تم نے مجھے پہلے دیکھا ہو یا پھر تم اس معملے کہ بارے میں کچھ جانتے ہو۔”

“میں صرف سن کر کیسے مدد کروں؟ یہ دنیا افواہوں سے بھری پڑی ہے اور ویسے بھی یہ بہت پرانا واقعہ ہے اور میں بہت چیزیں بھول گیا ہوں۔”

“شاید تم قاتل کو جانتے ہو؟” اکسیونوف نے پوچھا۔

“قتل تو اسی نے کیا ہوگا جس کے سامان میں چاقو ملا تھا ، اگر کسی اور نے وہاں چاقو چھپایا ہو گا، تو جیسا کہ کہا جا تا ہے ‘وہ جب تک پکڑا نہ جائے تب تک وہ چور نہیں’ کوئی آپ کے سامان میں چاقو کیسے چھپا سکتا تھا جبکہ آپ کا بستہ آپ کہ سر کے نیچے رکھا تھا ؟ وہ آپ کو ضرور اٹھا دیتا۔”

جب اکسیونوف نے یہ الفاظ سنے تو اس کو یقین ہو گیا کہ مکر ہی وہ آدمی ہے جس نے وہ قتل کیا تھا۔ اکسیونوف وہاں سے اٹھا اور چلا گیا۔ وہ رات اکسیونوف نے جاگ کر بتائی۔ اس کو بہت برا لگ رہا تھا اور وہ سارے منظر اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہے تھے۔ اسے اپنی بیوی کا چہرہ یاد آرہا تھا جب وہ اسے چھوڑ کر میلے کی طرف روانہ ہوا تھا۔اس نے اس کو ایسے یاد کیا جیسے کہ وہ وہاں موجود ہو؛اس کی آنکھیں اور اس کا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا اور اس کی ہنسی کی خوبصورت آواز اس کے کانوں میں گونجنے لگی۔پھر اس نے اپنے بچوں کو یاد کیا، جو اس وقت کافی چھوٹے تھے، ایک جس نے اپنے برابر کا چوغہ پہنا تھا اور ایک وہ جو ابھی ماں کی گود میں ہی تھا۔۔ان سب کے بعد اس نے اپنے آپ کاوہ وقت یاد کیا جب وہ ایک بھرپور نوجوان تھا –طاقت ور اور ہنس مکھ۔ اس کو وہ وقت یاد آیا جب وہ آخری بار اس پیڑ کے نیچے بیٹھے گٹار بجا رہا تھا، اور یہ کہ وہ دنیا کی پریشانیوں سے کتنا آزاد تھا۔ ۔ وہ یہ سب یاد کر کے اتنا رنجیدہ ہو گیا کہ وہ اپنے آپ کو مارنے کی نوبت تک آپہنچا۔

“اور یہ سب اس ذلیل کا کیا دھرا ہے۔”اکسیونوف نے سوچا۔ یہ سب سوچ کر مکر کے خلاف اس کاغصہ بہت بڑھ گیا تھا جبکہ وہ خود بھی جانتا تھا کہ غصہ کو دبادینا ہی سب سے اہم بات ہے۔ وہ پوری رات عبادت کرتا رہا مگر اس کو سکون نہیں ملا۔ اگلا پورا دن ، اس نے نہ تو مکر کے پاس جانا مناسب سمجھا اور نہ اس کی طرف دیکھنا۔ دو ہفتے ایسے ہی بیت گئے۔ اکسیونوف رات میں سو بھی نہیں پاتا، وہ بس دکھی ہو جاتا کیونکہ اس کو یہ نہیں سمجھ آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ ایک رات جب وہ جیل میں ٹہل رہا تھا ، اچانک اسے ایسا لگا جیسے زمین پر سے کوئی چیز ہلی اور وہاں سے کوئی قیدی نکلا۔ وہ رکا اور وہا ں غور سے دیکھنے لگا۔ وہ مکر تھا، اس کا چہرا سہما ہوا تھا۔ اکسیونوف اس کی طرف سے مڑا ہی تھا کہ مکر نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس کو بتایا کہ اس نے ایک سرنگ بنائی ہے، جو روڈ پر نکلتی ہے۔

“تم بس چپ رہنا بڈھے ، اس طرح تم بھی باہر نکل سکوگے۔ اگر تم نے کچھ بھی کہا تو وہ مجھے مار دیں گے مگر اس سے پہلے میں تمہیں مار دوں گا۔ “

اکسیونوف غصے سے کانپنے لگا۔ اس نے اپنا ہاتھ مکر کے ہاتھ سے جھٹکا اور اس سے کہنے لگا۔

“مجھے جیل سے بھاگنے کی کوئی خواہش نہیں ہے اور تمہیں مجھے مار نے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، تم نے مجھے بہت پہلے ہی مار دیا تھا۔ تمہارے بارے میں میں کچھ کروں نہ کروں ۔۔۔۔خدا ضرور کرے گا۔ “

اگلے دن جب سارے قیدی اپنے اپنے کاموں میں مشغول تھے تب کسی سپاہی نے یہ محسوس کیا کہ کسی ایک قیدی نے کوئی سرنگ بنائی ہے، کیونکہ اس کا پیر ایک گڈھے پر پڑا تھا۔ اس قیدی کی پورے جیل میں تلاش شروع ہوئی اور ساتھ ہی ساتھ سرنگ میں بھی ۔ خود گورنر نے آکر سارے قیدیوں سےتفتیش کی۔سب نے صرف یہ ہی کہا کہ ان کو کچھ نہیں معلوم ۔ جن کو پتا تھا ، انہوں نے بھی انکار کیا کیونکہ ان کو پتا تھا کہ اگر بتا دیا گیا تومکر سیمیونچ کو موت تک مل سکتی ہے۔ آخر میں گورنر اکسیونوف کی طرف بڑھا اور چونکہ وہ اس کو ایک سچا آدمی مانتا تھا اس لیے اس سے بھی اس بارے میں پوچھا۔

مکر سیمیونچ اپنی جگہ پر بت کی طرح کھڑا تھا، اس نے اپنی آنکھیں بھی اکسیونوف کی طرف نہیں کیں۔ اکسیونف کے ہاتھ پیراور ہونٹ کانپنے لگے اور وہ کئی دیر تک کچھ نہ کہہ سکا۔ اس نے سوچا۔

“آخر میں اس آدمی کی زندگی کو کیوں بچاؤں جس نے میری پوری زندگی برباد کر دی؟اسے اپنے گناہوں کی سزا ملنی چاہیے۔لیکن اگر میں گورنر کو سب بتا دوں تو وہ اس کو موت دے دیگا ، اور پھر کیا پتہ شاید میں ہی غلط ہوں، اور پھر اس سے میرا کیا فائدہ ہوگا؟”

“تو بابا، ہمیں سچ بتاؤ ، یہ سرنگ کس نے کھودی؟” گورنر نے اکسیونوف سے پھر سوال کیا۔

اکسیونوف کی نظر مکر کی طرف گئی اور گورنر کی طرف دیکھ کر اس نے کہا۔”میں کچھ نہیں کہہ سکتا ، یورآنر۔ خدا نہیں چاہتا کہ میں کچھ کہوں ، میں آپ کے سامنے ہوں اور اس خاموشی کے بدلے میں آپ میرے ساتھ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔”

خیر یہ بات تو گورنر کو بھی پتا تھی کہ وہ کتنی بھی کوشش کر لے اکسیونوف سے اصل بات نہیں معلوم کر پائے گا ، الغرض اس نے معاملہ رفع دفع کر دیا۔ اس رات جب اکسیونوف اپنے بستر پر لیٹ کر سونے ہی والا تھا، تبھی کوئی دبے پاؤں اس کے پاس آیا اور اس کے بستر پر بیٹھ گیا۔ اکسیونوف نے اپنی آنکھوں سے جب غور کرا تو دیکھا کہ وہ مکر تھا۔

“تمہیں مجھ سے اور کیا چاہیئے؟”اکسیونوف نے کہا”اب یہاں کیوں آئے ہو؟”

مکر سیمیونچ چپ بیٹھا رہا۔ تبھی اکسیونوف اٹھ بیٹھا اور بولا۔ “تمہیں کیا چاہیئے، جاؤ یہاں سے ورنہ میں سپاہیوں کو بلا لوں گا۔”

مکر اکسیونوف کی طرف جھکا اور اس کے کان میں بولا۔”آئیوان ، مجھے معاف کر دو۔”

“کس لئے؟” اکسیونوف نے پوچھا۔

“وہ میں ہی تھا جس نے اس سوداگر کا قتل کیا تھا اور وہ چاقو تمہارے سامان میں چھپا دیا تھا۔ میں تو تم کو بھی مارنے والا تھا، مگر پھر میں نے باہر سے کوئی آواز سنی توچاقو تمہارے سامان میں چھپا کر وہاں سے بھاگ گیا۔”

اکسیونوف خاموش تھا ، اسے بالکل سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب کیا کہے۔ مکر سیمیونچ بستر پر سے ہٹا اور زمین پر آکر اکسیونوف سے بولا۔

“مجھے معاف کر دو، خدا کے لئے مجھے معاف کردو، میں یہ بات گورنر صاحب کو بتا دونگا کہ وہ قتل میں نے کیا تھا اور پھر تم آزاد ہو گے۔ “

“تمہارے لیے یہ کہنا آسان ہے”اکسیونوف نے کہا”مگر میں نے یہاں اپنے چھبیس سال کاٹ دیے ہیں، میں اب کہاں جاؤں گا، میرے بیوی مر گئ اور میرے بچے مجھے بھول چکے ہیں،میرے پاس اب جانے کے لئے کوئی جگہ نہیں بچی۔”

مکر اٹھا نہیں بلکہ اس نے اپنا سر زمین میں مارا اور پھر کہنے لگا۔

“آیئوان، مجھے معاف کر دو، ” وہ چیخا”کوڑھے سے پٹنا اتنا دردناک نہیں ہوتا جتنا کہ مجھے تم کو دیکھ کر دکھ ہو رہا ہے۔ اور ابھی بھی تمہیں مجھ پر ترس ہے کہ جو تم کسی کو بتاتے نہیں۔عیسی کے نام پر مجھے معاف کر دو، میں کتنا نیچ ہوں”اس نے کہا اور رونے لگا۔

جب اکسیونوف نے اس کو روتا دیکھا تو اس کی بھی آنکھوں سے آنسو آگئے۔ “خدا تمہیں معا ف کرے، شاید میں تم سے بھی سو گنا برا تھا۔” پھر یہ الفاظ کہ کر اس کا دل ہلکا ہوا اور اس کے گھر جانے کی خواہش مری۔ اس کے دل میں اب جیل چھوڑ کر جانے کی کوئی خواہش نہیں تھی، بلکہ وہ تو اب اپنے اخری وقت کے انتظار میں تھا۔

ان سب باتوں کو دور رکھ کر مکر نے گورنر کو سب سچ بتا دیا۔ مگر جب تک اکسیونوف کی رہائے کے آرڈر آئے، وہ مر چکا تھا

International Women Day March 8, 2008

Posted by Farzana Naina in Ghazal, Kavita, Poetry, Shairy, Sher, Urdu.
Tags: , , , , , ,
3 comments

bahisht-se2.jpg3-girls.gifmilegi-meri-nishani-7.jpg575188lex4stl4ty1.gif575188lex4stl4ty1.gifmilegi-meri-nishani-8.jpg575188lex4stl4ty1.gif

Saghar Siddiqui – ساغر صدیقی March 7, 2008

Posted by Farzana Naina in Ghazal, Kavita, Poetry, Shairy, Sher, Urdu.
Tags: , , , , , ,
17 comments

star-silver-2

Saghar Siddiqui (1928-1974)

was an Urdu poet from Pakistan.  In spite of his ruined and homeless alone life, he remained famous and successful till his death among the masses. Saghar is also known as a saint and when he died, he left nothing but a pet, his dog, who also died on the same foot path where Saghar died a few days earlier.

Biography

Saghar was born in 1928 in Ambala as Muhammad Akhtar. History has no record of Saghar’s personal life and very less is known as he never spoke to anyone in this regard.

Saghar started poetry at very young age. At age 16, he would regularly attend mushairas.At aged 19, he migrated to Pakistan in 1947 and settled in Lahore. At the time of partition, he was only 19 years old. In those days with his slim appearance, wearing pants and boski (yellow silky cloth) shirts, with curly hair, and reciting beautiful ghazals in a melodious voice, he became a huge success. He had some tragic turns in his life. He continued to write poetry for the film industry and moved on to publish a literary magazine. The magazine was a critical success but a commercial flop. Disappointed, Saghar shut down the magazine. In his later life, he fell into depression, financially ruined and addicted to drugs.

Sometimes he would have to sell his poetry to other poets for a few rupees. He would use the waste paper spread around to light fires to stay warm during winter nights.

Death

On 19 July 1974, he was found dead on a roadside in Lahore at the age of 46. His dead body was found one early morning outside one of the shops. He was buried at the Miani Sahib graveyard. His dog also died there after a few days of Saghar’s death. Despite his shattered life, some of his verses (ash’aar) are among the best in Urdu poetry. It is unbelievable that he kept his inner self so pure and so transcending. He will always be shining like a star in Urdu poetry.

نام محمد اختر اور تخلص ساغر تھا۔۱۹۲۸ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے۔گھر میں بہت تنگ دستی تھی اس لیے ان کی تعلیم واجبی سی ہوئی۔۱۵؍بر س کی عمر میں شعر کہنے لگے تھے۔ شروع میں قلمی نام ناصر حجازی تھا لیکن جلد ہی بدل کر ساغر صدیقی ہوگئے۔ترنم بہت اچھا تھا۔لطیف گورداس پوری سے اصلاح لینے لگے۔۱۹۴۷ء میں وہ لاہور آگئے۔ ان کا کلام مختلف پرچوں میں چھپنے لگا۔ انھوں نے متعدد فلموں کے گانے لکھے جو بہت مقبول ہوئے۔۱۸؍جولائی ۱۹۷۴ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔

ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:

’زہر آرزو‘، ’غم بہار‘، شب آگہی‘، ’تیشۂ دل‘، ’لوح جنوں‘، ’سبز گنبد‘، ’مقتل گل‘۔ ’’کلیات ساغر ‘‘ ۔

آؤ اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں  

لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں

؎  

آج پھر بجھ گئے جل جل کے امیدوں کے چراغ  

آج پھر تاروں بھری رات نے دم توڑ دیا

؎  

اب اپنی حقیقت بھی ساغرؔ بے ربط کہانی لگتی ہے  

دنیا کی حقیقت کیا کہیے کچھ یاد رہی کچھ بھول گئے  

؎

اب نہ آئیں گے روٹھنے والے  

دیدۂ اشک بار چپ ہو جا

؎

اب کہاں ایسی طبیعت والے  

چوٹ کھا کر جو دعا کرتے تھے  

؎

ایک نغمہ اک تارا ایک غنچہ ایک جام  

اے غم دوراں غم دوراں تجھے میرا سلام

؎

اے دل بے قرار چپ ہو جا  

جا چکی ہے بہار چپ ہو جا  

؎

اے عدم کے مسافرو ہشیار  

راہ میں زندگی کھڑی ہوگی  

؎

بھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجئے  

تم سے کہیں ملا ہوں مجھے یاد کیجئے

؎

بے ساختہ بکھر گئی جلووں کی کائنات  

آئینہ ٹوٹ کر تری انگڑائی بن گیا  

؎

تقدیر کے چہرہ کی شکن دیکھ رہا ہوں  

آئینۂ حالات ہے دنیا تیری کیا ہے   

؎

 تم گئے رونق بہار گئی  

تم نہ جاؤ بہار کے دن ہیں   

؎

جب جام دیا تھا ساقی نے جب دور چلا تھا محفل میں  

اک ہوش کی ساعت کیا کہیے کچھ یاد رہی کچھ بھول گئے   

؎

جس دور میں لٹ جائے غریبوں کمائی  

اس دور کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے

؎  

 جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی  

اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے   

؎

جن سے افسانۂ ہستی میں تسلسل تھا کبھی  

ان محبت کی روایات نے دم توڑ دیا  

؎

جن سے زندہ ہو یقین و آگہی کی آبرو  

عشق کی راہوں میں کچھ ایسے گماں کرتے چلو   

؎

جو چمن کی حیات کو ڈس لے  

اس کلی کو ببول کہتا ہوں

؎

جھلملاتے ہوئے اشکوں کی لڑی ٹوٹ گئی  

جگمگاتی ہوئی برسات نے دم توڑ دیا  

؎

چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے  

ذرا نقاب اٹھاؤ بڑا اندھیرا ہے

؎

چھلکے ہوئے تھے جام پریشاں تھی زلف یار  

کچھ ایسے حادثات سے گھبرا کے پی گیا  

؎

حوروں کی طلب اور مے و ساغر سے ہے نفرت  

زاہد ترے عرفان سے کچھ بھول ہوئی ہے  

؎

خاک اڑتی ہے تیری گلیوں میں  

زندگی کا وقار دیکھا ہے  

؎

دنیائے حادثات ہے اک دردناک گیت  

دنیائے حادثات سے گھبرا کے پی گیا  

؎

رنگ اڑنے لگا ہے پھولوں کا  

اب تو آ جاؤ! وقت نازک ہے  

؎

زلف برہم کی جب سے شناسا ہوئی  

زندگی کا چلن مجرمانہ ہوا  

؎

 زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے  

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں  

؎

غم کے مجرم خوشی کے مجرم ہیں  

لوگ اب زندگی کے مجرم ہیں  

؎

لوگ کہتے ہیں رات بیت چکی  

مجھ کو سمجھاؤ! میں شرابی ہوں  

؎

مر گئے جن کے چاہنے والے  

ان حسینوں کی زندگی کیا ہے  

؎

 مسکراؤ بہار کے دن ہیں  

گل کھلاؤ بہار کے دن ہیں  

؎

موت کہتے ہیں جس کو اے ساغرؔ  

زندگی کی کوئی کڑی ہوگی  

؎

میں آدمی ہوں کوئی فرشتہ نہیں حضور  

میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا  

؎

میں تلخی حیات سے گھبرا کے پی گیا  

غم کی سیاہ رات سے گھبرا کے پی گیا  

؎

میں نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو  

ہم سے کہتے ہیں وہی عہد وفا یاد نہیں  

؎

نغموں کی ابتدا تھی کبھی میرے نام سے  

اشکوں کی انتہا ہوں مجھے یاد کیجئے  

؎

کانٹے تو خیر کانٹے ہیں اس کا گلہ ہی کیا  

پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا  

؎

کل جنہیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر  

آج وہ رونق بازار نظر آتے ہیں  

؎

ہم بنائیں گے یہاں ساغرؔ نئی تصویر شوق  

ہم تخیل کے مجدد ہم تصور کے امام  

؎

ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں  

میرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں   

؎

یہ کناروں سے کھیلنے والے  

ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو

 ؎  

Silver rose welcome 12

حادثے  کیا  کیا  تمہاری  بے  رخی  سے  ہوگۓ

ساری  دنیا  کے  لیۓ  ہم  اجنبی  سے  ہوگۓ

کچھ  تمہارے  گیسوؤں  کی  برہمی  سے  ہوگۓ

کچھ  اندھیرے  میرے  گھر  میں  روشنی  سے  ہوگۓ

بندہ پرور  کھل  گیا  ہے  آستانوں  کا  بھرم

آشنا  کچھ  لوگ  راز  بندگی  سے  ہوگۓ

گردش دوراں  زمانے  کی  نظر  آنکھوں  کی  نیند

کتنے  دشمن  ایک  رسم  دوستی  سے  ہوگۓ

زندگی  آگاہ  تھی  صیاد  کی  تدبیر  سے

ہم  اسیر  دام  گل  اپنی  خوشی  سے  ہوگۓ

اب  کہاں  اے  دوست  چشم  منتظر  کی  آبرو

اب  تو  ان  کے  عہد و پیماں  ہر  کسی  سے  ہوگۓ

Blue flower candleKuliyat e sagharBlue flower candleSilver bar 12Thanks Quill 1

 

Sheikh Abdul Qadir Jilani March 5, 2008

Posted by Farzana Naina in Religion.
Tags: , ,
65 comments
darbar_ghaus_pak.jpg
Hazrat-e-Bishr Qarazi narrates that I was travelling with a group of traders along with fourteen camels carrying sugar. We stopped for the night in a dangerous jungle. In the early hours of the night my four loaded camels disappeared, which were not found even after a lot of search. The group also departed. The camel driver stayed back with me . In the morning I suddenly remembered that my Mentor, The King of Baghdad Huzoor Ghous-e-Pak had told me that whenever you get stuck in any problem then call me (my name), Allah willing that problem will be solved, hence I requested this way: YA SHAIKH ABDUL QADIR! MY CAMELS ARE LOST. All of sudden I saw a saintly man dressed in white clothes on a sand dune towards east, who was signaling me to come to him. As soon as I along with my camel driver reached over there the saintly Man disappeared from vision. We were strangely looking here and there when we suddenly spotted those four lost camels sitting under the sand dune. Then what happened was that we caught the camels and re-joined the group. When Sayyed-e-na Shaikh Ab-ul-Hasan Ali Khabbaz was told the incident of the lost camels He said that Hazrat-e-Shaikh Ab-ul- Qassim has said that I have heard Sayyed-e-na Shaikh Muhi-ud-Din Abdul Qadir Jilani saying:
“THE ONE WHO CRIES OUT FOR MY HELP DURING SOME PROBLEM, THE PROBLEM GETS SOLVED, THE ONE WHO CALLS OUT MY NAME IN ANY HARDSHIP, THAT HARDSHIP; GETS DISMISSED, THE ONE WHO USED ME AS A SOURCE TO ASK ALLAH FOR SOME NEED, IT WILL BE FUFILLED. THE PERSON WHO PRAYES TWO RAK’AT OF NAFL AND IN EACH RAK’AT AFTER SURAH FATIHA RECITIES SURAH IKHLAS ELEVEN TIMES, AFTER SAYING SALAAM i.e AFTER FINISHING THE PRAYER, SENDS DUROOD-O-SALAAM ON THE KING OF MADEENAH AND THEN WALKS A DISTANCE OF ELEVEN STEPS TOWARDS BAGHDAD SHAREEF AND CALLS OUT MY NAME AND PRESENTS HIS NEED, ALLAH WILLING, THAT NEED WILL BE FULFILLED’.
Why should I go from door to door when I have a mentor like You. I received every thing from you ‘O, Ghous-e-Azam Dastgir.
Dear Islamic Brother! It is possible that in someone’s mind a thought may arise that we should only ask Allah for any help and no one else, because when Allah is the One who helps then why should we ask anyone else for help? The answer to this is that this is the way he makes an unknown number of people go astray. When Allah has not refrained from asking for help from someone else then how can someone get the right of saying that don’t ask for help from anyone but Allah. Look in the Holy Quran, where Allah has in various verses allowed asking for help from someone else, but even though being the Omnipotent in every way,. He has asked for help from His beings. Therefore it is stated:
Translation: If you will help the religion of Allah, Allah will help you. (Part-26, Sura: Muhammad)
THE KING OF JINNS
Bushair bin Mahfooz states that once my daughter, Fatima, all of a sudden vanished from the roof of my house. I got worried and want to the blessed presence of Sayyed-e-na Ghouse-e-Pak and requested for help. He told me to go to Karkh, and during the night sit in a deserted place forming a fort (Hisar) around myself. Over there think about em and say:” Bismillah” During the darkness of night groups of Jinns will pass by you, their faces will be very strange, do not get scared by looking at them, at the time of sahari the KING OF JINNS will come to you and will ask you about your requirement. Tell him, “Sheikh Abdul Qadir Jilani has sent me from Baghdad (my requirement is that) you search my daughter.”
Hence, I went to the ruins of KARKH and followed the instructions of Huzoor Ghous-e-Azam. During the silence of night, horrifying Jinns kept on passing outside my hisar. The faces of the Jinns were so horrifying that I could not look at them. At the time of sahari, the KING OF JINNS came on a horse back, there were Jinns surrounding him. He asked my demand from outside the hisar. I told him that Huzoor Ghous-e-Azam has sent me to you. As soon as he beard this, he got down the horse and sat on the ground. The other Jinns too sat outside the hisar.
I narrated the incident of the disappearance of my daughter. He announced amongst all the Jinns, “Who has taken the girl?” Within moments the Jinns caught a Chinese Jinn and presented him as the culprit. The King of the Jinns asked him why did you pick the girl up from the city of the Highest Cadre in Spiritual Pivot (Qutub) of the time? He said, while shivering, Your Highness! After looking at her I fell in love with her. The King ordered the Chinese Jinn to be beheaded and returned my wonderful daughter to me. I thanked the King of the Jinns and said, as Allah will! You are an ardent lover of Sayyed-e-na Ghouse-e-Pak. He then replied, I SWEAR UPON ALLAH WHEN HUZOOR GHOUS-E-PAK LOOKS TOWARDS US, ALL THE JINNS START TREMBLING. WHEN ALL NOMINATES AS QUTUB OF TIME THEN ALL THE JINNS AND HUMANS ARE ORDERED TO FOLLOW HIM. (Bahjaa-tul- Asraar)
All the Jinns start trembling (with fear) on hearing your name. Your Have that majestic awe ‘O, Ghous-e-Azam Dastgir.
About Gous Pak: Sheikh Abdul Qadir Jelani was a noted Hanbali preacher, Sufi sheikh and the eponymous founder of the Qadiri Sufi order (selsela). He was born in Ramadan AH 470 (about AD 1077) in the Persian province of Gilan (Iran) south of the Caspian sea. His contribution and renown in the sciences of Sufism and Sharia was so immense that he became known as the spiritual pole of his time, al-Gauth al Azam (the “Supreme Helper” or the “Mightiest Succor”). His writings were similar to those of al-Ghazali in that they dealt with both the fundamentals of Islam and the mystical experience of Sufism.
Parents and Early Life
Abdul Qadir Jilani was a Sufi master and Syed (descendant of the Prophet Muhammad) from both his father and mother. His father Abu Saleh Jangidost, was an illustrious and God-fearing man. Once while engrossed in meditation by the bank of a river he saw an apple floating down the river. He picked it up and ate it. It struck to him that he ate the apple without paying for it so he set out in search of the owner, on the bank of the river and at last reached the owner of the apple orchard “Abdullah Somai” whom he requested to tell him the price of the apple, Abdullah Somai replied that it was an expensive thing. Syed Abu Saleh replied that he had not much by way of worldly material but he, could serve him for compensation. Abdullah Somai then asked him to work for a year in the orchard. In course of time the duration was extended several times. In the end Abdullah Somai admitted that he had served him in excess of the price and desired to reward him. Abu Saleh hesitated in accepting it but when Abdullah Somai persisted, he relented. He said he had a daughter, blind of eyes, handicapped of hands and feet and wanted to give her in marriage to him. In this way Abu Saleh was married to Abdullah Somai’s daughter, Syeda Fatimah. To his astonishment found her wondrously beautiful and wholesome. He complained to his father-in-law that he found her exactly the opposite to what he had described her. Abdullah Somai insisted on the truthfulness of his statement. She was blind because she had not seen any Ghair Mehram (a man who could marry her). She was mute because she had not uttered a word repugnant to the Shariah (Islamic law). She was deaf because she had not heard anything inconsistent with the Shariah. She was handicapped of hand and feet because she had never moved in the direction of evil.
Abdul Qadir Jilani’s father died soon after and the young orphan was reared up by his mother and his grandfather, Abdullah Somai.
Adult life
At the age of 18 he went to Baghdad on AH 488 (1095 AD), where he pursued the study of Hanbalite law under several teachers. His mother sewed 40 gold coins in his quilt so that he might spend them when needed. The dacoits struck the caravan on the way, and looted all the travelers of their belongings. They asked him what he had. He replied that he had 40 gold coins. The dacoits took his reply for a joke and took him to their chief, who asked him the same question and he again replied that he had 40 gold coins. He demanded him to show, upon whom he tore away, the quilt and produced the gold coins. He was surprised and asked him why he had given the hidden gold coins when he could have kept them hidden. Young Abdul Qadir Jilani replied that he was travelling to Baghdad to receive education and his mother had instructed him to speak the truth. This left a deep effect on the chief of the dacoits and he gave up looting.
Abdul Qadir received lessons on Islamic Jurisprudence from Abu Said Ali al-Mukharrimi, Hadith from Abu-Bakra-bin- Muzaffar, and commentary (tafseer) from the renowned commentator, Abu Muhammad Jafar.
In Sufism, his spiritual instructor was Shaikh Abu’l-Khair Hammad. From him, he received his basic training, and with his help he set out on the spiritual journey. Abu Shuja’ was also a disciple of Shaikh Hammad, once he said: “Shaikh Abdul Qadir was in the company of Shaikh Hammad, so he came and sat in front of him, observing the best of good manners, until he stood up and took his leave. I heard Shaikh Hammad say, as soon as Shaikh Abdul Qadir had left: ‘This non-Arab has a foot that will be raised, when the proper time comes, and placed upon the necks of the saints of that time. He will surely be commanded to say: This foot of mine is upon the neck of every saint of Allah. He will surely say it, and the necks of all the saints of his age will surely be bent at his disposal.'” Hazrat Junayd Baghdadi (died AD 910), who died about 167 years before the birth of Shaikh Abdul Qadir Jilani, predicted about him on one occasion, when he was performing meditation & during that he said: “His foot will be over all Saints’ necks.” After finishing meditation, his disciples asked him about his words, he replied: “One Sufi would be born in the future, who would be greater than all saints.” Thus, Shaikh Hammad proved the words of Hazrat Junayd as right. The historians says that, later Shaikh Abdul Qadir Jilani also repeated the same words on many occasion by himself.
Spiritual Lineage, Shajra Mubarik
Prophet Muhammad (SW)
The Caliph Ali ibn Abi Talib
Sheikh Hasan Basri
Sheikh Habib Ajami
Sheikh Dawood Taiee
Sheikh Ma’ruf Karkhi
Sheikh Sari Saqati
Sheikh Junayd al-Baghdadi
Sheikh Abu Bakr Shibli
Sheikh Abdul Aziz al-Tam?m?
Sheikh Abu al-Fadl Abu al-Wahid al-Tam?m?
Sheikh Abu al-Farah Tartusi
Sheikh Abu al-Hasan Hakari
Sheikh Abu Sa’id al-Mubarak Mukharrami
Sheikh Abdul Qadir Jilani
abdulkadirjilanir.jpg
Popular Sufi Sheikh
After completion of education, Hazrat Abdul Qadir Jilani abandoned the city of Baghdad, and spent twenty-five years as a wanderer in the desert regions of Iraq as a recluse.[2] He was over fifty years old by the time he returned to Baghdad, in AH 521 (AD 1127), and began to preach in public. His hearers were profoundly affected by the style and content of his lectures, and his reputation grew and spread through all sections of society. Not only Muslims, but also Jews and Christians, not only caliphs and viziers but also farmers, merchants and traders allegedly altered their lives in response to Abdul Qadir’s perorations. [3] He moved into the school belonging to his old teacher al-Mukharrimii, there he engaged himself in teaching. Soon he became popular with his pupils. In the morning he taught hadith and tafseer, and in the afternoon held discourse on mysticism and the virtues of the Qur’an. The number of students increased so much that the seminary could no more contain them. He, therefore, decided to extend the premises of the seminary. The students and the people willingly came forward with their wholehearted contributions. The campus buildings were ready in AH 528 and thereafter it came to be known as Madarsai-e-Qadriya.Hazrat Abdul Qadir Jilani was a Non-Arab (ajami), so he wasn’t fluent in Arabic and was having some difficulties because of it. Once The Prophet Muhammad came to him in a dream, before the time of the midday prayer (Zuhr), and he said to him: “O my dear son, why do you not speak out?” He replied: “O dear father, I am a Non-Arab man. How can I speak fluently in the classical Arabic language of Baghdad?” Holy Prophet said: “Just open your mouth!” He opened his mouth, and The Holy Prophet put his saliva seven times in his mouth. A few moments later, Hazrat Ali ibn Abi Talib also came & did the same to him six times. And from that time, Hazrat Abdul Qadir Jilani spoke classical Arabic language with fluency, his memory increased and he felt some great positive spiritual changes in him.
Once some one asked Shaikh Abdul Qadir Jilani about Mansur Al-Hallaj, he replied: “His claim extended too far, so the scissors of the Sacred Law (Shari’a) were empowered to clip it.”
He busied himself for forty years in the service of the Islam from AH 521 to 561. During this period hundreds embraced Islam because of him and organized several teams to go abroad for the purpose. He arrived in Indian sub-continent in AD 1128, and stayed at Multan (Pakistan). He died in AH 561 (AD 1166) at the age of 91 years, and was buried in Baghdad.
“My Foot is on the Neck of All Walis”
Sheikh Abdul Qadir Jilani uttered these words from the pulpit in Baghdad. All awliya, present and non-present, bowed their heads in submission. Unlike shatahat of some awliya, these words of Shaikh Abdul Qadir Jilani were uttered in a state of sobreity, sahw. With the exception of Sahaba and the Imams of Ahle Bait, Sheikh Abdul Qadir Jilani’s foot is on the neck of all awliya.

Photobucket

6 Kalimah March 3, 2008

Posted by Farzana Naina in Religion.
Tags: ,
1 comment so far

6.jpg5.jpg4.jpg3.jpg2.jpg1.jpg