jump to navigation

Mushaira in Frankfurt October 12, 2018

Posted by Farzana Naina in Poetry.
trackback

ایک نشست  🌺  ایک تعارف  🌺

ہم اپنے دل کی کتھا کاغذوں پہ لکھتے ہیں

مگر  یہ  لوگ  اسے  شاعری سمجھتے  ہیں

وطن سے دور وطن کی خوشبو

اکتوبر بروز ہفتہ جرمنی میں ایک ادبی نشست اردو جرمن کلچرل سوسائیٹی کی جانب سے منعقد کی گئی جس کے تیس سال مکمل ہورہے تھے اور خواتین کی نشست کے انعقاد کو نو سال۔ !

اس نشست کے دو حصے تھے پہلا نثری اور دوسرا نظم و شاعری۔

پہلے حصے کی صدارت ناروے سے آنے والی ادبی شخصیت محترمہ طاہرہ زرتشت صاحبہ نے کی جو کہ خود بھی شاعرہ ہیں اور اپنی تحاریر میں ایک مقام رکھتی ہیں۔

اس نشست میں تین کتب کی رونمائی اور ان پر مقالہ جات پیش کئے گئے

محفل کا آغاز سورہ رحمان کی تلاوت سے کیا گیا

بعد میں دو بچیوں نے محترم ڈاکٹر اسماعیل صاحب کا سدا بہار نعتیہ کلام ترنم سے پیش کیا، خاکسار نے بھی نعتیہ کلام پیش کیا اور داد و دعائیں وصول کیں ۔  

اس کے بعد مقالہ جات پڑھے گئے اور مصنفات نے اپنی اپنی کتب کا تعارف پیش کیا ۔

پہلا مقالہ محترمہ درثمین احمد صاحبہ نے پیش کیا

کتاب کا نام  تھا “روح دیکھی ہے کبھی ” یہ ایک افسانوی مجموعہ ہے جس کی مصنفہ جرمنی کی محترمہ ہما فلک صاحبہ تھیں۔

دوسرا مقالہ محترمہ فرزانہ نیناں صاحبہ (برطانیہ) نے کتاب    

  “جرمنی میں اردو”

پر بحسن و خوبی پیش کیا جس کی مصنفہ محترمہ عشرت سیماصاحبہ تھیں ۔

اور تیسرا مقالہ محترمہ نبیلہ رفیق صاحبہ (ناروے) کی کتاب “جھرنا”

کے بارے میں محترمہ مسرت آفتاب صاحبہ نے پیش کیا۔

ماشاللہ تینوں ہی کتب اپنے اپنے ناموں کے اعتبار سے بہترین تحریر پر مبنی ہیں۔

آخر میں محترمہ طاہرہ زرتشت صاحبہ نے ادب اور تحریر کے اعتبار سے دنیا کی ایک عالمگیر کتاب قران پاک پر جو ادبی اور اخلاقی معیار کی مکمل کتاب ہے کے بارے میں الفاظ کی شستگی اور تخیل کے ہمراہ اظہاریہ کیا۔

اس پروگرام کے بعد چائے کا وقفہ تھا جس میں سب حاضرات محفل کو چائے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے بھی ملنے اور آپس میں متعارف ہونے کا موقع ملا۔ 

ہال کے باہر خواتین کی دلچسپی اور ضرورت کے لیئے ملبوسات، جیولری اور گھر میں ہاتھ سے بنائی گئی مختلف مصنوعات کا بازار بھی لگایا گیا تھا، خواتین ذوق و شوق سے شاپنگ بھی  کرتی نظر آئیں، یہاں پردے کے انتظام کے باعث مکمل آزادی و پر سکون ماحول میں تمام خواتین نے اس پروگرام کو انجوائے کیا ۔

چائے کے وقفے کے بعد مشاعرے کی کاروائی کا آغاز ہؤا جس کی صدارت  برطانیہ کی معروف و معتبر شاعرہ محترمہ فرزانہ نیناں صاحبہ نے کی جن کی شاعری و ادبی خدمات کا بھی ایک عرصے سے اردو ادب کے میدان میں اعلی مقام ہے۔

اس پروگرام میں مقامی شاعرات کے علاوہ ناروے  سے آئی ہوئی تین شاعرات بھی شامل رھیں۔

محترمہ طاہرہ زرتشت صاحبہ محترمہ نبیلہ رفیق صاحبہ اور یہ خاکسار۔ !  

یوکے سے آنے والی مہمان شاعرات میں،   

محترمہ فوزیہ بٹ صاحبہ

محترمہ مدثرہ عباسی صاحبہ اور

محترمہ فزانہ نیناں صاحبہ نے شرکت کی۔

جرمنی کی مہمان شاعرات میں سے شازیہ نورین صاحبہ پہلی بار شریک ہوئیں جبکہ محترمہ طاہرہ رباب صاحبہ اور محترمہ عشرت سیما صاحبہ نے بھی شرکت کی ۔

تمام شاعرات نے داد دینے والی معزز خواتین سے خوب خوب داد وصول کی جو کبھی جذباتی ہو کر تو کبھی ہنستے مسکراتے، قہقہے بکھیرتے اور کبھی تالیاں بجا کر خوش ہوتے شاعرات کا حوصلہ بڑھاتی رہیں۔ ماشاللہ۔

پردیس میں اتنے بڑے پیمانے پر اس قدر تعداد میں خواتین کا شامل ہونا اور ہر شعر کو سمجھ کر اس پر داد دینا اور اپنی زبان کی اس طریقے سے نئی نسل کے دلوں میں محبت ڈالنے کا یہ انوکھا انداز سب کا دل لبھاتا رہا۔، حالانکہ پروگرام خاصا وقت لے چکا تھا لیکن سننے والے اور داد دینے والے ابھی تازہ دم اور مزید سننے کے موڈ میں تھے ۔

بہرالحال جب مشاعرہ اختتام پذیر ہوا تو مہمان شاعرات اور دو مقامی شاعرات کو فیض احمد فیض ایوارڈ کی شیلڈز پیش کی گئیں جو ہم سب کے لیئے باعث اعزاز تھا۔

کچھ برس قبل اس پروگرام میں محترم فیض مرحوم صاحب کی بیٹی محترمہ سلیمہ ہاشمی صاحبہ نے شرکت کی تھی جس کے بعد سے یہ ایوارڈ ادبی شخصیات کو ان کی خدمات کے صلے میں دیا جانے لگا ہے۔

محفل کے اختتام پر عشائیے کا اہتمام تھا، انتظامیہ کے ساتھ ساتھ اللہ کا بھی شکر ادا کیا  گیا کہ محفل میں شامل ہونے کے شوق میں سبھی نے دوپہر کا کھانا بھی نہ کھایا تھا اور داد پہ داد اور تالیاں بجا بجا کے گلے خشک اور آنتیں قل ھواللہ پڑھ رہی تھیں۔

اگلے دن اسی حال میں مخلوط مشاعرہ بھی منعقد ہونا تھا لہذا انتظامیہ نے اس کی تیاری بھی کرنی تھی چنانچہ سب سے ملتے الوداع کرتے ہم سب گھروں کی طرف روانہ ہونے لگے اچھی اور خوشگوار یادوں کے ساتھ ۔

خدا تعالی کا بڑا فضل و احسان ہے کہ اس نے باہم ادبی رشتوں کی بدولت احباب و خواتین کو آپس میں پیار و محبت کی لڑی میں دانوں کی صورت پرویا ہؤا ہے اور یہ سُچے موتیوں کی لڑی دن بدن لمبی اور مظبوط ہوتی جارہی ہے۔

آخر میں یہ خاکسار محترم عرفان خان صاحب ان کی اہلیہ محترمہ شمیم صاحبہ اور ان کے بیٹوں کا جو ہمہ وقت ائیر پورٹ سے مہمانوں کو لانے لیجانے اور ٹراسپورٹ کی سہولت دینے میں مصروف رہے اور ان کی تمام انتظامیہ و کارکنان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہے جنہوں نے اپنی محبت اور انتھک لگن اور کوشش سے اس ادبی محفل کو کامیاب کرنے اور احباب و خواتین کو سہولت کے ساتھ محفل میں شامل ہونے کے لیئے بھر پور کردار ادا کیا ہے۔

🌺💐🌹

مشاعرے میں شریک ہونے والی شاعرات کی لسٹ

دُرِ ثمین

شازیہ فاروق

فریحہ خان

بشرٰی خالد

مغفورہ رانجھا

طیبہ عزیز

رفعت مرزا

نائمہ طاہرہ

امتۃ الجنیل سیال

بشارت اسماعیل

شفقت شاکرہ

صفیہ چیمہ

فہمیدہ مسرت

فرزانہ ناہید

حمیرا نگہت

شوکت احمد

امۃ القدوس قدسیہ

مدثرہ عباسی

نبیلہ رفیق

فوزیہ بٹ

عشرت معین سیما

شازیہ نور عین

طاہرہ زرتشت ناز

طاہرہ رباب

فرزانہ خان نیناں

الحمدللہ علی ذالک ۔۔۔ خاکسار ۔۔۔ امتہ القدوس قدسیہ ۔۔۔ ناروے۔

15.10.2018

Comments»

No comments yet — be the first.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: