jump to navigation

Women – عورت December 8, 2010

Posted by Farzana Naina in Facts, Feelings, Random.
1 comment so far

عورت

Aurat ka zehan mard ki

تصویر کائنات میں عورت کے ہی دم قدم سے رنگ بھرا ہوا ہے ‘ اس لئے تو کہا گیا ہے کہ ” وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ ” مگر یہ کون سی ذات با برکات ہے جس کے وجود نے رویۓ زمین پر ایک رومان پرور ‘ سحر انگیز اور دلکش سا تہلکہ مچا رکھا ہے – عقل آج تک بھی حیران ہے کہ اس کے وجود میں ایسا کیسا سحر ہے کہ جس نے صنف نازک ہونے اور مرد کی ہی پسلی سے بنائی جانے کے باوجود آج کس طرح سے مرد کے دل و دماغ پر حکمرانی کرنے کے قابل ہو گئی ہے – وہ کچھ اس طرح سے مرد کے حواسوں پر چھا سی گئی ہے کہ وہ بدحواس ہو کر چلّا اٹھا کہ ” عورت دنیا کی خوبصورتی ہے ‘ عورت زمین کا دل ہے ‘ عورت محبت کی روح ہے ‘ عورت ایک سحر انگیز نشہ ہے جو ہلکے ہلکے چڑھتا ہوا مرد کے حواسوں پر قابض ہو جاتا ہے ” دوسری طرف کوئی کوئی اس کے بارے میں کہنے لگتا ہے کہ ‘ عورت ایک رات ہے ‘ عورت ایک مسہری ہے ‘ عورت ایک کوٹھا ہے ‘ عورت ایک ڈاک بنگلہ ہے ‘ عورت ایک ہوٹل کا کمرہ ہے اور عورت چاندی کا سکّہ ہے وغیرہ وغیرہ ” بہرحال جس طرح سے مرد نے عورت کو محسوس کیا اسی طرح سے اس کو استمعال بھی کیا اور اس کے بارے میں اپنا اپنا خیال ظاھر بھی کیا ہے- میں سمجھتا ہوں کے عورت نیلے آسمان کی طرح بیکراں ‘ چودھویں رات کے چند کی طرح مدہوش کن ‘ ہلکا ہلکا چڑھتے ہوئے نشہ کی طرح سرور انگیز ‘ پھولوں پر منڈلاتی تتلیوں کی طرح خوبصورت ‘کوکتی کویل کی طرح نغمہ ریز مسجد میں جلتے ہوئے چراغ کی لو کی طرح مقدس چاندنی سے تراشا ہوا ایک نازک سا مجسسمہ ہے جو زمین کا یکتا جمال ہے اور جو کاینات کا واحد حسن ہے – مرد جب عورت کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے تو اس کو اپنی محبوبہ کے چہرہ میں چودھویں کا چند جگمگاتا نظر آتا ہے ‘ اسکے ہونٹ گلاب کی پنکھڑیاں معلوم ہوتے ہیں ‘اسکی کمر میں ناری کی بیل کی لچک سی محسوس ہوتی ہے ‘ اسکی آواز میں کوئل کی کوک اور بلبل کا نغمہ سنی دینے لگتا ہے – سچ پوچھو تو سارا نظام شمسی عورت کے ہی اشاروں پر ناچتا ہوا نظر آنے لگتا ہے – یہی وجہ ہے کہ انسان بڑا ہو یا چھوٹا ‘ بادشاہ ہو یا فقیر’ امیر ہو یا غریب رات ہوتے ہی عورت کی طرف کھنچ جاتا ہے یوں لگتا ہے جیسے دنیا صرف عورت کی کشش سے ہی قایم و دایم ہے – مرد جب دن بھر کی محنت شاقہ سے تھکا ماندہ گھر کی طرف لوٹتا ہے تو عورت کا مقناطیس اسے اپنی طرف کھینچنے لگتا ہے اورمرد ایک نرم نرم ‘ملائم ‘گداز و چمکیلے جسم کی وادیوں میں گم ہو کر ساری تھکان کو بھول کر سرشار ہو جاتا ہے – اگر ایسا نہیں ہوتا تو مرد کی رات رات نہیں بلکہ بارہ گھنٹوں کا گھٹا ٹوب اندھیرا بن کر رہ جاتی ہے – اس سے ہٹ کر اگر حالات پر نظر ڈالیں تو یہ بھی پتا چلتا ہے کہ عورت شعلہ بھی ہے اور شبنم بھی ‘ پھول کی پتی بھی ہے اور تلوار کی دھار بھی ‘ صاف گو بھی اور کینہ ساز بھی ‘پیکر رحمت و شفقت بھی اور مجسم انتقام و حسد بھی ‘ ڈرپوک بھی اور بہادر بھی ‘بھولی بحالی بھی اور چالاک بھی ان تمام متضاد کایفیات کے مد نظر مردوں کی ایک بڑی تعداد نے عورت کو سمجھنے میں بڑی بڑی غلطیاں کی ہے اور عورت کی صحیح فطرت کو نہ سمجھ پانے کی وجہ سے ازدواجی زندگیوں میں غلط فہمیاں بڑھتی جانے لگی ہیں – ہم زندگی کی بنک سے وہی کچھ حاصل کر سکتے ہیں جو ہم نے جمع کیا ہے – اگر ہم نے پیار نہیں دیا ہے تو پھر پیار کسطرح سے پا سکتے ہیں ؟ اسطرح سے اگر ہم نسوانیت کا احترام نہیں کریں گے تو پھر عورت ہماری مردانگی کا احترام کیسے کریگی ؟ ازدواج میں معاملہ ‘ اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے ‘ والا ہوتا ہے – اسی لئے یہ بات اچھی طرح سے ذهن نشین کر لینا چاہیے کہ ‘ عورت نہ تو آقا سے محبت کر سکتی ہے نہ ہی غلام سے وہ تو صرف ایک ہمسفر سے ہی محبت کر سکتی ہے ‘ جو ہر معاملے میں اس کے شانہ بہ شانہ چل سکے ‘ یہی حال مرد کا بھی ہے ‘ وہ چاہتا ہے کہ عورت خلوت میں اس کے شانہ بہ شانہ چلے غیر ضروری قسم کی شرم و حیا کے چکر میں نہ پڑے – عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ اکثر گھرانوں کے مرد طوائفوں کے کوٹھوں کے چکرلگانے لگتے ہیں – اسکی صرف ایک ہی وجہ ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کو اپنے گھر میں وہ کچھ نہیں مل پاتا جو وہ چاہتے ہیں – دوسری طرف یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ عورتیں شادی شدہ ہونے کے باوجود بھی جب انھیں جنسیاتی طور پر وہ کچھ نہیں ملتا جو ان کے جسموں کی ضرورت کو پورا کر سکے یا انھیں پوری طرح مطمئنکر سکے تو وہ کسی دوسرے مرد سے تعلق استوار کر لیتی ہیں – اس لئے ایسے مسئلوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ان کا تدارک کر لینا ہی عقلمندی ہے – ان کا تدارک صرف اس طرح ہو سکتا ہے کہ مرد اور عورتدونوں ہی ایک دوسرے کو کس طرح خوش کیا جا سکتا ہے ان باتوں کا علم حاصل کریں – سماجی’ ذہنی’ خدماتی اور جذباتی طور پر ایک دوسرے کو خوش کرنے کے گر تو انسان کیسے تیسے سیکھ ہی لیتا ہے کیوں کہ ان پر کسی قسم کے پہرے نہیں لگے ہوتے ہیں مگر مسلہ تو جنسیاتی تعلیمات کا ہے ‘ اس معاملے میں مرد و عورتدونوں ہی اندھیرے میں بھٹکنے لگتے ہیں – جنسی طور پر ایک دوسرے کو خوش اور مطمئن کرنے کے گر ہرمرد و عورت کو سیکھنا نہایت ضروری ہے کیوں کہ اس پر ہی ازدواج کی صحت مند بقا کا دارومدار ہے – یقیناً ان ساری باتوں کا پوری طرح سے علم ہونا قدرے مشکل ہے پر ناممکن نہیں ‘ مگر علم ہونے پر جو منزل ملتی ہے وہ اتنی حسین ہوتی ہے کہ اس کے لئے جان کی بازی بھی ہنستے کھلتے لگائی جا سکتی ہے – کوئی چیز پیسوں میں بھی مہنگی ہے اور کوئی چیز لہوں روپئے میں بھی سستی ہوتی ہے ‘ سوال قیمت کا نہیں بلکہ مطلوبہ شے کی افادیت کا ہے – جنسی علم کی افادیت کے لہٰذ سے اتنی ہی اہمیت ہے کہ اس کے لئے کسی بھیقسم کی مشکل کا سامنا کرنا پڑے برداشت کرنا ہو گا کیوں کہ اس سے جو فائدے ہونگے وہ ازدواجی زندگیکو تقدس سے روشناس کروایں گے – آسمانی صحیفوں میں عورت کو کھیتی سے تشبیہ دی گئی ہے جس میںایک اہم نقطہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے – یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کھیتی کی فصل کا محض ہل اور ہل چلانے والے کی طاقت پر ہی انحصار نہیں ہوتا بلکہ ہل چلانے کی مہارت کے ساتھ ساتھ زمین کی سخت ‘ موسموں کی تبدیلی’ اور ہواؤں کی بدلتی کیفیت کی پہچان بھی ضروری ہوتی ہے-۔

بشکریہ ” آپ کا مددگار ”۔

Advertisements

Nottingham Mela July 28, 2008

Posted by Farzana Naina in Random.
Tags: , ,
add a comment

Nottingham Mela 2008
The event was held in the Old Market Square for the first time

Nottingham’s 20th Asian Mela was being held in the city’s Old Market Square.

The event, believed to the oldest of its kind in the UK, which features Asian music, dance, art and culture.

The festival – a free event aimed at families – was held in the Old Market Square for the first time. “Mela” is the Sanskrit word for “gathering”.

Portfolio holder for communities, leisure and culture Councillor David Trimble said the mela would show how well the city’s communities mixed.

He said: “Nottingham City Council continues to support diverse arts and activities throughout the year which every resident can easily enjoy.

“Nottingham Pride and the Nottingham Mela are events that are attracting new and bigger audiences each year, providing a boost to the city’s cultural offer as well as highlighting the wonderful mix of communities living in the city today.”

Organisers promised that next year’s event, Nottingham’s 21st Mela, would be bigger and better.

Courtesy Of BBC 

Taj Mahal April 13, 2008

Posted by Farzana Naina in Random.
Tags: , , , , , ,
7 comments

 tajmahal

In 1631 Shah Jahan, emperor during the Mughal’s period of greatest
prosperity, was griefstricken when his second wife, Mumtaz Mahal, died during the birth of their daughter Gauhara Begum, their fourteenth child. Contemporary court chronicles concerning Shah Jahan’s grief form the basis of the love story traditionally held as the inspiration for the Taj Mahal. Construction of the Taj Mahal was begun soon after Mumtaz’s death. The principal mausoleum was completed in 1648, and the surrounding buildings and garden were finished five years later. Visiting Agra in 1663, the French traveller François Bernier wrote the following: I shall finish this letter with a description of the two wonderful mausoleums which constitute the chief superiority of Agra over Delhi . One was erected by Jehan-guyre [sic] in honor of his father Ekbar; and Chah-Jehan raised the other to the memory of his wife Tage Mehale, that extraordinary and celebrated beauty, of whom her husband was so enamoured it is said that he was constant to her during life, and at her death was so affected as nearly to follow her to the grave.

 The Taj Mahal incorporates and expands on many design traditions, particularly Persian and earlier Mughal architecture. Specific inspiration came from a number of successful Timurid and Mughal buildings. These include the Gur-e Amir (the tomb of Timur, progenitor of the Mughal dynasty, in Samarkand), Humayun’s Tomb, Itmad-Ud-Daulah’s Tomb (sometimes called the Baby Taj), and Shah Jahan’s own Jama Masjid in Delhi. Under his patronage, Mughal building reached new levels of refinement. While previous Mughal building had primarily been constructed of red sandstone, Shah Jahan promoted the use of white marble inlaid with semi-precious stones. The complex is set in and around a large charbagh (a formal Mughal garden divided into four parts). Measuring 300 meters Ã- 300 meters, the garden uses raised pathways which divide each quarter of the garden into 16 sunken parterres or flowerbeds. A raised marble water tank at the center of the garden, halfway between the tomb and the gateway, and a linear reflecting pool on the North-South axis reflect the Taj Mahal. Elsewhere the garden is laid out with avenues of trees and fountains.

The charbagh garden was introduced to India by the first Mughal emperor Babur, a design inspired by Persian gardens. The charbagh is meant to reflect the gardens of Paradise (from the Persian paridaeza — a walled garden). In mystic Islamic texts of the Mughal period, paradise is described as an ideal garden, filled with abundance. Water plays a key role in these descriptions: In Paradise, these text say, four rivers source at a central spring or mountain, and separate the garden into north, west, south and east. Walkways beside reflecting pool Most Mughal charbaghs are rectangular in form, with a tomb or pavilion in the center of the garden. The Taj Mahal garden is unusual in that the main element, the tomb, is located at the end rather than at the center of the garden. But the existence of the newly discovered Mahtab Bagh or “Moonlight Garden” on the other side of the Yamuna provides a different interpretation — that the Yamuna itself was incorporated into the garden’s design, and was meant to be seen as one of the rivers of Paradise.
https://i1.wp.com/z.about.com/d/goasia/1/0/9/x/1/TajMahal-RTLeonard.jpg
https://i1.wp.com/www.maniza.com/Asia/images/india/taj_mahal/taj_mahal-268.jpg

The Taj Mahal complex is bounded by a crenellated red sandstone wall on three sides. The river-facing side is unwalled. Outside the wall are several additional mausoleums, including those of many of Shah Jahan’s other wives, and a larger tomb for Mumtaz’s favorite servant. These structures, composed primarily of red sandstone, are typical of smaller Mughal tombs of the era. On the inner (garden) side, the wall is fronted by columned arcades, a feature typical of Hindu temples later incorporated into Mughal mosques. The wall is interspersed with domed kiosks (chattris), and small buildings which may have been viewing areas or watch towers, such as the so-called Music House, now used as a museum. The main gateway (darwaza) is a monumental structure built primarily of marble. The style is reminiscent of that of Mughal architecture of earlier emperors. Its archways mirror the shape of the tomb’s archways, and its pishtaq arches incorporate the calligraphy that decorates the tomb. It utilises bas-relief and pietra dura (inlaid) decorations with floral motifs. The vaulted ceilings and walls have elaborate geometric designs, like those found in the other sandstone buildings of the complex.

A page from History-Ahmad Shah Durrani February 20, 2008

Posted by Farzana Naina in Random.
Tags: ,
7 comments

Durrani Empire

The Durrani Empire was a large state that included modern Afghanistan, Pakistan, the Khorasan province of Iran and a section of western India,The empire was founded in 1747 by Ahmad Shah Durrani, with its capital at Kandahar. After the death of Ahmad Shah in 1773, kingdom was passed onto his sons followed by his descendants. Ahmad Shah and his descendants were from the Sadozai line of the Abdali (later called Durrani) Pashtuns, making them the second Pashtun rulers of Kandahar, after the Ghilzais.
The Durrani Empire is often considered the origin of the state of Afghanistan. Even before the death of Nadir Shah of Persia, tribes in Afghanistan had been growing stronger and were beginning to take advantage of the waning power of their distant rulers.
Hidustan (INDIA) 1700-1792
Reign of Ahmad Shah Durrani (1747-1772)

Ahmad Shah Durrani
Nadir Shah’s rule ended in June 1747, when he was assassinated. The assassination was likely enough planned by his nephew Ali Qoli, though there is little factual evidence to support this theory. Nonetheless, when the chiefs of the Afghans met later the same year near Kandahar at a Loya jirga (council) to choose a new ruler for the Abdali confederation, Ahmad Shah Abdali was chosen. Despite being younger than other claimants, Ahmad had several overriding factors in his favor:
Ahmed Shah
He was a direct descendant of Sado, patriarch of the Sadozai clan, the most prominent tribe amongst the Pashtun peoples at the time;
He was unquestionably a charismatic leader and seasoned warrior who had at his disposal a trained, mobile force of several thousand cavalrymen;
Not least, he possessed a substantial part of Nadir Shah’s treasury.
One of Ahmad Shah’s first acts as chief was to adopt the title “Durr-i-Durrani” (“pearl of pearls” or “pearl of the age”). The name may have been suggested, as some claim, from a dream dreamt by Ahmad Shah, or as others claim, from the pearl earrings worn by the royal guard of Nadir Shah. The Abdali Pashtuns were known thereafter as the Durrani, and the name of the Abdali confederation was changed to Durrani.

Einstein-Rare pictures January 20, 2008

Posted by Farzana Naina in Random.
2 comments

Sau Dard Hain December 28, 2007

Posted by Farzana Naina in Random, Urdu.
Tags: , ,
add a comment

heart-small-diamond.gifBlue 58Small Diamond

کبھی سوچا نہ تھا کہ وقت ایسی ضد کرے گا، اس کو اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کی عادت کسی نے نہیں ڈالی؟
کیوں نہیں، آخر کیوں نہیں؟؟؟
اس نے آوارہ شاموں کی طرح گھنٹوں اس لڑکی سے باتیں کی ہیں جو اتنی منفرد تھی کہ ہوا اپنے لانبے بال باندھنا بھول جاتی تھی اور خوشبو چاروں جانب بکھرتے ھوئے اس کے پاس جاکر سمٹ جاتی تھی،
اس کی سنگت میں یادوں کی البم کھلتی تو بند ہونے کانام نہ لیتی حتی کھ آنکھیں مندنے لگتیں،

جس کی ایک تمنا پر مر جایا جائے، جس کے ایک تبسم پر جی لیا جائے، جو دن کی طرح کھلتی اور رات کی طرح ڈوب جاتی۔۔۔
گلزار نے کہا۔۔۔۔”سو درد ہیں سو راحتیں سب ملا دلنشیں ایک تو ہی نہیں روکھی روکھی سی یہ ہوااور سوکھے پتے کی طرح شہر کی سڑکوں پہ میں لاوارث اڑتا ہوا سو راستے، پر تیری راہ نہیں بہتا ہے پانی بہنے دے وقت کو یونہی رہنے دے دریا نے کروٹ لی ہے توساحلوں کو سہنے دے سو حسرتیں، پر تیرا غم نہیں تنہا تنہا ہے تنہا چل تنہا چل سو درد ہیں سو راحتیں سب ملا دلنشیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ایک تو ہی نہیں۔
وہ۔۔۔۔ سات آسمانوں کے پار کسی اور کہکشاں کے ایک ستارے کی خواہش بھی کرنا اور دوڑ کر لے آنا۔۔۔۔۔

وہ۔۔۔۔ ہونٹوں کے تل کی طرح کسی منفرد خوشبو بھرے پھول کا سوچنا اور قدموں میں بکھیر دینا۔۔۔۔ ۔

وہ ۔۔۔۔ شہد بھرے لہجے میں کڑوی کسیلی باتوں پر میٹھے میٹھے گیت لکھ لینا۔۔۔۔ ۔ہم کس دشت کے پنچھی ہیں؟
کیوں ادھورے پن کا شکار ہیں؟
یہ چائے کی پیالی اگر ختم نہیں ہوتی تو چھلک کر ہی گر کیوں نہیں جاتی؟
سوچیں ،صبحیں، شامیں بغیر پوچھے چلی آرہی ہیں چلی آرہی ہیں۔۔۔
سال دو سال کی دوری پر کوئی ہو تو بات بھی تھی پر یہ تو صدیوں کا سفر آن پڑا ہے،ختم کیوں نہیں ہوتا ؟
اندر ہی اندر جھیلیں اور خوش رنگ جزیرے ۔۔۔ ڈوب رہے ہیں یا ڈبو رہے ہیں؟؟؟

***سو درد ہیں سو راحتیں – جان من

fantasy0030

Maulana Jalalud-din Rumi-مولانا جلال ‌الدین محمد بلخی رومی December 16, 2007

Posted by Farzana Naina in Random.
Tags: , , ,
27 comments

800th anniversary of the birth of Maulana Jalal-ud-Din Belhi-Rumi
(Maulana Jalal-ud-Din Balkhi Rumi), poet and philosopher (1207-1273)


“Eminent philosopher and mystical poet of Islam, Rumi advocated tolerance, reason and access to knowledge through love. His mystical relationship with Islam produced masterpieces that have marked Islamic culture and religious beliefs, well beyond the borders of Turkey. His work and thought remain universally relevant today.”
Above text is taken from UNESCO’s official website announcing that 2007 is declared as Rumi Year. 2007 is the 800th anniversary of Rumis birth and until today his thoughts and poems, written in the “Mesnevi” and “Divan-i Kebir” in Persian language, are for many humans, not only for muslim people very important.
Central topic of Maulanas teachings is the love, which he understood as main power of the universe. Because of God´s love the universe exists at all, humans must learn to love God, so they will learn to love everything what is God´s creation, thus as humans, nature and all things.
“For the lovers of God is God alone the source of sorrow and joy. It is the wages of their work and to be really rich.” (From the Mesnevi of Maulana Jalaluddin Rumi)
In the last year 1,5 million visitors and pilgrims flowed to the mausoleum of Maulana Jalaluddin Rumi, which is today one of Turkeys most visited museums. 200000 visitors came from foreign countries, especiallay from Iran, where Maulana is very famous. From every part of the world humans visited the mystical poet, many of them speaking “Dua” (asking prayers) at his tomb.Jalaluddin-Rumi

After Maulanas death on December 17 in the year 1273 the mausoleum was established over which today rises up the “Kubbe-i-Hadra” (the Green dome), it became the symbol of Konya.
Rumi was buried near his father in the rose garden of the Seljuk palace. Later altogether 55 family members and companion or highranking Mevlevi-Derwishs like Selaheddin Zerkub and Husamedin Çelebi found their last peace at the mausoleum, beside Maulana his son Sultan Veled. The “Tekke” was built, a building for meetings and studies, the Sema hall for mystical dance and small cells for meditation practice like “Zikr” (thinking of God).
Maulana Jalaluddin Rumi was born in the year 1207 in Balkh in the Persian region Horasan (today Afghanistan). His father was the respected scholar Bahaeddin Veled, who left the city with his familiy because of the forthcoming Mongol invasion.
After travelling through different areas and a longer stay in Karaman, finally they came 1228 to Konya, which was the capital of the Rum Seljuk under the powerful Sultan Alaaddin Keykubat. After the death of the father Rumi became also a respected theological scholar. But the meeting and special friendship with Shemseddin Tabrisi, a dervish of the calendar order he met 1244 in Konya, brought him on the mystic way.
The Sufi Derwishorder of the Maulevis, which was founded after Maulanas death, got large influence during the time of the Turkish Seljuk and later in the Ottoman empire. The order was closed, when the new Turkish Republic was established at the beginning of the 20. century. Today exists in many countries, even in Europe and America small private groups, which are following the thoughts of Maulana and partly continuing mystic practices.

The ritual of “Sema”, the mystic dance of turning Maulevi dervishs found its origin in an inspiration of Maulana Celaleddin Rumi, but received its form after his death. Accompanied by the sounds of the flute “Ney” and other instruments, the whirling dervish is turning like in trance around his own axis, the right hand upward to be ready to receice God´s beneficence and the left hand downward to the earth. It symbols the mankind with their connection between heaven and earth.
The day of death Maulana Jalaluddin Rumis on December 17 in the year 1273 is named as “Seb-i-Arus”, what means literally translated “wedding night”. For the inhabitants of Konya at that time Mevlanas death was a drastic event. Sheikh Sadreddin Konevi, another mystic master from Konya, who should speak the last prayer for Maulana, fell in faint because of sadness. To Rumis funeral came numerous representatives of all groups and religions, also Christians and Jews. Despite of the muslim funeral they were reading from the old and new testament and described the character of Maulana as equal with Moses and Jesus. Maulana Jalaluddin Rumi had designated the death as typical for the sufis as “wedding”, a kind of still more intensive mental combination with God. In the Divan the following statement is contained: “When you see my funeral don´t say: What for a separation. It is time for me to meet the lover…”
There is every year a festival week in Konya in December with exhibitans, concerts and performance of the whirling dervish dance “Sema” at the Maulana cultural center (Mevlana Kültür Merkezi).
In 2006 more than 70000 visitors from many different countries came to see the performances. Like every year December 17 was a special day, where hundreds of people came together in the afternoon at the tomb of Maulana to speak “Dua”.
In the Maulana year 2007, which was declared by UNESCO after an initiative of the countries Turkey, Egypt and Afghanistan, will be world-wide cultural and informative events about Maulans philosophy.
Maulana Jalaluddin Rumi will be for every time a good example, because of his tolerance, love and good relation to his fellows. 

 مولانا جلال ‌الدین محمد بلخی رومی

پیدائش اور نام و نسب

محمد جلال الدین رومی (پیدائش:1207ء، انتقال: 1273ء) مشہور فارسی شاعر تھے۔ اصل نام جلال الدین تھا لیکن مولانا رومی کے نام سے مشہور ہوئے۔ جواہر مضئیہ میں سلسلہ نسب اس طرح بیان کیا ہے : محمد بن محمد بن محمد بن حسین بن احمد بن قاسم بن مسیب بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکرن الصدیق۔ اس روایت سے حسین بلخی مولانا کے پردادا ہوتے ہیں لیکن سپہ سالار نے انہیں دادا لکھا ہے اور یہی روایت صحیح ہے۔ کیونکہ وہ سلجوقی سلطان کے کہنے پر اناطولیہ چلے گئے تھے جو اس زمانے میں روم کہلاتا تھا۔ ان کے والد بہاؤ الدین بڑے صاحب علم و فضل بزرگ تھے۔ ان کا وطن بلخ تھا اور یہیں مولانا رومی 1207ء بمطابق 604ھ میں پیدا ہوئے۔

ابتدائی تعلیم

ابتدائی تعلیم کے مراحل شیخ بہاؤ الدین نے طے کرادیے اور پھر اپنے مرید سید برہان الدین کو جو اپنے زمانے کے فاضل علماء میں شمار کیے جاتے تھے مولاناکا معلم اور اتالیق بنادیا۔ اکثر علوم مولانا کو انہی سے حاصل ہوئے۔ اپنے والد کی حیات تک ان ہی کی خدمت میں رہے۔ والد کے انتقال کے بعد 639ھ میں شام کا قصد کیا ۔ ابتدا میں حلب کے مدرسہ حلاویہ میں رہ کر مولاناکمال الدین سے شرف تلمذ حاصل کیا۔

علم و فضل

مولانا رومی اپنے دور کے اکابر علماء میں سے تھے۔ فقہ اور مذاہب کے بہت بڑے عالم تھے۔ لیکن آپ کی شہرت بطور ایک صوفی شاعر کے ہوئی۔ دیگرعلوم میں بھی آپ کو پوری دستگاہ حاصل تھی۔ دوران طالب علمی میں ہی پیچیدہ مسائل میں علمائے وقت مولانا کی طرف رجوع کرتے تھے۔ شمس تبریز مولانا کے پیر و مرشد تھے۔ مولانا کی شہرت سن کر سلجوقی سلطان نے انھیں اپنے پاس بلوایا۔ مولانا نے درخواست قبول کی اور قونیہ چلے گئے اور

 اولاد
مولانا کے دو فرزند تھے ، علاؤ الدین محمد ، سلطان ولد ۔ علاؤ الدین محمد کا نام صرف اس کارنامے سے زندہ ہے کہ انہوں نے شمس تبریز کو شہید کیا تھا۔ سلطان ولد جو فرزند اکبر تھے ، خلف الرشید تھے ، گو مولانا کی شہرت کے آگے ان کا نام روشن نہ ہوسکا لیکن علوم ظاہری و باطنی میں وہ یگانہ روزگار تھے۔ ان کی تصنیفات میں سے خاص قابل ذکر ایک مثنوی ہے ، جس میں مولانا کے حالات اور واردات لکھے ہیں اور اس لحاظ سے وہ گویا مولانا کی مختصر سوانح عمری ہے۔

سلسلہ باطنی
مولانا کا سلسلہ اب تک قائم ہے۔ ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں لکھا ہے کہ ان کے فرقے کے لوگ جلالیہ کہلاتے ہیں۔ چونکہ مولانا کا لقب جلال الدین تھا اس لیے ان کے انتساب کی وجہ سے یہ نام مشہور ہوا ہوگا ۔ لیکن آج کل ایشیائے کوچک ، شام ، مصر اور قسطنطنیہ میں اس فرقے کو لوگ مولویہ کہتے ہیں۔ یہ لوگ نمد کی ٹوپی پہنتے ہیں جس میں جوڑ یا درز نہیں ہوتی ، مشائخ اس ٹوپی پر عمامہ باندھتے ہیں۔ خرقہ یا کرتہ کی بجائے ایک چنٹ دار پاجامہ ہوتاہے۔ ذکر و شغل کا یہ طریقہ ہے کہ حلقہ باندھ کر بیٹھتے ہیں۔ ایک شخص کھڑا ہو کر ایک ہاتھ سینے پر اور ایک ہاتھ پھیلائے ہوئے رقص شروع کرتا ہے۔ رقص میں آگے پیچھے بڑھنا یا ہٹنا نہیں ہوتا بلکہ ایک جگہ جم کر متصل چکر لگاتے ہیں۔ سماع کے وقت دف اور نے بھی بجاتے ہیں۔

وفات
بقیہ زندگی وہیں گذار کر 1273ء بمطابق 672ھ میں انتقال کرگئے۔ قونیہ میں ان کا مزار آج بھی عقیدت مندوں کا مرکز ہے۔

قونیہ میں مولانا کا مزار
مثنوی رومی
ان کی سب سے مشہور تصنیف ’’مثنوی مولانا روم‘‘ ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ایک مشہور کتاب ’’فیہ مافیہ‘‘ بھی ہے۔

باقی ایں گفتہ آیدبے زباں
درددل ہر کس کہ دارد نورجان

ترجمہ:”جس شخص کی جان میں نورہوگا اس مثنوی کا بقیہ حصہ اس کے دل میں خودبخود اتر جائیگا”

اقبال اور رومی

علامہ محمد اقبال مولانا رومی کو اپنا روحانی پیر مانتے تھے۔ کشف اور وجدان کے ذریعے ادراک حقیقت کے بعد صوفی صحیح معنوں میں عاشق ہو جاتا ہے کہ بہ رغبت تمام محبوب حقیقی کے تمام احکام کی پیروی کرتا ہے۔ رومی نے جوہر عشق کی تعریف اور اس کی ماہیت کی طرف معنی خیز اشارے کیے ہیں ۔ صوفی کی ذہنی تکمیل کا مقام کیا ہے اس کے متعلق دو شعر نہایت دل نشیں ہیں۔

آدمی دید است باقی پوست است
دید آں باشد کہ دید دوست است
جملہ تن را در گداز اندر بصر
در نظر رو در نظر رو در نظر

علامہ اقبال نے اس کی یوں تشریح کی ہے

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

ان کے 800 ویں جشن پیدائش پر ترکی کی درخواست پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، ثقافت و سائنس یونیسکو نے 2007ء کو بین الاقوامی سالِ رومی قرار دیا۔ اس موقع پر یونیسکو تمغہ بھی جاری کرے گا۔
یہ معلومات وکیپیڈیا سے لی گئی ہے

 

Meaning Of Roses November 20, 2007

Posted by Farzana Naina in Random.
Tags: ,
add a comment

The Meaning of Roses

Roses have been in existence for around 32 million years, and have been used for many reasons since the ancient civilizations including the Greeks, Romans, and Persians. Roses have been bred to be colorful, fragrant, and hearty for thousands of years.

Although a rose of any color can simply mean gratitude and simplicity, over time they have been attrubuted to a varity of emotions and occasions which is discussed below.


 

Red Red – LoveColors range from bright red to deep burgundy. Varieties include Charlotte, Forever Young, Classy, and Rouge Baiser.Red roses are given to those who you want to show love and passion, people who you have great respect for, and those who have shown great courage.The quantity can also have a special meaning. A single red rose shows love, a dozen shows gratitude, twenty-five shows congratulations and fifty show unconditional love. Two red roses tied together symbolizes an engagement.The shade of the red has a meaning as well. Bright red means love, burgundy means unconsious love, dark crimson is used to show mourning. A withered red rose is used to show that the love is over. A red rosebud symbolizes youthful love and beauty.


Pink Pink – GratitudeColors range from light pink to peach to darker pink. Varieties include Ana, Livia, Pink Titanic, Rossini, Orlando and Attaché.Pink roses in general are given to those whom you want to show thankfulness, admiration, and happiness. The different shades of pink can have more precise meanings.Deep pink is used for appreciation and gratitude, where as light pink conveys admiration and sympathy, and peach roses are given to show modesty.


Orange Orange – DesireColors range from bright orange to coral. Varities include Tropical Amazon, Marlyse, and Sari.Orange roses are given to those who you desire, those you want to get to know better, or those who you are proud of.


Yellow Yellow – FriendshipColors range from light yellow to golden. Varieties include Gold Strike, Skyline, Judy and Aalsmeer Gold.Yellow roses express joy, gladness, and friendship. They are given to new mothers, newlyweds, and graduates. They’re also used as a reminder to a loved one to show that you care.In the past yellow was used to show jealousy and a decrease of love.


White White – PurityColors range from pure white to creams to very light pinks. Varieties include Eskimo, Bianca, Akito, and Vendella.White roses are given to those who are innocent, reverent, and pure. They are very commonly used in weddings. They can also be given as a sign of secrecy. A white rosebud is used to show girhood.A white rose that has been dried means “Death is Preferable to Loss of Virtue”. A whithered white rose represents fleeting beauty, or given to show that no impression was made.


Lavender Lavender – EnchantmentVarities include Allure, Bluebird, Blue Curosia, and Stranger.Lavender roses show that you have fallen in love with someone from the moment you saw them. It also can be given to those who you feel are very unique, and those who you feel are enchanting.



Combinations of roses can also show different feelings and emotions.

Red and White – Unity
Red and Yellow – Jovial happiness
Pink and White – Forever love
Orange and Yellow – Passionate thoughts
Pale colors – Sociability and friendship

The rose plant has many other symbols as well, the leaves of a rose symbolize hope, a crown of roses symbolizes superior merit, and many others.

Why Newton commited Suicide…! November 6, 2007

Posted by Farzana Naina in Funnies, Random.
add a comment

Newton, the father of Physics committed suicide. Why? Here is the reason.
 
Once,
Newton came to India and watched a few Tamil movies that had his head spinning.  He was convinced that all his logic and  laws in physics were just a huge pile of junk and apologized for everything he had done.
 
In the movie of Rajanikanth,
Newton was confused to such an extent that he went paranoid. Here are a few scenes:
 
1) Rajanikanth has a Brain Tumor which, according to the doctors can’t be cured and his death is imminent.  In one of the fights, our great Rajanikanth is shot in the head.To everybody’s surprise, the bullet passes through his ears taking away the tumor along with it and he is cured! Long Live Rajanikanth!
 
2) In another movie, Rajanikanth is confronted with 3 gangsters Rajanikanth has a gun but unfortunately only one bullet and a knife.
 
Guess, what he does…
 
He throws the knife at the middle gangster… & shoots the bullet towards the knife.  The knife cuts the bullet into 2 pieces, which   kills both the gangsters on each side of the middle gangster & the knife kills the middle one.
 
3) Rajanikanth is chased by a gangster.  Rajanikanth has a revolver but no bullets in it. Guess, what he does.  Nah… not even in your remotest imaginations.
 
He waits for the gangster to shoot.  As soon as the gangster shoots, Rajanikanth opens the bullet compartment of his revolver and catches the bullet. Then, he closes the bullet compartment and fires his gun.  Bang… the gangster dies…
 
This was too much for our
Newton to take!  He was completely shaken and decided to go back.  But he happened to see another movie for one last time, and thought that at least one movie would follow his theory of physics. The whole movie goes fine and Newton is happy that all in the world hasn’t changed. Oops, not so fast!
 
The ‘climax’ finally arrives.
 
Rajanikanth gets to know that the villain is on the other side of a very high wall. So high that Rajanikanth can’t jump even if he tries like one of those superman techniques that our heroes normally use.   Rajanikanth has to desperately kill the villain because it’s the climax. (
Newton dada is smiling since it is virtually impossible…)
 
Rajanikanth suddenly pulls two guns from his pockets.  He throws one gun in the air and when the gun has reached above the height of the wall, he uses the second gun and shoots at the trigger of the first gun in air.  The first gun fires off and the villain is dead.
 
Newton commits suicide …

Why God Made Moms? October 24, 2007

Posted by Farzana Naina in Funnies, Random.
Tags: ,
add a comment

mother_praying.jpgchoza.gif

Answers given by 2nd grade school children to the following questions: Why did God make mothers?
1. She’s the only one who knows where the scotch tape is.
2. Mostly to clean the house.


How did God make mothers?

1. He used dirt, just like for the rest of us.
2. Magic plus super powers and a lot of stirring.
3. God made my Mom just the same like he made me.  He just used bigger parts.



What ingredients are mothers made of ?

1. God makes mothers out of clouds and angel hair and everything nice in the world and  one dab of mean.
2. They had to get their start from men’s bones. Then they mostly use string, I think.


Why did God give you your mother and not some other mom?
1. We’re related.
2. God knew she likes me a lot more than other people’s moms like me.


What kind of little girl was your mom?
1. My Mom has always been my mom and none of that other stuff.
2. I don’t know because I wasn’t there, but my guess would be pretty bossy.
3. They say she used to be nice.


What did mom need to know about dad before she married him?
1. His last name.
2. She had to know his background d. Like is he a crook? Does he get drunk on beer?
3. Does he make at least $800 a year? Did he say NO to drugs and YES to chores?


Why did your mom marry your dad?
1. My dad makes the best spaghetti in the world.  And my Mom eats a lot.
2. She got too old to do anything else with him.
3. My grandma says that Mom didn’t have her thinking cap on.


Who’s the boss at your house?
1. Mom doesn’t want to be boss, but she has to because dad’s such a goof ball.
2. Mom. You can tell by room inspection. She sees the stuff under the bed.
3. I guess Mom is, but only because she has a lot more to do than dad.


What’s the difference between moms & dads?
1. Moms work at work and work at home and dads just go to work at work.
2. Moms know how to talk to teachers without scaring them
3. Dads are taller & stronger, but moms have all the real power ’cause that’s who you got to ask if you want to sleep over at your friend’s.
4. Moms have magic; they make you feel better without medicine.


What does your mom do in her spare time?
1. Mothers don’t do spare time.
2. To hear her tell it, she pays bills all day long.


What would it take to make your mom perfect?
1. On the inside she’s already perfect.  Outside, I think some kind of plastic surgery.
2. Dye it. You know her hair. I’d dye it, maybe blue.
If you could change one thing about your mom, what would it be?
1. She has this weird thing about me keeping my room clean.  I’d get rid of that.
2. I’d make my mom smarter. Then she would know it was my sister who did it and not me.
3. I would like for her to get rid of those invisible eyes on the back of her head.