jump to navigation

صوبہ سندھ کا صحرائے تھر January 16, 2020

Posted by Farzana Naina in Cultures, Pakistan, Pakistani, Pakistani Folk, Sindh, Sindhi, Thar Desert.
trackback

نہ چوری کا ڈر اور نہ ہی ڈکیتی کا خوف، نہ ماحول کی آلودگی کی پریشانی اور نہ ہی اجنبیت کا احساس۔ یہ ہے پاکستان کے صوبہ سندھ کا صحرائے تھر، جہاں ثقافت، روایت اور اقدار آج بھی اپنی اصلی شکل میں موجود ہیں۔

تھر کا شمار دنیا کے بڑے صحراؤں میں ہوتا ہے، اس کو دوست صحرا بھی کہا جاتا ہے کیونکہ دیگر صحرائی علاقوں کے مقابلے میں یہاں رسائی آسان ہے

peacock 60

کراچی سے مٹھی تھر کا ضلعی ہیڈ کوارٹر مٹھی ہے، یہ شہر ایک خاتون کے نام پر آباد ہے۔ بعض روایات کے مطابق یہاں مائی مٹھاں نامی خاتون کا کنواں تھا جس میں سے مسافر پانی پیا کرتے تھے۔

سندھ کا صحرائے تھر

مٹھی پہنچنے کے لیے عمرکوٹ، میرپورخاص اور بدین سے راستے آتے ہیں۔ آج کل یہاں جاری کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبوں کی وجہ سے کراچی سے مٹھی تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔

آپ قومی شاہراہ پر سفر کرتے ہوئے مکلی سے سجاول، اور وہاں سے بدین اور پھر وہاں سے تھر کی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں۔ تھر کو ملانے والی سڑک اچھی ہے اور تمام چھوٹے بڑے شہروں کو بائی پاس دیے گئے ہیں اس لیے کراچی سے مٹھی پانچ سے چھ گھنٹے میں پہنچا جا سکتا ہے۔

ہندو مسلم بھائی چارہ

تھر میں ہندو مسلم صدیوں سے ساتھ رہتے آئے ہیں کبھی یہاں مسلمانوں تو کبھی ہندوؤں کی حکومتیں رہی ہیں۔ عید ہو یا ہولی کا تہوار، دسہرا ہو یا محرم دونوں مذاہب سے تعلق رکھنے والے اس میں شریک ہوتے ہیں۔

شہر میں موجود درجن سے زائد مسلم درگاہوں کے منتظمین ہندو برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس شہر میں گائے کی قربانی یا گوشت فروحت نہیں کیا جاتا۔

گڈی بھٹ

مٹھی شہر ٹیلوں کے درمیان میں واقع ہے، جس کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سب سے بڑے ٹیلے کو گڈی بھٹ کہا جاتا ہے جہاں پر ایک چبوترہ بھی قائم ہے۔

یہاں پر تالپور حکمرانوں کے دور کی ایک چیک پوسٹ بھی واقع تھی جو وقت کے ساتھ مسمار ہو گئی۔ کسی زمانے میں گجرات اور راجستھان سے بیرونی حملہ آوروں اور ڈاکوؤں پر نظر رکھنے کے لیے یہ چیک پوسٹ بنائی گئی تھی۔

جیسے ہی اس ٹیلے کے عقب میں سورج غروب ہوتا ہے، شہر کی بتیاں جگمگاتی ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے پوجا یا مہندی کی تھالی میں موم بتیاں سجا دی ہوں۔ جبکہ آسمان پر تارے اس منظر کو اور بھی دلکش بنا دیتے ہیں۔

ثقافت اور سنگیت کے رنگ

تھر کی دست کاری کراچی، اسلام آباد سمیت ملک کے کئی بڑے شہروں میں دستیاب ہے، جس میں روایتی کپڑے، گرم شالیں، لیٹر بکس، وال پیس وغیرہ شامل ہیں۔

بعض لباس آج بھی بلاک پرنٹنگ سے بنائے جاتے ہیں۔ان میں سے کچھ چادریں آج بھی کھڈی پر بنائی جاتی ہیں جو مشین کی بنی ہوئی چادروں سے زیادہ پائیدار ہوتی ہیں۔

مارواڑی گیت ’کھڑی نیم کے نیچے ہوں تو ہیکلی‘ سے مقبولیت حاصل کرنے والی مائی بھاگی کا تعلق بھی صحرائے تھر سے تھا۔ ان کے علاوہ عارب فقیر، صادق فقیر اور موجودہ کریم فقیر گائیکی کی روایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہاں کے منگنہار قبیلے کے یہ گلوکار مقامی زبان ڈھاٹکی، سندھی اور اردو میں گا سکتے ہیں۔ گیت سنگیت کا شوق رکھنے والے سیاح انھیں نجی محفلوں اور گیسٹ ہاؤسز پر بلا کر سنتے ہیں۔

سنت نیٹو رام آشرام

مٹھی سے تقریباً 40 کلومیٹر دور اسلام کوٹ واقع ہے، تھر کوئلے سے بجلی کی پیداوار کرنے کی وجہ سے اہم شہر ہے جس کے قریب ایئرپورٹ بھی واقع ہے۔ کسی زمانے میں اس شہر کو نیموں کا شہر کہا جاتا تھا یہاں بڑی تعداد میں نیم کے درخت ہوا کرتے تھے۔

شہر کے اندر ایک بزرگ سنت نیٹو رام کا آشرم ہے، روایت ہے کہ تھر میں جب قحط آتا تھا اور یہاں سے مسافر گزرتے تھے تو یہ بزرگ تمام لوگوں سے چندہ جمع کر کے چاول بناتے تھے اور جنھیں وہ خود آواز لگا کر مسافروں کو کھلاتے تھے۔

سیوا کے اس پنتھ کو ابھی تک برقرار رکھا گیا ہے، ان کے آشرم میں انسانوں کے علاوہ جانوروں اور پرندوں کے دانے دنکے اور پانی کا بھی انتظام ہے اور یہاں آنے والے مسافروں سے مذہب نہیں پوچھا جاتا۔

چونئرے اور لانڈھیاں

تھر میں لوگوں کی اکثریت اگلو نما کچے کمروں میں رہتے ہیں، ان کی چھتیں گھاس سے بنی ہوئی ہوتی ہیں

تھر میں لوگوں کی اکثریت اگلو نما کچے کمروں میں رہتے ہیں، ان کی چھتیں گھاس سے بنی ہوئی ہوتی ہیں جو گرمی میں ٹھنڈے رہتے ہیں۔ ہر سال یا دو سال کے بعد ان پر تازہ گھاس لگائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سیمنٹ اور مٹی سے بنے ہوئے کمرے بھی ہوتے ہیں جن کو لانڈھی کہا جاتا ہے۔

یہاں پانی عام طور پر کنویں سے حاصل ہوتا ہے جس کے لیے گدھے، اونٹ یا بیل کا استعمال ہوتا ہے۔ کنوؤں سے پانی نکالنے کی ذمہ داری مردوں کی ہے جبکہ گھروں تک پانی خواتین پہنچاتی ہیں۔

بدلتے وقت کے ساتھ کئی دیہاتوں میں اب ٹیوب ویل آ گئے ہیں اس لیے سروں پر پانی کے دو سے تین مٹکے رکھ کر چلنے والی خواتین بہت کم نظر آتی ہیں۔

تھر کی مہمان نوازی

تھر میں قحط ہو یا بارشوں کے بعد کی خوشحالی یہاں کے لوگ مہمان نواز ہیں۔ اگر آپ کہیں گاؤں کے قریب رک گئے ہیں تو مسافروں کی مدد کرنا اور ان کی مہمان نوازی مقامی لوگوں کی روایت میں شامل ہیں۔

مرد قمیض شلوار یا لنگی جبکہ مسلم خواتین قمیض شلوار اور ہندو خواتین گھاگھرا یا بعض ساڑھی کا استعمال کرتی ہیں۔ خواتین کے کپڑے زیادہ تر شوخ رنگوں کے ہوتے ہیں، جن میں سے بعض پر کڑھائی بھی ہوتی ہے۔

تھر کا موسم

پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل کے لیے صحرائے تھر پر اصغر ندیم سید کے لکھے ڈرامہ ’آخری گیت‘ کے ایک ڈائیلاگ میں عابد علی روحی بانو کو مخطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں ’تھر کی ہوا بابا، آدمی کو عاشق بنا دیتی ہے۔‘

دراصل جیسے ہی غروب آفتاب ہوتا ہے تو رن آف کچھ سے آنے والی ہوائیں موسم کو خوشگوار کر دیتی ہے اور آسمان پر ٹمٹماتے تارے منظر کی دلکشی میں مزید اضافے کی وجہ بنتے ہیں۔

مور اور ہرن

تھر کے اکثر گاؤں میں مور پرندے گھومتے پھرتے نظر آئیں گے جو صبح کو گھروں میں دانہ چگنے آتے ہیں اور پھر جنگلوں میں چلے جاتے ہیں اور شام کو پھر لوٹتے ہیں۔ جہاں ہندو آبادی ہے وہاں ان موروں کی تعداد زیادہ ہے کیونکہ اسے شری کرشنا اور سرسوتی دیوی سے منسوب کیا جاتا ہے۔

بعض دیہاتوں کی پنچائتوں نے مور پکڑنے یا فروخت کرنے پر جرمانہ بھی عائد کر رکھا ہے۔

تھر میں ہرن اور نیل گائے بھی پائی جاتی ہے جو انڈیا کے سرحدی علاقوں، رن آف کچھ کے قریب دیکھی جاسکتی ہے۔ ان کے شکار پر پابندی ہے اور سرحدی فورس رینجرز اس کی نگرانی کرتی ہے۔

ننگرپارکر اور جین مندر

مٹھی سے تقریباً 130 کلومیٹر دور قدیمی شہر ننگر پارکر واقع ہے، کارونجھر پہاڑی نے اس شہر کو جیسے گود میں لے رکھا ہے۔ سرخ گرینائیٹ پتھر کے اس پہاڑ کا رنگ سورج کی روشنی کے ساتھ تبدیل ہوتے ہوئے نظر آتا ہے۔

یہاں ہندو مذہب کے کئی آستھان یعنی مقدس مقامات بھی موجود ہیں جن میں ایک کو سادہڑو گام کہا جاتا ہے جہاں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد فوت ہونے والوں کی باقیات جلاتے ہیں۔

بعض روایات کے مطابق مہا بھارت میں جب کوروں نے پانڈوں کو 13 سال کے لیے جلاوطن کیا تھا تو پانچ پانڈے اس پہاڑ پر آ کر بس گئے تھے ان کے نام سے پانی کے تالاب موجود ہیں۔

ننگرپارکر پہاڑ سے شہد اور جڑی بوٹیوں سمیت لکڑیاں حاصل کی جاتیں ہیں ایک کہاوت ہے کہ کارونجھر روزانہ سوا سیر سونا پیدا کرتا ہے۔

ننگرپارکر شہر اور اس کے آس پاس میں جین دھرم کے مندر بھی واقع ہیں جو بارہویں صدی میں قائم کیے گئے تھے۔ شہر میں موجود مندر کی دوبارہ سے مرمت کی جا رہی ہے جبکہ شہر سے باہر دو مندر زبوں حالی کا شکار ہیں۔

ان کے ساتھ ایک قدیم مسجد بھی واقع ہے، مختلف روایات کے مطابق یہ مسجد گجرات میں مسلم حکمران نے تعمیر کی، بعض مورخین اس کو دہلی کے حکمرانوں کے ساتھ جوڑتے ہیں۔

نامور آرکیالوجسٹ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کا کہنا ہے کہ یہ خطہ جین دھرم والوں کا گڑھ رہا ہے۔

وہ بتاتے ہیں ’تیرھویں صدی تک جین برادری نے تجارت میں عروج حاصل کیا اور جب یہ برادری خوشحال ہوئی تو انھوں نے یہ مندر تعمیر کروائے۔ موجودہ مندر بارہویں اور تیرہویں صدی کے بنے ہوئے ہیں۔‘

peacock 3

بتشکر: ریاض سہیل

بی بی سی اردو

Comments»

No comments yet — be the first.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: