jump to navigation

Allama Mohammad Iqbal – شاعر مشرق 1877 – 1938

Welcome GoldenGolden hearts tall 11

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال

Allama Iqbal

Allama Iqbal’s picture at Pakistan Acedemy Of Letters taken by Akhtar Khan

A Guard at Allama’s tomb in Lahore – Picture taken by Akhtar Khan

Picture taken by Akhtar Khan

Golden bar 1

Parents of Allama Iqbal

Parents of Allama Iqbal

خودی کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

heart small 6

حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک

کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

heart small 6

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی

اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

heart small 6

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

heart small 6

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں

مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

heart small 6

ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا

یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی

heart small 6

پرانے ہیں یہ ستارے فلک بھی فرسودہ

جہاں وہ چاہیئے مجھ کو کہ ہو ابھی نوخیز

heart small 6

رشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم

عصا نہ ہو تو کلیمیؑ ہے کار بے بنیاد

heart small 6

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب

کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو

heart small 6

بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی

بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں

heart small 6

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

heart small 6

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

heart small 6

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

تو آب جو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں

heart small 6

خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں

کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری

heart small 6

جنہیں میں ڈھونڈھتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں

وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں

heart small 6

تو ہے محیط بیکراں میں ہوں ذرا سی آب جو

یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر

heart small 6

تو نے یہ کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کر دیا

میں ہی تو ایک راز تھا سینۂ کائنات میں

heart small 6

باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں

کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر

heart small 6

اسی خطا سے عتاب ملوک ہے مجھ پر

کہ جانتا ہوں مآل سکندری کیا ہے

heart small 6

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں

محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

heart small 6

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

heart small 6

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے

شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

heart small 6

امید حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو

یہ حضرت دیکھنے میں سیدھے سادے بھولے بھالے ہیں

heart small 6

اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لا مکاں خالی

خطا کس کی ہے یا رب لا مکاں تیرا ہے یا میرا

heart small 6

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی

تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

heart small 6

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی

اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

ترا تن روح سے نا آشنا ہے

عجب کیا آہ تیری نارسا ہے

تن بے روح سے بے زار ہے حق

خدائے زندہ زندوں کا خدا ہے

Golden stars Golden Thanks 7

 

علامہ اقبال بچپن ہی سے بذلہ سنج اور شوخ طبیعت واقع ہوئے تھے ۔

ایک روز (جب ان کی عمر گیارہ سال کی تھی ) انہیں اسکول پہنچنے میں دیر ہوگئی ۔ماسٹر صاحب نے پوچھا ’’اقبال تم دیر سے آئے ہو؟‘‘  

اقبال نے بے ساختہ جواب دیا۔’’جی ہاں! اقبال ہمیشہ دیر ہی سے آتا ہے ۔‘‘۔

Comments»

1. ahmar - December 27, 2010

ASSALAAM O ALAIKUM
Bohat khoob aap ney hum students ke liye rastoon mey roshni daldi agr ilm ki rah par chalna jannat ke mutaraadif hai tou aap jaisey log behlool dana yani jannat keh ghar bechney waaley ke mutaraadif hain.
Syed Ahmar HUSSAIN


Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: