jump to navigation

Khushwant Singh March 20, 2014

Posted by Farzana Naina in Literature, Urdu, Urdu Literature.
Tags:
add a comment

khushwant s

بھارتی صحافت اور ادب کے’ڈرٹی اولڈ مین‘ خشونت سنگھ تقریباً چھ دہائیوں تک بھارتی ادب اور صحافت پر چھائے رہے۔
وہ السٹریٹڈ ویکلی اور ہندوستان ٹائمز سمیت کئی جریدوں اور اخبارووں کے ایڈیٹر رہے لیکن انہوں نے اپنے کریئر کا آغاز لاہور ہائی کورٹ میں ایک وکیل کی حیثیت سے کیا تھا۔
بعد میں وہ سفارتکار بھی رہے لیکن انہیں ایک ایسے صحافی اور ادیب کے طور پر یاد کیا جائے گا جس نے اپنی تحریروں میں کبھی ’پولیٹکلی کریکٹ‘ رہنے کی کوشش نہیں کی، انہوں نے وہ لکھا جو ان کےدل میں تھا۔
وہ اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کرتے تھے اور اکثر سیکس اور خواتین پر اپنے بیانات کی وجہ سے تنازعات میں گھر جاتے۔ اسی لیے انہیں بھارتی ادب کا ’ڈرٹی اولڈ مین‘ کہا جانے لگا تھا لیکن انہوں نے اس لقب پر کبھی اعتراض نہیں کیا۔
لیکن آؤٹ لک جریدے کے مدیر ونود مہتا سے ایک بات چیت کے دوران انہوں نے مذاق میں کہا تھا کہ ’لوگ مجھے ڈرٹی اولڈ مین تو کہنے لگے ہیں لیکن میری کتابوں میں آپ کو سیکس کا زیادہ ذکر نہیں ملے گا۔۔۔میں نے زیادہ تر سنجیدہ موضوعات پر لکھا ہے۔‘
وہ دو فروری انیس سو پندرہ کو ہڈالی میں پیدا ہوئے تھے جو اب پاکستان میں ہے۔ تقسیم کے جنون پر ان کی کتاب ’ٹرین ٹو پاکستان’ نے انہیں سب سے زیادہ شہرت دلائی۔ یہ کتاب 1956 میں شائع ہوئی تھی اور اب بھی کئی یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہے۔
ہندوستان ٹائمز میں دہائیوں سے ان کا ہفتہ وار کالم ’ود میلس ٹوورڈز ون اینڈ آل‘ (بخشا کسی کو نہیں جائے گا) بےانتہا مقبول تھا، کچھ ان کے لکھنے کے سادہ انداز کی وجہ سے اور کچھ ان کی حق گوئی اور بے باکی کی وجہ سے۔
مصنفہ سعدیہ دہلوی نے ایک مرتبہ خشونت سنگھ کے بارے میں کہا تھا کہ’ اگر خشونت سنگھ عورت ہوتے تو ہمیشہ امید سے ہی رہتے کیونکہ انہیں کسی کام کے لیے منع کرنا نہیں آتا تھا۔‘
اردو ادب اور شاعری کا انہیں بے پناہ شوق تھا جس کی جھلک ان کے مضامین میں خوب نظر آتی تھی اور ان کی ظرافت شناسی بے مثال تھی جس کا وہ اپنے کالم میں بھرپور استعمال کرتے تھے۔
موت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ’ہمارے گھروں میں موت کا شاذ ونادر ہی ذکر کیا جاتا ہے، نامعلوم کیوں جبکہ ہم سب کو معلوم ہے کہ موت آنی ہی ہے، خدا میں شک ہو تو ہو، موت میں نہیں کوئی شک۔۔۔ پچانوے سال کی عمر میں، میں اکثر موت کے بارے سوچتا ہوں، لیکن اتنا نہیں کہ نیند اڑ جائے۔ جو لوگ گزر چکے ہیں، ان کے بارے میں سوچتا ہوں کہ وہ کہاں ہوں گے، مجھے اس کا جواب نہیں معلوم کہ مرنے کے بعد آپ کہاں جاتے ہیں، پھر کیا ہوتا ہے۔۔۔؟‘
’بس میں امید کرتا ہوں کہ جب موت آئے، تو تیزی سے آئے، زیادہ تکلیف نہ ہو، جیسے بس آپ سوتے ہوئے اس دنیا سےچلے جائیں۔‘
خشونت سنگھ کو اپنے سوالوں کا جواب ملے گا یا نہیں، یہ تو معلوم نہیں لیکن موت انہیں ویسی ہی نصیب ہوئی جیسی وہ چاہتے تھے

بشکریہ: سہیل حلیم: بی بی سی اردو دہلی

عمر کے آخری دور میں بھی وہ لکھنے میں سرگرم رہے اور گزشتہ سال ان کی کتاب خشونت نامہ دی لیسنز آف مائی لائف‘شائع ہوئی تھی

عمر کے آخری دور میں بھی وہ لکھنے میں سرگرم رہے اور گزشتہ سال ان کی کتاب خشونت نامہ دی لیسنز آف مائی لائف‘شائع ہوئی تھی

وہ فروری سنہ 1915 کو موجودہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع خوشاب کے گاؤں ہڈالی میں پیدا ہوئے تھے۔
انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بھارت کے شہر دہلی میں حاصل کی اور پھر مزید تعلیم کے لیے لاہور کے گورنمنٹ کالج کا رخ کیا تھا۔
برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی اور انر ٹیمپل میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد انہوں نے واپس لاہور جا کر ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔
تقسیمِ ہند کے بعد وہ اپنے خاندان سمیت نئی دہلی میں بس گئے۔ وہ کچھ عرصہ وزارت خارجہ میں سفارتی عہدوں پر بھی تعینات رہے لیکن جلد ہی سرکاری نوکری کو خیرآباد کہہ دیا۔
ان کا ذرائع ابلاغ سے تعلق 1940 کی دہائی کے آخر میں اس وقت قائم ہوا تھا جب انھوں نے وزارتِ خارجہ میں ملازمت کی اور پہلے کینیڈا اور پھر برطانیہ اور آئرلینڈ میں افسرِ اطلاعات اور پریس اتاشی کے طور پر بھارتی حکومت کی نمائندگی کی۔
سرکاری ملازمت کے دوران ہی انھوں نے ملک کے منصوبہ بندی کمیشن کے جریدے ’یوجنا‘ کی ادارت سے اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا اور سرکاری ملازمت سے مستعفی ہونے کے بعد1951 میں صحافی کی حیثیت سے آل انڈیا ریڈیو میں نوکری اختیار کر لی جہاں سے ان کے تابناک کریئر کا آغاز ہوا۔
پدم بھوشن کی واپسی
بھارتی حکومت نے انہیں 1974 میں ملک کے دوسرے بڑے شہری اعزاز پدم بھوشن سے نوازا تھا لیکن 1984 میں گولڈن ٹیمپل میں ہونے والے فوجی آپریشن بلیو سٹار پر احتجاجاً انہوں نے یہ اعزاز واپس کر دیا تھا۔
وہ بھارت کے مشہور جریدے نیشل ہیرالڈ جو کہ بعد میں السٹریٹڈ ویکلی کہلایا کہ مدیر رہے اور ان کے دور میں یہ جریدہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گیا۔ خشونت سنگھ ہندوستان ٹائمز کے ایڈیٹر بھی رہے۔
خشونت سنگھ نے 30 سے زیادہ ناولوں کے علاوہ درجنوں افسانے اور مضامین سمیت 80 سے زیادہ کتابیں تحریر کیں۔
بطور ادیب انھیں سب سے پہلے پہچان برصغیر کی تقسیم کے موضوع پر لکھے گئے ناول’ٹرین ٹو پاکستان‘ سے ملی جسے 1954 میں عالمی شہرت یافتہ گروو پریس ایوارڈ دیا گیا
اس کے علاوہ انہوں نے ’ہسٹری آف سکھ‘ کے نام سے سکھ مذہب کی تاریخ بھی لکھی جسے اس سلسلے میں ہونے والا سب سے ٹھوس کام سمجھا جاتا ہے۔
عمر کے آخری دور میں بھی وہ لکھنے لکھانے میں مصروف رہے اور گزشتہ سال ان کی کتاب ’خشونت نامہ: دی لیسنز آف مائی لائف‘ شائع ہوئی تھی۔
خشونت سنگھ 1980 سے 1986 تک بھارتی راجیہ سبھا کے رکن بھی رہے۔ بھارتی حکومت نے انہیں 1974 میں ملک کے دوسرے بڑے شہری اعزاز پدم بھوشن سے نوازا تھا لیکن 1984 میں گولڈن ٹیمپل میں ہونے والے فوجی آپریشن بلیو سٹار پر احتجاجاً انہوں نے یہ اعزاز واپس کر دیا تھا۔
ان کے انتقال پر بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ کی سرکاری ٹویٹ میں کہا گیا، ’وہ ایک باصلاحیت مصنف اور پیارے دوست تھے۔ انہوں نے واقعی ایک تخلیقی زندگی گزاری۔‘
ان کی موت پر مورخ رام چندر نے اپنی ٹویٹ میں کہا، ’خشونت سنگھ اپنی سکھوں کی تاریخ کے باعث یاد کیے جائیں گے۔ اگرچہ ہم انہیں بھول سکتے ہیں لیکن ان کی کتابیں اور سخاوت یاد رکھی جائے گی۔‘
مصنف امتیاو گھوش نے ٹویٹ کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا، ’عظیم مؤرخ، ناول نگار، ایڈیٹر، کالم نگار اور ایک شاندار آدمی خشونت سنگھ کی موت بہت افسوس ناک خبر ہے۔

Khushwant Singh ColoumnKhushwant-Singh-A-Train-to-Pakistan

   khuswant singh wifekhushwant_singh

گلاب جامن اور سانولی لڑکیاں

خشونت سنگھ سے ملاقات؟ کیا پاگل ہوگئے ہو؟ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا؟ ہم یہاں دلی میں رہتے ہوئے ان سے نہیں مل سکتے تو آپ کیسے مل پائیں گے؟؟؟
آج کل وہ اپنی پوتی کے قبضے میں ہیں جس نے 94 سالہ سردار جی ( مئی 2009 ) پر مارشل لا لگا رکھا ہے۔ اس عمر میں بچارے سردار جی کو چوبیس گھنٹے کی لیفٹ رائٹ کروا رکھی ہے۔
’بابا یہ کھاؤ گے وہ نہیں۔ وہسکی دو پیگ سے زیادہ نہیں۔ ملاقاتی صرف ایک دفعہ۔ وہ بھی شام سات سے آٹھ بجے تک بس۔ چیخ کے بات نہیں کرنی۔ غصے میں نہیں آنا۔ کھل کے قہقہہ نہیں لگانا ورنہ اچھو ( کھانسی کا دورہ) آجائے گا۔ مٹھائی صرف چکھنی ہے کھانی نہیں۔ لکھنے کے اوقات یہ ہیں اور پڑھنے کے یہ اور چہل قدمی کا یہ وقت ہے‘ وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔
غرض بی بی سی دہلی بیورو کے ہندی اور اردو سروس کے دوستوں اور دوستنیوں نے میری حوصلہ شکنی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ صرف ایک امید دلائی گئی کہ اگر پوتی کے بجائے سردار جی نے فون اٹھا لیا جو کہ تقریباً ناممکنات میں سے ہے تب شاید ملاقات ہوسکے۔۔۔ مجھے ذرا دیر کے لیے لگا کہ میرے یہ سب دوست ہی دراصل خشونت سنگھ کی پوتی ہیں۔
بہرحال میں نے سردار جی سے ملاقات پر اناللہ پڑھ لی اور دلائی لامہ سے ملنے دھرم شالہ چلا گیا۔ دھرم شالے کی پہاڑیوں سے ترائی میں آتے سمے ڈرائیور نے ایک قصباتی بازار میں گاڑی روکی اور جانے مجھے کیا سوجھی کہ سامنے نظر آنے والے پی سی او میں گھس کے خشونت سنگھ کا نمبر ملا دیا۔
ہلو۔۔۔۔ ایک بھاری سا جوابی ہیلو سنتے ہی میں ریسیور سے تقریباً لٹک گیا۔ خشونت سنگھ جی بات کررہے ہیں؟
جی۔
میں پاکستان سے آیا ہوں؟
تو؟
آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔
کیوں؟ نام تو بتاؤ کون ہو۔
پرسوں میری لاہور کی فلائٹ ہے۔ ویزا صرف چار دن کا رہ گیا ہے۔ آپ سے نہیں ملا تو واپس نہیں جاؤں گا۔ بھلے گرفتار ہی ہوجاؤں۔”
خشونت سنگھ:فلمی ڈائیلاگ مت بولو نام بتاؤ
جی میں وسعت اللہ خان ہوں بی بی سی کے لیے کام کرتا ہوں۔
کہاں ٹھہرے ہوئے ہو۔
آپ کی حویلی سے صرف پانچ سو گز دور گالف لنک میں۔
یار پاکستانی تم کل شام سات بجے آ تو جاؤ لیکن صرف گپ شپ کے لیے آ سکتے ہو بس۔
جی جی میں بالکل سمجھ گیا۔
اور پھر فون لائن ڈیڈ ہوگئی۔
نئی دہلی کے صاف ستھرے جدید علاقے گالف لنک میں خان مارکیٹ کے بالکل سامنے انگریز دور کی بنی ایک وسیع رہائشی عمارت کے گیٹ پر حویلی سجان سنگھ (خشونت سنگھ کے والد) کی سنگی تختی پیوست ہے۔گیٹ کے اندر دو باوردی چوکیدار اونگھ رہے ہیں۔
کہاں؟
خشونت سنگھ کے پاس۔
وہ کون ہے؟
دوسرے چوکیدار نے فوراً اسے ٹوکا ابے یہ اپنے سجان سنگھ کے ابا کو پوچھ رہیا ہے۔ ہے نا جی؟
جی جی سجان سنگھ کے ابا ۔۔۔۔کہاں رہتے ہیں۔
وہ سامنے نو لمبر میں چلے جاؤ جی۔ بس ایک ہی گھنٹی بجانا۔
جی بہت شکریہ۔۔اور پھر لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے میں نے نو لمبر اپارٹمنٹ کی صرف ایک ہی گھنٹی بجائی۔ دورازہ بند نہیں تھا بس بھڑا ہوا تھا۔ کسی ملازم نے دروازہ کھولا یہ پوچھے بغیر کہ کس سے ملنا ہے۔ ایک بڑا سا ایڈورڈین انداز کا کمرہ، شطرنج کے سفید اور سیاہ خانوں کی بساط جیسا فرش‘ کھڑکیوں پر سفید پردے جن پر خطِ نستعلیق میں تکرار کے ساتھ اسلام و علیکم لکھا ہوا تھا۔
خشونت سنگھ جی گلے میں چاندی کا خلال لٹکائے بیٹھے تھے۔ ان کے سامنے پڑی تپائی پر مٹھائی کے دو کھلے ڈبے رکھے تھے اور کچھ ادھیڑ عمر خواتین و حضرات اپنے ہی لائے گئے گلاب جامن کھا رہے تھے۔ سردار جی کبھی کبھی سرہانے پڑے گلاس سے بس چسکی سی لے لیتے۔
آؤ بھئی آؤ ۔۔۔ کیا نام بتایا تھا سم اللہ خان ہے نا۔۔۔
جی وسعت اللہ خان۔
’یار یہ تمہارے سوات میں کیا ہو رہا ہے۔ (ان دنوں سوات میں آرمی آپریشن ہورہا تھا)۔ ان بےوقوفوں کو کچھ سمجھاؤ۔ مسئلے ایسے حل نہیں ہوتے، اور مسئلے پیدا ہوجاتے ہیں۔‘
بھٹو سے میں کہتا تھا کہ تم داؤد (افغان صدر) کی ایسی تیسی کرنے کے لیے افغانی مولویوں کی مہمانی مت کرو تمہارے گلے پڑ جائیں گے۔ اب دیکھو کیا ہورہا ہے۔
کیا میں آپ کی یہ بات ریکارڈ کر لوں؟ میں نے لجلجاتے ہوئے پوچھا۔
یار وہی تم اندر سے سستے صحافی ہی نکلے نا۔ میں نے تمہیں صرف گپ شپ کے لیے بلایا ہے۔ لو یہ گلاب جامن کھاؤ۔۔۔ اور یہ سب ہمارے دوست ہیں روزانہ شام کو مجھے بوڑھا سمجھ کے دل بہلانے اکھٹے ہو جاتے ہیں یہ فلاں۔۔ یہ فلاں۔۔۔ یہ مسز فلاں اور یہ مسٹر فلاں۔۔۔ اچھے ہیں نہ گلاب جامن ۔۔۔
جی بہت مزے کے ہیں۔
گلاب جامن اور سانولی لڑکیاں۔۔۔ ہا ہا ہا ہا۔۔۔ سردار جی کے سب ہی درباریوں نے قہقہے میں ان کا ساتھ دیا۔
ابھی ایک دو دن پہلے پتہ نہیں میں نے کس بے دھیانی میں فون اٹھا لیا۔ کوئی خاتون تھیں۔ عجیب سی ہی بات کی انہوں نے۔ کہنے لگیں خشونت جی آپ نے اتنی کتابیں لکھیں۔ سینکڑوں مضمون لکھ لیے۔ آپ اتنا کیسے لکھ لیتے ہیں؟؟
میں نے کہا اس لیے لکھ لیتا ہوں کیونکہ ابھی تک قلم کے لیے کنڈوم ایجاد نہیں ہوا۔۔۔ دیکھو یار اس دنیا میں کیسے کیسے چ۔۔۔ پڑے ہوئے ہیں۔۔۔ اور بتاؤ تمہارے پاکستان میں کیا ہورہا ہے۔ دل تو بڑا کرتا ہے مگر اب جسم ساتھ نہیں دیتا۔
میں بس انہیں سنتا رہا سنتا رہا سنتا رہا۔۔۔
اور پھر آٹھ بج گئے اور پھر ان کی پوتی کمرے میں داخل ہوئی اور پھر اس نے ان کے دونوں بازؤں میں ہاتھ ڈال کر انہیں کھڑا کیا اور سردار جی ایک چھوٹے سے بچے کی طرح فرمانبرداری کے ساتھ قدم بھرنے لگے۔ پلٹ کر انہوں نے ہم سب کو شرارتی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہا یہ لڑکی بڑی جلاد ہے اور میں اس کے رحم و کرم پر ہوں۔ تم لوگ جب تک چاہے بیٹھو۔ ابھی چائے آ رہی ہے۔ اوئے پاکستانی چائے پیے بغیر مت جانا۔ خدا حافظ۔
اور پھر وہ دروازے کے پیچھے غائب ہوگئے، میری تیرتھ یاترا مکمل ہوچکی تھی۔

بشکریہ: وسعت اللہ خان بی بی سی

Khushwant Singh (extreme right) with PM Jawaharlal Nehru (second from left) during the first Commonwealth PM's Conference in London in 1962

Ahmed Mirza Jamil changed the way of Urdu March 20, 2014

Posted by Farzana Naina in Literature, Pakistan, Pakistani, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
add a comment

Ahmed Mirza Jamil changed the way all Urdu newspapers and books would be published anywhere in the world; and he did it back in 1981 with his Noori Nastaliq script that gave the Midas touch to desktop publishing.

Ahmed Mirza Jamil-640x480

The present-day Urdu publishing owes its elegant contours to the calligraphic skills of this great wizard of calligraphy.

Before being used in the composing software, InPage, the Noori Nastaliq was created as a digital typeface (font) in 1981 when master-calligrapher Ahmed Mirza Jamil and Monotype Imaging (then called Monotype Corp) collaborated on a joint venture.

Earlier, Urdu newspapers, books and magazines needed manual calligraphers, who were replaced by computer machines in Pakistan, India, UK and other countries.

The government of Pakistan recognised Ahmad Mirza Jamil’s singular achievement in 1982 by designating Noori Nastaliq as an ‘Invention of National Importance’ and awarded him with the medal of distinction, Tamgha-e-Imtiaz.

In recognition of his achievement, the University of Karachi also awarded him the degree of Doctor of Letters, Honoris Causa.

Narrating the history of his achievement in his book, ‘Revolution in Urdu Composing’, he wrote: “In future, Urdu authors will be able to compose their books like the authors of the languages of Roman script. Now, the day a manuscript is ready is the day the publication is ready for printing. There is no waiting for calligraphers to give their time grudgingly, no apprehension of mistakes creeping in, nor any complaints about the calligraphers or operators not being familiar with the language.

“Soon our future generations will be asking incredulously whether it was really true that there was a time when newspapers were painstakingly manually calligraphed all through the night to be printed on high speed machines in the morning. Were we really so primitive that our national language had to limp along holding on to the crutches of the calligraphers that made the completion of books an exercise ranging from months to years depending upon their volume.”

Noted Urdu litterateur Ahmed Nadeem Qasmi paid tribute to Ahmed Mirza Jamil during his lifetime.

He said, “The revolution brought about by Noori Nastaliq in the field of Urdu publishing sends out many positive signals. It has at last settled the long-standing dispute about Urdu typewriter’s keys that had raged from the time Pakistan was born. The future generations will surely be indebted to him for this revolution.

Dr Ahmed Mirza Jamil passed away unsung on February 17, 2014. May his soul be blessed.

Published in The Express Tribune, March 15th, 2014.

بچوں کا ادب August 10, 2012

Posted by Farzana Naina in Literature, Pakistan, Pakistani, Urdu, Urdu Literature.
Tags:
add a comment

بچوں کا ادب: ادبیات‘ اسلام آباد

مدیر: محمد عاصم بٹ

صفحات: 493

قیمت: دو سو روپے

پاکستان میں ہی کیا دنیا بھر کی مختلف زبانوں میں بچوں کے ادب کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اسے دی جانی چاہیے۔ یہ شکایت ان ملکوں میں بھی ہے جنھیں ترقی یافتہ اور بچوں کے معاملات میں انتہائی حسّاس سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور اس دور میں جب کمپیوٹر تیزی سے ہر شعبے میں کاغذ پر شائع ہونے والے مواد کی جگہ لیتا جا رہا ہے کاغذ پر شائع ہونے والے اور شائع کرنے والوں نے از خود ہی پسپائی اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔

تاہم پاکستان اور پاکستان جیسے دوسرے ملکوں میں اس بات کی گنجائش ہے کہ کاغذ پر شائع ہونے والا مواد اپنا کردار ادا کرے کیوں کہ ان کے ہاں ابھی کمپیوٹر اس طرح زندگیوں کا حصہ نہیں بنا جیسا کہ بہت سے ملکوں میں بن چکا ہے اور بچے تک کمپیوٹر اس سے حد تک واقف ہیں کہ ہمارے ہاں کے بڑے بھی نہیں ہیں۔

پاکستان میں ایک زمانہ تھا جب بچوں کے لیے رسالے اور کتابیں باقاعدگی سے شائع ہوتی تھیں اور انھیں پڑھنے کا رحجان بھی تھا۔ خاص طور پر متوسط طبقے کا شاید ہی کوئی گھر ایسا ہوتا تھا جہاں بچوں کا کوئی رسالہ ہر ماہ نہ آتا ہو۔ لیکن ستر اور اسّی کی دہائی کے دوران کچھ ایسا ہوا کہ آہستہ آہستہ بچوں کے رسالے شائع ہونا بند ہونے لگے اور اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے شائع ہونے والی کتابیں بھی۔

اب کتابوں کی دکانوں اور اخبار وجرائد بیچنے والوں کی دکانوں پر اوّل تو بچوں کے رسالے اور کتابیں ہوتے ہی نہیں اور اگر ہوتے ہیں تو انتہائی کم تعداد میں۔ بڑے شہروں کی بڑی دکانوں اور شاپنگ مالز میں ضرور دکانوں پر بچوں کے لیے انتہائی عمدہ چھپی ہوئی مہنگی کتابیں موجود ہوتی ہیں لیکن ان میں اردو یا کسی اور قومیتی زبان کی کتاب کم ہی دکھائی دیتی ہے۔

یہ صورتحال پاکستان کی بدلتی ہوئی سماجی شکل کا اظہار کرتی ہے اور اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں صورتحال کیا ہونے والی ہے۔ انگریزی یا کسی بھی زبان کا بڑھنے میں کوئی خرابی نہیں لیکن اس کی وجہ سے ملک کی اپنی بڑی اور دوسری زبانوں سے توجہ کا ہٹنا کسی بھی طرح اچھی علامت نہیں۔

اس پورے پس منظر میں اکادمی ادبیات پاکستان، نے سہ ماہی ’ادبیات‘ نیا شمارہ شائع کیا ہے۔ پیش نظر شمارہ جریدے کا شمارہ نمبر 95-94 ہے۔ شمارے کے نمبر ہی واضح ہو جاتا ہے کہ یہ جریدہ کتنی باقاعدگی سے شائع ہوتا ہے۔

یہ شمارہ بچوں کے ادب کے بارے پہلے شائع ہونے والے حصے کا جز ہے۔ پہلے حصے یا جلد اوّل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس میں بچوں کے بین الاقوامی ادب سے خصوصی انتخاب پیش کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور حصے کی خبر بھی دی گئی ہے جو ’پاکستانی ادب: حصہ نثر‘ ہو گا۔

حصہ نظم میں کل تقریباً تین سو تراسی تخلیقات اور تراجم ہیں۔ حصہ حمد میں پندرہ تخلیقات ہیں جن میں ماضی سے منتخب کی جانے والی حمدیں بھی اور شاید نئی اور پہلی بار شائع ہونے والی بھی۔ یقین سے کچھ اس لیے نہیں کہا جاسکتا کہ کسی بھی تخلیق پر اس کی تخلیق کا سال نہیں ہے لیکن الطاف حسین حالی جیسے ناموں کو دیکھ کر یہ تو یقین سے کہا ہی جا سکتا ہے کہ ماضی سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔

اس کے بعد نعتوں کا حصہ جس میں سولہ نعتیں ہیں۔ جن میں میر حسن دہلوی، مولانا احمد رضا خان اور مولانا حالی کی نعتیں بھی ہیں۔ تیسرا حصہ سوہنی دھرتی کے نام سے قائم کیا گیا ہے جو چودہ نظموں پر مشتمل ہے۔ اسی طرح ملت کا پاسباں، کلاسیکی شاعری سے انتخاب، نظم کہانی، تمثیل اور اثاثہ کے نام سے حصے بنائے گئے ہیں۔

ایک خاصا بڑا حصہ پاکستانی زبانوں کا ادب کے نام سے قائم کیا گیا ہے، اس میں بلوچی، براہوی، پستوں، ہندکو، سندھی، پنجابی، سرائیکی اور پوٹھوہاری میں بچوں کے لیے لکھی جانے والی نظموں کے تراجم ہیں۔

اس کے علاوہ اس شمارے کا سب سے دلکش اور قابلِ تعریف پہلو بچوں کی مصوری کے نمونے ہیں جو ہر حصے کی ابتدا پر لگائے گئے ہیں۔ اور نوجوان مصوروں کے تعارف کے ساتھ ساتھ ان کی تصاویر بھی شائع کی گئی ہے۔ یہ اقدام بہت عمدہ ہے اس سے ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہی نہیں ہو گی انھیں مصوری جاری رکھنے کی تحریک بھی ملے گی۔

یہ غالباً اردو میں بچوں کی شاعری کی ایک ایسی جلد ہے جس میں نہ صرف اردو شاعری کا بہت بڑا حصہ جمع کر دیا گیا ہے بلکہ پاکستان کو دوسری قومیتی زبانوں میں بچوں کے لیے لکھی جانی والی شاعری بھی موجود ہے۔

اس مبصر کی نظر سے اب تک اردو میں ایسا کوئی انتخاب نہیں گزرا جس میں بچوں کی شاعری کا اتنا بڑا ذخیرہ ایک جگہ موجود ہو۔ پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر کسی کو پاکستان میں بچوں کی شاعری کے بارے میں جاننا ہو تو یہ ایک شمارہ ہی خاصے معقول تعارف کے لیے کافی ہے۔

اس حصے کو مرتب کرنے والے اس کا کچھ نہیں کر سکتے کہ بہت سے نظموں کی زبان بچوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔ بچوں کے لیے لکھنے والے تمام لوگوں کو اس بات پر ضرور توجہ  دینی چاہیے۔

بشکریہ: انور سن راۓ، بی بی سی

Alif Laila Books August 2, 2012

Posted by Farzana Naina in Karachi, Literature, Pakistan, Urdu, Urdu Literature.
Tags: ,
1 comment so far

مافوق الفطرت قصے کہانیوں سے تقریبا ہر بچے کو لگاؤ ہوتا ہے، جس کا ثبوت آج کے دور کے ”ہیری پوٹر” پڑھنے والے بچے ہیں۔

میرا بچپن بھی ایسی ہی کہانیوں کے درمیان پر لگا کر اڑتا تھا، کبھی جادویٔ قالین تو کبھی دیو مالایٔ قصے، پریاں، دیو زاد، شہزادے اور شہزادیاں، یہی بچپن کی دنیا تھی، ہزار داستان تو اکثر و بیشتر محلے کی لایٔبریری سے لا کر پڑھی جاتی، پھر نیند کی وادی اس فینٹسی لینڈ میں لے جاتی ۔۔۔۔۔۔۔ ۡ

قصہ مختصر کہ پردیس نے ہاتھ بڑھا کر اپنی جانب کھینچا تو یہ کہانیاں اور ان کہانیوں سے نکلتی ہویٔ کہانیاں سب وہیں کی وہیں دھری رہ گیٔں ۔۔۔۔۔۔!۔

انہیں کہانیوں میں الف لیلوی قصوں کی کتاب بھی تھی جو بعد کے برسوں میں ذہن کے کسی گوشے سے نکل آیٔ۔۔۔۔۔

اب میری جستجو کا سفر شروع ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک کتاب مل تو گیٔ جو میں اٹھا لایٔ مگر اس کی خستہ حالت کی بنا پر محفوظ کرنا مشکل ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر ایک اور کراچی یاترا میں بھایٔ کی منت سماجت کر کے اردو بازار کو کھنگالنا شروع کیا (چونکہ وہ علاقہ اس جگہ سے خاصی دور ہے جہاں بھایٔ رہتے ہیں اور یوں بھی اردو بازار اکیلے جانا کافی غیر محفوظ سا لگتا ہے) ۔۔۔

خیر داستان الف لیلیٰ مجھے مل گیٔ تھی  جو میں سنبھال سنبھال کر اپنے سوٹ کیس میں نت نۓ جوڑوں کے بجاۓ کتابوں کے انبار میں رکھ کر لے آیٔ۔

اب بھی کبھی کبھار اس کا مطالعہ اور اس میں استعمال کی ہویٔ اردو زبان کے الفاظ ورطۂ حیرت میں غرق کردیتے ہیں۔

نام کتاب: الف لیلہ : مترجم: رتن ناتھ سرشار

صفحات: جلد اوّل 342، جلد دوم 321، جلد سوم 464، جلد چہارم 566

قیمت: جلد اوّل 795 روپے، جلد دوم 795 روپے، جلد سوم 895 روپے، جلد چہارم 895 روپے

ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان۔ کراچی

الف لیلہ دنیا میں کہانیوں کی مشہور و مقبول ترین کتابوں میں سے ایک کتاب ہے۔ اسے شام میں لکھا گیا۔ کس نے لکھا؟

کسی ایک نے یا زیادہ نے یا یہ کہانیاں وہاں کے قصہ گو سنایا کرتے تھے جسے وہاں کے کسی مصنف نے لکھ کر ایک جگہ جمع کر دیا، اس بارے میں اب تک یقین سے کچھ نہیں کہا گیا۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد یہ ایرانی، مصری اور ترک زبانوں میں پہنچی اور ان زبانوں کے قصہ گو اس میں اضافے کرتے رہے۔

بعد میں جب یہ کہانیاں ایک ہزار ایک راتوں پر پھیل گئیں تو اس نام ’الف لیلۃ و لیلۃ‘ یعنی ’ایک ہزار ایک راتیں‘ ہو گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے بعد کسی لکھنے والے نے ان کہانیوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔

الف لیلہ کی کہانیوں کی کہانی کچھ یوں ہے کہ سمرقندکا ایک بادشاہ شہریار اپنی ملکہ کی بے وفائی سے دل برداشتہ ہو کر عورتوں سے ہی بدظن ہوگیا، اُس نے یہ دستور بنا لیا کہ روزانہ ایک نئی شادی کرتا اور دلہن کو رات بھر رکھ کر صبح کو قتل کرا دیتا۔ آخر اس کے ایک وزیر کی لڑکی شہرزاد نے اپنی صنف کو اس عذاب سے نجات دلانے کا ارادہ کیا اور اپنے والد کو بمشکل راضی کر کے شہریار سے شادی کر لی۔

اُس نے پہلی رات ہی سے بادشاہ کو ایک کہانی سنانا شروع کی۔ رات ختم ہوگئی مگر کہانی ایک ایسے موڑ پر تھی کہ بادشاہ شہرزاد کو ہلاک کرنے سے باز رہا۔ ہر رات شہرزاد کہانی شروع کرتی اور صبح کے قریب اسے ایک ایسے موڑ پر ختم روکتی کہ اس میں ایک نئی کہانی کا تجسس بھرا سرا دکھائی دیتا اور اتنا دلچسپ ہوتا کہ بادشاہ اس کے بارے میں جاننے کے لیے شہرزاد کا قتل ملتوی کرتا چلا گیا۔

یہ سلسلہ اتنا ایک ہزار ایک راتوں پر پھیل گیا اس دوران بادشاہ اور شہر زاد کے تعلقات میں تبدیلی آتی گئی اور ان کے ہاں دو بچے ہوگئے اور بادشاہ کی بدظنی جاتی رہی۔

بعض محققین کا خیال ہے کہ عرب مورخ محمد بن اسحاق نے کتاب الفہرست میں کہانیوں کی جس کتاب کا ذکر ’ہزار افسانہ‘ کے نام سے ہوا ہے وہ دراصل الف لیلہ ہی ہے اور اس میں جو کہانی بطور نمونہ ہے وہ الف لیلہ کی پہلی کہانی ہے۔

کچھ لوگ اس سے یہ نتیجہ بھی نکالتے ہیں کہ الف لیلہ پہلے ’ہزار افسانہ‘ کے نام سے موجود تھی۔

اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے جو کتاب شائع کی ہے اس میں مرتیبین نے یہ تفصیل بیان کرنے پر توجہ ضروری نہیں سمجھی اگرچہ رتن ناتھ سرشار کے بارے میں خاصی تفصیل موجود ہے۔ جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے صرف پہلی جلد پر کام کیا تھا جب کہ دوسری جلد مولوی محمد اسمٰعیل نے تیار کی‘۔ لیکن اوکسفرڈ کی چاروں جلدوں پر رتن ناتھ سرشار ہی کا نام ہے۔ کیوں ہے؟ اس بارے کچھ نہیں کہا گیا۔

یورپ میں سب سے پہلے ایک فرانسیسی ادیب آنتون گلاں کو اس کتاب کا مخطوطہ 1690 میں ملا اور اس نے اس کا فرانسیسی ترجمہ گیارہ سال بعد شائع کیا، یہی ترجمہ اردو سمیت کم و بیش دوسری زبانوں میں ہونے والے تمام تراجم کی بنیاد بنا۔

ایک زمانہ تھا کہ پاکستان میں الف لیلہ اور اس نوع کی دوسری کتابوں کے انتہائی سستے اور خراب ایڈیشن ملا کرتے تھے لیکن اب وہ ایڈیشن بھی دکھائی نہیں دیتے۔

کتاب میں بتایا گیا ہے کہ سرشار کی الف لیلہ کا ایک تلخیص شدہ ایڈیشن انتظار حسین اور سید وقار عظیم ترتیب دیا تھا جو لاہور سے 1962 میں شائع ہوا تھا اس میں مولوی اسمٰعیل کی تیار کردہ دوسری جلد کی کہانیاں شامل نہیں تھیں۔ اب یہ ایڈیشن بھی دستیاب نہیں ہے۔

اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان سے چار جلدوں شائع ہونے والی الف لیلہ کے بارے میں اگرچہ یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ رتن ناتھ سرشار ہی کی پہلی جلد ہے یا اس میں دوسری تمام کہانیاں بھی شامل ہیں۔

چوتھی جلد 784ویں رات پر ختم ہوتی ہے اور پانچویں جلد زیر طبع ہے، ہو سکتا ہے کہ پانچویں جلد میں اس باتوں کا بھی خلاصہ کر دیا جائے لیکن ان باتوں سے کا چار جلدوں میں شامل کہانیوں کی دلچسپی سے کوئی تعلق نہیں۔

الف لیلہ کی اہمیت یہ ہے کہ عام لوگ تو اس کا لطف اٹھا ہی سکتے ہیں فکشن لکھنے والوں کے لیے خاص طور پر یہ ایک ایسی کتاب ہے جس سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ اس کی زبان ضرور ایسی ہے جو اردو کے بہت سے اساتذہ کے لیے بھی امتحان ہو سکتی ہے لیکن اس کے باوجود اس کتاب کو اردو جاننے سے دلچسپی رکھنے والے ہر گھر میں ہونا چاہیے۔

اوکسفرڈ یونیورسٹی کا ایڈیشن انتہائی عمدہ ہے۔ عام خریداروں کے لیے اس کی قیمت کچھ زیادہ ہو سکتی ہے لیکن عمدگی کو دیکھتے ہوئے زیادہ نہیں ہے۔

سیریز کے ایڈیٹر شمس الرحمٰن فاروقی ہیں جو اردو کے معروف نقاد، ناول و افسانہ نگار ہونے کے علاوہ ہندوستان سے شائع ہونے والے ادبی جریدے ’شب خون‘ کے مدیر رہے ہیں جب کہ ایڈیٹر اجمل کمال ہیں جو پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ’آج‘ کے مدیر ہیں اور اپنے ترجموں کے علاوہ تنقیدی مضامین اور کتابوں کی اشاعت کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں۔

بشکریہ : انور سِن رائے آف بی بی سی

Mohsin Ehsaan – محسن احسان September 24, 2010

Posted by Farzana Naina in Mohsin Ehsaan, Poetry, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
Tags:
add a comment

ممتاز شاعر و ادیب محسن احسان انتقال فرماگئے


السلام و علیکم

اردو کے تمام اہل ادب کو نہایت افسوس کے ساتھ مطلع کر رہی ہوں کہ بزرگ شاعر، ادیب و دانشور محترم محسن احسان رضائے الہی سے انتقال فرما گئے ہیں۔

”انا للہ و انا الیہ راجعون”

مرحوم کافی عرصے سے اپنی علالت کے سبب برطانیہ میں علاج کے لیۓ مقیم تھے، محسن احسان صاحب کی ادبی خدمات دنیا بھر کے اردودان ادبی حلقوں میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

فیس بک پر موجود تمام اہل ادب کی جانب سے اظہار تعزیت ہے اس دعا کے ہمراہ کہ پروردگار مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین

***

محسن احسان کی غزل دامنِ دل کھینچتی ہے اور جملہ مثبت روایات کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے تقاضوں کی عکاسی کرتی ہے،

یہ غزل تغزل سے بھی آشنا ہے اور گرد و ہیش کی زندگی کے حساس پہلوؤں سے بھی اکتسابِ جمال کرتی ہے،

اس کا رشتہ اپنی روایت، اپنی تاریخ، اپنی زمین سے بھی استوار ہے اور ان لمحاتی تجربوں سے بھی جنہیں انسانوں نے عہد بہ عہد اپنی زندگیوں میں محسوس کیا ۔

تابش دہلوی

***

جہاں جہاں یہ زمیں خشک قحطِ آب سے ہے

مرے لہو کی یہ بوندیں وہاں وہاں لے جا

*

چراغ اپنے رویوں کو بدل دیں

ہوا اس وقت طوفانی بہت ہے

*

اتنی کوتاہی تو ہوتی نہیں نادان سے بھی

مجھ کو خوف آتا ہے محسن ترے احسان سے بھی

*

ہم دعاگویۓ چمن ہم ہیں ثنا خوانِ بہار

شاد و آباد رہیں سارے عزیزانِ بہار

*

کندہ تھے جتنے حرف وہ کتبوں سے مٹ گیۓ

قبروں سے پوچھتا ہوں مرے یار کیا ہویۓ

محسن احسان کی کتابیں

ناتمام

ناگریز

ناشنیدہ

نارسیدہ

جمل اکمل

مٹی کی مہکار

پھول پھول چہرے

رباعیاتِ خوشحال خان خٹک

رحمان با با

سخن سخن مہتاب

*

برونِ لفظ کہاں ہے تجلیٔ معنی

ہے حرف حرف ستارہ سخن سخن مہتاب

فرزانہ خان نیناں ۔ نوٹنگھم

پاکستان کے ممتاز شاعر، ادیب اور ماہر تعلیم علالت کے بعد لندن میں انتقال کرگئے، اُن کی عمر ستتر برس تھی۔

انھیں لندن میں ہی تین ہفتے قبل کینسر تشخیص ہوا تھا۔

محسن احسان پشاور کے اسلامیہ کالج میں شعبہ انگریزی کے استاد اور سربراہ رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ لندن میں مقیم اپنے بچوں سے اکثر ملنے آتے رہتے تھے۔

ان کی میت تدفین کے لیے پاکستان لے جائی جارہی ہے، جہاں پشاور میں انھیں سپرد خاک کیا جائےگا۔

محسن احسان کا تعلق پاکستان کے صوبے خیبر پختون خواہ کے اُس قبیل سے تھا جنھوں نے صوبہ سرحد میں اردو ادب کی آبیاری میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ اس کارواں میں فارغ بخاری، رضا ہمدانی، خاطر غزنوی، شوکت واسطی اور احمد فراز جیسی قد آور شخصیات شامل ہیں۔ محسن احسان کا ایک مصرح ہے،

ایک ایک کر کے ستاروں کی طرح ڈوب گئے

ہائے کیا لوگ میرے حلقۂ احباب میں تھے

کندہ تھے جتنے حرف وہ کتبوں سےمٹ گئے

قبروں سے پوچھتا ہوں میرے یار کیا ہوئے

ان کی شاعری کے تین مجموعے ’ناشنید‘ ، ’ناتمام‘ اور ’ناگزیر‘ عوامی سطح پر بہت مقبول ہیں۔ اُن کی غزل میں بنیادی حوالہ تو محبت ہی تھا مگر غم دوراں، سماجی ناہمواریاں اور ملک کے سیاسی حالات کی جھلک بھی اُن کی شاعری میں نظر آتی تھی۔

امیر شہر نے کاغذ کی کشتیاں دیکر

سمندروں کے سفر پر کیا روانہ ہمیں

***

گلزار کے رکھوالوں نے خشبوئیں چرا لیں

باقی جو بچا ہے وہ خس و خاک بچالیں

بشکریہ بی بی سی


Dr.Wazir Agha – وزیر آغا September 23, 2010

Posted by Farzana Naina in Poetry, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
Tags:
1 comment so far
نقاد،انشائیہ نگار اور شاعر وزیر آغا، خود ان کے فن پر کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں

نقاد،انشائیہ نگار اور شاعر وزیر آغا، خود ان کے فن پر کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں

کباب کا ایک لذیذ ٹکڑا زبان پر رکھتے ہی یا صرف بالغوں کے لئے شائع ہونے والے کسی رسالے میں نیم برہنہ تصویر دیکھتے ہی جو لذت محسوس ہوتی ہے وہ اُس مسرت سے کسطرح مختلف ہے جو مثلاً ایک معصوم بچے کا مسکراتا ہوا چہرہ دیکھ کر یا دریا کنارے ایک درخت کے پتوں سے بادِ صبا کی اٹھکیلیاں دیکھ کر محسوس ہوتی ہے۔

لذت اور مسرت کے موازنے کی یہ بحث سن پچاس کے عشرے میں اُردو خواں طبقے کے لئے ایک بالکل انوکھی بات تھی۔ اور اس بحث کو شروع کرنے والا شخص کوئی بوڑھا فلسفی نہیں بلکہ سرگودھے کا ایک نوجوان وزیر آغا تھا جو اکنامکس میں ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے کے بعد اب فارغ اوقات میں اُردو شاعری کا گہرا مطالعہ کر رہا تھا۔

وزیر آغا کا سات ستمبر کی شب لاہور میں اٹھاسی برس کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ انھیں اگلے دن ضلع سرگودھا میں انکے آبائی گاؤں وزیر کوٹ میں سپرد خاک کردیا گیا ہے۔

’’چلی کب ہوا، کب مٹا نقش پا

کب گری ریت کی وہ ردا

جس میں چھپتے ہوئے تونے مجھ سے کہا

: آگے بڑھ ، آگے بڑھتا ہی جا مڑ کے تکنے کا اب فائدہ؟

کوئی چہرہ ، کوئی چاپ ، ماضی کی کوئی صدا،

کچھ نہیں اب اے گلّے کے تنہا محافظ

ترا اب محافظ خدا

ڈاکٹر وزیر آغا کی ایک نظم

اُردو کے بزرگ قلم کار مولانا صلاح الدین احمد جو اپنے ادبی پرچے کے ذریعے ہندوستان بھر کے نوجوان ادیبوں کی تربیت کر رہے تھے اور کرشن چند، راجندر سنگھ بیدی، کنہیا لال کپور جیسے نثر نگاروں کے ساتھ ساتھ ن م راشد، فیض احمد فیض اور احمد ندیم قاسمی جیسے شعرا کو بھی منظرِ عام پر لا چکے تھے، اُن کی نگاہِ جوہر شناس جب وزیر آغا پر پڑی تو فوراً انھیں اپنے سایہء عاطفت میں لے لیا۔ اقتصادیات، نفسیات اور فلسفے کے جو مضامین کبھی اُردو میں زیرِ بحث نہیں آئے تھے، انکے لئے اپنے پرچے کے صفحات کھول دیئے۔

وزیر آغا نے مسرت کی نوعیت، مسرت کی اقسام اور حصولِ مسرت کے ذرائع پر جو کچھ لکھا مولانا نے اپنے تعارفی نوٹ کے ساتھ اسے ایک کتابی شکل میں شائع بھی کرایا اور یوں نوجوان وزیر آغا کی کتاب” مسرت کی تلاشٰ” منظرِ عام پر آئی۔

بھارت میں ان کے فن پر بہار یونیورسٹی مظفر پور سے پروفیسر عبد الواسع کے زیر نگرانی تحقیقی مقالے ”وزیر آغا کا فن“ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری مل چکی ہے۔

لیکن جلد ہی معلوم ہوگیا کہ یہ تو نوجوان قلم کار کی جولانیء طبع کا صرف ایک پہلو تھا۔ اُن کا اصل جوہر اُردو شاعری کے اُن تجزیاتی مضامین میں کھلا جو ”ایک مثالٰ ” کے عنوان سے ماہنامہ ادبی دنیا میں سلسلہ وار شائع ہوئے۔

1960 میں مولانا صلاح الدین احمد نے انھیں اپنے جریدے کی مجلسِ ادارت میں شامل کر لیا اور وہ تین برس تک ایک ساتھی مدیر کے طور پر کام کرتے رہے۔

سن پچاس کے عشرے میں انھوں نے مسرت کے موضوع پر تحقیق کرتے ہوئے دنیا بھر کے مزاحیہ ادب کا مطالعہ بھی کیا اور انھی دنوں اُن کا تحقیقی کارنامہ اردو ادب میں طنز و مزاح سامنے آیا جسے 1956 میں پنجاب یونیورسٹی نے ایک اوریجنل تحقیقی کام قرار دیتے ہوئے وزیر آغا کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری پیش کی۔

اُردو کے بزرگ قلم کار مولانا صلاح الدین احمد جو اپنے ادبی پرچے کے ذریعے ہندوستان بھر کے نوجوان ادیبوں کی تربیت کر رہے تھے اور کرشن چند، راجندر سنگھ بیدی، کنہیا لال کپور جیسے نثر نگاروں کے ساتھ ساتھ ن م راشد، فیض احمد فیض اور احمد ندیم قاسمی جیسے شعرا کو بھی منظرِ عام پر لا چکے تھے، اُن کی نگاہِ جوہر شناس جب وزیر آغا پر پڑی تو فوراً انھیں اپنے سایہء عاطفت میں لے لیا

اُردو ادب کی تاریخ میں ڈاکٹر وزیر آغا کا نام دو حیثیتوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ایک تو انھوں نے اردو ادب میں انشائیے کی صِنف کو فروغ دینے کےلئے ایک تحریک کی سطح پر کام کیا اور دوسرے انھوں نے اُردو تنقید کو جدید نفسیاتی مباحث سے روشناس کرایا۔

انشائیے کی ترویج میں اُن کے ادبی رسالے اوراق نے انتہائی اہم خدمات سر انجام دیں۔ وزیر آغا نہ صرف خود انشائیہ لکھتے تھے بلکہ نوجوان ادیبوں کو اسکی ترغیب بھی دیتے تھے اور اُن کے معیاری انشائیے اپنے رسالے میں باقاعدگی سے شائع کرتے تھے۔ بہت سے ادیبوں کو یہ شکوہ رہا کہ وزیر آغا نے انکی تحریر کو بطور انشائیہ قبول نہیں کیا بلکہ مزاحیہ مضمون کا عنوان دیکر شائع کیا۔

اس سلسلے میں وزیر آغا کا موقف انتہائی واضح تھا۔ وہ ہر ہلکی پھلکی یا مزاحیہ تحریر کو انشائیہ قرار دینے پر تیار نہ تھے کیونکہ اُن کے بقول انشائیے میں ایک خاص طرح کی  ذہانت کی چمک ہونا ضروری تھا۔

اردو تنقید میں ژُونگ کے اجتماعی لاشعور اور دیو مالا کی نئی تشریح و توضیح کا چلن وزیر آغا کی ہی بدولت ممکن ہوا۔ اُن کی تصنیفات کی تعداد پچاس سے زیادہ ہے جن میں سے پندرہ کتابیں ایسی ہیں جن کا تعلق محض شعر و شاعری سے ہے۔ اُن کی کچھ کتابوں میں

نظمِ جدید کی کروٹیں  1963

اردو شاعری کا مزاج  1965

تخلیقی عمل 1970

انشائیے کے خدوخال  1990

اور غالب کا ذوقِ تماشہ  1997

انتہائی اہم ہیں۔

اپنے مداحوں کے لئے وزیر آغا نے اپنے حالاتِ زندگی بھی ایک کتاب کی صورت میں محفوظ کر دیئے ہیں سوانح عمری کا نام ہے” شام کی منڈیر سے”۔

جسطرح مولانا صلاح الدین احمد نے اپنے وقت کے بہت سے نوجوان ادیبوں اور شاعروں کی سرپرستی کی اور انھیں قعرِ گمنامی سے نکال کر شہرتِ عام اور بقائے دوام کے دربار میں لا کھڑا کیا، اسی طرح اُن کے شاگردِ رشید وزیر آغا نے بھی اپنے رسالے اوراق کے ذریعے بہت سے نوجوانوں کے ذؤق تحریر کی آبیاری کی۔ وہ کافی عرصے تک گورنمٹ کالج سرگودھا میں اعزازی مدرّس کے طور پر بھی کام کرتے رہے ہیں۔

بھارت میں ان کے فن پر بہار یونیورسٹی مظفر پور سے پروفیسر عبد الواسع کے زیر نگرانی تحقیقی مقالے ”وزیر آغا کا فن“ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری مل چکی ہے۔

دوسرا مقالہ بھاگلپور یونیورسٹی میں پروفیسر مناظر عاشق ہر گانوی کے زیر نگرانی وزیر آغا کی انشائیہ نگاری پر لکھا گیا اور تیسرا رانچی یونیورسٹی میں وہاب اشرفی کے زیر نگرانی وزیر آغا کی تنقید کے موضوع پر لکھا گیا جن پر پی ایچ ڈی ایوارڈ ہو چکی ہے۔

اس کے علاوہ جے پور یونیورسٹی میں وزیر آغا کی تنقید نگاری پر ایم فل اور پاکستان کی پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے کا تحقیقی مقالہ لکھا گیا ہے۔

پاکستان میں بھی وزیر آغا کے فن پر 14کتابیں شائع ہوئی ہیں۔

کہنے کو چند گام تھا یہ عرصۂحیات

لیکن تمام عمر ہی چلنا پڑا ہمیں

اب تو آرام کریں سوچتی انکھیں میری

رات کا آخری تارا ہے بھی جانے والا

بشکریہ عارف وقار ، بی بی سی

Br’rooh Larkiyon Ka – بے روح لڑکیوں کا ٹھکانہ November 18, 2009

Posted by Farzana Naina in British Pakistani Poetess, Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Ghazal, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Naina, Nazm, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
2 comments

Berooh larkiyon ka thikana bana hua-wordpress

Be’rooh Larkiyon Ka Thikana Bana Hua

Kamrah Hai Mera Aeena’khana Bana Hua

 

Meine Tau Koi Baat Kisi Se Nahi Kahi

Socha Hai Jo Wohi Hai Fasana Bana Hua

 

Nadiya Mein Kis Ne Rakh Diye Jalte Huey Charaagh

Mausam Hai Chasm E Tar Ka Suhana Bana Hua

 

Aurak Ka Zehn Mard Ki Is Kainaat Mein

Abtak Hai Uljhanon Ka Nishana Bana Hua

 

Mumkin Hai Maar De Mujhe Uski Koi Khaber

Dushman Hai Jiska Mera Gharana Bana Hua

 

Baarish Ki Aag Hai Mere Ander Lagi Hui

Baadal Hai Aaso’on Ka Nishana Bana Hua

 

Naina Kai Baras Se Hawa Ki Hon Humnafas

Hai Ye Badan Usi Ka Khazana Bana Hua

Thank you 10Flower magenta 4

Name pink 2 nName pink 2 aName pink 2 iName pink 2 nName pink 2 a

Welcome November 4, 2006

Posted by Farzana Naina in Blogroll, Famous Urdu Poets, Farzana Naina, Ghazal, Karachi, Kavita, Naina, Nazm, Nottingham, Pakistan, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Shairy, Sher, Sufi Poets, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
3 comments

قلمی نام : نیناں

برطانیہ میں منظرِ عام پر آنے والی چند شاعرات میں فرزانہ نیناںؔ کا نام بڑا معتبر ہے،۔

متنوع صلاحیتوں کی مالک فرزانہ خان نیناؔں کا تعلق سندھ کے ایک سربر آوردہ خانوادے سے ہے۔

مجلسی اور معاشرتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں اور اپنی ادبی تنظیم نوٹنگھم آرٹس اینڈ لٹریری سوسائٹی کے تحت کئی برس سے مشاعرے و دیگر تقریبات بخوبی منعقد کرواتی رہتی ہیں جو کہ ان کی خوش سلیقگی و خوب ادائیگی کی بھرپور آئینہ دار ہیں،

اس شگفتہ وشستہ ہونہار شاعرہ کے انکل محمد سارنگ لطیفی سندھی زبان کے مشہور شاعر، صحافی اور ڈرامہ نویس تھے اور اس رحجان کا سلسلہ انہی سے جا ملتا ہے،

کراچی سے رشتہء ازدواج میں منسلک ہوکر برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں آباد ہوئیں، شعبہ ٔ ٹیلی کمیونیکیشن میں بطور انسپکٹر ملازمت کی،پھر ٹیچرز ٹریننگ اور بیوٹی کنسلٹنٹ کی تعلیم حاصل کی اور مقامی کالج میں ٹیچنگ کے شعبے سے وابستہ ہوگئیں ساتھ ہی میڈیا اور جرنلزم کے کورسز میں ڈپلوما بھی کیئے یوں مقامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے بھی وابستگی ہوئی،

ان کے پیش کردہ پروگرام خصوصی خوبیوں کی بنا پر دلچسپ اور معلوماتی ہوتے ہیں اور اپنے انداز کی وجہ سے یورپ بھر میں بیحد مقبول ہیں،

ابتدا میں نثری کہانیاں لکھیں اور نظم سے سخن طرازی کا آغاز کیا،جبکہ نثری رنگ میں گہرائیوں کی بدولت کتابوں پر تبصرہ جات اور کالم بھی ایسے دلچسپ لکھتی ہیں کہ پڑھنے والے مزید کا تقاضہ کرتے رہتے ہیں،

فرزانہ نیناںؔ کے خاص نسائی لہجے و منفرد انداز شعرگوئی نے یک لخت اہلِ ذوق کو اپنی جانب متوجہ کر کے برطانیہ کی مسلمہ شاعرات کے طبقے میں اپنا معتبر مقام بنا یا ہوا ہے ،ان کا شعری مجموعہ بعنوان ۔۔’’درد کی نیلی رگیں‘‘ منظرعام پر جب سے آیا ہے تخلیقی چشمے میں ارتعاش پیدا کر رہا ہے،

منفرد نام کی طرح مجموعے کی کتابی شکل و صورت میں بھی انفرادیت ہے، ایک ہی رنگ کا استعمال شاعری میں جس انداز سے پیش کیا گیا ہے وہ اب سے پہلے کسی نے نہیں کیا ،پوری شاعری میں محسوسات کو تمثیلوں کے ذریعے تصاویر کی طرح اجاگر کیا گیا ہے، اشعار میں جذبوں سے پیدا ہونے والی تازگی بدرجہ اتم جھلکتی ہے، ہر مصرعے اور ہر شعر پر ان کے رنگ کی خاص نسائی چھاپ موجود ہے،

آغاز سے ہی یہ دو اشعار ان کا حوالہ بن چکے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

شوخ نظر کی چٹکی نے نقصان کیا
ہاتھوں سے  چائے کے برتن چھوٹے تھے

Blue Flower 41

میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز
اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا

شعری مجموعہ” درد کي نيلي رگيںٰ ”  اپنے نام، کلام ميں نيلے رنگوں کي تماثيل، سائز، ہٗيت، اور تحرير کی چھپائی کے منفرد ہونے کي وجہ سے بہت سراہا گیا ہے، اگر آپ اردوشاعری کے دلدادہ ہيں، جديد شاعری کی باريکيوں سے لطف اندوز ہوتے ہيں تو يہ کتاب اپنی لابريری کی زينت ضرور بنائيں۔
اي ميل کا پتہ :

farzananaina@gmail.com
farzananaina@yahoo.co.uk

welcome blue 106

ISLAMABAD:

Mushaira held in honour of expat poet

(Reporter of Dawn news paper)

• ISLAMABAD, Jan 10: A Mushaira was organized in honour of British-Pakistani Urdu poetess, Farzana Khan ‘Naina’ at the Pakistan Academy of Letters (PAL) on Friday. The event was presided over by the PAL chairman, Iftikhar Arif.

• Mr Arif said Farzana Khan was typical of expatriate poets who had an advantage over native poets in expressing original ideas and imagery. He said this was also a fact that expatriate writers were not well at transmuting feelings with the same intensity. In his view, Farzana Khan was certainly a new distinctive voice in Urdu poetry. She used tender expressions and a strange and novel scheme in meters that reverberated with strong musical beats.

• In fact Iftikhar Arif’s verses, which he read at the end of the Mushaira, sounded like a well deserved tribute to the poetess; Mere Chirag Hunar Ka Mamla Hai Kuch Aur Ek Baar Jala Hai Phir Bujhe Ga Naheen (The Muse this time is bright, and once lighted it will not be extinguished).

• A number of senior poets read their poetical pieces at the Mushaira that was conducted by a literary organization, Danish (Wisdom).

Here, Farzana Khan surprised everyone with the range and depth in the couplet that she read “Meine Kaanon Main Pehan Lee Hai Tumhari Aawaz/Ab Meray Vastey Bekaar Hain Chandi Sona”.

She seeks inspiration for her poetry from the glades of Nottinghamshire, England, the county of Lord Byron and Robin Hood, where she had been living for over many years.

Farzana Khan is a Chair person of Nottingham Arts and Literature Society, She works as a broadcaster for Radio Faza and MATV Sky Digital, besides being a beauty therapist and a consultant for immigrants’ education.

Her book of Urdu poetry titled Dard Ki Neeli Ragen (Blue veins of pain) is a collection of 64 Ghazals and 24 Nazms.

The collection has received favourable reviews from a number of eminent Urdu poets, including Dr.Tahir Tauswi, Rafiuddin Raaz, Prof.Shahida Hassan, Prof.Seher Ansari, Ja zib Qureshi, Haider Sherazi, Sarshar Siddiqui, Naqash Kazmi, Nazir Faruqi, Aqeel Danish, Adil Faruqi, Asi Kashmiri,Prof.Shaukat Wasti, Mohsin Ehsan, who had stated that her work was marked with ‘Multicolour’ words. Everyone was impressed with her boldness as well as her delicate feelings, he added.

In addition there is an extraordinary rhythm. About technical aspects of Farzana’s work, a literary critic, Shaukat Wasti, says it deserve serious study.

Name Naina multi pastle 1

میری شاعری میرے بچپن اور جوانی کی کائنات کےرنگوں میں ڈھلی ہے، یادیں طلسمَاتی منظروں کو لیئےچلی آتی ہیں

وہ منظرجو دیو مالائی کہانیوں کی طرح، الف لیلوی داستانوں کی طرح، مجھےشہرزاد بننے پر مجبور کردیتے ہیں،عمر و عیار کی زنبیل سےہر بار کچھ نہ کچھ نکل آتا ہے، شہر بغداد کی گلیاں اجڑ چکی ہیں،نیل کے پانیوں میں جلتے چراغ، دھواں بن کر اوپر ہی اوپر کسی انجانے دیس میں جا چکے ہیں ، دجلہ کے دھاروں سا جلترنگ کہیں سنائی نہیں دیتا۔۔۔

گلی کےآخری کنارے پر بہنے والا پرنالہ  بنجر ہوچکا ہے جہاں اسکول سے واپس آتے ہوئےمیں،بر کھا رت میں اپنی کاپیاں پھاڑ کر کاغذ کی کشتیوں میں تبدیل کر دیا کر تی تھی۔۔۔

گھر کے پچھواڑے والا سوہانجنےکا درخت اپنے پھولوں اور پھلیوں سمیت وقت کا لقمہ بن چکا ہے، جس کی مٹی سےمجھےکبھی کبھی کبھار چونی اٹھنی مل جاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

پیپل کے درخت کے وہ پتے جن کی پیپی بنا کر میں شہنائی کی آواز سنا کرتی تھی،اس کی لٹکتی ہوئی جڑیں جو مجھےسادھو بن کر ڈراتی تھیں، مہاتما بدھ کے نروان کو تلاش کرتے کرتے پچھلی صدی کی گپھا میں ہی رہ گئے ہیں۔۔۔

میری شاعری نیلگوں وسیع و عریض، شفاف آسمان کا کینوس ہے،جہاں میں اپنی مرضی کی تصویریں پینٹ کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابن ہڈ کےاس شہر کی سرنگیں، نجانے کس طرح میڈ میرین کو لے کر مغلیہ دور کے قلعوں میں جا نکلتی ہیں۔۔۔

لارڈ بائرن اور ڈی ایچ لارنس کا یہ شہر،دھیرے دھیرے مجھے جکڑ تا رہا، ولیم ورڈز ورتھ کے ڈیفوڈل اپنی زرد زرد پلکوں سےسرسوں کےکھیت یاددلاتےرہے۔۔۔

نوٹنگھم شہر کی چوک کے وسط میں لہراتا یونین جیک، نجانے کس طرح سبز پاکستانی پرچم کے چاند تارے میں بدل جاتا ہے۔۔۔

پرانی کیسٹوں میں ریکارڈ کئےہوئےگیت اور دوہے، کسی نہ کسی طرح پائلوں میں رمبھا، سمبھا اور لیٹن کی تھرک پیدا کردیتےہیں۔۔۔

شیلےاور کیٹس کا رومانوی انداز،غالب اور چغتائی کےآرٹ کا مرقع بننےلگتا ہے۔۔۔

مجھے جوگن بنا کر ہندی بھجن سسنے پر بھی مجبور کرتی ہیں ۔۔۔ Hymnsشیلنگ کی

سائنسی حقیقتیں،میرےدرد کو نیلی رگوں میں بدلنےکی وجوہات تلاش کرتی ہیں۔۔۔

کریم کافی،مٹی کی سوندھی سوندھی پیالیوں میں جمی چاندی کے ورق جیسی کھیر بن کر مسجدوں سے آنے والی اذان کی طرح رونگھٹے کھڑے کر دیتی ہے۔۔۔۔

سونےکےنقش و نگار سے مزین کتھیڈرل، اونچےاونچے بلند و بالا گرجا  گھر،مشرق کے سورج چاچا اور چندا ماما کا چہرہ چومتےہیں۔۔۔

وینس کی گلیوں میں گھومتے ہوئے،پانی میں کھڑی عمارتوں کی دیواروں پر کائی کا سبز رنگ ،مجھےسپارہ پڑھانے والی استانی جی کےآنگن میں لگی ترئی کی بیلوں کی طرح لپٹا۔۔۔

جولیٹ کےگھر کی بالکنی میں کھڑے ہو کر،مجھے اپنے گلی محلوں کے لڑ کوں کی سیٹیاں سنائی دیں۔۔۔

شاہ عبدالطیف بھٹائی کےمزار اور سہون شریف سےلائی ہوئی کچےکانچ  کی چوڑیاں، مٹی کےرنگین گگھو گھوڑے جب میں تحفتا اپنےانگریز دوستوں کے لئے لائی تو میری سانس کی مالا فقیروں کے گلوں میں پڑے منکوں کی مانند بکھر کر کاغذپر قلم کی آنکھ سےٹپک گئی۔۔.

شاعری مجھےاپنی ہواؤں میں،پروین شاکر کی خوشبو کی طرح اڑانےلگتی ہے، موتئےکی وہ کلیاں یاد دلاتی ہےجنھیں میں قبل از وقت کھلاکر گجرا بنانے کیلئے، کچا کچا توڑ کر بھیگے بھیگے سفید ململ میں لپیٹ دیا کر تی تھی،اور وہ رات کی رانی جو میری خوابگاہ کی کھڑکی کے پاس تھی ،آج بھی یادوں کی بین پر لہراتی رہتی ہے۔۔۔۔
شاعری ایک نیلا نیلا گہرا سمندر بن کر ان لہروں کے چھینٹے اڑانے پر مجبور کردیتی ہے،جہاں میں اتوار کو گھر والوں کےساتھ جاکر اونٹوں کےگلے میں بجتی گھنٹیوں کےسحر میں مبتلا ،سیپیاں چنتےچنتے، ریت میں سسی کےآنچل کا کنارہ،ڈھونڈنے لگتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنہری دھوپ کےساتھ بچپن کےاس گاؤں کی طرف لےجاتی ہےجہاں ہم گرمیوں کی چھٹیاں گزارنےجاتےتھے،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معصوم سہیلیوں کے پراندوں میں الجھا دیتی ہےجن میں وہ موتی پرو کر نشانی کےطور پر مجھےدیتی تھیں،تاکہ میں انھیں شہر جاکر بھول نہ جاؤں۔۔۔

شاعری وہ نیل کنٹھ ہےجو صرف گاؤں میں نظر آتا تھا،

جس کے بارے میں اپنی کلاس فیلوز کو بتاتےہوئے میں ان کی آنکھوں کی حیرت سےلطف اندوز ہوتی اورصوفی شعرا کےکلام جیسا سرور محسوس کرتی۔۔۔

شاعری ان گلابی گلابوں کےساتھ بہتی ہےجنھیں میں اپنےابو کے گلقند بنانے والےباغوں سےتوڑ کر اپنی جھولی میں بھرکر،ندیا میں ڈالتی اوراس پل پرجو اس وقت بھی مجھےچینی اور جاپانی دیو مالائی کہانیوں کےدیس میں لےجاتا تھا گھنٹوں کھڑی اپنی سہیلیوں کےساتھ اس بات پر جھگڑتی کہ میرےگلاب زیادہ دور گئےہیں۔۔۔۔

صفورے کےاس درخت کی گھنی چھاؤں میں بٹھادیتی ہےجو ہمارے باغیچےمیں تھا اور جس کےنیلےاودے پھول جھڑ کر زمین پر اک غالیچہ بنتی،جس پر سفر کرتے ہوئےمجھے کسی کنکورڈ کی چنگھاڑ نہیں سنائی دیتی تھی۔۔۔

شاعری بڑے بھائی کی محبتوں کی وسعتوں کا وہ نیلا آسمانی حصار ہے،جو کبھی کسی محرومی کےاحساس سےنہیں ٹوٹا۔۔۔۔

کڑوے نیم تلے جھلنے والا وہ پنکھا ہے جس کے جھونکے بڑی باجی کی بانہوں کی طرح میرے گرد لپٹ جاتےہیں۔۔۔

شاعری سڑکوں پر چھوٹے بھائی کی موٹر سائیکل کی طرح فراٹےبھرتی ہےجس پر میں اس کےساتھ سند باد جیسی انگریزی فلمیں دیکھنے جاتی اور واپسی پر جادوگر کے سونگھائے ہوئے نیلے گلاب کےاثر میں واپس آتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اان تتلیوں اور مورنیوں کے پاس لےجاتی ہےجو چھوٹی بہنوں کی صورت، آپی آپی کہہ کر میرے گرد منڈلاتی رہتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔

ان چڑیوں کی چوں چوں سنواتی ہےجن کو میں دادی کی آنکھ بچا کر باسمتی چاول، مٹھیاں بھر بھر کے چپکے سے چھت پر کھلاتی اور ان کی پیار بھری ڈانٹ سنا کرتی تھی۔۔۔

شاعری میرے طوطے کی گردن کے گرد پڑا ہوا سرخ کنٹھا بن جاتی ہے، جس سےٹپکنے والے سرخ لہو کےقطرے یادوں کے دریا میں گرتے ہی لعل و یاقوت بن کر راجکماری کےمحل کو جانےوالی سمت بہتے ہیں، انار کی نارنجی کچی کلیاں ہیں جو نگہت اور شاہین،اپنی امی سےچھپ کر میرے ساتھ توڑلیتیں، جس کے بعد بقیہ انار پکنے تک گھر سے نکلنا بند ہوجا یا کرتا تھا۔۔۔۔

یہ شاعری مجھےمولسری کی ان شاخوں میں چھپادیتی ہے جن پر میں اور شہنازتپتی دوپہروں میں مولسریاں کھا کر ان کی گٹھلیاں راہگیروں کو مارتےاور اپنے آپ کو ماورائی شخصیت سمجھتے۔۔۔

یہ میری سہیلی شیریں کےگھر میں لگے ہوئےشہتوت کےکالےکالے رسیلے گچھوں جیسی ہے جن کا ارغوانی رنگ سفید یو نیفارم سے چھٹائے نہیں چھٹتا ۔۔۔۔

شاعری مجھےان اونچی اونچی محرابوں میں لےجاتی ہے جہاں میں اپنی حسین پھپھیوں کو کہانیوں کی شہَزادیاں سمجھا کرتی ،جن کے پائیں باغ میں لگا جامن کا درخت آج بھی یادوں پر نمک مرچ چھڑک کر کوئلوں اور پپیہوں کی طرح کوکتا ہے، شاعری بلقیس خالہ کا وہ پاندان یاد دلاتی ہے جس میں سپاری کےطرح ان لمحوں کےکٹے ہوئےٹکڑے رکھے ہیں جن میں ،میں ابن صفی صاحب سے حمیدی ،فریدی اور عمران کےآنے والے نئے ناول کی چھان بین کرتی ، خالہ کےہاتھ سے لگے ہوئے پان کا سفید چونا،صفی صاحب کی سفید  کار کی طرح اندر سےکاٹ کر تیز رفتاری سےاب بھی گزرتا ہے۔۔۔

یہ کبھی کبھی مجھےموہنجو دڑو جیسے قبرستان میں کھڑا کر دیتی ہے ، جہاں میں اپنے ماں ،باپ کےلئے فاتحہ پڑھتے ہوئے کورے کانچ کی وقت گھڑی میں ریت کی مانند بکھرنے لگتی ہوں،مصری ممیوں کی طرح حنوط چہروں کو جگانے کی کوشش کرتی ہوں،نیلگوں اداسیاں مجھےگھیر لیتی ہیں، درد کی نیلی رگیں میرے تن بدن پر ابھرنےلگتی ہیں،شب کےنیلگوں اندھیرےمیں سر سراتی دھنیں، سایوں کی مانند ارد گرد ناچنےلگتی ہیں،ان کی نیلاہٹ ،پر اسرار طمانیت کے ساتھ چھن چھن کر دریچوں کا پٹ کھولتی ہے، چکوری کی مانند ،چاند ستاروں کے بتاشے سمیٹنے کی خواہشیں کاغذ کے لبوں پر آجاتی ہیں ،سقراط کے زہریلے پیالےمیں چاشنی ملانےکی کوشش تیز ہو جاتی ہے، ہری ہری گھاس کی باریک پتیوں پہ شبنم کی بوندیں جمتی ہی نہیں،والدین جنت الفردوس کو سدھارے، پردیس نے بہن بھائی اور ہمجولیاں چھین لیں، درد بھرے گیت روح چھیلنے لگے،حساسیت بڑھ گئی  ڈائری کے صفحے کالے ہوتے گئے، دل میں کسک کی کرچیاں چبھتی رہیں، کتابیں اور موسیقی ساتھی بن گئیں، بے تحاشہ مطالعہ کیا، جس لائیبریری سےجو بھی مل جاتا پیاسی ندی کی مانند پی جاتی،رات گئے تک مطالعہ کرتی، دنیا کےمختلف ممالک کےادب سے بھی شناسائی ہوئی، یوں رفتہ رفتہ اس نیلےساگر میں پوری طرح ڈوب گئی۔ ۔ ۔

شاعری ایک اپنی دنیا ہےجہاں کچھ پل کےلئےاچانک سب کی نظر سےاوجھل ہو کر میں شہرِ سبا کی سیڑھیاں چڑھتی ہوں، اسی لیئےمیری شاعری سماجی اور انقلابی مسائل کےبجائے میری اپنی راہ فرار کی جانب جاتی ہے، ورنہ اس دنیا میں کون ہےجس کو ان سےمفر ہے!۔

  شاعری مجھے نیلے نیلےآسمان کی وسعتوں سے بادلوں کے چھوٹے چھوٹے سپید ٹکروں کی مانند، خواب وخیال کی دنیا سے نکال  کر، سرخ سرخ اینٹوں سے بنے ہوئے گھروں کی اس سرزمین پراتار دیتی ہے جہاں میں زندگی کے کٹھن رستوں پر اپنے شوہر کے ساءبان تلے چل رہی ہوں، جہاں میرے پھول سے بچوں کی محبت بھری مہک مجھے تروتازہ و سرشار رکھتی ہے۔Name Naina Iceblue heart

 

My Poetry Book October 31, 2006

Posted by Farzana Naina in Blogroll, British Pakistani Poetess, Famous Pakistani in uk, Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Karachi, Kavita, Literature, Naina, Nazm, Nottingham, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shairy, Sher, Sindh, Sindhi, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
2 comments

Red and Pink flowersColour changing flowerRed and Pink flowersColour changing flower

اي ميل کا پتہ ::

farzana@farzanaakhtar.com
farzananaina@yahoo.co.uk

My Book Cover