jump to navigation

بجلی، پانی اور پاکستان April 17, 2018

Posted by Farzana Naina in Issues of Pakistan, Karachi, Pakistan, Pakistani.
Tags: , , ,
trackback

بجلی، پانی اور پاکستان

سویڈن کی یہ خبر پڑھئیے اور سر دھنیئے کہ دوسرے ممالک  قدرتی وسائل کو اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے کس طرح اپنے کام میں لے رہے ہیں۔

بیرونِ پاکستان ترقیاتی کاموں کی فروانی دیکھ کر اپنے ملک کی بد قسمت عوام کے حقوق کی پامالی پر آنکھیں پانی سے بھر جاتی ہیں۔

سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں دو کلو میٹر طویل الیکٹرک سڑک بنائی گئی ہے، یہ بجلی کی سڑک ائیرپورٹ کے نزدیک بنائی گئی ہے جس پر گاڑی چلانے کے لیے گاڑی کو الیکٹرک کیبل سے منسلک کیا جاتا ہے جب کہ کیبل کا دوسرا سرا سڑک پر لگے الیکٹرک سسٹم سے جوڑ دیا جاتا ہے اس طرح ایک عام گاڑی مکمل طور پر برقی کار میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

سویڈن میں 2030ء تک فیول سے نجات حاصل کرنے اور ٹرانسپورٹ سیکٹر میں تیل کے استعمال میں 70 فیصد تک کمی لانے کے لیے توانائی کے دیگر ذرائع پر کام کیا جا رہا ہے

سٹاک ہوم سے باہر ایک لاجسٹک مقام تک الیکٹرک فیکیشن روڈ پر چلنے والی الیکٹرک گاڑیاں اب خودبخود چارج ہوتی رہیں گی جس کے لئے روڈ ریچارج ایبل خصوصی بیٹریاں گاڑیوں میں نصب کی جا رہی ہیں جن میں نیچے کی طرف سے ایک حصہ سڑک پر بچھی ہوئی الیکٹرک وائر نگ کو چھو سکتا ہے جبکہ گاڑی رکنے کی صورت چارج ہونا خود بخود بند ہو جائے گا۔

یہ نظام گاڑی کی توانائی کی کھپت جانچ سکتا ہے اس کی تعمیر پر ٹرام لائن کی نسبت پچاس فیصد کم خرچہ آتا ہے۔ سویڈن کی حکومت 2030ء تک ماحولیاتی آلودگی میں اپنا کردار صفر کرنے کے لئے فوسل فیول (زمینی ایندھن) کے استعمال سے آزادی کا ہدف رکھتی ہے جس کے لئے ٹرانسپورٹ سیکٹر کا زمینی ایندھن پر انحصار 70 فیصد تک کم کیا جائے گا۔

پاکستان کے حالیہ دورے میں ہمارے ایک رشتہ دار کے گھر جامشورو جانا ہوا، وہاں پہنچ کر میں حیرت زدہ رہ گئی کہ اس گھر میں بجلی کی کمی کا کوئی واویلا نہیں تھا، پنکھے ٹھنڈی ٹھار ہوائیں جھل رہے تھے اور تیز روشنی والے بلب ہم کو جگمگاتے خوش آمدید کہتے نظر آئے۔

ان سے جب اس راز کو کھولنے کا کہا تو وہ ہمیں مکان کی چھت پر بنے ہوئے بر آمدے نما کمرے میں لے گئے، وہاں پر سولر سسٹم لگا ہوا تھا، شمسی توانائی سے ان کا گھر مستفید ہورہا تھا اور بجلی کے بل بھی سوہانِ روح نہ تھے۔

کمال ہی کمال، بہرالحال اس سسٹم  کا خرچہ کافی ہے کہ جو ایک عام شہری کے وسائل پر شاید پورا نہیں اترسکے گا۔

ہم نے کبھی اپنے وطن میں سورج سے ملنے والی توانائی کی جانب توجہ نہیں دی، سولر پاور کو عام کرنے میں کس چیز کی رکاوٹ ہے یہ سمجھ سے بالاتر ہے!

اس کام کے لیئے جتنی انویسٹمنٹ کی جائے گی اس سے سوگنا بڑھ کر ہمارے ملک کو فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

ہمارے وطن میں رہائشی علاقے تو کیا بلکہ ہسپتالوں تک کو مناسب بجلی مہیا نہیں کی جاتی، اس قسم کے ادارے جہاں انسانی جانیں بچائی جاتی ہوں بجلی کے بغیر کیسے چل رہے ہیں؟ یقیناَ کوئی خدائی ہاتھ ان کی مدد کے لیئے کارفرما ہوگا!

بجلی مہیا کرنے کے لیئے کڑوڑوں کے منصوبے پاس ہو ہوتے ہیں لیکن عملی طور پر کوئی کام پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچتا !

آپس کی لوٹ کھسوٹ اور تنازعات میں پڑ کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیئے ملک و قوم کی فلاح و بہبود نامی کوئی سوچ ان لوگوں کے ذہن میں ناپید ہے۔

ایسے لوگوں کا بہترین حل یہ ہے کہ الیکٹرک شاک کھلا کر ان کو دنیا سے آزاد کردیا جائے۔ یہ ایک سخت اسٹیٹمنٹ ہے لیکن ہم لوگ بیزار آ چکے ہیں اور کسی بھی صورت ہم کو ان لوگوں سے اپنے معاشرے کو پاک کرنا ہوگا، جب تک سخت سزائیں نہیں لاگو ہوں گی یہ آوا بگڑا ہی رہے گا !!!

پاکستان میں متعدد نئے بجلی گھر بنانے کے منصوبے آئے دن سنائی تو دیتے ہیں لیکن مجبور عوام فقط خوش آئند خوابوں کے پنکھے ہی جھل کر رہ جاتے ہیں۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سربراہ نے گزشتہ برس بتایا تھا کہ پاکستان نے 2030 تک ایٹمی توانائی کی گنجائش 8 ہزار 800 میگاواٹ تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے لیے مزید تین سے چار بڑے ایٹمی ری ایکٹرز بنائے جائیں گے۔

اس وقت پاکستان کے پاس 5 چھوٹے ری ایکٹرز ہیں جن کی مجموعی مشترکہ پیداوار صرف 1300 میگاواٹ ہے۔ چشمہ کے مقام پر چوتھا پاور پلانٹ ستمبر میں فعال کیا گیا جسے چینی کمپنی ’چائنا نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن‘ نے بنایا ہے اور یہی کمپنی کراچی کے قریب بھی 1100 میگاواٹ کے دو ایٹمی ری ایکٹرز تعمیر کررہی ہے۔

 کہا گیا ہے کہ دونوں نئے ری ایکٹرز کی تعمیر کا کام 60 اور 40 فیصد مکمل ہوگیا ہے جو 2020 اور 2021 میں فعال ہوجائیں گے۔ پاکستانی حکومت 8 ویں ایٹمی ری ایکٹرز کی تعمیر کا ٹھیکہ بھی دینے والی ہے جس کی پیداواری گنجائش 1100 میگا واٹ ہوگی اور جس کے مکمل ہونے پر بجلی کی مجموعی پیدوار 5 ہزار میگا واٹ تک پہنچ جائے گی۔

نئے ری ایکٹرز کی تعمیر کے لیے رقم سرکاری خزانے یا قرض لے کر حاصل کی جائے گی !

ترقی یافتہ ملکوں کو شمسی بجلی کی ضرورت نہیں کیونکہ اُن کے پاس روایتی بجلی بہت ہے۔ مہنگا ہونے کے باوجود وہ ممالک اِس ماحول دوست متبادل پر توجہ دے رہے ہیں کیونکہ وہ مالی لحاظ سے مضبوط ہیں۔‘

لیکن پاکستان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں، ہمارا ملک پیٹرول کی درآمد پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے پھر بھی ضروریات پوری نہیں ہوتیں۔

ہوا سے بجلی کی فراہمی مخصوص علاقوں میں ممکن ہے۔

پانی کے بڑے ڈیم ہمالیہ کے ساتھ ہیں اور ہندوستان مسلسل رکارٹیں کھڑی کرتا رہتا ہے۔

اب چین سے تجارتی معاملات کی جو پیش رفت ہوئی ہے اس کی مدد سے بجلی گھر بھی بنائے جا سکتے۔

شمسی بجلی ایک بڑا قابلِ عمل اور بہترین حل ہے، ایک بجلی گھر کے لیے دو یا تین پینل کافی ہوتے ہیں، کاش کہ ان اقدامات پر جلز از جلد اور سنجیدگی سے عمل کر کے ملک و قوم کی تکالیف دور کی جائیں، موجودہ دور میں بجلی اور پانی کی قلت شرمناک لگتی ہے کیونہ ہمارا وطن قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے وطن میں موجود خزانوں سے بہرہ مند نہ ہو سکیں !

دبئی آ تے جاتے جب میں صحراوں کو گل و گلزار ہوتے دیکھتی ہوں تو دل باغ باغ ہونے کے بجائے اپنے وطن کے بارے میں سوچ کر خزاں رسیدہ پتے کی صورت مرجھانے لگتا ہے !

کاش کہ میری آنکھیں وہ دن دیکھیں جب لوگ پانی بجلی اور ایک صاف ستھرے پاکستان میں زندگی کی بہاریں دیکھا کریں گے  !

فرزانہ خان نیناؔں

http://www.dailymail.co.uk/news/article-5616199/Sweden-builds-electrified-road-powers-vehicle-electric-rails.html?ITO=1490&ns_mchannel=rss&ns_campaign=1490

Advertisements

Comments»

No comments yet — be the first.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: