jump to navigation

نجانے کون سا منظر تھا مجھ کو یاد نہیں April 12, 2017

Posted by Farzana Naina in Farzana, Farzana Naina, Feelings, Poetry, Shaira, Sher, Urdu Shairy.
add a comment

نجانے کون  سا  منظر  تھا  مجھ  کو  یاد  نہیں

  طلسم  میرے  بھی  اندر  تھا  مجھ  کو  یاد  نہیں

 میں  اپنی  تہہ میں  کہیں  دور  جا  کے  ڈوب گئی 

وہ  قطرہ  کوئی  سمندر  تھا  مجھ  کو  یاد  نہیں

آج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پتہ نہیں کیوں ایک اداسی سی ہے، دور دیسوں کی کہانیوں جیسی کوئی طلسماتی سی فضا ہے ذہن میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جس تک ہم کبھی پہنچ نہیں سکتے ۔۔۔۔۔۔۔۔!۔

[https://www.youtube.com/watch?v=l-dPQyaoNhY]

Khush Manzari – خوش منظری April 9, 2017

Posted by Farzana Naina in Farzana, Farzana Naina, Feelings, Flowers, Ghazal, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Naina, Nazm, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Thoughts, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
2 comments

3 Pink Flower bar

خوش منظری

.چیری کے پیڑوں پہ پھولوں سے لدی یہ ڈالیاں !
میری آنکھوں میں کسی جنگل کی جیسے ہرنیاں
کس محبّت سے ترے نغمے سناتی ہیں مجھے
میٹھی آوازوں کی پائل سے جگاتی ہیں مجھے
تیز رفتاری سے کتنی دور تک جاتا ہے دل
کان میں چپکے سے کہتا ہے کوئی : آ مجھ سے مِل
اب بھی اونٹوں کے گلے میں بج رہی ہیں گھنٹیاں
اب بھی صحرا میں سنہری شام کی ہیں سرخیاں
کیا کہوں میں خواب جیسے اِس فسانے کے لئے
پھول تو ہوتے ہیں دریا میں بہانے کے لئے
دائروں میں جھوم کر آتا پہاڑی سے دھواؑں
اُڑتے اُڑتے مجھ پہ رکھ جاتا ہے اک کوہِ گراں

( فــرزانـہ نیــناںؔ )

Azeem Mighty Poets October 29, 2013

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Feelings, Ghazal, Ghazal, Kavita, Literature, Mushaira, Nazm, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Urdu Shairy.
add a comment

شاعری کرنے کے باوجود مجھے شاعروں کا رویہ کبھی سمجھ نہیں آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! ۔

ہر ایک اپنے آپ کو عظیم کہتا اور سمجھتا ہے، اب تو میری بھی ایک عمر ہوگیٔ ہے ان سب کو دیکھتے سنتے، چاہے کویٔ نیا لکھنے والا ہو یا پرانا، اپنے بارے میں وہ وہ لن ترانیاں کہ اللہ کی پناہ!

ہر پل ہر لمحہ اسی کوشش میں رہتے ہیں کہ ان پر داد و تحسین کے ڈونگرے برستے رہیں۔

یہ سب کے سب شیخی مارنے کا کویٔ موقعہ ہاتھ سے نہیں گنواتے، میں تو حیران ہوتے ہوتے اب حیرانگی سے بھی تنگ آ گیٔ ہوں۔

ہر شاعر دوسرے شاعر کو اس قدر کمتر سمجھتا ہے کہ توبہ، برایٗیاں کرتے کرتے ان کے ذہن و دل پر کویٔ بوجھ نہیں پڑتا !!!۔

خاص کر جب سے فیس بک ایجاد ہوا اور وہاں جو شاعروں اور ادیبوں کی جوتم پیزار ہوتی ، جو درگت بنایٔ جاتی ہے اس سے تو ان کے آباء و اجداد کے مردے بھی قبروں میں بلبلاتے ہوں گے۔۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔۔۔ ایک سے ایک اپنے آپ کو عظیم شاعر کہنے اور کہلوانے میں جان توڑ کوششیں کر رہا ہے، ہنسوں نہیں تو اور کیا کروں۔

ہایٔے ہاۓ ، یہ بچارے غالب، میر، اقبال، فیض اور فراز، بیچارے۔

 

Women – عورت December 8, 2010

Posted by Farzana Naina in Facts, Feelings, Random.
1 comment so far

عورت

Aurat ka zehan mard ki

تصویر کائنات میں عورت کے ہی دم قدم سے رنگ بھرا ہوا ہے ‘ اس لئے تو کہا گیا ہے کہ ” وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ ” مگر یہ کون سی ذات با برکات ہے جس کے وجود نے رویۓ زمین پر ایک رومان پرور ‘ سحر انگیز اور دلکش سا تہلکہ مچا رکھا ہے – عقل آج تک بھی حیران ہے کہ اس کے وجود میں ایسا کیسا سحر ہے کہ جس نے صنف نازک ہونے اور مرد کی ہی پسلی سے بنائی جانے کے باوجود آج کس طرح سے مرد کے دل و دماغ پر حکمرانی کرنے کے قابل ہو گئی ہے – وہ کچھ اس طرح سے مرد کے حواسوں پر چھا سی گئی ہے کہ وہ بدحواس ہو کر چلّا اٹھا کہ ” عورت دنیا کی خوبصورتی ہے ‘ عورت زمین کا دل ہے ‘ عورت محبت کی روح ہے ‘ عورت ایک سحر انگیز نشہ ہے جو ہلکے ہلکے چڑھتا ہوا مرد کے حواسوں پر قابض ہو جاتا ہے ” دوسری طرف کوئی کوئی اس کے بارے میں کہنے لگتا ہے کہ ‘ عورت ایک رات ہے ‘ عورت ایک مسہری ہے ‘ عورت ایک کوٹھا ہے ‘ عورت ایک ڈاک بنگلہ ہے ‘ عورت ایک ہوٹل کا کمرہ ہے اور عورت چاندی کا سکّہ ہے وغیرہ وغیرہ ” بہرحال جس طرح سے مرد نے عورت کو محسوس کیا اسی طرح سے اس کو استمعال بھی کیا اور اس کے بارے میں اپنا اپنا خیال ظاھر بھی کیا ہے- میں سمجھتا ہوں کے عورت نیلے آسمان کی طرح بیکراں ‘ چودھویں رات کے چند کی طرح مدہوش کن ‘ ہلکا ہلکا چڑھتے ہوئے نشہ کی طرح سرور انگیز ‘ پھولوں پر منڈلاتی تتلیوں کی طرح خوبصورت ‘کوکتی کویل کی طرح نغمہ ریز مسجد میں جلتے ہوئے چراغ کی لو کی طرح مقدس چاندنی سے تراشا ہوا ایک نازک سا مجسسمہ ہے جو زمین کا یکتا جمال ہے اور جو کاینات کا واحد حسن ہے – مرد جب عورت کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے تو اس کو اپنی محبوبہ کے چہرہ میں چودھویں کا چند جگمگاتا نظر آتا ہے ‘ اسکے ہونٹ گلاب کی پنکھڑیاں معلوم ہوتے ہیں ‘اسکی کمر میں ناری کی بیل کی لچک سی محسوس ہوتی ہے ‘ اسکی آواز میں کوئل کی کوک اور بلبل کا نغمہ سنی دینے لگتا ہے – سچ پوچھو تو سارا نظام شمسی عورت کے ہی اشاروں پر ناچتا ہوا نظر آنے لگتا ہے – یہی وجہ ہے کہ انسان بڑا ہو یا چھوٹا ‘ بادشاہ ہو یا فقیر’ امیر ہو یا غریب رات ہوتے ہی عورت کی طرف کھنچ جاتا ہے یوں لگتا ہے جیسے دنیا صرف عورت کی کشش سے ہی قایم و دایم ہے – مرد جب دن بھر کی محنت شاقہ سے تھکا ماندہ گھر کی طرف لوٹتا ہے تو عورت کا مقناطیس اسے اپنی طرف کھینچنے لگتا ہے اورمرد ایک نرم نرم ‘ملائم ‘گداز و چمکیلے جسم کی وادیوں میں گم ہو کر ساری تھکان کو بھول کر سرشار ہو جاتا ہے – اگر ایسا نہیں ہوتا تو مرد کی رات رات نہیں بلکہ بارہ گھنٹوں کا گھٹا ٹوب اندھیرا بن کر رہ جاتی ہے – اس سے ہٹ کر اگر حالات پر نظر ڈالیں تو یہ بھی پتا چلتا ہے کہ عورت شعلہ بھی ہے اور شبنم بھی ‘ پھول کی پتی بھی ہے اور تلوار کی دھار بھی ‘ صاف گو بھی اور کینہ ساز بھی ‘پیکر رحمت و شفقت بھی اور مجسم انتقام و حسد بھی ‘ ڈرپوک بھی اور بہادر بھی ‘بھولی بحالی بھی اور چالاک بھی ان تمام متضاد کایفیات کے مد نظر مردوں کی ایک بڑی تعداد نے عورت کو سمجھنے میں بڑی بڑی غلطیاں کی ہے اور عورت کی صحیح فطرت کو نہ سمجھ پانے کی وجہ سے ازدواجی زندگیوں میں غلط فہمیاں بڑھتی جانے لگی ہیں – ہم زندگی کی بنک سے وہی کچھ حاصل کر سکتے ہیں جو ہم نے جمع کیا ہے – اگر ہم نے پیار نہیں دیا ہے تو پھر پیار کسطرح سے پا سکتے ہیں ؟ اسطرح سے اگر ہم نسوانیت کا احترام نہیں کریں گے تو پھر عورت ہماری مردانگی کا احترام کیسے کریگی ؟ ازدواج میں معاملہ ‘ اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے ‘ والا ہوتا ہے – اسی لئے یہ بات اچھی طرح سے ذهن نشین کر لینا چاہیے کہ ‘ عورت نہ تو آقا سے محبت کر سکتی ہے نہ ہی غلام سے وہ تو صرف ایک ہمسفر سے ہی محبت کر سکتی ہے ‘ جو ہر معاملے میں اس کے شانہ بہ شانہ چل سکے ‘ یہی حال مرد کا بھی ہے ‘ وہ چاہتا ہے کہ عورت خلوت میں اس کے شانہ بہ شانہ چلے غیر ضروری قسم کی شرم و حیا کے چکر میں نہ پڑے – عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ اکثر گھرانوں کے مرد طوائفوں کے کوٹھوں کے چکرلگانے لگتے ہیں – اسکی صرف ایک ہی وجہ ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کو اپنے گھر میں وہ کچھ نہیں مل پاتا جو وہ چاہتے ہیں – دوسری طرف یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ عورتیں شادی شدہ ہونے کے باوجود بھی جب انھیں جنسیاتی طور پر وہ کچھ نہیں ملتا جو ان کے جسموں کی ضرورت کو پورا کر سکے یا انھیں پوری طرح مطمئنکر سکے تو وہ کسی دوسرے مرد سے تعلق استوار کر لیتی ہیں – اس لئے ایسے مسئلوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ان کا تدارک کر لینا ہی عقلمندی ہے – ان کا تدارک صرف اس طرح ہو سکتا ہے کہ مرد اور عورتدونوں ہی ایک دوسرے کو کس طرح خوش کیا جا سکتا ہے ان باتوں کا علم حاصل کریں – سماجی’ ذہنی’ خدماتی اور جذباتی طور پر ایک دوسرے کو خوش کرنے کے گر تو انسان کیسے تیسے سیکھ ہی لیتا ہے کیوں کہ ان پر کسی قسم کے پہرے نہیں لگے ہوتے ہیں مگر مسلہ تو جنسیاتی تعلیمات کا ہے ‘ اس معاملے میں مرد و عورتدونوں ہی اندھیرے میں بھٹکنے لگتے ہیں – جنسی طور پر ایک دوسرے کو خوش اور مطمئن کرنے کے گر ہرمرد و عورت کو سیکھنا نہایت ضروری ہے کیوں کہ اس پر ہی ازدواج کی صحت مند بقا کا دارومدار ہے – یقیناً ان ساری باتوں کا پوری طرح سے علم ہونا قدرے مشکل ہے پر ناممکن نہیں ‘ مگر علم ہونے پر جو منزل ملتی ہے وہ اتنی حسین ہوتی ہے کہ اس کے لئے جان کی بازی بھی ہنستے کھلتے لگائی جا سکتی ہے – کوئی چیز پیسوں میں بھی مہنگی ہے اور کوئی چیز لہوں روپئے میں بھی سستی ہوتی ہے ‘ سوال قیمت کا نہیں بلکہ مطلوبہ شے کی افادیت کا ہے – جنسی علم کی افادیت کے لہٰذ سے اتنی ہی اہمیت ہے کہ اس کے لئے کسی بھیقسم کی مشکل کا سامنا کرنا پڑے برداشت کرنا ہو گا کیوں کہ اس سے جو فائدے ہونگے وہ ازدواجی زندگیکو تقدس سے روشناس کروایں گے – آسمانی صحیفوں میں عورت کو کھیتی سے تشبیہ دی گئی ہے جس میںایک اہم نقطہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے – یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کھیتی کی فصل کا محض ہل اور ہل چلانے والے کی طاقت پر ہی انحصار نہیں ہوتا بلکہ ہل چلانے کی مہارت کے ساتھ ساتھ زمین کی سخت ‘ موسموں کی تبدیلی’ اور ہواؤں کی بدلتی کیفیت کی پہچان بھی ضروری ہوتی ہے-۔

بشکریہ ” آپ کا مددگار ”۔

Soch Nagar March 19, 2008

Posted by Farzana Naina in Feelings.
Tags: , , , ,
add a comment
angels-watch-over-you.gif

کبھی کبھی ،کوئی دعا ۔۔۔۔۔ ایسی کیوں ہوتی ہے جسے آپ کے سوا کوئی نہیں مانگ سکتا؟

پتہ نہیں کیوں کبھی کبھی اپنے آپ سے ملاقات کے لیئے اپنی ہی دعاؤں پر انحصار کرنا

پڑتا ہے؟

ایک چھوٹی سی بات کے لئے ساری عمر قبولیت کی گھڑی کا انتظار کرنا بہت

کٹھن ہوتا ہے …..جس دروازے پر دستک دی جائے…. وہ صرف اسی کے لیئے کھلے …. اسی

کے لئے مخصوص ہو …. شارع عام تو ہرکسی کے لیئے موجود ہے …. جس کا جی چاہے اٹھ

کر چل پڑے ….. مخصوص اور منفرد ہونا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے …. کاش ہم تم بھی اجنبی

ہوتے جس طرح اور لوگ ہوتے ہیں بے تعلق سے ۔۔۔۔۔۔۔ بے تعارف سے ۔۔۔۔۔۔۔ بے قراری نہ بے

کلی ہوتی نا مکمل نہ زندگی ہوتی یوں نہ ہوتیں اذیتیں دل کی زندگی بھی نہ ہوتی مشکل

میں آنسوؤں سے نہ دوستی کرتے اپنے دل سے نہ دشمنی کرتے کیسا دھوپ چھاؤں کا

موسم ہے آج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہیں آفتاب بن کر کوئی جگمگا رہا ہے کہیں ماہتاب نیلگوں اداسی

میں…….ڈوبتا جا رہا ہے کیسا عجیب دن ہے۔۔۔۔۔۔ کتنا کچھ کرنے کو ہے لیکن پھر بھی لگ

رہا ہے کہ کچھ بھی نہیں…. کیسا عجیب موسم ہے؟

*** اجنبی شہر ہے اجنبی شام ہے

جان من


Baaz auqaat insaan bohut ghabrata hai,

bohut pachta’ta hai…..

mein bhi aap hi apni baton se tang aa jati hon,

aakhir meine kisi ko aisa kya kaha ya keh diya ke wo aisi mushkil or takleefdah kaifiaat mein mubtila ho jata hai…………..

Phir achanak mere saamne chaand nikal aata hai,

mein usey dekhne lagti hon,

wo sada se mera saathi hai, mere dil ki dunya mein jhaankta hai, meri baatein sunta hai………… mein dunya se ghabra ker bhaag jaati hon, uski panah mein,

wo mujhe sukoon bhi deta hai or be’chain bhi kerta hai……….

mohabbat ki khoobsurtiyoon mein gum bhi kar deta hai………

par mein hi ghabra jaati hon naa…………mohabbaton se chuphti hon,

kinara’ kashi ikhtiyaar ker leti hon…….

haalanke mujhe maloom hai……k ye…………komal hai,

nirmal hai or mukammal bhi hai………….

kisi haseen deis mein mujhe le jaye gi…….

.jahan dil ki shakl ke khoobsurat sar’sabz pattay khiley hongay….

jahan jazbon ki gulabiyaan phoolon ki tarah perron par khil jayein gi…….

barish hogi tau sufaid motiye ke kaliyon ki tarah tapkey gi………lekin ……

mujhe ye bhi khaber hai ke jab suraj in manazir ki taab na laa ker jalne lagey ga…….

tab ye sab kuch ……….

zard patton mein tabdeel ho ker ik dheir ban jaaye ga……..

or sookhey patton ke dheir mein………………

hamesha aag hi lagai jati hai !!!!!!!

=========                 ========

خیالوں، خوابوں اور نیندوں  پر ہمیشہ کسی روشنی کا راج رہا ہے ، جب دن دھیرے دھیرے اندھیرا بن جاتا ہے تب اس تاریکی میں میری آس میری امیدیں روشنی بن جاتی ہیں، رات کسی لڑکی کی طرح اس تیرگی میں دیپک جلاتی ہے ستاروں کے دیپک، ننھے ننھے سے چراغ جن کے بیچ چاند کی مشعل جلتی ہے، وہ چمکتا رہتا ہے کبھی ادھورا تو کبھی پورا ۔۔۔

کبھی جلتا ہے تو کبھی بجھتا ہے اور رات، رات اسی لڑکی کی طرح اپنی پلکیں گراتی اور اٹھاتی رہتی ہے جو کبھی شور تو کبھی خاموشی، کبھی آہٹ تو کبھی سرگوشی سے اپنے آپ ہی بہل جاےٗ، رنگوں اور راگنیوں سے دکھوں کی دھوپ پر چادر تان لیتی ہو، اس کا وجود جذبہٗ پرستش کو گھولتا  اور دل کو برف کے سرد گالوں سے بچا کر نرم گرم حرارت سے پر کردیتا ہو۔

Around the world in 80 Gardens February 17, 2008

Posted by Farzana Naina in Feelings, Photography, Thoughts.
Tags: , , , , , , ,
add a comment

Photobucket

اف۔۔۔۔۔۔۔ میں اور میرے اندر کی لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے عاجز کردیا ہے،

ابھی ابھی پھر سے جنگ شروع ہوگئی ہے اور اس کی وجہ ٹی وی پر دکھایا

جانے والا ایک پروگرام ہے

“اراؤنڈ دی ورلڈ ان ایٹی گارڈنز”

میں ٹہری حسن پرست، نیچر پرست ،

پروگرام میں انڈیا کے بہت سے خوبصورت و حسین گارڈن دکھا رہے ہیں، تاج محل کے ارد گرد کے باغات، مور، ہرن، طوطے، آبشاریں،  اکدم سے نجانے کیا کیا یاد آرہا ہے اوپر سے وہ پھول نظر آ رہے ہیں جو پاکستان میں بھی ہوتے تھے جو میں بچپن میں اپنے ابو سے چھپ کرتوڑلیتی تھی یا کبھی کبھی اسکول سے آتے جاتے دوسروں کے باغ سے بھی چوری سے توڑ کر بہت خوش ہوتی، بچپن کیسا معصوم، بھولا بھالا ۔۔۔۔۔۔۔ کتنا اچھا ہوتا ہے نا۔۔۔۔۔۔۔!۔

وہ گلیاں۔۔۔۔ وہ لوگ۔۔۔۔ وہ محبتیں چھوٹے ایک زمانہ بیت گیا یا یہ سمجھوں کہ ان کو چھڑوادیا گیا، میں نہیں بچھڑی تھی، مجھے ہجر اور جدائی میری مرضی کے بغیر بخشی گئی، مسلسل ہجر، کبھی نا ختم ہونے والا، اب تو زندگی بھی جارہی ہے، یہ یادیں  یہ باتیں یہ پھول یہ پودے، ان کی ایک جھلک نجانے کیا کچھ دکھارہی ہے، انہیں کیا پتہ جو ان کے پاس ہیں ایک دوسرے  کے ساتھ ہیں۔۔۔۔۔

انہیں کیا پتہ کہ ایک پاگل لڑکی ابھی تک ان گلیوں میں دوڑتی بھاگتی ہے، چھوٹی چھوٹی شرارتیں کرتی ہے، چپکے سے کوئی پھول چوری کر کے کتنا خوش ہوتی ہے، اس کی خوشبو سے ، بار بار مسحور ہوتی ہے، اپنی چوری کا لطف اٹھاتی ہے، ، اس کے رنگوں کو دیکھ کر خود بھی ان میں گھل جاتی ہے۔۔۔۔۔

انہیں کیا پتہ کہ جس مٹی سے خمیر اٹھتا ہے اس کی سوندھی مہک کیسے کیسے آنسوؤں میں بھگوتی ہے۔۔۔۔

مجھے اپنے ابو یاد آگئے ہیں، ان کو گارڈننگ کا بہت شوق تھا، ہمارے محلے میں سب سے اچھا گارڈن ہمارا ہی تھا، ابو خود گارڈننگ کرتے تھے،شاید ان کا خمیر ہے جو مجھے بھی پھول پودے بہت لبھاتے ہیں، چھوٹے چھوٹے رنگین پودے، پنکھڑیاں،کلیاں، ان کی تروتازہ خوشبو،ایک سیکنڈ ایک پل کہاں سے لے جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔

۔اس وقت، ابھی بھی جو میرے ارد گرد ہیں انہیں کیا پتہ میں کیا محسوس کر رہی ہوں، کہاں لے گیا مجھے یہ ایک منظر، انہیں کیا پتہ کہ محرومیاں اندر ہی اندر کیسی ٹیسیں اٹھاتی ہیں، کتنی کسک بھر دیتی ہیں۔۔۔

کہتے ہیں کہ انسانی دماغ سے زیادہ بڑا کوئی سٹوریج سسٹم نہیں، پل بھر میں آپ کو وہاں لے جاتا ہے جہاں سے آپ کو یہاں تک آنے میں کتنے برس لگتے ہیں، ، جو بھی ہے بہت تکلیف دہ ہے کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ کچھ یاد نہ رہے، کوئی بھی یاد نہ آئے، ذہن کا اسکرین کسی طرح  وائیپ آف ہوجائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انہیں کیا پتہ جنہوں نے ایک چھوٹی سی لڑکی کو وطن سے جدا کر کے سب سے دور بھیج دیا،انہوں نے تو اپنے سر کے بوجھ  کو اتاردیا لیکن اس کے سر میں۔۔۔۔۔۔۔۔ جس نے ابھی سپنے بننا شروع کیئے تھے۔۔۔۔کون سا بار ڈال دیا۔۔۔۔۔۔

اب وہ لڑکی انہیں گلیوں اسی مٹی کی خوشبو میں گھل کر ختم ہوجاتی ہے، پھر دوبارہ ا پنے آپ کو ڈھونڈتی ہے اور گوندھ لیتی ہے۔۔۔۔۔۔بار بار نئی نئی بن جاتی ہے ۔۔۔۔۔

لیکن بار بار کا یہ جو عمل ہوتا ہے تو بے انتہا تکلیف دہ بن جاتا ہے۔۔۔۔۔

کہاں گئے وہ سب، کیوں چلے گئے ؟ کس پاتال میں رہتے ہیں

،ان کے دل، ان کے ذہن کس چیز کے بنے ہوئے ہیں؟؟؟

کتنی عجیب بات ہے کہ ہم کسی کو سب کچھ نہیں دکھاتے،  سچ نہیں بتاتے ، کوئی نہ کوئی مصلحت، کوئی نہ کوئی احتیاط، کہیں نہ کہیں جھوٹی انا، ہم نے دکھاوے کے کردار بنائے ہوئے ہیں، نجانے کیوں؟؟؟

حالانکہ یہ چھوٹی چھوٹی معصوم باتیں ہوتی ہیں، ننھی ننھی خوشیاں،  ان کہی سی، ادھوری سی خواہشیں  جن میں بچپنا اور معصومیت ہے۔۔۔۔۔۔۔

نجانے ہم اتنے بڑے دیو میں کیسے ڈھل جاتے ہیں کہ یہ سب کچھ ایک بونے کی طرح قدموں میں پڑا اک نظر عنایت کے لیئے ترس رہا ہوتا ہے لیکن ہمیں دکھائی ہی نہیں دیتا۔۔۔۔

انسان ۔۔۔۔۔۔۔کبھی نا سلجھنے والی گتھیوں کی طرح الجھا الجھا انسان،کس پر کھلے گا؟ کب کھلے گا ؟؟؟

Photobucket

My Father’s Favourite Song-میرے ابو کا پسندیدہ گیت