jump to navigation

ہم اپنے ہی ملک میں پناہ گزینوں کی طرح رہتے ہیں June 2, 2019

Posted by Farzana Naina in Chatai Making, Culture, Cultures, Handy Crafts, Pakistan, Pakistani, Pakistani Folk, Sindh, Sindhi.
trackback

حیدر آباد کی مشہور ٹھنڈی سڑک کے کنارے بیٹھے زندگی کی تپتی دھوپ سے جھلسے ہوئے ہنرمند جوگی اپنی منفرد دست کاری کا مول نہ ملنے کے باعث مایوس نظر آتے ہیں۔

حیدر آباد پریس کلب کے نزدیک سڑک کنارے لٹکی چٹائیاں ان ماہر دست کاروں کی خاص سوغات ہیں جو وہ آباؤ اجداد کے دور سے بناتے آ رہے ہیں۔

’ہمارے بزرگ سندھ کی سرزمین پر بسے ہیں اس لیے ہمیں اس زمین سے بہت محبت ہے۔ ہم اپنا کام محنت سے کرتے ہیں اور اپنی محرومیوں کی شکایت کسی سے نہیں کرتے لیکن اپنے ہنر کی معقول اجرت نہ ملنے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ہمارا گزارا مشکل ہو گیا ہے۔‘

صبح سے لے کر شام ڈھلے تک جوگیوں کے درجنوں خاندان ٹھنڈی سڑک کے فٹ پاتھ پر ہر آنے جانے والی گاڑی کو حسرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ شاید کوئی ان کے ہنر کو سراہنے والا رک کر ان سے چٹائی سے بنی چیزیں خرید لے۔

’ہمارے بچوں سے لے کر بوڑھے تک یہ کام جانتے ہیں, بچے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے چٹائی بننے کا کام کرتے ہیں۔ اگر ہمیں ہمارے ہنر کی مناسب قیمت ملے تو ہم بھی بچوں کو سکول بھیج سکیں۔‘

گوکل دیو نامی دستکار کا کہنا تھا کہ آس پاس کچھ دکاندار ایسے ہیں جو ہمارے عقیدے کی وجہ سے ہمیں پانی دینا بھی پسند نہیں کرتے۔ انھوں نے بتایا کہ گرمی میں ہمارے بچے کبھی کبھی بھوکے پیاسے چٹائی اور موڑھے بُنتے ہیں۔‘

چٹائی بنانے کا عمل

بانس کی سنہری لکڑیاں یہ جوگی پٹھانوں سے خرید کر لاتے ہیں جس کے بعد ان کی چھٹائی کا کام کیا جاتا ہے۔ کالے اور پھر سفید ڈوروں کی مدد سے بنائی کا کام کیا جاتا ہے۔ ایک چٹائی کی مکمل بنائی میں ایک گھنٹہ لگتا ہے جس کی بعد اس پر کپڑا چڑھا کر اسے خوبصورت ڈیزائنوں سے آراستہ کیا جاتا ہے۔

محنت کش مزدور اور ان کی بنیادی ضروریات

ٹھنڈی سڑک سے کچھ فاصلہ پر ان خاندانوں کی جھگیاں موجود ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ صدیوں سے ان کے آباؤ اجداد سندھ میں مقیم ہونے کہ باوجود اپنی ہی سرزمین پر زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔

’حکومت نے ہمیں جس جگہ کوٹھریاں بنانے کی اجازت دی ہے وہاں نہ تو گٹر لائن ہے اور نہ ہی پانی آتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ ان کے بچوں کو سکول بھیجنے کی ذمہ داری لینا چاہتے ہیں لیکن وہ گورنمنٹ سکول میں بچوں کو کیسے داخل کروائیں جہاں نہ پانی ہے نہ صابن وہ گندے سکول میں بچوں کو نہیں بھیجنا چاہتے۔

ان کا کہنا ہے کہ بڑے سرمایہ دار اکثر ان سے 50 روپے دیہاڑی پر کام کرواتے ہیں اور شہر میں ان کے ہنر کو مہنگے داموں بیچتے ہیں۔

’لوگ 50 روپے دے کر جاتے ہیں اور ہمارے کام کے عوض اپنی جیبوں میں عوض ہزاروں بھر لیتے ہیں‘

بانس سے بنے خوبصورت اور دیدہ زیب ڈیزائن میں موڑھے اور چٹائیاں ہر آنے جانے والے کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرتی ہیں۔ شدید گرمی میں بھی ان ہنرمندوں کی خواتین اور بچے چٹائی کی بنائی اور تیاری میں مشغول نظر آتے ہیں جبکہ مرد گاہکوں سے ڈیل کرتے ہیں۔

رام دیو نامی ہنرمند کا کہنا ہے ’کسی سے کوئی شکایت نہیں، اللہ جتنا دے اتنا کافی ہے لیکن ہم اپنے ہی ملک میں پناہ گزینوں کی طرح رہتے ہیں۔‘

پاکستان کے آئین کے مطابق مزدور طبقے کے حقوق کے تحفظ کے لیے تقریباً 70 قوانین موجود ہیں لیکن ان کا اطلاق صرف فیکٹری ورکروں اور نوکری پیشہ افراد پر ہوتا ہے جبکہ چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے مزدوروں، دست کاروں، ہوٹلوں اور مکینکوں، دیہاڑی داروں، ریڑھی بانوں سمیت دیگر معمولی اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں پر یہ قوانین لاگو نہیں ہوتے جس کے باعث انھیں استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حال ہی میں ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان کے وفد سے بات کرتے ہوئے سندھ کے وزیرِ لیبر غلام مرتضیٰ بلوچ کا کہنا تھا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں پہلی لیبر پالیسی نافذ کی گئی ہے جس کے مطابق مڈل مین کے کردار کو کم سے کم کیا گیا ہے تاکہ چھوٹی نوعیت کے تاجر اور دیہاڑی پر کام کرنے والے مزدوروں کو ان کے کام کا زیادہ سے زیادہ معاوضہ مل سکے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کی ڈومیسٹک لیبر کے حوالے سے حکومت نے 15 نئے قوانین اسمبلی میں پیش کیے ہیں جن کی منظوری کے بعد فوری عمل درآمد کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان قوانین کے مطابق محنت کشوں کو محفوظ ورکر کا درجہ دیا جائے گا۔ 15 نئے قوانین کے مطابق ان افراد کے لیے فلیٹوں کی تعمیر، ان کے بچوں کے لیے سکول اور کالجز کا قیام، یونیفارم اور کتابوں کی فراہمی شامل ہیں۔

بتشکر: سیدہ ثنا بتول

Comments»

No comments yet — be the first.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: