jump to navigation

Mehdi Hassan June 1, 2012

Posted by Farzana Naina in Film and Music, Ghazal, Ghazal, Music, Old Pakistani Music, Poetry, Radio, Shairy, Urdu Poetry, Video.
Tags: , , , , , ,
1 comment so far

بشکریہ بی بی سی اردو

شہنشاہِ غزل استاد مہدی حسن 1927 میں راجستھان کے ایک گاؤں لُونا میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد اور چچا دُھرپد گائیکی کے ماہر تھے اور مہدی حسن کی ابتدائی تربیت گھر ہی میں ہوئی۔ خود اُن کے بقول وہ کلاونت گھرانے کی سولھویں پیڑھی سے تعلق رکھتے تھے۔

1947 میں بیس سالہ مہدی حسن اہلِ خانہ کے ساتھ نقلِ وطن کر کے پاکستان آ گئے اور محنت مزدوری کے طور پر سائیکلیں مرمت کرنے کا کام شروع کیا۔

کسبِ کمالِ کُن کہ عزیزِ جہاں شوی

اسی روایت پر عمل کرتے ہوئے انھوں نے مکینک کے کام میں مہارت حاصل کی اور پہلے موٹر مکینک اور اسکے بعد ٹریکٹر کے مکینک بن گئے، لیکن رہینِ ستم ہائے روزگار رہنے کے باوجود وہ موسیقی کے خیال سے غافل نہیں رہے اور ہر حال میں اپنا ریاض جاری رکھا۔

سن پچاس کی دہائی اُن کے لیے مبارک ثابت ہوئی جب اُن کا تعارف ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر سلیم گیلانی سے ہوا۔ جوہر شناس نے موتی کی صحیح پہچان کی تھی چنانچہ دھرپد، خیال، ٹھُمری اور دادرے کی تنگنائے سے نکل کر یہ جوہرِ قابل غزل کی پُرفضا وادی میں آنکلا جہاں اسکی صلاحیتوں کو جِلا ملی اور سن ساٹھ کی دہائی میں اسکی گائی ہوئی فیص احمد فیض کی غزل ’گلوں میں رنگ بھرے‘ ہر گلی کوچے میں گونجنے لگی۔

فلمی موسیقار جو ان کے فن کو ریڈیو کی گائیکی کہہ کر دامن چھڑاتے رہے تھے، اب جمگھٹا بنا کر اسکے گرد جمع ہوگئے چنانچہ سن ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں مہدی حسن پاکستان کے معروف ترین فلمی گائیک بن گئے اور سنتوش کمار، درپن، وحید مراد اور محمد علی سے لیکر ندیم اور شاہد تک ہر ہیرو نے مہدی حسن کے گائے ہوئے گیتوں پر لب ہلائے۔

سنجیدہ حلقوں میں اُن کی حیثیت ایک غزل گائیک کے طور پر مستحکم رہی۔ اسی حیثیت میں انھوں نے برِصغیر کے ملکوں کا کئی بار دورہ کیا۔ بھارت میں اُن کے احترام کا جو عالم تھا وہ لتا منگیشکر کے اس خراجِ تحسین سے ظاہر ہوا کہ مہدی حسن کے گلے میں تو بھگوان بولتے ہیں۔ نیپال کے شاہ بریندرا اُن کے احترام میں اُٹھ کے کھڑے ہوجاتے تھے اور فخر سے بتاتے تھے کہ انھیں مہدی حسن کی کئی غزلیں زبانی یاد ہیں۔

پاکستان کے صدر ایوب، صدر ضیاءالحق اور صدر پرویز مشرف بھی اُن کے مداح تھے اور انھیں اعلیٰ ترین سِول اعزازات سے نواز چُکے تھے، لیکن مہدی حسن کے لیے سب سے بڑا اعزاز وہ بےپناہ مقبولیت اور محبت تھی جو انھیں عوام کے دربار سے ملی۔ پاک و ہند سے باہر بھی جہاں جہاں اُردو بولنے اور سمجھنے والے لوگ آباد ہیں، مہدی حسن کی پذیرائی ہوتی رہی اور سن اسّی کی دہائی میں انھوں نے اپنا بیشتر وقت یورپ اور امریکہ کے دوروں میں گزارا۔

مہدی حسن کثیرالاولاد آدمی تھے۔ اُن کے چودہ بچّے ہیں، نو بیٹے اور پانچ بیٹیاں۔ اپنے بیٹوں آصف اور کامران کے علاوہ انھوں نے پوتوں کو بھی موسیقی کی تعلیم دی اور آخری عمر میں انھوں نے پردادا بننے کا اعزاز بھی حاصل کرلیا اور اپنے پڑپوتوں کے سر پہ بھی دستِ شفقت رکھا۔

اُن کے شاگردوں میں سب سے پہلے پرویز مہدی نے نام پیدا کیا اور تمام عمر اپنے اُستاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے رہے۔ بعد میں غلام عباس، سلامت علی، آصف جاوید اور طلعت عزیز جیسے ہونہار شاگردوں نے اُن کی طرز گائیکی کو زندہ رکھا۔

ملکہ ترنم نور جہاں کا کہنا تھا کہ ایسی آواز صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتی ہے، حالانکہ یہ بات خود مادام کی شخصیت پر بھی اتنی ہی صادق آتی ہے۔ آج مداّح اور ممدوح دونوں ہی اس دنیا میں نہیں لیکن موت نے صرف اُن کا جسدِ خاکی ہم سے چھینا ہے۔ اُن کی لازوال آواز ہمیشہ زندہ رہے گی۔

Advertisements

Jagjit Singh – جگجیت سنگھ October 10, 2011

Posted by Farzana Naina in Art, Film and Music, Ghazal, Ghazal, Kavita, Mushaira, Music, Nazm, Poetry, Radio, Shairy, Sher, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags:
2 comments

پير 10 اکتوبر2011

بھارت میں غزلوں کے معروف گلوکار اور غزل گائیک جگجیت سنگھ کا ممبئی کے لیلا وتی ہسپتال میں انتقال ہوگیا ہے۔ ان کی عمر ستّر برس تھی۔

گزشتہ ہفتہ برین ہیمبرج کے سبب انہیں ہسپتال میں داخل کیا گيا تھا۔ سوگواروں میں وہ اپنی اہلیہ چترا داس کو چھوڑ گئے ہیں۔

جس روز انہیں ہسپتال میں داخل کیا گیا اس روز وہ ممبئی میں پاکستان کے مشہور زمانہ گلوکار غلام علی کے ساتھ مشترکہ پروگرام پیش کرنے والے تھے۔

جگجیت سنگھ کے ایک ہی بیٹا تھا۔ جو جوانی میں ہی ایک روڈ حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

آزادی کے بعد بھارت میں غزل گائیکی کے فن کے حالات اچھے نہیں رہے تھے لیکن جگجیت نے اس فن کو دوبارہ زندہ کیا اور غزل کو درباروں یا ادب کی محفلوں سے نکال کر عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جگجیت سنگھ غزل گلوکاری کے لیے بھارت میں تو مشہور ہیں ہی لیکن ان کے مداح دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔

جگجیت سنگھ ریاست راجستھان کے شری گنگا نگر میں آٹھ فروری انیس سو اکتالیس میں پیدا ہوئے تھے۔ پیدائش کے وقت ان کا نام جگموہن رکھا گيا تھا لیکن ایک خاندانی ستارہ شناش کی صلاح پر ان کا نام جگجیت سنگھ کر دیا گیا۔

جگجیت سنگھ نے فلموں میں بھی نغمے گائے لیکن بھارت میں انہیں غزل گائیکی کا معمار مانا جاتا ہے جنہوں نے اس فن کو عوام میں مقبول کیا۔

نقاد ان کے فن کو معیاری یا اعلٰی پائے کا نہیں سمجھتے ہیں لیکن نکتہ چینی بھی اس بات کے قائل ہیں کہ انہوں نے غزلوں کو فلمی گیتوں کی طرح عوام تک پہنچایا۔

جگجیت سنگھ پہلے اپنی اہلیہ چترا کے ساتھ مل کر غزلیں گاتے تھے اور ان کے کئی البم کافی مقبول ہوئے۔ لیکن بیٹے کی موت کے بعد چترانے اس پیشہ کو یکسر چھوڑ دیا اور کبھی دوبارہ نہیں گایا۔

گجیت نے لتا منگیشکر کے ساتھ مل کر سجدہ کے نام سے ایک البم بنایا تھا جو بہت مقبول ہوا تھا۔ انہوں نے اوشا منگیشکر کے ساتھ بھی کافی کام کیا۔

انہوں نے بالی وڈ کے معروف نغمہ نگار اور شاعر گلزار کے سات بھی کافی کام کیا اور ان کے ٹی وی سیریل مرزا غالب میں انہوں نے کئی غزلیں پیش کیں جو بہت مقبول ہوئیں۔ غالب کی چند غزلوں کو جگجیت سنگھ نے عوام میں دوام بخشا۔ اس سیریل کی بیشتر غزلیں اب بھی لوگوں کی پسندیدہ ہیں۔

انہوں نے جاوید اختر کے ساتھ بھی کام کیا اور سوز کے نام سے ایک البم تیار کیا جو کافی سنا گیا۔

جگجیت سنگھ کو گھوڑوں سے بہت لگاؤ تھا اور گھوڑوں کی ریس کے شوقین تھے۔ ان کے پاس گھوڑے تھے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے انہوں نے بہت سے لوگوں کی مدد بھی لی تھی۔

بشکریہ بی بی سی اردو

ہفتہ 24 ستمبر 2011

بھارت کے مشہور غزل گو جگجیت سنگھ کی دماغ کی شریان پھٹنے کے بعد ممبئی کے ایک ہسپتال میں ان کا آپریشن کیا گیا ہے۔

ممبئی کے علاقے باندرہ میں واقع ليلاوتی ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ جمعہ کی صبح ہسپتال لائے جانے کے بعد ستّر سالہ جگجیت سنگھ کی سرجری کی گئی تاہم ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے ان کے ایک قربت دار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

انہیں جمعہ کی شام پاکستان کے مشہور غزل گو غلام علی کے ساتھ ایک پروگرام میں شامل ہونا تھا۔

اس سے پہلے جگجیت سنگھ کو سنہ انیس سو اٹھانوے میں دل کا دورہ پڑا تھا اور جسم میں خون کی گردش میں مسائل کی وجہ سے انہیں اکتوبر سنہ دو ہزار سات میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ شاید ان ہی وجوہات کی بناء پر انہیں برین ہیمرج ہوا ہوگا۔

جگجیت سنگھ کے خاندان کے ایک قریبی دوست نے ليلاوتي ہسپتال میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کے دماغ کے ایک حصہ میں خون جم گیا تھا جسے نکالنے کے لئے آپریشن کیا گیا۔

ان کے مطابق، انہیں اگلے اڑتالیس گھنٹے تک انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا جائے گا۔

BBC UK

 

Sufi Singers of Sindh-Sohrab Faqeer October 29, 2009

Posted by Farzana Naina in Cultures, Film and Music, Music, Pakistan, Sindhi.
Tags: , , ,
2 comments

سندھ کے معروف صوفی گلوکار سہراب فقیر کا پچھتر برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد کراچی کے ایک ہسپتال میں جمعہ کے روز انتقال ہو گیا۔ فالج کی وجہ سے ان کی وہ آواز ختم ہو چکی تھی جسے سننے کے لیے لوگ دور دراز علاقوں سے درازہ (درازہ اس گاؤں کا نام ہے جہاں سائیں سچل مدفو ن ہیں) آتے تھے۔

سہراب فقیر

سہراب فقیر کے انتقال کے ساتھ ہی صوفیوں کا کلام گانے والا ایک اور نامور فنکار کم ہو گیا۔ ان کی کمی پوری کرنے کے لیے مستقبل قریب میں کوئی نظر نہیں آتا ہے۔ اسی طرح جیسے علن فقیر کا مقام حاصل کرنے کے لیے ابھی تک کوئی سامنے نہیں آسکا ہے۔

سہراب کو، جن کا پورا نام فقیر سہراب خاصخیلی تھا، سائیں سچل سرمست کا کلام خصوصاً سنگ گانے کا ملکہ حاصل تھا۔

سہراب کو، جن کا پورا نام فقیر سہراب خاصخیلی تھا، سائیں سچل سرمست کا کلام خصوصاً سنگ گانے کا ملکہ حاصل تھا

انہوں نے آٹھ برس کی عمر سے صوفیوں کا کلام گانا شروع کیا تھا اور سار ی زندگی یہی کام کیا جو ان کا ذریعہ معاش تو تھا ہی لیکن محبوب مشغلہ بھی تھا۔

یہ فن انہیں ورثہ میں ملا تھا۔ ان کے والد ہمل فقیر خود اپنے وقت کے بڑے گائک تھے اورتھری میر واہ میں مدفون بزرگ شاعر خوش خیر محمد ہسبانی کے مرید تھے۔ کچھ بیٹے کو انہوں نے تربیت دی تو کچھ بیٹے کا شوق جس نے سہراب خاصخیلی کو سہراب فقیر بنا دیا۔

یہ سہراب کی اپنے فن پر گرفت اور مقبولیت ہی تھی جو حکومت کو مجبور کرتی تھی کہ انہیں طائفہ کے ساتھ بیرونی ممالک میں بھیجا جائے۔ برطانیہ ، بھارت، ناروے، سعودی عرب اور دیگر کئی ممالک میں جا کر انہوں نے سامعین سے داد وصول کی تھی۔

سائیں سچل ہفت زبان شاعر تھے اور سہراب سندھی، سرائکی، پنجابی اور اردو زبانوں میں گاتے تھے کہ جس زبان میں گایا ایسا لگا کہ یہ ان کی ہی زبان ہے۔

وہ سائیں سچل کے علاوہ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی، حضرت سلطان باہو، سا ئیں بھلے شاہ اور دیگر شعراء کا کلام بھی گایا کرتے تھے۔

بشکریہ بی بی سی …………آؤ رانھڑا رہو رات

Aao Ranhra Raho Raat

Noorjahan-Melody Queen Of Pakistan January 31, 2008

Posted by Farzana Naina in Music.
Tags: , , ,
4 comments

noorjehan-in-1946.jpg

نورجہاں عمر کے آخری اوائل میں

noorjahan-oldage.jpg

ملکہ ترنم مادام نورجہاں انیس سو انتالیس کی پنجابی فلم ہیر سیال میں

ملکہ ترنم مادام نور جہاں فلم جگنو کا ایک گیت ‘امنگیں دل کی مچلیں’جبکہ
اسی فلم کا دوسرا گیت دلیپ کمار کے ساتھ مقبول ہوا تھا ‘یہاں بدلہ وفا
کا بیوفائی کے سوا کیا ہے

noorjahan-khandaan-poster.jpg

noorjahan-1.jpg

noorjahan-3.jpg

نورجہاں فلم کوئل میں

نورجہاں فلم انتظار میں

noorjahan-2.jpg

نورجہاں اپنے شوہر شوکت رضوی کے ہمراہ

noorjahan-shaukatrizvi.jpg

نورجہاں اپنی عمر کی پچاسویں دہائی میں

noorjehan-in-her-fifties.jpg

نورجہاں اور طفیل نیازی فلمی تقریب میں

noorjehanfriendsfamily-mid-1980s-l-r-zill-e-huma-noors-daughter-masood-rana-noor-tufail-niazi.jpg

نورجہاں نگار ایوارڈ کی فلمی تقریب میں

noorjahan-nigaraward.jpg

نورجہاں اور پران فلم خاندان میں انیس سو بیالیس

noorjahan-pran-khandaan-1942.jpg

نورجہاں انیس سو چھپن کی فلم لخت جگر میں

noorjahan-lakhtijigar1956.jpg

نورجہاں کی فلم گل بکاؤلی  کا پوسٹر

noorjahan-gulbakauli.jpg

نورجہاں کی فلم ہیر سیال کا پوسٹر

noorjahan-heer-syal.jpg

نورجہاں، فلم موسیقار کی فلمی تقریب میں

noorjahan-mauseeqar.jpg

نورجہاں کا ایک فلمی سین

noorjahan-filmscene.jpg

ثریا اور نورجہاں فلم .مرزا

صاحباں. میں انیس سو پینتیس کی تصویر

surraiya-chaudhry-right-and-noor-jehan-in-mirza-sahiban-1947.jpg

نورجہاں کی فلم دوپٹہ کا پوسٹر

noorjahan-dopatta-flyer.jpg

نورجہاں .فلم انمول گھڑی میں ۔ انیس سو انچاس

noor-jehan-in-anmol-ghadi-1946.jpg

dilip-kumar-noor-jehan-in-jugnu-1946.jpg

ساڑھے دس بجے، مقام کوٹ مراد خان، قصور ۔اکیس ۔سنہ انیس سو چھبیس

فتح بی بی کے ہاں ایک بیٹی جنم لیتی ہے اور اس کا نام دائی عائشہ کی فرمائش پر اللہ وسائی رکھا جاتا ہے۔ عائشہ فتح بی بی کو نومولود بچی کے بھاگوان ہونے کا عندیہ سناتی ہے۔

اللہ وسائی کی پھو پھی الٰہی جان اسے آکر گھٹی میں شہد دیتی ہے۔ الٰہی جان قصور کی چند سریلی خواتین میں سے ایک ہے۔ وہ باہر اپنے بھائی اور اللہ وسائی کے والد مدد علی سے مذاق میں کہتی ہے: ‘بچی کے رونے کا انداز بتا رہا ہے کہ یہ بڑی سریلی ہو گی ، اگلے ہی روز قصور کے سارنگی نواز استاد غلام محمد بچی کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ بچی کے سر پر ہاتھ پھیر کر اسے دُعا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ نے چاہا تو بچی اپنے ماں باپ کا نام روشن کرے گی، وہ بچی بھاگوان بھی ہوتی ہے اور سریلی بھی۔ اتنی سریلی کہ پورے برِ صغیر میں اس کی کوئی مثال نہیں۔ اس نے نہ صرف اپنے ماں باپ کا نام روشن کیا بلکہ وہ پاکستانی موسیقی کی آن شان اور مان ہے۔ جیسے اس نے گایا اس کی مثال ملنا بہت ہی مشکل ہے۔ ہم اسے ملکہ ترنم نورجہاں کے نام سے جانتے ہیں جو تئیس دسمبر سن دو ہزار کو ہم سے جدا ہو گئیں۔

نورجہاں کو پانچ سال کی عمر میں استاد غلام محمد کے سپرد کر دیا گیا تاکہ وہ موسیقی کی تعلیم حاصل کر سکیں۔ استاد غلام محمد نے جب ‘سا رے گا ما پا دھا نی سا‘ کے الاپ کے ساتھ نورجہاں کو موسیقی کا سبق دینا شروع کیا تو وہ حیران رہ گئے کہ اس بچی کی آواز میں اس قدر لوچ ہے جو اس سے پہلے کسی اور آواز میں نہ سنا گیا تھا۔ دو سال کی ہی سخت محنت اور لگن کے بعد نورجہاں اس قابل ہو گئی کہ اپنی بہن عیدن اور کزن حیدر باندی کے ساتھ قصور کے سٹیج پر مختصر طور پر پرفارمنس دے سکے۔

نورجہاں نے سٹیج پر پرفارم کرنے کے لیے اس وقت کے چند مشہور گانے یاد کر رکھے تھے۔ ان میں لوک گیت ‘لنگھ آ جا پتن چناں دا‘، اختر بائی فیض آبادی کی گائی ہو غزل ‘دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے‘، پنجابی نعت ‘میرے مولا مدینے بلا لے مجھے‘ وغیرہ جیسے آئٹم شامل تھے۔ قصور سے نکل کر نورجہاں اپنی بہن عیدن اور استاد غلام محمد کے ساتھ لاہور آ گئیں۔ اُسی دور میں ان کی ملاقات موسیقار جی اے چشتی سے ہو گئی جو ان دنوں گلوکاری کے ساتھ ساتھ شاعری میں بھی طبع آزمائی کرتے تھے۔ انہوں نے ایک نعت ‘ہنستے ہیں ستارے یا شاہِ مدینہ‘ کی دھن بنائی۔ یہ نعت نورجہان نے پہلی بار مہابیر تھیٹر میں پیش کی اور اسے فوری پذیرائی حاصل ہوئی۔ بعد میں نورجہاں نے لاہور کے کئی دیگر سینماؤں میں بھی فلم کے پہلے نصف کے اختتام پر ہونے والے لائیو شو میں پرفارم کیا اور بے پناہ داد وصول کی۔ لاہور میں چند ماہ قیام کے بعد ہی نورجہاں اپنی بہن عیدن، کزن حیدر باندی اورگروپ کے دیگر افراد کے ساتھ فلمی دنیا میں قسمت آزمانے کے لیے کلکتہ چلی گئیں۔ ان دنوں کلکتہ میں مختار بیگم کا شہرہ تھا اور شہر کے مشہور ہال میں ان کا تھیٹر چل رہا تھا۔ نور جہاں کے بھائی محمد شفیع نے مختار بیگم سے رابطہ کیا اور ان سے مدد کی درخواست کی۔ مختار بیگم نے جب نورجہاں کو سنا تو وہ ان کی سریلی آواز اور لے سے بہت متاثر ہوئیں اور وعدہ کیا کہ وہ اپنی کمپنی کے سیٹھ سے قصور سے آئے اس گروپ کی سفارش کریں گی۔ کمپنی میں ملازمت کے بعد اس گروپ کو ‘پنجاب میل‘ کا خطاب دیا گیا اور اللہ وسائی کا فلمی نام ‘بے بی نورجہاں‘ قرار پایا۔ نورجہاں سب سے پہلے پنجابی فلم ‘شیلا عرف پنڈ دی کڑی‘ میں ایک چائلڈ سٹار کے طور پر سامنے آئیں۔ اس فلم میں ان پر ایک گانا ‘لنگھ آجا پتن چناں دا‘ فلم بند کیا گیا۔ یہ پنجابی زبان میں بننے والی پہلی فلم تھی اور لاہور سرکٹ میں انتہائی کامیاب ثابت ہوئی۔ اُسی سال یعنی سن انیس سو پینتیس کو ہی انہیں نے فلم ‘مصر کا ستارہ‘ میں ایک چائلڈ سٹار کے طور پر کاسٹ کیا گیا۔ بعد میں انہوں نے بطور چائلڈ سٹار ‘مسٹر اینڈ مسز ممبئی‘، ‘ناری راج‘، ‘ہیر سیال‘، ‘فخر اسلام‘، ‘مسٹر 420‘، ‘تارن ہار‘، ‘ناممکن‘، ‘امپیریئل میل‘ اور ‘سسی پنوں‘ جیسی فلموں میں کام کیا۔ سن انیس سو اڑتیس میں نورجہاں کلکتہ سے واپس لاہور پہنچ گئیں۔ لاہور واپسی کے فوراً بعد انہیں فلمساز دلسکھ ایم پنچولی کی فلم ‘گُل بکاؤلی‘ میں گانے اور کام کرنے کا موقع مل گیا۔ فلم ‘گُل بکاؤلی‘ کے لیے گائے گئے ان کے گانے ‘شالا جوانیاں مانیں‘ نے پنجاب بھر میں دھوم مچا دی۔ سن انیس سو انتالیس میں ‘گُل بکاؤلی‘ کی نمائش کے ساتھ ہی پنجاب کا بچہ بچہ ان کے نام سے واقف ہو چکا تھا اور ماسٹر غلام حیدر کی موسیقی میں ان کاگایا ہوا گانا ‘شالاجوانیاں مانیں‘ بچے بچے کی زبان پر تھا۔ ‘گُل بکاؤلی‘ کی کامیابی نے نورجہاں کے لیے کامیابیوں کے راستے کھول دیئے اور انہیں فوری طور پر سیٹھ دلسکھ پنچولی کی فلم ‘خزانچی‘ اور ‘یملا جٹ‘ میں کام مل گیا۔ ماسٹر غلام حیدر کی موسیقی اور نورجہاں کی خوبصورت آواز کی بدولت ‘یملا جٹ‘ بھی ایک کامیاب فلم ثابت ہوئی۔ اِسی طرح ان کی اگلی فلم ‘چودھری‘ بھی ہٹ ہوئی۔ نورجہاں کی اِن پہ در پہ کامیابیوں نے پنچولی آرٹ پکچرز کو مالی طور پر مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہونے میں بہت مدد دی۔دوسری عالمی جنگ کی وجہ سے ہونے والے مختصر وقفے کے بعد نورجہاں فلمی دنیا میں واپس آئیں تو وہ بے بی نورجہاں نہیں تھیں بلکہ ہدایت کار شوکت حسین رضوی کی فلم ‘خاندان‘ کی ہیروئن تھیں۔ نورجہاں کی اداکاری اور گانوں کی وجہ سے فلم ‘خاندان‘ نے کامیابی کے نئے معیار قائم کئے اور پنجاب کو کلکتہ اور ممبئی کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔ خاندان کی کامیابی کے ساتھ ہی شوکت حسین رضوی اور نورجہاں کے مابین محبت کے ایک ایسے تعلق کا آغاز ہوا جو نورجہاں کے بھائیوں کی مخالفت اور فریقین میں مقدمہ بازی کے باوجود ان دونوں کی شادی پر منتج ہوا۔ فلم ‘خاندان‘ کی کامیابی کے کچھ عرصہ بعد ہی نورجہاں سن رائز پکچرز کے مالک وی ایم ویاس کی دعوت پر ممبئی چلی گئیں۔ نورجہاں نے سن رائز پکچرز کے ساتھ دو فلموں میں کام کرنے کا معاہدہ ممبئی روانگی سے پہلے لاہور میں ہی کر لیا تھا۔ وی ایم ویاس اپنی دونوں فلموں کی ڈائریکشن کے لیے پہلے ہی شوکت حسین رضوی کو سائن کر چکے تھے۔وی ایم ویاس کے سرمایے کے باوجود سن رائز پکچرز کی دونوں فلمیں ‘دہائی‘ اور ‘نوکر‘ ناکام رہیں۔ نورجہان کے ممبئی میں اپنے قیام کے دوران ‘نادان‘، ‘دوست‘، ‘لال حویلی‘، ‘بڑی ماں‘ جیسی فلموں میں بھی کام کیا لیکن اِن میں سے کوئی بھی معرکۃ الآرا فلم کا مقام حاصل نہ کر سکی۔ممبئی میں نورجہاں کی کامیابیوں کا دور سن انیس سو پینتالس میں فلم ‘گاؤں کی گوری‘ سے شروع ہوتا ہے جس میں ان کی اداکاری کے ساتھ ساتھ گانے بھی سپرہٹ ہوئے۔’ کس طرح بھولے گا دل ان کا خیال آیا ہوا جا نہیں سکتا کبھی شیشے میں بال آیا ہوا‘ اور ‘بیٹھی ہوں تیری یاد کا لے کر کے سہارا آجاؤ کہ چمکے میری قسمت کا ستارہ‘ جیسے گانے ابھی تک موسیقی کے شائقین کو یاد ہیں۔ کچھ یہی حال نورجہاں کی فلم ‘زینت‘ کا رہا جس کی قوالی ‘آہیں نہ بھریں شکوے نہ کئے کچھ بھی نہ زبان سے کام کیا اس پر بھی محبت چھپ نہ سکی جب تیری کسی نے نام لیا‘ ہندوستان کے گلی کوچوں میں زبان زد عام ہوئی۔ فلم ‘زینت‘ کی کامیابی کے بعد ہدایت کار محبوب نے نورجہاں کو اپنی فلم ‘انمول گھڑی‘ میں کاسٹ کیا جو سن انیس سو چھیالیس میں ریلیز ہوئی۔ فلم ‘انمول گھڑی‘ کی کامیابی نے نورجہاں کو شہرت کی ان لازوال بلندیوں پر پہنچا دیا جس کی فلمی دنیا میں ہمیشہ خواہش کی جاتی ہے۔ موسیقار نوشاد کی دھنوں میں نورجہاں کے گائے ہوئے گانے ‘جوان ہے محبت حسیں ہے زمانہ لٹایا ہے دل نے خوشی کا خزانہ‘، ‘میرے بچپن کے ساتھی مجھے بھول نہ جانا/ دیکھو دیکھو ہنسے نہ زمانہ‘ اور سب سے بڑھ کر ‘آواز دے کہاں ہے دنیا میری جواں ہے‘ سننے والوں کے دلوں کو آج بھی اسی طرح گرماتے ہیں جس طرح تقریباً ساٹھ دہائیاں پہلے گرماتے ہیں۔

سن انیس سو چھیالیس میں ہی سید شوکت حسین رضوی اپنے ذاتی ادارے شوکت آرٹ پروڈکشن کے زیر اہتمام فلم ‘جگنو‘ بنانے کا اعلان کیا اور نورجہاں کے مقابل دلیپ کمار کو مرکزی رول میں کاسٹ کیا۔ فیروز نظامی کی موسیقی میں ریکارڈ کیے جانے والے نورجہاں کے گانوں نے فلم کے ریلیز ہونے سے پہلے ہی ہندوستان بھر میں دھوم مچا دی۔ ‘آج کی رات سازِ دل پرسوز نہ چھیڑ‘، ‘تم بھی بھلا دو میں بھی بھلا دوں پیار پرانے گزرے زمانے‘، ‘ہمیں تو شامِ غم میں کاٹنی ہے زندگی اپنی‘ اور محمد رفیع کے ساتھ گایا ہوا نورجہاں کا گانا ‘یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے/ محبت کر کے دیکھا محبت میں بھی دھوکہ ہے‘ اپنی مثال آپ ہیں۔ نورجہاں اپنے شوہر شوکت حسین رضوی اور بیٹے اکبر حسین رضوی کے ہمراہ قیام پاکستان کے بعد بحری جہاز کے ذریعے کراچی آ گئیں۔ بعد میں وہ لاہور شفٹ ہو گئیں اور دونوں میاں بیوی نے پاکستان نوزائیدہ مملکت میں سٹوڈیو قائم کر کے فلمسازی کی بنیاد رکھنے کا بیڑہ اٹھایا۔ انہیں سن انیس سو انچاس میں لاہور میں شوری سٹوڈیو الاٹ کر دیا گیا جسے انہوں نے اپنی تمام جمع پونچی خرچ کر کے شاہ نور کے نام سے بحال کیا اور اس قابل بنایا کہ ممبئی اور کلکتہ سے پاکستان آنے والے فلمساز اپنی فلموں کا آغاز کر سکیں۔

پاکستان آنے کے بعد اپنی ہدایت میں پنجابی فلم ‘چن وے‘ بنانے کا بھی اعلان کر دیا۔ فلم کے موسیقار کے طور فیروز نظامی کو چنا گیا۔ جب سن انیس سو اکیاون میں فلم ریلیز ہوئی تو نورجہاں کی آواز میں ریکارڈ کیے گئے فلم ‘چن وے‘ کے گانے ‘تیرے مکھڑے دا کالا کالا تِل وے‘، ‘چن دیا ٹوٹیا وے دلاں دیا کھوٹیا‘ اور ‘چنگا بنایا ای سانو کھڈونا آپے بناؤنا تک آپے مٹاؤنا‘ بے حد مقبول ہوئے اور فلم کی کامیابی کی وجہ بنے۔

اگلے ہی سال نورجہاں کی فلم ‘دوپٹہ‘ نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ فلم کے موسیقار فیروز نظامی ہی تھے لیکن ہدایت سبطین فضلی صاحب نے دی تھیں۔ فلم ‘دوپٹہ‘ کے گانے ‘چاندنی راتیں سب جگ سوئے ہم جاگیں‘، ‘میں بن پتنگ اڑ جاؤں‘، ‘بات ہی بات میں جی چاندنی رات میں جی جیا میرا کھو گیا‘ وغیرہ آج تک موسیقی کے شائقین کو اپنے سحر میں لیے ہوئے ہیں۔

نورجہاں کی اگلی کامیاب فلم ‘پاٹے خان‘ تھی جو سن انیس سو پچپن میں ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے ساتھ نورجہاں نے پلے بیک سنگر کے طور پر اپنے کیریئر کا بھی آغاز کیا۔ اس سے پہلے وہ صرف اپنی فلموں میں ہی آواز کا جادو جگاتی تھیں۔ اس فلم میں ان کے گائے ہوئے دو گانے مسرت نذیر پر پکچرائز کیے گئے۔ اس فلم میں نورجہاں نے اسلم پرویز کے مقابل مرکزی کردار ادا کیا۔ فلم کی موسیقی اختر حیسن اکھیاں نے ترتیب دی تھی۔ فلم ‘پاٹے خان‘ کا گانا ‘کلی کلی جان دکھ لکھ تے کروڑ وے‘ آج بھی تازہ ہوا کا جھونکا محسوس ہوتا ہے۔

نورجہاں کی فلم ‘انتظار‘ اس وجہ سے نورجہاں کے فنی کیریئر میں اہم مقام رکھتی ہے کیونکہ اس میں انہوں نے خواجہ خورشید انور کے ترتیب دیے ہوئے گانے گائے جو انتہائی مقبول ہوئے۔ ‘چاند ہنسے دنیا بسے روئے میرا پیار/ درد بھرے دل کے میرے ٹوٹ گئے تار‘، ‘جس دن سے پیا دل لے گئے دکھ دے گئے/ اس دن سے گھڑی پل ہائے چین نہیں آئے‘، ‘آ گئے گھر آ گئے بلم پردیسی سجن پردیسی‘، اور ‘جانے والے ٹھہرو ذرا رُک جاؤ‘، ‘چھن چھن ناچوں گی گن گن گاؤں گی‘ کس کس گانے کا ذکر کیا جائے۔ سب ہی پاکستانی فلمی موسیقی کے نگینے ہیں جن کے بغیر اس کا حسن نامکمل رہے گا۔

موسیقی کے لحاظ سے نورجہاں کی اگلی بڑی فلم ‘انارکلی‘ تھی جس میں انہوں نے رشید عطرے کی موسیقی میں چند لازوال گانے گائے۔ ‘صدا ہوں اپنے پیار کی جہاں سے بے نیاز ہوں‘، ‘ہم تیرے گلی میں آ نکلے‘، ‘بانوری چکوری کرے دنیا سے چوری چوری چندا سے پیار‘ آج بھی سننے والوں کے کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ بطور اداکارہ نورجہاں کی آخری فلم ‘مرزا غالب‘ تھی جو بہت اچھے میوزک کے باوجود فلاپ ثابت ہوئی۔ فلم ‘مرزا غالب‘ کے ساتھ نورجہاں کے فنی سفر کا وہ دور اختتام کو پہنچا جو سن انیس سو پینتیس میں فلم ‘شیلا عرف پنڈ دی کڑی‘ میں بے بی نورجہاں نے بطور چائلڈ سٹار کلکتہ سے شروع کیا تھا۔سن انیس سو اکسٹھ میں نورجہاں نے اعلان کیا کہ وہ اب صرف بطور پلے بیک سنگر فلمی دنیا میں موجود رہیں گی۔ پہلے سال نورجہاں نے فلم ‘سلمیٰ‘ اور ‘شام ڈھلے‘ کےگانے ریکارڈ کرائے۔ مگر اگلے ہی سال ان کے گانوں سے مزین چار فلمیں ‘چراغ جلتا رہا‘، ‘قیدی‘، ‘موسیقار‘ اور ‘گھونگھٹ‘ زبردست کامیاب ہوئیں۔ سن انیس سو تریسٹھ میں نورجہاں کے گانوں کی وجہ سے فلم ‘دامن‘، ‘شکوہ‘ اور ‘ایک تیرا سہارا‘ بھی بہت پسند کی گئیں۔

پلے بیک میں ان ابتدائی کامیابیوں کے ساتھ ہی نورجہاں فلمسازوں کی ضرورت بلکہ مجبوری کی شکل اختیار کرتی گئیں باوجود اس کے کہ وہ دیگر پلے بیک سنگرز کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ معاوضہ لیتی تھیں۔ اس وقت کی ہر ہیروئن کی خواہش ہوتی کہ نورجہاں کے گانے ہی ان پر فلمائے جائیں۔ اس وقت زبیدہ خانم، منورسلطانہ، نسیم بیگم اور کوثر پروین بھی مصروف پلے بیک سنگرز تھیں لیکن ان میں سے کوئی بھی نورجہاں کا مقابلہ نہ کر سکی اور ایک ایک کر کے پس منظر سے غائب ہوتی گئیں۔نورجہاں اگلے پندرہ سال پلے بیک سنگر کی حیثیت سے فلم انڈسٹری پر چھائی رہیں۔ اردو ہو یا پنجابی نورجہاں کی آواز کے بغیر کوئی فلم مکمل نہیں سمجھی جاتی تھی۔ اس دور میں انہوں نے خواجہ خورشید انور، ماسٹر عبداللہ، رشید عطرے، ماسٹر عنایت حسین، حسن لطیف للک، وزیر افضل، طافو، وجاہت عطرے اور دیگر موسیقاروں کی ترتیب دی ہوئی دھنوں میں فلمی گیت گائے۔ اس دور کی بڑی فلموں میں آگ کا دریا، لاکھوں میں ایک، مرزا جٹ، سالگرہ، عندلیب، ہیر رانجھا، امراؤ جان ادا اور ناگ منی خاص اہمیت رکھتی ہیں۔

سن انیس سو پچھہتر کے بعد نورجہاں نے پلے بیک دینے سے متعلق اپنی طرف سے لگائی گئی کئی شرائط بھی ختم کر دیں اور ہیروئن کے ساتھ ساتھ ویمپ اور رقاصہ کے لیے بھی گانے دینے شروع کر دیئے جس سے ان کے امیج کو بہت نقصان پہنچا۔ تاہم انہیں اپنی زندگی کے آخری ایام تک پاکستان کی فلم انڈسٹری کی اہم ترین شخصیت کی حیثیت حاصل رہی۔

ملکہِ ترنم نورجہاں پاکستان کے ان فنکاروں میں ہے جن کے بارے میں ان کی زندگی میں بہت کم لکھا گیا اور اگراس عظیم فنکارہ پر کسی نے قلم اٹھایا بھی تو اس کا موضوع ان کی شخصیت بنی نہ کہ ان کا فن۔
میڈم نورجہاں پر لکھی جانے والے پہلی کتاب ‘نورجہاں سرور جان‘ تھی جس کا موضوع تقسیم سے پہلے ممبئی کی فلم نگری میں ان کے شب و روز تھے۔بعد میں شوکت حسین رضوی کے طویل انٹرویو پر مبنی منیر احمد منیر کی کتاب ‘نورجہاں کی کہانی میری زبانی‘ آئی جس کا بظاہر مقصد نورجہاں پر کیچڑ اچھالنے کے سوا کچھ نہیں تھا۔

اس سے بڑھ کر یہ کہ اگر عام گفتگو میں بھی نورجہاں پر بات کی جاتی ہے تو ان کی فنکارانہ عظمت کو ثابت کرنے کے لیے دلیل آدھی صدی پہلے تقسیم سے قبل بننے والی ان کی فلموں ‘خاندان‘، ‘انمول گھڑی‘، ‘زینت‘ یا ‘جگنو‘ سے لائی جاتی ہے۔ بتانا یہ مقصود ہوتا ہے کہ نورجہاں بڑی فنکارہ اس لیے ہے کہ اس نےہدایت کار محبوب کی فلم ‘انمول گھڑی‘ میں موسیقار نوشاد کی کمپوز کیے ہوئے گیت گائے یا شوکت حسین رضوی کی فلم ‘جگنو‘ میں دلیپ کمار کے مقابل ہیروئن آئیں۔ دوسرے لفظوں میں موسیقار نوشاد یا دلیپ کمار کی مسلمہ عظمت کو دلیل بنا کر نورجہاں کی عظمت کا سکہ بٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس دور کی بھی بات کرتے ہوئے کوئی ماسٹر غلام حیدر یا فیروز نظامی کا نام نہیں لیتا کیونکہ گھر کی مرغی تو دال برابر ہی ہوتی ہے۔

اور اگر بات تقسیم سے بعد کی بھی ہو تو گفتگو نورجہان کی فلموں ‘دوپٹہ‘، ‘گلنار‘، ‘انتظار‘، ‘انار کلی‘ اور ‘کوئل‘ سے آگے نہیں بڑھتی۔ اس ساری صورتِ حال میں یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ نورجہان کی فنکارانہ زندگی تو ساٹھ یا ستر کی دہائی میں اختتام پذیر ہو جاتی ہے باقی جو کچھ ہے وہ تو سب عامیانہ ہے۔
Film: AnarKali
Released on: June 6, 1958
Actors: Noor Jehan (as Anarkali), Sudhir (as Prince Saleem), Ragni (as Dil Aram), Shamim Ara, Zarif, Fazal Haq and Hamalia Wala (as Akbar The Great)
Producer: Mukhtar Ahmad
Director: Anwar Kemal Pasha
Story: Imtiaz Ali Taj
Music: Rasheed Attre, Inayat Hussain
Lyrics: Tanvir Naqvi
Singers: Madam Noorjahan

لیکن بات ایسی نہیں ہے۔ نورجہاں کی فنی شخصیت کوئی ایسی نہیں ہے جس کے ساتھ ایک زبان میں کیے گئے ان کے کام کو بنیاد بنا کر انصاف کیا جا سکے۔ ان کی فنی شخصیت ہمہ جہت خوبیوں سے مالا مال ہے اور اس کی جس پہلو سے بھی جائزہ لیا جائے نورجہاں کی فنکارانہ عظمت اور ان کے ہم عصروں میں ان! کا قد اور بڑھ جاتا ہے۔

نورجہاں کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے خود کو پاکستانی فلم انڈسٹری کے بدلتے ہوئے مزاج کے مطابق ڈھالا اور شاید اِسی لیے وہ اپنے آخری ایام تک فلم انڈسری میں آؤٹ ڈیٹڈ یا غیر متعلق نظر نہیں آئیں بلکہ اس کی ہر پہلو سے ایک ضرورت بنی رہیں۔

آپ ذرا نور جہاں کے گائے ہوئے گانوں ان کی اس فہرست پر نظر ڈالیں: وے سونے دیا کنگنا (چن وریام)، وے ایک تیرا پیار (سالا صاحب)، سونے دی تویتڑی (شعلے)، دوروں دوروں اکھیاں مارے منڈا پٹواری دا (دبئی چلو)، مینو رکھ لےکلینڈر نال (اِک پتر دا ویر)، سونے دی نتھلی (مسٹر افلا طون) اور توں جے میرے ہمیشہ کول (شیرخان)۔

نورجہاں کے کچھ چاہنے والوں کو اوپر درج کیے گئے پنجابی گیت عامیانہ لگیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موسیقی کے دیوانوں کی ایک بڑی تعداد نورجہاں کو انہیں گانوں کی وجہ سے چاہتی ہے۔

اب ذرا اس فہرست کو ملاحظہ فرمائیں: حسینی لعل قلندر (آسُو بِلا)، بری بری امام بری (سجن بے پرواہ)، ہو لعل میری پت رکھیو (دلاں دے سودے)، شہباز کرے پرواز (ماں تے ماما)، سہون دے سرکار (خانزادہ)، آئی آں دوارے (دنیا پیار دی) اور رکھ لاج میرے لجپال (تہاڈی عزت دا سوال اے)۔

یہ قلندری دھمالیں بھی پنجاب، سندھ اور صوبہ سرحد میں آبادی کا ایک بڑا طبقہ بڑے ذوق و شوق سے سنتا ہے۔ وہ صرف اسی نورجہاں کو جانتی ہے جو اس دھمالوں کے ذریعے ان تک پہنچتی ہے۔

میڈم نورجہاں کے فن موسیقی کا ایک اور پہلو ان نے گائے ہوئے گیت اور غزلیں ہیں۔ ان میں مرزا غالب کی غزل ‘میں ہوں مشتاقِ جفا مجھ سے جف اور سہی‘ ہو یا داغ دہلوی کی ‘لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے‘ یا پھر احمد راہی کی ‘دل کے افسانے نگاہوں کی زباں تک پہنچے‘نورجہاں نے جس غزل کو بھی چھیڑیا اس کی گائیکی میں اپنا ہی رنگ چھوڑا۔

نورجہاں کو اس بات کی بھی کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے پنجاب کے داستانوی لوک ادب میں ایک نئی زندگی دی ہے اور نئی نسل کو اس سرمایے سے روشناس کیا ہے۔

پاکستان میں ہو سکتا ہے بہت سوں نے وارث شاہ کی ‘ہیر‘ یا حافظ برخوردار کی ‘مرزا صاحباں‘ نہ پڑھی ہو لیکن وہ نورجہاں کے گائے ہوئے لازوال گیتوں ‘سنجے دل والے بوہے اجے میں نہیوں ڈھوے‘، ‘سن ونجلی دی مٹھڑی تان وے‘ اور ‘او ونجھلی والڑیا تو تاں موہ لئی آ مٹار‘ کے ذریعے پنجاب کی ثقافتی رنگوں سے ضرور آشنا ہو ئے ہوں گے۔