jump to navigation

ایم اے راحت April 24, 2017

Posted by Farzana Naina in Jasoosi Adab, Urdu Fiction Writer, M A Rahat, Literature, Pakistani, Urdu, Urdu Literature.
1 comment so far

18121445_10211088392660259_3392341006876922325_o

نامور مصنف ایم اے راحت لاہور میں انتقال کر گئے ۔ ایم اے راحت نے 1500 سے زائد کرائم اور جاسوسی کہانیوں کے ناول لکھے۔ ایم اے راحت کو طبیعت خرابی پر چار روز قبل اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

۔۔ایم ۔اے راحت نے ابن صفی کے بعد جاسوسی ادب کو نئی جہتوں سے متعارف کروایا ۔۔
لاکھوں لوگوں کو کتب بینی کا چسکہ لگانے والے ایم ۔اے راحت کی تصانیف کی فہرست اس قدر طویل ہے کہ کسی بھی شخص کے لیے ان کی لکھی تصانیف کے صرف نام ہی احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں ۔۔۔افسوس کہ ان کی زندگی میں ان کو ان کے شایان شان مقام نہیں دیا جا سکا ۔۔۔
ساڑھے گیارہ سو ناول ۔۔ اور ساڑھے تین ہزار کہانیاں اور افسانے لکھنے والے اپنے پچھے صرف ایک داستان چھوڑ کر رخصت ہو گئے ۔

قربت میں برابر کے شریک لعنتیوں کی بلیک میلنگ April 20, 2017

Posted by Farzana Naina in Abuse, Black Mail, Harassment, Internet, Internet crimes, News, Pakistan, Pakistani, Scandal, Sexual harassment, Urdu.
1 comment so far

انٹرنیٹ پر خواتین کو پرائیویٹ ویڈیوز کی بنیاد پر بلیک میل کرنے کے واقعات

ریپ اور بدنامی کا خوف

ہزاروں لڑکیوں اور خواتین کو ان کی پرائیویٹ وڈیوز کی بنیاد پر ہراساں کیا جا رہا ہے

شمالی افریقہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشا سمیت دنیا کے اکثر قدامت پسند معاشروں میں ہزاروں جوان خواتین کو ان کی نجی تصاویر اور جنسی مناظر کی وجہ سے ہراساں اور بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے بی بی سی نے خصوصی رپورٹ تیار کی ہے جس میں اس رجحان کا مختلف زاوئیوں سے جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔

ذیل میں ڈینئل سلاس ایڈمسن نے جائزہ لیا ہے کہ سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا جیسی جدید ٹیکنالوجی کس طرح ان معاشروں میں عزت، شرم اور بے شرمی جیسے تصورات اور روایات سے ٹکرا رہی ہے۔

پاکستان میں ایک غیر سرکاری تنظیم بھی آن لائن دنیا کو خواتین کے لیے محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس تنظیم کی سربراہ نگہت داد کہتی ہیں کہ ’ہر روز دو یا تین خواتین ان کی تنظیم سے رابطہ کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ انھیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ سالانہ نو سو خواتین۔ ‘

’جب خواتین کسی کے ساتھ رشتے میں ہوتی ہیں تو وہ اپنی تصویریں اور ویڈیو شیئر کر تی رہتی ہیں۔ اور اگر یہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے، اور اس کااختتام اچھا نہیں ہوتا، تو دوسرا فریق اس مواد کو استعمال کرتا ہے اور خاتون کو بلیک میل کرتا ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف یہ ہوتا ہے کہ لڑکی اسی رشتے میں بندھی رہے بلکہ اس سے ان تصاویر کی بنیاد پر ہر الٹا سیدھا کام کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘

اب پاکستان میں بات بلیک میل سے آگے نکل گئی ہے۔ نگہت داد کہتی ہیں کہ اب انھیں سمارٹ فونز اور جنسی تشدد کے درمیان تعلق کے واقعات میں بھی اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔

‘اس کا آغاز تو ایسی تصاویر سے ہوا جن میں مرد اور خاتون نے اپنی قربت کے لمحات کو محفوظ کیا ہوتا تھا، لیکن اب اس قسم کی تصاویر اور ریپ کے واقعات میں بھی تعلق نظر آ رہا ہے۔ سمارٹ فونز جیسی نئی ٹیکنالوجی سے پہلے، جب ریپ جیسے جرائم کا ارتکاب کرنے والے کچھ کرتے تھے تو انھیں معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ خاتون کو خاموش کیسے کرائیں۔ لیکن اب ٹیکنالوجی کی وجہ سے ریپ کے کلچر نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے کیونکہ اب ایسے مجرم خاتون کی ویڈیو بنا لیتے ہیں اور پھر اس کی بنیاد پر اسے دھمکیاں دیتے ہیں کہ اگر اس نے زبان کھولی تو اس کی ویڈیو انٹرنیٹ پر لگا دیں گے۔’

دوسری جانب سنہ 2009 میں ایک اٹھارہ سال مصری لڑکی، غدیر احمد، نے اپنے بوائے فرینڈ کو اپنی ایک چھوٹی سی ویڈیو بھیجی جس میں وہ ایک گھر میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ ڈانس کر رہی تھیں۔ اس وڈیو میں کوئی جنسی مواد نہیں تھا، لیکن اتنا ضرور تھا کہ ویڈیو میں غدیر نے جو لباس پہنا ہوا تھا اس میں ان کا جسم دکھائی دے رہا تھا اور وہ بلا جھجک ناچ رہی تھیں۔

تین سال بعد جب دونوں کا رشتہ ٹوٹ گیا تو غدیر کے بوائے فرینڈ نے ان سے انتقام لینے کی نیت سے ویڈیو یوٹیوب پر چڑھا دی۔ جب غدیر کو معلوم ہوا تو وہ بہت گھبرا گئیں۔ وہ جانتی تھیں کہ یہ سارا معاملہ – ڈانس، ان کا لباس اور اس پر بوائے فرینڈ کا ہونا – یہ تمام باتیں ان کے والدین بالکل قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی مصری معاشرہ جس میں خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنا جسم ڈھانپ کر رکھیں اور ان کو حیا کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔

ویڈیو کے پوسٹ کیے جانے کے بعد کے سالوں میں غدیر نے اس سے ڈرنا چھوڑ دیا اور خود ’مصری انقلاب‘ کا حصہ بن گئیں۔ انھوں نے حجاب لینا چھوڑ دیا اور خواتین کے حقوق کی وکیل بن گئیں۔

انھیں اس بات پر بہت غصہ آیا کہ ایک مرد نے انھیں یوں بدنام کرنے کی کوشش کی اور پھر انھوں نے اپنے سابق بوائے فرینڈ کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کر دی۔ اگرچہ وہ ہتک عزت کا مقدمہ جیت گئیں، لیکن ان کی جو ویڈیو یو ٹیوب پر جا چکی تھی وہ وہاں پڑی رہی۔ اس وڈیو کے وجہ سے غدیر کو کئی مردوں نے معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی ہراساں کیا اور اپنے فیس بُک صفحات پر غدیر کی ویڈیو شیئر کر کے انھیں برا بھلا کہا۔

غددیر احمد : آئیں اور میری ویڈیو دیکھیں، دیکھیں کہ میں کتنی اچھی ڈانسر ہوں۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ میں اس پر شرمندگی محسوس کروں’۔

سوشل میڈیا وغیرہ پر لوگوں کی گالم گلوچ سے تنگ آ کر سنہ 2014 میں غدیر نے اپنی وہی ویڈیو اپنے فیس بُک صفحہ پر خود پوسٹ کر دی۔ تصویر کے ساتھ انھوں نے لکھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی خاتون کے جسم کو اس کے خلاف استعمال کر کے اسے بدنام کرنے کا سلسلہ ختم ہو۔ غدیر نے لکھا کہ ‘آئیں اور میری ویڈیو دیکھیں، دیکھیں کہ میں کتنی اچھی ڈانسر ہوں۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ میں اس پر شرمندگی محسوس کروں۔’

لیکن غدیر افریقہ اور مشرق وسطیٰ کی ان ہزاروں نوجوان لڑکیوں اور خواتین کے مقابلے میں بہت بے باک ہیں جو اپنی نجی تصاویر کے حوالے سے بلیک میلنگ کا شکار ہو رہی ہیں۔

بی بی سی کو اس رپورٹ کی تیاری کے دوران معلوم ہوا کہ ہزاروں لڑکیوں اور خواتین کو ان کی پرائیویٹ ویڈیوز کی بنیاد پر ہراساں کیا جا رہا ہے اور لوگ انھیں بآسانی بلیک میل کر لیتے ہیں۔ ان ویڈیو کلپس میں ہلکے پھلکے فلرٹ کے مناظر سے لیکر گینگ ریب جیسی جنسی زیادتیوں کے مناظر شامل ہوتے ہیں۔

جہاں تک انتقامی بنیاد پر جنسی زیادتی کے مناظر (ریونج پورن) کا تعلق ہے تو یہ مسئلہ دنیا کے تقریباً ہر ملک میں پایا جاتا ہے۔ لیکن کچھ معاشروں میں جنسی مناظر کو خواتین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جانے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ ان معاشروں میں عزت اور شرم جیسے مسائل بہت اہم سمجھے جاتے ہیں۔

اردن کے دارالحکومت میں مقیم ماہر نفسیات اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی، انم العشہ کہتی ہیں کہ ‘ مغرب کا کلچر مخلتف ہے۔ وہاں ایک لڑکی کی برہنہ تصویر شاید صرف ایک لڑکی کو متاثر کرے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ایسی تصویر اس لڑکی کی موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اور اگر اس کی طبعی زندگی ختم نہیں بھی ہوتی، ایسی لڑکی معاشرتی اور نفیساتی لحاظ سے مر جاتی ہے۔ لوگ اس سے ملنا جلنا چھوڑ دیتے ہیں وہ معاشرے سے کاٹ دی جاتی ہے۔’

اس قسم کے واقعات کی اکثریت کے بارے میں آپ کو معلوم ہی نہیں ہوتا کیونکہ لوگ ایسے واقعات کے بارے میں پولیس کو بتاتے ہی نہیں۔ تاہم ایک درجن سے زیادہ ممالک میں وکلاء، پولیس اور سماجی کارکنوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا نے خواتین کو بدنام اور بلیک میل کرنے کی اس وبا میں بہت اضافہ کر دیا ہے جو اس ٹیکنالوجی سے پہلے ڈھکی چھُپی تھی۔

جدید ٹیکنالوجی

جدید ٹیکنالوجی اور روایات کے درمیان جنگ کی وجہ سے خواتین کو بلیک میل کرنا آسان ہو گیا ہے

اردن، مصر، غرب اردن، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک میں اس وبا میں اضافہ ہو چکا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی پولیس کے سائبر کرائم یونٹ کی معاونت کرنے والے سماجی کارکن کمال محمد کہتے ہیں کہ ‘ بعض اوقات اس مقصد کے لیے جو تصویریں استعمال کی جاتی ہیں ان میں کوئی جنسی بات نہیں ہوتی۔ مثلاً کسی لڑکی کی بغیر حجاب کے تصویر بھی سکینڈل بن سکتی ہے۔ کوئی مرد اس تصویر کو عام کرنے کی دھمکی دے کر لڑکی سے اس کی مزید تصویریں حاصل کر سکتا ہے۔’

کمال محمد کا کہنا ہے کہ ‘خلیجی ممالک میں خواتین کی بلیک میلنگ کا مسئلہ بہت زیادہ ہو گیا ہے اور بڑے پیمانے پر خواتین کو اس کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خاص طور پر سعودی عرب، امارات، کویت، قطر اور بحرین میں یہ بہت زیادہ ہے۔ کئی لڑکیوں نے ہمیں بتایا کہ اگر ان کی تصویریں عام کر دی گئیں تو انھیں شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔’

جنوبی ایشیائی ممالک میں بھی سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے ذریعے خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انڈیا کے سپریم کورٹ کے وکیل پون دُگال کہتے ہیں ملک میں خواتین کی ڈیجیٹل تصاویر کے کیسز اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی سیلابی ریلا ہو۔ ‘میرا اندازہ ہے کہ انڈیا میں روزانہ اس قسم کے ہزاروں واقعات ہو رہے ہیں۔’

بتشکر: بی بی سی اردو

 

Quotes of Rumi April 17, 2017

Posted by Farzana Naina in Poetry.
1 comment so far

“Ignore those that make you fearful and sad, that degrade you back towards disease and death.”
― Jalaluddin Rumi.

11 arena AIRE humo de arena

“My heart is so small
it’s almost invisible.
How can You place
such big sorrows in it?
“Look,” He answered,
“your eyes are even smaller,
yet they behold the world.”
― Jalaluddin Rumi.

36d3e7e5d131cae95a89e1a9a8d8681f

“Everything in the universe is within you. Ask all from yourself.”
― Jalaluddin Rumi.

George-Redhawk-5

A poem by Mashal Khan April 15, 2017

Posted by Farzana Naina in Poetry.
add a comment

میں لاپتا ہوگیا ہوں

کئی ہفتے ہوئے

پولیس کو رپورٹ لکھوائے

تب سے روز تھانے جاتا ہوں

حوالدار سے پوچھتا ہوں

میرا کچھ پتا چلا؟

ہمدرد پولیس افسر مایوسی سے سر ہلاتا ہے

پھنسی پھنسی آواز میں کہتا ہے

ابھی تک تمھارا کچھ سراغ نہیں ملا

پھر وہ تسلی دیتا ہے

کسی نہ کسی دن

تم مل ہی جاؤ گے

بے ہوش

کسی سڑک کے کنارے

یا بری طرح زخمی

کسی اسپتال میں

یا لاش کی صورت

کسی ندی میں

میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں

میں بازار چلا جاتا ہوں

اپنا استقبال کرنے کے لیے

گل فروش سے پھول خریدتا ہوں

اپنے زخموں کے لیے

کیمسٹ سے

مرہم پٹی کا سامان

تھوڑی روئی

اور درد کشا گولیاں

اپنی آخری رسومات کے لیے

مسجد کی دکان سے ایک کفن

اور اپنی یاد منانے کے لیے

کئی موم بتیاں

کچھ لوگ کہتے ہیں

کسی کے مرنے پر

موم بتی نہیں جلانی چاہیے

لیکن وہ یہ نہیں بتاتے

کہ آنکھ کا تارہ لاپتا ہوجائے

تو روشنی کہاں سے لائیں؟

گھر کا چراغ بجھ جائے

تو پھر کیا جلائیں؟

مشال خان ۔ 5 مارچ 2017 –   

http://www.bbc.com/urdu/pakistan-39590534

دیکھ کبیرا رویا April 14, 2017

Posted by Farzana Naina in Dekh Kabira Roya, Literature, Manto, Urdu, Urdu Literature.
1 comment so far

سعادت حسن منٹو

 

نگر نگر ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ جو آدمی بھیک مانگے گا اس کو گرفتار کرایا جائے۔ گرفتاریاں شروع ہوئیں۔ لوگ خوشیاں منانے لگے کہ ایک بہت پرانی لعنت دور ہوگئی۔

کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ لوگوں نے پوچھا۔اے جولاہے تو کیوں روتا ہے؟

کبیر نے رو کر کہا۔’’ کپڑا جو چیزوں سے بنتا ہے۔ تانے اور پیٹے سے۔ گرفتاریوں کا تانا تو شروع ہوگیا پر پیٹ بھرنے کا پیٹا کہاں ہے؟‘‘

ایک ایم اے۔ ایل ایل بی کو دو سو کھڈیاں الاٹ ہوگئیں۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ایم اے۔ ایل ایل بی نے پوچھا۔’’ اے جولاہے کے بچے تو کیوں روتا ہے؟۔۔۔۔۔۔ کیا اس لیے کہ میں نے تیرا حق غصب کرلیا ہے؟‘‘

کبیر نے روتے ہوئے جواب دیا۔’’ تمہارا قانون تمہیں یہ نکتہ سمجھاتا ہے کہ کھڈیاں پڑی رہنے دو، دھاگے کا جو کوٹا ملے اسے بیچ دو۔ مفت کی کھٹ کھٹ سے کیا فائدہ۔۔۔ لیکن یہ کھٹ کھٹ ہی جولاہے کی جان ہے!‘‘

چھپی ہوئی کتاب کے فرمے تھے۔ جن کے چھوٹے بڑے لفافے بنائے جا رہے تھے۔ کبیر کا ادھر سے گزر ہوا۔ اس نے وہ تین لفافے اٹھائے اور ان پر چھپی ہوئی تحریر پڑھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے لفافے بننے والے نے حیرت سے پوچھا۔’’ میاں کبیرتم کیوں رونے لگے؟‘‘

کبیر نے جواب دیا۔’’ ان کاغذوں پر بھگت سُورداس کی کویتا چھپی ہے۔ لفافے بنا کر اس کی بے عزتی نہ کرو۔‘‘

لفافے بنانے والے نے حیرت سے کہا۔’’ جس کا نام سُورداس ہے۔ وہ بھگت کبھی نہیں ہوسکتا۔‘‘

کبیر نے زار و قطار رونا شروع کردیا۔

ایک اونچی عمارت پر لکشمی کا بہت خوبصورت بت نصب تھا۔ چند لوگوں نے جب اسے اپنا دفتر بنایا تو اس بُت کو ٹاٹ کے ٹکڑوں سے ڈھانپ دیا۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔ دفتر کے آدمیوں نے اسے ڈھارس دی اور کہا۔’’ ہمارے مذہب میں یہ بت جائز نہیں۔‘‘

کبیر نے ٹاٹ کے ٹکڑوں کی طرف اپنی نمناک آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔’’ خوبصورت چیز کو بدصورت بنا دینا بھی کسی مذہب میں جائز نہیں۔‘‘

دفتر کے آدمی ہنسنے لگے۔ کبیر ڈھاریں مار مارکر رونے لگا۔

صف آرا فوجوں کے سامنے جرنیل نے تقریر کرتے ہوئے کہا۔ ’’اناج کم ہے، کوئی پروا نہیں۔ فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ کوئی فکر نہیں۔۔۔ ہمارے سپاہی دشمن سے بھوکے ہی لڑیں گے۔‘‘

دو لاکھ فوجیوں نے زندہ باد کے نعرے لگانے شروع کردیے۔

کبیر چلا چلا کے رونے لگا۔ جرنیل کو بہت غصہ آیا۔ چنانچہ وہ پکار اٹھا۔’’ اے شخص، بتا سکتا ہے، تو کیوں روتا ہے؟‘‘

کبیر نے رونی آواز میں کہا۔’’ اے میرے بہادر جرنیل۔۔۔ بھوک سے کون لڑے گا۔‘‘

دو لاکھ آدمیوں نے کبیر مردہ باد کے نعرے لگانے شروع کردیے۔

’’بھائیو، داڑھی رکھو مونچھیں کترواؤ اور شرعی پاجامہ پہنو۔۔۔ بہنو، ایک چوٹی کرو، سرخی سفیدہ نہ لگاؤ، برقع پہنو!‘‘۔۔۔۔۔۔ بازار میں ایک آدمی چلا رہا تھا۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھیں نمناک ہوگئیں۔

چلّانے والے آدمی نے اور زیادہ چلّا کر پوچھا۔’’کبیر تو کیوں رونے لگا؟‘‘

کبیر نے اپنے آنسو ضبط کرتے ہوئے کہا۔’’ تیرا بھائی ہے نہ تیری بہن، اور یہ جو تیری داڑھی ہے۔ اس میں تو نے وسمہ کیوں لگا رکھا ہے۔۔۔ کیا سفید اچھی نہیں تھی۔‘‘

چلّانے والے نے گالیاں دینی شروع کردیں۔ کبیر کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔

ایک جگہ بحث ہورہی تھی۔

’’ادب برائے ادب ہے۔‘‘

’’محض بکواس ہے، ادب برائے زندگی ہے۔‘‘

’’وہ زمانہ لد گیا۔۔۔ ادب، پروپیگنڈے کا دوسرا نام ہے۔‘‘

’’تمہاری ایسی کی تیسی۔۔۔‘‘

’’تمہارے اسٹالن کی ایسی کی تیسی۔۔۔‘‘

’’تمہارے رجعت پسند اور فلاں فلاں بیماریوں کے مارے ہوئے فلابیئر اور بادلیئر کی ایسی کی تیسی‘‘۔

کبیر رونے لگا بحث کرنے والے بحث چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ ایک نے اس سے پوچھا۔’’ تمہارے تحت الشعور میں ضرور کوئی ایسی چیز تھی جسے ٹھیس پہنچی۔‘‘

دوسرے نے کہا۔’’ یہ آنسو بورژوائی صدمے کا نتیجہ ہیں۔‘‘

کبیر اور زیادہ رونے لگا۔ بحث کرنے والوں نے تنگ آکر بیک زبان سوال کیا۔’’میاں، یہ بتاؤ کہ تم روتے کیوں ہو؟‘‘

کبیر نے کہا۔’’ میں اس لیے رویا تھا کہ آپ کی سمجھ میں آجائے، ادب برائے ادب ہے یا ادب برائے زندگی۔‘‘

بحث کرنے والے ہنسنے لگے۔ ایک نے کہا۔’’ یہ پرولتاری مسخرہ ہے۔‘‘

دوسرے نے کہا۔’’نہیں یہ بورژوائی بہروپیا ہے۔‘‘

کبیر کی آنکھوں میں پھر آنسو آگئے۔

حکم نافذ ہوگیا کہ شہر کی تمام کسبی عورتیں ایک مہینے کے اندر شادی کرلیں اور شریفانہ زندگی بسر کریں۔ کبیر ایک چکلے سے گزرا تو کسبیوں کے اڑے ہوئے چہرے دیکھ کر اس نے رونا شروع کردیا۔ ایک مولوی نے اس سے پوچھا۔’’مولانا۔ آپ کیوں رو رہے ہیں؟‘‘

کبیر نے روتے ہوئے جواب دیا’’ اخلاق کے معلّم ان کسبیوں کے شوہروں کے لیے کیا بندوبست کریں گے‘‘

مولوی کبیر کی بات نہ سمجھا اور ہنسنے لگا۔ کبیر کی آنکھیں اور زیادہ اشک بار ہوگئیں۔

دس بارہ ہزار کے مجمع میں ایک آدمی تقریر کررہا تھا۔’’بھائیو۔ بازیافتہ عورتوں کا مسئلہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس کا حل ہمیں سب سے پہلے سوچنا ہے اگر ہم غافل رہے۔ تو یہ عورتیں قحبہ خانوں میں چلی جائیں گی۔ فاحشہ بن جائیں گی۔۔۔ سن رہے ہو، فاحشہ بن جائیں گی۔۔۔۔۔۔ تمہارا فرض ہے کہ تم ان کو اس خوفناک مستقبل سے بچاؤ اور اپنے گھروں میں ان کے لیے جگہ پیدا کرو۔۔۔۔۔۔ اپنے اپنے بھائی، یا اپنے بیٹے کی شادی کرنے سے پہلے تمہیں ان عورتوں کو ہرگز ہرگز فراموش نہیں کرناچاہیے۔

کبیر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ تقریر کرنے والا رُک گیا۔ کبیر کی طرف اشارہ کرکے اس نے بلند آواز میں حاضرین سے کہا۔’’ دیکھو اس شخص کے دل پر کتنا اثر ہوا ہے۔‘‘

کبیر نے گلو گیر آواز میں کہا۔’’لفظوں کے بادشاہ، تمہاری تقریر نے میرے دل پرکچھ اثر نہیں کیا۔۔۔ میں نے جب سوچا کہ تم کسی مالدار عورت سے شادی کرنے کی خاطر ابھی تک کنوارے بیٹھے ہو تو میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔‘‘

ایک دکان پر یہ بورڈ لگا تھا۔’’جناح بوٹ ہاؤس۔‘‘ کبیر نے اسے دیکھا۔ تو زار و قطار رونے لگا۔

لوگوں نے دیکھا کہ ایک آدمی کٹ مرا ہے۔ بورڈ پر آنکھیں جمی ہیں اور روئے جارہا ہے۔ انھوں نے تالیاں بجانا شروع کردیں۔’’ پاگل ہے۔۔۔ پاگل ہے!‘‘

ملک کا سب سے بڑا قائد چل بسا تو چاروں طرف ماتم کی صفیں بچھ گئیں۔ اکثر لوگ بازوؤں پر سیاہ بلے باندھ کر پھرنے لگے۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ سیاہ بلّے والوں نے اس سے پوچھا۔’’ کیا دکھ پہنچا جو تم رونے لگے؟‘‘

کبیر نے جواب دیا۔’’ یہ کالے رنگ کی چندیاں اگر جمع کرلی جائیں تو سینکڑوں کی سترپوشی کرسکتی ہیں۔‘‘

سیاہ بلّے والوں نے کبیر کو پیٹنا شروع کردیا۔ تم کمیونسٹ ہو، ففتھ کالمسٹ ہو۔ پاکستان کے غدار ہو۔‘‘

کبیر ہنس پڑا۔’’لیکن دوستو، میرے بازو پر تو کسی رنگ کا بلّا نہیں۔‘‘

نجانے کون سا منظر تھا مجھ کو یاد نہیں April 12, 2017

Posted by Farzana Naina in Farzana, Farzana Naina, Feelings, Poetry, Shaira, Sher, Urdu Shairy.
add a comment

نجانے کون  سا  منظر  تھا  مجھ  کو  یاد  نہیں

  طلسم  میرے  بھی  اندر  تھا  مجھ  کو  یاد  نہیں

 میں  اپنی  تہہ میں  کہیں  دور  جا  کے  ڈوب گئی 

وہ  قطرہ  کوئی  سمندر  تھا  مجھ  کو  یاد  نہیں

آج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پتہ نہیں کیوں ایک اداسی سی ہے، دور دیسوں کی کہانیوں جیسی کوئی طلسماتی سی فضا ہے ذہن میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جس تک ہم کبھی پہنچ نہیں سکتے ۔۔۔۔۔۔۔۔!۔

[https://www.youtube.com/watch?v=l-dPQyaoNhY]

Ankahi – ان کہی April 12, 2017

Posted by Farzana Naina in British Pakistani Poetess, Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Naina, Nazm, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
2 comments

‘‘ اَن کہی ’’

اَن کہی کے حسن میں کچھ دیر تو ڈوبے رہو

 زندگی خود  میں  اترنے  کی  جو  دے  مہلت ذرا

خواب نگری کے ہر اک کونے کے آئینے تکو

دھوپ چھاؤں آنکھ سے آنکھوں کی ڈبیوں میں رکھو

رات کے پُل پر ہوا کے راگ میں گم صم رہو

چاندنی کی تتلیوں کو رقص میں شامل کرو

روح میں بہتے ہوئے احساس کی لہریں گنو

عمر کے بکھرے ہوئے سیپوں سے کچھ موتی چُنو

چاند سے لپٹی ہوئی بدلی کی چھاؤں میں چلو

بربطوں کی تال پر اک ماورا منظر بُنو

پتھروں کی نیلی محرابوں کے جنگلے کاٹ دو

کہر میں کھوئے ہوئے رستوں پہ  سرگرداں رہو

سبز پریوں کا یہ میلہ روز تو لگتا نہیں

عشق پنچھی اپنے پر دوبارہ پھیلاتا نہیں

پھر کہاں وارفتگی سے ہوگا کوئی منتشر

آرزوؤں کے نگر میں یوں تمہارا منتظر

کہہ دیا سب کچھ تو یہ سارا فسوں مٹ جائے گا

ہر ستارہ کہکشاں کی بھیڑ میں کھو جائے گا

ان کہی کے حسن میں کچھ دیر تو ڈوبے رہو

 !!!ڈوبے رہو کچھ دیر  اور۔۔۔۔ ۔ 

فرزانہ نیناں

Ankahi ke husn mein kuch deir tau doobe raho

Zindagi khud mein uterne ki jo de mohlut zara

Khwab’nagri ke har ik kone ka aaeene tako

Dhoop chaa’on aankh se aankhon ki dibiyon mein rakho

Raat ke pull par hawa ke raag mein gum sum raho

Chandni ki titliyon ko raqs mein shamil karo

Rooh mein behte huey ehsaas ki lehrein gin’no

Umr ke behte huey seepon se kuch moti chuno

Chand se lipti hui badli cha’aon mein chalo

Barbat’ton ki taal par ik maa’wra manazar buno

Pat’tharon ki neeli mehraabon ke jungle kaat do

Kohur mein khoye huey raston pe sardar’daan raho

Sabz pariyon ka ye mela roz tau lagta nahein

Ishq panchi apne par dobara pheilata nahin

Phir kahan waa’raftgi se hoga koi muntashir

Aarzo’on ke nagar mein raah par yun mantazir

Keh diya sab kuch…..tau ye sara fusoon mitt jaey ga

Har sitara keh’kashan ki bhee’rr mein kho jaey ga

An’kahi ke husn mein kuch deir tau doobe raho

Doobe raho, kuch deir aur……………. !!!

~ Farzana Naina.

Golden bar 1

Khush Manzari – خوش منظری April 9, 2017

Posted by Farzana Naina in Farzana, Farzana Naina, Feelings, Flowers, Ghazal, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Naina, Nazm, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Thoughts, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
2 comments

3 Pink Flower bar

خوش منظری

.چیری کے پیڑوں پہ پھولوں سے لدی یہ ڈالیاں !
میری آنکھوں میں کسی جنگل کی جیسے ہرنیاں
کس محبّت سے ترے نغمے سناتی ہیں مجھے
میٹھی آوازوں کی پائل سے جگاتی ہیں مجھے
تیز رفتاری سے کتنی دور تک جاتا ہے دل
کان میں چپکے سے کہتا ہے کوئی : آ مجھ سے مِل
اب بھی اونٹوں کے گلے میں بج رہی ہیں گھنٹیاں
اب بھی صحرا میں سنہری شام کی ہیں سرخیاں
کیا کہوں میں خواب جیسے اِس فسانے کے لئے
پھول تو ہوتے ہیں دریا میں بہانے کے لئے
دائروں میں جھوم کر آتا پہاڑی سے دھواؑں
اُڑتے اُڑتے مجھ پہ رکھ جاتا ہے اک کوہِ گراں

( فــرزانـہ نیــناںؔ )

الوؤں کے گھونسلے میں ڈونلڈ ڈک November 10, 2016

Posted by Farzana Naina in Poetry.
Tags: , , , ,
1 comment so far

الوؤں کے گھونسلے میں ڈونلڈ ڈک

www.cartoonstock.com/cartoonview.asp?catref=hbrn2482

انٹر نیٹ اور تمام میڈیا چینلز پر خبروں کی دنیا میں اس وقت بھونچال آیا ہوا ہے، دنیا کے سب سے طاقتور فرد کے طور پر جس شخص نے امریکی صدر کا عہدہ ہتھیایا ہے اس پر تجزیہ نگاروں کی زبانیں چلتے چلتے رک نہیں پا رہیں، اس کی وجہ سے اب امریکہ میں جلسے جلوسوں کا جو سلسلہ چل پڑا ہے، وہ بھلا کس کے پلے پڑے گا !!!

ان احتجاجات پر غور کیا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ پہلے وہ خود واویلا کرتے رہے، عربوں کے خلاف، چین کے خلاف، روس کے خلاف، میکسیکنز کے خلاف، کالوں کے خلاف وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

ان کے دلوں میں جو تعصب پنہاں تھا اس کو ٹرمپ نے نکال باہر کیا ورنہ اکثریت اس کو ووٹ ڈال کر کامیابی سے ہمکنار کیسے اور کیوں کرواتی؟ ’’ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت ‘‘ کے مصداق اب کچھ نہیں ہو سکتا !

دنیا بھر میں ٹرمپ کی جیت کو مجموعی طور پر غم و غصے کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، حالانکہ ہلری بیگم  ۔۔

بھی شیطان کی چیلی سے کم نہیں ہیں جو کچھ انہوں نے عراق کے لیئے کیا۔۔۔ پھر بھی !

ان دونوں کے بیانات تمام انتخابی مہم کے دوران کبھی تعصب تو کبھی مسخرے پن میں تبدیل ہوتے رہے، دنیا تماشے کے مزے لیتی رہی ، اب احساس ہوا ہے کہ وہ مسخروں کی بڑھکیں نہیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹرمپ نے اپنی چالاکیوں سے امریکی قوم کی آنکھوں میں سرمہ لگا ہی دیا !

اب یہ قوم کیا سوچ کر واویلا مچا رہی ہے بھلا؟

ٹرمپ نے ان کو وہ ہی سنایا جو وہ سننا چاہتے تھے، بالکل اسی طرح جیسے برطانوی ووٹرز نے یورپی یونین کے خلاف ووٹ دینے کے بعد شور مچادیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لگتا ہے ان ملکوں کے سنہرے دور جا چکے ہیں ، یہاں کا عام آدمی ہیلتھ سروسز، بچوں کی تعلیم، مکانوں کی خرید و فروخت، بلوں کی ادائیگیوں، لوکل سروسز اور امن عامہ و جرائم  سے نالاں ہے، ان کے برعکس دنیا کی دوسری اقوام کو دیکھا جائے تو وہ سنجیدگی سے آگے بڑھتی نظر آ رہی ہیں۔

دنیا بھر میں اپنی انتہا پسندی کے باعث امریکہ نے تباہیاں ہی تباہیاں پھیلائی ہیں، خاص کر پاکستانی قوم تو ان کے عتاب کی سزائیں ابھی تک بھگت رہی ہے، آئی ایس کو ختم کرنے کے بہانے اب اور کون کون سی قیامت آئے گی ۔۔۔۔اس خوف میں مبتلا لوگ شاید کچھ کرنے سے قاصر ہی رہیں گے ۔۔۔۔۔۔۔!

ٹرمپ کی فتح اور برطانیہ میں یورپی یونین سے علیحدگی کے غلط فیصلے، ٹریسا جیسی وزیر اعظم کی بے تکی پالیسیوں سے ان دونوں ممالک میں رہنے والوں کی ذہنیت کھل کر سامنے آئی ہے۔

نائیجل فاراج نے چالاکی و خاموشی سے ذہنوں کو تبدیل کیا اور ٹرمپ نے بھی وہی راستہ اپنایا، ووٹرز کو وہ دکھایا اور سنایا جو وہ چاہتے ہیں ۔ 

جس طرح ٹرمپ دنیا کے کلائیمٹ چینج کو ایکنالج نہیں کر رہا اسی طرح برطانیہ کی وزیر اعظم ٹریسا بھی لوکل کاؤنسلز کو    (Fracking)

فریکنگ  کی اجازت دے چکی ہے جو مستقبل کے لیئے کتنی مہلک خیز ثابت ہوگی یہ سوچ کر خوف آتا ہے 

ان ملکوں نے دنیا میں بڑے راج کیئے مگر اب اپنی ہی قوم شاید انہیں تباہیوں کا شکار کر دے !

 امریکی قوم اب اپنی غلطیوں کی سزا بھگتے گی یا نہیں اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا !

فی الوقت تو الوؤں کے گھونسلے میں ڈونلڈ ڈک راج کرتا نظر آ رہا ہے البتہ یہ فقط نظر کا دھوکہ بن کر غلط بھی ثابت ہو سکتا ہے، مستقبل میں اس دنیا کے امن و امان کی صورتحال کیا ہوگی، فی الوقت ایسے سوالات سے یقیناَ۔ سب کے ذہن بر سر پیکار ہیں۔

 

00-trump-cartoons02

Spy Princess Noor Inayat Khan April 9, 2014

Posted by Farzana Naina in Poetry.
Tags: , ,
1 comment so far

ٹیپو سلطان کی پوتی اوردوسری جنگ عظیم

Spy Princess Noor Inayat Khan

Spy Princess Noor Inayat Khan

بشکریہ:خرم سہیل منگل 8 اپريل2014

ایک حسین عورت جس کے نرم ہاتھوں کی انگلیاں ستار بجاتی تھیں، کیا اس کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے، اسے دشمن فوج کے ہاتھوں قتل کیا جائے گا مگر ایسا ہوا، تاریخ ہمیں اس کی کہانی سناتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں جب جرمنی کے نازیوں نے فرانس پر قبضہ کیا، تو برطانیہ نے دشمن پر نظر رکھنے اور خفیہ اطلاعات حاصل کرنے کے لیے اس عورت کو جاسوس بناکر فرانس کے مقبوضہ علاقے میں بھیجا تاکہ وہ انھیں دشمن کی خبریں دے سکے۔
نازیوں کے مقبوضہ علاقوں میں بھیجی جانیوالی یہ پہلی خاتون بھی تھی جسے ونسٹن چرچل کے اعلیٰ خصوصی مشن کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس مشن کے دوران دشمن نے اسے دھر لیا اور کوشش کی گئی کہ وہ سارے راز اگل دے مگر اس نے ایک لفظ تک منہ سے نہ نکالا۔ گرفتاری کے بعد اسے جرمنی کے جس کیمپ میں قید رکھا گیا تھا وہیں اس کے سر پر گولی ماردی گئی۔ اس بہادر عورت کا نام ’’نورالنساء عنایت اﷲ خان‘‘ تھا۔
30برس کی عمر میں موت کو اپنی ہمجولی بنانے والی اس خاتون کا پس منظر ہی ایسا تھا کہ یہ موت سے ڈرنے والی نہیں تھی۔ اس کا آبائی تعلق شہنشاہ میسور ’’ٹیپو سلطان‘‘ سے تھا۔ اس کے ذہن میں اپنے اجداد کی یہ بات بھی شاید تروتازہ تھی کہ ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔‘‘ یہی وجہ تھی کہ اس نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور کسی خوف کو اپنے اوپر طاری نہیں ہونے دیا۔نورالنساء عنایت اﷲ خان چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی۔ روس کے شہر ماسکو میں پیدا ہوئی۔ اس کے والد عنایت اﷲ خان درویش صفت انسان تھے۔ انھیں ورثے میں صوفی تعلیم ملی۔ پہلی جنگ عظیم سے کچھ عرصہ پہلے یہ خاندان روس سے ہجرت کرکے برطانیہ چلا گیا۔ 1920 میں وہاں سے بھی ہجرت کرکے فرانس آباد ہوا۔ نور کے والد عنایت اﷲ خان کا جب انتقال ہوا تو وہ اور اس کے بہن بھائی کم عمر تھے۔ بوڑھی ماں اور چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمے داری نور کے نازک کاندھوں پر آن پڑی۔
یہ وہ زمانہ تھا جب نو رکی آنکھوں میں کچھ خواب تھے، وہ زندگی کو اپنے انداز میں گزارنا چاہتی تھی۔ وہ کم گو اور شرمیلی تھی۔ فرانس میں رہتے ہوئے اس نے کچھ عرصہ مغربی اور مشرقی موسیقی کی تربیت بھی حاصل کی۔ ستار سے اس کو بے حد لگاؤ تھا۔ شاعری سے لکھنے کی ابتدا کی، بچوں کے رسالوں میں کہانیاں لکھنے لگی اور ریڈیو سے بھی خود کو وابستہ کیا۔ 25 برس کی عمر میں اس کی پہلی کتاب ’’بیس جاتک کہانیاں‘‘ لندن سے شایع ہوئی۔ یہ مہاتما گوتم بودھ اور بودھ مت سے بہت متاثر تھی، یہی وجہ تھی کہ اس نے کچھ اس طرز کی کہانیاں لکھیں۔
1940 میں جب دوسری جنگ عظیم کی ابتدا ہوئی اور اس سے فرانس متاثر ہونے لگا تو نورالنساء کا خاندان ساحلی راستے سے فرار ہوکر کسی نہ کسی طرح برطانیہ پہنچ گیا۔ حالات تبدیل ہوگئے اور شاید نور کی ترجیحات بھی، اسی لیے اس نے خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت کی سنگ دل دنیا میں قدم رکھا۔ وہ اپنے والد کی امن پسند اور صوفی سوچ سے بہت متاثر تھی، شاید اسی لیے اس نے نازیوں کے ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کا مصمم ارادہ کرلیا۔ اس نے عملی طور پر قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا اور رائل ایئر فورس میں آلات فراہم کرنے والی فوجی خواتین میں بھرتی ہوگئی، وائرلیس آپریٹر کی تربیت حاصل کی۔ دوسری جنگ عظیم میں بمباری کی تربیت دینے والی درسگاہ میں بھی اسے بھیجا گیا۔ اس نے اپنے شعبے میں مزید ترقی کے لیے کمیشن پاس کیا اور اسسٹنٹ سیکشن آفیسر کے عہدے تک جاپہنچی۔
نورالنساء عنایت اﷲ خان کا تبادلہ ونسٹن چرچل کے ’’اعلیٰ خصوصی مشنز‘‘ برائے فرانس میں ہوگیا۔ یہ برطانوی فضائیہ اور فرسٹ ایڈ نرسنگ کے شعبے میں بھی تبادلہ کرکے بھیجی گئی، اس دوران اسے کئی طرح کے تربیتی ادوار سے گزارا گیا۔ اس کے افسران کاخیال تھا اسے فرانسیسی زبان پر مکمل عبور ہے اور یہ ریڈیو جو اس جنگ میں بہت اہم آلہ تھا، اس کی ماہر ہے۔ لہٰذا اسے خفیہ ایجنٹ کے طور پر مقبوضہ فرانس بھیجنے کی تربیت دی جائے اور پھر اس خیال کو عملی جامہ پہنایا گیا۔
اس دوران اس نے اپنا نام نورالنساء عنایت اﷲ خان سے بدل کر فرضی نام ’’نوراباکر‘‘ رکھ لیا۔ نرس کے روپ میں یہ فرانس پہنچائی گئی۔ یہ وہی ملک تھا، جہاں کچھ عرصہ پہلے تک یہ اپنے خاندان کے ساتھ ایک عام لڑکی کی حیثیت میں زندگی بسر کررہی تھی۔ فرانس میں ڈاکٹروں اور نرسوں کے روپ میں جتنے جاسوس بھیجے گئے، وہ پہلے پکڑے گئے، نور گرفتار ہونے سے بچ گئی۔ وہاں اس نے اپنا خفیہ نام ’’میڈلن‘‘ رکھا۔ وہ اس علاقے کے خطرات کو بھانپ چکی تھی اور واپس لندن آنا چاہتی تھی مگر اسے فرانس میں رک کر برطانیہ کے لیے معلومات بھیجتے رہنے کا کہا گیا۔ وہ اکیلی تھی مگر اس نے اپنا فرض پوری طرح سے نبھایا۔ وہ مستقل بنیادوں پر مقامات بدل بدل کر برطانیہ پیغام بھیجتی رہی۔ اس عرصے میں برطانیہ اور فرانس کے درمیان نور ہی واحد رابطہ تھی۔ نازی فوج کو اس نے تگنی کا ناچ نچایا اور آخرکار 1943 میں فرانس کے ایک مقام سے گرفتار ہوئی۔ نازی فوجی اس سے کچھ نہ اگلوا سکے، البتہ ان کے ہاتھ نور کی وہ ڈائری لگی، جس میں ترسیل شدہ معلومات کی تفصیل درج تھیں۔ نور اور اس کی تین دوسری خواتین ساتھیوں کو 13 ستمبر 1944 کو جرمنی کے ایک کیمپ میں گولی ماردی گئی۔
نورالنساء عنایت اﷲ خان نے نہایت آبرومند انداز اپنایا اور اپنے ملک کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کیا۔ اسے برطانیہ اور فرانس کے اعلیٰ فوجی اعزازات سے نوازا گیا۔ ابھی حال ہی میں برطانیہ کے محکمہ ڈاک نے اس کی تصویر اور نام کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا ہے جسے منسوب کیا گیا اس عورت کے نام جو دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کی ہیروئن تھی اور جس نے فسطائیت کے خلاف لڑتے ہوئے دشمن کے نرغے میں جان دی۔ یہ ڈاک ٹکٹ ’’قابل ذکر زندگیاں‘‘ نامی سیریز کا ایک حصہ ہے، جس میں مزید نو اہم شخصیات کے نام اور تصویر کے ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔
فرانس میں تین مقامات پر اس کی یادگاریں موجود ہیں۔ فرانس کی وہ گلی جہاں کبھی نورالنساء رہاکرتی تھی، اس گلی کو زمانہ جنگ کے دور کے نام ’’میڈلن‘‘ سے منسوب کردیا گیا ہے لندن میں گارڈن اسکوائر کے گارڈن پارک میں بھی نور سے منسوب ایک یادگاری مجسمہ لگایا گیا۔ وہاں اس کے افتتاح کے موقع پر اس کی ایک پرانی ساتھی ’’آئرن وارنر‘‘ جس کی عمر اب 91 برس ہے، اس نے شرکت کی اور بھیگی پلکوں سے اس کو یاد کیا۔
نور کی شخصیت پر ایک بنگالی مصنفہ ’’شرابانی بھاسو‘‘ نے انگریزی میں ’’اسپائے پرنسز‘‘ کے نام سے نورالنساء عنایت اﷲ خان کی سوانح حیات لکھی۔ یہ وہی مصنفہ ہے جس کی کتاب ’’وکٹوریہ اور عبدل‘‘ بہت مشہور ہوئی تھی جس میں تاج برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ اور محل کے ایک مسلمان ملازم منشی عبدالکریم کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ نور پر ’’اینمی آف ریچ‘‘ نامی ٹیلی فلم بھی بنائی گئی جسے بے حد پسند کیا گیا۔ نور عنایت خان ٹرسٹ بھی بنایا گیا جس کے ذریعے امن کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کی ایک کوشش کی گئی۔ اس ٹرسٹ کی بانی وہی بنگالی مصنفہ شرابانی بھاسو ہیں۔ انھوں نے اس ٹرسٹ کو بنانے کے لیے دنیا بھر سے فنڈز اکٹھے کرنے کے لیے جدوجہد کی۔ 2011 میں ’’ہاؤس آف کامن‘‘ میں ایک ڈونرز ڈنر کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اس موقع پر برطانوی وزیراعظم نے بھی اپنا پیغام دیا۔ بھارت سے معروف فلمی ستارے عامر خان کی بیوی کرن راؤ نے بھی اس ٹرسٹ کو فنڈرز دیے۔لندن میں باغ میں نصب کیے گئے مجسمے کے اردگرد درختوں کے پتے ٹوٹ کر بکھرتے رہتے ہیں، اسی طرح جیسے نورالنساء کی زندگی سے ایک ایک کرکے لمحوں کے پتے ٹوٹ کر بکھرے تھے۔ غیرمنقسم ہندوستان کے مسلمان گھرانے کی اس بیٹی نے اپنے پردادا اور دادا کی طرح بہادی سے جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے وطن کی جنگ لڑی۔ کتنی عجیب بات ہے، ٹیپو سلطان فرانسیسی فوج کی حمایت میں انگریزی فوج کے ساتھ لڑے اورپوتی نے فرانسیسی اور انگریزی دونوں سرزمینوں کے لیے نازیوں سے لڑائی کی۔ نورالنساء چاہتی تھی کہ ایشیا کے مسلمانوں کا تشخص اجاگر ہو اور ہندوستان کو آزادی ملے، یہی وجہ ہے کہ اس کی فرض شناسی نے اس کا نام سنہری حروف میں لکھوایا۔ افسوس یہ ہے پاکستان سے اس بہادر بیٹی کے لیے کچھ نہیں لکھا اور کہا گیا، جب کہ یہ وہی جنگ تھی جس میں برصغیر کے مسلمان بھی انگریز کی طرف سے لڑے تھے، مگر تاریخ نے اسے زندہ رکھا ہوا ہے۔
میسور کی شہزادی اور لندن اور پیرس کی ہیروئن نورالنساء عنایت اﷲ خان سے جب آخری وقت میں پوچھا گیا کہ وہ کچھ کہنا چاہتی ہے، تو اس نے صرف ایک لفظ کہا، جو تھا ’’آزادی‘‘ اور پھر اسے آزاد کردیا گیا۔ وہ درد کی زندگی کا ساتھ چھوڑ گئی۔ فرانس کے شہر پیرس میں ’’فضل منزل‘‘ جہاں نور النساء نے اپنی زندگی کے خوبصورت دن بسر کیے تھے، وہاں اب بھی اداسی بال کھولے سو رہی ہے۔