jump to navigation

ڈارون سے قبل نظریۂ ارتقا پیش کرنے والا مسلمان مفکر Al-Jahiz (776-868) February 12, 2019

Posted by Farzana Naina in Darwin theory, Evolution, Islam, Literature, Muslim Thinkers.
Tags: , , , ,
add a comment
muslim thinker jahiz

جاحظ نے سائنس، جغرافیہ، فلسفہ، صرف و نحو اور علم البیان جیسے کئی موضوعات پر قلم اٹھایا

ظریۂ ارتقا انسان کی فکری تاریخ کے طاقتور ترین نظریات میں سے ایک ہے اور جتنا اس نے انسانی فکر پر اثرات ڈالے ہیں، شاید ہی کسی اور نظریے نے ڈالے ہوں۔

عام طور پر چارلز ڈارون کو اس نظریے کا بانی سمجھا جاتا ہے، لیکن حیاتیاتی ارتقا کا تصور ہزاروں برس پہلے موجود تھا۔

ڈارون کا کمال یہ ہے کہ اس نے اس نظریے کو اتنی پختہ منطقی اور سائنسی بنیادوں سے استوار کیا کہ یہ چند عشروں کے اندر اندر دنیا بھر میں مسلمہ مان لیا گیا، اور بعد میں حاصل ہونے والے ہزاروں بین الشعبہ جاتی شواہد اسے مضبوط سے مضبوط تر بناتے چلے گئے۔

ڈارون کے نظریے کے بنیادی ستون دو ہیں، ‘نیچرل سیلیکشن’ یا قدرتی انتخاب اور ‘ڈیسینٹ ود ماڈی فیکیشن’ یا ترمیم کے ساتھ سلسلۂ نسب کا چلنا۔ جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے، ڈارون نے اس نظریے کو بنیاد فراہم کی، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ قدرتی انتخاب کا ذکر ڈارون سے ایک ہزار سال پہلے مسلمان مفکر جاحظ پیش کر چکے تھے جو ڈارون کے نظریے سے حیرت انگیز طور پر مشابہہ ہے۔

جاحظ کا پورا نام ابو عثمان عمرو بحرالکنانی البصری تھا اور وہ 776 عیسوی میں بصرہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا خاندان بےحد غریب تھا اور ان کے دادا ساربان تھے۔جاحظ خود بچپن میں بصرہ کی نہروں کے کنارے مچھلیاں بیچا کرتے تھے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بدہیت تھے جس کی وجہ سے لوگ ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔

عربی لفظ جاحظ کا مطلب ایسا شخص ہے جس کے دیدے باہر کو نکلے ہوئے ہوں لیکن جاحظ نے ان رکاوٹوں کو آڑے نہیں آنے دیا اور تہیہ کر لیا کہ اپنے مخالفوں کو علم کی روشنی سے شکست دیں گے۔

چارلز ڈارون نے اپنے مشاہدات اور گہرے غور و فکر کے بعد نظریۂ ارتقا کو ٹھوس عقلی اور استدلالی بنیاد فراہم کر دی جس نے دنیا کا فکری و علمی نقشہ ہمیشہ کے لیے بدل کے رکھ دیا۔

اس مقصد کے لیے انھوں نے تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ وہ خود لکھنے پڑھنے کے ساتھ ساتھ فارغ اوقات میں مختلف علمی محافل میں جا کر تقاریر اور مباحثے سنا کرتے تھے۔ اس زمانے میں معتزلہ فرقہ جڑ پکڑ رہا تھا اور ان کی محافل میں مذہبی مسائل، فلسفہ اور سائنس پر دھواں دھار بحثیں ہوا کرتی تھیں۔ جاحظ نے باقاعدگی سے ان محفلوں میں شرکت شروع کر دی جس سے انھیں اپنے نظریات وضع کرنے میں مدد ملی۔

یہ عباسی سلطنت کے عروج کا زمانہ تھا۔ عباسی خلیفہ ہارون الرشید اور مامون الرشید کا دور، کتب خانوں، علمی بحثوں، اور بیت الحکمہ کا دور۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا بھر سے علوم و فنون عربی زبان میں ترجمہ ہو رہے تھے، اور مسلم دنیا نت نئے نظریات سے روشناس ہو رہی تھی۔

مسلمانوں نے ابھی حال ہی میں چینیوں سے کاغذ بنانے کا کارآمد فن سیکھا تھا جس نے علم و دانش کے میدانوں میں انقلاب بپا کر دیا تھا۔ نوجوان حاحظ نے اس ماحول کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور مختلف و متنوع موضوعات پر ایک کے بعد ایک تصنیف پیش کرنا شروع کر دی۔

جلد ہی ان کی شہرت دور و نزدیک تک پہنچ گئی یہاں تک کہ خود عباسی خلیفہ مامون الرشید بھی ان کے قدردانوں میں شامل ہو گئے۔ بعد میں خلیفہ المتوکل نے انھیں اپنے بچوں کا استاد مقرر کر دیا۔

جاحظ نے سائنس، جغرافیہ، فلسفہ، صرف و نحو اور علم البیان جیسے کئی موضوعات پر قلم اٹھایا۔ اس زمانے میں لکھی گئی بعض فہرستوں میں ان کی کتابوں کی تعداد دو سو کے قریب بتائی گئی ہے، تاہم ان میں سے صرف ایک تہائی محفوظ رہ سکی ہیں۔

جاحظ کی ‘کتاب البخلاء’ (بخیلوں کی کتاب) نویں صدی کے عرب معاشرے کا زندہ مرقع ہے جس میں انھوں نے متعدد لوگوں کی جیتی جاگتی تصویریں پیش کی ہیں۔

جانوروں کا انسائیکلوپیڈیا

یوں تو جاحظ نے دو سو سے زائد کتابیں لکھیں، جن میں سے ارتقا کے سلسلے میں ‘کتاب الحیوان’ سب سے دلچسپ ہے۔ اس انسائیکلوپیڈیائی کتاب میں انھوں نے ساڑھے تین سو جانوروں کا احوال بیان کیا ہے۔ ویسا ہی احوال جو آج آپ کو وکی پیڈیا پر مل جاتا ہے۔

اسی کتاب میں جاحظ نے چند ایسے تصورات پیش کیے جو حیرت انگیز طور پر ڈارون کے نظریۂ ارتقا سے مشابہ ہیں۔ ان نظریات کو بنیادی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

بقا کی جدوجہد

جاحظ لکھتے ہیں کہ ہر جاندار ہر وقت بقا کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ جانور زندہ رہنے کے لیے خود سے چھوٹے جانوروں کو کھا جاتے ہیں، مگر خود بڑے جانوروں کی خوراک بن جاتے ہیں۔ یہ جدوجہد نہ صرف جانوروں کی مختلف نسلوں کے درمیان پائی جاتی ہے بلکہ ایک ہی نسل کے جانور بھی ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں۔

الجاحظ کی تصنیف کتاب الحیوان میں ساڑھے تین سو جانوروں کا احوال بیان کیا گیا ہے

muslim thinker jahiz 2

الجاحظ کی تصنیف کتاب الحیوان میں ساڑھے تین سو جانوروں کا احوال بیان کیا گیا ہے

ایک نسل کی دوسری نسل میں تبدیلی

جاحظ اس بات کے قائل تھے جانوروں کی ایک نسل مختلف عوامل کی وجہ سے دوسری نسل میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

ماحولیاتی عوامل کا اثر

جاحظ کا خیال تھا کہ خوراک، ماحول اور پناہ گاہ ایسے عوامل ہیں جو جانوروں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور انھی کے زیرِ اثر جانوروں کی خصوصیات بھی تبدیل ہو جاتی ہیں۔ یہ خصوصیات ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی رہتی ہیں اور جانور بتدریج اپنے ماحول میں زیادہ بہتر طریقے سے ڈھلنے لگتا ہے۔ اس طرح بہتر خصوصیات والے جانور بقا کی دوڑ میں کامیاب رہتے ہیں۔

وہ لکھتے ہیں: ‘جانور اپنی بقا کی مسلسل جدوجہد میں مگن ہیں اور وہ ہر وقت خوراک حاصل کرنے، کسی کی خوراک بننے سے بچنے، اور اپنی نسل آگے بڑھانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔

 کہلایا۔’یہ وہی نظریہ ہے جو بعد میں ‘بقائے اصلح۔

(survival of the fittest)

جاحظ کے ان خیالات کا اثر بعد میں آنے والے مسلمان مفکرین پر بھی ہوا، چنانچہ ہمیں ان کی بازگشت فارابی، ابن العربی، رومی، البیرونی، ابنِ خلدون اور دوسرے حکما کے ہاں ملتی ہے۔

علامہ اقبال نے بھی جاحظ کا ذکر کیا ہے۔ اپنے خطبات کے مجموعے ‘ری کنسٹرکشن آف ریلیجیئس تھاٹ ان اسلام’ (اسلامی مذہبی فکر کی تشکیلِ نو) میں لکھتے ہیں کہ ‘یہ جاحظ تھا جس نے نقلِ مکانی اور ماحول کی وجہ سے جانوروں کی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔’

ارتقا کے بارے میں مسلمانوں کے یہ تصورات 19ویں صدی کے یورپ میں خاصے عام تھے۔ حتیٰ کہ ڈارون کے ایک ہم عصرجان ولیم ڈریپر نے 1878 میں نظریۂ ارتقا کو ‘محمڈن تھیوری آف ایوولوشن’ یعنی ‘مسلمانوں کا نظریۂ ارتقا’ سے موسوم کیا تھا۔

اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ڈارون نے جاحظ کے خیالات سے استفادہ کیا تھا، بعض ویب سائٹوں پر لکھا ہے کہ وہ عربی جانتے تھے لیکن اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں۔ وہ ارتقا کے نظریے کے موجد نہ سہی لیکن انھوں نے اپنے مشاہدات اور گہرے غور و فکر کے بعد اس نظریے کو ٹھوس عقلی اور استدلالی بنیاد فراہم کر دی جس نے دنیا کا فکری و علمی نقشہ ہمیشہ کے لیے بدل کے رکھ دیا۔

تاہم جاحظ کا یہ اعزاز ضرور ہے کہ جو بات 19ویں صدی میں ڈارون کو سوجھی، اس کی طرف وہ ایک ہزار سال قبل ہی اشارہ کر چکے تھے۔

علم و دانش اور کتابوں سے عشق جاحظ کی موت کا سبب بھی بن گیا۔ کہا جاتا ہے کہ 92 سال کی عمر میں شیلف سے ایک کتاب نکالتے ہوئے بھاری بھرکم شیلف ان کے اوپر آ گرا اور یوں اسلامی تاریخ کا یہ یکتا دانشور کتابوں ہی کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا۔

Nasir ad-Din Tusi (1201-1274)

Muhammad al-Nakhshabi (10th century)

https://stepfeed.com/these-muslim-scholars-wrote-about-evolution-900-years-before-darwin-was-born-8064

بتشکر: صحافی ظفر سید

قارون کا قصہ September 23, 2018

Posted by Farzana Naina in Facts, Islam, Korah, Literature, Qaroon, Religion.
Tags: ,
add a comment

قورح کی موت 1865

قارون ( حضرت موسی علیہ السلام) جس کا تورات میں نام قورح ہے کا رشتہ دار تھا اور بظاہر اس نے آپ کا دین بھی قبول کر لیا تھا، نماز پڑھتا تھا تورات پڑھتا لیکن ریاکار اورکمزور عقیدہ کا انسان تھا مکمل ایمان نہيں رکھتا تھا، وہ چاہتا تھا کہ لوگ اس سے خوش فہمی رکھیں تاکہ انہیں فریب دے سکے قارون فصلوں کو پیشگی سستا خرید لیتا اور بعد میں انہیں مہنگے داموں پر فروخت کرتا تھا معاملات میں کم تولتا دھوکا اور بے انصافی کرتا سود کھاتا اور جتنا ہو سکتا تھا لوگوں پر ظلم کیا کرتا اسی قسم کے کاموں سے بہت زیادہ دولت اکٹھی کرلی تھی اور اسے ہر چیز سے زیادہ عزیز رکھتا

تھا قارون خدا پرست نہ تھا بلکہ دولت پرست تھا، اپنی دولت عیش وعشرت میں خرچ کرتا تھا، اس نے ایک عالیشان محل بنایا اور ان کے در و دیوار کو سونے اور مختلف قسم کے جواہرات سے مزین کیا حتی کہ اپنے گھوڑوں اور اونٹوں کو سونے اور جواہرات سے مزین کیا، قارون کے پاس سینکڑوں غلام اور کنیزیں تھیں اور ان کے ساتھ برا سلوک کرتا اور انہیں مجبور کرتا کہ اس کے سامنے زمین پر گر پڑیں اور اس کے پاؤں کو بوسہ دیں ۔

بعض عقلمند مومن اسے نصیحت کرتے اور کہتے کہ اے قارون یہ تمام باغ اور ثروت کس لیے یہ سب دولت اور مال کس لیے ذخیرہ کررکھا ہے؟ کیوں لوگوں پر اتنے ظلم ڈھاتے ہو؟ خدا کو کیا جواب دو گے؟ لوگوں کا حق کیوں پامال کرتا ہے؟ غریبوں اورناداروں کی کیوں مدد نہيں کرتا؟ نیک کاموں میں کیوں قدم نہیں بڑھاتا؟ قارون غرور و تکبر میں جواب دیتا کہ کسی کو ان باتوں کا حق نہيں پہنچتا میں اپنی دولت خرچ کرتا ہوں؟ مومن اسے وعظ کرتے اور کہتے کہ اتنی بڑی دولت حلال سے اکٹھی نہيں ہوتی اگر تونے نا انصافی نہ کی ہوتی اور سود نہ کھایا ہوتا تو اتنا بڑا سرمایہ نہ رکھتا بلکہ تو بھی دوسروں کی طرح ہوتا اور ان سے کوئی خاص فرق نہ رکھتا ۔

قارون جواب میں کہتا نہيں ! میں دوسروں کی طرح نہيں ! میں چالاک اور محنتی ہوں میں نے کام کیا ہے اور دولت مند ہوا ہوں دوسرے بھی جائیں کام کریں زحمت اٹھائیں تاکہ وہ بھی دولت مند ہوجائیں میں کس لیے غریبوں کی مدد کروں لیکن مومن اس کی راہنمائی کے لیے پھر بھی کہتے ! کہ تم لوگوں کے حقوق ادا نہیں کرتے جب ہی اتنے دولت مند ہوئے ہو اگر تم مزدوروں کا حق ادا کرتے تو اتنے ثروت مند نہ ہوتے اور وہ اتنے فقیر اور خالی ہاتھ نہ ہوتے اب بھی اگر چاہتے ہو کہ سعادتمند اور عاقبت بخیر ہوجاؤ تو اپنی دولت کو مخلوق خدا کی آسائش اور ترقی میں خرچ کرو دولت کا انبار لگالینا اچھا نہیں دولت کو ان راستوں میں کہ جسے خدا پسند کرتا ہے خرچ کرو لیکن قارون مومنین کا مذاق اڑاتا اور ان کی باتوں پر ہنستا اور غرور اور بے اعتنائی سے انہیں کہتا کہ بے فائدہ مجھے نصیحت نہ کرو میں تم سے بہتر ہوں اور اللہ پر زیادہ ایمان رکھتا ہوں جاؤ اپنا کام کرور اوراپنی فکر کرو ۔

ایک دن قارون نے بہت عمدہ لباس پہنا اور بہت عمدہ گھوڑے پر سوار ہوا اور اپنے محل سے باہر نکلا بہت زیادہ نوکر چاکر بھی اس کے ساتھ باہر آئے لوگ قارون کے عظمت و شکوہ کو دیکھنے کے لیے راستے میں کھڑے تھے اور اس قدر سونے اور جواہرات کے دیکھنے پر حسرت کر رہے تھے بعض نادان اس کے سامنے جھکتے اور زمین پرگر پڑتے اور کہتے کتنا خوش نصیب ہے قارون ! کتنی ثروت کا مالک اور کتنی سعادت رکھتا ہے ! خوش حال قارون ! کتنی اچھی زندگی گزارتا ہے کتنا سعادت مند اور خوش بخت ہے کاش !! ہم بھی قارون کی طرح ہوتے؟

لیکن سمجھدار مومنین کا دل ان لوگوں کی حالت پر جلتا وہ انہیں سمجھاتے اور کہتے کہ سعادت اور خوش بختی زیادہ دولت میں نہیں ہوا کرتی کیوں اس کے سامنے زمین پر گر پڑتے ہو؟ ایک ظالم انسان کا اتنا احترام کیوں کرتے ہو وہ احترام کے لائق نہيں، اس نے یہ ساری دولت گراں فروشی اور بے انصافی سے کمائی ہے وہ سعادتمند نہيں سعادتمند وہ انسان ہے جو خدا پر واقعی ایمان رکھتا ہو اور اللہ کی مخلوق کی مدد کرتا ہو اور وہ لوگوں کے حقوق سے تجاوز نہ کرتا ہو ایک دن اللہ تعالٰی کی طرف سے حضرت موسی علیہ السلام کو حکم ہوا کہ دولت مندوں سے کہو کہ وہ زکوٰۃ دیں ۔

حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ کا حکم دولت مندوں کو سنایا اور قارون کو بھی اطلاع دی کہ دوسروں کی طرح اپنے مال کی زکوٰۃ دے اس سے قارون بہت ناراض ہوا اور سخت لہجے میں حضرت موسی علیہ السلام سے کہا زکوٰۃ کیا ہے کس دلیل سے اپنی دولت دوسروں کو دوں وہ بھی جائیں اور کام کریں اور محنت کریں تاکہ دولت کمالیں ۔

حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا زکوۃ یعنی اتنی بڑی دولت کا ایک حصہ غریبوں اورناداروں کو دے تاکہ وہ بھی زندگی گذارسکیں چونکہ تم شہر میں رہتے ہو اور معاشرے کے فرد ہو اور ان کی مدد سے اتنی کثیر دولت اکٹھی کی ہے اگر وہ تیری مددنہ کرتے تو تو ہرگز اتنی دولت نہیں کما سکتا تھا مثلا اگر تو بیابان کے وسط میں تنہا زندگی بسر کرتا تو ہرگز اتنا بڑا محل نہ بنا سکتا اور باغ آباد نہ کر سکتا یہ دولت جو تو نے حاصل کی ہے ان لوگوں کی مدد سے حاصل کی ہے پس تیر ی دولت کا کچھ حصہ بھی انہیں نہیں دے رہا بلکہ ان کے اپنے حق اور مال کو زکوۃ کے نام سے انہیں واپس کر رہا ہے ۔

لیکن قانون نے حضرت موسی علیہ السلام کی دلیل کی طرف توجہ نہ دی اور کہا اے موسی (علیہ السلام) یہ کیسی بات ہے کہ تم کہہ رہے ہو ! زکوٰۃ کیا ہے ہم نے برا کام کیا کہ تم پرا یمان لے آئے ہیں کیا ہم نے گناہ کیا ہے کہ نماز پڑھتے ہیں اور اب آپ کو خراج بھی دیں ۔

حضرت موسی علیہ السلام نے قارون کی تند روی کو برداشت کیا اور نرمی سے اسے کہا کہ اے قارون زکوٰۃ کوئی میں اپنے لیے تو لے نہیں رہا ہوں بلکہ اجتماعی خدمات اور غریبوں کی مدد کے لیے چاہتا ہوں یہ اللہ کا حکم ہے کہ مالدار غریبوں اور ناداروں کا حق ادا کریں یعنی زکوۃ دیں تاکہ وہ بھی محتاج اور فقیر نہ رہیں اگر تو واقعی خدا پر ایمان رکھتا اور مجھے خدا کا پیغمبر مانتا ہے تو پھر اللہ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دے اگر نماز پڑھتا ہے تو زکوۃ بھی دے کیونکہ نماز بغیر زکوۃ کے فائدہ مند نہیں ہے تورات کا پڑھنا سمجھنے اور عمل کرنے کے لیے ہے لیکن قارون حضرت موسی علیہ السلام اور مومنین کی نصیحت اور موعظہ کی کوئی پروا نہ کی بلکہ اس کے علاوہ مومنین کو اذیت بھی پہنچانے لگا اور حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ دشمنی کرنے لگا یہاں تک تہمت لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتا تھا حضرت موسی علیہ السلام قارون کی گستاخی اور سخت دلی سے بہت ناراض ہوئے اور آپکا دل ٹوٹا اور خدا وند عالم سے درخواست کی کہ اس حریص اور ظالم انسان کو اس کے اعمال کی سزا دے ۔

اللہ کے حکم سے زمین لرزي اورایک شدید زلزلہ آیا اور ایک لحظہ میں قارون کا محل ویران اور زمین بوس ہو گیا اور قارون کو قصر(محل) سمیت زمین نگل گئی اور اس حریص کے ظلم کا خاتمہ کر دیا قارون خالی ہاتھ آخرت کی طرف روانہ ہواتاکہ وہ اپنے برے کاموں کی سزا کو دیکھے اوراسے عذاب دیا جائے کہ آخرت کا عذاب سخت اور دائمی ہے اس وقت وہ لوگ جو قارون کو سعادتمند سمجھتے تھے اور اس کی دولت کی آرزو کرتے تھے اپنی غلطی کی طرف متوجہ ہوئے اور توبہ کی اور کہاکتنی بری عاقبت اور برا انجام ہے یہ قارون نے اپنے مال کواپنے ہاتھ سے نہ دیا اور خالی ہاتھ اور گناہ گار آخرت کی طرف روانہ ہوا تاکہ اپنے کیے کا عذاب چکھے اب ہم نے سمجھا کہ تنہا مال اور دولت کسی کو خوش بخت نہیں ہوتی بلکہ خوش بختی خدا پر ایمان اور اللہ کے احکام پر عمل کرنے میں ہے۔

قورح جس کا دوسرا نام قارون ہے یہودی کتابوں بائبل اور تلمود میں  اس کا ذکر تورات کی کتاب گنتی باب 16 میں آیا ہے۔ اس کے نسب نامہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام و حضرت ہارون علیہ السلام کے خاندان … بنی لادی … سے اور رشتہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سگے چچا کا لڑکا تھا۔ اس کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و حضرت ہارون کی امامت و سیادت کا بڑا حسد تھا اس وجہ سے اس نے یہ نعرہ بلند کیا کہ خاندان کے تمام آدمی یکساں مقدس اور دین دار ہیں تو آخر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) ہی کو کیا ایسے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ وہ قوم کی امامت و پیشوائی کریں، دوسروں کو یہ حق کیوں حاصل نہیں ہے ! چنانچہ وہ خاندان کے کچھ لوگوں کو ملا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف بغاوت کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ 

بشکریہ: وکی پیڈیا

Eidul Azha – عید الاضحی November 17, 2010

Posted by Farzana Naina in Eid Mubarak, Festivals, Greetings, Islam, Poetry, Shairy, Sher, Urdu, Urdu Poetry.
Tags: , , , ,
1 comment so far

کیسے مٹاؤں زخمی ہتھیلی سے مہندی کے گل بوٹے

اب تو عیدی دینے والے ہاتھ  کا  لمس بھی  یاد  نہیں

 

Rose

♥ معزز دوستو تسلیمات♥

عید کا پر مسرت موقعہ قریب ہے، عید کارڈوں کے کبوتر اپنے پیاروں کے پیغام لے جانے کے لئیے اڑانیں بھر رہے ہیں، ان پیغامات میں ’عید کے اشعار‘ خوشی و غمی، قربت و دوری ہر طرح کے جذبات کی ترسیل کرتے ہیں۔
آپ بھی اپنے پسندیدہ ’عید پر اشعار‘ یہاں پوسٹ کیجیئے تاکہ دیگر ممبران اپنے اپنے کارڈز کو آپ کے انتخاب سے مرصع کر سکیں۔

نوازش، کرم، شکریہ، مہربانی
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
Dear Friends

Please post your choice of EID POEMS or COUPLETS here to provide our readers some poetry for EID CARDS.

♥ Good luck.♥

کس شان سے آئی ہے جہاں میں سحر عید
خورشید پر انوار ہے خود نغمہ گر عید
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
کون سی چیز تجھے دیس کا تحفہ بھیجوں
پیار بھیجوں کہ دعاؤں ذخیرہ بھیجوں
بربط قلب کی پو سوز صدائیں بھیجوں
دل مجروح کی پاکیزہ دعائیں بھیجوں
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
عید لائی ہے خوشیوں کا دلکش سماں
ہے زمیں پر ہمیں آسماں کا گماں
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
عید ہے دوستوں کی یکجائی
ورنہ پھر عید ہی کہاں آئی
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
کچھ بڑھ گیا ہے عید کے دن ناز دوستی
اے جان دوست عید مبارک ہو آپ کو
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
غصے کی تھی یا پیار کی ہمدم نگاہ تھی
دیکھا جو اس نے آج یہاں عید ہوگئی
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
کب ترے ملنے کی تقریب بنا عید کا چاند
تیری یاد آئی تو دیکھا نہ گیا عید کا چاند
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
کبھی تو خواب سا آؤ کہ عید کا دن ہے
رخ جمیل دکھاؤ کہ عید کا دن ہے
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
کتنے ترسے ہوئے ہیں خوشیوں کو
وہ جو عیدوں کی بات کرتے ہیں
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
ہم نے چاہا کہ انہیں عید پہ کچھ پیش کریں
جس میں تابندہ ستاروں کی چمک شامل ہو
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
عید کی سچی خوشی تو دوستوں کی دید ہے
سامنے جب وہ نہیں تو خاک اپنی عید ہے
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
عید کی بے بہا مسرت سے
رنگ نکھریں گے پھر فضاؤں میں
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
عید کی شام کو آفاق کی سرخی لے کر
اس کو ڈھونڈیں گے جہاں تک یہ نظر جائے گی
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
عید کے چاند غریبوں کو پریشاں مت کر
تجھ کو معلوم نہیں زیست گراں ہے کتنی
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
عید کے دن بھی کسی لمحے سکوں حاصل نہیں
عید کے دن بھی تری یادوں سے دل غافل نہیں
عید کے دن بھی نشاط زندگی حاصل نہیں
عید کے دن بھی مقدر میں تری محفل نہیں
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
عید کے دن اداس سے گھر میں
ایک بیوہ غریب روتی ہے
اس کا بچہ یہ پوچھ بیٹھا ہے
عید بنگلوں ہی میں کیوں آتی ہے
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
عید کے دن بھی قدم گھر سے نہ باہر نکلے
جشن غربت بھی مناتے تو مناتے کیسے
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
عید کے دن تو سحاب اپنے سنوارو گیسو
ایسے لگتے ہو کہ جیسے کوئی سودائی ہو
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
مہکے گا محبت کا چمن عید کے دن
شاد ہوں گے ارباب وطن عید کے دن
♥ ♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عید مبارک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥۔♥ ♥ ♥
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥♥ ♥ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عید مبارک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥۔۔۔۔۔۔۔♥ ♥ ♥۔♥ ♥ ♥
۔۔۔۔۔۔۔عید مبارک۔۔۔۔۔۔۔۔

♥ ♥ ♥

۔۔۔♥ ♥ ♥

Jafri Neelofar
Muskurati ,gungunati ,jhoomti aaye gi EID…
bher ke daman mey bharoN ki mahak laye gi EID…
hum pe kab mouquf thi rounaq tumhare bazm ki
hum na honge tab bhi aaye gi zaroor aaye gi EID
Jo hum KO Choor gyee haiN andheri raton mey
unn hi ko dhoond ke laao ke eid aayi hai………..

***

Asif Shafi
کوئی دیس دی گل دسو
اساں عید تے گھر کرئیے
اس مسلے دا حل دسو

***

Sweetjani Sami
eid eid na kar
eid kozar jayega
zayada feshan na kar
nazar lag jayega

***

Safdar Hashmi
عید کے چاند غریبوں کو پریشاں مت کر
تجھ کو معلوم نہیں زیست گراں ہے کتنی

***

Sarmad Ali
Aye Merey Dost Merey Humdam Tujhay Eid Mubarak
Eid K Is Chaand Ki Sab Khushian Mubarak
Laai Yeh Chaand Terey Liey Shadmaani Ka Paygam
Is Chaand Kay Shabab Ki Har Deed Mubarak
Daman Main Phool Hontoon Pay Tabassum Ho Tumharay
Is Eid Kay Haseen Lamhaat Ki Naveed Mubarak
Khushion Ki Aisi Eidain Manai Tu Hazaroon
Har Raat Chaand Raat Ho Din Eid Mubarak
Agar Tumhari Samajh Main Aye Tu Yeh Ghazal Bhi Parhna
Jo Faqat Yohn Likhi Kay Tumhain Eid Mubarak

***

Ujaar Gai Hain Kaiey Ghar
Hum Eid Ki Khushian Manai Kaisey
Apnay Is Dukh Ko Chupain Kaisey
Har Chehra Udaas Hai
Har Aankh Hai Num
Unhain Apnoon Say Bechar Janay Ka Ghum Hai
Meri Qoum Ko Yeh Kis Ki Nazar Kha Gai
Yeh Azaab-E-Ilaahi Hai Kia
Ya Humaray Gunahon Ki Hai Yeh Saza
Hum APnay Aap Say Poochain
Hum Eid Manain Kaisey

***

Syed Salman Ali Shah
Dastoor Hai Dunya Ka Magar Yea Tu Batado.
Hum Kis Say Miley Kis Say Kahen Eid Mubarak.

***

Mubashir Saeed
veyse tu boht keef meiN ghuzree hee ,magar yar!
ek eid hy pardeys meiN ayeee nhiN , acchi
sare halat to pardeys meiN acche heeN magar
jab yahaN eid mnata hooN tu roo deyta hooN

***

Muhammad Zubair Zubair
EID ghum nahi doston khushiyun ka pagaham lati hai
EID k 3 din achchi peda hojati hai
EID ka din hai sowainyan pak kar tayar hain
papa ko dhond rahain hain papa ghar se farar hain

***

Ali Raza
log kehte hai k eid card rasm hai us zamane ki
ye un kay zehnu pa dastak hai jinhay aadat hai bhool jane ki

***

Chand Ghumman
التجا ہے عید کے چاند سے
ذرا نکل آنا سر شام سے
کہیں یہ نہ ہو۔۔
کہ بچے سو جائیں جب آرام سے
ہم بیٹھے ہوں روزے کے اہتمام سے
اک مولانا اچانک ٹی ۔ وی پر
تمھیں پکڑ لائیں کہیں مردان سے۔
ذرا نکل آنا سر شام سے۔
التجا ہے عید کے چاند سے

***

Imran Rashid Yawar
EID AAI HAI TUM NAHI AAY ….KYN MANAAON MAIN EID KI KHUSHYAN

***

Eid Ul Adha – عيد الأضحى November 29, 2009

Posted by Farzana Naina in Eid Mubarak, Festivals, Islam.
Tags:
1 comment so far

“Festival of Sacrifice”

“Greater Eid” is a holiday celebrated by Muslims worldwide to c

ommemorate the willingness of Ibrahim to sacrifice his son as an act of obedience to God.

Eid al-Adha is the latter of two Eid festivals celebrated by Muslims, whose basis comes from the Quran. Like Eid al-Fitr, Eid al-Adha begins with a short prayer followed by a sermon (khuṭba).

Eid al-Adha annually falls on the 10th day of the month of Zul Hijja (ذو الحجة) of the lunar Islamic calendar. The festivities last for three

days or more depending on the country. Eid al-Adha occurs the day after the pilgrims conducting Hajj, the annual pilgrimage to Mecca in Saudi Arabia by Muslims worldwide, descend from Mount Arafat. It happens to be approximately 70 days after the end of the month of Ramadan.

The Arabic term “Festival of Sacrifice”, ‘Īd ul-’Aḍḥā was borrowed as a unit into Indic languages such as Hindi, Urdu, Gujarati and Bengali and Austronesian languages such as Malay and Indonesian.

Another Arabic word for “sacrifice”, (Arabic: قربان‎ Qurbān), was lent into Dari Persian – Afghanistan and Iranian dialect of Persian as Eyde

Ghorbân (Persian: عید قربان), into Tajik Persian as Иди Қурбон (Idi Qurbon), into Kazakh as Құрбан айт (Qurban ayt), into Uyghur as Qurban Heyit, and also into various Indic languages. Other languages combined the Arabic word qurbān with local terms for “festival”, as in Kurdish (Cejna Qurbanê [2]), Pashto (Kurbaneyy Akhtar), Chinese (Chinese: 古尔邦节 Gúěrbāng Jié), Malay and Indonesian (Hari Raya Korban, Qurbani), and Turkish (Turkish: Kurban Bayramı). The Turkish term was then later borrowed into languages such as Azeri (Qurban Bayramı), Tatar (Qorban Bäyräme), Croatian and Bosnian (Kurban-bajram), Serbian (Курбан бајрам), Russian (Курбан байрам).

Another Arabic name, ‘Īd ul-Kabīr (Arabic: عيد الكبير‎ `Īd al-Kabīr), meaning “Greater Eid/Festival”, is used in Yemen, Syria, and North Africa (Morocco, Algeria, Tunisia, Libya, and Egypt). The term was borrowed directly into French as Aïd el-Kebir. Translations of “Big Eid” or “Greater Eid” are used in Pashto لوی اختر Loy Akhtar, Kashmiri Baed Eid, Hindi and Urdu Baṛā Īd, Malayalam Bali Perunnal, and Tamil Peru Nāl.

Another name refers to the fact that the holiday occurs after the culmination of the Hajj (حج), or pilgrimage to Mecca (Makka). Such names are used in Malay and Indonesian (Hari Raya Haji “Hajj celebration day”, Lebaran Haji), and in Tamil Hajji Peru Nāl.

In Urdu-speaking areas, the festival is also called بقرعید Baqra Īd or Baqrī Īd, stemming either from the Arabic baqarah “heifer” or the Urdu word baqrī for “goat”, as cows and goats are among the traditionally-sacrificed animals. That term was also borrowed into other languages, such as Tamil Bakr Eid Peru Nāl.

Other local names include 宰牲节 Zǎishēng Jié (“Slaughter-livestock Festival”) in Chinese, Tfaska Tamoqqart in the Berber language of Jerba, Tabaski or Tobaski in West African languages ,Babbar Sallah in Nigerian languages, and ciida gawraca in Somali.

Eid-al-Adha has other popular names across the Muslim world. The name is often simply translated into the local language, such as English Festival of Sacrifice, German Opferfest, Dutch Offerfeest, Romanian Sărbătoarea Sacrificiului and Hungarian Áldozati ünnep.

History Four thousand years ago, the valley of Mecca was a dry and uninhabited place. According to Islamic history, the Prophet Ibrahim (Abraham) was instructed to bring Hajar and their child Ismael to Arabia from the land of Canaan by God’s command.

As Ibrahim made ready to return to the land of Canaan, Hajar asked him, “Who ordered you to leave us here”? When Ibrahim replied: “Allah”(God), Hajar said, “then Allah will not forget us; you can go”. Although Ibrahim had left a large quantity of food and water with Hajar and Ismael, the supplies quickly ran out and within a few days the two were suffering from hunger and dehydration.

According to the story, a desperate Hajar ran up and down between two hills called Safa and Marwa seven times, trying to find water. Finally, she collapsed beside her baby Ismael and prayed to Allah for deliverance. Ismael struck his foot on the ground, causing a spring of water to gush forth from the earth. Other accounts have the angel Jibral (Gabriel) striking the earth and causing the spring to flow. With this secure water supply, they were not only able to provide for their own needs, but were also able to trade water with passing nomads for food and supplies. When the Prophet Ibrahim returned from Canaan to check on his family, he was amazed to see them running a profitable well.

The Prophet Ibrahim was told by God to build a shrine dedicated to him adjacent to Hajar’s well (the Zamzam Well). Ibrahim and Ismael constructed a small stone structure–-the Kaaba–which was to be the gathering place for all who wished to strengthen their faith in Allah. As the years passed, Ismael was blessed with Prophethood and gave the nomads of the desert his message of surrender to Allah. After many centuries, Mecca became a thriving city and a major center for trade, thanks to its reliable water source, the well of Zamzam.

One of the main trials of Prophet Ibrahim’s life was to face the command of Allah to devote his dearest possession, his only son. Upon hearing this command, he prepared to submit to Allah’s’s will. During this preparation, when Satan tempted Prophet Ibrahim and his family, Hajar and Ismael drove Satan away by throwing pebbles at him. To remember this rejection of Satan, stones are thrown during Hajj.

At the time of sacrifice, Ibrahim discovered a sheep died instead of Ismail, whom he hacked through neck. When Ibrahim was fully prepared to complete the sacrifice, Allah revealed to him that his “sacrifice” had already been fulfilled. Ibrahim had shown that his love for his Lord superseded all others: that he would lay down his own life or the lives of those dear to him in order to submit to God. Muslims commemorate this superior act of sacrifice during Eid al-Adha.

The Hijrah

No longer safe in Mecca, the Prophet Muhammad, in the year 628 traveled to Medina (lit. the city) with 1400 of his followers. This is considered as the first ‘pilgrimage’ in Islam, seeking to re-establish the religious traditions of the Prophet Ibrahim, as he believed they were originally practiced

The Takbir and other Rituals

The Takbir is recited from the dawn of the tenth of Dhu al-Hijjah to the thirteenth of it. The Takbir consists of:

Allāhu akbar, Allāhu akbar, Allāhu akbar الله أكبر الله أكبر الله أكبر

lā ilāha illā Allāh لا إله إلا الله

Allāhu akbar, Allāhu akbar الله أكبر الله أكبر

wa li-illāhil-ḥamd ولله الحمد

Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, Allah is the Greatest,

There is no deity but Allah

Allah is the Greatest, Allah is the Greatest and to Allah goes all praise

Variation

Allāhu akbar, Allāhu akbar الله أكبر الله أكبر

lā ilāha illā Allāh لا إله إلا الله

wa Allāhu akbar, Allāhu akbar والله أكبر الله أكبر

wa li-illāhil-ḥamd ولله الحمد

Alḥamdulillāh `alā mā hadānā, wa lahul-shukru `ala mā awlānā الحمدلله على ما هدانا و له الشكر على ما اولانا

Allah is the Greatest, Allah is the Greatest,

There is no deity but Allah

and Allah is the Greatest, Allah is the Greatest

and to Allah goes all praise, (We) sing the praises of Allah because He has shown us the Right Path. (We) gratefully thank Him because He takes care of us and looks after our interests

Traditions and practices

Men, women, and children are expected to dress in their finest clothing to perform Eid prayer (ṣalātu l-`Īdi) in a large congregation in an open area or mosque. Muslims who can afford to do so sacrifice their best domestic animals (usually sheep, but also camels, cows and goats) as a symbol of Ibrahim’s sacrifice. The sacrificed animals, called uḍiyyah (Arabic: أضحية‎, also known as “al-qurbāni”), have to meet certain age and quality standards or else the animal is considered an unacceptable sacrifice. Generally, sacrificial animals must be at least one year of age.

The regular charitable practices of the Muslim community are demonstrated during Eid al-Adha by the concerted effort to see that no impoverished person is left without sacrificial food during these days.

During Eid al-Adha, distributing meat amongst the people, chanting Takbir out loud before the Eid prayer on the first day, and after prayers throughout the four days of Eid are considered essential parts of the festival. In some countries, families that do not own livestock can make a contribution to a charity that will provide meat to those who are in need

While Eid al-Adha is always on the same day of the Islamic calendar, the date on the Gregorian calendar varies from year to year since the Islamic calendar is a lunar calendar and the Gregorian calendar is a solar calendar. The lunar calendar is approximately eleven days shorter than the solar calendar. Each year, Eid al-Adha (like other Islamic holidays) falls on one of two different Gregorian dates in different parts of the world, due to the fact that the boundary of crescent visibility is different from the International date line.

The following list shows the official dates of Eid al-Adha for Saudi Arabia as announced by the Supreme Judicial Council. Future dates are calculated according to the Umm al-Qura calendar of Saudi Arabia. The three days after the listed date are also part of the festival. The time before the listed date the pilgrims visit the Mount Arafat and descend from it after sunrise of the listed day. Future dates of Eid al-Adha might face correction 10 days before the festivity, in case of deviant lunar sighting in Saudi Arabia for the start of the month Zul Hijja.

Ramadan Al Kareem 2009 September 5, 2009

Posted by Farzana Naina in Islam, Religion.
Tags:
2 comments
ramadanRamadan 2
  Ramadan 3
Ramadan 1
Ramadan 4
Ramadan 5
Ramadan 6
Ramadan 7
Ramadan 8
Ramadan 9
Ramadan 10
Ramadan 11
Ramadan 12
Allah ki 3 nematein

Shab E Mairaj July 21, 2009

Posted by Farzana Naina in Islam.
Tags:
2 comments

Jamadi Ul Awwal Mubarak May 7, 2008

Posted by Farzana Naina in Islam, Religion.
Tags: , ,
add a comment

flower1.gif