jump to navigation

سعودی عرب میں کیا کچھ بدلا؟ January 15, 2018

Posted by Farzana Naina in Mohammed Bin Salman, Saudi Arabia.
Tags: , , ,
add a comment

سعودی عرب کے بادشاہ محمد بن سلمان کو سوتیلے بھائی شاہ عبداللہ کے انتقال کے بعد جب تقریباً تین سال قبل اقتدار ملا تب سے

Mohammed Bin Salman Saudi Arabia's crown prince Mohammed Bin Salman

32, Mohammed bin Salman is the most powerful Saudi royal in decades

انھوں نے ملکی پالیسیوں میں بہت اہم تبدیلیاں کی ہیں۔

ان تبدیلیوں میں سنیچر کو نئی اینٹی کرپشن کمیٹی نے گیارہ شہزادوں، چار موجودہ اور ‘درجنوں’ سابق وزرا کو گرفتار کر لیا جن میں اربوں ڈالر کے اثاثے رکھنے والے شہزادہ الولید بن طلال بھی شامل ہیں۔

اعلیٰ سطح پر تبدیلیاں

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوری سنہ 2015 کو شاہ سلمان نے شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد 79 برس کی عمر میں تخت سنبھالنے کے بعد اپنے بھتیجے محمد بن نائف کو ولی عہد اور نائب وزیراعظم بنایا اور اپنے بیٹے شہزادہ سلمان کو وزیر دفاع کا عہدہ دیا۔

لیکن رواں برس جون میں انھوں نے اپنے 32 سالہ بیٹے کو ولی عہد بنا دیا اور آہستہ آہستہ محمد بن نائف سے اختیارات واپس لے لیے۔

مارچ سنہ 2015 میں سعودی عرب یمن میں صدر منصور ہادی کی جانب سے شیعہ حوثی باغیوں اور ان کے حامیوں کے خلاف کارروائیوں میں یمن کا ساتھ دینے کے لیے اتحادی ممالک کا سربراہ بن گیا۔ اس سلسلے میں سعودی عرب نے فضائی بمباری کا آغاز کیا جو اب تک جاری ہے۔

پھر اتحادی افواج نے یمن میں اپنے دستے تعینات کیے۔ انسانی حقوق کے گروہوں کی جانب سے ان فضائی حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں پر شدید تنقید کی گئی تھی۔

تہران سے تعلقات کشیدہ

جنوری 2016 میں سعودی عرب نے دہشت گردی کے الزامات میں 47 افراد کو پھانسی کی سزا دی۔ ان میں زیادہ تر تعداد تو سنی فرقے کے مسلمانوں کی تھی تاہم اس میں سعودی عرب کے ایک بڑے شیعہ عالم نمر النمر بھی شامل تھے۔

ان کی پھانسی کے نتیجے میں سعودی عرب کے اپنے علاقائی حریف ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات خراب ہو گئے۔ ریاض نے اپنے سفارتخانے پر حملے کے بعد تہران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر دیے۔

معاشی اصلاحات

اپریل 2016 میں سعودی حکومت نے وژن 2030 کے نام سے ایک بڑے اصلاحاتی منصوبے کی منظوری دی۔

اس منصوبے کا مقصد یہ تھا کہ معیشت کا انحصار تیل پر ہی نہ ہو بلکہ اس کے لیے آمدن کے ذرائع کو مزید وسعت دی جائے۔ اس منصوبے میں تیل کی سرکاری کمپنی آرمکو کے حصص کی فروخت سے سرمایہ حاصل کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

سعودی عرب کو سنہ 2014 کے وسط میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے سبسڈی کو کم کرنا پڑا تھا اور اپنے اہم ترقیاتی منصوبوں کو معطل کرنا پڑا تھا۔

دسمبر 2016 میں سعودی عرب نے اوپیک تنظیم کے ممالک اور اس تنظیم سے باہر روس کے ساتھ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے لیے تیل کی پیداوار کم کرنے پر اتفاق کیا۔

واشنگٹن کے ساتھ معاہدے

ڈونلڈ ٹرمپ نے بطور امریکی صدر اقتدار سنھبالنے کے بعد اپنا پہلا دورہ رواں برس مئی میں سعودی عرب کا کیا تھا۔

دونوں ملکوں کے درمیان 380 ارب ڈالر کے معاہدے طے پائے جن میں 110 ارب ڈالر کا ہتھیار فراہم کرنے کا معاہدہ ہوا۔ اس کا مقصد بظاہر سعودی عرب کو ایران اور بنیاد پرست مسلمان گروہوں سے نمٹنے میں مدد دینا تھا۔

قطر بحران

جون 2017 میں سعودی عرب اور متعدد خلیجی اتحادیوں اور مصر نے قطر سے اپنے سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو ختم کرتے ہوئے اس پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ‘دہشت گردوں’ کی مدد کرتا ہے اور وہ ایران کے بہت قریب ہو رہا ہے۔

قطر نے ان الزامات کو مسترد کیا تاہم سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے دوحہ کے خلاف مزید اقتصادی اقدامات کیے۔

عورتوں کے لیے مزید حقوق

دسمبر 2015 میں سعودی عرب نے پہلی مرتبہ خواتین کو نہ صرف انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق دیا بلکہ انھیں بطور امیدوار حصہ لینے کی اجازت بھی دے دی۔

رواں برس ستمبر میں شاہی فرمان میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی گئی اور یہ پابندی جون 2018 میں ختم ہو جائے گی۔

عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے کے فیصلے سے کچھ ہی روز پہلے خواتین کو سٹیڈیم میں پہلی بار جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ بعد میں حکام نے بتایا کہ خواتین کو دیگر کھیلوں کے سٹیڈیمز میں جانے کی اجازت دی جائے گی تاہم اس کے لیے مردوں اور خواتین کے لیے الگ الگ نشستوں کا اہتمام کیا جائے گا۔

اب بھی سعودی خواتین کو بیرون ملک جانے یا سفر کرنے کے لیے خاندان کے مرد سرپرست کی اجازت درکار ہوتی ہے۔

کریک ڈاؤن

ستمبر میں حکام نے 20 افراد کو حراست میں لیا تھا جن میں معروف عالم سلمان الاوادہ اور الاوادہ القارنی بھی شامل تھے اور بظاہر یہ کریک ڈاؤن حکومت پر تنقید کرنے والوں پر کیا تھا۔

معروف سعودی صحافی جمال کاشوگی نے بھی ٹویٹ کی کہ انھیں سعودی اخبار الحیات میں لکھنے سے روک دیا گیا ہے کیونکہ انھوں نے بظاہر اپنی ٹوئٹس میں اخوان المسلمین کی حمایت کی تھی۔

سرمایہ کاری، معتدل انداز

گذشتہ ماہ کے آخر میں سعودی عرب کے والی عہد محمد بن سلمان نے کاروباری کانفرنس میں اربوں ڈالر مالیت کا نیا شہر اور کاروباری زون تعمیر کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے این ای او ایم (نیوم) نامی منصوبے کے بارے میں بتایا کہ ملک کے شمال مغربی علاقے میں 26 ہزار پانچ سو مربع کلومیٹر پر محیط ہو گا۔

بتایا گیا کہ این ای او ایم (نیوم) نامی منصوبے سے سال دو ہزار تیس تک سعودی معیشت میں ایک سو ارب ڈالر تک حصہ ہو گا اور یہ بحرِ احمر کے ساحل اور عقابہ خلیج پر ایک پرکشش منزل ہو گا جو ایشیا، افریقہ اور یورپ سے جوڑے گا۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی سیاحتی ویزے کی شروعات بھی کریں گے۔

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب میں ‘معتدل اسلام کی واپسی’ کے لیے کوشاں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم اپنی زندگیوں کے آئندہ 30 سال ان تباہ کن عناصر کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔ ہم انتہا پسندی کو جلد ہی ختم کر دیں گے۔’

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب میں ’معتدل اسلام کی واپسی‘ کے لیے کوشاں ہیں۔

شہزادہ محمد بن سلمان کو ملک کے نئے ترقیاتی پلان وژن 2030 کا بانی بھی مانا جاتا ہے۔ سعودی حکومت کی کوشش ہے کہ ملک کو اقتصادی طور پر تیل پر انحصار کم کرنا پڑے۔

اس ضمن میں شہزادہ سلمان نے گذشتہ روز ایک اقتصادی میگا سٹی کا اعلان بھی کیا ہے جو کہ مصر اور اردن کے سرحدی علاقے میں 500 بلین ڈالر کی مدد سے تعمیر کی جائے گی۔

سعودی عرب کی 31 سالہ شہزادے محمد بن سلمان کا عروج حیرت انگیز ہے۔

Mohammed Bin Salman

Mohammed Bin Salman, Saudi Arabia’s Deputy Crown Prince

یمن میں بے نتیجہ اور نقصان دہ فوجی کارروائیوں کے پیچھے کارفرما رہنے کے باوجود وہ اپنے ملک میں خاصے معروف ہیں، خاص طور پر نوجوان سعودیوں میں۔

انھوں نے سرکاری اداروں میں بہت سارے غیر مؤثر اور بزرگ افراد کی جگہ مغرب سے تعلیم یافتہ نوجوان ٹیکنوکریٹس کو بھرتی کیا ہے۔ انھوں نے ایک انتہائی پر جرات مندانہ تعمیراتی منصوبہ ‘وژن 2030’ بھی ترتیب دیا اور سعودی عرب کی سرکاری آئل کمپنی سعودی ارماکو کے کچھ حصوں کی فروخت کا بھی اعلان کیا۔

نھوں نے واشنگٹن اور ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بھی تعلقات قائم کیے لیکن ان کی سب سے بڑی اور خطرہ موہ لینے والی کوشش قدامت پسند مذہبی اسٹیبلشمنٹ پر قدغن لگانا ہوسکتی ہے۔ واشنگٹن کو یہ کوشش پسند ہے لیکن ان کے ملک کے قریبی ساتھیوں کو یہ پسند نہیں۔

نئے ولی عہد محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد کی حیثیت سے یمن سعودی عرب جنگ، توانائی سے متعلق عالمی پالیسی سازی اور اس کے نفاذ اور تیل کے ختم ہوجانے کے بعد ریاست کے مستقبل سے متعلق منصوبوں کے لیے ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

Mohammed Bin Salman at the of 32 is the most powerful Saudi royal in decades-1

محمد بن سلمان 31 اگست 1985 کو پیدا ہوئے تھے اور وہ اس وقت کے شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز السعود کی تیسری اہلیہ فہدہ بن فلاح کے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں۔

ریاض کی کنگ سعود یونیورسٹی سے بیچلرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد شہزداہ محمد نے کئی سرکاری اداروں میں کام کیا۔ اُن کی ایک ہی بیوی ہے جن سے ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان فرانس میں 30 کروڑ ڈالر مالیت کے محل کے اصل خریدار ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق نیویارک ٹائمز نے پیرس کے مغرب میں واقع محل کو دنیا کا مہنگا ترین گھر قرار دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ اپنے ملک میں بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے والے طاقتور ولی عہد کی غیر معمولی قیمتی خریداریوں کی ایک کڑی ہے۔

سعودی عرب کے حکام نے جولائی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ پر ردعمل دینے سے انکار کیا تھا جس میں فرانس کی تحقیقاتی صحافت کی ویب سائٹ میڈیا پارٹ میں نشاندہی کی گئی تھی کہ شہزادہ محمد بن سلمان محل کے اصل خریدار ہیں۔

فارچون میگزین نے 2015 میں اس محل کی فروخت کے وقت بتایا تھا کہ محل کے فواروں کو آئی فون کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور اپنے طرز تعمیر کے لحاظ سے یہ 17ویں صدی کی عمارت دکھائی دیتی ہے۔

اس وقت محل کی خریداری کو دنیا کا سب سے مہنگا گھر قرار دیا گیا تھا۔

اصل میں عمارت کو 19 ویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا تاہم سعودی عرب کی ایک کمپنی نے اسے خرید کر منہدم کر دیا تھا اور اس کی جگہ نئی عمارت کھڑی کی تھی۔

57 ایکٹر پر مشتمل اس محل میں سینیما گھر، ڈیلکس سوئمنگ پول، فوارے، سرنگ اور زیر آب کمرہ ہے جس کی شیشے کی چھت سے پانی میں تیرتی رنگ برنگی مچھلیوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق اطالوی آرٹسٹ لیونارڈو ڈاونچی کی بنائی ہوئی دنیا کی مہنگی ترین پینٹنگ ‘ سلاوتور مندی’ کے خریدار سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہیں۔

یاد رہے کہ گذشہ ماہ نیویارک میں ہونے والی نیلامی میں 500 سال پرانی پینٹنگ 45 کروڑ ڈالر میں فروخت ہوئی تھی لیکن نیلام میں خریدنے والے کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ حال ہی میں شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں انسداد بدعنوانی کے شاہی منصوبے کے تحت کئی شہزادوں اور حکومتی وزراء کو گرفتار کیا تھا اور ان کی رہائی کےعوض لُوٹی ہوئی دولت لوٹانے کو کہا تھا۔

Mohammed Bin Salman, Saudi Arabia's Deputy Crown Prince-2

Mohammed Bin Salman, Saudi Arabia’s Crown Prince

‘سلاوتور مندی’ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے 1505 میں تخلیق کیا گیا تھا۔ اس کے خالق لیونارڈو ڈا ونچی کی وفات 1519 میں ہوئی تھی اور اب ان کی بنائی ہوئی 20 سے بھی کم پینٹنگز وجود میں ہیں۔

سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار خواتین شائقین کو سٹیڈیم میں جا کر مردوں کے فٹبال میچز دیکھنے کا موقع ملا ہے۔

خیال رہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے خواتین کے حقوق اور اختیارات پر پہلے سے موجود عائد پابندیوں کو کم کرنے کا آغاز گذشتہ برس سے کیا ہے جس کے تحت گاڑی چلانے کی اجازت، بغیر محرم کے سعودی عرب میں داخلے کی اجازت اور تفریح کے لیے گھر کی بجائے کھیل کے میدان میں جانے اور سینیما گھروں میں جانے کا موقع تاریخ میں پہلی بار مل رہا ہے۔

جمعے اور سنیچر کو منعقد ہونے والے فٹ بال میچز کو دیکھنے کے لیے اکیلی آنے والی خواتین اور فیملز کے لیے مردوں سے الگ انکلوژرز بنائے گئے تھے۔

میچ کے دوران خواتین کی جانب خواتین عملے کو ہی تعینات کیا گیا تھا۔ روایتی کالے حجاب میں ملبوس ان خاتون اہلکاروں نے خواتین شائقین کو خوش آمدید کہا۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ چند روز پہلے ہی ملک میں پہلے ویمن سکواش ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا گیا تھا جبکہ گذشتہ برس نومبر میں ویمن باسکٹ بال چیمپیئن شپ منعقد ہوئی۔ اس وقت وہاں آنے والی خواتین شائقین کی تعداد 3000 بتائی گئی تھی۔

سعودی خواتین پر اب بھی کچھ پابندیاں برقرار ہیں جن میں انھیں مردوں کی اجازت ضروری ہوتی ہے ان میں سے چند یہ ہیں۔

  • پاسپورٹ کا حصول
  • بیرون ملک سفر
  • شادی
  • بینک اکاؤنٹ کھلوانے
  • مخصوص کاروبار شروع کرنے
  • موت کی سزا پانے کے بعد ان کی میت کی گھر منتقلی

بشکریہ بی بی سی

Mohammad Bin Salman Bin Abdulaziz Al Saud, also known as MBS, is the Crown Prince of Saudi Arabia, also serving as First Deputy Prime Minister, President of the Council for Economic and Development.
Born: 31 August 1985 (age 32), Jeddah, Saudi Arabia
Spouse: Sara bint Mashoor bin Abdulaziz Al Saud (m. 2008)
Education: King Saud University
House: House of Saud
Siblings: Sultan bin Salman Al Saud, MORE
Parents: Salman of Saudi Arabia, Fahda Bint Falah Al Hithleen AlAjami
The 32-year-old has become the most influential figure in the world’s leading oil exporter. In June 2017 he was elevated to the position of crown prince, replacing his cousin.
Advertisements