jump to navigation

New Pakistani Movies April 11, 2011

Posted by Farzana Naina in Pakistan, Pakistani, Urdu.
Tags: ,
1 comment so far

پاکستان میں فلمیں تو گنی چنی بنتی ہیں۔ مگر جہاں ایک طرف ہدایت کار شعیب منصور کی فلم ’بول‘ ریلیز ہو رہی ہے، دوسری طرف چھوٹے پیمانے کی فلم ’گول چکر‘ بھی سکرین پر آنے والی ہے۔

جلد ہی ریلیز ہونی والی فلم ’گول چکر‘ میں ایک کردار کینڈی نامی شخص ہیں۔ کینڈی ان نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو اپنے رات دن اسلام آباد کے اہم شاپنگ مرکز جناح سوپر میں گزارتے ہیں۔ اسلام آباد کے نوجوان ان کو ‘جناح بوائز‘ کہتے ہیں۔ یہ وہ لڑکے ہیں جن کا کام ہی گاڑیوں میں بلند آواز میں گانے لگا کر جناح سوپر میں لڑکیوں کو تنگ کرنے کے لیے چکر لگانا ہے۔

فلم گول چکر کی ہدایت کاری اسلام آباد کے دو نوجوان عائشہ لینیا اختر اور شہباز شگری نے کی ہے۔ عائشہ نے حال ہی میں ایک اور آزاد فلم ’سلیکستان‘ میں اداکاری کی تھی، اور اس کے بعد عائشہ کو ایک فلم بنانے کا خیال آیا۔

’جناح بوائز‘ کے بارے میں عائشہ نے کہا کہ یہ اسلام آباد کی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ’جن کو ہم جناح بوائز کہتے ہیں، ان کا تعلق میرے اور شہباز کے سماجی طبقے سے نہیں ہے، مگر کینڈی کردار بنانے کا مقصد ان کا مذاق اڑانا نہیں تھا۔ ہمارا مقصد جناح بوائز کا نرم پہلو دکھانا تھا۔‘

اس فلم کی سرمایہ کاری خود عائشہ اور شہباز ہی نے کی ہے اور اس کی لاگت تقریباً دو لاکھ روپے کی تھی۔ جہاں عائشہ نے فلم سلیکستان میں اداکاری کی ہے اور پھر گول چکر فلم بھی بنائی ہے لیکن اس سے قبل، کینڈی کے کردار کے گرد بیس منٹ کی ’سول سرچ‘ نامی فلم فیس بک اور یو ٹیوب پر ریلیز کی تھی۔ اس بیس منٹ دورانیے کی مقبولیت کے بعد عائشہ اور شہباز کو انہی کرداروں پر مبنی ایک لمبے دورانیے کی فلم بنانے کا حوصلہ ملا ۔

چونکہ پاکستان میں گنی چنی فلمیں بنتی ہیں، اسی لئے ایسی آزاد یا چھوٹے پیمانے کی فلموں کو توجہ زیادہ ملتی ہے۔ جیسے بھارت میں ایک ہزار فلموں میں دو درجن ایسی فلمیں ریلیز ہوں تو آدمی اتنا نہیں سوچتا۔ لیکن یہاں کیونکہ باقی آپ کے ارد گرد کچھ نہیں ہے تو ہمارے ہاں باقی اس طرح کی دو تین فلمیں آ جاتی ہیں، تو ان کو اس لئے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ اور کچہ نہیں ہے ۔۔۔ حسن زیدی۔

فلم بناتے وقت عائشہ اور شہباز نے اس کے ریلیز کے بارے میں زیادہ سوچا نہیں تھا۔ ’ہم اس کو فیس بک اور یوٹیوب پر ریلیز کر ہی نہیں سکتے۔ اس کا دورانیہ پینتالیس منٹ سے ایک گھنٹے کا ہو سکتا ہے۔ تو ہم نے لوگوں سے نجی محفلوں میں نمائش کے لئے اور ڈی وی ڈی کے تقسیم کرنے والوں سے بات کر لی ہے۔‘

چند ماہ پہلے جب ’سلیکستان‘ کو پاکستانی سینسر بورڈ نے نازیبا زبان کے باعث پاس نہیں کیا، تو اس کے ہدایت کار حماد خان نے فلم کو نجی محفلوں میں دکھانا شروع کیا، انٹرنیٹ پر ریلیز کیا اور فلمی میلوں میں نمائش کی۔

فلم نقاد، ہدایت کار اور کراچی فلم فیسٹول کے سربراہ حسن زیدی نے کہا کہ شروع میں ایسا جذبہ تو اچھا ہوتا ہے۔’جب ہم نے اپنی پہلی فلم بنائی تھی تو یہ نہیں سوچا تھا کہ اس کا آگے کیا کرنا ہے کیونکہ ہمیں پتہ ہی نہیں تھا۔شروع میں یہ اچھی چیز ہوتی ہے کہ لوگوں کہ پاس اتنا جذبہ ہے۔‘

حسن زیدی کا یہ بھی کہنا تھا کہ چونکہ پاکستان میں گنی چنی فلمیں بنتی ہیں، اسی لئے ایسی آزاد یا چھوٹے پیمانے کی فلموں کو توجہ زیادہ ملتی ہے۔ جیسے بھارت میں ایک ہزار فلموں میں دو درجن ایسی فلمیں ریلیز ہوں تو آدمی اتنا نہیں سوچتا۔ لیکن یہاں کیونکہ باقی آپ کے ارد گرد کچھ نہیں ہے تو ہمارے ہاں باقی اس طرح کی دو تین فلمیں آ جاتی ہیں، تو ان کو اس لئے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ اور کچہ نہیں ہے۔

دوسری جانب، سال دو ہزار سات کی مقبول فلم ’خدا کے لئے‘ کے ہدایت کار شعیب منصور بھی جلد اپنی نئی فلم ’بول‘ ریلیز کر رہے ہیں۔ فلم نقاد اور ہدایت کار عمر خان نے اس کے بارے میں کہا کہ ’سلیکستان‘، ’گول چکر‘، ’بول‘ اور انکی اپنی بنائی ہوئی ڈراؤنی فلم ’ذبح خانہ‘ کے شائقین مختلف ہیں۔

حسن زیدی کا کہنا ہے کہ ’خدا کے لئے‘ کے بعد، شائقین میں ’بول‘ سے بہت توقعات وابسطہ ہیں۔ ’بول کے پیچھے ایک بہت بڑا میڈیا ہاؤس اس کی مشہوری کرے گا، جو اس کے پرڈیوسر بھی ہیں اور خدا کے لئے کی وجہ سے شعیب منصور کا کافی نام ہے، اور امید ہے کہ لوگ اس کو دیکھنے ضرور جائیں گے۔‘

ایک بات تو طے ہے۔ پاکستان میں فلمی صنعت کا ماتم بہت ہوا ہے، لیکن گول چکر اور بول جیسی فلموں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فلم بنانے کا جذبہ ابھی مرا نہیں ہے۔

بشکریہ بی بی سی


MUMKIN HAI

DIN PARESHAN HAI

Bhutto – The Movie May 17, 2010

Posted by Farzana Naina in Karachi, News, Pakistan, Pakistani, Politics, Sindh.
Tags: , ,
add a comment

پاكستان كى سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو كى زندگى پر کلِک مارک سیگل نے ’بھٹو‘ كے نام سے ایك دستاویزى فلم بنائى ہے۔۔كینیڈا كے مشہور دستاویزى فلمى میلے ’ہاٹ ڈاكس‘ میں ایک سو پندرہ منٹ دورانیے پر محیط اس فلم كی نمائش کی گئی ہے۔

اس فلم میں بختاور بھٹو زردارى كا تیار كیا ھوا نغمہ بھى شامل كیا گیا ہے۔

فلم میں بھٹو خاندان كو امریكہ كے كینیڈى خاندان سے مشابہت دى گٰئى ہے۔ اس فلم میں بینظیر، ان كے والد ذوالفقار على بھٹو اور شوہر آصف على زردارى كى شخصیتوں كا احاطہ كیا گیا ہے۔

کلِک فلم كى كہانى پاكستان بننے سے پہلے سےشروع ہوتى ہے اور اس میں پاكستان كا كیس بطور ’نیوكلیئر نیشن‘ یعنی جوہری ملک بہت اچھے طریقے سے پیش كیا گیا ہے۔

اس میلے میں فلم كا افتتاحى شو یکم مئی کو ہوا جس كے لیے تمام ٹکٹ پہلے ہى بِك ہو گئے تھے لیکن اس کے باوجود لوگوں كى ایك بڑى تعداد بارش كے باوجود مشہور بلور سنیما گھر كے باہر چانس كى ٹكٹوں پر داخلے كے لیے انتظار كرتى رہى۔
اس فلم كو جنورى میں مشہور امریكى فلمى میلوں سن ڈانس فلم فیسٹویل اور شكاگو فلم فیسٹیول میں اعزازت ملے ہیں

میلے میں فلم کا دوسرا شو چار مئی کو ہے۔

فلم میں پاكستان كے سابق صدر پرویزمشرف، دانشور طارق على، صنم بھٹو، دفاعی امور کے ماہر شجاع نواز، امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانى، امریکہ کی سابق وزیر خارجہ كنڈولیزا رائس، بینظیر کے شوہر آصف على زردارى، برطانوى صحافى كرسٹینا لیمب، بینظیر کے دوست اور مشیر مارك

سیگل اور مسلم لیگ نواز كے رہنما خرم دستگیر كے علاوہ بینظیر كے تینوں بچوں كے انٹرویو قابل ذكر ہیں۔

اس فلم كو میلے کی پانچ اہم دستاویزی فلموں میں شمار كیا جا رہا ہے اور حال ہى میں اقوام متحدہ كى بینظیر قتل پر تفتیشى رپورٹ نے اس فلم كى اہمیت بڑھا دى ہے۔

فلمى مبصر اس فلم كو اس سال كى بہترین دستاویزى فلم كے اعزاز كى توقع كر رہے ہیں۔

فلم میں بتایا گیا ہے كہ بینظیر كے بچے كن مشكلات سے گزرے جب وہ ان سے دور تھیں اور وہ كس طرح پلے بڑھے۔ جب بینظیر ان سے دور ہوتیں تو بچے ان كے لیے نظمیں لكھتے تھے۔

اس فلمى میلے میں شریك پاكستانى نژاد كینیڈین فلمساز حارث شیخ نے فلم پر تبصرہ كرتے ہوے كہا كہ ’اس فلم ’بھٹو‘ سے پاكستان كے بارے میں مغربى ناظرین كو بہت كچھ نیا ملے گا اور یہ ایك اچھى دستاویزى فلم ہے۔‘ (حارث شیخ اس میلے میں پیغمبر اسلام كے گستاخانہ كارٹونوں كے متعلق

بنائى اپنى فلم ’بلاسفیمى‘ پرموٹ كر رہے ہیں۔)

فلم میں صدر آصف على زردارى كى زندگى جس میں بچپن سے لے كر بےنظیر سے شادى اور پھر صدارت تك پہنچنے تك كے بارے میں بہت دلچسپ معلومات دكھائى گئى ہیں۔

بینظیر بھٹو کے بچےفلم میں بینظیر بھٹو کے تینوں بچوں کے انٹرویو شامل ہیںاس فلم میں یہ بھی بتایا گیا ہے كہ بینظیر كى آصف على زردارى سے ’ارینجڈ میرج‘ كن کن مراحل سے گزرى ۔فلم كے ڈائریكٹر ڈویئن بوگمین نے بتایا كہ ’اس فلم پر كام كرنا ان كے لیے ایك اچھا تجربہ رہا ہے اور پاكستان كى سیاست بڑى دلچسپ ہے۔ جس كے بارے میں كوئى كچھ نہیں كہ سكتا۔

فلم میں ذوالفقار على بھٹو كى بیٹى ایك فلم سٹار كى طرح نظر اتى ہیں جسے مغربى ناظرین نے بہت پسند كیا ہے۔ بھٹو خاندان كے بارے میں بہت سارے ایسے مناظر اس فلم میں شامل ہیں جو پہلے كھبى نہ دیكھے گئے تھے۔

اس سے قبل اس فلم كو جنورى میں مشہور امریكى فلمى میلوں سن ڈانس اور شكاگو فلم فیسٹیول میں بھى اعزازت ملے ہیں۔

ایك فلم بین فلپ ڈیوس نے بتایا كہ اس فلم نے ان كے ’پاكستان كے بارے میں كئى شكوك دور كیے ہیں‘ مگر بےنظیر كے قاتلوں كےانجام كے بارے میں عنقریب اسى طرح كى فلم ان كى شدید خواہش ہے

فلم کے پروڈیوسر مارك سیگل نے انٹرویو كے دوران بتایا كہ ’پاكستان اور بھٹو خاندان ناقابل تقسیم ہیں۔ مجھے یقین ہے كى اگر بینظیر زندہ ہوتیں تو جمہوریت كى جنگ جارى ركھتیں‘۔

Trailor of The movie Bhutto

http://www.bhuttothefilm.com/trailer.html

Courtesy of BBC

Book by Fatima Bhutto-Fine Arts in Karachi Jail April 29, 2010

Posted by Farzana Naina in Art, Karachi, Literature, Pakistan, Pakistani, Politics, Sindh.
Tags: , , , , , , , ,
1 comment so far

Flag Pakistan1

لہو اور تلوار کے گیت: فاطمہ بھٹو کی نئی کتاب

پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی اور میر مرتضیٰ کی بیٹی فاطمہ بھٹو نے اپنی یادداشتوں پر مبنی ایک نئی کتاب، ’لہو اور تلوار کے گیت، ایک بیٹی کی یادیں‘، کے نام سے لکھی ہے۔ کتاب کی تقریب رونمائی کراچی کے علاقے کلفٹن میں ہو ءی

فاطمہ بھٹو کی تازہ کتاب چار سو ستر صفحات پر مشتمل ہے جو لندن کے ایک اشاعتی ادارے جوناتھن کیپ نے شائع کروائی ہے۔ فاطمہ بھٹو نے اپنی تازہ کتاب میں اپنی علیل دادی بیگم نصرت بھٹو اور والدہ غنویٰ بھٹو کے نام کی ہے۔

فاطمہ بھٹو کی کتاب کی تقریب رونمائی کلفٹن میں اس جگہ کے قریب منعقد کی گءی جہاں انیس سو چھیانوے میں فاطمہ بھٹو کے والد میر مرتضی بھٹو کو ایک پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا۔

فاطمہ نے کتاب کے سرورق پر بھٹو خاندان کی ان تمام شخصیات کے نام دیے ہیں جن کو مختلف ادوار میں ہلاک کیا گیا ہے۔ ان میں سب سے پہلے ذوالفقارعلی بھٹو کا نام ہے جن کو انیس سو اناسی میں فوجی دور حکومت میں پھانسی دے دی گئی، دوسرے نمبر پر شاہنواز بھٹو جو انیس سو پچاسی میں قتل ہوئے، تیسرے نمبر پر فاطمہ کے والد میر مرتضیٰ بھٹو جو انیس سو چھیانوے میں ہلاک کیے گئے اور آخر میں بینظیر بھٹو کا نام دیا گیا ہے جنہیں دو ہزار سات میں ہلاک کیا گیا۔

فاطمہ بھٹو نے اس سے قبل دو کتابیں لکھی ہیں جن میں ایک شاعری کی کتاب اور دوسری پاکستان میں آنے والے زلزلے کے متعلق ہے۔

فاطمہ بھٹو اپنی کتاب کی تقریب رونمائی کے انڈیا بھی جا رہی ہیں جہاں وہ دلی، ممبئی اور دیگر شہروں میں کتاب کے متعلق تقاریب میں شرکت کریں گی۔ کتاب کی اشاعت کے سلسلے میں لندن میں بھی تقاریب منعقد ہوں گی۔


کراچی جیل کے آرٹسٹ قیدی

پاکستان کی جیلوں میں ہنگاموں اور جرائم کے حوالے سے تو اکثر خبریں سننے کو ملتی ہی ہیں لیکن کراچی کی سینٹرل جیل اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہاں قیدیوں کو مختلف صحت افزا سرگرمیوں کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔

سینٹرل جیل کراچی میں قائم شعبہ فائن آرٹ چند سال پہلے قائم کیا گیا تھا جہاں اب اغوا برائے تاوان اور قتل میں ملوث قیدی پینسل، رنگ اور برش سے پینٹنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

شاید ہی پاکستان کی کسی اور جیل میں اس طرح کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہونگے۔

سینٹرل جیل کراچی کے ایک کمرے میں فائن آرٹ کی کلاس روزانہ چھ سے آٹھ گھنٹے جاری رہتی ہے ، یہ کمرہ قیدیوں کے آرٹ کے نمونوں کی وجہ سے عام جیل کے کمرے سے زیادہ ایک آرٹ گیلری لگتا ہے۔

فائن آرٹ کی کلاس میں سید محمد ارسلان بھی زیرتربیت ہیں۔ارسلان لندن کی ایک یونیورسٹی میں سے ایم بی ای مارکیٹنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان پہنچے اور وزارت دفاع میں ملازمت اختیار کی۔

چھ ماہ پہلے انہیں فوج کے فنڈز میں بدعنوانی کرنے کے مقدمے میں جیل بھیج دیا گیاہے اب وہ تین ماہ سے فائن آرٹ کی کلاس میں آ رہے ہیں۔

ارسلان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پینسل سے کام کی ابتداء کی اور آج کل وہ برش اور واٹر کلر کا استعمال کرتے ہیں۔ان کے کام میں مایوسی کے رنگ نمایاں ہیں۔ارسلان کہتے ہیں کہ دن کا اکثر حصہ فائن آرٹ کلاس میں گزر جاتا ہے مگر وہ قید ہونے کی وجہ سے رات کو کھلا آسمان نہیں دیکھ سکتے۔ انھوں نے کہا کہ قیدی ہونے کے احساسات اب وہ رنگوں میں بیان کرتے ہیں۔

حسنین سینٹرل جیل میں قائم فائن آرٹ کی کلاس کے سینیئر طالبعلم ہیں۔ وہ اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں دو سال سے قید ہیں۔حسنین کو قیدی لفظ سے سخت نفرت ہے، وہ کہتے ہیں کہ قیدی لفظ کا ٹیگ پوری زندگی معاشرے میں آپ کا تعاقب کرتا رہتا ہے۔حسنین کے مطابق پاکستانی معاشرتی ڈھانچے میں قیدی یا جیل کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔

سینٹرل جیل کراچی اٹھارہ سو ننانوے میں قائم ہوئی تھی۔ سینٹرل جیل کراچی میں تین ہزار سے زائد ملزم قید ہیں جن میں سے بیس بائیس کے قریب قیدی فائن آرٹ کی کلاس میں باقاعدہ حصہ لیتے ہیں۔

قیدیوں کو فائن آرٹ کی تعلیم ایک آرٹسٹ سکندر جوگی دیتے ہیں۔سکندر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے تین ماہ کا ایک شارٹ کورس قیدیوں کی تعلیم و تربیت کے لیے مخصوص کیا ہے۔سکندر کے مطابق قیدی کام کی ابتداء سٹل ورک سے کرتے ہیں بعد میں مکس میڈیا کے ذریعے چار کول، آئل پیسٹل اور سافٹ پیسٹل پر اپنے تجربات کرتے رہتے ہیں۔

سینٹرل جیل کراچی کے سپرنٹنڈنٹ نصرت حسین منگن کا کہنا ہے کہ انہوں نے جیل کا قدیم اور خوفناک تصور تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔

Book 712 

Anna Molka Ahmed – pioneer of fine arts in Pakistan

The First Female Painter of Pakistan

Prof Anna Molka Ahmed (1917 – 1994) was a famous Pakistani artist and pioneer of fine arts in the newly born Pakistan in 1947. She was a professor of fine arts at the University of the Punjab in Lahore. She was among the pioneers of women artists in Pakistan and had been a long-time director and moving spirit behind the Fine Arts Department of the Punjab University, Lahore – the first institution that was opened to the women artists in Pakistan. “In fact she has been the facilitator of a movement that made the proactive role of women artists a possibility”. writes Nilofur Farrukh (president of International Art Critics Association, Pakistan Section). It is because of trendsetters like her that the feminist art in Pakistan is gaining strength away from traditional gender discriminatory dominance. In fact these days we are witnessing a gradual dismantling of social and gender classifications. Well this has not been easy, since a lot of women had to struggle hard to bring women atop many a prestigious positions – above men, Ana Molka Ahmed is one such women.  

“Nuclear Holocaust”

 She was born to Jewish parents, in London, UK in 1917. Her mother was Polish and father was a Russian. She studied painting, sculpture and design at St. Martin School of Arts, London. She converted to Islam at the age of 18 in 1935, before marrying Sheikh Ahmed, a would be Pakistani in October 1939. The couple moved to the Indian subcontinent in 1940-41 and settled in Lahore. Although, her marriage was over in 1951 yet she lived in Pakistan with her two daughters. She was awarded Tamgha-i-Imtiaz, President’s Pride of Performance Award in 1979, Quaid-e-Azam Award in 1982 and the Khdejatul Kubra Award in 1983 for her services in the field of fine arts education in the country. Professor Emeritus Anna Molka Ahmed set up a department, which has now become a centre of excellence for Fine Arts in Pakistan.

“The day of Resurrection – Qiyamat”

At the time of independence, there were only five or six Muslim students in the art department, and Anna Molka Ahmed went from one college to other seeking students for the arts department and thus was able to introduce art courses in the Punjab University. Her students became famous artists in the country and many of them are playing their role globally.

“The Hell (Jhahanum)”

“Heaven (Jannat)”

“A village outside Lahore”

Besides painting, she was an avid gardener. She would wear her trade mark while tending the garden, cutting hedges in new and artistic pattern, and went on painting and gardening till the very last time until she was ordered by the doctors to stop because it was straining her health badly.

Anna Molka also took to writing poetry in later part of her life.

Daylight after night.

Spring when birds sing.

Sunshine after rain.

So with life’s pain.

And confidence does not wane.

And courage sustains.

She breathed her last in 1994.

Commemorating Ana Molka, the Pakistan Post issued a Rs. 4 stamp depicting Ana’s portrait and one her masterpiece paintings. Anna Molka Ahmad created a new path and a new way of looking at objects. Her dream and passion will always serve as a guideline for emerging artists, especially the female artists of Pakistan as an inspiration to carry for the torch she ignited decades ago.

Book(154)b

Mere qareeb hiمرے قریب ہی۔ March 25, 2008

Posted by Farzana Naina in Farzana, Ghazal, Kavita, Naina, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shairy, Sher, Urdu.
Tags: , , , ,
4 comments

angel-roseMere Qareeb hi yellowbutt83.gifflower_glitter_graphics_6a.gifbutt83.gif

Welcome November 4, 2006

Posted by Farzana Naina in Blogroll, Famous Urdu Poets, Farzana Naina, Ghazal, Karachi, Kavita, Naina, Nazm, Nottingham, Pakistan, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Shairy, Sher, Sufi Poets, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
3 comments

قلمی نام : نیناں

برطانیہ میں منظرِ عام پر آنے والی چند شاعرات میں فرزانہ نیناںؔ کا نام بڑا معتبر ہے،۔

متنوع صلاحیتوں کی مالک فرزانہ خان نیناؔں کا تعلق سندھ کے ایک سربر آوردہ خانوادے سے ہے۔

مجلسی اور معاشرتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں اور اپنی ادبی تنظیم نوٹنگھم آرٹس اینڈ لٹریری سوسائٹی کے تحت کئی برس سے مشاعرے و دیگر تقریبات بخوبی منعقد کرواتی رہتی ہیں جو کہ ان کی خوش سلیقگی و خوب ادائیگی کی بھرپور آئینہ دار ہیں،

اس شگفتہ وشستہ ہونہار شاعرہ کے انکل محمد سارنگ لطیفی سندھی زبان کے مشہور شاعر، صحافی اور ڈرامہ نویس تھے اور اس رحجان کا سلسلہ انہی سے جا ملتا ہے،

کراچی سے رشتہء ازدواج میں منسلک ہوکر برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں آباد ہوئیں، شعبہ ٔ ٹیلی کمیونیکیشن میں بطور انسپکٹر ملازمت کی،پھر ٹیچرز ٹریننگ اور بیوٹی کنسلٹنٹ کی تعلیم حاصل کی اور مقامی کالج میں ٹیچنگ کے شعبے سے وابستہ ہوگئیں ساتھ ہی میڈیا اور جرنلزم کے کورسز میں ڈپلوما بھی کیئے یوں مقامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے بھی وابستگی ہوئی،

ان کے پیش کردہ پروگرام خصوصی خوبیوں کی بنا پر دلچسپ اور معلوماتی ہوتے ہیں اور اپنے انداز کی وجہ سے یورپ بھر میں بیحد مقبول ہیں،

ابتدا میں نثری کہانیاں لکھیں اور نظم سے سخن طرازی کا آغاز کیا،جبکہ نثری رنگ میں گہرائیوں کی بدولت کتابوں پر تبصرہ جات اور کالم بھی ایسے دلچسپ لکھتی ہیں کہ پڑھنے والے مزید کا تقاضہ کرتے رہتے ہیں،

فرزانہ نیناںؔ کے خاص نسائی لہجے و منفرد انداز شعرگوئی نے یک لخت اہلِ ذوق کو اپنی جانب متوجہ کر کے برطانیہ کی مسلمہ شاعرات کے طبقے میں اپنا معتبر مقام بنا یا ہوا ہے ،ان کا شعری مجموعہ بعنوان ۔۔’’درد کی نیلی رگیں‘‘ منظرعام پر جب سے آیا ہے تخلیقی چشمے میں ارتعاش پیدا کر رہا ہے،

منفرد نام کی طرح مجموعے کی کتابی شکل و صورت میں بھی انفرادیت ہے، ایک ہی رنگ کا استعمال شاعری میں جس انداز سے پیش کیا گیا ہے وہ اب سے پہلے کسی نے نہیں کیا ،پوری شاعری میں محسوسات کو تمثیلوں کے ذریعے تصاویر کی طرح اجاگر کیا گیا ہے، اشعار میں جذبوں سے پیدا ہونے والی تازگی بدرجہ اتم جھلکتی ہے، ہر مصرعے اور ہر شعر پر ان کے رنگ کی خاص نسائی چھاپ موجود ہے،

آغاز سے ہی یہ دو اشعار ان کا حوالہ بن چکے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

شوخ نظر کی چٹکی نے نقصان کیا
ہاتھوں سے  چائے کے برتن چھوٹے تھے

Blue Flower 41

میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز
اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا

شعری مجموعہ” درد کي نيلي رگيںٰ ”  اپنے نام، کلام ميں نيلے رنگوں کي تماثيل، سائز، ہٗيت، اور تحرير کی چھپائی کے منفرد ہونے کي وجہ سے بہت سراہا گیا ہے، اگر آپ اردوشاعری کے دلدادہ ہيں، جديد شاعری کی باريکيوں سے لطف اندوز ہوتے ہيں تو يہ کتاب اپنی لابريری کی زينت ضرور بنائيں۔
اي ميل کا پتہ :

farzananaina@gmail.com
farzananaina@yahoo.co.uk

welcome blue 106

ISLAMABAD:

Mushaira held in honour of expat poet

(Reporter of Dawn news paper)

• ISLAMABAD, Jan 10: A Mushaira was organized in honour of British-Pakistani Urdu poetess, Farzana Khan ‘Naina’ at the Pakistan Academy of Letters (PAL) on Friday. The event was presided over by the PAL chairman, Iftikhar Arif.

• Mr Arif said Farzana Khan was typical of expatriate poets who had an advantage over native poets in expressing original ideas and imagery. He said this was also a fact that expatriate writers were not well at transmuting feelings with the same intensity. In his view, Farzana Khan was certainly a new distinctive voice in Urdu poetry. She used tender expressions and a strange and novel scheme in meters that reverberated with strong musical beats.

• In fact Iftikhar Arif’s verses, which he read at the end of the Mushaira, sounded like a well deserved tribute to the poetess; Mere Chirag Hunar Ka Mamla Hai Kuch Aur Ek Baar Jala Hai Phir Bujhe Ga Naheen (The Muse this time is bright, and once lighted it will not be extinguished).

• A number of senior poets read their poetical pieces at the Mushaira that was conducted by a literary organization, Danish (Wisdom).

Here, Farzana Khan surprised everyone with the range and depth in the couplet that she read “Meine Kaanon Main Pehan Lee Hai Tumhari Aawaz/Ab Meray Vastey Bekaar Hain Chandi Sona”.

She seeks inspiration for her poetry from the glades of Nottinghamshire, England, the county of Lord Byron and Robin Hood, where she had been living for over many years.

Farzana Khan is a Chair person of Nottingham Arts and Literature Society, She works as a broadcaster for Radio Faza and MATV Sky Digital, besides being a beauty therapist and a consultant for immigrants’ education.

Her book of Urdu poetry titled Dard Ki Neeli Ragen (Blue veins of pain) is a collection of 64 Ghazals and 24 Nazms.

The collection has received favourable reviews from a number of eminent Urdu poets, including Dr.Tahir Tauswi, Rafiuddin Raaz, Prof.Shahida Hassan, Prof.Seher Ansari, Ja zib Qureshi, Haider Sherazi, Sarshar Siddiqui, Naqash Kazmi, Nazir Faruqi, Aqeel Danish, Adil Faruqi, Asi Kashmiri,Prof.Shaukat Wasti, Mohsin Ehsan, who had stated that her work was marked with ‘Multicolour’ words. Everyone was impressed with her boldness as well as her delicate feelings, he added.

In addition there is an extraordinary rhythm. About technical aspects of Farzana’s work, a literary critic, Shaukat Wasti, says it deserve serious study.

Name Naina multi pastle 1

میری شاعری میرے بچپن اور جوانی کی کائنات کےرنگوں میں ڈھلی ہے، یادیں طلسمَاتی منظروں کو لیئےچلی آتی ہیں

وہ منظرجو دیو مالائی کہانیوں کی طرح، الف لیلوی داستانوں کی طرح، مجھےشہرزاد بننے پر مجبور کردیتے ہیں،عمر و عیار کی زنبیل سےہر بار کچھ نہ کچھ نکل آتا ہے، شہر بغداد کی گلیاں اجڑ چکی ہیں،نیل کے پانیوں میں جلتے چراغ، دھواں بن کر اوپر ہی اوپر کسی انجانے دیس میں جا چکے ہیں ، دجلہ کے دھاروں سا جلترنگ کہیں سنائی نہیں دیتا۔۔۔

گلی کےآخری کنارے پر بہنے والا پرنالہ  بنجر ہوچکا ہے جہاں اسکول سے واپس آتے ہوئےمیں،بر کھا رت میں اپنی کاپیاں پھاڑ کر کاغذ کی کشتیوں میں تبدیل کر دیا کر تی تھی۔۔۔

گھر کے پچھواڑے والا سوہانجنےکا درخت اپنے پھولوں اور پھلیوں سمیت وقت کا لقمہ بن چکا ہے، جس کی مٹی سےمجھےکبھی کبھی کبھار چونی اٹھنی مل جاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

پیپل کے درخت کے وہ پتے جن کی پیپی بنا کر میں شہنائی کی آواز سنا کرتی تھی،اس کی لٹکتی ہوئی جڑیں جو مجھےسادھو بن کر ڈراتی تھیں، مہاتما بدھ کے نروان کو تلاش کرتے کرتے پچھلی صدی کی گپھا میں ہی رہ گئے ہیں۔۔۔

میری شاعری نیلگوں وسیع و عریض، شفاف آسمان کا کینوس ہے،جہاں میں اپنی مرضی کی تصویریں پینٹ کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابن ہڈ کےاس شہر کی سرنگیں، نجانے کس طرح میڈ میرین کو لے کر مغلیہ دور کے قلعوں میں جا نکلتی ہیں۔۔۔

لارڈ بائرن اور ڈی ایچ لارنس کا یہ شہر،دھیرے دھیرے مجھے جکڑ تا رہا، ولیم ورڈز ورتھ کے ڈیفوڈل اپنی زرد زرد پلکوں سےسرسوں کےکھیت یاددلاتےرہے۔۔۔

نوٹنگھم شہر کی چوک کے وسط میں لہراتا یونین جیک، نجانے کس طرح سبز پاکستانی پرچم کے چاند تارے میں بدل جاتا ہے۔۔۔

پرانی کیسٹوں میں ریکارڈ کئےہوئےگیت اور دوہے، کسی نہ کسی طرح پائلوں میں رمبھا، سمبھا اور لیٹن کی تھرک پیدا کردیتےہیں۔۔۔

شیلےاور کیٹس کا رومانوی انداز،غالب اور چغتائی کےآرٹ کا مرقع بننےلگتا ہے۔۔۔

مجھے جوگن بنا کر ہندی بھجن سسنے پر بھی مجبور کرتی ہیں ۔۔۔ Hymnsشیلنگ کی

سائنسی حقیقتیں،میرےدرد کو نیلی رگوں میں بدلنےکی وجوہات تلاش کرتی ہیں۔۔۔

کریم کافی،مٹی کی سوندھی سوندھی پیالیوں میں جمی چاندی کے ورق جیسی کھیر بن کر مسجدوں سے آنے والی اذان کی طرح رونگھٹے کھڑے کر دیتی ہے۔۔۔۔

سونےکےنقش و نگار سے مزین کتھیڈرل، اونچےاونچے بلند و بالا گرجا  گھر،مشرق کے سورج چاچا اور چندا ماما کا چہرہ چومتےہیں۔۔۔

وینس کی گلیوں میں گھومتے ہوئے،پانی میں کھڑی عمارتوں کی دیواروں پر کائی کا سبز رنگ ،مجھےسپارہ پڑھانے والی استانی جی کےآنگن میں لگی ترئی کی بیلوں کی طرح لپٹا۔۔۔

جولیٹ کےگھر کی بالکنی میں کھڑے ہو کر،مجھے اپنے گلی محلوں کے لڑ کوں کی سیٹیاں سنائی دیں۔۔۔

شاہ عبدالطیف بھٹائی کےمزار اور سہون شریف سےلائی ہوئی کچےکانچ  کی چوڑیاں، مٹی کےرنگین گگھو گھوڑے جب میں تحفتا اپنےانگریز دوستوں کے لئے لائی تو میری سانس کی مالا فقیروں کے گلوں میں پڑے منکوں کی مانند بکھر کر کاغذپر قلم کی آنکھ سےٹپک گئی۔۔.

شاعری مجھےاپنی ہواؤں میں،پروین شاکر کی خوشبو کی طرح اڑانےلگتی ہے، موتئےکی وہ کلیاں یاد دلاتی ہےجنھیں میں قبل از وقت کھلاکر گجرا بنانے کیلئے، کچا کچا توڑ کر بھیگے بھیگے سفید ململ میں لپیٹ دیا کر تی تھی،اور وہ رات کی رانی جو میری خوابگاہ کی کھڑکی کے پاس تھی ،آج بھی یادوں کی بین پر لہراتی رہتی ہے۔۔۔۔
شاعری ایک نیلا نیلا گہرا سمندر بن کر ان لہروں کے چھینٹے اڑانے پر مجبور کردیتی ہے،جہاں میں اتوار کو گھر والوں کےساتھ جاکر اونٹوں کےگلے میں بجتی گھنٹیوں کےسحر میں مبتلا ،سیپیاں چنتےچنتے، ریت میں سسی کےآنچل کا کنارہ،ڈھونڈنے لگتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنہری دھوپ کےساتھ بچپن کےاس گاؤں کی طرف لےجاتی ہےجہاں ہم گرمیوں کی چھٹیاں گزارنےجاتےتھے،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معصوم سہیلیوں کے پراندوں میں الجھا دیتی ہےجن میں وہ موتی پرو کر نشانی کےطور پر مجھےدیتی تھیں،تاکہ میں انھیں شہر جاکر بھول نہ جاؤں۔۔۔

شاعری وہ نیل کنٹھ ہےجو صرف گاؤں میں نظر آتا تھا،

جس کے بارے میں اپنی کلاس فیلوز کو بتاتےہوئے میں ان کی آنکھوں کی حیرت سےلطف اندوز ہوتی اورصوفی شعرا کےکلام جیسا سرور محسوس کرتی۔۔۔

شاعری ان گلابی گلابوں کےساتھ بہتی ہےجنھیں میں اپنےابو کے گلقند بنانے والےباغوں سےتوڑ کر اپنی جھولی میں بھرکر،ندیا میں ڈالتی اوراس پل پرجو اس وقت بھی مجھےچینی اور جاپانی دیو مالائی کہانیوں کےدیس میں لےجاتا تھا گھنٹوں کھڑی اپنی سہیلیوں کےساتھ اس بات پر جھگڑتی کہ میرےگلاب زیادہ دور گئےہیں۔۔۔۔

صفورے کےاس درخت کی گھنی چھاؤں میں بٹھادیتی ہےجو ہمارے باغیچےمیں تھا اور جس کےنیلےاودے پھول جھڑ کر زمین پر اک غالیچہ بنتی،جس پر سفر کرتے ہوئےمجھے کسی کنکورڈ کی چنگھاڑ نہیں سنائی دیتی تھی۔۔۔

شاعری بڑے بھائی کی محبتوں کی وسعتوں کا وہ نیلا آسمانی حصار ہے،جو کبھی کسی محرومی کےاحساس سےنہیں ٹوٹا۔۔۔۔

کڑوے نیم تلے جھلنے والا وہ پنکھا ہے جس کے جھونکے بڑی باجی کی بانہوں کی طرح میرے گرد لپٹ جاتےہیں۔۔۔

شاعری سڑکوں پر چھوٹے بھائی کی موٹر سائیکل کی طرح فراٹےبھرتی ہےجس پر میں اس کےساتھ سند باد جیسی انگریزی فلمیں دیکھنے جاتی اور واپسی پر جادوگر کے سونگھائے ہوئے نیلے گلاب کےاثر میں واپس آتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اان تتلیوں اور مورنیوں کے پاس لےجاتی ہےجو چھوٹی بہنوں کی صورت، آپی آپی کہہ کر میرے گرد منڈلاتی رہتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔

ان چڑیوں کی چوں چوں سنواتی ہےجن کو میں دادی کی آنکھ بچا کر باسمتی چاول، مٹھیاں بھر بھر کے چپکے سے چھت پر کھلاتی اور ان کی پیار بھری ڈانٹ سنا کرتی تھی۔۔۔

شاعری میرے طوطے کی گردن کے گرد پڑا ہوا سرخ کنٹھا بن جاتی ہے، جس سےٹپکنے والے سرخ لہو کےقطرے یادوں کے دریا میں گرتے ہی لعل و یاقوت بن کر راجکماری کےمحل کو جانےوالی سمت بہتے ہیں، انار کی نارنجی کچی کلیاں ہیں جو نگہت اور شاہین،اپنی امی سےچھپ کر میرے ساتھ توڑلیتیں، جس کے بعد بقیہ انار پکنے تک گھر سے نکلنا بند ہوجا یا کرتا تھا۔۔۔۔

یہ شاعری مجھےمولسری کی ان شاخوں میں چھپادیتی ہے جن پر میں اور شہنازتپتی دوپہروں میں مولسریاں کھا کر ان کی گٹھلیاں راہگیروں کو مارتےاور اپنے آپ کو ماورائی شخصیت سمجھتے۔۔۔

یہ میری سہیلی شیریں کےگھر میں لگے ہوئےشہتوت کےکالےکالے رسیلے گچھوں جیسی ہے جن کا ارغوانی رنگ سفید یو نیفارم سے چھٹائے نہیں چھٹتا ۔۔۔۔

شاعری مجھےان اونچی اونچی محرابوں میں لےجاتی ہے جہاں میں اپنی حسین پھپھیوں کو کہانیوں کی شہَزادیاں سمجھا کرتی ،جن کے پائیں باغ میں لگا جامن کا درخت آج بھی یادوں پر نمک مرچ چھڑک کر کوئلوں اور پپیہوں کی طرح کوکتا ہے، شاعری بلقیس خالہ کا وہ پاندان یاد دلاتی ہے جس میں سپاری کےطرح ان لمحوں کےکٹے ہوئےٹکڑے رکھے ہیں جن میں ،میں ابن صفی صاحب سے حمیدی ،فریدی اور عمران کےآنے والے نئے ناول کی چھان بین کرتی ، خالہ کےہاتھ سے لگے ہوئے پان کا سفید چونا،صفی صاحب کی سفید  کار کی طرح اندر سےکاٹ کر تیز رفتاری سےاب بھی گزرتا ہے۔۔۔

یہ کبھی کبھی مجھےموہنجو دڑو جیسے قبرستان میں کھڑا کر دیتی ہے ، جہاں میں اپنے ماں ،باپ کےلئے فاتحہ پڑھتے ہوئے کورے کانچ کی وقت گھڑی میں ریت کی مانند بکھرنے لگتی ہوں،مصری ممیوں کی طرح حنوط چہروں کو جگانے کی کوشش کرتی ہوں،نیلگوں اداسیاں مجھےگھیر لیتی ہیں، درد کی نیلی رگیں میرے تن بدن پر ابھرنےلگتی ہیں،شب کےنیلگوں اندھیرےمیں سر سراتی دھنیں، سایوں کی مانند ارد گرد ناچنےلگتی ہیں،ان کی نیلاہٹ ،پر اسرار طمانیت کے ساتھ چھن چھن کر دریچوں کا پٹ کھولتی ہے، چکوری کی مانند ،چاند ستاروں کے بتاشے سمیٹنے کی خواہشیں کاغذ کے لبوں پر آجاتی ہیں ،سقراط کے زہریلے پیالےمیں چاشنی ملانےکی کوشش تیز ہو جاتی ہے، ہری ہری گھاس کی باریک پتیوں پہ شبنم کی بوندیں جمتی ہی نہیں،والدین جنت الفردوس کو سدھارے، پردیس نے بہن بھائی اور ہمجولیاں چھین لیں، درد بھرے گیت روح چھیلنے لگے،حساسیت بڑھ گئی  ڈائری کے صفحے کالے ہوتے گئے، دل میں کسک کی کرچیاں چبھتی رہیں، کتابیں اور موسیقی ساتھی بن گئیں، بے تحاشہ مطالعہ کیا، جس لائیبریری سےجو بھی مل جاتا پیاسی ندی کی مانند پی جاتی،رات گئے تک مطالعہ کرتی، دنیا کےمختلف ممالک کےادب سے بھی شناسائی ہوئی، یوں رفتہ رفتہ اس نیلےساگر میں پوری طرح ڈوب گئی۔ ۔ ۔

شاعری ایک اپنی دنیا ہےجہاں کچھ پل کےلئےاچانک سب کی نظر سےاوجھل ہو کر میں شہرِ سبا کی سیڑھیاں چڑھتی ہوں، اسی لیئےمیری شاعری سماجی اور انقلابی مسائل کےبجائے میری اپنی راہ فرار کی جانب جاتی ہے، ورنہ اس دنیا میں کون ہےجس کو ان سےمفر ہے!۔

  شاعری مجھے نیلے نیلےآسمان کی وسعتوں سے بادلوں کے چھوٹے چھوٹے سپید ٹکروں کی مانند، خواب وخیال کی دنیا سے نکال  کر، سرخ سرخ اینٹوں سے بنے ہوئے گھروں کی اس سرزمین پراتار دیتی ہے جہاں میں زندگی کے کٹھن رستوں پر اپنے شوہر کے ساءبان تلے چل رہی ہوں، جہاں میرے پھول سے بچوں کی محبت بھری مہک مجھے تروتازہ و سرشار رکھتی ہے۔Name Naina Iceblue heart

 

My Poetry Book October 31, 2006

Posted by Farzana Naina in Blogroll, British Pakistani Poetess, Famous Pakistani in uk, Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Karachi, Kavita, Literature, Naina, Nazm, Nottingham, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shairy, Sher, Sindh, Sindhi, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry.
2 comments

Red and Pink flowersColour changing flowerRed and Pink flowersColour changing flower

اي ميل کا پتہ ::

farzana@farzanaakhtar.com
farzananaina@yahoo.co.uk

My Book Cover