jump to navigation

بچوں کا ادب August 10, 2012

Posted by Farzana Naina in Literature, Pakistan, Pakistani, Urdu, Urdu Literature.
Tags:
trackback

بچوں کا ادب: ادبیات‘ اسلام آباد

مدیر: محمد عاصم بٹ

صفحات: 493

قیمت: دو سو روپے

پاکستان میں ہی کیا دنیا بھر کی مختلف زبانوں میں بچوں کے ادب کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اسے دی جانی چاہیے۔ یہ شکایت ان ملکوں میں بھی ہے جنھیں ترقی یافتہ اور بچوں کے معاملات میں انتہائی حسّاس سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور اس دور میں جب کمپیوٹر تیزی سے ہر شعبے میں کاغذ پر شائع ہونے والے مواد کی جگہ لیتا جا رہا ہے کاغذ پر شائع ہونے والے اور شائع کرنے والوں نے از خود ہی پسپائی اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔

تاہم پاکستان اور پاکستان جیسے دوسرے ملکوں میں اس بات کی گنجائش ہے کہ کاغذ پر شائع ہونے والا مواد اپنا کردار ادا کرے کیوں کہ ان کے ہاں ابھی کمپیوٹر اس طرح زندگیوں کا حصہ نہیں بنا جیسا کہ بہت سے ملکوں میں بن چکا ہے اور بچے تک کمپیوٹر اس سے حد تک واقف ہیں کہ ہمارے ہاں کے بڑے بھی نہیں ہیں۔

پاکستان میں ایک زمانہ تھا جب بچوں کے لیے رسالے اور کتابیں باقاعدگی سے شائع ہوتی تھیں اور انھیں پڑھنے کا رحجان بھی تھا۔ خاص طور پر متوسط طبقے کا شاید ہی کوئی گھر ایسا ہوتا تھا جہاں بچوں کا کوئی رسالہ ہر ماہ نہ آتا ہو۔ لیکن ستر اور اسّی کی دہائی کے دوران کچھ ایسا ہوا کہ آہستہ آہستہ بچوں کے رسالے شائع ہونا بند ہونے لگے اور اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے شائع ہونے والی کتابیں بھی۔

اب کتابوں کی دکانوں اور اخبار وجرائد بیچنے والوں کی دکانوں پر اوّل تو بچوں کے رسالے اور کتابیں ہوتے ہی نہیں اور اگر ہوتے ہیں تو انتہائی کم تعداد میں۔ بڑے شہروں کی بڑی دکانوں اور شاپنگ مالز میں ضرور دکانوں پر بچوں کے لیے انتہائی عمدہ چھپی ہوئی مہنگی کتابیں موجود ہوتی ہیں لیکن ان میں اردو یا کسی اور قومیتی زبان کی کتاب کم ہی دکھائی دیتی ہے۔

یہ صورتحال پاکستان کی بدلتی ہوئی سماجی شکل کا اظہار کرتی ہے اور اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں صورتحال کیا ہونے والی ہے۔ انگریزی یا کسی بھی زبان کا بڑھنے میں کوئی خرابی نہیں لیکن اس کی وجہ سے ملک کی اپنی بڑی اور دوسری زبانوں سے توجہ کا ہٹنا کسی بھی طرح اچھی علامت نہیں۔

اس پورے پس منظر میں اکادمی ادبیات پاکستان، نے سہ ماہی ’ادبیات‘ نیا شمارہ شائع کیا ہے۔ پیش نظر شمارہ جریدے کا شمارہ نمبر 95-94 ہے۔ شمارے کے نمبر ہی واضح ہو جاتا ہے کہ یہ جریدہ کتنی باقاعدگی سے شائع ہوتا ہے۔

یہ شمارہ بچوں کے ادب کے بارے پہلے شائع ہونے والے حصے کا جز ہے۔ پہلے حصے یا جلد اوّل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس میں بچوں کے بین الاقوامی ادب سے خصوصی انتخاب پیش کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور حصے کی خبر بھی دی گئی ہے جو ’پاکستانی ادب: حصہ نثر‘ ہو گا۔

حصہ نظم میں کل تقریباً تین سو تراسی تخلیقات اور تراجم ہیں۔ حصہ حمد میں پندرہ تخلیقات ہیں جن میں ماضی سے منتخب کی جانے والی حمدیں بھی اور شاید نئی اور پہلی بار شائع ہونے والی بھی۔ یقین سے کچھ اس لیے نہیں کہا جاسکتا کہ کسی بھی تخلیق پر اس کی تخلیق کا سال نہیں ہے لیکن الطاف حسین حالی جیسے ناموں کو دیکھ کر یہ تو یقین سے کہا ہی جا سکتا ہے کہ ماضی سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔

اس کے بعد نعتوں کا حصہ جس میں سولہ نعتیں ہیں۔ جن میں میر حسن دہلوی، مولانا احمد رضا خان اور مولانا حالی کی نعتیں بھی ہیں۔ تیسرا حصہ سوہنی دھرتی کے نام سے قائم کیا گیا ہے جو چودہ نظموں پر مشتمل ہے۔ اسی طرح ملت کا پاسباں، کلاسیکی شاعری سے انتخاب، نظم کہانی، تمثیل اور اثاثہ کے نام سے حصے بنائے گئے ہیں۔

ایک خاصا بڑا حصہ پاکستانی زبانوں کا ادب کے نام سے قائم کیا گیا ہے، اس میں بلوچی، براہوی، پستوں، ہندکو، سندھی، پنجابی، سرائیکی اور پوٹھوہاری میں بچوں کے لیے لکھی جانے والی نظموں کے تراجم ہیں۔

اس کے علاوہ اس شمارے کا سب سے دلکش اور قابلِ تعریف پہلو بچوں کی مصوری کے نمونے ہیں جو ہر حصے کی ابتدا پر لگائے گئے ہیں۔ اور نوجوان مصوروں کے تعارف کے ساتھ ساتھ ان کی تصاویر بھی شائع کی گئی ہے۔ یہ اقدام بہت عمدہ ہے اس سے ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہی نہیں ہو گی انھیں مصوری جاری رکھنے کی تحریک بھی ملے گی۔

یہ غالباً اردو میں بچوں کی شاعری کی ایک ایسی جلد ہے جس میں نہ صرف اردو شاعری کا بہت بڑا حصہ جمع کر دیا گیا ہے بلکہ پاکستان کو دوسری قومیتی زبانوں میں بچوں کے لیے لکھی جانی والی شاعری بھی موجود ہے۔

اس مبصر کی نظر سے اب تک اردو میں ایسا کوئی انتخاب نہیں گزرا جس میں بچوں کی شاعری کا اتنا بڑا ذخیرہ ایک جگہ موجود ہو۔ پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر کسی کو پاکستان میں بچوں کی شاعری کے بارے میں جاننا ہو تو یہ ایک شمارہ ہی خاصے معقول تعارف کے لیے کافی ہے۔

اس حصے کو مرتب کرنے والے اس کا کچھ نہیں کر سکتے کہ بہت سے نظموں کی زبان بچوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔ بچوں کے لیے لکھنے والے تمام لوگوں کو اس بات پر ضرور توجہ  دینی چاہیے۔

بشکریہ: انور سن راۓ، بی بی سی

Comments»

No comments yet — be the first.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: