jump to navigation

دنیا کا سب سے بڑا پوسٹ کارڈ اور ماحولیاتی تبدیلی November 19, 2018

Posted by Farzana Naina in Global warming, World.
Tags: , , ,
trackback

سوئزلینڈ کے گلپائن خطے میں واقع برفانی پہاڑی علاقے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں اور اسی جگہ کو دنیا کے سب سے بڑے پوسٹ کارڈ بنانے کے لیے چنا گیا۔

تیزی سے پگلتے ہوئے الیٹش گلیشییر پر بنائے اس کارڈ 125000 ڈرائنگس اور پیغامات درج ہیں جو سب ماحولیاتی تبدیلیوں کےبارے میں ہیں۔

اس پوسٹ کارڈ کا حجم 2500 مربع کلومیٹر ہے اور اسے دنیا بھر کے بچوں نے بنایا۔

ایک نے لکھا ’ہم مستقبل ہیں ہمیں ایک موقع دیں‘۔

فضا سے دیکھنے پر پوری تصویر پر یہ پیغام نظر آتا ہے ’عالمی درجۂ حرارت کو روکیں #1.5 ڈگری سینٹی گریڈ ‘۔ یہ سائنسدانوں کی جانب سے عالمی درجۂ حرارت کی مقرر کردہ حد ہے۔

یہ پوسٹ کارڈ بنانے کا انتظام ویوو فائنڈیشن نے کیا تھا۔ 

ادارے کے مطابق اس سرگرمی نے ایک نیا عالمی ریکارڈ بنایا ہے جس میں سب سے زیادہ پوسٹ کارڈز کو ایک ساتھ ایک تصویر میں جوڑا گیا۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ 16000 کارڈ کا تھا۔

اس پوسٹ کارڈ کے لیے مخصوص گلیشیر کا انتخاب اس کی خطرے کی حد تک تیزی سے پگھلنے کے باعث کیا گیا۔

زیوریخ یونیوبرسٹی میں برفانی تودوں کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یورپ میں سب سے بڑا برفانی تودہ جو 23 کلومیٹر طویل ہے سنہ 2100 تک مکمل ختم ہو سکتا ہے۔

ہائیڈروجن، فلورین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ وہ گیسیں ہیں جو فریزرز، ایئرکنڈیشنرز اور سپریز میں بھی استعمال ہوتی ہیں اور یہ عالمی حدت میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہیں۔

اس وقت اوسط عالمی درجۂ حرارت 15 ڈگری سیلسیئس ہے، لیکن ارضیاتی ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ ماضی میں اس میں کمی بیشی ہوتی رہی ہے۔

تاہم ماضی میں ہونے والی تبدیلیوں کے مقابلے پر درجۂ حرارت میں ہونے والی موجودہ تبدیلی بہت تیزی سے رونما ہو رہی ہے۔ سائنس دانوں کو تشویش ہے کہ انسانوں کے ہاتھوں کی جانے والی اس برق رفتار تبدیلی سے مستقبل میں زمین کے موسم پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔

گرین ہاؤس اثر اس قدرتی عمل کو کہا جاتا ہے جس کی مدد سے زمین سورج سے حاصل شدہ توانائی کو مقید کر لیتی ہے۔ سورج سے آنے والی حرارت روشنی کی شکل میں زمین کی سطح سے ٹکرانے کے بعد منعکس ہو کر واپس خلا میں بکھر جاتی ہے، تاہم کرۂ ہوائی میں موجود گیسیں اس حرارت کے کچھ حصے کو جذب کر لیتی ہیں، جس سے کرۂ ہوائی کا نچلا حصہ اور زمین کی سطح دونوں گرم ہو جاتے ہیں۔

اگر یہ عمل نہ ہوتا تو اس وقت زمین 30 درجہ زیادہ ٹھنڈی ہوتی، اور اس پر زندگی گزارنا بہت مشکل ہو جاتا۔

درجۂ حرارت کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ سو سالوں میں دنیا کے اوسط درجۂ حرارت میں 0.8 درجے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس سے میں 0.6 درجے فیصد اضافہ پچھلے تین عشروں میں دیکھنے میں آیا ہے۔

مصنوعی سیاروں سے حاصل شدہ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ حالیہ عشروں میں سمندر کی سطح تین ملی میٹر سالانہ اونچی ہو گئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پانی گرم ہو کر پھیل جاتا ہے۔

تاہم ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ پہاڑوں پر واقع گلیشیئر اور قطبی برف کی تہہ پگھل رہے ہیں۔ مصنوعی سیاروں سے لی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قطبی برف میں ڈرامائی کمی واقع ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ جانوروں اور پودوں کے رویوں میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ اب پھول وقت سے پہلے کھل جاتے ہیں اور جانوروں کی ہجرت اور رویے میں بھی فرق پڑا ہے۔

بین الاقوامی پینل برائے ماحولیاتی تبدیلی نے 2013 میں ایک تخمینہ پیش کیا تھا جس میں کمپیوٹر ماڈل پر مبنی مختلف پیش گوئیاں کی گئی تھیں۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ 21ویں صدی کے اختتام تک عالمی درجۂ حرارت میں 1.5 ڈگری کا اضافہ ممکن ہے۔

عام طور پر دو ڈگری تپش کو خطرناک عالمی تبدیلی کی دہلیز سمجھا جاتا ہے۔

اگر ہم فوری طور پر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج روک بھی دیں تب بھی سائنس دان کہتے ہیں کہ ان کے اثرات خاصے عرصے تک جاری رہیں گے کیوں کہ ماحولیاتی نظام کے مختلف حصے، مثلاً پانی اور برف کی تہیں، درجۂ حرارت میں تبدیلوں کا ردِعمل دکھانے میں سینکڑوں برس لگاتے ہیں۔

مکمل اثرات غیریقینی ہیں، البتہ اندازہ ہے کہ اس سے صاف پانی کی فراہمی میں کمی واقع ہو گی، خوراک کی پیداوار میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوں گی، اور سیلابوں، طوفانوں، قحط سالی اور گرمی کی لہروں میں اضافے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر اموات واقع ہو سکتی ہیں۔

سائنس دان کہتے ہیں کہ مجموعی طور پر بارشوں میں اضافہ ہو جائے گا لیکن سمندر سے دور 

علاقوں میں خشک سالی ہو گی اور موسمِ گرما کا دورانیہ بڑھ جائے گا۔ 

Rain 183

اس کے علاوہ سمندر کی سطح میں اضافے کی وجہ سے طوفان اور سیلاب آنے کا خطرہ بڑھ جائے گا، تاہم دنیا کے مختلف علاقوں میں مختلف اثرات دیکھنے کو ملیں گے۔

زیادہ اثر غریب ملکوں پر پڑے گا جہاں اس تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے وسائل کی کمی ہے۔

موسم یک لخت تبدیل ہونے کی وجہ سے جانداروں کی بہت سی نسلیں ناپید ہو جائیں گی۔ عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ملیریا، پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور قحط سالی سے لاکھوں لوگ موت کی آغوش میں چلے جائیں گے۔

اس کے علاوہ سمندروں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے جذب ہونے سے ان کی تیزابیت بڑھ جائے گی۔ اس سے سمندری حیات اور کورل ریف پر مضر اثرات مرتب ہوں گے 

Rain 90Fish12

بی بی سی

Comments»

No comments yet — be the first.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: