jump to navigation

Amrita Pritam-Sara Shagufta – سارہ شگفتہ

سارہ شگفتہ

The The promising young poetess from Pakistan was taken away by the cruel hands of death in 1984 at a very young age of thirty.

Poetry was her bread of life, Sara got inspiration to write poetry when she was deeply hurt with the innocent death of her new born son and the callous indifference of her second husband towards the tragedy such a critical moment of her motherhood.

Ill treated by her husband’s and the un-mindful society, she was driven to madness and was constantly in and out of the mental asylums. She continued to write poetry with rare verve. She tried to commit suicide by taking poison several times but was saved by timely medical help. Towards the end of her life, love developed between her and Syed Ahmad but it was too late.

For Sara words were power in her hands. Despite her untimely death, she has left behind a rich poetic treasure. Here in this book, sandwiched between brilliant prose pieces, her terse and earthy poetry is surprisingly close to the style of Sylvia Plath.


چیونٹی بھر آٹا

A poem by “Sara Shagufta” from The Book Aankhein

ہم کس دُکھ سے اپنے مکان فرخت کرتے ہیں
اور بُھوک کے لئے چیونٹی بھر آٹا خریدتے ہیں
ہمیں بند کمروں میں کیوں پرو دیا گیا ہے
ایک دن کی عمر والے تو ابھی دروازہ تاک رہے ہیں ۔۔۔
چال لہو کی بوند بوند مانگ رہی ہے
کسی کو چُرانا ہو تو سب سے پہلے اُس کے قدم چُراؤ۔۔۔۔
تم چیتھڑے پر بیٹھے زبان پہ پھول ہو
اور آواز کو رسی کور

انسان کا پیالہ سمندر کے پیالے سے مٹی نکالتا ہے
مٹی کے سانپ بناتا ہے اور بُھوک پالتا ہے
تنکے جب شعاعوں کی پیاس نہ بُجھا سکے تو آگ لگی
میں نے آگ کو دھویا اور دُھوپ کو سُکھایا
سورج جو دن کا سینہ جلا رہا تھا
آسمانی رنگ سے بھر دیا
اب آسمان کی جگہ کورا کاغذ بچھا دیا گیا
لوگ موسم سے دھوکا کھانے لگے
پھر ایک آدمی کو توڑ کر میں نے سُورج بنایا

لوگوں کی پوریں کنویں میں بھر دیں
اور آسمان کو دھاگہ کیا
کائنات کو نئی کروٹ نصیب ہوئی
لوگوں نے اینٹوں کے مکان بنانا چھوڑ دئے
آنکھوں کی زبان درازی رنگ لائی
اب ایک قدم پہ دن اور ایک قدم پہ رات ہوتی
حال جراتِ گذشتہ ہے
آ تیرے بالوں سے شعاعوں کے الزام اُٹھا لوں

تم اپنی صورت پہاڑ کی کھوہ میں اشارہ کر آئے
کُند ہواؤں کا اعتراف ہے
سفر ایڑی پہ کھڑا ہوا
سمندر اور مٹی نے رونا شروع کر دیا ہے
بیلچے اور بازو کو دو بازو تصور کرنا
سورج آسمان کے کونے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا
اور اپنی شعاعیں اپنے جسم کے گرد لپیٹ رکھی تھیں
میں نے خالی کمرے میں معافی رکھی

http://www.urdustudies.com/pdf/16/28_Oesterheld.pdf#search=%22sara%20shagufta%22

Amirta Pritam


خراجِ عقیدت: امرتا پریتم

1919 – 2005

 

Amrita Pritam

Amrita Pritam

 

پیدائش : 31 اگست ،1919  گوجراں والا ،پاکستان

حقیقی نام : امرت کور

والدہ:راج بی بی ،جو امرتا کو ساڑھے دس برس کی چھوڑ کر سدھار گئیں

والد: نند سادھو سردار کرتار سنگھ ہتکاری، جن کا  1946 میں انتقال ہوا

بہن: کوئی نہیں

بھائی: ایک، جس کا ڈیڑھ دو سال کی عمر میں ہی انتقال ہو گیا تھا

شادی: 1936 میں

شوہر:پریتم سنگھ کواترا

رفیق حیات:امروز ،جن کے لئے امرتا نے کبھی کہا تھا:

’’…..باپ،بھائی، دوست اور خاوند کسی لفظ کا کوئی رشتہ نہیں ہے،لیکن جب تمہیں دیکھا تو یہ سارے لفظ بامعنی ہو گئے۔ ‘‘

اولاد: بیٹا،نوراج کواترہ ،پیدائش1947؛اس کی پیدائش سے پہلے ایک یتیم بچی کو گود لیا نام، کندلا

تعلیم: میٹرک،کالج گئیں ،لیکن ’’ …لگا کہ اس سے بہتر تو خود لکھ پڑھ سکتی ہوں۔ ‘‘باقی سب علمی خود افروزی

کام:1948  سے1959تک آل انڈیا ریڈیو میں پنجابی اناؤنسر

۰مئی 1966 اے2001 تک پنجابی رسالے ’ناگ منی‘ کی ادارت و اشاعت

اصل کام: شاعری، افسانہ نگاری،ناول نگاری،مختلف موضوعات پر بے شمار مضامین اور بے شمار تراجم

نمائندہ تخلیقات:

سنیہڑے،کاغذ اور کینوس ،خاموشی سے پہلے ،ستاروں کے لفظ اور کرنوں کی زبان،کچے ریشم کی لڑکی ،اننچاس دن،رنگ کا پتہ،چک نمبر چھتیس ،ایک تھی سارا،من مرزا تن صاحباں ،لال دھاگے کا رشتہ،لفظوں کے سائے ،درویشوں کی مہندی ،حجرے کی مٹی ،چراغوں کی رات،وغیرہ ،سو سے زیادہ تصانیف

آپ بیتی : رسیدی ٹکٹ

پہلی کتاب: ٹھنڈیاں کرناں (پنجابی) 1935 میں امرتسر سے شائع ہوئی

آخری کتاب: ’میں تمہیں پھر ملوں گی‘ نظموں کا مجموعہ

اعزازات: پدم وبھوشن ،پدم شری ،کے خطابات ،گیان پیٹھ ایوارڈ،ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، تفویض کئے گئے۔

دلی یونیورسٹی،جبل پور یونی ورسٹی،شانتی نکیتن اور پنجاب یونیورسٹی نے ڈی لٹ کی ڈگری عطا کی۔ 1986سے 1992تک راجیہ سبھا کی رکن رہیں۔

پنجابی زبان کی صدی شاعرہ کا ایوارڈپیش کیا گیا۔

ان کے علاوہ کئی بین الاقوامی اعزازات بھی دئے گئے۔

کئی تخلیقات پر فلمیں اور سیریل بن چکے ہیں۔ جن کی تعداد ابھی 9 ہے۔

ہندوستان میں کئی زبانوں کے علاوہ انگریزی ،روسی،فرانسیسی، چیک اور دیگر کئی یوروپی زبانوں میں تراجم

انتقال: 31 /اکتوبر 2005 نئی دلی

بشکریہ: اعجاز عبید

ترتیب : اسما سلیم

ایک درد تھا

جو سگریٹ کی طرح

میں نے چپ چاپ پیا ہے

کچھ نظمیں ہیں

جو سگریٹ سے میں نے

راکھ کی طرح جھاڑی ہیں ۔ ۔ ۔

میں تمہیں پھر ملوں گی

میں تمہیں پھر ملوں گی

کہاں؟ کس طرح؟ پتہ نہیں۔ ۔ ۔

شاید تمہارے خیالوں کی چنگاری بن کر

تمہارے کینوس پر اتروں گی

یا ایک پر اسرار لکیر بن کر

خاموش بیٹھی تمہیں دیکھتی رہوں گی۔ ۔ ۔

یا شاید سورج کی لو بنکر

تمہارے رنگوں میں گھلوں گی

یا تمہارے رنگوں کی بانہوں میں بیٹھ کر

کینوس پر پھیل جاؤں گی

پتہ نہیںکس طرح؟

کہاں؟ ۔

لیکن تمہیں ضرور ملوں گی ۔ ۔ ۔

یا شاید

ایک چشمہ بنوں گی

اور جیسے چشمے کا پانی ابلتا ہے

میں پانی کے قطرے تمہارے بدن پر ملوں گی

اور ایک ٹھنڈک سی بن کر

تمہارے سینے سے لگوں گی۔ ۔ ۔

میں اور کچھ تو نہیں جانتی

لیکن یہ معلوم ہے

کہ وقت جدھر بھی کروٹ لے گا

یہ جنم میرے ساتھ چلے گا ۔ ۔ ۔

۔ ۔ ۔ یہ جسم خاک ہوتا ہے

تو سب کچھ ختم ہوتا ہوا محسوس ہوتاہے

لیکن یادوں کے دھاگے

کائناتی ذروں سے بنے ہوتے ہیں

میں وہی ذرے چنوں گی

دھاگوں کو بٹوں گی

اور تمہیں پھر ملوں گی۔ ۔ ۔

یہ تیرے اور میرے تاریک بدن میں

جو عرفان چراغ

روشن ہواہے

وہی تو خدا ہے۔ ۔ ۔ وہی تو خدا ہے

ستاروںکے لفظ اور کرنوں کی زبان

نقطے کے ارتعاش کی جو ابتدا ہے

وہی تو خدا ہے۔ ۔ ۔ وہی تو خدا ہے

یہ مٹی کے سینے میں

آسمان کا عشق

اسی کا اشارہ ،اسی کی ادا ہے

وہی تو خدا ہے۔ ۔ ۔ وہی تو خدا ہے

یہ تیرے اور میرے تاریک بدن میں

جو عرفان چراغ

روشن ہواہے

وہی تو خدا ہے۔ ۔ ۔ وہی تو خدا ہے

اولیں تخلیق

’’میں‘‘ایک نراکار میں تھی

یہ ’’میں ‘‘ کا تخیل تھا،

جو پانی کا روپ بنا

یہ ’’تو‘‘ کا تخیل تھا ،

جو آگ کی طرح کوندا

اور آگ کا جلوہ پانی پر تیرنے لگا

لیکن وہ تو تاریخ کے آغاز سے پہلے کی بات تھی

یہ ’’میں ‘‘کی تشنگی تھی

کہ اس نے ’’تو‘‘ کا دریا پی لیا

یہ ’میں ‘کی مٹی کا سبز خواب تھا

کہ ’تو‘ کا جنگل اس نے تلاش کر لیا

یہ ’میں ‘کی زمین کی مہک تھی

اور ’تو‘ کے آسمان کا عشق تھا

کہ ’تو‘ کا نیلا سا سپنا

مٹی کی سیج پر سویا

یہ تیرے اور میرے بدن کی خوشبو تھی

اور در اصل یہی اولیں تخلیق تھی

تخلیق کائنات تو بہت بعد کی بات ہے ۔ ۔ ۔

تخلیقی عمل

نظم کبھی کاغذ کو دیکھتی اور کبھی نظر چرا لیتی

جیسے کاغذ پرایا مرد ہو

اسی طرح جیسے

ایک کنواری جب کروے کا ورت رکھتی ہے

اور اس رات خواب میں دیکھتی ہے

کہ کسی مرد کا بدن اسے چھوتا ہے

تو خواب میں بھی کانپ کانپ جاتی ہے ۔

لیکن کبھی وہ خود آگ کا لمس محسوس کرتی

اورچونک کر جاگ جاتی

تب گدرایا بدن چھو کر دیکھتی

چولی کے بٹن کھولتی

چاندنی کے چلو بھر کر بدن پر چھڑکتی

پھر بدن سکھاتی

تو ہاتھ کھسک جاتا

بدن کا اندھیرا چٹائی پر بچھ جاتا

وہ اوندھی سی چٹائی پر لیٹتی

اس کے تنکے توڑتی

تو انگ انگ سلگ اٹھتا

اسے لگتا

کہ بدن کا اندھیرا

کسی طاقت ور بازو میں ٹوٹنا چاہتا ہے

اچانک ایک کاغذ سامنے آتا

اس کے کانپتے ہاتھوں کو چھوتا

اس کا ایک انگ جلتا،ایک انگ پگھلتا

وہ ایک اجنبی گندھ سونگھتی

اور اس کا ہاتھ

بدن میں اترنے والی لکیروں کو دیکھتا

سویا سا ہاتھ اور اداس سا بدن

گھبرا کے ماتھے پر ابھرنے والی

پسینے کی بوندیں پونچھتی

ایک لمبی لکیر ٹوٹتی

اور سانس زندگی اور موت کی

دوہری گندھ میں بھیگ جاتی

یہ سبھی کمزور اور سیاہ لکیریں

جیسے ایک طویل چیخ کے کچھ ٹکڑے

وہ خاموش ،حیران انہیں دیکھتی

اور سوچتی

شاید کوئی ظلم ہو گیا ہے

یا کوئی انگ مر گیا ہے

شاید ایک کنواری کا اسقاط اسی طرح ہوتا ہے ۔ ۔ ۔

میرا پتہ

آج میں نے اپنے گھر کا نمبر مٹا دیا

اور گلی کی پیشانی پر ثبت گلی کا نام مٹا دیا

اور پھر سڑک کی سمت کا نشان پونچھ دیا

پھر بھی اگر تم مجھے تلاش کرنا چاہو

تو ہر ملک کے ،ہر شہر کی ،ہر گلی کا

دروازہ کھٹکھٹاؤ۔

جہاں بھی آزاد روح کی جھلک پاؤ

سمجھنا

وہیں میرا گھر ہے ۔

خداسے مخاطب

جب ہر ستارہ

ہر گردش سے گذر کر

تیرے سورج کے پاس آنے لگے

تو سمجھنا

یہ میری جستجو ہے

جو ہر ستارے میں نمایاں ہو رہی ہے۔ ۔ ۔

سائیں

سائیں!تو اپنی چلم سے

تھوڑی سی آگ دے دے

میں تیری اگر بتی ہوں

اور تیری درگاہ پر مجھے

ایک گھڑی جلنا ہے۔ ۔ ۔

یہ تیری محبت تھی

جو اس پیکر میں ڈھلی

ا ب پیکرسلگے گا

تو ایک دھواں سا اٹھے گا

دھوئیں کا لرزاں بدن

آہستہ سے کہے گا

جو بھی ہوا بہتی ہے

درگاہ سے گذرتی ہے

تیری سانسوں کو چھوتی ہے

سائیں!آج مجھے

اس ہوا میں ملنا ہے

سائیں!تو اپنی چلم سے

تھوڑی سی آگ دے دے

میں تیری اگر بتی ہوں

اور تیری درگاہ پر مجھے

ایک گھڑی جلنا ہے۔ ۔ ۔

جب بتی سلگ جا ئے گی

ہلکی سی مہک آئے گی

اور پھر میری ہستی

راکھ ہو کر

تیرے قدم چھوئے گی

اسے تیری درگاہ کی

مٹی میں ملنا ہے۔ ۔ ۔

سائیں!تو اپنی چلم سے

تھوڑی سی آگ دے دے

میں تیری اگر بتی ہوں

اور تیری درگاہ پر مجھے

ایک گھڑی جلنا ہے۔ ۔ ۔۔

پنجابی سے ترجمہ

Comments»

1. ritu toor - March 19, 2010

very sad to know that women are still treated like tissue paper…..but hates off to this lady, who’s gone through so much in her life. we must all stand up and raise our voices against violence…..sara i wish you were alive….

2. ibn-e-Razmi - October 8, 2010

Angel of Sucide,
All the my words,silence, which are getting birth from my soul,because of this heaven,People named
” Sara Shagufta ”

Ibn-e-Razmi
Kabirwala

3. Arshad Saleem - November 15, 2011

Upcoming Sunday Special Edition of The Daily Basharat Karachi on
Sara Shagufta ”Life & Art”

4. waqar ahmad - June 17, 2015

Excellent poetry, the pain spread in words and niche in heart with the sword of moments inch by inch, until the pain lost its worth. how pain full to know that she is no more in this world….. prayers for the soul, love for the words….and wet ‘Aankhen” ?


Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: