jump to navigation

Saleem Figaar – تارہ تارہ سی اک ہستی

’’ تارہ تارہ سی اک ہستی ‘‘

سلیم فگار ایک بہترین شخصیت، اعلیٰ پائے کے شاعر ، ایک منفرد لہجے کے تخلیق کار ہیں ، ان میں شعری صلاحیت ان کے اپنے وجدان اور آگہی کے خزانے سے ابھر کر ظاہر ہوئی ہے، انتہائی پرخلوص و حلیم الطبع شخصیت ہیں ، کوئی بھی انسان ان اوصاف کا حامل ہو تو اس کے لیئے بخیلی سے کام نہیں لیا جا سکتا ، وہ اپنے سفر میں کسی سے متاثر یا مرعوب ہوئے بغیر تازہ کاری کی بلندیاں طے کرتے چلے جا رہے ہیں، زندگی کو شعر میں تراش کر اس کی آرائش کرنا سلیم فگار کا ہی خاصہ ہے۔ 

 
سلیم فگار نے کبھی تواتر سے اپنے اشعار سنا کر سماعتوں کو مجروح نہیں کیا بلکہ اس حوالے سے وہ عقیدت بھرے لہجے میں اقبال کوثر صاحب کا ذکر کرتے ہوئے ان کے اشعار سنا دیتے ہیں اور وسعتِ قلب سے ان کو بڑا شاعر قرار دیتے ہیں، اسی طرح اچھا شعر چاہے کسی کا ہو وہ بغیر ہچکچاہٹ سناتے اور ستائش کرتے ہیں ، یہ وصف دور حاضر میں خال خال ہی دیکھا ہے ،اورجب کبھی سلیم فگار اپنا شعر سنادیں تو دل سے بے اختیار واہ نکلتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ میں ان کے مجموعۂ کلام کی اشاعت کے لیئے اصرارکیا کرتی، بالآخر وہ دن بھی آ گیا اور کتاب ایک روز میرے ہاتھوں میں تھی ۔ 

میں اس مسرت کو بیان کرنے سے قاصر ہوں جو اس کتاب نے مجھے بخشی ’’ ستارہ سی کوئی شام ‘‘ جگمگاتی جھلملاتی مجھے روشن کرنے لگی۔
تیرا پیام کیا ملا فصل خزاں میں بھی مرے
دل کی اداس شاخ پر جیسے گلاب آگئے 

جب بھی کبھی سلیم فگار سے گفتگو ہوئی خلوص و احترام کے ایک روشن احساس سمیت فخر بھی ہوا کہ وہ مجھے آپی کے لقب سے مخاطب کرتے ہیں ، ان کا مہذب اور شائستہ لہجہ سچ مچ مجھے اپنے بھائیوں کی یاد دلاتا ہے ، میں نے ان کی ذات سے وابستہ کوئی منفی بات کبھی نہیں سنی، یہ اس روئیے کے اکدم بر عکس ہے جو کہ عموما شاعروں کی طبیعت کا خاصہ ہے، چاہے وہ بزرگی کے مقام پر ہی کیوں نہ ہوں!
سلیم فگار کی شخصیت میں انا اور حساسیت کوٹ کوٹ کر بھری ہے جس نے کسی دوسرے کو نیچا دکھانے کی کبھی کوشش نہیں کی، وہ کسی کی شخصیت کو زیرِ بحث نہیں لاتے اور خواتین کا خصوصی احترام گویا واجب ہے۔
آ پ اگر ان کے کلام کا مطالعہ کرنے سے پہلے یا مطالعہ کرنے کے بعد بھی ان سے ملاقات کریں گے تو آ پ کو ظاہر و باطن کے تضاد کا ایک معمولی سا نکتہ ڈھونڈے نہیں ملے گا، فی زمانہ ایسی شخصیات ناپید ہی لگتی ہیں، جبکہ وہ منفرد انسان ثابت قدمی سے اپنی روایات سے انگوٹھی میں نگینے کی طرح جڑے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ عزت سے زیادہ کاغذ کمانے کا چکر سب کو ایک دوسرے سے کھینچ لے گیا ہے اور یہی وجہ ہے جو آس پاس بیٹھے ہوئے یا گلیوں محلوں میں چلتے ہوئے ہم ایک دوسرے کو دیکھ تک نہیں سکتے ؂ 

ہوئے ہیں کھوکھلے ہم لوگ ہجرت میں سو ڈرتے ہیں
خلا یہ روح کا ایسا نہ ہو باہر نکل آئے
نہ جانے کھول دے کب کوئی لمحہ یاد کی گٹھڑی
کسی کونے سے ماضی کا حسیں منظر نکل آئے 

سلیم فگار کی شاعری کبھی ایسی لگتی ہے گویا آنسوؤں کی کوئی زنجیر ، جس کی ایک ایک کڑی کو کھولتے جائیں تو اس میں سے موتی ٹپکے اور ان موتیوں کو ڈھونڈ لانے والے کی محنت کو آپ سراہتے جائیں۔  

یہ لگتا ہے کہ پتوں پر رکھی تھیں منتظر آنکھیں
مرے آتے ہی کتنے پھول شاخوں پر نکل آئے 

اس خوبصورت شعر کی علامات اور معنی پر کئی کیفیات سے تشریح کی جاسکتی ہے، ایک ہی شعر میں کئی جذبوں کو گھول دینا شاعر کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے، الفاظ کی ترتیب اور موضوع میں جان ہو تو شعر قاری کی دھڑکن میں اتر جاتا ہے ، یوں لگتا ہے کہ اس کے آنے کی مسرت آمیز گھڑی نے پھولوں کو اسقبال کے لیئے بلا لیا ہے مگر اگلی ہی لمحے یاس کی ایک کیفیت طاری ہو کر یہ بھی بتا گئی ہو کہ بہار تو شاید تیرے جانے کی منتظر تھی ! 

گرے ہیں جتنے آنسو دامنِ صحرا میں صدیوں سے
سلگتی ریت بھی اندر سے شاید تر نکل آئے
*
سلیم فگار نے کسی رومانی تجربے کو بھلایا نہیں ، شایدیہ کسی فراق کا ایک ٹکڑا دل میں تیر بنا کر گاڑے ہوئے ہیں ، اس شعر میں محبت کا ترنم ہے ، وفا کی کہانی ہے ، سوگواری کا ایک حسین پیکر بھی ہے ۔ ؂ 

دل سے اس کا نکلنا مشکل ہے 

تیر جیسی گڑی ہوئی ہے یہاں 

یہاں تخیل کے بنیادی پہلو کھل رہے ہیں ، کسی پیکر کی محبوبیت، مبہوت ہونے پر مجبور کردے ، طلسمِ ہوشربا جیسی کہانیاں بُننے لگے تو وہ اس جادو ئی گرفت کو اپنے الفاظ کا جامہ شعر کی صورت یوں پہنائے گا ! 

کیا کیا طلسم کھلتے رہے میری ذات پر
تصویر دیکھتا رہا، تصویر ہو کے میں

عہدِ حاضر کے شاعروں کا جب بھی ذکر کیا جائے گا تو سلیم فگار یقیناان کی صف میں نظر آئیں گے ، ان کے تصورات و الفاظ میں وہ خالص حسن ہے جو قاری کو اپنی کشش سے کھینچ لیتا ہے ، ان کے خیال کی گہرائیوں کا لطف صاحبِ ذوق حضرات دل کے آئینوں میں دیکھیں گے ، کبھی جب چاند نظروں سے اوجھل ہو اور ستاروں کے جمگٹھے بھی چھٹ جائیں توسلیم فگار کہتے ہیں ؂ 

وہ چاند ٹوٹ گیا جس سے رات روشن تھی
چمک رہے تھے فلک پر جو سب ستارے گئے
فگارؔ آگ کہاں اب دھواں بھی مشکل ہے
وہ شب کو اوس پڑی ہے کہ سب شرارے گئے 

شاعری سلیم فگار کی شخصیت کا وہ حصہ بھی ہے جس میں منکسر المزاجی کی کشش ہے،بیشک وہ زمانے کے لیئے درویش صفت ہیں لیکن اپنوں پر مان یہ بھی کہلوا دیتا ہے کہ ؂ 

ہم بوریا نشین ترے شاہ بھی تو ہیں
یا ٹوٹ جا یا ساتھ گزارے کی بات کر

سلیم فگار جیسے قابلِ فخر شاعر یہ بھی کہتے ہیں کہ ؂ 

اب آسمان سارا مری دسترس میں ہے
انگلی اٹھا کسی بھی ستارے کی بات کر 

یہ علم و ادب میں اک نئی تحریک کا فروغ ہے جو اپنے علم کی بنیاد کو مضبوط کر چکی ہے ، نیا زمانہ اور اس دور کے رحجانات سے واقف ہے ، اس کے وجود میں کوئی احساسِ کمتری نہیں پنپ سکتا ،ٹھوس لہجہ اور یہی رویہ لکھنے والے کی قوت کو تسلیم کرتا ہے، اس کے لا شعور میں  محفوظ خزانوں سے فیض اٹھاتا ہے۔
زوالِ آدمیت دیکھ کر میں 

کفِ افسوس ملتا جا رہا ہوں 

سلیم فگار حیاتِ انساں کی جدو جہد کا ادراک رکھنے والے شاعر ہیں ، ان کی امیدوں کا سورج کہیں غروب نہیں ہو سکتا ، مغرب کے بڑے شاعروں اور فلاسفرز نے شاعری کو بہت بڑی الہامی کیفیت یا طاقت گردانا ہے جن میں ارسطو، افلاطون جیسے نام بھی شامل ہیں، سلیم فگار کی شاعری موضوعات کے اعتبار سے جدید اور مطالعے سے بھرپور بڑی شاعری ہے۔
ہر رات کے روزن سے یہی سوچ کے جھانکا
شاید کہ پلٹ آئے وہ بھولا ہوا سورج 

ان کا رویہ انقلابی تو نہیں لیکن فکرِ انساں کی عبارت سے مزین ہے ، وہ 

اپنے اندرونی مزاج کے تحت حالات و واقعات کا خارجی مطالعہ بڑی باریک بینی سے کر رہے ہیں ، ان کی ذات میں ایک فطری شاعر مکمل موجود ہے ۔ ؂ 
کیسے شفیق پیڑ تھے کٹنے کے بعد بھی
ان کا مرے وجود سے سایہ نہیں گیا 

سلیم فگار نے اپنے تعلق کے حوالے سے بھی کسی نا انصافی کا مظاہرہ نہیں کیا، وہ اپنے استادوں، قرب و جوار کے مہربانوں اور شفیق والدین کے زیرِ سایہ پنپتی ہوئی یادوں کے زیرِ اثر احسان مندی کے جذبوں سے مالا مال ہیں، یہ ایک با شعور ذہن کی علامت ہے ، جو بخوبی جانتا ہے کہ انسان کی شخصیت کے بننے بگڑنے میں اس کے آس پاس کے لوگ اور ماحول گھنی چھاؤں کا پَرتو ہوتے ہیں ، جنہوں نے زمانے کے سرد و گرم سے روشناس کروایا، اپنی نصیحتوں کی پوٹلی باندھ کر بطور زادِ سفر ان کے حوالے کی جو قدم قدم رہنما ثا بت ہوتی ہے۔ 

سورج کے ساتھ ڈوب گئے غم کی جھیل میں 
کس رات تیرا ہجر منایا نہیں گیا 

وطن سے ہجرت کرنے والے کبھی خوشی سے اپنی مٹی کی جدائی کو نہیں سہہ پاتے ، سنگی ساتھی ، شہر بغیچے ، گاؤں گلیاں، میلے ٹھیلے کیا کیا نہ رات کی تنہائیوں میں منظر بن کر سامنے آ کھڑا ہوتا ہے ، انسان اپنی یاد داشت کو کھرچ سکتا ہے نا اس دوری کی ٹیسوں سے کراہنا بند کر سکتا ہے ، یہ باطنی بگولے کبھی ریت اڑاتے ہیں تو کبھی راکھ بناتے ہیں ، اس درد کا ایک ایک بخیہ ادھیڑ کر شعر میں ڈھال لینے کا ہنر دیکھیئے ؂ 

عذاب اک ہر گھڑی ہے ساتھ اپنے
مسلسل بے گھری ہے ساتھ اپنے
اکیلا راکھ میں ہی تو نہیں ہوں
کہ شب بھی تو جلی ہے ساتھ اپنے
ہمیں تو راستے میں سب نے چھوڑا
فقط اک شاعری ہے ساتھ اپنے 

موت و حیات پر حسنِ کلام ملاحظہ کیجئے ، دونوں مقامات کو سلیم فگار  نے کس خوبی سے باندھا ہے ، تخلیق اور فنا کا عمل شعر میں ڈھالنا کوئی مذاق نہیں ، ان کے اظہار کی اس فراوانی پر دعا ہی دی جا سکتی ہے ، یہ افسردگی میں ڈوبے شعر نہیں بلکہ فکر اور جستجو میں ڈوبی ہوئی امید کے الفاظ ہیں ۔ ؂ 

چمکے گا کوئی کیسے سرِ خاک ستارہ
ہر بار اٹھا لیتے ہیں افلاک ستارہ
کم ہوتی نہیں تیرگی مٹی کے بدن سے
رکھا ہے کئی بار تہہِ خاک ستارہ 

ہمیں اپنی روزی روٹی کے حصول کے لیئے زمانے کی چکی میں پسنا ہی   پڑتا ہے ، زندگی جدو جہد کا نام ہے ، جو اس میں شریک نہ ہو سکا وہ ناکامی کا شکار ہو جاتا ہے، ہوا سے شاخِ گلاب بھی تو جھک جاتی ہے ، حسرت اور شکست کا جذبہ کبھی کبھار حوصلے پست کر دیتا ہے ،گو کہ دنیاوی معاملات سے کسی کو مفر نہیں اور انسان کبھی خوشی سے پابندیاں قبول نہیں کرتا ، بہر صورت زندہ دلی کی کیفیت کو برقرار رکھنا چاہیئے، اسی جذبے کے اظہار کا تخلیقی استعمال دیکھئے ؂  

رات ہے جشن مری روح کی آزادی کا 

صبح پھر جسم کے زندان میں آ جاتا ہوں

یہ ایک پُر پیچ احساس ہے جسے بڑی سہولت سے بیان کردیا گیا ، شاعر کا مقصد اس جذبے کی تکمیل ہے جو اسے پسند ہے لیکن مجبورئ حالات اپنی جگہ ، سلیم فگار نے بڑا خوبصورت اعتراف کیا ہے کہ رات ہی وہ پرسکون وقت ہے جب ایک انسان دنیا کے جھمیلوں سے آزاد ہو کر سوتا ، جاگتا اور سوچتا ہے ، دن کے دھندے اپنے پھندے کھول چکے ہوتے ہیں اور تصورات کی لہریں بڑھ کر اپنے گھیرے میں لے لیتی ہیں ، یقینی طور پر اس حصے میں وہ اپنی ذات ، اپنے ذہن اور اپنے شعری سرمائے میں اضافہ کرتے ہوں گے ۔ 

خدا تو مجھ سے ہے میں ہی نہیں جو خود میں فگار
رہے پھر اس سے بھی کیوں رابطہ بحال کوئی

انسان نے خدا کو کبھی اپنی جیتی جاگتی آنکھ سے نہیں دیکھا، اس کا  اعتقاد ہے ، اس کا وجدان ہے جو اسے تمام کائنات بنانے والی کسی ایک ہستی کا یقین دلاتا ہے ، بڑے بڑے اولیاء ، انبیاء ، دنیا بھر کے مذاہب بھی سب سے پہلے اپنے آپ میں جھانکنے کی تلقین کرتے آئے ہیں، اس کھوج میں انسان یہ جان لیتا ہے کہ میری اچھائی، میری سچائی ہی خدا کا مجھ میں ہونا ہے ، ہم ازل سے ابد تک عبودیت کے ایک سلسلے سے جڑے ہوئے ہیں البتہ اُس وجود کے لیئے سوالات کا ابھرنا فطری ہے ، ان سوالوں کے جواب بھی ہم خود کو خود ہی دیتے ہیں !  

لہجے ہیں یا نرخ آویزاں کاروباری چہروں پر
اونچی نسبت والے بھی تبدیل ہوئے دکانوں میں 

وقت کے ہمراہ زمانہ، روایتیں، قدریں بدلنے کی شکایات ہر دور میں رہی     ہیں ،البتہ موجودہ دور جس سُرعت سے تبدیل ہوا اور دولت کے پیچھے دوڑنے والوں نے دنیا کی جو سنگین صورتحال بنا دی ہے اس پر تاسف کسی اچنبھے کے علاوہ ایک دکھ کی کیفیت میں بھی ڈبو رہا ہے ، اس کیفیت کو سلیم فگار کی حساسیت نے کئی طرح قلمبند کیا ہے ، اس ضمن میں ان کی سچی آنکھیں پیاسی لگنے لگی ہیں، اک عجب سی گھٹن کا ماحول ہے ، زندگی کی اس کثافت کو صاف کرنا محال ہوا جاتا ہے ، مادی دنیا اب جیل خانے کے سوا کیا ہے !  

سب لوگ کناروں پہ پڑے ہانپ رہے ہیں
لہروں میں تری کوئی دلاسہ نہیں دریا
*
میں تو بقائے آدمی پر سوچتا ہوں دوست
زندہ بچے گا کیا کوئی انساں زمین پر  

سلیم فگار کا یہ شعر فکر کی بلندیوں کا عکاس ہے ، روح کی گہرائیوں سے نسلِ انساں کی بقا کے متعلق سوچنا ، اس کی بربادی پر افسوس میں مبتلا ہونا ایک باشعور ذہن سے وابستہ ہے ، آنے والی ہولناکیوں کے نتائج سے آگہی کے بارے میں ایک بڑا شاعر ہی ایسے شعر تخلیق کرتا ہے۔ ؂
اثاثہ ہوں میں اپنی آنے والی کتنی صدیوں کا

خبر کیا تم کو مجھ پر کس قدر تحقیق ہونی ہے  

گذشتہ دنوں شاعری کے حوالے سے میرے زیرِ مطالعہ سائنسی اشعار کا ایک مضمون تھا، تجربوں ، مشاہدوں اورسائنسی موضوعات کے آہنگ نے بڑا محظوظ کیا، سلیم فگار کے بھی کئی اشعار مجھے سائنسی شعر کی لسٹ میں شامل کرنے کی خواہش ہوئی ، بارہا ان کی تراکیب عمیق گہرائی میں لے گئیں ؂  

جھکا ہوا ہے ازل سے زمیں پہ نیلا فلک
نہ وصل ہوتا ہے اس کا نہ خم نکلتا ہے 

سلیم فگار کے متعدد شعر ان کی تحقیق کے باریک نکتے پیش کر رہے ہیں ،   اردو شاعری کے تمام موضوعات و امکانات شامل کرنے والے اس شاعر کے مزید کچھ شعر ملاحظہ کیجئے ۔ ؂ 

یہ کائنات مری رہ گذر ہے دیکھیں اب 

جنونِ شوقِ سفر کتنی دور جائے گا
صدا کی طرح سے جاری یہ آدمی کا سفر
زمیں کی تہہ میں خموشی سے ڈوب جائے گا
*
ہزار قرنوں سے جاری یہ سلسلہ ہے فگاؔ ر
 میں لوٹتا ہوں تو وہ پھر سے بھیجتا ہے مجھے 

ھوک کی کلہاڑیاں ، سر سبزی و شادابی کی موت ، گلوبل وارمنگ کی بنا پر دنیا میں آنے والے قحط، آندھیوں کی جولانیاں، سونامی سے تباہیاں اور اس بجھتے ہوئے کرہ ارض کی خاطر سسکاریاں ، سلیم فگار نے جو کرب بیان کیا ہے وہ ذاتی غم نہیں ہے ، یہ ان کی بے پناہ شخصیت میں چھپی برہمی کی تصویر ہے۔ ؂ 

جگنوؤں کے قافلے چلتے ہیں شب بھر ریت پر 

چاندنی راتوں میں تم اک بار صحرا دیکھنا
پہلے مٹی کھیت کی بیچی گئی تھی اب فگارؔ 
بھوک کی کلہاڑیوں سے پیڑ کٹتا دیکھنا

وہ دل جو اپنی تنہائیوں میں سسکتا ہے ، وہ دل جو اپنی بے زبانی پر کڑھتا ہے ، یہ دل سلیم فگار کا ہے ، وہ موجودہ نظام میں گویا نظر بند پڑے ہیں، خونریزی ، فساد کاری، بمباری، تباہ کاری ، کیا کیا ہم اس دنیا میں بو رہے ہیں ، سکوتِ شب میں اٹھتے ہوئے ان سوالوں کا جواب ہے کہیں !

زمین کاٹ دی اور آسمان پھینک دیا
یہ کن خلاؤں میں میرا جہان پھینک دیا
گلے سے کھینچ کے آواز لفظ مار دئیے
سکوتِ شب میں مجھے بے زبان پھینک دیا

دیارِ غیر میں بسے ہوئے سلیم فگار اپنے دیس کے معاملات سے غافل نہیں ، اندھیروں کی مہریں کہاں کہاں لگ رہی ہیں، عوام کیسے پِس رہی ہے؟ ان سوالوں کا جواب ان کے دل سے اٹھتی صداؤں سے سنا جاسکتا ہے ، اگر ان کا بس چلے تو وہ ان تاریکیوں کو روشنی پہنا دیں ! ؂

وقت نے مجھ کو اوڑھا برتا
میری شکل پرانی کی ہے
شاہِ وقت نے ملک میں ہر سو
مرنے میں آسانی کی ہے
*
کیسا موسم ہے کہ قبریں اُگ رہی ہیں چار سو
خاک کو اتنا نہیں زرخیز ہونا چاہیئے
*
اس برف کے موسم میں بھی کیا آگ چھپی ہے
میں ٹھنڈی ہواؤں میں جلا اور طرح کا
*
جھکے ہوئے شانوں کو دیکھو
ان میں خوابوں کے لاشے ہیں
آنکھ سے پانی ابل رہا ہے
سینے میں کتنے چشمے ہیں
*
جسے دیکھو وہی بچہ تو گہری سوچ میں گم ہے
نہ ہنستا ہے نہ کوئی ریت کا اب گھر بناتا ہے
*
گھروں کی سہمی ہوا آنسوؤں سے سیلی ہے
گلی میں دوڑتے پھرتے ملال رہتے ہیں

سلیم فگار کے پاس سچے جذبوں کا سرمایہ ہے، ان کی ذات کی دل فگاریاں ایک ایک حرف سے آپ کے دل کو بھی کاٹیں گی ، ان کا تھما ہوا لہجہ ، اس لہجے کی حلاوت ، ہر بدگمانی کو نچوڑ سکتی ہے ، ان کی شاعری میں ایک بے اختیاری ہے، ایک ضبط و احتیاط بھی گندھا ہے،آپ اس سرمائے کی چمک کو دیکھ سکتے ہیں،اس آواز کو دیر تک سن سکتے ہیں ،کوئی بھی ذوقِ شاعری کا حامل ان کی درد مندی کا قائل ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ! ؂

مجھ کو نہ دیکھ شک بھری چبھتی نگاہ سے
جو تو سمجھ رہا ہے مرے یار میں نہیں
جو کچھ لکھا تھا بخت میں، میں نے کیا فگاؔ ر
جو کچھ ہوا ہے اس کا گنہ گار میں نہیں
*
میری آنکھوں میں پھول کھلتے تھے
اب تو پانی کی رہ گذر ہے یہاں

کیا جادو ہے اس شعر میں گویا پانی میں کنول کھل اٹھے، یا کہیں سرکنڈوں کی باڑھ پانی جمع ہونے پر خود بخود اگ جائے ، یہ اندر ٹپکتے ہوئے آنسوؤں کا جھرنا راہ چلتے مسافر کو روکے نا تو کیا کرے !
*
مجھے نہ دیکھ تو یوں سیم و زر کے ہالے سے
مجھے تو جانچ مری فکر کے حوالے سے
*
بچھڑ کے تجھ سے ابھی تک یہ واہمہ ہے مجھے
ہر ایک شخص سے بڑھ کر تو چاہتا ہے مجھے
اس شعر میں ایک مرتبہ پھر وطن کے حوالے سے تاسف ہی تاسف ابھر رہا ہے ، بے چینی سے ایک روح ٹہل رہی ہے ، بیانیے سے بصیرت ٹپک رہی ہے، اے کاش کہ کوئی ذہن کھلے ، ان کھنڈروں کے واہموں سے نکلے ! ؂

دنیا نے کیا چاند ستاروں کو مسخر
ہم لوگ فگارؔ اپنے کھنڈر سے نہیں نکلے
*
نہ پوچھ مجھ سے بسے گھر کی رونقیں کیا ہیں
کہ میں تو رہ گیا باہر ہی دَر بناتا ہوا
*
کچے رنگوں کی اس نمائش میں
میں اٹھا سادگی کی سمت گیا

گلوبل ولیج کے اس دور میں جھوٹی نمائش صاف نظر آتی ہے اب تو یوں لگتا ہے کہ کسی روایت کو نبھانے کی ضرورت ہی نہیں رہی، جس سادگی اور مروت کو قائم رکھنے کے لیئے ہمارے بزرگوں نے عمریں لٹا دیں اب اس کی کوئی وقعت نہیں رہی ، موجودہ دور کا انسان لالچ کا شکار ہو چکا ہے ، ایسے میں اپنی سادگی کو برقرار رکھنا خاصے کی بات ہے ۔ ؂

بوئی ہے کس نے تیرگی دن کے سفید کھیت میں
بستی پہ میری کس لیئے شب کے عذاب آگئے
*
کتنے اوصاف عطا اپنے مجھے اس نے کیئے
ذوقِ تخلیق دیا مجھ میں ہنر رکھا ہے
یہ تعلق بھی تو اپنا ریت سے اب بھر گیا
جب تلک جذبوں کا یہ دریا بہا اچھا لگا
*
ملے گا اِذن جو متروک و گنگ لفظوں کو
تو شہرِ جبر کا ہر اک اچھوت بولے گا
*
ایک سے بڑھ کر ایک شعر کا خزینہ ہے اس کتاب میں، بس چلے تو آپ کے لیئے میں پوری کتاب کو اقتباس و تشریح کا روپ دے دوں !
دوسری جانب سلیم فگار کی نظمیں ہیں جو مسرت و یاس کے جذبوں کی آمیزش سمیت اپنے ماحول کے گہرے اثرات ثبت کرتی ہیں، نظموں میں انہوں نے اپنے نظریات کو جدت کا لہجہ دیا ہوا ہے ، ایک شاعر کا متعدد سانچوں میں فٹ ہونا اس کی شناخت کو دوسرے شعرا سے ممیز کرتا ہے ، فنی جدو جہد کے علاوہ کہیں کہیں وہ رومان اور حقیقت کے سنگم میں کھوئے دکھائی دیتے ہیں، کرب انگیز کیفیات کیٹس کی کچھ نظموں کی طرح بات کرتی ہیں ، ہواؤں پر لکھے ہوئے تمام موسم ہاتھ پر اتر آتے ہیں، دھیمے دھیمے گنگناتے ہیں، کالی رات جکڑنے لگ جائے تو جی چاہتا ہے کہ وہ ٹھنڈا سا اجلا چاند پکڑ لیا جائے اور اس کے پر بنا کر تخیل کی دنیا میں خوابوں کے ہمراہ اڑنے چلے جائیں، یہ دلوں کے بھید ہیں ان کے رخ موڑنا آسان نہ انہیں کھوجنا آسان، کون بھلا شیشے کی الماریوں میں سجائے ہوئے تاریخ کے ڈھانچے زندہ کر سکتا ہے!

سلیم فگارؔ کا ایک ایک شعر، غزل و نظم ادبی افق پر ستاروں سا سدا جگمگاتا رہے۔آمین۔

از: فرزانہ خان نیناؔں

%d bloggers like this: