jump to navigation

Fehmida Riaz 28th July 1945 – 20th Nov 2018 November 21, 2018

Posted by Farzana Naina in Fehmida Riaz, Literature, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shairy, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags: ,
add a comment

Fehmida riyaz 0

پاکستان کی ممتاز انقلابی شاعرہ ’’ فہمیدہ ریاض‘‘ رضائے الہی سے لاہور میں انتقال فرما گئیں۔

انا للہ و انا الیہ راجعون

 اپنے تانیثی اور غیر روایتی خیالات کے لئے معروف

فہمیدہ ریاض (تخلص فہمیدہ) :۲۸  ؍جولائی ۱۹۴۵ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئیں، ایم اے تک تعلیم حاصل کی، لندن سے فلم ٹیکنک میں ڈپلوما حاصل کیا، طالب علمی کے زمانے میں حیدرآباد میں پہلی نظم لکھی جو ’’فنون‘‘ میں چھپی۔

پہلا شعری مجموعہ ’’پتھر کی زبان‘‘ ۱۹۶۷ء میں منظر عام پر آیا۔’’بدن دریدہ‘‘ ۱۹۷۳ء میں ان کی شادی کے بعد انگلینڈ کے زمانہ قیام میں چھپا۔’’دھوپ‘‘ ان کا تیسرا مجموعۂ کلام ۱۹۷۶ء میں چھپا۔  

کچھ عرصہ نیشنل بک کونسل ، اسلام آباد کی سربراہ رہیں، جب جنرل ضیاء الحق برسر اقتدار آئے تو یہ ادبی مجلہ ’’آواز‘‘ کی مدیرہ تھیں، ملٹری حکومت ان کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتی تھی لہذا یہ ہندوستان چلی گئیں۔

 ’’کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے‘‘۱۹۴۸ء میں ہندوستان میں ان کا شعری مجموعہ چھپا۔

ضیاء الحق کے انتقال کے بعد فہمیدہ ریاض پاکستان واپس آگئی تھیں۔

ان کی دیگر تصانیف کے نام یہ ہیں:

’حلقہ مری زنجیر کا ‘، ’ہم رکا ب‘، ’ادھورا آدمی‘، ’اپنا جرم ثابت ہے‘، ’ میں مٹی کی مورت ہوں‘، ’آدمی کی زندگی‘۔ ان کی محبوب صنف سخن نظم رہی ۔

پروردگار ان کی مغفرت فرمائے ۔ آمین۔

Fehmida Riaz

چادر اور چار دیواری

فہمیدہ ریاض

حضور میں اس سیاہ چادر کا کیا کروں گی

یہ آپ کیوں مجھ کو بخشتے ہیں بصد عنایت

نہ سوگ میں ہوں کہ اس کو اوڑھوں

غم و الم خلق کو دکھاؤں

نہ روگ ہوں میں کہ اس کی تاریکیوں میں خفت سے ڈوب جاؤں

نہ میں گناہ گار ہوں نہ مجرم

کہ اس سیاہی کی مہر اپنی جبیں پہ ہر حال میں لگاؤں

اگر نہ گستاخ مجھ کو سمجھیں

اگر میں جاں کی امان پاؤں

تو دست بستہ کروں گزارش

کہ بندہ پرور

حضور کے حجرۂ معطر میں ایک لاشہ پڑا ہوا ہے

نہ جانے کب کا گلا سڑا ہے

یہ آپ سے رحم چاہتا ہے

حضور اتنا کرم تو کیجے

سیاہ چادر مجھے نہ دیجئے

سیاہ چادر سے اپنے حجرے کی بے کفن لاش ڈھانپ دیجئے

کہ اس سے پھوٹی ہے جو عفونت

وہ کوچے کوچے میں ہانپتی ہے

وہ سر پٹکتی ہے چوکھٹوں پر

برہنگی تن کی ڈھانپتی ہے

سنیں ذرا دل خراش چیخیں

بنا رہی ہیں عجب ہیولے

جو چادروں میں بھی ہیں برہنہ

یہ کون ہیں جانتے تو ہوں گے

حضور پہچانتے تو ہوں گے

یہ لونڈیاں ہیں

کہ یرغمالی حلال شب بھر رہے ہیں

دم صبح در بدر ہیں

حضور کے نطفہ کو مبارک کے نصف ورثہ سے بے معتبر ہیں

یہ بیبیاں ہیں

کہ زوجگی کا خراج دینے

قطار اندر قطار باری کی منتظر ہیں

یہ بچیاں ہیں

کہ جن کے سر پر پھرا جو حضرت کا دست شفقت

تو کم سنی کے لہو سے ریش سپید رنگین ہو گئی ہے

حضور کے حجلۂ معطر میں زندگی خون رو گئی ہے

پڑا ہوا ہے جہاں یہ لاشہ

طویل صدیوں سے قتل انسانیت کا یہ خوں چکاں تماشہ

اب اس تماشہ کو ختم کیجے

حضور اب اس کو ڈھانپ دیجئے

سیاہ چادر تو بن چکی ہے مری نہیں آپ کی ضرورت

کہ اس زمیں پر وجود میرا نہیں فقط اک نشان شہوت

حیات کی شاہ راہ پر جگمگا رہی ہے مری ذہانت

زمین کے رخ پر جو ہے پسینہ تو جھلملاتی ہے میری محنت

یہ چار دیواریاں یہ چادر گلی سڑی لاش کو مبارک

کھلی فضاؤں میں بادباں کھول کر بڑھے گا مرا سفینہ

میں آدم نو کی ہم سفر ہوں

کہ جس نے جیتی مری بھروسہ بھری رفاقت 

 

Fehmida Riaz 1

باکرہ

فہمیدہ ریاض

آسماں تپتے ہوئے لوہے کی مانند سفید

ریگ سوکھی ہوئی پیاسے کی زباں کی مانند

پیاس حلقوم میں ہے جسم میں ہے جان میں ہے

سر بہ زانو ہوں جھلستے ہوئے ریگستاں میں

تیری سرکار میں لے آئی ہوں یہ وحش ذبیح

مجھ پہ لازم تھی جو قربانی وہ میں نے کر دی

اس کی ابلی ہوئی آنکھوں میں ابھی تک ہے چمک

اور سیہ بال ہیں بھیگے ہوئے خوں سے اب تک

تیرا فرمان یہ تھا اس پہ کوئی داغ نہ ہو

سو یہ بے عیب اچھوتا بھی تھا ان دیکھا بھی

بے کراں ریگ میں سب گرم لہو جذب ہوا

دیکھ چادر پہ مری ثبت ہے اس کا دھبا

اے خدا وند کبیر

اے جبار

متکبر و جلیل

ہاں ترے نام پڑھے اور کیا ذبح اسے

اب کوئی پارۂ ابر آئے کہیں سایہ ہو

اے خدا وند عظیم

باد تسکیں! کہ نفس آگ بنا جاتا ہے

قطرۂ آب کہ جاں لب پہ چلی آئی ہے

***     ***     ***

 

زبانوں کا بوسہ

فہمیدہ ریاض

زبانوں کے رس میں یہ کیسی مہک ہے

یہ بوسہ کہ جس سے محبت کی صہبا کی اڑتی ہے خوشبو

یہ بد مست خوشبو جو گہرا غنودہ نشہ لا رہی ہے

یہ کیسا نشہ ہے

مرے ذہن کے ریزے ریزے میں ایک آنکھ سی کھل گئی ہے

تم اپنی زباں میرے منہ میں رکھے جیسے پاتال سے میری جاں کھینچتے ہو

یہ بھیگا ہوا گرم و تاریک بوسہ

اماوس کی کالی برستی ہوئی رات جیسے امڈتی چلی آ رہی ہے

کہیں کوئی ساعت ازل سے رمیدہ

مری روح کے دشت میں اڑ رہی تھی

وہ ساعت قریں تر چلی آ رہی ہے

مجھے ایسا لگتا ہے

تاریکیوں کے

لرزتے ہوئے پل کو

میں پار کرتی چلی جا رہی ہوں

یہ پل ختم ہونے کو ہے

اور اب

اس کے آگے

کہیں روشنی ہے

***     ***     ***

Fehmida Riaz2

کب تک مجھ سے پیار کرو گے

کب تک؟

جب تک میرے رحم سے بچے کی تخلیق کا خون بہے گا

جب تک میرا رنگ ہے تازہ

جب تک میرا انگ تنا ہے

پر اس کے آگے بھی تو کچھ ہے

وہ سب کیا ہے

کسے پتہ ہے

وہیں کی ایک مسافر میں بھی

انجانے کا شوق بڑا ہے

پر تم میرے ساتھ نہ ہوگے تب تک 

Fehmida riyaz Kya tum chand na dekho ge 1