jump to navigation

A Tribute To Mohammed Aziz (Playback Singer) November 29, 2018

Posted by Farzana Naina in Film and Music, Music, Poetry.
Tags: , , , ,
trackback

Welcome Pink Rose

music notes

محمد عزیز : پیدائش 2 جولائی، 1954, کلکتا, بھارت

انتقال : 27 نومبر، 2018, Nanavati hospital, ممبئی, بھارت

اولاد: ثنا عزيز

ممبئی کی ہندی فلم انڈسٹری میں فلموں کے لیے 1980 اور 1990 کے عشرے میں بہترین نغمے پیش  کرنے والے گلوکار محمد عزیز کا ایک نجی اسپتال میں 64 سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا۔

 

 

محمد عزیز  2 جولائی 1954 کو مغربی بنگال کے اشوک نگر میں پیدا ہوئے تھے۔

محمد عزیز کا نغمہ ’’آپ کے آجانے سے ‘‘ اور ’’ مائی نیم از لکھن‘‘  فلموں کے چاہنے والوں میں خوب مقبول ہوا ۔

پیر کے روز محمد عزیز کا ایک میوزیکل پروگرام کولکتہ میں منعقد کیا گیا تھا اور ستائیس نومبر دو ہزار اٹھارہ کے منگل کو دوپہر دو بجے ممبئی آمد کے بعد انہوں نے ڈرائیور کو کہا کہ میری طبیعت خراب ہو رہی ہے، جس کے بعد انہیں فوری طور پر ناناوتی اسپتال پہنچایا گیا، چیک اپ کرتے ہی ڈاکٹروں نے دل کا دورہ پڑنے کی اطلاع دی اور انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔

میوزک کمپوزر انو ملک نے سب سے پہلے محمد عزیز کو فلم ’’ مرد‘‘ میں امیتابھ پر فلمائے گانے ’’ مرد ٹانگے والا‘‘  گانے کا چانس دیا تھا۔

محمد عزیز کے تعلقات لکشمی کانت پیارے لال کے ساتھ بہت اچھے اور قریبی تھے، جبکہ کلیان جی آنند ، آر ڈی برمن، نوشاد، او پی نیر اور بپی لہری بھی ان کے رفیق تھے۔

محمد عزیز نے امیتابھ بچن کے دور سے لے کر رشی کپور اور گو وندا جیسے ہیروز کے لیئے مقبول ترین گیت گائے۔

محمد عزیز کو پیار سے ’’ منا ‘‘ کہہ کر پکارا جاتا تھا، ان کا پورا نام ’’ سید محمد عزیز النبی‘‘ تھا۔

اپنی زندگی کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ آر ڈی برمن کے پاس گیت سنانے پہنچا، وہ اپنے گھر میں تھے اور کمرے میں مائیک بھی لگا ہوا تھا، لہذا میں نے گیت گایا، لیکن برمن نے کہا کہ اپنے لہجے پر ابھی اور محنت کرو، باہر نکل کر میں سوچتا رہا کہ میں تو اہلِ زبان ہوں اس سے بہتر اور کیا سیکھوں گا!۔

پھر اس کے بعد میں ان کی طرف سے مایوس ہوگیا لیکن ایک دن آشا جی مجھے کہا کہ چلو میری گاڑی میں بیٹھو میں تمہیں برمن کے پاس لے چلتی ہوں، میں نے بہانہ کر دیا کہ ابھی تھوڑی بعد میں خود ہی گھر پہنچ جاؤں گا، آشا جی نے ہمیشہ میری بہت مدد کی، وہ ایک مہربان ہستی ہیں ۔

انہوں نے اپنے گائیکی کے دور میں آشا بھونسلے، لتا منگیشکر، انورادھا پوڈوال، کویتا کرشنا مورتی، کے ساتھ اسی اور نوے کی دہائی میں بہترین گیتوں سے دھوم مچادی تھی۔

 محمد عزیز نے بطور پلے بیک گلوکار اپنے کیریئر کا آغاز بنگلہ فلم ‘جیوتی’ سے کیا تھا۔ سال 1984 میں وہ ممبئی آ گئے جہاں انہوں نے ہندی فلم ‘امبر’ میں گیت گایا، اس کے بعد عزیز نے کئی فلموں کے ہٹ گانے گائے،  انہوں نے مرد کے علاوہ بنجارن، آدمی کھلونا ہے، لو 86، پاپی دیوتا، ظلم کو جلا دوں گا، پتھر کے انسان، بیوی ہو تو ایسی، برسات کی رات، لال دوپٹہ ململ کا، رام لکھن، ہمارا خاندان، رام اوتار جیسی کئی فلموں میں گانے گائے۔

ہندی، اردو کے علاوہ محمد عزیز نے بھجن، بھگتی گیت، اڑیسہ، اور صوفی کلام بھی گایا۔ 

ان کے میوزیکل کیریئر میں گانوں کی کل تعداد بائیس ہزار سے زائد ہے۔

وہ ان چند گلوکاروں میں سے تھے جو اپنی آواز کا نوٹ بہت اونچا اٹھا سکتے ہیں، محمد عزیز نے ہندی فلموں کے علاوہ بنگالی، اوڑیا اور دیگر علاقائی زبان کی فلموں میں بھی بطور پلے بیک گانے گائے، وہ خود محمد رفیع کے بہت بڑے پرستار تھے جبکہ سونو نگم ان کے بہت بڑے پرستار ہیں۔  

آخری دور میں ان کو شکوہ رہا کہ فلم انڈسٹری نے ان کو بڑے ستاروں کے میوزیکل شوز میں بلانا چھوڑ دیا ہے، ان کی گلوکاری جتنی مقبول تھی اتنا ہی ان کو فلمی دنیا نے نظر انداز کیا ہوا تھا۔ 

Music Multi Eighth Note Music Multi TwoEighthNote Music Multi Eighth Note Tiny music notes Rose red 13 Tiny music notes Music Multi Eighth Note Music Multi TwoEighthNote Music Multi Eighth Note

ساری دنیا پیاری پر تو ہے سب سے پیارا ۔۔۔ فلم:  میرا کا موہن

 اے مرے دوست لوٹ کے آجا ۔۔۔ فلم: سورگ  

متوا بھول نہ جانا ۔۔۔ فلم: کب تک چپ رہوں گی

بہت جتاتے ہو چاہ ہم سے ۔۔۔ فلم: آدمی کھلونا ہے

کیسے کٹے دن کیسے کٹی راتیں ۔۔۔ فلم: سورگ

کچھ ہو گیا، چاند کے دیس میں دل میرا اڑ گیا ۔۔۔ فلم: کشن کنہیا 

تیرے میرے بیچ میں کیسا ہے یہ بندھن انجانا ۔۔۔ فلم: اک دوجے کے لیئے

آتے آتے آتے تیری یاد آ گئی ۔۔۔ فلم: جان کی بازی

پل دن مہینے کئی سال ہوگئے ۔۔۔ فلم: آپ کی یادیں

پیار ہمارا امر رہے گا ۔۔۔ فلم: مدت

ساتھیا او ساتھیا سورج ہے تو ۔۔۔ فلم: پاپ کو جلا کر راکھ کردوں گا

میں تیرے بن جی نہیں سکتا ۔۔۔ فلم: لال پری

تم جو بنے ہمدرد ہمارے ۔۔۔ فلم: فتح  

پت جھڑ ساون بسنت بہار ۔۔۔ فلم: سندور

جب پیار کیا اقرار کیا ۔۔۔ فلم: وطن کے رکھوالے

آج کل یاد کچھ اور رہتا نہیں ۔۔۔ فلم: نگینہ ۱۹۸۶

تجھے رب نے بنایا کس لیئے ۔۔۔ فلم: یاد رکھے گی دنیا

پھول گلاب کا ۔۔۔ فلم: بیوی ہو تو ایسی

ہم تمہیں اتنا پیار کریں گے ۔۔۔ فلم: بیس سال بعد

لوگ کہتے ہیں کہ پیلا چاند ہے سب سے حسیں ۔۔۔ فلم: خود غرض

سارے شکوے گلے بھلا کے کہو ۔۔۔ فلم: آزاد دیش کے غلام

یاد رکھیو یہ چار اکشر پیار کے ۔۔۔ فلم: عزت دار ۱۹۹۰

سن اے بہار دل کی پکار ۔۔۔ فلم: آسمان سے اونچا

دل کے ارمانوں کو تونے جگا دیا ۔۔۔ فلم: انصاف کی پکار

میں نے تجھ سے پیار کیا ہے ۔۔۔ فلم: سوریا

میرے محبوب رک جاؤ تمہارا چاہنے والا ۔۔۔ فلم: ہمارا خاندان

تو بھی بے قرار میں بھی بے قرار ۔۔۔ فلم: وقت کی آواز

میں تیری محبت میں پاگل ہو جاؤں گا ۔۔۔ فلم: تری دیو

آج صبح جب میں جگا ۔۔۔ فلم: آگ اور شعلہ

انگلی میں انگوٹھی، انگوٹھی میں نگینہ ۔۔۔ فلم: رام اوتار

آپ کا چہرہ آپ کا جلوہ ۔۔۔ فلم: تہلکہ

مئے سے مینا سے نہ ساقی سے ۔۔۔ فلم: خود غرض

مل گئے دل اب تو کھل کے مل ذرا ۔۔۔ فلم اگنی ۱۹۸۸

میں نے دل کا حکم سن لیا تیرے صدقے بلم ۔۔۔ فلم: برسات کی رات

تونے بے چین اتنا زیادہ کیا ۔۔۔ فلم: نگینہ

دنیا میں کتنا غم ہے ۔۔۔ فلم: امرت ۱۹۸۶  

تو مجھے قبول میں تجھے قبول ۔۔۔ فلم: خدا گواہ

محبوب سے ہمارے بادِ صبا یہ ہمارا ۔۔۔ فلم: لو ۸۶

تو ہی میری پریم کہانی ۔۔۔ فلم: پتھر کے انسان

اک لڑکی جس کا نام محبت ۔۔۔ فلم: شعلہ اور شبنم

اپنی آنکھوں کے ستاروں میں ۔۔۔ فلم: پولیس اور مجرم

رب کو یاد کروں ۔۔۔ فلم: خدا گواہ

ساون کا مہینہ ۔۔۔ فلم: ایسا پیار کہاں

چلو چلو چلیں دور کہیں ۔۔۔ فلم: سندور

کھینچ لایا ہے تیرا پیار ۔۔۔ فلم: جنم جنم

جیسے اک چاند کا ٹکڑا ۔۔۔ فلم: انتقام

بہنیں ہنستی ہیں تو ۔۔۔ فلم: پیار کا دیوتا

چھن چھن باجیں گھنگھرو ۔۔۔ فلم: گھنگھرو

یار تیرا پیار تو ہے میری زندگی ۔۔۔ فلم : ہم بھی تو انسان ہیں

مجھے جینے نہیں دیتی ہے ۔۔۔ فلم: بومب بلاسٹ

میرے صنم تیرے سر کی قسم ۔۔۔ فلم: مجبور 

جند تیرے نام کر دی ۔۔۔ فلم: پیار کا دیوتا

تم حسیں کسقدر ہو ۔۔۔ فلم: حاتم طائی  

گوری کا ساجن ، ساجن کی گوری ۔۔۔ فلم: آخری راستہ  

Pink Flower 3

***      ***

موسیقی کے دلدادہ انہیں گیتوں کے جادو میں کچھ مہکتے لمحے ایک الگ دنیا میں گزار آتے ہیں۔

یہ گیت وہ آئینے ہیں جن میں حساس لوگ اپنا دل اور دھڑکن دیکھ لیتے ہیں!۔

ان گیتوں میں کبھی کبھی وہ جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں جب محبت نے اپنی مقناطیسی کشش سے مجھے کھینچ لیا تھا، ہم ان گیتوں میں اپنے دلبر کو دیکھتے ہیں یا پھر اسے جو چھین لیا گیا، جو دل چیر گیا ہو، وہ دور کہیں کھو گیا، اوجھل ہوگیا جب اس کے ہمراہ بتائی چند گھڑیاں نصیب ہوتیں اور باقی دن ان گیتوں کے سہارے کٹ جاتا۔ !۔

وقت ان لمحوں کی سوئیاں توڑ کر آگے نکل گیا، لیکن میں اب تک ان چبھتی سوئیوں کو نکال نہیں پائی، اس کے ساتھ کی سب دعائیں کہیں اس عرش و فرش کے درمیان بھٹکتی رہ گئیں !۔

یہ گیت  گلے میں آنسوؤں کا پھندا بن کر سانسیں گھوٹتے ہیں ، اُس کی مہک میرے تن من میں ہے، لیکن وہ نہیں ہے، کہیں بھی نہیں۔

جیسے کوئی خواب تھا، سراسر ایک خواب، جو آنکھ  کھلتے ہی غائب ہو گیا !۔

میں ایک کٹے پروں والا پرندہ جو پھڑ پھڑا کر رہ جاتا ہے، نہ جیتا ہے نہ مرتا ہے، مرے ارد گرد کی دنیا  کبھی اس طلسم کو محسوس نہیں کر سکتی جس نے مجھے حصار میں لیا ہوا تھا، کبھی اس دکھ کی تیز دھار نہیں دیکھ سکتی جو مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کاٹتا ہے۔

نا ہی وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔۔۔ جو میرے بن اک پل نہیں رہ پاتا تھا۔۔۔!!!۔

Fairy Grey heart

Comments»

No comments yet — be the first.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: