jump to navigation

Song for Mohammed By Johann Wolfgang von Goethe December 2, 2017

Posted by Farzana Naina in Poetry.
add a comment

۔ گوئٹے نے نعت جرمن زبان میں لکھی تھی ۔ جرمن سے انگلش میں ‘ ایملی ایزسٹ ‘ نے ترجمہ کیا اور انگلش سے ڈاکٹر شان

الحق حقی نے اردو میں منظوم ترجمہ کیا ۔ یہ نعت اور یہ ترجمہ خاصے کی شے ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نغمہ محمدئ

شاعر : جان وولف وین گوئٹے

انگلش ترجمہ : ایملی ایزسٹ

اردو ترجمہ : ڈاکٹر شان الحق حقی

Song for Mohammed

By: Johann Wolfgang von Goethe

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Behold this rocky spring,

bright with joy

like a twinkling star;

above the clouds

its youth was nourished

by good spirits

among the cliffs in the bushes.

Fresh as a youth

it dances out of the cloud

down to the marble rocks,

cheering again

to the sky.

Along mountainous paths

it chases after colorful pebbles,

and with the step of a young leader

its companion-springs journey

with it onward.

Below in the valley

flowers appear from its footprints,

and the meadow

derives life from its breath.

But no shaded valley can stop it,

no flower,

clasping its knees

and imploring it with loving eyes:

toward the Plains it presses its course,

twisting like a snake.

Brooks nuzzle up

sociably. Now it treads

into the Plain, resplendent with silver,

and the Plain grows silver too,

and the rivers of the Plain

and the brooks of the mountains

cheer and shout: “Brother!

Brother, take your brothers with,

take them with you to your ancient father,

to the eternal ocean,

whose outstretched arms

await us,

who, ah! has opened them in vain

to embrace his yearning children;

for the bleak wasteland’s

greedy sand devours us; the sun above

sucks up all our blood; a hill

clogs us into a pool! Brother,

take your brothers from this Plain,

take your brothers from the mountains,

take them with you to your ancient father!

Come all of you! –

and now [the spring] swells

more grandly: an entire race

lifts the prince up high!

And in rolling triumph

it gives names to the lands and cities

that grow in its path.

Irresistibly it rushes onward,

leaving a wake of flaming-tipped towers

and houses of marble – creations

of its bounty.

Like Atlas it bears cedar houses

upon its giant’s shoulders;

over its head, the wind noisily

blows a thousand flags

as testimony of its glory.

And so it brings its brothers,

its treasures, its children,

effervescent with joy,

to the waiting parent’s bosom.

(Translation from German to English

by Emily Ezust)

نغمہ ء ِ محمدی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ پاکیزہ چشمہ

جواوجِ فلک سے چٹانوں پہ اترا

سحابوں سے اوپر بلند آسمانوں پہ جولاں ملائک کی چشم نگہداشت کے سائے سائے

چٹانوں کی آغوش میں عہد برنائی تک جوئے جولاں بنا

چٹانوں سے نیچے اترتے اترتے

وہ کتنے ہی صد رنگ اَن گھڑ خزف ریزے

آغوشِ شفقت میں اپنی سمیٹے

بہت سے سسکتے ہوئے رینگتے، سُست کم مایہ سوتوں کو چونکاتا ، للکارتا ساتھ لیتا ہوا خوش خراماں چلا

بے نمو وادیاں لہلہانے لگیں

پھول ہی پھول چاروں طرف کھل اٹھے

جس طرف اُس ﷺ کا رخ پھر گیا

اُس ﷺ کے فیضِ قدم سے بہار آگئی

یہ چٹانوں کے پہلو کی چھوٹی سی وادی ہی کچھ

اُس ﷺ کی منزل نہ تھی

وہ تو بڑھتا گیا

کوئی وادی ، کوئی دشت، کوئی چمن، گلستاں، مرغزار

اُس ﷺ کے پائے رواں کو نہ ٹھہرا سکا

اُس ﷺ کے آگے ابھی اور صحرا بھی تھے

خشک نہريں بھی تھیں ، اُترے دریا بھی تھے ۔

سیلِ جاں بخش کے ، اُس ﷺ کے سب منتظر

جوق در جوق پاس اُس ﷺ کے آنے لگے

شور آمد کا اُسﷺ کی اٹھانے لگے

راہبر ﷺ ساتھ ہم کو بھی لیتے چلو

کب سے تھیں پستیاں ہم کو جکڑے ہوئے

راہ گھیرے ہوئے ، پاؤں پکڑے ہوئے

یاد آتا ہے مسکن پرانا ہمیں

آسمانوں کی جانب ہے جانا ہمیں

ورنہ یونہی نشیبوں میں دھنس جائیں گے

جال میں اِن زمینوں کے پھنس جائیں گے

اپنے خالق کی آواز کانوں میں ہے

اپنی منزل وہيں آسمانوں میں ہے

گرد آلود ہیں پاک کر دے ہمیں

آ ۔ ہم آغوش ِ افلاک کردے ہمیں

وہ رواں ہے ، رواں ہے ، رواں اب بھی ہے

ساتھ ساتھ اُس کے اک کارواں اب بھی ہے

شہر آتے رہے شہر جاتے رہے

اُس ﷺ کے دم سے سبھی فیض پاتے رہے

اُس ﷺ کے ہر موڑ پر ایک دنیا نئی

ہر قدم پر طلوع ایک فردا نئی

قصر ابھرا کيے خواب ہوتے گئے

کتنے منظر تہہ ِ آب ہوتے گئے

شاہ اور شاہیاں خواب ہوتی گئیں

عظمتیں کتنی نایاب ہوتی گئیں

اُس ﷺ کی رحمت کا دھارا ہے اب بھی رواں

از زمیں تا فلک

از فلک تا زمیں

از ازل تا ابد جاوداں ، بیکراں

دشت و در ، گلشن و گل سے بے واسطہ

فیض یاب اس سے کل

اور خود کل سے بے واسطہ

(از شان الحق حقی)

ــــــــ

 

Advertisements

گل از رخت آموخته نازك بدني را – مولانا جامی November 30, 2017

Posted by Farzana Naina in Kavita, Nazm, Poetry, Shairy, Urdu Shairy.
Tags: , , ,
add a comment

گل از رخت آموخته نازك بدني را

پھول نے نزاکت کا سبق آپ سے لیا ہے  

بلبل ز تو آموخته شيرين سخني را

بلبل نے شیریں نغمگی آپ سے سیکھی

هر كس كه لب لعل ترا ديد، به خود گفت

جس کسی نے تیرے لبوں کو دیکھا اس نے دل میں کہا

حقا كه چه خوش كنده عقيق يمني را

کیا ہی خوبصورت تراشا ہوا یمنی عقیق ہے

خياط ازل دوخته بر قامت زيبات

خیاط ازل نے تیری خوش قامتی پر

بر قد تو اين جامه ي سبز چمني را

تیرے قد کے موافق خوب سبز لباس بنایا ہے

در عشقِ تو دندان شکستند به الفت

تیرے عشق میں اپنے دانت جب انہوں نے تڑوائے

تو نامه رسانید اویس قرني را

تو آپ نے اویس قرنی کے نام نامہ بھیجا

از جامؔی بيچاره رسانيدہ سلامی

بر درگه دربار رسول مدني را

مجبور جامی کی طرف سے سلام پہنچاؤ رسول مصطفی کے حضور۔

سید مصطفیٰ حسین زیدی October 15, 2017

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Ghazal, Kavita, Nazm, Poetry, Shairy, Sher, Urdu Poetry.
Tags: , , ,
add a comment

سید مصطفیٰ حسین زیدی کی پیدائش 10 اکتوبر 1930ء کو ایک متمول خاندان میں ہوئی تھی ان کے والد سید لخت حسین زیدی سی آئی ڈی کے ایک اعلیٰ افسر تھے۔ مصطفیٰ زیدی بے حد ذہین طالب علم تھے۔ الہ آباد یونیو رسٹی سے انہوں نے گریجویشن کیا تھا اور صرف 19 سال کی عمر میں ان کا شعری مجموعہ ”موج مری صدف صدف“ کے عنوان سے شائع ہوا تھا جس کا دیباچہ فراق گورکھپوری نے لکھا تھا اور فراق صاحب نے ان کی شکل میں ایک بڑے شاعر کی پیش گوئی کی تھی۔ کسی حد تک تو یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی لیکن بے وقت موت نے ان کا شعری سفر اچانک ختم کر دیا۔ چالیس سال کی زندگی میں ان کے چھہ مجموعے شائع ہوئے۔ ان کے مرنے کے بعد ان کی کلیات شائع ہوئی۔ شروع میں وہ تیغ اللہ آبادی تخلص کرتے رہے۔

مصطفیٰ زیدی 1951ء میں کراچی چلے گئے تھے۔ کچھہ دن وہ اسلامیہ کالج پشاور میں بطور استاد تعینات رہے۔ وہاں سے نکالے گئے ۔ پھر انہوں نے سی ایس پی کا امتحان دیا جس میں کامیابی حاصل کی اور اہم عہدوں پر کام کیا۔ آزادیِ فکر کا گلا گھونٹے جانے کی باز گشت ان کے اشعار میں سنی جا سکتی ہے۔

جس دن سے اپنا طرزِ فقیرانہ چھٹ گیا

شاہی تو مل گئی دلِ شاہانہ چھٹ گیا

جنرل یحییٰ خاں کے عتاب کے بھی شکار ہوئے اور یحییٰ خاں نے جو 303 افسران کی ہٹ لسٹ تیار کر رکھی تھی اس میں مصطفیٰ زیدی کا نام بھی تھا مگر فوجی آمر سے قبل وہ کسی بڑی سازش کا شکا ر ہو گئے اور اس کا سبب بنی گوجرانوالہ کی ایک شادی شدہ خاتون ایک خاتون شہناز گل، جس کے باعث مصطفیٰ زیدی کو اپنی زندگی سے ہاتھہ دھونا پڑے۔

ان کی لاش 12 اکتوبر 1970ء کو کراچی میں ان کے دوست کے بنگلے سے ملی ۔ جس پر بعد میں تحقیقاتی کمیشن بھی بنا تھا اور مقدمہ عدالت میں بھی گیا۔ یہ مقدمہ اخبارات نے اس قدر اچھالا کہ مہینوں تک اس پر دھواں دھار بحث ہوتی رہی۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ یہ قتل نہیں بلکہ خودکشی تھی اور شہناز گل کو بری کر دیا۔

میں کس کے ہاتھہ پہ اپنا لہو تلاش کروں

تمام شہر نے پہنے ہوۓ ہیں دستانے

شہناز گل کے لیے مصطفیٰ زیدی نے کئی غزلیں اور نظمیں کہی تھیں جن میں یہ شعر بہت مشہور ہے:

فنکار خود نہ تھی مرے فن کی شریک تھی

وہ روح کے سفر میں بدن کی شریک تھی

مصطفیٰ زیدی کو جس درد و کرب سے گزرنا پڑا اس کی باز گشت ان کی غزلوں کے اشعار میں سنائی دیتی ہے۔ خاص طور پر ان کی مشہور غزل میں تو یہ کرب بار بار اتر آتا ہے:

کسی اور غم میں اتنی خلشِ نہاں نہیں ہے

غمِ دل مرے رفیقو غمِ رائیگاں نہیں ہے

کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی ہم زباں نہیں ہے

فقط ایک دل تھا اب تک سو مہرباں نہیں ہے

مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو

مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے

کسی آنکھہ کو صدا دو کسی زلف کو پکارو

بڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سائباں نہیں ہے

انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آسکو تو آؤ

مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

مصطفیٰ زیدی ، جوش ملیح آبادی سے متاثر تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی شاعری میں جوش جیسی گھن گرج نہیں ہے۔ لیکن زیدی نے بھی کربلا کے استعارے کو بہت خوبصورتی سے استعمال کیا ہے:

ایسی سونی تو کبھی شامِ غریباں بھی نہ تھی

دل بجھے جاتے ہیں اے تیرگیِ صبح وطن

میں اسی کوہ صفت خون کی ایک بوند ہوں جو

ریگ زارِ نجف و خاکِ خراساں سے ملا

جدید غز ل کی تشکیل میں مصطفیٰ زیدی کا بہت اہم حصہ ہے اور ان کے شعری مجموعے موج مری صدف صدف، شہرِ آرزو،زنجیریں، کوہِ ندا اور قبائے ساز اردو کے شعری ادب میں اضافہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

کچھہ اور شعر:

غمِ دوراں نے بھی سیکھے غم جاناں کے چلن

وہی سوچی ہوئی چالیں وہی بے ساختہ پن

وہی اقرار میں انکار کے لاکھوں پہلو

وہی ہونٹوں پہ تبسم وہی ابرو پہ شکن

حدیث ہے کہ اصولاَ گناہ گار نہ ہوں

گناہ گار پہ پتھرسنبھالنے والے

خود اپنی آنکھہ کے شہتیر کی خبر رکھیں

ہماری آنکھہ سے کانٹے نکالنے والے

اب تو چبھتی ہے ہوا برف کے میدانوں کو

ان دنوں جسم کے احساس سے جلتا ہے بدن

مجھہ کو اس شہر سے کچھہ دور ٹھہر جانے دو

میرے ہم راہ میری بے سرو سامانی ہے

اس طرح ہوش گنوانا بھی کوئی بات نہیں

اور یوں ہو ش میں رہنے میں بھی نادانی ہے

طالب دستِ ہوس اور کئی دامن تھے

ہم سے ملتا جو نہ یوسف کے گریباں سے ملا

لوگوں کی ملامت بھی ہےِ خود درد سری بھی

کس کام کی اپنی یہ وسیع النظری بھی

کیا جانیئے کیوں سست تھی کل ذہن کی رفتار

ممکن ہوئی تاروں سے مری ہم سفری بھی

میں کس کےہاتھہ پہ اپنا لہو تلاش کروں

تمام شہرنے پہنے ہوۓ ہیں دستانے

Mustafa Zaidi and Sheeren Gul 1Mustafa Zaidi and Sheeren Gul 2

انشا جی October 15, 2017

Posted by Farzana Naina in Ibne Insha, Poetry.
add a comment

انشا جی نے بڑی سوچ بچار سے عشق لگایا تھا ایسی محبوبہ کا چناؤ کیا تھا جو پہلے ہی کسی اور کی ہوچکی تھی۔ شادی شدہ تھی، بچوں والی تھی ۔ جس کے دل میں انشا کے لئے جذبہ ہمدردی پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا ۔ جس سے ملنے کے تمامتر راستے مسدود ہو چکے تھے۔

 اپنے عشق کو پورے طور پر محفوظ کر لینے کے بعد اس نے عشق کے ساز پر بیراگ کا نغمہ چھیڑ دیا۔

مواقع تو ملے مگر انشا نے کبھی محبوبہ سے بات نہ کی۔ ہمت نہ پڑی۔ اکژ اپنے دوستوں سے کہا کرتا ۔۔۔ ” یار اُسے کہہ کہ مجھہ سے بات کرے ” اس کے انداز میں بڑی منت اور عاجزی ہوتی پھر عاشق کا جلال جاگتا ۔۔۔۔ کہتا ۔۔۔ ” دیکھہ اس سے اپنی بات نہ چھیڑنا ۔۔ باتوں باتوں میں بھرما نہ لینا ۔”

محبوبہ تیز طرار تھی ۔ دنیا دار تھی ۔ پہلے تو تمسخر اڑاتی رہی ۔ پھر انشا کی دیوانگی کو کام میں لانے کا منصوبہ باندھا۔ اس دلچسپ مشغلے میں میاں بھی شریک ہوگیا۔

انشا کو فرمائشیں موصول ہونے لگیں ۔ اس پر انشا پھولے نہ سماتا ۔۔

دوستوں نے اسے بار بار سمجھایا کہ انشا وہ تجھے بنا رہی ہے ۔ انشا جواب میں کہتا کتنی خوشی کی بات ہے کہ بنا تو رہی ہے ۔ یہ بھی تو ایک تعلق ہے ۔ تم مجھے اس تعلق سے محروم کیوں کر رہے ہو ۔

ایک روز جب وہ فرمائش پوری کرنے کے لئے شاپنگ کرنے گیا تو اتفاق سے میں بھی ساتھہ تھا ۔

میں نے انشا کی منتیں کیں کہ انشا جی اتنی قیمتی چیز مت خریدو ۔ تمہاری ساری تنخواہ لگ جائے گی۔ انشا بولا ۔ ” مفتی جی ، تمہیں پتہ نہیں کہ اس نے مجھے کیا کیا دیا ہے ۔ اس نے مجھے شاعر بنا دیا۔ شہرت دی ۔۔ زندگی دی ‘‘

انشا کی آنکھوں میں آنسو چھلک رہے تھے ۔

ممتاز مفتی : ” اور اوکھے لوگ “

ابن انشاؔ
 

جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا

کبھی شہر بتاں میں خراب پھرے کبھی دشت جنوں آباد کیا

کبھی بستیاں بن کبھی کوہ و دمن رہا کتنے دنوں یہی جی کا چلن

جہاں حسن ملا وہاں بیٹھ رہے جہاں پیار ملا وہاں صاد کیا

شب ماہ میں جب بھی یہ درد اٹھا کبھی بیت کہے لکھی چاند نگر

کبھی کوہ سے جا سر پھوڑ مرے کبھی قیس کو جا استاد کیا

یہی عشق بالآخر روگ بنا کہ ہے چاہ کے ساتھ بجوگ بنا

جسے بننا تھا عیش وہ سوگ بنا بڑا من کے نگر میں فساد کیا

اب قربت و صحبت یار کہاں لب و عارض و زلف و کنار کہاں

اب اپنا بھی میرؔ سا عالم ہے ٹک دیکھ لیا جی شاد کیا

 

 Ibne Insha

Lakeeron se nikal-لکیروں سے نکل کر July 27, 2017

Posted by Farzana Naina in Famous Urdu Poets, Farzana, Farzana Naina, Ghazal, Ghazal, Kavita, Nazm, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Sufi Poets, Urdu, Urdu Literature, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
add a comment

Golden bar 1

لکیروں سے نکل کر ہاتھ کی مجھ کو بلائے گی

یہ قسمت وَجد میں آئی تو خود مجھ کو بنائے گی

 

مِری آنکھوں میں سارے خواب اُس کے روٹھنے تک تھے

مِرا شک ٹھیک نکلا ‘ زندگی مجھ کو رلائے گی

 

مِرے ہونٹوں پہ اب تک تتلیوں سی مسکراہٹ ہے

مجھے ڈر لگ رہا ہے’ ایک دن یہ اُڑنے جائے گی

 

بہت سی شمعیں سینے میں اگر جلتی رہیں تو پھر

مری آنکھوں سے تھوڑی روشنی باہر بھی آئے گی

 

ذرا سی روشنی کے بعد چکّر تیرگی کا ہے

اگر تو اک نئی تصویر پر نظریں جمائے گی

 

خود اپنی زندگی سے کیوں نکل جاتی ہوں میں ‘ نیناںؔ !

مِری لا حاصلی کے درد قدرت ہی مٹائے گی

 

( فــرزانـہ نیناںؔ ) 

Golden rose Bar
Lakeeron se nikal kar haath ki, mujhko bulaye gi
Ye qismat wajd mein aayi tau khud mujhko banaye gi
 
Meri aankhon mein saare khwab uske roothne tak thay
Mera shak theek nikla zindagi mujhko rulaye gi
 
Mere honton pe ab tak titliyon si muskurahat hai
Mujhe darr lag raha hai eik din ye ur’rne jaye gi
 
Bohut si shamein seene mein agar jalti rahein tau phir
Meri aankhon se thori roshni bahar bhi aaye gi
 
Zara si roshni ke baad chakker teergi ka hai
Agar tu ik nai tasweer par nazrein jamaye gi
 
Khud apni zindagi se kyon nikal jati hon mein naina
Meri la’haasili ke dard qudrat hi mitaye gi
 

butterfly-yellow-sl~ Farzana Naina.butterfly-yellow-sl

0aa1ec07c2d7e0ad0eb9ef5e7005bff3

شاعری کی نئی صنف عشرے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت May 22, 2017

Posted by Farzana Naina in Poetry.
add a comment

Book 712star-silver-28

ادریس بابر کی اکثر باتیں کثیرمعنی اور تلازماتی ہوتی ہیں۔ اس لیے اسے سننے کے دو بہترین طریقے ہیں یا تو آپ پورے انہماک سے سنیں تاکہ کوئی جہت رہ نہ جائے، یا پھر سنی ان سنی کر دیں۔

چنانچہ 2014 میں آئی ایٹ میں چائے کے ایک ڈھابے میں بیٹھے ہوئے جب ادریس بابر نے اعلان کیا کہ اس نے شاعری کی ایک دس سطری صنف ایجاد کی ہے جسے عشرے کا نام دیا ہے تو میں نے بھی دوسرے طریقے پر عمل کیا۔ لیکن کچھ دیر بعد چائے کی چسکیوں کے درمیان اس نے عشرہ سنانا شروع کیا تو چونک کر سننا پڑا۔

امیجز اس قدر جیتے جاگتے تھے کہ گویا نیشنل جیوگرافک میگزین سے تصویریں کاٹ کر ایک کولاج بنا لیا گیا ہو۔

تندور پر سردی کا اندازہ

کچن کی میز پر اک چائے کی پیالی رکھی ہے

اسی کے ساتھ چینک (ٹوٹنے والی) رکھی ہے

ہرے صوفے پہ کتا سا کوئی سکڑا پڑا ہے

قریب اک باتھ ٹب میں دھوپ کا ٹکڑا پڑا ہے

پرے کرسی پہ ‘بربر’ کانپتی (بلی) دھری ہے

پرانے نادروں کے واسطے دلّی دھری ہے

بھری الماری سے دل بھر خلا تو ڈھونڈ لائیں

درازیں، درزیں تک جھانکیں، خدا کو ڈھونڈ لائیں

یہ منظر ۔۔۔ سوچ کر ۔۔۔ دونوں نے اندازہ لگایا

تو میں نے عشرہ ۔۔۔ اس نے نان اک تازہ لگایا

اس کے کچھ ہی عرصے بعد ادریس لاہور چلا گیا لیکن اس کے عشرے میسج کے ذریعے یا پھر فیس بک پر دیکھنے کو ملتے رہے۔ انھیں دیکھ کر احساس ہوا کہ ادریس بظاہر دس سطروں کی تنگ دامنی میں بھی ایک نئی دنیا بسا لیتا ہے۔

اس کی ایک تکنیک تو یہ ہے کہ اس نے عشرے کو کسی ایک فارم تک محدود نہیں ہونے دیا۔ چنانچہ عشرہ منظوم اور مقفیٰ بھی ہو سکتا ہے، بلینک ورس بھی اور نثری بھی۔ پھر اس کی سطروں کی لمبائی بھی مقرر نہیں ہے۔

کسی بھی نئے کام کا ایک لازمی حصہ اس پر ہونے والے اعتراضات و الزامات کی بوچھاڑ ہے۔ چنانچہ عشرے کو بھی اپنے حصے کا بوجھ اٹھانا پڑا۔ ادریس غزل کا بےحد عمدہ شاعر ہے۔ حال ہی میں جدید غزل کا ایک انتخاب چھپا تو اس میں ادریس کو سب سے اوپر رکھا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر عشرے کی ایحاد کے بعد بھی اسی شدت سے نکتہ چینی ہوئی۔

لیکن ادریس نے ایک نہ سنی اور اب یہ صورتِ حال ہے کہ ‘لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا’ کے مصداق اب ادریس کے علاوہ درجنوں نوجوان شعرا عشرے ہی کو اپنا بنیادی وسیلۂ اظہار بنا رہے ہیں۔

ادریس کے اکثر عشروں کے موضوعات واقعاتی ہوتے ہیں اور وہ روزمرہ واقعات سے تحریک پا کر عشرے لکھتے ہیں۔

اردو شاعری میں ایک عرصے سے واقعات سے بڑی حد تک گلوخلاصی حاصل کر لی گئی تھی اور واقعاتی شاعری کو کمتر شاعری سمجھا جاتا تھا۔ ایک زمانہ تھا کہ اقبال طرابلس کی جنگ میں زخمیوں کو پانی پلاتی لڑکی پر نظم لکھتے تھے یا پھر شبلی نعمانی یا مولانا ظفر علی خان کی نظمیں ملتی ہیں۔ اس کے بعد سے آزاد نظم چند استثنائی مثالوں کو چھوڑ کر اس قدر اوپر اٹھتی چلی گئی کہ دنیا کے حالات و واقعات کہیں دور نیچے رہ گئے۔

اب کہیں سات آٹھ عشروں بعد عشرہ ایک ایسی صنف بن کر آیا ہے جو روزمرہ واقعات کو موضوع بنانے سے نہیں ہچکچاتا۔ مثلاً ایک عشرے میں دو نوجوانوں کے درمیان مکالمے کے ذریعے ادریس نے دکھایا ہے کہ کوئٹہ میں ہونے والی خونریزی کو دوسرے شہروں میں رہنے والے کس طرح دیکھتے ہیں

کہاں ہے کوئٹہ، کیا ہے کوئٹہ

بم دھماکہ ہوا وہاں؟ نہ کرو!

ہاسٹل کا کرایہ چڑھ گیا ہے

اچھا، پہلے بھی ہوتے ہیں! کس وقت؟

حبس بارش سے اور بڑھ گیا ہے

بیسیوں لوگ مارے گئے؟ لو سنو!

چلتے ہیں تم نے چائے پی کہ نہیں

پہلے بھی مارے جاتے ہیں! اس وقت؟

فلم وہ ڈان لوڈ کی کہ نہیں

کیا وہاں ڈائیوو کا اڈا ہے

اوہو، تھری جی میں کوئی پھڈا ہے!

‘حالاتِ حاضرہ’پر لکھے گئے عشرے صرف تشویش اور درمندی سے لبریز نہیں ہیں بلکہ ان میں فنکارانہ چابکدستی بھی اسی شدت سے دکھائی دیتی ہے۔ مثال کے طور پر اوپر دیے گئے عشرے میں جس مہارت سے مکالمے juxtapose کیے گئے ہیں اسے پڑھ کر فلابیئر کی تکنیک یاد آتی ہے۔

جبری گمشدگی اور ریاستی جبر بےحد تکلیف دہ معاملہ ہے، لیکن ادریس اس پر ہلکے پھلکے لاپروایانہ انداز میں لکھتے ہیں جس سے مسئلہ اور ابھر کر سامنے آتا ہے:

میٹنگ

اس نے میٹنگ بلائی اور کہا

لوگ، دن رات کنٹرول میں ہیں

ٹیپ منہ پر لگائی اور کہا

سب بیانات کنٹرول میں ہیں

اس نے گولی چلائی اور کہا

سر جی، حالات کنٹرول میں ہیں

سب زمیں پر خدا کے نائب تھے

سب زمیں پر خدا کے نائب ہیں

وہ جو اپنی رضا سے مارے گئے۔۔

وہ جو اپنی خوشی سے غائب ہیں

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، عشرہ کسی قسم کی موضوعاتی جکڑبندی پر یقین نہیں رکھتا۔ اس میں زمین اور آسمان کے درمیان کوئی بھی امر زیرِ بحث آ سکتا ہے۔

ادریس بابر کا ایک رومانوی عشرہ نوجوانوں میں خاصا مقبول ہوا ہے اور وہ جہاں بھی جاتے ہیں ان سے فرمائش کی جاتی ہے کہ وہ اسے سنائیں۔

محبت==جدائی

ادهر گوری کو نیند پل بهر نہ آئی

بدن سے وچهوڑے کی کلکل چهڑائی

وہ سورج کی ٹکیا سے مل مل نہائی

نکهر کر نکل آئی ہلچل مچائی

خدا ہو نہ ہو گنگ ٹهیری خدائی

ادهر ریل گاڑی نے سیٹی بجائی

محبت==جدائی

مسافر اسی دائرے میں رہے گا

وہ یہ جان کر اک سٹیشن پہ اترا

کہ وہ عمر بهر راستے میں رہے گا

اردو شاعری میں ریل کے بارے میں کم ہی لکھا گیا ہے۔ منیر نیازی کا درد بھرا شعر ذہن میں آتا ہے

صبحِ کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر

ریل کی سیٹی بجی اور دل لہو میں بھر گیا

ادریس نے اپنے عشرے میں اسی درمندی کو چھو لیا ہے۔

یہ کب سے دوزخ مشہور چلا آتا تھا / لوگ اس خطے کی بدصورتی پر عاشق تھے / جو بھی دیکھتا بھاگ کے دور چلا جاتا تھا / آخر ہمسایوں ماں جایوں کو رحم آیا / ایک نے بھیجے ٹینک تو دوسرا بم لے آیا / کیمپ لگائے امدادی ۔۔۔ لڑنا سکھلایا / جانگلیوں کو بندوقیں گھڑنا سکھلایا / گولیاں کھانا ۔۔۔ جیلوں میں سڑنا سکھلایا / ہر گز اس کی مدد سے منہ موڑیں گے / ہم کشمیر کو جنت بنا کے چھوڑیں گے

بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں اردو شاعری میں کئی اصناف متعارف کروائی کی گئیں، جن میں سانیٹ، نظمِ معرا، آزاد نظم وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے صرف آزاد نظم ہی وقت کی وار سہہ سکی ہے۔ اس کے بعد 80 کی دہائی میں سفارت کارانہ بیساکھیوں کے سہارے ہائیکو متعارف ہوا اور اس صنف میں کتابیں چھپیں، لیکن جونہی بیساکھیاں ہٹیں، ہائیکو بھی دھڑام ہو گیا۔

فی الحال یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ عشرہ ان لمحاتی اصناف سے کس قدر مختلف ثابت ہو گا۔ البتہ جس تیزی سے نوجوان شاعروں نے عشرے کو قبول کر کے اس میں لکھنا شروع کیا ہے، اس سے اس نئی صنف کے اچھے مستقبل کی امید کی رکھی جا سکتی ہے 

ادریس بابر, عشرہ: کشمیر

یہ کب سے دوزخ مشہور چلا آتا تھا / لوگ اس خطے کی بدصورتی پر عاشق تھے / جو بھی دیکھتا بھاگ کے دور چلا جاتا تھا / آخر ہمسایوں ماں جایوں کو رحم آیا / ایک نے بھیجے ٹینک تو دوسرا بم لے آیا / کیمپ لگائے امدادی ۔۔۔ لڑنا سکھلایا / جانگلیوں کو بندوقیں گھڑنا سکھلایا / گولیاں کھانا ۔۔۔ جیلوں میں سڑنا سکھلایا / ہر گز اس کی مدد سے منہ موڑیں گے / ہم   کشمیر کو جنت بنا کے چھوڑیں گے ۔ 

بتشکر: بی بی سی

 

’اے اللہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ہدایت دے‘ May 22, 2017

Posted by Farzana Naina in Poetry.
Tags:
add a comment

DAOW7CkXsAI47TK

ٹوئٹر صارفین نے سعودی عرب کے ایک مذہبی رہنما سعد بن خونیم کی اس دعا کو شیئر کرنا شروع کر دیا جس میں وہ مسلمانوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کی برائی سے بچانے کے لیے دعا کر رہے ہیں۔ اگرچہ سعد بن خونیم کی یہ دعا اب سوشل میڈیا سے ہٹائی جا چکی ہے لیکن بعض لوگوں نے اسے حذف کیے جانے سے پہلے ہی اپنے پاس محفوظ کر رکھا تھا۔

اس دعا میں مولوی صاحب کہتے ہیں: ‘اے اللہ ٹرمپ تیرا ایک بندہ ہے، اس کا مقدر تیرے ہاتھ میں ہے۔ مسلمانوں پر جبر کم کرنےاور ان کے مفادات کے تحفظ کے اسے (ٹرمپ) کو ہدایت دے، خواہ وہ چاہے یا نہ چاہے۔ ہمیں اس کی بدی سے بچا اور  اسے اپنے راستے پر چلا۔’ 

IMG-20170522-WA0052

بن خونیم نے سعودی عرب کے آن لائن اخبار ‘سبق’ کو بتایاکہ انھوں نے یہ دعا نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے امریکہ کے دورے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب کے مثبت بیانات کے بعد اپنے اکاونٹ پر لگائی تھی۔

Trump cartoon 1

ایک کارٹون میں ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی عرب کو یمن کی جنگ میں مشترکہ طور پر ملوث دیکھایا گیا ہے۔ اس کارٹوں میں سعودی بادشاہ اپنے ولی عہد اور یمن کے سعودی حمایت یافتہ صدر عبد الرب منصور ہادی ٹرمپ کی سعودی عرب آمد پر انتہائی فرمانبرداری سے ان کا استقبال کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے لیے بچھائے گئے سرخ قالین کے سات کچھ یمنی عورتیں بچوں کو گود میں لیے بھیک مانگ رہی ہے اور اس کے ساتھ ایک شخص کی خون میں لت پت لاش پڑی ہے۔

شاعرہ فرزانہ ناز April 28, 2017

Posted by Farzana Naina in Ghazal, Kavita, Nazm, Pakistani, Pakistani Poetess, Poetess, Poetry, Shaira, Shairy, Sher, Urdu Poetry, Urdu Shairy.
Tags:
1 comment so far

آئینہ صفت وقت ترا حسن ہیں ہم لوگ

کل آئینے ترسیں گےتو صورت نہ ملے گی

میں فرزانہ ناز نامی شاعرہ سے چند روز قبل تک واقف نہیں تھی۔۔۔۔ اس واقعے سے ایک دن پہلے فیس بک پر مجھے ان کی فرینڈ ریکویسٹ آئی تھی اور میں نے ایڈ بھی کر لیا تھا۔۔۔ لیکن پروفائل نہیں چیک کیا تھا کہ کون ہے۔۔۔۔ جلد ہی اس حادثے اور پھر انتقال کی خبر بھی آگئی۔۔۔۔۔ اس قدر دلخراش موت پر آنسو رواں ہوئے اور ذہن و دل میں ان کا اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کا خیال مسلسل گردش کر رہا ہے، دعائے مغفرت لبوں پر ہے اور لواحقین کے لیئے اللہ سے صبر کا التماس۔۔۔ وہ بڑا رحیم و کریم ہے

انا لله و انا اليه راجعون

محترمہ ادبی تنظیم کسب کمال کی جنرل سیکریٹری تھیں، مشاعروں میں دو کم سن معصوم بچے اور شوہر بشیر اسماعیل بھی ہمراہ ہو تے، آپ اکثر ادبی تقریبات میں نظامت کے فرائض سر انجام دیتیں ۔

آپ کا اولین شعری مجموعہ “ہجرت مجھ سے لپٹ گئی ہے‘‘ ایک ماہ پہلے ہی منظر عام پر آیا، جس کی تقریب رونمائی تین مئی2017 کو راولپنڈی آرٹس کو نسل میں ہو نا قرار پائی تھی ، لیکن مشیت ایزدی کی منظوری انسانوں کے فیصلوں اور ارادوں سے  بالاتر ہے، کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ فرزانہ منوں مٹی تلے سو جاۓ گی!!! ۔  

پروردگار ان  کے بچوں اور شوہر بشیر اسماعیل صاحب کو صبر جمیل اور فرزانہ ناز صاحبہ کو کروٹ کروٹ   جنت نصیب فر ماۓ ۔ آمین

18157786_10154766952318922_166916374604740528_n

ستم ظریفی دیکھئے کہ جب فرزانہ ناز کو کسی علاج کی حاجت نہ رہی تو گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے لئے یہ پریس ریلیز جاری کی گئی کہ عرفان صدیقی نے اس حادثے کا ذکر فوراً وزیراعظم نواز شریف سے کیا اور ساتھ ہی یقین دہانی کرائی کہ فرزانہ ناز کا علاج حکومت کرائے گی۔۔۔’’مرگئے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا‘‘۔۔۔کے مصداق یہ بھی کہا گیا کو حکومت اس کے بچوں کی تعلیم اور کفالت کا ذمہ اٹھائے گی ، مگر زمینی حقائق دیکھئے کہ جب فرزانہ ناز کی رات دس بجے نمازِ جنازہ ہوئی، تو اِس میں کوئی حکومتی نمائندہ موجود نہیں تھا، حتیٰ کہ انعام الحق جاوید نے بھی شرکت نہیں کی،حالانکہ فرزانہ کو حادثہ اُن کی تقریب میں پیش آیا تھا اور میزبان کی حیثیت سے اُن کا فرض تھا کہ وہ جنازے میں شرکت کر کے اُس کے شوہر اور بچوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ جس پاک چائنہ فرینڈ شپ سینٹر میں یہ حادثہ پیش آیا اُس کا تین دِنوں کا کرایہ28لاکھ روپے ہے، جو سرکاری خزانے سے ادا کیا گیا۔28لاکھ صرف کرائے کی مد میں خرچ کرنے والوں کو ایک شاعرہ کی جان بچانے کے لئے تین لاکھ روپے خرچ کرتے ہوئے اتنی دیر تک سوچنا پڑا کہ اُس کی جان ہی چلی گئی۔ ( منقول)۔

خدائے بزرگ برتر تمہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ درجات عطا کرے فرزانہ ناز ، ہم سب آج غمزدہ ہیں ، ہمارے قلم اداس ہیں ، وہ سب مشاعرے ، وہ تعتیہ محافل ، مسالمے آنکھوں میں فلم کی طرح گھوم رہے ہیں ، جن میں تم ہمارے ساتھ تھی ، میں نے آج بہت سے شاعروں کی آنکھیں نم دیکھیں ہیں ، بہت سی شاعرات کو ہچکیوں سے روتے دیکھا ہے ، تمہارا اسماعیل مجھ سے ہی کیا سب سے لپٹ لپٹ کے فریاد کر رہا تھا ، سب تمہاری زندگی کے لئے دعا گو تھے ، لیکن تم نے موت کو گلے لگا لیا ، ہسپتال سے تمہاری لاش وصول کر کے تمہارے گھر تک گزرے وقت کا ہر منظر سامنے گھومتا رہا ، میں دیکھتا رہا ، تمہاری گلی میں سب سے ملا ، لیکن تمہارے معصوم بچوں سے نہیں ملا ، کہیں وہ پوچھ نہ لیں ، ہماری امی کہاں ہے؟

 از: خرم خلیق 

 

Quotes of Rumi April 17, 2017

Posted by Farzana Naina in Poetry.
1 comment so far

“Ignore those that make you fearful and sad, that degrade you back towards disease and death.”
― Jalaluddin Rumi.

11 arena AIRE humo de arena

“My heart is so small
it’s almost invisible.
How can You place
such big sorrows in it?
“Look,” He answered,
“your eyes are even smaller,
yet they behold the world.”
― Jalaluddin Rumi.

36d3e7e5d131cae95a89e1a9a8d8681f

“Everything in the universe is within you. Ask all from yourself.”
― Jalaluddin Rumi.

George-Redhawk-5

A poem by Mashal Khan April 15, 2017

Posted by Farzana Naina in Poetry.
add a comment

میں لاپتا ہوگیا ہوں

کئی ہفتے ہوئے

پولیس کو رپورٹ لکھوائے

تب سے روز تھانے جاتا ہوں

حوالدار سے پوچھتا ہوں

میرا کچھ پتا چلا؟

ہمدرد پولیس افسر مایوسی سے سر ہلاتا ہے

پھنسی پھنسی آواز میں کہتا ہے

ابھی تک تمھارا کچھ سراغ نہیں ملا

پھر وہ تسلی دیتا ہے

کسی نہ کسی دن

تم مل ہی جاؤ گے

بے ہوش

کسی سڑک کے کنارے

یا بری طرح زخمی

کسی اسپتال میں

یا لاش کی صورت

کسی ندی میں

میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں

میں بازار چلا جاتا ہوں

اپنا استقبال کرنے کے لیے

گل فروش سے پھول خریدتا ہوں

اپنے زخموں کے لیے

کیمسٹ سے

مرہم پٹی کا سامان

تھوڑی روئی

اور درد کشا گولیاں

اپنی آخری رسومات کے لیے

مسجد کی دکان سے ایک کفن

اور اپنی یاد منانے کے لیے

کئی موم بتیاں

کچھ لوگ کہتے ہیں

کسی کے مرنے پر

موم بتی نہیں جلانی چاہیے

لیکن وہ یہ نہیں بتاتے

کہ آنکھ کا تارہ لاپتا ہوجائے

تو روشنی کہاں سے لائیں؟

گھر کا چراغ بجھ جائے

تو پھر کیا جلائیں؟

مشال خان ۔ 5 مارچ 2017 –   

http://www.bbc.com/urdu/pakistan-39590534