jump to navigation

Rasa Chughtai رسا چغتائی چل بسے January 6, 2018

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Ghazal, Kavita, Mushaira, Nazm, Poetry, Shairy, Sher, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags: , , , ,
add a comment

نام مرزا محتشم علی بیگ اور رسا تخلص,۔ ۱۹۲۸ء میں سوائے مادھوپور، ریاست جے پور میں پیدا ہوئے۔۱۹۵۰ء میں ہجرت کرکے پاکستان آئے ۔مختلف اداروں میں ملازم رہے۔روزنامہ ’حریت ‘ کراچی سے بھی وابستہ رہے۔ حضرت بینش سلیمی سے تلمذ حاصل ہے۔حکومت پاکستان نے ان کے ادبی خدمات کے اعتراف میں ۲۰۰۱ء میں انھیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’ریختہ‘، ’زنجیر ہمسائیگی‘، ’تصنیف‘، ’چشمہ ٹھنڈے پانے کا‘، ’تیرے آنے کا انتظار رہا‘۔

رسا چغتائی
Rasa Chughtai Poet

آہٹیں سن رہا ہوں یادوں کی

آج بھی اپنے انتظار میں گم

💜

جنوں کیسا کہاں کا عشق صاحب

‎میں اپنے آپ ہی میں مبتلا ہوں

💜

ترے نزدیک آ کر سوچتا ہوں

میں زندہ تھا کہ اب زندہ ہوا ہوں

💜

حال دل پوچھتے ہو کیا تم نے

ہوتے دیکھا ہے دل اداس کہیں

💜

جن آنکھوں سے مجھے تم دیکھتے ہو

میں ان آنکھوں سے دنیا دیکھتا ہوں

خدا جانے مری گٹھری میں کیا ہے

نہ جانے کیوں اٹھائے پھر رہا ہوں

یہ کوئی اور ہے اے عکس دریا

میں اپنے عکس کو پہچانتا ہوں

نہ آدم ہے نہ آدم زاد کوئی

کن آوازوں سے سر ٹکرا رہا ہوں

مجھے اس بھیڑ میں لگتا ہے ایسا

کہ میں خود سے بچھڑ کے رہ گیا ہوں

جسے سمجھا نہیں شاید کسی نے

میں اپنے عہد کا وہ سانحہ ہوں

نہ جانے کیوں یہ سانسیں چل رہی ہیں

میں اپنی زندگی تو جی چکا ہوں

جہاں موج حوادث چاہے لے جائے

خدا ہوں میں نہ کوئی ناخدا ہوں

جنوں کیسا کہاں کا عشق صاحب

میں اپنے آپ ہی میں مبتلا ہوں

نہیں کچھ دوش اس میں آسماں کا

میں خود ہی اپنی نظروں سے گرا ہوں

طرارے بھر رہا ہے وقت یا رب

کہ میں ہی چلتے چلتے رک گیا ہوں

وہ پہروں آئینہ کیوں دیکھتا ہے

مگر یہ بات میں کیوں سوچتا ہوں

اگر یہ محفل بنت عنب ہے

تو میں ایسا کہاں کا پارسا ہوں

غم اندیشہ ہائے زندگی کیا

تپش سے آگہی کی جل رہا ہوں

ابھی یہ بھی کہاں جانا کہ مرزاؔ

میں کیا ہوں کون ہوں کیا کر رہا ہوں

💜رسا چغتائی

جن آنکھوں سے مجھے تم دیکھتے ہو

میں ان آنکھوں سے دنیا دیکھتا ہوں

💜

اور کچھ یوں ہوا کہ بچوں نے

چھینا جھپٹی میں توڑ ڈالا مجھے

💜

اس گھر کی ساری دیواریں شیشے کی ہیں

لیکن اس گھر کا مالک خود اک پتھر ہے

💜

ترے نزدیک آ کر سوچتا ہوں

میں زندہ تھا کہ اب زندہ ہوا ہوں

💜

اٹھا لایا ہوں سارے خواب اپنے

تری یادوں کے بوسیدہ مکاں سے

رسا چغتائی 💜

ہے لیکن اجنبی ایسا نہیں ہے

وہ چہرہ جو ابھی دیکھا نہیں ہے

بہر صورت ہے ہر صورت اضافی

نظر آتا ہے جو ویسا نہیں ہے

اسے کہتے ہیں اندوہ معانی

لب نغمہ گل نغمہ نہیں ہے

لہو میں میرے گردش کر رہا ہے

ابھی وہ حرف جو لکھا نہیں ہے

ہجوم تشنگاں ہے اور دریا

سمجھتا ہے کوئی پیاسا نہیں ہے

عجب میرا قبیلہ ہے کہ جس میں

کوئی میرے قبیلے کا نہیں ہے

جہاں تم ہو وہاں سایہ ہے میرا

جہاں میں ہوں وہاں سایہ نہیں ہے

سر دامان صحرا کھل رہا ہے

مگر وہ پھول جو میرا نہیں ہے

مجھے وہ شخص زندہ کر گیا ہے

جسے خود اپنا اندازہ نہیں ہے

محبت میں رساؔ کھویا ہی کیا تھا

جو یہ کہتے کہ کچھ پایا نہیں ہے

Advertisements

ڈیئر غالب، سالگرہ مبارک December 29, 2017

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Ghazal, Mirza Ghalib, Poetry, Shairy, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
1 comment so far

غالب کی دلی میں اردو کی حالتِ زار

ویسے فیس بک پر تو میں نے اُسی روز گلی قاسم جان، کوچہ بَلّی ماراں، پرانی دلی میں واقع آپ کی حویلی کے صدر دروازے پر کھینچی ہوئی اپنی تصویر پوسٹ کر دی تھی۔ آپ کی تاریخ پیدائش یعنی 27 دسمبر 1797 کا بھی ذکر کر دیا تھا اور یہ بھی کہ ’ریختہ کے استاد’ کو پیدا ہوئے 220 سال ہو چکے ہیں۔ 

Ghalib 1

غالب کی ۱۰۰ ویں برسی کے موقع پر متحدہ پاکستان میں جاری کردہ پندرہ پیسے مالیت کا جاری کردہ ایک یادگار ٹکٹ جس کا نمونہ غالب کی حویلی میں آویزاں ہے۔

ویسے کیا آپ نے کبھی اپنی سالگرہ منائی؟ یا اس زمانے میں ہیپی برتھ ڈے، سالگرہ مبارک اور جنم دن کی شُبھ کامناؤں کا رواج نہیں تھا، آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ کہاں اردو، کہاں اسد اللہ خان غالب کی زبان اور کہاں یہ آفریدی پٹھان۔

ہوا یہ کہ اِسی موسمِ خزاں میں بی بی سی اردو کے وظیفے پر ولایت (لندن) سے آپ کے شہر دِلی گیا تھا تاکہ وہاں ہندی والوں سے ڈِیجیٹل میڈیا کی تربیت حاصل کروں۔۔۔اوہ ہو، آپ دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں گے کہ آخر کو ہے نا پٹھان، خالص اردو میں بھی انگریزی اصطلاحوں کی آمیزش کر ڈالی۔

Ghalib 1
غالب کی مہر کا عکس

آپ تو خیر فورٹ وِلیئم کالج میں استاد کی نوکری ٹھکرا کر وہاں سے اس لیے لوٹ آئے تھے کہ انگریز پرنسپل یعنی صدر مدرس آپ کے استقبال کے لیے کالج کے دروازے پر موجود نہیں تھا۔ مگر انگریز ہندوستان ہی میں نہیں دنیا بھر میں ایسی چھاپ چھوڑ گئے ہیں کہ انگریزی الفاظ ہر زبان کا حصہ بن گئے ہیں۔ ہندی بولنے والوں نے بعض انگریزی اصطلاحوں کے ہندی متبادل اختراع کیے مگر سچ یہ ہے کہ سننے میں مضحکہ خیز سے لگتے ہیں۔

اردو والوں نے یہ کہہ کر کہ ‘اردو کا دامن بڑا وسیع ہے’، دھڑا دھڑ ان ولایتی الفاظ کو سمو لیا۔ ویسے بھی جن انگریزی الفاظ کا اردو متبادل ہے بھی ان میں سے بھی بعض کانوں کو بھلے نہیں لگتے۔ مثلاً لبلبے کو انگریزی میں ‘پینکرِیاس’ کہتے ہیں۔ خدا لگتی کہیے صوتی اعتبار سے آپ کو کونسا لفظ بھایا؟

ارے آپ تو ویب سائٹ، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، سمارٹ فون، سیلفی، فیس بُک، پوسٹ، بی بی سی، ڈیجیٹل اور میڈیا سے بھی مانوس نہیں۔ صرف آپ کے لیے میں ان کا بالترتیب لفظی ترجمہ کرنے کی جسارت کر رہا ہوں: جالا مقام، برقیاتی شمارکنندہ، بین الجال، ذہین آلۂ سماعت، خودعکسی، چہرہ کتاب، چسپی، فرنگی نشریاتی ادارہ، ہندسئی، وسلیہ۔

ان کے بعض اشعار کو اردو کے ساتھ ہندی میں بھی لکھا گیا ہے جب کہ انگریزی میں شعر کا مفہوم بیان کیا گیا ہے

مان گئے نا آپ بھی کہ ترجمے سے اصل فصیح تر ہے۔ ویسے اردو اور انگریزی کے ملاپ سے بننے والی زبان کو بعض لوگ ‘اُردریزی’ کہتے ہیں۔ برا مت مانیے گا آپ کے شہر دلی میں بھی اردو کا حال بے حال ہے۔ 

Ghalib ki poshaak
غالب کی پوشاک

بات ہو رہی تھی آپ کی سالگرہ اور آپ کی حویلی پر میری حاضری کی۔

آپ کے شہر کے تاریخی آثار اور سلاطینِ دلی کی قبریں دیکھنے کے علاوہ میں نظام الدین اولیا، امیرخُسرو، بختیار کاکی اور مٹکا پیر کے مزاروں کو بھی دیکھنے کی غرض سے گیا۔

گزر تو آپ کی آخری آرام گاہ کے پاس سے بھی دو مرتبہ ہوا۔ مگر بقول شخصے آپ نے ‘حاضری’ کی اجازت نہیں دی۔ کیونکہ مجاور سورج ڈوبتے ہی آپ کی قبر کے احاطے کو مقفل کر دیتا تھا۔ خیر، میں جہاں بھی جاتا وہاں کی تصاویر فیس بک پر پوسٹ کر دیتا۔

غالب پسِ مرگ کسی مصور کی آنکھ سے
غالب پسِ مرگ کسی مصور کی آنکھ سے

اب پالکی کا زمانہ تو رہا نہیں، اس لیے چاندنی چوک سے آپ کی حویلی کے لیے سائیکل رکشا لیا۔ مگر رکشابان نے آدھے راستے میں یہ کہہ کر اتار دیا کہ آگے سڑک پر گاڑیوں کا ازدحام ہے لہذا پیدل جانا بہتر ہوگا۔ آپ کی گلی کا پوچھتے پوچھتے آپ کی دہلیز پر پہنچ گیا۔

غالب کی شادی تیرہ برس کی عمر میں ہوگئی تھی
غالب کی شادی تیرہ برس کی عمر میں ہوگئی تھی

حکومتِ ہند نے بائیس سال پہلے عوامی دباؤ میں آکر حویلی کو ہیٹر (گرمالہ) بنانے والوں سے خالی کروا کر اِسے قومی وِرثہ قرار دیدیا تھا۔ ویسے آدھے حصے میں اب بھی کوئی ‘رقیبِ روسیا’ دفتر لگائے بیٹھا ہے۔

حکومت نے غالب کی حویلی سے ہیٹر بنانے والوں کو نکال کر اسے قومی ورثے کا درجہ دیدیا ہے
حکومت نے غالب کی حویلی سے ہیٹر بنانے والوں کو نکال کر اسے قومی ورثے کا درجہ دیدیا ہے

آپ کو یہ سن کر دکھ ہوگا کہ حویلی کی حالت زیادہ اچھی نہیں۔ آپ کی کچھ یادگاریں محفوظ تھیں۔ گرد میں اٹے اشعار کے طُغرے دیواروں پر آویزاں تھے۔ گھر اور دشت کی ویرانی میں مماثلت پیدا کر کے اپنی حویلی کی بے رونقی کا اقرار تو آپ اپنی زندگی ہی میں کر چکے تھے۔

غالب کی حویلی کے ایک حصے میں _سفری انصرام کے گماشتے‘ دفتر اور کاغذات کی نقول بنانے والی کی دکان
غالب کی حویلی کے ایک حصے میں ’سفری انصرام کے گماشتے‘ دفتر اور کاغذات کی نقول بنانے والی کی دکان

ستم یہ ہے کہ جس شعر میں آپ نے اس ویرانی کا ذکر کیا ہے اس کے مِصْرَعِ ثانی میں کسی ستم ظریف نے تصرف کر کے اسے الٹا کر دیا ہے۔ یعنی ‘دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا’ کی بجائے ‘گھر کو دیکھ کے دشت یاد آیا’ لکھ دیا ہے۔ستم بالائے ستم یہ کہ ہندی رسم الخط میں بالکل صحیح طور سے نقل کیا گیا ہے۔ جبکہ اس کا انگریزی ترجمہ بھی اصل شعر کے خاصا قریب ہے۔ اپنی بات کا یقین دلانے کے لیے میں تصویر بھی ساتھ لایا ہوں۔ یہ دیکھیے!

کاش غالب کے شعر کے ساتھ ان ہی کی حویلی میں ایسی زیادتی نہ ہوتی
کاش غالب کے شعر کے ساتھ ان ہی کی حویلی میں ایسی زیادتی نہ ہوتی

آپ تو خیر انتہائی کمزور مغل فرمانروا بہادر شاہ ظفر کے مصاحب تھے۔ دلی والوں نے تو ایک سڑک کی لوح پر شہنشاہ اکبر اعظم کا نام بھی الٹا لکھ دیا ہے۔ اور یہ سب ایسے میں ہو رہا ہے کہ دلی میں آپ کی قبر کے ساتھ ہی غالب اکیڈیمی قائم ہے اور اب تو شہر میں جشنِ ریختہ کا اہتمام بھی باقاعدگی سے ہونے لگا ہے۔

کیا اکبر روڈ کے اکبر کو کسی نے غور سے نہیں دیکھا

کیا اکبر روڈ کے اکبر کو کسی نے غور سے نہیں دیکھاجو ‘چند تصویر بتاں، کچھ حسینوں کے خطوط’ بعد مرنے کے آپ کے گھر سے نکلے، ان کا وہاں کوئی سراغ نہ تھا۔ ہو سکتا ہے اسی کوتوالِ شہر کی شرارت ہو جو نواب جان کے دل میں آپ کے لیے محبت کی وجہ سے آپ کا عدو بن گیا تھا۔

ذکر حویلی کی ویرانی کا ہو رہا تھا۔ میں پہنچا تو وہاں ایک گارڈ (دربان) موجود تھا۔ کچھ دیر بعد ایک نوجوان نے اندر کی کچھ تصاویر بنائیں۔ پھر دو ادھیڑ عمر افراد آئے۔ نام یاد نہیں مگر ایک ہندو تھا دوسرا سِکھ۔ تعارف کے بعد بتایا کہ آس پاس ہی رہتے ہیں اور انھیں اردو پڑھنا نہیں آتی مگر کبھی کبھار اس عظیم شاعر (یعنی آپ) کی حویلی کا چکر لگا لیتے ہیں۔

ویلی میں رکھا دیوانِ غالب کا بوسیدہ نسخہ
حویلی میں رکھا دیوانِ غالب کا بوسیدہ نسخہ

ان صاحبانِ ذوق سے ملاقات کے بعد جس چیز نے مجھے ورطۂ حیرت میں ڈالا وہ تھی آپ کی حویلی میں دو مزید پٹھانوں کی موجودگی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ افغانستان کے صوبے لغمان سے ہندوستان کسی کام سے آئے تھے اور اگلے روز واپسی سے پہلے مرزا غالب کی حویلی دیکھنے آئے ہیں۔

بحیثیتِ شاعر دوسروں نے غالب کا لوہا مانا ہے
بحیثیتِ شاعر دوسروں نے غالب کا لوہا مانا ہے

بحیثیتِ شاعر دوسروں نے تو غالب کا لوہا مانا ہی ہے، انھیں بھی اپنی عظمت کا بخوبی احساس تھا

گویا سوات کے ایک پٹھان کی فرمائش پر، تیراہ کا ایک پٹھان آپ کی حویلی جاتا ہے اور وہاں دو افغان پٹھانوں سے ملاقات ہوتی ہے

استاد ذوق نے تو آپ کی قدر نہیں کی مگر شاید اب وہ گلشن آباد ہو گیا ہے جس کا ذکر آپ نے کیا تھا: ‘میں عندلیبِ گلشنِ ناآفریدہ ہوں’

Kehte Hain Ke Ghalib Ka Hai Andaaz E Bayaan Aur

Kehte Hain Ke Ghalib Ka Hai Andaaz E Bayaan Aur

فقط۔۔۔آپ کے دَرَجات کی بلندی کے لیے دعا گو۔۔۔۔ تحریر: عمر آفریدی

Lakeeron se nikal-لکیروں سے نکل کر July 27, 2017

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Ghazal, Ghazal, Kavita, Nazm, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Sufi Poets, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
add a comment

Golden bar 1

لکیروں سے نکل کر ہاتھ کی مجھ کو بلائے گی

یہ قسمت وَجد میں آئی تو خود مجھ کو بنائے گی

 

مِری آنکھوں میں سارے خواب اُس کے روٹھنے تک تھے

مِرا شک ٹھیک نکلا ‘ زندگی مجھ کو رلائے گی

 

مِرے ہونٹوں پہ اب تک تتلیوں سی مسکراہٹ ہے

مجھے ڈر لگ رہا ہے’ ایک دن یہ اُڑنے جائے گی

 

بہت سی شمعیں سینے میں اگر جلتی رہیں تو پھر

مری آنکھوں سے تھوڑی روشنی باہر بھی آئے گی

 

ذرا سی روشنی کے بعد چکّر تیرگی کا ہے

اگر تو اک نئی تصویر پر نظریں جمائے گی

 

خود اپنی زندگی سے کیوں نکل جاتی ہوں میں ‘ نیناںؔ !

مِری لا حاصلی کے درد قدرت ہی مٹائے گی

 

( فــرزانـہ نیناںؔ ) 

Golden rose Bar
Lakeeron se nikal kar haath ki, mujhko bulaye gi
Ye qismat wajd mein aayi tau khud mujhko banaye gi
 
Meri aankhon mein saare khwab uske roothne tak thay
Mera shak theek nikla zindagi mujhko rulaye gi
 
Mere honton pe ab tak titliyon si muskurahat hai
Mujhe darr lag raha hai eik din ye ur’rne jaye gi
 
Bohut si shamein seene mein agar jalti rahein tau phir
Meri aankhon se thori roshni bahar bhi aaye gi
 
Zara si roshni ke baad chakker teergi ka hai
Agar tu ik nai tasweer par nazrein jamaye gi
 
Khud apni zindagi se kyon nikal jati hon mein naina
Meri la’haasili ke dard qudrat hi mitaye gi
 

butterfly-yellow-sl~ Farzana Naina.butterfly-yellow-sl

0aa1ec07c2d7e0ad0eb9ef5e7005bff3

ایم اے راحت April 24, 2017

Posted by Farzana Naina in Jasoosi Adab, Urdu Fiction Writer, M A Rahat, Literature, Pakistani, Urdu, Urdu Literature.
1 comment so far

18121445_10211088392660259_3392341006876922325_o

نامور مصنف ایم اے راحت لاہور میں انتقال کر گئے ۔ ایم اے راحت نے 1500 سے زائد کرائم اور جاسوسی کہانیوں کے ناول لکھے۔ ایم اے راحت کو طبیعت خرابی پر چار روز قبل اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

۔۔ایم ۔اے راحت نے ابن صفی کے بعد جاسوسی ادب کو نئی جہتوں سے متعارف کروایا ۔۔
لاکھوں لوگوں کو کتب بینی کا چسکہ لگانے والے ایم ۔اے راحت کی تصانیف کی فہرست اس قدر طویل ہے کہ کسی بھی شخص کے لیے ان کی لکھی تصانیف کے صرف نام ہی احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں ۔۔۔افسوس کہ ان کی زندگی میں ان کو ان کے شایان شان مقام نہیں دیا جا سکا ۔۔۔
ساڑھے گیارہ سو ناول ۔۔ اور ساڑھے تین ہزار کہانیاں اور افسانے لکھنے والے اپنے پچھے صرف ایک داستان چھوڑ کر رخصت ہو گئے ۔

قربت میں برابر کے شریک لعنتیوں کی بلیک میلنگ April 20, 2017

Posted by Farzana Naina in Abuse, Black Mail, Harassment, Internet, Internet crimes, News, Pakistan, Pakistani, Scandal, Sexual harassment, Urdu.
1 comment so far

انٹرنیٹ پر خواتین کو پرائیویٹ ویڈیوز کی بنیاد پر بلیک میل کرنے کے واقعات

ریپ اور بدنامی کا خوف

ہزاروں لڑکیوں اور خواتین کو ان کی پرائیویٹ وڈیوز کی بنیاد پر ہراساں کیا جا رہا ہے

شمالی افریقہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشا سمیت دنیا کے اکثر قدامت پسند معاشروں میں ہزاروں جوان خواتین کو ان کی نجی تصاویر اور جنسی مناظر کی وجہ سے ہراساں اور بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے بی بی سی نے خصوصی رپورٹ تیار کی ہے جس میں اس رجحان کا مختلف زاوئیوں سے جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔

ذیل میں ڈینئل سلاس ایڈمسن نے جائزہ لیا ہے کہ سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا جیسی جدید ٹیکنالوجی کس طرح ان معاشروں میں عزت، شرم اور بے شرمی جیسے تصورات اور روایات سے ٹکرا رہی ہے۔

پاکستان میں ایک غیر سرکاری تنظیم بھی آن لائن دنیا کو خواتین کے لیے محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس تنظیم کی سربراہ نگہت داد کہتی ہیں کہ ’ہر روز دو یا تین خواتین ان کی تنظیم سے رابطہ کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ انھیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ سالانہ نو سو خواتین۔ ‘

’جب خواتین کسی کے ساتھ رشتے میں ہوتی ہیں تو وہ اپنی تصویریں اور ویڈیو شیئر کر تی رہتی ہیں۔ اور اگر یہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے، اور اس کااختتام اچھا نہیں ہوتا، تو دوسرا فریق اس مواد کو استعمال کرتا ہے اور خاتون کو بلیک میل کرتا ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف یہ ہوتا ہے کہ لڑکی اسی رشتے میں بندھی رہے بلکہ اس سے ان تصاویر کی بنیاد پر ہر الٹا سیدھا کام کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘

اب پاکستان میں بات بلیک میل سے آگے نکل گئی ہے۔ نگہت داد کہتی ہیں کہ اب انھیں سمارٹ فونز اور جنسی تشدد کے درمیان تعلق کے واقعات میں بھی اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔

‘اس کا آغاز تو ایسی تصاویر سے ہوا جن میں مرد اور خاتون نے اپنی قربت کے لمحات کو محفوظ کیا ہوتا تھا، لیکن اب اس قسم کی تصاویر اور ریپ کے واقعات میں بھی تعلق نظر آ رہا ہے۔ سمارٹ فونز جیسی نئی ٹیکنالوجی سے پہلے، جب ریپ جیسے جرائم کا ارتکاب کرنے والے کچھ کرتے تھے تو انھیں معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ خاتون کو خاموش کیسے کرائیں۔ لیکن اب ٹیکنالوجی کی وجہ سے ریپ کے کلچر نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے کیونکہ اب ایسے مجرم خاتون کی ویڈیو بنا لیتے ہیں اور پھر اس کی بنیاد پر اسے دھمکیاں دیتے ہیں کہ اگر اس نے زبان کھولی تو اس کی ویڈیو انٹرنیٹ پر لگا دیں گے۔’

دوسری جانب سنہ 2009 میں ایک اٹھارہ سال مصری لڑکی، غدیر احمد، نے اپنے بوائے فرینڈ کو اپنی ایک چھوٹی سی ویڈیو بھیجی جس میں وہ ایک گھر میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ ڈانس کر رہی تھیں۔ اس وڈیو میں کوئی جنسی مواد نہیں تھا، لیکن اتنا ضرور تھا کہ ویڈیو میں غدیر نے جو لباس پہنا ہوا تھا اس میں ان کا جسم دکھائی دے رہا تھا اور وہ بلا جھجک ناچ رہی تھیں۔

تین سال بعد جب دونوں کا رشتہ ٹوٹ گیا تو غدیر کے بوائے فرینڈ نے ان سے انتقام لینے کی نیت سے ویڈیو یوٹیوب پر چڑھا دی۔ جب غدیر کو معلوم ہوا تو وہ بہت گھبرا گئیں۔ وہ جانتی تھیں کہ یہ سارا معاملہ – ڈانس، ان کا لباس اور اس پر بوائے فرینڈ کا ہونا – یہ تمام باتیں ان کے والدین بالکل قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی مصری معاشرہ جس میں خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنا جسم ڈھانپ کر رکھیں اور ان کو حیا کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔

ویڈیو کے پوسٹ کیے جانے کے بعد کے سالوں میں غدیر نے اس سے ڈرنا چھوڑ دیا اور خود ’مصری انقلاب‘ کا حصہ بن گئیں۔ انھوں نے حجاب لینا چھوڑ دیا اور خواتین کے حقوق کی وکیل بن گئیں۔

انھیں اس بات پر بہت غصہ آیا کہ ایک مرد نے انھیں یوں بدنام کرنے کی کوشش کی اور پھر انھوں نے اپنے سابق بوائے فرینڈ کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کر دی۔ اگرچہ وہ ہتک عزت کا مقدمہ جیت گئیں، لیکن ان کی جو ویڈیو یو ٹیوب پر جا چکی تھی وہ وہاں پڑی رہی۔ اس وڈیو کے وجہ سے غدیر کو کئی مردوں نے معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی ہراساں کیا اور اپنے فیس بُک صفحات پر غدیر کی ویڈیو شیئر کر کے انھیں برا بھلا کہا۔

غددیر احمد : آئیں اور میری ویڈیو دیکھیں، دیکھیں کہ میں کتنی اچھی ڈانسر ہوں۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ میں اس پر شرمندگی محسوس کروں’۔

سوشل میڈیا وغیرہ پر لوگوں کی گالم گلوچ سے تنگ آ کر سنہ 2014 میں غدیر نے اپنی وہی ویڈیو اپنے فیس بُک صفحہ پر خود پوسٹ کر دی۔ تصویر کے ساتھ انھوں نے لکھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی خاتون کے جسم کو اس کے خلاف استعمال کر کے اسے بدنام کرنے کا سلسلہ ختم ہو۔ غدیر نے لکھا کہ ‘آئیں اور میری ویڈیو دیکھیں، دیکھیں کہ میں کتنی اچھی ڈانسر ہوں۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ میں اس پر شرمندگی محسوس کروں۔’

لیکن غدیر افریقہ اور مشرق وسطیٰ کی ان ہزاروں نوجوان لڑکیوں اور خواتین کے مقابلے میں بہت بے باک ہیں جو اپنی نجی تصاویر کے حوالے سے بلیک میلنگ کا شکار ہو رہی ہیں۔

بی بی سی کو اس رپورٹ کی تیاری کے دوران معلوم ہوا کہ ہزاروں لڑکیوں اور خواتین کو ان کی پرائیویٹ ویڈیوز کی بنیاد پر ہراساں کیا جا رہا ہے اور لوگ انھیں بآسانی بلیک میل کر لیتے ہیں۔ ان ویڈیو کلپس میں ہلکے پھلکے فلرٹ کے مناظر سے لیکر گینگ ریب جیسی جنسی زیادتیوں کے مناظر شامل ہوتے ہیں۔

جہاں تک انتقامی بنیاد پر جنسی زیادتی کے مناظر (ریونج پورن) کا تعلق ہے تو یہ مسئلہ دنیا کے تقریباً ہر ملک میں پایا جاتا ہے۔ لیکن کچھ معاشروں میں جنسی مناظر کو خواتین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جانے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ ان معاشروں میں عزت اور شرم جیسے مسائل بہت اہم سمجھے جاتے ہیں۔

اردن کے دارالحکومت میں مقیم ماہر نفسیات اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی، انم العشہ کہتی ہیں کہ ‘ مغرب کا کلچر مخلتف ہے۔ وہاں ایک لڑکی کی برہنہ تصویر شاید صرف ایک لڑکی کو متاثر کرے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ایسی تصویر اس لڑکی کی موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اور اگر اس کی طبعی زندگی ختم نہیں بھی ہوتی، ایسی لڑکی معاشرتی اور نفیساتی لحاظ سے مر جاتی ہے۔ لوگ اس سے ملنا جلنا چھوڑ دیتے ہیں وہ معاشرے سے کاٹ دی جاتی ہے۔’

اس قسم کے واقعات کی اکثریت کے بارے میں آپ کو معلوم ہی نہیں ہوتا کیونکہ لوگ ایسے واقعات کے بارے میں پولیس کو بتاتے ہی نہیں۔ تاہم ایک درجن سے زیادہ ممالک میں وکلاء، پولیس اور سماجی کارکنوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا نے خواتین کو بدنام اور بلیک میل کرنے کی اس وبا میں بہت اضافہ کر دیا ہے جو اس ٹیکنالوجی سے پہلے ڈھکی چھُپی تھی۔

جدید ٹیکنالوجی

جدید ٹیکنالوجی اور روایات کے درمیان جنگ کی وجہ سے خواتین کو بلیک میل کرنا آسان ہو گیا ہے

اردن، مصر، غرب اردن، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک میں اس وبا میں اضافہ ہو چکا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی پولیس کے سائبر کرائم یونٹ کی معاونت کرنے والے سماجی کارکن کمال محمد کہتے ہیں کہ ‘ بعض اوقات اس مقصد کے لیے جو تصویریں استعمال کی جاتی ہیں ان میں کوئی جنسی بات نہیں ہوتی۔ مثلاً کسی لڑکی کی بغیر حجاب کے تصویر بھی سکینڈل بن سکتی ہے۔ کوئی مرد اس تصویر کو عام کرنے کی دھمکی دے کر لڑکی سے اس کی مزید تصویریں حاصل کر سکتا ہے۔’

کمال محمد کا کہنا ہے کہ ‘خلیجی ممالک میں خواتین کی بلیک میلنگ کا مسئلہ بہت زیادہ ہو گیا ہے اور بڑے پیمانے پر خواتین کو اس کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خاص طور پر سعودی عرب، امارات، کویت، قطر اور بحرین میں یہ بہت زیادہ ہے۔ کئی لڑکیوں نے ہمیں بتایا کہ اگر ان کی تصویریں عام کر دی گئیں تو انھیں شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔’

جنوبی ایشیائی ممالک میں بھی سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے ذریعے خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انڈیا کے سپریم کورٹ کے وکیل پون دُگال کہتے ہیں ملک میں خواتین کی ڈیجیٹل تصاویر کے کیسز اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی سیلابی ریلا ہو۔ ‘میرا اندازہ ہے کہ انڈیا میں روزانہ اس قسم کے ہزاروں واقعات ہو رہے ہیں۔’

بتشکر: بی بی سی اردو

 

دیکھ کبیرا رویا April 14, 2017

Posted by Farzana Naina in Dekh Kabira Roya, Literature, Manto, Urdu, Urdu Literature.
1 comment so far

سعادت حسن منٹو

 

نگر نگر ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ جو آدمی بھیک مانگے گا اس کو گرفتار کرایا جائے۔ گرفتاریاں شروع ہوئیں۔ لوگ خوشیاں منانے لگے کہ ایک بہت پرانی لعنت دور ہوگئی۔

کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ لوگوں نے پوچھا۔اے جولاہے تو کیوں روتا ہے؟

کبیر نے رو کر کہا۔’’ کپڑا جو چیزوں سے بنتا ہے۔ تانے اور پیٹے سے۔ گرفتاریوں کا تانا تو شروع ہوگیا پر پیٹ بھرنے کا پیٹا کہاں ہے؟‘‘

ایک ایم اے۔ ایل ایل بی کو دو سو کھڈیاں الاٹ ہوگئیں۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ایم اے۔ ایل ایل بی نے پوچھا۔’’ اے جولاہے کے بچے تو کیوں روتا ہے؟۔۔۔۔۔۔ کیا اس لیے کہ میں نے تیرا حق غصب کرلیا ہے؟‘‘

کبیر نے روتے ہوئے جواب دیا۔’’ تمہارا قانون تمہیں یہ نکتہ سمجھاتا ہے کہ کھڈیاں پڑی رہنے دو، دھاگے کا جو کوٹا ملے اسے بیچ دو۔ مفت کی کھٹ کھٹ سے کیا فائدہ۔۔۔ لیکن یہ کھٹ کھٹ ہی جولاہے کی جان ہے!‘‘

چھپی ہوئی کتاب کے فرمے تھے۔ جن کے چھوٹے بڑے لفافے بنائے جا رہے تھے۔ کبیر کا ادھر سے گزر ہوا۔ اس نے وہ تین لفافے اٹھائے اور ان پر چھپی ہوئی تحریر پڑھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے لفافے بننے والے نے حیرت سے پوچھا۔’’ میاں کبیرتم کیوں رونے لگے؟‘‘

کبیر نے جواب دیا۔’’ ان کاغذوں پر بھگت سُورداس کی کویتا چھپی ہے۔ لفافے بنا کر اس کی بے عزتی نہ کرو۔‘‘

لفافے بنانے والے نے حیرت سے کہا۔’’ جس کا نام سُورداس ہے۔ وہ بھگت کبھی نہیں ہوسکتا۔‘‘

کبیر نے زار و قطار رونا شروع کردیا۔

ایک اونچی عمارت پر لکشمی کا بہت خوبصورت بت نصب تھا۔ چند لوگوں نے جب اسے اپنا دفتر بنایا تو اس بُت کو ٹاٹ کے ٹکڑوں سے ڈھانپ دیا۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔ دفتر کے آدمیوں نے اسے ڈھارس دی اور کہا۔’’ ہمارے مذہب میں یہ بت جائز نہیں۔‘‘

کبیر نے ٹاٹ کے ٹکڑوں کی طرف اپنی نمناک آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔’’ خوبصورت چیز کو بدصورت بنا دینا بھی کسی مذہب میں جائز نہیں۔‘‘

دفتر کے آدمی ہنسنے لگے۔ کبیر ڈھاریں مار مارکر رونے لگا۔

صف آرا فوجوں کے سامنے جرنیل نے تقریر کرتے ہوئے کہا۔ ’’اناج کم ہے، کوئی پروا نہیں۔ فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ کوئی فکر نہیں۔۔۔ ہمارے سپاہی دشمن سے بھوکے ہی لڑیں گے۔‘‘

دو لاکھ فوجیوں نے زندہ باد کے نعرے لگانے شروع کردیے۔

کبیر چلا چلا کے رونے لگا۔ جرنیل کو بہت غصہ آیا۔ چنانچہ وہ پکار اٹھا۔’’ اے شخص، بتا سکتا ہے، تو کیوں روتا ہے؟‘‘

کبیر نے رونی آواز میں کہا۔’’ اے میرے بہادر جرنیل۔۔۔ بھوک سے کون لڑے گا۔‘‘

دو لاکھ آدمیوں نے کبیر مردہ باد کے نعرے لگانے شروع کردیے۔

’’بھائیو، داڑھی رکھو مونچھیں کترواؤ اور شرعی پاجامہ پہنو۔۔۔ بہنو، ایک چوٹی کرو، سرخی سفیدہ نہ لگاؤ، برقع پہنو!‘‘۔۔۔۔۔۔ بازار میں ایک آدمی چلا رہا تھا۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھیں نمناک ہوگئیں۔

چلّانے والے آدمی نے اور زیادہ چلّا کر پوچھا۔’’کبیر تو کیوں رونے لگا؟‘‘

کبیر نے اپنے آنسو ضبط کرتے ہوئے کہا۔’’ تیرا بھائی ہے نہ تیری بہن، اور یہ جو تیری داڑھی ہے۔ اس میں تو نے وسمہ کیوں لگا رکھا ہے۔۔۔ کیا سفید اچھی نہیں تھی۔‘‘

چلّانے والے نے گالیاں دینی شروع کردیں۔ کبیر کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔

ایک جگہ بحث ہورہی تھی۔

’’ادب برائے ادب ہے۔‘‘

’’محض بکواس ہے، ادب برائے زندگی ہے۔‘‘

’’وہ زمانہ لد گیا۔۔۔ ادب، پروپیگنڈے کا دوسرا نام ہے۔‘‘

’’تمہاری ایسی کی تیسی۔۔۔‘‘

’’تمہارے اسٹالن کی ایسی کی تیسی۔۔۔‘‘

’’تمہارے رجعت پسند اور فلاں فلاں بیماریوں کے مارے ہوئے فلابیئر اور بادلیئر کی ایسی کی تیسی‘‘۔

کبیر رونے لگا بحث کرنے والے بحث چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ ایک نے اس سے پوچھا۔’’ تمہارے تحت الشعور میں ضرور کوئی ایسی چیز تھی جسے ٹھیس پہنچی۔‘‘

دوسرے نے کہا۔’’ یہ آنسو بورژوائی صدمے کا نتیجہ ہیں۔‘‘

کبیر اور زیادہ رونے لگا۔ بحث کرنے والوں نے تنگ آکر بیک زبان سوال کیا۔’’میاں، یہ بتاؤ کہ تم روتے کیوں ہو؟‘‘

کبیر نے کہا۔’’ میں اس لیے رویا تھا کہ آپ کی سمجھ میں آجائے، ادب برائے ادب ہے یا ادب برائے زندگی۔‘‘

بحث کرنے والے ہنسنے لگے۔ ایک نے کہا۔’’ یہ پرولتاری مسخرہ ہے۔‘‘

دوسرے نے کہا۔’’نہیں یہ بورژوائی بہروپیا ہے۔‘‘

کبیر کی آنکھوں میں پھر آنسو آگئے۔

حکم نافذ ہوگیا کہ شہر کی تمام کسبی عورتیں ایک مہینے کے اندر شادی کرلیں اور شریفانہ زندگی بسر کریں۔ کبیر ایک چکلے سے گزرا تو کسبیوں کے اڑے ہوئے چہرے دیکھ کر اس نے رونا شروع کردیا۔ ایک مولوی نے اس سے پوچھا۔’’مولانا۔ آپ کیوں رو رہے ہیں؟‘‘

کبیر نے روتے ہوئے جواب دیا’’ اخلاق کے معلّم ان کسبیوں کے شوہروں کے لیے کیا بندوبست کریں گے‘‘

مولوی کبیر کی بات نہ سمجھا اور ہنسنے لگا۔ کبیر کی آنکھیں اور زیادہ اشک بار ہوگئیں۔

دس بارہ ہزار کے مجمع میں ایک آدمی تقریر کررہا تھا۔’’بھائیو۔ بازیافتہ عورتوں کا مسئلہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس کا حل ہمیں سب سے پہلے سوچنا ہے اگر ہم غافل رہے۔ تو یہ عورتیں قحبہ خانوں میں چلی جائیں گی۔ فاحشہ بن جائیں گی۔۔۔ سن رہے ہو، فاحشہ بن جائیں گی۔۔۔۔۔۔ تمہارا فرض ہے کہ تم ان کو اس خوفناک مستقبل سے بچاؤ اور اپنے گھروں میں ان کے لیے جگہ پیدا کرو۔۔۔۔۔۔ اپنے اپنے بھائی، یا اپنے بیٹے کی شادی کرنے سے پہلے تمہیں ان عورتوں کو ہرگز ہرگز فراموش نہیں کرناچاہیے۔

کبیر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ تقریر کرنے والا رُک گیا۔ کبیر کی طرف اشارہ کرکے اس نے بلند آواز میں حاضرین سے کہا۔’’ دیکھو اس شخص کے دل پر کتنا اثر ہوا ہے۔‘‘

کبیر نے گلو گیر آواز میں کہا۔’’لفظوں کے بادشاہ، تمہاری تقریر نے میرے دل پرکچھ اثر نہیں کیا۔۔۔ میں نے جب سوچا کہ تم کسی مالدار عورت سے شادی کرنے کی خاطر ابھی تک کنوارے بیٹھے ہو تو میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔‘‘

ایک دکان پر یہ بورڈ لگا تھا۔’’جناح بوٹ ہاؤس۔‘‘ کبیر نے اسے دیکھا۔ تو زار و قطار رونے لگا۔

لوگوں نے دیکھا کہ ایک آدمی کٹ مرا ہے۔ بورڈ پر آنکھیں جمی ہیں اور روئے جارہا ہے۔ انھوں نے تالیاں بجانا شروع کردیں۔’’ پاگل ہے۔۔۔ پاگل ہے!‘‘

ملک کا سب سے بڑا قائد چل بسا تو چاروں طرف ماتم کی صفیں بچھ گئیں۔ اکثر لوگ بازوؤں پر سیاہ بلے باندھ کر پھرنے لگے۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ سیاہ بلّے والوں نے اس سے پوچھا۔’’ کیا دکھ پہنچا جو تم رونے لگے؟‘‘

کبیر نے جواب دیا۔’’ یہ کالے رنگ کی چندیاں اگر جمع کرلی جائیں تو سینکڑوں کی سترپوشی کرسکتی ہیں۔‘‘

سیاہ بلّے والوں نے کبیر کو پیٹنا شروع کردیا۔ تم کمیونسٹ ہو، ففتھ کالمسٹ ہو۔ پاکستان کے غدار ہو۔‘‘

کبیر ہنس پڑا۔’’لیکن دوستو، میرے بازو پر تو کسی رنگ کا بلّا نہیں۔‘‘

Ankahi – ان کہی April 12, 2017

Posted by Farzana Naina in British Pakistani Poetess, Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Naina, Nazm, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
2 comments

‘‘ اَن کہی ’’

اَن کہی کے حسن میں کچھ دیر تو ڈوبے رہو

 زندگی خود  میں  اترنے  کی  جو  دے  مہلت ذرا

خواب نگری کے ہر اک کونے کے آئینے تکو

دھوپ چھاؤں آنکھ سے آنکھوں کی ڈبیوں میں رکھو

رات کے پُل پر ہوا کے راگ میں گم صم رہو

چاندنی کی تتلیوں کو رقص میں شامل کرو

روح میں بہتے ہوئے احساس کی لہریں گنو

عمر کے بکھرے ہوئے سیپوں سے کچھ موتی چُنو

چاند سے لپٹی ہوئی بدلی کی چھاؤں میں چلو

بربطوں کی تال پر اک ماورا منظر بُنو

پتھروں کی نیلی محرابوں کے جنگلے کاٹ دو

کہر میں کھوئے ہوئے رستوں پہ  سرگرداں رہو

سبز پریوں کا یہ میلہ روز تو لگتا نہیں

عشق پنچھی اپنے پر دوبارہ پھیلاتا نہیں

پھر کہاں وارفتگی سے ہوگا کوئی منتشر

آرزوؤں کے نگر میں یوں تمہارا منتظر

کہہ دیا سب کچھ تو یہ سارا فسوں مٹ جائے گا

ہر ستارہ کہکشاں کی بھیڑ میں کھو جائے گا

ان کہی کے حسن میں کچھ دیر تو ڈوبے رہو

 !!!ڈوبے رہو کچھ دیر  اور۔۔۔۔ ۔ 

فرزانہ نیناں

Ankahi ke husn mein kuch deir tau doobe raho

Zindagi khud mein uterne ki jo de mohlut zara

Khwab’nagri ke har ik kone ka aaeene tako

Dhoop chaa’on aankh se aankhon ki dibiyon mein rakho

Raat ke pull par hawa ke raag mein gum sum raho

Chandni ki titliyon ko raqs mein shamil karo

Rooh mein behte huey ehsaas ki lehrein gin’no

Umr ke behte huey seepon se kuch moti chuno

Chand se lipti hui badli cha’aon mein chalo

Barbat’ton ki taal par ik maa’wra manazar buno

Pat’tharon ki neeli mehraabon ke jungle kaat do

Kohur mein khoye huey raston pe sardar’daan raho

Sabz pariyon ka ye mela roz tau lagta nahein

Ishq panchi apne par dobara pheilata nahin

Phir kahan waa’raftgi se hoga koi muntashir

Aarzo’on ke nagar mein raah par yun mantazir

Keh diya sab kuch…..tau ye sara fusoon mitt jaey ga

Har sitara keh’kashan ki bhee’rr mein kho jaey ga

An’kahi ke husn mein kuch deir tau doobe raho

Doobe raho, kuch deir aur……………. !!!

~ Farzana Naina.

Golden bar 1

Khush Manzari – خوش منظری April 9, 2017

Posted by Farzana Naina in Farzana, Farzana Naina, Feelings, Flowers, Ghazal, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Naina, Nazm, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Thoughts, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
2 comments

3 Pink Flower bar

خوش منظری

.چیری کے پیڑوں پہ پھولوں سے لدی یہ ڈالیاں !
میری آنکھوں میں کسی جنگل کی جیسے ہرنیاں
کس محبّت سے ترے نغمے سناتی ہیں مجھے
میٹھی آوازوں کی پائل سے جگاتی ہیں مجھے
تیز رفتاری سے کتنی دور تک جاتا ہے دل
کان میں چپکے سے کہتا ہے کوئی : آ مجھ سے مِل
اب بھی اونٹوں کے گلے میں بج رہی ہیں گھنٹیاں
اب بھی صحرا میں سنہری شام کی ہیں سرخیاں
کیا کہوں میں خواب جیسے اِس فسانے کے لئے
پھول تو ہوتے ہیں دریا میں بہانے کے لئے
دائروں میں جھوم کر آتا پہاڑی سے دھواؑں
اُڑتے اُڑتے مجھ پہ رکھ جاتا ہے اک کوہِ گراں

( فــرزانـہ نیــناںؔ )

Sughra Mehdi – صغریٰ مہدی April 3, 2014

Posted by Farzana Naina in Urdu, Urdu Literature.
Tags:
add a comment
Sughra Mehdi with Quratul Ain Haider

Sughra Mehdi with Quratul Ain Haider – “8 August 1938 – 17 March 2014”

(بشکریہ: زاہدہ حنا)
’’راگ بھوپالی‘‘ لکھنے والی صغریٰ مہدی اگست 1938ء کی آٹھویں تاریخ کو بھوپال میں پیدا ہوئیں۔ تعلیم دلی اور علی گڑھ میں ہوئی۔ ڈاکٹریٹ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے حاصل کی۔ انہوں نے کہانیاں اور ناول لکھے، سفر نامے تحریر کیے، ادبی تنقید کی کئی کتابیں ان کے قلم سے نکلیں۔ انہوں نے جید عالم ڈاکٹر عابد حسین اور ان کی افسانہ نگار، ناول نگار اور تحقیقی مضامین لکھنے والی شریکِ حیات صالحہ عابد حسین کے ساتھ زندگی گزاری اور گھر کے علمی، ادبی اور تہذیبی ماحول نے ان پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ 1973ء میں ان کا پہلا ناول ’’پابہ جولاں‘‘ اور 1975ء میں کہانیوں کا پہلا مجموعہ ’’پتھر کا شہزادہ‘‘ شائع ہوا۔ ’’جو میرے وہ راجا کے نہیں‘‘ اور ’’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘‘ ان کے وہ افسانوی مجموعے ہیں جو بے حد مقبول ہوئے۔ ادب میں عورت کی حیثیت اور ہندوستانی سماج میں مسلمان عورت کا مقام ا ن کی دل چسپی کے خاص موضوعات تھے۔ ’’دور درشن‘‘ کے لیے انہوں نے دو ٹی وی سیریل لکھے، جن میں سے ایک ’’راگ بھوپالی‘‘ اور دوسرا صالحہ عابد حسین کے ناول ’’ساتواں آنگن‘‘ کی ڈرامائی تشکیل تھی۔
وہ ایک دوست دار اور دل دار شخصیت تھیں۔ پاکستانی ادیبوں کی وہ جس گرم جوشی سے مہمان داری کرتیں، وہ لوگوں کو تادیر یاد رہتی۔ ان سے میری نیاز مندی پچیس برس سے زیادہ پر محیط تھی۔ میں دو مرتبہ ان کے گھر ’’عابد ولا‘‘ میں ٹھہری لیکن زیادہ تر ہوٹلوں میں ٹھہرائی جاتی اور وہ ناراض ہوتیں ’’میرے گھر کیوں نہیں ٹھہرتیں؟‘‘ ان شکایتوں کے باوجود مجھ سے ملنے کبھی انڈیا انٹرنیشنل سینٹر، کبھی وائی ڈبلیو سی اے ہاسٹل اور کبھی اجے بھون آتیں، ہائے ہائے کرتیں، مجھے برا بھلا کہتیں لیکن آنا لازم تھا، مہینے میں ایک دو مرتبہ ان سے فون پر باتیں ہوتیں اور دونوں ملکوں کے تازہ ترین ادبی بلیٹن کا تبادلہ ہوتا۔ جب تک عینی آپا موجود تھیں، ہم ان کی اور ڈاکٹر عذرا رضا کی باتیں کرتے۔ کوئی ان باتوں کے دورانیے پر نظر کرتا تو یہی سمجھتا کہ دو نہایت دولت مند خواتین ہیں جو ٹیلی فون بل کا حساب لگائے بغیر گپ میں مصروف ہیں۔
قرۃ العین حیدر سے ان کی گہری قربت تھی۔ عینی آپا نے انہیں ’’مشیر خاص‘‘ کے عہدے پر فائز کر رکھا تھا اور اسی لیے وہ کبھی کبھی انہیں ’’مشیر فاطمہ‘‘ کے نام سے بھی یاد کرتیں۔ صغریٰ آپا جدید اردو افسانے کا ایک اہم نام تھیں۔ شہروں شہروں ملکوں ملکوں بلائی جاتیں اور ہر جگہ لوگ ان کے لیے آنکھیں بچھاتے۔ وہ رونقِ بزمِ جہاں تھیں۔ ان کے دم سے ادب کی دنیا اور دوستوں کی محفل میں اجالا تھا۔ یہ اجالا ہمارے درمیان سے 17 مارچ 2014ء کو اٹھالیا گیا۔ ’’عابد ولا‘‘ دلی میں ان کے ماتم دار رضا مہدی ہیں۔ وہ ان کی یاد کی شمعیں جلاتے رہیں گے۔
یہاں ان کا مختصر افسانہ ’’شہر آشوب‘‘ پیش کیا جارہا ہے۔ اسے پڑھیے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ اکثر شہروں اور بیشتر گھروں کی کہانی ہے۔ ہمارے من موہنے سماج کی بنت جس طرح ادھڑی اس کی تصویر کشی صغریٰ مہدی نے جس دل فگاری سے کی ہے، وہ ان کی فنی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

شہر آشوب: صغریٰ مہدی

دھندلے دھندلے سائے۔ جلدی جلدی بدلتی تصویریں۔ شور و غوغا، چہروں پر پریشانی، خوف، غصہ، دولت و اقتدار کا زعم، جان و مال کے محافظ لٹیرے اور قاتل، عزت و آبرو کے نگہبان، عزت و آبرو کے دشمن، عورتیں برہنہ، مرد درندہ بن گئے ہیں، بچے ڈپریشن کا شکار۔ نوجوانوں کی زندگی ایک بوجھ جسے سر سے اتارنے کو آمادہ، دینے والے کو لوٹانے کے لیے کوشاں۔
پیسہ ہر طرف پیسہ، جسے دیکھو اس کے پیچھے دوڑا جارہا ہے۔ جنگل کٹ گئے، مکانوں کا جنگل ہر طرف ہے۔ جدھر دیکھو بلند و بالا آسمان سے باتیں کرتی چمکتی دمکتی عمارتیں اور ان کے پیچھے گندے نالے جھونپڑپٹیاں، کھانستے کراہتے بوڑھے۔ آدمی ہی آدمی، سڑکوں پر ٹریفک، ہر طرح کی سواریاں، موٹر بسیں، ٹرک لوگوں کو کچلتے مارتے، جانیں انسانی جانیں، ارزاں اتنی کہ کوئی بھی چیز اب تنی سستی نہیں ہے۔ ہر ہاتھ میں خنجر، مذہب لوگوں کو ستانے کا ذریعہ، تہوار موت اور تباہی کا پیغام، کرسیاں ہی کرسیاں، ان سے چپکے عیار اور مکار لوگ۔ گھر سنسان جیلیں آباد، کھوکھلے دعوے، فلاحی انجمنیں کھانے کمانے کا ذریعہ، کرسیوں تک پہنچنے کے لیے غریبوں کی خدمت کے مکھوٹے، نئی نئی ایجادیں بدنام ترقی، دراصل تنزل اور تباہی کا سامان۔
نئی نئی بیماریاں، نت نئی دوائیں، ایک دن ان کے فائدے دوسرے دن ان کے نقصانات اور نئی دوائوں کے فائدے ساتھ میں مضر اثرات کی چیتاونی۔ ان سے بچائو کے طریقے۔ تعلیمی ادارے فیکٹریوں میں تبدیل، بدعنوانی کا بول بالا، عیاشیاں بدکاریاں بدنام فرد کی آزادی، تعمیر کے نام پر تخریب، ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی، اب آبروئے اہل نظر، اہل نظر؟ ہے کوئی اہل نظر؟ اے رب العزت ہمیں یہ کون سا دور ملا ہے۔ ناانصاف منصف، جاہل، عالم، دھوکے باز، عیاراور دانشور، ہر تک بند شاعر اعظم، ڈگریاں جعلی، اعزاز ڈھونگ انعام دھوکا۔ ہر جھوٹا ’’ان الحق‘‘ کہہ کر خود کو منصور کہلانے پر مُصر۔ گائوں ویران ہوئے، شہر لوگوں سے ابل رہے ہیں۔ دریا سوکھ گئے ہیں۔ پنگھٹ سنسان ہیں۔ بوڑھے بھٹک رہے ہیں۔ نوجوان مشین بن گئے ہیں۔ ماں باپ بچوں کے آگے سرنگوں ہیں۔ اب شہر میں ہر آن خرابات ولی ہے، تیغ منصفی کررہی ہے۔ دار و رسن گواہی دے رہے ہیں۔ اب شہر میں معتبر کون ہے قاتل کے سوا۔

آج پھر امن رہا بستی میں!
اے مظفر یہ خبر ہے کوئی… امن بستی… خبر۔ بڑا سا برآمدہ، اس کے ساتھ کئی ہال نما بڑے کمرے، برآمدے کے سامنے بڑا سا کمپاؤنڈ، کمروں میں برابر کئی پلنگ بچھے تھے۔ ان ہی کمروں میں سے ایک کمرے سے یہ بُڑبُڑاہٹ کی آواز آنے لگتی ہے۔ کبھی کبھی بُڑبُڑانے والے کی سانس پھولنے لگتی تو وہ چپ ہوجاتا۔ پھر پیٹ میں سانس سماتی تو وہ بکنے لگتا، بے معنی باتیں نہ سر نہ پیر۔ اس پرانی سی عمارت پر بڑا سا بورڈ لگا تھا، اس پر لکھا ہوا تھا،’’آسرا‘‘ یہ ایک اولڈ ایج ہوم تھا۔ ایک مہانگر کے مضافات میں۔ ان کے برابر بچھے پلنگوں پر بوڑھے لیٹے رہتے۔ دوسری طرف کھڑکیاں تھیں، کھولو تو ایک میدان نظر آتا تھا۔ کہیں جھاڑ جھنکاڑ اُگا ہوا تھا۔ ایک پیپل کا پیڑ بھی تھا، تھوڑی دور ایک گندا نالہ بہتا تھا۔ صبح شام بھولی بھٹکی کوئی چڑیا بھی آجاتی۔ شام صبح ان کھڑکیوں سے سورج کے ڈوبنے اور نکلنے کا منظر دیکھا جاسکتا تھا۔
یہ بوڑھا جو ہر وقت اول فول بکا کرتا، اس کو آئے یہاں پانچ سال ہوگئے۔ اس کا بیٹا اسے چھوڑ گیا تھا۔ وہ باہر جاکر بسنا چاہتا تھا، بیچارے نے بہت انتظار کیا، کہاں تک کرتا۔ اس نے اسے بھی اپنے ساتھ لے جانا چاہا، یہ پاگل گیا ہی نہیں۔ کہنے لگا وہاں بھی تو بوڑھوں کے گھر میں رہنا ہوگا تو اب تو اپنے یہاں بھی ہوم ہیں ہم بوڑھوں کے لیے۔ یہاں ہم صورت، ہم زبان لوگ تو ہوں گے اپنا ملک تو ہوگا۔ وہ شام کو کھڑکی کھول کر بیٹھ جاتا، چڑیوں کی آوازیں سنتا، گرمیوں کی دوپہر میں کوئل کی کوک سنتا۔ پھر اپنا بکس نکال کر موٹی موٹی کاپیاں دیکھا کرتا میگنافائنگ گلاس (محدب شیشہ) سے۔ پھر ایک موٹا سا البم لے کر بیٹھ جاتا، یہ تو اکثر بوڑھے کرتے تھے۔ اپنی چندھی آنکھوں سے تصویریں دیکھا کرتے۔ شروع میں آیا تھا تو صبح شام کمپائونڈ میں ٹہلنے نکل جاتا مگر… اب عرصے سے صرف کھڑکی کے ذریعے ہی باہر سے رابطہ رکھتا تھا۔ پانچ سال میں دو دفعہ بیٹا اس سے ملنے آیا۔ بہت سے تحفے لایا قمیص، سوئٹر، جوتے، آفٹر شیو لوشن، ڈریسنگ گائون اور بہت سے چاکلیٹ۔ بوڑھے نے سب چیزیں واپس کردیں بس چاکلیٹ رکھ لیں۔
بہت اصرار کیا تو اس نے ایک قمیص اور سوئٹر رکھ لیا۔ چاکلیٹ اسے پسند تھے، وہ دنوں کھایا کیا۔ دوسری دفعہ بیٹا آیا تو اسے ایک موبائل فون دے گیا۔ دیر تک اسے موبائل پر بات کرنا سکھا گیا۔ بیٹا ہر ہفتے بات کرتا۔ یہ خود تہواروں پر یا 26 جنوری اور 15 اگست کو اپنے پوتے سے بات کرتا اور ان کے بارے میں بتاتا تھا۔ جب وہ آیا تھا تو اس طرح نہیں بُڑبُڑاتا تھا۔ شاید یہ باتیں تب من ہی من میں کرتا تھا مگر دھیرے دھیرے اس کی آواز بلند ہونے لگی۔ اس پر اس کمرے میں رہنے والے بوڑھوں کو تو کوئی اعتراض نہیں تھا مگر کام کرنے والے بہت چڑتے تھے۔ اکثر اس کو جھڑک دیتے تو وہ جواب دیتا بھئی میں تم سے تو کچھ نہیں کہہ رہا۔ بس کہہ رہا ہوں اپنے دل سے، تو پھر اتنی زور سے کیوں کہتے ہو، کیا تمہارا دل بہرا ہے اور سب ہنسنے لگتے۔ دو ایک بوڑھے کہتے اچھا ہے کوئی آواز تو آتی ہے اور وہ جو کہہ رہا ہے سب سچ ہی تو ہے۔ ادھر کچھ دنوں سے وہ بہت کمزور ہوتا جارہا تھا۔ کھانا بھی کم کھاتا۔ بس آہستہ آہستہ یہی کہتا،’’یہ کون سا یُگ ہے؟ کون بانی بیداد ہے، دھندلے دھندلے سائے بدلتی ہوئی تصویریں۔‘‘

کچھ دنوں سے اولڈ ایج ہوم کے منتظمین کو تشویش تھی کہ اب بوڑھا بہت کم بُڑبُڑاتا مگر اور بوڑھے بھی اب وہی لایعنی باتیں کرنے لگے تھے۔ بوڑھے کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جارہی تھی۔ ڈاکٹر کو بلایا گیا اس نے معائنہ کیا اور کہا کہ عمر کے لحاظ سے سب کچھ ٹھیک ہے۔ یہ اس کے دماغ کا انتشار ہے۔ ایک بوڑھا بولا بڑھاپے میں یہ بیماری اکثر ہوجاتی ہے، یہی بُڑبُڑانے کی، مگر اب وہ بولتا تو اتنا آہستہ کہ بار بار کیا، کیا کہنا پڑتا۔ ہر وقت سانس پھولتی رہتی، وہ اسی پھولی ہوئی سانس کے ساتھ یہی سب کچھ کہتا رہتا مگر اور بوڑھے کورس میں یہ باتیں دہرانے لگے تھے۔ ایک دن دیر تک اس کی آواز نہیں آئی تو اس کے پاس کے پلنگ کے بوڑھوں کو تشویش ہوئی۔ اٹینڈینٹ کی توجہ اس طرف دلائی تو وہ ٹال گئے۔ واقعی دوپہر کا کھانا بھی ویسا ہی رکھا رہا تو کسی نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تو چونک پڑا۔ ’’ارے یہ بڑے میاں تو چل دیے۔‘‘ کیا۔ کیا۔ کیا کہہ کر کئی بوڑھے اٹھ کر بیٹھ گئے۔ کیا کہہ رہا ہے؟
انچارج کو اطلاع دی گئی، ڈاکٹر آیا اس نے ان کو مردہ قرار دیا… ارے بھئی واہ بڑے میاں تو خاموشی سے چلے گئے۔ اٹینڈنٹ کہہ رہا تھا۔ اس کمرے میں دوسرے کمروں کے بوڑھے بھی آگئے تھے اور اس کے پلنگ کو گھیرے کھڑے تھے۔ کچھ رو رہے تھے، کچھ کہہ رہے تھے کہ اچھا ہے، اس مصیبت سے چھوٹ گئے۔ پھر جلدی جلدی انتظامات ہوئے اور سہ پہر تک لوگ ان کو اول منزل پہنچا آئے۔
مگر کمرے سے آوازیں اسی طرح آرہی تھیں، پیڑ کٹ گئے، کنویں سوکھ گئے، گائوں ویران ہیں اور شہر لوگوں سے ابل رہے ہیں۔ انسانوں کی جانیں ارزاں ہیں۔ انچارج نے وہاں رائونڈ لگایا تو اس نے سنا کہ ان بوڑھوں کے ساتھ وہاں کام کرنے والے بھی یہی کہہ رہے تھے۔ جاہل، عالم ہیں۔ ُتک بند شاعر اعظم ہیں۔ ہر رند خرابات ولی ہے۔ اس دوران میڈیا کو یہ خبر کسی طرح پہنچ گئی، وہ لوگ اپنے تام جھام کے ساتھ کھڑے تھے۔ سنا ہے آج جو بڑے میاں مرے ہیں وہ بہت بڑے لیکھک تھے۔ ان کو بہت انعامات ملے تھے۔ ان کو راشٹر پتی نے سمان بھی دیا تھا۔ یہ سن کر دو عورتیں اور ایک مرد آگے بڑھے۔ ہاں ہم ان کے رشتے دار ہیں قریبی، ان کی آواز بھرا رہی تھی، عورتیں آنسو پونچھ رہی تھیں۔ مرد آگے بڑھ کر بڑے میاں کے بارے میں انٹرویو دے رہا تھا۔

کھٹاکھٹ تصویریں کھینچ رہی تھیں۔ ان لوگوں سے نمٹ کر میڈیا کے لوگ اولڈ ایج ہوم کے اسٹاف کی طرف متوجہ ہوئے۔ انچارج صاحب آفس میں نہیں تھے۔ ادھر ادھر اور کر مچاریوں کو دیکھا، کوئی نظر نہیں آیا۔ ایک باہمت صحافی اندر گئے تو انہوں نے عجب سماں دیکھا کہ اس کمرے میں جہاں بڑے میاں مرے تھے، سب جمع ہیں۔ بوڑھے انچارج اور سارا اسٹاف ایک کورس میں کہہ رہے ہیں۔ دھندلے دھندلے سائے، جلدی جلدی بدلتی تصویریں، ہر طرف شور و غوغا ہر چہرے پر پریشانی… پھر… پھر کیا ہوا؟ پھر؟ نہیں معلوم کیا ہوا؟

Khushwant Singh March 20, 2014

Posted by Farzana Naina in Literature, Urdu, Urdu Literature.
Tags:
add a comment

khushwant s

بھارتی صحافت اور ادب کے’ڈرٹی اولڈ مین‘ خشونت سنگھ تقریباً چھ دہائیوں تک بھارتی ادب اور صحافت پر چھائے رہے۔
وہ السٹریٹڈ ویکلی اور ہندوستان ٹائمز سمیت کئی جریدوں اور اخبارووں کے ایڈیٹر رہے لیکن انہوں نے اپنے کریئر کا آغاز لاہور ہائی کورٹ میں ایک وکیل کی حیثیت سے کیا تھا۔
بعد میں وہ سفارتکار بھی رہے لیکن انہیں ایک ایسے صحافی اور ادیب کے طور پر یاد کیا جائے گا جس نے اپنی تحریروں میں کبھی ’پولیٹکلی کریکٹ‘ رہنے کی کوشش نہیں کی، انہوں نے وہ لکھا جو ان کےدل میں تھا۔
وہ اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کرتے تھے اور اکثر سیکس اور خواتین پر اپنے بیانات کی وجہ سے تنازعات میں گھر جاتے۔ اسی لیے انہیں بھارتی ادب کا ’ڈرٹی اولڈ مین‘ کہا جانے لگا تھا لیکن انہوں نے اس لقب پر کبھی اعتراض نہیں کیا۔
لیکن آؤٹ لک جریدے کے مدیر ونود مہتا سے ایک بات چیت کے دوران انہوں نے مذاق میں کہا تھا کہ ’لوگ مجھے ڈرٹی اولڈ مین تو کہنے لگے ہیں لیکن میری کتابوں میں آپ کو سیکس کا زیادہ ذکر نہیں ملے گا۔۔۔میں نے زیادہ تر سنجیدہ موضوعات پر لکھا ہے۔‘
وہ دو فروری انیس سو پندرہ کو ہڈالی میں پیدا ہوئے تھے جو اب پاکستان میں ہے۔ تقسیم کے جنون پر ان کی کتاب ’ٹرین ٹو پاکستان’ نے انہیں سب سے زیادہ شہرت دلائی۔ یہ کتاب 1956 میں شائع ہوئی تھی اور اب بھی کئی یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہے۔
ہندوستان ٹائمز میں دہائیوں سے ان کا ہفتہ وار کالم ’ود میلس ٹوورڈز ون اینڈ آل‘ (بخشا کسی کو نہیں جائے گا) بےانتہا مقبول تھا، کچھ ان کے لکھنے کے سادہ انداز کی وجہ سے اور کچھ ان کی حق گوئی اور بے باکی کی وجہ سے۔
مصنفہ سعدیہ دہلوی نے ایک مرتبہ خشونت سنگھ کے بارے میں کہا تھا کہ’ اگر خشونت سنگھ عورت ہوتے تو ہمیشہ امید سے ہی رہتے کیونکہ انہیں کسی کام کے لیے منع کرنا نہیں آتا تھا۔‘
اردو ادب اور شاعری کا انہیں بے پناہ شوق تھا جس کی جھلک ان کے مضامین میں خوب نظر آتی تھی اور ان کی ظرافت شناسی بے مثال تھی جس کا وہ اپنے کالم میں بھرپور استعمال کرتے تھے۔
موت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ’ہمارے گھروں میں موت کا شاذ ونادر ہی ذکر کیا جاتا ہے، نامعلوم کیوں جبکہ ہم سب کو معلوم ہے کہ موت آنی ہی ہے، خدا میں شک ہو تو ہو، موت میں نہیں کوئی شک۔۔۔ پچانوے سال کی عمر میں، میں اکثر موت کے بارے سوچتا ہوں، لیکن اتنا نہیں کہ نیند اڑ جائے۔ جو لوگ گزر چکے ہیں، ان کے بارے میں سوچتا ہوں کہ وہ کہاں ہوں گے، مجھے اس کا جواب نہیں معلوم کہ مرنے کے بعد آپ کہاں جاتے ہیں، پھر کیا ہوتا ہے۔۔۔؟‘
’بس میں امید کرتا ہوں کہ جب موت آئے، تو تیزی سے آئے، زیادہ تکلیف نہ ہو، جیسے بس آپ سوتے ہوئے اس دنیا سےچلے جائیں۔‘
خشونت سنگھ کو اپنے سوالوں کا جواب ملے گا یا نہیں، یہ تو معلوم نہیں لیکن موت انہیں ویسی ہی نصیب ہوئی جیسی وہ چاہتے تھے

بشکریہ: سہیل حلیم: بی بی سی اردو دہلی

عمر کے آخری دور میں بھی وہ لکھنے میں سرگرم رہے اور گزشتہ سال ان کی کتاب خشونت نامہ دی لیسنز آف مائی لائف‘شائع ہوئی تھی

عمر کے آخری دور میں بھی وہ لکھنے میں سرگرم رہے اور گزشتہ سال ان کی کتاب خشونت نامہ دی لیسنز آف مائی لائف‘شائع ہوئی تھی

وہ فروری سنہ 1915 کو موجودہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع خوشاب کے گاؤں ہڈالی میں پیدا ہوئے تھے۔
انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بھارت کے شہر دہلی میں حاصل کی اور پھر مزید تعلیم کے لیے لاہور کے گورنمنٹ کالج کا رخ کیا تھا۔
برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی اور انر ٹیمپل میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد انہوں نے واپس لاہور جا کر ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔
تقسیمِ ہند کے بعد وہ اپنے خاندان سمیت نئی دہلی میں بس گئے۔ وہ کچھ عرصہ وزارت خارجہ میں سفارتی عہدوں پر بھی تعینات رہے لیکن جلد ہی سرکاری نوکری کو خیرآباد کہہ دیا۔
ان کا ذرائع ابلاغ سے تعلق 1940 کی دہائی کے آخر میں اس وقت قائم ہوا تھا جب انھوں نے وزارتِ خارجہ میں ملازمت کی اور پہلے کینیڈا اور پھر برطانیہ اور آئرلینڈ میں افسرِ اطلاعات اور پریس اتاشی کے طور پر بھارتی حکومت کی نمائندگی کی۔
سرکاری ملازمت کے دوران ہی انھوں نے ملک کے منصوبہ بندی کمیشن کے جریدے ’یوجنا‘ کی ادارت سے اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا اور سرکاری ملازمت سے مستعفی ہونے کے بعد1951 میں صحافی کی حیثیت سے آل انڈیا ریڈیو میں نوکری اختیار کر لی جہاں سے ان کے تابناک کریئر کا آغاز ہوا۔
پدم بھوشن کی واپسی
بھارتی حکومت نے انہیں 1974 میں ملک کے دوسرے بڑے شہری اعزاز پدم بھوشن سے نوازا تھا لیکن 1984 میں گولڈن ٹیمپل میں ہونے والے فوجی آپریشن بلیو سٹار پر احتجاجاً انہوں نے یہ اعزاز واپس کر دیا تھا۔
وہ بھارت کے مشہور جریدے نیشل ہیرالڈ جو کہ بعد میں السٹریٹڈ ویکلی کہلایا کہ مدیر رہے اور ان کے دور میں یہ جریدہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گیا۔ خشونت سنگھ ہندوستان ٹائمز کے ایڈیٹر بھی رہے۔
خشونت سنگھ نے 30 سے زیادہ ناولوں کے علاوہ درجنوں افسانے اور مضامین سمیت 80 سے زیادہ کتابیں تحریر کیں۔
بطور ادیب انھیں سب سے پہلے پہچان برصغیر کی تقسیم کے موضوع پر لکھے گئے ناول’ٹرین ٹو پاکستان‘ سے ملی جسے 1954 میں عالمی شہرت یافتہ گروو پریس ایوارڈ دیا گیا
اس کے علاوہ انہوں نے ’ہسٹری آف سکھ‘ کے نام سے سکھ مذہب کی تاریخ بھی لکھی جسے اس سلسلے میں ہونے والا سب سے ٹھوس کام سمجھا جاتا ہے۔
عمر کے آخری دور میں بھی وہ لکھنے لکھانے میں مصروف رہے اور گزشتہ سال ان کی کتاب ’خشونت نامہ: دی لیسنز آف مائی لائف‘ شائع ہوئی تھی۔
خشونت سنگھ 1980 سے 1986 تک بھارتی راجیہ سبھا کے رکن بھی رہے۔ بھارتی حکومت نے انہیں 1974 میں ملک کے دوسرے بڑے شہری اعزاز پدم بھوشن سے نوازا تھا لیکن 1984 میں گولڈن ٹیمپل میں ہونے والے فوجی آپریشن بلیو سٹار پر احتجاجاً انہوں نے یہ اعزاز واپس کر دیا تھا۔
ان کے انتقال پر بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ کی سرکاری ٹویٹ میں کہا گیا، ’وہ ایک باصلاحیت مصنف اور پیارے دوست تھے۔ انہوں نے واقعی ایک تخلیقی زندگی گزاری۔‘
ان کی موت پر مورخ رام چندر نے اپنی ٹویٹ میں کہا، ’خشونت سنگھ اپنی سکھوں کی تاریخ کے باعث یاد کیے جائیں گے۔ اگرچہ ہم انہیں بھول سکتے ہیں لیکن ان کی کتابیں اور سخاوت یاد رکھی جائے گی۔‘
مصنف امتیاو گھوش نے ٹویٹ کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا، ’عظیم مؤرخ، ناول نگار، ایڈیٹر، کالم نگار اور ایک شاندار آدمی خشونت سنگھ کی موت بہت افسوس ناک خبر ہے۔

Khushwant Singh ColoumnKhushwant-Singh-A-Train-to-Pakistan

   khuswant singh wifekhushwant_singh

گلاب جامن اور سانولی لڑکیاں

خشونت سنگھ سے ملاقات؟ کیا پاگل ہوگئے ہو؟ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا؟ ہم یہاں دلی میں رہتے ہوئے ان سے نہیں مل سکتے تو آپ کیسے مل پائیں گے؟؟؟
آج کل وہ اپنی پوتی کے قبضے میں ہیں جس نے 94 سالہ سردار جی ( مئی 2009 ) پر مارشل لا لگا رکھا ہے۔ اس عمر میں بچارے سردار جی کو چوبیس گھنٹے کی لیفٹ رائٹ کروا رکھی ہے۔
’بابا یہ کھاؤ گے وہ نہیں۔ وہسکی دو پیگ سے زیادہ نہیں۔ ملاقاتی صرف ایک دفعہ۔ وہ بھی شام سات سے آٹھ بجے تک بس۔ چیخ کے بات نہیں کرنی۔ غصے میں نہیں آنا۔ کھل کے قہقہہ نہیں لگانا ورنہ اچھو ( کھانسی کا دورہ) آجائے گا۔ مٹھائی صرف چکھنی ہے کھانی نہیں۔ لکھنے کے اوقات یہ ہیں اور پڑھنے کے یہ اور چہل قدمی کا یہ وقت ہے‘ وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔
غرض بی بی سی دہلی بیورو کے ہندی اور اردو سروس کے دوستوں اور دوستنیوں نے میری حوصلہ شکنی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ صرف ایک امید دلائی گئی کہ اگر پوتی کے بجائے سردار جی نے فون اٹھا لیا جو کہ تقریباً ناممکنات میں سے ہے تب شاید ملاقات ہوسکے۔۔۔ مجھے ذرا دیر کے لیے لگا کہ میرے یہ سب دوست ہی دراصل خشونت سنگھ کی پوتی ہیں۔
بہرحال میں نے سردار جی سے ملاقات پر اناللہ پڑھ لی اور دلائی لامہ سے ملنے دھرم شالہ چلا گیا۔ دھرم شالے کی پہاڑیوں سے ترائی میں آتے سمے ڈرائیور نے ایک قصباتی بازار میں گاڑی روکی اور جانے مجھے کیا سوجھی کہ سامنے نظر آنے والے پی سی او میں گھس کے خشونت سنگھ کا نمبر ملا دیا۔
ہلو۔۔۔۔ ایک بھاری سا جوابی ہیلو سنتے ہی میں ریسیور سے تقریباً لٹک گیا۔ خشونت سنگھ جی بات کررہے ہیں؟
جی۔
میں پاکستان سے آیا ہوں؟
تو؟
آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔
کیوں؟ نام تو بتاؤ کون ہو۔
پرسوں میری لاہور کی فلائٹ ہے۔ ویزا صرف چار دن کا رہ گیا ہے۔ آپ سے نہیں ملا تو واپس نہیں جاؤں گا۔ بھلے گرفتار ہی ہوجاؤں۔”
خشونت سنگھ:فلمی ڈائیلاگ مت بولو نام بتاؤ
جی میں وسعت اللہ خان ہوں بی بی سی کے لیے کام کرتا ہوں۔
کہاں ٹھہرے ہوئے ہو۔
آپ کی حویلی سے صرف پانچ سو گز دور گالف لنک میں۔
یار پاکستانی تم کل شام سات بجے آ تو جاؤ لیکن صرف گپ شپ کے لیے آ سکتے ہو بس۔
جی جی میں بالکل سمجھ گیا۔
اور پھر فون لائن ڈیڈ ہوگئی۔
نئی دہلی کے صاف ستھرے جدید علاقے گالف لنک میں خان مارکیٹ کے بالکل سامنے انگریز دور کی بنی ایک وسیع رہائشی عمارت کے گیٹ پر حویلی سجان سنگھ (خشونت سنگھ کے والد) کی سنگی تختی پیوست ہے۔گیٹ کے اندر دو باوردی چوکیدار اونگھ رہے ہیں۔
کہاں؟
خشونت سنگھ کے پاس۔
وہ کون ہے؟
دوسرے چوکیدار نے فوراً اسے ٹوکا ابے یہ اپنے سجان سنگھ کے ابا کو پوچھ رہیا ہے۔ ہے نا جی؟
جی جی سجان سنگھ کے ابا ۔۔۔۔کہاں رہتے ہیں۔
وہ سامنے نو لمبر میں چلے جاؤ جی۔ بس ایک ہی گھنٹی بجانا۔
جی بہت شکریہ۔۔اور پھر لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے میں نے نو لمبر اپارٹمنٹ کی صرف ایک ہی گھنٹی بجائی۔ دورازہ بند نہیں تھا بس بھڑا ہوا تھا۔ کسی ملازم نے دروازہ کھولا یہ پوچھے بغیر کہ کس سے ملنا ہے۔ ایک بڑا سا ایڈورڈین انداز کا کمرہ، شطرنج کے سفید اور سیاہ خانوں کی بساط جیسا فرش‘ کھڑکیوں پر سفید پردے جن پر خطِ نستعلیق میں تکرار کے ساتھ اسلام و علیکم لکھا ہوا تھا۔
خشونت سنگھ جی گلے میں چاندی کا خلال لٹکائے بیٹھے تھے۔ ان کے سامنے پڑی تپائی پر مٹھائی کے دو کھلے ڈبے رکھے تھے اور کچھ ادھیڑ عمر خواتین و حضرات اپنے ہی لائے گئے گلاب جامن کھا رہے تھے۔ سردار جی کبھی کبھی سرہانے پڑے گلاس سے بس چسکی سی لے لیتے۔
آؤ بھئی آؤ ۔۔۔ کیا نام بتایا تھا سم اللہ خان ہے نا۔۔۔
جی وسعت اللہ خان۔
’یار یہ تمہارے سوات میں کیا ہو رہا ہے۔ (ان دنوں سوات میں آرمی آپریشن ہورہا تھا)۔ ان بےوقوفوں کو کچھ سمجھاؤ۔ مسئلے ایسے حل نہیں ہوتے، اور مسئلے پیدا ہوجاتے ہیں۔‘
بھٹو سے میں کہتا تھا کہ تم داؤد (افغان صدر) کی ایسی تیسی کرنے کے لیے افغانی مولویوں کی مہمانی مت کرو تمہارے گلے پڑ جائیں گے۔ اب دیکھو کیا ہورہا ہے۔
کیا میں آپ کی یہ بات ریکارڈ کر لوں؟ میں نے لجلجاتے ہوئے پوچھا۔
یار وہی تم اندر سے سستے صحافی ہی نکلے نا۔ میں نے تمہیں صرف گپ شپ کے لیے بلایا ہے۔ لو یہ گلاب جامن کھاؤ۔۔۔ اور یہ سب ہمارے دوست ہیں روزانہ شام کو مجھے بوڑھا سمجھ کے دل بہلانے اکھٹے ہو جاتے ہیں یہ فلاں۔۔ یہ فلاں۔۔۔ یہ مسز فلاں اور یہ مسٹر فلاں۔۔۔ اچھے ہیں نہ گلاب جامن ۔۔۔
جی بہت مزے کے ہیں۔
گلاب جامن اور سانولی لڑکیاں۔۔۔ ہا ہا ہا ہا۔۔۔ سردار جی کے سب ہی درباریوں نے قہقہے میں ان کا ساتھ دیا۔
ابھی ایک دو دن پہلے پتہ نہیں میں نے کس بے دھیانی میں فون اٹھا لیا۔ کوئی خاتون تھیں۔ عجیب سی ہی بات کی انہوں نے۔ کہنے لگیں خشونت جی آپ نے اتنی کتابیں لکھیں۔ سینکڑوں مضمون لکھ لیے۔ آپ اتنا کیسے لکھ لیتے ہیں؟؟
میں نے کہا اس لیے لکھ لیتا ہوں کیونکہ ابھی تک قلم کے لیے کنڈوم ایجاد نہیں ہوا۔۔۔ دیکھو یار اس دنیا میں کیسے کیسے چ۔۔۔ پڑے ہوئے ہیں۔۔۔ اور بتاؤ تمہارے پاکستان میں کیا ہورہا ہے۔ دل تو بڑا کرتا ہے مگر اب جسم ساتھ نہیں دیتا۔
میں بس انہیں سنتا رہا سنتا رہا سنتا رہا۔۔۔
اور پھر آٹھ بج گئے اور پھر ان کی پوتی کمرے میں داخل ہوئی اور پھر اس نے ان کے دونوں بازؤں میں ہاتھ ڈال کر انہیں کھڑا کیا اور سردار جی ایک چھوٹے سے بچے کی طرح فرمانبرداری کے ساتھ قدم بھرنے لگے۔ پلٹ کر انہوں نے ہم سب کو شرارتی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہا یہ لڑکی بڑی جلاد ہے اور میں اس کے رحم و کرم پر ہوں۔ تم لوگ جب تک چاہے بیٹھو۔ ابھی چائے آ رہی ہے۔ اوئے پاکستانی چائے پیے بغیر مت جانا۔ خدا حافظ۔
اور پھر وہ دروازے کے پیچھے غائب ہوگئے، میری تیرتھ یاترا مکمل ہوچکی تھی۔

بشکریہ: وسعت اللہ خان بی بی سی

Khushwant Singh (extreme right) with PM Jawaharlal Nehru (second from left) during the first Commonwealth PM's Conference in London in 1962