jump to navigation

1 Poets and Writers

gerbera-parrot.jpg

 

This slideshow requires JavaScript.

فیض احمد فیض


پروین شاکر

November 24, 1952 – December 26, 1994

was a Pakistani Urdu poetess, teacher and a civil servant of the Government of Pakistan. Shakir was born on 24th November, 1952 in Karachi, Pakistan.

She received two undergraduate degrees in English literature and linguistics. Parveen held MA degrees in English Literature and Linguistics from University of Karachi. She was a teacher at Karachi University and Trinity College, Connecticut, USA, for 9 years before joining the Pakistan Civil Service, where she served in the Customs department. In 1986, she was appointed second secretary, CBR in Islamabad. In 1990, she taught at Trinity College, Connecticut, USA, and then did her masters in public administration at Harvard University in 1991. She married Naseer Ali, a doctor by profession, whom she later divorced. In 1994, she died in a car accident at age 42 in Islamabad. She is survived by her son, Syed Murad Ali. Her unique honor was that when she appeared in the Central Superior Services Examiation in 1982 there was a question on her poetry in the Urdu examination Her poetry was a breath of fresh air in Urdu poetry. She used the first-person feminine pronoun, which is rarely used in Urdu poetry even by female poets. The feminine perspective of love and the associated social problems were her theme. Critics compare her poetry to that of Iranian poet Forough Farrokhzad. Her first book, Khushboo, won the Adamjee Award. Later she was awarded the Pride of Performance. Upon her death, the Parveen Shakir Trust was established by her close friend, Parveen Qadir Agha.

The Parveen Shakir Trust organizes a yearly function and gives out the “Aks-e-Khushbo” award.

Books

Khushboo (1976) – Fragrance

Sad-barg (1980) – Evergreen

Khud-kalaami (1990) – Talking to Self

Inkaar (1990) – Denial

Maah-e-Tamaam (1994) – Full Moon

Kaf-E-Aeena

http://www.urducl.com/Urdu-Books/969-416-205-028/

احمد فراز

چودہ جنوری 1931 کو نوشہرہ کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہونے والے پٹھان بچے احمد شاہ نے 78 برس بعد اسلام آباد کی ایک علاج گاہ میں اُردو کے مقبول ترین شاعر احمد فراز کے روپ میں دم توڑ دیا۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے۔

اقبال اور فیض کے بعد قبولِ عام کا جو درجہ فراز کو حاصل ہوا وہ اُردو شاعری میں اور کسی کو نصیب نہ ہوا۔
اتفاق سے یہی دور برِصغیر میں غزل گائیکی کی ترویج کا دور بھی تھا اور نورجہاں، فریدہ خانم، مہدی حسن، غلام علی، جگجیت چِترا اور پنکج اُداس وغیرہ اُردو غزل کو تنگنائے کُتب سے نکال کر ریڈیو، ٹیلی ویژن اور کیسٹ کے ذریعے گھر گھر اور گلی گلی پہنچا رہے تھے۔

احمد فراز نے اس مقبولیت کا کچھ مزہ تو پشاور میں اپنی طالب علمی کے دوران ہی چکھ لیا تھا لیکن عملی زندگی شروع کرنے کے بعد اسی مقبولیت کی بناء پر انھیں اعلیٰ سرکاری عہدوں پر کام کرنے کا موقع بھی ملا۔

1976 میں وہ اکادمی ادبیات کے بانی ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور بعد میں نیشنل بُک فاؤنڈیشن کی نگرانی بھی انھیں سونپی گئی۔ سن 2004 میں انھیں ادبی خدمات کے صِلے میں ’ہلالِ امتیاز‘ بخشا گیا لیکن دو برس بعد انھوں نے صدر مشرف کی پالیسوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے یہ اعزاز واپس کردیا۔

قبل ازیں وہ صدر ضیا الحق کے دور میں حکومت کے زیرِ عتاب رہے تھے اور کئی برس تک انھوں نے ملک سے باہر رہنے کو ترجیح دی تھی۔

گذشتہ نصف صدی کے دوران فراز کی شاعری کے تیرہ مجموعے منظرِ عام پر آئے اور ہر مجموعہ متعدد بار شائع ہوا۔ اب اُن کی یہ تیرہ کتابیں ایک ضخیم جلد میں اکٹھی کر دی گئی ہیں۔
شاعر، ادیب اور سماجی ذمہ داریاں
شاعر اور ادیب صرف لفظوں کا بازی گر نہیں ہوتا بلکہ اسکی کچھ سماجی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں اور وہ ایک بے حِس، بے خبر اور بے ضمیر شخص کی طرح گِرد و پیش کے حالات سے بے نیاز ہو کر زندگی نہیں گزار سکتا

Ahmed Faraz and Farzana Naina in Oslo

Ahmed Faraz and Farzana Naina in Oslo

ایک شاعر کے طور پر فراز اگرچہ صحتِ زبان کے ساتھ ساتھ اوزان و بحور پر دسترس اور شعر کی تکنیکی باریکیوں سے واقفیت کو بھی بہت اہمیت دیتے تھے لیکن اُن کا کہنا تھا کہ شاعر اور ادیب صرف لفظوں کا بازی گر نہیں ہوتا بلکہ اس کی کچھ سماجی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں اور وہ ایک بے حِس، بے خبر اور بے ضمیر شخص کی طرح گِرد و پیش کے حالات سے بے نیاز ہو کر زندگی نہیں گزار سکتا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی شحضیت اگرچہ اُن کا سیاسی آئیڈیل تھی لیکن زندگی کے آخری ایام میں وہ ملک کی سیاسی صورتِ حال سے سخت نالاں تھے۔ ججوں کی برطرفی پہ وہ انتہائی دِل گرفتہ رہے اور پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت کو نوکریاں، وزارتیں، ٹھیکے اور پرمٹ دِلوانے والے کمیشن ایجنٹوں کا ایک گروہ قرار دیتے رہے۔

میڈیا پہ ہونے والی گفتگو کے دوران انھوں نے این آر او کو رشوت کی ایک قِسم قرار دیا تھا جس کے ذریعے عوام کا اربوں روپیہ لوٹ لے جانے والے ٹھگ ایک دوسرے کے جرائم پر پردہ ڈال رہے ہیں۔

Courtesy Of BBC

منیر نیازی

اردو اور پنجابی زبان کے معروف شاعر منیر نیازی منگل کی شام لاہور کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر اناسی برس تھی۔ منیر نیازی کے بھانجے ڈاکٹر نعیم ترین نے بتایا کہ ان کے ماموں کو سانس کی تکلیف کے باعث جناح ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ ساڑھے آٹھ بجے شام ایمرجنسی وارڈ میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کرگئے۔

منیر نیازی ضلع ہوشیار پور (مشرقی پنجاب) کے ایک گاؤں میں انیس سو ستائیس میں پیدا ہوئے۔

انہوں نے بی اے تک تعلیم پائی اور جنگ عظیم کے دوران میں ہندوستانی بحریہ میں بھرتی ہوگئے لیکن جلد ہی ملازمت چھوڑ کر گھر واپس آگئے۔ برصغیر کی آزادی کے بعد لاہور آگئے۔
منیر نیازی کا ایک ایک شعر، ایک ایک مصرع اور ایک ایک لفظ آہستہ آہستہ ذہن کے پردے سے ٹکراتاہے اور اس کی لہروں کی گونج سے قوت سامعہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی

اشفاق احمد کی کتاب سے اقتباس

M

Munir Niazi

نقاد سلیم اختر کہتے ہیں کہ منیر نیازی کی نظموں میں انسان کا دل جنگل کی تال پر دھرتا ہے اور ان کی مختصر نظموں کا یہ عالم ہے کہ گویا تلواروں کی آبداری نشتر میں بھر دی گئی ہو۔

اردو کے معروف ادیب اشفاق احمد نے منیر نیازی کی ایک کتاب میں ان پر مضمون میں لکھا ہے کہ منیر نیازی کا ایک ایک شعر، ایک ایک مصرع اور ایک ایک لفظ آہستہ آہستہ ذہن کے پردے سے ٹکراتاہے اور اس کی لہروں کی گونج سے قوت سامعہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔

ان کے اردو شاعری کے تیرہ، پنجابی کے تین اور انگریزی کے دو مجموعے شائع ہوئے۔ ان کے مجموعوں میں بے وفا کا شہر، تیز ہوا اور تنہا پھول، جنگل میں دھنک، دشمنوں کے درمیان شام، سفید دن کی ہوا، سیاہ شب کا سمندر، ماہ منیر، چھ رنگین دروازے، شفر دی رات، چار چپ چیزاں، رستہ دسن والے تارے، آغاز زمستان، ساعت سیار اور کلیات منیر شامل ہیں۔

منیر نیازی نے پس ماندگان میں ایک بیوہ چھوڑی ہیں۔ ان کی کوئی اولاد نہیں ہے۔

اردو اور پنجابی کے مشہور شاعر منیر نیازی کو بدھ کو لاہور کے ایک قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ان کے جنازے میں بڑی تعداد میں شاعروں ادیبوں، دانشوروں، صحافیوں، اساتذہ، سرکاری ملازمین کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
منیر نیازی منگل کی شام انتقال کر گئے تھے اور بدھ کی صبح سے ہی ان کے گھر سوگواروں کی آمد شروع ہو گئی تھی اور جب ٹاؤن شپ سے ان کا جنازہ اٹھایا گیا تو تعداد سینکڑوں سے تجاوز کر چکی تھی۔

منیر نیازی کی میت ایک ایمبولینس میں رکھ کر قریبی مسجد میں لائی گئی جہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے ان کی نماز جنازہ ادا کی۔ ان کی میت کو ایمبولینس میں ہی دو تین کلومیٹر دور ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں لے جایا گیا۔
آخری شمع
ادب کی آخری شمع کو دفن کرکے جارہا ہوں اب یہاں اندھیروں کے سوا کچھ نہیں ہوگا
خواجہ پرویز

ان کے کئی ہم عصر دانشور ادیب اور شاعر ان کی قبر کی ڈھیری مکمل ہونے اور اس پر پھول ڈالے جانے تک وہیں موجود رہے۔

قبرستان میں موجود شاعر و موسیقار خواجہ پرویز نے کہا کہ ‘ادب کی آخری شمع کو دفن کرکے جارہا ہوں اب یہاں اندھیروں کےسوا کچھ نہیں ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ احمد ندیم قاسمی کے بعد منیر نیازی کی وفات سے ادب کے دونوں مینار گر چکے ہیں۔

ان کے الفاظ تھے کہ ‘ان دونوں کے اس جہان فانی سے رخصت ہونے کے بعد اب ایسا خلا پیدا ہوا ہے جو کبھی پورا نہیں ہوسکے گا کیونکہ اب کوئی اچھا شاعر رہا نہ ادیب۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آنے والی نسلیں بھی یہ خلا پوری نہیں کر سکیں گی

شاعر اورکالم نویس حسن نثار نے کہا کہ یوں لگتا ہے کہ ابھی ابھی تاریخ کو دفن کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ منیر نیازی شاعر کے طور پر منفرد اور شخصیت میں انوکھے تھے وہ دیکھنے میں بھی جتنے خوبصورت تھے شاعری میں اتنے ہی خوبصورت تھے اور یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ وہ ان کا کون سا پہلو زیادہ خوبصورت تھا۔

صحافی شاعر اور ادیب سرفراز سید نے کہا کہ مجھے ابھی بھی یقین نہیں آرہا کہ میں نے خود منیر نیازی کو مٹی میں دفن کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس شہر کو خوبصورتی تین بڑے آدمیوں نے دی، فلم میں سنتوش کمار، کرکٹ میں فضل محمود اور شعر و سخن میں منیر نیازی۔ ‘تینوں ایک جیسے بلندقامت سفید رنگت اور اپنے اپنے فن میں کامل تھے۔‘

مستنصر حسین تارڑ نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ سوشل نہیں تھے میرے خیال میں ان کی عظمت کا راز یہی تھا کہ انہوں نے خود کو الگ رکھا۔

مستنصر حسین تارڑ نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اگر عام شاعروں کی طرح وہ محفلوں میں دھکے کھاتے فوٹو بنواتے اور بیانات جاری کرتے تو کبھی اتنے بڑے شاعر نہ ہوتے۔

احمد ندیم قاسمی

Ahmed Nadeem Qasmi

Monday, 10 July, 2006

گزشتہ سنیچر کو انہیں سانس لینے میں دشواری کے سبب لاہور کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں داخل کیا گیا تھا اور عارضی تنفس فراہم کیا گیا تھا۔ تاہم پیر کی صبح ان کی حرکت قلب بند ہوگئی۔ ان کا جنازہ پیر کی شام پانچ بجے سمن آباد میں واقع ان کی رہا ئش گاہ سے اٹھایا جائے گا۔ انیس سو تیس کی دہائی میں ادبی سفر شروع کرنے والے احمد ندیم قاسمی شمال مغربی پنجاب کی وادی سون سکیسر کے گاؤں انگہ ضلع خوشاب میں بیس نومبر انیس سو سولہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام احمد شاہ تھا اور وہ اعوان برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ ندیم ان کا تخلص تھا۔ انہوں نے اٹک (اس وقت کیمبل پور) میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور صادق ایجرٹن کالج بہاولپور سے بی اے کیا۔ وہ کچھ عرصہ محمکہ ایکسائز میں اسسٹنٹ انسپکٹر کے طور پر کام کرتے رہے۔ احمد ندیم قاسمی اس وقت کے بادشاہی مسجد کے امام مولانا غلام مرشد کے قریبی عزیز تھے جو انہیں لاہور لائے اور انہیں اس وقت کی شہر کی ادبی شخصیت غلام صوفی تبسم سے متعارف کرایا۔ احمد ندیم قاسمی نے لاہور کے متعدد ادبی رسالوں کی ادارت کی۔ انیس سو تینتالیس سے پینتالیس تک’ ادب لطیف‘ کے مدیر جبکہ انیس سو سینتالیس میں ’سویرا‘ کے چند ابتدائی شماروں کے مدیر بھی رہے۔ جب محمد طفیل نے ’نقوش‘ کا اجراء کیا تو احمد ندیم قاسمی اس کے مدیر بنے تاہم جلد وہ اس سے الگ ہوگئے۔ انیس سو تریسٹھ میں انہوں نے اپنے ادبی رسالہ ’فنون‘ کا اجراء کیا جو آج تک شائع ہوتا ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے غزل اور نظم دونوں صنفوں میں شاعری کی ادبی رسالوں کے ساتھ ساتھ وہ صحافت سے بھی وابستہ رہے۔ وہ کچھ عرصہ امتیاز علی تاج کے رسالے ’پھول اور تہذیب نسواں‘ سے وابستہ رہے اور بعد میں ترقی پسند اردو اخبار ’امروز‘ کے لیئے فکاہی کالم لکھتے رہے۔ کالم نگاری میں وہ عبدالمجید سالک کو اپنا استاد مانتے تھے۔ احمد ندیم قاسمی کا کالم پنج دریا کے عنوان سے طویل عرصہ تک امروز میں شائع ہوتا رہا۔ بعد میں وہ اس اخبار کے مدیر مقرر ہوگئے لیکن جب انیس سو انسٹھ میں اس ادارے کو جنرل ایوب خان نے سرکاری انتظام میں لیا تو وہ اس سے الگ ہوگئے۔ تاہم اس کے لیئے ’عنقا‘ کے نام سے کالم لکھتے رہے۔ امروز کے بعد احمد ندیم قاسمی روزنامہ جنگ اور بعد میں کراچی سے نکلنے والے روزنامہ حریت میں کالم لکھتے رہے۔ ان دنوں وہ روزنامہ جنگ میں لکھتے تھے۔ وہ گزشتہ بتیس سال سے لاہو رمیں ادبی ادارہ مجلس ترقی ادب کے ڈائریکٹر تھے۔ احمد ندیم قاسمی نے انیس سو پینتیس سے شاعری اور افسانہ نگاری شروع کی۔ وہ اردو ادب میں ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوئے۔ وہ انیس سو اننچاس میں مختصر مدت کے لیئے انجمن ترقی پسند مصنفین کے جنرل سیکرٹری بھی رہے۔ انیس سو اکیاون میں احمد ندیم قاسمی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند بھی رہے۔ انیس سو چون میں انہوں نے انجمن کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ اکتوبر انیس سو اٹھاون میں ایک سال انیس سو چون میںکے لیے وہ دوبارہ گرفتار کرلیے گئے۔ بعد ازاں وہ انجمن ترقی پسند مصنفین سے بھی دور ہوگئے۔ احمد ندیم قاسمی کے افسانوں میں پنجاب کے دیہاتوں کی حقیقت پسندانہ عکاسی ان کا امتیازی وصف قرار پایا۔ احمد ندیم قاسمی کے افسانوں میں پنجاب کے دیہاتوں کی حقیقت پسندانہ عکاسی ان کا امتیازی وصف قرار پایا ان کے افسانوں میں میں چوپال، بگولے، سیلاب و گرداب، آنچل، آبلے، آس پاس، درو دیوار، بازار حیات، کپاس کا پھول، برگ حنا، گھر سے گھر تک، سناٹا، نیلا پتھر، گرداب اور طلوع و غروب شامل ہیں۔ قاسمی صاحب کے افسانوں میں گھر سے گھر تک، کنجری، رئیس خانہ، ست بھرائی بہت مشہور ہوئے۔ احمد ندیم قاسمی نے غزل اور نظم دونوں صنفوں میں شاعری کی۔ ان کی شاعری کے مجموعے جلال و جمال اور محیط مشہور ہیں۔ ان کی شاعری کے کلیات بھی شائع ہوچکے ہیں۔ دیگر مجموعوں میں شعلہ گل، دشت وفا اور رم جھم شامل ہیں۔ انیس سو باسٹھ میں ان کی ایک مشہور ہونے والی نظم کے چند مصرعے کچھ یوں ہیں۔ ریت سے بت نہ بنا اے مرے اچھے فنکار ایک لمحہ کو ٹھہر میں تجھے پتھر لا دوں میں تیرے سامنے انبار لگادوں لیکن کون سے رنگ کا پتھر تیرے کام آئے گا انہوں نے لاتعداد کتابوں کے فلیپ لکھے۔ ان کے تنقیدی مضامین کی کتابوں میں ادب کی تعلیم کا مسئلہ اور تہذیب و فن شامل ہیں۔ احمد ندیم قاسمی کی بیوی اور ایک بیٹی نشاط انتقال کرچکی ہیں۔ پسماندگان میں ان کا ایک بیٹا نعمان قاسمی اور بیٹی ناہید قاسمی شامل ہیں۔

احمد ندیم قاسمی بیس نومبر انیس سو سولہ کو انگہ ضلع خوشاب میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام پیر غلام نبی تھا۔ انہوں نے اپنے گاؤں کے امام مسجد سے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔انہوں نے انیس سو اکیس میں انگہ پرائمری سکول میں داخلہ حاصل کیا۔ انیس سو چوبیس میں ان کےوالد انتقال کرگئے۔ والد کے انتقال کے ایک سال بعد انہوں نے اپنے چچا پیر حیدر شاہ کے پاس کیمبل پور (موجودہ اٹک) میں رہنا شروع کر دیا اور وہاں کے گورنمنٹ مڈل سکول میں داخلہ حاصل کر لیا۔

احمد ندیم قاسمی نے انیس سو تیس اکتیس میں گورنمنٹ ہائی سکول شیخوپورہ میں داخلہ لیا۔ مولانا محمد علی جوہر کے انتقال پر ایک نوحہ لکھا
جو لاہور کے روزنامہ سیاست میں شائع ہوا۔ انہوں نے اسی سال میٹرک کا امتحان پاس کیا اور بہاول پور کے ایک کالج میں داخلہ لیا۔
انیس سو پینتیس میں احمد ندیم قاسمی نے پنجاب یونیورسٹی سے بی۔اے پاس کیا۔ انیس سو چھتیس سے اڑتیس کا عرصہ انتہائی غربت اور تنگ دستی کا زمانہ تھا لیکن انہی دِنوں اُردو کے کئی معروف ادیبوں شاعروں اور صحافیوں سے شناسائی حاصل ہوئی۔ کرشن چندر اور منٹو سے دوستانہ مراسم پیدا ہوئے۔

ان کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ ‘چوپال‘ انیس سو انتالیس میں شائع ہوا۔ اسی برس محکمہ ایکسائز میں انسپکٹر کے طور پر بھرتی ہوئے۔ فلم ‘دھرم پتنی‘ کے مکالمے اور گانے انہوں نے انیس سو چالیس میں لکھے لیکن یہ فلم کبھی مکمل نہ ہوسکی۔

انیس سو بیالیس میں نوکری سے انتہائی بیزار احمد ندیم قاسمی استعفٰی دے کر امتیاز علی تاج کے اشاعتی ادارے میں شامل ہوگئے۔ جہاں انہیں بچّوں کے رسالے ‘پھول‘ اور خواتین کے میگزین ‘تہذیبِ نسواں‘ کی ادارت کے فرائض سونپے گئے۔ وہ انیس سو تینتالیس میں معروف جریدے ‘ادب لطیف‘ کے ایڈیٹر بنے۔
انیس سو سینتالیس میں انہوں نے ریڈیو پاکستان پشاور کے لیئے بہت سے قومی نغمے، ملی گیت اور حُبِ وطن کے موضوع پر فیچر اور ڈرامے تحریر کیئے اور تیرہ اور چودہ اگست کی درمیانی شب کو انہی کا لکھا ہوا اوّلین قومی نغمہ ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا
‘ادب لطیف‘ میں منٹو کی کہانی بُو کی اشاعت کے باعث انہیں انیس سو چوالیس میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نےانیس سو چھیالیس میں ادب لطیف کی اِدارت چھوڑ دی۔ اسی برس مجموعہ کلام ‘جلال و جمال‘ شائع ہوا۔
اس سے پہلے شعری مجموعہ ‘دھڑکن‘ اور تراجم کا ایک مجموعہ شائع ہو چکا تھا۔

ضلع سرگودھا میں اُن دِنوں یونینسٹ پارٹی کا بڑا زور تھا لیکن احمد ندیم قاسمی نے اس کے مقابل مُسلم لیگ کی تنظیم و توسیع میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔

اسی برس ریڈیو پاکستان پشاور میں سٹیشن ڈائریکٹر کے بہت اصرار پر وہاں سکرپٹ رائٹر کے طور پر ملازم ہوگئے۔ انیس سو سینتالیس میں انہوں نے ریڈیو پاکستان پشاور کے لیئے بہت سے قومی نغمے، ملی گیت اور حُبِ وطن کے موضوع پر فیچر اور ڈرامے تحریر کیئے۔ تیرہ اور چودہ اگست کی درمیانی شب کو انہی کا لکھا ہوا اوّلین قومی نغمہ ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا۔

انہوں نے انیس سو اڑتالیس میں ادبی میگزین ‘سویرا‘ شروع کیا۔ انیس سو اڑتالیس اور انچاس میں پشاور ریڈیو کی نوکری چھوڑ کر وہ لاہور واپس آگئے اور ادبی رسالے نقوش کی ادارت شروع کی۔ ترقی پسند ادیبوں کی انجمن کے لیئے
دِن رات کام کیا اور انجمن کی پاکستان شاخ کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔

انیس سو اکیاون میں سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیئے گئے۔ انیس سو باون میں روزنامہ امروز میں چراغ حسن حسرت کی جگہ فکاہیہ کالم حروف و حکایات لکھنا شروع کیا۔

انیس سو ترپن میں انہوں نے روزنامہ امروز کی ادارت سنبھالی۔ حروف و حکایت اور اِدارت کا یہ سلسلہ چھ برس تک جاری رہا لیکن انیس سو اٹھاون میں مارشل لاء نافذ ہونے کے بعد ختم ہوگیا۔ اکتوبر انیس سو اٹھاون سے فروری انیس سو انسٹھ تک انہیں پھِر سے سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں رکھا گیا۔

انیس سو ترپن سے انیس سو تریسٹھ میں وہ مختلف اخبارات اور رسائل میں کالم لکھ کر روزی کماتے رہے۔ انیس سو تریسٹھ میں انہوں نے اپنا ادبی رسالہ ‘فنون‘ نکالنا شروع کیا۔ انیس سو چونسٹھ میں دشت وفا کی اشاعت، جِسے آدم جی ادبی انعام بھی ملا۔

انیس سو پچھہتر میں مجلسِ ترقی ادب کے ناظم مقرّر ہوئے۔ انیس سو اسی میں ستارہ امتیاز مِلا اور اگلے برس اُن کی کہانیوں کا پہلا انگریزی ترجمہ شائع ہوا۔ جس کے مترجم پروفیسر سجاد شیخ تھے۔
شعری مجموعے
دھڑکنیں (1942)، رِم جھم، جلال و جمال، شعلہء گُل، دشتِ وفا، مُحیط، دوام، لوحِ خاک، جمال، بسیط

انیس سو اٹھاسی میں حج کی سعادت حاصل کی اور بعد ازاں کئی بار عمرے کے لیئے بھی گئے۔ انیس سو پچانوے میں کہانیوں کا آخری مجموعہ ‘کوہ پیما‘ شائع ہوا اسی برس شاعری کی آخری کتاب ‘بسیط‘ بھی شائع ہوئی۔

انیس سو ننانوے میں عمر بھر کی ادبی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان نے نشانِ امتیاز دیا۔ دو ہزار میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے احمد ندیم قاسمی کی کہانیوں کا ایک اور انگریزی ترجمہ شائع کیا، اِس بار فاروق حسن مترجم تھے۔

دوہزار دو میں ‘میرے ہم سفر‘ شائع ہوئی جس میں مرحوم نے اپنے ہم عصر ادیبوں کے شخصی خاکے لکھے تھے۔ اگلے برس ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ‘پاسِ الفاظ‘ شائع ہوا۔ دو ہزار تین میں مجلسِ ترقی ادب کی نظامت سے استعفٰی دے دیا لیکن حکومتِ پنجاب کی فرمائش پر پھر سے کام شروع کر دیا۔

احمد ندیم قاسمی کی تصنیفات کی فہرست مندرجہ ذیل ہے

افسانوی مجموعے

چوپال (1939 )، بگولے، طلوع و غروب، گرداب، سیلاب، آنچل، آبلے، آس پاس، درو دیوار، سنّاٹا، بازارِ حیات، برگِ حنا، گھر سے گھر تک، کپاس کا پھول، نیلا پتھر کوہ پیما 1995

شعری مجموعے

دھڑکنیں (1942)، رِم جھم، جلال و جمال، شعلہء گُل، دشتِ وفا، مُحیط، دوام، لوحِ خاک، جمال، بسیط (1995)۔

انتظار حسین ۔

میرے چاہنے والو سلامت رہو۔

Intizar Hussain 1

Intizar Hussain

جانے اب آگے کیا ہو مگر لگتا یوں ہی ہے کہ آج کے بعد مجھے فرصت ہی فرصت ہے ۔تم میں سے بہت سے اب میرے بارے میں کالم لکھیں گے، مضامین میں یادوں اور باتوں کے چراغ روشن کریں گے۔ تعزیتی جلسوں میں تقاریر کریں گے۔ ہوسکتا ہے چند ماہ کے لیے میری کتابوں کی فروخت بھی بڑھ جائے۔ مگر یہ سب کرنے سے پہلے میری یہ بات سن لو کہ میں خود اپنے بارے میں کیا سمجھتا ہوں۔ اس کے بعد تمہارا حق ہے کہ انتظار حسین سے جو چاہو برتاؤ کرو۔

دسمبر 1923 میں بلند شہر کے نواحی گاؤں ڈبائی میں میرا جنم ہوا۔ والدین کو چار بیٹیوں کے بعد کسی بیٹے کا انتظار تھا لہذا میرا نام انتظار حسین یوں رکھا گیا۔ جس گھر میں جنم ہوا اس کی دیواریں ہندو ہمسائیوں سے ملتی تھیں۔ مسجد بھی قریب تھی اور مندر بھی۔ اذان کی آواز بھی آتی تھی اور گھنٹیوں اور بھجن کی بھی۔ چھت پر کھڑا ہو کر دور میدان میں لگنے والا رام لیلا صاف نظر آتا تھا۔ میرے ہمسائے دیوالی کے دیے مشترکہ منڈیر پر روشن کرتے تھے۔ یعنی میں مندر اور مسجد کے درمیان پیدا ہونے والی نسل سے تعلق رکھتا ہوں۔

آٹھ برس بعد ہمارا خاندان ڈبائی سے ہاپڑ منتقل ہوگیا۔ جس سکول میں مجھے داخل کرایا گیا وہاں بھی سوائے ایک کے سب استاد ہندو اور میری کلاس میں ہم دو مسلمان چھوڑ باقی سب ہندو بچے تھے۔

مجھے تو میرٹھ کالج میں پڑھتے ہوئے پتہ چلا کہ کانگریس اور مسلم لیگ میں کوئی کش مکش ہو رہی ہے۔ ایم اے کرنے کے ایک برس بعد پاکستان بن گیا۔ خاندان وہیں رہنا چاہتا تھا۔ صرف میں تھا جو 20 برس کی متجسس عمر میں لاہور آ گیا۔ خیال تھا کہ ترقی پسند تحریک کی شخصیات اور لکھاریوں سے ملنے، تاریخی مقامات دیکھنے کے بعد چلے جائیں گے۔ دل چاہا تو پھر آ جائیں گے مگر لاہور آ کر معلوم ہوا کہ واپسی تو اب مشکل ہے۔ رفتہ رفتہ میرے باقی خاندان نے بھی اپنا ذہن بنا لیا اور وہ پاکستان منتقل ہوگئے۔

اور جب احساس ہوا کہ آنا آسان تھا، جانا مشکل ہے اور چلا گیا تو دوبارہ آنا مشکل ہوجائے گا تو پھر مجھے ڈبائی، ہاپڑ، میرٹھ اور احباب بے طرح یاد آنے لگا۔گویا نوسٹالجیا کا حملہ ہوگیا۔ اگر میں لاہور نہ آتا تو شاید کہانی لکھنے کے بجائے کچھ اور کر رہا ہوتا۔

میرے سامنے وہی مثالیے تھے جو اس زمانے کے نئے لکھنے والوں کے تھے۔ یعنی منٹو ، بیدی، عصمت، چیخوف، ٹالسٹائی، دوستووسکی، کافکا وغیرہ۔ ایک روز لائبریری سے قدیم ہندوستانی کہانی بیتال پچیسی کیا ہاتھ لگی کہ عجیب سا دیومالائی جنون طاری ہوگیا۔ اس کے بعد نوسٹالجیا کی سنہری رتھ پر سوار ہزاروں لاکھوں برس پیچھے چلتا چلا گیا۔ کھتا سری ساگر کی آٹھ جلدیں پی گیا۔ مہاتما بدھ کی جاتک کھتا کے جنگلوں میں جا گھسا، مہا بھارت کی 18 جلدوں میں ڈوب گیا۔ الف لیلا کے قالین پر عرب و عجم کی سیر کی۔ صوفیاِ کرام کے تذکرے اور ان کی عوام الناس سے گفتگو کی تکنیک ہاتھ لگ گئی۔

پھر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ جدید اردو کہانی کا دریا تین دھاروں سے بنا ہے۔ یعنی قدیم ہندوستانی اساطیر، عرب و عجم کی داستان گوئی اور جدید مغربی روایت کی عقلیت پسندی، حقیقت نگاری اور استعارے کا چابکدست استعمال۔ چنانچہ میں نے مغربی روایت کی ان تین چابیوں سے عرب و عجم اور ہندوستان کے اساطیری تالے کھول لیے۔

اس کی ایک مثال میری کہانی مورنامہ ہے جس کا محرک یہ خبر تھی کہ 1998 میں بھارت نے راجھستان میں جو ایٹمی دھماکے کیے ان کے اثرات سے علاقے میں مور مرنے لگے ہیں۔ موروں کو میں ڈبائی کے بچپنے سے جانتا ہوں۔ چنانچہ تکلیف ہوئی کہ تجربے تو کریں آپ اور مریں بے چارے مور اور پھر خیال کی رو مجھے ان موروں کے ساتھ ساتھ مہا بھارت میں لے گئی اور مجھے لگا جیسے یہ دو ملکوں کی نہیں کورؤں پانڈوں کی لڑائی ہے۔

آپ میری بندر کہانی پڑھ لیجیے۔ جس میں ایک بندر پہلی بار انسانی بستی میں جا کر ترقی دیکھ کے حیران ہوجاتا ہے اور اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ہماری ترقی کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہماری دم ہے۔ انسان نے اپنی دم کاٹ کے کیسی ترقی کر لی۔ چنانچہ اس بندر کی بات سن کر پورا غول اپنی دم کاٹنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ مگر ایک بوڑھا بندر کہتا ہے کہ جس استرے سے تم اپنی دمیں کاٹو گے کل اسی استرے سے ایک دوسرے کے گلے بھی۔

لوگ کہتے ہیں ’بستی‘ انتظار حسین کی غیر اعلانیہ سوانح حیات ہے۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ انتظار حسین کا دل بھارت میں اور جسم پاکستان میں پڑا ہے۔ ایسے لوگوں کو ’آگے سمندر ہے‘ ضرور پڑھنا چاہیے۔

ہاں میں بس ایک کہانی کار ہوں کوئی مصلح یا مزاحمتی لکھاری نہیں۔ اس کے لیے مولوی اور سپاہی بہت، ڈھونڈنے والے میرے سیاسی خیالات سمبل ازم میں ڈھونڈھ سکتے ہیں۔ صحافت اور کالم نگاری ضرور کی ہے مگر اسے ادب کے بجائے ہمیشہ روزی روٹی کے خانے میں رکھا۔

اگر مجھے حکومتِ پاکستان نے ستارہِ امتیاز ، اکادمی ادبیات نے کمالِ فن ایوارڈ، حکومتِ فرانس نے اپنا اعلیٰ ترین ادبی اعزاز دے دیا، مین بکرز پرائیز والوں نے مجھے شارٹ لسٹ کر دیا اور میرے کچھ کام کے تراجم ہوگئے تو اس میں میرا کمال ہو نہ ہو چاہنے والوں کی محبت ضرور باکمال ہے۔

آخری دنوں میں میں یہی سوچتا تھا کہ یہ جو 130 کے لگ بھگ کہانیاں، چار ناول، ڈرامے اور تراجم مجھ سے سرزد ہوئے وہ انتظار حسین نے لکھے ہیں یا انتظار حسین سے لکھوائے گئے۔

تم مجھے شوق سے یاد کرو مگر تھوڑا بہت مجھے اور دوسروں کو پڑھ بھی لینا۔

 

تمہارا انتظار حسین

بتشکر: بی بی سی اردو

پاکستان کے معروف افسانہ اور ناول نگار انتظار حسین 93 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے ہیں۔

 

ان کا شمار موجودہ عہد میں پاکستان ہی کے نہیں بلکہ اردو فکشن، خاص طور پر افسانے یا کہانی کے اہم ترین ادیبوں میں کیا جاتا تھا۔

ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’گلی کوچے‘ 1953 میں شائع ہوا تھا۔

انتظار حسین کے افسانوں کے آٹھ مجموعے، چار ناول، آپ بیتی کی دو جلدیں، ایک ناولٹ شائع ہوئے۔

اس کے علاوہ انھوں نے تراجم بھی کیے ہیں اور سفر نامے بھی لکھے۔

ان کے اردو کالم بھی کتابی شکل میں شائع ہو چکے ہیں اور وہ انگریزی میں بھی کالم لکھتے رہے۔

انتظار حسین کا ایک ناول اور افسانوں کے چار مجموعے بھی انگریزی زبان میں شائع ہو چکے ہیں۔

وہ پہلے پاکستانی ہیں جو سنہ 2013 میں بین الاقوامی بکر پرائز ايوارڈ کے ليے شارٹ لسٹ ہوئے۔

انتظار حسین کو ان کی گراں قدر ادبی خدمات کے اعتراف میں پاکستان، بھارت، مشرق وسطیٰ اور یورپ میں بھی کئی اعزازات سے نوازا گیا۔


Advertisements

Comments»

1. Sarah - November 12, 2008

plz put the shairi and biography of allama shibli nomani


Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: