jump to navigation

Ishaq Sajid نیناں شناسیاں

از:  اسحاق ساجد ۔  جرمنی

نیناں شناسیاں

ادب سے دلچسپی رکھنے والے اور شعر و شاعری کی رسیا شخصیات کے لیئے فرزانہ خان نیناں ؔ کا نام اس لیئے نیا نہیں ہے کہ فرزانہ صاحبہ کی غزلیں، نظمیں اور مضامین یورپ، ہند و پاک کے موقر ادبی رسائل کی زینت بنتے رہتے ہیں۔

آج جہاں منفرد لب و لہجے کے شعراء ادب میں اپنا مقام بنا رہے ہیں اور شعر و ادب کی دنیا میں شاعروں کا ایک سیلاب امڈا چلا آرہا ہے وہاں فرزانہ نیناں صاحبہ ایک ایسی منفرد لب و لہجے کی شاعرہ ہیں جو کسی تعارف کی محتاج نہیں، ان کی شاعری کو مقبولیت اور شہرت کی وہ سند مل چکی ہے جو ایک شاعر کے فن کا حاصل ہوتی ہے۔

آج جبکہ نئی حسیت شاعری کی روح ہے جس کو اپنا کر شاعر اپنے عہد کو جوڑتاہے فرزانہ نیناؔں نے بھی اس حسیت کو قبول کر کے اپنی شاعری کا تا نا بانا اپنے گردوپیش کے منظر نامے سے جوڑ کر کامیابی سے رشتہ ا ُستوار کر رکھا ہے۔

فرزانہ نیناں ؔ کی مثال اس پرندے کی سی ہے جسے ہر لمحہ نئے موسم کی جستجو رہتی ہے، وہ دل کے موسموں کو محض بناوٹی موسموں سے منسوب نہیں کرتیں اور نہ وہ ان موسموں کو رقصِ بہاراں یا کیف و سرود کی محفل سے تعبیر کر کے خوش ہوتی ہیں بلکہ فکری اعتبار سے وہ ان پھولوں کو اس طرح کھلانا چاہتی ہیں کہ جہاں شاخوں سے گرنے والے پتے بھی سرسبزہی ر ہیں۔

انسان خوابوں کی دنیا میں زندہ رہ ہی نہیں سکتا اس کا جسم اور ذہن اگر بیدار ہے تو وہ اسے حصار سے باہر نکال ہی لیتا ہے، لیکن کچھ خواب ایسے بھی ہوتے ہیں جو انسان کو بیداری کے مقابلے میں زیادہ شاداب اور ترو تازہ بنا دیتے ہیں، فرزانہ نیناں ؔ خوابوں سے مایوس نظر نہیں آتیں اسی لیئے ان کے اشعار بھی تازگی کے عکاس ہیں۔

شاعر چونکہ معاشرے کا حساس ترین فرد ہوتا ہے لہذا اپنے گرد و پیش میں رونما ہونے والے واقعات و حالات سے متاثر ہوئے بغیر کیسے رہ سکتا ہے، جب پورا معاشرہ گلی سڑی لاش بن جائے تو درد مند دل رکھنے والا شاعر اپنی آنکھیں کیسے بند کر سکتا ہے، ایسے میں فرزانہ ؔ صاحبہ اپنے عہد کی سیاسی، معاشی اور معاشرتی بے اطمینانی کو نظر انداز نہیں کرتیں چنانچہ ان کے کلام میں جا بجا انسانی جذبات و ہیجانات کے نمایاں آثار ملتے ہیں، جس کا انہوں نے اکثر اپنی نظموں میں کھل کر فکری اظہار یہ کیا ہے۔

میری نگاہ میں فرزانہ نیناں ؔ کی شخصیت میں نفسیات، شائستگی، انسانی ہمدردی، خوش طبعی، اور شرافت کا بڑاحسین امتزاج پایا جاتا ہے۔

 فرزانہ صاحبہ نے اسلوبِ اظہار سے نئے قرینے تخلیق کر کے نہ صرف غزلوں کی کلاسیکی روایت کو زندہ رکھا ہے بلکہ خیال و فکر اور جذبہئ احساس کی نت نئی قندیلیں روشن کر کے غزل جزیرے کو پر کشش اور دلنواز بھی بنا دیا ہے۔

 ایک اچھی شاعرہ کو اچھا انسان ہی ہونا چاہیئے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ایک اچھی شاعرہ کو اچھی عورت ہونا چاہیئے تو بیجا نہ ہوگا اس لیئے کہ وہ غیر معمولی حساس ہوتی ہے اور میرے نزدیک فرزانہ نیناؔں اس پر پوری اترتے ہوئے ایک فطری شاعرہ ہیں، صاحبِ دل شاعرہ ہیں، ان کے کلام میں تخیل کی نادر کاریاں اور فکر کی بلندیاں محسوس کی جا سکتی ہیں، زبان و بیان کے اعتبار سے بھی ان کی شاعری قابلِ صد تحسین ہے، فرزانہ نیناؔں کا شاعرانہ مزاج اور ان کی یہ شاعری واقعی خدا کی دین ہے ان کی شاعری جادو اور ہر انداز طلسمی ہے۔

مجھے قوی امید ہے کہ فرزانہ نیناں ؔ صاحبہ اپنے کلام اور عصری آگہی کی بنیاد پر اکیسویں صدی کی ایک نمائندہ اور ممتاز شاعرہ تسلیم کی جائیں گی، اب آخر میں ان کے چند اشعار بطور نمونہ پیش ہیں۔

شوخ   نظر   کی   چٹکی   نے   نقصان  کیا

ہاتھوں  سے  چائے  کے  برتن  چھوٹے  تھے

سپنے  پہ  کیا  لکھا  ہے  یہ  تونے  نگارِ  شب

وہ   چاند  کی   مثال   مجھے   چاند   ہی   لگا

کچھ  ضروری  تو  نہیں  آپ  کو  سب  کچھ  مل  جائے

جو    ملے    کیجئے    دامن    کے   حوالے    اس   کو

٭٭٭

%d bloggers like this: